9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 9:102

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا انہوں نے ملے جلے عمل کئے جن میں نیک عمل بھی ہیں اور برے اعمال بھی، عنقریب اللہ ان کی توبہ قبول فرمالے گا۔ بلاشبہ اللہ غفور ہے رحیم ہے

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دس آدمی تھے جو غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے جب رسول اللہ ﷺ واپس تشریف لے آئے تو ان میں سے سات آدمیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا جب نبی کریم ﷺ مسجد میں ان کے پاس سے گزرے اور ان کو دیکھ کر فرمایا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا ہے صحابہ کرام ؓ نے فرمایا یہ ابو لبابہ اور ان کے ساتھی ہیں جو آپ سے یارسول اللہ ﷺ پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا اور قسم اٹھائی کہ کوئی ان کو نہ کھولے گا یہاں تک کہ نبی کریم ﷺ ان کو کھولیں گے اور ان کا عذر قبول فرمائیں گے آپ نے فرمایا میں بھی اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کو نہیں کھولوں گا اور نہ ان کا عذر قبول کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کو کھولیں گے کیوں کہ انہوں نے مجھ سے اعراض کیا اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے سے پیچھے رہ گئے۔ جب ان کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا ہم اپنے آپ کو نہیں کھولیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ہم کو کھولنے والے ہیں ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا۔ عسی اللہ ان یتوب علیہم “ اور قریب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ قبول ہوجائے اور وہ بہت توبہ قبول کرنے والے اور رحم کرنے والے ہیں جب (یہ آیت) نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ان تک یہ آیت پہنچائی ان کو کھول دیا اور ان کا عذر قبول کرلیا وہ مال لے آئے اور کہا یا رسول اللہ یہ ہمارے لئے مال ہیں ہماری طرف سے اس کو صدقہ کردیجئے اور ہمارے لئے استغفار فرمائیے آپ نے فرمایا مجھے تمہارا مال لینے کا حکم نہیں دیا گیا تو اللہ جل شانہ نے یہ نازل فرمایا (آیت) خذ من اموالہم صدقۃ تطھرھم وتزکیہم بھا وصل علیم “ فرمایا کہ ان کے لئے استغفار کیجئے (آگے فرمایا) (آیت) ” ان صلوتک سکن لہم “ یعنی آُ کی دعا ان کے لئے رحمت ہوگی آپ نے ان سے صدقہ لے لیا اور ان کے لئے استغفار فرمایا اور ان میں سے تین آدمی ایسے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں سے نہیں باندھا ان کا معاملہ ایک سال موخر کردیا گیا وہ نہیں جانتے تھے کیا ان کو عذاب دیا جائے گا یا ان کو توبہ قبول کی جائے گی تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت) ” لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ “ اتاری آیت کے آخر تک پھر فرمایا (آیت) وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ سے لے کر (آیت) ” ثم تاب علیہم لیتوبوا، ان اللہ ھو التواب الرحیم (118) تک یعنی ” ان استقاموا “ اگر وہ صراط مستقیم پر قائم رہے۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے بغیر اسی طرح روایت بیان کی۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اعترفوا بذنوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ابولبابہ تھے جب انہوں نے قریظہ کو کچھ کہا تو ساتھ ہی اپنے گلے کی طرف اشارہ کردیا کہ محمد ﷺ تم ذبح کریں گے اگر تم ان کے حکم پر اتر آئے۔ ابولبابہ ؓ کا اپنے آپ کو ستون سے باندھنا : 4:۔ البیہقی (رح) نے دلائل میں سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ بنوقریظہ (یہودی) ابو لبابہ کے حلیف تھے انہوں نے اوپر سے جھانک کر ان کی طرف دیکھا اور آپ ان کو رسول اللہ ﷺ کے حکم کی طرف دعوت دینے لگے انہوں نے کہا اے ابولبابہ کیا تو ہم کو حکم دیتا ہے کہ ہم نیچے اتر آئیں تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے گلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ذبح کردیئے جاؤ گے رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تو خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھ سے غافل ہیں جب تو نے ان کی طرف اس کے ذریعہ اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا پس وہ کچھ وقت تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے اور یہ تنگی والا جہاد تھا وہ لوگ جو پیچھے رہ گئے (غزوہ تبوک سے) ابولبابہ بھی ان لوگوں میں سے تھے جب رسول اللہ ﷺ (غزوہ سے) واپس تشریف لائے ابو لبابہ نے آکر سلام کیا آپ نے ان سے منہ پھیرلیا تو ابولبابہ گھبرائے گئے اور تو بہ کے ستون سے اپنے آپ کو باندھ دیا جو ام سلمہ کے دروازہ کے پاس ہے سات دن اور رات شدید گرمی میں اسی حال میں رہے ان دنوں میں کچھ کھایا اور نہ ایک قطرہ تک پیا اور کہا میں اس جگہ پر پڑا رہوں گا یہاں تک کہ اس دنیا سے جدا ہوجاوں گا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لیں وہ برابر اسی طرح رہے یہاں تک کہ کمزوری کے سبب کسی کی آواز بھی نہیں سن سکتے تھے اور رسول اللہ ﷺ انکی طرف صبح اور شام دیکھتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی آواز دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول کرلی رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ ان کو ان کی رسی سے آزاد کردے انہوں نے انکار کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے بغیر مجھے کوئی نہ کھولے۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور اپنے ہاتھ مبارک سے ان کو کھولا جب تندرست ہوئے تو ابولبابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اپنی قوم کا وہ گھر کو دوں گا جس میں مجھ سے یہ غلطی ہوئی اور میں آپ کی طرف منتقل ہونا چاہتا ہوں آپ مجھ کو ٹھکانہ دیجئے اور میں اپنے مال میں سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف صدقہ نکالنا چاہتا ہوں آپ نے فرمایا تجھ سے مال کا تیسرا حصہ کافی ہے ابو لبابہ نے پانی قوم کے گھر سے ہجرت کرلی اور رسول اللہ ﷺ کے پاس سکونت اختیار کرلی اور انہوں نے اپنے تہائی مال کا صدقہ کیا پھر توبہ کی پھر اس کے بعد اسلام میں ان سے سوائے نیکی اور خیر کے عمل کے اور کچھ نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ 5:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک پر تشریف لے گئے تو ابو لبابہ اور ان کے ساتھ دو آدمی پیچھے رہ گئے نبی کریم ﷺ سے ( جہاد میں نہ جاسکے) پھر ابو لبابہ اور ان کے ساتھ دو آدمیوں نے سوچا اور نادم ہوئے اور انہوں نے اپنی ہلاکت کا یقین کرلیا۔ اور کہنے لگے کہ ہمسائے اور عورتوں کے ساتھ اطمینان اور راحت سے رہ رہے تھے اور رسول اللہ ﷺ اور ایمان والے لوگ آپ کے ساتھ جہاد میں مصروف ہیں۔ اللہ کی قسم ہم اپنے آپ کو ستونوں کے ساتھ ضرور باندھ دیں گے۔ اور پھر نہیں کھولیں گے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو کھولیں گے اور ہمارا عذر قبول فرمائیں گے ابو لبابہ چلے اور انہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا اور ان کے ساتھ دو آدمیوں نے بھی مسجد کے ستونوں سے (اپنے آپ کو) باندھ دیا اور تین آدمی باقی رہ گئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو نہ باندھا۔ رسول اللہ ﷺ جہاد سے واپس تشریف لائے اور آپ سیدھے مسجد میں پہنچے تو ان پر گزرتے ہوئے فرمایا یہ لوگ کون ہیں اپنے آپ کو ستونوں سے باندھنے والے ایک آدمی نے کہا یہ ابولبابہ اور ان کے دوساتھی ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ کیا کہ ہم اپنے آپ کو نہ کھولیں گے یہاں تک کہ آپ ان کو نہ کھولیں گے اور ان سے راضی نہ ہوں گے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ کیا کہ ہم اپنے آپ کو نہ کھولیں گے یہاں تک کہ آپ ان کو نہ کھولیں گے اور ان سے راضی نہ ہوں گے اور انہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم میں ان کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ میں ان کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ میں ان کو کھولنے کا حکم نہ دیا جاوں اور ان کا عذر قبول نہ کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کا عذر قبول نہ فرمائیں گے کیونکہ یہ لوگ پیچھے رہ گئے مسلمانوں سے اور ان کے ساتھ جہاد کرنے سے اعراض کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم “ اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا ضرور ہوگا جب آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو کھولا اور ان کے عذر کو قبول فرمایا۔ ابو لبابہ اور ان کے ساتھی اپنے مال لے کر آئے اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر کہا ہمارے مالوں کو لے لیجئے اور ہماری طرف سے اس کو صدقہ کردیجئے اور ہمارے لئے رحمت کی دعا کیجئے وہ عرض کرنے لگے کہ ہمارے لئے استغفار کیجئے اور ہم کو پاک کیجئے۔ آپ نے فرمایا میں اس میں سے کچھ بھی نہیں لوں گا۔ یہاں تک اس کا حکم نہ کیا جاوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ “ راوی نے کہا کہ تین آدمی باقی رہ گئے جنہوں نے ابولبابہ کی مخالفت کی انہوں نے توبہ نہیں کی تھی۔ اور نہ ہی کسی چیز کا انہوں نے ذکر کیا اور ان کے عذر کے بارے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ ان پر زمین تنگ ہوگئی کشادہ ہونے کے باوجود ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واخرون مرجون لامر اللہ “ تو ان لوگوں نے کہنا شروع کیا وہ ہلاک ہوگئے جب ان کے لئے عذر نازل نہیں ہوا اور دوسرے لوگوں نے کہنا شروع کیا وہ ہلاک ہوگئے جب ان کے لئے عذر نازل نہیں ہوا اور دوسرے لوگوں نے کہنا شروع کیا تو قریب ہے اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائیں گے۔ اور وہ انتظار کرنے لگے اللہ کے حکم کا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لقد تاب اللہ علی النبی “ سے لے کر (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ تک یعنی وہ انتظار کررہے تھے اللہ کے حکم کا پس ان پر توبہ کا حکم نازل ہوا اور اس کے ساتھ انہوں نے عمل کیا۔ 6:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آٹھ آدمی تھے جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں کے ساتھ باندھ دیا تھا ان میں سے کردم، مرداس اور ابولبابہ تھے۔ 7:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے قتادہ (رح) نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا۔ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ سات آدمی تھے جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے چار ایسے تھے جنہوں نے کچھ اچھے عمل اور کچھ برے عمل آپس میں ملا دیئے (ان کے نام یہ تھے) جد بن قیس، ابولبابہ، حرام اور اوس یہ سب انصار میں سے تھے ان کی توبہ قبول کی گئی اور یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں کہا گیا (آیت ) ” خذ من اموالہم صدقۃ “ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” خلطوا عملا واخر سیئا “ کے بارے میں فرمایا (عمل صالح والے لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا (آیت) ” واخر سیئا “ جو ان سے پیچھے رہ گئے۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ وابن دنیا نے توبہ میں وابن جریر وابن منذر وابو الشیخ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابو عثمان نہدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے قرآن میں کوئی آیت نہیں ہے جو میرے نزدیک اس امت کے لئے اس آیت سے بڑھ کر امید افزاء ہو (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “۔ اعمال سیئہ سے توبہ کرنا : 10:۔ ابوالشیخ والبیہقی (رح) نے مطرف (رح) سے روایت کیا کہ میں رات کو اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور قرآن پر غور کررہا تھا تو میں نے اپنے اعمال کو اہل جنت کے اعمال کو اہل جنت کے اعمال پر پیش کیا اچانک ان کے اعمال شدید اور سخت تھے مثلا (آیت) ” کانوا قیلا من الیل ما یہجعون (17) “ (الذریات) اور (آیت) اور ” یبیتون لربہم سجدا و قیام ‘ (64) “ (فرقان آیت 64) اور (آیت) ” امن ھو قانت اناء الیل ساجدا وقائما “ تو میں اپنے آپ کو ان میں سے گمان نہ کرتا پھر میں نے اپنے آپ کو اسآیات پر پیش کیا (آیت) ” ما سلکم فی سقر (42) اور (آیت) ” قالوا لم نک من المصلین (42) “ المدثر) لے کر ”(آیت) ” نکذب بیوم الدین (46) تک پس میں جھٹلانے والی قوم میں غور وفکر کرتا اور اپنے آپ کو ان میں گمان نہ کرتا پھر اس آیت کا حکم دیا گیا یعنی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ پس میں امید کرسکتا ہوں کہ میں ان میں سے ہوں گا اور اے میرے بھائیو ! تم بھی ان میں سے ہوگے۔ 11:۔ ابو الشیخ وابو المنذر و ابونعیم نے المعرفۃ میں وابن عساکر نے ایک قومی سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ غزوہ تبوک میں چھ آدمی رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے (وہ یہ تھے) ابو لبابہ اوس بن جزام، ثعلبہ بن ودیعہ، کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ھلال بن امیہ (ان میں سے) ابو لبابہ اوس بن جزام اور ثعلبہ آئے اور انہوں نے اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ دیا اور اپنا مال لے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ اس مال کو لے لیجئے جو ہم آپ سے پیچھے رک گئے اور ان کو چالیس دن موخر کردیا گیا وہ باہر نکلے اور انہوں نے اپنے خیمے لگائے اور ان میں سے آپ نے ان کو اپنی عورتوں سے بھی جدا کردیا کوئی مسلمان ان کا دوست نہیں تھا۔ اور اس میں سے کوئی قریب بھی نہیں ہوا پھر اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ سے لے کر ” التواب الرحیم “ تک ام سلمہ نے کعب کی طرف ایک آدمی بھیجا اور ان کو خوشخبری دی۔ 12:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن شوذب (رح) سے روایت کیا کہ احنف بن قیس نے فرمایا کہ میں نے اپنے آپ کو قرآن پر پیش کیا۔ میں نے کسی آیت کو نہیں پایا جو میرے نزدیک اس آتی سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو، یعنی (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا :۔ 13:۔ ابو الشیخ (رح) نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن بصری سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا :۔ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اے مالک انہوں نے توبہ کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے۔ اور امید ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ واجب ہے (یعنی ثابت ہے) صحابہ کرام ؓ سے خواب کے متعلق دریافت کرنا : 14:۔ بخاری ومسلم و ترمذی والنسائی وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ اکثر اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کیا تم سے کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ایک صبح کو آپ نے ہم سے فرمایا اس رات دو آنے والے میرے پاس آئے مجھ سے کہا چلئے میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ وہ مجھے مقدس زمین کی طرف لے گئے ہم ایک آدمی پر تھے جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا ایک پتھر لے کر اس پر کھڑا ہوا تھا اچانک وہ پتھر کو اس کے سر پر مارتا ہے تو اس کا سرکچلا جاتا ہے اور پتھر لڑھک کر دور جاگرتا ہے۔ وہ پتھر کے پیچھے جاکر اس کو اٹھاتا ہے اور اس کی طرف واپس آتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا سر ٹھیک ہوجاتا ہے جیسے تھا پھر وہ دوبارہ اس کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے جو اس سے پہلی مرتبہ کیا تھا میں نے ان دونوں سے کہا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں ؟ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا چلئے تو ہم چلے اور ایک اپنی گدی بل چت لیٹے ہوئے ایک آدمی کے پاس آئے اور دوسرا آدمی لوہے کی سلاخ لے کر اس پر کھڑا تھا اچانک وہ اس کی ایک جانب سے آکر اس کی باچھیں گدی تک چیر دیتا ہے۔ اور اس کے نتھنوں کو اس کی گدی تک اور اس کی آنکھوں کو اس کی گدی تک چیر دیتا ہے پھر وہ دوسری جانب پھر آتا ہے اور اس جانب سے بھی اسی طرح کرتا ہے جیسے اس نے پہلی جانب کیا تھا اس جانب سے جب فارغ ہوتا ہے تو پہلی جانب ٹھیک ہوجاتی تھی جیسے تھی پھر وہ اس کی طرف لوٹتا ہے اور اس طرح کرتا ہے جیسے اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا میں نے کہا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں ؟ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے تو ہم چلے اور ہم تنور کی طرح ایک چیز پر آئے اچانک اس میں شور اور آوازیں تھیں ہم نے اس میں جھانکا اچانک اس میں مرد اور عورتیں ننگی تھیں آگ کا شعلہ ان کو نیچے سے بلند ہوتا تھا یہ شعلہ جب ان پر پڑتا تو وہ چیخ و پکار کرتے میں نے کہا یہ کون ہیں ؟ دونوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے ہم چلے اور خون کی طرح ایک سرخ نہر پر آئے اور تیرنے والے آدمی اس میں تیر رہا تھا اور نہر کے کنارہ پر ایک دوسرا آدمی تھا جس کے پاس بہت سے پتھر تھے جب وہ تیرنے والا تیر کر اس کے پاس آتا تھا جس کے پاس پتھر جمع تھے تو وہ اپنا منہ کھولتا تو یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا پھر وہ آدمی چلا جاتا اور تیرنے لگتا پھر اس کی طرف لوٹتا جب کبھی لوٹتا تو اپنا منہ کھول دیتا اور وہ اس میں پتھر ڈال دیتا۔ میں نے ان دونوں سے کہا یہ دونوں کون ہیں ؟ میرے دونوں ساتھیوں نے کہا آگے چلئے ہم چلے اور ایک بہت ہی بدصورت آدمی کے پاس آئے جس سے بڑھ کر آپ نے انتہائی بدصورت آدمی کو نہیں دیکھا ہوگا اچانک اس کے پاس ایک آگ تھی جس کو وہ سلگاتا کہ اس کے اردگرد دوڑتا تھا۔ میں نے اس سے کہا یہ کون ہے دونوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے ہم چلے اور ایک گھنے سیاہ باغ پر آئے اس میں ہر جانب بہار کا نور تھا اور اچانک باغ کے راستوں کے درمیان ایک لمبے قد کا آدمی تھا قریب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے سر کی لمبائی آسمان کی طرف بڑھی ہوئی تھی جبکہ اس آدمی کے اردگرد اکثر (چھوٹے) بچے تھے کہ میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا تھا میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے دونوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے ہم چلے اور ایک بڑے باغ کی طرف پہنچے۔ اس سے بڑا باغ میں نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ اس سے اچھا دونوں نے مجھ سے کہا اس میں چڑھتے چلو ہم اس میں چڑھے ہم ایک ایسے شہر کی طرف پہنچے جو سونے اور چاندی کی اونٹینوں سے بنایا گیا تھا ہم اس شہر کے دروازہ پر آئے ہم نے کھولنے کو کہا تو ہمارے لئے کھول دیا گیا ہم اس میں داخل ہوئے اور وہاں بہت سے لوگوں سے ہم نے ملاقات کی ان میں کچھ اپنی تخلیق میں اتنے حسین تھے کہ ان سے بڑھ کر حسین تم نے نہیں دیکھے۔ اور کچھ اتنے بدصورت تھے کہ ان سے بڑھ کر بدصورت تم نے نہیں دیکھے۔ دونوں نے ان سے فرمایا تم جاؤ اور اس میں نہر میں اپنارنگ صاف کرلو اچانک یہ نہر چوڑائی میں تھی جو جاری تھی اور اس کا پانی دودھ کی طرح سفید تھا وہ لوگ گئے اور اس میں واقع ہوگئے پھر ہماری طرف لوٹ آئے۔ ان سے ساری بدصورتی چلی گئی اور وہ انتہائی حسین ہوگئے دونوں نے مجھ سے کہا یہ آپ کو محل ہے اور آپ کی منزل ہے میں نے ان سے کہا تم دونوں میں اللہ تعالیٰ برکت دے مجھ کو چھوڑ دو میں اس میں داخل ہوجاوں دونوں نے کہا ابھی نہیں لیکن تم ضرور اس میں داخل ہوگے۔ جہنم کی خواب میں دیکھنا : میں نے ان دونوں سے کہا آج کی رات میں نے عجیب و غریب مناظر دیکھے رہیں۔ وہ کیا ہے جو میں نے دیکھا دونوں نے مجھ سے کہا پہلا آدمی کہ جس پر ایک آدمی آکر اس کا سر کچل دیتا ہے پتھر کے ساتھ وہ آدمی ہے جو قرآن شروع کرتا پھر اسے چھوڑ دیتا تھا اور فرض نماز سے سو جاتا تھا (یعنی نماز نہیں پڑھتا تھا) اس کے ساتھ قیامت کے دن تک ایسا کیا جاتا رہے گا اور آدمی جو اس کے جبڑے کو گدی تک چیر دیتا تھا اس کے نتھنوں کو اس کی گدی تک اور اس کی آنکھوں کو اس کی گدی تک کیونکہ یہ آدمی صبح سویرے نکل کر جھوٹ بولتا تھا اور اس کا جھوٹ آفاق میں پہنچ جاتا ہے اور اس کے ساتھ اس طرح قیامت کے دن تک کیا جاتا رہے گا اور ننگے مرد اور عورتیں جو سب تنور میں تھے وہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں ہیں اور وہ آدمی جو ایسے آدمی کے پاس آتا ہے جو نہر میں تیرتا ہے اور وہ اس کو پتھر مارتا ہے وہ سود کھانے والا ہے اور روہ بدصورت آدمی جس کے پاس آگ تھی۔ اس کو سلگاتا تھا وہ داروغہ جہنم مالک تھا اور وہ لمبا آدمی جو باغ میں تھا۔ وہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) تھے اور وہ لڑکے جو اس کے اردگرد تھے ایسے نومولود بچے تھے جو فطرت پر بھی وفات پاگئے اور وہ قوم جو آدھی ان میں سے خوبصورت تھی اور آدھی ان میں سے بدصورت تھی وہ ایسی قوم ہے جنہوں نے نیک اور برے اعمال ایسے ہی ملا دیئے اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرمایا اور میں جبرئیل اور یہ میکائل ہیں۔ 15:۔ الخطیب (رح) نے اپنی تاریخ میں ابو موسیؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے کچھ آدمیوں کو دیکھا کہ ان کی کھالیں آگ کی کینچوں سے کاٹی جارہی تھیں۔ میں نے کہا یہ کون ہیں۔ بتایا یہ وہ لوگ ہیں جو ایسی چیزوں کے ساتھ زیب وزینت کرتے تھے جو ان کے لئے حلال نہیں تھی۔ اور میں نے ایسا بدبودار خیمہ دیکھا جس میں چیخ و پکار تھی۔ میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ بتایا گیا کہ وہ عورتیں ہیں جو ان کے لئے بناؤ سنگھار کرتی تھیں جو ان کے لئے حلال نہیں تھے۔ اور میں نے ایک قوم کو دیکھا جو غسل کررہے تھے جنابت کے پانی سے میں نے کہا یہ کون ہیں بتایا یہ وہ قوم ہے جنہوں نے نیک اور برے کو آپس میں ملا دیا۔ 16:۔ ابن سعد (رح) نے اسود بن قیس عدی (رح) نے روایت کیا کہ حسن بن علی ؓ ایک دن حبیب بن مسلمہ سے ملے اور فرمایا اے حبیب ! اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرمانبرداری کے امور کے سوا کے لئے تجھے رب میسر آگیا ہے۔ اس نے کہا لیکن میری پہنچ آپ کے باب تک ہے اور وہ ایسے نہیں ہیں فرمایا کیوں نہیں لیکن تو نے معاویہ کی اطاعت کی قلیل زائل ہونے والی دنیا کی شرط پر اگر وہ تیرے دنیوی (رح) معاملات میں تیرے ساتھ کھڑے ہیں وہ یقینی طور پر تو وہ تیرے ساتھ بیٹھے گا۔ تیرے دین میں اور اگر وہ جو تو نے کیا ہے وہ تیرا کام ہے خیر اور بھلائی کی بات ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” خلطوا عملا صالحا واخر سیئا “ لیکن تو اس طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”(آیت) ” کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون (14) “
