Ayahs 2:204–207لغات القرآن : آیت نمبر 204 تا 207
یعجب (پسند آتا ہے ) ۔ یشھد (گواہ کرتا ہے) ۔ الد الخصام (سخت جھگڑالو) ۔ تولیٰ (وہ پلٹا) ۔ سعی (اس نے کوشش کی ) ۔ یھلک (ہلاک اور برباد کردیتا ہے) ۔ الحرث (کھیتی) ۔ النسل (جانور، مویشی) ۔ اتق اللہ (اللہ سے ڈر) ۔ اخذتہ (اس کو پکڑ لیتا ہے (اس کو پکڑ لیتی ہے) ۔ حسبہ (اس کو کافی ہے ) ۔ یشری (فروخت کردیتا ہے) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ مرضات اللہ (اللہ کی رضا و خوشنودی) ۔ العباد (عبد) بندے) ۔
تشریح : آیت نمبر 204 تا 207
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں اور کمزور کردار کے انسانوں کی خصلتیں اور مخلص مومنوں کی شان اور صفات بیان فرمائی ہیں۔
فرمایا کہ مدینہ کے بہت سے وہ منافق جو سہل پسند، کھاتے پیتے اور صاف ستھرے لباس والے ہیں جو اپنے کردار کی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے بڑی لچھے دار اور دلچسپ باتیں کرتے ہیں اور بات بات پر قسمیں کھاتے ہیں جب آپ ﷺ کی مجلس میں آتے ہیں تو اسلام اور رسول کی تعریف میں زمین آسمان ایک کردیتے ہیں لیکن جب یہ آپ کی مجلس سے اٹھ کر جاتے ہیں تو ان کی تمام تر بھاگ دوڑ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہوتی ہے۔ فرمایا کہ بناوٹی اور لچھے دار باتیں۔ ان منافقوں کا روزمرہ کا کھیل ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو کردار کی عظمت اور بلندیوں سے محروم اور اندر سے کھوکھلے ہیں۔ ان کے سینوں میں نہ ضمیر ہے ، نہ ایمان ، نہ اسلام آپ ان کی باتوں میں نہ آئیں کیونکہ یہ باتیں محض آپ کا دل جیتنے کے لئے کرتے ہیں لیکن شاید انہیں معلوم نہیں کہ آج یہ خوب بناوٹی باتیں کرلیں لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب جھوٹے اور سچے، کھرے اور کھوٹے میں فرق و امتیاز کردیا جائے گا اور ان کے چہروں سے یہ جھوٹے نقاب نوچ کر پھینک دئیے جائیں گے اور یہ بےنقاب ہو کر ساری دنیا کے سامنے آجائیں گے۔
فرمایا کہ بات بات پر اللہ کو گواہ بنا کر قسمیں کھانے سے بھی آپ ان کے فریب میں نہ آئیں جسے اپنے عمل پر اعتماد نہیں ہوتا وہی جھوٹی قسموں کا سہارا لیا کرتا ہیں۔ یہ نفسیاتی بیمار ہیں لہٰذا ان کی کسی بات کا اعتبار نہیں ہے۔ اعتبار ان لوگوں کا ہے جو اللہ کی رضا و خوشنودی اور رسول کی اطاعت کے لئے اپنا سب کچھ قربان کردیتے ہیں اور تن من دھن سے ہر وقت اسلام کے لئے جہاد کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ فرمایا کہ جو جانباز، مجاہد اور وفا دار ہیں ان کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا و خوشنودی اور رسول کی پیروی ہے وہی اللہ تعالیٰ کی تمام رحمتوں کے مستحق ہیں وہ اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ اگر ان سے کچھ بھول چوک ہوجاتی ہے تو وہ ان کی لغزشوں کو معاف کرد یتا ہے اور ان کی توبہ قبول کرتا ہے۔
Ayahs 2:208–210لغات القرآن : آیت نمبر 208 تا 210
السلم (سلامتی ) ۔ کافۃ (پوری طرح۔ پورے پورے) ۔ زللتم (تم بھٹک گئے) ۔ ظلل (سائے (ظل، سایہ) ۔ قضی (فیصلہ کردیا) ۔ الامر (کام، حکم ) ۔ ترجع (لوٹائے جائیں گے) ۔ الامور (تمام کام (الامر، کام) ۔
تشریح : آیت نمبر 208 تا 210
دین اسلام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک مکمل نظام زندگی ہے اور دنیا کے تمام نظاموں اور ازموں میں ایک امتیازی شان رکھتا ہے۔
قرآن کریم کے ابدی اصولوں اور نبی کریم ﷺ کی سنتوں اور ارشادات نے زندگی کے ہر شعبہ میں کامل رہنمائی فرمائی ہے۔ عقائد، عبادات ، معاملات، معاشرت ، معیشت ، حکومت ، سیاست ، تجارت، زراعت ، صنعت و حرفت غرض یہ کہ زندگی کے ایک ایک پہلو میں مکمل رہنمائی فرمائی ہے۔
جب اسلام ایک مکمل دین اور زندگی کا مکمل نظام ہے تو اسلام اپنی امتیازی شان کی وجہ سے اپنے ماننے والوں کو ان تمام طریقوں کو چھوڑ دینے کی تاکید کرتا ہے جس سے کسی بھی طرح دوسری قوموں کی مشابہت پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔
مثلاً عبادات میں یہ امتیاز ہے کہ سورج نکلنے ڈوبنے اور استویٰ کے وقت (زوال کے وقت) دوسری قومیں سورج کو سجدہ کرتی ہیں اس لئے فرمایا کہ تم ان اوقات میں سجدہ نہ کرو۔ یہودی دس محرم کو روزہ رکھ کر خوشی مناتے تھے آپ نے فرمایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مصر سے خروج کی خوشی میں تم بھی دس محرم کو روزے رکھو۔ یہودی عید کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں روزہ رکھنا حرام ہے۔
اسی طرح معاملات میں دوسری قومیں، حلال و حرام ، جائز و ناجائز کی پرواہ نہیں کرتیں مگر مسلمانوں کو فرمایا گیا کہ تم اپنی ایک ایک بات پر نظر رکھو کہ وہ رزق حلال ہو رزق حرام نہ ہو ورنہ تمہاری زندگی کی برکتیں اٹھالی جائیں گی بہرحال زندگی کا کوئی شعبہ ہو اس میں اس امتیاز کو قائم رکھنے کی تاکید ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی اس کا انجام بھی ان ہی لوگوں کے ساتھ ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اسلام اپنی عبادات ، معاملات اور زندگی کے ہر انداز میں یہ چاہتا ہے کہ جو شخص بھی اسلام قبول کرتا ہے تو وہ پورے طور سے اس کو قبول کرے اسی میں اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوتی ہیں۔
حضرت عبد اللہ ابن سلام ؓ اسلام قبول کرنے سے پہلے یہودیوں کے ایک بڑے عالم تھے، انہوں نے اور چند صحابہ کرام ؓ نے یہ چاہا کہ اگر ہم شریعت موسویہ پر عمل کرتے ہوئے ہفتہ کے دن کی تعظیم اور اونٹ کے گوشت کو حرام سمجھتے رہیں تو اس کیا حرج ہے۔ اس پر تین آیتیں نازل ہوئیں کہ اے مومنو تم نے جب اسلام کا دامن تھام لیا ہے تو اب اس میں پورے پورے داخل ہوجاؤ سابقہ شریعتوں کی طرف نہ دیکھو ورنہ اس سے تو فتنوں کا دروازہ کھل جائے گا ۔
Ayahs 2:211–212لغات القرآن : آیت نمبر 211 تا 212
سل (پوچھئے، سوال کیجئے) ۔ کم اتینا (کتنی ہم نے دیں) ۔ زین (خوبصورت بنا دیا گیا) ۔ یسخرون ( وہ مذاق اڑاتے ہیں (وہ مذاق کرتے ہیں) ۔ یرزق (وہ روزی دیتا ہے) ۔ بغیر حساب (حساب) ۔
