2. Surah Al-Baqara

البقرةThe Cow · 286 ayahsبصیرتِ قرآن

Ayahs 2:21–24

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ Open ayah 2:21 in the Quran reader

اے لوگو ! اس اللہ کی عبادت و بندگی کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تا کہ تم تقویٰ اختیار کرسکو۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً١۪ وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:22 in the Quran reader

جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنا دیا۔ جس نے تمہارے لئے آسمان (بلندی) سے بارش برسا کر ہر طرح کے ثمرات پیدا کئے۔ تم جانتے بوجھتے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک نہ کرو۔

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:23 in the Quran reader

اگر تمہیں اس میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے (حضرت محمد ﷺ پر اتارا ہے تو ایک اللہ کو چھوڑ کر اپنے تمام حمایتیوں اور مددگاروں کو بلا لاؤ اور اس جیسی ایک ہی سورت بنا لاؤ اگر تم سچے ہو

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ١ۖۚ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:24 in the Quran reader

لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا اور تم ایسا کر ہی نہیں سکتے۔ تو اس آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے ، جو کافروں کے لئے ہی بنائی گئی ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 24 (یایھا ) : اے (حرف ندا) کسی کو آواز دینے اور بلانے کے لئے یہ حرف استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر کسی مونث کو ندا دی جائے تو ” یایتھا “ آئے گا۔ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ (اعبدوا): (اعبد) تم عبادت و بندگی کرو۔ عبادت صرف چند رسموں کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم کو عاجزی، ادب واحترام کے ساتھ ماننا، اطاعت و فرمان برداری کرتے ہوئے زندگی کو پوری طرح ادا کرنا عبادت ہے۔ (خلق): اس نے پیدا کیا۔ اسی خالق (پیدا کرنے والا) اور مخلوق (پیدا کیا گیا ) بھی آتا ہے۔ (قبل): پہلے۔ یہ لفظ اردو میں بھی اسی معنی میں بولا جاتا ہے۔ (لعلکم ): (لعل۔ کم ) شاید کہ تم، تا کہ تم ، امید ہے کہ تم۔ ۔۔ ۔ کسی توقع اور امید کے لئے بولا جاتا ہے ۔ (تتقون): تم تقویٰ اختیار کرو گے، اس سے ڈرو گے، شریعت کے ہر حکم پر چلنا اور دل میں خوف الٰہی رکھنا۔ (فراش): ہر وہ چیز جو ایسی ٹھوس ، برابر اور ہموار بچھی ہوئی ہو جس پر چلنا ، پھرنا اور راحت حاصل کرنا ممکن ہو۔ (انداد): (ند کی جمع ہے ) ۔ جس کے معنی شریک، مد مقابل، مخالف کے آتے ہیں عام طور پر اس ترجمہ شریک اور شرکا سے کیا جاتا ہے۔ (نزلنا): ہم نے اتارا، نازل کیا۔ تنزیل کے معنی آتے ہیں کسی چیز کو اوپر سے نیچے آہستہ آہستہ اتارنا۔ یہاں قرآن کریم کی طرف اشارہ ہے جو نبی مکرم حضرت محمد ﷺ پر تھوڑا تھوڑا نازل ہو کر تئیس سال میں مکمل ہوا۔ (شھداء) : (شہید کی جمع ہے ) جس کے کئی معنی ہیں مددگار، حمایتی ، اور با خبر۔ (وقود): ایندھن، جلنے کی چیز۔ (الحجارۃ): الحجرہ کی جمع ہے اس سے مراد وہ بےجان بت ہیں جن کو انہوں نے اپنا خالق ومالک بنا رکھا تھا۔ فرمایا کہ یہ سب جہنم کا ایندھن ہیں۔ (اعدت): تیار کی گئی ہے۔ تشریح : آیت نمبر 21 تا 24 مومنوں ، کافروں اور منافقین کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور جماعتوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے لوگو ! اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے اندر تقویٰ جیسی عظیم صفت پیدا ہوجائے تو اس اللہ کی عبادت و بندگی کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے ان لوگوں کو پیدا کیا جن کو تمہارے اس دنیا میں آنے کا سبب بنایا ہے۔ وہ اللہ کہ جس نے تمام انسانوں کو جسم اور روح کا پیکر بنا کر جسم و روح کی تمام ضرورتوں اور تقاضوں کو پورا کرنے کے وسائل اور ذرائع بھی عطا کئے ہیں۔ روح کے لئے اس نے اپنا کلام اپنے پاکیزہ بندوں کے ذریعہ پہنچایا جس سے روح کی زندگی اور تابندگی ہے۔ اور جسم کے لئے زمین کو راحت و آرام کا ذریعہ بنا کر فرش کی طرح بچھا دیا ہے اور حفاظت کے لئے آسمان کو ان کے سروں پر چھت کی طرح تان دیا ہے اور بلندی سے بارشوں کو برسا کر ہر طرح کے پھل، پھول اور سبزے کو پیدا کیا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو اللہ نے زمین کو نعمت کے طور پر اس طرح بنایا ہے کہ اس میں چلنا پھرنا، اٹھنا، بیٹھنا، کھیتی کہ زمین نہ تو اتنی نرم ہے کہ آدمی اس دھنس جائے یا اس کا چلنا پھر دشوار ہوجائے اور نہ لوہے کی طرح سخت بنایا ہے کہ اس کو استعمال کرنا آسانی سے ممکن نہ ہو بلکہ زمین نرم تو اتنی ہے کہ ایک بچہ بھی کھودتا چلا جائے اور مضبوط اتنی ہے کہ اربوں، کھربوں انسان، ان کی زندگی گزارنے کا سامان، بلند وبالا بلڈنگیں اور بڑے بڑے پہاڑوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، نہ جھکتی ہے ، نہ دبتی ہے، نہ دھنستی ہے۔ زمین کو ایسا کار آمد بنایا ہے کہ ایک کسان زمین میں ہل یا ٹریکٹر چلا کر اس میں چنددانے اور کھا ڈال کر اپنی اور اپنے اہل خانہ کی سال بھر کی روزی پیدا کرلیتا ہے، ایک گٹھلی بو کر یا چند بیج بکھیر کر اس سے بیشمار پھل، پھول، سبزی ترکاریاں ، مزے دار میوے اناج اور غلے پیدا کرلیتا ہے۔ لوہا، گیس، تیل، لکڑی اور دوسری مع دنیات بھی اسی زمین سے حاصل کرتا ہے جس سے وہ تیز رفتار گاڑیاں اونچے مکانات اور بلند وبالا عمارتیں بناتا ہے۔ اللہ نے آسمان کو ہمارے سروں پر سائبان کی طرح تان دیا ہے جو ہمیں کائنات کی ہزاروں آفات اور ہلاک کردینے والے جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق اس دنیا پر ایک چادر سی ڈال دی گئی ہے جس کو ” اوزون “ کہا جاتا ہے ۔ اس کے چند کام ہیں مثلاً موسموں کی تبدیلی میں یہ معاون اور فضاؤں سے آنے والے زہریلے جراثیم کو یہ اپنے اندر جذب کر کے دنیا کے انسانوں کو اس سے محفوظ رکھتا ہے۔ ممکن ہے کہ اسی اوزون کو اس جگہ ” السماء “ فرمایا گیا ہو جو چھت کی طرح ہمارے سروں پر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنا کر آسمان دنیا کو چاند، سورج اور ستاروں سے خوبصورتی اور زینت بخشی ہے یہ روشن و تاباں قندیلیں اور روشن ومنور چراغ اس دنیا کو حسین تربنا دیتے ہیں۔ فرمایا کہ اس اللہ نے بلندی سے پانی برسا کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کی شکل میں پانی جما دیا جو سال بھر حسین چشموں، جھیلوں ، ندی نالوں کے ذریعہ بہہ کر کائنات کے حسن کو بھی بڑھاتا ہے اور کھیتوں کو ہرا بھرا اور درختوں کو پررونق بنا دیتا ہے اور یہی پانی انسانوں کی تمام ضرورتوں کو بھی پورا کرتا ہے۔ اسی کی قدرت ہے کہ پانی، ہوا مٹی، روشنی اور حرارت ایک جیسی ہے لیکن ہر اگنے والی چیز کی شکل ، صورت اور بناوٹ بالکل مختلف اور انوکھی ہوتی ہے اور ” گلہائے رنگا رنگ سے ہے رونق چمن “ کا سماں بندھ جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ زمین، آسمان، چاند، سورج، ستارے ، فضائیں ، ہوائیں اور بارشوں کا یہ نظام اس بات کی کھلی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ یہ اتنا بڑا نظام کائنات خودبخود نہیں چل رہا ہے بلکہ اس کا خالق ومالک اللہ ہے جو اس کو چلا رہا ہے۔ وہی خالق رازق مالک اور پروردگار ہے وہی تنہا عبادت و بندگی کے لائق ہے۔ اس کے سوا اور کوئی رب کائنات نہیں ہے اگر کوئی شخص ان حقیقتوں کے باوجود اللہ کے مقابلے میں کسی اور کو اپنا خالق، مالک اور رب قرار دیتا ہے یا اس کے مقابلے میں کسی اور کو اپنا اللہ مانتا ہے یا اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک کرنا، بےجان بتوں اور اپنی خواہشات کو معبود بنا لیتا ہے تو انسان کی یہ سب سے بڑی جہالت اور نادانی کی بات ہے۔ اس سارے کلام کا حاصل یہ ہے کہ اللہ نے اس ساری کائنات اور اس میں پائی جانے والی وہ چیزیں جن کے استعمال کی اللہ نے اجازت دی ہے انسان کے جسم و جان کے لئے پیدا کی ہیں لیکن روح کی پیاس بجھانے کے لئے اس نے اپنے محبوب بندے حضرت محمد ﷺ کو بھیجا اور ان کے اوپر اس قرآن کریم کو اتارا جو ہر طرح کے شک و شبہ سے پاک ہے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اس کلام میں کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی کو یہ گمان ہو کہ نعوذ باللہ اس قرآن کو حضور اکرم ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے تو اس قرآن جیسی ایک ہی سورت بنا کرلے آئے۔ فرمایا کہ یہ بات کسی کے بس کی نہیں ہے لہٰذا اپنا وقت ضائع کر کے آخرت کو برباد کرنا اور جہنم کی آگ کا مستحق بن جانا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے چند باتیں عرض ہیں تا کہ یہ بات سمجھ میں آجائے۔ جب نبی مکرم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اس وقت اگرچہ عرب میں رہنے والے دنیا کی اکثر قوموں سے بہت پیچھے تھے، اخلاقی اعتبار سے بالکل کھوکھلے، معاشرت اور معیشت میں سب سے پست ، صحیح دین و مذہب کے تصورات سے کورے ، جہالت ، ظلم، بربریت اور درندگی کے پیکر تھے۔ جنگ و جدل ، خون خرابہ، لوٹ کھسوٹ ان کی زندگی کا ایک حصہ بن چکا تھا۔ مگر اس سب کے باوجود انہیں اس بات پر ناز تھا کہ وہ عرب ہیں، زبان والے ہیں اور ساری دنیا ان کے مقابلے میں عجمی یعنی گونگی اور بےزبان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا کو گونگا اور بےزبان کہنے والوں سے فرمایا کہ ہمارے حبیب پاک حضرت محمد ﷺ جن کا بچپن، جوانی اور زندگی کا ہر لمحہ تمہارے اندر ہی گزارا ہے ، تم اچھی طرح جانتے ہو کہ وہ نہ لکھنا جانتے ہیں اور نہ پڑھنا، نہ وہ دنیا میں کہیں گھومے اور پھر ہیں۔ اگر تم یہ کہتے ہو کہ اس قرآن کو انہوں نے گھڑ لیا ہے خود سے بنا لیا ہے، (نعوذ باللہ) تو اس قرآن جیسی ایک ہی سورت بنا کرلے آؤ کیونکہ تمہیں تو اپنی زبان دانی اور شعر و شاعری پر بڑا ناز ہے۔ ہمیں اس سلسلہ میں قرآن کریم سے یہ تفصیل ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے تو ان کفار سے فرمایا کہ اس جیسا قرآن ہی بنا کرلے آؤ، پھر فرمایا کہ اس جیسی دس سورتیں ہی بنا کرلے آؤ اور آخر میں فرمایا کہ اچھا ایک ہی سورت بنا کرلے آؤ۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمادیا کہ اس کام کے لئے دنیا بھر سے اپنے حمایتیوں اور مددگاروں کو بلا لاؤ مگر اس چیلنج کا جواب نہ اس وقت دیا گیا اور نہ آج تک دیا گیا ہے اور جن لوگوں نے کوشش کی تو ان کو منہ کی کھانا پڑی۔ فرمایا۔ (1) (اے نبی ﷺ آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ جنات اور انسان سب مل کر ایک دوسرے کے مددگار بن کر اگر اس قرآن جیسا لانا چاہیں تو وہ ایسا نہ کرسکیں گے۔ ( سورة بنی اسرائیل) (2) کیا یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس قرآن کو گھڑ لیا ہے تو (اے نبی ﷺ آپ فرمادیجئے کہ تم اس جیسی دس سورتیں ہی بنا کرلے آؤ اور اللہ کو چھوڑ کر جس کو بھی اپنی مدد کے لئے بلانا چاہتے ہو اس کو بلا لاؤ اگر تم سچے ہو۔ ( سورة ہود) (3) (اے نبی ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ تم اس جیسی ایک سورت ہی بنا کرلے آؤ اگر تم سچے ہو۔ ( سورة یونس) یہ تینوں سورتیں مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی جہاں زیادہ تر کفار اور مشرکین سے خطاب تھا لیکن جب نبی مکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمایا تو وہاں سورة بقرہ میں یہود و نصاریٰ کو زیر مطالعہ آیت میں چیلنج کرتے ہوئے فرمایا کہ : (4) اگر تمہیں اس میں شک ہے جو ہم نے اپنے بندے (حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا ہے تو اس جیسی ایک ہی سورت بنا کرلے آؤ اور اللہ کو چھوڑ کر اپنے تمام حمایتیوں کو بلا لاؤ اگر تم سچے ہو۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا اور (سن لو) کہ تم ایسا کر بھی نہیں سکتے تو اس آگ سے بچو جس میں انسان اور پتھر اس کا ایندھن بن جائیں گے وہ جہنم ایسے منکرین ہی کے لئے بنائی گئی ہے۔ ( سورة بقرہ) اگر غور کیا جائے تو یہ حقیقت نکھر کر سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قرآن جیسی ایک سورت کے لانے کے لئے چیلنج کیا ہے اور اس میں یہ شرط نہیں لگائی ہے کہ کون سی سورت بنا کرلے آؤ بلکہ قرآن کی چھوٹی سے چھوٹی سورت بھی بنا کرلے آنے کے لئے فرمایا ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہے کہ ایک سورت بنا کر لانے کے لئے تین مرتبہ چیلنج کیا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ کفار مکہ اور مدینہ کے اہل کتاب ہر طرح کی مخالفت کرتے تھے مگر اس چیلنج کا جواب نہیں دیتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قرآن کسی انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ قرآن کریم کا یہ چیلنج اس وقت بھی تھا اور آج ڈیڑھ ہزار سال گزرنے کے بعد بھی ہے نہ اس وقت جواب دیا گیا نہ آج کسی کی ہمت ہے۔ کہتے ہیں کہ خلیفہ ہارون رشید کے دور میں جبکہ عربی اپنے عروج اور کمال پر تھی اس وقت ابن مقنع نے اس چیلنج کا جواب دینے کی کوشش کی مگر اس کوشش میں ناکام رہا۔ اس کے بعد لبنان کے کچھ عیسائیوں کے بڑے عالم و فاضل لوگوں نے ایک اور کوشش کی مگر برسوں محنت کے باوجود سورة فاتحہ کی سات آیتوں جیسی بھی نہ بنا سکے۔ قرآن کریم آج بھی ساری دنیا کے انسانوں کو یہ دعوت دے رہا ہے کہ اے لوگوآؤ نجات کا راستہ اور روح کی تسکین قرآن کے دامن میں ہی مل سکے گی، اس راستے کو چھوڑ کر جو راستہ بھی اختیار کیا جائے گا وہ انسانوں کو موت کے بھیانک غار کی طرف تو لے جائے گا لیکن زندگی کے ہر سکون سے اس کا دامن خالی ہوجائے گا۔
Ayah 2:25

