2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 2:94–96

قُلْ اِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:94 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کے ہاں آخرت کا گھر سوائے تمہارے کسی اور کے لئے نہیں ہے، اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو۔

وَ لَنْ یَّتَمَنَّوْهُ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:95 in the Quran reader

اپنے اعمال کے سبب جو انہوں نے آگے بھیجے ہیں موت کی تمنا ہرگز نہ کریں گے۔ لیکن اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

وَ لَتَجِدَنَّهُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰى حَیٰوةٍ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۛۚ یَوَدُّ اَحَدُهُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَةٍ١ۚ وَ مَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهٖ مِنَ الْعَذَابِ اَنْ یُّعَمَّرَ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:96 in the Quran reader

اے نبی ﷺ آپ ان کو زندگی کے بارے میں زیادہ لالچی پائیں گے بلکہ مشرکوں سے بھی زیادہ۔ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اس کی عمر ایک ہزار سال کی ہوجائے۔ لیکن اگر عمر زیادہ ہو بھی جائے تو ان کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی نہیں ہے ۔ اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 94 تا 96 الدار الاخرۃ (آخرت کا گھر، (جنت) ۔ خالصۃ (خالص۔ (جس میں کوئی شریک نہ ہو) ۔ تمنوا (تم تمنا کرو) ۔ لن یتمنوہ (وہ اس کی ہرگز تمنا نہ کریں گے) ۔ ابدا (ہمیشہ (کبھی بھی) ۔ قدمت (آگے بھیجا) ۔ ایدیھم (ان کے ہاتھ) ۔ تجدن (تو ضرور پائے گا) ۔ احرص الناس (لوگوں میں زیادہ لالچی) ۔ الذین اشرکوا (جنہوں نے شریک کیا) ۔ یود (پسند ہے) ۔ احدھم (ان میں سے ہر ایک کو) ۔ یعمر (زیادہ بڑی عمر ہوجائے) ۔ مزحزح (بچانے والا، چھٹکا را دلانے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 94 تا 96 دنیا پرست یہودی جہاں اپنے آپ کو اللہ کے بیٹے اور محبوب سمجھ کر گھمنڈ رکھتے تھے وہیں ان کا خیال تھا کہ آخرت میں تمام فضل وانعام اور وہاں کی راحتوں کے وہ تنہا حق دار ہیں جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہو سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا اگر تمہیں اس بات پر فخر و ناز ہے کہ تم ہی اللہ کے محبوب بیٹے ہو (نعوذ باللہ) اور آخرت کی زندگی کی راحتیں بھی تمہارے ہی لئے ہیں تو پھر اس دنیا کی مصیبتیں کیون جھیل رہے ہو۔ موت کی تمنا کرو۔ کیونکہ یہ زندگی ہی تو جنت کی راحتوں میں آڑ اور رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ موت کی تمنا تو کیا کریں گے یہ اہل کتاب تو دنیا کی طویل زندگی کی تمنا میں ان مشرکوں سے بھی آگے بڑھ گئے ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد شکنیوں، بد اعتقادیوں اور بد اعمالیوں کی انتہا کردی ہے وہ آخرت کی تمنا کیسے کرسکتے ہیں ؟ اگر ان کو اس بات کا یقین ہوتا کہ جنت کی راحتیں ان کے سوا کسی کو نہیں ملیں گی تو یہ اس دنیا کی زندگی کے لئے ہزار سال کی عمر کی تمنا نہ کرتے، فرمایا اگر ان کی اتنی لمبی عمریں بھی ہوجائیں تو کیا وہ اللہ کے اس عذاب اور سزا سے بچ سکتے ہیں جو ان کے لئے مقدر کردیا گیا ہے۔
Ayahs 2:97–103

قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِیْلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:97 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان لوگوں سے جو جبرائیل کے دشمن ہیں کہہ دیجئے کہ بیشک وہ تو اللہ کے حکم سے آپ کے قلب پر یہ کلام اتارتا ہے۔ وہ کلام جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے۔ اور یہ قرآن مومنوں کے لئے رہنما اور خوشخبری ہے۔

مَنْ كَانَ عَدُوًّا لِّلّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ جِبْرِیْلَ وَ مِیْكٰىلَ فَاِنَّ اللّٰهَ عَدُوٌّ لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:98 in the Quran reader

جو اللہ، اس کے فرشتوں ، رسولوں، جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہے اللہ ان کا فروں کا دشمن ہے

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ۚ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَاۤ اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 2:99 in the Quran reader

اور (اے نبی ﷺ ہم نے آپ پر اپنی کھلی ہوئی نشانیاں نازل کی ہیں جن کا انکار وہی کرسکتے ہیں جو نافرمان ہیں۔

اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:100 in the Quran reader

کیا ایسا نہیں ہوا کہ جب کبھی بھی انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان ہی میں سے ایک جماعت نے اس عہد کو توڑ دیا بلکہ اکثر اس پر یقین ہی نہیں رکھتے۔

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ١ۙۗ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ٘ Open ayah 2:101 in the Quran reader

اور جب بھی ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول اس کی تصدیق کرتا ہوا آیا جو ان کے پاس ہے تو اہل کتاب ہی میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے اس طرح پھینک دیا جیسے وہ اسے جانتے ہی نہیں۔

وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰى مُلْكِ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ١ۗ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ١ؕ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰى یَقُوْلَاۤ اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ١ؕ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ١ؕ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ١ؕ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ١ؕ۫ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:102 in the Quran reader

