2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 2:130–141

وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰهٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِهَ نَفْسَهٗ١ؕ وَ لَقَدِ اصْطَفَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 2:130 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) کے طریقے سے کون منہ پھیر سکتا ہے سوائے اس کے جس نے اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کرلیا ہو ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے دنیا میں بھی منتخب شخصیت بنایا ہے اور آخرت میں ان کا شمار صالحین ہوگا۔

اِذْ قَالَ لَهٗ رَبُّهٗۤ اَسْلِمْ١ۙ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:131 in the Quran reader

جب اس کے پروردگار نے کہا کہ تو اللہ کے سامنے اپنی گردن جھکا دے یعنی فرماں بردار بن جا۔ اس نے کہا میں رب العالمین کا فرماں بردار بن گیا۔

وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِیْهِ وَ یَعْقُوْبُ١ؕ یٰبَنِیَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّیْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَؕ Open ayah 2:132 in the Quran reader

اور یہی وصیت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو فرمائی اور یعقوب نے بھی (اپنے بیٹوں کو یہی نصیحت کی ) انہوں نے کہا اے میرے بیٹو ! بیشک اللہ نے تمہیں یہ دین چن کر اور منتخب کر کے دیا ہے۔ لہٰذا تم زندگی کے آخری سانس تک اسی کے فرماں بردار بن کر رہنا۔

اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ حَضَرَ یَعْقُوْبَ الْمَوْتُ١ۙ اِذْ قَالَ لِبَنِیْهِ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْۢ بَعْدِیْ١ؕ قَالُوْا نَعْبُدُ اِلٰهَكَ وَ اِلٰهَ اٰبَآئِكَ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۖۚ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:133 in the Quran reader

کیا تم اس وقت موجود تھے جب یعقوب (علیہ السلام) کی موت قریب تھی۔ جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے پوچھا تھا کہ ۔ تم میرے بعد کس کی عبادت و بندگی کرو گے ؟ ان سب نے کہا تھا ۔ ہم اسی ایک اللہ کی بندگی کریں گے جس پروردگار کی عبادت و بندگی آپ اور آپ کے آباؤ اجداد ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) نے کی تھی۔ اور ہم سب اللہ کے فرماں بردار رہیں گے۔

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:134 in the Quran reader

یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی اس کے لئے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے وہ ہے جو تم کماتے ہو۔ تم سے نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے ۔

وَ قَالُوْا كُوْنُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى تَهْتَدُوْا١ؕ قُلْ بَلْ مِلَّةَ اِبْرٰهٖمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 2:135 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی بن جاؤ تو ہدایت ملے گی۔

قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ مَاۤ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١ۖ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 2:136 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ ابراہیم کا راستہ سب سے بہتر ہے۔ جس میں کوئی کجی نہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) مشرکین میں سے نہ تھے آپ کہہ دیجئے کہ ہم اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور جو ہم پر نازل کیا گیا اور جو کچھ ابراہیم و اسماعیل اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولاد کی طرف نازل کیا گیا اس پر بھی جو موسیٰ (علیہ السلام) ، عیسیٰ (علیہ السلام) اور تمام نبیوں کو ان کے پروردگار کی طرف سے عطا کیا گیا تھا۔ ہم ان کے درمیان کسی قسم کی تفریق نہیں کرتے۔ (آپ کہئے) ہم اللہ کے فرماں بردار ہیں۔

فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَاۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا هُمْ فِیْ شِقَاقٍ١ۚ فَسَیَكْفِیْكَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُؕ Open ayah 2:137 in the Quran reader

اے مومنو ! اگر وہ اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو یقیناً وہ ہدایت پالیں گے ۔ لیکن اگر وہ اس سے منہ پھیرتے ہیں تو پھر (جان لو کہ ) سوائے ضد اور ہٹ دھرمی کے کچھ نہیں ہے۔ اس کے لئے ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لئے کافی ہے وہ خوب سنتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔

صِبْغَةَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ صِبْغَةً١٘ وَّ نَحْنُ لَهٗ عٰبِدُوْنَ Open ayah 2:138 in the Quran reader

کہہ دیجئے ہم نے اللہ کا رنگ (قبول کرلیا ہے۔ ) اللہ کے رنگ سے بہتر کس کا رنگ ہو سکتا ہے، ہم اس کی بندگی کرتے ہیں۔

قُلْ اَتُحَآجُّوْنَنَا فِی اللّٰهِ وَ هُوَ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ۚ وَ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ۚ وَ نَحْنُ لَهٗ مُخْلِصُوْنَۙ Open ayah 2:139 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے۔ کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو۔ حالانکہ وہ ہمارا بھی پروردگار ہے۔ اور تمہارا بھی۔ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں۔ ہم تو خالص اللہ کے ہیں۔

اَمْ تَقُوْلُوْنَ اِنَّ اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطَ كَانُوْا هُوْدًا اَوْ نَصٰرٰى١ؕ قُلْ ءَاَنْتُمْ اَعْلَمُ اَمِ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:140 in the Quran reader

کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم (علیہ السلام) و اسماعیل (علیہ السلام) واسحاق (علیہ السلام) ویعقوب (علیہ السلام) اور ان کی اولادیں یہودی یا عیسائی تھیں ؟ آپ کہہ دیجئے، تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ زیادہ جانتا ہے۔ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اس گواہی کو چھپاتا ہے جو اس کے لئے اللہ کی طرف سے ثابت ہوچکی ہے اللہ ان باتوں سے بیخبر نہیں ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

تِلْكَ اُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ١ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَ لَكُمْ مَّا كَسَبْتُمْ١ۚ وَ لَا تُسْئَلُوْنَ عَمَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 2:141 in the Quran reader

یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی اس کے لئے وہ سب کچھ ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے تمہاری کمائی ہے۔ تم سے نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 130 تا 141 یرغب (منہ پھیرتا ہے۔ (یرغب کے معنی رغبت کے آتے ہیں لیکن چونکہ یرغب کے بعد عن آگیا ہے اسی لئے اس کے معنی منہ پھیرنا) ۔ ملت ابراھیم (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کی سنت، ان کا طریقہ ) ۔ سفہ نفسہ (جس نے اپنی ذات کو بیوقوف بنا لیا یعنی جو اپنی ذات ہی سے احمق اور بیوقوف ہو۔ اصطفینا (ہم نے منتخب کرلیا) ۔ اسلم (گردن جھکا دے ، فرماں بردار ہوجا) ۔ وصی (اس نے وصیت کی) ۔ لا تموتن (تمہیں ہرگز موت نہ آئے) ۔ شھداء (موجود (شھید کی جمع ہے) ۔ حضر (آیا۔ (چونکہ اردو میں موت مونث ہے اس لئے اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے آئی) ۔ تعبدون (تم (کس کی) بندگی کرو گے) ۔ خلت (گذر گئی) ۔ کسبت (اس نے کمائی کی) ۔ لا تسئلون (تم نہ پوچھے جاؤ گے ) حنیف (صرف اللہ کی بندگی کرنے والا) ۔ الاسباط (اولادیں (سبط کی جمع ہے) ۔ اوتی (دیا گیا) ۔ لا نفرق (ہم تفریق نہیں کرتے (یعنی ایک نبی کو مانیں اور دوسرے کو نہ مانیں ) ۔ امنتم تم ایمان لے آئے (اھتدوا) ۔ انہوں نے ہدایت پالی) ۔ شقاق (ضد) ۔ فسیکفیکھم (پھر وہ آپ کو ان کے مقابلے میں کافی ہے) ۔ صبغۃ اللہ (اللہ کا رنگ) ۔ احسن (زیادہ خوبصورت ) ۔ اتحاجوننا (کیا تم ہم سے جھگڑتے ہو) ۔ مخلصون (خالص کرنے والے، (اسی کے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 130 تا 141 ان آیتوں میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ حق پرست حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) جن کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس بات کا گواہ ہے کہ انہوں نے راہ سے بھٹکے ہوئے انسانوں کو ایک اللہ کی عبادت و بندگی کی طرف بلایا ، خود بھی اللہ کے فرماں بردار مسلم تھے اور لوگوں کو بھی اسی طرف بلایا کہ وہ حق پرست مسلم بن کر زندگی گزاریں۔ یہ تھا ان کا وہ طریقہ زندگی جو دوسروں کے لئے روشنی کا مینار تھا۔ اس سے بہتر طریقہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ ان کے راستے کو ماسوائے اس شخص کے جس نے اپنے آپ کو فریب نفس اور حماقتوں کی دلدل میں پھنسا رکھا ہے اور کون منہ پھیر سکتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں بہت سے پیغمبر آئے جنہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے راستے پر چل کر دوسروں کو چلانے کی کوشش کی۔ وہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) جن پر بنی اسرائیل کو نہ صرناز ہے بلکہ ان پر فخر بھی کرتے ہیں انہوں نے زندگی کے آخری سانس تک یہی نصیحت کی ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرنا بلکہ انہوں نے اپنی اولاد سے اس کا اقرار بھی لیا تھا کہ وہ ایک اللہ کی بندگی کرتے رہیں گے اور وہ مسلم بن کر رہیں گے۔ لیکن انہوں نے اپنے سارے وعدے بھلا دئیے اور اب وہ اس پر جھگڑ رہے ہیں کہ ابراہیم و اسماعیل و اسحاق و یعقوب (علیہ السلام) یہودی تھے یا عیسائی وہ لوگوں کو یہ کہہ کر دعوت دیتے ہیں کہ اگر کسی کو ہدایت حاصل کرنی ہے تو وہ یہودی یا عیسائی بن کر ہی حاصل کرسکتا ہے (نعوذ باللہ) فرمایا گیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی صالح اولاد نے تو مسلم بن کر جینے کو نجات کا باعث کہا تھا اور یہ لوگ سب کچھ بھول کر یہودیت اور عیسائیت کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں اللہ نے فرمایا ہے کہ نجات ان لوگوں ہی کو نصیب ہوگی جو اپنے اوپر اللہ کی محبت کا رنگ چڑھا لیں گے جو یہودیت اور عیسائیت کے رنگ سے کہیں بہتر ہے۔ فرمایا کہ ایک جماعت تو وہ تھی جس نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کرلیا تھا اور ایک جماعت یہ ہے جو ٹکڑوں میں بٹ کر اسلام کی سچی راہ کو بھلا بیٹھی ہے۔ انجام دونوں کا سامنے ہے، کسی سے دوسرے کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔ بلکہ ہر ایک کو اپنے اعمال کا بوجھ خود اٹھانا پڑے گا اور اسی پر فیصلہ ہوگا۔
Ayahs 2:142–147

سَیَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰىهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِیْ كَانُوْا عَلَیْهَا١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ١ؕ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 2:142 in the Quran reader

عنقریب بیوقوف لوگ کہیں گے کہ ان (مسلمانوں) کو اپنے اس قبلہ سے کس چیز نے پھیر دیا جس پر وہ پہلے سے تھے۔ آپ کہہ دیجئے مشرق و مغرب اللہ ہی کے لئے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت دے دیتا ہے۔

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنٰكُمْ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ وَ یَكُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْكُمْ شَهِیْدًا١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِیْ كُنْتَ عَلَیْهَاۤ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ یَّنْقَلِبُ عَلٰى عَقِبَیْهِ١ؕ وَ اِنْ كَانَتْ لَكَبِیْرَةً اِلَّا عَلَى الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِیْعَ اِیْمَانَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 2:143 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک ایسی جماعت بنایا ہے جو (ہر پہلو سے ) اعتدال پر ہے تا کہ تم (قیامت کے دن ) سب لوگوں پر گواہ بن جاؤ اور رسول ﷺ تم پر گواہ بن جائیں۔ آپ جس قبلہ پر تھے وہ ہم نے صرف اس لئے بنایا تھا تا کہ یہ معلوم کرلیں کہ کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون اپنی ایڑیوں کے بل الٹا پھرجاتا ہے ۔ بلا شبہ یہ بات بڑی بھاری تھی مگر ان لوگوں کے لئے نہیں جنہیں اللہ نے راہ دکھائی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ تمہارے ایمان (سے کئے گئے کاموں) کو ضائع کر دے۔ بیشک اللہ لوگوں پر بہت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔

قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ١ۚ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰىهَا١۪ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:144 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ کا چہرہ جو بار بار آسمان کی طرف اٹھ رہا ہے اسے ہم دیکھ رہے ہیں عنقریب ہم آپ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ اب آپ اپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لیجئے اور (اے مومنو ! ) تم کہیں بھی ہو اپنے چہروں کو اسی طرف پھیرلیا کرو۔ بیشک وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ بالکل برحق ہے اور ان کے پروردگار کی طرف سے ہے اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں

وَ لَئِنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُلِّ اٰیَةٍ مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ١ۚ وَ مَا بَعْضُهُمْ بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ١ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَآءَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ١ۙ اِنَّكَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 2:145 in the Quran reader

اور اگر آپ ان لوگوں کے سامنے جن کو کتاب دی گئی ہے تمام نشانیاں بھی پیش کردیں تب بھی وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہ کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلہ کی پیروی کرنے والے ہیں اور ان میں سے کوئی (فریق) بھی دوسرے (فریق) کے قبلے کی پیروی نہیں کرتا۔ اور اگر آپ نے علم آجانے کے باوجود ان کی خواہشات کی پیروی کرلی تو بیشک آپ بےانصافوں میں سے ہوجائیں گے۔

