2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 2:267–270

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّاۤ اَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ١۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْهُ تُنْفِقُوْنَ وَ لَسْتُمْ بِاٰخِذِیْهِ اِلَّاۤ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ Open ayah 2:267 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور جو کچھ ہم نے تمہارے لئے زمین سے پیدا وار عطا کی ہے اس میں سے خرچ کرو اور چھانٹ چھانٹ کر خراب اور گندی چیزیں خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو کہ اگر وہی چیزیں خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو کہ اگر وہی چیزیں تمہیں دی جائیں تو تم لینا گوارہ نہ کرو۔ مگر یہ کہ آنکھیں ہی بند کرلی جائیں تو اور بات ہے۔ اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ اللہ بےنیاز بھی ہے اور تمام خوبیوں والا بھی ہے۔

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَ یَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَ فَضْلًا١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۖۙ Open ayah 2:268 in the Quran reader

شیطان تمہیں مفلسی سے ڈرا کر تمہیں بےہودہ کاموں کی طرف رغبت دلاتا ہے اور اللہ تم سے مغفرت اور فضل و کرم کا وعدہ کرتا ہے اللہ بہت وسعت والا اور جاننے والا ہے۔

یُّؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 2:269 in the Quran reader

وہ جس کو چاہتا ہے حکمت (فہم و فراست) عطا کردیتا ہے اور جس کو حکمت (فہم و فراست) دی گئی اس کو تمام بھلائیاں عطا کردی گئیں۔ مگر اس پر صرف عقل والے ہی دھیان دیتے ہیں ۔

وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 2:270 in the Quran reader

تم جو کچھ اپنا مال خرچ کرتے ہو یا کوئی منت مانتے ہو یقیناً اللہ اس کو جانتا ہے اور ظالموں کا تو کوئی بھی مددگار نہیں ہوتا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 267 تا 270 طیبت (طیبۃ، پاکیزہ) لا تیمموا (تم نیت نہ کرو، تم نہ چھانٹو) ۔ الخبیث (گندی چیز) ۔ لستم (تم نہ ہوں) ۔ باخذیہ (اس کو لینے والے (ب، اخذین ، ہ) ۔ ان تغمضوا (یہ کہ تم آنکھیں بند کرلو) ۔ یعد (وعدہ کرتا ہے) ۔ الفقر (تنگی، محتاجی) ۔ الحکمۃ (عقل و دانائی اور سمجھ کی بات) ۔ یؤت (دیا گیا) ۔ نذرتم (تم نے منت مانی) ۔ انصار (مددگار) ۔ تشریح : آیت نمبر 267 تا 270 ان آیتوں کو سمجھنے سے پہلے خراج اور عشر کو سمجھ لینا چاہئے۔ کیونکہ پہلی ہی آیت میں زمین سے پیداوار پر اس میں سے خرچ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے ۔ غیر مسلموں کی زمین سے پیدا وار پر جو حصہ لیا جاتا ہے اس کو خراج کہتے ہیں اور مسلمانوں کی زمین کی پیداوار پر جو دسواں حصہ لیا جاتا ہے اس کو عشر کہتے ہیں۔ عشر ٹیکس نہیں ہے بلکہ زکوٰۃ کی طرح ایک مالی عبادت ہے اسی لئے اس کو زکوٰۃ الارض کہتے ہیں۔ زکوٰۃ اور عشر میں فرق یہ ہے کہ سونا، چاندی اور مال تجارت پر نفع ہو یا نہ ہو ایک سال گزرنے پر جو ڈھائی فیصد لیا جاتا ہے اس کو زکوٰۃ کہتے ہیں اس کے برخلاف عشری زمین سے پیداوار ہونے پر جو کچھ لیا جاتا ہے اس کو عشر کہتے ہیں ۔ اس میں سال گزرنا شرط نہیں ہے اگر پیداوار نہیں ہوگی تو عشر بھی نہیں لیا جائے گا علماء مفسرین کے نزدیک اس آیت میں اخرجنا سے مراد یہ ہے کہ عشری زمین پر عشر ہے ۔ یعنی مسلمانوں پر زکوٰۃ کی طرح پیداوار پر عشر نکالنا بھی واجب ہے۔ چونکہ یہ غریبوں اور مجبوروں کا حق ہے اس لئے فرمایا کہ تم چھانٹ چھانٹ کر گندی اور خراب چیزیں نہ دو ۔ اس کا خوبصورت معیار یہ قرار دیا ہے کہ اگر یہی چیز تمہیں دی جاتی تو تمہیں ناگوار تو نہ گزرتی ؟ فرمایا کہ ہماری راہ میں گندی اور خراب چیزیں دوگے تو اس کو یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ چیزوں کا محتاج نہیں ہے وہ بڑا بےنیاز اور تمام تعریفوں اور خوبیوں کا مالک ہے۔ فرمایا شیطان تمہارا ازلی دشمن ہے وہ تمہیں بہکاتا ہے کہ اگر اللہ کی راہ میں خرچ کیا گیا تو تم غربت و افلاس میں مبتلا ہوجاؤ گے لیکن بےہودہ اور بےشرمی کے کاموں کی طرف تمہیں آمادہ کرتا ہے ۔ تمہیں اس اللہ کی طرف دوڑنا چاہئے جو تم سے اپنے فضل و کرم اور مغفرت کا وعدہ کرتا ہے۔ فرمایا کہ ان تمام معاملات زندگی میں اللہ نے جس کو بھی حکمت یعنی عقل سلیم عطا فرما دی تو گویا اس کو سارے خیر اور بھلائی کے خزانے عطا کر دئیے۔ آخر میں فرمایا کہ تم جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو یا کوئی منت مانتے ہو اس کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے تم اس میں حد سے بڑھ کر بدعات میں مبتلا نہ ہوجانا کیونکہ یہ ظلم ہے اور ظالموں کا مددگار کوئی بھی نہیں ہوا کرتا۔
Ayahs 2:271–272

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِیَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ یُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَیِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:271 in the Quran reader

اگر تم صدقات کھلے عام دو تو وہ بھی بہتر ہے اور اگر تم صدقات کو چھپا کردو اور ضرورت مندوں تک پہنچا دو تو بہت ہی بہتر ہے۔ اس طرح اللہ تمہارے گناہوں کو تم سے معاف کر دے گا۔ اور جو کچھ کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔

لَیْسَ عَلَیْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ یُّوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:272 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان کو ہدایت دینا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جو مال بھی تم خرد کرو گے وہ تمہارے اپنے ہی بھلے کے لئے ہے۔ اور تم جو مال بھی خرچ کرتے ہو اس میں نیت اللہ کی رضا و خوشنودی کی ہونی چاہئے اور جو بھی مال تم نیک نیتی سے خرچ کرو گے اس کا تمہیں پورا پورا اجر ملے گا اور کسی طرح تمہارے حق میں کمی نہ کی جائے گی۔

لغات القرآن : آیت نمبر 271 تا 272 تبدوا (تم ظاہر کرتے ہو) ۔ نعما (بہتر ہے) ۔ تخفوا (تم چھپاتے ہو) ۔ تؤتوا (تم دیتے ہو) ۔ یکفر (وہ دور کر دے گا) ۔ سیات (گناہ، خطائیں) ۔ یھدی (ہدایت دیتا ہے) ۔ یوف (پورا کردیا جائے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 271 تا 272 صدقات کی ادائیگی میں بنیادی بات تو یہی ہے کہ اس کو اس انداز سے دیا جائے کہ داہنے ہاتھ سے دینے پر بائیں ہاتھ کو خبر تک نہ ہو۔ لیکن اگر ظاہر کرنے میں دوسروں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دینا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب کہ کسی اجتماعی مہم کے لئے لوگوں کو ابھارنا اور شوق دلانا مقصود ہو تو اس میں یہ دکھاوا اور ریا کاری نہیں کہلائے گی۔ اگر ایسے حالات نہ ہوں تو بہتر یہی ہے کہ پوشیدہ طریقے سے غریبوں کی امداد کی جائے تا کہ حق حق داروں تک پہنچ جائے اور ریا کاری اور نمائش کے فتنے سے بھی محفوظ رہے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ صدقات واجبہ جیسے زکوٰۃ اور متعین منت وغیرہ ہو تو اس کو کھلے عام دے تا کہ دوسروں کو اس فرض کی ادائیگی پر رغبت اور شوق پیدا ہو لیکن وہ صدقات جو انسان پر واجب نہیں ہوتے وہ محض اللہ کی رضا کے لئے نکالتا ہے ایسے صدقات کو جس قدر خاموشی اور پوشیدہ طریقہ سے دے گا اسی قدر اللہ کے ہاں اس کی قدرو منزلت ہوگی۔
Ayahs 2:273–274

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ضَرْبًا فِی الْاَرْضِ١٘ یَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِیَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ لَا یَسْئَلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:273 in the Quran reader

وہ غریب و نادار لوگ جو اللہ کی راہ میں گھرے ہوئے ہیں وہ کہیں ملک میں آجا بھی نہیں سکتے۔ ناواقف ان کو ان کے نہ مانگنے سے مال دار سمجھتا ہے حالانکہ تم ان کو ان کی پیشانیوں سے پہچان سکتے ہو۔ (ان کی نشانی یہ ہے کہ ) وہ لوگوں سے لگ لپٹ کر نہیں مانگتے۔ تم ان کے لئے اپنے مالوں میں سے جو بھی خرچ کرو گے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے۔