اور اس کے پیچھے پڑگئے جو سلیمان کے دور حکومت میں شیطان پڑھا کرتے تھے حالانکہ سلیمان (علیہ السلام) نے یہ کفر نہیں کیا بلکہ شیطانوں نے کفر کیا جو لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے اور اس کے پیچھے پڑگئے جو بابل میں دو فرشتوں ہاروت و ماروت پر نازل کیا گیا تھا۔ حالانکہ وہ دونوں جب بھی کسی کو کچھ سکھاتے تو یہ ضرور کہتے کہ ہم تو محض ایک آزمائش کے لئے ہیں تم تو کفر نہ کرو۔ مگر وہ لوگ ان دونوں سے وہی سیکھتے تھے جو شوہر اور بیوی کے درمیان جدائی ڈال دے۔ حالانکہ وہ لوگ اس جادو کے ذریعہ سے کسی کو بھی اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے، یہ وہ چیزیں سیکھتے تھے جو ان کو نقصان پہنچانے والی تھیں اور ان کو نفع دینے والی نہیں تھیں۔ اور وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ جس نے جادو سیکھا آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ وہ کتنی بری چیز ہے جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ دیا۔ کاش وہ اس کو سمجھتے۔

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌ١ؕ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:103 in the Quran reader

اور اگر وہ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو انہیں اللہ کے ہاں زیادہ بہتر بدلہ ملتا، کاش کہ وہ اس کو جانتے ہوتے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 97 تا 103 عدو (دشمن) ۔ قلب (دل) ۔ بشری (خوش خبری) ۔ عھدوا (انہوں نے وعدہ کیا) ۔ نبذ (پھینک دیا) ۔ اوتوالکتب (کتاب دی گئی (اہل کتاب) ۔ ظھور (ظہر، پیٹھ) ۔ کانھم (گویا کہ وہ سب) ۔ تبعوا (انہوں نے پیروی کی، پیچھے لگے) ۔ ملک (سلطنت، حکومت) ۔ السحر (جادو) ۔ بابل (ایک شہر کا نام ) ۔ ما یعلمان (وہ دونوں نہیں سکھاتے تھے ) ۔ فتنۃ (آزمائش) ۔ یفرقون (جدائی ڈالتے ہیں) ۔ المرء (مرد) ۔ زوج (بیوی) ۔ بضارین (نقصان پہنچانے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 97 تا 103 انسان جب بغض و حسد، ضد اور فرقہ پرستی کے جنون میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر وہ سامنے کی معمولی سی بات کو بھی سمجھنے کی اہلیت کھو بیٹھتا ہے۔ یہودیوں نے اپنی پست ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرآن مجید اور نبی کریم ﷺ کی مخالفت اور ضد میں یہاں تک کہنا شروع کردیا کہ اے محمد ﷺ ! ہم آپ پر تو ایمان لے آتے ہمارے لئے رکاوٹ یہ ہے کہ آپ کے پاس جبرئیل فرشتہ آتا ہے جس سے ہماری دشمنی ہے۔ یہی فرشتہ تھا جس کی وجہ سے بہت سی مرتبہ ہمارے اوپر آفتیں آئی ہیں۔ اگر میکائیل وحی لے کر آتے تو ہم ایمان لانے پر غور بھی کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جبرئیل تو اللہ کے حکم سے قلب مصطفیٰ ﷺ پر میرا کلام لے کر نازل ہوتے ہیں، کیا موسیٰ (علیہ السلام) پر کوئی اور فرشتہ وحی لے کر نازل ہوا تھا ؟ بات یہ ہے کہ تم جبرئیل کو نہیں بلکہ اللہ کا اس کے رسولوں کا انکار کر رہے ہو۔ فرمایا اے نبی ﷺ آپ ان سے صاف صاف کہہ دیجئے کہ جو بھی اللہ کا اس کے رسولوں کا فرشتوں کا اور جبرئیل و میکائیل کا دشمن ہے اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔ فرمایا گیا کہ آج اگر یہ حضرت محمد ﷺ پر طرح طرح کے الزامات لگا رہے ہیں تو یہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے انہوں نے بہت سے انبیاء پر الزامات لگا کر بڑی گھٹیا ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ہم نے تو جادو حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے سیکھا ہے اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) آخری عمر کے حصے میں توحید کو چھوڑ کر اپنی مشرک بیویوں کے جھوٹے معبودوں کی عبادت کرنے لگے تھے (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کفر سلیمان (علیہ السلام) نے نہیں کیا اور نہ انہوں نے جادو جیسی حرام چیز کسی کو سکھائی دوسری بات یہ ہے کہ ہاروت ماروت دو فرشتے جو انسانی شکلوں میں بابل کے لوگوں کی آزمائش کے لئے بھیجے گئے تھے بنی اسرائیل ان سے ایسے ایسے جادو سیکھنے کی خواہش رکھتے تھے کہ جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ہوجائے اور یہ اس کو ہتھیالیں۔ حالانکہ ہاروت وماروت کوئی بات بھی سکھانے سے پہلے ان کو اس سے آگاہ کردیا کرتے تھے کہ دیکھو تم یہ چیزیں نہ سیکھو جو تمہاری آخرت کو برباد کرنے والی ہیں۔ ہم تمہاری آزمائش کے لئے آئے ہیں مگر وہ لوگ ایسی چیزیں سیکھا کرتے تھے جو ان کو نفع کم اور نقصان زیادہ دینے والی تھیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کاش یہ لوگ ان جہالتوں کے بجائے ایمان اور تقویٰ کا راستہ اختیار کرتے تو شاید ان کو دنیا اور آخرت کی بہت سی بھلائیاں نصیب ہوجاتیں اور وہ اللہ کے ہاں بہتر درجہ پاتے لیکن انہوں نے ہمیشہ غلط راستے اور الزامات کی روش کو اختیار کیا۔ جو یقیناً ان کی دنیا کے ساتھ آخرت کو بھی برباد کرنے والی ہے۔
Ayahs 2:104–107

