2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 2:168–176

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 2:168 in the Quran reader

اے لوگو ! زمین میں جو بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤ اور شیطان کے پیچھے نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔

اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:169 in the Quran reader

وہ تمہیں برے اور بےحیائی کے کام سکھاتا ہے۔ اور یہ کہ تم اللہ پر وہ جھوٹی باتیں لگاؤ جن کا تمہیں علم بھی نہیں ہے۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَیْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:170 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس کی تابعداری کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی تابعداری کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ (بھلا) اگر ان کے بات دادا نہ تو سمجھ رکھتے ہیں اور نہ صحیح راہ پر ہوں (کیا پھر بھی وہ ان ہی کی تابعداری کریں گے )

وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:171 in the Quran reader

ایسے کافروں کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی ایسے جانور کے پیچھے چلاتا ہو جو سوائے پکار اور آواز کے کچھ سنتا ہی نہ ہو۔ یہ کفار بھی بہرے، گونگے اور اندھے ہیں وہ کچھ نہیں سمجھتے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 2:172 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ہم نے تمہیں پاکیزہ اور حلال چیزیں دی ہیں۔ انہیں کھاؤ اور اگر تم اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو اس کا ان نعمتوں پر شکر ادا کرو۔

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَیْرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:173 in the Quran reader

اس نے تمہارے اوپر مردار جانور، خون، خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی کا بھی نام لیا گیا ہو حرام کردیا ہے۔ البتہ جو شخص بےبس اور مجبور ہوجائے ۔ کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں کو استعمال کرے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا مقصد نہ تو نافرمانی ہو اور نہ حد سے بڑھنے کا ارادہ ہو۔ بلاشبہ اللہ بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ یَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ۙ اُولٰٓئِكَ مَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١ۖۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:174 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب میں سے چھپاتے ہیں اور اس کے معاوضہ میں تھوڑا سا مال و دولت بھی حاصل کرلیتے ہیں وہ اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں۔ قیامت کے دن نہ تو اللہ ان سے کلام کرے گا۔ نہ ان کو پاک کرے گا بلکہ ان کو شدید اور دردناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَ الْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ١ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ Open ayah 2:175 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی اور مغفرت کے بدلے میں عذاب کو خرید لیا ہے۔ (اللہ نے طنز کے طور پر فرمایا) ان کا حوصلہ بھی کتنا عجیب ہے کہ وہ آگ پر صبر کئے بیٹھے ہیں۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 2:176 in the Quran reader

اللہ نے اپنی کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے۔ بلاشبہ جنہوں نے کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں دور جا پڑے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 168 تا 17 6 کلو (کھاؤ) ۔ حلالا طیبا (حلال اور پاکیزہ چیزیں) ۔ خطوات (خطوۃ) قدم۔ ۔۔ (نشانات قدم) ۔ السوء (برائی) الفحشاء (فحش اور بےحیائی) ۔ الفینا (ہم نے پایا) ۔ اباؤنا (ہمارے باپ ، دادا) ۔ ینعق (چلاتا ہے) ۔ دعاء (پکار ) نداء (آواز) ۔ المیتۃ (مردار) الدم (خون) لحم الخنزیر (سور کا گوشت) اھل (پکارا گیا، لیا گیا) ۔ غیر باغ (بغاوت کرنے والا نہ ہو) لا عاد (نہ زیادتی کرنے والا ہو) ۔ بطون (بطن، پیٹ) لا یکلم (وہ بات نہ کرے گا) ۔ ما اصبر (کیسا صبر ہے) ۔ شقاق (ضد) ۔ بعید (دور) ۔ تشریح : آیت نمبر 168 تا 17 6 اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے اور بعض چیزوں کے استعمال کی اجازت دی ہے ، جن چیزوں کی اجازت دی ہے یعنی حلال کیا ہے وہ خوشگوار، پاکیزہ ، معتدل ، صحت بخش اور روح پرور ہیں اور جن چیزوں سے منع کیا ہے یعنی ان کو حرام قرار دیا ہے وہ سب کی سب کی روح، عقل، جسم اور اخلاق و کردار کو نقصان پہنچان والی اور بدکاری و بےحیائی کی راہ کھولنے والی ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے مومنو ! جن چیزوں کو ہم نے حلال قرار دیا ہے ان میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھاؤ، پاکیزہ چیزوں سے مراد یہ ہے کہ وہ چیزیں جو ظاہری گندگی، عقل اور اخلاق کو تباہ کرنے والی چیزیں ہیں ان کو استعمال نہ کرو کیونکہ ان چیزوں کا براہ راست اثر انسان کے کردار پر پڑتا ہے ۔ اس کے برخلاف وہ چیزیں جن میں ظاہری گندگی یا باطنی گندگی ہے جن سے انسانی کردار متاثر ہوتا ہے۔ ان کو نہ کھاؤ وہ انسان کے لئے حرام قرار دے دی گئی ہیں جیسے مردار جانور، بہتا ہوا خون، خنزیر کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے بجائے غیر اللہ کا نام لے کر اس کو غیر اللہ سے منسوب کیا گیا ہو قطعاً حرام ہیں۔ البتہ اگر کسی جگہ ایسی مجبوری ہو کہ ان مذکورہ چیزوں کے علاوہ کچھ ملتا ہی نہ ہو اور زندگی بچانے کا مسئلہ پیدا ہوجائے تب ان چیزوں کے استعمال کرسکتا ہے خون سے مراد خون پینا ہے کسی شدید مرض میں کوئی مومن ڈاکٹر اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اگر وہ کسی جانور کا کون پئے گا تو اس کی جان بچ سکتی ہے اس صورت میں تو کراہت بھی نہیں ہے اسی طرح اگر انسانی جان بچانے کے لئے کسی کو اپنا خون دیا جائے یا دوسرے کی جان بچانے کے لئے خون استعمال کیا جائے اس میں قطعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ شیطان کے نقش قدم پر چلنے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے ان کو کھانے میں کوئی حر ج نہیں ہے لیکن بعض لوگوں نے خود سے بھی محض مشرکانہ توہمات کے تحت جن چیزوں کو حلال یا حرام قرار دے رکھا ہے ان کی شرعی اعتبار سے کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اگر اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دیا جائے گا تو یقیناً یہ شیطان کے نقش قدم پر چلنے کے برابر ہوگا۔ ۔ فرمایا گیا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے ساتھ شیطان کی دشمنی کچھ ڈھکی چھپی نہیں ہے بلکہ وہ انسان کا کھلا دشمن ہے جو ہر آن اس کو اخلاقی شکست دینے کے چکر میں لگا رہتا ہے ۔ وہ انسان سے اپنی اس کھلی دشمنی کا اعلان اللہ کے سامنے کرچکا ہے جو دشمن اتنے کھلے الفاظ میں اپنی دشمنی کا اعلان کرچکا ہو اس کے ازلی دشمن ہونے میں کس کو شک ہو سکتا ہے اس لئے قرآن کریم میں اس کو ” عدومبین “ فرمایا گیا ہے یعنی کھلا ہوا دشمن اور فرمایا گیا کہ چھپے ہوئے دشمن سے دھوکا کھا جانا ممکن ہو سکتا ہے لیکن کھلے ہوئے دشمن سے دھوکہ کھاجانا ممکن ہو سکتا ہے لیکن کھلے ہوئے دشمن سے دھوکہ کھا جانا یہاں تک کہ اس کو اپنا دوست، اور کارساز بنا لینا، اس کے مشوروں پر چلنا کہاں کی عقل مندی ہے۔ فرمایا شیطان نے لوگوں کو توحید کے راستے سے بھٹکانے کے لئے گمراہی کے راستوں کو بہت آسان بنا دیا ہے وہ بدترین بےحیائی اور بےشرمیوں کی طرف بڑے خوبصورت انداز سے دعوت دیتا ہے لیکن عقل مند وہی ہے جو اس کھلے ہوئے دشمن کے چکر میں نہ پھنسے ورنہ انسان اپنے تمام اعمال کو ضائع کر بیٹھے گا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے جن چیزوں کو حلال اور پاکیزہ بنا دیا ہے ان کو کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور جن چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے ایک مومن کو اس کے قریب بھی نہ جانا چاہئے۔ شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے اس کے بہکائے میں آکر حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دینا کسی طرح جائز اور مناسب نہیں ہے۔
Ayah 2:177

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَ١ۚ وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ١ۙ وَ السَّآئِلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِ١ۚ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ١ۚ وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا١ۚ وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِ١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ Open ayah 2:177 in the Quran reader

