4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

مومنو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے پاس نہ جاؤ یہ آیت حرمت شراب کی آیت سے منسوخ ہے اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے پاس نہ جاؤ) جب تک کہ غسل (نہ) کرلو ہاں اگر بحالت سفر راستے چلے جا رہے ہو (اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کر کے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عوتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے منہ اور ہاتھ کا مسح (کر کے) تیمم کرلو بیشک خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

(تفسیر) 43۔: (آیت)” ایا ایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری “۔ (آیت)” ایا ایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکاری “۔ کی تفسیر) سکاری سے مراد سکر (نشہ) ہے، یہاں سکر سے مراد شراب کا ہے، اکثر حضرات کے نزدیک یہی قول ہے، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کھانا تیار کروایا اور ہم کو بلوایا اور شراب پلائی ، یہ واقعہ حرمت شراب سے پہلے کا ہے ، شراب کا نشہ جب ہم کو چڑھا اور نماز کا وقت آگیا تو لوگوں نے مجھ کو آگے بڑھایا میں نے پڑھا ” قل یایھا الکافرون ، اعبد ماتعبدون “۔ آخر تک اسی طرح بغیر لا کے پڑھا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، اس آیت کے نزول کے بعد نمازوں کے اوقات میں شراب نوشی سے بچتے تھے ، حتی کہ شراب کی حرمت کا نزول ہوا ، ضحاک بن مزاحم کا بیان ہے کہ یہاں سکر سے مراد نیند ہے جب نیند کا غلبہ ہو تو نماز سے منع فرمایا ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو اونگھ آئے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ لیٹ جائے یہاں تک کہ اس سے نیند چلی جائے کیونکہ جب تم اونگھ کی حالت میں نماز پڑھو تو ہوسکتا ہے استغفار کی جگہ بددعا نکل جائے (آیت)” حتی تعلموا ماتقولون ولا جنبا “ منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے نماز کے قریب نہ جاؤ جب تم حالت جنب میں ہو ، جیسا کہ کہا جاتا ہے فلاں آدمی جنبی ہے اور فلاں عورت جنبی ہے، ” ورجال جنب ونساء جنب “۔ لفظ جنب مرد و عورتوں دونوں کے لیے واحد استعمال ہوتا ہے، جنب اصل میں دوری کو کہا جاتا ہے جنبی کو جنبی اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ نماز کی جگہ سے بچتا ہے یا وہ لوگوں کی مجلس سے دور رہتا ہے اور لوگ بھی اس سے دور رہتے ہیں، یہاں تک کہ وہ غسل نہ کرلے (آیت)” الا عابری سبیل حتی تغتسلوا “۔ اس کے معنی میں اختلاف ہے ، بعض نے کہا کہ اگر وہ مسافر ہوں اور پانی نہ ملے تو تیمم کرلو ، جنبی کو نماز سے ممانعت ہے جب تک کہ وہ غسل نہ کرلے مگر یہ کہ وہ سفر میں ہو اور پانی نہ ملے تو تیمم کرلے، یہی قول حضرت علی ؓ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ؓ ، مجاہد (رح) ، کا ہے ، دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہاں صلوۃ سے مراد نماز پڑھنے کی جگہ ہے ” وبیع وصلوات “ اس کا معنی یہ ہوگا کہ تم مسجد کے قریب نہ جاؤ جب تم حال جنب میں ہو مگر وہاں سے نکلنے کے لیے گزر سکتا ہے ، مثال کے طور پر کوئی مسجد میں سویا ہوا ہے اور اس کو جنابت پہنچی یا مسجد میں پانی موجود ہے یا مسجد سے گزر کر جانا پڑتا ہے تو اس صورت میں وہ گزر سکتا ہے اور اس میں وہ ٹھہرے نہیں ، یہ قول عبداللہ بن مسعود ؓ ، سعید بن المسیب ؓ ، ضحاک (رح) ، حسن (رح) ، عکرمہ (رح) ، نخعی (رح) ، اور زہری (رح)، کا ہے ۔ انصار کے کچھ لوگوں کے گھر مسجد کی جانب تھے اور جب ان کو جنابت لاحق ہوتی اور ان کے پاس پانی موجود نہ ہوتا اور مسجد سے لانا پڑتا تو ان کو مسجد سے عبور (گزرنے) کی اجازت دی جاتی ۔ (جنبی کیلئے مسجد عبور کرنے کا حکم) اہل العلم کا اس میں اختلاف واقع ہوا کہ اس میں گزرنا جائز ہے یا نہیں ؟ بعض حضرات میں حسن (رح) ، امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) ، کے نزدیک وہ مسجد سے گزر سکتا ہے اور بعض حضرات کے نزدیک مطلقا منع فرمایا ہے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ وہ تیمم کرکے گزر سکتا ہے ، البتہ مسجد میں ٹھہرنا اکثر اہل علم کے نزدیک جائز نہیں جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسجد کی طرف سے دروازوں کا رخ پھیر دو کیونکہ کسی کے لیے مسجد میں (دخول) حلال نہیں کہ حائضہ یا جنبی اس سے گزر جائے۔ امام احمد (رح) نے اس میں ٹھہرنے کو جائز قرار دیا ہے اور اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ اس کے راوی مجہول ہیں ، یہی امام مزنی کا قول ہے ، اس طرح جنبی آدمی کے لیے طواف کرنا جائز نہیں ، جیسا کہ نماز پڑھنا جائز نہیں اور اس کیلئے قراۃ قرآن کریم بھی جائز نہیں ، عبداللہ بن مسلمہ ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کے پاس گیا اور عرض کیا کہ آپ ﷺ نے قضاء حاجت پوری کی اور میرے ساتھ گوشت کھایا اور قرآن کریم کی تلاوت فرمائی اور ان کو قرآن کریم پڑھنے سے کوئی چیز مانع نہیں بن رہی تھی ، مگر جنابت اور جنابت کا غسل ان دونوں امور میں سے کسی ایک کے لیے مانع ہے یا تو نزول منی کی وجہ سے یا التقاء ختانین کی وجہ سے اور وہ ہے حشفہ کا غائب ہونا فرج میں اگرچہ انزال ہو یا نہ ہو اور ابتداء اسلام میں یہ حکم تھا کہ التفاء ختانین اگر ہوجائے اور انزال نہ ہو تو غسل واجب نہیں ہوتا تھا لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا ، حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا التقاء ختانین کے حکم کے بارے میں تو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب التقاء ختانین ہوجائے یا عورت کی شرم گاہ مرد کی شرم گاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ (مریض کیلئے تیمم کرنے کا حکم) (آیت)” وان کنتم مرضی “ مریض کی جمع ہے یہاں مرض سے مراد وہ ہے جس میں پانی مس کرنے سے نقصان پہنچتا ہو، جیسا کہ پاؤں میں پھٹن ہو، یا دھونے والے اعضاء میں کوئی زخم ہو جو تلف ہونے کا اندیشہ ہو یا تکلیف بڑھ جانے کا اندیشہ ہو تو وہ تیمم کرے تو وہ تیمم کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے اگرچہ پانی موجود ہو ، البتہ اگر بعض اعضاء کی طہارت حاصل کرنا ممکن ہو اور بعض اعضاء زخمی ہوں تو زخمی اعضاء پر مسح کریں گے اور تندرست اعضاء کو دھوئیں گے۔ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں نکلے، ہم میں سے ایک شخص کو سر میں زخم پہنچا ، اس کو احتلام ہوگیا ، اس نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا میرے لیے تیمم کی رخصت موجود ہے، وہ کہنے لگے ہم تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے اور تم پانی پر قادر ہو ، اس صحابی نے غسل کیا اور زخم کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پا گیا ، جب وہ آپ ﷺ کے پاس پہنچے اور واقعہ عرض کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم نے اس کو قتل کردیا اور اللہ بھی تمہیں قتل کرے گا، ، تم نے کیوں نہیں پوچھا جب تمہارے پاس کوئی علم نہیں تھا ، بلاشبہ شفاء تو پوچھنے والے کے لیے ہے اس کے لیے تیمم کرنا کافی تھا، پرھ فرمایا یعصر ، یعصب، یعنی اس کے پٹی کے کپڑے پر مسح کرنا کافی تھا اور دوسرے اعضاء پر پانی ڈال دیتا ، اصحاب الرای نے تیمم اور غسل کے جمع کرنے کا حکم کیونکر دیا اور اس کا قول ہے اگر اکثر اعضاء تندرست ہوں تو صحیح اعضاء کو دھوئیں گے اور ان پر تیمم نہیں کریں گے ، اگر اکثر اعضاء زخمی ہوں تو پھر تیمم کریں گے ، مذکورہ حدیث اس بات پر مستدل ہے کہ دونوں کو جمع کرنا جائز ہے ۔ (آیت)” او علی سفر “۔ سفر خواہ طویل ہو یا قصیر ہو جب پانی نہ ملے تو تیمم کرکے نماز پڑھ لے لیکن نماز کا اعادہ نہ کرے ، حضرت ابی ذر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ دس سال تک پانی نہ ملے اور جب پانی مل جائے تو اس سے اپنے بالوں کو تر کرے اس میں تمہارے لیے بہتری ہے یا پھر وہ شخص مریض ہوگا لیکن مسافر نہیں ہوگا لیکن وہ پانی نہیں پائے ایسی جگہ پر جہاں پر پانی عام طور پر معدوم نہیں ہوتا، اس طور پر کہ وہ ایک ایسی بستی میں ہے کہ جس بستی میں عام طور پر پانی ختم نہیں ہوتا تو وہاں پانی نہ ملنے کی صورت میں وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے اور پھر وہ نماز کا اعادہ کرلے جب وہ پانی پر قدرت رکھے، یہ قول امام شافعی (رح) کا ہے اور امام مالک (رح) ، امام اوزاعی (رح) کے نزدیک اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے ، امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے کہ نماز کو مؤخر کرے گا یہاں تک کہ اس کو پانی نہ ملے ۔ (آیت)” اوجاء احد منکم من الغائط “۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب اس کو حدث لاحق ہوجائے، غائط کہا جاتا ہے زمین کی نشیبی جگہ کو ، عرب والے کہتے ہیں کہ بول وبراز کے لیے لوگ پست گڑھوں کی طرف ہی جاتے ہیں (آیت)” اولامستم النسائ “۔ حمزہ اور کسائی (رح) نے ” لمستم “ پڑھا ہے مائدہ میں اور باقی قراء نے (آیت)” لامستم النسائ “ پڑھا ہے ۔ (لمس اور ملامسۃ کی تفسیر میں آئمہ کے مختلف اقوال) لمس اور ملامستہ کے معنی میں اختلاف ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد جماع ہے ، یہی قول حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، والحسن (رح) ، مجاہد (رح) ، اور قتادہ (رح) ، کا ہے ، لمس سے مراد کنایہ جماع لیا ہے ، کیونکہ جماع لمس کے بغیر حاصل ہی نہیں ہوسکتا اور بعض حضرات نے کہا کہ دونوں چمڑوں کا آپس میں مل جانا یہی قول ابن مسعود ، ؓ ابن عمر ؓ ، امام شعبی (رح) ، اور نخعی (رح) ، کا ہے ۔ اس آیت کے حکم میں آئمہ کا اختلاف ہے، ایک جماعت کا قول ہے کہ جب عورت کا جسم مرد کے جسم کے ساتھ لگ جائے اور درمیان میں کوئی چیز حائل ہو نہیں ہوئی تو اس صورت میں ان دونوں کا وضو ٹوٹ جائے گا ۔ (لمس کے حکم میں ائمہ فقہاء کا اختلاف) یہی قول ابن عمر ؓ ، ابن مسعود ؓ کا ہے ، اور یہی قول فقہاء میں سے امام زہری ، اوزاعی ، شافعی (رح) کا ہے ، امام مالک (رح) ، لیث بن سعد (رح) ، امام احمد واسحاق (رح) ، کے نزدیک اگر یہ چھونا شہوت کے ساتھ ہو تو پھر طہارت ٹوٹ جائے گی اور اگر شہوت نہیں تھی تو پھر وضو نہیں ٹوٹے گا اور بعض حضرات کا قول ہے کہ وضو نہیں ٹوٹتا چھونے سے ، یہی قول حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ حسن بصری (رح) ، اور امام ثوری (رح) ، کا ہے ، امام ابوحنیفہ (رح) ، کا قول ہے کہ اس وقت تک وضو نہیں ٹوٹے گا جب تک کہ آلہ منتشتر نہ ہو اور اس حدیث سے استدلال کیا جس سے وضو واجب نہیں ہوتا ۔ سلمہ بنت عبدالرحمن ؓ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کرتی ہیں جو آپ ﷺ کی بیوی ہیں فرماتی ہیں کہ میں آپ ﷺ کے قریب سوئی ہوئی تھی اور میری ٹانگیں قبلے کی جانب تھیں جب آپ ﷺ سجدے میں جاتے تو میں پاؤں سمیٹ لیتی اور جب آپ ﷺ کھڑے ہوتے تو میں لمبی کرلیتی ، فرماتی ہیں کہ اس وقت گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک مرتبہ میں نے اپنے پاس موجود نہ پایا ، ہاتھ سے ٹٹول کر دیکھا تو میرا ہاتھ آپ کے قدم پر لگا اس وقت آپ ﷺ سجدے میں تھے اور آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے اے اللہ ! میں تیرے غضب سے تیری رضا مندی کی اور تیرے عذاب سے تیری معافی کی اور تجھ سے تیری ہی پناہ لیتا ہوں ، میں تیری حمد پوری پوری نہیں کرسکتا تو ایسا ہی ہے جیسی تو نے اپنی تعریف کی ہے امام شافعی (رح) نے اختلاف کیا ہے کہ اگر کسی نے اپنے محرم رشتہ دار عورت کو لمس کیا جیسے ماں ہے بیٹی ، یا بہن یا چھوٹی لڑکی صغیرہ اصح قول میں اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا ، اس لیے کہ وہ محل شہوت نہیں ہے جیسا کہ کسی نے مرد کو لمس کیا ہو تو اس پر وضو واجب نہیں ہوتا اور جس کو چھوا گیا ہے اس کا وضو ٹوٹے گا یا نہیں اس بارے میں دو قول ہیں ، پہلا قول یہ ہے کہ دونوں کا وضو ٹوٹ جائے گا اور وضو ٹوٹ جانے میں وہ برابر کے شریک ہیں ، جیسا کہ لذت حاصل کرنے میں دونوں مشترک تھے ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ملموسہ کا وضو نہیں ٹوٹے گا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی وجہ سے کہ آپ ﷺ کو ڈھونڈا تو میرا ہاتھ آپ ﷺ کے پاؤں مبارک کو لگا اس حال میں کہ آپ سجدے میں تھے اگر ملموسہ کا وضو ٹوٹ جاتا ہوتا تو آپ ﷺ نماز توڑ دیتے آپ ﷺ کا نماز نہ توڑنا اس بات کی علامت ہے کہ ملموسہ کا وضو نہیں ٹوٹتا ۔ اسی طرح اگر کسی نے عورت کے بالوں کو چھو لیا یا اس کے ناخنوں کو یا کسی اور عضو کو چھو لیا تو وضو نہیں ٹوٹے گا ، جان لیجئے کہ بےوضو شخص کی نماز اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک کہ وہ وضو کرکے نماز کو ادا نہ کرے یا تیمم کرکے اس کو ادا نہ کرے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کسی ایک کی نماز قبول نہیں ہوتی جب اس کو حدث لاحق ہوجائے اور وضو نہ کرلے حدث کہتے ہیں کہ دونوں فرجوں میں سے کسی ایک سے کوئی چیز کا نکلنا خواہ عین شی ہو یا اس کا کوئی اثر (ہوا وغیرہ) یا عقل مغلوب ہوجائے جنون کے ساتھ یا بیہوشی آجائے ۔ (نیند ناقض وضو ہے اس میں ائمہ کے مختلف اقوال) نیند ناقض وضو ہے کہ اس میں امام شافعی (رح) کا مذہب یہ ہے کہ اس پر وضو واجب ہے الا یہ کہ وہ کسی چیز کے ساتھ ٹیک لگا کا بیٹھے اگر اس طرح نہ بیٹھے تو اس پر وضو واجب نہیں ہوگا ۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین عشاء کے انتظار میں تو ان کو نیند آجاتی ، راوی فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سوتے حتی کہ اونگھ کی وجہ سے ان کے سر جھک جاتے ، پھر وہ نماز پڑھتے لیکن دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے اور بعض حضرات اس طرف گئے ہیں کہ نیند وضو کو اجب کرتی ہے ہر حال میں اور یہی قول حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا ہے اور فقہاء میں سے حسن بصری (رح) ، اسحاق اور مزنی (رح) کے نزدیک یہی قول ہے۔ بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ اگر کھڑے کھڑے سو جائے یا بیٹھ کر یا سجدے کی حالت میں تو اس پر وضو واجب نہیں یہاں تک کہ وہ چت لیٹ کر سو جائے اور یہی قول امام سفیان ثوری (رح) ، ابن المبارک (رح) کا بھی ہے ۔ (مس ذکر ناقض وضو ہے کہ نہیں ؟ ) شرمگاہ کو مس کرنے سے وضو کے واجب ہونے میں آئمہ کا اختلاف ہے ۔ بعض حضرات کے نزدیک اس پر وضو واجب ہوگا ، یہ قول عمر ؓ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ِ سعد بن ابی وقاص ؓ ، حضرت ابی ہریرہ ؓ ، اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا ہے ، اور یہی قول سعید بن المسیب ، سلیمان بن یسار ، عروہ بن زبیر ؓ کا ہے اور امام اوزاعی (رح) ، امام شافعی (رح) ، امام احمد (رح) ، امام اسحاق (رح) ، کا ہے اور اسی طرح عورت اپنے فرج کو چھولے ۔ امام شافعی (رح) کے علاوہ فقہاء کہتے ہیں کہ اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا مگر یہ کہ وہ اپنے ہاتھ کی ہتھیلی یا انگلیوں کے بطوں سے چھوئے ، ان حضرات کی دلیل وہ حدیث ہے ، عمرو بن جزم سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے عروہ بن زبیر ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں مروان بن الحکم کے پاس داخل ہوا، میں نے اس بات کا تذکرہ کیا جس سے وضو واجب ہوتا ہے مروان نے کہا کہ مس ذکر سے وضو واجب ہوتا ہے، عروہ نے کہا کہ آپ کو اس بات کا علم کیسے ہوا مروان نے کہا کہ مجھے بسرہ بنت صفوان نے خبر دی کہ میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو اسے چاہیے کہ وضو کرے۔ بعض حضرات کے نزدیک مس ذکر سے وضو واجب نہیں ہوتا ، یہی قول علیرضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ابن مسعود ؓ ، حضرت ابو الدرداء ؓ حذیفہ ؓ کا ہے ، حسن بصری (رح) ، سفیان ثوری (رح) ، ابن المبارک اور صحاب الرای کا یہی مذہب ہے، ان کی دلیل حضرت طلق بن علی ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے مس ذکر کے بارے میں پوچھا گیا تو ارشاد فرمایا کہ کیا وہ جسم کا ایک ٹکڑا نہیں ہے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ ایک حصہ یا ایک لوتھڑا نہیں ہے اور جن حضرات کے نزدیک وضو واجب نہیں ہوتا ، ان کے نزدیک یہ حدیث منسوخ ہے حدیث بسرہ کی وجہ سے کیونکہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح مروی ہے کہ وضو مس ذکر سے واجب ہوتا ہے اور یہ متاخر اسلام صحابی کا واقعہ ہے اور حضرت طلق بن علی ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس ہجرت کے اول زمانے میں آئے جب مسجد نبوی کی تعمیر ہو رہی تھی ۔ (خروج من غیر سبیلین ناقض وضو ہے یا نہیں ؟ ) نجاست کے خروج غیر سبیلین کے حکم میں بھی اختلاف ہے، مثلا کسی کو پھنسی پھوڑا نکلا یا حجامہ لگوایا یا قئی وغیرہ آئی تو بعض حضرات کے نزدیک اس سے وضوء واجب نہیں ہوتا ، یہی روایت عبداللہ بن عمر ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے ، عطاء (رح) ، طاؤس (رح) ، اور سعید بن المسیب (رح) ، اور امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) ، کا ہے اور بعض حضرات کے نزدیک قئی ، نکسیر ، حجامت سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ، یہی قول سفیان ثوری (رح) ، ابن المبارک (رح) اور اصحاب الرای ، احمد واسحاق کا بھی ہے ۔ (آیت)” فلم تجدوا ماء فتیمموا “۔ جان لو کہ تیمم اس امت کی خصوصیت میں سے ہے، حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے تین خصلتوں کے ساتھ فضیلت دی گئی کہ میری امت کی صفوں کو فرشتوں کی صفوں کی طرح بنایا اور روئے ارض کو میرے لیے مسجد بنائی اور اس کی مٹی کو میرے لیے پاس بنایا ، اگر پانی نہ ملے۔ (نزول تیمم کا واقعہ) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں آپ ﷺ کے ساتھ بعض اسفار میں گئی ، جب مقام یا ذات الجیش کی جگہ پہنچے تو میرا ہار گم ہوگیا ، آپ ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اس کی تلاش میں نکلے ہم میں سے کسی کے پاس پانی موجود نہیں تھا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے کیا نہیں دیکھتے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کیا کیا کہ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کس مشکل میں ہیں ؟ نہ ہمارے پاس پانی ہے اور نہ ہی ان کے پاس پانی موجود ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس آئے ، آپ ﷺ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی گود میں سررکھ کر سو رہے تھے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کہا کہ کیا تم نے آپ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو روک رکھا ہے ، نہ ہمارے پاس پانی موجود ہے اور نہ ہی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے پاس ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ مجھے عتاب کرنے لگے اور انہوں نے کہا جو کچھ اللہ نے چاہا اور میری کوکھ پر مارنے لگے ، میں نے کوئی حرکت نہیں کی کیونکہ آپ ﷺ کا سر مبارک میری گود میں تھا ۔ آپ ﷺ صبح کے قریب کھڑے ہوئے اس حال میں کہ پانی موجود نہیں تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی ہے ۔ ” فتیمموا “۔ اسید بن حضیر جو نقباء میں سے ایک ہیں کہنے لگے آگ ابی بکر آپ کی برکت ہے، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا ہم نے اس اونٹ لانے کو بھیجا جب ہو وہ اونٹ اٹھا تو اس کے نیچے سے ہار مل گیا ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں نے اسماء سے ایک قلادۃ (ہار) ادھار لیا تھا وہ مجھ سے گم ہوگیا آپ ﷺ نے چند صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اس کی تلاش میں بھیجا ، تلاش کرتے ہوئے نماز کا وقت ہوگیا ، انہوں نے بغیر وضو نماز پڑھی ، جب وہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو اس بات کی شکایت کی اس پر آیت تیمم نازل ہوئی اس پر اسید بن حضیر ؓ نے فرمایا کہ اللہ نے ہمیں بہتر بدلہ عطا فرمایا ۔ اللہ کی قسم اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا حکم نازل نہیں فرمایا جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے آسانی اور مسلمانوں کے لیے اس میں برکت عطا فرمائی ہو ” فتیمموا “ کا مطلب ہے کہ تم پاک مٹی کا ارادہ کرو ، ” صعیدا طیبا “۔ یعنی وہ پاک مٹی ہو صاف ستھری ہو ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ صعید سے مراد مطلق مٹی ہے ۔ (تیمم کس مٹی سے کیا جائے گا) اہل علم کا اس بات میں اختلاف ہے کہ کون سی مٹی کے ساتھ تیمم کیا جائے گا ، امام شافعی (رح) کے نزدیک ہر وہ چیز جس پر مٹی کا اطلاق کیا جاسکے اور جس کا ہاتھ پر غبار آجائے ، اس لیے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے مٹی کو پاک بنایا ۔ اور بعض اصحاب الرای کے نزدیک تیمم کو جائز قرار دیا ہے ، گچ ، چونے اور نورۃ کے ساتھ تیمم کرنا جائز ہے اور ہر وہ چیز جو زمین کی جنس سے ہو ، یہاں تک کہ انہوں نے کہا کہ اگر ایک پتھر پر ہاتھ مارا جس پر غبار نہیں تھا یا ایسی مٹی پر ہاتھ مارا جس پر غبار تھا اور ہاتھوں کو پھونک کر چہرے اور اعضاء پر مسح کیا تو جائز ہے، اور ان حضرات کا قول یہ ہے کہ پاک مٹی ہی صعید کو کہا جاتا اور جو زمین کے اوپر ہو وہ مراد ہے ، جیسا کہ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے زمین کو مسجد اور طہور بنایا ہے ، یہ حدیث مجمل ہے اور حضرت حذیفہ ؓ کی حدیث مٹی کی تخصیص میں مفسر ہے ، لہذا مجمل کو مفسر پر محمول کیا جائے گا اور بعض نے کہا کہ ہر وہ چیز جو زمین کے ساتھ متصل ہو خواہ وہ درخت ہوں یا نباتات اور اس کے ہم مثل اور فرمایا کہ صعید نام ہے جو زمین کے اوپر ہو ، مٹی کا قصد کرنا تیمم کی صحت کے لیے شرط ہے ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ” فتیمموا “ تیمم قصد کو کہتے ہیں یہاں تک کہ اگر آندھی آگئی اور کسی کے چہرے پر مٹی کا غبار آگیا تو اس نے تیمم کی نیت کی تو یہ درست نہیں ۔ (تیمم کی کیفیت کے متعلق ائمہ کے مختلف اقوال) (آیت)” فامسحوا بوجوھکم وایدیکم ان اللہ کان عفوا غفورا “۔ جان لیجئے کہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کا مسح تیمم میں واجب ہے اس کی کیفیت میں آئمہ کا اختلاف ہے ، اکثر اہل علم اس طرح گئے ہیں کہ چہرے اور ہاتھوں کا مسح کہنیوں کے ساتھ کریں گے ، دو ضربتین کے ساتھ ، ایک ضرب کے ساتھ وہ اپنے چہرے کا مسح کریں گے اور بالوں کی جڑ تک مٹی کا پہنچانا ضروری نہیں ، پھر دوسری ضرب کے ساتھ ہاتھوں کا کہنیوں سمیت مسح کریں گے ۔ حضرت ابی حویرث ؓ سے روایت ہے وہ اعرج سے روایت کرتے ہیں اور وہ ابی صمتہ سے روایت کرتے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس سے گزرے اور وہ پیشاب کر رہے تھے کہ میں نے سلام کیا انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس گئے اور اس کو اپنی لاٹھی کے ساتھ کھرچا ، پھر اس دیوار پر ہاتھ مار کر مسح کیا اور میرے سلام کا جواب دیا یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ یدین کے ساتھ مرفقین پر مسح کرنا فرض ہے اور اس بات کی دلیل ہے کہ تیمم صحیح نہیں جب تک کہ مٹی کا غبار ہاتھوں کو نہ لگے ، کیونکہ آپ ﷺ نے دیوار کو کھرچا اپنی لاٹھی کے ساتھ ، اگر محض ضرب ہی کافی ہوتی غبار کا لگنا ضروری نہ ہوتا تو آپ ﷺ اس کو نہ کھرچتے ۔ امام زہری کا قول ہے کہ بازوں کا مسح کندھے تک کریں گے ، جیسا کہ عمار سے مروی ہے کہ ہم کندھوں تک مسح کرتے تھے یہ ان کا اپنا قول ہے ، آپ ﷺ سے یہ منقول نہیں جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ وہ جنبی ہوئے اور وہ زمین کے ساتھ لوٹ پوٹ ہوئے جب آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ہاتھوں اور چہرے کے مسح کا حکم دیا ۔ اور ایک جماعت کا قول ہے کہ تیمم ایک ہی ضرب کے ساتھ کریں گے جو چہرے اور کفین کے لیے ہوگی ، یہی قول علی ؓ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، کا ہے اور یہی قول فقہاء میں سے شعبی (رح) ، عطاء بن ابی رباح (رح) ، مکحول (رح) ، کا ہے اور اسی طرح امام اوزاعی (رح) ، احمد (رح) ، اسحاق (رح) کا ہے ، انہوں نے اس حدیث سے دلیل ذکر کی ہے حضرت عمر بن خطاب ؓ روای ہیں ، فرماتے ہیں کہ ان ایک شخص آیا اس نے عرض کیا کہ میں جنبی ہو اور پانی نہیں پایا ، عمار بن یاسر ؓ نے عمر بن الخطاب ؓ سے کہا کہ ہم دونوں سفر میں تھے ، آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی جبکہ میں نے زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھی ، اس واقعہ کا تذکرہ آپ ﷺ نے کے سامنے کیا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آپ کے لیے اتنا کافی تھا اور پھر آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور اس کو پھونکا پھر اس کے ساتھ پانے چہرے اور ہاتھ پر مسح کیا ۔ شعبہ کی روایت میں ہے کہ عمار بن یاسر ؓ نے عمر بن الخطاب ؓ سے ذکر کیا کہ میں لوٹ پوٹ ہوا مٹی میں پھر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چہرے اور دونوں کفین کا مسح کرنا کافی تھا ، یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب جنبی آدمی پانی نہ پائجے تو تیمم کرکے نماز پڑھے ، اس طرح حائضہ اور نفساء کے لیے یہی حکم ہے کہ جب انکو پانی نہ ملے تو تیمم کر کے نماز پڑھے ، عمر وابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جنبی آدمی تیمم کرکے نماز نہ پڑھے بلکہ نماز کو مؤخر کرلے جب تک اسے پانی نہ ملے ، اس کو محمول کیا ہے ” اولمستم النساء “ لمس بالید مراد ہے نہ کہ جماع اور حدیث عمار اس پر حجت ہے اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ابن مسعود ؓ نے اپنے قول سے رجوع فرما لیا اور جنبی کے لیے کو جائز قرار دیا ۔ حضرت عمران بن حصین ؓ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو حکم دیا جب وہ حالت جنب میں تھا کہ وہ تیمم کرے پھر نماز پڑھے ، جب وہ پانی پائے تو غسل کرلے ، حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مال غنیمت جمع ہوگیا تھا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے ابو ذر ؓ ! اس کی تقسیم میں ابتداء کرو ، میں زندہ والوں سے اس کی ابتداء کی وہاں پر مجھے جنابت پہنچی تھی ، میں پانچ یا چھے دن رکا رہا ، اسی دوران کوئی نماز ادا نہیں پھر میں آپ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے فرمایا ، اے ابو ذر ! میں خاموشی سے کھڑا رہا اور عرض کیا اے ابوذر تیری ماں تجھے گم کرے، پھر آپ ﷺ نے ایک کالی لونڈی کو بلوایا اور ایک ٹب لے آئی اور اس میں پانی تھا ، اس کو کپڑے سے ڈھانپا ہوا تھا ، پھر میں نے غسل کیا ، مجھے یوں لگ رہا تھا کہ میراوپر پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے، اگرچہ اس کو دس سال پانی نہ ملے ، جب پانی ملے تو اس سے غسل کرو کیونکہ اس میں تمہارے لیے بہتری ہے ، تیمم میں چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا جائے گا اور کبھی کبھار یہ مسح بعض اعضاء کے غسل کا قائم مقام ہوجاتا ہے ، اس طور پر کہ بعض اعضاء زخمی ہوں اور بعض درست ہوں تو زخمی اعضاء پر مسح کیا جائے گا ، یہ مسح کرنا اس کے غسل کے لیے کافی ہوجائے گا غسل کا بدل بنا جائے گا ۔ (تیمم طہارت مطلقہ ہے) تیمم نماز کے وقت کے لیے صحیح نہیں مگر وقت کے داخل ہونے کے بعد اور ایک تیمم کے ساتھ دو فرضوں کو جمع کرنا جائز نہیں ۔ ” عند الشوافع “۔۔۔۔۔۔۔ فلم تجدوا ماء فتیمموا “۔ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب نماز کے وقت مین کوئی پانی نہ پائے تو اس کو چاہیے کہ وہ تیمم کرلے، مگر ایک وضوء کے ساتھ کئی نمازیں ادا کرسکتا ہے ، جیسا کہ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن کئی نمازیں ایک وضوء سے ادا کیں ، تیمم اس صورت میں باقی رہا یہ قول علی ؓ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا ہے اور فقہاء میں سے ، امام شعبی (رح) ، امام نخعی (رح) ، قتادہ (رح) ، امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) ، امام احمد (رح) ، اور اسحاق (رح) کا ہے اور ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ تیمم کی طہارت وضوء کی طہارت کی طرح ہے جس طرح وقت سے پہلے وضو کرنا جائز ہے اسی طرح وقت سے پہلے تیمم کرنا جائز ہے اور اس وضو سے جتنی چاہے نمازیں پڑھ سکتا ہے ، اسی طرح تیمم کا بھی حکم ہے جب تک کہ اس کو حدث لاحق نہیں ہوئی ، یہی قول سعید بن المسیب (رح) ، حسن (رح) ، زہری (رح) ، سفیان ثوری (رح) ، اور اصحاب الرای کا یہی مذہب ہے ۔ اس بات میں اتفاق ہے کہ ایک تیمم سے جتنا چاہیں فرائض میں سے ادا کریں اور ان فرائض کے ساتھ نوافل ادا کریں ، خواہ وہ نوافل فرائض سے پہلے ہوں یا بعد میں اور تیمم کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرنا جائز ہے اگرچہ جنبی ہو اور اگر تیمم کرکے نماز پڑھی سفر کی ھالت میں یا پانی نہ ملنے کی صورت میں تو پھر پانی کا طلب کرنا ضروری ہے ، اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی سواری میں یا اپنے ساتھیوں کے پاس پانی کو تلا ش کرے اور اگر وہ شخص صحراء میں ہے تو جہاں تک اس کی نظر پہنچتی ہے وہاں تک اس کا پانی تلاش کرنا ضروری ہے اور اگر دیکھنے میں آگے کوئی دیوار حائل ہے تو اس کے پیچھے بھی تلاش کرے کیونکہ اللہ رب العزت کا فرمان (آیت)” فان لم تجدوا ماء فتیمموا “۔ اس آیت میں ” لم یجد “ ارشاد نہیں فرمایا ۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک پانی کو تلاش کرنا شرط نہیں ، اگر اس کو پانی نظر تو آگیا لیکن اس پانی اور متیمم کے درمیان کوئی دیوار یا دشمن حائل ہے جو پانی تک پہنچنے میں حائل ہے یا پانی کنویں میں موجود تھا اس پانی کو نکالنے کے لیے کوئی ڈول وغیرہ نہیں ہے تو یہ ایسا ہی جیسا پانی نہ پانے والا ۔
Ayah 4:44

