Ayah 4:127(ویستفتونک کی تفسیر اور شان نزول)
(تفسیر) 127۔:
(آیت)” ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن “۔ کلبی (رح) نے ابی صالح (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کا نزول ام کحۃ کی لڑکیوں کی اس میراث کے متعلق ہوا تھا جو ان کو باپ کی طرف سے پہنچی تھی ، اس کا قصہ سورة کے شروع میں گزر چکا ہے اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں ، کہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی جو ایک شخص کی نگرانی (پرورش) میں تھی اور وہ اس کا ولی تھا اور اس کے ساتھ نکاح کرنے کی رغبت رکھتا تھا ، عرب میں یہ رواج تھا کہ اگر یتیم بچی خوبصورت اور مال و دولت والی ہوتی تو اس کے ساتھ کم مال کے عوض نکاح کرلیتے اور اگر وہ بچی کم مال ہوتی یا حسن صورت والی نہ ہوتی تو اس کو چھوڑ دیتے ۔
ایک روایت میں ہے کہ یہ اس یتیمہ کے متعلق وارد ہے جو ایک شخص کی زیر پرورش تھی اور وہ شخص اس کے مال میں شریک تھا اور اس کے ساتھ شادی کی رغبت رکھتا تھا اور دوسرے شخص کے لیے اس کو شادی کو شادی کروانا پسند سمجھتے تھے تاکہ کوئی دوسرا اس کے مال میں شریک نہ ہوجائے ، اس عورت کو اپنے پاس قید کرتے نہ تو وہ اس کی کسی سے شادی کرنے دیتا اور نہ خود کرتا حتی کہ وہ مرجاتی اور اس کے مال کا وہ وارث بن جاتا ، اللہ تعالیٰ نے اس فرمان میں اس کی نہی فرمائی ہے ۔ (یستفتونک) تمہیں عورتوں کے متعلق خبر دیتے ہیں (آیت)” قل اللہ یفتیکم فیھن “۔
(آیت) ” وما یتلی علیکم فی الکتاب “ بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ تم کھول کر بیان کرو جو تمہارے اوپر تلاوت کیا گیا ، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ اللہ نے تمہارے لیے ان عورتوں کے متعلق حکم کھول کر بیان کردیا اور ان کی میراث کے متعلق تمہارے لیے کھول کر بیان کردیا ، اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” واتوا الیتامی اموالھم “۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فی یتامی النسائ “۔ یہاں ” اضافت الشیء الی نفسہ “۔ ہے۔ یہاں یتامی سے مراد عورتیں ہیں ۔ ” اللاتی لا تؤتونھن “۔ ان کو عطا نہ کرنے والے ۔ ” ماکتب لھن “۔ جو ان کین مہروں کے متعلق تمہارے لیے مقرر کر رکھا ہے ، (آیت)” وترغبون ان تنکحوھن “۔ ان کے مال کی وجہ سے ان کے ساتھ نکاح کرنے کی رغبت کا قول ہے کہ ان لوگوں کا ارادہ اور نیت یہ ہوتی تھی کہ ان کو میراث کا حق نہیں دیتے تھے اس لیے کہ ان کے نزدیک عورتیں وارث نہیں بنتی اور ان عورتوں کے ساتھ خود نکاح کرنے کی رغبت رکھتے تاکہ کوئی اور ان سے نکاح نہ کرلے ۔
(آیت)” والمستضعفین من الوالدان “۔ اس سے مراد چھوٹے بچے ہیں کیونکہ اس زمانے میں یہ چھوٹے بچوں کو بھی میراث نہیں دیتے تھے اور نہ ہی ان کے حق پورے کے پورے ادا کرتے ۔ لہذا یہ آیت جو یتیم بچوں کے بارے میں تم کو سنائی جا رہی ہے وہ بھی کھول کر حکم بیان کر رہی ہے اور وہ آیت یہ ہے (آیت)” واتوالیتامی اموالھم “۔ چھوٹے بچوں کے حقوق کو ادا کرنے کے ساتھ ۔ (آیت)” وان تقوموا للیتامی بالقسط “۔ یعنی یتیموں کے ساتھ عدل کرنے کا حکم بھی تم کو سنایا جا رہا ہے قسط سے مراد میراث اور ان کے مہر ہیں ۔ (آیت)” وما تفعلوا من خیر فان اللہ کان بہ علیما “۔ اس کا بخوبی علم ہے اور قیامت کے دن اس کا بدلہ دے گا ۔
Ayah 4:128(وان امراۃ خافت کا شان نزول)
(تفسیر) 128۔:
(آیت)” وان امراۃ خافت من بعلھا نشوزا اواعراضا “ یہ عمرہ کے بارے میں نازل ہوئی جو خولہ بنت محمد بن مسلمہ کہا جاتا اور ان کے شوہر سعد بن ربیع کے بارے میں نازل ہوئی یا حضرت رافع بن خدیج کے حق میں نازل ہوا جنہوں نے بنت محمد ؓ سے نکاح کیا تھا ، اس وقت خولہ جوان تھیں جب پیری آگئی تو رافع نے کسی دوسری بیوی کو ان پر ترجیح دی اور ان سے الگ ہوگئے ، محمد بن مسلمہ نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر اس بات کی شکایت کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے کہ ایک شخص تھا جس کی بیوی بوڑھی ہوگئی تھی ، اس شخص کی اس بیوی سے بچے بھی تھے ، مرد نے اس کو طلاق دے کر کسی دوسری عورت سے نکاح کرنا چاہا ، عورت نے کہا مجھے طلاق نہ دو ، اپنے بچوں پر مجھے رہنے دو اور اگر چاہو تو دو ماہ میں میرے لیے ایک باری مقرر کر دو نہ چاہو تو یہ بھی نہ کرو مرد نے کہا جواب دیا اگر تو اس پر رضامند ہے تو مجھے بھی یہ صورت پسند پھر وہ شحص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور واقعہ عرض کیا اس پر آیت (آیت)” وان امراء ۃ خافت “ نازل ہوئی ۔
(آیت)” من بعلھا “ اس سے مراد شوہر ہے ۔ (آیت)” نشوزا “ اس سے مراد بغض ہے ، کلبی (رح) نے اس کا معنی یہ کیا ہے کہ اس کا بستر علیحدہ کر دو اور اس سے اپنے چہرے کو پھیر دو اور اس سے کم اٹھو بیٹھو، (آیت)” فلاجناح علیھا “۔ اس سے مراد شوہر اور بیوی ہے ۔ (آیت)” ان یصلحا “۔ یعنی وہ آپس میں مصالحت کرتے ۔ اہل کوفہ نے (آیت)” ان یصلحا “۔ اصلاح سے لیا ہے ۔ (آیت)” بینھما صلحا “۔ اس سے مراد تقسیم اور خرچ ہے کہ شوہر اس سے کہے کہ تم بوڑھی ہوگئی اور میں جوان عورت کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں جو خوبصورت ہوگی اور باری کی تقسیم میں اس کو ترجیح دوں گا تو اس پر رضا مند ہے تو میرے پاس رہتی رہ اگر تجھے ناگوار ہو تو تجھے طلاق دے دوں گا ، ایسی حالت میں اگر عورت رضا مند ہوجائے تو یہ اس کا احسان ہوگا ، اس معاملہ پر اس پر جبر نہیں کیا جاسکتا اور اگر رضا مند نہ ہو تو پھر مرد پر لازم ہے یا تو اس کے مصارف اور باری کا حق پوری ادا کرے ورنہ حسن سلوک کے ساتھ آزاد کر دے ۔ اگر اس کو نکاح میں رہنے دے گا اور اس کا حق ادا کرتا رہے گا بکراہت خاطر ہی ہو تو اس کو محسن کہا جائے گا ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اگر وہ بعض چیزوں میں صلح کرلیں تقسیم اور نفقہ کے بارے میں اس صورت میں جس پر وہ راضی ہے اتنا جائز ہے ، اگر وہ صلح کے بعد منکر ہوجائے تو یہ اسی عورت کا ہوگا اور حق بھی عورت کا ہوگا ۔
(زوجات میں مساوات کا حکم)