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فَرِیْقًا مِّنْهُمْ لَیَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَؔ Open ayah 2:146 in the Quran reader

وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ (ان رسول ﷺ کو اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ بلاشبہ بعض لوگ ان میں سے وہ بھی ہیں جو جانتے بوجھتے بھی حق کو چھپاتے ہیں ۔

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۠ Open ayah 2:147 in the Quran reader

حق وہی ہے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے دیا گیا ہے۔ آپ ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 142 تا 147 ماولھم (ان کو کس چیز نے پلٹ دیا (ما، کیا، ولی پلٹ دیا، ھم ان کو) ۔ یھدی (ہدایت دیتا ہے ، راستہ دکھاتا ہے) ۔ امہ (جماعت) وسط (درمیانی، معتدل جن کے اعمال میں تو ازن ہے) ۔ یتبع (پیچھے چلتا ہے، پیروی کرتا ہے) ۔ ینقلب (پلٹ جاتا ہے) ۔ عقبیہ (اپنی ایڑیوں پر (عقبیہ اصل میں عقبین، تھا نون گر گیا، عقب، ایڑی) ۔ لیضیع (تا کہ وہ ضائع کر دے (ل، ان ، یضیع) ۔ رؤف (مہربان، اللہ کی ایک صفت ہے) ۔ قد نری (یقیناً ہم دیکھ رہے ہیں) ۔ تقلب (پلٹنا، بار بار الٹنا پلٹنا) ۔ نولین (ہم بدل دیں گے) ۔ شطر (طرف، سمت) ۔ المسجد الحرام (عزت والی مسجد، احترام والی مسجد) ۔ یعرفونہ (وہ اس کو پہچانتے ہیں (یعرفون ، وہ پہچانتے ہیں، ہ ، اس کو) ۔ ابناء (بیٹے (عربی محاورہ ہے کہ وہ اس طرح پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں) ۔ لیکتمون (البتہ وہ چھپاتے ہیں) ۔ الممترین (شک کرنے والے (الممتر، شک کرنے والا) ۔ تشریح : آیت نمبر 142 تا 147 مکہ مکرمہ ہی میں آپ ﷺ پر اور مسلمانوں پر نمازیں فرض کی جا چکی تھیں اور آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا فرمایا کرتے تھے۔ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے بعد بھی صورت حال یہی رہی اور سترہ ماہ چار دن تک آپ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں ادا فرماتے رہے۔ لیکن آپ کی دلی آرزو اور خواہش یہی تھی کہ بیت المقدس کے بجائے بیت اللہ کو قبلہ قرار دے دیا جائے اسی لئے آپ با ربار آسمان کی طرف منہ اٹھا کر دیکھا کرتے تھے کہ اس سلسلہ میں کب اللہ تعالیٰ کا حکم آئے گا۔ چناچہ ایک دن آپ اور صحابہ کرام مسجد بنو سالم یا بن سلمہ میں ظہر کی نماز ادا فرما رہے تھے دو رکعتیں ہوچکی تھیں کہ دوران نماز حضرت جبرئیل یہ وحی لے کر نازل ہوئے۔ اے نبی ﷺ آپ اپنا چہرہ انور مسجد الحرام یعنی بیت اللہ کی طرف پھیر لیجئے۔ آپ اسی وقت بیت المقدس کی سمت سے بیت اللہ کی طرف چل کر پہنچ گئے صحابہ کرام بھی مڑتے چلے گئے اور اس طرح وہ نماز جو بیت المقدس کی سمت میں شروع کی گئی تھی بیت اللہ کے رخ پر ختم ہوئی۔ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف قبلہ کی تبدیلی کا صاف مطلب یہ تھا کہ اب بنی اسرائیل کو باقاعدہ امامت اور پیشوائی کے مقام سے برطرف کردیا گیا اور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کا پر عظمت دور شروع ہوچکا ہے۔ قبلہ کی تبدیلی پر کفار، یہودیوں اور عیسائیوں نے بڑا شور مچایا کہ یہ مسلمان تو ہر چیز میں اپنا راستہ الگ بناتے چلے جا رہے ہیں بھلا وہ قبلہ جو صدیوں سے انبیاء کرام کا قبلہ تھا اس کی تبدیلی کا کیا مطلب ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ لوگ جو سطحی نگاہ رکھتے ہیں وہ اس پر اعتراض ضرور کریں گے لیکن شاید ان کو معلوم نہیں ہے کہ اللہ مشرق و مغرب کی سمتوں میں محدود نہیں ہے وہ تو ہر جگہ موجود ہے جس طرف بھی منہ کیا جائے گا وہیں وہ اللہ رب العالمین کو پالیں گے۔ بات صرف قبلہ کی تبدیلی کی نہیں ہے بلکہ “ امت وسط ” کو باقاعدہ دنیا کی امامت و پیشوائی کے لئے منتخب کرلینے کی ہے اور اب قیامت تک انسانیت کی نجات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پیروی میں ہے جو اس راستہ کو چھوڑ کر کوئی اور راستہ تلاش کرے گا وہ کبھی منزل آشنا نہ ہو سکے گا اور جو بھی ان بھٹکے ہوئے لوگوں کے راستے کی پیروی کرے گا اسے نہ اللہ کی حمایت حاصل ہوگی اور نہ وہ کسی مدد کے مستحق ہوں گے۔ فرمایا گیا کہ جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے وہ اس قبلہ کی تبدیلی اور حضرت محمد ﷺ کی عظمت کو اچھی طرح پہچانتے ہیں جس طرح ایک باپ اپنے بیٹے کو پہچاننے میں کوئی دشواری محسوس نہیں کرتا۔ اسی طرح وہ نبی مکرم اور اسلام کی عظمت کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں۔ ضد اور ہٹ دھرمی کا دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔ فرمایا گیا کہ اے مسلمانو ! اب تم کہیں بھی ہو، کسی حال میں بھی ہو ہمیشہ بیت اللہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا اور دشمنان اسلام کی پرواہ نہ کرنا کیونکہ ان کا تو کام ہی اعتراض کرنا اور رسول کی نافرمانی کرنا ہے۔ حق وہی ہے جو اللہ نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں شک و شبہ کا کوئی موقع اور گنجائش نہیں ہے۔ ایک سوال ہر شخص کے ذہن میں گردش کر رہا تھا کہ وہ لوگ جو بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے ہیں اور قبلہ کی تبدیلی سے پہلے ہی وہ انتقال کرچکے ہیں کیا ان کی نمازیں ضائع ہوگئیں یا ان کو ان کی عبادتوں کا ثواب ملے گا ؟ قرآن کریم میں اس کا جواب یہ دیا گیا کہ اللہ جو اپنے بندوں پر بےانتہا مہربان اور رحم وکرم کرنے والا ہے ان لوگوں کی نیکیوں کو کیوں ضائع کرے گا جنہوں نے ایمان کی حالت میں ان نیکیوں کو کیا ہے۔ ان کی نیکیاں بھی قبول و منظور کی جائیں گی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے پہلی آیات میں قبلہ کی تبدیلی کا ذکر فرمایا لیکن جب مسلمانوں کا قبلہ تبدیل کیا گیا تو اس وقت یہ نہیں فرمایا کہ تم بیت اللہ کی طرف منہ پھیر لو بلکہ فرمایا کہ تم کہیں بھی ہو کسی حال میں بھی ہو ہمیشہ مسجد الحرام کی طرف منہ پھیرلیا کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد الحرام کی سمت منہ پھیرنے کا حکم دیا گیا ہے جس سے مراد “ سمت اور جہت ” ہے ۔ اگر ایک شخص مدینہ منورہ میں ہے یا کسی اور ملک و شہر میں ہے تو اس کے لئے عین کعبۃ اللہ کی طرف منہ کرنا لازمی نہیں ہے بلکہ سمت کعبہ کی طرف منہ کرتا ہے۔ جو کہ مسجد الحرام میں ہے۔ ہاں البتہ اگر کوئی شخص مسجد الحرام میں موجود ہو تو اس کے لئے عین کعبہ کی طرف منہ کرنا لازمی اور ضروری ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور حکمت ارشاد فرما دی ہے۔ بیت اللہ “ اللہ کا گھر ضرو ر ہے ” لیکن اس کی تجلیات کے نزول کی جگہ بیت اللہ شریف ہے جس سے وابستگی روحانی زندگی کی بنیاد ہے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جگہ پانچ آیتوں میں چھ مرتبہ اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ جہاں بھی ہوں وہ ہر حال میں مسجد الحرام کی سمت منہ پھیرلیا کریں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کرنا عبادت کی روح ہے اور اس سے کسی حال میں منہ موڑنا جائز نہیں ہوگا۔ نمازوں میں سمت کعبہ کا لحاظ ہر حالت میں کیا جائے تا کہ اس امت کا رخ ہمیشہ ایک ہی طرف رہے۔
Ayahs 2:148–152

