2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayah 2:232

وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْكِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ ذٰلِكَ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكُمْ اَزْكٰى لَكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:232 in the Quran reader

جب تم عورتوں کو طلاق دے دو ۔ پھر وہ اپنی عدت پوری کر چکیں ، تو تم ان کو اس بات سے نہ روکو کہ وہ اپنے (پسندیدہ) شوہروں سے نکاح کریں۔ جبکہ وہ آپس میں (دستور شرعی کے مطابق) رضامند ہوں یہ نصیحت ان لوگوں کے لئے ہے جو تم میں سے اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں۔ اسی میں تمہارے لئے زیادہ پاکیزگی اور شائستگی ہے۔ اس بات کو اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 232 لا تعضلوا (تم منع مت کرو) ۔ ان ینکحن (یہ کہ وہ نکاح کریں) ۔ تراضوا (آپس میں رضا مند ہوگئے) ۔ ازکی ( بہت پاکیزگی ہے) ۔ اطھر (زیادہ ستھرائی، صفائی ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 232 جو عورت طلاق پانے کے بعد اپنی عدت پوری کرچکی ہو وہ آزاد ہے۔ دستور اور شریعت کے مطابق وہ جہاں چاہے اپنی پسند اور مرضی سے شادی کرسکتی ہے۔ اس کے اس ارادے میں طلاق دینے والے شوہر یا اس کے خاندان والوں کو کسی طرح کی رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ عرب میں یہ جہالت عام تھی کہ عورت کو طلاق دینے اور عدت گزر جانے کے بعد بھی طرح طرح سے تنگ کیا جاتا تھا وہ اس بات کو اپنی توہین اور ذلت سمجھتے تھے کہ جو عورت ہمارے خاندان کی بہو بن کر رہ چکی ہے وہ ہم سے جدا ہو کر کسی دوسرے گھر میں کیوں جائے، اس کے لئے وہ طرح طرح کی سازشیں اور رکاوٹیں پیدا کرتے تھے۔ قرآن کریم میں اہل ایمان کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جب ایک عورت کو طلاق ہوچکی اور وہ اپنی عدت بھی مکمل کرچکی ہے اب اگر وہ شریعت کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کسی دوسرے نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس میں تم رکاوٹ نہ بنو بلکہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے کا تقاضا یہ ہے کہ تم اس عورت کے معاون و مدد گار بن جاؤ جو پاکیزہ زندگی گزارنے کی خواہش مند ہے۔ اسی میں معاشرہ کی پاکیزگی ہے۔
Ayah 2:233

وَ الْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَهُنَّ حَوْلَیْنِ كَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَةَ١ؕ وَ عَلَى الْمَوْلُوْدِ لَهٗ رِزْقُهُنَّ وَ كِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ لَا تُكَلَّفُ نَفْسٌ اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ لَا تُضَآرَّ وَالِدَةٌۢ بِوَلَدِهَا وَ لَا مَوْلُوْدٌ لَّهٗ بِوَلَدِهٖ١ۗ وَ عَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذٰلِكَ١ۚ فَاِنْ اَرَادَا فِصَالًا عَنْ تَرَاضٍ مِّنْهُمَا وَ تَشَاوُرٍ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا١ؕ وَ اِنْ اَرَدْتُّمْ اَنْ تَسْتَرْضِعُوْۤا اَوْلَادَكُمْ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِذَا سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَیْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:233 in the Quran reader

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔ جو باپ چاہتے ہیں کہ پوری مدت رضاعت تک بچے کو دودھ پلائیں۔ باپ پر ذمہ داری ہے کہ وہ ان عورتوں کے لئے دستور کے مطابق روٹی کپڑے کا انتظام کرے۔ مگر کسی پر اس کی گنجائش سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ نہ تو ماں کو اس لئے ستایا جائے کہ اس کا بچہ ہے اور نہ ہی باپ کو اس لئے پریشان کیا جائے کہ وہ اس کا بچہ ہے اور باپ نہ ہو تو وارث پر بھی یہی ذمہ داری ہے۔ پھر اگر ماں باپ دونوں باہمی رضا مندی اور مشورہ سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور اگر تم کسی اور سے بچے کو دودھ پلوانا چاہتے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے جب کہ تم قاعدے طریقے سے دودھ پلانے والی کو وہ ادا کرو جو تم نے اس کو دینا طے کیا تھا۔ اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 233 ولدات (مائیں) ۔ یرضعن (دودھ پلائیں) ۔ حولین (دو سال) ۔ کاملین (مکمل ) ان یتم (یہ کہ وہ پورا کرائے گا) ۔ الرضاعۃ (دودھ کی مدت) ۔ مولود لہ (پیدا کیا گیا جس کے لئے یعنی باپ) ۔ کسوتھن (ان عورتوں کا لباس ، پہناوا ) ۔ لا تکلف ذمہ داری نہیں ڈالی جاتی ) ۔ وسعھا (اس کی گنجائش) ۔ لا تضار (نقصان نہ پہنچایا جائے) ۔ فصالاً (جدائی، دودھ چھڑائی ) ۔ تراض (باہم رضا مندی) ۔ تشاور (باہمی مشورہ) ۔ لا جناح (گناہ نہیں ہے ) ۔ سلمتم ( تم نے سپرد کردیا) ۔ ما اتیتم (جو کہ تم نے دینا طے کیا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 233 طلاق ہوجانے کے بعد جہاں اور بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں اس میں اگر اولاد ہوجائے تو بچے کو دودھ پلوانے کا مسئلہ بہت اہم ہے اس لئے اس آیت میں ماں اور باپ دونوں کی ذمہ داریوں اور چند ضروری مسائل کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ (1) اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا بچہ مدت رضاعت کو پورا کرلے تو عورت کو دو سال تک دودھ پلانا چاہئے۔ (2) دودھ پلانے کے دوران بچے کے باپ پر عورت کا کھانا اور کپڑا دینا ہوگا اس مسئلے میں مرد کی حیثیت کے مطابق کھانا اور کپڑا وغیرہ کی ذمہ داری ہوگی۔ (3) ماں اور باپ دونوں میں سے کسی پر بھی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا ۔ نہ بچے کے بہانے ماں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جائے گی اور نہ بچے کی آڑ لے کر باپ پر ناجائز دباؤ ڈالا جائے۔ (4) اگر با پ یا بچے کے وارث بچے کی ماں کے بجائے کسی اور عورت سے بچے کو دودھ پلوانا چاہیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ جس کو دودھ پلانے کے لئے رکھا ہے اس سے معاوضہ دینے دلانے کا جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا پورا ادا کیا جائے۔ آخر میں فرمایا کہ تم اللہ سے ڈرتے رہو اور اس بات کا خیال رکھو کہ وہ اللہ تمہارے ایک ایک عمل کو اچھی طرح جانتا ہے اور دیکھ رہا ہے۔
Ayahs 2:234–235

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًا١ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 2:234 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور اپنے پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ عورتیں چار مہینے اور دس دن تک اپنے آپ کو روکے رکھیں، پھر جب وہ عدت پوری کر چکیں تو اپنے حق میں قاعدہ کے مطابق جو چاہیں فیصلہ کریں اس میں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے اور اللہ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے۔

وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِهٖ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَآءِ اَوْ اَكْنَنْتُمْ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ سَتَذْكُرُوْنَهُنَّ وَ لٰكِنْ لَّا تُوَاعِدُوْهُنَّ سِرًّا اِلَّاۤ اَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلًا مَّعْرُوْفًا١ؕ۬ وَ لَا تَعْزِمُوْا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتّٰى یَبْلُغَ الْكِتٰبُ اَجَلَهٗ١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوْهُ١ۚ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:235 in the Quran reader

اگر عدت کے دوران تم اشاروں اشاروں میں ان کا نکاح کا پیغام دے دو یا اس کو اپنے دل میں چھپائے رکھو تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ تمہارے دلوں میں ان کا خیال ضرور آئے گا ۔ لیکن تم چھپ چھپ کر ان سے وعدے نہ لینا۔ اگر بات کرنی ہے تو قاعدے طریقے سے ہونی چاہئے ۔ اور جب تک عدت پوری نہ ہوجائے اس وقت تک عقد نکاح کا ارادہ بھی نہ کرنا۔ خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں سے بھی واقف ہے لہٰذا اسی سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ بخشنے والا اور بڑا برداشت کرنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 234 تا 235 یتوفون (مرجاتے ہیں) ۔ یذرون (وہ چھوڑ جاتے ہیں) ۔ ازواجا (بیویاں) ۔ اربعۃ اشھر (چا ر مہینے) ۔ عشرا (دس، دن) ۔ بلغن (وہ پہنچ جائیں) ۔ اجلھن (اپنی مدت (کو یعنی عدت پوری کرلیں) ۔ فعلن (وہ عورتیں) ۔ عرضتم (تم نے پیش کیا) ۔ خطبۃ النساء (عورتوں سے پیغام نکاح) ۔ اکننتم (تم نے چھپا لیا) ۔ لا تو اعدوھن (تم ان سے وعدے نہ لینا) ۔ سر (چھپ چھپ کر) ۔ قولا معروفا (قاعدے طریقے کی بات) ۔ عقدۃ النکاح (نکاح کی گرہ) ۔ یبلغ الکتب (پہنچ جائے حکم ) ۔ تشریح : آیت نمبر 234 تا 235 جن عورتوں کے شوہر مرجاتے ہیں انہیں چار مہینے دس دن تک عدت گزارنی ہے یعنی اپنے آپ کو روکے رکھنا ہے۔ اس عرصہ میں نہ تو دوسرا نکاح کرنا جائز ہے اور نہ کسی شخص کو اس بات کی اجازت ہے کہ صریح اور صاف الفاظ میں نکاح کا پیغام دے۔ البتہ ایسے ڈھکے چھپے الفاظ میں یا ارشارۃً یہ بات کہہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جو اس غمزدہ کے لئے ڈھارس بھی ہو اور سہارا بھی لیکن نکاح کا پیغام جائز نہیں ہے۔ عدت کے دوران اس عورت کو خوشبولگانا، سنگھار کرنا، سرمہ لگانا، تیل ڈالنا، بلا ضرورت مہندی لگانا، رنگین کپڑے پہننا یا آرائش و زیبائش کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر چاند رات کو کسی شخص کا انتقال ہوا ہے تب تو یہ مہینے خواہ تیس دن کے ہوں یا انتیس دن کے چاند کے حساب سے مدت پوری کی جائے گی اور اگر کسی شخص کا انتقال چاند رات کے بعد ہوا تو سب مہینے تیس تیس دن کے حساب سے پورے کئے جائیں گے اس طرح کل ایک تیس دن پورے کرنے ہوں گے۔ آخر میں فرمایا کہ اے مومنو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس نے جو تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے اس سے دھوکے میں نہ پڑجانا وہ بہت برداشت کرنے والا ہے اور اسی وجہ سے وہ در گذر کرتا ہے۔ لیکن کوئی چیز اس کے علم کے احاطے سے باہر نہیں وہ ہر چیز کا اچھی طرح علم رکھتا ہے ۔
Ayahs 2:236–237

لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ مَا لَمْ تَمَسُّوْهُنَّ اَوْ تَفْرِضُوْا لَهُنَّ فَرِیْضَةً١ۖۚ وَّ مَتِّعُوْهُنَّ١ۚ عَلَى الْمُوْسِعِ قَدَرُهٗ وَ عَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهٗ١ۚ مَتَاعًۢا بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:236 in the Quran reader

اگر تم عورتوں کو اس وقت طلا ق دو جب کہ تم نے نہ تو ان کو ہاتھ لگایا ہے اور نہ ان کا مہر مقرر کیا ہے اگر دستور کے موافق ان کو کچھ دے دلا کر رخصت کردو تو اس میں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے صاحب حیثیت پر اس کی گنجائش کے مطابق اور تنگ دست پر اس کے حال کے موافق ہے جو خرچ قاعدے کے مطابق ہو۔ یہ نیک لوگوں پر ایک حق ہے۔

وَ اِنْ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ وَ قَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِیْضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ اِلَّاۤ اَنْ یَّعْفُوْنَ اَوْ یَعْفُوَا الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ١ؕ وَ اَنْ تَعْفُوْۤا اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١ؕ وَ لَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:237 in the Quran reader

اور اگر تم ان عورتوں کو اس وقت طلاق دو جب کہ تم نے ان کا مہر تو مقرر کیا ہے مگر انہیں ہاتھ نہیں لگایا ہے تو دستور کے مطابق ان کا آدھا مہر ادا کرنا ہے۔ سوائے اس کے کہ وہ عورتیں اپنا حق چھوڑ دیں یا جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے (یعنی مرد) وہ پورا مہر دے دے ۔ اگر تم درگذر سے کام لوگے تو یہ بات پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے ۔ اور آپس میں ایک دوسرے پر مہربانیاں کرنے کو فراموش نہ کرو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اسے اللہ دیکھ رہا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 236 تا 237 لم تمسوھن (تم نے ان عورتوں کو نہ چھوا ہو (صحبت نہ کی ہو) ۔ لم تفرضوا (تم نے مقرر نہیں کی ) ۔ فریضۃ (مہر) ۔ متعوھن (ان کو سامان دو ) ۔ لموسع ( وسعت والا، صاحب حیثیت) ۔ قدرہ (اس کے موافق ہے ) ۔ المقتر (تنگ دست ) ۔ نصف (آدھا) ان یعفون (عورتیں معاف کردیں) ۔ یعفوا (مرد معاف کر دے (پورا مہر دے دے) ۔ لا تنسوا (تم نہ بھولو) ۔ تشریح : آیت نمبر 236 تا 237 ان آیتوں میں دو مسئلے بیان کئے گئے ہیں : (1) ایک صو رت تو یہ ہے کہ ایک شخص نے محض نکاح کیا، کوئی مہر مقرر نہیں کیا اور نہ اس عورت سے قربت حاصل کی اور نوبت طلاق تک پہنچ گئی ایسی صورت میں چونکہ مہر مقرر ہی نہیں ہے اس لئے مہر نہ دینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن کم از کم ایک جوڑا کپڑے کا دے دیا جائے اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے مرد کو اختیار دیا ہے اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی۔ لیکن مرد کو اس سلسلہ میں تنگ دلی کا ثبوت نہیں دینا چاہئے بلکہ فراخ حوصلگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی حیثیت کے مطابق کچھ زیادہ بھی دے دینا چاہئے۔ حضرت حسن بصری (رح) نے ایک ایسے ہی واقعہ میں مطلقہ کو بیس ہزار درہم عطیہ دیا، قاضی شریح نے بھی ایک واقعہ میں پانچ سو درہم دئیے ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ کم از کم ایک جوڑا کپڑا ہی دے دے۔ (قرطبی) ۔ (2) دوسری صورت یہ ہے کہ نکاح ہوا، مہر مقرر ہوا مگر قربت و صحبت سے پہلے ہی طلاق ہوگئی تو اس صورت میں جتنا مہر مقرر کیا گیا تھا اس میں سے آدھا دینا ہوگا۔ اس میں عورت اور مرد دونوں کو اس کا اختیار دیا گیا ہے کہ جو چاہے اپنے حق سے دست بردار ہوجائے۔ عورت کی دست برداری یہ ہے کہ وہ سارا ہی مہر معاف کر دے۔ مرد کی دست برداری یہ ہے کہ وہ آدھے مہر کے بجائے پورا مہر ہی اس لڑکی کو دے دے، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مرد کو اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ عام زندگی میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ احسان اور بھلائی کا معاملہ کرتے رہنا چاہئے لیکن اس معاملہ میں تو مرد کو بلند حوصلے کا مظاہرہ کرنا چاہئے یعنی اس مطلقہ کو پورا مہر دے دینا چاہئے۔
Ayahs 2:238–239

حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى١ۗ وَ قُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِیْنَ Open ayah 2:238 in the Quran reader

سب نمازوں کی حفاظت کرو ، خاص طور سے درمیان والی نماز کی۔ اور تم نمازوں میں اللہ کے سامنے فرماں برداری کے ساتھ کھڑے رہو۔

فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُكْبَانًا١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:239 in the Quran reader

اگر خوف کی حالت ہو تو خواہ پیدل ہو یا سوار نماز ادا کرو پھر جب خوف دور ہوجائے تو اللہ کو اسی طرح یاد کرو جس طرح اس نے تمہیں سکھایا ہے جسے تم (پہلے سے) نہیں جانتے تھے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 238 تا 239 حافظوا (حفاظت کرو) ۔ الصلوت (نمازیں) ۔ الصلوٰۃ الوسطی (درمیان والی نماز (نماز عصر) ۔ قوموا (کھڑے رہو) ۔ قنتین (خاموش ، ادب سے کھڑے ہونے والے ) ۔ خفتم (تم ڈرے) ۔ رجال (پیدل) ۔ رکبان (سوار) ۔ علمکم (اس نے تمہیں سکھایا) ۔ تشریح : آیت نمبر 238 تا 239 احکام و قوانین جن کا آغاز توحید کے بعد نماز اور زکوٰۃ کے ذکر سے ہوا تھا اب ان آیات پر ختم ہو رہا ہے اس بات کی ابتداء بھی نماز سے ہوئی اور اس باب کا خاتمہ بھی نماز ہی پر ہو رہا ہے جو اس بات کی طرف کھلا ہوا اشارہ ہے کہ دین اسلام میں جو اہمیت نماز کی ہے وہ کسی اور عبادت کی نہیں ہے۔ ساری شریعت کے قیام وبقاء کا دارو مدار نماز کے نظام کی بقاء پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو شریعت کے قائم رہنے اور حفاظت کے لئے ایک باڑہ اور حصار کا درجہ دیا ہے۔ جو شخص نماز کی حفاظت کرتا ہے وہ گویا پوری شریعت کی حفاظت کرتا ہے اور جو شخص اس میں سستی اور کاہلی کرتا ہے وہ گویا دین کی بنیادوں کو ڈھانپتا ہے۔ درحقیقت نمازوں کی حفاظت ہی دین کی دوسری باتوں کی حفاظت کی ضامن ہے۔ جس طرح ایک شہر پناہ پورے شہر کو اپنی حفاظت میں لئے ہوئے ہوتی ہے اسی طرح نماز دوسری تمام نیکیوں کو اپنی حفاظت میں لئے ہوئے ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ سارے دین کی محافظ نماز ہے۔ جس نے اس کی حفاظت کی اس نے پورے دین کی حفاظت کی اور جس نے اس کو ضائع کردیا اس نے سارا دین ضائع کردیا۔ ان دونوں آیتوں میں سب سے پہلے تو نماز کی حفاظت کا حکم دیا پھر فرمایا کہ درمیان نماز کی حفاظت کرو یہ درمیانی نماز جس کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے اس سے عصر کی نماز مراد ہو سکتی ہے۔ کیونکہ دن بھر کی تمام سرگرمیاں عصر کے وقت اپنی آخری مراحل میں داخل ہوتی ہیں اس لئے خاص طور سے کاروباری لوگوں کے لئے یہ بڑے جوڑ توڑ کا وقت ہوتا ہے۔ مسافر رات ہونے سے پہلے اپنی منزل پر پہنچنا چاہتا ہے۔ دوکان دار دوکان بند ہوجانے سے پہلے کچھ کمانے کی دھن میں لگا رہتا ہے۔ اسی طرح امن کے علاوہ جنگی حالات میں بھی عصر کا وقت بہت اہم ہوتا ہے فریقین دونوں ہی جنگ کا آخری وار کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں ۔ اس لئے جنگ کی حالت ہو یا امن کی عصر کی نماز کی حفاظت کی خاص طور پر تاکید کی گئی ہے۔
Ayahs 2:240–242

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا١ۖۚ وَّصِیَّةً لِّاَزْوَاجِهِمْ مَّتَاعًا اِلَى الْحَوْلِ غَیْرَ اِخْرَاجٍ١ۚ فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوْفٍ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 2:240 in the Quran reader

اور جو لوگ تم میں سے مر جائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنی بیویوں کے لئے نہ وصیت کر جائیں کہ ان کو ایک سال تک خرچ دیا جاتا رہے اور ان کو گھر سے نہ نکالا جائے۔ البتہ اگر وہ خود ہی گھر چھوڑ دیں اور پھر اپنے حق میں دستور کے مطابق کوئی فیصلہ کریں تو اس کا تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