مقاتل بن حبان (رح) کا قول ہے کہ اگر بوڑھی عورت کسی کے نکاح میں ہو پھر کسی جوان عورت سے مرد نکاح کرلے اور بوڑھی عورت سے کہے میں تجھے اتنا مال دوں گا بشرطیکہ تو اپنے حق کی باری میں کمی کر دے اور دوسری عورت کو اپنی باری دے دے اور بوڑھی عورت رضا مند ہوجائے تو بہتر اور اگر راضی نہ ہو تو مرد پر دونوں میں مساوات رکھنی لازم ہے ۔ حضرت علی ؓ نے اسی آیت کے ذیل میں فرمایا اگر کوئی عورت کسی کے نکاح میں ہو لیکن بدصورتی یا زیادتی عمر کے سبب مرد کی نظر میں نہ جچے اور عورت اس مرد سے جدا ہونا بھی پسند نہ کرے اور مرد کو کچھ مال دے دے تو یہ مال اس شخص کے لیے حلال ہے اور اپنی باریوں میں سے کوئی باری دے دے تب بھی درست ہے ۔
(آیت)” والصلح خیر “۔ اس کو اختیار دینے کے بعد اس کو اپنے پاس روکے رکھنا اور مصالحت کہا جاتا ہے بعض حقوق کو چھوڑ دینا تقسیم میں یا نفقہ میں ، جیسا کہ مروی ہے کہ سودہ ؓ جب بوڑھی ہوگئیں اور نبی کریم ﷺ نے چاہا کہ ان کو جدا کردیں ، حضرت سودہ ؓ نے فرمایا کہ مجھے طلاق نہ دیجئے اور اپنی زوجیت میں مجھے رہنے دیجئے تاکہ میں قیامت کے دن آپ ﷺ کی زوجیت میں اٹھائی جاؤں اور میں اپنی باری حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو دیتی ہوں ، اس پر آپ ﷺ نے انکو اپنے پاس روکے رکھا اس دن کے بعد تقسیم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس دو دن گزارتے تھے ، ایک دن کی باری حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی اپنی باری دوسری حضرت سودہ ؓ کی ۔
(آیت)” واحضرت الانفس الشح “۔ شح زوجین میں سے ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے ، شح قبیح بخل حقیقت میں کہا جاتا ہے خیر سے روکنے کی حرص کرنا (آیت)” وان تحسنوا “ تم آپس میں صلح کرو گے ۔ (آیت)” وتتقوا “ اور ظلم وجور سے بچو گے ، یہ آپ ﷺ کو ازواج مطہرات ؓ عنھن کے ساتھ خطاب ہے ۔ یعنی اگر تم ناپسندیدگی کے باوجود بھی ان کو اپنے پاس روکے رکھو گے اور ان کے ساتھ ظلم نہیں کرو گے ۔ (آیت)” فان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ وہ تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیں گے ۔
Ayah 4:129(تفسیر) 129۔:
(آیت)” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسائ “۔ تم اس بات پر قدرت نہیں رکھتے کہ تم عورتوں کے ساتھ محبت اور میلان قلب میں مساوات کرسکو (آیت)” ولوحرصتم “ اگرچہ تم کتنا ہی ان کے درمیان عدل رکھنے کی خواہش کرو ۔ (آیت)” فلا تمیلوا “ جن بیویوں کی طرف تمہارا میلان ہے ۔ (آیت)” کل المیل “ مکمل طور پر جھک جاؤ یعنی تقسیم باری اور خرچ وغیرہ میں ، یعنی تم اپنے افعال اور خواہش کی پیروی نہ کرو ۔ (آیت)” فتذروھا کالمعلقۃ “۔ اور دوسری بیوی کو معلقہ چھوڑ دو نہ تو تم اس کو چھوڑو کہ وہ کسی دوسرے کے ساتھ شادی کرے اور نہ ہی تم اس کے حقوق کو ادا کرو۔ قتادہ (رح) نے اس کا معنی کیا ہے کہ اس کو قید نہ رکھو ، ابی بن کعب کی قرات میں ہے ” کانھا مسبحونۃ “۔
حضرت ابو قلابہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی ازواج میں عدل کرتے تھے اور یہ ارشاد فرماتے تھے اے اللہ ! میری طاقت میں جو کچھ ہے اس میں میری طرف سے برابری ہے اور جو بات میرے قبضہ میں نہیں وہ تیرے اختیار میں ہے اس کے متعلق مجھے نہ پکڑنا ، بعض حضرات نے یہ روایت حضرت ابو قلابہ سے اور انہوں نے عبداللہ بن بزید سے اور انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے ۔
(ازواج میں ناانصافی کرنے والے کے بارے میں شدید وعید)
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف زیادہ مائل ہو تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا ۔ (آیت)” وان تصلحوا وتتقوا “ ڈرو ظلم و زیادتی سے (آیت)” فان اللہ کان غفورا رحیما ‘ ؓ
Ayah 4:130130۔ (آیت)” وان یتفرقا “۔ عورت اور مرد دونوں طلاق کی وجہ سے الگ الگ ہوجائیں ، (آیت)” یغن اللہ کلا من سعۃ “۔ وسعت کا معنی یہاں رزق سے کیا ہے یعنی عورت کو دوسرا شوہر دے دے گا اور مرد کو دوسری بیوی (آیت)” وکان اللہ واسعا حکیما “۔
(ازواج کے درمیان مساوات کے مسائل)
واسعا کا معنی ہے فضل اور رحمت اور حکیما سے مراد جن امور میں حکم دیا گیا اور اس سے روکا گیا ، من جملہ اس آیت کا حکم یہ ہے کہ جب ایک مرد کے پاس دو بیویاں ہوں یا اس سے زائد ہوں تو اس پر برابری لازمی ہے تقسیم میں اور اگر اپنی بیویوں میں تقسیم میں کمی برتے گا تو اللہ کے ہاں نافرمان لکھا جائے گا اور اسی پر فیصلہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ رات گزارنے میں برابری کرے نہ کہ جماع کرنے میں کیونکہ جماع تو نشاط اور عدم نشاط پر مبنی ہے ، اس کے بارے میں اس کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا اور اگر اس کے نکاح میں ایک آزاد عورت ہے اور ایک باندی ہے تو آزاد عورت کے پاس دو راتیں اور باندی کے پاس ایک رات گزارے گا، اسی طرح اگر وہ پرانی بیویوں کی موجودگی میں نئی بیوی سے شادی کرے گا تو نئی کو ترجیح دے گا اور اس کے پاس کم از کم سات دن گزارے گا ، اگر وہ نئی بیوی باکرہ ہو اور اگر وہ عورت ثیبہ ہو تو پھر اس کے ساتھ تین راتیں گزارے پھر اس کے بعد برابری اختیار کرے ، ان راتوں میں پرانی عورتوں کے درمیان برابری لازمی نہیں ۔
حضرت ابو قلابہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ سنت ہے کہ اگر پہلی بیوی پر کسی کنواری سے نکاح کرلے تو اس کے پاس سات رات رہے اور اگر شادی شدہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین رات رہے ، پھر سات اور تین راتوں کے بعد باری کی تقسیم کرے ۔ ابو قلابہ فرماتے ہیں اگر میں چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ حضرت انس ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان بیان کیا تھا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص سفر کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی بیویوں میں سے بعض کو اپنے ساتھ لے جائے تو قرعہ اندازی کرکے ، پھر باقی عورتوں کے لیے واجب نہیں مدت سفر کی راتیں ان عورتوں میں تقسیم کرے ۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی ازواج مطہرات ؓ عنھن کے درمیان قرع ڈالتے جس کا نام قرع میں نکل آتا اس کو ساتھ لے جاتے لیکن جب آپ ﷺ کا ارادہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا ہو تو پھر اپنی ازواج مطہرات ؓ عنھن میں سے بعض کو بعض کے ساتھ خاص نہ کرتے نہ قرعے کے ساتھ اور نہ ہی کسی اور وجہ سے ۔