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا تھا کہ وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے بھٹک جاؤ

تفسیر) 44۔: (آیت)” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتاب “ ۔ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت رفاعہ بن زید مالک بن دخشم کے بارے میں نازل ہوئی جب یہ آپ ﷺ سے بات کر رہے تھے کہ زبانوں کو گھماپھرا کر آپ ﷺ پر عیب لگاتے تھے۔ ” یشترون “ کہ وہ کلام کو تبدیل کر رہے تھے ” ضلالۃ “ ہدایت سے گمراہی (آیت)” ویریدون ان تضلوا السبیل “۔ مؤمنین کے راستوں سے ہٹا دیں گے۔
Ayah 4:45

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز اور کافی مددگار ہے

(تفسیر) 45۔: (آیت)” واللہ اعلم باعدائکم “۔ تم میں سے ہیں ، تم ان کو نصیحت نہ کرو کیونکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ، (آیت)” وکفی باللہ ولیا وکفی باللہ نصیرا “۔ یعنی اللہ ہی ان کا حامی کافی ہے اور اللہ ہی مددگار کافی ہے ۔
Ayah 4:46

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

اور یہ جو یہودی ہیں ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا اور سنیئے نہ سنوائے جاؤ اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کی راہ (تم سے گفتگو کے وقت) راعنا کہتے ہیں اور اگر یوں کہتے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے) تو انکی حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی درست ہوتی لیکن خدا نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے تو یہ کچھ تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں

46۔ (آیت)” من الذین ھادوا “ یہ متصلہ ہے اس جملہ کے ساتھ (آیت)” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتاب “۔ بعض نے کہا کہ یہ جملہ مستانفہ ہے ، معنی اس کا یہ ہوگا کیا وہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں جو اس میں تحریف کرتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وما منا الا لہ مقام معلوم “۔ ان کی منزل کسی کو معلوم نہیں ۔ ان میں سے ایک فریق یہ ارادہ کرتا ہے (آیت)” یحرفون الکلم “۔ اللہ کی باتوں کو متغیر کرنے والے ” عن مواضعہ “۔ آپ ﷺ کی صفات کو تبدیل کرنے والے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ یہود آپ ﷺ کے پاس تشریف لاتے تھے اور کسی کام کے بارے میں سوال کرتے تھے ، آپ ﷺ ان کو خبر دیتے پھر جب وہ دیکھتے کہ وہ واقع ہونے والا ہے تو اس کام میں وہ تحریف کرنے لگتے ، (آیت)” ویقولون سمعنا “۔ اور وہ یہ کہتے کہ ہم نے فلاں سنا ۔ ” وعصینا “ اور آپ ﷺ کے بات میں نافرمانی کرتے (آیت)” واسمع غیر مسمع “۔ یعنی یہ تم نے ہم سے سنا اور ہم نے تم سے نہیں سنا (آیت)” غیر مسمع “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ غیر مقبول ہے اور بعض نے کہا کہ کبھی تو وہ یہ کہتے کہ ہم نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے سنی اور کبھی کہتے کہ ہم خود اس بات کو بیان کر رہے ہیں ، ہم نے کسی سے یہ بات نہیں سنی ۔ ” وراعنا “ اور وہ راعنا “ کہتے اس راعنا سے ان کا ارادہ ” رعونۃ “ ہوتا جو کہ ایک بددعا ہے ” لیابالسنتھم “۔ اپنی زبانوں کو تحریف کرنے کی غرض سے موڑتے تھے ” وطعنا “ اور دین میں جرح کرتے ۔ (آیت)” فی الدین “ ان کا قول راعنا مراعاۃ سے ہے اور وہ تحریف کرتے ہیں اور اس سے ان کا مطلب ” رعونۃ “ ہے ۔ (آیت)” ولوانھم قالوا سمعنا واطعنا واسمع وانظرنا “۔ یعنی راعنا کی جگہ ” انظرنا “۔ کہو، (آیت)” لکان خیرا لھم واقوم “۔ یہی زیادہ انصاف اور ثواب ہے ۔ ” ولکن لعنھم اللہ بکفرھم فلا یؤمنون الا قلیلا “۔ وہ قلیل جماعت تھی ان میں سے عبداللہ بن سلام ؓ اور جو ان کے ساتھ اسلام لائے وہ مراد ہیں ۔
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے کتاب والو ! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے مونہوں کو بگاڑ کر ان کو پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہیں کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لاؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہوچکا

