2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 2:55–56

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:55 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب تمموسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ہم تمہارے اوپر اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم اللہ کو اپنے سامنے نہ دیکھ لیں گے ۔ پھر تمہیں بجلی نے آگھیرا اور تم دیکھتے رہ گئے تھے

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:56 in the Quran reader

پھر ہم نے تمہیں تمہارے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کیا شاید کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔

لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 56 (قلتم): تم نے کہا۔ (لن نؤمن): ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ (نری): ہم دیکھیں گے۔ (جھرۃ): سامنے ، کھلم کھلا اعلانیہ۔ (اخذت): پکڑ لیا، آگھیرا۔ (بعثنا): ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 55 تا 56 جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے توریت لے کر واپس تشریف لائے تو وہ لوگ جو بچھڑے کی پوجا میں لگے ہوئے تھے ان میں سے بعض گستاخ لوگوں نے کہنا شروع کیا اے موسیٰ (علیہ السلام) تم کہتے ہو کہ اللہ تم سے باتیں کرتا ہے ہم اس بات کا کیسے یقین کرلیں ہم تو اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک اپنی آنکھوں اور کانوں سے سب کچھ دیکھ اور سن نہ لیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوری قوم میں سے ستر ذمہ دار لوگوں کا انتخاب کیا، ان کو طور پر لے گئے۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے کلام کیا تب بھی ان کو یقین نہ آیا کہنے لگے ہم تو اس وقت تک یقین نہ کریں گے جب تک خود اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے، اس گستاخی پر ایک ایسی زبردست چمک پیدا ہوئی جس میں ایک ہیبت ناک آواز بھی تھی۔ اس آواز کے اثر سے ان کے دلوں کی دھڑکنیں بند ہوگئیں اور وہ سب کے سب مر گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی رب العالمین میری قوم بہت جلد بدگمان ہوجاتی ہے وہ سمجھیں گے کہ میں نے دھوکے سے ان کو مار ڈالا ہے۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کرلیا اور ان کو دوبارہ زندہ کردیا۔ دوبارہ زندگی یقیناً ان کے لئے ایک بہت بڑا انعام تھا مگر اس کے بعد بھی انہوں نے اس کی قدر نہ کی۔
Ayah 2:57

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 2:57 in the Quran reader

ہم نے تمہارے اوپر بادل کا سایہ کیا، من وسلوی نازل کیا (اور کہا گیا) ہم نے تمہیں جو پاکیزہ چیزیں دی ہیں ان میں سے کھاؤ (اس کے بعد ) انہوں نے ہمارا تو کچھ نہیں بگاڑا البتہ وہ اپنے ہی نفسوں پر ظلم کرتے رہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 57 ظلمنا (ہم نے سایہ کردیا) ۔ الغمام (بادل، ابر) ۔ من (من، دھنیے کے دانوں کی طرح لذیذ اور شیریں روٹی کی طرح) ۔ السلوی (سلوی، (صحرائے سینا کا پرندہ ، بٹیر) ۔ ظلموا (انہوں نے ظلم کیا) ۔ ما ظلمونا (انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا) ۔ یظلمون (وہ ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔ تشریح : آیت نمبر 57 بنی اسرائیل کا اصل وطن شام (فلسطین ) تھا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے تمام بیٹے کنعان سے مصر آگئے تھے۔ اس وقت تو ان کی تعداد بہتر (72) تھی لیکن پھر ان کے بارہ بیٹوں کی اولاد پھیلتی گئی اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے بن گئے۔ عمالقہ کا دور حکومت تھا جنہوں نے اس پورے علاقے پر قبضہ کر رکھا تھا، عمالقہ نے نافرمانیوں اور بدکاریوں کی انتہا کردی تھی اس لئے بنی اسرائیل کو ان سے جہاد کر کے اس سرزمین کو آزاد کرانے کا حکم دیا گیا ، بنی اسرائیل نے صاف جواب دے دیا اور جہاد کرنے سے انکار کردیا جہاد سے انکار کی سزا یہ دی گئی کہ ان کو چالیس سال تک تیہ کے ریگستان کی خاک چھاننا پڑی۔ ان سب نافرمانیوں کے باوجود اللہ جس نے ہر ایک کو رزق اور زندگی کی آسائشیں عطا کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے ان کو من وسلوی ، پانی اور ریگستان کی شدید گرمی سے بچاؤ کے لئے بادل کا سایہ عطا فرمایا۔ بنی اسرائیل مصر سے جس بےسروسامانی میں لاکھوں کی تعداد میں نکلے تھے ان کے پاس خیمے تک نہ تھے، اگر ان پر بادل کا سایہ نہ کردیا گیا ہوتا تو وہ گرمی اور دھوپ کی شدت سے ہلاک ہوجاتے۔ “ من ” شیریں، لذیذ اور عمدہ غذا تھی۔ دھنیے کے دانوں کی طرح ہوتی تھی جہاں گرتی جم جاتی ۔ سلوی جو ریگستان سینا کا خاص پرندہ بٹیر ہے وہ لاکھوں کی تعداد میں ان کے اس قریب آجاتے کہ ایک بچہ بھی ان کو سہولت سے پکڑ سکتا تھا، بنی اسرائیل رات کے اندھیرے میں ان کو پکڑتے اور پھر ان کا گوشت پکا کر کھاتے۔ روٹی کی جگہ من عطا کی گئی تھی جو سختی میں روٹی کی طرح ہوتی تھی یہ بنی اسرائیل کے لئے اللہ کی طرف سے ایک انعام تھا مگر انہوں نے اس کی بھی قدر نہ کی اور اپنی مسلسل نافرمانیوں میں لگے رہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جو شخص نافرمانیوں میں لگا رہتا ہے اصل میں اپنا ہی نقصان کرتا ہے اور اپنی دنیا و آخرت برباد کرتا ہے۔ مگر ایسے لوگ اللہ کا تو کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتے البتہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی ضرور مار لیتے ہیں۔
Ayahs 2:58–59

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:58 in the Quran reader

اور جب ہم نے ان سے کہا کہ اس بستی میں داخل ہوجاؤ، جہاں سے چاہو بےتکلفی سے کھاؤ (مگر) دروازے میں جھکے جھکے داخل ہونا۔ اور زبان سے کہنا حطۃ (یعنی الٰہی توبہ) ہم تمہاری خطاؤں کو معاف کردیں گے اور اچھا طریقہ اختیار کرنے والوں کو ہم اور فضل و کرم سے نوازیں گے۔

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠ Open ayah 2:59 in the Quran reader

اس کے بعد ان ظالموں نے اس بات ہی کو بدل ڈالا جو ان سے کہی گئی تھی۔ پھر ہم نے ان ظالموں پر آسمان سے ان کی زیادتی کی وجہ سے عذاب نازل کیا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 58 تا 59 ادخلوا (داخل ہوجاؤ) ۔ القریۃ (بستی، آبادی، گاؤں) ۔ سجد (جھکے جھکے ، سجدہ کرتے ہوئے) ۔ حطۃ (الٰہی توبہ) ۔ نغفر (ہم معاف کردیں گے) ۔ خطیا (خطائیں ، لغزشیں) ۔ بدل (بدل ڈالا) ۔ غیر الذی قیل (جو کہی نہ گئی تھی) ۔ انزلنا (ہم نے نازل کیا، اتارا) ۔ رجز (عذاب، سزا) ۔ یفسقون (فسق کرتے ہیں، نافرمانیاں کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 58 تا 59 ملک شام کی ایک بستی “ یریحو ” جسے آج کل “ اریحا ” کہتے ہیں بڑی خوشحال بستی تھی۔ اس بستی والوں کو زندگی کی تمام سہولتیں اور راحتیں حاصل تھیں۔ سرسبزی و شادابی، پھلوں سے لدے ہوئے باغات اور کثرت سے پانی عطا کیا گیا تھا۔ مگر وہ زندگی کی ان راحتوں میں پڑ کر اللہ سے اور آخرت سے اس قدر غافل ہوچکے تھے کہ جھوٹ، فریب اور دھوکا دہی ان کی زندگی کا معمول بن کر رہ گیا تھا۔ بدکاریاں عروج پر پہنچ گئی تھیں۔ بالاخر اللہ کا فیصلہ آگیا۔ طرح طرح کی بیماریاں پھیل گئیں اور دیکھتے ہی دیکھتے چوبیس ہزار انسان لقمہ اجل بن گئے بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ تم اس بستی میں داخل ہوجاؤ۔ فتح تمہارے قدم چومے گی۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ جھکے جھکے داخل ہونا متکبروں کی طرح اکڑتے اتراتے داخل نہ ہونا۔ بلکہ عاجزی و انکساری کے ساتھ اس طرح جھکے جھکے داخل ہونا کہ تمہاری زبان پر گناہوں سے معافی کے کلمات ہوں۔ جب بنی اسرائیل اس بستی میں داخل ہوئے تو وہاں کی ظاہری چمک دمک دیکھ کر اللہ کے سارے احکامات کو بھول گئے، تکبر اور غرور کا انداز اختیار کرلیا اور حطۃ جس کے معنی گناہوں کی معافی کے ہیں اس لفظ کے بجائے انہوں نے حنطۃ حنطۃ یعنی گیہوں گیہوں کہنا شروع کردیا، اس کے علاوہ بڑی کثرت سے بدکاریوں میں مبتلا ہوگئے ۔ اس نافرمانی پر اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ ان میں طاعون پھیل گیا اور چند روز میں ستر ہزار بنی اسرائیل مر گئے۔ اس طرح وہ قوم جو اللہ کی فرماں برداری اور اطاعت کر کے اس کی رحمتوں کی مستحق بن سکتی تھی۔ نافرمانیوں میں مبتلا ہو کر اپنی دنیا و آخرت تباہ و برباد کر بیٹھی۔
Ayah 2:60