وَ لِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّیْهَا فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؐؕ اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یَاْتِ بِكُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 2:148 in the Quran reader

ہر (دین ) والے کا ایک قبلہ ہوتا ہے جس کی طروہ منہ پھیرتا ہے ۔ تم نیکیوں میں آگے بڑھو۔ تم جہاں کہیں بھی ہوگے اللہ تمہیں اکٹھا کر لائے گا۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ اِنَّهٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 2:149 in the Quran reader

آپ جس جگہ سے بھی باہر نکلیں تو اپنا چہرہ مسجد الحرام کی طرف پھیرلیا کریں۔ یہی آپ کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے بیخبر نہیں ہے

وَ مِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ؕ وَ حَیْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ شَطْرَهٗ١ۙ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَیْكُمْ حُجَّةٌ١ۙۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ١ۗ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَ اخْشَوْنِیْ١ۗ وَ لِاُتِمَّ نِعْمَتِیْ عَلَیْكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَۙۛ Open ayah 2:150 in the Quran reader

اور جہاں سے بھی آپ نکلیں اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف رکھیں اور تم جس جگہ بھی ہوا کرو منہ اسی طرف کرو تا کہ لوگوں کو تم سے حجت کرنے کا موقع نہ ملے، سوائے ان ظالموں کے جو بےانصاف ہیں (وہ تو کہتے رہیں گے) تم ان سے نہ ڈرو صرف مجھ ہی سے ڈرو تا کہ میں اپنا فضل و کرم تمہارے اوپر پورا کر دوں اور تم راہ پاؤ

كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَؕۛ Open ayah 2:151 in the Quran reader

جیسا کہ ہم نے تمہارے اندر ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا ہے جو ہماری آیتیں تلاوت کرتا ہے اور تمہارے دلوں کو مانجھتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠ Open ayah 2:152 in the Quran reader

تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا میرا احسان مانو، ناشکری نہ کرو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 148 تا 152 لکل (ہر ایک کے لئے ) ۔ وجھۃ (جہت، سمت، قبلہ، توجہ کا مرکز) ۔ مولی (لوٹنے والا) ۔ فاستبقوا (پھر تم سبقت کرو، آگے بڑھو) ۔ الخیرات (نیکیاں، بھلائیاں ، بہترین اعمال) ۔ حجۃ (مجال گفتگو، باتیں بنانے کا موقع) ۔ لا تخشوا (تم نہ ڈرو) ۔ لاتم (البتہ میں پورا کروں گا (ل، ان، اتم) ۔ یعلم (وہ سکھاتا ہے) ۔ اذکرونی (مجھے یاد کرو (اذکروا، ن ، ی) ۔ اذکر (میں یاد کروں گا) ۔ اشکروا (شکر ادا کرو) ۔ لا تکفرون (تم کفر نہ کرو۔ ناقدری نہ کرو) ۔ تشریح : آیت نمبر 148 تا 152 قبلہ کی اس تبدیلی پر کفار، مشرکین اور یہود ونصاریٰ کو شورو ہنگامہ کرنے کا موقع مل گیا، انہوں نے مسلمانوں کو راہ مستقیم سے بھٹکانے کے لئے طرح طرح کے شکوک و شبہات پیدا کرنا شروع کر دئیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس بات کا جواب یہ دیا کہ کیا تاریخ اور گزری ہوئی امتوں کے حالات اس بات پر گواہ نہیں ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کے لئے عبادت کا ایک رخ اور مرکز تھا۔ اگر رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے بیت اللہ کو دعوت اسلام کا اور عبادت کا مرکز قرار دے لیا ہے تو اس میں حیرت اور تعجب کی آخر کون سی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے عظمتوں سے ہمکنار کردیتا ہے۔ تم لوگوں کو تو اس بات پر اس لئے بھی اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ تم تو خود حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہ السلام) کا نام لے لے کر جیتے ہو ان پر فخر کرتے ہو۔ بیت اللہ کو حضرت ابراہیم و اسماعیل (علیہ السلام) ہی نے دوبارہ تعمیر کر کے اس کی مرکزیت کے لئے دعا کی تھی۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور مسلمان جو اللہ کے فرمانبردار ہیں وہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بنائے ہوئے مرکز کی طرف منہ کریں مسلمانوں سے فرمایا گیا ہے کہ تم کسی کے اعتراض کی پرواہ نہ کرو تم نیکیوں میں سب سے آگے بڑھ جاؤ یہی اس قبلہ کی تبدیلی کا مقصد ہے ۔ یہ اللہ کی نعمت ہے اور سب سے بڑی نعمت تو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات ہے جو تمہیں اللہ کی کتاب سکھا کر تمہارے دلوں کو مانجھتے ہیں۔ کتاب و حکمت کی وہ باتیں تمہیں سکھاتے ہیں جن کا تمہیں اس سے پہلے علم بھی نہیں تھا۔ فرمایا اے مسلمانو ! اس بات کو یہ کفار اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں لیکن وہ اس نعمت کی قدر نہیں کرتے تم جہاں کہیں بھی ہو اپنا رخ بیت اللہ کی طرف رکھنا اور اللہ کی وہ نعمت جو حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شکل میں موجود ہے اس کی قدر کرنا، ناشکری کا راستہ اختیار نہ کرنا اگر شکر کا راستہ اختیار کرو گے تو اللہ کی تمام نعمتوں سے تمہیں سرفراز کیا جائے گا۔
Ayahs 2:153–157