یہی نیکی نہیں ہے کہ تم اپنے چہرے مشرق و مغرب کی طرف کرلیا کرو بلکہ (سچی) نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ پر، قیامت کے دن پر، اس کے فرشتوں پر، کتابوں پر اور تمام نبیوں پر ایمان لائے، اور مال کی محبت کے باوجود اس کو رشتہ داروں، یتیموں ، محتاجوں، مسافروں، مانگنے والوں اور (قرض سے) گردنیں چھڑانے پر اپنا مال خرچ کرے، نماز قائم کرے ، زکوٰۃ دیتا رہے ، اور وعدہ کرنے کے بعد اس کو پورا کرے ، سختی، تکلیفوں اور لڑائی کے وقت صبر کرے ، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیز گار ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 177 البر (سچی نیکی) ۔ قبل (طرف، سمت) ۔ اتی (دیا) ۔ علی حبہ (اس کی محبت پر (مال کی محبت کے باوجود اس کو اللہ کی محبت پر قربان کرنا) ۔ الرقاب (الرقبتہ ، گردن) ۔ الموفون (پورا کرنے والے، وفاء عہد کرنے والے ) ۔ الباساء (سختیاں) ۔ الضراء (تکلیفیں) ۔ حین (جس وقت) ۔ صدقوا (انہوں نے سچ کیا۔ (سچ کر دکھایا) ۔ تشریح : آیت نمبر 177 نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اس آیت پر عمل کیا اس نے اپنے ایمان کو کامل و مکمل کرلیا اس لئے کہ اسلام کے تمام اصولوں کا خلاصہ تین چیزیں ہیں، عقائد کی اصلاح، معاملات زندگی میں حسن معاشرت اور نفس کی اصلاح و تہذیب، اس آیت میں ان ہی تینوں باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ جو لوگ مذہب کی چند ظاہری باتوں اور رسموں کو ادا کر کے صرف ضابطے کی خانہ پری کرتے ہیں وہ حقیقی اور سچی نیکی کو نہیں پہنچ سکتے، حقیقی نیکی کو وہی لوگ پہنچتے ہیں، جو عقائد ، عبادات ، معاملات اور اخلاق کے تمام اصولوں پر عمل کرتے ہیں، اس آیت میں تیرہ باتوں پر عمل کرنے کو سچی نیکی قرار دیا گیا ہے۔ (1) ایمان باللہ : اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ذات اور صفات میں کسی کو کسی بھی انداز سے شریک نہ کیا جائے نہ سمجھا جائے اور ایک مومن پوری طرح اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے سپرد کر دے۔ (2) ایمان بالاخرت : اپنے ہر قول اور فعل کے لئے اپنے آپ کو آخرت میں جواب دینے والا، مرنے کے بعد اٹھائے جانے پر ایمان لانے والا اور جھوٹی شفاعتوں کے وہم میں مبتلا نہ ہونے والا بنائے۔ (3) ایمان بالملائکہ : ان کی ہستی کو تسلیم کرنا، ان کو معصوم، امین اور معتمد سمجھنا، اللہ کی ہدایت لانے والا اور اللہ کے حکم سے قضاء قدر کے تمام فیصلوں کو نافذ کرنے والا سمجھنا۔ (4) ایمان بالکتاب : تمام آسمانی کتابوں کو اللہ کی طرف سے نازل شدہ کتابیں ماننا، یعنی جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کتابوں میں نازل فرمایا تھا وہ سب حق اور اس زمانے کے لئے وہی واجب العمل تھا مگر قرآن نازل ہونے کے بعد چونکہ پچھلی کتابیں اور شریعتیں سب منسوخ ہوگئیں تو اب عمل صرف قرآن پر ہی ہوگا اور اسی کو حق و باطل کی کسوٹی اور زندگی کے ہر پہلو میں اسی کی مکمل رہنمائی پر اعتماد رکھنا ہوگا۔ (5) ایمان بالانبیاء : اللہ کے تمام بنیوں اور رسولوں کو اللہ کا بھیجا ہوا سمجھنا۔ ان کی پیروی اور محبت کو ایمان کا حصہ بنا لینا۔ ان نبیوں کو تمام خطاؤں سے معصوم ، ان کے ہر علم کو بےخطا اور ان کی زندگی کو بہترین نمونہ زندگی سمجھنا ۔ اور نبی کریم ﷺ کو خامت الانبیاء والمرسلین ماننا اور آپ کے بعد کسی کو رسول یا نبی نہ ماننا۔ عقائد کی اصلاح کے لئے یہ پانچ بنیادیں ہیں جن کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے، جس شخص کا اللہ، آخرت ، فرشتوں، کتابوں اور نبیوں پر پختہ ایمان ہوگا یقیناً اس کے تمام اعمال درست ہوتے چلے جائیں گے اب ان چھ باتوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جو ایمان رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے۔ (6) اتی المال علی حبہ : اللہ کی محبت پر اپنے مال کو اللہ کے بندوں پر خرچ کرنا، اس کا مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مال کی بےانتہا محبت ہونے کے باوجود اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ (7) ذی القربی : یعنی رشتہ داروں پر صلہ رحمی کے لئے مال خرچ کرنا۔ (8) الیتمی : ان بےباپ کے بچوں پر مال خرچ کرنا جن کی اصلاح و تربیت کی ذمہ داری پورے اسلامی معاشرہ پر ہے۔ (9) ابن السبیل : یعنی مسافروں پر مال کو خرچ کرنا۔ اس سے عام مسافر بھی مراد ہیں اور وہ لوگ بھی مراد ہیں جو اللہ کا دین سیکھنے کے لئے نکلے ہوئے ہیں ان کی اپنے مال سے امداد کرنا فروغ کا علم کا ذریعہ ہے۔ (10) سائلین : مانگنے والے یعنی وہ مستحق لوگ جو اپنے حالات سے بےبس ہو کر سوال کرنے پر مجبور ہیں لیکن اس سے مراد وہ غلام بھی ہیں جن کو خرید کر آزاد کرنا اور آزاد انسانوں کی سطح پر لا کر معاشرہ کا کار آمد فرد بنانا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کی برکت سے غلامی ختم ہوچکی ہے لیکن آج بھی ایسے بہت سے انسان ہیں جو اپنی معاشی ضرورتوں اور مجبوریوں کی بنا پر قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں یا سود کی لعنتوں میں گرفتا ر ہیں ایسے لوگوں کے لئے مال خرچ کر کے ان کو قرضے سے نجات دلانا اور ان کو قلبی سکون بہم پہنچانا یہ بھی اسلامی معاشرہ میں ہر صاحب حیثیت انسان کی ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے یہ ہیں وہ چھ اعمال جو ایمان کا لازمی تقاضا ہیں یعنی اللہ پر ایمان لانے کے بعد ایک انسان کو اپنے معاشرہ کی ان ذمہ داریوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ عقائد کی اصلاح اور معاملات زندگی میں حسن معاشرت کے بعد اصلاح اور تہذیب نفس کے اصول بتائے گئے ہیں۔ (12) اقام الصلوٰۃ واتی الزکوٰۃ : نمازوں کو قائم کرنا اور زکوٰۃ دیتے رہنا تا کہ بندوں کا تعلق خالق اور مخلوق کے ساتھ نہایت بہتر اور صحت مندانہ بنیادوں پر قائم ہوجائے۔ ان دونوں کے قائم رکھنے سے معاشرہ میں ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کا چلن ہوگا۔ (13) ایفائے عہد اور صبر : وعدہ کا پورا کرنا اور حالات و مشکلات میں صبر کا دامن نہ چھوڑنے کا تعلق انسان کی سیرت و کردار سے ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ کردار کی بلندی میں وعدہ کو پورا کرنا اور صبر کرنا بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے سے انسان کے قلب میں جو روشنی پیدا ہوتی ہے نماز، روزہ ، صبر اور ایفائے عہد اس کو جگمگادیتے ہیں۔ یہ تمام باتیں ایک مسلمان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی خصوصیت ہونی چاہئے کیونکہ امتحان و آزمائش کا اصل میدان انسان کی سیرت و کردار ہی ہوا کرتا ہے۔ یہ ہے وہ ضابطہ اخلاق جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے جو لوگ ان تیرہ باتوں پر عمل کرنے والے ہیں وہی سچی نیکی کے مستحق ہیں اور منزل مراد تک پہنچنے والے ہیں لیکن جو لوگ مشرق و مغرب کے ان جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں کہ منہ مشرق کی طرف کرنا چاہئے یا مغرب کی طرف درحقیقت ایسے لوگ نہ تو فلاح پانے والے ہیں اور نہ سچی نیکی سے ہمکنار ہونے والے ہیں۔ اور بحث برائے بحث ہے۔
Ayahs 2:178–179

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰى١ؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰى بِالْاُنْثٰى١ؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍ١ؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 2:178 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم پر قتل کئے جانے والوں کا قصاص (بدلہ لینا) فرض قرار دیا گیا ہے ، آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام ، اور عورت کے بدلے عورت کا قصاص ہے۔ البتہ اگر کسی قاتل کے ساتھ اس کا کوئی مسلمان بھائی کچھ نرمی کرنے کو تیار ہو تو اس کے لئے دستور کی پیروی کرنا اور خوش دلی سے خون بہا ادا کرنا چاہئے۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے آسانی اور مہربانی ہے۔ اس کے بعد بھی جو شخص زیادتی کرے گا اس کے لئے دردناک سزا ہے

وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 2:179 in the Quran reader

اور اے عقل رکھنے والو ! قصاص ہی میں تمہارے لئے زندگی اور بقا ہے۔ تا کہ تم (خونریزی سے) پرہیز کرو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 178 تا 179 کتب علیکم (تم پر فرض کردیا گیا) ۔ القصاص (برابری) ۔ القتلیٰ (مقتول (جو قتل کردیا گیا ) ۔ الحر (آزاد) ۔ العبد (غلام ) ۔ الانثی (عورت) ۔ عفی (معاف کردیا گیا) ۔ فاتباع (پھر پیروی کرنی ہے) ۔ اولی الالباب (عقلوں والے (اولو، والا، الباب (لب عقل) ۔ تشریح : آیت نمبر 178 تا 179 ہر انسان پیدائشی اعتبار سے مجرم نہیں ہوتا بکہ انسانی معاشرہ میں سے کچھ لوگ جذباتی، بےاعتدالی ، عقلی عدم تو ازن ، ذہنی انتشار، انتقام اور معاشی پریشانیوں میں مبتلا ہو کر انسانی قتل کا سبب بن جایا کرتے ہیں۔ ایسے نفسیاتی مریضوں کے لئے اسلام نے محض اصلاح و تربیت کو کافی نہیں سمجھا ہے بلکہ اس بیماری کو کینسر کی طرح خطرناک قرار دے کر جڑ وبنیاد سے ختم کردینے کا بہترین علاج مقرر کیا ہے تا کہ یہ دوسروں کے لئے سامان عبرت بن جائے۔ موجودہ تہذیب کے علم برداروں اور عقل کا سہارا لے کر چلنے والوں نے قاتل سے قتل کا بدلہ لینے کو ایک قابل نفرت مسئلہ بنا کر رکھ دیا ہے بلکہ بہت سے ملکوں میں تو اس کے خلاف بھر پور مہم چلا کر قاتل کو قتل کرنے اور پھانسی دینے کے خلاف قانون بھی پاس کر ا لیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو عقل و سمجھ رکھتے ہیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے اہل عقل تمہاری سوسائٹی اور تمہارے معاشرے کی زندگی اسی میں ہے کہ انسانی جانوں کا احترام کرتے ہوئے ” قصاص “ ضرور لو۔ اس میں عقل و سمجھ اور اعتدال کو بڑا دخل ہے۔ جس طرح آج تہدیب کے نام پر قاتل سے بدلہ لینے کے بجائے اس کی اصلاح و تربیت کی باتیں کی جاتی ہیں اسی طرح کی بےاعتدالی عرب کے اس معاشرے میں بھی تھی جس کو ہم جاہلیت کا معاشرہ کہتے ہیں۔ اس دور جہالت میں اول تو بڑے لوگوں پر قصاص معاف تھا ۔ تھوڑے سے درہم و دینار دے دلا کر مقتول کے وارثوں کی زبان بندی کردی جاتی تھی۔ چھوٹے اور غریب آدمی اور خاص طور سے غلاموں کی جان کی تو کوئی قدروقیمت ہی نہیں تھی، غریب مقتول کے وارثوں کی سننے والا کوئی نہ تھا البتہ اگر کسی اونچی ناک والے قبیلے کا کوئی فرد مارا جاتا تو جوش انتقام کا یہ عالم ہوتا تھا کہ ایک شخص کے بدلے قاتل کے خاندان کے لاتعداد لوگوں کو قتل کردیا جاتا تھا اور پھر بھی انتقام کی آگ نہ بجھتی تھی۔ قرآن کریم نے اس آیت کے ذریعہ یہ بتایا ہے کہ قتل کا بدلہ خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو صرف قاتل سے لیا جائے گا اس میں چھوٹے ، بڑے، امیر، غریب ، عورت، مرد، غلام یا لونڈی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے جس نے قتل کیا ہے اس کو اس کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ اسلامی قانون میں قصا ص کا حق مقتول کے وارثوں کے لئے تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی لئے مقتول کے وارث قاتل سے قصاص لے سکتے اور معاف کرسکتے ہیں اور خون بہا بھی لے سکتے ہیں۔ مقتول کے وارث اور قاتل جس بات پر رضا مند ہوجائیں اس میں نہ کسی برادری کو مداخلت کا حق ہے اور کسی حکومت کو ۔ خون بہا کی تعداد ایک سو اونٹ، یا ایک ہزار دینار یا د س ہزار درہم ہیں (یا اس کے برابر رقم ہے ) ۔ مقتول کے وارث اپنی مرضی سے اس مقدار کو کم بھی کرسکتے ہیں۔ باہمی رضا مندی سے ان مقررہ مقداروں کے مساوی کسی مال و دولت پر بھی لین دین کرسکتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے خون بہا قاتل کے مال سے لیا جائے گا کسی اور سے وصول نہیں کیا جائے گا اور وہ مال جو قاتل سے لیا جائے گا مقتول کے وارثوں میں ورثہ کی طرح تقسیم کیا جائے گا۔ مقتول کے وارثوں میں سے اگر کسی بھی وارث نے اپنا حق قصاص معاف کردیا تو وہ سب کی طرف سے معاف ہوجائے گا کیونکہ قتل کی تقسیم ممکن نہیں ہے۔ البتہ کون بہا میں بقیہ وارثوں کا حق محفوظ رہے گا۔ مثلاً اگر مقتول کے چار لڑکے ہیں۔ ان میں سے ایک نے قصاص معاف کردیا تو قتل کرنے میں بقیہ تین بھائیوں کا حق بھی ختم ہوگیا اب وہ تینوں مل کر قاتل کے قتل کا دعویٰ یا مطالبہ نہیں کرسکتے البتہ وہ تینوں اپنے حصے کا خون بہا لینے کا پورا پورا حق رکھتے ہیں۔
Ayahs 2:180–182

كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا١ۖۚ اِ۟لْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 2:180 in the Quran reader

تمہارے اوپر فرض کیا گیا ہے جب تم میں سے کسی شخص کی موت کا وقت قریب آجائے اور اس نے مال بھی چھوڑا ہو تو وہ والدین اور رشتہ داروں کے لئے معروف طریقے سے وصیت کر جائے، یہ حکم پرہیز گاروں کے لئے لازمی ہے

فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ Open ayah 2:181 in the Quran reader

پھر جس شخص نے اس وصیت کو سن کر اس کو بدل ڈالا تو اس کا گناہ اس شخص پر ہے جس نے اس وصیت کو تبدیل کیا ہے۔ بیشک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

فَمَنْ خَافَ مِنْ مُّوْصٍ جَنَفًا اَوْ اِثْمًا فَاَصْلَحَ بَیْنَهُمْ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 2:182 in the Quran reader

پھر اگر کسی شخص کو وصیت کرنے والے کی طرف سے یہ اندیشہ ہو کہ وصیت طرف داری یا گناہ کے ساتھ کی گئی ہے۔ پھر اس نے معاملے تعلق رکھنے والوں کے درمیان باہم صلح کرادی تو اس شخص پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ بیشک اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 180 تا 182 خیر (مال (اللہ نے مال کو خیر فرمایا ہے ) ۔ یبدلون (جو بدلنتے ہیں ) ۔ موص (وصیت کرنے والا) ۔ جنف (طردار ی، حق تلفی ) ۔ اصلح (اصلاح کرادی، درست کرادیا) ۔ تشریح : آیت نمبر 180 تا 182 یہ حکم اس وقت نازل ہوا تھا جب مرنے والے کے ترکہ کی تقسیم کا کوئی قانون نازل نہیں ہوا تھا بلکہ وہی قانون جو اس وقت عربوں میں رائج تھا اس کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔ یہ وہ تصور تھا جس کی کچھ نہ کچھ بنیاد ترکہ کے سلسلے میں پہلے سے موجود تھی۔ مگر ان کی معاشرتی زندگی میں جہاں ہزاروں بگاڑ موجود تھے وہاں وراثت کی تقسیم میں بھی بڑا فساد آچکا تھا۔ اس وقت کسی کے مرجانے کے بعد اس کی اس کی تمام جائیداد اور مال مرنے والے کے بیٹے کے نام ہوجایا کرتا تھا اگر کوئی وصیت کرجاتا تو اس میں شہرت کا پہلو نمایاں کرنے کے لئے دو ر دراز کے رشتہ داروں کے نام دولت کا اکثر حصہ مقرر کردیا جاتا، ماں باپ، بہن بھائی اور دوسرے قریبی رشتہ داروں کو نظر انداز کردیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں وصیت سننے کے بعد اس میں تبدیلی کو گناہ قرار دیا ہے۔ فرمایا کہ اگر انہوں نے مرنے والے کی وصیت میں کوئی تبدیلی کی یا حقداروں کے حق میں کوئی زیادتی کی تو ان لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ دنیا سے جس بات کو چھپا سکتے ہیں اس علیم وخبیر کی ذات سے چھپا نہیں سکتے، البتہ اگر کوئی شخص یہ محسوس کرتا ہے کہ وصیت کرنے والے نے کوئی ایسی وصیت کی ہے جو طرف داری یا گناہ پر مبنی ہے تو اس معاملہ سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان باہمی صلح صفائی سے کوئی تبدیلی کرا دی تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ اس آیت پر اس وقت تک عمل ہوتا رہا جب تک آیت میراث نازل نہیں ہوئی تھی۔ لیکن جب آیت میراث اور میراث کی تقسیم کے شرعی اصول بیان کر دئیے گئے تو یہ حکم منسوخ ہوگیا ۔ وجہ یہ ہے کہ اس بگڑے ہوئے معاشرے میں ایک دم تبدیلی سے بڑا مسائل پیدا ہو سکتے تھے اللہ نے اس معاشرہ کو درست کرنے کے لئے تمام احکام کو آہستہ آہستہ نازل کیا ہے تا کہ وہ شریعت اسلامیہ کے اچھی طرح خوگر اور عادی بن جائیں۔
Ayahs 2:183–187

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الصِّیَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:183 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر روزے فرض کئے گئے تھے تا کہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍ١ؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ١ؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:184 in the Quran reader

یہ گنتی ہی کے تو چند دن ہیں۔ پھر اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اس تعداد کو پورا کرلے۔ اور جنہیں روزے رکھنے کی طاقت نہیں ہے وہ ایک مسکین کو کھانا اس کے بدلے میں دے دیں۔ پھر جو شخص اپنے دل کی خوشی سے کوئی بھلا کام کرتا ہے تو وہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ اور اگر تم روزہ رکھ ہی لو تو یہ بھی بات تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ اگر تم سمجھ رکھتے ہو۔

شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَ الْفُرْقَانِ١ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُ١ؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ١٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:185 in the Quran reader

رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل کیا گیا ۔ جو تمام انسانوں کے لئے رہبر و رہنما ہے جس میں ہدایت کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں اور وہ حق و باطل کے درمیان فرق بتانے والا ہے۔ جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو وہ اس کے روزے رکھے اور جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو وہ دوسرے دنوں میں تعداد پوری کرلے۔ اللہ تمہارے لئے آسانی اور سہولت چاہتا ہے، تمہیں دشواری میں ڈالنا نہیں چاہتا تا کہ تو روزوں کی گنتی بھی پوری کرلو اور اللہ کی عظمت وکبریائی بھی بیان کرو جس نے تمہیں صحیح طریقہ بتایا تا کہ تم اس کا شکر ادا کرو۔

وَ اِذَا سَاَلَكَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ١ؕ اُجِیْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ١ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَ لْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّهُمْ یَرْشُدُوْنَ Open ayah 2:186 in the Quran reader

اے نبی ! ﷺ جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے پوچھتے ہیں تو ان سے کہہ دیجئے میں تو قریب ہی ہوں۔ ہر پکارنے والے کی پکار کو جب وہ مجھے پکارتا ہے، میں سنتا ہوں اور اس کو قبول بھی کرتا ہوں۔ انہیں میرا حکم ماننا چاہئے، مجھ پر ایمان لانا چاہئے تا کہ وہ نیک راہ پر آجائیں ۔

اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ١ؕ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ١ؕ عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْ١ۚ فَالْئٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ١۪ وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ١۪ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِ١ۚ وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَ١ۙ فِی الْمَسٰجِدِ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 2:187 in the Quran reader

رمضان کی راتوں میں تمہیں اپنی بیویوں سے مباشرت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس کی طرح ہو۔ اللہ اس کو اچھی طرح جانتا ہے کہ تم اپنے حق میں خیانت کیا کرتے تھے۔ اللہ نے معاف کردیا اور تم سے درگزر کیا اب تم ان عورتوں سے (رمضان کی راتوں میں ) بےتکلف قربت حاصل کرو۔ اور تلاش کرو جو اس نے تمہارے لئے مقرر کردیا ہے۔ اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک صبح صادق کی سفید دھاری رات کی سیاہ دھاری سے جدا نہ ہوجائے۔ پھر تم روزوں کو رات تک پورا کرو۔ اپنی عورتوں سے اس وقت قربت نہ کرو جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں ہو۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدود ہیں ان کے نزدیک نہ جاؤ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ لوگوں کے واسطے اپنی آیتوں کو وضاحت سے بیان کرتا ہے تا کہ وہ بچتے رہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 183 تا 187 معدودات (معدودۃ، چند) ۔ عدۃ (مدت) ۔ ایام اخر (دوسرے دن ) ۔ یطیقونہ (اس کی طاقت ہو (اصل میں یہ لا یطیقونہ ہے یعنی جس کو اس کی طاقت نہ ہو) ۔ طعام مسکین (ایک غریب کا کھانا) ۔ تصوموا (تم روزہ رکھو) ۔ شھر (مہینہ) ۔ شھد (موجود، جو پائے ) ۔ لا یرید (نہیں چاہتا ہے) ۔ الیسر (آسانی، سہولت) ۔ العسر (تنگی ، دشواری) ، لتکملوا (تا کہ تم مکمل کرلو) ۔ لتکبروا ( تاکہ تم (اللہ ) کی بڑائی بیان کرو۔ سال (اس نے پوچھا) ۔ عبادی (میرے بندے) ۔ اجیب (میں جواب دیتا ہوں) ۔ دعان (مجھے پکارا (دعا ، ن ، ی) ۔ فلیستجیبوا (پھر قبول کرنا چاہئے) ۔ ولیؤمنوا (اور ایمان لانا چاہئے) ۔ احل (حلال کردیا گیا) ۔ الرفث (بےپردہ ہونا، عورتوں کا رغبت کرنا ) ۔ تختانون (تم خیانت کرتے ہو) ۔ باشروا (تم صحبت کرو) ۔ ابتغوا (تم تلاش کرو) ۔ الخیط الابیض (سفید دھاگہ (صبح صادق) ۔ الخیط الاسود (سیاہ دھاگہ (رات) ۔ اتموا (تم پورا کرو) ۔ الی اللیل (رات تک) ۔ عاکفون (اعتکاف کرنے والے، ٹھہرنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 183 تا 187 عرب والے اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو بھوک ، پیاس اور شدید مشکلات میں حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ان کو باقاعدہ تربیت دیا کرتے تھے ، تا کہ وہ زیادہ سے زیادہ سختی برداشت کرنے کے عادی بن جائیں۔ وہ اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو تیزو تند ہواؤں کا مقابلہ کرنے کی بھی ٹریننگ دیا کرتے تھے۔ یہ چیز سفر اور جنگ کے ان حالات میں جبکہ ہوا کے تھپیڑوں سے واسطہ پڑتا تھا بہت کام آیت تھی۔ ۔ ۔۔ ایسے گھوڑے جو سدھائے گئے ہوں اور وہ ناموافق حالات کا مقا بلہ کرنے کے لئے تیار ہوں تو وہ ان کو صائم کہا کرے تھے۔ روزوں کا حقیقی مفہوم یہ ہے کہ جو شخص اللہ کے حکم سے صبح سے شام تک کھانے پینے اور ازدواجی تعلقات سے رکنے کی ایک ماہ تک تربیت حاصل کرتا ہے وہ بھی مشکل حالات میں صبرو تحمل سے برداشت کا عادی بن جاتا ہے جس سے اس کو نہ صرف اس دنیا میں فائدہ حاصل ہوتا ہے بلکہ آخرت کی ابدی راحتیں اس کے بدلے میں عطا کی جاتی ہیں۔ سال بھر میں 29 تا 30 دن تک روزے رکھے جاتے ہیں لیکن ان چند دنوں کی روحانی برکات پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان چند دنوں کی مشقت کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر نیک عمل کی جزا تو دس سے سات سو گنا تک ہے لیکن روزوں کی جزا وہ ہے جو حق تعالیٰ شانہ اپنے دست مبارک سے اس کو عطا فرمائیں گے۔ فرمایا گیا کہ اے مومنو ! یہ روزے صرف تم پر ہی فرض نہیں کئے گئے ہیں بلکہ تم سے پہلے جتنی بھی شریعتیں آئی ہیں ان سب کے ماننے والوں پر روزوں کو فرض کیا گیا تھا تا کہ تقویٰ اور پرہیز گاری کی صلاحیت پیدا ہو سکے۔ پھر فرمایا گیا کہ رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا وہ قرآن جو قیامت تک تمام انسانیت کے لئے ہدایت کی روشنی ہے وہ صراط مستقیم ہے جس میں واضح، دل نشین اور ہر الجھن کو دور کرنے کی کھلی دلیلیں موجود ہیں اگر تم نے رمضان کے مبارک مہینہ میں تقویٰ اور پرہیزگاری کے ساتھ قرآن کریم کے نور کو مشعل راہ بنا لیا تو یقیناً تمہیں راہ نجات مل جائے گی۔ ان آیتوں میں بیماروں اور مسافروں کے لئے خاص رعایتوں کا اعلان کیا گیا جن کا مقصد آسانیاں بہم پہنچانا ہے لوگوں کو مشکلات میں ڈالنا نہیں ہے۔ ان آیتوں میں ایک خاص بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اس ماہ مبارک میں اللہ انسانوں سے بہت قریب ہوتا ہے وہ ان راتوں میں ہر پکارنے والے کی پکار کو سنتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ رمضان وہ مبارک مہینہ ہے جو تقویٰ ، پرہیزگاری، نور ایمان اور سچائیوں سے دلوں کو جگمگانے کا مہنہ ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت براء بن عازب ؓ کی روایت مذکور ہے کہ ابتداء میں جب رمضان کے روزے فرض کئے گئے تو افطار کے بعد کھانے پینے اور بیویوں کے ساتھ قربت کی صرف اس وقت تک اجازت تھی جب تک سو نہ جائے پھر سو جانے کے بعد یہ ساری چیزیں حرام ہوجاتی تھیں لیکن بعد میں اللہ تعالیٰ نے اجازت عطا فرما دی کہ دن میں جب کہ روزے کی حالت ہو۔ اعتکاف میں جو مسجدوں میں کیا جاتا ہے کے علاوہ راتوں کو بیویوں سے قربت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ یہ امت محمدیہ ﷺ کی ایک خصوصیت ہے ورنہ گزشتہ امتوں میں اس کی اجازت نہیں تھی۔
Ayah 2:188

وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَ تُدْلُوْا بِهَاۤ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 2:188 in the Quran reader