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 2:60 in the Quran reader

یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے واسطے پانی کی درخواست کی تو ہم نے کہا اپنی لاٹھی کو پتھر پر مارو پھر اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر شخص نے اپنے پانی پینے کی جگہ معلوم کرلی (کہا گیا کہ ) اللہ کا دیا ہوا رزق کھاؤ اور پیو لیکن زمین میں فساد پھیلاتے ہوئے نہ پھرو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 60 استسقیٰ (پانی مانگا) ۔ اضرب (تو مار، ضرب لگا) ۔ عصا (لاٹھی) ۔ انفجرت (بہ نکلی۔ (بہہ نکلے) ۔ اثنتا عشرۃ (بارہ) ۔ عینا (چشمہ ۔ (پانی کا چشمہ) ۔ قدم علم (یقیناً جان لیا تھا) ۔ کل اناس (سب لوگوں نے) ۔ مشرب (پینے کی جگہ، گھاٹ) ۔ لا تعثوا (نہ پھرو، بکھرے نہ پھرو) ۔ مفسدین (فساد کرنے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 60 جب بنی اسرائیل سینا کا ریگستان طے کر کے افیدیم پہنچے تو انہیں پانی نہ ملا، پیاس کی شدت اور سفر کی طوالت اور تکان نے ان کو بےحال اور پریشان کردیا تھا۔ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ اے موسیٰ ہم تو مصر ہی میں اچھے تھے کم از کم زندگی کی بنیادی ضروریات تو مل جایا کرتی تھیں آج ہم پانی کے قطرے قطرے کے لئے سخت پریشان ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی ، فرمایا گیا کہ تم اپنی قوم کے کچھ ذمہ دار بزرگوں کو ساتھ لے کر جاؤ۔ چٹان پر اپنا عصا مارو پانی دے دیا جائے گا۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسا ہی کیا اور عصا کے مارتے ہی اس چٹان سے بارہ چشمے بہہ نکلے۔ تمام قبیلے کے لوگوں نے اپنے اپنے پانی کے گھاٹ متعین کر لئے یہ چٹان جس سے بارہ چشمے بہہ نکلے تھے جزیرہ نمائے سینا میں آج تک موجود ہے پادری ڈین اسٹینلے نے انیسویں صدی عیسویں کے وسط میں بائبل کے مقامات مقدسہ کی جغرافیائی تحقیق کے لئے خود فلسطین کی سیر و سیاحت کی اور اپنے مشاہدات و تحقیقات کو شائع کیا۔ اس نے چٹان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ چٹان دس پندرہ فٹ کے درمیان بلند ہے۔ آگے کی طرف مڑی ہوئی ہے اور را آس سفسفہ کے قریب “ یجا ” کی وسیع وادیوں میں واقع ہے۔ بہر کیف اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جہاں بہت سے کرم کئے ان میں یہ بھی ایک بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے ریگستان میں بھی پانی کے چشمے بہا کر یہ بتا دیا کہ اس کائنات کے سارے نظام میں صرف اسی ایک ذات کی قدرت کارفرما ہے۔ لیکن بنی اسرائیل نے جہاں اللہ کی بہت سی عطا کی ہوئی نعمتوں کی ناقدری اور ناشکری کی اس نعمت کا بھی انہوں نے کوئی احسان نہ مانا اور فساد فی الارض میں کوئی کمی نہ کی۔
Ayah 2:61

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآئِهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا١ؕ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌ١ؕ اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ١ؕ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُ١ۗ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠ Open ayah 2:61 in the Quran reader

اور یاد کرو جب تم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ۔ ہم ایک ہی کھانے پر ہرگز صبر نہیں کرسکتے، آپ اپنے پروردگار سے دعا کر دیجئے کہ وہ ہمارے لئے ایسی چیزیں پیدا کر دے جو زمین سے اگتی ہوں (جیسے) ترکاری، ککڑی، گیہوں، مسور اور پیاز۔ ۔۔ ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا تم بہتر چیز کے مقابلہ میں ادنی چیز لینا چاہتے ہو ؟ ۔ (جاؤ) تم کسی شہر میں اتر پڑو۔ وہاں تمہیں وہ سب کچھ مل جائے گا جو تم مانگتے ہو۔ (آخرکار ) ذلت و محتاجی ان پر مسلط کردی گئی اور وہ غضب الٰہی کے مستحق بن گئے، یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ اللہ کے احکامات کا انکار کرتے اور ناحق اللہ کے نبیوں کو قتل کردیا کرتے تھے۔ یہ ان کی نافرنیوں اور حد سے بڑھ جانے کا نتیجہ تھا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 61 لن نصبر (ہم ہرگز صبرنہ کریں گے) ۔ طعام (کھانا) ۔ واحد (ایک) ۔ ادع (تو دعا کر) ۔ یخرج (نکال دے) ۔ تنبت (اگاتی ہے) ۔ بقل (ترکاری، ساگ ) ۔ قثاء (ککڑی) ۔ فوم (گیہوں ، (لہسن) ۔ عدس (مسور) ۔ بصل (پیاز) ۔ اتستبدلون (کیا تم بدلتے ہو) ۔ ادنیٰ (گھٹیا، معمولی، بےقیمت) ۔ خیر (زیادہ بہتر) ۔ مصر (شہر۔ اس سے مراد ملک مصر بھی ہو سکتا ہے جہاں کی ذلت بھری زندگی سے نکل کر آئے ہیں) ۔ سالتم (تم نے سوال کیا) ۔ ضربت (ماردی گئی، مسلط کردی گئی) ۔ الذلۃ (ذلت، رسوائی، خواری) ۔ المسکنۃ (محتاجی، فقیری، ناداری) ۔ باء وا (وہ کمالائے، وہ لوٹے) ۔ یقتلون (وہ قتل کرتے ہیں) ۔ بغیر الحق (ناحق، جس کا کوئی حق نہ ہو وہ کام کرنا) ۔ عصوا (انہوں نے نافرمانی کی ) ۔ یعتدون (وہ حد سے بڑھتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 61 جب من وسلوی اترنے لگا تو اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جھگڑنا شروع کردیا کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) یہ تم نے ہمیں کہاں لاڈالا جہاں من وسلوی کے سواکچھ بھی میسر نہیں آتا، ہم مصر میں تھے تو ہمیں ہر طرح کی سبزی ، ترکاری ، گیہوں ، پیاز اور مسور کی دال ملا کرتی تھی، اے موسیٰ ہم روزانہ ایک ہی جیسا کھانا کھا کر تنگ آچکے ہیں اور ہم ایک کھانے پر صبر نہیں کرسکتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس طرح بات کرنا اور پھر بھونڈے طریقے سے چیز مانگنا اللہ کو پسند نہیں آیا، کیونکہ اگر یہ کہتے کہ اے اللہ آپ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آپ نے ہمیں اس ریگستان میں من وسلوی کی نعمت سے نوازا، آپ کی عنایت ہوگی اگر ہمیں سبزی و ترکاریاں بھی عطا فرما دیں، یقیناً اگر شکر کا انداز اختیار کرتے تو ان کو ریگستان میں جہاں اور نعمتیں عطا کی گئی تھیں یہ نعمتیں بھی دے دی جاتیں مگر بنی اسرائیل کا سب سے بڑا عیب ہی یہ تھا کہ وہ ہر بات کو ناشکری کا انداذ دے دیا کرتے تھے، اسی لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑی حیرت سے پوچھا کہ اللہ نے تمہیں ایک اعلیٰ اور بہتر نعمت سے نوازا ہے کیا تم اس کے مقابلے میں معمولی اور گھٹیا چیزوں کا مطالبہ کرتے ہو۔ کیونکہ اللہ کی دی ہوئی نعمت کے مقابلے میں ہر چیز گھٹیا اور ادنیٰ ہے۔ انہوں نے اصرار کیا تو اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ان سے کہہ دو کہ تم سامنے کی بستی میں جاؤ، جو تم نے مانگا ہے وہ سب کچھ تمہیں ملے گا لیکن اللہ کی نعمتوں کو ٹھکرانے کا انجام یہ ہے کہ تمہارے اوپر ہمیشہ کے لئے ذلت و خواری بھی مسلط کردی گئی ہے۔ اب تم جہاں بھی رہو دوسروں کی محتاجی اور ذلت کے ساتھ رہوگے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس قوم میں اس طرح کے عیب پیدا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ وہ احکام الٰہی کو نہیں مانتے تھے، اللہ کے بھیجے ہوئے نبیوں کو ناحق قتل کرتے، نافرمانی کرتے اور حدود الٰہی سے باہر نکل جایا کرتے تھے ان باتوں کا لازمی اثر یہ ہے کہ اللہ نے ان پر ہمیشہ کی ذلت و خواری مسلط کردی۔
Ayah 2:62

