Ayah 4:11(تفسیر) 11۔:
(آیت)” یوصیکم اللہ ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ حظ الانثیین “۔ زمانہ جاہلیت میں جب کوئی مرجاتا تو اس کی وارثت بڑے مردوں میں تقسیم کی جاتی ، عورتوں میں اور چھوٹے بچوں کو محروم کردیا جاتا تھا ، اللہ تعالیٰ نے اس جاہلیت کی رسم بد کو اس آیت میں منسوخ کردیا (آیت)” للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون “۔ زمانہ جاہلیت کی طرح ابتداء اسلام میں کچھ لوگ اس طرح کرتے تھے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم “۔ پھر وارثت کو ہجرۃ کے ساتھ مقید کردیا اور ارشاد فرمایا (آیت)” والذین امنوا ولم یھاجروا مالک من والایتھم من شیء حتی یھاجروا “۔ پھر یہ آیت منسوخ ہوگئی ، پھر وارثت کا حق تین چیزوں کے ساتھ رہ گیا ، نسب کے ساتھ ، نکاح کے ساتھ اور ولاء کے ساتھ نسب کے معنی یہ ہے کہ قریبی رشتہ دار بعض سے بعض کا وارث ہوگا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” واولو الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ “ نکاح کا معنی یہ ہے کہ زوجین ایک دوسرے کے وارث ہوں گے ، ولاء کا مطلب یہ ہے کہ آزاد کرنے والا آزاد کیے ہوئے کا وارث ہوگا ، اس پر اللہ کی مدد ونصرت سے ایک علیحدہ فصل ذکر کریں گے جس میں اقارب کے حصے متعین ہوں گے ۔
(وراثت کے مسائل)
وارثت کے مال کی کیفیت کے متعلق ہم بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص مرجاتا ہیء تو اس کے مال سے سب سے پہلے اس کی تجہیزوتکفین کی جاتی ہے پھر اس کے مال سے قرض ادا کیا جاتا ہے پھر اس کے بعد بچا ہوا مال میں اس کی تہائی میں وصیت مقبول ہوتی ہے جن ورثاء میں یہ مال تقسیم ہوتا ہے اس کی تین اقسام ہیں ، ان میں سے بعض اصحاب الفروض ہیں اور بعض عصبات اور بعض دونوں جو وارث نکاح سے وراثت ہوتے ہیں وہ اصحاب الفرائض میں سے ہیں (خاوند ، بیوی) اور جو ولاء کے ذریعے سے حصہ پاتے ہیں انہیں عصبات کہتے ہیں اور ان میں سے بعض وارث قرابت کی وجہ سے حصہ پاتے ہیں کہ ان میں سے بعض تو وہ ہیں جن کا حصہ فرض ہے یعنی اصحاب الفروض میں سے ہیں جیسے بیٹیاں ، بہنیں ، مائیں ، دادیاں اور ماں شریک اولاد اور ان میں سے بعض ورثاء وہ ہیں جو عصبہ ہونے کی وجہ سے حصہ پاتے ہیں ، جیسے بیٹے ، بھائی ، چچا کے بیٹے ، ان میں سے بعض وہ ہیں جن کو فرض اور عصبہ دونوں ملتے ہیں جیسے اب ، یہ عصبہ محض ہوگا جب میت کی کسی قسم کی اولاد نہ ہو اور اگر میت کی اولاد موجود ہو تو پھر باپ کو سدس ملے گا اور اگر میت کی مؤنث اولاد موجود ہو تو پھر باپ کو فرض ہونے کی وجہ سے سدس اور عصبہ ہونے کی وجہ سے مابقیہ ملے گا ، اسی طرح دادا کا بھی ہے۔
صاحب التعصیب اس شخص کو کہتے ہیں کہ جو اصحاب الفروض کے حصوں کے بعد مابقی مال سمیٹ لے گا اسی طرح دادا کا بھی ہے ۔ اگر عصبہ اکیلا ہو تو پورا مال اس کو مل جائے گا کل ورثہ سترہ ہیں ، دس مردوں میں سے اور سات عورتوں میں سے ، مردوں میں سے مندرجہ ذیل ہیں ، ابن بیٹے کا بیٹا ، باپ ، دادا ، پردادا ، اور اس کے آگے ، بھائی خواہ حقیقی ہو یا علاتی (باپ شریک) ہو یا اخیافی (ماں شریک) ہو ، ماں شریک بھائی کا بیٹا یا باپ شریک کا بیٹا اور اس سے نیچے اور چچا خواہ ماں کی طرف سے ہو یا باپ کی طرف سے اور اس کے بیٹے اور اس سے نیچے یا میت کے باپ کے بیٹے اور اس کے نیچے تک زوج اور مولی عتاقہ ، عورتوں میں سے بیٹی ، پوتی ، اس سے نیچے تک ، دادای ، ماں ، کی ماں ، باپ کی ماں ، بہن حقیقی ہو یا علاتی ہو یا اخیافی ہو ، زوجہ اور مولی عتاقہ اور چھے وہ ہیں جو غیر کے ملحق ہونے کی وجہ سے محروم نہیں ہوتے، ابوان ، ولدان ، زوجان ، کیوں ان کے درمیان اور میت تک کسی کا واسطہ نہیں ، یہ چھے کبھی محروم نہیں ہوتے ۔
(وراثت سے محروم کردینے والی اشیائ)
وہ اسباب جو وارثت سے محروم کردینے والے ہیں وہ چار ہیں ، اختلاف دین ، رقیت (غلامی) قتل ، اختلاف دارین، اختلاف دین کا مطلب یہ ہے کہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا اسی طرح مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا ۔
اسامہ بن زید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ ہی کافر مسلمان کا وارث ہوتا ہے ، کافر تو اپنے کفر والوں کا وارث ہے ، اگرچہ ان کی ملتیں مختلف ہوں ، (یہود و نصاری ایک دوسرے کے وارث ہوسکتے ہیں) کیونکہ کفر ملت واحدہ ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” والذین کفروا اولیاء بعض “۔ بعض حضرات نے کہا کہ کفر کے اندر میں مختلف ملتوں کے ہونے کی وجہ سے وہ آپس میں وارث نہیں ہوں گے حتی کہ یہودی نصرانی کا وارث نہیں ہوسکتا ، اور اس طرح نصرانی بھی یہودی کا وارث نہیں ہوسکتا ، اور نہ ہی نصرانی مجوسی کا وارث ہوسکتا ہے ، یہ قول امام زہری (رح) ، اوزاعی (رح) ، احمد (رح) ، اسحاق (رح) ، کا ہے آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ دو ملتیں کئی ملتوں کا وارث نہیں بن سکتی ، بعض حضرات نے اس کی یہ تاویل کی کہ کفر کا وارث نہیں ہوسکتا کیونکہ کفر تو ملت واحدہ ہے لہذا نہ بعض کی بعض کے ساتھ وارث ہوں گی ۔ غلام بھی کسی کا وارث نہیں ہوتا اور نہ کوئی اس کا وارث ہوتا ہے کیونکہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ اس کی ملکیت ہی نہیں اس لیے اس کا کوئی وارث نہیں ، قن (مکمل غلام) اور مدبر (جس کو آقا یہ کہہ دے کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے) مکاتب (جس کو آقا کہ کے اتنا مال مجھے لا کر دے میں تمہیں آزاد کروں گا) اور ام ولد (وہ لونڈی جو اپنے آقا سے بچہ جن دے)