وَ لِلْمُطَلَّقٰتِ مَتَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:241 in the Quran reader

اور تمام مطلقہ عورتوں کے ساتھ قاعدے طریقے سے حسن سلوک کرنا پرہیز گاروں پر ایک حق ہے۔

كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 2:242 in the Quran reader

اللہ اسی طرح اپنے احکامات صاف صاف بیان کرتا ہے تا کہ تم سمجھو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 240 تا 242 یذرون (وہ چھوڑ جائیں ) ۔ متاع (خرچ دینا) ۔ الی الحول (ایک سال تک) ۔ غیر اخراج (نہ نکالنا) ۔ تشریح : آیت نمبر 240 تا 242 نبی کریم ﷺ کے اعلان نبوت سے پہلے زمانہ جاہلیت میں اگر کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو اس کی عدت ایک سال تک ہوا کرتی تھی، اس وقت تک عدت اور آیت میراث کے احکامات نازل نہیں ہوئے تھے۔ اسلام نے سب سے پہلے تو عورت کی عدت چار مہینے دس دن تک مقرر کردی چونکہ اس وقت تک میراث کی تقسیم سے متعلق احکامات نازل نہیں ہوئے تھے اس لئے یہ حکم دیا گیا کہ اگر عورت اپنی مصلحت سے خاوند کے ترکے کے گھر میں رہنا چاہے تو سال بھر تک اس کو رہنے دیا جائے اور ترکہ سے اس کے نان ونفقہ کا انتظار کیا جائے۔ چناچہ مردوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی عورتوں کے لئے اس طرح کی وصیت کر جایا کریں۔ البتہ عدت گزرنے کے بعد عورت خود ہی نہ رہنا چاہے اور اپنے حق میں کوئی فیصلہ کرنا چاہئے تو الگ بات ہے ۔ جب آیت میراث نازل کی گئی تو یہ عبوری قانون منسوخ کردیا گیا اب آیت میراث کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔
Ayahs 2:243–245

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ١۪ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا١۫ ثُمَّ اَحْیَاهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:243 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کا حال دیکھا جو ہزاروں تھے مگر موت کے خوف سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر نکلے تھے اللہ نے کہا کہ تم مرجاؤ (مرنے کے بعد) پھر اللہ نے ان کو زندہ کردیا۔ بیشک اللہ لوگوں پر بہت فضل و کرم کرتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے۔

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:244 in the Quran reader

اللہ کی راہ میں لڑو اور اس بات کو اچھی طرح جان لو کہ بلاشبہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً١ؕ وَ اللّٰهُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُۜطُ١۪ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:245 in the Quran reader

کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تا کہ اس کے لئے کئی درجہ بڑھا کر دے ۔ اللہ ہی تنگی پیدا کرتا ہے اور وہی کشادگی رزق بھی عنایت کرتا ہے۔ تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 243 تا 245 الوف (ہزاروں، (الف، ہزار) ۔ حذر الموت (موت کا خوف) ۔ موتوا (مرجاؤ) ۔ احیا (اس نے زندہ کیا) ۔ ذو فضل (فضل و کرم والا) ۔ یقرض (قرض دیتا ہے) ۔ قرضا حسنا (قرض حسن، بہترین قرض ) ۔ یضعفہ (وہ اس کو دوگنا کردیتا ہے ) ۔ اضعاف کثیر (دوگنے سے بھی زیادہ) ۔ یقبض (روکتا ہے ) ۔ یبسط (کھولتا ہے ) ۔ تشریح : آیت نمبر 243 تا 245 اب ان آیات سے جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے احکام بیان کئے جا رہے ہیں جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ انسان لاکھ موت سے ڈر کر کہیں بھی چلا جائے۔ جہاں بھی وہ جائے گا اور اس کی موت کا وقت آجائے گا تو مضبوط قلعوں میں بھی موت پہنچ جائے گی۔ اس مضمون کی ابتداء بنی اسرائیل کے ایک واقعہ سے کی ہے۔ یہ کوئی ایک جماعت تھی جو کسی شہر میں رہا کرتی تھی وہاں طاعون کی بیماری پھوٹ پڑی اس بستی والے اپنے سامنے اپنے عزیزوں کو تڑپتا دیکھ کر ایک وسیع میدان کی طرف بھاگ نکلے تا کہ موت سے بچ سکیں۔ یہ لوگ جن کی تعداد دس ہزار کے قریب تھی دو پہاڑوں کے درمیان وسیع میدان میں جا کر ٹھہر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو دکھلانے کے لئے عبرت کا یہ سامان کیا کہ ان دس ہزار بنی اسرائیلیوں پر موت طاری کردی۔ جب آس پاس کے لوگوں کو اطلاع ملی کہ دس ہزار کے قریب انسان بےگو روکفن پڑے ہیں اور ان کی لاشیں سڑ رہی ہیں۔ انہوں نے سوچا اور یہ طے کیا کہ ان کا کفن دفن تو مشکل ہے ان کے چاروں طرف ایک دیوار کھینچ دی جائے تا کہ ان کی لاشوں کی بےحرمتی نہ ہو چناچہ ان کے چاروں طرف دیواریں کھینچ دی گئیں۔ کچھ دن کے بعد ہی ان کی لاشیں گل سڑ گئیں اور لاشوں کے ڈھانچے رہ گئے ۔ بہت عرصہ کے بعد بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر حضرت حزقیل (علیہ السلام) کا اس مقام سے گزر ہوا۔ وہاں اتنی بڑی تعداد میں انسانی ڈھانچے دیکھ کر وہ حیران رہ گئے ۔ وحی کے ذریعہ ان کو بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو موت کے خود سے بھاگ کر اس میدان میں پہنچ گئے تھے۔ تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ حضرت حز قیل (علیہ السلام) نے دعا کہ اے اللہ ان کو دوبارہ زندہ کر دیجئے ! اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور ان کو دوبارہ زندگی عطا کردی اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے دلیل کے طور پر پیش کیا ہے جو جہاد سے بھاگتے اور موت کا خوف اپنے اوپر طاری رکھتے ہیں۔ ان آیتوں میں چونکہ مسلمانوں کو جہاد کی تعلیم و تربیت دی جا رہی ہے تو یہ بھی فرما دیا کہ جہاد کے لئے اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ جہاں اپنی جانیں لڑائی جائیں وہیں مال کا بھی ایثار کیا جائے اس کو اللہ تعالیٰ نے قرض حسنہ کا نام دیا یعنی جو کچھ تم خرچ کرو گے یقیناً اس کی ادائیگی اللہ کے ذمے ہے فرمایا جو اس دنیا میں ایک خرچ کرے گا اس کو ستر سے سات سو گنا تک بڑھ کر ملے گا۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ایک جانثار صحابی حضرت ابو الدحداح ؓ خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض مانگتے ہیں حالانکہ وہ قرض سے بےنیاز ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ اس کے ذریعے تمہیں جنت میں داخل فرمائیں۔ ابو الدحداح ؓ نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے کھجوروں کے دو باغ ہیں میں دونوں کو اللہ کی راہ میں بطور قرض حسنہ دیتا ہوں۔ آپ نے فرمایا ایک کو وقف کر دو اور دوسرے باغ کو اپنے بال بچوں کے لئے رکھ لو۔ ابو الدحداح نے عر ض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ گواہ رہیے میں نے ان دونوں باغوں میں سے بہترین باغ جس میں کھجور کے چھ سو درخت ہیں اللہ کی راہ میں دے دیا۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہیں اس کی برکت سے جنت عطا فرمائیں گے آپ نے فرمایا جنت میں ابو الداحداح کے لئے کھجوروں کے سرسبز و شاداب درخت اور کشادہ محلات تیار ہیں جو ان کو ملیں گے۔
Ayahs 2:246–251

اَلَمْ تَرَ اِلَى الْمَلَاِ مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مِنْۢ بَعْدِ مُوْسٰى١ۘ اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ هَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِتَالُ اَلَّا تُقَاتِلُوْا١ؕ قَالُوْا وَ مَا لَنَاۤ اَلَّا نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا١ؕ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:246 in the Quran reader

کیا تم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے سرداروں کو نہیں دیکھا جب انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کر دیجئے تا کہ ہم اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا، اگر تم پر جہاد فرض کردیا گیا کہیں ایسا نہ ہو کہ تم جہاد نہ کرو۔ کہنے لگے ہم اللہ کی راہ میں جہاد کیوں نہ کریں گے حالانکہ ہم اپنے گھروں سے نکالے گئے اور بچوں سے جدا کئے گئے ہیں۔ پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو سوائے کچھ لوگوں کے سب پیٹھ موڑ گئے۔ اور اللہ تو ظالموں سے خوب واقف ہے۔

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اللّٰهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوْتَ مَلِكًا١ؕ قَالُوْۤا اَنّٰى یَكُوْنُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَیْنَا وَ نَحْنُ اَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَ لَمْ یُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ١ؕ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىهُ عَلَیْكُمْ وَ زَادَهٗ بَسْطَةً فِی الْعِلْمِ وَ الْجِسْمِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤْتِیْ مُلْكَهٗ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:247 in the Quran reader

ان لوگوں سے پیغمبر نے کہا کہ تمہارے واسطے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا گیا ہے ۔ کہنے لگے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ طالوت ہم پر حکومت کرے حالانکہ ہم اس کے مقابلہ میں حکومت کرنے کے زیادہ حق دار ہیں جبکہ وہ مالی اعتبار سے بھی بڑھ کر نہیں ہے۔ پیغمبر نے کہا بیشک اللہ نے اس کو تمہارے مقابلہ میں منتخب کیا ہے، اس کو علم کی وسعت اور قدو قامت میں بڑا بنایا ہے اور اللہ جس کو چاہتا ہے سلطنت دے دیتا ہے، اللہ بڑی وسعت والا اور بڑا جاننے والا ہے۔