47۔ (آیت)” یایھا الذین اتوالکتاب “ اس سے خطاب یہود کو تھا (آیت)” امنوا بما نزلنا “ اس سے مراد قرآن پاک ہے ۔ (آیت)” مصدقالما معکم “۔ اس سے تورات مراد ہے یہ کہ نبی کریم ﷺ نے یہود کے احبار سے بات کی ، ان میں عبداللہ بن صوریا اور کعب بن اشرف بھی تھے ۔ فرمایا اے یہود کی جماعت کہ تم اللہ سے ڈرو اور اسلام لے آؤ ، اللہ کی قسم ! بیشک تم جانتے ہو کہ جو کچھ میں تمہارے پاس لایا ہوں وہ محض حق ہی تو ہے ، وہ کہنے لگے ہم تو نہیں جانتے اور وہ کفر پر ڈٹے رہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” من قبل ان نطمس وجوھا “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ اونٹ اپنے کھروں سے ان کو کچلیں گے ، قتادہ اور ضحاک رحمہما اللہ کا قول ہے کہ ان کو اپنی کوہان کے ساتھ روندیں گے ، وجہہ سے مراد آنکھ ہیں ۔ (علی ادبارھا کی مختلف تفسیریں) (آیت)” فنردھا علی ادبارھا “۔ یعنی ہم ان کے چہروں کو پھیر دیں گے اور گدی کی طرف لے جائیں گے ، بعض نے کہا کہ ہم ان کے چہروں کو بالوں کے اگنے کی جگہ قرار دے دیں گے جیسا کہ بندروں کے چہرے ہوتے ہیں کیونکہ آدمیوں کے بالوں کی اگنے کی جگہ سر کی پچھلی جانب ہے نہ کہ چہرے کی جانب۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے چہروں کے آثار مٹا دیں گے نہ اس میں ناک ہوگی نہ کان اور نہ ہی آنکھیں ہوں گی اور ہم ان کو گدی کی طرح بنالیں گے اور بعض کا قول ہے کہ ہم ان کی آنکھوں کو گدی کی طرف لگا دیں گے تو یہ الٹے پاؤں چلیں گے ، عبداللہ بن سلام ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ جب میں نے ان سے یہ آیت سنی تو میں آپ ﷺ کے پاس آیا ، اپنے گھر والوں کے پاس جانے سے پہلے اور میرے ہاتھ میرے چہرے پر تھے کہ کہیں اس آیت کی وجہ سے میرا چہرہ تبدیل نہ ہوگیا ہو اور میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول ! ﷺ میں یہ بات دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ کے پاس یہ بات پہنچی ہے کہ قیامت کے دن چہرے کو گدی کی طرف پھیر دیا جائے گا ، اسی طرح کعب احبار نے جب یہ آیت سنی جو حضرت عمر ؓ کے زمانے میں اسلام لائے تھے اور انہوں نے کہا کہ اے ہمارے رب ! ہم اس پر ایمان لائے ، اے ہمارے رب ! ہم تسلیم کرتے ہیں ان خوف وڈر سے کہ وہ وعید کا مستحق نہ بن جائے ۔ (ایک شبہ اور اس کا ازالہ) اگر یہ سوال کیا جائے کہ اللہ نے ان کے چہروں کے پھیرنے کا وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے حالانکہ وہ ایمان نہیں لائے اور ان کے چہروں کو پھیرا بھی نہیں گیا ۔ جواب دیا کہ یہ وعید ابھی باقی ہے ، یہ چہروں کا پھرجانا اور مسخ ہونا یہودیت میں ہوگا قیامت سے پہلے پہلے ۔ بعض نے کہا کہ اس وعید کا تعلق ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ جب عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اسلام لے آئے تو یہ وعید باقیوں سے ساقط ہوگئی اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد قیامت ہے کہ قیامت کے دن ان کے چہروں کو گدی کو طرف پھیرا جائے گا ، مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم ان کو گمراہی میں مبتلا رکھیں گے ، اس صورت میں طمس سے مراد قلب کا پھرنا ہے گویا ان کو ہدایت سے گمراہی کی طرف پھیرا گیا ، کفر اور ضلالت کی طرف ، طمس اصل میں مٹانے کو کہا جاتا ہے ۔ ابن زید کا بیان ہے کہ آیت میں طمس سے مراد یہ ہے کہ ہم مدینہ میں ان کا نشان مٹا دیں گے اور پشت کے بل اسی طرف کو لوٹادیں گے جس طرف سے آئے تھے یعنی ملک شام اور کہا کہ گویا بنی نضیر کو ملک شام کے علاقہ اذرعات اور اریکا میں جلا وطن کہہ دینا اس آیت کی تاویل ہے ۔ (آیت)” اونلعنھم کما کما لعنا اصحاب السبت “۔ یعنی ہم ان کو بندر اور خنزیر بنادیں گے ۔ (آیت)” وکان امر اللہ مفعولا “۔
Ayah 4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا

(ان اللہ لا یغفر کا شان نزول) (تفسیر) 48۔: (آیت)” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ “۔ اس آیت کا نزول وحشی بن حرب اور اس کے ساتھیوں کے متعلق ہوا ، وحشی نے حضرت حمزہ ؓ کو شہید کردیا ، حضرت حمزہ ؓ کی شہادت پر اس سے آزادی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا ، جب وہ لوٹ کر مکہ پہنچا تو اس کو اور اس کے ساتھیوں کو حضرت حمزہ ؓ کو شہید کرنے پر بڑی پشیمانی ہوئی اور ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو لکھا کہ ہم کو اپنی کی ہوئی حرکت پر پشیمانی ہے اور مسلمان ہونے سے ہم کو صرف یہ امر مانع ہے کہ جب آپ مکہ میں تھے تو کہتے تھے (آیت)” والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر “۔ ہم نے دوسروں کو معبود بھی بنایا ہے اور ناحق قتل بھی کیا ہے اور زنا بھی کیا ہے ، اگر یہ آیات نہ ہوتیں تو ہم آپ کے پیچھے ہوجاتے ، اس پر یہ آیت ” الا من تاب وامن و عمل عملا صالحا “۔ نازل ہوئی ، جب یہ دونوں آیات نازل ہوئیں تو آپ ﷺ نے یہ دونوں آیات وحشی اور اس کے ساتھیوں کو لکھ بھیجیں ۔ ان لوگوں نے پھر حضور ﷺ کو لکھا کہ یہ شرط بہت سخت ہے ہم کو خوف ہے کہ ہم نے نیک عمل کیا ہی نہیں ہوگا ، اس پر یہ آیت (آیت)” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ “۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” ویغفر ما دون ذلک لمن یشائ “۔ نازل ہوئی اور حضور اقدس ﷺ نے یہ آیت لکھ کر ان کو بھیج دی ، اس پر انہوں نے کہا کہ ہم کو اس بات سے خوف و اندیشہ ہے کہ ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہوں گے جن کی مغفرت کی مشیت ہوگی ، اس پر یہ آیت ” یاعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “۔ نازل ہوئی ، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت لکھ کر بھیجی جب ان کو یہ آیت پہنچی تو وہ اسلام لے آئے اور آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ ﷺ نے ان کا اسلام قبول کرلیا پھر وحشی سے فرمایا کہ بتا جو کہ تو نے حضرت حمزہ ؓ کو کس طرح شہید کیا اور اس نے ساری کیفیت بیان کردی ، یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا ، تیرا برا ہو ، مجھ سے اپنا چہرہ دور فرما ، چناچہ وحشی شام کو چلے اور مرتے دم تک وہیں رہے ۔ ابو مجلز نے ابن عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” قل یا عبادی الذین اسرفوا علی انفسھم “۔ تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا شرک کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا ارشاد ہے ، آپ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا اس نے پھر دو یا تین بار کھڑے ہو کر وہی سوال کیا تو (آیت)” ان اللہ لا یغفر “۔ نازل ہوئی ۔ ؛ مطرف بن عبداللہ شخیر کا بیان ہے کہ ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کوئی شخص گناہ کبیرہ کی حالت میں بغیر توبہ کیے مرجاتا تو ہم کہتے تھے یہ دوزخی ہوا ، یہاں تک کہ مذکورہ آیت نازل ہوئی ۔ اس کے بعد ہم کبیرہ گناہ کے دوزخی ہونے کی شہادت دینے سے رک گئے ، حضرت علی ؓ کی روایت منقول ہے کہ قرآن مجید میں سب سے پرامید یہ آیت ہے (آیت)” ویغفر مادون ذلک لمن یشائ “۔ ۔۔۔۔۔۔ ومن یشرک باللہ فقد افتری “۔ افتری کا معنی ہے بگاڑنا ” اثما عظیما “۔ حضرت جابر ؓ کی روایت ہے فرمایا کہ آپ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اس نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ کون سی سی دو باتیں واجب کرنے والی ہیں ، فرمایا جو شخص شرک نہ کرنے کی حالت میں مرا وہ جنت میں گیا اور جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کیا اور وہ اس حالت میں وفات پا گیا تو وہ دودزخ میں جائے گا ،۔ حضرت ابوذر ؓ کی روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ ﷺ اس وقت سفید کپڑا اوڑھے سو رہے تھے، پھر گیا تو آپ بیدار ہوچکے تھے ارشاد فرمایا جو بندہ ” لا الہ الا اللہ “ کا قائل ہو پھر اسی پر مرجائے وہ ضرور جنت میں جائے گا ، میں نے عرض کیا اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو ، فرمایا اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو ، فرمایا اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو ، میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو ، فرمایا اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو میں نے (تیسری مرتبہ ) کہ اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو (پھر بھی وہ جنت میں جائے گا) ابوذر ؓ کی ناک خاک آلود ہو ، حضرت ابوذر ؓ جب بھی اس حدیث کو بیان کرتے تو آخری جملہ ضرور ابوذر ؓ کی ناک خاک آلود ہو فرماتے ۔
Ayah 4:49

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہتے ہیں ؟ نہیں بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

