Ayah 4:5858۔ (آیت)” ان اللہ یامرکم ان تودوا الامنت الی اھلھا “۔
(حضرت عثمان بن طلحہ سے کنجی لینے اور واپس کرنے کا بیان)
یہ عثمان بن طلحہ حجبی بن عبدالدار کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ کعبہ کے متولی تھے، جب فتح مکہ ہوا تو عثمان نے بیت اللہ کا دروازہ بند کر کے اس کی چھت پر چڑھ گیا ، آپ ﷺ نے اس سے چابی مانگی ، بعض نے کہا کہ مجھے حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بھیجا گیا تاکہ اس سے چابی لیں لیکن اس نے چابی دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ اگر تجھے معلوم ہے کہ یہ آپ ﷺ ہیں تو تم چابی دینے سے انکار نہ کرو گے ، حضرت علی ؓ نے اس کے ہاتھ سے چابی چھیں لی اور آپ ﷺ کو دی ، پھر اس چابی سے رسول اللہ ﷺ نے دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھی ، جب آپ ﷺ کعبہ سے باہر نکلے تو عباس ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ میرے ماں باپ نثار ہوں حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت کے ساتھ ساتھ یہ بھی مجھے عنایت کر دیجئے ۔
اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چابی واپس حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کو دے دو اور اس سے معذرت بھی کرو۔ حضرت علی ؓ نے حکم کی تعمیل کی ، عثمان ؓ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ تم نے مجھ پر جبر کیا دکھ دیا ، حضرت علی ؓ نے فرمایا تمہارے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے ۔ پھر آپ نے آیت پڑھی ، عثمان ؓ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، کعبہ کی چابی حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ کے پاس رہی مرتے وقت انہوں نے اپنے بھائی شیبہ کو دے دی قیامت تک کعبہ کی کنجی اور دربانی انہی کی اولاد میں رہے گی ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد تمام امانتیں مراد ہیں ۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا سنو ! آگاہ رہو اس شخص کا ایمان نہیں جس میں امانت داری نہیں اور اس کا کوئی دین نہیں جس میں عہد کی پاسداری نہیں ۔ (آیت)” واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل “ اس سے مراد انصاف ہے (آیت)” ان اللہ نعما “۔ انصاف حکم بہت اچھی چیز ہے (آیت)” یعظکم بہ ان اللہ کان سمیعا بصیر “۔
(حاکم ہونا اور فیصلہ کرنا بھی امانت کی شاخ ہے)
حضرت عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، انصاف کرنے والے قیامت کے دن رحمن کے دائیں ہاتھ کی طرف نور کے منبروں پر ہوں گے اور رحمن کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ، یہ وہی لوگ ہوں گے جو فیصلوں میں اور فیصلہ کے فریقوں میں اور اپنے زیر حکومت امور مین انصار کرتے ہیں ۔
حضرت ابو سعید خدری ب سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن اللہ کا سب سے زیادہ محبوب ومقرب منصب حاکم ہوگا اور قیامت کے دن اللہ کا سب سے زیادہ مبغوض اور سخت ترین عذاب کا مستحق ظالم حاکم ہوگا ۔
Ayah 4:59(اولی الامر کا مصداق)
(تفسیر) 59۔:
(آیت)” اولی الامر کی تفسیر میں کے مختلف اقوال ہیں ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور جابر ؓ کے نزدیک اس سے مراد فقہاء اور علماء ہیں جو اپنے دین کے مطابق عمل پیرا ہوتے ہیں اور یہ قول حسن ، ضحاک ، اور مجاہد (رح) کا بھی ہے ، اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ولو ردوہ الی الرسول والی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ اس سے مراد امراء اور موالی ہیں ، حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا قول ہے کہ امام پر یہ لازم ہے کہ وہ اللہ کے نزول کردہ حکم کے مطابق فیصلہ کرے اور امانت کو اچھی طرح ادا کرے ، جب یہ ایسا کرے تو اس رعایا پر لازم ہے کہ وہ اس کی بات مانے اور اس کی اطاعت کرے ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی ۔ اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے اپنے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے اپنے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ۔
حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اطاعت و فرمانبرداری مسلمان مرد پر لازم ہے خواہ وہ اس کو پسند ہو یا نہ ہو ، ہاں اگر حاکم معصیت کا حکم کرے تو پھر اطاعت لازمی نہیں ۔
حضرت عبادہ بن صامت ؓ کا بیان ہے کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی اس بات پر کہ ہم آپ ﷺ کا حکم سنیں گے اور ان کی اطاعت کریں گے اور جہاں ہوں گے حق کو قائم کریں گے اور حق بات کہیں گے اور اللہ تعالیٰ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے ۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت ابوذر ؓ سے عرض کیا کہ اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کر، اگرچہ تمہارے اوپر حبشی غلام کو ہی مسلط نہ کیا جائے، اگرچہ اس کا سرزبیب کی طرح ہو۔
سلیم بن عامر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو امامہ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ وہ فرما تھے تم اللہ سے ڈرو اور صلہ رحمی اختیار کرو اور ایک ماہ کے روزے رکھو اور اپنے اموال کی زکوۃ ادا کرو اور اپنے حکام کی اطاعت کرو اور اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد لشکر کے امراء ہیں ۔
سعید بن جبیر ؓ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے اس آیت کے متعلق روایت کرتے ہیں (آیت)” اطیعو وا اللہ والرسول اولی الام منکم “۔ یہ عبید اللہ بن حذیفہ بن قیس بن عدی کے بارے میں نازل ہوئی ، جب ان کو آپ ﷺ نے ایک سریہ کے ساتھ بھیجا عکرمہ کا قول ہے کہ اولی الامر سے مراد ابوبکر ؓ اور عمر ؓ ہیں ۔
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں کی اتباع کرنا جو میرے بعد ہوں ، یعنی حضرت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ ، عطاء (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد مہاجرین و انصار ہیں ۔