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَؔ Open ayah 2:274 in the Quran reader

وہ لوگ جو اپنے مالوں کو دن رات چھپا کر یا کھلے عام (اللہ کی رضا کے لئے ) خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 273 تا 274 احصروا (جو گھرے بیٹھے ہیں) ۔ لا یستطیعون (وہ طاقت نہیں رکھتے ہیں) ۔ ضرب (چلنا ) ۔ یحسب (سمجھتا ہے) ۔ الجاھل (بےخبر ) ۔ اغنیاء (مال دار ) ۔ التعفف (نہ مانگنا) ۔ تعرف (تو پہچان لے گا) ۔ سیما (پیشانیاں، علامت ) ۔ لا یسئلون (وہ سوال نہیں کرتے ) ۔ الحافا (لگ لپٹ کر) ۔ سر (چھپ کر) ۔ علانیۃ (کھل کر) ۔ تشریح : آیت نمبر 273 تا 274 وہ لوگ جو کسی دینی مقصد میں لگے ہوئے ہونے کی وجہ سے کسب معاش کی نہ تو جدو جہد کرسکتے ہیں اور نہ ادھر ادھر جاسکتے ہیں ایسے لوگوں کی ڈھونڈ ڈھونڈ کر مدد کرو تا کہ وہ فکر معاش میں اپنے اصل کام سے دور نہ ہوجائیں۔ ان کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ : وہ لوگ خود داری کی وجہ سے نہ تو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں نہ اپنے فقر و فاقہ کا اظہار کرسکتے ہیں۔ ایک ناواقف آدمی ان کے حال کا ان کے ظاہر سے اندازہ ہی نہیں کرسکتا کیونکہ اگر وہ کسی سے سوال بھی کرتے ہیں تو خودداری کے ہزاروں پردوں کے اندر ” اس لئے ان لوگوں سے جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی استطاعت بھی رکھتے ہیں اور شوق رکھتے ہیں وہ ایسے لوگوں ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالیں ان کے پاس جائیں کیونکہ وہ اپنی خود داری کی بناء پر تمہارے پاس مانگنے کے لئے نہیں آئیں گے۔ “ ایسے لوگوں کی دو نشانیاں ہیں۔ فرمایا تو ان کی پریشان حال پیشانیوں سے اندازہ لگا سکتے ہو۔ دوسرے یہ کہ اگر وہ کبھی سوال کریں گے تو اس مہذب طریقے سے کہ اس میں لگ لپٹ کر مانگنے کا کوئی انداز نہیں ہوگا۔ ” آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے یعنی ایسے خود دار ضرورت مندوں کی ضروریات کو خاموشی سے پورا کیا جائے گا تو وہ ساری دنیا کی نگاہوں سے چھپا رہے گا مگر خالق کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہوگا وہ سب کچھ جانتا ہے وہ لوگ جو دن رات بڑے پوشیدہ یا کھلے عام طریقے سے خرچ کرتے ہیں اللہ ان پر رحمتوں کا سایہ فرمائیں گے۔ “
Ayahs 2:275–279

اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:275 in the Quran reader

وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن اس شخص کی طرح اٹھیں گے جس کو کسی جن نے لپٹ کر بد حواس کردیا ہو (اور وہ پاگلوں جیسی حرکتیں کرتا ہو) یہ سزا اس لئے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ تجارت بھی تو سود کی طرح ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دے دیا ہے۔ پھر جس شخص کو اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت پہنچ جائے اور پھر وہ آئندہ کے لئے اس سے رک جائے تو جو گذر گیا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ۔ اور جو شخص پھر اسی طرف لوٹ جائے تو وہ جہنم والا ہے جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔

یَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ یُرْبِی الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِیْمٍ Open ayah 2:276 in the Quran reader

(اللہ کا یہ نطام ہے کہ ) وہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو پروان چڑھاتا ہے۔ اللہ کو ناشکرے اور گناہ گار سخت ناپسند ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:277 in the Quran reader

بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے، انہوں نے نماز قائم کی زکوٰۃ دیتے رہے تو ان کا اجر وثواب ان کے پروردگار کے پاس ہے۔ نہ ان کو خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:278 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر واقعی تم ایمان والے ہو تو اللہ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو ۔