(الم ترا لی الذین یزکون “ کا شان نزول) (تفسیر) 49۔: (آیت)” الم ترا لی الذین یزکون انفسھم “۔ کلبی (رح) کا بیان ہے کہ اس آیت کا نزول یہودی مردودں کے بارے میں ہوا جن میں بحری بن عمرو ، نعمان بن اوفی ، مرحب بن زید بھی تھے ، یہ اپنے چھوٹے بچوں کو لے کر آپ ﷺ کی خدمت گرامی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے محمد ﷺ کیا ان پر کوئی گناہ ہوسکتا ہے ؟ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ، نہیں کہنے لگے تو ہم بھی انہی کی طرح ہیں دن میں ہم جو کچھ کرتے تھے ان کو رات میں معاف کردیا جاتا ہے اور رات کو جو کام کرتے ہیں دن میں ان کا کفارہ ہوجاتا ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ مجاہد (رح) اور عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ وہ اپنے بچوں کو نماز میں آگے مقدم رکھتے تھے اور یہ گمان کرتے تھے کہ ان پر کوئی گناہ نہیں ، اس وجہ سے ان کا تزکیہ کیا گیا، حسن (رح) ، ضحاک (رح) ، قتادہ (رح) ، اور مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ آیت یہود و نصاری کے بارے میں نازل ہوئی ، جب انہوں نے کہا (آیت)” نحن انصار اللہ واحبائہ “۔ کہ ہم خدا کے بیٹے اور چہیتے ہیں اور ساتھ یہ بھی کہا (آیت)” وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا اونصاری “۔ یہودیوں اور عیسائیوں کے علاوہ جنت میں کوئی نہیں جائے گا ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا اہل کتاب آپس میں تزکیہ کرتے تھے یعنی ایک دوسرے کو گناہوں سے پاک کہتا تھا ۔ طارق بن شہاب (رح) کی روایت ہے کہ ابن مسعود ؓ کا قول ہے کہ بعض دین دار آدمی صبح کو اپنے گھر سے نکلتے تھے اور کسی ایسے شخص سے جا کر ملتے جس سے نہ ان کا جانی نفع نقصان وابستہ ہوتا نہ مالی لیکن ان کو خوش کرنے اور ان کی تعریف کرنے کے لیے کہتے خدا کی قسم ! آپ تو ایسے ایسے ہیں جب یہ گھر لوٹ کر آتے تو دین کا کوئی حصہ ان کے پاس باقی نہیں ہوتا تھا ، یہ فرمانے کے بعد حضرت ابن مسعود ؓ نے یہ الم ترا لی الذین یزکون انفسھم “۔ تلاوت فرمائی ۔ (آیت)” بل اللہ یزکی “ وہ اس کو پاک کردیتا ہے اور گناہوں سے بری کردیتا ہے اور اصلاح حال کردیتا ہے ، (آیت)” من یشاء ولا یظلمون فتیلا “۔ سوئی کے ناکے کے برابر سوراخ کو فتیل کہا جاتا ہے ، اہل لغت کے نزدیک کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں جو ریشہ یا سونتا ہوتا ہے اس کو فتیل کہا جاتا ہے اور نقیر اس جھلی کو کہتے ہیں جو کھجور کی گٹھلی پر ہوتی ہے اور بعض نے کہا کہ وہ دھاگہ یا میل کی بتی ہے جو آدمی دو انگلیوں کے درمیان بٹتا ہے۔
Ayah 4:50

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ (طوفان) باندھتے ہیں اور یہی گناہ صریح کافی ہے

50۔ ” انظر “ خطاب حضرت محمد ﷺ کو ہے (آیت)” کیف یفترون علی اللہ “۔ وہ اللہ پر کیسے اختلاف کرتے ہیں ۔ ” الکذب “ کتاب کے اندر ردوبدل کرکے ۔ ” وکفی بہ “ یہ جھوٹ گناہ کی انتہاء ہے ۔ (آیت)” اثما مبینا “۔
Ayah 4:51

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب کا حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطانوں کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے راستے پر ہیں

(جبت اور طاغوت کی شرح) (تفسیر) 51۔ـ: (آیت)” الم تر الی الذین ۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ بالجبت والطاغوت “۔ جبت اور طاغوت کی شرح میں آئمہ مفسرین کا اختلاف ہے، عکرمہ (رح) کا قول ہے کہ یہ دو بتوں کا نام ہے جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے، ابوعبیدہ ؓ کا قول ہے کہ اللہ کے علاوہ ہر باطل معبود کو کہتے ہیں (آیت)” ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت “۔ حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ جبت سے مراد جادو ہے اور طاغوت سے مراد شیطان ہے ، یہ قول امام شعبی (رح) اور مجاہد (رح) کا ہے ۔ بعض نے کہا کہ جبت بتوں کو کہتے ہیں اور طاغوت شیطان کے بتوں کو کہتے ہیں اور ہر بت کو شیطان سے تعبیر کیا گیا ، محمد بن سیرین اور مکحول کا بیان ہے ، کہ جبت کاہن کو کہتے ہیں اور طاغوت جادوگر کو کہتے ہیں ، سعید بن جبیر ؓ اور ابو عالیہ (رح) کا قول ہے کہ جبت حبشہ کی زبان میں جادوگر کو کہتے ہیں اور باغوت کاہن کو کہتے ۔ ؛ عکرمہ (رح) سے روایت ہے کہ جبت حبشہ کی زبان میں شیطان کو کہتے ہیں اور ضحاک (رح) کا قول ہے کہ جبت سے مراد حیی بن اخطب ہے اور طاغوت سے مراد کعب بن اشرف ہے ، اس کی دلیل قرآن پاک کی یہ آیت ” یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت “۔ قطن بن قبیصہ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عیافۃ (پرندوں کے نام اور ان کے گزرنے سے نیک یا بدشگونی لینا) ورطرق (پتھر مارنا اور بدشگونی لینا) اور پرندوں کے دائیں بائیں سے اڑ کر جانا اپنے مقاصد کو اچھا یا برا کہنا جبت میں سے ہے جس کے اندر کوئی خیر نہیں اور طاغوت ہر وہ چیز جو انسان کو سرکشی پر ابھارتی ہے ۔ (کعب بن اشرف کا واقعہ) (آیت)” ویقولون للذین کفروا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سبیلا “۔ مفسرین کرام کا قول ہے کہ جب کعب بن اشرف ستر گھڑ سواروں کو لے کر مکہ کی طرف روانہ ہوا ، احد کے واقعہ کے بعد تاکہ قریش کو آپ ﷺ کے خلاف ابھاروں اور اس عہد کو توڑ دوں جو ان دونوں کے درمیان تھا ۔ کعب ابی سفیان کے پاس آیا اس نے اس کو بہترین ٹھکانہ دیا ، یہ دونوں قریش کے گھروں میں گئے اور اہل مکہ کو کہا کہ تم اہل کتاب ہو اور محمد ﷺ صاحب کتاب ہے اور ہم اس کے مکروفریب سے امن میں نہیں ہیں ۔ (نعوذ باللہ) اگر تم اس بات کا ارادہ کرو تو ہم اس کو یہاں سے نکال دیں ، پھر انہوں نے ان دونوں بتوں کو سجدہ کیا اور اس پر ایمان لائے ، اس کی طرف اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” یؤمنون بالجبت والطاغوت “۔ پھر کعب نے اہل مکہ سے کہا تدبیر یہ ہے کہ تیس آدمی تمہارے اور تیس ہمارے تمہارے کعبہ سے چمٹ کر معاہدہ کرلیں کہ محمد کے خلاف جنگ کرنے کی ہم مل کر کوشش کریں گے ، پھر ابو سفیان نے کعب سے کہا تم اپنا دین میرے اور پیش کرو ، ابو سفیان نے کہا کہ ہم حاجیوں کے لیے کوہان والی اونٹنیاں ذبح کرتے ہیں ان کو پانی پلاتے ہیں مہمانوں کو ٹھہراتے ہیں قیدیوں کو رہا کراتے ہیں ، رشتہ داری کو جوڑتے ہیں ، اپنے رب کے گھر کو آباد رکھتے ہیں اور اس کا طواف کرتے ہیں اور ہم اہل حرم ہیں اور محمد نے باپ دادا کو دین چھوڑ دیا ، رشتہ داریاں کاٹ دیں ، حرم کو چھوڑ گیا ، ہمارا مذہب قدیم ہے محمد ﷺ کا مذہب نیا ہے یہ سن کر کعب بولا خدا کی قسم ! تم محمد کے راستے سے زیادہ صحیح راستے پر ہو ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتاب “۔ الکتاب سے مراد کعب اور اس کے ساتھی ہیں ، (آیت)” یؤمنون بالجبت والطاغوت “۔ سے مراد ان کے بت ہیں ، (آیت)” ویقولون للذین کفروا “۔ سے مراد ابو سفیان اور اس کے ساتھی ہیں (آیت)” ھولاء اھدی من الذین امنوا “۔ اس سے مراد محمد ﷺ اور اس کے ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں ۔
Ayah 4:52

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

(تفسیر) 52۔: (آیت)” اولئک الذین ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔ فلن تجدلہ نصیرا ‘ ؓ
Ayah 4:53

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے کہ تم لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں گے