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ النَّصٰرٰى وَ الصّٰبِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١۪ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:62 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے یا جو یہودی ہوگئے اور نصاری اور ستارہ پرست بن گئے ان میں سے جو بھی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لائے گا اور اس نے نیک کام کئے ہوں گے تو ان کے لئے ان کے پروردگار کے پاس اجرو ثواب ہے نہ ان پر خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 62 ھادو (جو یہودی بن گئے (یعنی وہ مسلم بننے کے بجائے یہودی بن گئے) ۔ النصری (ناصرہ وہ مقام ہے جہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اس مناسبت سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو نصاری کہا جانے لگا) ۔ الصبئین (ستاروں اور فرشتوں کو پوجنے والے، بےدین ) ۔ صالح (نیک اور بہتر کام ) ۔ اجر (بدلہ) ۔ لا یحزنون (وہ رنجیدہ نہ ہوگے) ۔ تشریح : آیت نمبر 62 اس آیت میں مومنوں ، یہودیوں ، نصاری اور صابئین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ نجات کے لئے ہر شخص کو اللہ تعالیٰ اور، نبی کریم ﷺ پر ایمان لانا اور ان کی اتباع و پیروی کرنا لازمی ہے یہی صراط مستقیم ہے اور نجات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ بھی یہی ہے۔ اس میں اہل کتاب کو خطاب کر کے فرمایا گیا کہ اہل کتاب کو تو سب سے پہلے حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانا چاہئے تھا کیونکہ ان کی کتابوں میں سرکار دوعالم ﷺ کی تشریف آوری سے متعلق واضح نشانیاں اور خبریں موجود ہیں ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس میں اہل کتاب کے ساتھ مومنوں کو کیوں شامل کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں بحیثیت ایک جماعت اور ایک گروہ کے مومنوں کو بھی شامل کر کے کہا جا رہا ہے کہ تمہاری بھی نجات کا مدار ایمان اور عمل صالح پر ہے اور اہل کتاب کا بھی۔ اگر مومن بھی ایمان اور عمل صالح کا راستہ چھوڑ دیں گے تو یقیناً ان کی نجات بھی مشکل ہوجائے گی۔ اس لئے ایمان اور عمل صالح ساری انسانیت کی نجات کا سبب ہے اور اللہ کے ہاں عزت و عظمت حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ان اہل کتاب سے تین باتوں کا مطالبہ کیا گیا ہے (1) ایمان باللہ (2) ایمان بالاخرت (3) اور عمل صالح۔ یعنی جس میں بھی یہ تین باتیں ہوں گی اللہ کے پاس ان کے لئے اجر عظیم موجود ہے۔ جب بات ایمان کی آتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ پر، اس کے تمام رسولوں پر، کتابوں پر، فرشتوں پر اور بالخصوص نبی مکرم ﷺ اور ان کی ختم نبوت پر ایمان لانا اور آخرت کی زندگی پر یہ یقین رکھنا کہ وہاں ہمیں ایک ایک لمحہ کا حساب دینا ہے۔ تیسری بات عمل صالح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عمل صالح وہی ہے جس کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ساری دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اگر کسی کا ایمان اس پر ہوگا تو وہ یقیناً اس کی طرف سے انعام واکرام اور آخرت کی ابدی راحتوں کا مستحق بنے گا۔ اس میں اہل ایمان کو اس لئے شامل کیا گیا تا کہ یہ بات بتا دی جائے کہ اللہ کے نزدیک یہ اصول متعین ہے کہ کوئی اپنایا غیر جو بھی ایمان اور عمل صالح کی زندگی اختیار کرے گا وہ اللہ کے کرم کا مستحق ہوگا۔
Ayahs 2:63–64

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:63 in the Quran reader

اور یاد کرو جب ہم نے طور کو تمہارے سروں کے اوپر معلق کر کے تم سے پکا وعدہ لیا تھا اور کہا تھا کہ جو کتاب ہم نے تمہیں دی ہے اسے مضبوطی سے تھام لو اور جو کچھ اس میں (احکامات) ہیں ان کو یاد رکھو تا کہ تم تقویٰ حاصل کرسکو۔

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 2:64 in the Quran reader

پھر تم نے اس (اقرار) سے منہ موڑ لیا۔ اگر تمہارے اوپر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو تم ضرور نقصان اٹھانے والے ہوجاتے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 63 تا 64 اخذنا (ہم نے لیا) ۔ میثاق (پکا وعدہ، پختہ عہد) ۔ رفعنا (ہم نے بلند کیا) ۔ فوق ( اوپر، بلند) ۔ الطور (طور پہاڑ) ۔ خذوا (پکڑو، تھام لو) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے) ۔ فضل اللہ (اللہ کا رحم و کرم) ۔ الخسرین (نقصان اٹھانے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 63 تا 64 ان آیتوں میں بنی اسرائیل کی وعدہ خلافی اور عہد شکنی کا ایک اور واقعہ بیان کیا جا رہا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کی ہدایت کے لئے توریت کا نسخہ لے کر آئے تو وہ قوم جو اس سے پہلے ایک کتاب اور شریعت کا مطالبہ کرتی رہی تھی اس نے اس پر عمل کرنے سے صاف انکار کردیا۔ کہنے لگے اے موسیٰ ! اتنے سخت احکامات پر ہم عمل نہیں کرسکتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے سروں پر طور پہاڑ کا ایک حصہ لٹکانے کے لئے فرشتوں کو حکم دیا اور کوہ طور ان پر اس طرح مسلط کردیا جیسے ابھی گر پڑے گا۔ یہ اس لئے تھا کہ وہ توریت کے احکامات پر عمل کریں، یہ جبر اور زبردستی نہیں ہے کیونکہ یہ ایمان لانے کے لئے زبردستی نہیں کی جا رہی ہے بلکہ ایمان لانے کے بعد عمل نہ کرنے پر سختی کی جارہی ہے کہ وہ توریت پر عمل کرتے ہیں یا نہیں ؟ اس پر وہ یہودی سجدے میں اس طرح گر پڑے کہ بائیں رخسار پر سجدہ کر رہے تھے اور داہنی آنکھ سے طور پہاڑ کو دیکھ رہے تھے کہ کہیں وہ سجدہ میں جائیں اور پہاڑ ان پر گر نہ پڑے۔ زبان سے توبہ بھی کر رہے تھے کہا جاتا ہے کہ آج بھی یہودی چہرے کے بائیں حصہ پر سجدہ کرتے ہیں۔ پیشانی اللہ کے سامنے نہیں جھکاتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ ان عہد شکنیوں کے باوجود اللہ نے ان پر عذاب مسلط کر کے ان کو تباہ برباد نہیں بلکہ ان کی اوپرے دل کی دعا کو قبول کرلیا اور ایک مرتبہ پھر معاف کردیا۔
Ayahs 2:65–66

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَۚ Open ayah 2:65 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں سے خوب واقف ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن (مچھلی کا شکار کرنے میں) تجاوز کیا تھا تو ہم نے ان سے کہا تم ذلیل و خوار بندر بن جاؤ۔

فَجَعَلْنٰهَا نَكَالًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهَا وَ مَا خَلْفَهَا وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:66 in the Quran reader

پھر ہم نے اس واقعہ کو اس زمانے کے لوگوں اور بعد میں آنے والی نسلوں کے لئے اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے عبرت و نصیحت بنا دیا۔

لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 66 لقد (البتہ یقیناً (قد ماضی کے صیغے پر آیا ہے) ۔ علمتم (تم نے جان لیا) ۔ اعتدوا (جنہوں نے زیادتی کی، حد سے بڑھ گئے) ۔ السبت (ہفتہ کا دن، سینچر) ۔ کونوا (تم ہوجاؤ) ۔ قردۃ (بندر) ۔ خسئین (ذلیل) ۔ جعلنا (ہم نے بنا دیا) ۔ نکال (عبرت) ۔ بین یدی (سامنے (بین، درمیان، یدی، یدین، دونوں ہاتھ) ۔ خلف (پیچھے ، آئندہ آنے والے) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 66 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سیکڑوں سال کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانے میں، ملک شام میں سمندر کے کنارے کوئی شہر یا قصبہ جس کو بعضوں نے ایلہ بھی کہا ہے۔ وہاں یہ واقعہ پیش آیا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ہفتہ کے دن شکار کرنا خاص طور پر مچھلیوں کا شکار، اسی طرح کھیتی باڑی اور دوسرے کاروبار کرنے کی بڑی سخت ممانعت تھی۔ مگر بنی اسرائیل نے اپنی عادت کے مطابق اس شرعی حکم کو بےاثر بنانے کے لئے نافرمانیوں کا ایک اور طریقہ اختیار کیا جس پر انہیں اللہ کی طرف سے سخت سزا دی گئی، سورة اعراف میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس دن مچھلیوں کے شکا ر کی اجازت ہوتی، اس دن تو زیادہ تر مچھلیاں پانی کی تہہ میں چلی جاتیں اور ہفتہ کے دن جب شکار کی ممانعت تھی تمام مچھلیاں دریا کی سطح پر آجاتیں۔ یہ ان کا امتحان تھا۔ مگر بنی اسرائیل خاموش بیٹھنے والے کہاں تھے انہوں نے دریا کے قریب چھوٹے چھوٹے گڑھے بنائے اور ان کو چھو ٹی چھوٹی نالیوں کے ذریعہ سے ملا دیا ہفتہ کے دن وہ رکاوٹیں ہٹا دیتے۔ پانی ان گڑھوں کی طرف جاتا تو مچھلیاں بھی ساتھ میں جاتیں اتوار کے دن ان گڑھوں سے مچھلیاں شکار کرتے اور اپنی چالاکی پر خوش ہوتے۔ یہ ایک ایسا حیلہ تھا جس سے اللہ تعالیٰ کے حکم کا مذاق اڑانے اور اس کے ذریعہ حکم شرعی سے جان چھڑانے کا ایک بہانہ تھا شریعت میں ایسا حیلہ حرام ہے لیکن اگر حکم شرعی کی تعمیل کے لئے کوئی حیلہ اختیار کیا جائے تو شرعاً یہ ناجائز نہیں جیسا کہ فقہ کی کتابوں میں فقہاء کرام نے سینکڑوں حیلے اس قسم کے بیان کئے ہیں چونکہ بنی اسرائیل حکم شرعی کے ابطال کے لئے ایسا کرتے تھے اس لئے ان کو سزا دی گئی اور ان میں طاعون کا مرض پھیل گیا۔ اس مرض سے چہرے پھول کر بندروں کی طرح ہوگئے، وہ بھوک پیاس کی کربناک اذیتوں میں تین زندہ رہ کر تڑپ تڑپ کر مر گئے اس طرح ان نافرمانوں کی نسل ہی کا خاتمہ کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ یہ واقعہ جس کو عرب کا بچہ بچہ اچھی طرح جانتا ہے یہ ان نافرمان لوگوں کے درس عبرت تھا اور آج کے نافرمانوں کے لئے بھی موعظت و نصیحت ہے۔
Ayahs 2:67–74