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 2:279 in the Quran reader

پھر بھی اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے (اب تم اللہ سے جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ) ۔ اگر تم نے توبہ کرلی تو اصل مال تمہارے ہیں۔ نہ تم کسی پر ظلم و زیادتی کرو اور نہ کوئی تم پر ظلم و زیادتی کرے گا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 275 تا 279 یا کلون (وہ کھاتے ہیں) ۔ الربوا (سود) ۔ لا یقومون (وہ کھڑے نہ ہوں گے ) ۔ یتخبطہ (جس کو خبطی اور دیوانہ بنا دیا ہو) ۔ المس (چھونا) ۔ البیع (تجارت) ۔ مثل الربوا (جیسے سود لینا) ۔ احل (حلال کردیا ) ۔ حرم (حرام کردیا) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔ انتھی (وہ رک گیا) ۔ سلف (جوگذر گیا) ۔ امرہ (اس کا معاملہ، اس کا اختیار) ۔ عاد جو پلٹ گیا) ۔ یمحق (مٹا دے گا) ۔ یربی (پالے گا، پروان چڑھائے گا) ۔ کفار (ناشکرا) ۔ اثیم (گناہ گار ) ۔ ذروا (تم چھوڑ دو ) ۔ مابقی (جو باقی رہ گیا ہے) ۔ فاذنوا (پھر تیار ہوجاؤ، پھر خبردار ہوجاؤ) ۔ حرب (جنگ) ۔ تبتم (تم نے توبہ کرلی) ۔ رؤس اموال (اصل مال، (رؤس ، راس) ۔ تشریح : آیت نمبر 275 تا 279 نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت جہاں اعتقادی ، عملی ، اخلاقی اور معاشرتی برائیاں جڑ پکڑ چکی تھیں وہیں نظام معیشت بھی اپنے بگاڑ کی انتہا پر پہنچ چکا تھا، ناجائز اور حرام طریقوں سے دولت کمانے کا شوق جنون کی حد تک پہنچ چکا تھا۔ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے جہاں عبادات اور عقائد و ایمان کو درست کرنے کے لئے رہنمائی فرمائی۔ وہیں معاشرتی، سیاسی اور معاشی مسائل کو سلجھانے کا بھی ایسا طریقہ قانون اور دستور العمل عطا فرمایا جس سے ایک معتدل ، متوازن اقتصادی اور معاشی نظام وجود میں آسکتا ہے۔ تا کہ ہر شخص کو اس کی فطری خواہش کے مطابق پرسکون اور خوشگوار زندگی میسر آسکے۔ نبی مکرم ﷺ نے عملاً ایک ایسا معاشرہ قائم کر کے دکھلادیا جو ہر لحاظ سے جامع، مکمل اور مستحکم تھا۔ آپ کی سنت پر چلتے ہوئے خلفاء راشدین ؓ اور صحابہ ؓ نے بھی اس نظام کو دنیا کے لئے مثال بنا دیا۔ جب ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ برائیاں جن کو ختم کرنے کے لئے اسلام دنیا میں آیا ہے وہ سب ہمارے معاشرے میں بڑے خوبصورت ناموں سے داخل ہو رہی ہیں۔ اب اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ہم اپنے معاشرے سے تمام غیر اسلامی نشانات کو مٹا دیں تا کہ سود سے پاک معاشرہ قائم ہو سکے اور ہم امن و عافیت کی زندگی گزارنے کے قابل ہو سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا کے اقتصادی مصائب کی سب سے بڑی وجہ موجودہ سودی نظام ہے۔ اس کو ختم کئے بغیر معاشی نظام کو استحکام نصیب ہو ہی نہیں سکتا۔ اسی لئے اسلام نے سود اور سودی نظام کو ایک سنگین جرم قرار دیا ہے۔ ربوا یعنی سود کی حرمت کے لئے قرآن کریم میں بیس آیات نازل ہوئیں جن میں سے اس وقت پانچ آیتیں زیرمطالعہ ہیں جن میں دس باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ (1) پہلی بات تو یہ ہے کہ قیامت کے دن سود خور دیوانوں اور پاگلوں جیسی حرکتیں کرتے ہوئے اٹھیں گے جس طرح ایک دیوانہ شخص عقل سے خار ج ہو کر ناشائستہ حرکتیں کرنے لگتا ہے اسی طرح سود خور بھی روپے کے پیچھے دیوانہ ہوجاتا ہے اور اپنی خود غرضی اور زر پرستی کے جنون میں وہ اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کی سود خوری کی اس حرکت سے معاشرہ پر کس قدر تباہ کن اثرات پڑ رہے ہیں۔ کتنے لوگوں کی بدحالی سے وہ اپنی خوش حالی کے لئے سامان کر رہا ہے، وہ کس کس طرح انسانی محبت، اخوت اور ہمدردی کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔ یہ تو اس کا دنیا میں حال تھا۔ لیکن آخرت میں وہ اسی دیوانگی کے عالم میں مخبوط الحواس شخص کی شکل میں اٹھایا جائے گا۔ (2، 3) دوسری اور تیسری بات یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں تجارت اور سود میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس روپے سے وہ خود فائدہ اٹھا رہا تھا اسے وہ قرض پر دوسرے شخص کو دے دیتا ہے۔ وہ دوسرا شخص بھی بہرحال اس سے فائدہ ہی اٹھا رہا ہے اپنے کاروبار کرتا ہے نفع کماتا ہے، پھر آخر کیا وجہ ہے کہ قرض دینے والے کو روپے سے جو فائدہ قرض لینے والا اٹھا رہا ہے اس میں سے ایک حصہ وہ قرضہ دینے والے ادا نہ کرے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تجارت اور سودی کاروبار میں بڑا فرق ہے۔ اگر ایک شخص دوسرے کے نفع اور نقصان میں شریک ہے تو اس تجارت میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ ممانعت اس کاروبار کی ہے جس میں ایک شخص روپیہ قرض لیتا ہے، وہ اس روپے سے کاروبار کرتا ہے، اپنی جان کھپاتا ہے دن رات ایک کردیتا ہے، ہر آن اسے نفع اور نقصان کا دھڑکا لگا رہتا ہے لیکن ایک شخص ہے جو روپیہ دے کر اطمینان سے بیٹھا ہے اس کو نہ محنت کرنی پڑتی ہے نہ اس کو کسی نقصان کا اندیشہ ہے اس کی رقم اور اس کا متعین نفع دونوں محفوظ ہیں۔ یہ آخر کہاں کا انصاف ہے کہ سارے خطرات، محنت مشقت اور نقصانات تو اس شخص کے حصہ میں آجائیں جو اپنی جان گھلا رہا ہے اور متعین نفع اس کا ہو جو ان میں سے ایک کام بھی نہیں کر رہا ہے ، یہی ربوا یعنی سود ہے جس کو قرآن کریم نے حرام قرار دیا ہے۔ کوئی اس جگہ یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ تو اس سود کو حرام قرار دیا ہے جو سود خور مہاجن سود در سود لیا کرتے تھے بینکوں میں جو سود لیا جاتا ہے وہ تو معاشرہ کے لئے رحمت ہے جس سے کاروبار، کارخانے اور زراعت کا کا م چل رہا ہے اور اس پر سو د بھی بہت معمولی سا لیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کے دور کی یہ زبردست مہنگائی جس سے انسان کرب و اذیت میں مبتلا ہوگیا سب ان بینکوں ہی کی نحوست ہے کیونکہ یہ بینک، انشورنس کمپنیاں اور سٹہ کا کاروبار درحقیقت سرمایہ پرستوں کا سب سے بڑا ہتھیار ہیں جس کا بالآخر سارا نقصان قوم کے غریب طبقہ کو اٹھا نا پڑتا ہے اور سرمایہ دار پورا نفع سمیٹ کرلے جاتا ہے۔ (3) اگر بینکوں کے اعداو شمار کو جمع کیا جائے تو اس میں نوے فیصد غریبوں کا پیسہ ہوگا اور دس فیصد سرمایہ داروں کا۔ لیکن جب یہ سرمایہ پلٹتا ہے تو نوے فیصد سرمایہ دار کی گود میں پہنچتا ہے اور دس فیصد غریب عوام تک۔ چھوٹا سرمایہ رکھنے والا تو پنپ ہی نہیں سکتا جب بھی کوئی شخص معمولی سرمایہ کے ساتھ کھڑا ہونے کی کوشش کرتا ہے بڑی مچھلی فوراً چھوٹی مچھلی کو نگلنے کے لئے اپنی ساری تدبیریں کام میں لے آتی ہے۔ بازار کو اس درجہ نیچے گرا دیا جاتا ہے کہ چھوٹا ” سرمایہ “ رکھنے والا پھر کبھی مقابلہ میں کھڑے ہونے کی ہمت نہیں کرسکتا۔ ” دوسرا نقصان یہ ہے کہ اشیائے صرف کی قیمتوں پر بڑے سرمایہ داروں کا قبضہ ہوجاتا ہے۔ وہ جب چاہیں قیمتیں بڑھا دیتے ہیں اور جب چاہیں مال روک کر قیمتیں چڑھا دیتے ہیں اگر ساری ملت کا سرمایہ کھینچ کر بینکوں کے ذریعہ ان خود غرضوں کی پرورش نہ کی جائے تو ہر شخص اپنے ذاتی سرمائے سے کاروبار کرے گا اور خود غرض درندوں کو پوری تجارت کا آقا بننے کا موقع نہ مل سکے گا۔ “ یہ سارے نقصانات بینکوں کے سود کے ہیں۔ ” اس لئے تجارت اور سود میں بڑا بنیادی فرق ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سودی کاروبار کو حرام قرار دیا ہے۔ (4) چوتھی بات یہ ہے کہ اس حکم کے آنے کے بعد جو شخص سودی کاروبار سے رک گیا تو اب اسلامی حکومت اس سے پچھلے سود کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرے گی ” لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ وہ اب بےفکر ہو کر بیٹھ جائے بلکہ پچھلے مظالم کی تلافی کرنے کی کوشش میں لگا رہے تا کہ اس کے دل سے سود کی محبت کا شائبہ تک نکل جائے۔ ان واضح ہدایات کے بعد بھی جو شخص پھر اس کاروبار کی طرف پلٹے گا تو پھر اس کا ٹھکانا جہنم ہے۔ “ (5) پانچویں بات یہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ صدقات کو پروان چڑھاتا ہے اور سودی کاروبار کو مٹاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے معاشرہ کو پروان چڑھاتے ہیں جس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی ، رحم دلی، فیاضی اور بلند ہمتی سے کام لے کر ایک دوسرے کی مدد کی جاتی ہے اس کے برخلاف جس معاشرہ میں سودی کا روبار ہوگا وہاں کے رہنے والوں میں خود غرضی، سنگدلی، بےرحمی، بزدلی اور دوسروں کی پریشانیوں سے فائدہ اٹھانے کا جذبہ عام ہوگا اس طرح پورا معاشرہ کرب اور اذیت میں مبتلا ہوجائے گا۔ “ (6) چھٹی بات یہ ہے کہ جو لوگ اللہ پر ایمان لاتے ہیں نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں ان کا دنیا و آخرت میں اجر یہ ہوتا ہے کہ ان پر نہ خوف ہوتا ہے اور نہ رنج و غم کے بادل چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ (7) ساتویں بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ اب جس پر بھی تمہارا سود باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو کیونکہ اللہ پر ایمان لانے کا یہی نتیجہ ہونا چاہئے۔ (8) آٹھویں بات یہ فرمائی کہ اگر تم نے اس سودی نظام کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی تو پھر تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے معاشرہ کے لئے اللہ اور اس کا رسول اعلان جنگ کرتے ہیں۔ (9) نویں بات یہ فرمائی کہ اگر تم نے توبہ کرلی تو اصل مال جتنے ہیں وہ تمہارے ہیں۔ (10) آخری اور دسویں بات یہ ارشاد فرمائی کہ آج اگر تم دوسروں پر ظلم کرو گے تو یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے نظام کا یہ لازمی اثر ہے کہ کل تم بھی دوسروں کی زیادتیوں سے بچ نہ سکو گے۔ اگر تم دوسروں پر رحم و کرم کرو گے تو کل تمہارے اوپر بھی رحم و کرم کیا جائے گا۔
Ayahs 2:280–281

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:280 in the Quran reader

اور اگر وہ شخص جس پر قرض ہے تنگ دست ہے تو اس کو خوش حالی تک مہلت دے دو اور اگر تم اس کو معاف ہی کردو تو تمہارے حق میں بہت بہتر ہے اگر تم اس حقیقت سے واقف ہو۔

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِیْهِ اِلَى اللّٰهِ١۫ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:281 in the Quran reader

تم اس دن سے ڈرو جب اللہ کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر جس نے جو کچھ (اچھا یا برا) کمایا وہ اس کو پورا پورا دیا جائے گا۔ کسی پر کوئی ظلم و زیادتی نہ کی جائے گی۔

لغات القرآن : آیت نمبر 280 تا 281 ذو عسرۃ (تنگ دست) ۔ نظرۃ (رعایت کرنا ہے، ڈھیل دینی ہے) ۔ میسرۃ (آسودگی، حالات کی درستگی ، سہولت) ۔ ان تصدقوا (یہ کہ تم معاف کردو، صدقہ کردو) ۔ توفی (پورا پورا دیا جائے گا) ۔ کل نفس (ہرشخص) ۔ لا تظلمون (تم ظلم نہیں کئے جاؤ گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 280 تا 281 اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اگر ایک شخص کا روباری نقصان یا ارضی و سماوی آفات کی وجہ سے اپنا قرض ادا نہیں کرسکتا تو اس کو قرض خواہوں کی طرف سے اس وقت تک مہلت ملنی چاہئے جب تک وہ قرض کو ادا کرنے کے قابل نہ ہوجائے ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اگر قرض کی وہ ادائیگی نہ کرسکتا ہو تو معاشرہ میں اس کو اس طرح بےبس بنا کر رکھ دیا جائے کہ وہ آئندہ کی زندگی میں کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہی نہ ہو سکے اسی لئے فقہا نے فرمایا ہے کہ ایک شخص کے رہنے کا مکان ، کھانے کے برتن، پہننے کے کپڑے اور وہ چیزیں جن سے وہ اپنا روزگار کماتا ہے کسی حال میں قرق کر کے نیلام نہیں کئے جاسکتے۔ عدالت کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگر ایک شخص اپنے حالات سے مجبور ہو کر بےبس ہوچکا ہو اور وہ قرض ادا کرنے کے قابل نہ رہا ہو تو اس کو مہلت دلوائی جائے۔ ایک مرتبہ ایک شخص کا معاملہ نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش ہوا جس کو اپنے کاروبار میں زبردست گھاٹا اور نقصان ہوگیا تھا آپ نے لوگوں سے اپیل کی، آپ کی اپیل پر لوگوں نے ان کی امداد کے لئے رقم جمع کی آپ نے وہ قرض خواہوں کو دے کر فرمایا کہ بس اتنا ہی جمع ہوسکا ہے یہ تم لے لو اور بقیہ کو معاف کر دو ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مجبوروں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کیا جانا چاہئے تا کہ وہ کل معاشرہ کے کارآمد فرد بن سکیں۔
Ayah 2:282