قتل بھی میراث سے مانع ہے ، قتل خواہ جان بوجھ کر ہو یا خطاء ہو جس طرح کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قاتل وارث نہیں ہوگا اسے مراد وہ موت ہے جن کے متعلق معلوم نہ ہو کہ کون پہلے مرا ہے، مثلا دو شخص آپس میں لڑنیوالے ہوں پانی میں ، ان میں سے معلوم نہیں کہ پہلے کون مرا ہے لہذا ان میں سے ہر ایک دوسرے کا وارث نہیں ہوگا ، البتہ ان کے زندگان کو ان کی وارثت ملے گی ،
(اصحاب الفروض کے حصوں کی تقسیم)
محدود حصے وارثت میں ہیں وہ چھے ہیں ، نصف ، ربع ، ثمن، ثلثان ، ثلث ، سدس ، نصف اصحاب فروض میں سے تین کو ملتے ہیں ، زوج کو فرض ملے گا نصف جب میت کی کوئی اولاد نہ ہو اور ایک بیٹی کو نصف ملے گا یا پوتی کو نصف ملے گا جب صلبی بیٹے موجود نہ ہوں ایک بہن جب اس کے ساتھ کوئی میت کا لڑکا نہ ہو ، خواہ وہ بہن حقیقی ہو یا اخیافی یاعلاتی ہو ۔
اور ربع اصحاب فروض میں سے دو کو ملے گا ، زوج کو ربع ملے گا جب میت کی اولاد موجود ہو اور اس طرح زوجہ کو ربع ملے گا جب میت کی اولاد نہ ہو اور ثمن صرف زوجہ کو ملے گا جب میت کی اولاد موجود ہو اور ثلثان دو صلبی بیٹیوں کو یا دو بہنوں کو دیں گے اور ثلث اصحاب فروض میں سے تین کو ملتا ہے ، فرض الام ، ماں کو ثلث ملے گا جب میت کے والدین نہ ہوں اور ماں کو ثلت مابقی ملے گا ، زوج اور زوجہ کو دینے کے بعد اس کو ثلث دیا جائے گا اور اثنان اخوۃ واخوات کو ملے گا مگر صرف دو مسئلوں میں ایک مسئلہ ہے کہ زوج اور اب ، ام ، دوسرا مسئلہ زوجہ ، اب ، ام ، یہاں مسئلہ میں ماں کو باقی ماندہ مال سے ثلث ملے گا یعنی زوجہ اور زوج کو دینے کے بعد جو باقی بچے گا اس سے تہائی والدہ کو دیں گے ، ماں کی اولاد کو بھی اتنا ہی ملے گا خواہ وہ مذکر ہو یامؤنث اور دادا کو بھائیوں کو ساتھ بھی اتنا ہی ملے گا جب اس مسئلہ میں کوئی اور اصحاب فرائض میں سے موجود نہ ہو،
سدس اصحاب فروض میں سے سات کو ملے گا ، اب کو سدس ملے گا جب میت کی اولاد موجود ہو اور ماں کو سدس ملے گا جب میت کی اولاد موجود ہو اور جب دو بھائی یا دو بہنیں موجود ہوں ، دادا کو فرض ملے گا جب میت کا لڑکا موجود ہو یا میت کا بھائی یا بہن موجود ہو ، اسی طرح دادا کو سدس ملے گا جب اس کو بھائیوں کے ساتھ ترکہ میں تقسیم کیا جائے گا ، دادی کا حصہ اور ماں کی اولاد میں کوئی ایک ہو خواہ مذہ ہو یا مؤنث اور پوتیوں کو فرض حصہ ملے گا جب میت کی ایک بیٹی موجود ہو اس صورت ” تکملۃ للثلثین “ اور علاتی بہنوں کو جب میت کی ایک حقیقی بہن ہو اس صورت میں بھی سدس ملے گا ” تکملۃ للثلثین “۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وراثت کے حصہ داروں کو حصہ عطا کرو پھر جو باقی بچ جائے تو اس کے ساتھ والا قریبی رشتہ دار اس کا وارث ہے ، اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ورثہ دوسرے بعض ورثاء سے محجوب (محروم) بھی ہوتے ہیں ، حجب کی دو قسمیں ہیں : حجب حرمان ، حجب نقصان ، حجب نقصان یہ ہے کہ بیٹا یا بیٹے کا بیٹا موجود ہو تو خاوند کو نصف سے ربع کی طرف اور اسی طرح بیوی کو ربع سے ثمن کی طرف اور ماں کو ثلث سے سدس کی طرح اور اسی طرح دو بھائی ماں کے ثلث کو سدس کی طرف پھیر دیتے ہیں ۔
حجب حرمان کہتے ہیں کہ ماں کی وجہ سے دادی محروم ہوجاتی ہے ، اسی طرح اخوات واخواۃ لام یہ چار وجہ سے محروم ہوجائیں گے ، باپ کی وجہ سے ، دادا کی وجہ سے ان سے اوپر ، اسی طرح بیٹے سے پوتا اور اس سے نیچے بھی محروم ہوجائیں گے ، اولاد بالاب والام دونوں ساقط ہوجائیں گے ، تین چیزوں سے میت کے باپ سے اور بیٹے سے پوتے سے بھائی محروم ہوجائیں گے ۔ دادا کی وجہ سے یہ ساقط نہیں ہوں گے ، زید بن ثابت ؓ کا یہی قول ہے ، یہی قول عمرو ؓ ، عثمان ؓ تعالیٰ عنہ ، علی ؓ ، وابن مسعود ؓ کا ہے اور فقہاء میں امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) ، اوزاعی (رح) ، احمد (رح) ، اسحاق (رح) ، نے روایت کیا ہے ۔
باپ شریک بھی انہی صورتوں میں محروم ہوں گے ، بالاخ لاب وام سے اور بعض حضرات کے نزدیک تمام بھائی ساقط ہوجائیں گے دادا سے جیسا کہ باپ کی موجودگی سے دادا محروم ہوجاتا ہے ، یہ قول ابو بکرصدیق ؓ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، حضرت معاذ ؓ ، ابی درداء ؓ ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا بھی ہے اور یہی قول حسن بصری (رح) ، طاؤس (رح) ، ابوحنیفہ (رح) ، کا ہے قریبی عصبات دور والے عصبات کو محروم کردیتے ہیں ، اسی طرح قریبی بیٹا ، دور والے بیٹے کو محروم کردیتا ہے ، اسی طرح باپ کی موجودگی میں دادا محروم ہوجائے گا اور دادا کی موجودگی میں پردادا محروم ہوجائے گا ، اگر دادا کے ساتھ میت کا بھائی ، بہن ہو خواہ وہ حقیقی بہن بھائی ہوں یا علاتی ہوں یا اخیافی یہ میراث میں مشترک ہوں گے ، اگر دادا موجود نہ ہو تو پھر حقیقی بھائی مقدم ہوں گے پھر علاتی بھائی پھر اخیافی بھائی ، پھر اس کے بعد اخیافی بہنیں یا علاتی ، پھر اس کے بعد قریبی رشتہ دار اگر سب درجہ میں برابر ہوں تو سب سے پہلے مقدم وہ ہوں گے جو حقیقی بہن بھائی ہوں پھر چچا کے بیٹے وغیرہ پھر باپ کے چچا کے بیٹے پھر دادا کے چچا کے بیٹے علی ہذا الترتیب ۔