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًا١ۙ قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًا١ؕ وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١ۙۗ وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 2:25 in the Quran reader

(اے نبی ﷺ آپ ان کو خوشخبری دیجئے جو ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں بیشک ان کے لئے ایسی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جب بھی ان کو وہاں کا کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گا تو کہیں گے کہ یہ تو وہی ہے جو ہمیں اس سے پہلے بھی (دنیا میں ) دیا گیا تھا۔ اور ان کو ان ہی سے ملتے جلتے (جنت کے ) پھل دئیے جائیں گے۔ ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 25 (بشر): خوش خبری سنادے۔ (عملوا) : انہوں نے کام کئے۔ عمل کئے۔ (الصلحت ): بھلے، بہتر، نیک۔ (جنت): جنتیں۔ (تجری): جاری، (بہتی ہوں گی) ۔ (تحت): نیچے ۔ (کلما ): جب، جب بھی۔ (رزقوا): دئیے گئے۔ (ھذا الذی): یہ تو وہی ہے۔ (اتوا): دئیے گئے۔ (متشابھا) : ملتے جلتے، ایک جیسے۔ (ازواج): (زوج) جوڑے ، بیویاں، ساتھی۔ (مطھرۃ) پاک صاف، ہر طرح صاف ستھری، پاکیزہ۔ (خلدون) : ہمیشہ رہنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 25 اس سے پہلے یہ ذکر ہو رہا تھا کہ وہ لوگ جو قرآن کریم جیسا کلام نہیں لاسکتے وہ اپنی عاقبت خراب نہ کریں کیونکہ جن بتوں اور انسانوں کو وہ اپنا سہارا اور معبود سمجھتے ہیں وہ خود جہنم کا ایندھن بن جائیں گے اور ان کے کام نہ آسکیں گے۔ اس کے بعد یہ فرمایا جا رہا ہے کہ جو لوگ ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کرنے والے ہیں ان کے لئے اللہ نے ایسی جنتیں اور ان کی راحتیں تیار کر رکھی ہیں جن کا اس دنیا میں رہتے ہوئے تصور بھی ناممکن ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی مکرم ﷺ کی زبان مبارک سے ان لوگوں کے لئے خوش خبری کا اعلان کرایا ہے جو ایمان اور عمل صالح کی روش زندگی کو اختیار کئے ہوئے ہیں فرمایا کہ ان کے لئے جنت کی راحتیں صرف وقتی طور سے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہوں گی۔ اور ان کے لئے جسمانی اور روحانی اعتبار سے پاک صاف بیویاں ہوں گی۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے پانچ باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ (1) ایمان اور عمل صالح : ایمان اور عمل صالح کا چولی دامن کا ساتھ ہے چناچہ قرآن کریم میں سینکڑوں مقامات پر ایمان اور عمل صالح کا ایک ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ ایمان اس یقین کو کہتے ہیں جس میں ایک شخص دل اور زبان سے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، وہ تمام انسانی ضرورتوں اور حاجات سے بےنیاز ہے نہ اس کو کسی نے پیدا کیا اور نہ اس کے کوئی بیٹا یا بیوی ہے وہ اس ساری کائنات اور اس کے ایک ایک ذرے کا خالق ومالک ہے۔ اس کی ذات اور صفات میں کوئی شریک نہیں ہے۔ عبادت و بندگی کے لائق صرف اسی کی ذات ہے وہی سب کا معبود اور پالنے والا رحیم و کریم ہے۔ اس نے انسانیت کی رہنمائی اور ہدایت کے لئے ہر دور میں ہزاروں رسول اور نبی بھیجے جنہوں نے اللہ کا پیغام پوری دیانت سے پہنچا کر اپنی اپنی امتوں کو سیدھی اور سچی راہ دکھائی اور اسی نے سارے نبیوں اور رسولوں کے آخر میں خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو اپنا آخری کلام دے کر بھیجا ہے آپ کے بعد نہ تو کوئی کتاب آئے گی اور نہ کوئی کسی طرح کا نبی یا رسول آئے گا۔ اب قیامت تک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا لایا ہوا دین ہی انسانیت کی رہبری و رہنمائی کے لئے کافی ہوگا۔ اس بات پر بھی ایمان لانا ہے کہ آپ ﷺ کے بعد اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا اور مکار ہے اور اس کی کسی بات کا اعتبار نہیں ہے۔ ایمان کی اس تعریف کو سمجھنے کے بعد عمل صالح کا مفہوم سمجھ لینا بہت آسان ہے کیونکہ جب ایک انسان نے اس بات کو دل اور زبان سے مان لیا کہ اس کائنات کا خالق ومالک اللہ ہے اور سارے نبی اور رسول اسی کے بھیجے ہوئے ہیں تو اللہ کے نبیوں اور اس کے رسولوں کے طریقوں پر چلنے ہی کو عمل صالح کہا جائے گا، اس سے ہٹ کر جو بھی کام کئے جائیں گے خواہ وہ بظاہر کتنے ہی نیک اور ثواب کے کیوں نہ ہوں ان کاموں پر دنیا میں ممکن ہے کچھ اجر تو مل جائے لیکن آخرت کی اصل زندگی میں کوئی اجر اور بدلہ نہیں ملے گا مثلاً ایک شخص قربانی کے دنوں میں جانور ذبح کرنے کے بجائے اس رقم کو غریبوں میں تقسیم کر دے تو اس کو صدقہ کرنے کا ثواب ضرور مل جائے گا لیکن جو فریضہ اس پر واجب تھا وہ ادا نہ ہوگا اور شاید نافرمانی کرنے کی اس کو سزا مل جائے اور یہ صدقہ اسے اس فرض کے ادا نہ کرنے کی وجہ سے اللہ کی گرفت سے بچا نہ سکے۔ اب عمل صالح کی تعریب یہ ہوئی کہ ” ہر وہ کام جو اللہ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے احکامات کے تحت کیا جائے وہ عمل صالح ہے۔ “ (2) جنتیں : جنت کے متعلق نبی کریم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ” جنت وہ مقام اور جگہ ہے جس کو کسی آنکھ نے نہیں دیکھا، کسی کان نے نہیں سنا اور اس کا تصور بھی کسی دل پر نہیں گذرا “ اس حدیث پاک میں نبی مکرم ﷺ یہ ارشاد فرما رہے ہیں کہ گویا جنت وہ خوبصورت اور حسین ترین جگہ ہے جس کا اس دنیا میں کسی طرح تصور کرنا ممکن ہی نہیں ہے وہ انسانوں کے تصور اور خیال سے بھی بہت بلند ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جنتوں کے بہت سے نام آتے ہیں۔ ” جنت الفردوس، جنت عدن، جنت النعیم، دارالخلد، جنت الماویٰ اور علیون وغیرہ بعض مفسرین نے اور بھی نام لکھے ہیں دارالجلال ، دارالسلام اور دارالقرار۔ ممکن ہے جنت ایک ہی ہو مگر انسانی اعمال کے لحاظ سے جنت کے یہ مختلف درجات کے نام ہوں۔ “ امام بیہقی نے فرمایا ہے کہ قرآن و حدیث میں چار جنتوں کا ثبوت ملتا ہے جب کہ ایک حدیث میں جنت کے آٹھ دروازوں کا ذکر ملتا ہے۔ بہرحال اللہ ہی جانتا ہے کہ اس نے اپنے نیک بندوں کے لئے کتنی جنتیں تیار کر رکھی ہیں۔ اللہ ہمیں حسن عمل اور جنت کی راحتیں نصیب فرمائے۔ آمین۔ (3) پھل دئیے جائیں گے : فرمایا گیا کہ جب بھی ان کو جنتوں کے پھل دئے جائیں گے چونکہ دنیا کے پھلوں سے ملتے جلتے ہوں گے تو وہ کہہ اٹھیں گے کہ یہ تو ہم نے دنیا میں بھی کھائے ہیں لیکن جب وہ ان پھلوں کو کھائیں گے اور ان کو وہ بہت ہی لذیذ اور مزے دار پائیں گے تو وہ اور مانگیں گے اور ان کی اس طلب کو پورا کیا جائے گا اور ان کی اس طلب کو پورا کیا جائے گا اور ان کی خواہش کے مطابق اور بہت سے پھل دئیے جائیں گے کیونکہ ان پھلوں کا مزا ہی کچھ اور ہوگا۔ دنیا کے جیسے پھلوں کا مطلب اس مناسبت کا ذکر ہے کہ انسان جن پھلوں سے واقف ہوتا ہے اس کو کھانے میں تکلف نہیں ہوتا۔ (4) پاکیزہ بیویاں : یعنی وہ ایسی ہم عمر، پاکیزہ اور خوبصورت بیویاں ہوں گی جو جسمانی ، روحانی اور اخلاق کی ہر گندگی سے پاک صاف ہوں گی ظاہری آلائشیں اور کینہ، حسد، بغض جیسی بری خصلتوں سے پاک ہوں گی۔ (5) ہمیشہ رہیں گے : اس وعدہ میں سب سے زیادہ لذت اور خوشی ہے کیونکہ بہتر سے بہتر نعمت اور راحت بھی اگر حاصل ہوجائے لیکن کچھ عرصہ کے بعد اس کے چھن جانے کا خطرہ ہو تو انسان کو راحت کے ساتھ اس کے چھن جانے کا غم بھی لگ جاتا ہے لیکن ہمیشہ کا تصور ہی اس راحت اور نعمت کی لذت میں اضافہ کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت کی ابدی راحتیں نصیب فرمائے۔ آمین۔
Ayahs 2:26–27

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَا١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًا١ۘ یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًا١ۙ وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًا١ؕ وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ Open ayah 2:26 in the Quran reader

بیشک اللہ اس بات سے نہیں شرماتا کہ وہ مچھر یا اس سے بھی بڑھ کر کسی چیز کی مثال بیان کرے۔ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ حق ان کے پروردگار کی طرف سے ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کر رکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ بھلا اس مثال سے اللہ نے کیا چاہا ہوگا ؟ وہ بہت سوں کو بھٹکا دیتا ہے اور بہت سوں کو ہدایت دیتا ہے۔ ۔۔ ۔ لیکن وہی بھٹکتے ہیں جو نافرمان ہیں۔

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ١۪ وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 2:27 in the Quran reader

فاسق و نافرمان وہ ہیں جو (1) اللہ سے پکا وعدہ کرنے کے بعد اس کو توڑ دیتے ہیں (2) اور جن (رشتوں) کو ملانے کا حکم دیا گیا ہے اس کو کاٹ ڈالتے ہیں اور (3) زمین میں فساد مچاتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔

لغات القرآن : آیت نمبر 26 تا 27 (لایستحی): وہ نہیں شرماتا۔ (ان یضرب) : کہ وہ بیان کرے۔ (مثلا ما) کوئی مثال۔ (بعوضۃ): مچھر۔ (فوق): اوپر۔ اس سے بڑھ کر۔ (الحق): سچ، ٹھیک ٹھیک۔ (اراد): اس نے ارادہ کیا۔ (بھذا مثلاً ) : اس مال سے۔ (بے، سے، ھذا، یہ ، مثلا، مثال) ۔ (یضل) : وہ گمراہ کرتا ہے، راستہ بھلا دیتا ہے۔ (یھدی) : وہ ہدایت دیتا ہے، وہ راستہ دکھاتا ہے۔ (ینقضون ): وہ توڑتے ہیں۔ (عھد اللہ): اللہ کا وعدہ، عہد۔ (میثاق): پکا اور پختہ وعدہ ۔ (یقطعون): وہ قطع کرتے ہیں۔ کاٹتے ہیں۔ (امر اللہ ) : اللہ نے حکم دیا۔ (ان یوصل ): یہ کہ وہ ملائیں۔ (یفسدون): وہ فساد کرتے ہیں۔ (الارض): زمین ۔ (الخسرون ): نقصان اٹھانے والے۔ تشریح : آیت نمبر 26 تا 27 بعض مثالیں اس لیے بیان کی جاتی ہیں تا کہ کسی بھی چیز کی بڑی سے بڑی حقیقت کو پوری طرح ذہن میں بٹھا دیا جائے۔ مقصد وہ مثال نہیں ہوتی بلکہ وہ حقیقت ہوتی ہے جس کا بیان کرنا مقصود ہوتا ہے مثلاً قرآن کریم میں مشرکوں کے جھوٹے معبودوں اور بتوں کی بےبسی کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اگر ایک مکھی بھی ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اس سے واپس نہیں لے سکتے اور وہ اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اسی طرح وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کرتے ہیں اور رتبے میں اللہ کے برابر بناتے ہیں ان کے سامنے ان کی بےحقیقتی کو ظاہر کرنے کے لئے اسے مکڑی کے جالے سے سمجھایا گیا ہے۔ کفار مکہ کو اعتراض یہ تھا کہ یہ کیا اللہ کا کلام ہوا جس میں کہیں مکھی، مچھر، چیونٹی اور گائے بیل کا ذکر ملتا ہے۔ (وہ کہتے تھے کہ نعوذ باللہ ) اللہ کو ان چیزوں کی مثالیں بیان کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ اللہ نے ان کی اس بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کو اس بات سے شرم نہیں آتی کہ وہ مچھر یا اس سے بھی چھوٹی چیز کی مثال بیان کرے کیونکہ جن کے دلوں میں ایمان کا چراغ روشن ہے وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے اللہ نے جو کچھ بھی ارشاد فرمایا ہے اور جو کچھ ان کی ہدایت کے لئے نازل کیا ہے وہ بالکل صحیح اور درست ہے۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر کی روش کو اختیار کر رکھا ہے وہ تو اسی بات کی رٹ لگائے رکھیں گے کہ بھلا اتنی معمولی چیزوں کی مثالیں بھی کوئی مثالیں ہیں جن کو بیان کیا جائے۔ فرمایا گیا حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی بات سے پاکیزہ نفس انسان ہدایت حاصل کرلیتے ہیں اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی نافرمانیوں کو اپنی زندگی کا ایک حصہ بنا رکھا ہے وہ اسی بات سے گمراہ ہوجاتے ہیں۔ مگر ہر شخص گمراہ نہیں ہوتا بلکہ صرف وہی لوگ گمراہ ہوتے ہیں جو اللہ کے نافرمان اور اس کے حکموں کے سامنے سر نہیں جھکاتے ۔ وہ کون لوگ ہیں فرمایا کہ ان کی تین بڑی بڑی علامتیں ہیں (1) اللہ اور بندوں سے کئے ہوئے وعدوں کو پورا نہیں کرتے۔ (2) جن رشتوں اور تعلقات کو بنائے رکھنے کا حکم ہے وہ ان کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھا کر کاٹ ڈالتے ہیں اور شدید بگاڑ پیدا کرتے ہیں۔ (3) زبان اور ہاتھ پاؤں سے لڑائی، جھگڑا اور فساد مچانا جن کا مزاج بن جاتا ہے ایسے لوگوں کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ وہ دنیا میں بھی ذلیل و خوار اور رسوا ہوتے ہیں اور آخرت میں بھی وہ نقصان اٹھانے والے ہیں اور ایسے لوگوں کو قرآن کریم جیسے ہدایت کی کتاب سے بھی کوئی حصہ نہیں ملتا۔
Ayahs 2:28–29

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْ١ۚ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 2:28 in the Quran reader

تم اللہ کا کس طرح انکار کرسکتے ہو ؟ حالانکہ تم محض بےجان تھے اس نے تمہیں زندگی عطا فرمائی، پھر وہی تمہیں موت دے گا، پھر وہی تمہیں (قیامت کے دن ) دوبارہ زندہ کرے گا پھر اسی کی طرف تمہیں لوٹنا ہے۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا١ۗ ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 2:29 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں پھر اس نے آسمان کی طرف توجہ فرمائی اور اس نے سات آسمان درست کرکے بنا دئیے۔ وہی ہر چیز کا اچھی طرح علم رکھنے والا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 28 تا 29 (کیف) : کیونکر، کس لئے، کیسے ؟ (اموات): مردے، بےجان (موتہ کی جمع ہے) ۔ (احیا): اس نے زندگی دی۔ (ثم) پھر، اس کے بعد ۔ (یمیت): وہ موت دے گا۔ (یحی) : وہ زندہ کرے گا۔ (الیہ) : اسی کی طرف (الیٰ ، طرف، تک ، ہ، وہ) ۔ (ترجعون): تم لوٹائے جاؤ گے۔ (ھو الذی) : وہی تو ہے (ھو، وہ ، الذی، جو، جس نے۔ ترجمہ ہوگا وہی تو ہے جس نے ) ۔ (جمیع): سب کا سب۔ (استوی): وہ برابر ہوا، اس نے توجہ کی۔ (سوی): اس نے برابر کیا۔ (سبع): اس نے برابر کیا۔ (سموت): آسمان (سماء کی جمع ہے ) ۔ (علیم): بہت زیادہ جاننے والا۔ تشریح : آیت نمبر 28 تا 29 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان پر اپنی بےانتہا نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہے کہ تم بےجان تھے یعنی اس سے پہلے تمہارا وجود ہی نہ تھا اس نے تمہیں زندگی کی نعمت سے نوازا اور تمہاری زندگی وبقاء کے سارے سامان مہیا کر دئیے پھر وہ تمہیں موت کی نیند سلا دے گا، اگر دیکھا جائے تو جہاں زندگی ایک نعمت ہے موت بھی نعمت سے کم نہیں ہے کیونکہ عالم آخرت کی نعمتیں اور وہاں کی زندگی کی ابتداء موت سے ہی ہوتی ہے لہٰذا نعمت کا ذریعہ بھی نعمت ہی ہوا کرتا ہے۔ فرمایا کہ موت کے بعد وہ اللہ تمہیں (قیامت کے دن ) پھر ایک نئی زندگی دے گا جو بالاخر نیک اعمال کے سبب تمہیں جنت کی ابدی راحتوں سے ہم کنار کر دے گی۔ فرمایا کہ اللہ نے انسان کو زندگی دی تو اس کی راحت کے سامان بھی پیدا کئے۔ زمین کو پیدا کیا تو سات آسمانوں کو مستحکم اور مضبوط قلعوں کی طرح تقسیم کردیا تا کہ نظام کائنات کو احسن طریقہ سے چلایا جاسکے۔ فرمایا کہ جس اللہ نے تمہارے جسم و جاں کے لئے زمین و آسمان پیدا کئے اور تمہاری روح کے لئے اپنے کلام کو عطا فرمایا تم تو اس کی ذات کا انکار کر ہی نہیں سکتے ۔ وہ ذات جس نے تمہیں ہر طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے تو اس سے سرکشی اور بغاوت کر کے اور اس سے منہ موڑ کر سوائے جہالت کی تاریکیوں کے اور کہاں جاسکتے ہو۔ تمہیں روشنی اور نور اسی کے در سے ملے گا۔
Ayahs 2:30–33

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةً١ؕ قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَ١ۚ وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:30 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جس وقت آپ کے رب نے فرشتوں سے کہا، میں زمین میں اپنا خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے عرض کیا الٰہی ! کیا آپ اس کو زمین میں نائب بنائیں گے جو فساد پھیلائے گا اور خون بہائے گا اور ہم آپ کی خوبیاں پڑھتے رہتے ہیں اور آپ کی ذات پاک کو یاد کرتے ہیں۔ فرمایا بلاشبہ میں جانتا ہوں جو کہ تم نہیں جانتے ۔

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓئِكَةِ١ۙ فَقَالَ اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 2:31 in the Quran reader

اللہ نے آدم کو ہر چیز کے نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے رکھ کر فرمایا اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام (اور ان کی تمام خصوصیات ) بتاؤ۔

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 2:32 in the Quran reader

فرشتوں نے عرض کیا اے اللہ آپ کی ذات پاک اور بلندو برتر ہے۔ ہم تو بس اتنا ہی جانتے ہیں جو آپ نے ہمیں سکھا دیا ہے۔ بیشک آپ ہی جاننے والے اور اس کی حکمت کو سمجھنے والے ہیں۔

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآئِهِمْ١ۙ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۙ وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ Open ayah 2:33 in the Quran reader

پھر اللہ نے آدم (علیہ السلام) سے کہا اے آدم تم ان کو ان تمام چیزوں کے نام بتاؤ۔ جب آدم نے انہیں ان تمام چیزوں کے نام بتا دئیے۔ تب اللہ نے فرمایا، میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ آسمانوں اور زمین کے تمام بھید میں زیادہ جانتا ہوں۔ میں خوب اچھی طرح جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کر رہے ہو اور جو کچھ تم چھپا رہے ہو۔