وَ قَالَ لَهُمْ نَبِیُّهُمْ اِنَّ اٰیَةَ مُلْكِهٖۤ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ التَّابُوْتُ فِیْهِ سَكِیْنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِیَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ اٰلُ مُوْسٰى وَ اٰلُ هٰرُوْنَ تَحْمِلُهُ الْمَلٰٓئِكَةُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 2:248 in the Quran reader

ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اس کی سلطنت کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق آجائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لئے تسکین قلب کا سامان ہے اور موسیٰ وہارون کی اولادوں کی چھوڑی ہوئی چیزیں (تبرکات) ہیں اس کو فرشتے اٹھا کر لائیں گے۔ اس صندوق میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم یقین رکھتے ہو۔

فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوْتُ بِالْجُنُوْدِ١ۙ قَالَ اِنَّ اللّٰهَ مُبْتَلِیْكُمْ بِنَهَرٍ١ۚ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَیْسَ مِنِّیْ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَطْعَمْهُ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۤ اِلَّا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةًۢ بِیَدِهٖ١ۚ فَشَرِبُوْا مِنْهُ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْهُمْ١ؕ فَلَمَّا جَاوَزَهٗ هُوَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۙ قَالُوْا لَا طَاقَةَ لَنَا الْیَوْمَ بِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ١ؕ قَالَ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوا اللّٰهِ١ۙ كَمْ مِّنْ فِئَةٍ قَلِیْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِیْرَةًۢ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:249 in the Quran reader

پھر جب طالوت لشکر کو لے کر نکلا تو اس نے کہا تمہیں اللہ ایک نہر کے ذریعہ آزمائے گا جس نے اس نہر سے پانی پیاوہ میرا نہیں ہے اور جس نے اس کو نہ چکھا وہ میرا ہے سوائے اس کے جو ایک چلو پانی بھر لے۔ پھر سوائے کچھ لوگوں کے سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالو ت اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے دریا پار کر گئے تو کچھ لوگ کہنے لگے کہ ہم میں یہ طاقت نہیں ہے کہ آج جالوت اور اس کے لشکر کا مقابلہ کرسکیں۔ اور وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ انہیں اللہ سے ملنا ہے انہوں نے کہا کتنی ہی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ چھوٹی چھوٹی جماعتیں محض اللہ کے حکم سے بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آگئی ہیں اور اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرنے والے ہیں

وَ لَمَّا بَرَزُوْا لِجَالُوْتَ وَ جُنُوْدِهٖ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَؕ Open ayah 2:250 in the Quran reader

اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکر کے سامنے آئے تو انہوں نے دعا کی اے ہمارے پروردگار ہمیں صبر و استقامت عطا فرما۔ اور ہمیں ثابت قدم رکھ اور کافروں کی قوم پر ہمیں غلبہ عطا فرما۔

فَهَزَمُوْهُمْ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۙ۫ وَ قَتَلَ دَاوٗدُ جَالُوْتَ وَ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَهٗ مِمَّا یَشَآءُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ١ۙ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:251 in the Quran reader

پھر طالوت کے ساتھیوں نے جالوت والوں کو شکست دے دی۔ داؤد نے جالوت کو قتل کردیا تو اللہ نے ان کو سلطنت و حکمت عطا فرمائی اور اللہ نے جو کچھ چاہا ان کو سکھا دیا۔ اور اگر اللہ بعض لوگوں کے ذریعہ بعض لوگوں کو نہ ہٹاتا رہے تو زمین کا نظام تباہ وبرباد ہو کر رہ جائے۔ لیکن اللہ کا دنیا والوں پر بڑا فضل و کرم ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 246 تا 251 الملاء (سردار) ۔ ابعث (اٹھا دے) ۔ ملک (بادشاہ) ۔ نقاتل (ہم جہاد کریں گے) ۔ ھل عسیتم (کیا تم سے یہی توقع نہیں ہے) ۔ الا تقاتلوا (یہ کہ تم جہاد نہ کرو گے) ۔ مالنا (ہمیں کیا ہوا) ۔ اخرجنا (ہم نکالے گئے ہیں ) ۔ نحن احق (ہم زیادہ حق دار ہیں) ۔ لم یؤت (نہیں دیا گیا) ۔ سعۃ (گنجائش، وسعت) ۔ اصطفہ (اس نے اس کو منتخب کرلیا ہے) ۔ بسطۃ (پھیلاؤ) ۔ سکینۃ (سکون) ۔ فصل (وہ جدا ہوا) ۔ مبتلی (آزمانے والا ) ۔ لم یطعمہ (جس نے نہیں چکھا ) ۔ اغترف (بھر لیا، چلو بھر لینا) ۔ تشریح : آیت نمبر 246 تا 251 اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بڑی عظمتیں عطا کی تھیں مگر انہوں نے نا شکریوں اور بد اعمالیوں کا ایسا سلسلہ شروع کیا کہ اللہ نے ان کی ساری عظمتیں چھین لیں اور ان پر کافروں کو مسلط کردیا۔ فلسطین میں ایک گرانڈیل ، دیو ہیکل اور جنگ کا ماہر شخص جاتی جو لیت تھا جو ان کا سپہ سالار تھا اور جالوت کہلاتا تھا۔ اس کا رعب بنی اسرائیل پر اس قدر چکا تھا کہ اس نے بار بار بنی اسرائیل پر چڑھائی کر کے ان کا قتل عام کیا اور ان کو گھروں سے بےگھر کیا، اور ان سے تبرکات سے بھرا ہوا صندوق بھی چھین کرلے گیا جو ان کے ہاں فتح و نصرت اور کامیابی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ یہ جنگ و جہاد سے جان چھڑاتے تھے اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا سلیقہ نہیں جانتے تھے۔ یہ خوف اور بزدلی برسوں تک اس طرح چھائی رہی کہ بنی اسرائیل کے پانچ بڑے شہر ان کے ہاتھوں سے نکل گئے مگر ان میں ان کو واپس لینے کی ہمت نہیں تھی۔ حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کے اندر تجدید و اصلاح اور ان کی تنظیم کا کام کیا جس سے بی اسرائیل میں ایک نئی زندگی پیدا ہوگئی، اور وہ فلسطینوں کے مقابلے میں کھڑے ہونے کے قابل ہوگئے مگر حضرت شموئیل بہت بوڑھے ہوچکے تھے اس لئے انہوں نے حضرت شموئیل ہی سے ایک ایسی قیادت کی درخواست کی جس کی سربراہی میں وہ اپنے دشمنوں سے انتقام لے سکیں۔ حضرت شموئیل (علیہ السلام) ان کی ایمانی کمزوری سے اچھی طرح واقف تھے اس لئے انہوں نے پوچھا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اگر تمہارے اوپر جہاد فرض کردیا جائے تو تم میدان سے بھاگ جاؤ۔ اس پر انہوں نے بڑے جوش اور جذبہ کے ساتھ کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ہم تو اپنے گھروں اور بچوں سے جدا کئے گئے ہیں کیا اب بھی ہم جہاد نہ کریں گے ؟ بنی اسرائیل کی خواہش پر جب طالوت کو جو بڑا وجیہ، خوبصورت اور لمبا تڑنگا آدمی تھا سردار لشکر بنا دیا گیا تو انہوں نے اپنی عادت کے مطابق اعتراضات کرنے شروع کر دئیے۔ کہنے لگے بھلا یہ ہمارا سردار کیسے ہو سکتا ہے۔ اس سے زیادہ منصب کے حق دار تو ہم ہیں۔ یہ شخص نہ تو خاندانی اعتبار سے ہم سے برتر ہے اور نہ مالی اعتبار سے۔ اس کا جواب حضرت شموئیل نے یہ دیا کہ اول تو طالوت کا انتخاب اللہ نے کیا ہے اسی نے اس کو تمہاری سرداری کے لئے چنا ہے وہ علم اور جسم میں بھی تم سے بڑھ کر ہے یہی وہ پیمانہ ہے جس سے طالوت کی عظمت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا ہم کیسے مان لیں کہ طالوت کو اللہ نے ہمارے لئے سردار مقرر کردیا ہے۔ حضرت شموئیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس کی نشانی یہ ہے کہ تبرکات کا وہ صندوق جسے جالوت لوٹ کرلے گیا ہے اللہ کے حکم سے خودبخود واپس آجائے گا۔ ادھر اللہ نے یہ انتظام کیا کہ جالوت والوں نے جہاں بھی اس صندوق کو رکھا وہاں بربادی اور بیماریاں پھیل گئیں۔ ایک دن سب نے طے کیا کہ یہ تمام آفتیں اسی صندوق کی وجہ سے آرہی ہیں لہٰذا اس کو واپس کردیا جائے، چناچہ انہوں نے ایک گاڑی میں رکھ کر گدھوں کو ہنکا دیا۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے عین اسی وقت گاڑی کو کھینچ کر بنی اسرائیل تک لے آئے۔ اس طرح بنی اسرائیل کو طالوت کی سچائی کا یقین کرنا پڑا۔ اس کے بعد نہایت گرم موس کے باوجود طالوت نے بنی اسرائیل کو لے کر سلطنت جالوت یعنی فلسطین پر چڑھائی کردی۔ راستہ میں قوم کے صبرو تحمل کا امتحان لیا گیا تا کہ وہی لوگ ساتھ رہ جائیں جو نبی کی اور اپنے سردار کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ یہ امتحان ایک نہر سے کیا گیا۔ حضرت طالوت نے کہا کہ جو شخص بھی اس نہر میں سے خوب سیر ہو کر پانی پئے گا اور ذخیرہ کرے گا تو وہ میرے ساتھ نہیں رہے گا۔ چلو دو چلو پانی پینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب یہ بنی اسرائیل اس نہر پر پہنچے تو جن کو نبی کی بات پر اعتماد تھا انہوں نے حکم کی تعمیل کی لیکن جنہوں نے اپنی عقل پر بھروسہ کیا انہوں نے سوچا کہ ہم صحرا سے گزر رہے ہیں، نہ جانے آگے پانی ملے نہ ملے انہوں نے پانی اپنے برتنوں میں جمع کیا اور خوب پانی پیا۔ چونکہ یہ پانی تو ایک امتحان تھا لہٰذا جو لوگ اس میں ناکام ہوئے۔ وہ دریا کے دوسرے کنارے پہنچ کر مر گئے یا بھاگ کھڑے ہوئے ۔ اب طالوت کے ساتھ بہت کم لوگ رہ گئے تھے۔ جب یہ میدان جنگ میں پہنچے تو جالوت کا زبردست لشکر اور اس کا جاہ و جلال دیکھ کر اکثر نے کہا کہ ہم اس بےسروسامانی میں اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ کیسے کرسکتے ہیں اور پھر اس کی قیادت جالوت جیسا جری اور بہادر سردار کر رہا ہے یہ تو اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنا ہے اس لئے بہت بڑی تعداد موت کے خوف سے بھاگ کھڑی ہوئی۔ آخر میں طالوت کے ساتھیوں کی تعداد گھٹتے گھٹتے اتنی ہی رہ گئی جتنی جنگ بدر میں نبی کریم ﷺ کے صحابہ ؓ کی تھی۔ اب یہ جتنے بھی تھے وہ صبر استقلال کے پیکر تھے۔ انہوں نے کہا کہ فتح و شکست سب اللہ کے ہاتھ میں ہے قلت و کثرت کا کوئی سوال نہیں ہے ہم اللہ کی راہ میں جانیں دینے کے لئے آئے ہیں اور بس ، چناچہ زبردست جنگ شروع ہوگئی یہ نہتے اور بےبس بےجگری سے جالوت کی باقاعدہ فوج کا مقابلہ کر رہے تھے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) جو اس وقت صحرا میں بکریاں چرایا کرتے تھے اپنے والد کے حکم سے اپنے بڑے بھائیوں کو جو جنگ میں شریک تھے کھانے پینے کی چیزیں دینے آئے تھے انہوں نے دیکھا کہ جالوت مقابلہ کا چیلنج کر رہا ہے مگر اس کے سامنے جانے کی ہمت کسی میں نہیں ہے ان کی غیرت ایمانی جوش میں آئی۔ وہ طالوت کے پاس پہنچے اور جالوت کے مقابلے کی اجازت مانگی اس وقت حضرت داؤد (علیہ السلام) نہایت کم عمر سرخ رو اور دراز قامت نوجوان تھے۔ طالوت نے ان کی کم عمری اور ناتجربہ کاری کو دیکھتے ہوئے کچھ تردد کیا۔ حضرت داؤد نے کہ جناب میں اپنی بکریوں پر حملہ کرنے والے شیروں اور ریچھوں کے جبڑے توڑ دیتا ہوں۔ طالوت نے ان کے عزم و ہمت کو دیکھ کر ان کی اجازت دے دی، یہ میدان جنگ میں پہنچے اور انہوں نے جالوت کو چیلنج کیا۔ کہا میں تمہارا مقابلہ کروں گا۔ جالوت نے دیکھا کہ ایک نوجوان نے اپنے کپڑے میں کچھ پتھر اٹھائے ہوئے ہیں اور وہ اس کو چیلنج کر رہا ہے وہ اور اس کے ساتھی بےساختہ ہنس پڑے مگر حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ایک پتھر ایسا مارا کہ جالوت سر کے بل گرا اور مر گیا۔ یہ دیکھ کر فلسطینیوں کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس طرح اللہ نے اپنے حکم سے ایک چھوٹی سی جماعت کو ایک بہت بڑی اور ظالم قوم کے مقابلے میں کامیابی اور فتح و نصرت عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) کو علم و حکمت اور نبوت سے سرفراز کیا اور وہ حضرت طالوت کے داماد ہوگئے اور اس طرح یہ بنی اسرائیل کے بادشاہ بن گئے ان ہی کے صاحبزادے حضرت سلیمان (علیہ السلام) ہیں جن کو اللہ نے ایک بہت بڑی سلطنت عطا کی تھی۔ جس وقت یہ آیتیں نازل ہو رہی تھیں اس وقت کے مسلمانوں کا بھی یہی عالم بےبسی تھا۔ ان آیات میں مسلمانوں کو بتایا گیا کہ زندگی اور موت دونوں کی راہیں کھلی ہوئی ہیں۔ اگر تم موت سے ڈر گئے تو پھر دنیا میں تمہارا کوئی ٹھکانا نہیں ہے اور اگر موت سے بےپرواہ شہادت کی راہ پر اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ تمہیں دنیا میں باعظمت زندگی اور آخرت کی تمام بھلائیاں اور کامیابیاں عطا فرمائے گا۔ آخر میں فرمایا گیا کہ اللہ کا یہ نظام کائنات اس کی مصلحتوں کے ساتھ چل رہا ہے اگر وہ اسی طرح ظالموں کو بعض بےبس اور کمزور لوگوں کے ذریعہ ہٹاتا نہ رہے یا اگر جہاد کا حکم نہ دے تو اس کے نیک اور صالح بندے تو سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہی نہ رہیں گے وہ اپنی ان مصلحتوں سے شریروں اور فسادیوں کو دنیا سے مٹاتا رہتا ہے تا کہ اللہ کی زمین نیکی اور تقویٰ کے آثار سے محروم ہو کر نہ رہ جائے۔
Ayahs 2:252–254