اگر میت کے رشتہ داروں میں سے کوئی عصبات بھی موجود نہ ہوں تو میت کی میراث آزاد کردہ کے لیے ہوگی ، معتق کے عصبات چار ہیں ، مردوں میں سے جو عورتوں کو عصبہ بناتے ہیں ، بیٹا ، پوتا حقیقی بھائی ، علاتی بھائی ، اگر مرجائے تو اس کا بیٹا یا بیٹی یا بھائی یا بہن حقیقی ہوں یا علاتی ہوں اگر ان کے پاس مال ہو تو (آیت)” للذکر مثل حظ الانثیین “۔ کے تحت یعنی مرد کو دو حصے اور عورت کو ایک حصہ دیا جائے گا اس صورت میں بیٹی یا بہن اسی طرح پوتا ان کے برابر میں جو آئے گا ان کو یہ عصبہ بنادیں گے اور اگر ثلث بیٹیوں کو مل گیا تو اس سے آگے کسی بیٹی کو کچھ نہیں ملے گا ، مثلا بیٹے کی بیٹی کو کچھ نہیں ملے گا ، ہاں اگر اس پوتی کے درجہ میں کوئی پوتا موجود ہو تو یا اس سے نیچے پڑ پوتا ہو تو اس صورت میں (آیت)” للذکر مثل حظ الانثیین “۔ کے تحت تقسیم کیا جائے گا ، حقیقی بہن یا علاتی بہن یہ بیٹی کے ساتھ عصبہ بن جائے گی ، اگر کوئی شخص ایک بیٹی اور ایک بہن چھوڑ کر مرگیا تو بیٹی کو نصف ملے گا اور بہن کو عصبہ ہونے کی وجہ سے باقی ماندہ ملے گا ، اگر کوئی شخص ایک بہن اور دو بیٹیاں چھوڑ کر مرا تو بہنوں کو دو ثلت اور بہن کو عصبہ ہونے کی وجہ سے باقی ماندہ مال ملے گا ۔
ابو قیس فرماتے ہیں کہ میں نے ہزیل بن شرحبیل کو فرماتے ہوئے سنا کہ انہوں نے ابو موسیٰ اشعری ؓ سے اپنی بیٹی ، پوتی اور بہن کے حصوں کے متعلق پوچھا ، انہوں نے کہا کہ بیٹی کے لیے نصف اور بہن کے لیے نصف ، پھر یہ ابن مسعود ؓ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ یہ مسئلہ ہے اور اس کے متعلق ابو موسیٰ اشعری ؓ سے پوچھا تو انہوں نے یہ جواب دیا ، انہوں نے فرمایا کہ پھر تو تم گمراہ ہوگئے اور تم ہدایت بھی نہیں پاسکتے ، انہوں نے تو بالکل سنت رسول کے مطابق فیصلہ دیا ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیٹی کے لیے نصف اور پوتی کے لیے سدس ” تکلملۃ الثلثین “۔ کے لیے اور باقی مال جو بچے گا وہ بہن کو ملے گا ، وہ پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے پاس آئے اور انہوں نے ابن مسعود ؓ کے بارے میں بتلایا ، وہ کہنے لگے کہ جب تم میں وہ بڑے عالم مجھ سے موجود ہیں ، اس وقت تک مجھ سے کسی بات کے بارے میں سوال نہ کرنا ، انہوں نے حضرت ابن مسعود ؓ کی تفسیر کی طرف رجوع کرلیا ، اس کے نزول میں آئمہ کا اختلاف ہے ۔
محمد بن منکدر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جب وہ میری عیادت کرنے کے لیے آئے اور میں مریض تھا اور مجھے ہوش نہیں تھا ، آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور وضو کا پانی مجھ پر ڈالا ، اس سے مجھے ہوش آئی میں نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ میری میراث کس کو ملے گی ؟ حالانکہ میرا کوئی وارث بیٹا بیٹی نہیں ، کلالہ ہوں ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ۔
مقاتل (رح) ، اور کلبی (رح) کا بیان ہے کہ یہ آیت ام کجۃ جو اوس بن ثابت کی بیوی ہیں اور ان کی بیٹیوں کے متعلق نازل ہوئی عطاء (رح) کا قول ہے سعد بن ربیع ؓ کے دن شہید ہوگئے ، پیچھے دہ دو بیٹیاں اور بیوی اور ایک بھائی چھوڑ کر گئے ، ان کے بھائی نے سب مال لے لیا ، سعد کی بیوی آپ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کرنے لگی اے اللہ کے رسول ﷺ یہ دونوں بیٹیاں سعد کی ہیں اور حضرت سعد ؓ احد کے دن شہید ہوگئے تھے اور ان کے چچا نے سب مال قبضے میں لے لیا اور میرے پاس اتنا مال بھی نہیں کہ میں ان دونوں کی شادی کروا سکوں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا آپ چلے جاؤ امید ہے اللہ تعالیٰ اس پر فیصلہ فرما دے گا ۔
اس پر یہ آیت ” یوصیکم اللہ “ نازل ہوئی ، آپ ﷺ نے ان کے چچا کو بلوایا اور ان سے کہا کہ سعد کی دونوں بیٹیوں کو ثلثان دیدو اور انکی ماں کو ثمن دیدو اور جو باقی بچ جائے تم لے لو ، یہ اسلام میں پہلی میراث تھی جو تقسیم ہوئی ۔ اللہ عزوجل کا فرمان (آیت)” یوصیکم اللہ فی اولادکم “۔ یعنی تمہارے لیے شمار کرکے رکھا ہے اور تمہارے اولادوں کے بارے میں تمہارے لیے فرض کیا گیا جب تم مرجاؤ تو تمہاری اولاد کے متعلق یہ حکم دیتے ہیں (آیت)” للذکر مثل حظ الانثیین “۔ ” فان کن “ یہ ترکہ جو تمہاری اولاد کے لیے چھوڑا گیا (آیت)” نساء فوق انتین ’“ دو حصے ہی ملیں گے دو ہوں یا اس سے زائد ، فوق صلہ ہے جیسا کہ ارشاد ہے ” فاضربوا فوق الاعناق “۔ ۔۔۔۔۔۔۔ فلھن ثلث ما ترک وان کانت “ اگر بیٹی موجود ہو ” واحدۃ “ کان کی خبر ہے اور قراء اہل مدینہ نے اس کو مرفوع پڑھا ہے ، (آیت)” فلھا النصف ولابویہ “ اس سے مراد میت کے والدین ہیں ، (آیت)” لکل واحد منماالدس مماترک ان کان لہ ولد “۔ اس سے مراد باپ اور ماں ان دونوں کو سدس ملے گا جب اولاد یا اولاد کی اولاد نہ ہو اور باپ اصحاب فروض میں سے ہے ، (آیت)” فان لم یکن لہ ولد وورثہ وابواہ فلامہ الثلث “۔ حمزہ (رح) ، اور کسائی (رح) ، نے یہی پڑھا ہے ، ” فلامہ “ بعض نے اس کو کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے (آیت)” فان کان لہ اخوۃ “۔ دو بہنیں ہوں یا اس سے زائد یا ان کے ساتھ مذکر بھی موجود ہیں ، ” فلامہ السدس “ ماں کے لیے سدس ہوگا اور باق ان کے باپ کے لیے ہوگا ، بہنوں کو باپ کے ساتھ کوئی میراث نہیں ملے گی لیکن ماں محجوب ہوجائے گی ثلث سے سدس ہوگا اور باقی ان کے باپ کے لیے ہوگا ، بہنوں کو باپ کے ساتھ کوئی میراث نہیں ملے گی لیکن ماں محجوب ہوجائے گی ثلث سے سدس کی طرف ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ بہنوں کی وجہ سے ماں کو ثلث سے سدس کی طرف نہیں ملے گا مگر یہ کہ بہنیں دو سے زائد ہوں ، یہاں پر ” فان کان لہ اخوۃ فلامہ السدس “ یہاں پر یہ نہیں کہا کہ دو بہنیں ہوں اس کا جواب دیا کہ اسم جمع کا اطلاق کبھی تثنیہ پر ہوتا ہے کیونکہ جمع کہا جاتا ہے کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانا اور وہ لفظ اثنین میں موجود ہے ، جیسا کہ (آیت)” فقد صغت قلوبکما “ یہاں پر قلب کو جمع کے ساتھ ذکر کیا لیکن اس کو تثنیہ کی طرف مضاف کیا ہے ” من بعد “ ” وصیۃ یوصی بھا اودین “۔ ابن کثیر (رح) ابن عامر (رح) ، ابوبکر (رح) ، نے صاد کے فتحہ کے پڑھا اور دوسرے قراء نے صاد کے کسرہ کے ساتھ پڑھا کیونکہ وصیت تو میت کی طرف سے ہی جاری ہوتی ہے موت سے پہلے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ” یومین “۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے ” توصون “ پڑھا ہے یہ دین ” قرض “ سے پہلے وصیت کو نافذ مانتے ہیں جبکہ آپ ﷺ نے دین کی ادائیگی کے بعد وصیت کو نافذ مانا ہے اور اس بات پر اجماع ہے کہ دین وصیت پر مقدم ہے ، اس آیت میں معنی جمع کا ہے نہ کہ ترتیب کا اور میراث دین اور وصیت دونوں سے مؤخر ہے لہذا پہلے وصیت کرے اور اگر قرض ہے تو اس کی وصیت کرے اور میراث ان دونوں سے مؤخر ہے ” اباء کم وابناء کم “ ۔ جو میراث تم اپنے باپ کو یا بیٹوں کو دیتے ہو،۔
(آیت)” لا تدرون ایھم اقرب لکم نفعا “۔ تم اس بات کو نہیں جانتے کہ دین اور دنیا میں تمہارے لیے سب سے زیادہ نفع مند چیز کیا ہے تم میں سے بعض گمان کرتے ہیں کہ ان کے لیے باپ نفع مند ہے اور بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ بیٹا نفع مند ہے اور تم میں سے بعض کا خیال ہے کہ بیٹا زندہ نفع مند ہے ، عالم اس بات کو جانتا ہے کہ تمہارے لیے زیادہ نفع مند کیا چیز ہے اس کام کو تمہارے لیے پوشیدہ رکھا گیا ہے کسی مصلحت کی بناء پر تاکہ تم اس کی پیروی کرو، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے امید کرتے ہو کہ وہ تمہارے آباء اور ابناء کو قیامت کے دن اعلی درجہ عطاء فرما دے اللہ تعالیٰ بعض مؤمنین کو بعض کے ذریعے شفاعت کا ذیعہ بنائیں گے ، اگر قیامت کے دن بیٹے کا درجہ بڑا ہوا تو ان کے باپ کو بڑا درجہ دیا جائے گا اس کی شفاعت کی وجہ سے اور اگر باپ کا درجہ بڑا ہوا ہوگا تو باپ کی شفاعت سے بیٹے کو بھی اعلی درجہ ملے گا (آیت)” فریضۃ من اللہ “ جو اللہ تعالیٰ نے میراث میں مقدر کردیا گیا ، (آیت)” ان اللہ کان علیما “۔ بندوں کے افعال کو جانتا ہے (آیت)” حکیما “ میراث کے جو احکام فرض کیے ہیں وہ پر حکمت ہیں ۔
Ayah 4:12(ازواج کی میراث)
(تفسیر) 12۔:
(آیت)” ولکم نصف ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھا اودین “۔ یہ ازواج (بیویاں) کی میراث کا بیان ہے ” ولھن الربع “۔ ان کو ربع ملے گا (آیت)” مما ترکتم ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ اودین “۔ یہ بیویوں کی میرث کا بیان ہے اگر ایک شخص کی ایک بیوی ہو یا اس سے زائد چار تک تو ان کو ربع یا ثمن ملے گا ، (آیت)” وان کان رجل یورث کلالۃ اوامراۃ “۔ جو شخص اکیلا ہو اس کی صرف بیوی ہو ، کوئی اولاد وغیرہ نہ ہو تو اس صورت میں یہ شخص کلالہ کہلائے گا ، ” کلالۃ “ منصوب ہے مصدر ہونے کی وجہ ہے بعض نے کہا کہ فاعل ” مالم یسم “۔ فاعلہ ہے، تقدیری عبارت یوں ہوگی ، ” ان کان رجل یورث مالہ کا لۃ “۔
(کلالہ کی تفسیر میں مختلف اقوال)
کلالہ کی تفسیر میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں ، امام بغوی (رح) فرماتے ہیں کہ میں اس کی تفسیر اپنی رائے سے کر رہا ہوں اگر اس میں کوئی غلطی واقع ہوجائے تو اس کی میری طرف منسوب کردینا اور اگر صحیح ہوجائے تو وہ اللہ کی طرف سے ہے ، کلالہ اسے کہتے ہیں جس کا باپ اور بیٹا دونوں نہ ہوں ، حضرت عمر ؓ نے قسم اٹھا کر فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتا ہوں کہ میں کسی چیز کا ارادہ کروں اس کے بغیر جو حضرت ابوبکر صدیق ؓ ارشاد فرمائیں ۔
طاؤس کے نزدیک کلالہ اس کو کہتے ہیں کہ جس کا لڑکا نہ ہو ، یہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی دو روایتوں میں سے ایک روایت ہے اور حضرت عمر ؓ کے آخری اقوال میں سے ایک ہے وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کرتے ہیں ۔ (آیت)” قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ ان امرؤھلک لیس لہ ولد “۔ اور عام حضرات کہتے ہیں کہ کہ یہ ماخوذ ہے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کی حدیث سے اس لیے کہ آیت اسی کے متعلق نازل ہوئی ، اس دن اس کے نہ والد تھے اور نہ ہی اولاد کیونکہ ان کے والد عبداللہ بن حزام احد میں قتل کردیئے گئے تھے ، کلالہ والی آیت آپ ﷺ کی آخری عمر میں نازل ہوئی ، اس صورت میں اس آیت کا شان نزول حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کا بیان ہے ۔
(کلالہ کس کا نام ہے ؟ )
اس بات میں مفسرین رحمہم اللہ کا اختلاف ہے کہ کلالہ کس کا نام ہے ، بعض نے کہا کہ میت کا نام ہے یہ قول حضرت علی ؓ ، ابن مسعود ؓ کا ہے کیونکہ جب انسان مرتا ہے تو جانبین میں رشتہ داروں کو چھوڑ کر مرتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ کلالہ نام ہے ورثہ کا ، یہ سعید بن جبیر ؓ کا قول ہے ، یہ کہتے ہیں کہ چونکہ میت ان کے اردگرد ہوتے ہیں لیکن بیچ میں کوئی نسبی ستون ہوتا ہے جیسے سر پر بندھی ہوئی شاہی پٹی کہ سر کو چاروں طرف سے محیط ہوتی ہے مگر سر کا درمیانی حصہ خالی ہوتا ہے حدیث جابر ؓ میں کلالہ کا یہی مطلب ہے ۔
جیسا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ میرے وارث کلالہ ہیں، یعنی نہ میری نرینہ اولاد ہے اور نہ ہی والد ۔ نضر بن ثمیل فرماتے ہ یں کہ کلالہ مال کا نام ہے ، ابو الخیر فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عقبہ سے کلالہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کیا تم لوگ تعجب کرتے ہو کہ یہ مجھ سے کلالہ کے متعلق سوال کررہے ہیں ، آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین پر مشکل مسئلہ کوئی پیش آیا مگر یہ کلالہ کا مسئلہ ، عمر ؓ کا بیان ہے کہ تین چیزیں نبی کریم ﷺ کو ہمارے لیے محبوب نہیں تھی دنیا ومافیہا سے ، ایک کلالہ ، خلافت ، ابواب الربوا۔
