Ayah 9:1101:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم والبیقہی (رح) نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لایزال بنیانہم الذی بنواریبۃ فی قلوبہم “ یعنی شک (اور فرمایا) (آیت) ” الا ان تقطع قلوبہم “ سے مراد موت ہے۔
ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ میں ابراہیم (رح) سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” لایزال بنیانہم الذی بنواریبۃ فی قلوبہم “ کے بارے میں مجھے بتائیے تو فرمایا کہ اس سے مراد ہے شک میں نے کہا نہیں تو انہیں نے فرمایا تم اس بارے میں کیا کہتے ہو۔ میں نے کہا وہ قوم جنہوں نے مسجد ضرار بنائی اور وہ کافر تھے جب انہوں نے مسجد ضرار بنائی جب وہ اسلام میں داخل ہوئی تو وہ برابر اس کو یاد کرنے لگے پاس اس کے بعد ان کے دلوں میں گرانی اور مشقت پیدا ہوئی تو انہوں نے اس بارے میں باہم بات چیت کی اور انہوں نے کہا اے افسوس ہم بھی ایسا کام نہ کرتے اور جب بھی وہ اس کا ذکر کرتے تو اس کے سبب ان کے دلوں میں مشقت اور گرانی پیدا ہوجاتی اور وہ نادم ہوتے تو ابراہیم نے فرمایا استغفر اللہ (میں اللہ سے استغفار کرتا ہوں )
3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے حبیب بن ابی ثابت (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” بنواریبۃ فی قلوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ غصہ کرتا رہے گا ان کے دلوں میں (آیت) ” الا ان تقطع قلوبہم “ یعنی یہاں تک کہ وہ مرجائیں۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان تقطع قولبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے مراد موت ہے کہ وہ مرجائیں۔
5:۔ ابن منذر ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ایوب (رح) کیا کہ عکرمہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” الا ان تقطع قلوبہم فی القبر “
6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سفیان (رح) نے (الاان تقطع قلوبہم “ کے بارے میں فرمایا مگر کہ وہ توبہ کرلیں اور عبداللہ کے اصحاب اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” ریبۃ فی قلوبہم الاان تقطع قلوبہم “
Ayah 9:111ان آیت کا سبب نزول :
1:۔ ابن جریر (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) وغیرہ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن رواحہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا آپ جو چاہیں شرط رکھیں اپنے رب کے لئے اور اپنی جان کے لئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں اپنے رب کے لئے یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناؤ اور میں اپنے لئے یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم میری حفاظت کرو ہراس چیز سے کہ جس سے تم حفاظت کرتے ہو اپنی جانوں کی اور اپنے مالوں کی انہوں نے کہا اگر ہم ایسا کرلیں تو ہمارے لئے کیا ہوگا فرمایا تمہارے لئے جنت ہوگی عبداللہ نے کہا یہ تو نفع مند تجارت ہے نہ ہم اسے فتح کریں گے اور ہم فتح کا مطالبہ کریں گے تو (یہ آیت) ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم “ نازل ہوئی۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی اور آپ مسجد میں تھے یعنی ( آیت) ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم “ تو لوگوں نے مسجد میں اللہ اکبر کہا انصار میں سے ایک آدمی دوسری مرتبہ متوجہ ہوا اپنی چادر کے دونوں کناروں کو اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے کہنے لگا یا رسول اللہ کیا یہ آیت اتری ہے فرمایا ہاں انصاری نے کہا نفع مند تجارت ہے۔ نہ ہم اسے فتح کریں گے اور نہ فتح کا مطالبہ کریں گے۔
3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اللہ کے راستے میں تلوار چلائی تو اس نے اللہ تعالیٰ سے بیعت کرلی۔
4:۔ ابن سعد (رح) نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت (رح) سے روایت کیا کہ اسعد بن زرارہ ؓ نے عقبہ کی رات رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ پکڑا اور کہا اے لوگوں کیا تم جانتے ہو کہ کسی پر تم نے محمد ﷺ سے بیعت کی ہے تم نے ان سے بیعت کی ہے اس بات پر کہ تم جنگ کروگے۔ عرب سے عجم سے جن سے انسان سے سب سے لوگوں نے کہا ہم اس سے جنگ کریں گے جو ہم سے جنگ کرے گا۔ اور ہم اس سے صلح کریں گے جس نے ہم سے صلح کی اسعد بن زرارہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھ پر شرط لگائیے کہ آپ نے فرمایا مجھ سے اس شرط پر بیعت کرو کہ تم گواہی دو گے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں اور نماز قائم کروگے اور زکوٰۃ ادا کروگے۔ اور اللہ کا حکم سنو گے اور اس کی اطاعت کرو گے۔ اور اپنے گھر کے کاموں میں نہ جھگڑو گے اور تم میری حفاظت کرو گے ہر اس چیز سے کہ جس سے تم حفاظت کرتے ہو اپنی جانوں کی اور اپنے اہل و عیال کی انہوں نے کہا جی ہاں ایک انصاری نے کہا وہاں یہ آپ کے لئے ہے یارسول اللہ تو ہمارے لئے کیا ہوگا فرمایا جنت اور نصرت ہوگئی۔
بیت عقبہ ثانیہ کا واقعہ :
5:۔ ابن سعد (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ نبی ﷺ عباس بن عبدالمطلب کے ساتھ تشریف لے گیا انصار میں سے ستر صحابہ کی طرف عقبہ کے پاس عباس ؓ نے فرمایا چاہئے کہ تمہارا بات کرنے والا بات کرے اور بات کو لمبا نہ کرے۔ اور ہم پر لازم ہے بلاشبہ تم سے مشرکین جاسوس ہیں اور وہ تم کو جان لیں تو وہ تمہیں ذلیل ورسوا کریں گے ان کے کہنے والے نے کہا اور وہ ابو امامہ اسود ؓ تھے۔ اے محمد ﷺ اپنے رب کے لئے جو چاہیں فرمائیے اور اپنی ذات کے لئے اور اپنے صحابہ کے لئے جو چاہیں فرمائیں ہم کو بتائیے کہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ پر اور آپ پر کون سا اجر وثواب ہوگا جب ہم ایسا کریں گے آپ نے فرمایا میں یہ کہتا ہوں اپنے رب کے لئے کہ تم اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور اپنی ذات اور اپنے صحابہ کے لئے کہتا ہوں کہ تم ہم کو پناہ دو اور ہماری حفاظت کرو ان تمام چیزوں سے کہ جن سے تم اپنے آپ کی حفاظت کرتے انہوں نے عرض کیا اب ہمارے لئے کیا ہوگا اگر ہم یہ کام کرلیں آپ نے فرمایا تمہارے لئے جنت ہوگی اور شعبی جب یہ حدیث بیان کرتے ہیں تو فرماتے نہیں تو فرماتے نہیں سنا کسی بوڑھے اور جوان نے اس قدر مختصر اور زیادہ بلیغ خطبہ کو۔
6:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ وہ جب اس ( آیت) ” ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم واموالہم “ کو پڑھتے تھے تو فرماتے کہ جانیں ہی جنت کی مخلوق اور اموال اس کا رزق ہیں۔
7:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم واموالہم “ کے بارے میں فرماتے کہ جانوں اور مالوں کی قیمت جنت ہے اللہ کی قسم اور یہ اعلی (نعمت) ہے ان کے لئے۔
8:۔ بن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ زمین پر کوئی مومن ایسا نہیں ہے مگر وہ اس بیعت میں داخل ہے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے اس بیعت کی طرف دوڑو کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہر مومن سے یہ بیعت کی ہے ( آیت) ” ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم واموالہم “
9:۔ ابن منذر (رح) نے عیاش بن عتبہ حضرمی کے راستے سے اسحاق بن عبداللہ بن مدنی سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ( آیت) ” ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم واموالہم “ نازل ہوئی انصار میں ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا یارسول اللہ ﷺ کیا یہ آیت نازل ہوئی فرمایا ہاں تو انصار نے کہا منافع بخش تجارت ہے نہ یہ فسخ کریں گے اور نہ فسخ کرنے کا مطالبہ کریں گے حضرت عباس ؓ نے کہا یہ مجھ سے اسحاق نے بیان کیا کہ سارے مسلمان اس بیع میں داخل ہیں اور یہ ان میں سے ہے کہ جب محتاج ہو تو نفع دے اور مدد کرے اور ان میں سے ایسا آدمی کہ جس کو اس کی ضرورت پڑے تو وہ مدد کو نہ پہنچے تو وہ اس بیعت سے نکل چکا ہے۔
10:۔ ابن ابی حاتم ابوالشیخ (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ( آیت) ” ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم واموالہم بان الہم الجنۃ یقاتلون “ یعنی مشرکین سے قتال کرتے ہیں فی سبیل اللہ یعنی اللہ کی اطاعت میں ” فیقتلون “ یعنی اور وہ دشمن کو قتل کرتے ہیں ” ویقتلون “ اور ایمان والے قتل کئے جاتے ہیں ” وعدا علیہ حقا “ یعنی (اللہ تعالیٰ ) پورا کریں گے جو ان سے جنت کا وعدہ فرمایا ہے (آیت) فی التورۃ والانجیل والقران ومن اوفی بعدہ من اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی اپنا وعدہ پورا کرنے والا نہیں (آیت) ” فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ “ (یعنی خوش ہوجاؤ) ایسے سودے پر جو تم نے اللہ تعالیٰ سے کہا ہے اس وعدہ کا اقرار کرتے ہوئے جو انہوں نے اس کو اس آیت میں ذکر فرمایا ہے ” وذلک “ جو ذکر کیا گیا ثواب میں سے جنت میں قاتل اور مقتول کے لئے (آیت) ” ھوالفوز العظیم “ اور یہ بڑی کامیابی ہے۔
11:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ( آیت) ” ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ “ کے بارے میں فرمایا یعنی ان کے مالوں اور جانوں کی قیمت جنت ہے اللہ کی قسم یہ ان کے لئے اونچی قیمت ہے (آیت) ” وعدا علیہ حقا فی التورۃ والانجیل والقران “ یعنی ان کا یہ وعدہ تورات وانجیل میں ہے کہ جو شخص اللہ کے راستے میں قتل کیا جائے گا اس کو میں جنت میں داخل کروں گا۔
12:۔ ابن جریر وابوالشیخ (رح) نے شمرین بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی گردن میں بیع کا قلادہ ہے وہ اس کا پورا پورا حق ادا کرے یا اس پر مرجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ( آیت) ” ان اللہ اشتری من المومنین “۔
13:۔ ابوالشیخ (رح) نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ ؓ کی قراوت میں یوں ہے ( آیت) ” ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ “۔
14:۔ ابو الشیخ (رح) نے سلمان بن موسیٰ (رح) سے روایت کیا کہ مسلمانوں کی مددواجب ہوگئی ہر مسلمان پر کیونکہ وہ اس بیع میں داخل ہیں کہ جس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی جانوں کو خرید لیا۔
Ayah 9:112شہداء کرام کی خاص خصلتیں :
1:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو شخص ان صفات پر مرا (یعنی ان نوکاموں کو کرتے ہوئے مرا تو وہ (گویا) اللہ کے راستے میں (مرا) ہے (یہ نوکام اس آیت میں ہیں) (آیت) ” التآئبون العبدون “ آیت کے آخرتک۔
2:۔ ابن منذر ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ شہید وہ ہے جس میں یہ نو خصلتیں ہو۔ (آیت) ” التآئبون العبدون “ سے لے کر ” وبشرالمومنین “ تک۔
3:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” التآئبون “ یعنی جنہوں نے توبہ کی شرک سے اور نفاق سے بری ہونے کا اظہار کیا اور وہ ” العبدون “ یعنی اپنے تمام وقتوں میں اللہ کی عبادت کی اللہ کی قسم وہ نہ ایک ماہ ہے ورنہ دو ماہ نہ ایک سال نہ دو سال ایک نیک بندے نے کہا (آیت) ” الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر “ یعنی وہ حکم نہیں کرتے نیکی کا یہاں تک کہ خود اس کے پابند بن جائیں اور لوگوں کو برائی سے نہیں روکتے یہاں تک اس سے خود رک جائیں ( اور فرمایا) (آیت) ” والحفظون لحدود اللہ “ یعنی قائم کرنے والے کے اور (آیت) وبشرالمومنین “ یعنی جو جنگ لڑنے کے لئے نہیں نکلے۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” التائبون “ یعنی توبہ کرنے والے شرک ہے اور گناہوں سے ” العابدون “ یعنی عبادت کرنے والے اللہ عزوجل کے لئے۔
5:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” التائبون “ یعنی جن لوگوں نے توبہ کی شرک سے اور اسلام میں منافقت نہیں کی (آیت) ” العبدون “ ایسی قوم جنہوں نے اپنے بدلوں سے حصہ لیا اپنی راتوں میں اور اپنے دنوں میں (آیت) ” الحامدون “ یعنی وہ قوم جو ہر حال میں اللہ کی حمد بیان کرتی ہے۔ (آیت) ” السآ ئحون “ یعنی ایسی دم جس نے اپنے بدنوں کو مصروف رکھا روزہ کے ساتھ اللہ عزوجل کے لئے (آیت) ” والحفظون لحدود اللہ “ یعنی اپنے فرائض کی حفاظت کرنے والے میں اس کے حلال میں سے اور اس کے حرام میں سے۔
6:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” العبدون “ سے مراد ہے جو لوگ نماز کو قائم کرتے ہیں۔
7:۔ ابوالشیخ وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے وہ لوگ جنت کی طرف بلائے جائیں گے جو حمد کرنے والے ہیں وہ لوگ جو حمد بیان کرتے ہیں خوشحالی میں اور تنگ دستی میں۔
8:۔ ابن مبارک (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ سب سے پہلے وہ لوگ جنت میں بلائیں جائیں گے جو ہرحال میں اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں یا فرمایا خوشحالی میں اور تنگدستی میں۔