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 2:252 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! یہ ہیں اللہ کی وہ آیتیں جن کو ہم نے آپ پر ٹھیک ٹھیک تلاوت کیا ہے اور یقیناً آپ رسولوں میں سے ہیں۔

تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ۘ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلَ الَّذِیْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ وَ لٰكِنِ اخْتَلَفُوْا فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا اقْتَتَلُوْا١۫ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ۠ Open ayah 2:253 in the Quran reader

یہ جتنے رسول ہیں ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر بزرگی اور فضیلت دی ہے۔ ان میں سے بعض تو وہ ہیں جن سے اللہ نے کلام کیا ہے اور بعض کے درجات کو بلند کیا ہے۔ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کو صاف اور واضح نشانیاں دے کر ان کو روح القدس (جبرئیل) کے ذریعہ طاقت بخشی۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ لوگ جن کے پاس کھلی ہوئی دلیلیں آچکی تھیں آپس میں اختلاف نہ کرتے لیکن انہوں نے اختلاف کیا۔ پھر کوئی تو ایمان لایا اور کوئی کافر ہوگیا۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ آپس میں نہ لڑتے لیکن اللہ جو کچھ چاہتا ہے وہ کرتا ہے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 2:254 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرو جس میں نہ تو کسی قسم کی خریدو فروخت ہوگی نہ کسی کی دوستی کام آئے گی اور نہ کسی کو کسی کی سفارش فائدہ پہنچا سکے تھی۔ جو لوگ کافر ہیں وہی ظالم ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 252 تا 254 نتلوا (ہم تلاوت کرتے ہیں) ۔ المرسلین (بھیجے گئے ہیں (المرسل) ۔ تلک الرسل (یہ رسول) ۔ فضلنا (ہم نے بڑائی دی) ۔ کلم (کلام کیا) ۔ رفع (بلند کیا) ۔ ایدناہ (ہم نے اس کو قوت دی) ۔ انفقوا (خرچ کرو) ۔ ان یاتی (یہ کہ آئے) ۔ لا بیع (تجارت نہیں ہے) ۔ لا خلۃ (دوستی نہیں ہے) ۔ لا شفاعۃ (سفارش نہیں ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 252 تا 254 جہاد کے بیان میں یہ چند آیتیں نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمائی جا رہی ہیں۔ ارشاد ہے کہ بنی اسرائیل نے اپنی تاریخ کی ایک نہایت اہم سرگزشت کو بےمعنی اور بےمقصد بنا کر رکھ دیا تھا۔ اب ہم نے اس کو بالکل ٹھیک ٹھیک اس کے نتائج اور انجام کے ساتھ آپ کو سنا دیا ہے تا کہ آپ اور آپ کے ساتھ مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کا کچھ اندازہ کرسکیں۔ اور یہ اس بات کی نہایت روشن دلیل ہے کہ آپ بھی انبیاء ورسل کے مبارک سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔ فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو کوئی نہ کوئی فضیلت و عظمت عطا فرمائی ہے اور سب کے درجات اور مراتب ہیں۔ لیکن اہل کتاب نے جماعتی تعصب اور گروہ بندیوں میں مبتلا ہو کر اپنے رسول کے سوا بقیہ نبیوں اور رسولوں کو جھٹلایا۔ اور سب کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے۔ فرما یا گیا ہے کہ اے نبی ﷺ آپ اس صورت حال پر صبر کیجئے اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے، اللہ اپنی حکمت و مصلحت سے ان کا فیصلہ خود ہی کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں میں سے ہر رسول کو کسی نہ کسی پہلو سے فضیلت بخشی ہے اور اسی فضیلت کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز رہے۔ مثلاً موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ نے کلام فرمایا یہ ان کی فضیلت کا خاص پہلو ہے، اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کھلے کھلے معجزات دئیے گئے اور روح القدس آپ کے ساتھ ساتھ رہتے تھے یہ ان کی خصوصیت ہے۔ اسی طرح تمام نبیوں اور رسولوں کو اللہ نے خاص خاص مراتب و درجات سے نوازا ۔ مگر ان کے ماننے والی امتوں نے اپنے نبی کو سب سے اعلیٰ و برتر مان کر اپنے آپ کو تعصب کے خول میں بند کرلیا۔ ورنہ اگر وہ تمام نبیوں کو مانتے تو تمام نبیوں کے مراتب سے فیض حاصل کرتے ۔ ہر رسول ان کا رسول اور ہر ہدایت ان کے لئے روشنی ثابت ہوتی اور اب وہ قرآن کریم کے نور سے بھی پورا پورا فیض حاصل کرتے مگر ان کو ان کے تعصب اور ضد نے کہیں کا نہ چھوڑا۔ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ ہدایت و گمراہی کے سلسلہ میں کسی پر جبر نہیں کرتا۔ اگر وہ جبر اور زبردستی کرتا تو پھر کسی کو بھی کفر کا راستہ اختیار کرنے کا موقع نہ ملتا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ بندوں کو پوری آزادی دی کہ وہ سوچ سمجھ کر اور ارادہ و اختیار کی آزادی کے ساتھ چاہیں تو کفر کی راہ اختیار کریں اور چاہیں تو ایمان کا راستہ اختیار کریں۔ لیکن جس راستے کو بھی وہ اختیار کریں گے اس کا انجام ان کے سامنے ہونا چاہئے ۔ اس میں نبی کریم ﷺ کے لئے بھی تسکین و تسلی کا سامان کیا گیا ہے کہ آپ پیغام حق ان تک پہنچاتے رہیں لیکن ان کی ہدایت کے لئے پریشان نہ ہوں۔ ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے عطا کردیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ اس دنیا میں مال و متاع کا کوئی ابدی اور دائمی نفع ہے تو صرف اس صورت میں کہ جب تم اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کر کے اس کو ایک لازوال خزانے کی صورت میں تبدیل کرلو۔ اس لئے کہ آگے جو دن آنے والا ہے اس میں نفع پہنچانے والی چیز اگر ہے تو وہ صرف نیکی ہے جو اس دنیا میں کی گئی ہو۔ اس کے علاوہ اس عالم میں کوئی چیز کام آنے والی نہیں ہے۔ اس دنیا میں خریدو فروخت سے بھی کام چل جاتے ہیں۔ دوستیاں بھی کام دے جاتی ہیں اور سفارشیں بھی بعض اوقات نفع پہنچا دیتی ہیں لیکن اس دنیا میں ان چیزوں کی ساری راہیں بند ہوں گی جہاں صرف ایمان اور عمل صالح ہی کام آئیں گے۔
Ayah 2:255