محمد بن طلحہ کا بیان ہے عمر بن خطاب ؓ نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے لیے کوئی اہم (مشکل) امور نہیں چھوڑ کر جا رہا کلالہ کے سوا ، آپ ﷺ نے کلالہ کے سوا کسی چیز سے رجوع نہیں فرمایا اور آپ ﷺ نے اس میں جتنی سختی فرمائی اتنی اور کسی چیز میں نہیں فرمائی ، حتی کہ آپ ﷺ نے میرے سینے پر انگلی رکھ کر ارشاد فرمایا اے عمر ! کیا تمہارے لیے سورة نساء کی آخری آیت کافی نہیں ، اگر آپ زندہ رہے تو اس کا فیصلہ میرے فیصلہ کے مطابق کرنا خواہ وہ قرآن پڑھنے والا ہو یا نہ پڑھنے والا ، اور فرمایا کہ کیا تجھے آیت الصیف کافی نہیں ، اس سے مراد اللہ تعالیٰ نے کلالہ کی دو آیتیں نازل فرمائی ہیں ، ایک سردی میں جو سورة نساء کے اول میں واقع ہے اور دوسری وہ آیت جو گرمیوں میں نازل ہوئی وہ سورة نساء کی آخری آیت ولہ اخ او اخت فکل واحد منھما السدس “۔ اس سے مراد اخیافی بہن ، بھائی سب کا اتفاق ہے ، یہی سعد بن ابی وقاص نے پڑھا ہے، ” ولہ اخ او اخت فکل واحد منھما السدس “۔ اس سے مراد اخیافی بہن ، بھائی سب کا اتفاق ہے ، یہی سعد بن ابی وقاص نے پڑھا ہے ، ” ولہ اخ اواخت من ام “ یہاں ” لہ “ ضمیر ذکر کی ہے ” لھما “ نہیں کہا حالانکہ ماقبل میں مذکر اور مؤنث دونوں کا ذکر ہے عرب والوں کا طریقہ ہے کہ دو ناموں میں سے ایک کا تذکرہ کرتے ہیں اور دوسرے کی طرف اشارہ کردیتے ہیں کیونکہ دونوں حکم میں برابر ہیں ، ان دونوں میں سے ایک کی طرف ضمیر لوٹتی ہے اور بسا اوقات دونوں کی طرف اضافت کی جاتی ہے ، جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” واستعینوا بالصبر والصلاۃ وانھا لکبیرۃ “ یہاں آیت میں ھا تثنیہ لائی ہے ماقبل میں صبر اور صلوۃ دو چیزوں کا ذکر ہے ، (آیت)” فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکاء فی الثلث “۔ اس بات میں اجماع ہے کہ اگر ماں کے ساتھ اور مشترک ہوں تو سب ماؤں کو ثلث ہی ملے گا ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے خطبہ میں فرماتے ہیں کہ سورة نساء کی پہلی آیت جو میراث کے متعلق نازل ہوئی ہے وہ والدہ ، بیٹے اور ماں کے متعلق نازل ہوئی اور سورة نساء کی دوسری آیت بیوی ، شوہر ‘ اخیافی بہن بھائی کے متعلق نازل ہوئی ہے اور وہ آیت جس سے سورة کا اختتام ہو رہا ہے اس میں حقیقی بہن بھائیوں کے احوال کا تذکرہ ہے اور وہ آیت جو سورة انفال کے آخر میں نازل ہوئی وہ ذوی الارحام کے متعلق نازل ہوئی ہے ، (آیت)” من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین غیرمضار “۔ یعنی وہ تہائی سے زیادہ وصیت کرکے یا کسی وارث کو محروم کرکے دوسرے وارثوں کو نقصان نہ پہنچائے ، (آیت)” وصیۃ من اللہ واللہ علیم حلیم “۔ قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کے وقت بھی کسی کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا ہے اور ناپسندیدہ قرار دیا ہے ۔
Ayah 4:13(تفسیر) 13۔:
(آیت)” تلک حدود اللہ “۔ یہ میراث کے متعلق جو ذکر کیا گیا ہے یہ اللہ کی حدود ہیں ۔
(آیت)” ومن یطع اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ ذلک الفوز العظیم “۔
Ayah 4:1414۔ (آیت)” ومن یعص اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عذاب مھین “۔ قراء اہل مدینہ اور ابن عامر نے ” ندخلہ جنات ، ندخلہ نارا “۔ پڑھا ہے اسی طرح سورة فتح میں ” ندخلہ ، نعذبہ “ اور سورة تغابن میں نکفر ، ندخلہ اور سورة طلاق میں ، ندخلہ ، نون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی قراء نے ان سب مقامات کو یاء کے ساتھ پڑھا ہے ۔
Ayah 4:15(زانی کی سزا کا بیان)
15۔ (آیت)” والتی یاتین الفاحشۃ “ فاحشہ کا معنی زنا ہے ، (آیت)” من نسائکم فاستشھدوا علیھن اربعۃ منکم “۔ اس سے مراد مسلمان ہیں اور خطاب حکام کو ہے یعنی اے حاکمو ! تم اس کے متعلق چار گواہوں کو طلب کراؤ کیونکہ زنا کا ثبوت چار گواہوں کے بغیر نہیں ہوتا ، (آیت)” فان شھدوا فامسکوھن “۔ اگر وہ گواہ پیش کردیں تو تم ان کو قید کرلو، (آیت)” فی البیوت حتی یتوفاھن الموت او یجعل اللہ لھن سبیلا “۔ یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا جب حدود کا حکم نازل نہیں ہوا تھا جو عورت زنا کرتی اس کو گھر میں اس وقت تک قید رکھتے جب تک کہ ہو مر نہ جاتی ، پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا اس آیت سے ” البکر بالجلد والتغریب “ اور ثیبہ کے حق میں کوڑے اور رجم ہے عبادۃ بن صامت ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لو مجھ سے لو مجھ سے عورتوں کے لیے اللہ نے راہ نکال دی ہے ، باکرہ عورت باکرہ مرد سے زنا کرے تو اس کے لیے سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی اور شادی شدہ اگر زنا کریں تو سو کوڑے اور سنگساری ہے، امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کو ثقہ جماعت نے روایت کیا ہے ۔