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًا١ؕ قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 2:67 in the Quran reader

اور جبموسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کر رہے ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں جاہلوں میں سے ہوجاؤں۔

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّ لَا بِكْرٌ١ؕ عَوَانٌۢ بَیْنَ ذٰلِكَ١ؕ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ Open ayah 2:68 in the Quran reader

کہنے لگے اپنے رب سے ہماری خاطر دعا کیجئے کہ وہ کھول کر بتا دے کہ وہ کیسی ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا بلکہ درمیانی عمر کی ہو۔ اور تمہیں جو کچھ حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرو۔

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَآءُ١ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ Open ayah 2:69 in the Quran reader

کہنے لگے موسیٰ (علیہ السلام) اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ اس کی وضاحت کر دے کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ اس کا رنگ گہرا زرد ہو کہ دیکھنے والوں کو بھلی لگتی ہو۔

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ١ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا١ؕ وَ اِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:70 in the Quran reader

کہنے لگے اے موسیٰ آپ اتنا اور پوچھ لیجئے کہ ہمیں وضاحت سے بتا دے کہ وہ گائے کس طرح کی ہو کیونکہ اس گائے کے بارے میں ہمیں شبہ پڑگیا ہے، اور انشاء اللہ ہم ضرور ہدایت پالیں گے۔

قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْقِی الْحَرْثَ١ۚ مُسَلَّمَةٌ لَّا شِیَةَ فِیْهَا١ؕ قَالُوا الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ١ؕ فَذَبَحُوْهَا وَ مَا كَادُوْا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 2:71 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ فرماتا ہے کہ گائے نہ تو ہل میں جوتی گئی ہو نہ وہ کھیت میں پانی سینچنے کے کام میں آئی ہو وہ صحیح سالم ہو اور جس میں کسی طرح کا بھی داغ نہ ہو۔ اس پر کہنے لگے دیکھو اب تم نے ٹھیک ٹھیک بات بتائی ہے۔ پھر انہوں نے گائے کو ذبح کیا اور وہ ایسا کرنا نہیں چاہتے تھے۔

وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِیْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 2:72 in the Quran reader

اور یا د کرو جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور تم اس قتل کو ایک دوسرے کے سر تھوپ رہے تھے حالانکہ جسے تم چھپا رہے تھے

فَقُلْنَا اضْرِبُوْهُ بِبَعْضِهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُحْیِ اللّٰهُ الْمَوْتٰى١ۙ وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:73 in the Quran reader

اللہ اس کو ظاہر کردینا چاہتا تھا۔ اس لئے ہم نے تمہیں حکم دیا کہ تم اس گائے کا ایک ٹکڑ ا مرنے والے کے جسم سے لگاؤ (تا کہ وہ قاتل کا نام بتا دے) اسی طرح اللہ (قیامت کے دن ) مردوں کو زندہ کرے گا۔ اور وہ تمہیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھاتا ہے تا کہ تم عقل سے کام لو

ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَهِیَ كَالْحِجَارَةِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَةً١ؕ وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْهُ الْمَآءُ١ؕ وَ اِنَّ مِنْهَا لَمَا یَهْبِطُ مِنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:74 in the Quran reader

پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر کی طرح سخت ہوگئے بلکہ پتھر سے بھی زیادہ سخت۔ بعض پتھر تو وہ ہیں جن سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں، بعض وہ پتھر بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکلتا ہے۔ اور بعض تو ایسے ہیں جو اللہ کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اللہ تمہارے ان کاموں سے بیخبر نہیں ہے جو تم کرتے ہو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 74 یامر (وہ حکم دیتا ہے) ۔ تذبحوا (تم ذبح کرو) ۔ بقرۃ ( گائے ، بیل) ۔ اتتخذنا (کیا تو ہم کو بناتا ہے ، (تو ہم سے کرتا ہے) ۔ ھذو (مذاق) ۔ ان اکون (یہ کہ میں ہوجاؤں) ۔ یبین (بیان کر دے ، بات کھول کر کہہ دے) ۔ ماھی (وہ (بقرہ) کیسی ہو) ۔ فارض (بوڑھی) ۔ بکر (بچھیا، کمر عمر) ۔ عوان (درمیانی) ۔ فافعلوا (پھر تم کرو (ف۔ پھر، افعلوا تم کرو) ۔ تؤمرون (تمہیں حکم دیا گیا) ۔ مالونھا (اس کا رنگ کیسا ہو ؟ (ما، کیا، لون رنگ) ۔ صفراء (زرد) ۔ فاقع (گہرا) ۔ تسر (خوش کردیتی ہے) ۔ النظرین (دیکھنے والے) ۔ تشابہ (شبہ پڑگیا) ۔ لا ذلول (جس سے محنت نہ لی گئی ہو وہ ہل میں نہ جوتی گئی ہو) ۔ تثیر الارض (زمین کو (نہ) گا ہتی ہو) ۔ لاتسقی (سینچتی نہ ہو) ۔ الحرث (کھیتی باڑی) ۔ مسلمۃ (مکمل ، تندرست) ۔ لاشیۃ (داغ نہ ہو، عیب نہ ہو) ۔ الان (اب) ۔ جئت (تو آیا (جئت بالحق تو حق کو لے کر آیا) ۔ فذبحوا (انہوں نے ذبح کیا (ف، پھر، ذبحو، انہوں نے ذبح کیا) ۔ ما کا دوا (وہ قریب نہ تھے (ما کا دوا یفعلون وہ کرنا نہیں چاہتے تھے) ۔ قتلتم ( تم نے قتل کیا) ۔ ادرءتم ( تم ایک دوسرے پر ڈالنے لگے) ۔ مخرج (نکالنے والا) ۔ اضربوا (تم مارو) ۔ ببعضھا (اس کا حصہ (گائے کا ٹکڑا) ۔ یحییٰ (وہ زندہ کرتا ہے، کرے گا) ۔ الموتی ( مردے) ۔ یری (وہ دکھاتا ہے) ۔ قست (سخت (ہوگئے) ہوئی) ۔ الحجارۃ (پتھر، (الحجر کی جمع ہے) ۔ اشد قسوۃ (سخت ترین) ۔ یتفجر (جاری ہوتا ہے) ۔ یشقق (پھٹ پڑتا ہے، شق ہوجاتا ہے) ۔ الماء (پانی) ۔ یھبط (گرپڑتا ہے) ۔ خشیۃ اللہ (اللہ کا خوف) ۔ تشریح : آیت نمبر 67 تا 74 بنی اسرائیل کا ایک دولت مند شخص جس کا نام عامیل تھا وہ قتل کردیا گیا۔ اس کا ایک ہی لڑکا تھا۔ اس بوڑھے کے بھتیجوں نے وراثت کے لالچ میں اس کو قتل کردیا۔ لاش کو شہر کے دروازے پر پھنک آئے ۔ صبح کو خود ہی شور مچانا شروع کردیا اور خون کا بدلہ لینے کا دعویٰ کردیا۔ بات اس وقت اور بھی بڑھ گئی جب وہ لوگ ایک دوسرے پر الزام لگانے لگے، جہالت عام تھی اس الزام کو ہر ایک نے اپنی عزت کا مسئلہ بنا لیا اور ایک دوسرے کے خلاف تلواریں لے کر نکل پڑے اور اس طرح شدید خانہ جنگی کا خطرہ بڑھ گیا۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم موسیٰ کے پاس چلتے ہیں اس کا دعویٰ ہے کہ وہ اللہ سے کلام کرتا ہے اگر قاتل کا پتہ بتا دیتا ہے تو ہمارا مسئلہ حل ہوجائے گا اور اگر نہ بتایا تو موسیٰ سے بھی ہماری جان چھوٹ جائے گی سب جمع ہو کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس پہنچے اور کہنے لگے اے موسیٰ اگر تم اپنے اللہ سے قاتل کا نام پوچھ کر بتا دو تو ہم ایک بہت بڑی مصیبت سے چھوٹ جائیں گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) طور پر گئے، واپس آکر انہوں کہا کہ ایک گائے ذبح کرو پھر اس گائے کے گوشت کے ایک ٹکڑے کو مرنے والے کے جسم سے لگاؤ وہ اٹھ کر بیٹھ جائے گا اور اپنے قاتل کا نام بتا دے گا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ فرمایا تو بنی اسرائیل نے کہا ، موسیٰ کیا تم ہم سے مذاق کر رہے ہو ؟ ہم تم سے قاتل کا نام معلوم کر رہے ہیں اور تم ہمیں گائے ذبح کرنے کا مشورہ دے رہے ہو، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ کی پناہ کیا میں اللہ تعالیٰ کے احکامات بیان کرنے میں جاہلوں کی طرح کا انداز اختیار کروں گا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس جواب سے وہ چھپ ہوگئے۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہ گائے کہ پرستش کرتے تھے اگر گائے ذبح کرتے ہیں تو معبود کے گلے پر چھری پھرتی ہے اور اگر گائے ذبح نہیں کرتے تو قوم کی گردشنیں کٹتی ہیں۔ اس کشمکش میں غالباً انہوں نے سوچا ہوگا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس قدر سوالات کئے جائیں کہ بالاخر تھک ہار کر وہ کہہ دیں کہ اچھا گائے کے بدلے کوئی اور جانور ذبح کرلو۔ لیکن اللہ جو تمام انسانوں کی عقلوں کو پیدا کرنے والا ہے ان کی چالا کیوں سے عاجز تو نہیں ہو سکتا تھا، چناچہ اب انہوں نے سوالات کرنا شروع کر دئیے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہر مرتبہ طور پر جاتے اور ان کے سوال کا جواب لے کر آتے، کبھی کہتے وہ آخر کیسی گائے ہونی چاہئے ؟ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ اس کی شکل و صورت کیسی ہو ؟ وغیرہ انہوں نے اتنے سوالات کئے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تمام جوابات کے بعد وہ خود ہی مصیبت میں پھنس گئے ورنہ اگر پہلے ہی حکم کے بعد کسی بھی گائے کو ذبح کرلیتے تو ان کا مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔ اب ان تمام مخصوص نشانیوں کی گائے کا ملنا مشکل ہوگیا۔ ساری قو م ان نشانیوں والی گائے کو تلاش کر رہی تھی مگر وہ گائے نہ مل سکی۔ کسی طرح ان کو معلوم ہوا کہ فلاں جگہ ایک گائے ہے جس میں یہی تمام خصوصیات موجود ہیں یہ سن کر بنی اسرائیل دوڑ پڑے۔ اس سلسلہ میں صاحب درمنثور حضرت وہب ابن منبہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک نیک اور متقی آدمی تھا اس کا ایک ہی لڑکا تھا، اس کے پاس صرف ایک ہی گائے کا بچہ تھا اس نے مرتے وقت اس گائے کے بچے کو اللہ کے سپرد کرتے ہوئے دعا کی۔ اے اللہ یہ گائے اور اپنا بیٹا میں آپ کے سپرد کرتا ہوں، آپ ہی سب کے کارساز ہیں۔ اللہ کے سپرد کر کے اس نے گائے کے بچے کو جنگل میں چرنے کے لئے چھوڑ دیا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ جب یہ میرا لڑکا جوان ہوجائے تو وہ اللہ سے دعا کرے کہ وہ بچھیا میرے پاس آجائے تو وہ آجائے گی۔ یہ لڑکا جب بڑا ہوا تو خود بھی بڑا نیک لڑکا اور اپنی ماں کا بہت خدمت گزار تھا، ماں کے حکم کے بغیر کوئی کام نہ کرتا تھا۔ محنت مزدوری کر کے جو بھی کما کر لاتا اس میں سے ایک تہائی خیرات کرتا، ایک تہائی خود خرچ کرتا اور ایک تہائی مال ماں کو دے دیا کرتا تھا۔ ماں نے یہ تاکید کی کہ اس گائے کو اس وقت تک نہ فروخت کرنا جب تک مجھ سے نہ پوچھ لو۔ بنی اسرائیل تلاش کرتے ہوئے اس لڑکے تک پہنچ گئے، اور گائے خریدنے کے لئے کہا لڑکے نے کہا میں جب تک اپنی ماں سے نہ پوچھ لوں اس وقت تک یہ گائے فروخت نہ کروں گا۔ چناچہ یہ اس کی ماں کے پاس پہنچے تو اس نے کہا اگر تم اونٹ کی کھال بھر کر سونا دیتے ہو تو میں فروخت کرتی ہوں ورنہ نہیں۔ بنی اسرائیل مجبور تھے۔ منہ مانگی قیمت ادا کی، گائے کو ذبح کر کے اس کے گوشت کا ٹکڑا مرنے والے کے جسم سے لگایا۔ مقتول نے اٹھ کر قاتل کا نام بتا دیا اور پھر وہ دوبارہ مر گیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے یہ بات ثابت کردی کہ معبود وہ نہیں ہے جس کے گلے پر چھری پھرجائے بلکہ معبود وہ ہے جس کے حکم سے چھری گائے کے گلے پر چلائی جا رہی ہے۔ اس واقعہ کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بنی اسرائیل کے دلوں میں نرمی اور گداز پیدا ہوتا اس کے برخلاف اتنے بڑے احسان اور کرم کے بعد بھی ان کے دل پتھروں سے زیادہ سخت ہوگئے۔ اس واقعہ سے چند نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں جو بنی اسرائیل کی زندگی کا ایک اہم واقعہ ہے اور اس سورت کا نام رکھے جانے کا سبب بھی ہے۔ (1) جو چیز اللہ کے سپرد کی جاتی ہے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ (2) جو بھی قتل ناحق کیا جاتا ہے وہ لاکھ چھپانے سے بھی چھپ نہیں سکتا اسی طرح جو لوگ دوسروں پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں وہ بات بھی چھپی نہیں رہتی بلکہ ایک دن آتا ہے جب تمام رازوں سے پردے اتھا دئیے جاتے ہیں۔ (3) ماں باپ کی اطاعت آخرت میں نجات کا باعث ہے وہیں دنیا میں بھی خیرو برکت کا ذریعہ ہے۔ (4) وہی بات پوچھنی چاہئے جو انسان کو دنیا وآخرت میں فائدہ دینے والی ہو۔ بےت کے سوالات اور الٹی سیدھی باتیں کرنا کوئی اچھی بات نہیں ہے اس سے انسان خود ہی مصیبت میں پھنس جاتا ہے۔ (5) اللہ تعالیٰ کو پوری قدرت حاصل ہے کہ وہ اسی طرح تمام مرے ہوئے لوگوں کو دوبارہ زندہ کر دے گا اور ان سے ان کے اعمال کا پورا پورا حساب لے گا۔ (6) کسی جرم کے ساتھ جب حیلہ بازی، کٹ حجتی، ڈھٹائی اور جسارت بھی شامل ہوجائے تو ایسے مجرموں کے دل پتھروں سے زیادہ سخت ہوجایا کرتے ہیں جس کے بعد نیکی اور تقوی کے بڑھنے کی صلاحیت اندر ہی اندر بالکل ختم ہوجاتی ہے۔ (7) انسان اگر اپنے آپ کو بگاڑ لیتا ہے تو آہستہ آہستہ اللہ کے قانون کے مطابق ان تمام صلاحیتوں سے محروم ہوجاتا ہے جو اللہ نے اس کے اندر رکھ دی ہیں۔ پتھر سخت سے سخت ہو کر بھی پتھر ہی رہتا ہے۔ اس کے اندر پانی کے چشمے جاری ہونے کی صلاحیت اگر قدرت نے رکھی ہے تو اس سختی کے باوجود یہ چیز اس کے اندر باقی رہتی ہے۔ لیکن اگر انسان کا دل اخلاقی بیماریوں کی وجہ سے سخت ہوجائے تو اس کے دل کے تمام سوتے بالکل خشک ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک دفعہ بگڑ جاتا ہے اس کو (اللہ کے سوا) ساری دنیا مل کر بھی سنوار نہیں سکتی۔
Ayahs 2:75–79

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَ قَدْ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:75 in the Quran reader

کیا پھر تم ان سے امید رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مانیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے بہت سے لوگ تو وہ ہیں جو اللہ کا کلام سنتے ہیں پھر بھی جان بوجھ کر اس کو بدل ڈالتے ہیں ۔ جب کہ وہ جانتے ہیں (کہ وہ برا کر رہے ہیں)

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۚ وَ اِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:76 in the Quran reader

جب وہ مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب وہ تنہائی میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں جو باتیں اللہ نے تمہارے اوپر (تمہاری کتاب میں ) کھول دی ہیں وہ ان کو کیوں بتا دیتے ہو کیا تم اتنا نہیں سمجھتے ہو کہ وہ اس کے ذریعہ تمہارے رب کے سامنے (قیامت کے دن) تمہیں جھٹلائیں گے۔

اَوَ لَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 2:77 in the Quran reader

فرمایا کیا یہ لوگ اتنا بھی نہیں جانتے کہ جو کچھ یہ چھپا رہے ہیں اور جو کچھ ظاہر کر رہے ہیں اسے اللہ خوب جانتا ہے

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ Open ayah 2:78 in the Quran reader

(دوسری جماعت وہ ہے ) جو کتاب الٰہی کا کوئی علم نہیں رکھتی وہ محض خیالی آرزوؤں اور تمناؤں میں لگی ہوئی ہے۔

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَیْدِیْهِمْ١ۗ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ هٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ لِیَشْتَرُوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَوَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَیْدِیْهِمْ وَ وَیْلٌ لَّهُمْ مِّمَّا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 2:79 in the Quran reader

