Ayah 4:162162۔ (آیت)” لکن الراسخون فی العلم منھم “۔ اہل کتاب میں سے کوئی بھی اسی صفت کا نہیں تھا لیکن راسخین جو علم کے اعلی درجہ تک پہنچنے والے ہیں ، اور بصیرت رکھنے والے ہیں اس سے مراد علماء یہود میں سے جو اسلام لائے ، مثلا عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ۔ (آیت)” والمؤمنون “ اس سے مراد مہاجر و انصاری ہیں ۔ (آیت)” یؤمنون بما انزل الیک “۔ اس سے مراد قرآن ہے (آیت)” وما انزل من قبلک “۔ نازل شدہ تمام کتابیں (آیت)” والمقیمین الصلوۃ “۔ اس طرح لکھنے کی وجہ میں آئمہ مفسرین رحمہم اللہ کے چند اقوال ہیں ۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور ابان بن عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کا قول منقول ہے کہ یہاں کاتب سے غلطی واقعی ہوئی ، اس کے لیے مناسب یہ تھا کہ یہ لکھنا چاہیے تھا (آیت)” والمقیمون الصلوۃ “۔ اور اس طرح سورة مائدہ میں منقول ہے (آیت)” ان الذین امنوا والذین ھادوا والصابئون “۔ اور اس کا قول (آیت)” ان ھذان لساحران “۔ یہ کہتے ہیں کہ کاتب سے سہو ہوگیا اور عثمان کا قول ہے کہ اس مصحف میں کوئی غلطی ہے عرب پڑھتے وقت اپنی زبانوں پر خود اس کو ٹھیک کریں گے ۔
عرض کیا گیا آپ اس کو تبدیل کیوں نہیں کردیتے فرمایا یونہی رہنے دو اس سے کسی حلال کی حرمت اور حرام کی حلت نہیں ہو جای اور عام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اور اہل علم کے نزدیک یہ صحیح ہے ، اس کی تاویل میں اختلاف کیا گیا ہے ، بعض نے کہا کہ منصوب علی المدح ہے اور بعض نے کہا کہ منصوب ہے فعل محذوف کی وجہ سے اور وہ فعل محذوف ” اعنی “ ہے یعنی ” مقیمین الصلوۃ “۔ اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ مجرور کی جگہ واقع ہے اور اس کی وجوہ میں مختلف اقوال ہیں ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ لیکن جو علم میں راسخ ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور بعض کا قول ہے کہ وہ ایمان لائے جو نازل کیا ہم نے اور انہوں نے نماز قائم کی (آیت)” والمؤتون الزکوۃ “۔ اس کا عطف ماقبل پر ہے ۔ (آیت)” والمؤمنون باللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اجر عظیما “۔ دوسرے قراء نے ” سیوتیھم “۔ پڑھا ہے ، دوسرے قراء نے نون کے ساتھ پڑھا ہے ۔
Ayah 4:163(تفسیر) 163۔:
(آیت)” انا اوحینا الیک “ اس کا ربط بھی ماقبل کے ساتھ ہے (آیت)” یسالک اھل ان تنزل علیھم کتابا من السمائ “۔ جب اللہ تعالیٰ نے انکے عیوب اور گناہوں کو ذکر کیا تو یہ بہت غصہ ہوئے اور نازل کردہ کتاب کی توہین کی اور کہنے لگے کہ اللہ نے اپنے بندے پر کوئی چیز نہیں نازل کی (آیت)” وما قدرو اللہ حق قدرہ اذ قالوا ما انزل اللہ علی بشر من شیئ “۔ اور یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” انا اوحینا الیک “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کما اوحینا الی نوح والنبیین من بعدہ “۔ ان تمام رسولوں اور انبیاء کو شمار کیا جن کی طرف وحی کی گئی اس کی ابتداء حضرت نوحعلیہ السلام سے کی کیونکہ یہ بھی ابو البشر ہیں آدم (علیہ السلام) کی طرح ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وجعلنا ذریتہ ھم الباقین “۔ اور اس وجہ سے انبیاء کرام (علیہم السلام) شریعت میں سے پہلے نبی تھے اور شرک سے ڈرانے والے پہلے نبی ہیں اور ان ہی کی پہلی امت ہے جن کو دعوت رد کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا اور ان کی بددعا کی وجہ سے تمام روئے زمین والوں کو عذاب میں غرق کیا گیا ۔ اس وقت انبیاء کرام (علیہم السلام) کی عمریں طویل ہوتی تھیں اور ان کے معجزات بھی انہی کے مطابق ہوا کرتے تھے ، ان کی عمر ایک ہزار سال تھی ، اس عمر میں نہ تو ان کا کوئی دانت ضعیف ہوا اور نہ ہی ان کو بڑھاپا آیا اور نہ ہی کوئی بال سفید ہوا اور نہ ہی آپ کی قوت اور ہمت میں کوئی فرق آیا اور جتنا انہوں نے اپنی امت کی اذیتوں کو جھیلا اور صبر کیا اتنا کسی نبی نے نہیں برداشت کیا کیونکہ ان کی عمر تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) سے طویل تھی (آیت)” واحینا الی ابراہیم واسماعیل واسحق و یعقوب والاسباط “ اس سے مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں (آیت)” و عیسیٰ وایوب ویونس وھرون و سلیمان واتینا داؤد زبورا “۔ اعمش اور حمزہ نے ” زبورا “ پڑھا ہے ،۔ زاء کے ضمہ کے ساتھ اس کی جمع زبور آتی ہے ۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو کتاب اور صحیفہ زبور عطا کیا اور دوسرے قراء نے زاء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اس صورت میں وہ نام ہے اس کتاب کا جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے ۔
(حضرت داؤد (علیہ السلام) کا زبور کی تلاوت کرنا چرند پرند سب کا سننا)
اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد ، بزرگی اور ثناء موجود تھی ، حضرت داؤد (علیہ السلام) شہر سے باہر جنگل میں جا کر کھڑے ہو کر زبور کی تلاوت کرتے تھے ، اس وقت علماء بنی اسرائیل آپ کے پیچھے صف بنا کر کھڑے ہوتے اور علماء کے پیچھے دوسرے لوگ اور سب آدمیوں کے پیچھے جنات حسب تفاوت درجہ کھڑے ہوتے تھے ، پہاڑی چوپائے بھی آپ کے سامنے آکر سن کھڑے ہوتے اور تعجب سے تلاوت کو سنتے تھے اور پرندے بازو پھیلائے لوگوں کے سروں پر منڈلاتے تھے ۔
حضرت ابوموسی اشعری ؓ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر رات تم مجھے دیکھتے میں تمہاری قرات سن رہا تھا تم کو داؤد کے سروں میں سے ایک سر عطا کی گئی ، ابو موسیٰ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ سن رہے ہیں تو خدا کی قسم میں خوب خوش ادائیگی سے کام لیتا ، حضرت عمر ؓ کی جب حضرت ابوموسی اشعری ؓ سے ملاقات ہوئی تو ارشاد فرمایا کہ اے ابو موسیٰ ؓ ہم کو کچھ نصیحت کرو یعنی قرآن پڑھ کر سناؤ تاکہ ہم کچھ نصیحت حاصل کریں تو پھر حضرت ابو موسیٰ (علیہ السلام) کچھ پڑھ کر سناتے ۔
Ayah 4:164(تفسیر) 164۔:
(آیت)” ورسلا قد قصصنھم علیک من قبل “۔ اس سے پہلے جیسے حضرت نوح (علیہ السلام) اور دوسرے انبیاء کرام (علیہم السلام) کی طرف ۔ ” رسلا “۔ منصوب بنزع الخافض ہے اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ ہم پر کسی رسول کا قصہ بیان کیجئے اور ابی بن کعب ؓ کی روایت میں ” ورسل قد قصصناھم علیک من قبل “۔ ہے ”۔ ورسلا لم نقصصھم علیک وکلم اللہ موسیٰ تکلیما “۔ کلام عرب میں جو کلام انسان تک پہنچے خواہ وہ کسی طریقے سے ہو لیکن اس کا تحقق مصدر سے نہیں ہوسکتا ہاں اگر مصدرد کا تاکیدا ذکر کرتے ہیں تو اس وقت حقیقی فعل مقصود ہوتا ہے مجازی معنی مراد نہیں ہوتے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ’ اراد فلان ارادۃ “۔ اس سے مراد حقیقی ارادہ ہوتا ہے اور کہاجاتا ہے ارادالجدار اور یوں نہیں کہہ سکتے ارادلجدار اور یوں نہیں کہہ سکتے اراد الجدار ارادۃ کیونکہ دیوار حقیقی ارادہ کی اہل نہیں ہے ۔
Ayah 4:165165۔ (آیت)” رسلا مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ کہ وہ یہ کہیں گے کہ ہماری طرف کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ ہی کوئی کتاب بھیجی ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی پر اس وقت تک عذاب نہیں بھیجتے جب تک ان میں کسی رسول کو نہ بھیج دیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔۔۔۔۔۔ ” وکان اللہ عزیزا حکیما “۔