تشریح : آیت نمبر 211 تا 212
بنی اسرائیل وہ قوم ہے جس کو کتاب و نبوت کی روشنی دے کر دنیا کی رہنمائی کے ایک بڑے مقام پر کھڑا کیا گیا تھا ان پر اللہ تعالیٰ نے ہزاروں انعامات کئے تھے مگر انہوں نے ناشکری کے راستے پر چل کر اپنے آپ کو اللہ کی رحمتوں سے محروم کرلیا تھا اور انہوں نے اللہ کے غضب کو دعوت دی تھی۔ فرمایا جارہا ہے کہ اے مسلمانو ! آج تمہیں جس عظیم منصب پر فائز کیا جا رہا ہے تمہیں اس بات کو یاد رکھنا چاہئے اور بنی اسرائیل سے پوچھنا چاہئے کہ وہ کون سے انعامات تھے جو اللہ نے ان پر نہیں کئے تھے ؟ مگر انہوں نے ہمیشہ اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنے کے بجائے ان کو اپنی محنتوں کا ثمر قرار دیا ۔ فرمایا گیا ہے کہ اے مومنو ! اللہ کو کسی قوم کی بھی نافرمانی پسند نہیں ہے اس کا قانون ایک ہی ہے اس میں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہے کہ بد عمل قوم کو اللہ برباد کردیتا ہے اور اچھے اعمال اور بہتر کردار کے مالک لوگوں کو پروان چڑھاتا ہے۔
ارشاد فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو عظمتیں دی تھیں تا کہ وہ نیکیوں پر قائم رہیں لیکن اب ان کا یہ عالم ہے کہ خود تو نیکی سے محروم ہیں جو لوگ نیک اور پرہیز گار ہیں ان کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے ایثار کو حماقت قرار دیتے ہیں فرمایا گیا کہ وہ لوگ جو تقویٰ اختیار کرنے و الے ہیں وہ بیشک اپنے ایثار و قربانی کی وجہ سے آج تنگ دست اور غریب ہیں لیکن قیامت کے دن یہ سر بلند ہوں گے اور جہاں تک غربت و تنگ حالی کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کا یہ نظام ہے کہ وہ جب بھی چاہتا ہے اپنے نیک اور متقی بندوں پر اپنی رحمتوں کے دروازوں کو کھول دیتا ہے۔ مشکلات، مصائب اور پریشانیاں بھی ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
Ayah 2:213لغات القرآن : آیت نمبر 213
کان الناس (لوگ تھے) ۔ امۃ واحدۃ (ایک جماعت) ۔ بعث (بھیجا) ۔ مبشرین (خوش خبری دینے والے (اچھے کاموں پر خوش خبری دینے والے) ۔ منذرین (ڈرانے والے (برے کاموں کے انجام سے ڈرانے والے) ۔ لیحکم (تا کہ وہ فیصلہ کر دے) ۔
تشریح : آیت نمبر 213
حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب حضرت آدم و حوا نے اس زمین پر قدم رکھا تھا اللہ نے آپ کی اولاد میں برکت عطا فرمائی اور وہ پھیلتے چلے گئے حضرت ادریس (علیہ السلام) تک جو تقریباً ایک ہزار سال کا عرصہ ہوتا ہے اس میں تمام لوگ ایک ہی شریعت کے پیروکار اور اللہ کی بھیجی ہوئی تعلیمات پر عمل کرتے رہے ان میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان نے ابتداء شر ک سے نہیں بلکہ توحید سے کی تھی مگر پھر بعد میں مزاجوں اور رائے کے اختلاف سے مختلف عقائد و نظریات پیدا ہوتے گئے، جن میں حق و باطل کا امتیاز کرنا مشکل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حق و باطل کو واضح کرنے کے لئے مختلف ملکوں اور مختلف زمانوں میں اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا تا کہ وہ اللہ کی سچی تعلیمات کے ذریعہ امت کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچا سکیں اور امت سچی اور نجات کی راہ حاصل کرسکے، جو لوگ بغض و حسد اور عناد و سرکشی میں پھنس گئے تھے انہوں نے اپنی دنیا اور آخرت برباد کر ڈالی اور جنہوں نے انبیاء کا راستہ اختیار کیا وہ دنیا و آخرت کی سعادت سے ہم کنار ہوگئے۔
ان آیتوں میں درحقیقت مسلمانوں کو اس ذمہ داری کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جو آخری امت ہونے کی وجہ سے ان کے کاندھوں پر آپڑی ہے فرمایا کہ اب تمہارے اندر اللہ کے آخری نبی ﷺ اور آخری کتاب آچکی ہے جو سراسر ہدایت ہی ہدایت ہے اب اگر تم نے بھی اور امتوں کی طرح باہمی اختلافات اور فرقہ بندیوں کو ہوا دی تو تمہارا انجام بھی گزری ہوئی قوموں سے مختلف نہ ہوگا۔ لیکن اگر تم نے نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی لائی ہوئی تعلیمات پر پوری طرح عمل کیا تو یقیناً دنیا و آخرت کی تمام کامیابیاں اور سعادتیں تمہیں عطا کی جائیں گی۔
Ayah 2:214لغات القرآن : آیت نمبر 214
ام حسبتم (کیا تم گما ن کر بیٹھے ) ۔ ان تدخلوا (یہ کہ تم داخل ہوجاؤ گے) ۔ لما یا تکم (نہیں آئیں تمہارے پاس) ۔ خلوا (جو گذر گئے ) ۔ مستھم (ان کو پہنچیں۔ (ان کو چھوا) ۔ زلزلوا (ہلا دئیے گئے، ہلا ڈالا گیا) ۔ متی نصر اللہ (اللہ کی مدد کب آئے گی) ۔
تشریح : آیت نمبر 214
امت محمدیہ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ فرما کر یہ بتایا جا رہا ہے کہ اے مومنو ! منافقین اور کفار کی مخالفت، ایذارسانیوں اور مذاق اڑانے سے تم گھبرا مت جانا۔ ابھی تو راہ عشق میں تمہاری ابتداء ہے آگے اس سے کہیں زیادہ مشکل اور کٹھن مقامات آنے والے ہیں جن حالات سے تمہیں گزرنا ہے اور یہ بات رکھو کہ اس دنیا میں جو بھی حق وصداقت کے علم بردرا ہوتے ہیں انہیں ان حالات سے گزر کر ہی جنت کی ابدی راحتوں تک پہنچنا ہوتا ہے۔ تم سے پہلے بھی جن لوگوں نے اس راہ میں قدم رکھا ہے ان کو شدید حالات اور مصائب سے واسطہ پڑا ہے۔ وہ آزمائشوں ، بیماریوں اور تکلیفوں میں اس طرح مبتلا کئے گئے کہ ایمان و یقین کے پیکر رسول اور اس کے ماننے والے بھی چلا اٹھے کہ اے اللہ اب حالات سے مقابلہ کرنا ہمارے بس میں نہیں رہا۔ تب اللہ تعالیٰ نے ان کے صبر و برداشت پر اپنی نصرت و مدد کا وعدہ پورا کیا اور وہ کامیاب و بامراد ہوئے۔
امت سے فرمایا گیا کہ آج جو مشکل حالات تمہارے سامنے ہیں وہ بہت جلد ٹل جائیں گے ہماری مدد تمہارے قدم چومے گی کیونکہ ہماری مدد کے مستحق وہی لوگ ہوتے ہیں جو مشکلات میں بھی حق وصداقت کی راہ کو نہیں چھوڑتے۔
Ayah 2:215لغات القرآن : آیت نمبر 215
ماذا (کیا) ۔ ینفقون (وہ خرچ کریں گے) ۔ ما تفعلوا (جو کچھ تم کرتے ہو) ۔ من خیر (بھلائی (کے جذبے) سے) ۔