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ١ۚ۬ لَا تَاْخُذُهٗ سِنَةٌ وَّ لَا نَوْمٌ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ۚ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ١ۚ وَسِعَ كُرْسِیُّهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ وَ لَا یَئُوْدُهٗ حِفْظُهُمَا١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ Open ayah 2:255 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، وہ زندہ ہے، سب کو تھامنے والا ہے، نہ اس کو اونگھ آتی ہے اور نہ نیند۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اسی کی ملکیت ہے۔ ایسا کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کی سفارش کرسکے، جو کچھ ان کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے وہ سب کچھ جانتا ہے۔ اس کے علم کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا مگر جتنا وہ چاہتا ہے۔ اس کا تخت اقتدار تمام آسمانوں اور زمین پر چھایا ہوا ہے۔ اور ان کی حفاظت اس پر ذرا بھی گراں یا بوجھ نہیں ہے وہی سب سے برتر واعلیٰ ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 255 الحی (زندہ) ۔ القیوم (تھامنے والا) ۔ سنۃ (اونگھ) نوم (نیند) ۔ یشفع (سفارش کرے گا) ۔ باذنہ (اس کی اجازت سے) ۔ بین ایدی ( سامنے) ۔ خلف (پیچھے ) ۔ لا یحیطون (نہیں گھیر سکتا ہے) ۔ وسع (وسیع ہے) ۔ لا یؤدہ (وہ اس کو تھکاتا نہیں) ۔ العلی (بلند) ۔ العظیم (برتر) ۔ تشریح : آیت نمبر 255 آیت الکرسی قرآن کریم کی عظیم آیتوں میں سے ایک ہے جس کے احادیث میں بہت زیادہ فضائل بیان کئے گئے ہیں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے حضرت ابی ابن کعب ؓ سے پوچھا بتاؤ قرآن کریم میں کون سی آیت سب سے زیادہ عظمت والی ہے۔ حضرت ابی ابن کعب ؓ نے فرمایا آیت الکرسی۔ آپ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے حضرت ابی ابن کعب کے اس جواب کو پسند فرمایا اور کہا کہ اے ابو المنذر تمہیں علم و دانش مبارک ہو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی گیارہ صفتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ٭ الحی : وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور باقی رہنے والا ہے اس کو فنا نہیں ہے۔ ٭ القیوم : وہ قائم ہے دوسروں کو قائم رکھتا ہے اور اپنے دست قدرت میں سب کو تھامے ہوئے ہے۔ ان دونوں صفتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام جھوٹے معبودوں کی نفی کردی ہے جو نہ زندہ ہیں، نہ زندگی کا سرچشمہ نہ خود قائم ہیں اور نہ دوسروں کو قائم رکھنے والے ہیں وہ اپنی زندگی کے وجود کے لئے خود دوسروں کے محتاج ہیں۔ ٭ سنۃ۔ اونگھ۔ ۔۔ ۔ نہ اس کو اونگھ آتی ہے۔ ٭ نوم۔ نیند۔ ۔۔ ۔ نہ اس کو نیند آتی ہے۔ نیند کی ابتداء اونگھ ہے اور انتہا غفلت اور نیند۔ ان صفتوں میں فرمایا گیا ہے کہ وہ اونگھ یا نیند سے پاک اور بری ہے۔ ٭ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اسی کی ملکیت ہے، اسی کے اختیار میں ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اس میں تصرف کرتا ہے۔ ایسا کون ہے ؟ جو اس کے پاس سفارش کرے سوائے اس کی اجازت کے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کسی کو اس کے بارہ میں سفارش کی مجال نہیں ہے البتہ کچھ مقبول بندے ہیں جن کو خاص طور پر کلام اور شفاعت کی اجازت دے دی جائے گی ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حشر کے دن میں سب سے پہلے ساری امتوں کی سفارش کروں گا۔ اسی جگہ کا نام مقام محمود ہے۔ ٭ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام حالات سے واقف ہے جو انسان کے سامنے ہیں اور وہ حالات جو انسان کی نظروں سے پوشیدہ ہیں وہ ان سب کو اچھی طرح جانتا ہے۔ ٭ فرمایا تمام کائنات کے ذرے ذرے کا علم محیط اس کو حاصل ہے یہ اسی کی خصوصیت ہے۔ انسان یا کوئی دوسری مخلوق اس میں شریک نہیں ہے سوائے اس کے جو وہ اپنی مرضی سے کسی کو علم عطا کردیتا ہے۔ ٭ فرمایا اس کی کرسی اتنی وسیع ہے کہ جس کی وسعت کے اندر ساتوں آسمان اور زمین سمائے ہوئے ہیں اس کا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اس کا اقتدار بلا شرکت غیرے ساری کائنات پر چھایا ہوا ہے۔ ٭ فرمایا اللہ تعالیٰ کو زمین اور ساتوں آسمانوں کی حفاظت کچھ بھی گراں نہیں ہے کیونکہ اس قادر مطلق کے سامنے یہ سب چیزیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ٭ آخر میں فرمایا کہ اللہ وہ ہے جو بڑا عالی شان اور بلندو برتر ہے۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا بڑی تفصیلی بیان ہے ان کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد انسان یہی کہنے پر مجبور ہے کہ ہر عظمت و سربلندی اور تمام برتریاں اسی ایک ذات کے لئے خاص ہیں جس نے اس کائنات کے نظام کو بنا کر اس کی پوری طرح نگرانی فرمائی ہے کوئی چیز اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں ہے۔
Ayahs 2:256–257

لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ١ۙ۫ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى١ۗ لَا انْفِصَامَ لَهَا١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:256 in the Quran reader

دین اسلام میں کوئی زبردستی اور جبر نہیں ہے۔ یقیناً ہدایت کی راہ گمراہی سے نمایاں اور واضح ہوچکی ہے پھر جس نے جھوٹے معبودوں کا انکار کیا اور اللہ پر یقین لے آیا تو اس نے ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ اللہ خوب سننے اور جاننے والا ہے۔

اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْلِیٰٓئُهُمُ الطَّاغُوْتُ١ۙ یُخْرِجُوْنَهُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَى الظُّلُمٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:257 in the Quran reader

اللہ ان کا حمایتی اور مددگار ہے جو اس پر ایمان لے آئے۔ وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لاتا ہے اور جو کفر پر جمے ہوئے ہیں ان کے دوست شیاطین ہیں جو ان کو روشنی سے اندھیروں کی طرف دھکیلتے ہیں۔ یہ لوگ جہنم والے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 256 تا 257 لا اکراہ (زبردستی نہیں ہے) ۔ فی الدین (دین میں) ۔ قد تبین (یقیناً واضح ہوچکا ہے) ۔ الرشد (ہدایت) ۔ الغی (گمراہی) ۔ الطاغوت (شیطان، شیطانی طاقتیں) ۔ استمسک (مضبوط پکڑ لیا) ۔ العروۃ (گرہ) ۔ الوثقی (مضبوط) ۔ لا انفصام (ٹوٹنے والی نہیں) ۔ ولی (حمایتی، مددگار) ۔ اولیاء (دوست) ۔ تشریح : آیت نمبر 256 تا 257 سورة بقرہ کے رکوع 32 سے جہاد پر آمادہ کرنے کے لئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے ، اسی درمیان اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ لا اکراہ فی الدین، یعنی دین کے بارے میں کوئی زبردستی نہیں ہے یہ اس لئے فرمایا گیا کہ کہیں جہاد سے یہ ذہن میں نہ آئے کہ اسلام قتال اور جہاد کے ذریعہ لوگوں کو ایمان قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ بلکہ اسلام اپنی اخلاقی اور آفاقی تعلیم کے ذریعہ ظلم اور بربریت کو ختم کرنے اور عدل و انصاف ، امن وامان اور مساوات قائم کرنے کے لئے جہاد کا حکم دیتا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کی پوری تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ کبھی کسی قوم یا فرد کو تلوار کی نوک پر مجبور نہیں کیا گیا کہ وہ اسلام کو قبول کرے۔ بلکہ ظلم و بربریت کو مٹانے کے لئے حکم جہاد پر عمل کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اسلام قبول نہیں کرتے ان سے ایک معمولی رقم جزیہ کے نام پر لی جاتی ہے جس سے ایک غیر مسلم کی جان و مال اور مذہب کی حفاظت اسلامی حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری بن جاتی ہے۔ جزئیے کا نظام ہی اس بات کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ مسلمانوں نے کبھی کسی کو اسلام لانے پر مجبور نہیں کیا۔ جنگ کے دوران نبی کریم ﷺ خلفاء راشدین، صحابہ ؓ کا طرز عمل یہ تھا کہ کہ کمزوروں، بیماروں، عورتوں، زخمیوں ، مذہبی پیشواؤں اور پر امن شہریوں پر تلوار اٹھانے یا گھر بار، کھیتی باڑی کو جلانے کی اجازت نہیں دی۔ البتہ وہ لوگ جو اسلام کی دعوت میں آڑ بننے کے لئے تلوار اٹھاتے تھے اسلام ان سے لڑنے کی اجازت دیتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ مومنوں کا مددگار ہے وہ ان کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال کر لاتا ہے۔ لیکن جن لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کر رکھا ہے انہوں نے شیطانوں اور بتوں کو اپنا دوست بنا رکھا ہے جو انہیں روشنیوں سے نکال کر اندھیروں میں دھکیل دینا چاہتے ہیں جس کا انجام دوزخ کی ابدی آگ ہے۔
Ayah 2:258