حضرت سعد بن عبادۃ ؓ نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو اپنی بیوی کے پاس دیکھ لوں تو تلوار کی دھار سے اس کو ضرور قتل کر دوں ، اس قول کی اطلاع حضور اقدس ﷺ کو پہنچی تو فرمایا کہ کیا تم کو سعد کی غیرت سے تعجب ہے ۔ خدا کی قسم میں اس سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیرت والا ہے ۔ اللہ کی اسی غیرت کا تقاضا ہے کہ اس نے کھلی چھپی فحش کاریاں حرام کردی ہیں ۔ وہ اللہ سے زیادہ کسی کو عذر خواہی پسند نہیں ، اسی لیے اس نے ڈرانے والے اور بشارت دینے والے پیغمبر بھیجے اور اللہ سے زیادہ کسی کو اپنی تعریف پسند نہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ۔
Ayah 4:166(تفسیر) 166۔ :
(آیت)” لکن اللہ یشھد بما انزل الیک “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا محمد ﷺ ہم نے یہودیوں سے تمہارے اور تمہارے اوصاف کے متعلق دریافت کیا کہ ان کی کتاب میں اس کا ذکر ہے یا نہیں ؟ یہودیوں نے جواب دیا کہ ہم اس امر سے واقف نہیں اس پر مندرجہ ذلیل آیت کا نزول ہوا ۔ (آیت)” لکن اللہ یشھد بما انزل الیک “۔ انہوں نے اس کا انکار کیا اور ان کو جھٹلایا (آیت)” انزلہ بعلمہ والملائکۃ یشھدون وکفی باللہ شھیدا “۔
Ayah 4:167(تفسیر) 167۔: (آیت)” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ “۔ آپ ﷺ کے اوصاف کو چھپا کر (آیت)” قد ضلوا ضلالا بعیدا “۔ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا ۔
Ayah 4:168168۔ (آیت)” ان الذین کفروا وظلموا “۔ ظلم کی تابعداری کی اپنے کفر کی وجہ سے اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کا انکار کیا اور محمد ﷺ کی صفات کو چھپا کر ظلم کیا (آیت)” لم یکن اللہ لیغفرلھم ولا لیھدیھم طریقا “۔ طریق سے مراد دین اسلام ہے ۔
Ayah 4:169169۔ (آیت)” الا طریق جھنم “۔ اس سے مراد یہودی ہیں ۔ (آیت)” خالدین فیھا ابدا وکان ذلک علی اللہ یسرا “۔ ان پر یہ حکم سبقت کرچکا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 4:170170۔ (آیت)” یایھا الناس قد جاء کم الرسول بالحق من ربکم فامنوا خیرالکم “۔ تم ایمان لے آؤ ۔ یہ ایمان لانا تمہارے لیے بہتر ہوگا ۔ (آیت)” وان تکفروا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ وکان اللہ علیما حکیما “۔
Ayah 4:171(یاھل الکتاب ۔۔۔۔۔۔۔ لا تغلوا “۔ کا شان نزول اور نصاری کے بڑے چار فرقوں کا بیان)
(تفسیر) 171۔
(آیت)” یاھل الکتاب لا تغلوا فی دینکم “۔ اس آیت کا نزول نصاری کے متعلق ہوا کہ ان کے چار فرقے تھے ۔ یعقوبیہ ، ملکانیہ ، نسطوریہ ، مرقسیہ ، یعقوبیہ فرقہ یہ کہتا تھا کہ عیسیٰ اللہ ہے اور اسی طرح ملکانیہ کہتا تھا اور نسطوریۃ کہتا تھا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا بیٹا ہے اور مرقسیہ کہتا تھا کہ وہ تین میں سے تیسرا ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ ملکانیہ کہتے تھے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ ہیں اور فرقہ یعقوبیہ کہتا تھا کہ وہ ابن اللہ ہے اور نسطوریہ یہ کہتا تھا کہ وہ تین میں سے تیسرا ہے ۔ یہود میں سے ایک شخص تھا جس کا نام بولص تھا جس کا ذکر سورة توبہ میں آئے گا ۔ ان شاء اللہ ۔