9:۔ بیہقی (رح) نے الشعب میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب کوئی ایسا امر پیش آیا تو آپ کو خوش کرتا اور فرماتے سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس کی نعمت کے ذریعہ نیک اعمال پورے ہوتے ہیں۔ اور جب کوئی ایسا واقعہ پیش آتا جس کو آپ ناپسند فرماتے تو آپ یوں پڑھتے ” الحمدللہ علی کل حال “ (سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں ہر حال میں ) ۔
10:۔ ابن جریر (رح) نے عبید بن عمیر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے صالحین کے بارے میں پوچھا گیا تو تو آپ نے فرمایا وہ لوگ جو روزہ رکھنے والے ہیں۔
11:۔ ابن جریر وابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جہاں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ” السیامعۃ “ کا ذکر فرمایا اور وہ روزہ رکھنے والے ہیں۔
12:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” السآ ئحون “ سے مراد روزہ دار ہے۔
13:۔ ابن جیر (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ اس امت کی سیاحت روزہ رکھتا ہے۔
14:۔ فریابی ومنذر (رح) نے اپنی مسند میں وابن جریر والبیہقی (رح) نے الشعب میں عبد بن عمیر کے راستے سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے ” سائحین “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ان سے روزہ دار مراد ہیں۔
15:۔ ابن جریر وابوالشیخ وابن مردویہ ابن نجار نے ابو صالح کے راستے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ (آیت) ” السائحون “ سے مراد ہے روزہ رکھنے والا۔
16:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے سائحین “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے روزہ دار مراد ہیں۔
17:۔ ابن جریر (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) السائحون “ سے مراد ہیں روزہ دار۔
18۔ ابن جریر (رح) وابن منذر رحمہما اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) السائحون “ سے مراد ہیں روزہ دار۔
19:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے ابو نعیم نے حلیہ میں حسن (رح) سے اس طرح بیان کیا ابو عمر ووالعبدی سے روایت کیا کہ (آیت) ” السائحون “ سے وہ روزہ دار مراد ہیں جو ہمیشہ روزہ رکھتے ہیں۔
20:۔ ابن منذر (رح) نے سفیان بن عیینہ (رح) سے روایت کیا کہ روزہ دار کو سائح اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ چھوڑنے والا ہوتا ہے دنیا کی ساری لذتوں کو کھانے کو پینے کو اور نکاح کو اور دنیا کو چھوڑنے والا سائح کی طرح ہوتا ہے۔
21:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابو فاختہ مولی جعدۃ بن ھبیرہ (رح) سے روایت کیا کہ عثمان بن مظعون ؓ نے ارادہ کیا کہ وہ اس بات کو دیکھیں گے کیا وہ السیاحہ کی طاقت رکھتے ہیں اور فرمایا وہ لوگ السیاحۃ کی رات کا قیام کرنا اور دن کو روزہ رکھنے شمار کرتے تھے۔
22:۔ ابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم والبیہقی رحمہم اللہ نے الشعب میں ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے السیاحۃ کے بارے میں اجازت طلب کی آپ نے فرمایا کہ میری امت کی سیاحت اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہے۔
23:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” السائحون “ سے مہاجرین مراد ہیں محمد ﷺ کی امت میں سیاحت صرف ہجرت ہے اور ان کی سیاحت ہجرت تھی جبکہ انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور محمد ﷺ کی امت میں رہنا (یعنی شہروں کو چھوڑ کر جنگلوں میں ٹھہرنا عبادت کے لئے) نہیں ہے۔
24:۔ ابن جریر (رح) نے عصب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” السائحون “ بنی اسرائیل میں تھی۔
25:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” السائحون “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے علم کا طلب کرنا۔
26:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الامرون بالمعروف “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے لا الہ الا اللہ کا حکم دینے والا (آیت) ” والناھون عن المنکر “ یعنی اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے (آیت) ” وبشرالمومنین “
27:۔ ابوالشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” والحفظون لحدود اللہ “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان فرائض کی حفاظت کرنے والا جو ان پر فرض کئے گئے یہ آیت نازل ہوئی ان ایمان والوں کے بارے میں جنہوں نے (دشمن کے خلاف) جنگ نہیں کی اور وہ آیت جو ان سے پہلے ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے جنگ کی (آیت) ” وبشرالمومنین “ یہ مراد ہے نمازیں (یعنی جہاد کرنے والے)
28:۔ ابوالشیخ (رح) نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ ان میں نبی ﷺ کے اصحاب نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بذات خود تورات میں انجیل میں اور قرآں میں اس امت کے لئے یہ فیصلہ فرمایا کہ قتل کردیا گیا ان میں سے ان چھ اعمال پر تو وہ اللہ کے نزدیک شہید ہے۔ اور جو ان میں سے مرگیا اعمال پر تو اس کا اجر واجب ہوگیا۔
29:۔ ابن منذر (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ شہید وہ ہے کہ اگر اپنے بستر پر مرجائے تو جنت میں داخل ہوا ور ابن عباس نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرگیا اور اس میں سے نو صفات ہیں تو وہ شہید ہے (اور یہ آیت پڑھیں) ” التآئبون العبدون “ آیت کے آخرتک۔
30:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے علی کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ان اللہ اشتری من المومنین انفسہم واموالہم بان لہم الجنۃ “ یعنی جنت کے بدلے میں فرمایا (آیت) ” التآئبون “ سے لے کر (آیت) ” والحفظون لحدود اللہ “ یعنی قائم رکھنے والے اللہ کی اطاعت پر اور وہ شرط ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ جہاد والوں پر لگائی کہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی شرط کو پورا کریں گے تو اللہ تعالیٰ بھی ان کی شرف کو پورا کریں گے۔
Ayahs 9:113–114مشرکین کے لئے دعائے مغفرت کی ممانعت :
1:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری ومسلم والنسائی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں سعید بن مسیب (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب ابو طالب کی موت قریب ہوئی تو نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بھی بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے میرے چچا لا الہ الا اللہ کہہ لو اور میں شہادت دوں گا تیرے لئے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے پاس۔ ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ نے کہا اے ابو طالب کیا عبدالمطلب کے دین سے اعراض کرو گے نبی کریم ﷺ اس پر (کلمہ کو) پیش کرتے رہے اور ابوجہل اور عبداللہ نے اس گفتگو کے بارے میں اس کی مدد کرتے رہے (یعنی بار بار اس کو عبدالمطلب کے دین پر قائم رہنے کی تاکید کرتے رہے) ابو طالب نے آخری بات جو ان سے کہی (وہ یہ تھی) وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں اور الا الہ اللہ کہنے سے انکار کردیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں ضرور تیرے لئے استغفار کرتا رہو گا جب تک مجھے تیرے لئے اس سے نہ روک دیا جائے تو یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “ نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ابو طالب کے بارے میں یہ آیت اتاری اور رسول اللہ ﷺ سے فرمایا (آیت) ” انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشآء “
2:۔ الطیاسی وابن ابی شیبہ واحمد والترمذی والنسائی وابویعلی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والحاکم اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں الضیاء نے المختارہ میں علی ؓ سے روایت کیا کہہ میں نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ اپنے والدین کے لئے بخشش کی دعا مانگ رہا تھا حالانکہ وہ دونوں مشرک ہیں اس لئے کہا کیا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کے لئے استغفار نہیں کیا یہ بات نبی کریم ﷺ کو بتائی گئی تو ( یہ آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “ نازل ہوئی۔
3:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے علی بن ابی طلحہ کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوگ ان (مشرکین) کے لئے استغفار کرتے تھے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی جب یہ آیت نازل ہوئی تو اپنے مردوں کے لئے استغفار کرنے سے رک گئے اور ان کو زندہ کے لئے استغفار کرنے سے نہیں روکا۔ یہاں تک کہ وہ مرگئے (شرک کی حالت میں) پھر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” وما کان استغفار ابراہیم “ یعنی آپ نے اس کے لئے مغفرت طلب کرتے رہے جب تک وہ زندہ تھا جب وہ مرگیا تو استغفار سے رک گئے۔
ابوطالب کے لئے بھی استغفار جائز نہیں :
4:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ جب ابو طالب بیمار ہوئے تو نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لائے تو مسلمانوں نے کہا یہ محمد ﷺ ہیں جو اپنے چچا کے لئے استغفار کررہے ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کے لئے استغفار کیا تو اس لئے تم بھی مشرکین میں سے اپنے رشتہ داروں کے لئے استغفار کرو۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (آیت) ” وماکان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا “ فرمایا کہ آپ اس کی زندگی میں اس کی امید رکھتے تھے۔ (آیت) ” فلما تبین لہ انہ عدو للہ تبرا منہ “
5:۔ ابن جریر (رح) نے شبل کے واسطہ سے عمر وبن دینار (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کے لئے استغفار کیا حالانکہ وہ مشرک تھا اور میں بھی ابوطالب کے لئے استغفار کرتارہوں گا یہاں تک کہ میرا رب مجھے اس سے روک نہ دے۔ اور ان کے اصحاب نے کہا کہ ہم اپنے اجداد کے لئے استغفار کرتے رہیں گے جیسے نبی کریم ﷺ نے اپنے چچا کے لئے استغفار کیا تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “ سے لے کر (آیت) ” تبرا منہ “ تک۔
6:۔ ابن جریر (رح) نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ ابو طالب کی جب موت حاضر ہوئی تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے میرے چچا میرے واسطے سے بڑھ کر آپ کا حق مجھ پر ہے آپ کلمہ کہہ لیجئے میں آپ کے لئے شفاعت کو محبوب رکھوں گا قیامت کے دن لا الہ الا اللہ کہہ لیجئے پھر اسی طرح ذکر کیا (حدیث کو) جیسے گزر چکی۔
7:۔ ابن جریر (رح) نے قتادہ (رح) سے بیان فرمایا ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں نے کہا اے اللہ نے نبی کہ ہمارے باپوں میں سے کچھ لوگ ایسے تھے کہ پڑوس سے اچھا سلوک کرتے تھے صلہ رحمی کرتے تھے قیدی کو چھڑاتے تھے اور ذمہ داریوں کو پورا کرتے تھے کیا ہم ان کے لئے استغفار کریں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اپنے باپ کے لئے بھی استغفار کروں گا جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے لئے استغفار کیا تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “ (الآیہ) پھر اللہ تعالیٰ ابراہیم (علیہ السلام) کو معذور قرار دیتے ہوئے فرمایا (آیت) ” وما کان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ “ سے لے کر ” تبرا منہ “ تک اور ہم کو ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ میری طرف ایسے کلمات وحی کئے گئے استغفار نہ کروں جو مشرک ہو کر مرا اور جس شخص نے اپنے بچے ہوئے مال کو دیا (غریب لوگوں کو) تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور جس شخص نے روک لیا وہ اس کے لئے برا ہے اور بقدر کفایت ماقال اللہ تعالیٰ ملامت نہیں کرے گا۔
8:۔ بن سعد وابن عساکر (رح) نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو ابو طالب کی موت کی خبر دی گئی تو آپ رو دئیے فرمایا تم جاؤ اس کو غسل اور کفن دو اور دفن کردو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے اور اس پر رحم فرمائے جس میں نے ایسے دیکھا اور رسول اللہ ﷺ ان کے لئے کچھ دن استغفار رکتے رہے اور آپ گھر سے نہ نکلے تھے کہ جبرئیل یہ آیت لے کر نازل ہوگئے (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “
9:۔ ابن منذر وابوالشیخ وابن عساکر رحمہم اللہ نے عمر ؓ سے روایت کیا کہ ابو طالب کی وفات ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لئے فرمایا اللہ مجھ پر رحم کرے اور تیری مغفرت کرے۔ میں تیرے لئے استغفار کرتا رہوں گا جب تک اللہ تعالیٰ مجھے منع نہیں فرمائیں گے تو مسلمانوں نے بھی اپنے ان مردوں کے لئے استغفار کرنا شروع کردیا جو مرگئے تھے اور مشرک تھے تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “ پھر انہوں نے کہا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کے لئے استغفار کیا تھا تو یہ آیت نازل ہوئی (وما کان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ “ (الآیہ) فرمایا جب وہ کفر پر مرگیا اور ان کے لئے ظاہر ہوا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے (تو دعا کرنے کے لئے رک گا)