لغات القرآن : آیت نمبر 30 تا 33 (خلیفہ): نائب، جو کسی کا قائم مقام ہو۔ (اتجعل): کیا تو بناتا ہے (ا، کیا ، تجعل تو بناتا ہے) ۔ (یفسد): فساد مچائے گا، تباہی پھیلائے گا۔ (یسفک ): خون بہائے گا، اسی سے لفظ آتا ہے ” سفاک “ ۔ (الدماء) : خون (دم، خون ) ۔ (نسبح): ہم تسبیح کرتے ہیں۔ (نقدس): ہم پاکیزگی بیان کرتے ہیں۔ (علم): اس نے سکھایا۔ (الاسماء) : نام (اسم، نام ) ۔ (عرض): اس نے سامنے رکھا۔ (انبئونی ): مجھے بتاؤ (انبئی ، بتا دے، انبئو، بتادو، ن، وقایہ، ی مجھے) ۔ (صدقین ): سچ بولنے والے۔ (سبحن ) : پاک اور بےعیب ذات۔ (علمتنا): تو نے ہمیں سکھا دیا۔ (الم اقل): کیا میں نے نہیں کہا تھا۔ (تبدون ): تم ظاہر کرتے ہو۔ (تکتمون): تم چھپاتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 30 تا 33 ان آیتوں میں انسانی زندگی کے آغاز کا وہ پہلو بیان کیا گیا ہے جس کے معلوم کرنے کا اس کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ اس کائنات کا مالک خود ہی اس کی پوری حقیقت اور حیثیت کو بیان کر دے۔ اس کے علاوہ پیدا ئش آدم کو معلوم کرنے کے جو بھی طریقے اختیار کئے جائیں گے ان کی حیثیت محض ایک خیال اور گمان سے زیادہ ہوگی۔ فرشتوں نے خلافت آدم کے متعلق پوچھا ہے اعتراض نہیں کیا ہے۔ وہ پوچھنا یہ چاہتے ہیں کہ اے اللہ آپ کا کوئی بھی کام حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ انسان کے خلیفہ بنائے جانے میں کیا مصلحت ہے ؟ کیونکہ انہوں نے خلافت کے لفظ سے اتنا سمجھ لیا تھا کہ انسان کو پیدا کرنے کا مقصد محض تسبیح و تقدیس تو نہیں ہے کیونکہ یہ کام تو ہم بھی کر رہے ہیں بلکہ اس کی پیدائش کا مقصد یہ ہے کہ اس کو ایک خاص حد میں رکھ کر مخصوص اختیارات دئیے جائیں گے اور اختیارات کا صحیح استعمال کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان اختیارات کو پا کر انسان کے قدم ڈگمگا بھی سکتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ شر اور فساد ہوگا یہ تھا وہ الجھاؤ جس کو سلجھانے کے لئے فرشتوں نے اللہ سے سوال کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی بات سن کر پہلے تو حاکمانہ جواب دیا کہ ” ہم اس حقیقت کو سمجھتے ہیں تم نہیں جانتے۔ “ پھر اس کے بعد حکیمانہ جواب دیا اور وہ یہ تھا کہ آدم (علیہ السلام) کو تمام چیزوں کے نام ، خصوصیات ، نفع اور نقصان کی کیفیات سکھا دیں۔ ان چیزوں کا علم ان کو بلا واسطہ ان کے دل میں القا کیا گیا۔ پھر فرشتوں کے سامنے رکھ کر فرمایا کہ کیا تم اس علم کی حقیقت کو بتا سکتے ہو ؟ فرشتوں کا جواب صرف یہ تھا کہ الٰہی آپ کی ذات اس سے بلندو برتر ہے کہ آپ کا کوئی کام بھی حکمت و مصلحت سے خالی ہو ہم نے جس اندیشے کا اظہار کیا ہے وہ ہماری کم علمی کا نتیجہ ہے، ہمیں تو بس اتنا ہی علم ہے جو آپ نے ہمیں سکھا دیا ہے۔ باقی علم و حکمت کا خزانہ تو آپ ہی کی ذات پاک ہے۔ فرشتوں کی اس معذرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے کہا کہ اے آدم تم ان کو یہ سارے نام بتاؤ۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنی فطری صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہوئے تمام نام بتا دئیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر فخر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہی بات ہے جو تمہاری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ میں کائنات کے ذرے ذرے کا خالق ہوں اور اس کے تمام رازوں سے واقف ہوں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم نے یہ بات کیوں پوچھی اور اس کے اسباب کیا ہیں ؟ اس پورے واقعہ اور تشریح سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ اللہ نے انسان کو علم کی بناء پر عظمت و فضیلت عطا فرمائی ہے۔ اس سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ اس کائنات میں ایک عالم کی بڑی اہمیت ہے۔ اسی بات کو نبی مکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ ” ایک عالم کو کسی عابد پر وہی فضیلت ہے جو مجھے امت کے ایک معمولی درجہ کے مسلمان امتی پر حاصل ہے۔ “
Ayah 2:34

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ١٘ۗ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 2:34 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ تم آدم کو سجدہ کرو، تو ابلیس (شیطان ) کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ اس نے انکار کیا اور بڑائی میں آکر وہ نافرمان بن بیٹھا۔

لغات : آیت نمبر 34 (اسجدوا): تم سجدہ کرو (فعل امر) ۔ (ادم): سب سے پہلے انسان، اور اللہ کے سب سے پہلے پیغمبر۔ (ادم): سب سے پہلے انسان، اور اللہ کے سب سے پہلے پیغمبر۔ (سجدوا) : انہوں نے سجدہ کیا (ماضی) ۔ (ابلیس): ناامید ، اللہ کی رحمت سے مایوس۔ (ابی): اس نے انکار کیا۔ (استکبر) : اس نے بڑائی کی، تکبر کیا۔ تشریح : آیت نمبر 34 عاجزی و انکساری کے ساتھ ناک اور پیشانی کا کسی کے سامنے جھکا دینا ” سجدہ “ کہلاتا ہے۔ سجدہ کبھی بطور عبادت کیا جاتا ہے اور کبھی بطور تعظیم یہ تو ظاہر ہے کہ یہ سجدہ عبادت کے لئے نہیں ہو سکتا کیونکہ غیر اللہ کی عبادت شرک و کفر ہے جس میں یہ احتمال ہی نہیں کہ کسی وقت کسی شریعت میں جائز ہو سکے البتہ امام ابوبکر جصاص (رح) نے احکام القرآن میں فرمایا ہے کہ انبیاء سابقین کی شریعت میں بڑوں کی تعظیم کے لئے سجدہ تعظیم مباح اور جائز تھا شریعت محمدیہ میں منسوخ ہوگیا۔ پس حضرت آدم (علیہ السلام) کو فرشتوں کا سجدہ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ان کے والدین اور بھائیوں کا سجدہ جو قرآن میں مذکور ہے سجدہ تعظیمی تھا جس کی حیثیت ان کی شریعت میں سلام، مصافحہ اور دست بوسی کی تھی جبکہ شریعت محمدیہ میں اس سجدہ کو بھی غیر اللہ کے لئے حرام کردیا گیا ہے اس لئے اب اللہ کے سوا کسی کے لئے بھی کسی طرح کا سجدہ جائز نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ واقعہ ہماری دنیا کا نہیں ہے بلکہ یہ تو آدم (علیہ السلام) کو اس دنیا میں بھیجنے سے پہلے کا واقعہ ہے جب اس دنیا میں نہ انسان تھا اور نہ شریعت۔ لیکن شریعت آگئی تو ہر طرح کا سجدہ جو اللہ کے سوا کسی کو کیا جائے وہ حرام ہے۔ قرآن حکیم میں شیطان اور ابلیس جس کو کہا گیا ہے اس کا اصل نام عزازیل تھا۔ یہ قوم جنات میں سے تھا، نہایت نیک، عبادت گزار جن تھا یہ جنات کا بھی سردار تھا اور اسی لئے اس کو تمام فرشتوں کا سردار بنایا گیا تھا لیکن اس کو اس کا غرور اور تکبر لے ڈوبا اور اللہ کا حکم نہ مان کر اس نے اپنے آپ کو اللہ کے نافرمانوں میں شامل کرا لیا۔
Ayahs 2:35–36

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا١۪ وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 2:35 in the Quran reader

اور ہم نے کہا اے آدم تم اور تمہاری بیوی دونوں جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو جیسے چاہو کھاؤ مگر اس درخت کے قریب مت جانا ورنہ تم حد سے بڑھ جانے والوں میں سے ہوجاؤگے

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ١۪ وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 2:36 in the Quran reader