تشریح : آیت نمبر 215
اس آیت میں یہ ارشاد کیا گیا ہے کہ انسان جو بھی نیکی یا بھلائی کا کام کرتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں جاتا، نہ وہ اللہ کے علم سے باہر ہے نہ وہ کسی چیز کو فراموش کرتا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ عظیم اجر ہے جو دس درجوں سے لے کر سات سو درجوں تک ہوتا ہے۔
مکہ مکرمہ کے مشرکین نے بےبس مسلمانوں پر جو ظلم ڈھا رکھے تھے ان کا سلسلہ مدینہ منورہ جا کر بھی ختم نہیں ہوا لہٰذا جہاد فرض ہونے کے بعد ان کی پوری توجہ مکہ کو مشرکین کے قبضہ سے آزاد کرانا تھا اس لئے مسلمانوں کی پوری پوری توجہ اس طرف تھی۔ اس توجہ کی وجہ سے والدین، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے حقوق متاثر ہونے لگے تھے اس لئے یہ سوال کیا گیا ۔ جواب میں فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں اور جدو جہد کرنے میں اعتدال و تو از کو قائم رکھو کہ جس طرح تم اللہ کی راہوں میں جدو جہد کرتے ہو وہ ضرور کرو لیکن اس کا خیال رہے کہ والدین ، رشتہ داروں ، کمزوروں ، بےبسوں اور مسکینوں کے حقوق بھی متاثر نہ ہونے پائیں جو تمہاری امداد اور تعاون کے مستحق ہیں۔
Ayah 2:216لغات القرآن : آیت نمبر 216
القتال (جہاد، جنگ) ۔ کرہ (ناگوار، ناپسندیدہ ) ۔ ان تکرھو (یہ کہ تم برا سمجھو) ۔ خیر (بہتر) ۔ ان تحبوا (یہ کہ تم پسند کرتے ہو) ۔ شر (برا) ۔ یعلم (وہ جانتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 216
انسانی فطرت اور مزاج کا یہ عجب پہلو ہے کہ جو چیزیں اسے انتہائی پسندیدہ اور مرغوب ہیں وہی اس کو پست کرنے والی ہیں اور جو چیزیں انسان کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچانے والی ہیں وہ عموماً اس کے نفس پر بڑی بھاری اور شاق ہیں۔ انسان اکثر ان چیزوں کو جو اس کی بھلائی اور بہتری کے لئے ہیں ان سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے لیکن چونکہ انبیاء ورسل کے ذریعہ اللہ نے انسانی بھلائی اور بہتری کا ذمہ لیا ہوا ہے اس لئے اس کو انجام کے اعتبار سے زندگی کی اونچ نیچ سے واقف کرایا جاتا ہے۔ جس کو وہ خود نہیں جانتا بلکہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے۔
جنگ و جہاد کے ظاہری پہلوؤں کو اگر بغور دیکھاجائے تو وہ بری ہولناک چیز ہے لیکن زندہ قومیں ہمیشہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ جانتی ہیں۔ انہیں موت کو محبوب اور خوشگوار بنانا پڑتا ہے تب ہی اس قوم کی شیرازہ بندی ہوا کرتی ہے اور اسی میں دونوں عالموں کی بھلائی پوشیدہ ہوا کرتی ہے۔ فرمایا گیا کہ ہم نے تمہارے اوپر جہاد فی سبیل اللہ کو فرض کردیا ہے اگرچہ وہ ایک بھاری اور ہولناک چیز ہے اور تمہارے نفسوں پر شاق ہے لیکن ظاہر و باطن اور ماضی اور مستقل کا جاننے والا جانتا ہے کہ کیا چیز تمہارے لئے بہتر ہے اور کیا چیز تمہارے لئے نقصان پہنچانے والی ہے۔
Ayahs 2:217–218لغات القرآن : آیت نمبر 217 تا 218
کبیر (بڑا۔ گناہ) ۔ اخراج (نکالنا) ۔ اھلہ (اس کے رہنے والے ) ۔ اکبر زیادہ بڑا (بہت بڑا گناہ ہے ) ۔ لا یزالون (ہمیشہ) ۔ ان استطاعوا (اگر ان میں طاقت ہو) ۔ یرتدد (جو پلٹ گیا (مرتد ہوگیا ) ۔ یمت (وہ مرجاتا ہے ) ۔ حبطت (ضائع ہوگئی (ضائع ہوگئے ) ۔ ھاجروا (ہجرت کی ) ۔ جاھدوا (انہوں نے جہاد کیا) ۔ یرجون (امید رکھتے ہیں ) ۔
تشریح : آیت نمبر 217 تا 218
ان آیات کی تشریح یہ ہے کہ :
رجب ، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ان چار مہینوں کو عرب والے (اشھر الحرم) عزت و حرمت والے مہینے کہا کرتے تھے۔ ان چاروں مہینوں کے بارے میں زمانہ جہالت ہی سے عربوں کی روایات اس قدر سخت تھیں کہ ان مہینوں میں جنگ کرنے کو بہت بڑا گناہ سمجھتے تھے چونکہ اس طرح کے معاملات میں انسان بڑا جذباتی ہوجاتا ہے اس لئے باربار یہ سوال ذہنوں میں گونج رہا تھا کہ ان مہینوں میں اگر جنگ سے واسطہ پڑجائے تو کیا جنگ کی جائے یا کفار کی زیادتیوں اور جنگی اقدامات کے باوجود ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا جائے۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک سیدھا سا دھا اصول مقرر فرمادیا کہ اسلام امن و عافیت کا دین ہے اس کا مزاج ہی بےجنگ و جدل کے خلاف ہے لیکن اگر کفار خود ہی ان مہینوں کا احترام نہیں کرتے اور بیت اللہ کی حرمت کا بھی ان کو خیال نہیں ہے تو تمہیں کیا پڑی ہے کہ تم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤ۔ اگر وہ احترام کرتے ہیں تو تم ان سے زیادہ احترام کرو۔ اگر وہ بیت اللہ کی عظمت و حرمت کا خیال کرتے ہیں تو تم اس گھر کی حرمت کے زیادہ بہتر پاسبان ہو لیکن اگر وہ جنگ کرتے ہیں تو تم بھی ان سے جنگ کرو۔ کیونکہ یہ اللہ کے بھی مجرم ہیں اور تمہارے بھی۔ یہ بےضمیر کفار لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں، اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کو مسجد حرام کی زیارت اور حج وعمرہ سے روکتے ہیں اور محض اس وجہ سے تمہیں مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا کہ تم اس گھر کے مالک کا نام لیتے ہو جسے بیت اللہ کہتے ہیں۔ یہ جرائم تو اتنے بڑے ہیں کہ ان کے مقابلہ میں ان سے جہاد و قتال کرنا بہت معمولی بات لہٰذا اے مومنو ! تم دین اسلام پر پوری طرح قائم رہو اور دین اسلام سے منہ نہ پھیرو ورنہ ابدی جہنم سے تمہیں کوئی بچا نہ سکے گا۔
بیشک وہ لوگ جو ایمان لاتے اور اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے ہجرت اور جہاد کرتے ہیں وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت کے مستحق ہیں۔
Ayah 2:219لغات القرآن : آیت نمبر 219
الخمر (شراب، ہر وہ چیز جو عقل کو ڈھانپ لیتی ہے) ۔ المیسر (جوا) ۔ اثم کبیر (بڑا گناہ) ۔ منافع (نفع ہے) ۔ العفو ( اپنی بنیادی ضروریات سے زائد چیز ) ۔
تشریح : آیت نمبر 219