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:104 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم “ راعنا ” مت کہا کرو “ انظرنا ” کہو اور غور سے سنا کرو۔ کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔

مَا یَوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ لَا الْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ خَیْرٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 2:105 in the Quran reader

اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر ہیں ان کو یہ بات سخت ناپسند ہے کہ کوئی بھلائی کی بات تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے اوپر نازل کی جائے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے خاص کرلیتا ہے وہ بڑے ہی فضل والا ہے۔

مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:106 in the Quran reader

ہم جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں (اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ) اس کے برابر یا اس سے بہتر آیت بھیج دیں۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 2:107 in the Quran reader

کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت اللہ ہی کے لئے ہے اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی ہے اور نہ مددگار۔

لغات القرآن : آیت نمبر 104 تا 107 لا تقولوا (تم نہ کہو) ۔ انظرنا (ہماری طرف دیکھیے) ۔ یختص (خاص کرتا ہے) ۔ ذو الفضل (فضل و کرم والا) ۔ ما ننسخ (ہم منسوخ نہیں کرتے) ۔ ننس (ہم بھلا دیتے ہیں) ۔ نات (ہم لے کر آتے ہیں) ۔ الم تعلم (کیا تو نہیں جانتا ) ۔ تشریح : آیت نمبر 104 تا 107 “ راعنا ” کے معنی ہیں۔ “ ہماری رعایت کیجئے ” یہ لفظ اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب کوئی بات سمجھ میں نہ آرہی ہو یا بات تو سمجھ میں آرہی ہو مگر سننے والا اس کی مزید وضاحت چاہتا ہو۔ لیکن اگر اسی لفظ کو ذرا زبان دبا کر “ راعینا ” کہا جائے تو پھر اس کے معنی ہوتے ہیں “ ہم میں سے بیوقوف ” “ ہمارا چرواہا ” وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے اے ایمان والو ! تم راعنا مت کہا کرو کیونکہ اس لفظ کے دو معنی ہو سکتے ہیں جس میں ایک پہلو ہمارے پیارے نبی ﷺ کے لئے توہین آمیز بھی ہے۔ بات یہ تھی کہ بعض یہودی اپنی منافقانہ ذہنیت کی تسکین کے لئے حضور اکرم ﷺ کی مجلس میں شریک ہوتے اور بار بار “ راعنا راعنا ” کہتے حالانکہ وہ زبان دبا کر “ راعینا راعینا ” کہتے تھے جس میں رسول اللہ ﷺ کی توہین کرنا، دلی بغض و حسد کی آگ کو ٹھنڈا کرنا اور اللہ کے رسول کو دوسروں کی نظروں میں ذلیل کرنا مقصود ہوتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے فرمایا ہے کہ تم رسول کی ہر بات کو پوری توجہ اور غور سے سنو لیکن اگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو راعنا کے بجائے انظرنا کہا کرو جس کے معنی ہیں “ ہماری طرف توجہ فرمائیے ” اس سے مخلصین اور منافقین کا فرق بھی واضح ہوجائے گا اور توہین رسول کے ادنی شائبہ سے بھی بچاجا سکے گا۔ فرمایا مشرکین اور اہل کتاب کو یہ بات ایک نظر نہیں بھاتی کہ تمہیں کوئی بھی خیر کی بات پہنچے حالانکہ اللہ جس کو چاہتا ہے خیر اور بھلائی کے لئے منتخب کرلیتا ہے۔ اس کائنات میں جو بھی تبدیلی کرنا چاہتا ہے کر گزرتا ہے کسی کو رکھے یا مٹادے یہ کائنات اس کی ہے اس کو پورا اختیار ہے۔
Ayahs 2:108–112

اَمْ تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَسْئَلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُئِلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَبَدَّلِ الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 2:108 in the Quran reader

کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے رسول سے بھی وہ سوالات کرو جس طرح اس سے پہلے موسیٰ سے سوال کئے گئے تھے (یاد رکھو) جو کوئی بھی ایمان کے بدلے کفر کا سودا کرتا ہے یقیناً وہ شخص سیدھی راہ سے بھٹک جاتا ہے

وَدَّ كَثِیْرٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِكُمْ كُفَّارًا١ۖۚ حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ١ۚ فَاعْفُوْا وَ اصْفَحُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:109 in the Quran reader

اہل کتاب میں سے اکثر دلی بغض و حسد کی وجہ سے یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان لانے کے بعد پھر سے کفر کی طرف دھکیل دیں حالانکہ حق ان پر بالکل واضح ہوچکا ہے ۔ تم ان سے اس وقت تک درگزر کرو جب تک اللہ کی طرف سے ان کے حق میں کوئی فیصلہ نہ آجائے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ وَ مَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَیْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 2:110 in the Quran reader

تم نماز قائم کرو، زکوٰۃ دیتے رہو ، تم جو بھی بھلائی کے کام اپنے لئے کرو گے، اس کو اللہ کے پاس موجود پاؤ گے ۔ بلاشبہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