Ayah 4:131(تفسیر) 131۔:
(آیت)” وللہ ما فی السموت وما فی الارض “ ۔ سب کچھ اسی کی ملکیت ہے خواہ غلام ہوں یا کچھ اور (آیت)” ولقد وصینا الذین اوتوا الکتاب من قبلکم “۔ اس سے مراد اہل التورات اور انجیل ہے اور تمام امتیں جو ماقبل میں گزر چکی ہیں کتابوں میں ۔ ” وایاکم “ اے اہل قرآن جو قرآن میں ہے (آیت)” ان اتقوا اللہ “ ۔ اللہ کی توحید بیان کرو اور اس کی اطاعت کرو ۔ (آیت)” وان تکفروا “۔ جس کی اللہ نے تمہیں وصیت کی ہے (آیت)” فاللہ ما فی السموت وما فی الارض “ ۔ جو فرشتوں خواہ زمین میں ہیں یا آسمان وہ سب اسی کی اطاعت کرتے ہیں ۔ (آیت)” وکان اللہ غنیا “۔ ساری مخلوق اور اس کی اطاعت کی اس کو ضرورت نہیں ۔ ” حمیدا “ مخلوق اس کی نعمتوں پر حمد کرے یا نہ کرے ۔
Ayah 4:132132۔ (آیت)” وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا “۔ عکرمہ (رح) ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھتے ہیں یعنی وہ گواہ ہیں جو اس میں غلام رہتے ہیں اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد اجیر ہیں ۔ (آیت)” وللہ ما فی السموت وما فی الارض “ ۔ میں تکرار لانے کا کیا فائدہ ہے ، بعض نے کہا کہ ان کو جدا جدا ذکر کرنے میں مختلف وجوہات ہیں ۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ (آیت)” للہ ما فی السموت وما فی الارض “ ۔ میں تمہیں تقوی کی وصیت کرتے ہیں ، لہذا اس کی وصیت قبول کرو اور دوسری وجہ یہ ہے کہ (آیت)” فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ غنیا “۔ وہ غنی ہے اور اسی کے لیے بادشاہت ہے ۔ لہذا جو چیز تمہیں مطلوب ہے اسی سے طلب کرو، تیسری وجہ یہ ہے کہ (آیت)” وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا “۔ اس کی بادشاہت ہے اس کو کارساز بناؤ ، غیر پر بھروسہ نہ کرو۔
Ayah 4:133133۔ (آیت)” ان یشاء یذھبکم “ تمہیں وہ ہلاک کر دے ۔ (آیت)” ایھا الناس “ اس سے مراد کفار ہیں ، (آیت)” ویات باخرین “۔ تمہارے علاوہ دوسری قوم لے آئے جو تم سے بہتر اور اطاعت گزار ہو ۔ (آیت)” وکان اللہ علی ذلک قدیرا “۔ قدیرا بمعنی قادر کے ہے ۔
Ayah 4:134(تفسیر) 134۔:
(آیت)” من کان یرید ثواب الدنیا فعند اللہ ثواب الدنیا والاخرۃ “۔ جو شخص اپنے نیک اعمال کے ذریعے دنیا میں فراوانی چاہتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود نہیں ہوتی ، اللہ تعالیٰ اس کو دنیا ہی میں کچھ حصہ دے دیتے ہیں یا اسی نیکی کے بدلے میں اس سے کوئی آزمائش دنیا میں دور کردی جاتی ہے اور اس کے لیے آخرت میں کوئی ثواب نہیں ملتا اور جو کوئی شخص اپنے اعمال کے ذریعے آخرت کا ثواب کا طالب ہے اللہ تعالیٰ اس کو دنیا میں بھی جتنا چاہتا ہے دے دیتا ہے اور آخرت میں بھی اس کو جنت دی جاتی ہے ۔ (آیت)” وکان اللہ سمیعا بصیرا “۔
Ayah 4:135135۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا کونوا قوامین بالقسط شھداء للہ “۔ یعنی گواہوں کے ذریعے انصاف والا فیصلہ کرنے والے بن جاؤ ، یعنی اللہ کے لیے عدل کرو۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ تم عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے والے بن جاؤ جس کے بارے میں شہادت دی جا رہی ہے ۔ (آیت)” ولو علی انفسکم او الوالدین والاقربین “۔ یعنی ذی رحم کے لیے بھی انصاف کرو ۔ مطلب یہ ہے کہ حق بات کرو اگرچہ تمہیں اپنے اپنے بارے میں حق کے مطابق فیصلہ کرنا پڑجائے یا اپنے والدین کے بارے میں یا قریبی رشتہ داروں کے بارے میں ان پر بھی اللہ کا فیصلہ قائم کرو کسی غنی کے غناہ سے رعب میں نہ آؤ اور نہ ہی کسی فقیر کے فقر کی وجہ سے اس پر رحم کرو ۔ (آیت)” ان یکن غنیا او فقیرا فاللہ اولی بھما “۔ مشہود علیہ پر بھی حکم قائم کرو ۔ اگرچہ وہ غنی ہو اور مشہودلہ کے لیے بھی فیصلہ برحق کرو ۔ اگرچہ وہ فقیر ہو اللہ تعالیٰ کا تعلق ان دونوں سے زیادہ ہے ۔ ان دونوں کے امر کو اللہ کی طرف چھوڑ دو ، حسن بصری (رح) کا قول ہے ان دونوں کا علم اللہ کے ہاں بہتر ہے (آیت)” فلا تتبعوا الھوی ان تعدلوا “۔ کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرو اور نہ ہی حق سے باطل کی طرف رجحان کرو، بعض نے کہا کہ خواہشات کی طرف پیروی نہ کرو تاکہ تم ان دونوں پر انصاف کرسکو تاکہ تم عادل ہو اور خواہش نفس کی پیروی نہ کرو تاکہ تمہارے سے اللہ راضی ہوجائے ۔ ” وان تلوا “ یعنی شہادت سے تم اپنی زبان پھیر لو گے ، یعنی شہادت میں کجی اختیار کرو گے اور سچی شہادت سے زبان پھیر لوگے ۔ ” اوتعرضوا “ تم اس سے اعراض کرو گے شہادت کو چھپا کر اور اس کو قائم نہیں کرو گے ۔
بعض نے کہا کہ تم سچی شہادت دینے سے پہلو تہی کرو گے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے اس کے حق کو پھیر دیا ، جب اس کی شہادت کو باطل قرار دیا جائے ، بعض نے کہا کہ یہ حکام کو خطاب ہے یعنی اے حاکمو ! اگر تم اپنا رخ کسی ایک فریق کی طرف جھکا دوگے یا ایک فریق سے اعراض کرو گے ، ابن عامر اور حمزہ نے ” تلوا “ لام کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ، بعض نے کہا کہ اس کا اصل تلووا ہے ایک واؤ کو بطور تخفیف کے حذف کردیا اور بعض نے کہا کہ اگر تم اپنی شہادت دوسروں کے سپرد کر دو گے یا ان سے اعراض کرو گے تو ان کا حق ادا کرنے میں کوتاہی برتو گے تو اسی کا نقصان ہوگا ۔ (آیت)” فان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔
Ayah 4:136136۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ “۔ کلبی (رح) نے ابی صالح (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ اس آیت کا نزول عبداللہ بن سلام ، واسد، اسید بن کعب ، ثعلبہ بن قیس ، سلام بن اخت ، عبداللہ بن سلام ، سلمہ بن اخی ، یا مین بن یامین ۔ یہ سب لوگ اہل کتاب کے مؤمنین میں سے تھے ، یہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے کہ ہم آپ پر ایمان لائے اور آپ کی کتاب پر اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اور توریت پر بھی اور عزیز (علیہ السلام) پر بھی ان کے علاوہ ہم کسی پیغمبر اور کتاب کو نہیں مانتے ، اس پر نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔
بلکہ تم ایمان لے آؤ اللہ اور اس کے رسول محمد ﷺ پر اور قرآن پر ایمان لاؤ جو در حقیقت تمام کتابوں پر ایمان لانا ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا “۔ ایمان لاؤ محمد ﷺ پر ، قرآن پر ، موسیٰ (علیہ السلام) پر اور تورات پر ، (آیت)” امنوا باللہ ورسولہ “۔ محمد ﷺ پر (آیت)” والکتاب الذی نزل علی رسولہ “۔ یعنی قرآن پر (آیت)” والکتاب الذی انزل من قبل “۔ اس سے پہلے توریت اور انجیل پر اور زبور پر اور تمام آسمانی کتابوں پر ایمان لاؤ ، ابن کثیر (رح) ابن عامر (رح) ابو عمرو (رح) ، نے ” نزل وانزل “ نون کے ضمہ اور الف کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے ” نزل وانزل “ فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے یعنی اللہ نے نازل فرمایا (آیت)” ومن یکفر باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر فقد ضل ضلالا بعیدا “۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور قرآن پر اور تمام رسولوں پر اور قرآن سے پہلے جتنی کتابین نازل ہوئیں ان سب پر اور فرشتوں پر اور آخرت کے دن پر ان میں سے کسی سے فرق نہیں کرتے ۔ ہم سب مسلمان ہیں ۔
ضحاک (رح) کا قول ہے اس سے مراد یہود اور نصاری ہیں اور بعض ن ے کہا (آیت)” یایھا الذین امنوا “۔ سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ۔ ” امنوا “ سے مراد محمد ﷺ اور قرآن ہیں ، مجاہد (رح) نے کہا کہ ان لوگوں سے مراد (منافقین) ہیں ۔ آیت کا معنی یہ ہوگا (آیت)” یایھا الذین امنوا “۔ وہ زبان سے ایمان لائے ۔ ” امنوا “ ایمان لاؤ دل سے ، ابو العالیہ اور ایک جماعت کے نزدیک کہ یہ خطاب مؤمنین کو ہے ۔ اس صورت میں کہا جائے گا کہ آیت کا معنی یہ ہوگا (آیت)” یایھا الذین امنوا “۔ کہ تم اس پر قائم رہو اور ثابت قدم رہو ایمان پر ۔ جیسا کہ کوئی کھڑا ہو تو اس کو کہا جائے کھڑا ہوجا یہاں تک کہ میں واپس لوٹ آؤں ۔ یعنی تم یہاں کھڑے رہنا جب تک میں نہ آؤں ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد اہل شرک ہیں ۔ آیت کا معنی یہ ہوگا ۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا “۔ لات اور عزی پر ” امنوا “ اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ۔
Ayah 4:137(تفسیر) 137۔:
(آیت)” ان الذین امنوا ثم کفروا ثم امنوا ثم کفروا ثم ازدادوکفرا “۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود ہیں ، جو موسیٰ (علیہ السلام) پر پہلے ایمان لائے ، پھر گوسالہ پرستی کی وجہ سے کافر ہوگئے ، پھر توریت پر ایمان لائے ، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے منکر ہوگئے پھر محمد ﷺ اور تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) کی نبوت کا انکار کر کے کفر میں بڑھتے چلے گئے ، بعض اہل تفسیر کے نزدیک اس سے تمام اہل کتاب مراد ہیں کہ پہلے وہ اپنے اپنے انبیاء کرام (علیہم السلام) پر ایمان لائے ، پھر ان کا انکار کیا اور ان انبیاء کرام (علیہم السلام) پر جو کتابیں نازل ہوئیں ان پر ایمان لائے پھر انکار کردیا اور اس کتاب پر عمل چھوڑ دیا ، پھر محمد ﷺ کا انکار کرکے کفر میں مزید ترقی کی ، بعض لوگوں نے کہا کہ آیت میں وہ مرتد مراد ہیں جو ایمان لا کر پھر ایمان سے پھرگئے تھے پھر مسلمان ہوگئے پھر مرتد ہوگئے ۔ اس طرح ان کے مثل ، کیا ان کی توبہ قبول ہوگی ، حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی بلکہ ان کو قتل کیا جائے گا ۔ (آیت)” لم یکن اللہ لیغفرلھم “۔ وہ اس پر قائم نہیں رہے گا ۔ (آیت)” ولا لیھدیھم سبیلا “۔ یعنی حق کی طرف سیدھا راستہ ، اگر کہا جائے کہ اس آیت کا معنی کیا ہے (آیت)” لم یکن اللہ لیغفرلھم “۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ مشرک کی مغفرت نہیں ہوگی اگرچہ پہلی مرتبہ کیوں نہ ہو ، بعض نے کہا کہ معنی اس کا یہ ہے کہ جب کوئی کافر پہلی مرتبہ اسلام قبول کرلے اور اس پر دوام رکھے تو اس کے ماقبل کفر کو مٹا دیا جائے گا ، اگر وہ اسلام لے آیا پھر کفر اختیار کیا ، پھر اسلام لے آیا پھر کفر اختیار کیا پھر اس سے ماقبل کفر کو معاف نہیں کیا جائے گا ، ہاں اگر وہ اسلام لے آیا پھر کفر اختیار کیا ، پھر اسلام لے آیا پھر کفر اختیار کیا پھر اس سے ماقبل کفر کو معاف نہیں کیا جائے گا ، ہاں اگر وہ اسلام پر دوام رکھے تو پھر ماقبل کفر معاف ہوجائے گا ۔
Ayah 4:138138۔ (آیت)” بشرالمنافقین “۔ ان کو خبردیں اے محمد ﷺ (آیت)” بان لھم عذاب الیما “۔ بشارت ہر اس خبر کو کہا جاتا ہے جس سے انسان کا چہرہ بدل جائے ، خواہ وہ خبر خوشی کی ہو یا نہ ہو ۔ زجاج (رح) کا قول ہے معنی آیت یہ ہے کہ عذاب کی جگہ بشارت کا لفظ ذکر کرو ۔ جیسا کہ عرب کا قول ہے ” تحیتک وعتابک السیف “ یہاں پر سزا کی جگہ تحیہ کا لفظ ذکر کیا ہے ، پھر منافقین کا وصف بیان کیا اور کہا ۔
Ayah 4:139(تفسیر) 139۔:
(آیت)” الذین یتخذون الکافرین اولیائ “۔ یعنی یہودیوں کو اپنا مددگار اور یار غار بناتے ہیں (آیت)” من دون المؤمنین ، یبتغون عندھم العزۃ “۔ وہ کافروں کی مدد اور دوستی سے، وہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف عزت وقوت کے طلبگار ہیں ، بعض نے کہا کیا تم ان کے ساتھ قوت کو طلب کرتے ہو ، (آیت)” فان العزۃ “۔ غلبہ اور قوت وقدرت (آیت)” للہ جمیعا “۔ سب اللہ ہی کے لیے ہے۔