حسن (رح) کا قول ہے کہ یہ بات درست ہے کہ یوں کہاجائے کہ یہود و نصاری دونوں کے متعلق نازل ہوئی کیونکہ ان دونوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملے میں غلو سے کام لیا ۔ یہود آپ کی تقصیر بیان کرتے تھے کہ آپ کو جھوٹا کہتے اور نصاری حد سے تجاوز کرتے تھے ، اصل یہ ہے کہ وہ اپنی حدود سے تجاوز کر جائیں ، یہ دین میں حرام ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” لا تغلوا فی دینکم “۔ کہ تم اپنے دین میں اتنی شدت اختیار نہ کرو کہ تم اللہ پر جھوٹ باندھنے لگ جاؤ ۔ (آیت)”’ ولا تقولوا علی الاالحق “۔ یعنی اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور نہ اس کے لیے اولاد بناؤ۔ (آیت)” انما المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ “ ۔ کلمہ سے مراد (کن) ہے ، ان کا بغیر باپ کے پیدا کیا اور ان کے علاوہ دوسرے مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ کلمہ جو حضرت مریم (علیہا السلام) پر القا کیا تھا (آیت)” القاھا الی مریم “۔ اس کو پہنچا دیا اور اس کی خبر مریم کو کردی ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ میں نے تمہاری طرف نیک کلمہ ڈالا (آیت)” وروح منہ “ وہ ایک روح ہے تمام ارواح کی طرح لیکن اللہ تعالیٰنے اس کی اضافت اپنی طرف کردی ، یہ اضافت تشریف کے لیے ہے۔
بعض نے کہا کہ وہ پھونک ہے جو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت مریم (علیہا السلام) کے گربیان میں پھونکی تھی اور بحکم خدا اس پھونک سے حضرت مریم (علیہا السلام) حاملہ ہوگئی تھیں ، پھونک کو روح کہنے کی وجہ یہ ہے کہ پھونک بھی ہوا ہوتی ہے جو روح سے خارج ہوتی ہے اور چونکہ یہ نفخ بامر خدا بغیر مادی اسباب کے ہوا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت کردی ، بعض نے کہا کہ روح سے مراد رحمت ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت ہے جنہوں نے ان کی اتباع کی اور ان پر ایمان لائے ۔ بعض نے کہا کہ روح سے مراد وحی ہے ۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کو وحی بصورت بشارت ہوئی اور جبرئیل (علیہ السلام) کو وحی نفخ کی ہوئی اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی گئی کہ ہوجا وہ ہوگئے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” ینزل الملائکۃ بالروح من امرہ “ اس سے مراد وحی ہے اور بعض نے کہا کہ روح سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں ۔ معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے حضرت مریم (علیہا السلام) کی طرف اپنا کلمہ پہنچایا اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے بحکم خدا وہ کلمہ پہنچا دیا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰنے ارشاد فرمایا (آیت)” تنزل الملئکۃ والروح “ اس سے جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں اور فرمایا (آیت)” فارسلنا الیھا روحنا “۔ اس سے بھی مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔
حضرت عبادہ ؓ سے روایت ہے وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کی بندی کے بیٹے ہیں اور اس کے کلمہ تھے جو اللہ تعالیٰ نے مریم (علیہا السلام) کو پہنچایا تھا اور اس کی روح ہیں ۔ جنت اور دوزخ حق ہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو جنت میں لے جائے گا عمل اس کے جیسے بھی ہوں (آیت)” فامنوا باللہ ورسلہ ولا تقولوا ثلاثلۃ “۔ نہ کہو کہ الہ تین ہیں ، نصاری یہ کہتے تھے کہ باپ ، بیٹا اور روح القدس تین ہیں ۔