وَ قَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّةَ اِلَّا مَنْ كَانَ هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ تِلْكَ اَمَانِیُّهُمْ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:111 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ کوئی بھی شخص اس وقت جنت میں داخل نہ ہو سکے گا جب تک وہ عیسائی یا یہودی نہ ہو فرمایا یہ ان کی محض تمنائیں ہیں۔ کہہ دیجئے اگر تم سچے ہو تو اس کا کوئی ثبوت لے کر آؤ۔

بَلٰى١ۗ مَنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٗ لِلّٰهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ فَلَهٗۤ اَجْرُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١۪ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۠ Open ayah 2:112 in the Quran reader

ہاں کیوں نہیں، جس نے اپنی گردن اللہ کے لئے جھکا دی اور وہ نیک کام کرنے والا بن گیا تو اس کا اجر اس کے پروردگار کے پاس ہے، ایسے لوگوں پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 108 تا 112 ام (کیا) ۔ تریدون (تم چاہتے ہو) ۔ ان تسئلوا (یہ کہ تم سوال کرو) ۔ سئل (پوچھا گیا) ۔ تبدل (تبدیل کرے) ۔ ضل (بھٹک گیا) ۔ سواء السبیل (سیدھا راستہ) ۔ ود (پسند ہے) یردونکم (وہ تمہیں پلٹا دیں گے) ۔ حسد (جلن، بغض) ۔ تبین (واضح ہوگیا، کھل گیا) ۔ اعفوا (معاف کرو) ۔ اصفحوا (درگذر کرو، خیال بھی نہ کرو) ۔ حتی یاتی (جب تک نہ آئے) ۔ بامرہ (اپنا حکم، اس کا فیصلہ) ۔ تقدموا (تم آگے بھیجو گے ) ۔ تجدوہ (تم اس کو پالوگے) ۔ ھاتوا (لے آؤ) برھان (دلیل ) اسلم (جس نے جھکا دیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 108 تا 112 کسی بات کو معلوم کرنے اور سمجھنے کے لئے معقول اور نیک نیتی سے سوال کرنا قطعاً بری بات نہیں ہے نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے “ العلم بالسوال ” علم پوچھنے سے آتا ہے۔ لیکن وہ بےت کے اور بےڈھنگے سوالات جن کا مقصد عمل کرنا نہیں بلکہ عمل سے بھاگنا ہے ایسے سو الا ت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ بنی اسرائیل کا سب سے بڑ عیب ہی یہ تھا کہ وہ اپنے نبی سے طرح طرح کے بےت کے سوالات کرتے تھے تا کہ عمل سے فرار کی کوئی راہ نکل سکے۔ گائے کے واقعے میں آپ نے ملاحظہ کیا ہے کہ اگر وہ پہلے ہی حکم پر کوئی بھی گائے ذبح کرلیتے تو ان کی ساری مشکل حل ہوجاتی مگر انہوں نے بد نیتی سے اتنے سوالات کئے تا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بےزار ہو کر انہیں گائے کے بجائے کسی اور جانور کے ذبح کا حکم دے دیں۔ لیکن وہ اللہ اور اس کے رسول کو عاجز تو نہیں کرسکتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل خود ہی اس گائے کو تلاش کرتے کرتے تھک گئے۔ اگر اللہ ان پر رحم و کرم نہ کرتا تو وہ اسی طرح بھٹکتے رہتے بنی اسرائیل نے دلی بغض و حسد کی بناء پر سیدھے سادھے مسلمانوں میں طرح طرح کے شبہات پیدا کرنے شروع کر دئیے تھے تا کہ مسلمان بھی اپنے نبی سے سوالات کر کر کے اپنے ایمان کو خراب کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے مومنو ! تم بنی اسرائیل کی روش پر چل کر اپنے نبی سے وہ سوالات نہ کرو جس سے تم بھی بےعملی کی راہ پر چل پڑو بلکہ تم نماز اور زکوٰۃ کے نظام کو قائم کر کے بھلائیاں پھیلاؤ۔ اس راہ میں جو بھی تم عمل کرو گے وہ اللہ کے ہاں محفوظ ہوگا اور وہ تمہیں آخرت میں مل جائے گا، نجات کا دارو مدار ایمان اور عمل صالح پر ہے۔ محض تمناؤں اور آرزوؤں سے جنت نہیں ملتی۔ یہودیوں کا یہ کہنا کہ جب تک کوئی شخص یہودی یا عیسائی نہ ہوجائے اس وقت تک کوئی جنت میں داخل نہ ہوگا محض ان کی بےدلیل خیالی تمنائیں ہیں جن کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ فرمایا گیا کہ اے مومنو ! تم ان کی باتوں کی پرواہ نہ کرو، تم اللہ کے سامنے اپنی گردن جھکائے رہو پھر تمہارے لئے نہ خوف ہوگا۔ اور نہ غم۔ یعنی جنت کی راحتیں عطا فرمائی جائیں گی۔
Ayahs 2:113–117

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰى عَلٰى شَیْءٍ١۪ وَّ قَالَتِ النَّصٰرٰى لَیْسَتِ الْیَهُوْدُ عَلٰى شَیْءٍ١ۙ وَّ هُمْ یَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ مِثْلَ قَوْلِهِمْ١ۚ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 2:113 in the Quran reader

یہودی تو کہتے ہیں کہ عیسائی کسی بنیاد پر نہیں اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودی کسی راہ پر نہیں اس کے باوجود کہ وہ دنوں (ایک دوسرے کی) کتاب پڑھتے ہیں۔ اس طرح کی بات وہ بھی کرتے ہیں جو (دین کے) علم سے جاہل ہیں۔ پھر اللہ ہی ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآئِفِیْنَ١ؕ۬ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 2:114 in the Quran reader

اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام لینے سے منع کرتا ہو اور اس کی بربادی اور ویرانی کی کوششوں میں لگا رہتا ہو۔ ان کی حالت تو یہ ہونی چاہئے تھے کہ وہ ان مسجدوں میں اللہ سے ڈرتے ہوئے داخل ہوتے۔ ان کے لئے دنیا میں بھی ذلت ہے اور آخرت میں بڑا عذاب ہے ۔

وَ لِلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ۗ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:115 in the Quran reader

مشرق و مغرب اللہ ہی کے لئے ہے، تم جس طرف بھی منہ پھیرو گے وہیں اللہ کو پاؤ گے۔ بیشک اللہ بےانتہا بخشش کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا١ۙ سُبْحٰنَهٗ١ؕ بَلْ لَّهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ كُلٌّ لَّهٗ قٰنِتُوْنَ Open ayah 2:116 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنا رکھا ہے حالانکہ اس کی ذات تو ان چیزوں سے پاک ہے۔ بلکہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے سب اسی کے فرماں بردار ہیں۔

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 2:117 in the Quran reader

وہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ جب وہ کسی کام کا حکم دیتا ہے تو یہی کہتا ہے “ ہوجا ” تو وہ ہوجاتا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 113 تا 117 قالت (کہا) ۔ علی شیء (کسی حقیقت پر، کسی بنیاد پر) ۔ یتلون (وہ پڑھتے ہیں) ۔ یحکم (فیصلہ کرے گا) ۔ بینھم (ان کے درمیان) ۔ تختلفون (وہ اختلاف کرتے ہیں ) ۔ اظلم (زیادہ ظلم) ۔ منع (روک دیا) ۔ ان یذکر (یہ کہ یاد کیا جائے) ۔ سعی (و ہ کوشش کرتا ہے۔ اس نے کوشش کی) ۔ خراب (بربادی، خرابی) ۔ خائفین (ڈرنے والے) ۔ خذی (رسوائی) اینما (جس طرف) ۔ وجہ اللہ (اللہ کا چہرہ، یعنی اللہ کی ذات موجود ہے) ۔ ولد (بیٹا) ۔ سبحانہ (اس کی ذات پاک اور بےعیب ہے) ۔ قانتون (فرماں بردار، جھکنے والے) ۔ بدیع (پیدا کرنے والا) ۔ قضی (اس نے فیصلہ کرلیا) ۔ کن (ہوجا) ۔ یکون (وہ ہوجاتا ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 113 تا 117 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد نبی کریم ﷺ سے ملاقات کرنے اور بعض مسائل پر بحث کرنے کے لئے آیا اس موقع پر اتفاقاً کچھ یہودی علماء بھی آگئے ۔ عیسائیوں اور یہودیوں میں باہمی گفتگو شروع ہوئی بات کچھ اتنی آگے بڑھ گئی کہ گفتگو نے مناظرے کی شکل اختیار کرلی، رافع ابن حرملہ یہودی نے کہا اے نصاریٰ تمہارے دین کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ کوئی بنیاد ہے۔ اس پر عیسائی بھڑک اٹھے کہنے لگے اے یہود تم کس حقیقت پر ہو تمہارا تو کوئی دین ہی نہیں ہے۔ یہ مناظرہ اس حد تک آگے بڑھ گیا کہ ایک نے دوسرے کی جی بھر کر توہین و تذلیل کی، اور ایک دوسرے کو کافر ٹھہرانے لگے۔ ان آیات میں اسی مناظرہ کے متعلق فرمایا گیا ہے کہ جب تو ریت میں حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کے آنے کی خوشخبری اور ان کی رسالت و نبوت کا ذکر موجود ہے، توریت پر ایمان رکھنے والے یہودیوں کو اس کا حق نہیں پہنچتا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کریں۔ اسی طرح انجیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کی بیشمار شہادتیں موجود ہیں ۔ نصاریٰ کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار زیب نہیں دیتا۔ جس طرح یہودی اور عیسائی ایک دوسرے کو کافر اور بےدین قرار دے رہے تھے ان کے دیکھا دیکھی عرب کے وہ مشرکین جو بالکل جاہل اور اللہ کی کتاب سے ناواقف تھے انہوں نے یہودی اور عیسائی دونوں کے متعلق یہ کہہ دیا کہ دونوں بےدین ہیں اور ان کے مذہب کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس دنیا میں جو یہ ایک دوسرے کو کافر قرار دے رہے ہیں اس کا فیصلہ تو قیامت کے دن اللہ ہی کرے گا لیکن ان سب کے ہاتھوں جس طرح اللہ کی مسجدوں کی بےحرمتی اور بےعزتی ہو رہی ہے وہ ان کے جرائم کی منہ بولتی تصویر ہے اس کا فیصلہ تو انہیں خود ہی کرلینا چاہئے ! چناچہ روم کے عیسائیوں نے یہودیوں سے انتقام لینے کے لئے فلسطین پر حملہ کیا، بیت المقدس کی حرمت کا خیال کئے بغیر اس کو کھنڈر اور ویرانہ بنا دینے میں کوئی کسراٹھا نہ رکھی ، تو ریت کو جلایا گیا، وہاں کے لوگوں کی بےعزتی کی گئی، اسی طرح یہودیوں نے عیسائیوں کی عبادت گاہوں کی کئی مرتبہ بےحرمتی کی کوشش کی، یہ وہ جرائم ہیں جن کو تاریخ کے صفحات سے مٹایا نہیں جاسکتا، اسی روش پر چلتے ہوئے محض ، بغض وعناد اور تعصب کی وجہ سے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو حدیبیہ کے مقام پر بیت اللہ کی زیارت و عبادت سے روکا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا گھر ہے جس کے ادب و احترام کا تقاضا یہ تھا کہ اس میں لرزتے کانپتے داخل ہوتے مگر بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی، ان سے بڑھ کر اور کون ظالم ہو سکتا ہے ؟ دوسرا ظلم یہ ہے کہ انہوں نے ایک اللہ کو چھوڑ کر کتنے معبود بنا رکھے ہیں، یہودیوں نے حضرت عزیرعلیہ السلام کو عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنا دیا ہے جبکہ اللہ اور اس کی شان اس سے بلندو برتر ہے ، جب ساری کائنات اسی کی ملک ہے۔ مشرق و مغرب کا وہی مالک ہے جس کام کو ہونے کے لئے کہتا ہے وہ وہ جاتا ہے ساری دنیا اس کی محتاج ہے وہ کسی کا محتاج نہیں ہے پھر اس کو آخر بیٹا بنانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔
Ayahs 2:118–121