عبداللہ بن عبادہ ؓ فرماتے ہیں کہ کہ پھر ثیبہ کے حق میں کوڑے منسوخ ہوگئے اور رجم کرنا باقی رہ گیا ، اکثر اہل علم کے نزدیک اور بعض اہل علم نے کہا کہ ان دونوں کو جمع کریں گے ، حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے شراخہ ہمدانیہ کو جمعرات کے دن سو کوڑے لگائے ، پھر جمعہ کے دن ان کو رجم کیا اور کہا کہ اس کی سزا جلد کتاب اللہ کی وجہ سے اور رجم سنت رسول کی وجہ سے اور عام علماء کے نزدیک ثیبہ کو رجم کے ساتھ کوڑے نہیں لگائیں گے کیونکہ آپ ﷺ نے حضرت ماعز ؓ کو رجم کیا اور غامدیہ کو رجم کیا لیکن انکو کوڑے نہیں لگائے ، امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک جلاوطنی بھی ہے لیکن یہ باکرہ کے حق میں منسوخ ہے ، اکثر اہل علم کے نزدیک یہ ثابت ہے، حضرت نافع ؓ حضرت عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے کوڑے بھی لگائے اور جلاوطنی بھی کرائی اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مجرم کو کوڑے لگائے اور جلاوطنی بھی کرائی ، یہی حضرت عمر ؓ نے کیا اور بعض نے اختلاف کیا کہ گھر میں روکے رکھنا یہ حد ہے یا نسخ ہوگیا یا یہ حد کو ظاہر کرتا ہے اس میں دو قول ہیں ۔
Ayah 4:16(تفسیر) 16۔:
(آیت)” والذان یاتیانھا منکم “۔ اس سے مراد ، مرد اور عورت دونوں ہیں ، ھاضمیر راجع ہے فاحشہ کی طرف ابن کثیر نے ” الذان ، واللذین ، وھاتان ، وھذان ، نون تاکید کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ، اہل بصرہ کے قراء نے بھی ان کی موافقت کی ، دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے ، ابوعبیدہ ؓ نے کہا ابو عمرو ؓ نے تشدید کے ساتھ پڑھا ہے، اسم میں حروف کی کمی کی بناء پر ” فاذوھما “۔ عطاء اور قتادہ رحمہما اللہ کا قول ہے کہ انکو زبان سے عار دلاؤ یعنی یوں کہو کہ تمہیں گناہ کرتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں آیا ، تمہیں اللہ سے حیاء نہیں آئی جب تم زنا کر رہے تھے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا کہ ان دونوں کو قید کرو اور برا بھلا کہو ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ زبان اور ہاتھ سے عار دلانا مقصود ہے اور ان کو جوتوں سے مارنا ۔
(ایک شبہ اور اس کا ازالہ)
سوال : پہلی آیت میں قید کا ذکر تھا جب کہ اس آیت میں ایذاء کا ذکر ہے تو دونوں میں کیا تطبیق ہے ؟ ۔
جواب : پہلی آیت میں عورتوں کا حکم تھا اور اس آیت میں مردوں کا حکم ہے ، یہی قول مجاہد (رح) کا ہے یا پہلی آیت ثیبہ کے حق میں ہے اور دوسری آیت باکرہ کے حق میں ہے ، ” فان تابا “ اگر وہ اس برائی سے توبہ کرلیں ‘۔ ” واصلحا “۔ اور اس کے بعد وہ اپنی اصلاح کرلیں۔ (آیت)” فاعرضواعنھما “۔ تو تم ان دونوں کو ایذاء نہ پہنچاؤ ، (آیت)” ان اللہ کان توابا رحیما “۔ یہ حدود کے نزول سے پہلے کا ہے یہ جلد اور رجم کی آیت کی وجہ سے منسوخ ہوگیا ، کوڑوں کا ذکر قرآن میں اس طرح ہے (آیت)” الزانیۃ والزانی فاجلدوا کل واحد منھما مائۃ جلدۃ “۔ اور سنگسار کرنے کا حکم سنت سے ثابت ہے ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ اور زید بن خالد جہنمی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ دو شخص آپ ﷺ کے پاس جھگڑا لائے ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ فرما دیجئے اور دوسرے شخص نیی کہا جو سمجھدار تھا ضرور اے اللہ کے رسول ﷺ کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ فرمائیں ، آپ مجھے اجازت دیں کہ میں پہلے بات کروں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بولئے ، وہ کہنے لگا کہ میرا بیٹا اجیر تھا ، اس کی بیوی کے ساتھ اس نے زنا کیا تو آپ مجھے بتلائیں کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہے تو اس سے مجھے سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیہ میں لی ہے، پھر جب میں نے اہل علم سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے مجھے کہا کہ آپ کے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی ہے اور اس کی بیوی پر رجم ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا سنو ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان ضرور بالضرور کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا ، رہی تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی وہ اس کو واپس لوٹا دو باقی آپ کے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور حضرت انیس اسلمی ؓ کو حکم دیا کہ کسی عورت کے ساتھ جا کر اس کی بیوی سے پوچھو اگر وہ زنا کا اعتراف کرے تو اس کو رجم کر دو تو وہ اس کے پاس گئے، اس نے زنا کا اعتراف کیا تو اس کو رجم کردیا ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو حق دے کر بھیجا اور آپ ﷺ پر کتاب نازل فرمائی اور جب اللہ تعالیٰ نے آیت رجم نازل فرمائی تو ہم نے اس کو پڑھا تو ہم نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیا اور اپنے پاس محفوظ رکھا ، پھر آپ ﷺ نے اس آیت کے نزول کے بعد رجم فرمایا اور ہمیں اس بات کا ڈر لگنے لگا کہ اگر لوگوں نے اس کے نافذ کرنے میں دیر لگا دی تو کہنے والا کہے گا کہ آیت رجم ہم کتاب اللہ میں نہیں پاتے تو ہم اللہ کے ایک فریضہ کے چھوڑ دینے کی وجہ سے اللہ تعالیٰنے اس کو کو کتاب میں ذکر کردیا ، رجم کتاب اللہ میں حق ہے جو شخص زنا کرے، شادی شدہ مرد ہو یا عورت ، جب گواہ حاضر ہوجائیں یا حمل ظاہر ہوجائے یا وہ اپنے گناہ کا اعتراف کرے ، اگر زانی سے زنا کا صدور ہو اور اس میں چار شرائط پائی جائیں تو وہ محصن کہلائے گا ، عاقل ہو ، بالغ ہو ، آزاد ہو ، نکاح صحیح کے بعد انہوں نے زنا کیا ہو ، رجم کی حد مسلمان ہو یا ذمی دونوں پر جاری ہوگی ، بعض اصحاب کی رائے یہ ہے کہ احصان کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ وہ مسلمان ہو ، لہذا ذمہ کو رجم نہیں کیا جائے گا ، حالانکہ آپ ﷺ نے دو یہودیوں کو رجم کیا تھا جب انہوں نے زنا کیا تھا اور اگر زانی غیر محصن ہو وت یعنی اس کے اندر اور اوصاف موجود نہ ہو یعنی وہ بالغ نہ ہو یا مجنون ہو تو اس پر کوئی حد نہیں اور اگر وہ آزاد عاقل بالغ ہو لیکن اس نے نکاح صحیح نہیں کیا تو اس پر سو کوڑے اور ایک سال جلاوطنی ہے اور اگر وہ غلام ہے تو اس پر پچاس کوڑے اور جلاوطنی کے متعلق دو قول ہیں ، بعض نے کہا کہ نصف سال جلاوطن کیا جائے گا جیسا کہ اس کو پچاس کوڑے آزاد مرد کے نصف کوڑے لگائے جاتے ہیں ۔