اور وہ لوگ جو ان کی اتباع کرنے والے ہیں ، اس آیت کی دلیل کی وجہ سے (آیت)” والسابقون الاولون من المھاجرین والانصار “۔ حضرت انس بن مالک ؓ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی مثال ایسی ہے جیسے کھانے میں نمک ، کھانا بغیر نمک کے اچھا نہیں ہوتا ۔
حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جب ہم میں نمک نہیں تو کیسے اصلاح پائیں گے (آیت)” فان تنازعتم “۔ بمعنی تم اختلاف کرتے ہو ” فی شیئ “ اس سے تمہارا دین ہے ، تنازع سے مراد اختلاف الاراء ہے، (آیت)” فردوہ الی اللہ والرسول “۔ یعنی اللہ کی کتاب کی طرف اور اس کے رسول کی طرف پھیرو ، جب آپ زندہ ہوں اور جب وفات پاجائیں تو سنت رسول کی طرف لوٹا دو ، کتاب اللہ وسنت کی طرف پھیرنا واجب ہے اگر ان دونوں کو کوئی پائے اور بعض نے کہا کہ جب تم اللہ ورسول کی طرف لوٹاؤ اور جس کو کوئی علم نہ ہو تو وہ یہ کہے اللہ ورسولہ اعلم ۔ (آیت)” ان کنتم تؤمنون باللہ والیوم الاخر ذلک “۔ یعنی اللہ ورسول کی طرف لوٹانا (آیت)” خیرواحسن تاویلا “۔ مال اور انجام کے اعتبار سے بہتر ۔
Ayah 4:60(یہودی اور منافق کا ایک جھگڑے میں آپ ﷺ کے فیصلے سے انحراف)
(تفسیر) 60۔:
(آیت)” الم تر الی الذین یزعمون امنھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الی الطاغوت “۔ امام شعبی (رح) نے کہا کہ ایک یہودی اور ایک منافق میں کچھ جھگڑا تھا ، یہود معاملے کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے جانا چاہتا تھا کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ حضور اقدس ﷺ فیصلہ رشوت کھا کر نہیں کرسکتے اور منافق یہودیوں سے فیصلہ کرانا چاہتا تھا کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ وہ رشوت لے لیں گے اور رشوت لے کر فیصلہ میں غیر جانبداری کرسکیں گے ، بالاخر وہ دونوں اتفاق رائے سے قبیلہ جہینہ کے ایک کاہن کے پاس گئے، دونوں نے اپنا مقدمہ فیصلہ کے لیے اس کے سامنے رکھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، جابر ؓ کا قول ہے کہ سرکش لوگ جس کی طرف فیصلہ لے کر جاتے تھے ان میں سے ایک تو قبیلہ جہینہ اور ایک قبیلہ بنی اسلم میں تھا ، ہر ایک بستی میں کاہن تھا جو ان کے درمیان فیصلے کرتا تھا ۔
(حضرت عمر ؓ کا فیصلہ)
کلبی (رح) نے ابی صالح (رح) سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ منافقین میں سے ایک شخص جس کا نام بشر تھا اس کے بارے میں نازل ہوئی کہ اس کے درمیان اور ایک یہودی کے درمیان جھگڑا تھا ، یہودی نے کہا کہ محمد ﷺ کے پاس فیصلہ کے چلتے ہیں ، منافق جو (بظاہر مسلمان کہلاتا تھا) اس نے کہا کہ کعب بن اشرف (جویہودیوںٗ کا سردار ہے) کے پاس فیصلہ لے چلتے ہیں ، یہودی نے انکار کیا کہ فیصلہ صرف آپ ﷺ سے کروائیں گے ، جب منافق نے دیکھا کہ اس کے بغیر چارہ نہیں ، بالاخر وہ آپ ﷺ کے پاس فیصلہ لے کر چلا گیا ، آپ ﷺ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دیا ، آپ ﷺ کے پاس سے چلے گئے تو منافق نے کہا کہ چلو عمر ؓ کے پاس چلو ان سے فیصلہ کرواتے ہیں ، چناچہ وہ حضرت عمر ؓ کے پاس چلے گئے یہودی نے کہا کہ میں اور یہ جھگڑا لے کر آپ ﷺ کے پاس گئے اور انہوں نے فیصلہ کیا تھا یہ شخص آپ ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہیں اور اس نے یہ گمان کیا کہ جھگڑا آپ کے پاس لے جایا جائے اور آپ دوبارہ فیصلہ کریں ، حضرت عمر ؓ نے منافق سے کہا اسی طرح ہے اس نے کہا جی ہاں ! حضرت عمر ؓ نے ان دونوں کو کہا کہ آپ دونوں یہاں ٹھہرائیے ، پھر حضرت عمر ؓ گھر کے اندر داخل ہوئے اور تلوار اٹھائی اور باہر آکر منافق کی گردن اڑا دی ، یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا اور کہا کہ اس شخص کا میرے پاس یہی فیصلہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے راضی نہ ہو ، پھر یہ آیت نازل ہوئی ، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ عمر حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والے ہیں ، اسی وجہ سے ان کو فاروق کہا جانے لگا ، امام سدی (رح) نے کہا کہ یہود میں سے کچھ لوگ اسلام لائے ان میں سے بعض منافق تھے اور بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبیلے بھی ان میں شامل تھے ، زمانہ جاہلیت میں بنو قریظہ میں سے اگر کوئی بنو نضیر کے کسی شخص کو قتل کرتا یا اس سے دیت حاصل کرتا کھجور میں سے سو وسق اور اگر بنو نضیر میں سے کوئی شخص دوسرے قریظہ میں سے کسی کو قتل کردیتا تو اس کے بدلے میں اس کو قتل نہ کیا جاتا اور اس کی دیت ساٹھ وسق دی جاتی اور بنو نضیر قبیلہ اوس اور اشرف کے حلیف تھے اور یہ کثیر افراد پر مشتمل تھے اور بنو قریظہ یہ بنو خزرج کا حلیف تھا ، جب اسلام آیا اور آپ ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو بنو نضیر نے بنو قریظہ کا ایک شخص قتل کیا ، اس بارے میں جھگڑا ہوگیا ، بنو نضیر نے کہا کہ ہم اور تم اس بات پر صلح کرلیتے ہیں کہ ہم تمہارے افراد میں سے جس کو چاہیں قتل کردیں اور تم ہمارے قبیلہ والوں کو قتل نہیں کرسکتے اور تمہاری دیت ساٹھ وسق اور ہماری دیت سو وسق ہوگی ، ہم آپ کو دیت دیا کریں گے قبیلہ خزرج نے کہا یہ وہ فعل ہے جو تم زمانہ جاہلیت میں ہمارے ساتھ کرتے تھے ، اس وقت تمہاری کثرت تھی اور ہماری تعداد کم تھی اور تم ہم پر ظلم وقہر کرتے تھے اور آج اس اسلام کی وجہ سے ہم اور تم بھائی بھائی ہیں ، تمہارا دین اور ہمارا دین ایک ہی ہے ، لہذا اب تم ہمارے اوپر کسی قسم کی فضیلت نہیں رکھتے ، ان میں سے بعض منافقین نے کہا کہ چلو ابو بردہ کاہن اسلمی کے پاس اور ان دونوں فریقوں میں سے جو حضرات مسلمان تھے انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس چلو اور اس پر منافقین نے انکار کرلیا اور وہ ابی بردہ کے پاس چلے گئے تاکہ اس سے فیصلہ کروائیں ، انہوں نے کہا کہ دے دو ان کا حصہ ، انہوں نے کہا کہ تمہارے لیے دس وسق ہیں وہ کہنے لگے نہیں بلکہ دیت میں ہمارے لیے سو وسق ہیں ، انہوں نے دس وسق دینے سے انکار کردیا اور ان کے درمیان فیصلے کو انکار کردیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت قصاص نازل فرمائی ۔ (آیت)” الم تر الی الذین یزعمون ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔ الی الظاغوت “ وہ فیصلے کے لیے کاہن کے پاس جاتے ہیں یا کعب بن اشرف کے پاس جاتے ہیں ، (آیت)” وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطان ان یضلھم ضلالا بعیدا “۔