تباہی و بربادی ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے ہاتھوں سے لکھ کر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے تا کہ اس کے ذریعہ تھوڑا سا دنیاوی فائدہ حاصل کرلیں۔ ہلاکت و بربادی ہے ان کے لئے (اس تحریف و تبدیلی کی وجہ سے ) جس کو ان کے ہاتھوں نے لکھا اور بڑی خرابی ہے ان کے لئے اس کمائی کی بدولت جو وہ کما رہے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 75 تا 79 افتطمعون (کیا پھر تم توقع رکھتے ہو۔ (1، کیا، ف، پھر تطمعون، تم توقع رکھتے ! ) ۔ ان یؤمنوا (یہ کہ وہ ایمان لائیں گے) ۔ فریق (ایک جماعت) ۔ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ۔ یحرفون (وہ بدل ڈالتے ہیں) ۔ عقلوہ (جس کو انہوں نے سمجھ لیا) ۔ اتحدثون (کیا تم ان کو بتا دیتے ہو۔ (ا، کیا، تحدثون، تم بتاتے ہو، ھم، ان کو) ۔ فتح اللہ (اللہ نے کھول دیا) ۔ لیحاجوکم (تا کہ وہ تم سے جھگڑیں۔ (ل، تا کہ یحاجون، وہ جھگڑیں، کم ، تم سے) ۔ یسرون (وہ چھپاتے ہیں) ۔ تعلنون (وہ اعلان کرتے ہیں، ظاہر کرتے ہیں) ۔ امیون (جاہل ، ان پڑھ، (امی، ان پڑھ) ۔ امانی (تمنائیں (امنیۃ کی جمع ہے) ۔ یظنون (وہ گمان کرتے ہیں ) ۔ ویل (بربادی، تباہی) ۔ یکتبون (وہ لکھتے ہیں) ۔ یقولون (وہ کہتے ہیں ) ۔ لیشتروا (تا کہ وہ خرید لیں، حاصل کرلیں) ۔ کسبت (کمایا) ۔ تشریح : آیت نمبر 75 تا 79 ان آیتوں میں یہودی منافقین کے دو گروہوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے ، ان میں ایک گروہ تو وہ ہے جس کا کام اللہ اور اس کے رسول کی دشمنی مخالفت اور دین اسلام کے خلاف سازشیں کرنا ہے، دوسرا وہ گروہ ہے جو ان پڑھ اور جاہل ہے۔ ان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ توریت کا تو کوئی علم رکھتے ہی نہیں، بعض رسموں کو ادا کر کے من گھڑت خیالات، آرزوؤں اور تمناؤں کے کھلونوں سے کھیلتے رہتے ہیں، اسی میں اپنی نجات سمجھتے ہیں۔ ان جاہل اور خوش عقیدہ لوگوں کے سامنے وہ اپنے ہاتھوں سے توریت میں تبدیلی کر کے طرح طرح کی بےسراپا باتیں بتاتے ہیں تا کہ ان سے مالی فائدے حاصل کرسکیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جو لوگ اپنے ہاتھوں سے جھوٹی باتیں اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں اور لوگوں کی کم علمی اور جہالت سے فائدہ اٹھا کر ان کی دولت بٹورتے ہیں ان کی یہ سازشیں اور کمائی ان کے لئے آخرت کا بدترین عذاب ہے۔
Ayahs 2:80–82

وَ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَةً١ؕ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ عَهْدَهٗۤ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:80 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے سوا دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں آپ کہیے کیا تم نے اللہ سے کوئی وعدہ لے رکھا ہے کہ اب وہ اپنے وعدے کے خلاف کرے گا ہی نہیں ، تم اللہ پر ایسی باتیں کیوں گھڑتے ہو جو تم جانتے ہی نہیں۔

بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَیِّئَةً وَّ اَحَاطَتْ بِهٖ خَطِیْٓئَتُهٗ فَاُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:81 in the Quran reader

جی ہاں کیوں نہیں، جنہوں نے کوئی برائی کمائی اور ان کے گناہوں نے ان کو ہر طرف سے گھیر لیا تو وہی جہنم والے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:82 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے وہی جنت والے ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 80 تا 82 لن تمسنا (ہمیں ہرگز نہ چھوئے گی) ۔ ایام معدودۃ (چند دن (یہودیوں کا خیال تھا کہ وہ گنے چند دن جہنم میں رہیں گے) ۔ اتخذتم (تم نے بنا لیا ہے ) ۔ لن یخلف (وہ ہرگز خلاف نہ کرے گا) ۔ ام تقولون (یا تم کہتے ہو ؟ ) ۔ بلیٰ (کیوں نہیں، جی ہاں) ۔ سیئۃ (گناہ، برائی) ۔ احاطت (اس نے گھیر لیا) ۔ اصحب النار (جہنم والے) ۔ خلدون (ہمیشہ رہنے والے) ۔ اصحب الجنۃ (جنت والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 80 تا 82 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہود کا یہ خیال تھا کہ دنیا کی کل عمر سات ہزار سال ہے ۔ ہر ہزار سال کے بدلے ہم لوگ ایک دون دوزخ میں رہیں گے اور سات دن سے زیادہ ہمیں عذاب نہ ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہم نے چالیس دن تک بچھڑے کی پرستش کی تھی، اس لئے چالیس دن تک ہم آگ میں رہیں گے اس کے بعد جنت کی تمام راحتیں ہمارے لئے ہوں گی۔ ایک روایت میں یوں بھی ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ فتح خیبر کے دن نبی کریم ﷺ نے یہودیوں کو جمع کر کے فرمایا دوزخی کون لوگ ہیں ؟ یہودیوں نے جواب دیا کہ تھوڑے دن تو ہم جہنم میں رہیں گے اس کے بعد تم ہماری جگہ پر بھیج دئیے جاؤ گے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تم جھوٹے ہو، ہم تمہاری جگہ نہ جائیں گے بلکہ تم ہی ہمیشہ ہمیشہ اس دوزخ میں جلتے رہوگے۔ اسی طرح کی بہت سی روایات ہیں جو احادیث میں آتی ہیں۔ بہرحال یہودیوں نے اسی طرح کی بےسروپا باتیں اپنے لوگوں کو سکھا رکھی تھیں، جس کے سہارے وہ بہت سی خوش فہمیوں میں مبتلا تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جنت کسی کی میراث نہیں ہے یہ تو درحقیقت ایمان اور عمل صالح کے ذریعہ حاصل ہوگی اللہ نے کسی کو جنت کا ٹھیکہ نہیں دیا ہے۔ البتہ وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لائیں گے اور عمل صالح کی روش اختیار کریں گے وہ اس جنت کے وارث ہوں گے لیکن جن لوگوں نے ایمان اور عمل صالح کی روش کو چھوڑ دیا ہے ۔ یقیناً ایسے لوگ جہنمی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
Ayahs 2:83–86

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ١۫ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ؕ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْكُمْ وَ اَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 2:83 in the Quran reader

اور یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے اس بات کا پکا وعدہ لیا تھا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو گے۔ ماں باپ، رشتہ داروں بےباپ کے بچوں، اور ضرورت مندوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو گے۔ لوگوں سے بھلی اور بہتر بات کرو گے۔ نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ دیتے رہو گے، مگر تم میں سے تھوڑے سے لوگوں کے سوا اکثر اس عہد کی پابندی سے پھرگئے اور تم ہو ہی (اقرار کر کے منہ پھیرنے والے۔

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ لَا تَسْفِكُوْنَ دِمَآءَكُمْ وَ لَا تُخْرِجُوْنَ اَنْفُسَكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ ثُمَّ اَقْرَرْتُمْ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 2:84 in the Quran reader

یاد کرو جب ہم نے تم سے اس بات کا پختہ وعدہ لیا تھا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو ان کے گھروں سے نکالنا، تم نے اس کا اقرار کیا تھا جس پر تم خود ہی گواہ بھی ہو۔

ثُمَّ اَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تَقْتُلُوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ تُخْرِجُوْنَ فَرِیْقًا مِّنْكُمْ مِّنْ دِیَارِهِمْ١٘ تَظٰهَرُوْنَ عَلَیْهِمْ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ١ؕ وَ اِنْ یَّاْتُوْكُمْ اُسٰرٰى تُفٰدُوْهُمْ وَ هُوَ مُحَرَّمٌ عَلَیْكُمْ اِخْرَاجُهُمْ١ؕ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ١ۚ فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِكَ مِنْكُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یُرَدُّوْنَ اِلٰۤى اَشَدِّ الْعَذَابِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:85 in the Quran reader

پھر تم اس کے باوجود آپس میں ایک دوسرے کا خون بہاتے ہو، اور ایک دوسرے کو ان کے گھروں سے نکالتے ہو اور گناہ و ظلم کے ساتھ اپنوں کے خلاف دوسروں کی مدد کرتے ہو اور جب وہ قیدی بنا کر تمہارے پاس لائے جاتے ہیں تو ان کا بدلہ (فدیہ) دے کر چھڑواتے ہو جب کہ ان کا نکالنا ہی تمہارے لئے حرام تھا۔ کیا تم اللہ کی کتاب کے ایک حصہ پر ایمان رکھتے ہو اور دوسرے حصے کا انکار کرتے ہو ؟ جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہو کر رہیں گے اور آخرت میں وہ سخت سزا کے مستحق بن جائیں گے ۔ بہرحال جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ غافل نہیں ہے،

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١٘ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ۠ Open ayah 2:86 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کے بدلہ میں دنیا کی زندگی خرید لی ہے۔ لہٰذا ان کی سزا میں نہ تو کمی کی جائے گی اور نہ ان کو کہیں سے کوئی مدد پہنچے گی۔