Ayah 4:140140۔ (آیت)” وقد نزل علیکم فی الکتاب “۔ عاصم (رح) اور یعقوب (رح) نے ” نزل “ نون اور زاء کے فتح کے ساتھ پڑھا ہے ۔ دوسرے قراء نے ” نزل ‘ نون کے ضمہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اے مسلمانوں کی جماعت ! تم پر لازم ہے (آیت)” ان اذا سمعتم آیات اللہ “۔ اس سے مراد قرآن ہے (آیت)” یکفربھا ویستھزاء بھا فلا تقعدوا معھم “۔ ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جو استہزاء کرتے ہیں ۔ (آیت)” حتی یحوضوا فی حدیث غیرہ “۔ اس وقت تک ان کی باتوں اور گفتگو کو لے لو جب تک کہ وہ محمد ﷺ اور قرآن کریم کے ساتھ استہزاء نہ کریں ، یہ اشارہ ہے سورة انعام کی اس آیت کی طرف (آیت)” واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ “۔ ضحاک (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ قیامت کے دن تک جتنے بدعتی ہوں گے سب اسی آیت کے حکم میں داخل ہوں گے ۔ (آیت)” انکم اذا مثلھم “۔ اگر تم ان کے پاس بیٹھو گے یہاں تک کہ تم ان میں گھس جاؤ اور ان کے کفر و استہزاء کی حالت میں بیٹھو گے اور اس پر راضی رہو گے تو انہی جیسے کافر ہوجاؤ گے ، اگر ان باتوں کے علاوہ اور باتوں میں ان کے ساتھ شریک ہو گے تو پھر ان کے ساتھ بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن یہ بیٹھنا کراہت سے خالی نہیں ، حسن (رح) کا قول ہے کہ ان کے ساتھ بیٹھنا جائز نہیں خواہ وہ استہزاء کو چھوڑ کر کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” واما ینسینک الشیطان فلا تقعد بعدالذکری مع القوم الظالمین “۔ اکثر مفسرین کرام کے نزدیک پہلا قول راجح ہے۔ انعام کی آیت مکی ہے اور یہ مدنی ہے اور متاخر اولی ہوتی ہے ۔ (آیت)” ان اللہ جامع المنافقین والکافرین فی جھنم جمیعا “۔
Ayah 4:141141۔ (آیت)” الذین یتربصون بکم “۔ منافقین تم پر مصیبت پڑنے کے منتظر ہیں ۔ (آیت)” فان کان لکم فتح من اللہ “۔ یعنی ان کو کامیابی اور مال غنیمت حاصل ہوجائے ۔ (آیت)” قالوا “ وہ تم کو کہتے ہیں (آیت)” الم نکن معکم “۔ کیا دین اور جہاد میں تمہارے ساتھ نہ تھے تو پھر ہمارے لیے مال غنیمت میں سے حصہ بنا لیجئے ۔ (آیت)” ان کان للکافرین نصیب “۔ ان کو مسلمانوں پر کچھ غلبہ مل گیا ۔
” قالوا “ پھر منافقین اور کافرین یہ کہتے (آیت)” الم نستحوذ علیکم “۔ اسحواذ کا معنی ہے غلبہ پانا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” استحوذ علیھم الشیطان “۔ وہ تمہارا والی اور غلبہ پانے والا ہے ۔ وہ کہتے کہ کیا ہم نے محمد ﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے بارے میں پوشیدہ اور راز کی باتیں نہیں بتلائیں ۔ ل
مبرد (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کیا ہم نے تمہاری رائے سے نہیں روک دیا اور مسلمانوں میں شامل ہوجانے سے باز نہیں رکھا تھا ، (آیت)” ونمنعکم “ کیا تم کو ہم نے ان سے پھیر نہ دیا (آیت)” من المؤمنین “۔ ان کے ساتھ شامل ہونے سے ، بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کیا ہم نے تمہاری مدد نہیں کی اور تم سے مسلمانوں کو روکے رکھا کہ وہ تمہارے ساتھ جنگ نہیں کرسکتے ، اگر ہم نہ ہوتیس تو وہ تمہیں ذلیل کردیتے اور ہم ان کی خبریں اور ان کے امور تمہیں نہ پہنچاتے ، گویا اس کلام سے منافقین ، کافروں پر اپنا احسان جتلا رہے ہیں۔ (آیت)” فاللہ یحکم بینکم یوم القیامۃ “ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان (آیت)” ولن یجعل اللہ للکافرین علی المؤمنین سبیلا “۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ آخرت میں (غالب نہیں کرے گا) عکرمہ (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ دلیل میں ان کو غالب نہیں کرے گا اور بعض نے کہا کہ کافروں کے غالب نہ کرنے کا مطلب ہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پر غالب نہ کرنا۔
Ayah 4:142(تفسیر) 142۔:
(آیت)” ان المنافقین یخادعون اللہ وھو خادعھم “۔ وہ دھوکہ دینے والوں جیسا معاملہ کرتے ہیں اور وہ اپنے دھوکہ دینے میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں اور اسی وجہ سے قیامت کے دن ان کو بھی نور دیا جائے گا ، جیسا کہ مؤمنین کو دیا جاتا ہے مؤمنین ان کے نور کے پاس سے گزریں گے تو منافقین کے نور بجھ جائیں گے ۔ (آیت)” واذا قاموا الی الصلوۃ “ منافقین جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں قاموا کسالی “ تو بوجھل بن کر کھڑے ہوتے ہیں ، اللہ کے لیے نہیں کھڑے ہوتے ، اگر تم ان میں سے کسی ایک کو نماز پڑھتے دیکھو تو وہ پڑھتے رہیں گے وگرنہ وہ چلے جائیں گے اور بغیر دکھاوے کے نماز نہیں پڑھیں گے ۔ (آیت)” یرآء ون الناس “۔ وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں تاکہ لوگ انکو ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیں نہ کہ اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں ۔ (آیت)” ولا یذکرون اللہ الا قلیلا “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور حسن (رح) کا قول ہے ان کے لیے یہ اس لیے ارشاد فرمایا کیونکہ یہ دکھاوے اور شہرت کے لیے ہی کرتے ہیں ۔ اگر یہ تھوڑا سا عمل بھی اللہ کی رضا کی خاطر اور تصحیح نیت کے ساتھ کرلیتے تو یہ ان کے لیے کافی ہوجاتا اور قتادہ (رح) کا قول ہے منافقین کے ساتھ ذکر قلیل کا ذکر اس لیے کیا اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو قبول نہیں کرتا ۔
Ayah 4:143اگر اللہ ان کے سب اعمال کو قبول کر بھی لے تو یہ ان کے لیے کافی ہوتا ۔
143۔ (آیت)” مذبذبین بین ذلک “۔ وہ جانبین سے متردد ہیں کفر اور ایمان کے درمیان درمیان میں ہیں ۔ (آیت)” لا الہ ھؤلاء ولا الہ ھؤلائ “۔ یعنی نہ تو یہ مؤمنین میں سے ہیں کہ ان کے ساتھ مؤمنین والا معاملہ کیا جائے اور نہ ہی کفار میں شامل ہیں کہ ان سے وہی چیزیں لی جائیں جیسی کفار سے لی جاتی ہیں ۔ (آیت)” ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا “۔ ہدایت کا کوئی راستہ نہیں ملے گا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ منافق کی مثال ایسی ہے جیسے ریوڑ سے بچھڑی ہوئی بکری جو دوگلوں کے درمیان کبھی ایک کی طرف اور کبھی دوسری کی طرف گھومتی ہے ۔
Ayah 4:144144۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الکافرین اولیاء من دون المؤمنین “۔ مؤمنین کو کفار کے ساتھ میل رکھنے کی ممانعت کی گئی ہے ۔ (آیت)” اتریدون ان تجعلوا اللہ علیکم سلطانا مبینا “۔ تمہارے عذاب کی واضح دلیل موجود ہے ، پھر منافقین کے درجات کو بیان کیا جا رہا ہے ۔