وَ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ لَوْ لَا یُكَلِّمُنَا اللّٰهُ اَوْ تَاْتِیْنَاۤ اٰیَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ قَالَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّثْلَ قَوْلِهِمْ١ؕ تَشَابَهَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ Open ayah 2:118 in the Quran reader

بےعلم لوگ کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں آتے (اے نبی ﷺ ان سے پہلے بھی لوگ اسی طرح کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ان کے دل آپس میں ایک جیسے ہیں۔ ہم نے یہ نشانیاں ان لوگوں کے لئے بیان کردی ہیں جو یقین رکھتے ہیں

اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا١ۙ وَّ لَا تُسْئَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ Open ayah 2:119 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ بیشک ہم نے آپ کو سچا دین دے کر خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور آپ سے جہنم میں جانے والوں کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا۔

وَ لَنْ تَرْضٰى عَنْكَ الْیَهُوْدُ وَ لَا النَّصٰرٰى حَتّٰى تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ مَا لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍؔ Open ayah 2:120 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ وہ یہودی اور عیسائی اس وقت تک آپ سے خوش نہیں ہو سکتے جب تک آپ ان ہی کے طریقوں پر نہ چلنے لگیں ۔ آپ کہہ دیجئے بیشک ہدایت تو وہی ہدایت ہے جو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر آپ علم آجانے کے بعد ان کی خواہشات کی پیروی کرلیں گے تو آپ کو اللہ سے بچانے والا کوئی حمایتی مددگار نہ ملے گا۔

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 2:121 in the Quran reader

وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی تلاوت اسی طرح کرتے ہیں جیسا اس کی تلاوت کا حق ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو اس کا انکار کرتے ہیں وہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 118 تا 121 لو لا یکلمنا (ہم سے بات کیوں نہیں کرتا) ۔ تشابھت (ایک جیسے ہیں، ملتے جلتے ہیں ) ۔ قد بینا (یقیناً ہم نے بیان کیا، واضح کردیا) ۔ ارسلنک (ہم نے آپ کو بھیجا) ۔ لا تسئل (تو نہیں پوچھا جائے گا) ۔ اصحب الجحیم (دوزک والے) ۔ لن ترضی (وہ ہرگز خوشی نہ ہوں گے) ۔ حتی تتبع (جب تک تو پیروی نہ کرے) ۔ ملت (دین، طریقہ، مذہب) ھدی اللہ (اللہ کی ہدایت، اللہ کی رہنمائی) ۔ اتبعت (تو نے پیروی کی) ۔ اھواء (ھوا) خواہشات ، تمنائیں) ۔ ولی (حمایتی) نصیر (مددگار) ۔ حق تلاوتہ (اس کی تلاوت کا حق اداکرکے) ۔ تشریح : آیت نمبر 118 تا 121 جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیات نازل ہوتیں یا کوئی معجزہ سامنے آتا تو کفار کہا کرتے تھے کہ آخر اللہ ہم سے خود کلام کیوں نہیں کرتا یا ہمارے اوپر کوئی نشانی کیوں نازل نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آج جو بات یہ کہہ رہے ہیں کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں ہے اس سے پہلے کے لوگ بھی اپنے نبیوں سے یہ بات کہہ چکے ہیں کافرانہ ذہنیت کا مزاج ایک ہی ہوا کرتا ہے ۔ ان کے سامنے سینکڑوں کھلے ہوئے معجزات آئے لیکن ان کو دیکھ کر بھی وہ ایمان نہ لائے۔ جس کو ایمان لانا ہوتا ہے اس کو کسی معجزہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ ہم نے آپ کو خوشخبری دینے والا اور عذاب آخرت سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، آپ ﷺ کی ذات خود ایک کھلی ہوئی دلیل ہے اور معجزہ ہے یہ آپ کو دیکھ کر ایمان نہیں لاتے آپ کی ذات کے بعد ان کے لئے اور کون سا معجزہ یا نشانی باقی رہ جاتی ہے۔ آپ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ ان کے سامنے ہے، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ نے دنیا میں کسی انسان سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی لیکن آپ کی زبان مبارک سے اچانک وہ کلام ظاہر ہونے لگا جس کے سامنے تمام کفار، یہودی، نصاری اور منافق دم بخود ہیں جس قران کی ایک سورت بھی تمام مل کر بنا نہیں سکتے، تو اے نبی ﷺ آپ کی ذات اور قرآن کریم سے بڑھ کر وہ لوگ اور کس معجزہ یا نشانی کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں۔ آخر میں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کا یہ اعتراض برائے اعتراض ہے یہ اس وقت تک آپ سے خوش ہو ہی نہیں سکتے جب تک آپ ان ہی کے جیسے طریقوں کو اختیار نہ کرلیں۔ وہ طریقے جن پر چل کر کوئی بھی اللہ کی حمایت و نصرت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے جن لوگوں نے ان قرآن کو پڑھا ہے وہ اس کو اس طرح پڑھتے ہیں کہ اس کی تلاوت کا حق ادا کردیتے ہیں لیکن وہ لوگ جو اس کا انکار کرتے ہیں وہ زبردست خسارہ اور نقصان اٹھانے والے ہیں۔
Ayahs 2:122–123