Ayah 4:17(تفسیر) 17۔:
(آیت)” انما التوبۃ علی اللہ “۔ حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد وہ توبہ ہے جو قبول ہوتی ہے اس صورت میں علی بمعنی عند کے ہوگا اور بعض نے کہا کہ یہ من اللہ ہے۔
(آیت)” للذین یعملون السوء بجھالۃ “۔ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے اصحاب کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ کو جو نافرمانی کی جائے وہ جہالت ہے خواہ جان کر کی جائے یا بھول کر ، ہرنافرمانی کرنے والا جاہل کہلاتا ہے ۔
مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت سے مراد جان بوجھ کر گناہ کرنے والا مراد ہے کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ گناہ کرنے والا جاہل نہیں ، البتہ اس گناہ کا انجام جہالت ہے، بعض نے کہا کہ اس کا معنی جہالت ہے کیونکہ وہ فانی لذتوں کو حاصل کرکے ابدی لذتوں کو تباہ وختم کر رہا ہے ۔ (آیت)” ثم یتوبون من قریب “۔ بعض نے کہا کہ وہ گناہ جو اس کی نیکی کو محیط ہو وہ اس کی نیکی کو مٹا دے گا ۔
سدی (رح) اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ قریب کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی صحت میں توبہ کرے گا مرض موت سے پہلے عکرمہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد موت ہے ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ ملک الموت سے پہلے وہ توبہ کرلے گا ۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتے ہیں جب تک موت کی حالت نہ پہنچ جائے ، حضرت ابو سعید الخدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان نے کہا کہ اے رب ! تیری عزت کی قسم کہ میں تیرے بندوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا ، جب تک ان کی ارواح ان کے جسموں میں موجود ہے ، رب تعالیٰ نے فرمایا میری عزت و جلال اور بلندی کی قسم کہ میں اس وقت تک ان کے گناہوں کو معاف کرتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے ، (آیت)” فاولئک یتوب اللہ علیھم وکان اللہ علیما حکیما “۔
Ayah 4:18(تفسیر) 18۔:
(آیت)” ولیست التوبۃ للذین یعملون السیئات “۔ اس سے مراد گناہ ہیں (آیت)” حتی اذا حضر احدھم الموت “۔ اس سے نزع کی حالت مراد ہے ، (آیت)” قال انی تبت الان “۔ یعنی یہ روح کی روانگی کی حالت ہے ، یہاں تک کہ اس کی روح کھینچی نہ جائے، لہذا کافر کا نہ ایمان قبول ہے اور نہ نافرمان کی توبہ قبول ہے (آیت)” فلم یک ینفعھم ایمانھم لما راوا باسنا “۔ اسی وجہ سے فرعون کو ایمان کا نفع نہیں پہنچا جب وہ غرق ہوچکا تھا ، (آیت)” ولا الذین یموتون وھم کفار اولئک اعتدنا “۔ یعنی ان کے لیے تیار کر کے رکھا ہے (آیت)” لھم عذابا الیما “۔
Ayah 4:1919۔ (آیت)” یایھا الذین ۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان ترثوا النساء کرھا “۔ یہ اہل مدینہ کے متعلق نازل ہوئی ۔
(زمانہ جاہلیت کی ایک رسم بد کی تردید میں آیات کا نزول)
زمانہ جاہلیت میں یہ رواج تھا اور اسی طرح ابتداء اسلام میں بھی یہی رواج تھا کہ جب کسی عورت کا خاوند مرجاتا تو اس عورت کے بیٹے کے سوا کوئی نہ ہوتا تو وہ بیٹا اس کے اوپر اپنا کپڑا ڈال دیتا یا اپنا خیمہ اس پر ڈال دیتا تھا اور اس کا حق دار بن جاتا تھا ، اس عورت کو اپنی ذات پر خود کوئی حق نہیں رہتا تھا ، اب اگر وہ چاہتا تو بغیر کسی جدید مہر کے صرف مردہ باپ کے مہر سے اس سے نکاح کرلیتا تھا اور اگر خود نکاح نہ کرنا چاہتا تو کسی دوسرے سے نکاح کرا دیتا اور مہر خود لے لیتا اور اگر چاہتا تو بالکل ہی نکاح سے روک دیتا تاکہ عورت مجبور ہو کر وہ مال واپس کر دے جو مردہ کی وراثت سے اس کو ملا ہے ، اسی طرح اپنی جان چھڑا لے یا پھر وہ عورت خود اس حالت میں مرجاتی اور اگر وہ عورت اپنے میکے چلی جاتی شوہر پر کسی کے کپڑا ڈالنے سے پہلے تو اس کو اپنے اوپر زیادہ اختیار ہوتا ، یہ زمانہ جاہلیت میں تھا ، جب زمانہ اسلام آیا تو ابو قیس بن سلت انصاری وفات پائے اور یہ بیوی کبثہ بنت معن انصاریہ چھوڑی ، ان کا بیٹا جو دوسرے والد سے تھا کھڑا ہوا اس کا نام حصن تھا ، مقاتل بن حیان ؓ نے اس کا نام قیس بن ابی قیس رکھا ہے، اس نے اپنا کپڑا کبثہ پر ڈال دیا اور اس کے نکاح کا وارث ہوگیا لیکن اس کو یونہی چھوڑے رکھا نہ قربت کی اور نہ ہی خرچ دیا مقصد یہ ہے کہ تنگ کرکے اس سے فدیہ لے کر چھوڑ دے ، کبثہ نے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ابو قیس مرگیا ہے اور اس کا بیٹا میرے نکاح کا وارث ہوگیا ، اب نہ مجھے وہ خرچ دیتا ہے اور نہ میرے پاس آتا ہے اور نہ میرا راستہ چھوڑتا ہے، حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا تو اس وقت تک اپنے گھر میں بیٹھ جا ، جب تک اللہ کا حکم تیرے متعلق نازل ہوجائے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” یایھا الذین امنوا “۔ سے لے کر آخر آیت تک ، حمزہ اور کسائی وغیرہ نے ” کرھا “ پڑھا ہے ، فراء نے ” کرہ “ پڑھا ہے اگر ضمہ کے ساتھ ہو تو معنی یہ ہوگا دوسرے کو مجبور کیا جائے ، اس صورت میں مشقت عورت ہی کی جانب سے ہے، (آیت)” ولا تعضلوھن لتذھبوا ببعض مااتیتموھن “۔ کہ تم اپنی عورتوں کو اس بات سے نہ روکو کہ وہ اپنے مال سے فدیہ دے کر تم سے اپنی جان چھوا سکیں ، بعض نے کہا کہ خطاب اولاء میت کو ہے صحیح یہ ہے کہ خطاب بیویوں کو ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا یہ آیت اس شخص کے بارے میں ہے جو خود بیوی کی طرف راغب نہ ہو اس کی صحبت سے نفرت کرتا ہو لیکن عورت کا مہر اس پر واجب ہو اور اس طرح تنگ کرکے چاہتا ہو کہ جو کچھ مہر دیا ہو اس کو تاوان رہائی کے طور پر واپس لے لے ، اللہ تعالیٰ نے ” لاتعضلوھن “ فرما کر اس حرکت سے ممانعت کردی اور ارشاد فرمایا (آیت)” الا ان یاتین بفاحشۃ مبینہ “۔ اس صورت میں تمہارے لیے حلال ہے کہ تم انکو تکلیف دو ۔