10:۔ اسحاق بن بشر وابن عساکر رحمہما اللہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب ابو طالب کی وفات ہوئی تو نبی کریم ﷺ فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کے لئے استغفار کیا حالانکہ وہ مشرک تھا اور میں اپنے چچا کے لئے استغفار کروں گا یہاں تک کہ میں اسے پالوں گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی “ یعنی ابو طالب کے لئے تو (یہ حکم) نبی کریم ﷺ پر بھاری گزراتو ( پھر) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو فرمایا (آیت) ” وما کان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ “ یعنی جب انہوں نے کہا ” (آیت) ساستغفرلک ربی انہ کان بی حیفا (47) (پھر فرمایا) (آیت) ” فلما تبین لہ انہ عدو للہ “ یعنی وہ شرک پر مرا (آیت) ” تبرا منہ “ تو آپ اس سے بیزار ہوگئے۔
11:۔ ابن جریر (رح) نے عطیہ العوفی کے واسطے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “ (الآیہ) کے بارے میں فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے والد کے لئے استغفار کرنے کا ارادہ فرمایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا۔ آپ نے (اللہ تعالیٰ سے) عرض کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کے لئے استغفار کیا تھا (تو مجھے کیوں منع فرمایا) تو (یہ آیت) نازل ہوئی ” وما کان استغفار ابرھیم لابیہ “ (الآیہ) میں کہتا ہوں یہ اثر ضعیف اور معلول ہے کیونکہ عطیہ ضعیف راوی ہے اور یہ روایت علی بن ابی طلحہ ابن عباس کے سابقہ روایت کے خلاف ہے وہ روایت واضح ہے ورعلی بہت تقہ راوی ہے۔
12:۔ طبرانی وابن مردویہ (رح) نے عکرمہ (رح) کے واسطے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جب غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے عمرہ ادا فرمایا جب آس عسفان کی گھاٹی سے نیچے اترے اپنے صحابہ ؓ کو حکم فرمایا کہ تم لوگ عقبہ کے پاس ٹھہرو، یہاں تک کہ میں تمہاری طرف لوٹ آوں آپ گئے اور اپنی والدہ آمنہ کی قبر کے پاس اترے اور اپنے رب سے طویل مناجات کی۔ پھر رونے لگے اور آپ کا رونا سخت ہوگیا آپ کے رونے کی وجہ سے یہ لوگ بھی رونے لگے اور کہا اے اللہ کے نبی ہمارا رونا آپ کے رونے کی وجہ سے ہے ہم نے کہا شاہد کہ آپ کی امت میں ایسی چیز ظاہر ہوچکی ہے جس پر اسے قدرت حاصل نہیں آپ نے فرمایا نہیں البتہ جو کچھ ہوا ہے وہ یہ کہ میں اپنی والدہ کی قبر پر حاضر ہوا میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ مجھ کو اجازت دی جائے ان کی شفاعت کے بارے میں قیامت کے دن تو مجھے اجازت دینے سے انکار کردیا گیا پس مجھے ان کی حالت پر ترس آگیا کیونکہ وہ میری ماں ہے اور میں روپڑا پھر میرے پاس جبرائیل تشریف لائے اور فرمایا (آیت) ” وما کان استغفار ابراہیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ “ پس آپ بھی بیزار ہوجائیے اپنی ماں سے جب ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ سے بیزار ہوگئے پس مجھے ان پر رحم آگیا کیونکہ وہ ماں ہے میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ میری امت سے پتھر برسنے کو اٹھا لیا جائے اور زمین میں غرق ہونے کو اور ان کے مختلف گروہوں کو باہمی جھگڑا اور فساد میں مبتلا نہ کرے اور ان میں بعض کی تکلیف دوسرے بعض کو نہ چکھائے تو اللہ تعالیٰ نے ان سے آسمان سے پتھر برسنے کو اور زمین میں غرق ہونے کو اٹھا لیا اور باہمی قتل اور فساد کو ان سے اٹھانے سے انکار کردیا راوی کا بیان ہے اور آپ واپس تشریف لے گئے اپنی ماں کی قبر کی طرف گو کہ وہ مدفون تھیں ایک چٹان کے نیچے اور عسفان (کا علاقہ) ان کا ہے اور اسی علاقہ میں نبی کریم ﷺ کی پیدائش ہوئی۔
13:۔ ابن ابی حاتم والحاکم وابن مردویہ والبیہقی (رح) نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن قبرستان کی طرف تشریف لے گئے ہم بھی آپ کے پیچھے ہوئے آپ آئے اور ان میں سے ایک قبر کی طرف بیٹھ گئے آپ نے (اپنے رب سے) لمبی مناجات کی پھر آپ رونے لگے تو ہم بھی آپ کے رونے کی وجہ سے رونے لگے پھر آپ نے فرمایا تم کیوں روئے ؟ ہم نے عرض کیا آپ کے رونے کی وہ وجہ سے ہم بھی روئے آپ نے فرمایا قبر کہ جس کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا یہ قبر آمنہ کی تھی میں نے اپنے رب سے اس کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھ کو اجازت دے دی گئی اور میں نے اپنے رب سے ان کے لئے استغفار کی اجازت مانگی تو مجھ کو اجازت نہیں دی گئی۔ اور مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی “ تو مجھ پر رقت طاری ہوگئی بیٹے پر اپنی والدہ کے لئے رقت طاری ہوجاتی ہے (یعنی روتا ہے) پس اس چیز نے مجھے رلایا ہے۔
آپ (علیہ السلام) کا اپنی والدہ کے لئے رونا :
14:۔ ابن مردویہ (رح) نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا جب آپ عسفان پر ٹھہرے اور آپ نے دائیں اور بائیں دیکھ کر اپنے والدہ آمنہ کی قبرکو دیکھا پانی لایا گیا آپ نے وضو فرمایا پھر دو رکعت نماز پڑھی اور دعا مانگی اور ہم کو کسی چیز سے خوف زدہ نہیں کیا مگر یہ کہ آپ کے رونے کی آواز بلند ہوگئی اور ہمارے رونے کی آواز بھی بلند ہوگئی آپ کے رونے کی وجہ سے پھر آپ ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا کس چیز نے تم کو رلایا ہے انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ آپ روئے تو ہم بھی رو دیئے فرمایا تم نے کیا گمان کیا تھا عرض کیا ہم نے گمان کیا تھا کہ عذاب ہم پر نازل ہونے والا ہے ان اعمال کی وجہ سے جو ہم نے کئے آپ نے فرمایا کوئی ایسی چیز نہیں صحابہ ؓ نے عرض کیا ہم نے گمان کیا کہ آپ کی امت کو ایسے اعمال کا مکلف اور پابند بنایا گیا ہے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتے آپ کو اس پر رحم آگیا آپ نے فرمایا اس میں سے کوئی چیز نہیں لیکن میں اپنی ماں آمنہ کی قبر سے گذرا میں نے دو رکعت نماز پڑھی میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ میں اس کے لئے استغفار کروں تو مجھے روک دیا گیا اس لئے میں رونے لگا پھر مجھے سخت ڈانٹا گیا تو میری آواز بلند ہوگئی پھر آپ نے اپنی سواری بلوائی اور اس پر سوار ہوگئے ابھی آپ تھوڑی ہی دیر چلے تھے یہاں تک کہ اونٹنی ٹھہر گئی وحی کے بوجھ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “
15:۔ ابن منذر والطبرانی والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا اور امام ذھبی (رح) نے آپ کا تعاقب کیا ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ملیکہ کے بیٹے آئے اور وہ انصار میں سے تھے دونوں نے کہا یارسول اللہ ﷺ کہ ہماری ماں شوہر کے معاملہ پر حفاظت کرتی تھی اور مہمان کی عزت کرتی تھی اور زمانہ جاہلیت میں زندہ گاڑی گئی تھی ہماری ماں کہاں ہے آپ نے فرمایا تمہاری ماں آگ میں ہے وہ کھڑے ہوگئے اور یہ بات ان دونوں کو بھاری گزری رسول اللہ ﷺ نے ان کو بلایا وہ دونوں لوٹے آپ نے فرمایا خبردار میری ماں تمہاری ماں کے ساتھ ہے لوگوں میں سے ایک منافق نے کہا یہ اپنی ماں کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتے جیسا کہ ملیکہ کے بیٹے اپنی ماں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے اور ہم ان کی اتباع میں ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ اور انصار میں سے ایک نوجوان نے کہا میں نے کسی آدمی کو اس سے زیادہ سوال کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ رسول اللہ ﷺ سے اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ کے والد کہاں ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ان کے بارے میں اپنے رب سے سوال نہیں کیا کہ وہ ان کے بارے میں میری التجا قبول کرنے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ وہ مجھے ان کے بارے میں بتائے اس دن کھڑا ہوں گا مقام محمود کیا ہے ؟ پھر اس منافق انصاری سے کہا ان سے سوال کریں کہ مقام محمود کیا ہے ؟ اس نے کہا یارسول اللہ ﷺ مقام محمود کیا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ اس دن جس میں اللہ تعالیٰ اپنی کرسی پر نازل ہوں گے اس پر چڑچڑانا ہوگا جیسے نیا کجاوہ چڑچڑاتا ہے۔ اپنے بوجھ کی وجہ سے اور وہ زمین میں آسمان کی وسعت کی طرح اور تم کو لایا جائے گا ننگے پیر، ننگے بدن، غیر مختون سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے میرے خلیل کو لباس پہناؤ تو وہ سفید چادریں لائی جائیں گی جنت کی چادروں میں سے، بلاشبہ آپ کے پیچھے مجھ کو لباس پہنایا جائے گا اور میں کھڑا ہوں گا اللہ تعالیٰ کے داہنی طرف ایک مقام پر جس میں اولین وآخرین سب مجھ پر رشک کریں گے اور میرے لئے کوثر میں سے ایک نہر میرے حوض تک کھودی جائے گی اس منافق نے کہا میں نے آج کے دن کی طرح نہیں سنا یقینی طور پر نہر جاری نہیں ہوسکتی مگر ایسا سخت زمین میں یہ جس میں بہاؤ ہو ان سے سوال کیجئے کس میں وہ نہر ان کی طرف جاری ہوگی۔ فرمایا کستوری کے بہاؤ اور جھوٹی کنکریوں میں منافق نے کہا میں نے آج کے دن کی طرح کبھی نہیں سنا اللہ کی قسم جہاں بھی نہر جاری ہوئی ہے وہاں سبزہ اگتا ہے آپ سے سوال کریں کہ کیا اس نہر پر سبزہ ہوگا انصاری نے کہا یارسول اللہ ﷺ کا اس نہر پر سبزہ ہوگا آپ نے فرمایا ہاں پوچھا گیا وہ کیا ہوگا سونے کی شاخیں ہوں گی منافق نے کہا آج کے دن کی طرح میں نے کچھ نہیں اللہ کی قسم کوئی شاخ نہیں اگتی مگر اس کا پھل بھی ہوتا ہے۔ آپ سے سوال کریں کہ ان شاخوں کو پھل ہوگا انصاری نے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ان شاخوں کو پھل ہوگا فرمایا موتی اور جواہر ہوں گے۔ منافق نے کہا آج کے دن کی طرح میں نے کبھی نہیں سنا آپ ان سے سوال کریں حوض کے پانی کے بارے میں انصار نے کہا یارسول اللہ ﷺ حوض کا پانی کیسا ہوگا ؟ فرمایا دودھ سے زیادہ سفید ہوگا۔ اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا جس کو اللہ تعالیٰ اس میں سے پلائیں گے پھر اس کے بعد وہ پیاسا نہیں ہوگا اور جو اس سے محروم ہوگا وہ اس کے بعد پھر کبھی نہیں ہوگا۔
16:۔ ابن سعد (رح) نے کلبی اور ابوبکربن قیس دونوں سے روایت کیا کہ جعفی زمانہ جاہلیت میں دل کو حرام قراردیتے تھے ان میں سے دو آدمی قیس بن سلمہ اور سلمہ بن یزید رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے یہ دونوں ماں شریک بھائی تھے دونوں مسلمان ہوگئے رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ تم دل نہیں کھاتے انہوں نے کہا ہاں آپ نے نے فرمایا اس کے کھانے کے بعد تم دونوں کا اسلام مکمل نہیں ہوگا۔ آپ نے انکے لئے دل منگوایا اس کو بھونا اور ان کو کھلایا انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہماری ماں ملیکہ قیدی کو چھڑاتی تھی بھوکے کو کھانا کھلاتی تھی اور فقیر پر رحم کرتی تھی وہ مرگئی اور اس نے اپنی ایک چھوٹی بیٹی کو زندہ درگور کیا تھا اس کا کیا حال ہے ؟ آپ نے فرمایا زندہ درگور کرنے والے کو اور جس کے اشارہ پر درگور کیا گیا دونوں ہلاکت میں ہیں (یہ سن کر) دونوں غصے ہوتے ہوئے کھڑے ہوگئے آپ نے فرمایا لوٹ آؤ (اور سنو) میری ماں بھی تمہاری ماں کے ساتھ (آگ میں ہے) ان دونوں نے انکار کیا اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے اللہ کی قسم کہ اس آدمی نے ہم کو دل کھلایا اور اس نے گمان کیا کہ ہماری ماں آگ میں ہے وہ اس زیلی ہے کہ اس کی پیروی نہیں کی جائے دونوں چلے اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی سے ملے کہ اس کے پاس صدقہ کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ تھا انہوں نے اس کو (رسیوں سے) باندھ دیا اور اونٹ ہانک کرلے گئے یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ نے ان دونوں پر لعنت فرمائی جیسا کہ وہ اپنے ارشاد میں لعنت کیا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ لعنت کرے رعل پر ذکوان پر، عصیہ پر لحیان پر اور ملکیہ کے بیٹے حریم اور حران پر۔
17:۔ ابن منذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ “ سے لے کر (آیت) ” رب ارحمھما کما ربینی صغیرا (124) “ تک کے بارے میں فرمایا کہ پھر (اس میں سے) استثنی کرتے ہوئے فرمایا۔ (آیت) ” ماکان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین “ سے لے کر ” الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ “ تک۔
18۔ ابن جریر وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فلما تبین لہ انہ عدوللہ “ کے بارے میں فرمایا کہ آپ کے لئے اس وقت ظاہر ہوا جب وہ مرگیا اور آپ جان لیا کہ توبہ کا وقت اس سے ختم ہوچکا تھا۔