Ayah 4:61(تفسیر) 61۔:
(آیت)” واذا قلیل لھم ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنک صدودا “۔ اعراض کرتے ہیں ان سے اعراض کرنا۔
Ayah 4:62(تفسیر) 62۔:
(آیت)” فیکف اذا اصابتھم مصیبۃ ‘۔ یہ ان کے لیے وعید ہے کہ وہ اس وقت کیا عمل کرتے ہوں گے، جب ان کو مصیبت پہنچتی ہوگی ۔ (آیت)” بما قدمت ایدیھم “۔ ان کے اعراض سے ان کو سزا دی جاتی ہے ۔ بعض نے کہا کہ اس سے وہ مصیبت ہے جو منافقین کو دنیا وآخرت میں ملتی ہے یہاں کلام مکمل ہوگیا ، پھر دوبارہ کلام کا اعادہ کیا ان کے فعل کی خبر دینے کے لیے ، (آیت)” ثم جاء وک “۔ وہ فیصلے کرنے کے لیے بتوں یا طاغوت کے پاس جاتے ہیں ۔ (آیت)” ثم جاء وک “ کا مطلب ہے کہ وہ تمہارے پاس آتے ہیں اور قسمیں اٹھاتے ہیں بعض نے کہا کہ اس سے مراد نافرمانی ہے جو منافق کو حضرت عمر ؓ نے قتل کیا تھا اور منافقین نے حضرت عمر ؓ سے دیت کی وصولی چاہی تھی ۔
(آیت)” یحلفون باللہ ان اردنا “۔ انہوں نے جو آپ ﷺ کے حکم کی نافرمانی کی اور حضرت عمر ؓ کے پاس محاکمہ کے لیے جانا (آیت)” الا احسانا وتوفیقا “۔ کلبی (رح) کا بیان ہے کہ احسان کا تعلق قول سے ہے اور توفیق کا تعلق صواب سے ہے ، ابن کیسان (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد حق اور انصاف ہے ، اس کی نظیر (آیت)” لیحلفن ان اردنا الا الحسنی “۔ بعض نے کہا کہ بعض کا بعض کے ساتھ احسان کرنا مراد ہے اور بعض نے کہا کہ امر کو حق کے قریب ہونا نہ کہ فیصلہ کا حاکم کے حکم کے مطابق ہونا توفیق حق کے موافق ہونا ، بعض نے کہا کہ تالیف قلبی کا ہونا دونوں فریقوں کے درمیان ۔
Ayah 4:63(تفسیر) 63۔ـ:
(آیت)” اولئک الذین یعلم اللہ ما فی قلوبھم “۔ جو ان کے دلوں میں نفاق ہے، مطلب یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ ان کے دلوں میں وہ کچھ ہے جو ان کی زبانوں کے برخلاف ہے ۔ (آیت)” فاعرج عنھم “۔ ان کی سزا سے آپ اعراض کریں ۔ بعض نے کہا کہ ان کے بارے میں خدا خوفی سے ڈریں اور بعض نے کہا کہ ان کے ساتھ قتل کر وعدہ ہے اگر وہ توبہ نہ کریں ، حسن (رح) کا قول ہے کہ تم ان کو بلیغ بات کہو کیونکہ اگر وہ یہ بات کریں جو ان کے دل میں ہے تو ان کو قتل کر دیاجائے کیونکہ ہر شخص کو وہی انجام حاصل ہوتا ہے جو ان کے دل میں ہوتا ہے، ضحاک (رح) کا قول ہے (آیت)” فاعرض عنھم وعظھم “۔ یعنی ملاء میں۔ (آیت)” وقل لھم فی انفسھم قولا بلیغا “۔ پوشیدہ اور اکیلے ہیں اور بعض نے کہا کہ یہ آیت قتال سے منسوخ ہے ۔
Ayah 4:6464۔ (آیت)” وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ “۔ اللہ کے حکم سے اطاعت رسول واجب ہے ، زجاج (رح) کا قول ہے کہ ان کی پیروی کرو اللہ اجازت اور ان کے حکم کے مطابق اور بعض کا قول ہے کہ (آیت)” الا لیطاع “ پر کلام تام ہوجاتا ہے باذن اللہ تعالیٰ کا مطلب ہے ، کہ اللہ کے علم و فیصلے سے ، اس کا معنی یہ ہے کہ اس کی طاقت وقوع پذیر ہے اس کے حکم سے (آیت)” ولوانھم اذ ظلموا انفسھم “ طاغوت کی طرف اپنے امور کا فیصلے لے جا کر اپنے نفسوں پر ظلم کرتے ہو ۔ (آیت)” جاء و ک فاستغفر اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ توابا رحیما ‘ ؓ
Ayah 4:65(فل اوربک لا یؤمنون کی مختلف تفاسیر)
65۔ (آیت)” فلا وربک لا یؤمنون حتی یحکموک “۔ عروق بن زبیر کا بیان ہے کہ ان کا جھگڑا ایک انصاری شخص سے ہوگیا وہ بدر میں آپ ﷺ سے مرۃ میں زمینوں کو پانی پلانے کے متعلق جھگڑا ہوا ، یہ دونوں آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے۔ آپ ﷺ نے حضرت زبیر ؓ کو فرمایا کہ اے زبیر تم اپنی زمین کو سیراب کرو پھر اپنے پڑوسی کی جانب پانی کو چھوڑ ، اس پر انصاری غصہ ہوا ، پھر کہنے اے اللہ کے رسول ﷺ وہ آپ کے چچا کا بیٹا ہے اس لیے اس پر آپ ﷺ کا چہرہ سرخ ہوگیا ، پھر انہوں نے حضرت زبیر ؓ سے فرمایا کہ اپنی زمین کو سیراب کر پھر اس کو روکے رکھ یہاں تک کہ وہ تیری زمین کی منڈیر تک پہنچ جائے ، پہلے تو آپ ﷺ نے حضرت زبیر ؓ کو اپنے پڑوسی کے ساتھ رعایت کرنے کا حکم دیا لیکن جب انصاری نے غصہ دکھایا تو آپ ﷺ نے زبیر ؓ کو پورا حق لینے کا حکم دیا ، عروہ فرماتے ہیں کہ زبیر کا قول ہے کہ میں نے اس آیت کو خوب محفوظ رکھا ۔
روایت کیا گیا کہ جس انصاری صحابی نے زبیر ؓ کے ساتھ جھگرا کیا اس کا نام حاطب بن ابی بلتعہ ہے ، جب وہاں سے نکلے تو باہر حضرت مقداد سے ملاقات ہوئی اور کہا کہ کس کے بارے میں فیصلہ ہوا ، انصاری نے کہا کہ اپنے چچا کے بیٹے کے حق میں فیصلہ ہوا اور اپنے رخ موڑ لئے ، اس پر یہودی نے اس پر طعن کیا جو حضرت مقداد ؓ کے ساتھ تھا اور کہا کہ اللہ ان کو قتل کرے کہ ادھر سے یہ لوگ گواہی دیتے ہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں ، پھر ان کے فیصلے کو ٹھکراتے ہیں، اللہ کی قسم ! انہوں نے بہت بڑا گناہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں بھی انہوں نے بڑا گناہ کیا ، پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو توبہ کا حکم دیا تھا اور ان کی توبہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں ، پھر انہوں نے ایسا کیا حتی کہ ستر ہزار جانیں مقتول ہوئیں ، پھر رب ان سے راضی ہوا ، ثابت بن قیس بن شماش کا بیان ہے سنو اللہ کی قسم ! اگر وہ میری طرف سے سچائی کو جان لے اور محمد ﷺ مجھے حکم دیتا کہ اپنے آپ کو قتل کر دو تو میں کر گزرتا ، حاطب بن ابی بلتعہ کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی ، مجاہد اور شعبی (رح) کا بیان ہے کہ یہ بشر یہودی اور منافق کے بارے میں نازل ہوئی جو جھگڑا لے کر حضرت عمر ؓ کے پاس گئے ۔ ” فلا “ اس طرح نہیں جیسا کہ مؤمن گمان کرتے ہیں پھر وہ اس کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتے ، پھر اس قسم کو لوٹایا ، (آیت)” وربک لا یؤمنون “۔ بعض نے کہا کہ یہ لافلا کا صلہ ہو ، جیسا کہ (آیت)” فلا اقسم “۔ میں ہے ۔ یہاں تک کہ وہ تمہارے درمیان حاکم مقرر کردے ۔ (آیت)” فیما شجر بینم “۔ اس کے اختلاف امور سے اور اس کے حکم کے التباس سے چونکہ شجر میں بھی ٹہنیاں ایک دوسرے کے ساتھ التفات رکھتی ہیں (آیت)” ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا “۔ مجاہد (رح) کا قول ہے کہ شکایت کے معنی میں ہے اور بعض نے کہا کہ حرج تنگی کے معنی میں ہے ۔ ” مما قضیت “ ضحاک (رح) کا قول ہے یعنی وہ ان کے انکار سے گناہ گار ہوں گے ۔ (آیت)” ویسلموا تسلیما “۔ ان کے فیصلے کو اچھی طرح تسلیم کیا ۔