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:122 in the Quran reader

اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) ! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تمہارے اوپر کی ہے، میں نے تمہیں تمام دنیا والوں پر بڑائی عطا کی تھی۔

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا تَنْفَعُهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:123 in the Quran reader

اس دن سے ڈرو جب ذرا بھی کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا نہ کسی کی طرف سے بدلہ قبول کیا جائے گا۔ نہ کسی کی سفارش کام آئے گی اور نہ ان کی کسی طرف سے مدد کی جائے گی۔

لغات القرآن : آیت نمبر 122 تا 123 عدل (معاوضہ) ۔ لا تنفع (نفع نہ دے گا) ۔ تشریح : آیت نمبر 122 تا 123 بنی اسرائیل کی زندگی کے خاص خاص واقعات ، ناشائستہ حرکات، نافرمانیوں ، عہد شکنیوں اور بےانتہا انعامات کے تفصیلی ذکر کے بعد آخر میں ایک مرتبہ ان کو پھر یاد دلایا گیا ہے کہ اے بنی اسرائیل یہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر کرم کئے تھے اور تمہیں دنیا کی زندگانی میں جو شرف اور برتری عطا کی گئی تھی وہ محض اللہ نے عطا کی تھی وہ اللہ جو انسانوں کی بیشمار خطاؤں اور گناہوں کے باوجود اپنی رحمت کے دروازے کسی پر بند نہیں کرتا۔ لیکن جب اس کا فیصلہ آجاتا ہے تو ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی اس کی گرفت سے کسی کو بچا نہیں سکتیں۔ بنی اسرائیل کو قیامت کے ہولناک دن کی طرف ایک مرتبہ پھر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ اس قدر ہولناک دن ہوگا جب کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا، تمام سہارے ٹوٹ جائیں گے، نہ سفارش کام آئے گی اور نہ کوئی کسی کی مدد کے لئے پہنچے گا۔ اس دن یہ بےجا فخرو غرور کہ تم انبیاء کی اولاد ہو یا (نعوذباللہ) اللہ کے بیٹے اور محبوب ہو کسی کام نہ آسکے گا۔ اس دنیا کی تنہائیوں کا ساتھ صرف ایمان اور عمل صالح ہوگا۔
Ayahs 2:124–129

وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ١ؕ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا١ؕ قَالَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ؕ قَالَ لَا یَنَالُ عَهْدِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:124 in the Quran reader

یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے پروردگار نے چند باتوں سے آزمایا تھا۔ اس نے ان کو پورا کر دکھایا ۔ پھر اللہ نے فرمایا اے ابراہیم میں تجھے سب لوگوں کا رہنما اور پیشوا بناؤں گا۔ ابراہیم نے عر ض کیا، کیا میری اولاد میں سے بھی ؟ (یہی عہد ہے) فرمایا یہ میرا عہد ظالموں کے لئے نہیں ہے۔

وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 2:125 in the Quran reader

اور یاد کر جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے واسطے مرکز اور پناہ کی جگہ بنا دیا تھا اور (کہا تھا کہ ) مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالو۔ ہم نے ہی ابراہیم و اسماعیل کی طرف یہ حکم بھیجا تھا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پا ک و صاف رکھنا۔

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهٖمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَدًا اٰمِنًا وَّ ارْزُقْ اَهْلَهٗ مِنَ الثَّمَرٰتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ قَالَ وَ مَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٗ قَلِیْلًا ثُمَّ اَضْطَرُّهٗۤ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 2:126 in the Quran reader

یا د کرو جب ابراہیم نے عرض کیا ۔ اے میرے پروردگار اس شہر کو امن والا شہر بنا دیجئے اور اس کے بسنے والوں میں سے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئیں ان کے لئے ہر طرح کے ثمرات کا رزق عطا فرمائیے ۔ فرمایا ! جو شخص ان میں سے کفر کا راستہ اختیار کرے گا میں اس کو بھی تھوڑے دن رزق پہنچاؤں گا مگر پھر اس کو جہنم کی طرف جبراً بلاؤں گا جو بدترین جگہ ہے۔

وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرٰهٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ١ؕ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 2:127 in the Quran reader

اور یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل (علیہ السلام) بیت اللہ کی بنیادیں بلند کر رہے تھے تو دعا کرتے جاتے تھے اے ہمارے پروردگار ہم نے (اس کوشش کو ) قبول فرما۔ بیشک آپ ہی سننے والے اور جاننے والے ہیں۔

رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَیْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ١۪ وَ اَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَ تُبْ عَلَیْنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:128 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہمیں بھی اپنا فرماں بردار بنا لیجئے اور ہماری اولادوں میں سے ایک جماعت کو اپنا فرمان بردار بنا لیجئے گا۔ ہمیں حج کرنے کے قاعدے اور مسائل سکھا دیجئے اور ہمیں معاف کر دیجئے، بلاشبہ آپ ہی توبہ قبول کرنے والے مہربان ہیں۔

رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِكَ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُزَكِّیْهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 2:129 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ان ہی میں سے ایک رسول بھیجئے جو آپ کی آیتیں تلاوت کرتا جائے اور تعلیم کتاب سے آراستہ کرتا جائے اور حکمت کی باتیں سکھا کر ان کے دلوں کو مانجھتا جائے۔ بیشک آپ زبردست حکمت والے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 124 تا 129 ابتلی (آزمایا) ۔ کلمت (چند باتیں) ۔ اتمھن (اس نے پورا کر دکھایا) ۔ امام (رہنما، پیشوا، سردار) ۔ ذریتی (میری اولاد) ۔ لا ینال (نہیں ملے گا) ۔ امن (امن و سکون کی جگہ) ۔ مصلی (نماز کی جگہ) ۔ طھرا (تم دونوں پاک رکھو گے) ۔ الطائفین (طواف کرنے والے) ۔ العاکفین (اعتکاف کرنے والے) ھذا بلدا (اس شہر کو ، اس بستی کو) ۔ امتع (میں سامان دوں گا، فائدہ دوں گا) ۔ اضطر (میں کھینچوں گا) ۔ المصیر (ٹھکانا) ۔ یرفع (بلند کرتا ہے) ۔ القواعد (دیواریں) مسلمین (فرماں بردار) ارنا ( ہمیں دکھا دے، ہمیں سکھا دے) ۔ مناسک (حج کے احکام، عبادت) ۔ ابعث (بھیج دے) ۔ یتلوا (تلاوت کرتا ہے، پڑھتا ہے) ۔ یعلم (سکھاتا ہے، تعلیم دیتا ہے) ۔ الحکمۃ (دانائی، پختہ علم ) ۔ یزکی (وہ پاک کرتا ہے) ۔ العزیز (زبردست) ۔ الحکیم (حکمت والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 124 تا 129 اللہ تعا لیٰ نے بنی اسرائیل کے تمام جرائم اور اللہ کی عطا کی ہوئی نعمتوں کی ناقدری کو پوری تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ آیات میں بنی اسرائیل کو یاد دلایا گیا ہے کہ اللہ نے ان پر اپنی نعمتوں کے ذریعے بڑا فضل و کرم کیا مگر انہوں نے ان نعمتوں کی ناقدری کی اور راہ راست کو چھوڑ کر ایسی ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیوں پر چلنا شروع کردیا جو راہ راست سے انسان کو بہت دور کردینے والی ہیں۔ اب واذا بتلی سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) سے ذکر خیر فرمایا ہے تا کہ بنی اسرائیل کو ان کے منصب امامت سے معزول کر کے بنی اسماعیل یعنی امت محمد یہ کو قیامت تک کے لئے ایسی ہدایات دی جائیں جو ان کے لئے مشعل بن جائیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مصر، عراق، فلسطین اور شام سے لے کر ریگستان جزیرۃ العرب کے کونے کونے میں گھوم پھر کر گم کردہ راہ انسانوں کو اللہ کے ابدی پیغام کی طرف دعوت دی۔ انہوں نے اس مقصد اور مشن کی تکمیل کے لئے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اندرون عرب حجاز میں حضرت اسحاق (علیہ السلام) کو شام و فلسطین میں اور اپنے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) کو شرق اردن کے علاقوں میں مقرر فرمایا۔ تا کہ معلوم دنیا کے اس مرکز میں رہنے والے انسانوں کو پھر سے اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کی طرف دعوت دی جاسکے۔ جن علاقوں میں حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو مقرر فرمایا۔ اللہ نے ان کو اور ان کی اولادوں کو اپنی نعمتوں سے نوازا، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) جو حضرت اسحاق (علیہ السلام) سے اٹھارہ سال بڑے تھے جزیرۃ العرب میں پروان چڑھایا، قریش اور عرب کے بعض قبائل کا تعلق انہی سے تھا۔ دوسری طرف حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد ارض شام و فلسطین میں خوب پھلی پھولی۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کی اولاد میں سے ہیں۔ چونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا اس لئے ان کے بارہ بیٹوں کی اولاد کو بنی اسرائیل کہا جانے لگا، جب یہی اولاد یعقوب (علیہ السلام) پستی اور تنزل میں مبتلا ہوئی تو پہلے یہودیت اور پھر عیسائیت نے جنم لیا۔ پھر یہ بات ارشاد فرمائی گئی کہ اب ہم نے بنی اسماعیل یعنی امت محمدیہ کو دنیا اور آخرت کی بھلائیوں سے سرفراز کردیا ہے۔ جس کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ ان میں وہ رسول ﷺ معبوث کئے گئے ہیں جن کے لئے حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی بنیادیں بلند کرتے وقت اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہوئے درخواست کی تھی۔ طریقہ وہی ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) اور دوسرے تمام نبیوں کا تھا رسول اللہ ﷺ کے پیرو کار ان تمام پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہیں جو اللہ کی طرف سے انسانیت کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے۔ یہ اسی راستے کی طرف لوگوں کو بلا رہے ہیں جس کی طرف انبیاء بلاتے رہے ہیں۔ لہٰذا اب آنے والی نسلوں کے لئے ان کی اقتدا ہی سر بلندی کا ذریعہ بنے گی۔