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِیْ رَبِّهٖۤ اَنْ اٰتٰىهُ اللّٰهُ الْمُلْكَ١ۘ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّیَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۙ قَالَ اَنَا اُحْیٖ وَ اُمِیْتُ١ؕ قَالَ اِبْرٰهٖمُ فَاِنَّ اللّٰهَ یَاْتِیْ بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَاْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ فَبُهِتَ الَّذِیْ كَفَرَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 2:258 in the Quran reader

کیا آپ نے اس شخص کی طرف نہیں دیکھا جو ابراہیم سے اس کے پروردگار کے بارے میں جھگڑرہا تھا۔ اس لئے کہ اللہ نے اس کو حکومت دے رکھی تھی۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا میرا پروردگار وہ ہے جو زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے اس نے کہا میں بھی (لوگوں کو) زندگی دیتا ہوں اور مار دیتا ہوں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا اچھا میرا پروردگار تو روزانہ مشرق سے سورج نکالتا ہے پھر تو اس کو مغرب سے نکال کرلے آ۔ یہ سن کر وہ کافر حیران و ششدررہ گیا۔ اور اللہ ظالموں کو ہدایت عطا نہیں کرتا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 258 حاج (جو جھگڑا) ۔ اتہ اللہ (اس کو اللہ نے دیا تھا) ۔ الملک (سلطنت، حکومت) ۔ یحییٰ (زندہ کرتا ہے) ۔ یمیت (مارتا ہے) ۔ انا احی (میں زندہ کرتا ہوں) ۔ امیت (میں موت دیتا ہوں) ۔ یاتی (لاتا ہے وہ۔ وہ آتا ہے) ۔ الشمس (سورج) ۔ بھت (حیران رہ گیا) تشریح : آیت نمبر 258 نمرود عراق کا بادشاہ تھا جس کی بڑی وسیع سلطنت تھی مگر اقتدار کا نشہ کچھ ایسی بری چیز ہے کہ وہ انسان کو اللہ سے غافل کردیتا ہے، نمرود نے اسی اقتدار کے نشہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ ابراہیم تم کس رب کی بات کرتے ہو ؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میرا رب وہ ہے جس کے ہاتھ میں زندگی ہے اور موت بھی ہے۔ جسے چاہتا ہے وہ زندگی دیتا ہے اور جب چاہتا ہے اس کا سلسلہ حیات منقطع کردیتا ہے نمرود کہنے لگا اے ابراہیم یہ تو میں بھی کرسکتا ہوں۔ اس نے دو قیدیوں کو بلوایا ایک وہ تھا جس کے قتل کا حکم دیا جا چکا تھا۔ دوسرا وہ جس کی رہائی کا حکم ہوچکا تھا۔ نمرود نے بےگناہ کو قتل کرا دیا اور جس کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اس کو رہا کردیا اور کہنے لگا یہ زندگی اور موت تو میں بھی دے سکتا ہوں۔ ابراہیم (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ یہ بےعقل انسان ہے اس کو سمجھانے کے لئے دوسرا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اچھا میرا پروردگار وہ ہے جو روزانہ مشرق سے سورج نکالتا ہے تو ایک دن مغرب سے سورج نکال دے۔ یہ سن کر نمرود لا جواب ہوگیا۔ یہ واقعہ جہاد کے سلسلہ میں اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ ہر مسلمان اس بات اچھی طرح ذہن نشین کرلے کہ زندگی اور موت کے سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا زندگی کی بےجا فکر اور موت کا خوف ایک مومن کو اپنے دل سے نکال دینا چاہئے۔ اس کے بعد کی آیات میں دو واقعات بھی بیان کئے جا رہے ہیں جو اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں جن میں موت وحیات کے بارے میں بتایا گیا ہے۔
Ayah 2:259

اَوْ كَالَّذِیْ مَرَّ عَلٰى قَرْیَةٍ وَّ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا١ۚ قَالَ اَنّٰى یُحْیٖ هٰذِهِ اللّٰهُ بَعْدَ مَوْتِهَا١ۚ فَاَمَاتَهُ اللّٰهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهٗ١ؕ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ١ؕ قَالَ لَبِثْتُ یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ١ؕ قَالَ بَلْ لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانْظُرْ اِلٰى طَعَامِكَ وَ شَرَابِكَ لَمْ یَتَسَنَّهْ١ۚ وَ انْظُرْ اِلٰى حِمَارِكَ وَ لِنَجْعَلَكَ اٰیَةً لِّلنَّاسِ وَ انْظُرْ اِلَى الْعِظَامِ كَیْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوْهَا لَحْمًا١ؕ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗ١ۙ قَالَ اَعْلَمُ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:259 in the Quran reader

یا جیسے وہ شخص جو ایک ایسی بستی سے گزرا کہ وہ بستی اپنی چھتوں پر گری پڑی تھی۔ اس نے کہا اس بستی کو جب کہ وہ ختم ہوچکی ہے اللہ اس کو کیسے زندہ کرے گا ؟ اللہ نے اس پر سو سال تک موت کو طاری کردیا پھر اس کو زندہ کر کے دوبارہ اٹھایا۔ پوچھا تم کتنی مدت تک سوتے رہے ہو ؟ اس نے کہا دن بھر یا آدھے دن سوتا رہا ہوں۔ اللہ نے فرمایا نہیں بلکہ تم ایک سو سال تک پڑے سوتے رہے ہو اپنے کھانے پینے کی چیزوں کی طرف دیکھو کہ اس میں ذرا بھی تبدیلی نہیں آئی اور اپنے گدھے کو دیکھو (کس طرح گل سڑ گیا ہے ) اور اس سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں اب دیکھو اپنے گدھے کی ہڈیوں کی طرف کہ ہم کس طرح ان کو جوڑتے ہیں پھر کس طرح ہم ان پر گوشت چڑھاتے ہیں۔ پھر جب بات بالکل واضح ہوگئی تو کہنے لگا میں جانتا ہوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر (پوری ) قدرت رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 259 او (یا) ۔ کالذی (جیسے وہ شخص) ۔ مر (گذرا) ۔ علی قریۃ (ایک بستی پر) ۔ خاویۃ (اوندھی) ۔ عروش (عرش، چھتیں) ۔ انی یحییٰ (کیوں کر زندہ کرے گا) ۔ اماتہ اللہ (اللہ نے اس کو موت دے دی) ۔ ماۃ غام (ایک سو سال) ۔ بعثہ (اس کو اٹھا کھڑا کیا) ۔ کم لبثت (کتنی دیر ٹھہرا رہا) ۔ بعض یوم (دن کا ایک حصہ) ۔ فانظر (پھر تو دیکھ) ۔ شراب (پینے کی چیز (پانی) ۔ لم یتسنۃ (سڑا گلا نہیں) ۔ حمار (گدھا، خچر) ۔ لنجعل (تا کہ ہم بنا دیں) ۔ العظام (ہڈیاں) ۔ کیف ننشزھا (کیسے ہم ان کو چڑھاتے ہیں) ۔ نکسوھا (ہم اس کو پہناتے ہیں) ۔ لحم (گوشت) ۔ تشریح : آیت نمبر 259 یہ کون شخص تھے اور کس بستی سے گزرے تھے۔ اس کے لئے علماء مفسرین نے مختلف اقوال نقل کئے ہیں۔ غالب گمان یہ ہے کہ حضرت عزیر (علیہ السلام) تھے جو اس بستی سے گز ر رہے تھے جس کو بخت نصر نے تباہ و برباد کردیا تھا اور وہاں کے رہنے والوں کا قتل عام کیا تھا۔ جیسا کہ آپ نے ترجمہ میں سنا کہ اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے کس طرح حضرت عزیر (علیہ السلام) پر ایک سو سال تک موت کی کیفیت کو طاری رکھا۔ وہ کھانا جو گل سڑ جانے والا تھا اس کو محفوظ رکھا اور گدھا جو عموماً دوچار دن میں ہڈیوں کا پنجر نہیں بن جاتا اس کے اجزاء کو بکھیر دیا۔ لیکن اپنی قدرت کاملہ سے اس کو دوبارہ زندہ کر کے دکھلا دیا کہ موت کے بعد اس طرح تمام انسان زندہ کر دئیے جائیں گے یہ بھی بتا دیا کہ موت فنا کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک کیفیت کا نام ہے جو انسانوں پر طاری کردی جاتی ہے۔ صور پھونکے جانے کے بعد تمام انسان اسی طرح اپنی قبروں سے نکل کر میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے۔ تیسری بات یہ فرمائی کہ جس طرح کھانا جو عموماً ایک دن دھوپ میں رکھے جانے کے بعد سڑ جاتا ہے اللہ تعالیٰ کی یہ قدرت ہے کہ وہ اس کو چاہے تو ایک سو سال تک اسی طرح محفوظ رکھ سکتا ہے۔ یہ تمام باتیں اس اللہ کی قدرت کی طرف اشارہ ہیں جو تمام چیزوں پر قادر مطلق ہے اور مو ت وحیات سب اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔
Ayah 2:260

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اَرِنِیْ كَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ قَالَ اَوَ لَمْ تُؤْمِنْ١ؕ قَالَ بَلٰى وَ لٰكِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ١ؕ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّیْرِ فَصُرْهُنَّ اِلَیْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ یَاْتِیْنَكَ سَعْیًا١ؕ وَ اعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 2:260 in the Quran reader