Ayah 4:145(تفسیر) 145۔:
(آیت)” ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار “۔ اہل کوفہ نے ’ فی الدرک “ راء کے سکون کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس کی دو لغات ہیں جیسے ” ظعن ، ظعن ، نھر ، نھر “۔ ہے ۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ دوزخ کے نچلے حصے میں لوہے کے صندوق میں ہوں گے ، حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ صندوقوں کے اندر منافقین بند ہوں گے جن کے اندر منافقوں کے اوپر نیچے انگارے دھک رہے ہوں گے ۔ (آیت)” ولن تجدلھم نصیرا “۔ جو ان کو دوزخ کے عذاب سے مانع ہو یا عذاب سے نکال دے ۔
Ayah 4:146146۔ (آیت)” الا الذین تابوا “۔ جنہوں نے توبہ کی نفاق سے اور خالص ایمان لائے (آیت)” واصلحوا “ اور اپنے اعمال کی اصلاح کی (آیت)” واعتصموا باللہ “ اللہ کے اوامر اور انواہی کو مضبوطی سے تھامے رکھو (آیت)” واخلصوا دینھم اللہ “۔ مراد دل سے اخلاص کرنا کیونکہ دل سے انکار کرنا نفاق ہے ۔ لہذا دل سے اس کو زائل کردینا یہ دل کی صفائی ہے ۔ (آیت)” فاولئک مع المؤمنین “۔ فراء نے مع کو من کے معنی میں لیا ہے ۔ (آیت)” وسوف یؤت اللہ المؤمنین “۔ آخرت میں (آیت)” اجرا عظیما “۔ اس سے مراد جنت ہے۔
Ayah 4:147147۔ (آیت)” ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم “۔ تم ان کی نعمتوں کا شرک ادا کرو (آیت)” وامنتم “ اس آیت میں کچھ لفظی تقدیم و تاخیر ہے۔ تقدیری عبارت اس طرح ہے اگر تم ایمان لاؤ اور تم اس کا شرک ادا کرو کیونکہ شکر فائدہ مند نہیں ہے جب دل میں ایمان نہ ہو استفہام تقرری ہے ۔ مؤمن شاکر کو عذاب نہیں دیا جائے گا اور کسی بندے کو عذاب دینے سے اس کی بادشاہت میں اضافہ نہیں ہوتا اور ان کے فعل پر ان کو چھوڑ دینے سے اس کی بادشاہت میں ذرہ برابر بھی کم نہیں ہوسکتا ، شکر کفر کی ضد ہے اور کفر کہتے ہیں نعمت کو چھپانا اور شکر یہ ہے کہ اس نعمت کا اظہار کیا جائے (آیت)” وکان اللہ شاکرا علیما “۔ اگر شکر کی نسبت اللہ کی طرف ہو تو اس کا معنی اس کی رضا مندی اور ثواب کا دوہرا ہونا اور اگر شکر کی اضافت بندے کی طرف ہو تو معنی یہ ہوگا ، فرمانبرداری اور اللہ کی طرف ہو تو ثواب۔
Ayah 4:148(تفسیر) 148۔:
(آیت)” لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم “۔
اللہ تعالیٰ بری بات کو زبان پر لانا پسند نہیں کرتا بجز مظلوم کے جس پر ظلم کیا گیا ، مظلوم ظالم کے ظلم کی فریاد اور اس کے لیے بددعا کرسکتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل “۔ حسن (رح) کا قول ہے وہ دعا کرے ان الفاظ میں ۔ اے اللہ ! اس کے معاملے میں میری مدد فرما ، اے اللہ ! اس سے میرے حق کی وصولیابی کی صورت مقدر فرما اور بعض نے کہا کہ اگر وہ اس کو گالی دینا چاہتا ہے تو اس کے مثل اس کو گالی دے اس پر زیادتی نہ کرے ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا دو گالیاں دینے والے میں سے جو پہل کرے الزام اس پر ہے ، جب تک مظلوم حد مساوات سے آگے نہ بڑھ جائے ۔
مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول مہمان کے حق میں ہوا اگر کوئی شخص کسی قوم کے پاس جا کر اترے اور وہ میزبانی نہ کریں اور انکی طرف سے اچھی مہمان نوازی نہ ہو تو مہمان کے لیے شکوہ کرنا اور جیسا اس کے ساتھ سلوک کیا گیا ویسا بیان کرنا جائز ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر ؓ کا بیان ہے کہ ہم نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ہم کو تبلیغ کے لیے بھیجتے ہیں اور ہم جا کر ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں جو ہماری مہمانی نہیں کرتے ہم کو کیا کرنا چاہیے ؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر تم لوگوں کے پاس جا کر اترو اور وہ تمہارے مناسب مہمانی کریں تو قبول کر اور اگر مناسب مہمانی کا اہتمام نہ دیں تو ان کے مناسب حال مہمانی کا حق ان سے وصول کرلو۔
ضحاک بن مزاحم وزید بن اسلم نے (آیت)” الا من ظلم “ ظاء اور لام کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے معنی یہ ہوگا کہ لیکن مظلوم اپنے قول کے ساتھ اس کی برائی کرسکتا ہے بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ اللہ بری بات کو اونچی آواز سے پسند نہیں کرتا مگر وہ شخص جس پر ظلم کیا گیا ، پہلی قرات معروف کرے ۔ (آیت)” وکان اللہ سمیعا “ مظلوم کی دعا سننے والے ہیں۔ ” علیما “ ظالم کی سزا کو جانتے ہیں ۔
Ayah 4:149149۔ (آیت)” ان تبدوا خیرا “ جو ایک نیکی کرے گا اس کو دس نیکیاں دی جائیں گی اگر ان کا ارادہ بھی کرلیا ۔ اگر ان نیکیوں پر عمل بھی نہ کیا ہو تو ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے ۔ (آیت)” او تخفوہ “ اس سے مراد خیر ہے یا مال ہے ، اگر تم جو صدقہ دیتے ہو اس کو جہرا دو یا تم چھپا کر دو (آیت)” او تعفوا عن سوائ “ اس کے ظلم سے معاف کردیں گے (آیت)” فان اللہ کا عفوا قدیرا “۔ اور یہ بات اولی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر کر دے گا قیامت کے دن ۔
Ayah 4:150150۔ (آیت)” ان الذین یکفرون باللہ ورسولہ “۔ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) اور توریت اور عزیر (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کردیا اور انجیل کا انکار کر دے اور محمد ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کیا ۔ (آیت)” ویریدون ان یفرقوا بین ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بین ذلک سبیلا “۔ وہ راستہ جو یہود اور مسلمانوں کے درمیان ہے اور وہ راستہ جس پر وہ چلتے ہیں ۔
Ayah 4:151151۔ (آیت)” اولئک ھم الکافرون حقا “۔ ان کا کفر مستحق ہوگیا کہ بعض چیزوں کا انکار کردینا تمام چیزوں کا انکار کردینا ہے۔ (آیت)” واعتدنا للکافرین عذابا مھینا “۔
Ayah 4:152(تفسیر) 152۔:
(آیت)” والذین امنوا باللہ ورسلہ “۔ ان سب پر ایمان لائے ۔ (آیت)” ولم یفرقوا بین احدمنھم “۔ اور رسولوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے کیونکہ وہ سب اہل ایمان ہی تھے اور وہ کہتے تھے کہ ہم رسولوں کے درمیان کسی قسم کا فرق نہیں کرتے ۔ ” اولئک سوف یوتیھم اجورھم “۔ اللہ پر ایمان لانے کی وجہ سے اور اس کی تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کی وجہ سے ان کو ضرور ثواب دے گا ، بعض حضرات ” یوتیھم “۔ یاء کے ساتھ پڑھتے ہیں اور دوسرے قراء ” نوتیھم “ پڑھتے ہیں (آیت)” وکان اللہ غفورا رحیما “۔
Ayah 4:153153۔ یسالک اھل الکتاب “۔ یہود میں سے کعب بن اشرف اور فخاض بن عاز وراء نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر کہا ، اگر آپ سچے نبی ہیں تو ہمارے لیے آسمان سے کتاب لائیں جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کتاب لائے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی (آیت)” ان تنزل علیھم کتابا من السماء “۔ ان کا یہ سوال تکبر اور اکڑ پن اور حاکمانہ شان کے ساتھ تھا، عاجزی کے طور پر نہیں تھا اور اللہ تعالیٰ کسی حاکمانہ شانہ کے سوال پر آیات نازل نہیں فرمایا کرتا (آیت)” فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذلک “۔ وہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑا سوال کرچکے تھے جس وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان ستر آدمیوں کو پہاڑ کی طرف لے گئے تھے اور انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیا تھا (آیت)” فقالوا ارنا اللہ جھرۃ “۔ جھرۃ کا معنی عیانا یعنی سامنے دکھاوے ۔ ابوعبیدہ (رح) کا قول ہے کہ بنی اسرائیل نے اعلانیہ طور پر کہا کہ ہمیں خدا دکھا دو ۔ (آیت)” فاخذتھم الصعقۃ بظلمھم ثم اتخذوا العجل “۔ انہوں نے دوسرا معبود اپنا بنا لیا۔ (آیت)” من بعد ماجاء تھم البینات فعفونا عن ذلک “۔ یعنی مکمل طور پر ان کی بیخ کنی نہیں کی ، بعض نے کہا کہ اس سے صرف ان کو توبہ کی طرف دعوت دلانا مقصود تھا ۔ معنی یہ ہوگا کہ انہوں نے اپنے گناہ سے معافی مانگ لی تو ہم ان کے گناہ کو معاف کرلیا ، لہذا تم بھی توبہ کرو تاکہ ہم تمہارے گناہ معاف کریں (آیت)” وآتینا موسیٰ سلطانا مبینا “۔ وہ واضح دلائل جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیئے گئے اور وہ نو تھے ۔
Ayah 4:154154۔ (آیت)” ورفعنا فوقھم الطور بمیثاقھم وقلنا لھم ادخلوا الباب سجدا وقلنا لھم لا تعدوا فی السبت “۔ اہل مدینہ کا قول ہے کہ (آیت)” لا تعدوا “۔ تشدید دال کے ساتھ ہے اور ورش کی روایت کے مطابق اور دوسرے قراء نے ان کو جزم دیا ۔ اس آیت کا معنی یہ ہوگا کہ تم تجاوز نہ کرو اور نہ ہفتہ کے دن میں مچھلی کا شکار کر کے ظلم کرو ۔ (آیت)” اخذنا منھم میثاقا غلیظا “۔
Ayah 4:155155۔ (آیت)” فبما نقضھم میثاقھم “۔ ان کے عہد کو توڑ کر ۔ ” فبما “ میں ماموصولہ ہے جیسا کہ (آیت)” فبما رحمۃ من اللہ “۔ اور اس جیسی ان پر مہر لگا دی ۔
(آیت)” فلا یؤمنون الا قلیلا “۔ جنہوں نے اللہ کے رسولوں کی تکذیب کی ، وہ لوگ مراد نہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے کیونکہ جن کے دل پر اللہ نے مہر لگا دی ہے وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے ، اس سے مراد بہت تھوڑے ایمان لانے والے ہوں گے ، اس سے مراد عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہیں ۔ ان کا معنی یہ ہے کہ وہ تھوڑے ایمان نہیں لائیں گے اور نہ زیادہ لوگ ایمان لائیں گے ۔
Ayah 4:156(تفسیر) 156:
(آیت)” (وبکفرھم وقولھم علی مریم بھتانا عظیما) بہتان سے مراد زنا کی تہمت لگانا ہے ۔
Ayah 4:157(حضرت مریم (علیہا السلام) پر جب گناہ کی تہمت لگائی)
157۔ (آیت)” وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم “۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ اس شخص پر ڈالدی تھی جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کے لیے ان کے گھر میں داخل ہوا اور بعض نے کہا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک گھر میں بند کر کے رکھا ہوا تھا ، عیسائیوں نے اپنا رقیب اندر بھیجا تاکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردے ، اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ اس شخص پر ڈال دی تو لوگوں نے اس شخص کو قتل کردیا اور بعض نے کہا کہ اس کے علاوہ کوئی اور واقعہ ہے ۔ جیسا کہ ہم سورة آل عمران میں اس کا تذکرہ کرچکے ہیں ۔ (آیت)” وان الذین اختلفوا فیہ “۔ ان کے قتل کرنے میں عیسائیوں میں اختلاف واقع ہوگیا (آیت)” لفی شک منہ “ ان کے قتل میں وہ شک کرتے تھے ۔
(حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے متعلق یہودیوں کا اختلاف)
کلبی (رح) کا قول ہے کہ ان میں یہ اختلاف تھا کہ یہود کہتے تھے کہ ہم نے ان کو قتل کیا اور نصاری کا ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ ہم نے ان کو قتل کیا اور ان میں سے ایک گروہ کا یہ کہنا تھا کہ نہ انہوں نے ان کو قتل کیا نہ کسی اور نے ان کو قتل کیا بلکہ اللہ نے انکو آسمان کی طرف اٹھا لیا ہے اور ہم اس طرف دیکھ رہے تھے اور بعض کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ صطیافوس کے چہرے پر ڈال دیا اور اس کے بقیہ جسم کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مشابہ نہ کیا ، اسی وجہ سے بعض لوگوں نے اختلاف کیا کہ ہم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا کیونکہ وہ چہرہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل نہیں کیا گیا کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے جسم جیسا اس کا جسم نہیں تھا پس ان میں اختلاف واقع ہوگیا ، سدی (رح) کا قول ہے کہ ان لوگوں میں اس طور پر اختلاف واقع ہوگیا کہ انہوں نے کہا کہ اگر یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں تو تمہارا ساتھی کہاں ہے اور اگر یہ تمہارا ساتھی ہے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کہاں ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا ” مالھم بہ علم “۔ اس کی حقیقت کے متعلق ان کو کوئی علم نہیں کہ وہ قتل کیے گئے ہیں یا قتل نہیں کیے گئے (آیت)” الا اتباع الظن “۔ لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے بارے میں اپنی گمان پر یقین رکھتے ہیں (آیت)” وما قتلوہ یقینا “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یقینا قتل نہیں ہوئے ۔