Ayah 4:66(تفسیر) 66۔ :
(آیت)” ولو انا کتبنا “۔ یعنی تم پر فرض وواجب قرار دے دیا۔ (آیت)” علیھم ان اقتلوا انفسکم “ جیسا کہ نبی اسرائیل کو حکم دیا گیا (آیت)” اواخرجوا من دیارکم “۔ جیسا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کا حکم دیا (آیت)” مافعلوہ “ اس کا معنی ہے کہ پر فرض نہیں کیا گیا مگر رسول کی طاعت اور اس کے حکم پر رضا مندی لیکن اگر ہم ان کے اوپر قتل اور شہر سے نکلنے کا حکم صادر کردیتے تو وہ کبھی اس حکم کی تعمیل نہ کرتے ۔
(آیت)” الا قلیل منھم “۔ یہ ثابت بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی ، جن کا اللہ نے استثنی کیا ، وہ بہت ہی کم ہیں ۔ حسن (رح) اور مقاتل (رح) کا بیان ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمرو عمار بن یاسر ، ؓ عبداللہ بن مسعود ؓ اور آپ ﷺ کے اصحاب میں سے یہ بہت تھوڑے ہیں ۔ اگر اللہ ہمیں اس طرح حکم کردیتا تو ہم یہ کر گزرتے اور تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے ہمیں اس کی توفیق بخشی ، جب یہ بات آپ ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں بعض مرد ایسے ہیں ان کے دلوں میں ایمان ایسے ثابت کرچکا ہے ۔ جیسا کہ پہاڑوں کو زمین میں گاڑھا گیا ہے ۔ ابن عامر اور اہل شام نے اس کو ” الا قلیلا “ پڑھا ہے منصوب علی الاستثناء کے طور پر اور اسی طرح مصحف اہل شام کے نزدیک ہے اور بعض نے کہا کہ یہ اضماع قبل الذکر ہے ، تقدیری عبارت یوں ہوگی (آیت)” الا ان یکون قلیلا منھم “۔ اور دوسرے قراء نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے ، اس صورت میں تقدیری عبارت یوں ہوگی ” الا نفر قلیل فعلوہ “۔۔۔۔۔۔۔ ولو انھم فعلوا ما عظون بہ “۔ ان کو اس بات کا حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کریں اور اس کے فیصلے پر راضی رہیں ۔ (آیت)” لکان خیرالھم واشد تثبیتا “۔ ان کے ایمان کی تحقیق یا تصدیق کی بناء پر ۔
Ayah 4:6767۔ (آیت)” واذا لاتینھم من لدنا اجرا عظیما “۔ ان کو بہت ساری مقدار میں ثواب عطا کیا جائے گا ۔
Ayah 4:6868۔ ” ولھدینا ھم صراطا مستقیما “۔ اس سے مراد صراط مستقیم ہے ۔
Ayah 4:69(تفسیر) 69۔:
(آیت)” ومن یطع اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ من النبیین “۔ یہ آیت آپ ﷺ کے غلام حضرت ثوبان کے متعلق نازل ہوئی ، یہ آپ ﷺ سے بےحد محبت کرتے تھے اور کم صبر تھے ایک دن آپ ﷺ کی خدمت میں آئے اور ان کا چہرہ متغیر تھا، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ آپ کے غم کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ مجھے نہ کوئی بیماری لاحق ہے اور نہ کوئی تکلیف ہے، صرف یہ ہے کہ جب آپ ﷺ کو نہیں دیکھتا تو دل پریشان ہوجاتا ہے ، یہاں تک کہ آپ ﷺ سے ملنے کے لیے آجاتا ہوں ، پھر انہوں نے آخرت کا تذکرہ کیا اور کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ آپ کی مجھ سے ملاقات نہ ہوسکے کیونکہ آپ تو نبیوں کے درجات میں بلند مقام پر ہوں گے اور اگر میں جنت میں داخل بھی ہوگیا تو ادنی درجہ میں ہوں گا اور اگر بالفرض جنت میں داخل نہ ہوسکا تو آپ کو کبھی بھی نہیں دیکھ سکون گا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
قتادہ (رح) کا قول ہے بعض اصحاب نبی کریم ﷺ نے عرض کیا کہ یہ کیسے حال ہوگا کہ جنت میں آپ ﷺ بلند مرتبے پر فائز ہوں گے اور ہم کم درجے میں ہوں گے اور ہم آپ کو کیسے دیکھ سکیں گے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” من یطع اللہ “ سے مراد فرائض کی ادائیگی میں جو ہماری اطاعت کرے گا اور ” والرسول “ آپ ﷺ کی سنت کی اتباع (آیت)” فاولئک من الذین انعم اللہ علیھم من النبیین “ وہ انبیاء کرام (علیہم السلام) کو دیکھے گا اور انکی مجالس میں شریک ہوگا کیونکہ ان کو انبیاء کرام (علیہم السلام) کے درجات کی طرف اٹھایا جائے گا (آیت)” والصدیقین “۔ آپ ﷺ کے اصحاب میں سے بڑے درجے کے ، صدیق جو سچائی میں اعلی درجہ تک پہنچنے والا ہو (آیت)” والشھدائ “ اس سے مراد وہ ہیں جو احد کی جنگ میں شہید ہوگئے تھے ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد وہ ہیں جو اللہ کے راستے میں شہید ہوگئے بعض نے کہا کہ (آیت)” النبیون “ سے مراد یہاں محمد ﷺ ہیں اور صدیق سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ ہیں اور شہداء سے مراد حضرت عمر فاروق ؓ اور حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی ؓ ہیں ۔ ” والصالحین “۔ اس سے باقی تمام صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین مراد ہیں ۔ (آیت)” وحسن اولئک رفیقا “۔ جنت کے رفقاء مراد ہیں، عرب کے ہاں واحد کو جمع کی جگہ رکھتے ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ثم نخرجکم طفلا “۔ اس سے مراد اطفال ہیں (آیت)” ویولون الدبر “۔ اس سے مراد ادبار ہے ۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک شخص نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ کہ ایک شخص ایک قوم سے محبت کرتا ہے کیا وہ ان کے ساتھ ملایا نہیں جائے گا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مرد اس کے تابع ہوگا جو اس سے محبت کرے ، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا اے اللہ کے رسول ﷺ قیامت کب آئے گی ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تو نے قیامت کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے ؟ وہ کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ کچھ تیار نہیں کیا صرف ایک عمل ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت کرتا ہوں ۔