Ayah 9:103

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

آپ ان کے اموال سے صدقہ لے لیجئے جو انہیں پاک کرے گا اور ان کو دعا دیجئے، بیشک آپ کی دعا ان کے لئے باعث تسکین ہے اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ تطہرہم وتزکیہم بھا “ سے مراد ہے کہ ان کو گناہوں سے پاک کرو جن کو پہنچے ہیں۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وصل علیہم “ سے مراد ہے کہ ان کے لئے ان کے گناہوں سے استغفار کیجئے جو انہوں نے کئے (پھر فرمایا) (آیت) ” ان صلوتک سکن الہم “ یعنی آپ کی دعا رحمت ہے ان کے لئے۔ 3:۔ ابی ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وصل علیہم “ سے مراد ہے کہ انکے لئے دعا کیجئے (آیت) ” ان صلوتک سکن لہم “ یعنی آپ کا ان کے لئے استغفار کرنا ان کے دلوں کو سکون دے گا اور ان کو اطمینان دے گا۔ س 4:۔ ابن ابی شیبہ والبخاری مسلم وابو داود والنسائی، ابن ماجہ، وابن منذر وابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس (جب) صدقہ لایا جاتا تھا تو آپ یوں دعا فرماتے۔ اے اللہ فلاں کی آل پر رحمت بھیج۔ جب میرے والد صدقہ لے آئے تو آپ نے یہ دعا فرمائی۔ اے اللہ ابی اوفی کی آل پر رحمتیں بھیج۔ 5:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” سکن لہم “ کہ دعا کے لئے امن (کا باعث) ہے۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے میری بیوی نے آپ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھ پر اور میرے شوہر پر رحمت کی دعا کیجئے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ رحم فرمائے تجھ پر اور تیرے شوہر پر۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے خارجہ بن زید (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے چچا یزید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں جو زید سے بڑے تھے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باہرنکلے جب ہم بقیع میں آئے تو وہاں ایک نئی قبر تھی آپ نے اس کے بارے میں پوچھا صحابہ نے عرض کیا یہ فلاں عورت کی قبر ہے آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا تم نے مجھے اس کے بارے میں کیوں نہیں بتایا صحابہ نے عرض کیا آپ آرام فرماتے ہم نے آپ کو تکلیف دینا ناپسند کیا آپ نے فرمایا ایسا مت کیا کرو جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں جب بھی تم میں سے کوئی فوت ہو تو مجھے ضرور بتایا کرو کیونکہ اس پر میرا جنازہ ادا کرنا باعث رحمت ہے۔ 8:۔ باوردی (رح) نے معرفت الصحابہ میں وابن (رح) نے دلسم سدوسی (رح) سے روایت کیا کہ ہم نے بشر بن خصامیہ سے کہا کہ صدقہ (وصول کرنے) والے ہم پر زیادتی کرتے ہیں کیا ہم اپنے مالوں میں سے اتنی مقدار چھپا سکتے ہیں جتنی مقدار میں وہ ہم پر زیادتی کرتے ہیں تو انہوں نے فرمایا جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے لئے (مال) جمع کردیا کرو پھر ان کو حکم کرو اور ان کو چاہئے کہ وہ تم پر رحم کریں پھر یہ آیت ” خذ من اموالہم صدقۃ تطہرہم وتزکیہم بھاوصل علیہم “ پڑھی۔
Ayah 9:104

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے نہیں جانا کہ بلاشبہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتے ہیں اور صدقات قبول فرماتا ہے اور بلاشبہ اللہ خوب زیادہ توبہ قبول کرنے والا ہے مہربان ہے

صدقہ کے اجروثواب کا بڑھنا : 1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ دوسروں نے کہا یہ لوگ کل کو ہمارے ساتھ تھے نہ وہ بات کرتے ہیں اور نہ وہ بیٹھے ہیں تو کیا ہے ان کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا (آیت) الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ “ (الآیہ) 2:۔ عبدالرزاق والحکیم الترمذی نے نوادرالاصول میں وابن ابی حاتم والطبرانی رحمہم اللہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ کوئی صدقہ نہیں کرتا مگر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے سائل کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے راوی نے کہا حالانکہ وہ اس کو سائل کے ہاتھ میں رکھتا ہے پھر ( یہ آیت) الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ ویاخذ الصدقت “ 3:۔ عبدالرزاق (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ویاخذ الصدقت “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ صدقہ کو قبول فرماتے ہیں جب وہ پاکیزہ (مال میں) سے ہو اور اس کو اپنے داہنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور بلاشبہ ایک آدمی ایک لقمہ کے برابر صدقہ کرتا ہے تو (اللہ تعالیٰ ) اس کو اس کے لئے بڑھاتا رہتا ہے۔ جیسے تم میں سے کوئی اونٹ کے بچے کو یا بچھیرے کو پالتا ہے تو وہ (صدقہ) بڑھتا رہے گا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں (یعنی خزانے میں) یہاں تک کہ احد کے برابر ہوجائے گا۔ 4:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو بندہ پاکیزہ صدقہ کرتا ہے۔ پاکیزہ کمائی میں سے اور اللہ تعالیٰ نہیں قبول فرمائے گا مگر پاکیزہ کو اور کوئی صدقہ آسمان کی طرف نہیں چڑھتا مگر پاکیزہ اور دینے والا اسے صحیح حقدار کو دیتا ہے۔ وہ اس کو رحمن کے ساتھ رکھتا ہے پھر وہ اس کو بڑھاتے رہتے ہیں جیسے کہ کوئی تم میں سے بچھڑے کو یا اونٹ یا بچے کو پالتا یہاں تک کہ ایک لقمہ یا ایک کھجور بڑے پہاڑ کی طرح ظاہر ہوگئی۔ اور اس بات کی تصدیق اللہ تعالیٰ نے کتاب میں ہے (آیت) الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ ویاخذ الصدقت “ 5:۔ دارقطنی (رح) نے الافراد میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ صدقہ کرو بلاشبہ تم میں سے کوئی اگر ایک لقمہ یا کوئی چیز دیتا ہے تو وہ اللہ عزوجل کے ہاتھ میں واقع ہوتی ہے سائل کے ہاتھ میں پہنچنے سے پہلے پھر یہ آیت (آیت) الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ ویاخذ الصدقت “ اور اللہ تعالیٰ اس کی اس طرح نشوونما کرتے ہیں جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کو یا اپنے اونٹ کے بچے کو پالتا ہے۔
Ayah 9:105

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور آپ فرما دیجئے کہ عمل کرتے رہو سو عنقریب اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ لے گا اور اس کا رسول بھی اور اہل ایمان بھی، اور عنقریب تم اس ذات پاک کی طرف لوٹائے جاؤ گے جسے چھپی ہوئی چیزوں کا اور کھلی ہوئی چیزوں کا علم ہے پھر وہ تمہیں جتا دے گا جو عمل تم کرتے تھے