19:۔ الفریابی وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابو بکر الشافعی نے اپنی فوائد میں والضیاد نے المختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) برابر اپنے والد کے لئے استغفار کرتے رہے یہاں تک کہ وہ مرگیا جب وہ مرگیا تو یہ بات ظاہر ہوگئی کہ وہ اللہ کا دشمن تھا تو اس سے بیزار ہوگئے ( استغفار کرنا بند کردیا)
20:۔ عبدالرزاق (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلما تبین لہ انہ عدوللہ “ یعنی جب وہ اپنے کفر پر مرگیا (تو ظاہر ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن تھا اب اس کے لئے استغفار کرنا بند کردیا۔ (اما قولہ تعالیٰ ) ان ابرھیم لاوا۔ حلیم :
21:۔ ابن جریر ابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ ایکآدمی بیت اللہ کا طواف کیا کرتا تھا۔ اور اپنی دعا میں یوں کہتا تھا اوہ اوہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک وہ بہت ہی آہیں بھرنے والا ہے۔
22:۔ عبداللہ بن احمد نے روائد میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی (رح) نے شعب الایمان میں کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان ابرھیم لاواہ حلیم “ کے بارے میں فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) جب آگ کا ذکر کرتے تھے تو فرماتے (آیت) ” اتوہ من النار “ یعنی آپ آگ کے ذکر سے آہیں بھرتے۔
23:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوالشیخ (رح) نے ابو الجواز (رح) سے اسی طرح بیان کیا کہ جابر ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی ذکر کے ساتھ اپنی آواز کو بلند کرتا تھا۔ ایک آدمی نے کہا کاش کہ یہ اپنی آواز کو پست کردیتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسکو چھوڑ دو کیونکہ وہ اقرار ہے یعنی وہ آہیں بھررہا ہے۔
24:۔ طبرانی وابن مردویہ (رح) نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کے لئے فرمایا جس کو ذوالبیجادین کہا جاتا تھا کہ وہ اواہ ہے اسی وجہ سے کہ وہ اللہ کا ذکر قرآن اور دعائیں کثرت سے کیا کرتے تھے۔
25:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک میت کو قبر میں داخل کیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے بیشک تو تلاوت قرآن کی وجہ سے انتہائی کرم کیا تھا۔
26:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عبداللہ بن شدادبن الھاد (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الاوۃ سے مراد ہے خشوع کرنے والا عاجزی کرنے والا۔
27:۔ ابن جریر وابن منذر والطبرانی ابوالشیخ رحمہم اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے دعا کرنا۔
28:۔ ابو الشیخ (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ الاوۃ سے مراد ہے دعا اور سکون حاصل کرنے والا اللہ تعالیٰ کے پاس اس مریض کی طرح ہے جو آہیں بھرتا ہے اپنے مرض سے۔
29:۔ عبدالرزاق ولفریابی وابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابوالشیخ (رح) نے ابو العبدبن (رح) سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے الاولۃ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے کہ مہربان رحیم۔
30:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے علی (رح) کے واسطے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے توبہ کرنے والا مومن۔
31:۔ ابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الاوۃ سے مراد ہے حلیم الطبع ومطیع مومن۔
32:۔ ابن ابی حاتم (رح) سے ابو ایوب (رح) سے روایت کیا کہ الاوۃ سے مراد ہے جو شخص جب اپنی خطاوں کو یاد کرتا ہے تو اس سے استغفار کرتا ہے۔
33:۔ ابن جریر (رح) نے العوفی کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الاواۃ حبشہ کے رہنے والے مومن کو کہتے ہیں۔
34:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) کے راستے میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے یقین کرنے والا۔
35:۔ ابن جریر وابوالشیخ نے ابو طیبان کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے یقین کرنے والا حبشی زبان میں۔
36:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے یقین کرنے والا حبشی زبان میں۔
37:۔ ابن جریر وابو الشیخ (رح) نے عکرمہ (رح) کے راستہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے یقین کرنے والا حبشی زبان میں۔
38:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے یقین کرنے والا حبشی زبان میں۔
39:۔ ابن جریر (رح) نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے یقین کرنے والا حبشی زبان میں۔
40:۔ ابن جیر (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے یقین کرنے والا حبشی زبان میں۔
41:۔ ابن جریر (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے یقین کرنے والا اور یہ کلمہ حبشی زبان کا ہے۔
42:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے ایک اور سند سے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے فقیہ یقین کرنے والا۔
43:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ شبعی (رح) سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے فقیہ یقین کرنے والا۔
44:۔ عبد بن حمید وابن منذر (رح) نے ابو میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے شیخ یعنی بوڑھا آدمی۔
45:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہم اللہ نے عمر وبن شرجیل (رح) سے روایت کیا کہ الاواۃ سے مراد ہے رحم کرنے والا حبشی زبان میں۔
46:۔ ابن منذر (رح) نے عمرو بن شرجیل (رح) نے فرمایا کہ الاواہ مراد ہے دعا کرنا حبشی زبان میں ہے۔
47:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ الاواہ سے مراد ہے مسیح (روزے دار)
48:۔ بخاری (رح) نے اپنی تاریخ میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ فرمایا الاواہ سے مراد وہ شخص جس کا دل اللہ تعالیٰ کی جانب لٹکا ہوا ہو (یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات سے لگا ہوا ہو)
49:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو الاواہ ان کی رقت اور رحمت کی وجہ سے کہتے تھے۔
50:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ان ابرھیم لاواہ حلیم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے حلم والے اور رحم والے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ایذاء دینے والے کو دعا دینا۔
51:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ابرھیم لاواہ حلیم “ سے مراد ہے کہ ان کے حلم میں سے یہ تھا کہ اگر کوئی آدمی ان کی قوم میں سے ان کو تکلیف دیتا تو اس سے فرماتے اللہ تعالیٰ تجھ کو ہدایت دے۔
52:۔ عبدبن حمید (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جو چیز قرآن میں نازل ہوئی میں اس کو جانتا ہوں چار آیات کے علاوہ (جن کو میں نہیں جانتا) رقیم کے بارے میں نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے میں نے کعب سے پوچھا اور وہ گمان کرتے تھے اس سے مراد وہ بستی ہے کہ جس سے وہ (اصحاب کہف) نکلے تھے اور (آیت) ” وحنانا من لدنا وزکوۃ “ (مریم آیت 13) کے بارے میں نہیں جانتا کہ حنان کیا ہے لیکن اس سے مراد ہے ” رحمت والعسلین “ کے بارے میں نہیں جانتا وہ کیا ہے لیکن میں گمان کرتا ہوں کہ اس سے مراد زقوم ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ان شجرت الزقوم (43) طعام الاثیم (44) “ اور فرمایا الاواہ سے مراد ہے یقین کرنے والا حبشی زبان میں۔
53:۔ ابو الشیخرحمۃ اللہ علیہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ الاواہ سے مراد ہے مومن۔
54:۔ ابو الشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ الاواہ سے مراد ہے رجوع کرنے والا۔
55:۔ ابن جریر وابوالشیخ رحمہما اللہ نے عتبہ بن عامر (رح) سے روایت کیا کہ الاواہ سے مراد ہے اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والا۔
Ayahs 9:115–1161:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما کان اللہ لیضل قوما بعد اذ ھدہم حتی یبین لہم ما یتقون “ کہ اللہ تعالیٰ کی حالت سے ایمان والوں لئے استغفار کرنے میں وضاحت ہے مشرکین کے لئے خاص طور پر اور اپنی اطاعت اور معصیت کے بارے میں اس کی وضاحت عام ہے جو کچھ انہوں نے کہا یا چھوڑ دیا۔
2:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حتی یبین لہم ما یتقون “ سے مراد ہے وہ تمام چیزیں جن پر وہ عمل کریں گے اور جن سے وہ باز رہیں گے۔
3:۔ ابن منذر (رح) نے یحی بن عقیل (رح) سے روایت کیا کہ یحی بن یعر کو ایک تحریر دی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ یہ عبداللہ بن مسعود کا ایک خطبہ ہے جو وہ ہر خمیس کی شام کو اپنے اصحاب کو خطبہ دیا کرتے تھے انہوں نے حدیث ذکر کی پھر فرمایا جو شخص تم میں سے طاقت رکھے کہ وہ صبح سویرے عالم یا متعلم بن جائے تو ایسے اعضا کرنا چاہئے اور اس کے علاوہ وہ صبح سویرے کچھ نہ تھے کیونکہ عالم اور معالم دونوں خیر میں شریک ہیں اے لوگو اللہ کی قسم میں تم پر اس بات کا خوف کرتا ہوں کہ تم لے لو اس چیز کو جو تمہارے لئے نہ بیان کی جائے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” وما کان اللہ لیضل قوما بعد اذ ھدہم حتی یبین لہم ما یتقون “ یعنی تمہارے لئے بیان کردیا گیا کہ جن چیزوں سے تم بچو۔
4:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وما کان اللہ لیضل قوما بعد اذ ھدہم حتی یبین لہم ما یتقون “ کے بارے میں فرمایا یہ آیت نازل ہوئی جب گزوہ بدر کے مشرکین قیدیوں سے فدیہ لیا گیا فرمایا تمہیں نہیں چاہئے تھا کہ تم اس (فدیہ) کو لے لو یہاں تک کہ تمہارے لئے اجازت دی جاتی لیکن اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو عذاب نہیں دیتے اس گناہ کی وجہ سے جو انہوں نے کیا ہو یہاں تک کہ ان کے لئے یہ بیان کردیا جائے کہ جس سے وہ بچیں پھر فرمایا یہاں تک کہ ان کو منع کردیا جائے اس سے پہلے۔
Ayah 9:117تنگ کے وقت سے مراد غزوہ تبوک ہے :
1:۔ ابن جریر وابن خزیمہ وابن حبان والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن مردویہ وابو نعیم اور بیہقی (رح) دونوں نے دلائل میں والضیاء (رح) نے المختار میں ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے عمر بن خطاب ؓ سے پوچھا کہ ہم کو تنگی کی گھڑی کے بارے میں بتائیں فرمایا ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تبوک کی طرف نکلے سخت گرمی میں ہم ایک منزل پر اترے اس میں ہم کو بہت پیاس لگی یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ ہماری گردنیں عنقریب کٹ جائیں گی یہاں تک کہ ایک آدمی اپنے اونٹ کو ذبح کرتا تھا اور اس کے خون کو نچوڑ کر پی لیا تھا اور یہاں تک کہ باقی کو اس کی جگہ پر ڈال دیتا تھا ابوبکر صدیق نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عادی بنا دیا ہے خیر کی دعا مانگنے کا ہمارے لئے دعا فرمائیے آپ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور آپ نے ان کو پاس نہ لوٹایا تھا یہاں تک کہ آسمان پر بادل ظاہر ہوئے تو خوب کو برسا دیا اور خوب پانی بہایا تو سب نے اپنے برتنوں کو بھر لیا جو ان کے پاس تھے پھر ہم (وہاں سے) چلے اور ہم دیکھ رہے تھے اور ہم یہ بارش کو نہ پایا اور لشکر آگے گزر گیا۔
2:۔ ابن جریر ابن منذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فی ساعۃ العسرۃ “ سے مراد ہے غزوہ تبوک۔
3:۔ ابن منذر ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے غزوہ تبوک میں نبی ﷺ کی تابعداری کی شام کی طرف سخت گرمی میں اور ایسی سخت مشقت اٹھائی جس کو اللہ تعالیٰ خوب جان رہے تھے اس میں ان کو شدید مشقت پہنچی۔ یہاں تک کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ وہ آدمی ایک کھجور کے آپس میں دو ٹکڑے کرتے تھے اور بہت سے لوگ ایک کھجور کو آپس میں گھماتے تھے کہ ان میں سے ایک اس کو چوستا تھا پھر اس پر پانی ڈالتا پھر اس کو دوسرا آدمی چوستا تھا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائی اور اس غزوہ سے ان کو کامیاب واپس لوٹایا۔
4:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں محمد بن عبداللہ بن عقیل بن ابی طالب سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ “ کے بارے میں فرمایا یہ لوگ غزوہ تبوک میں (اس حال میں) نکلے کہ دو یا تین آدمی ایک اونٹ پر تھے اور سخت گرمی میں یہ نکلے ایک دن ان کو سخت پیاس لگی یہاں تک کہ انہوں نے اپنے اونٹوں کو ذبح کرنا شروع کیا ان کی اوجھوں کو نچورڑ کر اس کے پانی کو پینے لگے اور ان کے لئے تنگی تھی پانی سے تنگی تھی خرچ سے اور تنگی تھی سواری سے۔
5:۔ ابن جریر وابن منذر وابن مردویہ رحمہم اللہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ تنگی تھی سواری سے تنگی سے توبہ سے اور تنگی تھی پانی سے۔
6:۔ ابو الشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا (آیت) ” من بعد ما کاد یزیغ قلوب فریق منہم “