Ayah 4:7070۔ (آیت)” ذلک الفضل من اللہ وکفی باللہ علیما “۔ اس سے آخرت کا ثواب مراد ہے ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت ہے اور اس میں اس بات کا بیان ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے گا ان کے درجہ تک کوئی نہیں پہنچ سکتا بلکہ اللہ کے فضل و کرم سے ہی پہنچ سکتا ہے ۔
حضرت ابوہر یرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قریب قریب ہوجاؤ اور ٹھیک ٹھیک عمل کرو کہ تم میں سے ہر ایک اپنے عمل کے مطابق نجات پائے گا ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ بھی ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہاں میں بھی مگر یہ کہ مجھے بھی اللہ کی رحمت ڈھانپ لے گی اور اس کے فضل ورحمت سے جنت میں داخل ہوجاؤں گا ۔
Ayah 4:71(تفسیر) 71۔ـ:
(آیت)” یایھا الذین امنوا حذوا حذرکم “۔ تم دشمن سے بچو ۔ تم ان کے خلاف اپنے اسلحہ جمع رکھو ، حذر اور حذر دونوں کے معنی ایک ہی ہیں جیسے مثل اور مثل دونوں کے معنی ایک ہیں ۔ ” فانفروا “ نکالو ان کو ” ثبات “ اس سے مراد سرایا ہیں ، ایک سریہ کے بعد دوسرا سریہ ثبات بمعنی مجتمع ہونا تفرقہ بازی سے بچنا ۔ (آیت)” اونفروا جمیعا “۔ تم سب آپ ﷺ کے ساتھ جمع رہو۔
Ayah 4:7272۔ (آیت)” وان منکم لمن لیبطئن “۔ یہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ” منکم “ ارشاد فرمایا کیونکہ یہ تمہارے ساتھ جمع ہیں جنس نسبت اور اسلام کے اظہار کی وجہ سے نہ کہ حقیقت ایمان میں آپ کے ساتھ ہیں ۔ ” لیبطئن “۔ ان کو مؤخر کرو اور یہ خود جہاد میں پیچھے رہنے والے ہیں اور جہاد سے کترانے والے ہیں ان میں ابی بن عبداللہ منافق بھی موجود ہیں ، ” لیبطئن “ میں لام بمعنی قسم کے ہے ۔ ” تبطۃ “۔ کسی کام سے پیچھے رہنا ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ تم پیچھے کیوں رہ گئے اور اسی سے بطئی سست ہونا آتا ہے (آیت)” فان اصابتکم مصیبۃ “۔ یعنی آپ کو شہادت یا شکست ہوجائے (آیت)” قال قد انعم اللہ علی “۔ تو یہ بیٹھ کر کہتے کہ ہم پر اللہ کا انعام ہوا کہ ہم شریک جہاد نہیں ہوئے ورنہ ہمیں بھی نقصان اٹھانا پڑتا “۔ (آیت)” اذلم اکن معھم شھیدا “ اگر ہم پر ان کے ساتھ فلاں غزوے میں شریک ہوتے تو ہمیں بھی ان کی طرح تکلیف پہنچتی ۔
Ayah 4:7373۔ (آیت)” ولئن اصابکم فضل من اللہ “۔ اگر آپ کو فتح یا مال غنیمت حاصل ہوجائے ، ” لیقولن “ تو یہ منافق کہنے لگتے ہیں، یہاں الفاظ میں تقدیم و تاخیر ہے ، (آیت) کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ “۔ یہ (آیت)” فان اصابتکم مصیبۃ “۔ کے متصل ہے اس تقدیر عبارت کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر مسلمانوں کو مصیبت پہنچتی تو یہ کہتے کہ اللہ کا ہم پر بہت بڑا انعام ہے کہ ہم ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے ، ورنہ ہمیں بھی شکست سے دو چار ہونا پڑتا۔ (آیت)” کان لم تکن “۔ بعض قراء نے یکن پڑھا اور اگر مسلمانوں کو کوئی مصیبت آتی تو یہ لوگ کہتے (آیت)” یالیتنی کنت معھم “۔ اس غزوے میں ان کے ساتھ ہوتے تو (آیت)” فافوز فوزا عظیما “۔ تو ہمیں بھی مال غنیمت میں سے کچھ حصہ ملتا ” فافوز “ منصوب ہے جواب تمنی کی وجہ سے ، کما تقول جیسا کہ تو کہے کہ اگر میں کھڑا ہوجاتا تو قوم میری پیروی کرتی ۔
Ayah 4:7474۔ (آیت)” فلیقاتل فی سبیل اللہ الذین یشرون الحیوۃ الدنیا بالاخرۃ “۔ بعض نے کہا کہ یہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ، (آیت)” یشترون “ وہ لوگ جو دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ، اس آیت کا معنی ہے ایمان لے آؤ پھر قتال کرو ، بعض نے کہا کہ یہ مخلص مؤمنین کے بارے میں نازل ہوئی ، آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اللہ کے راستے میں قتال کرنے کے والے ۔ انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی کے بدلے میں آخرت کو خرید لیا اور آخرت کو ترجیح دی (آیت)” ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل “۔ وہ شہید ہوتا ہے۔ ” اویغلب “ یا وہ کامیابی کے ساتھ غالب آجاتا ہے ۔
” فسوف نوتیہ “۔ ان دونوں صورتوں میں (آیت)” اجراعظیما “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص کا کفیل بن جاتا ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتا ہے وہ اپنے گھر سے صرف جہاد کی غرض سے نکلتا ہے (کسی اور غرض سے نہیں نکلتا) اور کلمہ کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اس کو ضرور جنت میں داخل کردیتا ہے یا وہ اپنے گھر واپس لوٹ آتا ہے مال غنیمت اور ثواب کی غرض سے ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہد کی مثال ایسی ہے جیسا کہ روزہ دار دن کو روزہ رکھے اور رات کو قیام کرے (اور نماز سے ذرہ برابر غافل نہ رہا ہو) اور نہ روزے سے غافل رہے ۔ یہاں تک کہ وہ مجاہد اللہ کے راستے سے واپس گھر لوٹے مال غنیمت اور ثواب کے ساتھ یا وہ شہید ہوجائے تو اللہ اس کو جنت میں داخل کر دے گا ۔
Ayah 4:75(تفسیر) 75۔:
(آیت)” ومالکم لا تقاتلون “ کہ وہ اللہ کے راستے میں جہاد نہیں کرتے (آیت)” فی سبیل اللہ “ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری میں اللہ ان کو جہاد کے ترک کرنے سے عتاب کر رہے ہیں ، ” والمستضعفین “۔ ضعیف لوگ ، ابن شہاب کا قول ہے کہ ان کی خلاصی کے لیے کمزور لوگوں پر جہاد فرض نہیں یا اس سے مراد بعض نے کہا کہ مشرکین سے مجاہدین جو ضعیف و کمزور ہیں ان کی خلاصی کے لیے جہاد نہیں کرتے اور وہ کچھ مسلمان مکہ میں محبوس تھے ۔ (آیت)” من الرجال والنساء والولدان “۔ مشرکین کی طرف سے اذیت پہنچی ہے بہت ساروں کو ” الذین “ جو پکارتے ہیں ۔ (آیت)” یقولون ربنا اخرجنا من ھذہ القریۃ الظالم اھلھا “۔ قریۃ سے مراد مکہ ہے اور الظالم سے مراد مشرکین مکہ ہیں ۔ ” اھلھا “ سے مراد خاص وہ مشرکین ہیں جن کے ہاتھوں مسلمان قید ہیں ۔ ” الظالم “ یہ صفت ہے ” اھلھا “ کی ۔ (آیت)” واجعلنا من لدنک نصیرا “۔ کون ہے جو ان کی دشمنی سے روکے گا ، اللہ نے ان کی اس دعا کو قبول فرمایا ، جب آپ ﷺ کے ہاتھوں مکہ فتح ہوا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مددفرمائی اور مسلمانوں کو ظالم مشرکوں سے نجات دلائی۔