1:۔ ابن بی شیبہ وابن منذر وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقل اعملوا فسیری اللہ عملکم ورسولہ “ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعید ہے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ والطبرنی وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) ” وقل اعملوا فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمومنون “ 3:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت کیا کہ فرمایا وہ ایک جنازہ کے ساتھ گزرے کسی نے اسکی تعریف کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی پھر دوسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی تعریف کی آپ نے فرمایا واجب ہوگئی اس بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا بلاشبہ فرشتے آسمان میں اللہ کو گواہ ہیں اور تم ان میں اللہ کے گواہ ہو تم نے اس پر جس چیز کی گواہی دی ہے تو وہ واجب ہوگئی۔ اور یہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت) ” وقل اعملوا فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمومنون “ 4:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے اعمال کو حقیر نہیں سمجھا یہاں تک کہ وہ قراء ظاہر ہوئے جنہوں نے عثمان نے ہر طعن کیا انہوں نے ایسی بات کہی کہ ہم اس کی مثل اچھا نہیں کہہ سکتے تھے۔ اور انہوں نے ایسی قرات کی کہ تم ان جیسی نہیں کرتے اور انہوں نے ایسی نماز پڑھی کہ ہم اس جیسی نماز نہیں پڑھتے تھے جب میں نے اس کو خوب غور سے دیکھا تب تو اللہ کی قسم ان کو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے عمل سے کوئی مقاربت نہ تھی جب ان میں سے کسی آدمی کے قول کا حسن تجھے تعجب میں ڈالے تو کہو (آیت) ” وقل اعملوا فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمومنون “ 5:۔ احمد وابو یعلی وابن حبان والحاکم البیہقی (رح) نے الشعب میں وابن ابی الدنیا نے الاجلاس میں والضیاء نے المختار میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی تم میں سے کسی پتھریلی زمین کو چٹان میں عمل کرتا ہے جس کا نہ کوئی دروازہ اور نہ روشندان ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو لوگوں کے لئے اس طرح نکالے گا جیسے وہ عمل ہوا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا معاملہ اللہ کا حکم آنے تک موخر کیا ہوا ہے وہ انہیں عذاب دے یا ان کی توبہ قبول فرمائے اور اللہ علیم ہے حکیم ہے

1:۔ ابن منذر (رح) نے عکرمہ (رح) سے فرمایا کہ (آیت) ” واخرون مرجون لامر اللہ “ سے وہ تین آدمی مراد ہیں جو پیچھے رہ گئے تھے۔ 2:۔ ابن منذر ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واخرون مرجون “ سے مراد ہیں بلال بن امیہ مرارہ بن ربیع اور کعب بن مالک ہیں جو قبیلہ اوس اور خزرج میں سے تھے۔ 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے محمد بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ ابولبابہ ؓ نے بنوقریظہ کی طرف اپنی انگلی سے اشارہ فرمایا کہ وہ ذبح کئے جائیں گے پھر فرمایا کہ میں نے اللہ اور اس کے رسول کی خیانت کی تو (یہ آیت) ” لاتخونو اللہ والرسول “ (الانفال آیت 27) نازل ہوئی اور (یہ آیت) ” واخرون مرجون لامر اللہ “ نازل ہوئی اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول فرمائی۔ 4:۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اما یعذبہم “ چاہے تو ان کو موت دیدے گناہوں پر (اور فرمایا) ” واما یتوب علیہم “ اور چاہے تو ان کی توبہ کو قبول کرلے پس اللہ تعالیٰ نے ان کا معاملہ موخر کردیا اور پھر (آیت) ” اما یعذبہم “ کا حکم منسوخ کردیا اور فرمایا (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “۔
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اس لئے مسجد بنائی کے ضرر پہنچائیں اور کفر اختیار کئے رہیں اور مومنین کے درمیان پھوٹ ڈالیں اور اس شخص کے قیام کا انتظام کریں جس نے اس سے پہلے اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کی، اور البتہ وہ ضرور قسمیں کھائیں گے کہ ہم نے تو صرف بھلائی ہی کا ارادہ کیا تھا اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک وہ جھوٹے ہیں

مسجد ضرار کا مقصد اسلام کو نقصان پہنچانا :۔ 1:۔ ابن جریر بن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” والذین اتخذوا مسجدا ضرارا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ کچھ لوگ انصار میں سے تھے انہوں نے مسجد بنائی اور ابو عامر نے ان سے کہا اپنی مسجد بناؤ او جتنا ہوسکے قوت اور ہتھیار کی تم طاقت رکھتے ہو اسی سے مدد لو میں قیصر روم کے بادشاہ کی طرف جانے والا ہوں اور میں روم کی طرف سے ایک لشکر لے آوں گا اور محمد ﷺ اور اس کے اصحاب کو نکال دوں گا۔ جب یہ لوگ اپنی مسجد (کی تعمیر) سے فارغ ہوئے تو نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا ہم اپنی مسجد بنانے سے فارغ ہوگئے ہیں اور ہم اس بات کو محبوب رکھتے ہیں کہ آپ اس میں نماز پڑھیں اور برکت کی دعا فرمائیں تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) ” لا تقم فیہ ابدا “ نازل فرمائی۔ 2:۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد قباء بنائی کچھ لوگ انصار میں سے نکلے جن میں یخدج عبداللہ بن حنیف کے دادا اور ودیعہ بن حزام مجمع بن جاریہ انصاری تھے انہوں نے نفاق کی مسجد بنائی رسول اللہ ﷺ نے یخدج سے فرمایا تیرے لئے ہلاکت ہے اے یخدج کیا تو نے میرے بارے میں یہ ارادہ کیا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں اس نے کہا یارسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم ! میں نے نہیں ارادہ کیا مگر نیکی کا حالانکہ وہ جھوٹ بول رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی تصدیق فرمائی اور آپ نے ارادہ فرمایا کہ اس کا عذر کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے اتارا (آیت) ” والذین اتخذوا مسجدا ضرارا وکفرا وتفریقا بین المومنین وارصادا لمن حارب اللہ ورسولہ “ یعنی وہ آدمی جس کو ابو عامر کہا جاتا ہے یہ جنگ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا رسول اللہ ﷺ سے اور وہ ہرقل (رومیوں کا بادشاہ) کی طرف گیا تھا۔ اور وہ گھات لگا کر انتظار کررہے تھے جب ابو عامر آئے گا اور وہ اس میں نماز پڑھے گا اور وہ مدینہ منورہ سے نکل گیا تھا اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ یہ بات ذکر کی گئی کہ بنو عمر و بن عوف والوں نے مسجد بنائی اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آدمی بھیجے کہ وہ ان کے پاس آدمی بھیجے۔ کہ وہ ان کے پاس آئیں اور ان کی مسجد میں نماز پڑھائیں۔ آپ ان کے پاس آئے اور اس میں نماز پڑھی۔ جب ان کے بھائیوں بنوغنم نے اس کو دیکھا تو ان پر حسد کیا اور انہوں نے کہا ہم بھی ایک مسجد بنائیں گے جیسے ہمارے بھائیوں نے مسجد بنائی اور ہم بھی رسول اللہ ﷺ کی طرف (یہ پیغام) بھیجیں گے آپ اس میں نماز پڑھیں شاید کہ ابو عامر ہمارے پاس سے گذرے اور اس میں نماز پڑھیں جیسے آپ نے ہمارے بھائیوں کی مسجد میں نماز پڑھی ہے جب قاصد آیا تو آپ کھڑے ہوئے تاکہ آپ ان کے پاس آئیں اور آپ نے ارادہ کیا کہ ان کے پاس آئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” والذین اتخذوا مسجدا ضرارا “ سے لے کر (آیت ) ” لا یزال بنیانہم الذی بنواریبۃ فی قلوبہم ‘ ‘ 4:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین اتخذوا مسجدا ضرارا “ سے منافق مراد ہے اور (آیت) ” وارصادالمن حارب اللہ ورسولہ “ سے ابوعامر راہب مراد ہے۔ 5:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” والذین اتخذوا مسجدا ضرارا “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے مسجد قبابنائی۔ تو منافقین نے دوسری مسجد بنالی پھر انہوں نے آپ کی طرف قاصد کو بھیجا تاکہ آپ اس میں نماز پڑھیں مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو ان کے ارادہ پر اطلاع دے دی۔ 6:۔ ابن اسحاق وابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مالک بن دخشم کو بلایا مالک نے عاصم سے کہا میرا انتظار کرو میں اپنے گھر سے آگ لے کر تیرے پاس آتا ہوں وہ اپنے گھر میں داخل ہوا اور آگے والی کھجور کی شاخیں لے لیں پھر وہ بڑی شدت اور تیزی کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ وہ مسجد میں داخل ہوگئے اس میں اس کے گھر والے تھے انہوں نے اس کو جلادیا اور اس کو گرا دیا اور اس کے اہل و عیال نکلے اور اس سے جدا ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کے بارے میں یہ آیت اتاری (آیت) ” والذین اتخذوا مسجدا ضرارا وکفرا “ سے لے کر ’ ’ علیم “ تک۔ 7:۔ ابن اسحاق وابن مردویہ رحمہما اللہ نے ابو رھم کلثوم بن حصین غفاری ؓ سے روایت کرتے ہیں۔ اور یہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ذی اوان (جگہ) پر اترے اس جگہ اور مدینہ کے درمیان دن کی کچھ ساعتوں کا فاصلہ ہے اور جب مسجد ضرا ار بنائی گئی وہ لوگ آئے اور آپ تبوک کی طرف تیاری فرما رہے تھے۔ ان لوگوں نے کہا یارسول اللہ ہم نے ایک مسجد بنائی ہے بیماروں حاجت مندوں شدید سردی کی راتوں اور بارش والی راتوں کے لئے اور ہم یہ بات پسند کرتے ہیں کہ آپ ہمارے پاس تشریف لے آئیں اور ہمارے لئے اس میں نماز پڑھیں آپ نے فرمایا اس وقت میں سفر کی تیاری میں ہوں اگر ہم انشاء اللہ سفر سے واپس آئے تو ہم تمہارے پاس آئیں گے اور ہم اس میں تمہارے لئے نماز پڑھیں گے جب آپ (واپسی پر) ذی اوان میں اترے تو آپ کے پاس (اللہ کی طرف سے) مسجد کی خبر پہنچی رسول اللہ ﷺ نے مالک بن وخشم بنوسالم بن عون کے بھائی معن بن عدن اور اس کے بھائی عاصم بن عدی کو بلایا اور ان سے فرمایا تم لوگ اس مسجد کی طرف جاؤ کہ اس کے بنانے والے ظالم ہیں تم اس کو گرا دو اور اس کو جلا دو ۔ یہ دونوں جلدی سے نکلے یہاں تک کہ بنوسالم بن عوف میں پہنچ گئے اور وہ مالک بن بدخشم کا قبیلہ تھا مالک نے معن سے کہا میرا انتظار کرو یہاں تک کہ میں تیری طرف آوں وہ اپنے اہل و عیال کے پاس گیا کھجور کی ٹہنیاں لیں اور ان میں آگ لگا لی پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” والذین اتخذوا مسجدا ضراراوکفرا “ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین اتخذوا مسجدا ضرارا “ سے وہ انصار کے لوگ مراد ہیں جنہوں نے یہ مسجد قبا کی مسجد کے قریب بنائی تھی ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ مسجد قبا وہ مسجد ہے جو اسلام میں سب سے پہلے بنائی گئی۔ 9:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم (رح) نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ وہ لوگ جنہوں نے مسجد ضرار بنائی تھی یہ بارہ آدمی تھے جذام بن خالد بن عبید بن زید، ثعلبہ بن حاطب ھزال بن امیہ معقب بن مشر، ابو جیرین الازعر عباد بن حنیف جاریہ بن عامر مجمع کے بیٹے زید نبیل بن حارث بخت حبی عثمان ودیعہ بن ثابت۔ 10:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سعی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” والذین اتخذوا مسجدا ضرارا “ کہ انہوں نے قباء والوں کو نقصان پہنچایا (آیت ) ” وتفریقا بین المومنین “ کیونکہ قباء والے سب مسجد قباء میں نماز پڑھتے تھے جب یہ مسجد بنی تو مسجد قباء سے لوگ رک گئے۔ جو اس میں حاضر ہو کر نماز پڑھتے تھے (اور فرمایا) (آیت) ” ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی “ انہوں نے قسمیں کھائیں کہ ان کا ارادہ نہیں تھا مگر بھلائی اور نیکی کی۔ اماقولہ تعالیٰ : لمسجد اسس علی التقوی من اول یوم احق ان تقوم فیہ : 11:۔ ابن ابی شیبہ واحمد ومسلم الترمذی والنسائی الوائل وابن جریروابن منذر وابن ابی حاتم وابن خریمۃ وابن حبان ابوالشیخ الحاکم وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ دو آدمیوں نے آپس میں اختلاف کیا (ان میں سے) ایک آدمی بنوخدرہ میں سے تھا اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ میں نے ابو عمرو بن عوف میں سے ایک آدمی نے اس مسجد کے بارے میں جھگڑا کیا جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی خدری نے فرمایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے اور عمری نے کہا وہ قبا کی مسجد ہے۔ ہم دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا اس بارے میں تو آپ نے فرمایا وہ یہ مسجد ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کی مسجد اور فرمایا اس میں بہت خیر ہے یعنی مسجد قبا میں۔ مسجد تقوی مسجد نبوی ﷺ ہے : 12:۔ ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید والزبیر اکارۃ اخبار المدینہ میں واویعلی وابن حبان والبطرانی الحاکم نے ال کسی میں وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں دو آدمیوں نے اس مسجد کے بارے میں اختلاف کیا جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی تھی تو ان میں سے ایک نے کہا وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے اور دوسرے نے کہا وہ قبا کی مسجد ہے۔ دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور ان سے پوچھا تو آپ نے فرمایا وہ یہ میری مسجد ہے۔ 13:۔ ان ابی شیبہ احمد وابن منذر وابو الشیخ وابن مردویہ والخطیب والضیاء سے المختار میں ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے اس مسجد کے بارے میں سوال کیا کہ جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی آپ نے فرمایا وہ یہ میری مسجد ہے۔ 14:۔ الطبرانی الصیاد المقدسی نے المختارہ میں زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے اس مسجد کے بارے میں سوال کیا گیا جس کی بنیاد تقوی پر رکھ گئی تو آپ نے فرمایا وہ یہ میری مسجد ہے۔ 15:۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ والطبرانی نے عروہ کے راستے سے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا کہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقوی پر رکھ گئی پہلے دن سے وہ نبی کریم ﷺ کی مسجد ہے عروہ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کی مسجد اس سے بہتر ہے بلاشبہ یہ ( یہ آیت) مسجد قبا کے بارے میں نازل ہوئی۔ 16:۔ ابن ابی شیبہ وابن مردویہ رحمہا اللہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی وہ نبی کریم ﷺ کی مسجد ہے۔ 17:۔ ابن ابی شیبہ وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی وہ نبی کریم ﷺ کی مسجد ہے۔ 18۔ زبیر بن عثمان ابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے عثمان بن عبداللہ کے راستے سے ابن عمر، ابو سعید خدری اور زید بن ثابت ؓ سب حضرات سے روایت کیا کہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہے۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ وابو الشیخ (رح) نے سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ وہ مسجد جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی وہ مدینہ منورہ کی مسجد ہے۔ 20:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی رحمہم اللہ دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لمسجد اسس علی التقوی “ سے مسجد قباء مراد ہے۔ 