تم آپس میں ناجائز طریقے سے ایک دوسرے کا مال نہ کھاؤ اور نہ ان مالوں کو (رشوت کے طور پر ) حکام کی طرف لے جاؤ (تم چاہتے ہو کہ ) تمہیں ظلم و زیادتی کے ساتھ دوسروں کا مال بانٹ کرنا جائز طریقے سے کھانے کا موقع ہاتھ لگ جائے۔ حالانکہ تمہیں (اس کے نقصانات کا اچھی طرح) علم ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 188 لا تاکلوا (تم نہ کھاؤ) ۔ اموالکم (اپنوں کے مال) ۔ بالباطل (ناجائز طریقہ، حرام طریقہ) ۔ تدلوا (تم کھینچو) ۔ لتاکلوا (تا کہ تم کھا جاؤ) ۔ فریق (بانٹ کر، ٹکڑے کر کے ) ۔ تشریح : آیت نمبر 188 دین اسلام کی تعلیمات اس بات پر شاہد ہیں کہ رزق حلال حاصل کرنا اور اس کے لئے جدو جہد کرنا ایک اہم عبادت ہے۔ رزق حلال انسان کے دل کو نور سے بھر دیتا ہے اور ناجائز اور حرام ذریعوں سے کمائی ہوئی دولت سے انسان کا دل تاریک ہوجاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حلال روزی حاصل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ جو شخص چالیس دن تک حلال روزی کھائے گا جس میں حرام کا شبہ تک نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو نور سے بھر دے گا۔ آپ ہی کا ارشاد ہے کہ حلال روزی کھایا کرو تا کہ تمہاری دعا قبول ہو۔ بعض لوگ ہو شیاری، چالاکی اور دھوکہ دہی سے دوسروں کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں اور اسی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں حالانکہ ایسے لوگ سخت ناکام ہیں ۔ وہ لوگ وقتی طور سے چرب زبانی کے ذریعہ دوسروں کے حق غصب تو کرسکے ہیں لیکن ایسے لوگ خود اپنے ہاتھوں اپنی آخرت کی بربادی کا سامان کرتے ہیں۔ دوسروں کا مال ناجائز طریقہ سے کھانے کا رواج آج بھی ہے کہ وہ حکام کو رشوت دے کر اپنے حق میں فیصلے کرا لیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ان ناپاک ذریعوں سے حاصل ہونے والی دولت کو جہنم کی آگ سے تعبیر فرمایا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ “ میں تم جیسا انسان ہوں، تم میرے پاس جھگڑے چکانے کے سلسلہ میں آتے ہو۔ ممکن ہے تم میں سے ایک فریق زیادہ چرب زبان ہو اور میں اس کے حق میں فیصلہ دے دوں۔ اگر ایسے کسی معاملہ میں ، میں کسی کو اس کے بھائی کا حق دے دوں تو وہ اسے ہرگز نہ لے۔ بیشک وہ اس کے حق میں آگ کا ایک ٹکڑا ہے۔” قاضی شریح بعض دفعہ فیصلہ کرتے وقت فرمایا کرتے تھے کہ اے مدعی تیرے حق میں فیصلہ دے رہا ہوں۔ اگرچہ میں جانتا ہون کہ تو ظالم ہے ۔ لیکن میں گواہوں کی گواہی سے مجبور ہوں اور کوئی گنجائش میرے لئے نہیں ہے مگر یہ کہ میرا فیصلہ تیرے لئے حرام کو حلال نہیں کرسکتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ رزق حلال کے مقابلے میں رزق حرام کی دوڑ میں لگنے والا انسان وقتی طور سے کتنا ہی کامیاب کیوں نہ ہو بالاخر اس کا انجام بہت برا ہے، اس آیت میں یہی بات بتائی گئی ہے کہ : اے مومنو ! تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز اور حرام طریقے سے نہ کھاؤ اور نہ دوسروں کو رشوتیں دے کر ان کو حرام کا عادی بناؤ ورنہ تمہارا معاشرہ تباہ ہو کر رہ جائے گا اور آخرت کی ابدی نعمتوں سے محروم ہو کر رہ جاؤ گے۔ لغات القرآن : آیت نمبر 189 الاھلۃ (چاند) ۔ مواقیت (وقت) ۔ ظھور (ظہر) ، پیٹھ ، پشت) ۔ ابواب (باب ) دروازے۔
Ayah 2:189

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ١ؕ قُلْ هِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ١ؕ وَ لَیْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَ لٰكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقٰى١ۚ وَ اْتُوا الْبُیُوْتَ مِنْ اَبْوَابِهَا١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 2:189 in the Quran reader

وہ آپ سے چاند کے (گھٹنے بڑھنے کے ) متعلق پوچھتے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے کہ یہ چاند لوگوں کے لئے اور حج کے لئے اوقات بتانے کا ذریعہ ہے۔ اور نیکی یہ نہیں ہے کہ تم (حج کے دنوں میں ) اپنے گھروں میں پیچھے سے داخل ہو بلکہ اللہ سے ڈرنا نیکی ہے۔ اس لئے تم اپنے گھروں کے دروازوں سے آیا جایا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تا کہ تم کامیاب و بامراد ہو۔

تشریح : آیت نمبر 189 حضرت معاذ ابن جبل ؓ اور ثعلبہ ابن عتمہ جو دونوں انصاری صحابی ہیں ایک دن انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول یہ کیا بات ہے چاند کبھی تو باریک دھاگے کی طرح نظر آتا ہے، پھر بڑھتے بڑھتے پورا چاند بن جاتا ہے۔ پھر اسی طرح گھٹتے گھٹتے دھاگے کی طرح باریک ہوجاتا ہے ان کے سوال کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ یہ چاند تمہارے فائدوں اور مصلحتوں کے لئے بنایا گیا ہے جس سے تم اپنے معاملات اور معاہدوں کی تاریخوں کے علاوہ حج جیسی عظیم عبادت کے دنوں کو بھی متعین کرتے ہو۔ یعنی چاند انسانی فائدوں کے لئے بنایا گیا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نبی کریم ﷺ سے بہت کم سوال کرتے تھے قرآن کریم میں ان سے کل چودہ سوالات نقل کئے گئے ہیں۔ ایک سوال تو وہ ہے جو واذا سالک میں گزرا ہے دوسرا یہ سوال ہے۔ اس کے علاوہ سورة بقرہ میں چھ سوالات اور بھی ہیں۔ باقی سوالات قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں آئے ہیں۔ سوالات کم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرام عملی انسان تھے اور قاعدے کی بات یہ ہے کہ جو لوگ کام کرتے ہیں ان کو بےت کے سوالات کرنے کی فرصت ہی کہاں ہوتی ہے دوسرے یہ کہ ان کے سامنے بنی اسرائیل کی بےعملی کی بہت سی مثالیں موجود تھیں۔ انہوں نے اپنے نبی سے اس قدر بےت کے سوالات کئے تھے جن سے وہ خود ہی طرح طرح کی آفتوں میں مبتلا ہوگئے تھے تیسرے یہ کہ صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کا بےانتہا ادب و احترام کرتے تھے اور اس کے منتظر رہتے تھے کہ جو بات نبی کریم ﷺ ارشاد فرمائیں اس پر احسن طریقہ سے عمل کر کے دنیا و آخرت کو بہتر بنا لیں صحابہ کرام کی زندگی کا یہ پہلو ہم سب کے لئے ایک بہترین نمونہ ہے۔ بہرحال صحابہ کرام ؓ نے چاند کے بارے میں سوال کیا۔ آنحضرت ﷺ پر اس کے جواب میں یہ آیت نازل کی گئی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ چاند کا گھٹنا بڑھنا تمہارے فائدوں کے لئے ہے تا کہ اس کے ذریعہ تمہیں معاملات اور معاہدوں کی میعاد مقرر کرنے اور حج اور دوسری عبادات کے دن مقرر کرنے میں سہولت ہوجائے سورة یونس میں ارشاد فرمایا گیا ہے “ وقدرہ منازل لتعلموا عدد السنین والحساب ” کہ اللہ نے چاند کی مختلف منزلوں اور مختلف حالات سے گزارنے کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سال، مہینوں اور تاریخوں کا حساب معلوم کیا جاسکے۔ شریعت اسلامیہ میں چاند کے حساب سے اپنے سال اور مہینوں کا حساب رکھنا افضل بھی ہے اور اسلامی شعار ہونے کی وجہ سے قومی اور ملی غیرت کا تقاضا بھی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اگر سورج سے سال اور مہینوں کا حساب رکھا جائے تو وہ ناجائز نہیں ہے لیکن قرآن کریم کی آیات سے یہ بات صاف طور پر واضح ہے کہ اسلام کے نزدیک چاند کے حساب سے تاریخوں کا تعین کرنا زیادہ افضل و بہتر ہے۔ اس آیت میں دوسری بات کفار مکہ کے متعلق یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ وہ حج کے دنوں میں احرام باندھ لینے کے بعد اگر کسی کام سے اپنے گھروں میں واپس آتے تو اپنے گھر کے دروازوں کے بجائے پشت کی طرف سے آنے کو عبادت اور نیکی سمجھتے تھے۔ فرمایا گیا کہ یہ محض ایک رسم ہے جس کی شریعت اسلامیہ میں کوئی اہمیت نہیں ہے آدمی سیدھے طریقے سے اپنے گھروں کے دروازوں سے آئے اور جائے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔
Ayahs 2:190–195

وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 2:190 in the Quran reader

وہ لوگ جو تم سے لڑتے ہیں تم اللہ کی راہ میں ان سے لڑو مگر کسی پر زیادتی نہ کرو۔ بیشک اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ وَ اَخْرِجُوْهُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْكُمْ وَ الْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ١ۚ وَ لَا تُقٰتِلُوْهُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰى یُقٰتِلُوْكُمْ فِیْهِ١ۚ فَاِنْ قٰتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُمْ١ؕ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:191 in the Quran reader

جہاں تم ان کو پاؤ قتل کر دو ۔ انہوں نے جہاں سے تمہیں نکالا تھا تم بھی ان کو وہاں سے نکال دو ۔ (شرک کا ) فتنہ قتل سے کہیں زیادہ سخت ہے اور مسجد الحرام کے اردگرد (یعنی حرم میں ) ان سے اس وقت تک نہ لڑو جب تک وہ تم سے نہ لڑیں۔ پھر اگر وہ تم سے لڑتے ہیں تم بھی ان کو مارو۔ ان کافروں کی یہی سزا ہے۔

فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:192 in the Quran reader

پھر اگر وہ باز آجائیں تو اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

وَ قٰتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:193 in the Quran reader

ان سے اس وقت تک جنگ جاری رکھو جب تک (شرک کا یہ ) فتنہ مٹ نہ جائے اور دین (خالص) اللہ کے لئے نہ ہوجائے۔ پھر اگر وہ باز آجائیں تو سوائے ظالموں کے کسی پر کوئی زیادتی جائز نہیں ہے۔

اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَ الْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنِ اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰى عَلَیْكُمْ١۪ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 2:194 in the Quran reader

عزت والا مہینہ عزت والے مہینے کے بدلے میں ہے۔ کیونکہ عزت و حرمت رکھنے میں برابری ہے پھر (عزت والے مہینوں میں ) جس نے تمہارے ساتھ زیادتی کی تم بھی اس پر اتنی ہی زیادتی کرسکتے ہو اللہ سے ڈرتے رہو اور اس بات کو اچھی طر ح سے جان لو کہ اللہ ان کے ساتھ ہے جو حدیں توڑنے سے بچتے ہیں۔

وَ اَنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْكُمْ اِلَى التَّهْلُكَةِ١ۛۖۚ وَ اَحْسِنُوْا١ۛۚ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 2:195 in the Quran reader

اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں سے خود اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ خلوص سے کام کیا کرو۔ بلاشبہ اللہ نیکی سے کام کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 190 تا 195 قاتلوا (لڑو (جہاد کرو) ۔ یقاتلون (جو لڑتے ہیں) ۔ لا یحب (پسند نہیں کرتا) ۔ المعتدین (حد سے بڑھنے والے) ۔ ثقفتموھم (تم ان کو پاؤ (ثقفتم، و ، ھم ) ۔ اخرجوا (نکالو) ۔ اشد (بڑھ کر ، شدید، زیادہ) ۔ انتھوا (وہ رک گئے) ۔ لا تکون (نہ رہے) ۔ لا عدوان (زیادتی نہ ہو) ۔ الشھرالحرام (عزت والے مہینے (رجب، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم ان ) چار مہینوں میں اسلام سے پہلے بھی جنگ کو حرام سمجھا جاتا تھا اور مشرکین مکہ بھی اس کے پابند تھے نیز ابتداء اسلام میں بھی 7 ھ تک یہی قانون نافذ تھا) ۔ الحرمات (عزت کرنے میں) ۔ القصاص (برابری ہے (وہ احترام کرتے ہیں تو تم بھی احترام کرو) ۔ بمثل (اس جیسی) ۔ اعتدی (زیادتی کی ) ۔ انفقوا (خرچ کرو ) ۔ لا تلقوا (تم نہ ڈالو) ۔ التھلکۃ (ہلاکت، بربادی) ۔ احسنوا (نیکی کرو) ۔ تشریح : آیت نمبر 190 تا 195 مکہ کی تیرہ سالہ زندگی میں مسلمانوں کو عفو درگزر، برداشت اور صبر کی تلقین کی جاتی رہی۔ صلح حدیبیہ کے بعد جب اگلے سا ل نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کے ساتھ بیت اللہ کی زیارت وعمرہ کا ارادہ کیا تو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو اس کا شدید اندیشہ تھا کہ کفار مکہ کب اپنا وعدہ اور معاہدہ توڑ کر مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں اور ان کو نقصان پہنچا دیں۔ یہ اندیشے سب ہی کے دلوں میں تھے اس پر تین آیتیں نازل ہوئیں جن میں پہلی مرتبہ مسلمانوں کو جہاد و قتال کی اجازت دے کر چند اصولی اور بنیادی باتیں بتائی گئی ہیں۔ فرمایا گیا کہ اے مومنو ! چونکہ یہ جہاد اللہ کی راہ میں ہے انتقام کی آگ بجھانے یا ملک گیری کی ہوس میں نہیں ہے اس لئے تم ان ہی سے جہاد و قتال کرو جوا للہ کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں اگر وہ تم سے بیت اللہ میں لڑتے ہیں تو تم ان سے بیت اللہ میں لڑو۔ اگر وہ اشہرا لحرم یعنی حرمت والے مہینوں کا احترام نہیں کرتے تو تم بھی نہ کرو۔ اور اگر وہ جنگ کرتے ہیں تو تم بھی ان مہینوں میں ان سے جنگ کرو۔ اگر تمہاری طاقت و ہمت ہو تو تم بھی ان کو وہاں سے نکال باہر کرو جہاں سے انہوں نے تمہیں ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا لیکن ان تمام باتوں میں جس کا خاص طور پر خیال رکھنا ہے وہ یہ ہے کہ تم کسی پر زیادتی نہ کرنا، عورتوں، بچوں ، بیماروں، بوڑھوں، کمزوروں ، پر امن شہریوں، مذہبی پیشواؤں کو قتل نہ کرنا نہ ان کی کھیتیاں اجاڑنا نہ کسی کے گھر بار کو آگ لگانا۔ دوسرے یہ کہ جو مزاحمت کا راستہ چھوڑ دیں تم ان کو معاف کردینا۔ اصل چیز شرک اور کفر کا فتنہ ہے جس کو جڑ و بنیاد سے اکھاڑ پھینکنا تمہاری ذمہ داری ہے۔ اس فتنہ کو مٹانے کے لئے طاقت کا معمولی استعمال کوئی گناہ یا زیادتی نہیں ہے تمہاری جدو جہد اس وقت تک جاری رہنی چاہئے جب تک یہ فتنہ مٹ کر اسلام کے ابدی نظام کو قائم کرنے کی راہیں صاف اور واضح نہ ہوجائیں ۔ یہ آیتیں ہیں جن میں طاقت کا جواب طاقت سے دینے کی اجازت دی گئی ہے ۔ مگر نبی کریم ﷺ خلفاء راشدین اور صحابہ کرام ؓ کا دور اس بات پر گواہ ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ جہاد فی سبیل اللہ کیا ہے اور ان کی تلواریں ظالموں کی گردنیں کاٹنے اور مظلوموں کو ان کے بنیادی حقوق دلوانے کے لئے اٹھی ہیں۔ انہوں نے قرآن کریم کے ایک ایک اصول کی پوری طرح پابندی کر کے بتا دیا کہ دین اسلام ہی وہ دین ہے جس کی برکت سے انسانیت سکھ کا سانس لے سکتی ہے۔ آخر میں مسلمانوں کو بتایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں یعنی جہاد میں خرچ کرنے سے مسلمانوں کو زندگی کی سچائیاں نصیب ہوں گی۔
Ayah 2:196

وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ١ؕ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ وَ لَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى یَبْلُغَ الْهَدْیُ مَحِلَّهٗ١ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ١ۚ فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ١ٙ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْهَدْیِ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ وَ سَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ١ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ یَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 2:196 in the Quran reader