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنٍ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ١ؕ وَ لْیَكْتُبْ بَّیْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ١۪ وَ لَا یَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ یَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْیَكْتُبْ١ۚ وَ لْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَ لَا یَبْخَسْ مِنْهُ شَیْئًا١ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِیْ عَلَیْهِ الْحَقُّ سَفِیْهًا اَوْ ضَعِیْفًا اَوْ لَا یَسْتَطِیْعُ اَنْ یُّمِلَّ هُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّهٗ بِالْعَدْلِ١ؕ وَ اسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى١ؕ وَ لَا یَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا١ؕ وَ لَا تَسْئَمُوْۤا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِیْرًا اَوْ كَبِیْرًا اِلٰۤى اَجَلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ اَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَرْتَابُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِیْرُوْنَهَا بَیْنَكُمْ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا١ؕ وَ اَشْهِدُوْۤا اِذَا تَبَایَعْتُمْ١۪ وَ لَا یُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّ لَا شَهِیْدٌ١ؕ۬ وَ اِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ یُعَلِّمُكُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 2:282 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تم آپس میں ایک مقررہ مدت کے لئے ادھار کا لین دین کرو تو اس کو لکھ لیا کرو۔ لکھنے والے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمہارے درمیان انصاف کے ساتھ لکھے۔ اللہ نے جس کو جیسا لکھنا سکھا دیا ہے وہ لکھنے سے انکار نہ کرے، اس کو لکھ کر دے دینا چاہئے۔ یہ دستاویز قرض لینے والا لکھوائے ۔ اللہ نے ڈرتا رہے جو اس کا رب ہے۔ اور اس میں کوئی کمی نہ کرے۔ اور اگر قرض لینے والا شخص کم عقل یا کمزور ہو یا لکھوانہ سکتا ہو تو جو اس کا ولی (سرپرست) ہے وہ انصاف کے ساتھ (اس دستاویزکو ) لکھوائے۔ تم اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لیا کرو۔ لیکن اگر دو مرد میسر نہ ہوں تو ایک مرددو عورتیں جن کو تم پسند کرتے ہو۔ اس لئے کہ اگر دونوں عورتوں میں سے ایک بھول جائے تو دوسری یاد دلا دے۔ اور جب گواہ بلائے جائیں تو وہ انکار نہ کریں۔ اور قرض کا معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اور اس کی مدت مقرر ہو تو اس کے لکھنے میں سستی نہ کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لئے انصاف پر مبنی ہے اس سے گواہی قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہے اور تمہارے شک و شبہ میں مبتلا ہونے کا بھی امکان کم ہے۔ سوائے اس تجارت کے جو تمہارے آپس میں ہاتھوں ہاتھ لین دین ہوتا ہے اس کو اگر تم نہ لکھو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن لیکن دین کے وقت گواہ ضرور بنا لیا کرو۔ لکھنے والوں اور گواہی دینے والوں کر ہرگز ستایا نہ جائے۔ اگر تم نے ایسا کیا تو یہ بات تمہارے لئے سخت گناہ کی ہوگی۔ اللہ سے ڈرتے رہو وہ تمہیں معاملات کی تعلیم دے رہا ہے۔ اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 282 تداینتم (تم نے قرض کا معاملہ کیا) ۔ رجلین (دو مرد) ۔ دین (قرض) ۔ امراتن (دو عورتیں) ۔ اجل مسمی (مقررومتعین مدت) ۔ ترضون (تم باہم راضی ہو) ۔ اکتبوہ (تم اس کو لکھو) ۔ ان تضل (یہ کہ بھول جائے) ۔ ولیکتب ( اور لکھنا چاہئے) ۔ احدھما (ان دونوں میں سے ایک ) ۔ بالعدل (نصاف کے ساتھ) ۔ تذکر (یاد دلادے) ۔ لایاب (انکار نہ کرے) ۔ الاخری (دوسری (دوسرا) ۔ کاتب (لکھنے والا) لا یاب (انکار نہ کرے) ۔ ان یکتب (یہ کہ وہ لکھے ) ۔ دعوا (وہ بلائے گئے ) ۔ ولیملل اور لکھوائے ۔ املا کرا دے ) ۔ لا تسئموا (تم سستی نہ کرو) ۔ ولیتق اللہ (اور اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے ) ۔ ان تکتبوہ (یہ کہ تم اس کو لکھو) ۔ لایبخس (کمی نہ کرے) ۔ صغیر (چھوٹا) ۔ لا یستطیع (طاقت نہ رکھتا ہو) ۔ کبیر (بڑا) ۔ ان یمل (یہ کہ وہ لکھوائے) ۔ اقسط (زیادہ انصاف ہے) ۔ استشھدوا (گواہ بناؤ) اقوم (زیادہ درست ہے) ۔ شھدین (دوگواہ) ۔ ادنی (نزدیک، قریب) ۔ لم یکونا (نہ ہوں دو ) ۔ الا ترتابوا (یہ کہ تم شک میں نہ پڑو) ۔ تشریح : آیت نمبر 282 آج کل تو تحریر لکھنے لکھانے کا دور ہے لیکن آج سے چودہ سو سال پہلے، لکھنے لکھانے اور دستاویز کا کوئی رواج نہیں تھا۔ مگر قرآن کریم نے قرض کے معاملے میں تحریر کر بڑی اہمیت دی ہے۔ فرمایا کہ جب تم آپس میں لین دین کا معاملہ کرو تو (1) لکھ بھی لو اور (2) اس کی ایک واضح مدت مقرر کرو تا کہ آپس میں رنجشیں پید انہ ہوں۔ (3) تحریر پورے انصاف کے ساتھ لکھی جائے۔ لکھنے والے کو جیسا بھی لکھنا آتا ہے وہ لکھنے سے انکار نہ کرے۔ (4) قرض لینے والا کم عقل، بوڑھا، نابالغ بچہ یا گونگا ہو تو جو اس کا ولی سرپرست ہو وہ اس دستاویز کو لکھوائے۔ (5) گواہ بھی بنائے جائیں۔ اسی لئے فقہا نے فرمایا ہے کہ محض تحریر حجت نہیں ہے جب تک اس پر گواہ نہ ہوں۔ گواہی یا تو دو مسلمان مرد دیں اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں شہادت دیں۔ (6) گواہی دینے والوں کو جب بھی بلایا جائے وہ انکار نہ کریں کیونکہ یہ ایک ملی اور قومی ذمہ داری ہے۔ (7) معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کو ضرور لکھا جائے، کسی معاملہ کو چھوٹا سمجھ کر تحریر کو نظر انداز نہ کیا جائے کیونکہ کبھی کبھی چھوٹا معاملہ بھی بڑے جھگڑے کا سبب بن جایا کرتا ہے۔
Ayah 2:283

وَ اِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّ لَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ١ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَدِّ الَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَ لْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ١ؕ وَ لَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ١ؕ وَ مَنْ یَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:283 in the Quran reader