21:۔ ابو الشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لمسجد اسس علی التقوی “ سے مسجد قباء مراد ہے۔ 22:۔ ابن ابی شیبہ والترمذی والحاکم نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا وابن ماجہ (رح) نے اسید بن ظہیر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسجد قباء میں نماز پڑھنا عمرہ کے برابر ہے ترمذی نے کہا کہ ہم اسید بن ظہیر کے بارے میں کوئی چیز نہیں چاہئے جو کہ اس حدیث کے سوا صحیح ہو۔ مسجد قبو میں نماز کا ثواب : 23:۔ ابن سعد (رح) نے ظہیر بن رافع الحارثیؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس کسی نے مسجد قبا میں پیر اور خمیس کے دن نماز پڑھی تو وہ عمرہ کے ثواب کے ساتھ بدل جاتی ہے ،۔ 24:۔ ابن ابی شیبہ والحاکم (رح) نے اور آپ نے اس کو صحیح کہا ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ قباء کی طرف کثرت سے آتے تھے سوار ہو کر اور پیدل چل کر۔ 25:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والنسائی وابن ماجہ رحمہم اللہ نے سہیل بن حنیف (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص نکلا یہاں سے کہ اس مسجد میں آیا یعنی مسجد قباء میں اور اس میں نماز پڑھی تو اس کو عمرہ کے برابر ثواب ملے گا۔ 26:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ہر مسجد جو مدینہ منورہ میں بنائی گئی اس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی۔ 27:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عماد ذھبی (رح) سے روایت کیا کہ میں مسجد قباء میں داخل ہوا تاکہ میں اس میں نماز پڑھوں مجھ کو ابو سلمی نے دیکھ لیا اور فرمایا میں اس بات کو محبوب رکھتا ہوں کہ تو اس مسجد میں نماز پڑھے جس کی بنیاد اول دن سے تقوی پر رکھی گئی پھر انہوں نے مجھ کو بتایا کہ وہ جگہ گنبد اور قبلہ کے درمیان ہے کہ اس کا عثمان نے اضافہ کیا۔
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

آپ اس مسجد میں کبھی بھی کھڑے نہ ہوں۔ البتہ جس مسجد کی بنیاد پہلے ہی دن تقوی پر رکھی گئی ہو وہ اس لائق ہے کہ آپ اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک ہونے والوں کو دوست رکھتا ہے

1:۔ ابودواد والترمذی وابن ماجہ وابوالشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ آیت اہل قباء کے بارے میں نازل ہوئی یعنی (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “۔ 2:۔ طبرانی وابو الشیخ والحاکم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ( یہ آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “۔ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے عویم بن ساعدہ کی طرف ایک آدمی کو بھیجا کہ یہ کون سی پاکی ہے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم سے جو مرد یا عورت قضائے کے حاجت کے لئے نکلتا ہے تو وہ اپنی شرمگاہ کو دھوتا ہے یا فرمایا اپنی پاخانے کی جگہ کو دھوتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہی وہ طہارت ہے (جس کی تعریف کی گئی) مسجد قباء والوں کی تعریف : 3:۔ احمد وابن خزیمۃ والبطرانی والحاکم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عویم بن ساعدہ انصاری ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ ان کے پاس مسجد قبا میں تشریف لائے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعریف کی ہے طہارت اور پاکیزگی کی طرح تمہاری مسجد کے حصہ میں وہ کونسی پاکی ہے جس کے ذریعہ تم پاکی حاصل کرتے ہو انہوں نے عرض کیا اللہ کی قسم یارسول اللہ ﷺ ہم کو کچھ نہیں جانتے مگر یہ کہ ہمارے پڑوسی میں یہودی رہتے ہیں وہ حاجت کے بعد اپنی شرمگاہوں کو دھوتے تھے تو ہم بھی دھو ڈالتے ہیں ان کے دھونے کی طرح۔ 4:۔ ابن ماجہ وابن منذر وابن ابی حاتم وابن الجارودنے المنتقی میں والدارقطنی والحاکم وابن مردویہ وابن عساکر رحمہم اللہ نے طلحہ بن نافع (رح) سے روایت کیا کہ ابو ایوب جابر بن عبد اللہ اور انس بن مالک تینوں حضرات سے روایت کیا کہ یہ (یہ آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “۔ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے انصار کی جماعت کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہترین تعریف فرمائی ہے یہ تمہاری کونسی طہارت ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ نماز کے لئے وضو کرتے ہیں اور جنابت کے لئے غسل کرتے ہیں آپ نے فرمایا اس کے علاوہ کوئی کام اور بھی ہے عرض کیا نہیں سوائے اس کے کہ ہم سے کوئی ایک قضائے حاجت کے لئے نکلتا ہے تو وہ پانی سے استنجی کرنے کو محبوب رکھتا ہے فرمایا یہی وہ طہارت ہے اس کو لازم پکڑو۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ احمد اللہ نے مصنف میں مجمع بن یعقوب بن مجمع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عویم بن ساعدہ ؓ سے پوچھا یہ کونسی طہارت ہے کہ جس پر تمہاری تعریف کی گئی تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم اپنی پاخانے کی جگہوں کو دھوتے ہیں۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری نے اپنی تاریخ میں ابن جریر والبغوی نے اپنی معجم میں والطبرانی وابن جریر وابو نعیم المعرفہ میں محمد بن عبداللہ بن سلام سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ اس مسجد میں آئے جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے طہارت کے بارے میں تمہاری تعریف کی ہے کیا تم مجھے اس بارے میں بتاؤ گے (کہ تم کیا کرتے ہو) یعنی اس قول (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “ واللہ یحب المطھرین “ کے بارے میں انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے تورات میں لکھا ہوا پایا استنجا کرنا پانی کے ساتھ تو ہم اس دن سے اسی طرح کرتے ہیں۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “۔ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے قباء والوں سے فرمایا کون سا وہ اچھا عمل ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعریف فرمائی۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم میں سے کوئی آدمی ایسا نہیں جو قضائے حاجت کے بعد پانی سے استنجاء نہ کرنا ہو۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے جعفر (رح) سے روایت کیا کہ وہ والد سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت قباء والوں کے بارے میں نازل ہوئی یعنی (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “۔ واللہ یحب المطھرین “ 9:۔ عبدالرزاق (رح) نے اپنی مصنف میں اور امام طبرانی (رح) نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قباء والوں سے فرمایا یہ کون سی طہارت ہے جو کہ اس آیت میں تمہارے ساتھ خاص کی گئی ہے یعنی (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “۔ عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ہم میں سے کوئی آدمی بیت الخلاء سے نکلتا ہے تو وہ اپنی مقعد کو دھوتا ہے۔ 10ـْ :۔ عبدالرزاق وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عبداللہ بن حارث بن نوفل ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے قباء والوں سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعریف کی ہے تو انہوں نے عرض کیا ہم پانی سے استنجاء کرتے ہیں آپ نے فرمایا بلاشبہ اسی بناء پر تمہاری تعریف کی گئی ہے تو اس کو ہمیشہ کرتے رہو۔ ڈھیلے سے استنجاء کے بعد پانی کا استعمال کرنا :۔ س 11:۔ ابن جریر (رح) نے عطا (رح) سے روایت کیا کہ ایک قوم نے اہل قبا میں سے پانی سے وضو یعنی طہارت شروع کی تو ان کے بارے میں نازل ہوا (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “ واللہ یحب المطھرین “ 12:۔ ابن جریر وابن مردویہ (رح) نے خزیمہ بن ثابت (رح) سے روایت کیا کہ کچھ لوگ ہم میں سے ایسے تھے کہ جب وہ قضائے حاجت سے فارغ ہوتے تھے تو وہ اپنے پیشاب کے اثر کو پانی سے دھوتے تھے تو ان کے بارے میں آیت (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “ نازل ہوئی۔ 13:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم والطبرانی ابو الشیخ وابن مردیہ (رح) نے ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ یہ کون لوگ ہیں کہ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “ واللہ یحب المطھرین “ فرمایا وہ پانی سے استنجا کرتے ہیں اور وہ جنابت کی حالت میں ساری رات سوئے نہیں رہتے۔ 14:۔ ابن سعد وابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ رحمہم اللہ نے عروہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ عویم بن ساعدہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کون لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “ واللہ یحب المطھرین “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہاں یہ وہی لوگ ہیں جن میں عویم بن ساعدہ ہے اور ہم تک ایسی خبر نہیں پہنچی جس میں آپ نے عویم کے علاوہ کسی اور آدمی کو متعین کے لئے ہو۔ 16:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “ کے بارے میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کی طہارت کے بارے میں پوچھا جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی تو انہوں نے عرض کیا کہ ہم زمانہ جاہلیت میں پانی سے استنجا کرتے تھے جب اسلام آیا ہم نے اس کو نہ چھوڑا آپ نے فرمایا اس کو نہ چھوڑو۔ 17:۔ ابن مردویہ (رح) نے یعقوب بن مجمع کے راستے سے مجمع بن جاریہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ آیت قباء والوں کے بارے میں نازل ہوئی یعنی (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “ کہ وہ لوگ اپنی پاخانے کی جگی کو پانی سے دھوتے تھے۔ 18:۔ ابن سعد (رح) نے موسیٰ بن یعقوب کے راستے سے عبادہ بن حمزہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ کو یہ خبر دیتے ہوئے سنا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ کے بندوں میں بہترین بندہ اور جنت والوں میں سے ایک آدمی عویم بن ساعدہ ؓ ہے (راوی حدیث) موسیٰ بن یعقوب نے فرمایا مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جب یہ آیت (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “ واللہ یحب المطھرین “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان میں عویم ہیں یہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے اپنی مقعد کو پانی کے ساتھ دھویا، اس بیان کے مطابق جو مجھ تک پہنچا۔ 19:ـ۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو وضو کرتے یا پانی کے ساتھ طہارت حاصل کرتے۔ عمر بن شیبہ نے اخبار المدینہ میں ولید بن سند الاسلمی (رح) کے راستے سے یحییٰ بن سہل انصاری (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت قباء والوں کے بارے میں نازل ہوئی وہ لوگ قضائے حاجت کے بعد اپنی پیشاب پاخانے کی جگہوں کو پانی سے دھوتے تھے اسی پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “ (الآیہ) 21:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے بعض انصار صحابہ سے فرمایا یہ کون سی طہارت ہے کہ جس پر تمہاری تعریف کی گئی۔ یعنی (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “ انہوں نے عرض کیا کہ ہم اس کو پانی سے پاک کرتے ہیں جب ہم بیت الخلاء جاتے ہیں۔
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

اپنی عمارت کی بنیاد اللہ سے ڈرنے اور اللہ کی خوشنودی پر رکھی ہو وہ بہتر ہے یا وہ بہتر ہے جس کی بنیاد کسی گھاٹی کے کنارے پر رکھی گئی ہو جو گرنے والی ہے پھر وہ اسے لے کر دوزخ کی آگ میں گرپڑے، اور اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا

1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کی ہے۔ (آیت) ” افمن اسس بنیانہ علی تقوی من اللہ ورضوان خیر “ سے مسجد قباء مراد ہے اور (آیت) ام من اسس بنیانہ علی شفا جرف ھار فانھار “ سے مسجد ضرار مراد ہے۔ 2:۔ ابو الشیخ (رح) نے ضحاک ؓ سے روایت کیا کہ مسجد رضوان وہ پہلی مسجد ہے جو مدینہ منورہ میں بنائی گئی اسلام کے زمانہ میں۔ 3:۔ ابوالشیخ (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اس مسجد کی بنیاد رکھی جس کی بنیاد تقوی پر رکھی گئی جب بھی ایک اینٹ اٹھاتے تو فرماتے اے اللہ بلاشبہ خیر تو آخرت کی خیر ہے پھر آپ کا بھائی اینٹیں اٹھانے لگا۔ اور وہ وہی کلمات کہتا جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہاں تک کہ اینٹیں ختم ہوگئیں آپ دوسری جگہ سے اٹھانے لگے تو فرماتے اے اللہ انصار اور مہاجرین کو بخش دے پھر آپ کے بھائی (یعنی صحابہ کرام ؓ اٹھانے لگے۔ اور وہ بھی اسی طرح کہتے جیسے رسول اللہ ﷺ نے کہا یہاں تک اینٹیں ختم ہوگئیں۔ 4:۔ ابن منذر وابن ابی حاتم نے علی کے راستے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ام من اسس بنیانہ علی شفا جرف ھار فانھار بہ فی نار جھنم “ کے بارے میں فرمایا کہ اس کی بنیادیں جھنم کی آگ میں بنائی گئیں۔ 5:۔ مسدد (رح) نے اپنی مسند میں وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم والحاکم نے ادراک میں اس کو صحیح کیا وابن مردویہ (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے مسجد ضرار میں سے دھواں نکلتا ہوا دیکھا جب وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں گرائی گئی۔ 6:۔ ابن منذر ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فانھار بہ فی نار جھنم “ کے بارے میں فرمایا اللہ کی قسم وہ آگ میں گرنے سے نہیں رک سکتی۔ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ اس میں ایک جگہ گڑھا سا بن گیا تو اس میں سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ 7:۔ ابن منذر (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” فانھار بہ فی نار جہنم “ کے بارے میں فرمایا منافقین کی مسجد گرپڑی اس کو کوئی نہیں بچا سکتا آگ میں گرنے سے اور ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ کچھ لوگوں نے اس میں ایک گھڑا کھودا تو انہوں نے اسمیں سے دھواں نکلتا دیکھا۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” فانھار بہ فی نار جہنم “ کے بارے میں فرمایا یہ حکم پورا ہوگیا جب اس کو (زمین میں) دھنسادیا گیا۔ 9:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سفیان بن عنبہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے روایت کیا برابر اس میں سے دھواں نکلتا رہے گا اس قول (آیت ) ” فانھار بہ فی نار جہنم “ کی وجہ سے اور کہا جاتا ہے کہ وہ جگہ جہنم کی آگ میں ہے۔ 10ـْ :۔ ابو الشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی قرات میں یوں ہے (آیت ) ” فانھار بہ فی نار جہنم “ یعنی اس کی بنیادیں جہنم کی آگ میں گر پڑی۔