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 2:153 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نماز اور صبر کے ذریعہ مدد مانگو (سہارا حاصل کرو) ۔ بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ Open ayah 2:154 in the Quran reader

جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کو “ مردہ نہ کہو ” بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور (خبر) نہیں ہے۔

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْعِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ١ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ Open ayah 2:155 in the Quran reader

ہم تمہیں آزمائیں گے کسی قدر خوف سے بھوک سے مالوں جانوں اور پھلوں (پیداوار ) کی کمی سے آپ ان صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دیجئے

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌ١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ Open ayah 2:156 in the Quran reader

کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ١۫ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ Open ayah 2:157 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی خاص عنایتیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ سیدھی راہ حاصل کرنے والے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 153 تا 157 یایھا الذین امنوا (اے وہ لوگو ! جو ایمان لے آئے ہو۔ اے مومنو ! ) ۔ استعینوا (تم مدد مانگو) ۔ الصبر (صبر یعنی جم کر اور ڈٹ کر مقابلہ کرنا) ۔ الصلوٰۃ (نماز ، عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ) یقتل (مارا جاتا ہے) ۔ احیاء (زندہ) ۔ لا تشعرون (تم شعور (ادراک ، سمجھ) نہیں رکھتے) ۔ لبنلونکم (ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے) ۔ الجوع (بھوک) ۔ نقص (کمی، نقصان) ۔ ثمرات (پھل، پھول، سبزہ ، سبزی) ۔ بشر (خوش خبری دیجئے) ۔ اصابت (پہنچ گئی) ۔ راجعون (لوٹنے والے) ۔ صلوات (رحمتیں (صلوٰۃ کی جمع ہے) ۔ تشریح : آیت نمبر 153 تا 157 اللہ کی راہ میں حق و باطل کا پہلا معرکہ جو غزوۂ کہلاتا ہے اس میں بہت سے مسلمان شہید ہوگئے تھے ۔ کچھ لوگوں نے اللہ کی راہ میں جانیں دینے والوں کے لئے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا۔ ہائے افسوس فلاں شخص مرگیا۔ کچھ دن اور زندہ رہتا تو اس دنیا کی زندگی کے بہت سے فائدے حاصل کرتا ۔ زندگی کی لذتوں سے ہمکنار ہوتا ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے ایمان والو ! زندگی اور موت، نفع اور نقصان سب اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو جتنے دن اس دنیا میں رکھنا چاہتا ہے زندہ رکھتا ہے اور جب اس کی زندگی کی مدت پوری ہوجاتی ہے تو اس پر موت کی کیفیات کو طارہ کردیا جاتا ہے۔ اے مومنو ! تم جس دین کی راہ میں چلے ہو اس میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا کیونکہ جس ہاتھ سے صبر کا دامن چھوٹ گیا اس میں اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کی ہمت اور طاقت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ لہٰذا صبر کرو اور ڈٹ کر حالات کا مقابلہ کرو اور اس سے نہ گھبراؤ۔ نمازوں کے ذریعے سے اپنی بندگی کے تعلق کو مضبوط بناتے چلے جاؤ یقیناً وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے جب کامیابیاں تمہارے قدم چو میں گی۔ فرمایا جو لوگ اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے ہر طرح کے مصائب اور نقصانات کو برداشت کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کے لئے اپنی جانیں قربان کردیتے ہیں ان کو مردہ نہ کہو وہ عالم برزخ میں ایک امتیازی شان کے ساتھ زندہ ہیں جنت کی تمام لذتوں کو حاصل کر رہے ہیں لیکن تم اس دنیا میں رہتے ہوئے اس عالم کی کیفیات کو سمجھ نہیں سکتے۔ اس بات کو ذرا وضاحت سے اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ : موت کے بعد انسان کی روح ایک اور جہاں میں منتقل ہوجاتی ہے اس کو عالم برزخ کہتے ہیں۔ عالم برزخ میں ہر شخص کو ایک نئی زندگی عطا کی جاتی ہے جس میں کچھ سوالات کے بعد اس کے عذاب وثواب کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے، جسے جزا اور سزا کا پوری طرح ادراک ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید کر دئیے جاتے ان کو عام لوگوں کے مقابلہ میں ایک خصوصی اور امتیازی برزخی زندگی عطا کی جاتی ہے جس کے اثرات عرصہ دراز تک ان کے جسم پر بھی باقی رکھے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے لیکن شہید کو بھی یہ مقام حیات انبیاء کرام کے طفیل عطا کردیا جاتا ہے۔ شہید جس طرح اور جس حالت میں دفن کیا جاتا ہے۔ وہ اسی حالت میں قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ حدیث میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن جب شہید قبروں سے اٹھیں گے تو ان کے جسموں سے اسی طرح خون بہتا ہوا ہوگا جس طرح دنیا میں شہادت کے وقت ان کا خون بہہ رہا تھا ۔ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی ان باتوں کو ظاہر کردیتا ہے اور موطا میں حضرت امام مالک (رح) نے شہیدوں کے جسم خاکی کے باقی رہنے کے لئے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمرو ابن جموح ؓ اور حضرت عبد اللہ ابن جبیر ؓ جو احد کے غزوے میں شہید ہوئے تھے ان کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا تھا۔ غزوۂ احد کے تقریباً چھیالیس سال کے بعد جب سیلاب کی وجہ سے ان کی قبریں کھل گئیں تو یہ حیرت ناک واقعہ ہزاروں آدمیوں نے دیکھا کہ ان کے جسم بالکل اسی طرح تروتازہ اور شگفتہ و شاداب تھے جیسے انہیں آج ہی دفن کیا گیا ہو۔ اسی طرح جب دریائے دجلہ حضرت عبد اللہ ابن جابر ؓ اور دوسرے شہیدوں کی قبروں کے بالکل نزدیک پہنچ گیا۔ تو حکومت عراق نے ان شہیدوں کے جسموں کو حضرت سلمان فارسی ؓ کے مزار کے قریب منتقل کرنا چاہا۔ تیرہ صدیاں گزرنے کے باوجود ان کے جسم اور کفن بالکل صحیح سلامت پائے گئے ہزارہا لوگوں نے قرآن کی صداقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کو نہ صرف عالم برزخ میں حیات عطا فرماتا ہے بلکہ ان کے جسموں کو بھی برقرار رکھ سکتا ہے جس کا کبھی کبھی مشاہدہ ممکن ہے۔ روحوں کی دنیا میں اور جنت میں شہیدوں کو جو اعزاز عطا کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کی روحوں کو سفید اور سبز پرندوں کا جیسا جسم دیا جاتا ہے وہ جنت میں جس جگہ چاہتے ہیں آزادی کے ساتھ آ جاسکتے ہیں اور وہ جنت کی راحتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور رات کو عرش الٰہی کی قندیلوں میں بسیرا کرتے ہیں۔ ہم اپنے سمجھنے کے لئے اس عالم کی زندگی کو اس طرح تقسیم کرسکتے ہیں کہ عام لوگوں کے مقابلہ میں شہداء کو ایک امتیازی مقام عطا کیا جاتا ہے وہ سفید اور سبز پرندوں کی شکل میں جنت کی راحتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور جبکہ اعلیٰ ترین زندگی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی ہوتی ہے جن کو وہ حیات عطا کی جاتی ہے جو نہ صرف بلند ترین ، ارفع، و اعلیٰ ہوتی ہے بلکہ ان کی عظمت شان کا تصور بھی ممکن ہے۔ ایک دوسرے مقام پر قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ “ وہ لو گ جو اللہ کی راہ میں قتل کر دئیے جاتے ہیں وہ زندہ ہیں ان کو اللہ کی طرف سے رزق عطا کیا جاتا ہے جس سے وہ خوش ہوتے ہیں ” یعنی لذات اور اعمال دونوں اعتبار سے ان کو وہاں کی زندگی کے تمام فوائد اور لذتیں حاصل ہوتی ہیں۔ یہ تمام وہ کیفیات ہیں جن کا علم ہمیں قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ حاصل ہوا ہے۔ ہم اس دنیا میں رہتے ہوئے ان ہی باتوں کو سمجھ سکتے ہیں جو ہمارے پانچوں حواس کے دائرے میں سما سکتی ہوں لیکن جو باتیں ہمارے حواس سے باہر ہیں ہم ان کا نہ تو ادراک کرسکتے ہیں اور نہ ہمارے شعور میں وہ باتیں آسکتی ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ دوسرے جہان میں وہ زندہ ہیں مگر تم اس بات کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتے اب ان کا اس دنیا سے کوئی تعلق نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے شہید ہوجانے کے بعد ان کی بیوہ عورتوں سے بھی عدت گزرنے کے بعد نکاح کیا جاسکتا ہے ان کا چھوڑا ہوا مال و اسباب ورثاء میں تقسیم کردیا جاتا ہے یہ صرف انبیاء کرام کی خصوصیت ہے کہ ان کے اس دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی ان کی بیویوں سے کوئی نکاح نہیں کرسکتا۔ اور نہ ان کا ترکہ تقسیم ہوتا ہے کیونکہ ان کو دوسرے عالم کی زندگی میں ارفع و اعلیٰ مقام دیا جاتا ہے۔ ان کا یہ بھی اعزاز ہے کہ ان کے جسموں کو نہ تو زمین کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے اور نہ کھا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے مبارک جسموں کی بھی حفاظت فرماتے ہیں۔ بہرحال جو بات ہمارے حواس خمسہ سے باہر ہے اس کیفیت کو ہم کسی مثال سے تو سمجھنے کی کوشش کرسکتے ہیں لیکن سفید و سبز پرندوں کی کیفیت ، کھانے پینے کی لذت ، عرش الٰہی کی قندیلوں میں بسیرا کرنے کی حالت کا ہم ادراک و شعور حاصل نہیں کرسکتے۔ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ان کو روحوں کے جہان میں ایک امتیازی مقام دیا جاتا ہے خواہ اس کی کیفیت ہماری سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مقدس، پاکیزہ اور لطیف روحوں پر حیات برزخی کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ شہداء سے بہت ہی قوی اور اعلیٰ و برتر ہوتے ہیں۔ اسی بات کو یہاں سمجھایا گیا ہے کہ جو لو گ اللہ کی راہ میں محض اس کی رضا و خوشنودی کے لئے مصائب اور تکلیفوں کو جھیلتے ہیں، صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے۔ اور نماز کے ذریعہ اپنے تعلق بندگی کو مضبوط کرتے رہتے ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ اللہ کی راہ میں پیش کردیتے ہیں ان کو مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں لیکن تم ان کی زندگی کی کیفیات اور لذتوں کا شعور نہیں کرسکتے ، ان کو عرش الٰہی کے سائے میں تمام راحتیں عطا کی جاتی ہیں۔
Ayahs 2:158–163

اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِیْمٌ Open ayah 2:158 in the Quran reader

بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ جو شخص بیت اللہ کا حج وعمرہ ادا کرے اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف (سعی) کرے۔ جو شخص دلی شوق سے کوئی نیکی کرتا ہے اللہ (اس کے لئے) بڑا قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا بَیَّنّٰهُ لِلنَّاسِ فِی الْكِتٰبِ١ۙ اُولٰٓئِكَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰهُ وَ یَلْعَنُهُمُ اللّٰعِنُوْنَۙ Open ayah 2:159 in the Quran reader

بیشک بعض لوگ اسے چھپاتے ہیں جو اللہ نے لوگوں کے لئے کتاب میں صاف حکم اور ہدایت کی باتیں نازل کی ہیں تو ان پر اللہ کی بھی لعنت ہے اور لعنت کرنے والوں کی بھی لعنت ہے۔

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ بَیَّنُوْا فَاُولٰٓئِكَ اَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ۚ وَ اَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:160 in the Quran reader

سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کرلی اور حق بات کو بیان کردیا تو ان کو میں معاف کردیتا ہوں اور میں بڑا توبہ کا قبول کرنے والا نہایت مہربان ہوں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓئِكَ عَلَیْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 2:161 in the Quran reader

بیشک جنہوں نے کفر کیا اور کفر پر ہی مر گئے، ان پر اللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اور تمام لوگوں کی لعنت ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 2:162 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ ان سے نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کو کوئی دوسری مہلت دی جائے گی۔