Ayah 4:7676۔ (آیت)” الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ “۔ اللہ کی اطاعت میں لڑتے ہیں۔ (آیت)” والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت “۔ اس سے مراد شیطان کا راستہ ہے۔ ” فقاتلوا “ اے مؤمنین کی جماعت (آیت)” اولیاء الشیطان “ کفار کی جماعت اور اس کا لشکر ان کیدالشیطان “ شیطان کا مکروفریب ” کان ضعیفا “۔ جیسا کہ بدر کے دن ملائکہ کے ذریعے کفار پر رعب ڈال دیا گیا اور اس کی رسوائی کرائی ۔
Ayah 4:77(تفسیر) 77۔:
(آیت)” الم تر الی الذین قیل لھم کفوا ایدیکم “۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اس آیت کا نزول عبدالرحمن عوف الزہریہ ، مقداد بن الاسود کندی ، قدامۃ بن مظعون الحجمی سعد بن ابی وقاص اور ایک جماعت جن کو مشرکین مکہ نے ہجرت سے پہلے بہت اذیتیں دی ہیں اور یہ حضرات کہتے تھے کہ اللہ کے نبی ہمیں اجازت دیں ہم ان کے ساتھ قتال نہ کریں ، انہوں نے ہمیں بہت اذیتیں دے رکھی ہیں اور آپ ﷺ ان کو فرماتے تھے (آیت)” کفوا ایدیکم “ کیونکہ مجھے ابھی قتال کا حکم نہیں دیا گیا (آیت)” واقیموا الصلوۃ واتوالزکوۃ “۔ جب آپ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے اور اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ساتھ قتال کا حکم دیا ، یہ بعض پر بہت مشقت اور گراں تھی ، اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” فلما کتب “ فرض کیا گیا (آیت)” علیھم القتال اذا فریق مھم یخشون الناس “۔ مشرکین مکہ ڈرتے تھے ، (آیت)” کخشیۃ اللہ “۔ جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہیے (اواشد) یا اس سے بڑھ کر (خشیۃ) اس کا معنی یہ ہے کہ اس سے بھی زیادہ ڈر ہے۔
(آیت)” وقالوا ربنا لم کتبت علینا القتال “ جب تم پر جہاد فرض کیا گیا (آیت)” لولا “۔۔۔۔۔۔۔ ھلا “ کے معنی میں ہے (آیت)” اخرتنا الی اجل قریب “۔ اجل سے مراد موت ہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو چھوڑ دیا کہ وقت مقررہ آنے پر وہ مرجائیں ، ان لوگوں کے متعلق ائمہ مفسرین کا اختلاف ہے کہ یہ کس کا قول ہے ، بعض نے کہا کہ منافقین کا قول ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” لم کتبت علینا القتال “۔ یہ جملہ مؤمنین کی شایان شان نہیں ہے اور بعض حضرات نے کہا کہ یہ ان مؤمنین کا قول ہے جو علم میں ماہر نہیں تھے اور وہ یہ بات محض خوف اور بزدلی کیوجہ سے کہہ رہے تھے نہ کہ ان کا یہ اعتقاد تھا ، پھر انہوں نے توبہ کرلی تھی ، اور اہل ایمان فضیلت رکھتے ہیں ایمان والوں پر ، بعض نے کہا کہ یہ مؤمنین کی جماعت ہے لیکن جب ان پر قتال فرض ہوا تو انہوں نے بزدلی کی بناء پر منافقت اختیار کرلی اور جہاد سے پیچھے رہے ۔ ” قل “ کہہ دیجئے اے محمد ﷺ ” متاع الدنیا “۔ اس کی منفعت اور اس سے جتنا فائدہ اٹھایا گیا (آیت)” قلیل والاخرۃ “۔ اور آخرت اس سے کہیں افضل ہے ۔ (آیت)” لمن اتقی “ جو بچا رہا شرک اور رسول کی نافرمانی سے ۔ (آیت)” ولا تظلمون فتیلا “۔ اور ابو جعفر (رح) ، حمزہ (رح) ، کسائی (رح) ، نے (آیت)” یظلمون “۔ پڑھا ہے ، حضرت مستوردبن شداد ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دنیا آخرت کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص سمندر میں اپنی انگلی ڈبولے پھر نکالے اور دیکھے کہ اس کی انگلی کو کتنا پانی لگا ہے ۔
Ayah 4:7878۔ (آیت)” اینما تکونوا یدرکم الموت “ یعنی تم پر موت اترے گی ، یہ ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جو احد کے دن قتل کردیئے گئے تھے کہ اگر وہ ہمارے ساتھ یا ہمارے پاس ہوتے تو اللہ ضروری ان کو واپس ہم پر لوٹاتا۔
(آیت)” ولوکنتم فی بروج مشیدہ “ بروج کہا جاتا ہے مشیدہ کہا جاتا ہے بلند وبالا کو۔ قتادہ (رح) کا قول ہے کہ اس کا معنی ہے کہ وہ قصر میں ہوں گے اور عکرمہ (رح) نے کہا کہ وہ مجصص ہوں گے اور الشید الجص کو کہا جاتا ہے (آیت)” وان تصبھم حسنۃ “۔ یہ یہود اور منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ۔ یہ کہتے تھے جب آپ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پھلوں اور ہماری کھیتوں میں کمی اس شخص اور اس کے ساتھیوں کے آنے کی وجہ سے ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” وان تصبھم “ اگر یہود کو پہنچ جائے یعنی انکو فراوانی اور تنگی سے نجات مل جائے (آیت)” یقولوا ھذہ من عنداللہ “۔ تو وہ کہتے ہیں کہ یہ میرے رب کی طرف سے ہے (آیت)” وان تصبھم سئیۃ “ یعنی ان کو قحط اور تنگی پڑجاتی ۔ (آیت)” یقولوا ھذہ من عندک “۔ اور ان کے ساتھیوں کی وجہ سے ہے اور بعض نے کہا کہ حسنۃ سے مراد کامیابی اور یوم بدر میں ان کو مسلمانوں کا مال غنیمت ملتا ہے اور ” سیئۃ “ سے مراد قتل اور ہزیمۃ ہے احد کے دن اور وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ سب ان کی طرف سے ہے اس صورت میں یہ منافقین کا قول ہے ۔
” قل “ ان کو کہہ دیجئے کہ اے محمد ! ﷺ (آیت)” کل من عنداللہ “ یعنی یہ سب کچھ اچھی یا برائی سب اللہ کی طرف سے ہے پھر ان کو ان کی جہالت کی وجہ سے عار دلائی گئی ، (آیت)” فمال ھولاء القوم “۔ قوم سے مراد منافقین اور یہود ہیں ۔ (آیت)” لا یکادون یفقھون حدیثا “۔ وہ آپ کی بات نہیں سمجھتے اور بعض نے کہا کہ یہاں حدیث سے مراد قرآن ہے ، یعنی وہ قرآن کے معانی کو نہیں سمجھ سکتے ، (آیت)” فمال ھولاء “ کلام میں اس کو کثرت سے لانے سے معلوم لگتا ہے کہ یہ لام متصلہ ہے اور ایک حرف ہے اور قراۃ میں اتصال کی ہے اور اس کے لام پر وقف کرنا جائز نہیں ۔
Ayah 4:79(تفسیر) 79۔:
(آیت)” مااصابک من حسنۃ “۔ حسنۃ سے مراد خیر اور نعمت ہے (آیت)” فمن اللہ وما اصابک من سئیۃ “۔ کوئی برائی یا ناپسندیدہ کام (آیت)” فمن نفسک “ اس سے مراد تمہارے گناہ ہیں ، خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے لیکن مراد آپ ﷺ کے علاوہ ہیں ، اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ‘۔ ہے ۔ اہل قدر نے اس آیت کے ظاہر کو لیا ہے اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سے برائی ی نفی کی ہے اور اس کی نسبت بندوں کی طرف کی ہے (آیت)” وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک “۔ اس آیت کی مراد وہ نیکیاں نہیں جو کمائی سے حاصل ہوں اور نہ ہی برائیاں بلکہ اس سے مطلق طاعات اور معاصی ہیں یا اس سے مراد جو تمہیں اللہ کی طرف سے نعمتیں اور آسائشیں حاصل ہوئی ہیں اور یہ انعامات تمہارے فعل کی وجہ سے نہیں کیونکہ ان کی نسبت غیر کی طرف کی نہ کہ تمہاری طرف (آیت)” وما اصابک “۔ اور نہیں کہا جاتا نیکی اور برائی میں کہ مجھے یہ پہنچی ہے بلکہ کہا جاتا ہے وہ ہمیں پہنچی ہے اور اسی طرح کسی امتحان اور آزمائش کیلیے کہا جاتا ہے کہ فلاں تکلیف مجھے پہنچی ہے لیکن کسی چیز کے ثواب اور سزا کو ذکر نہیں کیا جاتا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” فاذا جاء تھم الحسنۃ قالو لنا ھذہ وان تصبھم سیئۃ یطیروا بموسی ومن معہ “۔ اور جب کوئی اپنی نیکیوں کو شمار کرتا ہے تو ان کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اس ثواب اور عقاب کا وعدہ ٹھہراتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا ومن جاء بالسیئۃ فلا یجزی الا مثلھا “۔ بعض نے کہا کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ جو ہمیں نیکی پہنچی ہے نصرت اور کامیابی کی صورت میں بدر کے دن وہ اللہ کی جانب سے ہے، یعنی اللہ کے فضل سے ہے اور جو برائی ہمیں پہنچی ہے وہ جنگ احد میں قتل اور وقتی شکست کی صورت میں وہ ہماری غلطی کی وجہ سے ہے ، یعنی ہمارے چند صحابہ کی خطاء کی وجہ سے ہے اور وہ آپ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کی وجہ سے ۔
اگر سوال کیا جائے کہ کیسے ان دو آیات کے درمیان جمع ممکن ہے (آیت)” قل کل من عنداللہ “۔ اور بین قولہ (آیت)” فمن نفسک “ ایک آیت میں ہے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے اور دوسری آیت میں ہے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے ، اس کا جواب بعض نے کہا کہ (آیت)” قل کل من عنداللہ “۔ کا مطلب یہ ہے کہ یہ شکست ، مدد ونصرت سب چیزیں اللہ کی طرف سے ہے ۔ (آیت)” فمن نفسک “۔ کا مطلب یہ ہے کہ جو برائی ہمیں پہنچی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ہمارے گناہوں کے سبب اللہ کی طرف سے سزا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت)” وما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم “۔ اور وہ اس پر دلالت کرتا ہے ۔
مجاہد (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے (آیت)” وما اصابک من سیئۃ من نفسک “ وہ ہم تمہارے لیے لکھ دیتے ہیں اور بعض نے کہا کہ یہ ماقبل آیت کے ساتھ متصل ہے اور اس میں یہ قول پوشیدہ ہے کہ اس قوم کاہنوں کو کیا ہوگیا کہ جو بات سنتے اور سمجھتے نہیں اور وہ کہتے ہیں (آیت)” ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ ، وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک “۔ ۔۔۔۔۔۔ ” قل کل من عنداللہ “۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ” وارسلناک “ ہم نے بھیجا محمد ﷺ کو (آیت)” للناس رسولا وکفی باللہ شھیدا “۔ نبی کریم ﷺ کے رسول بنا کر بھیجے جانے اور ان کی تصدیق پر گواہ ہوں گے۔ بعض نے کہا کہ وہ گواہ کافی ہے ، اس بات پر کہ اچھائی اور برائی سب اللہ کی طرف سے ہے ۔
Ayah 4:80(تفسیر) 80۔:
(آیت)” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “۔ یہ اس وجہ سے کہ نبی کریم ﷺ یہ ارشاد فرماتے تھے جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میرے ساتھ محبت کی اس نے اللہ کے ساتھ محبت کی ، بعض منافقین نے کہا کہ یہ شخص کس بات کا ارادہ رکھتا ہے کہ وہ بنائے اپنے لیے رب جیسا کہ نصاری نے عیسیٰ بن مریم (علیہا السلام) کو رب مانا ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “۔ یعنی جس نے آپ ﷺ کے فرامین پر عمل کیا اس نے اللہ کی اطاعت کی (آیت)” ومن تولی “۔ اور جس نے منہ موڑا اطاعت سے (آیت)” فما ارسلناک “ اے محمد ﷺ ” علیھم حفیظا “۔ یعنی تمہارا محافظ اور تمہارا دوست رکھوں گا تمام کاموں میں ، بعض نے کہا کہ یہ آیت منسوخ ہے سیف والی آیت سے اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اس کے ساتھ قتال کرو۔
Ayah 4:8181 ۔ (آیت)” ویقولون طاعۃ “۔ منافقین صرف زبان سے یہ کہتے آپ ﷺ کو کہ ہم آپ پر ایمان لائے اور ہمارا کام صرف آپ کے ارشاد کی طاعت ہے ، نحویوں نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ ہمارا کام اور شان یہی ہے کہ ہم اطاعت کریں ، (آیت)” فاذا برزوا “ جب وہ نکلے (آیت)” من عندک بیت طائفۃ منھم غیر الذی تقول “۔ قتادہ (رح) اور کلبی (رح) کا بیان ہے کہ بیت کا معنی ہے بدل ڈالنا اس لیے بیت کا ترجمہ ہوا بدل ڈالتی ہے ، ابو عبیدہ اور قتیبی رحمہما اللہ نے کہا اس کا ماخذ ” بیتوتت “۔ ہے ، مطلب یہ ہے کہ رات کو مشورہ کرکے وہ بات طے کرتے ہیں جو دن میں کیے ہوئے وعدہ کے خلاف ہوتی ہے۔
حسن (رح) اور اخفش (رح) کہتے ہیں کہ عرب جس چیز کا اندازہ کرتے ہیں اس کے لیے ” بیت “ کا لفظ بولتے ہیں ، گویا اس کا اصل ماخذ بیت شعر ہے (آیت)” واللہ یکتب “ یعنی اللہ ان کو لکھتا ہے اور محفوظ بھی رکھتے ہیں ۔ (آیت)” ما یبیتون “۔ جو وہ چھوڑتے ہیں اور جس کو وہ تبدیل کرتے ہیں اور مقدر رکھتے ہیں ، ضحاک (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جو وہ نفاق میں سے کچھ چھپاتے تھے ۔ (آیت)” فاعرض عنھم “۔ اے محمد ﷺ ان سے اعراض کیجئے اور ان کی پرواہ نہ کریں بعض نے کہا کہ ان منافقین کے نام کسی کو نہ بتلائیں آپ ﷺ کو منافقین کے نام بتلانے سے روکا گیا تھا ۔ (آیت)” و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا “۔ اسی کو اپنا کارساز بنائیں اور وہی کافی ہے اور مددگار ہے ۔
Ayah 4:82(تفسیر) 82۔:
(آیت) ” افلا یتدبرون القرآن “۔ کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے ، تدبر کہتے ہیں کسی کام میں آخری نظر تک غور وفکر کرنا (آیت) ” ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا “۔ یعنی ان میں تفاوت اور تناقض بہت پایا جاتا ہے اگر یہ قرآن کسی اور کی طرف سے ہوتا ، یہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے اور بعض نے کہا کہ اگر وہ غیب اور پوشیدہ باتوں میں اختلاف دیکھتے ہیں کیا وہ ان چیزوں میں غور وفکر نہیں کرتے ، اگر غورو فکر کرتے ہوتے تو اس میں ان کو تناقض نظر نہ آتا اور وہ اس کو کلام اللہ ہونے کی ضرور تصدیق کرتے اس لیے کہ جو کلام من جانب اللہ ہو تو اس میں تناقض نہیں ہوتا ۔