شراب اور جو ایہ ایسی بری عادتیں ہیں کہ جن کو ایک دم چھوڑ دینا عام حالات میں عام انسانوں کے بس میں نہیں ہوتا اس لئے شراب اور جوئے کو حرام قرار دینے کے لئے بتدریج احکامات نازل کئے گئے تا کہ وہ شراب جو عرب کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی اور اس کے بےانتہا نقصانات تھے اس سے ان کی جان چھوٹ جائے۔ سورة بقرہ کی اس آیت میں شراب کو حرام قرار نہیں دیا گیا ہے بلکہ اس کے نفع ونقصان کے پہلوؤں کو واضح کیا گیا ہے جس میں مسلمانوں کو بتا دیا گیا کہ بیشک اس میں تجارت وغیرہ کے ذریعہ یا شراب پینے کے بعد سرور و مستی کا آجانا بظاہر ایک نفع معلوم ہوتا ہے لیکن شراب اور جوئے میں آخرت کا زبردست نقصان ہے۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بہت سے صحابہ کرام ؓ نے شراب اور جوئے کو چھوڑ دیا کہ جس میں ہماری آخرت برباد ہوتی ہے ایسا کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بعد سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی لا تقربوا الصلوٰۃ وانتم سکری یعنی اس وقت تک نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک تمہارا نشہ باقی رہتا ہے۔ اس آیت کے بعد اور بہت سے صحابہ نے شراب سے توبہ کرلی اور انہوں نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا کہ اس میں عبادت اور آخرت کا زبردست نقصان ہے اور جو چیز اللہ کی عبادت و بندگی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی وہ چیز یقیناً اللہ کو سخت ناپسند ہے لہٰذا ایسی چیز کو چھوڑ دینا ہی زیادہ بہتر ہے۔ یہ دو ابتدائی آیتیں تھیں مگر اب ایک ایسے حکم کی ضرورت تھی جس سے ہر شخص کو یہ بات بتا دی جائے کہ شراب ایک بدترین برائی اور شیطان کی گندگیوں میں سے ایک گندگی ہے چناچہ سورة مائدہ کی دو آیتیں نازل ہوئی جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اے مومنو ! شراب ، جواء بت اور جوئے کے تیر یہ شیطانی گندگی اور شیطانی کام ہیں تم ان سے بالکل الگ رہو تا کہ فلاح و کامیابی حاصل کرسکو۔ شیطان یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے آپس میں بغض و حسد اور دشمنی کو پیدا کر دے اور اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کر دے کیا اب بھی تم باز نہ آؤ گے۔
سورة مائدہ کی ان آیتوں کے نازل ہوتے ہی فرماں بردار صحابہ کرام ؓ نے اپنے اپنے گھروں میں رکھی ہوئی شراب کو گھروں سے باہر پھینک دیا حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ نے ایک صحابی کو اس آیت کے اعلان کے لئے فرمایا اور انہوں نے اعلان کیا کہ اے مومنو ! اللہ نے شراب کو حرام قرار دے دیا ہے تو جس کے ہاتھ میں جو برتن تھا اس نے اسے وہیں پھینک دیا، جس کے پاس شراب کے مٹکے تھے اس نے ان کے گھر کے سامنے پٹخ دیا۔ حضرت انس ؓ ایک مجلس میں حضرت ابو طلحہ حضرت عبیدۃ ابن الجراح حضرت ابی ابن کعب اور حضرت سہیل کو شراب کے جام بھر بھر کر دے رہے تھے منادی کی آواز کان میں پڑتے ہی سب سے کہا کہ شراب گرادو اور اس کے جام وسبو توڑ دو ۔ بعض روایات میں ہے کہ جس کے ہاتھ میں شراب کا جام تھا اس نے ہونٹوں تک بھی اس کو جانے نہیں دیا وہیں اس کو پھینک دیا۔ مدینہ میں شراب اس دن اس طرح بہہ رہی تھی جس طرح بارش کا پانی بہتا ہے اور مدینہ کی گلیوں میں عرصہ دراز تک یہ حالت رہی کہ جب بارش ہوتی تو شراب کی بو اور رنگ مٹی پر ابھر آتا تھا۔
اس طرح وہ عرب جن کی گھٹی میں شراب پڑی ہوئی تھی اسلام کی برکت سے اس ام الخبائث (یعنی برائیوں کی جڑ ) سے نجات حاصل کردی۔
ان واضح آیات اور صحابہ کرام کے طرز عمل کے بعد بھی اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ شراب کو حرام کہاں کیا گیا ہے تو اس کی عقل پر صرف ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان آیات میں دوسرا مسئلہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ کیا گیا ہے کہ کیا اور کتنا خرچ کریں ؟ جواب یہ دیا گیا کہ اپنی اور اپنے بچوں کی انتہائی ضرورتوں سے جو بھی بچ جائے اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیا جائے۔ کیونکہ اگر ملت کی حفاظت اور مدافعت کے لئے ضرورتوں سے جو بھی بچ جائے اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیا جائے۔ کیونکہ اگر ملت کی حفاظت اور مدافعت کے لئے ضرورت پڑجائے تو اپنی ناگزیر ضروریات سے جو کچھ بھی بچا سکتے ہو بچا کر اس کو جہاد پر قربان کردیا جائے ۔ وجہ یہ ہے کہ قومی زندگی میں کبھی کبھی ایسے حالات اور واقعات بھی سامنے آتے ہیں جب سب کچھ قربان کرنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مزاج کی طرف مائل کرتے ہوئے فرمایا ہے ۔ اپنی انتہائی ضروری حاجات کے علاوہ جو کچھ بھی میسر ہو وہ خرچ کیا جائے۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ابتدا میں جب زکوٰۃ کے احکامات نہیں آئے تھے اس وقت یہی حکم تھا کہ اپنی ضروریات سے زائد جو کچھ بھی ہو وہ سب کا سب اللہ کی راہ میں دے دیا جائے۔ بعد میں نبی کریم ﷺ کے ارشاد کی روشنی میں ہر صاحب نصاب کو ڈھائی فیصد زکوٰۃ نکالنا ضروری قرار دیا گیا۔
Ayah 2:220لغات القرآن : آیت نمبر 220
یبین (بیان کرتا ہے ، واضح کرتا ہے) ۔ تتفکرون (تم غور و فکر کرو گے) ۔ اصلاح (درست کرنا ، بہتر کرنا) ۔ تخالطو (تم ملا لو) ۔ اخوانکم (تمہارے بھائے بند (اخوان، اخ، بھائی) ۔ المفسد (فساد کرنے والا، بگاڑ پیدا کرنے والا) ۔ اعنت (مشکل میں ڈال دیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 220
اس سوال کا پس منظر یہ ہے کہ ۔ عرب میں عام طو ر پر یتیموں کے حقوق کی ادائیگی میں بڑی کوتاہیاں کی جاتی تھیں۔ فرمایا گیا کہ جو لوگ یتیموں کا مال کھا جاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں جہنم کے انگارے بھرتے ہیں۔ اس حکم کے آتے ہی صحابہ کرام ؓ انتہائی محتاط ہوگئے اور انہوں نے یتیموں کا کھانا بالکل الگ تھلگ کردیا جس سے یتیموں کا بھی نقصان ہونے لگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ یتیموں کا مال نہ کھانے سے مراد یہ ہے کہ ان کی مصلحت کو ضائع نہ کیا جائے اگر خرچ ملا لینے میں یتیموں کا فائدہ ہے تو ان کی مصلحت کی رعایت کرنا خرچ علیحدہ رکھنے سے بہتر ہے۔ اگر تم ان کے خرچ کو شریک رکھو تو کوئی ڈر کی بات نہیں ہے آخر وہ تمہارے ہی تو بھائی بند ہیں۔