لغات القرآن : آیت نمبر 83 تا 86 لا تعبدون (تم عبادت نہ کرو گے) ۔ احسان (اچھابرتاؤ بہتر معاملہ) ۔ ذی القربیٰ (رشتہ دار) ۔ یتمی (یتیم، بےباپ کے بچے) حسن (اچھی بات، بھلائی کی بات) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے) ۔ معرضون (منہ پھیرنے والے) ۔ لا تسفکون (تم نہ بہاؤ گے ) ۔ دماء کم (اپنوں کے خون) ۔ دیار (گھر) ۔ اقررتم (تم نے اقرار کیا) ۔ تشھدون (تم گواہ ہو) ۔ ھؤلاء (وہی (تم ہو) ۔ تظھرون (تم چڑھائی کرتے ہو، چڑھ کر جاتے ہو) ۔ الاثم (گناہ) ۔ العدوان (زیادتی، ظلم ) ۔ اسری (اسیر) قیدی) ۔ تفادوھم (تم ان کا فدیہ دیتے ہو، بدلہ دیتے ہو) ۔ محرم (حرام کردیا گیا) ۔ افتؤمنون (کیا پھر تم ایمان لائے ہو (ا، کیا، پھر، تومنون، تم ایمان لائے ہو) ۔ ماجزاء (کیا بدلہ ہے، کیا سزا ہے) ۔ خزی (رسوائی) ۔ یردون (وہ لوٹائے جائیں گے) ۔ اشد العذاب (سخت عذاب) ۔ اشتروا (انہوں نے خرید لیا) ۔ الضلالۃ (گمراہی) ۔ لا یخفف (کمی نہ کی جائے گی) ۔ لا ینصرون (مدد نہ کئے جائیں گے) ۔ تشریح : آیت نمبر 83 تا 86 بنی اسرائیل جن کی پوری تاریخ عہد شکنیوں اور وعدہ خلافیوں سے بھری ہوئی ہے ان آیات میں ان کو اپنے عہد کی پابندی کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے۔ یہودیہ اور اسرائیل کی الگ الگ ریاستیں قائم ہونے کے بعد دونوں گروہوں میں انتقام لینے اور مخالفت کرنے کا یہ عجب بھونڈا طریقہ رواج پا گیا تھا کہ دونوں ایک ہی کتاب پر ایمان رکھنے کے باوجود مشرک طاقتوں کو ابھار کر اپنے مخالف یہودیوں پر چڑھائی کراتے۔ باہمی جنگ میں جب دشمنوں کے ہاتھوں ان کے اپنے لوگ قید ہو کر آتے تو یہ کہہ کر ان کے لئے بڑی بڑی رق میں فدیہ میں دے کر چھڑاتے کہ اپنوں کو فدیہ دے کر چھڑا نا ہمارا قومی اور مذہبی فریضہ ہے اور اس کا حکم ہمیں توریت میں دیا گیا ہے۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ اپنوں کو قتل کرانا، ان کو بستیوں سے نکلوانا اور دربدر کی ٹھوکریں کھلوانا تو ان کے نزدیک کوئی گناہ کی بات نہ تھی مگر لوگوں پر قوم پرستی کی دھونس جمانے کے لئے فدیہ دینا ان کو چھڑوانا اور اس کے لئے اللہ کی آیات کا سہارا لینا افسوس ناک ہے اس لئے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو اپنی خواہشات نفس کا کھلونا بنا رکھا تھا۔ جو بات ان کی خواہش نفس کے مطابق ہوتی اس پر عمل کرلیتے لیکن جس بات میں ان کے نفس پر ضرب پڑتی اسے چھوڑ دیتے۔ قرآن کریم کے نازل ہونے کے وقت سارے عرب میں اور یثرب میں خصوصاً باہمی جنگیں اور حریفانہ کشمکش بڑی شدت سے جاری تھی۔ یثرب یعنی مدینے میں رہنے والے کچھ قبیلے تو مشرک اور کچھ یہودی تھے۔ اوس اور خزرج دو مشرکانہ عقیدہ رکھنے والوں کے قبیلے تھے جن کی آپس کی جنگیں عرب کی تاریخ میں بڑی طویل اور بڑی مشہور ہیں۔ یہودیوں کے قبیلوں کا نام بنو قریظہ اور بنو نضیر تھا۔ ان دونوں قبیلوں کی ایک کتاب اور ایک مذہب ہونے کے باوجود شدید دشمنیاں چل رہی تھیں۔ جب اوس و خزرج کی آپس میں جنگیں ہوتیں تو بنو قریظہ اوس کے ساتھ اور بنو نضیر خزرج کے ساتھ حلیف اور ساتھی بن کر جنگ کرتے ، اس طرح دشمنوں اور مشرکوں سے مل کر یہودی آپس ہی میں ایک دوسرے کا گلا کاٹتے تھے جنگ ختم ہونے کے بعد جو یہودی گرفتار ہو کر آتے تھے تو پھر توریت کی دھائی اور اللہ کے احکامات کا سہارا لینے ہوئے بڑی بڑی رق میں لے کر پہنچتے اور اپنے قبیلے کے یہودیوں کو جنگی قید سے آزاد کراتے۔ یہ کہہ کر فدیہ دیتے کہ یہ تو ہمارا قومی اور ملی فریضہ ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کی مدد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا ہے کہ اپنے ہی ہم مذہب بھائیوں کو قتل کرانا، ان پر مشرکوں کو چڑھا کرلے جانا، انہیں وطن سے بےوطن کرانا اور دربدر کی ٹھوکریں کھلوانا کیا اس کو توریت میں حرام قرار نہیں دیا گیا ؟ حریفانہ کشمکش میں تو تم اس بات کو بھول جاتے ہو اور دنیا کو دکھانے کے لئے صرف فدیہ دے کر چھڑانے کی آیات تمہیں یاد رہتی ہیں۔ بعض آیات کا انکار اور بعض آیات پر ایمان یہ تو کھلی ہوئی منافقت اور کفر ہے۔ اس رکوع کی آیات میں بنی اسرائیل کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے، والدین، رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کے حقوق کی ادائیگی کرنے، حسن اخلاق ، نظام صلوٰۃ و زکوٰۃ قائم کرنے کا جو عہد کیا تھا اس کو پورا کرو تم نے وعدہ کیا تھا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کا خون نہیں بہاؤ گے اس عہد کا لحاظ کرو ورنہ تمہیں دنیا کی زندگی میں تو رسوائی اور ذلت سے واسطہ پڑے گا ہی لیکن تم اس طرح آخرت کے عذاب کے بھی مستحق بن جاؤ گے، جس سے دنیا و آخرت دونوں برباد ہو کر رہ جائیں گے۔
Ayahs 2:87–88

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ قَفَّیْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ١٘ وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ١ۚ فَفَرِیْقًا كَذَّبْتُمْ١٘ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ Open ayah 2:87 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی اور ایک کے بعد دوسرا رسول بھیجتے رہے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے کھلے ہوئے معجزات دئیے اور روح القدس (جبرائیل) کے ذریعہ ان کو قوت و طاقت دی۔ کیا ایسا نہیں ہوا کہ جب بھی تمہارے پاس کوئی رسول وہ حکم لے کر آیا جو تمہاری خواہشات نفس کے خلاف تھا تو تم نے سرکشی ہی اختیار کی۔ ایک جماعت کو تم نے جھٹلا دیا اور ایک جماعت (انبیاء) کو تم نے قتل کیا

وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 2:88 in the Quran reader

(اور اب فخر کرتے ہوئے ) کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں۔ حالانکہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر یہ اللہ کی لعنت ہے۔ اس لئے کہ وہ بہت تھوڑا سا ایمان رکھتے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 87 تا 88 اتینا (ہم نے دیا) ۔ قفینا (ایک کے بعد دوسرے کو ہم نے بھیجا) ۔ ایدناہ (ہم نے اس کو قوت دی) ۔ روح القدس (جبرئیل (پیغمبروں پر وحی لانے والا فرشتہ) ۔ افکلما (کیا پھر ایسا نہیں ہوا کہ جب کبھی بھی ) ۔ لا تھوی (پسند نہ تھا، خواہش نہ تھی) ۔ کذبتم (تم نے جھٹلایا) ۔ غلاف (غلاف، (محفوظ رکھنے کی چیز) ۔ لعن (لعنت کی، لعنت کے معنی ہیں اللہ کی رحمت سے دوری) ۔ تشریح : آیت نمبر 87 تا 88 اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے نظام کو درست رکھنے کے لئے پاکیزہ نفس پیغمبروں (علیہ السلام) کو انسانوں کی ہدایت کے لئے مسلسل ایک کے بعد ایک ہزاروں کی تعداد میں بھیجا تا کہ بھٹکے ہوئے انسانوں کی مسیحائی کرتے رہیں۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) گمراہ انسانوں کو اللہ کے احکامات ، کھلی نشانیوں اور معجزات کے ذریعہ راہ مستقیم پر چلاتے رہے۔ وہ دل جن میں سچائی قبول کرنے کی اہلیت و صلاحیت تھی انہوں نے ہر معقولیت کو قبول کیا۔ لیکن وہ جنہوں نے اپنے دلوں پر حق بات کو نہ سمجھنے کی مہریں لگا رکھی تھیں فخر سے کہتے تھے کہ ہمارے دلوں پر کسی کی سچی بات کا اثر نہیں ہوتا ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اللہ نے فرمایا کہ یہ فخر کی بات نہیں بلکہ اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے جو ان کے دلوں پر چھائی ہوئی تھی مگر وہ اس لعنت کو بھی اپنے لئے رحمت سمجھتے تھے۔ یہی لوگ ہمیشہ اللہ کے پیغمبروں کی تعلیمات سے انکار کرتے ان کی توہین کرتے اور حضرت یحییٰ اور حضرت زکریا (علیہ السلام) جیسے پیغمبروں کو ناحق قتل کرنا اپنا کارنامہ سمجھتے تھے ان پیغمبروں کے بعد حضرت عیسیٰ ابن مریم بھی تشریف لائے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیدائشی اندھوں کو آنکھیں، کوڑھیوں کو شفاء، مردوں کو زندگی اور غیب کی باتیں بتا کر کھلے معجزات دکھائے مگر پھر بھی یہودیوں نے نہ صرف یہ کہ ان کی تعلیمات کو جھٹلایا بلکہ ان سے شدید دشمنی کا مظاہرہ کیا۔ کبھی وہ ان کو جادوگر کہتے اور کبھی کہتے کہ شیطان اور بھوتوں کا سردار بعل زبول ان کی مدد کرتا ہے (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی مدد بعل زبول نہیں بلکہ وہی جبرئیل ان کی تائید اور حفاظت کرتے تھے جنہوں نے اللہ کے حکم سے تمام انبیاء کرام کی تائید اور حفاظت کی ہے۔ بات یہ ہے کہ ان کے لئے اصل چیز ان کی اپنی خواہش تھی، اسی خواہش نفس کے خلاف جو بھی بات کہی جاتی اس کو وہ رد کرنا اپنا قومی فریضہ سمجھتے تھے۔ اور یہی ان کے لئے اللہ کی سب سے بڑی لعنت رہی ہے۔
Ayahs 2:89–93