اور جب ابراہیم نے عرض کیا پروردگار مجھے یہ دکھا دیجئے کہ آپ مردوں کو زندہ کس طرح کریں گے۔ فرمایا اے ابراہیم کیا تمہیں اس پر یقین نہیں ہے ؟ عرض کیا جی ہاں (مجھے پورا یقین ہے ) میں تو صرف اپنے دل کی تسکین کے لئے چاہتا ہوں۔ فرمایا چار پرندے پکڑ لو اور ان کو اپنے آپ سے ہلا لو (مانوس کرلو) ان پرندوں کے ٹکڑے کر کے ان کے مختلف حصے مختلف پہاڑوں پر رکھ آؤ پھر ان پرندوں کو آواز دو تو وہ تمہارے پاس دوڑتے ہوئے چلے آئیں گے اور اس بات کو جان لو کہ بیشک اللہ زبردست حکمت والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 260 رب (میرے پروردگار (اصل میں ربی تھا یا گر گئی اور رب رہ گیا) ۔ ارنی (مجھے دکھا دیجئے (ار، دکھائے، ن وقایہ ، ی، مجھے) ۔ تحی (تو زندہ کرتا ہے) ۔ اولم تؤمن (کیا تجھے یقین نہیں ہے (ا، و، لم، تومن) ۔ لیطمئن (تا کہ اطمینان ہوجائے) ۔ خذ (پکڑ لے) ۔ الطیر (پرندہ) صرھن (ان کو مانوس کرلے (صر، امر، ھن، ضمیر) ۔ جبل (پہاڑ) جزء (حصے، ٹکڑے) ۔ ادع (پکار (صیغہ امر) ۔ سعی (دوڑ، دوڑتے ہوئے) ۔ تشریح : آیت نمبر 260 نبی سے زیادہ اللہ کی ذات وصفات اور قدرت کا کس کو یقین ہو سکتا ہے وہ تو پیکر ایمان و یقین ہوا کرتا ہے ، حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے محض کیفیت کے بارے میں پوچھا ہے کہ اے اللہ مجھے کامل یقین ہے مگر میں دیکھ کر عین الیقین حاصل کرنا چاہتا ہوں تا کہ آپ کی قدرت کا مشاہدہ کرسکوں۔ فرمایا چار پرندے پاک کر اپنے آپ سے مانوس کرلو۔ یعنی ان کے کوئی نام وغیرہ رکھ لو اور پھر ان چاروں پرندوں کو ذبح کر کے ان کے جسم کے مختلف حصوں کو مختلف پہاڑوں پر رکھ دو ۔ نام لے کر آواز دو پھر مشاہدہ کرلینا کہ وہ کس طرح زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آجائیں گے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا اور وہ پرندے زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آگئے فرمایا بس اسی طرح جب ہم اپنے بندوں کے لئے صور پھونکیں گے تو تمام انسان بھی دوبارہ زندہ ہو کر ہمارے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ یہ واقعہ اور اس سے پہلے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان میں مسلمانوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور مرجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے وہی زندگی دیتا ہے وہی موت اور وہی دوبارہ زندہ کرے گا۔
Ayahs 2:261–265

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:261 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ایک دانہ کی طرح ہے جس سے سات بالیں اور ہر بال میں سو سودانے پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ جس کے لئے چاہتا ہے اور بڑھا دیتا ہے وہ بڑا فیاض اور علیم ہے۔

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًى١ۙ لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:262 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ۔ پھر اس کے بعد نہ تو وہ کسی پر احسان جتاتے ہیں اور نہ وہ لوگ کسی کے دل کو دکھاتے ہیں ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس بڑا اجر وثواب ہے۔ نہ تو ان کے لئے کوئی خوف ہے اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّ مَغْفِرَةٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ یَّتْبَعُهَاۤ اَذًى١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ Open ayah 2:263 in the Quran reader

کسی کو نرمی سے جواب دے دینا اور در گذر کرنا اس صدقہ سے کہیں بہتر ہے جس کے دینے کے بعد کسی کا د ل دکھایا جائے۔ یا د رکھو اللہ بےنیاز بھی ہے اور برداشت کرنے والا بھی ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰى١ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَیْهِ تُرَابٌ فَاَصَابَهٗ وَابِلٌ فَتَرَكَهٗ صَلْدًا١ؕ لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:264 in the Quran reader

اے ایمان والو ! کسی کا دل دکھا کر اور احسان جتا کر اپنے صدقات کو اس شخص کی طرح ضائع نہ کرو جو محض لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے نہ تو اللہ پر ایمان لاتا ہے اور نہ آخرت پر یقین رکھتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چکنا پتھر جس پر کچھ مٹی جم گئی ہو پھر اس پر ایک زور کی بارش آئی۔ (مٹی بہہ گئی) اور وہ پتھر پھر اسی طرح صاف چکنا پتھر رہ گیا۔ ایسے لوگ اپنے کئے ہوئے کاموں کا کوئی فائدہ حاصل نہ کرسکیں گے۔ اللہ تعالیٰ ناشکرے لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:265 in the Quran reader

وہ لوگ جو اپنا مال محض اللہ کی خوشنودی اور اپنے دلوں کو جمائے رکھنے کے لئے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس باغ جیسی ہے جو کسی مناسب اونچی جگہ پر واقع ہے اس پر تیز بارش پڑجائے تو دگنا پھل لے آئے ورنہ محض ہلکی سی پھوار اور شبنم ہی کافی ہے ۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 261 تا 265 ینفقون (خرچ کرتے ہیں) ۔ حبۃ (دانہ) ۔ انبتت (اگتا ہے۔ (پیدا ہوتی ہے) ۔ سبع (سات) سنابل (بالیں ۔ (سنبلۃ) بال جس میں دانے ہوتے ہیں) ۔ یضعف (دوگنا کرتا ہے) ۔ لا یتبعون (وہ پیچھے نہیں لگتے) ۔ منا (احسان (احسان جتانا) ۔ اذی (تکلیف) ۔ قول معروف (قاعدے کی بات (اچھی بات) ۔ مغفرۃ (معاف کرنا، درگذر کرنا) ۔ غنی (بےپرواہ، بےنیاز) ۔ لا تبطلوا (ضائع نہ کرو۔ (باطل نہ کرو) ۔ رئاء الناس (لوگوں کو دکھانا) ۔ صفوان (صاف پتھر) ۔ تراب (مٹی، (ریت) ۔ وابل (بارش) صلد (صاف (پتھر) ۔ لا یقدرون (وہ قدرت و طاقت نہیں رکھتے) ۔ ابتغاء (تلاش کرنا) ۔ مرضات اللہ (اللہ کی مرضی و خوشنودی) ۔ تثبیتا (ثابت کرنا، ثابت کردیا) ۔ جنۃ (باغ) ۔ ربوۃ (بلندی، اونچائی) ۔ اصاب (پہنچا (پہنچی) ۔ فاتت (پھر وہ لے آیا) ۔ اکل (پھل) لم یصب (نہ پہنچی) ۔ تشریح : آیت نمبر 261 تا 265 اس بات کا ذکر کرنے کے بعد کہ موت وحیات اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے، فرمایا گیا تھا کہ کون ہے وہ شخص جو اللہ کو قرض حسنہ دے گا جس کے بدلے میں اس کا ثواب کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا فرمایا گیا کہ اے مومنو ! تم اگر آخرت کی کامیابی چاہتے ہو تو جب بھی ملت کو ضرورت ہو اپنا سب کچھ قربان کر دو اور جب تمہارے غریب اور ضرورت مند بھائی بہنوں کو تمہاری امداد کی ضرورت ہو تو اس میں اس بات کا خاص خیال رکھو کہ کسی کے ساتھ بھلائی کرنے میں کوئی ایسا پہلو نہ آجائے جس سے اس غریب ضرورت مند کی دل شکنی ہو۔ فرمایا کہ انسان کسی سے دو میٹھے بول بول لے وہ اس صدقہ سے کہیں بہتر ہے جس کے دینے کے بعد کسی کو طعنہ دے کر اس کا دل دکھایا جائے۔
Ayah 2:266

اَیَوَدُّ اَحَدُكُمْ اَنْ تَكُوْنَ لَهٗ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّ اَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ لَهٗ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ۙ وَ اَصَابَهُ الْكِبَرُ وَ لَهٗ ذُرِّیَّةٌ ضُعَفَآءُ١۪ۖ فَاَصَابَهَاۤ اِعْصَارٌ فِیْهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 2:266 in the Quran reader

کیا تم میں سے کوئی شخص بھی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا ایک کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو اس کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں۔ اس کے لئے اور بھی طرح طرح کے پھل اور میوے ہوں۔ ادھر اس کو بڑھا پا پہنچ چکا ہو اور اس کے چھوٹے چھوٹے کمزور ناتواں بچے ہوں۔ پھر اس ہر ے بھرے باغ میں (اچانک) آگ سے بھرا ہوا ایک بگولا آجائے جو اس کے باغ کو راکھ کا ڈھیر بنا دے ؟ اللہ ان آیتوں کو واضح طریقے سے بیان کرتا ہے تا کہ غور وفکر کرسکو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 266 ایود (کیا پسند ہے (ا، یود) ۔ احدکم (تم میں سے کسی کو بھی) ۔ نخیل (کھجور) ۔ اعناب (انگور (عنب کی جمع) تجری۔ ۔۔ چلتی ہو ، بہتی ہو) ۔ الکبر (بڑھاپا) ۔ ذریۃ ضعفاء (چھوٹے ناتواں بچے ہوں) ۔ اعصار (بگولا) ۔ احترقت (اس نے جلا ڈالا) ۔ تشریح : آیت نمبر 266 اس مثال میں اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا ہے کہ جب ایک شخص اس بات کو گوارا نہیں کرسکتا کہ اس کی زندگی بھر کی پونچی یوں اس کی نظروں کے سامنے برباد ہوجائے فرمایا کہ سوچ لو قیامت کا دن بھی ایسا ہی ہوگا جب کچھ بھی کمانے کا موقع نہیں ہوگا، کوئی تمہاری امداد نہیں کرسکتا اس روز تمہیں اپنی زندگی بھر کے نیک اعمال کی کتنی شدید ضرورت ہوگی۔ اگر بداعمالیوں کے بگولوں سے تم نے اپنے ایمان و اعمال کو جلا کر خاک کرلیا تو وہ بےسروسامانی کے دن تمہیں کس قدر حسرت اور افسوس سے واسطہ پڑے گا۔ اگر تم ان حالات سے دوچار ہونا نہیں چاہتے تو اپنے اعمال کو دکھاوے اور ناجائز طریقوں سے بچاؤ۔