Ayah 4:158158۔ (آیت)” بل رفعہ اللہ الیہ “۔ بعض نے کہا کہ یقینا وہ بعد میں واپس لوٹیں گے ۔ (آیت)” وما قتلوہ “ تقدیری کلام یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یقینی طور پر ان کو اٹھالیا اور وہ قتل نہیں کیے گئے ، فراء کا قول ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس کو انہوں نے قتل کیا اس کے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہونے کا ان کو یقین نہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کے متعلق مروی ہے کہ ان کے گمان کے مطابق یقینا قتل نہیں کیا ۔ (آیت)” وکان اللہ عزیزا “۔ یہودیوں کو سزا دینے پر قادر ہے ۔ ” حکیما “ حکمت والا کہ یہودیوں پر لعنت وغضب نازل فرما اور ان پر صطیونس بن استسیانوس کو ان پر مسلط کیا جس نے ان کی قوم کا عظیم الشان قتل کیا ۔
Ayah 4:159(تفسیر) 159۔:
(آیت)” وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “۔ کوئی بھی اہل کتاب میں سے ایسا شخص نہیں کہ اپنے مرنے سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لے آئے (آیت)” قبل موتہ “ اس کنایہ میں اختلاف ہے، مجاہد (رح) ، عکرمہ (رح) ، ضحاکرحمۃ اللہ علیہ ، اور سدی (رح) کا قول ہے یہ کتابی سے کنایہ ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اہل کتاب میں سے کوئی بھی ایک شخص باقی نہیں بچے گا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ضرور ایمان لے آئیں گے ، ابی طلحہ ؓ کا قول ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ ہر کتابی اپنے مرنے سے پہلے ایمان لے آئے گا ، راوی کا بیان ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے دریافت کیا گیا بتایئے اگر کوئی کتابی چھت سے گرجائے، فرمایا ہاں ہوا میں (یعنی زمین پر گرنے سے پہلے) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلمہ پڑھ لے گا ، دریافت کیا گیا اگر اس کی گردن ماری جا رہی ہو تو کیا کرے گا ، فرمایا لڑکھڑاتی زبان سے بولے گا ۔
(لیومنن بہ اور قبل موتہ کی ضمیر مرجع میں ائمہ کے اقوال)
بعض لوگوں نے کہا کہ ” موتہ “ کی ضمیر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے ۔ اس صورت میں آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اہل کتاب میں سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئیں گے ، جب تک حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وفات نہ پاجائیں اور یہ اس وقت ہوگا جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آخری زمانہ مین نزول فرمائیں گے کوئی شخص بھی باقی نہیں رہے گا جو آپ پر ایمان نہ لے آئے ، یہاں تک کہ سب ایک ہی ملت ملت اسلامیہ پر جمع ہوجائیں گے ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قریب ہے کہ وہ ہم میں ابن مریم نازل ہوں ، حاکم عادل اور صلیب کو توڑیں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے ، جزیہ کو ختم کریں گے ، مال بہائیں گے کہ کوئی بھی مال قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔ (یہاں تک کہ اس وقت ایک سجدہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہوگا) اور تمام ادیان باطلہ ختم ہوجائیں گے ، سب ایک ہی ملت پر جمع ہوجائیں گے اور وہ اسلام ہے اور دجال کو قتل کریں گے اور زمین پر چالی سال رہیں گے پھر ان کو موت آجائے گی اور مسلمان ان پر نماز جنازہ پڑھائیں گے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے فرمایا اگر چاہو تو یہ پڑھو (آیت)” وان من اھل الکتاب الا لیومنن بہ قبل موتہ “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے پھر حضرت ابوہریرہ ؓ نے اس کو تین بار دہرایا۔
حضرت عکرمہ (رح) سے مروی ہے کہ (آیت)” لیومنن بہ “ کی ضمیر سے مراد حضرت محمد ﷺ ہیں کہ کوئی کتابی اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک کہ وہ آپ ﷺ پر ایمان نہ لے آئے اور بعض نے کہا کہ اس ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ ہے جیسے کہ کہا گیا کہ اہل کتاب میں ضرور اللہ پر ایمان لے آئے گا ، اہل کتاب کو مرنے یا موت کے معائنہ کے وقت ان کا ایمان نفع نہیں دے گا ۔ (آیت)” ویوم القیامۃ یکون “۔ اس سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) (آیت)” علیھم شھیدا “۔ کہ انہوں نے اپنے رب کی رسالت پہنچا دی اور اپنے بندے ہونے کا اقرار کیا ، جیسا کہ قرآن پاک کی آیت میں ہے (آیت)” وکنت علیھم شھیدا مادمت فیھم “۔ اور ہر نبی اپنی امت کا شاہد ہوتا ہے ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” فکیف اذا جئنا من امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولاء شھیدا “۔
Ayah 4:160160۔ (آیت)” فبظلم من الذین ھادوا “۔ جو انہوں نے عہد توڑا تھا اور اللہ کی آیات کا انکار کیا اور حضرت مریم (علیہا السلام) پر جھوٹا بہتان باندھا اور ان کا قول کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قتل کردیا ۔ (آیت)” حرمنا علیھم طیبات احلت لھم “۔ جیسا کہ ماقبل سورة انعام میں گزر چکا۔ (آیت)” وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر “۔ آیت کا نظم اس طرح ہے (آیت)” فبظلم من الذین ھادوا “۔ ” وبصدھم “ اپنے نفسوں پر انہوں نے زیادتی کی ۔ ” عن سبیل اللہ کثیرا “۔ یعنی اللہ کے دین سے بہت ساروں کو روکنے کی وجہ سے ۔
Ayah 4:161(تفسیر) 161:
(آیت)” واخذھم الربوا وقد نھوا عنہ “۔ اس سے مراد توریت ہے (آیت)” واکلھم اموال الناس بالباطل “۔ اس سے مراد رشوت خوری ہے اور کھانے کی چیزیں جن کو وہ استعمال کرتے تھے ، اللہ نے ان کے لیے حلال چیزیں حرام کردیں ، جب بھی وہ کسی حرام کام کا ارتکاب کرتے تو ان سے پاک حلال چیزوں میں سے کوئی حرام قرار دی جاتی ۔ (آیت)” اذلک جزیناھم ببغیھم وانا لصادقون۔۔۔۔۔۔۔۔ ” واعتدنا للکافرین منھم عذابا الیما “۔