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 2:163 in the Quran reader

تمہارا معبود صرف ایک معبود ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی رحمان اور رحیم ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 158 تا 163 شعائر (نشانیاں (شعیرہ، نشانی) ۔ حج البیت (بیت اللہ کا حج کیا۔ (الحج کے معنی ہیں ارادہ کرنا) ۔ اعتمر (عمرہ کیا) ۔ لا جناح (گناہ نہیں ہے) ۔ ان یطوف (یہ کہ وہ طواف کرے (مراد ہے سعی کرنا) پھیرے لگائے) ۔ تطوع (دل کی خوشی سے کوئی کام کرنا) ۔ شاکر (قدر کرنے والا، قدردان) ۔ لیکتمون (البتہ وہ چھپاتے ہیں ) ۔ یلعن (وہ لعنت کرتا ہے (لعنت، اللہ کی رحمت سے دوری) ۔ لعنون (لعنت کرنے والے) ۔ تابوا (جنہوں نے توبہ کرلی) ۔ اصلحوا (اصلاح کرلی، نیکی کرلی) ۔ بینوا (بیان کردیا، کھول دیا) ۔ اتوب (میں متوجہ ہوتا ہوں۔ توبہ قبول کرتا ہوں) ۔ لا ینظرون (وہ دیکھے نہ جائیں گے ، مہلت نہ دی جائے گی) ۔ الہ (معبود، جس کی عبادت کی جائے) ۔ تشریح : آیت نمبر 158 تا 163 صفا اور مروہ بیت اللہ کے پاس دو پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کرنے والے دوڑتے ہیں جس کو سعی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اپنی بیوی حضرت ہاجرہ اور اپنے شیر خوار بچے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو لق و دق صحرا میں چھوڑ دیا تھا۔ جب پانی ختم ہوگیا اور حضرت اسماعیل پیاس سے بےچین ہونے لگے تو حضرت ہاجرہ نے چاروں طرف نظریں دوڑانا شروع کیں مگر پانی کہیں نظر نہ آیا، انہوں نے صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا پہاڑیوں پر چڑھ کر دیکھنا شروع کیا۔ جب حضرت اسماعیل نظروں سے اوجھل ہوتے تو حضرت ہاجرہ دوڑ کر پہاڑی کی طرف آتیں جہاں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پیاس کی شدت سے ایڑیاں زمین پر مار رہے تھے، اس طرح حضرت ہاجرہ نے صفا مروہ کے درمیان سات چکر لگائے ساتویں چکر میں آپ نے دیکھا کہ جہاں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ایڑیاں مار رہے ہیں وہیں سے پانی کا چشمہ ابل رہا ہے۔ پانی کا ابال تیز تھا حضرت حاجرہ نے فرمایا زم زم رک رک جا۔ اور وہ پانی محدود ہوگیا اس کے بعد اس کا نام ہی زم زم پڑگیا۔ زم زم کا کنواں ہزاروں سال گزر جانے کے بعد آ ج بھی اس طرح پوری شان سے پیاسوں کی پیاس بجھا رہا ہے جس طرح چار ہزار سال پہلے وہ تشنہ لبوں کی پیاس بجھا رہا تھا بہر کیف اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے مومنو ! صفا ومروہ تو بیت اللہ ، حجر اسود، اور قربانی کی طرح اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے تم حضرت ہاجرہ کی سنت کو زندہ رکھتے ہوئے حج اور عمرہ میں اس کی سعی کرو۔ بات یہ تھی کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے دور جاہلیت میں کفار مکہ نے بیت اللہ اور پھر مقدس مقامات پر مختلف ناموں کے بت رکھ دئیے تھے اسی طرح صفا پہاڑی پر اساف اور مروہ کی پہاڑی پر نائلہ نام کے بت رکھ دئیے تھے۔ فتح مکہ کے بعد تمام بتوں کو ہٹا کر اللہ کے گھر کو اس گندگی سے پاک کردیا گیا پھر بھی کچھ مسلمان کوہ صفا و اور مروہ پر اس لئے سعی کرنے نہیں جاتے تھے کہ کہیں ہم گنہگار نہ ہوجائیں کیونکہ صفا اور مروہ پر کفار بتوں کی تعظیم کیا کرتے تھے دوسری وجہ یہ تھی کہ مکہ، مدینہ والے دور جاہلیت میں بھی صفا ہ ومروہ پر سعی کرنے کو برا سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں ایک نشانی ہے تم اس کی بھی اسی طرح تعظیم کرو جس طرح اور شعائر یعنی نشانیوں کی عزت و عظمت کرتے ہو۔ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے اس لئے بھی ایک نشانی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قربانی کا آغاز اللہ کے حکم سے مروہ کے مقام سے ہی کیا ہے یہ بات توریت میں بڑی وضاحت سے موجود ہے لیکن یہودی سازشیوں نے جہاں اسلام کے بہت سے احکام اور رسول اللہ ﷺ سے متعلق بہت سے پیشین گوئیوں کو چھپایا ہے۔ ان ہی میں سے ایک مقام یہ بھی ہے کہ یہودیوں نے یہ سازش اور اس لفظ کو مسخ کرنے کی کوشش اس لئے تا کہ کسی طرح اس مقام کو جہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قربانی پیش کی اس کو مروہ کے بجائے بیت المقدس کے آس پاس کا علاقہ ثابت کیا جائے تا کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق جو پیشین گوئیاں ہیں، ان کو حضرت اسحاق اور ان کی اولاد کی طرف موڑ دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ صفا اور مروہ کا ذکر فرما کر یہودیوں کی سازش کا پردہ چاک کردیا ہے کہ تم نے اللہ کے شعائر یعنی نشانیوں کو چھپانے کی جو مجرمانہ کوشش کی ہے اس پر نہ صرف تمہارے اوپر اللہ کی لعنت ہے بلکہ تمام انسانوں اور فرشتوں کی بھی لعنت ہے کیونکہ تم نے جان بوجھ کر اللہ کی نشانیوں اور رسول اللہ ﷺ سے متعلق پیشین گوئیوں کو چھپانے کی گھٹیا ساز ش کی ہے۔
Ayah 2:164

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِیْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 2:164 in the Quran reader

بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں، رات اور دن کے آنے جانے میں ۔ وہ کشتیاں (جہاز) جو لوگوں کے لئے نفع کی چیزیں لے کر سمندر میں چلتی ہیں ان میں ۔۔۔۔ جو کچھ (آسمان) بلندی سے اللہ نے پانی نازل کیا جس کے ذریعہ مردہ زمین میں زندگی پیدا ہوتی ہے۔ زمین، میں قسم قسم کے جو جانور پھیلائے اس میں، ہواؤں کے الٹنے پلٹنے میں اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان حکم کے تابع ہیں ان سب چیزوں میں عقل رکھنے والی قوم کے لئے نشانیاں ہیں۔