53۔ (آیت)” ام لھم “۔ ان کا گمان ہے ، ام منقطعہ اور استفہام انکاری ہے ۔ ” نصیب “ بمعنی حصہ ہے (آیت)” من الملک “۔ یہ استفہام انکاری ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں ان کی کوئی چیز نہیں ہے ، اگرچہ ان کا خیال ہے کہ ان کو کچھ ملکی سیادت نصیب ہوجائے گی (آیت)” فاذا لا یؤتون الناس نقیرا “۔ حسد اور بخل کی وجہ سے ، نقیر وہ نقطہ جو کھجور کی گٹھلی میں ہوتا ہے اور اس سے کھجور اگتی ہے۔
Ayah 4:54

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا جو خدا نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کا حسد کرتے ہیں تو ہم نے خاندان ابراہیم کو کتاب اور دانائی عنایت فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی

54۔ (آیت)” ام یحسدون الناس “۔ اس سے مراد یہود ہیں کہ وہ لوگوں کے ساتھ حسد کرتے تھے ، قتادہ (رح) کا قول ہے کہ اس سے عام عرب کے لوگ مراد ہیں ، کیونکہ عرب کے یہودیوں کو اس بات کا حسد تھا کہ نبوت ان میں سے کیوں نہیں آئی اور ان کو عزت کیوں نہیں دی ۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے مراد محمد ﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی ذات گرامی مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کے لیے جو عورتیں حلال قرار دی ہیں ،۔ یہودیوں کو ان سے جلن تھی ، اللہ تعالیٰ کے ان فرمان (آیت)” علی ما اتاھم اللہ من فضلہ “۔ سے یہی مراد ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد نبوت سے حسد کرنا ہے ، فضل سے مراد یہی ہے ۔ (آیت)” فقد اتینا ال ابراھیم الکتاب والحکمۃ “۔ اس سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) ، داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) ہیں اور (آیت)” بالکتاب ما انزل اللہ علیھم “۔ سے مراد نبوت ہے ، (آیت)” واتینھم ملکا عظیما “۔ جنہوں نے فضل کی تفسیر کثرۃ نساء سے کی ہے انہوں نے ملک عظیم کی تفسیر حضرت داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کے حق میں کثرت نساء کے ذریعے سے کی ہے ۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی ایک ہزار عورتیں تھیں ، تین سو مہر والی بیبیاں اور سات سو باندیاں تھیں اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں ۔ ان کے مقابلے میں رسول اللہ ﷺ کی صرف نوبیویاں تھیں ، جب یہ بات کہی تو سب خاموش ہوگئے ۔
Ayah 4:55

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو ان نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دورزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے

55۔ (آیت)” فمنھم من امن بہ “۔ یعنی محمد ﷺ پر ایمان لائے عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہیں ۔ (آیت)” ومنھم من صد عنہ “۔ انہوں نے منہ موڑ لیا اور ایمان نہ لائے (آیت)” وکفی بجھنم سعیرا “۔ دھکتی ہوئی آگ ، بعض نے کہا کہ بڑی بادشاہت ہے۔ جو بادشاہت حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو دی گئی اور سدی (رح) کا قول ہے کہ ” بہ “ اور ” عنہ “ کی ضمیریں ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف راجع ہیں ، اس کی وجہ یہ ہوئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک دفعہ کھیتی کاشت کی اور دوسرے لوگوں نے بھی کھیتی کاشت کی ، لوگوں کی کھیتی تو تباہ ہوگئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی کھیتی باقی رہی ، لوگ محتاج ہو کر آپ کے پاس آئے ، آپ نے فرمایا جو میری نبوت کو مانے گا میں اس کو دوں گا یہ سن کر کچھ لوگ ایمان لے آئے ان کو آپ نے غلہ دیا ، کچھ ایمان نہ لائے ان کو نہیں دیا ۔
Ayah 4:56

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل اور جل جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمشہ) عذاب (کا مزہ) چکھتے رہیں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

56۔ (آیت)” ان الذین کفروا باایاتنا سوف نصلیھم نارا “۔ یعنی ہم ان کو آگ میں داخل کردیں گے ۔ (آیت)” کلما نضجت “۔ جب ان کو جلایا جائے گا (آیت)” جلودھم بدلناھم جلودا غیرھا “۔ اس جلی ہوئی کھال کی علاوہ ۔ (کلما نضجت جلودھم “۔ کی تشریح) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے اس آیت کی تشریح میں فرمایا کاغذ کی طرح ان کی کھالیں سفید کردی جائیں گی ۔ اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا اس آیت کے پڑھنے والے کو کہ اس آیت کو بار بار پڑھئے اور ان کے پاس حضرت معاذ بن جبل ؓ بھی موجود تھے ، معاذ ؓ نے فرمایا کہ کیا اس کی تفسیر معلوم ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ ایک ساعت میں سو بار کھال تبدیل کی جائے گی ، حضرت عمر ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہی سنا ہے۔ حسن (رح) کا قول ہے کہ ایک ساعت میں ستر ہزار بار ان کو آگ کھائے گی ہر مرتبہ حکم ہوگا دوبارہ ویسے ہی ہوجاؤ حسب الحکم وہ جیسے تھے دوبارہ ویسے ہی ہوجائیں گے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کافر کے دونوں مونڈھوں کے درمیان کا فاصلہ تیز رفتار سوار کی تین روز کی مسافت سیر کے برابر ہوگا ، حضرت ابوہریرہ ؓ کی دوسری روایت ہے کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ کافر کی داڑھ اور دانت کی موٹائی احد پہاڑ کے برابر ہوگی ، اور اس کی کھال کی موٹائی تین روز کی راہ کے برابر ہوگی ۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ کافر کی اس جلد کو کیسے عذاب دیا جائے گا جو دنیا میں موجود ہی نہیں تھی ، اور نہ ہی اس نے کوئی نافرمانی کی ، اس کا جواب یہ ہے کہ اس جلد کو لوٹایا جائے گا اتنی مقدار موٹائی اور لمبائی کے ساتھ ۔ (آیت)” فلودا غیرھا “۔ اس کی صفت کی تبدیلی کے ساتھ اس کو بدل دیا جائے گا ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ میں نے اپنی انگوٹھی فلاں کی انگوٹھی کی طرح بنائی اس کا مطلب یہ ہے کہ خاتم ثانی پہلی والی ہی ہے لیکن اس کی صفت تبدیل ہوگئی ہے، جیسا کہ پہلے تم کسی بھائی کو دیکھتے ہو ، وہ صحت مند ہوتا ہے اور پھر کئی عرصہ کے بعد اس کو دیکھتے ہو تو وہ مریض ہوتا ہے تو اس کو دیکھ کر کہتے ہو کہ تم وہی ہو حالانکہ تم بہت بدل گئے ہو ، مطلب یہ ہے کہ وہ شخص تو وہی ہے لیکن بیماری نے اس کو بدل دیا ۔ سدی (رح) کا قول ہے کہ کافر کے گوشت کے ساتھ جلد کو جلد سے تبدیل کیا جائے گا ، جب ایک دفعہ جلد جل جائے گی تو دوسری بار ان کے گوشت سے جلد پیدا کی جائے گی ، بعض نے کہا کہ شخص کو جلد میں عذاب دیا جائے گا نہ کہ جلد کو ، اس پر دلیل اللہ کا فرمان (آیت)” لیذوقوا العذاب “۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لتذوق “۔ ارشاد نہیں فرمایا ، عبدالعزیز بن یحیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل دوزخیوں کو ایسی جلد پہنائیں گے جس سے ان کو عذاب ہوگا اور اس کی وجہ سے ان کے عذاب میں زیادتی ہوگی ، جیسا کہ ایک جلد کے جلد جانے کی وجہ سے اس کی جگہ دوسری جلد کو لگا دی گے ۔ (آیت)” سرابیلھم من قطران “۔ پس ان کی قمیصوں کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی بلکہ وہ بدن کو دکھ پہنچائیں گے، (آیت)” لیذقوا العذاب ان اللہ کان عزیزا حکیما “۔
Ayah 4:57

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ہم ان کو گھنے سائے میں داخل کریں گے

(تفسیر) 57۔: (آیت)” والذین امنوا وعملوا الصلحت ۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وندخلھم ظلا ظلیلا “۔ نہ ان کو سورج کی تپش سے تکلیف ہوگئی اور نہ ہی سردی سے وہ ایذاء پائیں گے ۔