بلا علم و ارادہ اگر کوئی معمولی سی کمی یا لغزش ہوجائے تو چونکہ اللہ تعالیٰ کو تمام انسانوں کی نیت کا اچھی طرح علم ہے اس لئے اس پر کوئی گرفت نہیں ہوگی۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو اس معاملہ میں کوئی سخت قانون مقرر فرما دیتے۔ مگر اللہ تعالیٰ سب انونوں کی بنیادی کمزوریوں سے واقف ہیں اس لئے مشقت میں ڈالے بغیر یہ قانون مقرر فرما دیا کہ اصل چیز یتیم کے مال کی حفاظت اور نگہبانی ہے اور اس کی مصلحت اور فائدوں کی رعایت ہے اس لئے اگر بلا علم و ارادہ کوئی کوتاہی یا کمی ہوجائے جس سے یتیم کے حق پر ضرب نہ پڑتی ہو تو اس کوئی حرج نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والا ہے۔
Ayah 2:221لغات القرآن : آیت نمبر 221
لا تنکحوا (تم نکاح نہ کرو) ۔ المشرکت (مشرک عورتیں) ۔ حتی یؤمن (جب تک وہ ایمان نہ لائیں) ۔ امۃ مؤ منۃ (مومن لونڈی (غلام عورت) ۔ اعجبت (پسند ہو) ۔ عبد مؤمن (مومن غلام) ۔ یدعون (وہ بلاتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 221
زندگی کے بنیادی معاملات میں انسان کو بہت سنجیدگی سے سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا چاہئے کیونکہ جو لوگ زندگی کے معاملات میں بےسوچے سمجھے جذباتی انداز سے قدم اٹھا لیتے ہیں پھر وہ زندگی بھر پچھتاتے ہیں۔
خاص طور سے شادی بیاہ جیسے معاملات میں تو بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ یہ زندگی بھر کا ساتھ ہے اس میں غلط اور بےجوڑ ساتھی اکثر زندگی کو تلخ کردینے کا سبب بن جایا کرتا ہے۔ ایک شخص ظاہری حسن و خوبی سے متاثر ہو کر شادی کرلیا ہے لیکن کچھ ہی عرصہ کے بعد جب زندگی کا یہ جذباتی طوفان تھمنے لگتا ہے تو خاندان اور اولاد کے بڑے مسائل پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو کبھی کبھی خاندان کے مسائل میں بڑے بڑے الجھاؤ کا سبب بن جایا کرتے ہیں اسی لئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کو اپنے نکاح کے لئے دین دار اور صالح عورت کو تلاش کرنا چاہئے تا کہ خود اس کے لئے بھی وہ عورت دینی معاملات میں مدد گار ثابت ہو اور اس کی اولاد کو بھی دین دار ہونے کا موقع مل سکے۔
اس حدیث رسول ﷺ میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ جب بےدین عورت سے نکاح کو پسند نہیں کیا گیا تو کسی غیر مسلم عورت سے نکاح کو کیسے پسند کیا جاسکتا ہے ۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں جب آپ کو خبر پہنچی کہ عراق اور شام کے مسلمان کچھ اہل کتاب کی لڑکیوں سے شادیاں کر رہے ہیں تو آپ نے حکماً ایسی شادیوں کو روک دیا اور فرمایا کہ یہ شادیاں مسلم گھرانوں کے لئے بڑی خرابیوں کا سبب بن جائیں گی اور مصلحت کے بھی خلاف ہے۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت فاروق اعظم ؓ کی دور بین نگاہوں نے ان شادیوں کے پس منظر اور ان کے بھیانک نتائج کا اچھی طرح اندازہ کرلیا تھا کہ اس کا بالاخر نتیجہ کیا ہوگا۔
ان آیتوں میں بنی اسماعیل کے مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کے متعلق یہ وضاحت کی جا رہی ہے کہ ان عورتوں کو نہ تو اپنے نکاح میں لینا جائز ہے اور نہ اپنی لڑکیاں ان کے نکاح میں دینا جائز ہے۔
فرمایا کہ ایک مومن لونڈی ایک آزاد مشرک عورت سے لاکھ درجہ زیادہ بہتر ہے اگرچہ وہ مشرک عورت تمہیں کتنی ہی دلکش کیوں نہ لگتی ہو۔ اسی طرح ایک مومن غلام ایک آزاد مشرک مرد سے کہیں بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں کتنا ہی بھلا کیوں نہ لگتاہو۔
اس کی وجہ بتائی گئی ہے کہ ایمان اور عمل صالح ہی وہ بنیاد ہے جو تمہیں رشتے ، ناتے، ذات برادری سے ممتاز کرنے والی چیز ہے اس میں پسند اور ناپسند کا معیار نہ حسب نسب ہے اور نہ شکل و صورت بلکہ صرف اور صرف ایمان اور عمل صالح ہے۔
رشتے ناتے کے اثرات زندگی پر وقتی اور سطحی نہیں پڑتے بلکہ بڑے گہرے ہوتے ہیں ۔ اگر ایک شخص ان چیزوں میں عقائد ایمان اور عمل صالح کو کوئی اہمیت نہ دے صرف مال، حسن، خاندان یا مصلحت ہی کو سامنے رکھے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ہی خرچ پر اپنے گھر میں ایک ایسی مصبیت کو دعوت دے ڈالے جو صرف اس کے لئے نہیں بلکہ آئندہ نسلوں کے لئے بھی ایک وبال جان بن جائے۔
بنی اسرائیل کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ ان کے اندر بیشمار عقائد کی گمراہیاں ان عورتوں کے ذریعہ پھیلیں جو وہ دوسری بت پرست قوموں سے بیاہ کر لائے تھے۔ اسی طرح ہمارے مغل بادشاہوں نے ہندوراجاؤں کے ساتھ جو سیاسی مصلحتوں کی بناء پر شادیاں کی تھیں تو ان کی لڑکیوں کے ساتھ ساتھ ان کے عقائد، اوہام پرستی، رسمیں اور عبادت کے بھونڈے طریقے بھی ہمارے اندر گھس آئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ زندگی کے اس معاملہ میں قرآن ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ شادی بیاہ کے معاملات میں آدمی کو انتہائی سنجیدہ ہو کر وہ قدم اٹھانا چاہئے جو خود اس کے لئے اور آئندہ نسلوں کے لئے کسی بےدینی کا سبب نہ بن جائے۔
Ayahs 2:222–223لغات القرآن : آیت نمبر 222 تا 223
المحیض (حیض (عورتوں کے مخصوص ایام) ۔ اذی ( ناپاکی، گندگی، بیماری) ۔ اعتزلوا (تم علیحدہ رہو) ۔ لا تقربوا (تم قربت نہ کرو نزدیک نہ جاؤ) ۔ حتی یطھرن (جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں) ۔ فاتوھن (پھر تم آؤ ان کے پاس) ۔ التوابین (بہت توبہ کرنے والے) ۔ متطھرین (بہت پاک رہنے والے) ۔ نساء (عورتیں) ۔ حرث (کھیتی) ۔ انی شئتم (جس طرح تم چاہو) ۔ قدموا (تم آگے بھیجو) ۔ ملقوا (تم اس سے ملنے والے ہو) ۔ بشر (خوش خبری دے دیجئے) ۔
تشریح : آیت نمبر 222 تا 223