پھر شیطان نے ان دونوں کو ڈگمگا دیا اور دونوں کو (اس راحت و آرام سے ) نکلوا دیا جس میں وہ تھے اور ہم نے کہا کہ تم سب یہاں سے نیچے اتر جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہو گے، تمہارے لئے زمین میں ایک متعین وقت تک گزر بسر کا سامان ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 35 تا 36 (اسکن): تو آباد ہوجا۔ (زوج): بیوی۔ (کلا): تم دونوں کھاؤ۔ (رغد): اچھی طرح (بافراغت) ۔ (حیث): جیسے۔ (شئتما): تم دونوں نے چاہا (تم دونوں چاہو) ۔ (لا تقربا): تم دونوں قریب مت جانا۔ (الشجرۃ): درخت۔ (تکونا): تم دونوں ہوجاؤ گے (تم ہوگے) ۔ (الظلمین ): بےانصاف حد سے نکل جانے والے۔ (ازل): اس نے ڈگمگا دیا۔ (اخرج): اس نے نکلوا دیا۔ (اھبطوا): تم اتر جاؤ۔ (بعضکم لبعض): تم میں ایک دوسرے کے لئے۔ (عدو): دشمن۔ (مستقر): ٹھکانا۔ (متاع): سامان (زندگی گزارنے کا سامان) ۔ (حین): وقت، زمانہ، مدت۔ تشریح : آیت نمبر 35 تا 36 دنیا میں بھیجے جانے سے پہلے اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو اور ان کی بیوی حضرت حوا کو جنت میں رکھا تا کہ ان کی طبیعت کے رجحان و میلان کی آزمائش کی جاسکے۔ وہاں جنت کی تمام نعمتیں اور پھل وغیرہ ان کے لئے حلال کر دئیے گئے تھے صرف ایک خاص درخت کے پاس جانے کی ممانعت کردی گئی جو ان کی آزمائش کے لئے رکھا گیا ۔ ۔۔ ۔ یہ درخت انگور کا تھا، گیہوں کا یا کسی اور پھل کا اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت اس لئے نہیں ہے کہ آزمائش اور امتحان کے لئے ہمیشہ کسی ایک معمولی سی چیز کو متعین کیا جاتا ہے۔ جیسے حضرت طالوت کے ساتھیوں کو ایک نہر سے آزمایا گیا تھا اور اصحاب السبت کو ہفتہ کے دن مچھلیوں کے شکار سے۔ شیطان جو انسان کا ازلی دشمن ہے اور انسان سے شدید بغض و حسد رکھتا ہے اس نے آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کے سامنے قسمیں کھا کھا کر اپنے خلوص اور خیر خواہی کا یقین دلایا اور کہا کہ میں تو صرف آپ کی بھلائی چاہتا ہوں اس لئے آپ کو یہ بتا رہا ہوں کہ جس درخت کے کھانے سے منع کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ اس کو کھا لیں گے تو ہمیشہ اسی جنت میں رہیں گے۔ ورنہ آپ جنت سے نکال دئیے جائیں گے۔ آدم و حوا اس کی بناوٹی باتوں میں آگئے اور ان دونوں نے اس ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا۔ جیسے ہی ان دونوں نے اس درخت کا پھل کھایا تو ان کے بدن سے جنت کے کپڑے اتر گئے اور وہ اپنے بدن کو جنت کے پتوں سے چھپانے لگے۔ فرمایا گیا کہ ہم نے تمہیں پہلے ہی اس درخت کے چکھنے سے منع کیا تھا۔ اب تم دنیا میں جاؤ وہاں ایک خاص مدت تک رہو، کھاؤ، پیو اور باہمی عداوت کی تکلیفیں برداشت کرو۔ پھر تمہیں ہماری ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ چناچہ اس کے بعد آدم و حوا کو جنت سے اس دنیا میں بھیج دیا گیا۔ آدم و حوا اس لغزش پر بےانتہا شرمندہ ہوئے اور انہوں نے رو رو کر اللہ سے اس لغزش کی معافی مانگی جو اللہ کے ہاں قبول کرلی گئی اور آدم و حوا کی لغزش کو اسی وقت معاف کردیا گیا۔
Ayahs 2:37–39

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:37 in the Quran reader

پھر آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات (الفاظ) سیکھ لئے اور اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی، بیشک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا نہایت مہربان ہے۔

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًا١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 2:38 in the Quran reader

ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم سب نیچے اتر جاؤ پھر اگر تمہیں میری طرف سے کوئی ہدایت پہنچے تو جو لوگ اس ہدایت کو قبول کرلیں گے ان کے لئے نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠ Open ayah 2:39 in the Quran reader

اور جنہوں نے اس ہدایت کو قبول کرنے سے انکار کیا وہ جہنم والے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 37 تا 39 (تلقی): اس نے سیکھ لیا۔ (کلمت): (کلمۃ ) کلمات، الفاظ۔ (تاب علیہ ): وہ اس پر متوجہ ہوا (اس نے اس کی توبہ قبول کرلی) ۔ (التواب): بہت توبہ قبول کرنے والا۔ (یاتینکم ): تمہارے پاس آئے گا۔ (تبع): جس نے اتباع کی (جو پیچھے چلا) ۔ (لا یحزنون): وہ رنجیدہ نہ ہوں گے۔ (کذبوا): انہوں نے جھٹلایا۔ (ایاتنا): ہماری نشانیاں۔ (اصحب النار) : (جہنم والے (صاحب کی جمع ہے، ساتھی) ۔ (خلدون ): ہمیشہ رہنے والے۔ تشریح : آیت نمبر 37 تا 39 اس واقعہ کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو چند ایسے کلمات سکھا دئیے جن کو ادا کرنے کے ساتھ ہی ان کی توبہ قبول کرلی گئی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ وہ کلمات یہ ہیں۔ ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنکونن من الخسرین نصاریٰ (عیسائیوں) کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے گناہ کیا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک ہزاروں لاکھوں سال گزرنے کے باوجود جتنے انسان اس دنیا میں آئے وہ سب کے سب گناہ گار تھے۔ (نعوذ باللہ) پھر اللہ نے اپنے بیٹے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا وہ آدم اور سارے انسانوں کے گناہ اپنی گردن پر لے کر سولی پر چڑھ گئے اور اس طرح سب کے گناہ معاف کر دئیے گئے۔ (نعوذ باللہ) عجیب بات یہ ہے کہ گناہ کوئی کرتا ہے اور سولی پر اس کا بیٹا چڑھا دیا جاتا ہے جس کا اس معاملہ سے کوئی تعلق نہ تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج اس مہذب دنیا کے کسی قانون میں کیا اس بات کو گوارا کیا جاسکتا ہے کہ قتل کوئی کرے اور پھانسی پر کسی دوسرے کو چڑھا دیا جائے اگر آج دنیا میں کوئی ایسا کام کر بیٹھے تو اس پر ساری دنیا چلا اٹھے گی۔ سوچنے کی بات ہے کہ اللہ پر یہ کتنا بڑا الزام ہے کہ اس نے کسی کا گناہ دوسرے کے سر ڈال دیا (نعوذ باللہ) اور پھانسی پر چڑھانے کے لئے اسے اپنا ہی بیٹا ملا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے گمراہ کردیتا ہے اس کو کوئی راہ ہدایت نہیں دکھا سکتا۔ بہرحال قرآن کریم نے ایک سادہ سی بات میں سب کچھ کہہ دیا کہ آدم (علیہ السلام) سے لغزش ہوئی، وہ شیطان کے بہکائے میں آگئے۔ لیکن آدم (علیہ السلام) کو جیسے ہی اس کا احساس ہوا کہ ان سے یہ بھول ہوگئی وہ فوراً اللہ کے سامنے جھک گئے اور اپنی اس لغزش پر ندامت کے آنسو بہانا شروع کر دئیے۔ اللہ نے ان کی ندامت اور شرمندگی کو قبول کرتے ہوئے معاف کردیا اس لئے کہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندوں کے سارے گناہوں کو معاف کردینے والا ہے۔ فرمایا گیا کہ اب دنیا میں میرے رسول اور نبی آتے رہیں گے ان کے ذریعہ سے جب بھی تمہیں میری طرف سے کوئی ہدایت ملے اس کو قبول کرنا۔ اگر تم نے میری تعلیمات کو قبول کیا تو تمہارے لئے نہ تو خوف ہوگا اور نہ کسی قسم کا رنج لیکن میرے رسولوں اور نبیوں کی لائی ہوئی تعلیمات سے جن لوگوں نے منہ پھیرا تو پھر ان کے لئے وہ جہنم تیار کی گئی ہے جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ ربط آیات : پانچویں رکوع سے پندرہویں رکوع کی ابتداء تک ( سورة بقرہ آیت 40 سے آیت 123 تک) مختصر اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر کئے گئے انعامات و احسانات اور ان کے جواب میں بنی اسرائیل کی ناشکریوں، ہٹ دھرمیوں اور احسان فراموشیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ اس سے پہلے چار رکوعوں میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان، کفار اور منافقین کا تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد تمام انسانی گروہوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہم نے انسانوں کے جسم کے لئے کائنات کا ذرہ ذرہ اور روح کی تابانیوں کے لئے اپنا کلام عطا فرمایا ہے (جو دین اسلام ہے) وہی دین جو اللہ نے توریت، زبور اور انجیل میں انسانوں کی ہدایت کے لئے نازل کیا تھا اسی نے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب نازل فرمائی جس میں اس دین کی تکمیل کردی گئی ہے۔ قرآن کریم وہ کلام ہے جس میں شک وشبہ کرنا یا اس پر اعتراض کرنا سب سے بڑی حماقت ہے کیونکہ یہ انسانی کلام نہیں ہے۔ اگر کسی کو اس بات کا شوق ہے کہ وہ اس جیسا کلام لے کر آسکتا ہے تو فرمایا وہ خود نہیں بلکہ اللہ کے سوا ساری دنیا کے حمایتیوں اور مددگاروں کو بلا کر اس قرآن جیسی کوئی ایک سورت ہی بنا کر آلے آئے۔ لیکن ایسا ممکن ہی نہیں ہے۔ فرمایا ایسے لوگ کیوں اپنی آخرت برباد کر کے جہنم کا ایندھن بننا چاہتے ہیں۔ فرمایا کہ اگر ان لوگوں نے اپنی روش نہ بدلی تو ان کے جھوٹے اور ان کے انسانی ہاتھوں کے بنائے ہوئے یہ پتھر کے بت سب کے سب جہنم میں جھونک دئیے جائیں گے اور کہیں کسی طرف سے ان کی مدد نہ کی جاسکے گی۔
Ayahs 2:40–46