وَ لَمَّا جَآءَهُمْ كِتٰبٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ١ۙ وَ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ یَسْتَفْتِحُوْنَ عَلَى الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ مَّا عَرَفُوْا كَفَرُوْا بِهٖ١٘ فَلَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:89 in the Quran reader

اور جب اللہ کی طرف سے وہ کتاب آگئی جو ان کے پاس موجود کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے ( تو وہ انکار کرنے لگے) حالانکہ وہ اس سے پہلے کافروں کے خلاف فتح کی دعائیں مانگا کرتے تھے۔ جب ان کے پاس وہ آگیا جسے وہ پہچان بھی چکے ہیں تو اب اس کا انکار کرتے ہیں۔ ایسے منکروں پر اللہ کی لعنت ہے۔

بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهٖۤ اَنْفُسَهُمْ اَنْ یَّكْفُرُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ بَغْیًا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ۚ فَبَآءُوْ بِغَضَبٍ عَلٰى غَضَبٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 2:90 in the Quran reader

وہ کتنی بری چیز ہے جس کے بدلے انہوں نے اپنے آپ کو بیچ دیا ۔ محض اس ضد پر کہ اللہ نے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہا اپنے فضل و کرم سے (اس کتاب ہدایت کو ) نازل کردیا۔ یہ لوگ غضب پر غضب کے مستحق بن گئے ان منکرین حق کے لئے سخت ذلت والا عذاب ہے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا نُؤْمِنُ بِمَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ یَكْفُرُوْنَ بِمَا وَرَآءَهٗ١ۗ وَ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ١ؕ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُوْنَ اَنْۢبِیَآءَ اللّٰهِ مِنْ قَبْلُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:91 in the Quran reader

جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم اس پر ایمان لاؤ جو اللہ نے نازل کیا ہے تو کہتے ہیں کہ ہماری طرف جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر تو ہم ایمان رکھتے ہیں لیکن جو اس کے علاوہ ہے اس کو ہم ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! کہہ دیجئے، اگر تم واقعی مومن ہو تو اس سے پہلے انبیاء کو قتل کیوں کرتے تھے ؟

وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:92 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) تمہارے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے پھر بھی تم نے بچھڑا کیوں بنا تھا ؟ تم بہت ہی ظالم لوگ ہو۔

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ١ؕ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اسْمَعُوْا١ؕ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا١ۗ وَ اُشْرِبُوْا فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْعِجْلَ بِكُفْرِهِمْ١ؕ قُلْ بِئْسَمَا یَاْمُرُكُمْ بِهٖۤ اِیْمَانُكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 2:93 in the Quran reader

یاد کرو جب ہم نے کوہ طور کو تمہارے اوپر لٹکا کر تم سے عہد لیا تھا کہ کو جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے اس کی سختی سے پابندی کرو، غور سے سنو۔ تم نے کہا کہ ہم نے سن تو لیا ہے مگر ہم مانیں گے نہیں اور بچھڑے کی محبت میں تم دیوانے ہوگئے تھے۔ اے نبی ﷺ ! ان سے کہیے کیا یہی تمہارا ایمان ہے ؟ اگر یہ ایمان ہے تو کتنا برا ایمان ہے جو تمہیں ایسی حرکتیں کرنے کا حکم دیتا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 89 تا 93 یستفتحون (وہ فتح مانگتے تھے) ۔ عرفوا (انہوں نے پہچان لیا) ۔ بئسما (وہ برا ہے) ۔ بغی (ضد ) ۔ مھین (ذلیل ورسوا کرنے والا) ۔ وراء (سوا، پیچھے) ۔ العجل (بچھڑا) ۔ رفعنا (ہم نے بلند) ۔ اسمعوا (تم سنو) سمعنا (ہم نے سن لیا) ۔ عصینا (ہم نے نافرمانی کرلی، نہیں مانا) ۔ اشربوا (رچ بس گیا (پلا دیا گیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 89 تا 93 نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور قرآن مجید سے متعلق یہودیوں کی کتابوں میں بہت سے پیشین گوئیاں اور نشانیاں بتا دی گئی تھیں اسی لئے وہ نبی آخر الزماں ﷺ کا بڑی شدت اور بےچینی سے انتظار کر رہے تھے۔ جب کبھی ان کی کفار اور مشرکین سے جنگ ہوتی تو وہ اپنے لوگوں کو تسلی دیتے اور اللہ سے دعا کرتے “ الٰہی ! ہم تجھے تیرے آخری نبی کا واسطہ دے کر تجھ سے درخواست کرتے ہیں کہ جس نبی کا تو نے ہم نے وعد کیا ہے۔ اس کو جلد از جلد ہماری مدد کے لئے بھیج دیجئے تا کہ ہم کفار پر فتح پر نصرت حاصل کرسکیں۔” یہودیوں کو اپنی قوم کی برتری کا ہمیشہ سے گھمنڈ رہا ہے اس لئے ان کو کامل یقین تھا کہ وہ آخری نبی ان ہی میں سے ہوگا اسی لئے کبھی کبھی وہ بڑے ناز سے کہا کرتے تھے جس جی چاہے وہ ہم پر ظلم و ستم کرلے مگر جب وہ آخری نبی آجائے گا تو ہمیں غلبہ اور عروج و ترقی نصیب ہوگا، اس کے بعد ہم ایک ایک سے بدلہ لیں گے۔ ۔۔ ۔ یہ تھیں یہودیوں کی وہ تمنائیں اور آرزوئیں جن کے سہارے وہ جی رہے تھے۔ لیکن جب وہ آخری نبی ﷺ آگئے ، اور آپ کی سیرت کردار اور کمالات سے تمام پیش گوئیاں صحیح ثابت ہوگئیں جو توریت میں موجود تھیں اور یہودیوں نے بھی آپ کو تمام علامتوں سے پہچان لیا۔ محض اس ضد، ہٹ دھرمی اور حسد کی وجہ سے انکار کردیا کہ وہ نبی ہمارے اندر سے کیوں نہ ہوا۔ جب ان کو قرآن مجید کی سچی تعلیمات پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی تو انہوں نے ایک ایسے کلام کو بھی ماننے سے انکار کردیا جس کا یہ چیلنج تھا کہ اگر تمہیں یہ گمان ہے کہ اس قرآن کو کسی نے گھڑ لیا ہے تو تم اس قرآن جیسی ایک سورت ہی بنا کرلے آؤ۔ اس قرآن عظیم کا یہ کہہ کر انکار کردیا کہ ہم تو صاحب ایمان ہیں، تو ریت کی موجودگی میں کسی اور کتاب یا نبی پر ایمان لائیں اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے یہ سوال کیا ہے کہ اگر واقعی تم صاحب ایمان رہے ہو اور آج بھی ہو تو تم یہ بتاؤ کہ وہ اللہ کے پیغمبر جو تمہاری کتاب توریت کی تصدیق کے لئے آئے تھے تم نے ان کو کیوں قتل کردیا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی موجودگی میں تم نے بچھڑا بنا کر اس کی عبادت کیوں کی تھی۔ جب تمہارے سروں کے اوپر کوہ طور کو لٹکا کر تم سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ دیکھو اس عہد پر مضبوطی سے جمے رہنا لیکن پھر تم اس عہد پر قائم نہ رہے اگر واقعی تمہارا ایمان حق پرستوں کے قتل، بچھڑے کی عبادت اور عہد شکنیوں کا حکم دیتا ہے تو یہ ایمان بڑا بدترین ہے، تمہیں اپنے ایمان کی سلامتی کی فکر کرنا چاہئے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے صاف صاف فرما دیا ہے کہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر اگر تم حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہیں لائے تو یقیناً تم دنیا اور آخرت کی تمام سعادتوں سے محروم رہوگے اور تمہارا شمار بھی ان ہی لوگوں میں ہوجائے گا جنہوں نے اللہ کے پیغمبروں کو نہ مان کر اپنی دنیا اور آخرت برباد کر ڈالی تھی۔