لغات : آیت نمبر 164 خلق (پیدائش، بناوٹ ) ۔ اختلاف (آنا، جانا) ۔ اللیل (رات ) النھار (دن) ۔ الفلک (کشتی، جہاز) ۔ ینفع (نفع دیتا ہے) ۔ السماء (بلندی، آسمان ) بث (اس نے پھیلا دیا) دابۃ (زمین پر رینگنے والے ہر جاندار کو کہتے ہیں۔ ہر طرح کے جانور) ۔ تصریف (الٹنا پلٹنا) ۔ الریح (ہوائیں، (ریح کی جمع ہے) ۔ السحاب (بادل) ۔ المسخر (تابع، حکم ماننے والا) ۔ لایت (البتہ نشانیاں ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 164 قرآن کریم انسان کو شک و شبہ کی دلدل سے نکال کر یقین کی منزل تک پہنچانے کے لئے ایسی کھلی ہوئی دلیلیں پیش کرتا ہے جس سے ہر شخص اپنی اہلیت و صلاحیت کے مطابق حق کی معرفت حاصل کرسکتا ہے ۔ ان دلائل میں جو شخص بھی سنجیدگی سے غور کرے گا یقین و تصدیق کی دولت سے مالا مال ہوگا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے کائنات اور اس کے مرتب نظام کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ کیا زمین و آسمان کی پیدائش ، چاند، سورج ، ستاروں، سیاروں اور سورج کے طلوع و غروب کا نظام ، رات دن کی پیہیم گردش ان کا گھٹنا بڑھنا، بیکراں سمندر کے سینے پر مسافروں اور سامان سے بھری ہوئی کشتیوں اور جہازوں کا آنا جانا بارشوں کا نظام جس سے مردہ زمین ہری بھری ہوجاتی ہے کرۂ ہوائی میں بادلوں کا منڈلانا ، کہیں برسنا اور کہیں نہ برسنا، طرح طرح کے چرند، پرند، درند۔ یہ تمام چیزیں آنکھیں اور عقل رکھنے والوں کے لئے کھلی نشانیاں ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا یہ سارا نظام بغیر کسی علیم وخبیر ہستی کے چلائے ہوئے چل رہا ہے۔ یقیناً اس ساری کائنات کے پیدا کرنے اور چلانے میں ایک ایسی ہستی کا ہاتھ ہے جو انسان کے تمام احوال سے بھی اچھی طرح واقف ہے اور وہ اللہ کی ذات پاک ہے۔
Ayahs 2:165–167

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ یَرَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ یَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعَذَابِ Open ayah 2:165 in the Quran reader

بعض لوگ وہ ہیں جو اللہ کو چھوڑ کر غیر اللہ کو اس کا شریک بناتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی انہیں اللہ سے محبت کرنی چاہئے۔ حالانکہ ایمان والے اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ کاش یہ ظالم اس وقت کو دیکھتے جسے وہ عذاب کے وقت بہرحال دیکھیں گے کہ بیشک تمام طاقت و قوت اللہ ہی کی ہے۔ بیشک اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے ۔

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِیْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ Open ayah 2:166 in the Quran reader

جن کی پیروی کی گئی تھی جب وہ ان لوگوں سے بیزاری کا اظہارکریں گے جنہوں نے ان کی پیروی کی تھی۔ اس وقت وہ عذاب کو سامنے دیکھیں گے اور تمام اسباب کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہوگا۔

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ یُرِیْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنَ النَّارِ۠ Open ayah 2:167 in the Quran reader

(وہ بڑی حسرت سے کہیں گے ) اگر ہمیں دنیا میں جانے کا ایک موقع اور دے دیا جاتا تو ہم بھی ان سے اسی طرح بیزاری کا اظہار کرتے جس طرح آج یہ ہم سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ (اب اس حسرت سے کیا فائدہ) اللہ ان کو وہ اعمال جو انہوں نے کئے تھے اس طرح دکھلائے گا کہ وہ حسرت اور شرمندگی سے ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور آگ سے نکلنے کی ان کو کوئی راہ نہ مل سکے گی۔

لغات : آیت نمبر 165 تا 167 یتخذ (بنا لیتا ہے) یحبون (وہ محبت کرتے ہیں) کحب اللہ (جیسے اللہ سے محبت کرنا) ۔ اشد حبا (بےانتہا محبت) ۔ تبرا (بےزاری کا اظہار، نفرت کا اظہار کیا) ۔ الذین اتبعوا (جن کی پیروی کی گئی (پیشوا یا بت) ۔ الذین اتبعوا (جنہوں نے اتباع کی) ۔ راوا (دیکھیں گے (دیکھا) ۔ تقطعت (کٹ جائیں گے (کٹ گئے) ۔ کرہ (دوبارہ جانا) ۔ یریھم (وہ ان کو دکھائے گا) ۔ حسرت (حسرتیں، افسوس) ۔ خارجین (نکلنے والے ) ۔ النار (آگ ، جہنم دوزخ) تشریح : آیت نمبر 165 تا 167 اب ان لوگوں کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جن کے سامنے سا را نظام کائنات ہے جس میں اللہ کی ربوبیت اور شان رحمت صاف نظر آرہی ہے مگر کھلی ہوئی آنکھیں ہونے کے باوجود ان کو سچائی نظر نہیں آتی۔ وہ دن رات اس منظم اور مرتب نظام کائنات کو دیکھتے ہیں مگر غور نہیں کرتے کہ اس نظام کو چلانے والی وہ ذات ہے جو قادر مطلق ہے مگر وہ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کو پوری اہمیت دیتے ہیں ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسے یہی ان کے کارساز ہیں ۔ فرمایا مومن صرف اللہ سے شدید اور والہانہ محبت کرتے ہیں کیونکہ ان کو اس بات کا یقین ہے کہ اس کائنات میں ایک پتہ بھی اللہ کے حکم کے بغیر نہیں ہلتا۔ فرمایا گیا آج جن بتوں پر یہ سہارا کئے بیٹھے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں ان کے کام آئیں گے کاش یہ اس وقت کا تصور ہی کرلیتے جب قیامت کے دن یہی بت اور معبود اس بات سے صاف انکار کردیں گے کہ ہم نے ان سے نہیں کہا تھا کہ یہ ہماری عبادت و بندگی کریں۔ اس اظہار لا تعلقی کے بعد جب ان کے سامنے عذاب آجائے گا اور دنیا کے تمام اسباب منقطع ہوچکے ہوں گے اس وقت چلائیں گے اور فریاد کریں گے الٰہی ہمارے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوگیا ہے ہم تو ان کو اپنا کارساز سمجھتے تھے مگر انہوں نے تو ہمیں دھوکا دیا ہے ہم سے بےزاریاں ظاہر کررہے ہیں الٰہی ہمیں دنیا میں جانے کا ایک اور موقع مل جائے تو ہم ان سے انتہائی بےزاری اور نفرت کا اظہار کریں گے اور آپ ہی کی بندگی کریں گے۔ فرمایا گیا کہ اب توبہ کا وقت ختم ہوچکا ہے اب تو فیصلے کا وقت ہے اب یہ آرزو تمہاری حسرت ہی رہے گی اور جہنم کے ابدی عذاب سے تم بچ نہیں سکتے۔