حج ، جہاد ، انفاق ، شراب ، جوا، یتیموں سے ہمدردی ، مشرک مردوں اور عورتوں سے نکاح کے مسائل کے بعد اب یہاں سے عورتوں کے حقوق اور ان سے متعلق بعض مسائل کا ذکر فرمایا جا رہا ہے ۔
ایام ماہواری سے اس مضمون کو اس لئے شروع کیا گیا ہے کہ اس کے اثرات، نکاح ثانی ، طلاق ، عدت وراثت اور دوسرے تمام خاندانی مسائل پر پڑتے ہیں۔
سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ ایام ماہواری میں عورتوں سے علیحدہ رہنے کا کیا حکم ہے ؟ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اے مومنو ! تم ان سے اس وقت تک ہم بستری نہ کرو جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں۔ جب وہ شرعی طور پر پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ اور قربت حاصل کرو۔ اس آیت میں صرف قربت و صحبت سے ممانعت کی گئی ہے لیکن پاس لیٹنے بیٹھنے سے منع نہیں کیا ہے کیونکہ عورت ان دنوں میں کوئی اچھوت نہیں ہوجاتی جس طرح ہندوؤں اور کچھ دوسری قوموں میں ان ایام میں عورت کو اچھوت بنا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ ان کا گمان یہ ہوتا ہے کہ اگر اس عورت کا سایہ کسی شخص یا چیز پر پڑجائے تو وہ شخص اور چیز ناپاک ہوجاتی ہے قرآن کا حکم صرف زن وشوہر کے مخصوص تعلقات قائم کرنے سے ہے یہ ایک شرعی ناپاکی ہے جب عورت اس ناپاکی سے پاک ہوجائے تو غسل کے بعد یا کم از کم ایک نماز کا وقت گزر جانے کے بعد زن و شوہر کے تعلقات قائم کر لئے جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔
تیسری بات یہ فرمائی گئی کہ ازدواجی یعنی گھریلو زندگی کا سا را سکون اور چین میاں بیوی کے اچھے تعلقات سے وابستہ ہے۔ ان کی تنہائیوں کی آزادیوں پر فطرت کی چند موٹی پابندیوں کے سوا کوئی پابندی یا نگرانی نہیں ہے۔ انسان جب اپنے اس عیش و سرور کے باغ میں داخل ہو تو اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ یہ اس کی اپنی کی کھیتی ہے کوئی جنگل یا ویرانہ نہیں ہے جس میں وہ جس شان کے ساتھ آنا چاہے سو بار آئے لیکن اس باغ کا باغ ہونا اور کھیتی کا کھیتی ہونا پیش نظر رہے۔
ہر کسان کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ اسے اپنی کھیتی سے برابر اچھی فصل ملتی رہے۔ مناسب وقت اس پر ہل چلتا رہے، کھاد اور پانی کی ضرورت ہو تو وہ دیا جائے۔ موسمی آفتوں سے وہ محفوظ رہے، درند، چرند، پرند، دشمن اور چور اس کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ جب وہ اس کو دیکھے تو اس کی طبیعت میں فرحت و شادابی پیدا ہوجائے ۔ جب وقت آئے تو وہ اپنے پھلوں اور پھولوں سے اپنا دامن بھرے۔ یہی مقصد ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عورتیں تمہاری کھیتی کی طرح ان میں جیسے آنا چاہو آؤ اور اس کی حفاظت و بقا کا سامان کرتے رہو۔ اللہ سے ڈرتے ہوئے عورتوں کے حقوق میں کمی نہ کرو کیونکہ ایک وقت آئے گا جب تمہیں اللہ کے سامنے حاضر ہو کر ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہوگا۔
Ayahs 2:224–225لغات القرآن : آیت نمبر 224 تا 225
لا تجعلوا (تم نہ بناؤ) ۔ عرضۃ (نشانہ، ہتھ کنڈا) ۔ ان تبروا (یہ کہ تم بھلائی نہ کرو (یہاں ان نفی کے لئے ہے ) ۔ تصلحوا (یہ کہ تم اصلاح نہ کراؤ (یہ اصل میں تن تصلحوا تھا) ۔ بین الناس (لوگوں کے درمیان ) ۔ لا یواخذ (نہیں پکڑتا ہے ) ۔ لغو (بیکار اور فضول) ۔ ایمان (قسمیں (یمین، قسم) ۔ کسبت (کمایا) ۔ حلیم (برداشت کرنے والا) ۔
تشریح : آیت نمبر 224 تا 225
نکاح اور طلاق وعدے کے مسائل سے پہلے قسموں کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے کہ کار خیر اور بھلے کام جیسے حسن سلوک ، تقویٰ اور لوگوں کے درمیان صلح صفائی یہ ایسے کام ہیں جن کو کرنا ہر مومن کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ان بھلے اور بہتر کاموں کو کرنے کے بجائے ایسے کام نہ کرنے کی قسمیں کھا لینا بری بات ہے اور اللہ کا نام استعمال کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے بھلے اور بہتر کام نہ کرنے کے لئے اللہ کے نام کو آڑ بنایا۔ یقیناً ایک مومن کو زیب نہیں دیتا ۔ کیونکہ اللہ کے نام کو تو ان چیزوں کے اختیار کرنے کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ایسی قسمیں توڑ دینے کا کفارہ دس آدمیوں کو کھانا کھلانا یا کپڑا پہنانا یا تین روزے رکھ کر ادا کرنا ہے۔
پھر فرمایا کہ وہ قسمیں جو بلا ارادہ یا بطور تکیہ کلام کے منہ سے نکل جاتی ہیں جن کا تعلق دل سے نہیں ہوتا ایسی قسموں پر مواخذہ تو نہیں ہے لیکن گناہ کی بات تو ضرور ہے ، البتہ وہ قسمیں جن میں دلی ارادہ اور عزم پایا جاتا ہے۔ اگر ایسی قسمیں کھا کر توڑ دی جائیں گی تو ان پر اللہ کی طرف سے ضرور مواخذہ ہوگا۔
بہرحال لغو قسمیں کھانا بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے عادی بن جانے پر گناہ تو ضرور ہوتا ہے۔
Ayahs 2:226–228لغات القرآن : آیت نمبر 226 تا 228
یؤلون (وہ قسم کھاتے ہیں) ۔ تربص (رکنا ہے، انتظار کرنا ہے) ۔ اربعۃ اشھر (چار مہینے) ۔ فاء و (باہم مل گئے، پلٹ گئے) ۔ عزموا (انہوں نے ارادہ کرلیا) ۔ المطلقت (طلاق والی عورتیں) ۔ یتربصن (انتظار کریں گی) ۔ ثلثہ (تین ) ۔ قروء (حیض) ۔ لا یحل (حلال نہیں ہے) ۔ ان یکتمن (یہ کہ وہ چھپائیں) ۔ خلق اللہ (اللہ نے پیدا کیا) ۔ ارحام (رحم ، عورتوں کے رحم) ۔ بعولۃ (شوہر) ۔ احق (زیادہ حقدار) ۔ بردھن (ان کو لوٹا لینے کے) ۔ ارادوا (انہوں نے ارادہ کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 226 تا 228
اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے زن و شوہر کے تعلقات نہ رکھنے کی قسم کھالے تو اس کو شریعت میں ایلاء کہتے ہیں اس طرح کی قسمیں چونکہ ازدواجی تعلقات کے خلاف اور بروتقویٰ کے منافی ہیں جس سے ایک عورت بالکل معلق ہو کر جاتی ہے ۔ اس وجہ سے اسلام نے اس طرح کی قسمیں کھانے والوں کے لئے چار مہینے کی مدت مقرر کی ہے ان چار مہینوں میں اگر شوہر اپنی بیوی سے ازدواجی تعلقات بحال کرلے اور اپنی قسم توڑ دے تو قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا مگر نکاح باقی رہے گا۔