اور اگر تم سفر میں ہو اور کسی لکھنے والے کو نہ پاؤ تو کوئی ایسی چیز گروی رکھ دو جو اس کے قبضہ میں اسی وقت دے دی جائے۔ پھر اگر ایک کو دوسرے پر اعتماد ہے تو وہ شخص جس پر اعتماد کیا گیا ہے وہ اس امانت کو واپس کر دے۔ اللہ سے ڈرتا رہے جو اس کا پروردگار ہے۔ تم گواہی کو نہ چھپاؤ ۔ جو کوئی گواہی کو چھپائے گا تو یقیناً اس کا قلب مجرم ہوگا۔ اور اللہ تمہارے ان تمام کاموں سے اچھی طرح واقف ہے جو تم کرتے ہو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 283 لم تجدوا (تم نے نہیں پایا) ۔ ائوتمن (اعتبار کیا گیا ہے) ۔ رھن (گروی رکھنا، رہن رکھنا) ۔ ولیتق اللہ ( اور اللہ سے ڈرنا چاہئے) ۔ مقبوضۃ (قبضہ کی ہوئی (یعنی جس پر اسی وقت قبضہ کرسکتا ہو) ۔ من یک تمھا (جو اس کو چھپائے گا) ۔ فلیئود (پھر ادا کرنا چاہئے) ۔ تشریح : آیت نمبر 283 اس آیت میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں کہ ادھار کے معاملے میں اگر تم سفر میں ہو اور کوئی لکھنے والا اس وقت موجود نہیں ہے تو کوئی ایسی چیز گروی رکھ دی جائے جو اس کے قبضے میں رہے جب قرض واپس کردیا جائے تو اس کی وہ چیز جو گروی رکھی گئی ہے اس کو اسی طرح واپس کردی جائے اس میں قرض دینے والے کو تصرف کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر کوئی شخص سفر میں نہ ہو تو وہ گروی رکھ کر قرض نہیں لے سکتا بلکہ یہ ایک اصولی بتا دیا گیا ہے کہ قرض لینے والا اگر کوئی چیز گروی رکھ دے تو اس کے بدلے قرض دیا جاسکتا ہے خواہ وہ سفر میں ہو یا حضر میں چونکہ حالت سفر کے ساتھ اس کا ذکر کردیا۔ دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ انسان کو جس چیز کا علم ہو تو اس کو گواہی دینے میں کنجوسی ، سستی یا مصلحت سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ اس کے پاس جو بھی گواہی کی چیز ہو اس کو شہادت میں پیش کردے۔ اگر وہ شہادت و گواہی کو چھپائے گا تو یقیناً وہ سخت گنہگار ہوگا۔ اور اس کا قلب مجرم شمار کیا جائے گا جو ضمیر کی ایک خلش بن جائے گی۔
Ayahs 2:284–285

لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ یُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ١ؕ فَیَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:284 in the Quran reader

جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب کا سب اللہ ہی کا ہے جو بات تمہارے دل میں ہے اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا۔ پھر جس کو چاہے بخش دے گا اور جسے چاہے سزا دے گا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ١۫ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ١۫ وَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ۗ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:285 in the Quran reader

رسول پر اس کے پروردگار کی طرف سے جو بھی نازل کیا جاتا ہے (سب سے پہلے ) وہ اس پر ایمان لاتا ہے اور مومنین بھی اس پر ایمان لاتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے۔ (سب نے یہی کہا ہے کہ ) ہم اس کے رسولوں کے درمیان میں فرق نہیں کرتے۔ (کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں ) انہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور ہم نے خوشی سے قبول کرلیا۔ اے پروردگار ہم آپ کی طرف سے مغفرت کے آرزو مند ہیں اور آپ ہی کی طرف ہمیں لوٹ کر آنا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 284 تا 286 تبدوا (تم ظاہر کرتے ہو) ۔ تخفوا (تم چھپاتے ہو) ۔ یحاسب (وہ حساب لے گا) ۔ یعذب (عذاب دے گا) ۔ لا نفرق (ہم فرق نہیں کرتے) ۔ غفرانک (تجھ سے بخشش مانگتے ہیں ) ۔ لا تؤاخذنا (توہ میں نہ پکڑنا) ۔ نسینا (ہم بھول جائیں) ۔ اخطانا (ہم سے خطا ہوجائے) ۔ لا تحمل (نہ اٹھوائیے گا) ۔ انصرنا (ہماری مدد فرما) ۔ تشریح : آیت نمبر 284 تا 286 یہ سورة بقرہ کے آخری رکوع کی آخری آیات ہیں۔ “ جن میں سورة بقرہ کے تمام احکامات کا اختتام ایسی جامع آیات پر کیا گیا ہے جو تمام معاملات ، عقائد اور عبادات کی بنیاد ہیں۔ ” فرمایا کہ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اسی ایک اللہ کی ملکیت ہے جس کی بناء پر ایک انسان کے لئے اس کے سوا اور کوئی طرز عمل جائز اور صحیح نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا سر نیاز جھکا کر اسی کی عبادت و بندگی کا اقرار کرے۔ فرمایا کہ کوئی انسان اپنے دلی جذبات کا اظہار کرے یا اس کو چھپائے اس سب کا حساب اللہ کے سامنے ہر انسان کو دینا ہے۔ اس حساب کے بعد وہ اللہ جس کو چاہے گا معاف کر دے گا اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا وہ ہر آن ہر چیز پر پوری قدرت و طاقت رکھنے والا ہے۔ فرمایا یہ رسول اللہ یعنی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر جو کچھ ان کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ رسول اس کی تصدیق کرتے اور اس کے سچا ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور مسلمان بھی اس پر ایمان لا کر اس کی تصدیق کرتے ہیں ۔ رسول اور مسلمان سب کے سب اللہ پر، اور اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان اور اعتقاد رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے تمام رسولوں پر ایمان لائے ہیں اور ہم رسولوں میں تفریق نہیں کرتے کہ کسی کو مانیں اور کسی کو نہ مانیں کسی کو پیغمبر سمجھیں اور کسی کو نہ سمجھیں۔ ان سب نے یعنی رسول اور مومنوں نے کہا کہ اے اللہ ہم نے آپ کا فرمان سنا اور تمام احکامات کو خوشی خوشی رغبت کے ساتھ قبول کرلیا۔ اے ہمارے پروردگار ہم آپ کی مغفرت اور بخشش کے خواہش مند ہیں۔ ہماری مغفرت فرما دیجئے ، ہمیں آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے ہم پر رحم و کرم فرمائیے۔ اے اللہ آپ کسی شخص پر اس کی طاقت و قوت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے ہم پر بھی ہماری قوت و طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالئے۔ بہرحال ہر ایک کی کمائی اس کے لئے اور اس کے اعمال کا وبال بھی اسی پر ہے اس لئے اے ہمارے پروردگار اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے بھول چوک ہوجائے تو اس پر آپ ہم سے مواخذہ نہ فرمائیے گا ۔ اے ہمارے پروردگار ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالئے گا جو ہم سے پہلے والے لوگوں پر ڈالے گئے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوائیے گا جو ہماری طاقت وقوت سے باہر ہوں۔ اے ہمارے پروردگار ہم سے درگزر فرمائیے گا۔ ہم سب کو بخش دیجئے گا اور اے ہمارے پروردگار ہم پر رحم فرمائیے گا۔ اور کافروں کی قوم پر ہماری نصرت و مدد فرمائیے گا۔ آمین الحمد للہ سورة البقرۃ کی تشریح اور ترجمہ مکمل ہوا ور مدینہ منورہ میں اس پر نظر ثانی کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ واخردعوانا الحمد للہ رب العالمین
Ayah 2:286

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اكْتَسَبَتْ١ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَاۤ اِنْ نَّسِیْنَاۤ اَوْ اَخْطَاْنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تَحْمِلْ عَلَیْنَاۤ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِنَا١ۚ رَبَّنَا وَ لَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ١ۚ وَ اعْفُ عَنَّا١ٙ وَ اغْفِرْ لَنَا١ٙ وَ ارْحَمْنَا١ٙ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 2:286 in the Quran reader

(بلاشبہ) اللہ کسی پر اس کی ہمت و طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا، اس کی کمائی کا نفع بھی اسی کے لئے ہے اور اس کے کئے کا وبال بھی اسی پر ہے۔ اے ہمارے پروردگار اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے خطا ہوجائے تو اس پر آپ ہم سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔ اے ہمارے پروردگار اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے خطا ہوجائے تو اس پر آپ ہم سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔ اے ہمارے پروردگار ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالئے گا جو ہم نے پہلے والے لوگوں پر آپ نے ڈالے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوائیے گا جو ہماری طاقت و قوت سے باہر ہوں۔ ہم سے درگذر فرمائیے۔ ہم سب کو بخش دیجئے۔ اے ہمارے مالک ہم پر رحم فرمائیے اور کافروں کی قوم پر ہماری نصرت و مدد فرمائے گا ۔ آمین۔