Ayah 4:8383۔ (آیت) ” واذا جاء ھم امر من الامن اوالخوف اذا عوابہ “۔ رسول اللہ ﷺ ملک کے اطراف میں مختلف جنگی دستے بھیجا کرتے تھے وہ جا کر یا غالب ہوتے یا مغلوب ، بہرحال منافق ان کی خبریں قبل از وقت معلوم کرنے کی ٹوہ میں لگے رہتے تھے اور پتہ لگتے ہی رسول اللہ ﷺ کے بیان کرنے سے پہلے بیان کرنا شروع کردیتے تھے تاکہ شکست کی خبریں سنا کر اہل ایمان کے دلوں میں ضعف پیدا کردیں ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔ (آیت) ” اذا جاء ھم “۔ اس سے مراد منافقین ہیں ۔ (آیت) ” امر من الامن “ اس سے مراد فتح و غنیمت ، خوف قتل اور ہزیمت شکست ہے ۔ (آیت) ” اذا عوابہ “ اس کو پھلا دیتے اشاعت کردیتے ہیں ۔ (آیت) ” ولو ردوہ الی الرسول “۔ اپنی رائے رسول کی طرف لوٹاؤ گے اور اس کو اس وقت تک بیان نہیں کرو گے جب تک کہ اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھ لیں ۔ (آیت) ” والی اولی الامر منھم “۔ اس سے مراد اصحاب الرای صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں جیسے حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ تعالیٰ عنہ ، حضرت علی ؓ ، (آیت) ” لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ استنباط کا معنی ہے نکالنا استخراج کرنا استنباط کرنے والے علماء کرام ہی تھے ۔ یعنی یہ جان لیں کہ اس خبر کو چھپانا مناسب ہے یا پھیلانا مناسب ہے۔
عکرمہ (رح) کا قول ہے یعنی وہ اس پر حرص کرتے ہیں اور ان مسائل کے متعلق پوچھتے ہیں ، ضحاک (رح) کا قول ہے کہ وہ اس کی پیروی کرتے ہیں ، مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ جو بات مؤمنین یا منافقین سے سنتے ہیں اگر اس خبر کو رسول یا اہل علم کی طرف لوٹاتے تو انکو معلوم ہوجاتا کہ حقیقت حال کیا ہے، یعنی وہ اس بات کو پسند کریں کہ اس کی حقیقت حال کیا ہے ۔ (آیت) ” ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطان “ تم سب کے سب شیطان کی پیروی کرتے (آیت) ” الا قلیلا “۔
(ایک شبہ اور اس کا ازالہ)
اگر یہ سوال کیا جائے کہ کہا گیا ہے کہ اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو تم سب شیطان کے پیروکار ہوتے ، کل سے قلیل کا استثناء کیسے کیا جواب : اس سے مراد وہ ہے جو ماقبل میں تھوڑے افراد گزرے ہیں کہ ماقبل میں بھی تھوڑے لوگ ایمان لائے ، قلیل سے مراد مؤمنین ہیں ، یہ قول کلبی (رح) اور فراء (رح) کا ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد اسرار کا علم ہے کہ جب اہل علم کے استنباط سے اس کی وضاحت معلوم ہوجائے گی اور بعض کا قول ہے کہ استنباط کرنے والے علماء بہت کم ہوں گے ۔ پھر فرمایا : (آیت) ” ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطان “۔ بعض نے کہا فضل اللہ سے مراد اسلام ہے اور ورحمۃ سے مراد قرآن ہے ، مطلب یہ ہوگا اگر ایسا نہ ہوتا تو شیطان کی پیروی کرتے لیکن ہدایت پانے والے تھوڑے سے ہیں جو نزول قرآن اور رسول اللہ ﷺ کے آنے سے پہلے ہدایت یافتہ تھے، اس سے مراد زید بن عمر بن نفیل ، ورقہ بن نوفل ہیں۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قیاس سے استدلال کرنا جائز ہے اور جو چیز کتاب اللہ یا حدیث سے جو معلوم ہو وہ نص ہے اور جو استنباط سے حاصل ہو وہ قیاس ۔
Ayah 4:84(تفسیر) 84۔:
(آیت) ” فقاتل فی سبیل اللہ لا تکلف الا نفسک “۔ یہ اس وجہ سے کہ نبی کریم ﷺ نے ابو سفیان سے وعدہ کیا تھا کہ ذی قعدہ کے ماہ میں بدر صغری پر دونوں فریقوں کا پھر مقابلہ ہوگا ، جب وقت مقررہ آیا تو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو جہاد کی دعوت دی مگر بعض لوگوں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ (آیت) ” فقاتل فی سبیل اللہ لا تکلف الا نفسک “۔ یعنی دشمن کے ساتھ جہاد کو ترک نہ کرو اور کمزور ضعیف مسلمانوں کی نصرت کرو کیونکہ اللہ رب العزت نے مدد کا وعدہ کیا ہے اور ترک قتال کی وجہ سے ان کو سزا کا حکم ہے ، فقاتل میں فاء جواب ہے اس آیت ” ومن یقاتل فی سبیل اللہ “۔ الایۃ کا (آیت) ” وحرض المؤمنین “۔ یعنی مؤمنین کو جہاد پر ابھارئیے اور ثواب کی طرف رغبت دلائیے ، آپ ﷺ ستر گھڑ سواروں کو لے کر جہاد کے لیے نکلے ، (آیت) ” کا فرمان ” عسی اللہ ” شاید کو کہ اللہ تعالیٰ (آیت) ” ان یکف باس الذین کفروا “۔ مشرکین کے ساتھ قتال کرکے ، اللہ سے امید رکھنا واجب ہے (آیت) ” واللہ اشد باسا “۔ وہ بڑی طاقت والا اور بڑے دبدبے والا ہے ، (آیت) ” واشد تنکیلا “۔ اور بڑا عذاب دینے والا ہے ۔
Ayah 4:8585۔ (آیت) ” من یشفع شفاعۃ حسنۃ ۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یکن لہ کفل منھا “۔ کفل کا معنی نصیب ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ لوگوں میں باہم صلح کرانا شفاعت حسنہ ہے اور بری شفاعت یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان چغل خوری کرنا اور بعض نے کہا کہ شفاعت حسنہ لوگوں میں خیر کی بات کرنا ہے جو ثواب اور خیر کا ذریعہ بنے اور بری شفاعت یہ ہے کہ غیبت کرنا اور بری باتیں کرنا جو برائی کا باعث بنتا ہے۔ ” کفل منھا “ یعنی ان کے لیے حصہ ہوگا اور مجاہد کا قول ہے کہ بعض لوگوں کی بعض کے ساتھ شفاعت کرنا مراد ہے اور شفاعت کرنے والا شفیع اجر پائے گا ، اگرچہ اس کی شفاعت قبول نہ کی جائے ۔
حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جب کوئی شخص کچھ مانگنے یا کسی اور کام کے لیے حاضر ہوتا تو آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرماتے، سفارش کرو ثواب پاؤ گے اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو الفاظ چاہے گا جاری فرما دے گا ۔ (آیت) ” وکان اللہ علی کل شیء مقیتا “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے ” مقیتا “ کا ترجمہ ” مقتدر “۔ سے کیا ہے قابو پانے والا ، مجاہد (رح) نے اس کا ترجمہ شاہد ” حاضر وناظر “ سے کیا ہے قتادہ (رح) نے اس کا ترجمہ نگراں سے کیا ہے اور بعض علماء کا قول ہے یعنی ہر جاندار کو روزی دینے والا مقیت ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے ” کفا بالمراء اثما ان یضیع من یقوت ویقیت “۔