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْ١ۚ وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 2:40 in the Quran reader

اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) ۔ میرے ان احسانات کو یاد کرو جو میں نے تم پر کئے ہیں۔ تم مجھ سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرو میں اپنا وعدہ پورا کروں گا۔ تم مجھ سے ہی ڈرتے رہو۔

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ١۪ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١٘ وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 2:41 in the Quran reader

اس کتاب پر ایمان لاؤ جو میں نے نازل کی ہے۔ اور وہ کتاب جو تمہارے پاس ہے یہ کتاب اس کی تصدیق کرتی ہے۔ تم ہی سب سے پہلے اس کا انکار کرنے والے نہ بنو۔ میری آیتوں کو حقیر اور گھٹیا معاوضہ لے کر فروخت نہ کرو۔ صرف مجھ سے ہی ڈرتے رہو۔

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 2:42 in the Quran reader

اور سچ میں جھوٹ نہ ملاؤ۔ جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ،

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 2:43 in the Quran reader

نماز قائم کرو، زکوٰۃ دیتے رہو، اور (اللہ کے سامنے) جھکنے والوں کے ساتھ جھکو،

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 2:44 in the Quran reader

کیا تم لوگوں کو بھلائی کی باتیں سکھاتے ہو مگر اپنے آپ ہی کو بھول جاتے ہو ؟ حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو۔ کیا تم، اتنا بھی نہیں سمجھتے ؟

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ١ؕ وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ Open ayah 2:45 in the Quran reader

صبر اور نماز سے مدد مانگو بیشک نماز بھاری ہے۔ مگر ان کے لئے بوجھ نہیں ہے جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 2:46 in the Quran reader

جو اس کا خیال رکھتے ہیں کہ ان کو ایک دن اپنے پروردگار سے ملنا ہے اور انہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 40 تا 46 (بنی) : بیٹے، اولاد، ابن کی جمع بنین ہے، اضافت کی وجہ سے نون گر گیا۔ (اسرائیل): حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ترجمہ : اللہ کا بندہ ۔ (اوفوا) : پوراکرو۔ (عھد): وعدہ، معاہدہ۔ (ارھبون ) : مجھ سے ڈرو۔ (ارھبوا۔ ۔۔ ۔ تم ڈرو، وقایہ ، فارھبونی، ” ی “ گرگئی ) ۔ (مصدق): تصدیق کرنے والا، سچا بتانے والا۔ (لا تکونوا): تم نہ ہو۔ (کافر): انکار کرنے والا۔ (لا تشتروا): تم فروخت نہ کرو۔ (ثمنا قلیلاً ): تھوڑی قیمت، گھٹیا قیمت۔ (فاتقون): مجھ سے ڈرو، (یہ بھی ارھبون کی طرح ہے) ۔ (لا تلبسوا): نہ ملاؤ۔ (الحق): سچ۔ (الباطل): جھوٹ۔ (تکتموا): تم نہ چھپاؤ۔ (یہاں اصل میں لفظ ہے لا تکتموا ۔ نہ چھپاؤ) ۔ (ارکعوا): رکوع کرو، جھکو۔ (اتامرون): کیا تم حکم دیتے ہو۔ سکھاتے ہو۔ تشریح : آیت نمبر 40 تا 46 اسرائیل عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ” اللہ کا بندہ “ ۔۔۔۔ اسرائیل حضرت ابراہیم کے پوتے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارہ بیٹے ہیں جن کو بنی اسرائیل فرمایا گیا ہے۔ جو بعد میں اپنے آپ کو یہودی کہنے لگے۔ اس رکوع میں بنی اسرائیل (یہودیوں) سے خطاب کیا گیا ہے جن پر اللہ نے بڑے بڑے انعامات کئے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تقریباً چار ہزار انبیاء کرام تشریف لائے، توریت ، زبور اور انجیل جیسی عظیم کتابیں دی گئیں اور دنیاوی عزت و عظمت سے نوازا گیا تھا۔ ان ہی وجوہات کی بناء پر بنی اسرائیل کو سارے عرب میں بڑا وقار حاصل تھا عرب کے لوگ اس فیصلے کے منتظر تھے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بنی اسرائیل تصدیق کرتے ہیں یا نہیں۔ اسی لئے سورة بقرہ میں بنی اسرائیل سے خطاب فرمایا گیا ہے۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل تم اللہ کی ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کر جو اس نے اپنے فضل وکرم سے تمہارے اوپر کی ہیں، تمہیں آج اور اس سے پہلے جو بھی نعمتیں حاصل تھیں اس میں تمہاری ذاتی صلاحیتوں ، اہلیتوں اور قابلیتوں کا کوئی دخل نہ تھا اور نہ ہی تمہارے اس نسلی امتیاز اور نسبی شرافت کا نتیجہ ہے جس پر تم فخر و غرور کرتے ہو بلکہ یہ محض اس کا فضل و کرم ہے۔ اب تمہارے اوپر اللہ کا سب سے بڑا فضل وکرم یہ ہے کہ تمہارے اندر وہ نبی ﷺ تمہاری اصلاح کے لئے بھیجے گئے ہیں جن کے آنے کی خوش خبریاں تمہاری کتابوں میں موجود ہیں، اور جن کے آنے کے تم منتظر تھے۔ وہ تمہاری کتاب کی تصدیق کرنے والے ہیں اس لئے تم ان پر ایمان لے آؤ، ان کی شریعت کی پابندی کرو تا اللہ کے دین کے ذریعے تمہیں پھر وہی عظمتیں حاصل ہوجائیں جو تم اپنی ناشکریوں اور بد اعمالیوں کی بھینٹ چڑھا چکے ہو۔ تم نے مجھ سے شریعت کی پابندی کا وعدہ کیا تھا اور میں نے اس کے بدلے میں تمہیں دنیا کی بہترین زندگی، اس کی راحتیں اور عظمتیں دینے اور آخرت میں دائمی نجات اور ابدی سکون کا وعدہ کیا تھا۔ آج اگر تم حضرت محمد ﷺ پر ایمان لے آؤ تو یقیناً تمہیں وہی کھوئی ہوئی عظمتیں دوبارہ نصیب ہوجائیں گی۔
Ayahs 2:47–50

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 2:47 in the Quran reader

اے اولاد یعقوب (علیہ السلام) ! میرے ان احسانات کو یاد کرو جو میں نے تم پر کئے اور میں نے تمہیں دنیا کی ساری قوموں پر بڑائی دی تھی۔

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 2:48 in the Quran reader

اس دن سے ڈرو جس دن کوئی کسی کے کام نہ آسکے گا، نہ کسی کی سفارش قبول کی جائے گی نہ کسی سے معاوضہ لیا جائے گا اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچ سکے گی۔

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ١ؕ وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ Open ayah 2:49 in the Quran reader

اور اس وقت کو یاد کرو جب تمہیں ہم نے فرعون کی قوم (کے ظلم) سے نجات دلائی تھی جو تمہیں شدید تکلیفیں پہنچایا کرتے تھے ، تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھا کرتے تھے۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ Open ayah 2:50 in the Quran reader

اور یاد کرو جب ہم نے دریا (دریائے شور) کو تمہارے واسطے پھاڑ دیا تھا ہم نے تمہیں بچا لیا اور فرعون کی قوم کو ڈبو دیا تھا اور تم دیکھ رہے تھے۔

تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 ان آیات میں ایک مرتبہ پھر بنی اسرائیل کو بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کی جس فضیلت و برتری پر تمہیں فخر وناز ہے وہ عظمتیں اللہ ہی نے تو عطا کی تھیں۔ اگر تم پھر وہی عظمتیں حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے دین سے پوری طرح وابستگی اختیار کرلو۔ اللہ سے اور اس دن سے ڈرتے رہو جس دن تمہارے یہ جھوٹے فخر و غرور کام نہ آسکیں گے نہ کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا، نہ کچھ دے دلا کر چھوٹ سکے گا اور نہ کسی کی طرف سے مدد کی جائے گی وہاں محض انبیاء کی نسبت پر نازل کرنا اور جھوٹے معبودوں کے وہ سہارے جنہوں نے تمہیں گناہوں کی دلدل میں پھنسا دیا ہے کسی کام نہ آسکیں گے وہاں صرف اللہ سے کیا ہوا عہدو پیمان، ایمان اور عمل صالح کام آئیں گے۔ ان نصیحت آموز باتوں کے بعد بنی اسرائیل کی زندگی کے چند اہم واقعات قرآن کریم میں انتہائی اختصار سے بیان کئے جا رہے ہیں یہ واقعات جو عرب کے بچے بچے کی زبان پر تھے اور سب کو اچھی طرح معلوم تھے وہ ان کے لئے سامان عبرت ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) تک ان کی اولاد (کنعان) فلسطین میں رہی۔ پھر بھائیوں کے بغض وحسد کی بناء پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کو غلام کی حیثیت سے مصر پہنچایا گیا، بادشاہ مصر کے پاس ان کو بہت زیادہ عروج اور ترقی نصیب ہوئی۔ جب کنعان میں شدید قحط پڑا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بارہ بیٹے مصر ہی میں آباد ہوگئے۔ مصر میں اللہ نے ان کی اولاد کو خوب بڑھایا اور کئی سو سال کے بعد تو ان کی اولاد اور ایمان والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی تھی ان کو بنی اسرائیل کہا جانے لگا یوسف (علیہ السلام) کے وصال اور فرعون کے مرکھپ جانے کے بعد مصعب فرعون تخت سلطنت پر بیٹھا، اس کو بنی اسرائیل سے اس قدر نفرت اور عداوت تھی کہ اس نے ان کو ذلیل کرنے کے لئے تمام وہ طریقے اختیار کئے جن سے وہ معاشرہ کے سب سے معمولی کام کرنے والے بن کر رہ گئے۔ ادنیٰ کاموں کے علاوہ تمام محنت و مشقت کے کام کھیتی باڑی اور اینٹ گارے کا کام لیا جا نے لگا، ہر فرعونی کی خدمت کرنا ان کا فرض تھا، ان پر اتنے زبردست ٹیکس لگائے گئے تھے کہ ان کی کمر دھری ہو کر رہ گئی۔ اس سب کے باوجود بنی اسرائیل کی نسل بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی تھی اس سے فرعون کو اور بھی پریشانی تھی اس لئے اس نے بنی اسرائیل کے تمام بچوں کے قتل عام اور لڑکیوں کو زندہ رکھنے کا حکم دیا تا کہ وہ لڑکیاں جو ان ہو کر ان کی لونڈیاں بن سکیں۔ غرضیکہ فرعون نے ہر اعتبار سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کر کے رکھ دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو اس پر قوم پر رحم آگیا اور عمران کے گھر میں ایک خوبصورت بیٹا پیدا فرمایا جس کا نام موسیٰ (پانی سے نکالا گیا) رکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کو فرعون کے محل میں پرورش کرا دیا اور بتا دیا کہ اس کائنات میں ساری طاقت وقدرت اللہ ہی کی ہے، موسیٰ (علیہ السلام) جو ان ہوئے انہوں نے بنی اسرائیل کو نصیحت کی اور بتایا کہ تمہاری ان ذلتوں کی وجہ صرف یہ ہے کہ تم نے اس سچے راستے کو چھوڑ دیا جو اللہ کے انبیاء کا اور نیک لوگوں کا راستہ ہے۔ اگر تم پھر سے عظمتیں حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے دین کو اختیار کرو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خطبات سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نیا ولولہ اور جوش پیدا ہوا اور انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظمت کو تسلیم کرلیا ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو طرح طرح کے معجزات دکھلائے مگر وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑا رہا۔ ایک دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے بڑی راز داری کے ساتھ اپنی قوم کو اس بات پر تیار کرلیا کہ راتوں رات مصر سے نکل جائیں تا کہ فرعون کے ظلم سے نجات حاصل ہو سکے۔ ایک رات پوری قوم بنی اسرائیل مصر سے روانہ ہوگئی۔ یہ قوم سمندر (بحر قلزم) کے کنارے پر پہنچی ہی تھی کہ فرعون کو اطلاع ہوگئی اور وہ ایک بہت بڑا لشکر لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ جب بنی اسرائیل کو اس کی اطلاع ملی کہ فرعون اور اس کا لشکر ان کے تعاقب میں بڑھا چلا آرہا ہے تو وہ اس تصور سے بوکھلا گئے کہ آگے سمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر، دائیں بائیں بھاگنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے اپنے عصا کو سمندر پر مارا تو اس میں بارہ راستے بن گئے اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک بخیریت پہنچ گئے۔ سمندر میں راستے ابھی اسی طرح بنے ہوئے تھے کہ فرعون اور اس کا لشکر وہاں پہنچ گیا اس نے سمندر میں راستے دیکھ کر اسی میں فوج کو داخل ہونے کا حکم دے دیا۔ جب فرعون اور اس کا لشکر سمندر کے درمیان میں پہنچ گئے تو اللہ کے حکم سے پانی پھر مل گیا اور فرعون اور اس کے تمام لشکری ڈوب گئے۔ فرعون کے ظلم سے نجات فرعون اور قوم فرعون کے غرق ہونے تک ان دو واقعات کی طرف ان آیات میں یاد دھانی کرائی گئی ہے کہ ظالم کے ظلم سے نجات اور فرعون اور اس کی قوم کے غرق کرنے میں تمہارے اوپر کتنا بڑا انعام تھا مگر تم نے اللہ کا شکر ادا کرنے بجائے تکبر اور غرور کا راستہ اختیار کیا۔
Ayahs 2:51–54

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 2:51 in the Quran reader

یاد کرو جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا۔ پھر تم نے (ان کے جانے کے بعد) ایک بچھڑا بنا کر (اس کی عبادت شروع کردی تھی) تم بہت زیادتی کرنے والے بن گئے تھے۔

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 2:52 in the Quran reader

پھر بھی ہم نے تمہیں معاف کردیا تھا تا کہ تم احسان مانو۔

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 2:53 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزہ عطا کیا تا کہ تم سیدھی راہ اپنا سکو۔

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِئِكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 2:54 in the Quran reader

جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم تم نے بچھڑا بنا کر اپنا بڑا نقصان کیا ہے ۔ اب تم اپنے پیدا کرنے والے سے توبہ کرو اور ایک دوسرے کو آپس میں قتل کرو۔ یہی طریقہ تمہارے خالق کے نزدیک بہتر ہے۔ بیشک وہی معاف کرنے والا بڑا مہربان ہے۔

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 54 (وعدنا): ہم نے وعدہ کیا۔ (اربعین): چالیس۔ (لیلۃ): رات۔ (اتخذتم): تم نے بنایا ۔ (العجل): بچھڑا (گائے کا بچہ) ۔ (عفونا): ہم نے معاف کردیا۔ (من بعد ذلک): اس کے بعد۔ (تشکرون): تم شکر کرو گے۔ (اتینا) : ہم نے دیا۔ (الفرقان): حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز۔ (تھتدون): تم ہدایت حاصل کرو گے۔ (ظلمتم): تم نے ظلم کیا۔ (اتخاذ): بنانا، بنا کر۔ (توبوا): تم توبہ کرو۔ (بارئی): پیدا کرنے والا۔ (اقتلوا): تم قتل کرو۔ (انفسکم): اپنوں کو (نفس کی جمع) ۔ (خیر): بہتری، بھلائی۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 54 فرعون اور اس کے لشکر کی تباہی و بربادی کے بعد اللہ نے نبی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات عطا فرمادی تھی اب رب العالمین کی حکمت کا بھی یہی تقاضا تھا اور قوم بنی اسرائیل بھی یہی چاہتی تھی کہ ان کو کوئی مستقل شریعت یا مستقل کتاب عطا کردی جائے تا کہ وہ اس پر عمل کر کے اس کو زندگی کا دستور العمل بنا سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو کتاب و شریعت عطا کرنے کے لئے تیس راتوں تک کوہ طور پر رہنے کا حکم فرمایا۔ تیس راتیں گزرنے کے بعد انہیں دس راتوں کا اضافہ کر کے چالیس کردیا گیا، ادھر سامری نے جو ایک عیار مکار جادوگر تھا قوم کو بہکا کر ان کے لئے ایک بچھڑا بنایا اور کہا کہ یہی تمہارا معبود ہے اس کی بندگی کرو۔ بچھڑا جس سے عجیب و غریب آوازیں بھی نکلتی تھیں بہت سے ضعیف العقیدہ لوگوں نے اللہ کی بندگی کو چھوڑ کر اس کی پوجا کرنا شروع کردی مگر ان ہی میں بہت بڑی تعداد ایسے پختہ عقیدے کے لوگوں کی بھی تھی جنہوں نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی۔ چالیس دن کے بعد جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس تشریف لائے اور قوم کے لوگوں کا یہ حال دیکھا تو آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور شدید غصے کا اظہار کیا اللہ نے اس قوم کو توبہ کا طریقہ بتایا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اب تمہاری توبہ قبول ہونے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو مرتد ہوگئے ہیں جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی ہے ان کو وہ لوگ قتل کریں گے جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی تھی۔ چناچہ ان دونوں جماعتوں کو ایک میدان میں جمع کیا گیا ایک سیاہ بادل کا سایہ چھا گیا جس سے اندھیرا ہوگیا پھر ان مرتدین کا قتل عام شروع ہوا جب ستر ہزار مرتدین بنی اسرائیل قتل کر دئیے گئے تو وہ سیاہی چھٹ گئی اور اس طرح ساری قوم کے گناہ کو معاف کردیا گیا۔ یہ سزا اس لئے دی گئی تھی کہ اسلام میں مرتد کی یہی سزا ہے یعنی جو دین اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کرے گا ایسے آدمی کو اللہ کا باغی قرار دیا جاتا ہے اور باغی کو سزا دنیا کے ہر قانون میں کچھ اسی طرح ہوا کرتی ہے۔