(1) لیکن اگر ایک شخص چار مہینے تک اپنی قسم پر قائم رہتا ہے اور یہ عرصہ گزرجائے تو اس عورت پر طلاق بائن پڑجائے گی یعنی اب بغیر نکاح کے رجوع کرنا درست نہیں ہوگا۔ اس صورت میں اگر دونوں رضا مندی سے پھر نکاح کرلیں تو ان کو حلالہ کی ضرورت نہیں ہوگی۔
(2) ان آیتوں میں دوسرا حکم یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر طلاق ہوجائے تو اس عورت کو تین خون آنے تک عدت گزارنا اور صبر کرنا ہے۔ اس کے بعد اس کو کسی دوسرے سے نکاح کرنے کی اجازت ہے۔
(3) تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ عدت کے دوران جو بھی صورت حال ہے وہ ایک مومنہ عورت جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتی ہے اسے بیان کردینا چاہئے کہ اس کو حمل ہے یا نہیں کیونکہ اگر اس کو حمل ہوگا تو اس کی عدت تین خون تک نہیں بلکہ بچہ پیدا ہونے تک ہوگی ۔ اور نسب بھی ثابت ہوگا۔
(4) چوتھی بات یہ بتائی گئی ہے کہ اگر خاوند نے تیسری طلاق نہیں دی ہے اور وہ آپس میں اصلاح کی نیت سے اپنا گھر آباد کرنا چاہیں تو پہلاخاوند اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ وہ پھر سے نکاح کر کے اس کو اپنی بیوی کی حیثیت سے رکھ لے لیکن اگر عورت نہ چاہے تو اس پر زبردستی نہیں کی جاسکتی۔ باہمی رضا مندی ضروری ہے۔
(5) پانچویں اور آخری بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ دنیا کی بقا اور ترقی میں دو چیزوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہے عورت اور دولت (مال، زمین جائیداد ) جہاں یہ دونوں خیرو فلاح کا ذریعہ ہیں وہیں سارے فساد اور معاشرے کی تباہی کا ذریعہ بھی بن جایا کرتی ہیں۔ تمام فتنے اور خونریزیاں ان ہی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن یہ جب ہی ہوتا ہے جب ان کو اصل مقام اور موقف سے ذرا ادھر ادھر کردیا جائے۔ اسلام نے جو نظام زندگی عطا کیا ہے اس میں عورت اور دولت کو ان کے صحیح مقام پر رکھا ہے تا کہ ان کے ذریعہ سے تمام فوائد اور ثمرات حاصل ہو سکیں۔ جہاں بغیر جبروا کراہ کے دولت کی صحیح تقسیم کے عادلانہ اصول بیان کئے گئے ہیں وہیں عورتوں کے اور مردوں کے تمام حقوق اور ذمہ داریوں کو تفصیل سے ارشاد فرمایا گیا ہے بتایا گیا ہے کہ مردوں کو عورتوں پر ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔ ازروئے قرآن خاندان کا سربراہ اور سرپرست عورت کو نہیں بلکہ مرد کو بنایا گیا ہے جس طرح ایک ریاست کا نظم و انتظام کسی ایک سر براہ کا محتاج ہوتا ہے اسی طرح چھوٹے پیمانے پر ایک گھر کا نظام و انتظام کسی بہتر سربراہ کی سرکردگی میں صحیح چل سکتا ہے۔ مگر مردوں پر عورتوں کے تمام حقوق کو ادا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یوں کہنا چاہئے کہ اللہ نے عورت اور مرد کو درجوں میں تو برابر نہیں کیا لیکن تمام حقوق انسانی میں برابر ی کا درجہ عطا کیا ہے۔
Ayahs 2:229–231لغات القرآن : آیت نمبر 229 تا 231
مرتن (دو مرتبہ) ۔ امساک (روکنا) ۔ بمعروف (نیکی، بھلائی سے) ۔ تسریح (چھوڑ دینا ہے) ۔ ان یخافا (یہ کہ وہ دونوں ڈرتے ہیں) ۔ الا یقیما (یہ کہ وہ قائم نہ رکھ سکیں گے) ۔ حتی تنکح (جب تک نکاح نہ کرے) ۔ زوج (شوہر) ۔ غیرہ (اس شوہر کے سوا) ۔ ان یتراجعا (یہ کہ وہ دونوں رجوع کرلیں) ۔ ان ظنا (اگر وہ دونوں خیال رکھتے ہیں) ۔ بلغن (وہ عورتیں پہنچ جائیں) ۔ اجلھن (اپنی مدت کو (یعنی عدت پوری کرلیں) ۔ امسکوا (تم روک لو) ۔ سرحوا (تم چھوڑ دو ) ۔ لاتمسکوھن (نہ روکے رکھو ان عورتوں کو) ۔ ضرار (ایذا اور تکلیف) ۔ لتعتدوا (یہ کہ تم زیادتی کرو) ۔ لا تتخذوا ( تم نہ بناؤ ) ۔ ھزو (مذاق) ۔ یعظ (وہ نصیحت کرتا ہے) ۔
تشریح : آیت نمبر 229 تا 231
قرآن کریم میں کئی مقامات پر نکاح و طلاق کے مسائل بیان کئے گئے ہیں۔ ان آیتوں میں اہم بنیادی قائدے ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ اسلام میں نکاح مرد اور عورت کے اس معاہدے کو کہتے ہیں جو زندگی بھر کے نباہ کے ارادے کے ساتھ زن و شوہر کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے لئے کیا گیا ہو۔ یہ رشتہ اس قدر مضبوط اور مستحکم ہونا چاہئے جس کے ٹوٹنے یا ختم ہونے کی نوبت نہ آئے۔ لیکن اسلام نے دوسرے مذہبوں کی طرح یہ نہیں کیا کہ ایک دفعہ نکاح ہونے کے بعد اس کو توڑنا ممکن ہی نہ ہو بلکہ شدید ضرورت اور مجبوری کے وقت طلاق کے ذریعہ اس رشتہ کو توڑا جاسکتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حلال چیزوں میں اللہ کے نزدیک زیادہ قابل نفرت (اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی ) چیز طلاق ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ طلاق دینا تو حلال اور جائز ہے لیکن یہ اللہ کو سخت ناپسند ہے کیونکہ طلاق کے اثرات صرف زوجین کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے اثرات خاندان ، اولاد، بچوں کی تعلیم و تربیت اور معاشرے پر بری طرح اثر انداز ہوتے ہیں، کبھی کبھی تو قبیلوں اور خاندانوں میں فساد اور جھگڑوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ اس لئے جو چیزیں اس معاہدہ نکاح کو توڑنے والی ہیں ان کو راستے سے ہٹانے کی شریعت نے کوششیں کی ہیں ، تا کہ یہ رشتہ زیادہ سے زیادہ مستحکم ہوتا جائے اور ٹوٹنے کی نوبت نہ آئے اس کے لئے سب سے پہلے آپس میں افہام و تفہیم یعنی طلاق کے بعد کی تمام اونچ نیچ کو سمجھانا اور کچھ ایسے نفسیاتی طریقے اختیار کرنا جس سے عورت ، مرد آئندہ کے بھیانک نتائج پر غور کرسکیں اور اگر اس سے کام نہ چلے تو دوسرا درجہ قرآن کریم نے یہ بیان کیا ہے کہ ان کو تنبیہ کرنے اور اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لئے بستر الگ کرلیا اور اگر اس پر بھی بات نہ بنے تو کچھ سختی کرنا جس میں معمولی مارنے کی بھی اجازت ہے، لیکن اگر بات اس سے بھی آگے بڑھ جائے تو خاندان کے دو بزرگوں کے سامنے اس مسئلہ کو رکھا جائے جو لڑکی اور لڑکے والوں کی طرف سے ہوں۔ ان کوششوں کے باوجود کوئی نتیجہ نہ نکلے اور ایک دوسرے کے ساتھ رہنا مشکل ہوجائے تو پھر ازدواجی تعلقات کو ختم کردینا ہی دونوں کے حق میں بہتر ہے مردوں کے لئے حکم ہے کہ جب عورت ایام ماہواری میں ہو تو اس کو اس وقت تک طلاق نہ دی جائے جب تک وہ پاک نہ ہوجائے (لیکن اگر وہ اس حالت میں طلاق دے دے گا تو وہ واقع ہوجائے گی) ۔ اور اس پاکی کے زمانہ میں زن و شوہر کا تعلق قائم کئے بغیر صرف ایک طلاق دی جائے اور عدت گزرنے دی جائے۔ اگر اس عدت کے دوران مرد نے رجوع نہیں کیا تو عدت گزرتے ہی یہ ایک طلاق واقع ہوجائے گی اور یہ طلاق رشتہ زوجیت کو ختم کر دے گی اور عورت آزاد ہو کر کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے کی مختار ہوجائے گی۔ اس طریقہ سے فائدہ یہ ہے کہ طرفین میں باہمی صلح و صفائی کی راہیں کھلی رہیں گی۔ عدت ختم ہونے سے پہلے تو صرف رجوع کرلینا ہی کافی ہوگا۔ عدت ختم ہونے کے بعد اگرچہ نکاح ٹوٹ جائے گا اور عورت آزاد ہوجائے گی مگر پھر بھی یہ گنجائش باقی رہے گی کہ اگر دونوں باہمی رضا مندی سے مصالحت کرلیں اور نکاح چاہیں تو نکاح جدید اسی وقت ہو سکے گا۔ یہ ہے وہ طریقہ جو اسلام نے ہمیں بتایا ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو اس طریقہ میں سینکڑوں مصلحتیں پوشیدہ ہیں کیونکہ تمام معاشرتی زندگی کا دارو مدار نکاح کے پاکیزہ رشتے پر ہی ہے۔ اگر کسی وجہ سے اس کے ٹوٹنے کی نوبت آہی جائے تو اس پاکیزہ رشتے کو ایک ہی جھٹکے میں توڑ کر رکھ دینا شرافت نہیں ہے آخر یہ زندگی کا بڑا سنجیدہ مسئلہ ہے بچوں کا کھیل تو نہیں ہے کہ جب چاہا کھیل لئے اور جی بھر گیا تو کھلونوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ عورت کو کھیل کھلونا بنانے کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ اس کے حقوق کی ادائیگی اور اس کی فطری کمزوریوں کی وجہ سے اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنے کی خاص ہدایت کی گئی ہے
دوسرے جاہلیت میں مر د عورتوں پر طرح طرح کے ظلم کرتے تھے سب سے بڑا ظلم یہ تھا کہ وہ طلاق کے حق کو بڑے وحشیانہ انداز سے استعمال کرتے تھے، جب چاہتے عورت کو دو چار طلاقیں دے دیتے اور پھر عدت کے دوران اس سے رجوع کرلیتے۔ پھر اس کو تنگ کرتے اور لا محدود حد تک طلاقیں دئیے چلے جایا کرتے تھے اس طرح عورت کبھی اس کے پنجہ ظلم سے باہر نکل ہی نہیں سکتی تھی۔ اسلام نے جہاں عورتوں کو بےانتہا مساوی حقوق دئیے ہیں ان ہی میں سے طلاقوں کی تعداد کو تین تک محدود کر کے عورت ایک بہت بڑا احسان کیا ہے۔ ایک مرد نادانی سے ان تین حقوق کو ایک لفظ میں ادا کر کے بھی عورت کو اپنے اوپر حرام کرسکتا ہے لیکن وہ قرآن طریقہ جو ابھی میں نے نقل کیا ہے اس طریقہ پر عمل کر کے بھی اپنے حقوق کا استعمال کرسکتا ہے لیکن تین طلاقوں کے بعد ایک مرد کا عورت سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ ان آیات میں الطلاق مرتن فرمایا یعنی طلاق رجعی دو مرتبہ ہے ان دو طلاقوں میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ دو طلاقوں سے معاملہ بالکل ختم نہیں ہوجاتا۔ اگر عدت کے دوران اس سے رجوع کرلیا تو اس کی پوری طرح گنجائش باقی ہے لیکن عدت گزر جانے پر نکاح کا تعلق ختم ہوجائے گا اور وہ عورت عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے سے نکاح کرنے میں آزاد ہوجائے گی۔
ان آیتوں میں دو طلاقوں کا ذکر فرمایا گیا ہے ۔ تیسری طلاق اور اس کے احکامات کو بیان کرنے سے پہلے درمیان میں ایک نازل مسئلے کا ذکر کیا گیا ہے جو عموماً باہمی معاملات بگڑ جانے کے بعد پیش آیا کرتا ہے کہ ایک ظالم شوہر نہ بیوی کو رکھنا چاہتا ہے ، نہ اس کو اس کے بنیادی حقوق دینا چاہتا ہے بلکہ تنگ کر کے اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے وہ مال واپس لینا چاہتا ہے جو اس نے عورت کو دیا تھا۔ قرآن کریم نے صاف الفاظ میں بتا دیا کہ ایسی حرکت کرنا اور دے کرو اپس لینا حرام ہے۔ البتہ اگر عورت محسوس کرتی ہے کہ اب دونوں میں نباہ مشکل ہے اور اب وہ دونوں اللہ کی حدود وقیود کی پابندی نہ کرسکیں گے تو اگر عورت اپنا مال یا رقم فدیہ میں دے دے تا کہ ظالم شوہر سے اس کی جان چھوٹ جائے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے اس کو شریعت میں خلع کہتے ہیں اور یہ جائز ہے۔ اس کے علاوہ کسی صورت میں زبردستی مال ہتھیا لینے کی اجازت نہیں ہے۔
درمیان میں اس مسئلہ کو بتانے کے بعد اب پھر اسی مسئلہ طلاق کی طرف بات کو لایا گیا ہے کہ اگر دو طلاقیں دینے کے بعد پھر ایک طلاق دے دی تو ان نکاح کا معاہدہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گا۔ یہ وہ آخری حق تھا جو اس نے استعمال کرلیا ہے اب یہ عورت مرد پر حرام ہوگئی ہے۔ چونکہ اب مرد نے شریعت کی حدود کو پار کرلیا ہے اس لئے اب مرد کو بغیر حلالہ شرعی کے عورت کو واپس نکاح میں لانے کا کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔ یہ عورت آزاد ہے عدت گزارنے کے بعد پھر یہ عورت کسی اور مرد سے شادی کر کے رہے بسے، اگر اتفاق سے وہ دوسرا شوہر بھی اس کو طلاق دے دے یا مرجائے تو اس کی عدت گزارنے کے بعد یہ عورت پہلے والے شوہر سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے اس کو حلالہ شرعی کہتے ہیں۔
آخر میں یہ فرمایا جا رہا ہے کہ ہر حال میں اللہ کی حدود کا خیال رکھا جائے اللہ کے احکامات کو ہنسی کھیل نہ بنایا جائے اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں اور اس کتاب و حکمت کو یاد رکھا جائے جو اس نے انہیں عطا کی ہے کیونکہ جو قومیں اللہ کی نعمت اور شریعت کی قدر کرتی ہیں ان کو سر فرازیاں عطا کی جاتی ہیں لیکن جو لوگ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر نہیں کرتے انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز اور اس کی حکمتوں کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