سورة بقرہ اور چالیس اصول زندگی سورة بقرہ میں قوم بنی اسرائیل، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور امت محمدیہ ﷺ کا ذکر کرنے کے بعد وہ چالیس اصول زندگی ارشاد فرمائے ہیں جو عبادت و بندگی، تہذیب و تمدن ، عدل و انصاف ، معاشرت اور معیشت ۔ دنیا اور آخرت کے اہم معاملات کی بہترین بنیاد ہیں۔ گویا اس میں اس طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ اگر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت نے ان اصولوں کو سامنے رکھا اور ان پر پوری طرح عمل کیا تو بنی اسرائیل کی طرح وہ دنیا اور آخرت میں ہر طرح کے نقصانات اٹھانے سے بچ جائیں گے۔ کیونکہ بنی اسرائیل کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ بےاصول زندگی تھی وہ باتیں زیادہ کرتے اور عمل کم کرتے تھے۔ وہ چالیس اصول کون سے ہیں ؟ ان کی تفصیل عرض ہے۔ (1): صبر اور صلوٰۃ وسیلہء نجات : صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ سے جو بھی مانگا جائے گا وہ ضرور ملے گا اس میں اللہ کی طرف سے دیر ہو سکتی ہے مگر اس کے گھر میں اندھیر نہیں ہے۔ صبر کے معنی ہیں ڈٹ جانا اور برداشت کرنا۔ ایک مومن اللہ کی رضا اور دین اسلام کی سربلندی کے لئے جب ڈٹ جاتا ہے اور اگر ضرورت ہو تو وہ اس عظیم مقصد کے لئے اپنی جان تک دے دیتا ہے تو وہ کبھی نہیں مرتا بلکہ اس کو مروہ کہنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ وہ اپنے اس صبر کے ذریعہ اللہ کی رحمت کے سائے میں اس طرح حیات جاوید انی (ہمیشہ کی عزت والی زندگی) حاصل کرلیتا ہے جہاں زندگی بھی اس پر نازل کرتی ہے۔ نماز اللہ کی افضل ترین عبادت ہے اسی لئے نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو کس طرح کی شدید پریشانی ہوتی تو آپ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ درحقیقت صبر اور صلوٰۃ مسلمانوں کے وہ ہتھیار ہیں جن سے وہ دنیا اور آخرت کے ہر میدان میں فتح اور کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اور اللہ بھی ایسے ہی بندوں کے ساتھ ہوتا ہے جو صبر و صلوٰۃ کے ذریعہ اس سے ہر طرح کی مدد مانگتے ہیں۔ (2): اللہ کے شعائر : شعائر (شعیرہ کی جمع ہے) نشانیاں۔ اصل میں نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے کفار مکہ نے صفا اور مروہ پر “ اساف اور نائلہ ” نام کے دو بت رکھے ہوئے تھے جنہیں وہ سعی کے دوران چومتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد جب بیت اللہ کو تمام بتوں سے پاک کردیا گیا تو کچھ مسلمان صفا اور مروہ کی سعی نہیں کرتے تھے کہ کہیں ہم گناہ گار نہ ہوجائیں کیونکہ صفا اور مروہ پر کفار بتوں کی تعظیم کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صفا اور مروہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تم اس کی اس طرح تعظیم اور عزت کرو اور سعی کرو جس طرح تم بیت اللہ، مقام ابراہیم، قرآن کریم اور زمزم کو اللہ کی نشانیاں سمجھ کر ان کی تعظیم کرتے ہو۔ (3): علوم ہدایت کو نہ چھپانا : یہود و نصاریٰ ان تمام باتوں کو چھپا لیتے تھے جن میں دین اسلام کی سچائی اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تشریف آوری کی خوش خبریاں دی گئی تھیں اور انہوں نے تمام ان علوم کو چھپا لیا تھا جن سے قوم کی اصلاح ہو سکتی تھی۔ دین ان کے ہاتھوں کا کھلونا بن کر رہ گیا تھا ۔ ایسے لوگوں کے لئے فرمایا کہ وہ انتہائی لعنت کے قابل ہیں جو اپنی ذاتی اغراض اور دنیا کے گھٹیا سے نفع کے لئے سچائی کی باتوں کو چھپاتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ایسے لوگ توبہ کئے بغیر اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو نہ صرف دنیا میں اللہ کی اور اس کے فرشتوں کی لعنت برسے گی بلکہ وہ لعنت کرنے والے تمام لوگوں کی لعنت کے مستحق بن جائیں گے اور آخرت میں اس کا قابل نہ رہیں گے کہ اللہ ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھے۔ (4): اللہ نے اپنی پہچان کی بیشمار نشانیاں بنائی ہیں۔ جنہیں دیکھ کر ایک آدمی اپنے پیدا کرنے والے خالق حقیقی تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے مگر بعض بد قسمت لوگ وہ ہیں کہ جنہوں نے اپنے خالق کی پیدا کی ہوئی چیزوں ہی کو اپنا معبود اور مشکل کشا بنا لیا ہے اور وہ لوگ ان چیزوں کی محبت میں دیوانے ہوئے جا رہے ہیں۔ حالانکہ اس شوق محبت اور دیوانگی کا حق صرف اللہ رب العالمین کے لئے ہونا چاہئے تھا فرمایا وہ وقت کس قدر حسرت اور افسوس کا ہوگا جب ان کے جھوٹے معبود ان سے اپنا منہ پھیر کر ان کا ساتھ نہ دیں گے۔ شدید ترین عذاب سامنے ہوگا اور تمام سہارے ٹوٹ چکے ہوں گے۔ وہ نہایت مایوسی اور حسرت سے کہیں گے الٰہی ! اگر ہمیں ایک مرتبہ پھر دنیا میں جانے کی اجازت دے دی جائے تو ہم ان جھوٹے معبودوں سے اسی طرح نفرت اور بیزاری کا اظہار کریں گے جس طرح آج یہ ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس وقت فرمائیں گے کہ اب تمہیں دوبارہ دنیا میں جانے کی اجازت نہیں ہے اور آج تم جس حسرت اور افسوس کا اظہار کر رہے ہو وہ تمہیں جہنم کی آگ سے نہ بچا سکے گا۔ (5): حرام، حلال اور پاکیزہ چیزیں : مومن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہے اور شیطان کے مکرو فریب سے ہوشیار رہے۔ کیونکہ شیطان کی سب سے بڑی تمنا یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح ایک مومن کو برائی اور بےحیائی کی طرف لانے کے لئے مرد ار جانور بہتے ہوئے خون خنزیر کے گوشت اور غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز کے جال میں پھنسا دے۔ فرمایا کہ جو لوگ شیطان کے اس مکرو فریب کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور رزق حرام کو برا نہیں سمجھتے ایسے لوگ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرتے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہوتا۔ (6) نیکیوں کا راستہ : سچے مومنوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ اللہ کے دئیے ہوئے مال میں اللہ کی محبت کو بنیاد بنا کر رشتہ داروں ، یتیم بچوں، ضرورت مندوں، مسافروں، ضرورت کے تحت مانگنے والوں اور قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی مدد پر اپنا مال خرچ کریں۔ نماز اور زکوٰۃ کے نظام کو قائم کریں اور پریشانیوں اور مشکلات میں صبرو تحمل اور برداشت کے دامن کو تھامے رہیں۔ یہ نیکیاں کرنے والے ہی اپنے ایمانی دعوے میں سچے ہیں اور کامیاب ہونے والے ہیں۔ (7) نظام قصاص کو قائم کرنا : عقل و دانش رکھنے والوں سے فرمایا گیا کہ ! قصاص کا نظام قائم کریں جس میں چھوٹے بڑے غلام، آزاد مرد اور عورت کا امتیاز نہیں ہوتا بلکہ جو بھی قاتل ہے اس کو قتل کی پوری پوری سزا دی جائے۔ (8) والدین اور رشتہ داریوں کا احترام : فرمایا کہ موت کے وقت اگر انسان اپنے ان رشتہ داروں کے لئے کچھ وصیت کر جائے (جن کا میراث میں حصہ نہیں ہے) تو یہ اس کے لئے صدقہ جا ریہ ہوگا۔ وصیت سننے والوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں کسی طرح کی تبدیلی نہ کریں اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ سخت گناہ گار ہوگا۔ البتہ اگر مرنے والا کسی گناہ کی وصیت کر گیا ہے اور اس میں مناسب تبدیلی کرلی جائے (جس سے کسی کا حق نہ مارا جائے) تو یہ تبدیلی گناہ نہیں ہے۔ اگرچہ والدین کے لئے وصیت کرنے کا حکم وصیت کے احکامات نازل ہونے سے پہلے تھا بعد میں منسوخ ہوگیا۔ بہرحال غریب ضرورت مندوں کے لئے کچھ وصیت کر جانا اور وصیت میں تبدیلی نہ کرنے کا حکم اب بھی باقی ہے۔ (9) رمضان اور نزول قرآن : قرآن کریم وہ کتاب ہدایت ہے جو قیامت تک تمام انسانیت کے لئے رہبر و رہنما ہے رمضان کی مبارک ساعتوں میں نازل کی گئی ہے۔ اسی لئے یہ مہینہ بھی بہت قابل احترام ہے۔ اس میں رمضان کے تمام احکامات کا خیال رکھنا اور زیادہ نیکی میں آگے بڑھنا ہر مومن کی ذمہ داری ہے۔ (10) رشوت لینا اور دینا حرام ہے : مومنوں کو حکم دیا گیا کہ ! وہ آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے نہ کھائیں۔ نہ اس مال کو اپنے حاکموں کی طرف رشوت کے طور پر لے کر جائیں کیوں کہ ناجائز مال اور رشوت دونوں حرام اور ناجائز ہیں۔ (11) من گھڑت رسمیں : حج کے دنوں میں مکہ کے لوگ حج کا احرام باندھنے کے بعد اپنے گھروں کے دروازوں پر تالے ڈال کر گھر کے پیچھے سے گھروں میں داخل ہوتے تھے فرمایا کہ یہ رسم کوئی نیکی نہیں ہے اپنے گھروں کے دروازے سے ہی آنا چاہئے۔ سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ حج جیسی عبادت بھی ادا کی جائے اور اللہ کے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جہاد و قتال کیا جائے۔ کسی پر زیادتی نہ کی جائے البتہ زیادتی کا جواب اسی طرح دینا جائز ہے جتنی زیادتی کی گئی ہو۔ فرمایا کہ انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ نیکی اور بھلائی کا پہلو ہر کا م پر غالب ہونا چاہئے۔ (12) حرمت والے مہینے : رجب، ذی قعدہ، ذی الحج اور محرم یہ چار مہینے اشہر الحرم۔ (حرام اور حرمت والے مہینے) کہلاتے ہیں۔ اس میں جنگ کرنے کو مکہ کے کفار بھی برا سمجھتے تھے فرمایا کہ اگر وہ ان مہینوں کا احترام کرتے ہوئے تم سے جنگ نہیں کرتے ہوئے تو تم بھی نہ کرو لیکن اگر وہ جنگ کرتے ہیں تو تمہیں جنگ کرنے کی اجازت ہے مگر کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہئے۔ (13) حج اور تکمیل ایمان : عمرہ (سوائے حج کے چند دنوں کے) ہمیشہ کیا جاسکتا ہے حج کے لئے شوال، ذی قعدہ اور ذی الحج کے دن متعین ہیں۔ ان میں اللہ کی عبادت و بندگی اور اس کا ذکر کثرت سے کیا جائے کیونکہ حج مومنوں کے گناہوں کی معافی کا بہترین ذریعہ ہے حج کے دنوں میں لڑائی، جھگڑا اور گناہوں کے کاموں سے بچتے ہوئے تمام احکامات کی پابندی کرنا اور ہر طرح کی بری رسموں سے بچنا سب سے بڑی عبادت ہے۔ (14) زیادہ قسمیں کھانا اور خوشامد کرنا : زیادہ قسمیں کھانا اور خوشامد کرنا اللہ کو سخت ناپسند ہیں اس طرح کی باتیں کچھ لوگ اس لیے کرتے ہیں تا کہ ان کے ہاتھوں سے جو فساد پھیل رہا ہے ان پر پردہ پڑا رہے۔ ایسے لوگوں کی علامت یہ ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم ایسی حرکتیں نہ کرو جن سے دوسروں کا نقصان ہوتا ہے تو وہ اس بات کو اپنا انا اور ضد کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ اس کے برخلاف وہ لوگ قابل قدر ہیں جو اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے اپنا سب کچھ لٹا دیتے ہیں۔ فرمایا گیا کہ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی رضا و خوشنودی چھوڑ کر دنیا کو اپنا مقصود بنا رکھا ہے۔ وہ پوری طرح اسلام میں داخل ہوجائیں اور شیطان کی پیروی چھوڑ دیں تو اللہ کی رحمتوں کے مستحق بن جائیں گے۔ (15) حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا : فرمایا کہ تم سے پہلے لوگوں کو طرح طرح سے آزما یا گیا جب وہ حالات میں ہلا مارے گئے۔ اللہ کے رسول اور ایمان والے بھی چلا اٹھے کہ اے اللہ آپ کی مدد کب آئے گی ؟ فرمایا کہ جب انسانی وسائل اور اس کی کوششیں مایوسی کی حد تک پہنچ جاتی ہیں تو اللہ کی مدد آتی ہے اسی طرح جو لوگ دین کی راہوں میں مشکلات سے نہیں گھبراتے وہی کامیاب ہوتے ہیں اور وہی جنت کے مستحق بھی بن جاتے ہیں۔ (16) اہل ایمان پر جہاد فرض ہے : اگرچہ اپنی جان دینا اور کسی کی جان لینا انسان کے لئے بہت ہی شاق اور گراں ہے لیکن جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت میں قتال و جہاد کرتے ہیں ان کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ممکن ہے ایک چیز تمہیں گراں گزرتی ہو لیکن وہی چیز تمہارے حق میں بہتر ہو اور اسی طرح ایک چیز تمہیں پسند ہو لیکن وہی چیز تمہارے حق میں بری ہو۔ اس بات کو اللہ بہتر جانتا ہے انسان اپنے حقیقی نفع نقصان کو نہیں جانتا۔ (17) دین اسلام سب سے بڑی نعمت : جو شخص دین اسلام جیسی نعمت کو پانے کے بعد چھوڑ دے گا یعنی مرتد ہوجائے گا ۔ اگر اس نے مرنے سے پہلے اس گناہ سے توبہ نہ کی تو دنیا و آخرت میں اس کے تمام اعمال اور نیکیاں برباد ہوجائیں گی کیونکہ دین اسلام ہی اللہ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ (18) شراب اور جوا حرام ہے : یہ دونوں چیزیں انسان کی دنیا اور آخرت کو برباد کر کے رکھ دینے والی چیزیں ہیں۔ اگرچہ ان میں وقتی فائدے ضرور نظر آتے ہیں لیکن شراب اور جوئے کی نحوست سے دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی اس کے تمام اعمال راکھ کا ڈھیر بن جائیں گے۔ (19) یتیم بچوں سے حسن سلوک : وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا جس میں ایسے بچوں کو جن کے سروں پر باپ کا سایہ نہ ہو آزاد اور بےسہارا چھوڑ دیا جائے اور ان کی تعلیم و تربیت اور ان کے اخلاق کی نگرانی نہ کی جائے کیونکہ ایسے سر پھرے بچے کل معاشرہ کا کینسر بن جائیں گے اور اگر ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا جائے گا تو وہ اسی معاشرہ کا قیمتی سرمایہ بھی بن سکتے ہیں۔ (20) مشرک عورتوں سے نکاح حرام ہے : مشرک عورتوں سے نکاح حرام ہے : مشرک عورتیں اگرچہ حسن و جمال کا پیکر ہی کیوں نہ ہوں ان سے نکاح کرنا حرام ہے۔ اسی طرح مشرک مردوں سے اس وقت تک نکاح نہیں ہو سکتا جب تک وہ ایمان قبول نہ کرلیں خواہ ایسے مرد کتنی ہی خوبیوں کے مالک کیوں نہ ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ اگر یہ شرک پر قائم رہیں گے تو وہ اپنے ساتھ کو جہنم میں لے جائیں گے جب کہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ اہل ایمان جنت اور اللہ کی مغفرت کے مستحق بن جائیں۔ (21) عورتوں کے مخصوص ایام : جب عورتوں کے مخصوص ایام شروع ہوتے ہیں تو وہ شرعی طور پر ناپاک شمار ہوتی ہیں لیکن یہ تصور غلط ہے کہ ان کا جسم اور کپڑے بھی ناپاک ہوگئے ہیں اس سلسلہ میں شرعی حکم یہ ہے کہ ان سے صحبت کرنا تو جائز نہیں ہے البتہ ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا، ان کے ساتھ لیٹنا، بیٹھنا قطعاً جائز ہے۔ ان ایام میں عورتیں شرعی طور پ ناپاک تو کہلاتی ہیں لیکن کوئی اچھوت نہیں بن جاتیں۔ جب وہ عورتیں غسل کرلیں تو ان سے صحبت نہ کرنے کی پابندی بھی ختم ہوجاتی ہے۔ فرمایا کہ عورتیں مردوں کے لئے کھیتی کی طرح ہیں جس طرح کسان اپنی زمین میں بیج اسی وقت ڈالتا ہے جب اس کو فصل اگانی ہوتی ہے لیکن بنجرزمین پر وہ اپنی صلاحیتیں برباد نہیں کرتا۔ (22) قسم ور اس کا کفارہ : قرآن کریم اور احادیث میں آتا ہے کہ پختہ قسمیں کھانے کے بعد ان کا لحاظ رکھنا ضروری ہے ان کو توڑنا نہیں چاہئے لیکن اگر کسی شدید عذر کی وجہ سے پختہ قسمیں کھانے کے بعدان کا توڑنا ضروری ہے تو اس کا کفارہ ادا کر کے زندگی بھر استغفار کیا جائے۔ قسمیں دو طرح کی ہوتی ہیں (1) لغو قسمیں جیسے تیرے سر کی قسم بچوں کی قسم وغیرہ یہ بیکار اور لغو قسمیں ہیں ان کا کوئی اعتبار نہیں ہے لیکن (2) وہ قسمیں جو دل کے پورے ارادے اور یقین سے کھائی جاتی ہیں ان کے توڑ دینے کا کفارہ یہ ہے کہ (1) دس آدمیوں کو پیٹ بھر کھانا کھلائے ۔ (2) یا دس آدمیوں کو کپڑے پہنائے (3) یا مسلسل تین روزے رکھے۔ (4) یا ایک غلام آزاد کرے۔ (23) بیوی کے قریب نہ جانے کی قسم : اگر کسی نے اپنی بیوی کے پاس جانے کی قسم کھالی ہو تو اس کی مدت چار مہینے ہے۔ اس چار مہینے کے مدت میں میں رجوع کرلیا تو قسم کا کفارہ دینا پڑے گا اور اگر چار مہینے میں رجوع نہ کیا جائے تو عورت پر طلاق بائن پڑجائے گی۔ یعنی جدائی کی طلاق۔ (24) اللہ کو طلاق سخت ناپسند ہے : دین اسلام طلاق دینے کو بہت ہی برا سمجھتا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے طلاق ہوگئی تو عورت پر لازمی ہے کہ وہ تین خون آنے تک کسی اور سے نکا ح نہ کرے اور اس کی عدت کو پورا کرے اگر وہ حاملہ ہے تو اپنے حمل کو ضرورظاہر کردے (حاملہ عوت کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے) ۔ (25) طلاق رجعی اور طلاق مغلظہ : طلاق رجعی دو دفعہ تک ہے اگر تیسری طلاق بھی دے دی جائے گی تو یہ عورت شوہر کے لئے اس وقت تک حلال نہ ہوگی جب تک وہ پہلے شوہر کی عدت گذار کو کسی دوسرے شخص سے نکاح اور صحبت نہ کرے پھر اگر کسی وجہ سے دوسرے شہر سے بھی طلاق ہوجائے تو دوسرے شوہر کی عدت گزار کر پھر پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ مومنوں کو حکم دیا گیا ہے کہ عورتوں کو رکھنا ہے تو طریقہ سے رکھو۔ چھوڑنا ہے تو احسن طریقہ پر رخصت کردو البتہ عورتوں پر ظلم و زیادتی نہ کرو اور اللہ کی آیات کو کھیل نہ بناؤ (26) بچوں کو دودھ پلوانا : دودھ پیتے بچوں کے لئے حکم ہے کہ مائیں دو سال (بچہ کمزور ہو تو ڈھائی سال ) تک دودھ پلائیں لیکن اگر مرد اپنی اولاد کو کسی اور سے دودھ پلوانا چاہتا ہے تو اس کے لئے یہ بات جائز ہے مگر اس کی شرط یہ ہے کہ جس سے دودھ پلوایا جائے اس کو اس کا پورا پورا معاوضہ ادا کیا جائے ۔ عدت کے دوران مطلقہ عورتوں کا کھانا اور لباس اس کا شوہر اپنی حیثیت کے مطابق دینے کا پابند ہے۔ (27) شوہر کی وفات اور عدت : فرمایا کہ جب تم نے طلاق دے دی اور اس عورت نے اپنی عدت بھی گزار لی ہے تو اب اس پر کسی طرح کی پابندی لگانا جائز نہیں ہے جس کا شوہر مرجائے اس عورت کی عدت چار مہینے اور دس دن تک ہے۔ عدت گزارنے کے بعد وہ عورتیں اپنے لیے زندگی بسر کرنے میں معروف طریقہ پر آزاد ہیں۔ ان پر کسی قسم کی پابندی لگانا جائز نہیں ہے۔ فرمایا دوران عدت احسن طریقہ سے ڈھکے چھپے الفاظ میں پیغام نکاح تو دیا جاسکتا ہے لیکن نکاح کرنے کی قطعاً اجازت نہیں ہے۔ (28) نکاح اور مہر : اگر کسی نے نکاح کیا اور مہر بھی مقرر کیا لیکن صحبت سے پہلے ہی طلاق دے دی گئی تو آدھا مہر ادا کرنا ہوگا۔ اگر شوہر چاہے تو پورا مہر دے دے۔ عورت چاہے تو پورا مہر معاف کر دے یہ معاملہ آپس کی مرضی کا ہے۔ (29) جہاد اسلامی کی ترغیب : حضرت طالوت اور ظالم بادشاہ جالوت، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت عزیر (علیہ السلام) کے واقعات بیان کر کے اللہ نے یہ بتایا ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ ہی سب سے بڑی عظمت ہے۔ اس سے بھاگنے والے بدقسمت لوگ ہیں کیونکہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے انسان موت سے کتنا ہی بھاگنے کی کوشش کرے موت اس کو مضبوط قلعوں میں نہیں چھوڑے گی۔ ان آیات میں اہل ایمان کو جہاد پر آمادہ کیا گیا ہے۔ (30) اللہ کی راہوں میں بےغرض خرچ کرنا : اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے زیادہ سے زیادہ خرچ کرنا اور دوسروں کی مدد کرنا بھی عبادت ہے لیکن شرط یہ ہے کہ جس کی مدد کی جائے اس کو کسی طرح کے طعنے نہ دئیے جائیں نہ ذہنی اذیت پہنچائی جائے ورنہ یہ سارا نیک عمل ضائع ہوکر رہ جائے گا اور کوئی ثواب نہ ملے گا۔ (31) اللہ کے راستے میں چلنے والوں کی مدد : کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنی زندگی دین کی سربلندی اور خدمت خلق میں لگا رکھی ہے ان کی خاموشی سے مدد کی جانی چاہئے کیونکہ اگر وہ دنیا کمانے کی فکر کریں گے تو وہ دین کی سربلندی کے لئے جس جدو جہد میں لگے ہوئے ہیں اس کا حق کیسے ادا کرسکیں گے۔ فرمایا کہ ایسے لوگوں کی علامت یہ ہے کہ تم ان کو ان کے پریشان حال چہروں اور پیشانیوں سے پہچان جاؤ گے ایک علامت یہ ہے کہ وہ گر پڑکر کبھی کسی س سوال نہیں کرتے بلکہ ناواقف آدمی تو ان کے سوال نہ کرنے سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ شاید ان کو تو کسی چیز کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ (32) سودی لین دین معاشرہ کا کینسر ہے : اللہ تعالیٰ نے سود کے لین دین سے اس قدر سختی کے ساتھ منع کیا ہے کہ اس کو نہ چھوڑنے والوں کے لئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلان جنگ ہے۔ اگر غور کیا جائے تو آج ساری دنیا جو مہنگائی کی سولی پر چڑھی ہوئی ہے جس سے زندگیوں کا سکون برباد ہو کر رہ گیا ہے وہ سود ہی کی لعنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اس لعنت سے ہر مومن کو اور ہر اسلامی ملک کو محفوظ رکھے، آمین۔ (33) بغیر سود کے لوگوں کی مدد کرنا : سودی لین دین کے برخلاف اہل ایمان کو اس بات کی طرف رغبت دلائی گئی ہے کہ اگر کوئی ضرورت مند ہو تو اس کو بغیر کسی سود کے قرض دیا جائے اور اس قرض کی ادائیگی میں اس کا کی سہولت کا خیال بھی رکھا جائے۔ اگر وہ شخص کسی مجبوری کی وجہ سے قرض ادا نہ کرسکتا ہو تو اس کو مناسب سہولت دی جائے یا اس کو معاف کردیا جائے۔ (34) قرض لینے اور دینے کے اصول : (1) قرض دیتے وقت مدت مقرر کی جائے کہ قرض لینے والا قرض کب واپس کرے گا۔ (2) پوری طرح انصاف سے اس کو لکھا جائے ۔ لکھنے والا کوئی عذر پیش نہ کرے جیسا بھی لکھ سکتا ہو لکھ دے (3) دو مرد گواہ بنا لئے جائیں اگر دو مرد گواہ نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے۔ (35) قرض کے لین دین میں لکھنا : قرض کا معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ہر حال میں اس کو لکھا جائے کیونکہ اس میں انسان بہت سی الجھنوں سے بچ جاتا ہے اور یہ بات انصاف سے بھی قریب تر ہے اور کسی طرح کا شک و شبہ بھی پیدا نہیں ہوتا۔ (36) آپس کا لین دین : بازاروں میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ دوکاندار آپس میں لین دین کرتے ہیں ایسے لین دین کو اگر مذکورہ شرائط کے مطابق لکھا نہ جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں کسی کو گواہ بنا لینا بھی کافی ہے۔ (37) لکھنے اور گواہی دینے والوں کو نہ ستانا : کیونکہ اگر گواہی دینے والوں اور لکھنے والوں کو ستایا گیا تو پھر کوئی شخص گواہی دینے والا۔ اور لکھنے والا نہیں ہوگا اور ممکن ہے ایک سامنے پڑی ہوئی لاش اور سسکتے ہوئے انسان کو اٹھانے والا اور گواہی دینے والا بھی نہ مل سکے گا۔ (38) رہن رکھ کر قرض لینا : اگر کوئی سفر میں ہو اور لکھنے والا بھی نہ ہو تو کوئی ایسی چیز بطور رہن رکھی جاسکتی ہے جو فوری طور پر اس کے قبضے میں آجائے پھر کسی لکھت پڑھت کی ضرورت نہیں ہے۔ (39) امانت میں خیانت کرنا : جس شخص کو بھی کوئی امانت دی جائے اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس امانت کو اس کے حق دار تک پہنچائے اس میں بددیانتی نہ کرے اگر کسی کے پاس کوئی گواہی ہو تو وہ اس کو نہ چھپائے ورنہ یہ بات اس کے ضمیر کا بوجھ بن جائے گی۔ (40) تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) سب سے پہلے اللہ کے دین کی سچائی پر ایمان لاتے ہیں۔ پھر جو بھی سعادت مند ہوتا ہے وہ ایمان لا کر اس راہ پر چلتا ہے اور اللہ پر اس کے فرشتوں پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر بلاتفریق ایمان لاتا ہے اور اس کی زبان پر ایک ہی بات ہوتی ہے کہ اے اللہ ہم نے سنا اور ہم آپ کی اطاعت کو قبول کرتے ہیں۔ ٭ اے اللہ اگر ہم سے کوئی بھول چوک ہوگئی ہو یا ہم بھول گئے ہوں تو ہمیں معاف کر دیجئے گا۔ ٭ اے اللہ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالئے گا جو ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے گئے تھے۔ ٭ اے ہمارے رب ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈالئے گا جس کی ہمارے اندر طاقت نہ ہو۔ ٭ ہمیں معاف کر دیجئے گا۔ ٭ ہمارے گناہ بخش دیجئے گا۔ ٭ ہم پر رحم و کرم فرمائیے گا۔ ٭ آپ ہمارے مالک ہیں۔ ہمیں کافروں اور کفر کی ہر طاقت پر غلبہ نصیب فرما دیجئے گا۔ آمین یا رب العالمین