حج اور عمرہ کو اللہ کی رضا کے لئے پورا کرو۔ پھر اگر کسی جگہ گھر جاؤ تو جو بھی قربانی کا جانور میسر ہو وہ بھیجو اور اس وقت تک اپنے سروں کو نہ منڈواؤ جب تک قربانی کا جانور اپنے ٹھکانے (حرم) تک نہ پہنچ جائے۔ پھر جو بھی تم میں سے بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ روزے رکھ کر یا صدقہ دے کر یا قربانی کر کے سر منڈوانے کا فدیہ ادا کرے۔ پھر جب تمہیں امن و اطمینان حاصل ہوجائے تو جو شخص حج وعمرہ کو ایک ساتھ ملا کر فائدہ اٹھانے کا ارادہ کرتا ہو اس کو قربانی سے جو میسر ہو وہ اس کے لئے لازم ہے ۔ پھر اگر کوئی ایسا شخص ہو جو حج وعمرہ کا فائدہ حاصل کر رہا ہو لیکن اس کو قربانی کا جانور میسر نہ تو وہ حج کے دنوں میں تین روزے رکھ لے اور جب وہ حج سے فارغ ہوجائے تو سات روزے اس وقت رکھ لے جب کہ وہ اپنے گھر لوٹ جائے۔ اس طرح یہ دس روزے مکمل ہوجائیں گے۔ حج و عمر ہ ایک ساتھ ملا کر فائدہ حاصل کرنا ان کے لئے ہے جن کے گھر یار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔ اللہ سے ڈرتے رہو اور اس بات کو جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 196 احصرتم (تم روک دئیے گئے ۔ تم روک لئے جاؤ) ۔ استیسر (جو میسر ہو، جو سہولت ہو) ۔ الھدی (قربانی کا جانور) ۔ لا تحلقوا (تم نہ منڈواؤ) ۔ رؤس (راس، سر) ۔ حتی یبلغ (جب تک پہنچ نہ جائے) ۔ حتی یبلغ (جب تک پہنچ نہ جائے) ۔ محلہ (اپنی جگہ) ۔ اذی (کوئی تکلیف) ۔ نسک (ذبح، قربانی ) ۔ امنتم (تم اطمینان سے ہو۔ امن میں ہو) ۔ لم یجد (نہیں پایا) ۔ ثلثۃ ایام (تین دن) ۔ سبعۃ (سات) ۔ رجعتم (تم لوٹے) ۔ عشرۃ کاملۃ (مکمل دس) ۔ لم یکن (نہیں ہے ) ۔ اھلہ (اس کے گھر والے ) ۔ حاضری (رہنے والے ، موجود) ۔ شدید العقاب (سخت عذاب) ۔ تشریح : آیت نمبر 196 اس آیت میں سب سے پہلے یہ فرمایا کہ (1) اے مومنو ! تم حج وعمرہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے ادا کرو کیونکہ دور جاہلیت میں لوگوں نے حج کو تجارت لین دین اور شعرو شاعری کا میلہ بنا رکھا تھا وہ اللہ کے ساتھ بیت اللہ میں رکھنے ہوئے سینکڑوں بتوں کی پرستش کرتے، نذرو نیاز اور قربانیاں پیش کرتے تھے، فرمایا گیا کہ اگرچہ اہل ایمان کو بھی حج کے بعد تجارت یا خریدو فروخت کی ممانعت نہیں ہے لیکن ان کا مقصود نہ تو تجارت ہونا چاہئے اور نہ لین دین بلکہ محض اللہ کے لئے یہ حج وعمرہ ادا کیا جائے۔ (2) دوسری بات یہ ارشاد فرمائی گئی کہ احرام باندھنے کے بعد اگر تم دشمنوں میں گھر جاؤ، کوئی بیماری یا شدید مشکل پیش آجائے اور بیت اللہ تک پہنچنا مشکل ہو تو جہاں بھی ہو قربانی کا جانور اللہ کے لئے پیش کر دو اور کسی کے ہاتھ بھیج دو یا اس کی قیمت دے کر جانور خریدنے کا کہہ کر روانہ کردو۔ سروں کو اس وقت تک نہ منڈواؤ جب تک قربانی کا جانور اپنی صحیح جگہ (حرم میں) نہ پہنچ جائے یا اس کا یقین نہ ہوجائے لیکن اگر کوئی ایسا آدمی ہے جو سخت بیمار ہے یا اس کے سر یا بدن کے کسی دوسرے حصہ میں کوئی تکلیف ہے تو وہ قربانی سے پہلے بقدر ضرورت بالوں کو منڈوا سکتا ہے لیکن اس کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کا کفارہ یہ بیان فرمایا ہے کہ تین روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو آدھا آدھا صاع یعنی تقریباً پونے دو سیر گندم بطور صدقہ دے دے۔ (بخاری) یا کم از کم ایک بکرا یا بکری کی قربانی پیش کرے لیکن قربانی کے لئے ضروری ہے کہ حدود حرم میں کی جائے جبکہ روزے اور صدقہ کے لئے کوئی جگہ متعین نہیں ہے۔ زمانہ جاہلیت میں حج اور عمرہ ایک ساتھ ادا کرنے کو گناہ سمجھتے تھے۔ فرمایا ہے کہ جو شخص حدود حرم سے باہر رہتا ہے اگر وہ حج کے ساتھ عمرہ بھی ادا کرلے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ اس شخص پر اللہ کا ایک انعام ہوجاتا ہے اس نے ایک وقت میں دو عبادتوں کو جمع کرلیا ہے اس لئے اظہار تشکر کے طور پر اس کو ایک جانور اللہ کی راہ میں بطور قربانی پیش کرنا ہوگا۔ اگر کسی شخص کو قربانی کا جانور پیش کرنے میں کوئی دشواری ہو تو وہ دس روزے رکھ لے تین روزے ایام حج میں یعنی نویں ذوالحجہ سے پہلے تک پورے کرلے اور سات روزے حج سے لوٹنے کے بعد جہاں چاہے، جب چاہے رکھے، مکہ میں پورے کرلے یا گھر لوٹ کر رکھ لے اس طرح دس روزے پورے ہوجائیں گے اور پھر جانور قربان کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اگر تین روزے ایام حج میں نہ رکھ سکا تو اس کے لئے قربانی دینا واجب ہے جب بھی قدرت ہو کسی کے ذریعے حرم میں قربانی کرا دے۔ حج کی تین صورتیں ہیں۔ حج افراد، حج تمتع اور حج قران۔ حج کے ایام میں صرف حج کا احرام باندھنا اس کو حج افراد کہتے ہیں جو حدود حرم کے رہنے والوں کے لئے ہے، حج تمتع یہ ہے کہ حج کے دنوں میں پہلے عمرہ کا احرام باندھے ، مکہ مکرمہ جا کر طواکرے، صفاومروہ پر سعی کرے یعنی دوڑے اور پھر بال کٹوا کر عمرہ کا احرام کھول دے اور معمول کا لباس پہن لے پھر ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ کو منی جانے کے وقت حج کا احرام حرم شریف ہی میں باندھ لے اور حج کے ارکان کو ادا کرے اس کو حج تمع کہتے ہیں حج قران یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ ہی باندھے۔ اس کا احرام عمرہ کے بعد بھی کھولنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ اسی احرام میں رہے۔ اس احرام سے آٹھویں ذی الحجہ سے آخر تک تمام ارکان کو ادا کرتا رہے اور حج کو پورا کرے بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے اور قربانی کے بعد اس کو احرام کھولنے کی اجازت ہوگی۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک حج قران افضل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ہی حج کیا ہے اور وہ حج قران تھا۔ بہرحال یہ ہر شخص کی اپنی سہولت پر ہے کہ وہ حج کے موقع پر حج تمتع کرنا چاہتا ہے یا حج قران۔
Ayahs 2:197–203

اَلْحَجُّ اَشْهُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ١ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِیْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ١ۙ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ١ؕ وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؔؕ وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوْنِ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 2:197 in the Quran reader

حج کے چند مہینے ہیں جو مشہور و معروف ہیں۔ جو بھی ان مہینوں میں حج کو لازم کرلینا ہے (نیت کرتا ہے) تو اس میں عورتوں سے بےحجاب ہونے کی، گناہ کرنے کی اور لڑائی جھگڑا کرنے کی اجازت نہیں ہے اور تم بھلائی کا جو بھی کام کرو گے اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ اور زاد راہ (سفر خرچ) لے لیا کرو اور سب سے بہتر زاد راہ پرہیز گاری وتقویٰ ہے۔ اے عقل و سمجھ رکھنے والو مجھ سے ہی ڈرو۔

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ فَاِذَاۤ اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ١۪ وَ اذْكُرُوْهُ كَمَا هَدٰىكُمْ١ۚ وَ اِنْ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 2:198 in the Quran reader

اگر تم موسم حج میں اللہ کا فضل (تجارت، ذرائع معاش ) تلاش کرو تو اس میں تمہارے اوپر کوئی گناہ نہیں ہے ۔ پھر جب تم عرفات سے (مزدلفہ کی طرف ) لوٹو تو مشعرحرام (مزدلفہ کے پہاڑ) کے پاس اللہ کا ذکر کرو اور اللہ کو اس طرح یاد کرو جیسے اس نے تمہیں ہدایت بخشی ہے اگرچہ تم اس سے پہلے اس راہ ہدایت سے بالکل ہی ناواقف تھے۔

ثُمَّ اَفِیْضُوْا مِنْ حَیْثُ اَفَاضَ النَّاسُ وَ اسْتَغْفِرُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:199 in the Quran reader

پھر تم بھی وہیں سے جا کر واپس آیا کرو جہاں سے (عرفات سے) اور سب لوگ واپس آیا کرتے ہیں۔ اللہ سے مغفرت مانگتے رہو۔ بلاشبہ وہی تو ہے جو بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

فَاِذَا قَضَیْتُمْ مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَذِكْرِكُمْ اٰبَآءَكُمْ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا١ؕ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ Open ayah 2:200 in the Quran reader

پھر جب تم حج کے تمام احکامات کو پورا کرلو تو اللہ کا ذکر اسی طرح کرو جس طرح (کبھی) تم اپنے باپ دادوں کا (فخریہ) ذکر کیا کرتے تھے بلکہ اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ کرو۔ بعض لوگ تو وہ ہیں جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ہمیں جو کچھ دینا ہے سب کچھ بس اسی دنیا میں دے دے۔ ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 2:201 in the Quran reader

اور بعض وہ ہیں جو کہتے ہیں اے رب ہمارے ہمیں اس دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اپنی نوازشیں عطا فرما اور ہمیں دوزخ کی آگ سے محفوظ فرما۔

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّمَّا كَسَبُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 2:202 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اپنے اعمال کے بدلے آخرت سے حصہ مل کر رہے گا۔ اور اللہ جلد ہی حساب لینے والا ہے۔

وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ١ؕ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِیْ یَوْمَیْنِ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۚ وَ مَنْ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثْمَ عَلَیْهِ١ۙ لِمَنِ اتَّقٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 2:203 in the Quran reader