(بفاحشۃ مبینہ کی تفسیر میں ائمہ کا اختلاف)
” فاحشۃ “ کی تفسیر میں ائمہ کا اختلاف ہے ، ابن مسعود ؓ اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد نافرمانی ہے ۔
بعض نے کہا کہ زنا ہے مطلب یہ ہے کہ جب بیوی نافرمانی کرکے زنا کرلے تو خاوند اس سے خلع طلب کرسکتا ہے ، عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ جب کسی مرد کی بیوی زنا کرتی ہے تو اس کو دیا ہوا مال اس سے واپس لے لیتا ہے اور پھر اس کو گھر سے نکال دیتا ہے یہ حکم زنا کی حد کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا ہے ، ” مبینۃ “ اور مبینات دونوں طرح ابن کثیر اور ابوبکر صدیق ؓ نے ذکر کیا ہے یاء کے فتحہ کے ساتھ اور اہل مدینہ وبصرۃ نے مبینات پڑھا ہے (آیت)” وعاشروھن بالمعروف “۔ حسن (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اول کلام کی طرف راجع ہے اور وہ کلام (آیت)” واتوا النساء صدقاتھن نحلۃ “۔ ہے عاشروھن بالمعروف کا مطلب ہے کہ نرم بات کرو رات گزارنے میں اور خرچ کرنے میں نرمی اختیار کرو ، بعض نے کہا یکہ تم اس کے ساتھ وہی سلوک اختیار کرو جو تم اپنے ساتھ کرتے ہو (آیت)” فان کرھتموھن ۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ خیرا کثیرا “۔ بعض نے کہا کہ والد صالح مراد ہے یا اللہ تعالیٰ تمہاری اس ناپسندیدہ چیز کو پسندیدہ بنا دے ۔
Ayah 4:20(تفسیر) 20۔:
(آیت)” وان ارتم استبدال زوج مکان زوج “۔ اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہتے ہو ، اگر پہلی کی طرف سے کوئی نافرمانی یا فاحش کا ارتکاب نہ ہو تو (آیت)” واتیتم احداھن قنطارا ‘ ؓ تو تم نے مال کثیر مہر میں دیا ہو ۔ (آیت)” فلا تاخذوا منہ “۔ تو نہ لو اس مال کثیر سے ” شیئا “۔ کچھ بھی چیز ” اتاخذونہ “۔ میں ہمزہ استفہام برائے توبیخ کے لیے ہے ، (آیت)” بھتانا واثمامبینا “۔ یہ دونوں منصوب ہیں ایک وجہ تو یہ ہے کہ منصوب ہے حروف جارہ کے حذف ہونے کی وجہ سے اور دوسرا مااضمر عاملہ کی وجہ سے تقدیری عبارت یوں ہوگی ” تصیبون فی اخذہ بھتانا واثما “۔
Ayah 4:2121۔ (آیت)” وکیف تاخذونہ “۔ یہ بھی استفہام بمعنی انکار ہی کے ہے ، (آیت)” وقد افضی بعضکم الی بعض “۔ اس سے مراد جماع ہے، افضاء کا اصل معنی یہ ہے کہ کسی چیز کی طرف پہنچنا بغیر کسی واسطے (آیت)” واخذن منکم میثاقا غلیظا “۔ حسن (رح) ، ابن سیرین (رح) ، ضحاک (رح) ، اور قتادہ (رح) ، کے نزدیک پختہ عہد سے مراد عورت کے ولی کا قول ہے کہ میں نے اس عورت کو تیرے نکاح میں ان شرائط وحقوق کے موجب دیا جو اللہ نے عورتوں کے لیے مردوں پر رکھے ہیں یعنی ضابطہ دستور کے مطابق نکاح میں رکھنا خوبی کے ساتھ آزاد کردینا ،
شعبی (رح) اور عکرمہ (رح) کا بیان ہے اس عہد سے مراد وہ مضمون ہے جو مسلم شریف کی حدیث میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرتے رہو تم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی امانتیں سمجھ کرلے رکھا ہے اور ان کی شرم گاہوں کو بحکم خدا اپنے لیے حلال بنایا ہے ، اس کلمہ کی بناء پر (آیت)” ولا تنکحوا ما نکح آباؤ کم من النسائ “۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنے باپ کی منکوحہ سے شادی کرتے تھے ، اشعث بن سوار کا بیان ہے ، جیسا کہ ابو قیس نیک انصاری شخص تھا قیس کے بیٹے نے ان کی بیوی کو نکاح کا خطبہ دیا ، اس نے کہا قیس میں تو تمہٰں اپنا بیٹا جانتا ہوں اور تو قوم کے نیک لوگوں میں سے بھی ہے اس کے بعد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر رسول اللہ ﷺ کو واقعہ کی اطلاع دی ، حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا اب تو اپنے چلی جا جا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
Ayah 4:2222۔ (آیت)” ولا تنکحوا ما نکاح ۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قد سلف “۔ بعض نے کہا کہ پہلے جو کچھ ہوچکا اس میں مؤاخذہ نہیں، بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں جو گناہ تم اس معاملے میں کرچکے ہو وہ معاف ہیں ،
” انہ کان فاحشۃ “۔ یعنی بےحیائی کا کام ہے ، کان صلہ ہے فاحشہ بدترین گناہ کو کہتے ہیں ” ومقتا “ یہ اللہ کے غضب کا باعث ہے ، مقت کہا جاتا ہے سخت ترین بغض ، وساء سبیلا “ یہ راستہ برا ہے عرب کے ہاں باپ کی بیوی سے کسی کا کوئی بیٹا ہوتا تو اس کو مقیت کہتے تھے اشعث بن قیس ، ابو معیط ، عمرو بن امیہ یہ مقیت ہی تھے ۔
عدی بن ثابت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میرا ماموں جھنڈا لیے میری طرف سے گزرا میں نے پوچھا کہا جا رہے ہو ، اس نے جواب دیا ایک شخص نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے اس کا سر لانے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا ہے۔