(آیت) انتھوا خیرلکم “۔ یعنی تم اس سے رکے رہو یہ رکا رہنا تمہارے لیے بہتر ہے ۔ (آیت)” انما اللہ الہ واحد سبحانہ ان یکون لہ ولد “۔ جان لو کہ بیٹے کی نسبت کرنا اللہ کی طرف جائز نہیں ۔ بیٹا ہونا اس شخص کے لیے متصور ہے جس کے لیے ولد کا ہونا متصور ہو۔ (آیت)”’ لہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا “۔
Ayah 4:172(تفسیر) 172۔:
(آیت)” لن یستنکف المسیح ان یکن عبداللہ “۔ نجران کے وفد نے کہا اے محمد ﷺ آپ ہمارے آقا پر عیب لگاتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے آپ ہمارے آقا پر عیب لگاتے ہیں ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ نے فرمایا میں کیا کہتا ہوں ، وفد والوں نے کہا آپ ان کو اللہ کا بندہ اور رسول کہتے ہیں حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کا بندہ ہونا عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے باعث عار نہیں ۔ اسی پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” لن یستنکف المسیح “۔ نہ ہی انہوں نے اس کو ذلت سمجھا اور نہ ہی بڑا امر ، استنکاف کہا جاتا ہے کسی چیز کو تکبر کی وجہ سے حقیر سمجھنا (آیت)” ولا الملائکۃ المقربون “۔ عرش کو اٹھانے والے ، ان کو یہ بات ناگوار نہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں جو لوگ انسان پر فرشتوں کی برتری کے قائل ہیں ۔ وہ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ کیونکہ آیت میں مسیح کے بعد ملائکہ کا ذکر کیا گیا اور ترقی ادنی سے اعلی کی جانب ہوتی ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو فرشتوں کی طرف اٹھایا گیا ، اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے اعلی ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) سے ترقی ادنی سے اعلی کی طرف ہے ، جیسا کہ محاورہ میں ہے زید اس سے عار نہیں کرتا اور نہ وہ شخص عار کرتا ہے ، جو زید سے برتر ہے ۔ یوں نہیں کہا جاتا کہ فلاں بات سے زید عار نہیں کرتا ، اس سے استدلال تام نہیں کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بشریت کے مقام سے نہیں اٹھایا گیا بلکہ اس میں ان لوگوں پر رد ہے جو ملائکہ کو الہ مانتے ہیں ۔ جیسا کہ نصاری کی تردید کی گئی کہ ان کے قول میں مسیح ابن اللہ ہیں اور اسی طرح نصاری پر رد ہے ان کے زعم کے مطابق کیونکہ وہ ملائکہ پر فضیلت دیتے تھے ۔ (آیت)” ومن یستنکف عن عبادتہ ویستکبر فسیحشرھم الیہ جمیعا “۔ بعض نے کہا کہ استنکاف تکبر کرنا ہے ۔ ناک چڑھانے کے ساتھ اور استکبار کا استعمال اس جگہ ہوتا ہے جہاں بڑائی کا استحقاق مطلق نہ ہو اور تکبر میں یہ شرط نہیں ہے۔
Ayah 4:173173۔ (آیت)” فاما الذین ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ من فضلہ “۔ وہ دگنا سے مراد قرب و دیدار کے وہ معاملات جو نہ کسی آنکھ نے دیکھے نہ کسی کان نے سنے نہ کسی کے دل میں ان کا تصور آیا (آیت)” واما الذین استنکفوا واستکبروا “۔ اپنے بندوں سے تکبر کیا۔ (آیت)” فیعذبھم عذابا الیما ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا “۔
Ayah 4:174174۔ (آیت)” یایھا الناس قد جاء کم برھان من ربکم “۔ اس سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں ، یہ اکثر مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے بعض نے کہا اس سے مراد قرآن ، دلیل ، برہان ہے ۔ (آیت)” انزلنا الیکم نورا مبینا “۔ اس سے مراد قرآن ہے ۔
Ayah 4:175175۔ (آیت)” فاما الذین امنوا باللہ واعتصموا بہ “۔ ان کو شیطان کے نزغے سے محفوظ کرلیا ، (آیت)” فسیدخلھم فی رحمۃ منہ وفضل “۔ فضل سے مراد جنت ہے ۔ (آیت)” ویھدیھم الیہ صراطا مستقیما “۔
Ayah 4:176(تفسیر) 176۔:
(آیت)” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ “۔ اس آیت کا نزول حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کے بارے میں ہوا فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہوگیا ، رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے ، مجھے کوئی ہوش نہ تھا آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور آپ ﷺ نے وضو کا پانی میرے اوپر چھڑکا ، مجھ کو ہوش آگئی ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ میری میراث کا وارث کون ہے ؟ میں تو ” کلالۃ “ ہوں اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ “۔ ۔۔۔۔۔۔۔ کلالۃ کا معنی ماقبل میں ذکر کیا گیا ، اس آیت کا حکم ابتداء سورة میں گزر چکا ہے اس آیت میں حقیقی بھائی ، باپ ، ماں شریک یا صرف علاتی ، بہن بھائی (باپ شریک) کے احوال کا بیان ہے (آیت)” یستفتونک “۔ ہم تمہیں اس کے متعلق خبر دے دیں گے اور تجھ سے سوال کریں گے ۔ (آیت)” قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ “۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان امرؤ ھلک لیس لہ ولد ولہ اخت فلھا نصف ماترک وھو یرثھا “۔ جب بہن مرجائے تو اس کی میراث اس کے بھائی کو ملے گی (جب کوئی اور وارث موجود نہ ہو) ۔۔۔۔ (آیت)” ان لم یکن لھا ولد “۔ اگر اس کی بہن کا بیٹا موجود ہو تو بھائی کو کچھ نہیں ملے گا ۔ اگر بیٹے کے ساتھ بیٹی بھی ہو تو پھر بھائی کو عصبہ ہونے کی وجہ سے باقی ماندہ حصہ سے ملے گا۔ (آیت)” فان کانتا اثنتین فلھما الثلثان مما ترک “۔ اگر میت کی دو بیٹیاں ہوں تو ان کو ثلثان ملے گا (آیت)” وان کانوا اخوۃ رجالا ونساء فللذکر مثل حظ الانثیین “۔ یبین اللہ لکم ان تضلوا “۔ فراء اور ابو عبیدہ کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے کہ تم گمراہ نہ ہوجاؤ اور بعض نے کہا بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے حق اور سچی بات کھول کر بیان کر رہا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہوجا۔ (آیت)” واللہ بکل شیء علیم “۔
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ سب سے آخر میں کامل نازل ہونے والی سورة سورة براۃ ہے اور سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت سورة نساء کی آخری آیت (آیت)” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ “۔ ہے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت آیت ربوا ہے اور سب سے آخر میں نازل ہونے والی سورت (آیت)” اذا جاء نصر اللہ والفتح “۔ ہے ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیت ” واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ “۔ ہے اور ایک روایت میں آتا ہے کہ سورة نصر کی آیت کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ ایک سال زندہ رہے اور سورة نصر کے بعد سورة برات نازل ہوئی اور یہی سورت تھی جو سب سے آخر میں پوری نازل ہوئی ، اس کے بعد آپ ﷺ چھ ماہ زندہ رہے ۔ پھر حجۃ الوداع کے راستے میں آیت (آیت)” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ “۔ نازل ہوئی ۔ اس کا نام آیت الصیف ہے ۔ پھر اس کے بعد وقوف عرفہ کے وقت آیت ” الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی “۔ نازل ہوئی ، اس آیت کے نزول کے بعد آپ ﷺ اکیاسی دن زندہ رہے ۔ پھر آیت ربوا نازل ہوئی ، پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” واتقوا یوما ترجعون فیہ الی اللہ “۔ اس کے بعد آپ ﷺ اکیس دن زندہ رہے ۔
الحمد للہ تفسیر بغوی کی پہلی جلد مکمل ہوئی ، دوسری جلد سورة مائدہ سے شروع ہے ۔