گنتی کے چند دنوں میں اللہ کا خوب ذکر کرتے رہو ۔ پھر جو کوئی (منیٰ سے) جلدی کر کے دو دون ہی میں چل گیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جس نے دو دن سے تاخیر کی تو اس پر بھی گناہ نہیں ہے بشرطیکہ وہ اللہ کا خوف رکھتا ہو۔ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان لو کہ بیشک تم سب اسی کی طرف جمع کئے جاؤ گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 197 تا 203 معلومات (معلوم، مشہور) ۔ فرض (جس نے لازم کرلیا) ۔ لا رفث (عورتوں سے بےپروہ نہ ہو (صحبت وغیرہ نہ کرے) ۔ لا فسوق (گناہ نہ کرے، نافرمانی نہ کرے) ۔ لا جدال (جھگڑا نہ کرے) ۔ تفعلوا (تم کرو گے) ۔ تزودوا (تم سفر کا خرچ لے لو۔ زاد راہ لے لو) ۔ خیر الزاد (بہترین سفر خرچ) ۔ فضل (تجارت، کاروبار، مزدوری) ۔ افضتم (تم لوٹے ) ۔ الضالین (گمراہ ہونے والے) ۔ افیضوا (تم لوٹو، تم پلٹو) ۔ افاض الناس (لو گ لوٹتے ہیں) ۔ قضیتم (تم نے پورے کرلیے) ۔ مناسککم (اپنے حج کے احکام ) ۔ کذکرکم (جیسا تمہارا ذکر کرنا) ۔ اشد ذکرا (بہت زیاد ہ ذکر) ۔ خلاق (حصہ) ۔ قنا (ہمیں بچا لے) ۔ نصیب (حصہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 197 تا 203 ان سات آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے نو باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ (1) پہلی بات تو یہ ہے کہ عمرہ کے لئے کوئی تاریخ مہینہ دن مقرر نہیں ہے سال بھر میں جب چاہے عمرہ ادا کرسکتا ہے البتہ حج کے پانچ دنوں میں عمرہ ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے یعنی نویں ذی الحجہ سے تیرہویں ذی الحجہ تک عمرہ ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن حج کے لئے مہینے اور اس کے تمام افعال و اعمال کی خاص تاریخیں اور اوقات مقر ر ہیں اس لئے بتایا گیا کہ حج کے لئے دور جاہلیت سے لے کر آج تک شوال ، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کے چند دن مقرر ہیں۔ ان ہی دنوں میں حج کا احرام باندھا جائے گا۔ اس سے پہلے حج کا احرام باندھنا جائز نہیں ہوگا۔ (2) دوسری یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ حج میں تین باتوں سے پرہیز کرنا لازمی اور واجب ہے۔ ٭ احرام باندھنے کے بعد عورتوں سے قربت حاصل کی جائے اور نہ کوئی ایسی کھلی گفتگو کی جائے جو صحبت و قربت کے لئے جذبات کو بھڑکانے والی ہو۔ ٭ اسی طر ح تمام چھوٹے، بڑے، کھلے، یا چھپے گناہوں سے پرہیز کرنا لازمی ہے۔ ٭ اور جھگڑا فساد اور باہمی اختلافات کو ہوا دینا ۔ ان سب باتوں سے حج کا احرام باندھنے کے بعد بچنا لازمی ہے۔ (3) تیسری بات یہ ہے کہ راستہ کا اتنا سفر خرچ لینا ضروری ہے جس سے یہ سفر بخیر و خوبی پورا ہوجائے اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا بھیک مانگنے کی ضرورت نہ رہے، یہی تو کل ہے ، توکل یہ نہیں ہے کہ راستہ کا سفر خرچ تو کچھ لیا نہیں اور کہہ دیا کہ ہمارا توکل اللہ پر ہے۔ بیشک بھروسہ اور توکل اللہ ہی پر کرنا چاہئے لیکن توکل کا مفہوم سمجھ کر توکل کرنا زیادہ بہتر ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنی طرف سے تمام اسباب کر لئے جائیں اور پھر اللہ پر بھروسہ کیا جائے کہ وہی ان اسباب میں برکت ڈالنے والا ہے۔ (4) ان آیات میں چوتھی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ ۔ اگر حج کے بعد یا اس سے پہلے تجارت، لین دین یا مزدوری کرلی جائے تو اس میں کوئی گناہ نہیں ہے بشرطیکہ اصل نیت تو حج کی ہو لیکن مصارف حج یا گھر کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ہو۔ محض تجارت ہی مقصد نہ ہو۔ کیونکہ یہ بھی اخلاص کے خلاف ہے خاص طور پر وہ پانچ دن جن میں حج کے افعال و ارکان ادا کئے جاتے ہیں ان میں تجارت یا لین دین نہیں کرنا چاہئے۔ اس کے علاوہ اور دنوں میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ مگر اخلاص کا تقاضا یہ ہے کہ جب کسی انسان کی طرف سے حج جیسی عظیم سعادت کا موقع نصیب نہ ہو تو وہ اس سفر کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لئے وقف کر دے اور اس میں تجارت، مزدوری یا لین دین نہ کرے۔ (5) 9/ذی الحجہ کو زوال آفتاب سے غروب آفتاب تک عرفات میں ٹھہرنے کو وقوف عرفہ کہتے ہیں جو ہر حاجی کے لئے فرض ہے۔ اگر یہ رکن اعظم چھوٹ جائے تو حج نہیں ہوتا البتہ اگر کوئی شخص نویں ذی الحجہ کے زوال سے دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے پہلے کم از کم ایک لمحہ کے لئے بھی وقوف عرفہ کرلے گا خواہ نیت ہو یا نہ ہو عرفات کا علم ہو یا نہ ہو سوتے ہوئے یا جاگتے ہوئے بےہوشی کی حالت میں یا افاقہ کی حالت میں اپنی خوشی سے یا کسی کی زبردستی کرنے پر ہر صورت وقوف معتبر ہوجائے گا لیکن اس میں کچھ تفصیلات ہیں جو فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ اب حکم یہ ہے کہ مغرب کی نماز کے وقت ہر حاجی عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوجائے کوئی حاجی مغرب کی نماز نہ پڑھے بلکہ اس نماز کو مزدلفہ پہنچنے تک موخر کردے۔ جب مشعر حرام یعنی اس پہاڑی کے قریب پہنچ جائے جس کے اردگرد کے علاقے کو مزدلفہ کہتے ہیں تو مغرب اور عشاء کی نمازوں کو ایک وقت میں ادا کرے۔ یہ ایک خصوصیات حج میں سے ہے کہ جہاں دو نمازوں کو ملا کر پڑھنا ضروری ہے اس کے علاوہ ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا چاہئے عشا کی نماز کے بعد اب رات بھر مزدلفہ میں ٹھہرنا اور اللہ کو یاد کرتا ہے۔ یہ رات شب قدر کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی افضل ہے۔ (6) ان آیتوں میں چھٹی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اب ہر حاجی کا عرفات میں جانا ضروری ہے ، اس آیت کا پس منظر یہ ہے کہ عرفات حدود حرم سے باہر ہے اور مزدلفہ حدود حرم میں ہے۔ دور جاہلیت میں قریش جو کہ بیت اللہ کے نگران اور مجاور تھے اس بات کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے کہ اور لوگوں کی طرح وہ بھی مزدلفہ سے عرفات جائیں وہ اس طرح اپنے لئے ایک امتیازی شان پیدا کرنا چاہتے تھے بہانہ یہ کرتے تھے کہ ہم بیت اللہ کے محافظ ہیں ہم مزدلفہ سے یعنی حدود حرم سے باہر نہیں نکل سکتے لہٰذا اور لوگ عرفات کے میدان میں جائیں ہم یہیں مزدلفہ میں سب کی واپسی کا انتظار کریں گے۔ اب قیامت تک مسلمانوں کے لئے لازمی کردیا گیا ہے کہ جب تک عرفات میں وقوف (یعنی ٹھہرنا نہ ہو) خواہ وہ چند لمحوں کے لئے ہی کیوں نہ ہو اس وقت تک حج ہو ہی نہیں سکتا۔ وقوف عرفہ حج کا رکن اعطم ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے جھوٹے امتیازات اور فخر و غرور کا قیامت تک خاتمہ فرما دیا۔ (7) ساتویں بات میں بھی ان کی جاہلانہ رسموں اور غلط ذہنیت کی اصلاح فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ عرب دور جاہلیت میں حج سے فارغ ہوکر خوب خریداری کرتے ، مشاعرے کرتے، خطیب اپنی شعلہ بیانی کا مظاہرہ کرتے اور طرح طرح کی خرافات کرتے جس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان سب کا مقصد محض ایک رسم کی ادائیگی کے بعد تجارت ، لین دین اور تفریح ہے دوسرے وہ لوگ تھے جو ذکر وفکر میں مشغول تو ہوتے تھے دعائیں بھی کرتے تھے مگر ان کی دعاؤں کا محور ان کی اپنی ذات اور دنیا کی طلب ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے مومنو ! تم صرف اللہ کی یاد میں مشغول رہو اور اللہ کا خوب ذکر کرو یہی کام آنے والا ہے۔ اپنے خاندان اور بزرگوں کی نجات مانگو تا کہ تمہاری دنیا بھی بہتر ہو اور آخرت بھی۔ وہ لوگ جو دنیا ہی مانگتے رہتے ہیں ان کی دنیاوے دی جاتی ہے مگر وہ آخرت کی ابدی نعمتوں سے محروم رہتے ہیں۔ (8) آٹھویں بات حج کرنے والوں کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جا رہا ہے کہ مقصد حج کی تکمیل اور آئندہ زندگی کو درست اور بہتر رکھنے کے لئے تم گنتی کے چند دنوں یعنی ایام تشریق میں اللہ کو خود یاد کرو اور جس تکبیر کا کہنا واجب ہے اس کو کثرت سے کہتے رہو اس طرح اللہ کے انوارات سے تمہارے دل منور اور روشن ہوجائیں گے۔ (9) ان آیتوں میں آخری نویں بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ دور جاہلیت میں اس بات میں شدید اختلافات ہوا کرتے تھے کہ منیٰ میں قیام اور جمرات یعنی شیطان پر کب تک کنکریاں مارنا واجب ہے۔ بعض کہتے تھے کہ تیرہویں ذی الحجہ تک منی میں قیام کرنا اور جمرات پر کنکریاں مارنی چاہئیں وہ لوگ بارہویں ذی الحجہ کو مکہ واپس آنا گناہ سمجھتے تھے۔ بعض وہ تھے جو بارہویں تاریخ کو واپس مکہ آنا لازمی اور تیرہویں تاریخ تک ٹھہرنے کو گناہ سمجھتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص دو دن منیٰ میں قیام کرتا ہے اور تیرہویں تاریخ کو واپس مکہ پہنچ جاتا ہے نہ تو اس پر گناہ ہے اور تیرہویں تاریخ تک جو رک گیا اور تین دن تک ٹھہرا رہا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ بات لڑنے جھگڑنے کی نہیں ہے۔ علماء نے فرمایا کہ افضل و اولیٰ یہی ہے کہ تیسرے دن تک منی میں ٹھہرے رہیں۔ فرمایا گیا کہ اس پورے سفر حج کے یہ احکامات ہیں مگر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اس سفر کا مقصد ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہئے اور وہ ہے تقویٰ و پرہیز گاری، اسی میں بھلائی ہے اور اسی میں کامیابی ہے۔