Ayah 4:86(تفسیر) 86۔:
(آیت) ” واذا حیتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اور دودھا “۔ تحیہ کہتے ہیں طویل زندگی کی دعادینا ، یہاں تحیہ سے مراد اسلام ہے ۔
(سلام کا جواب دینا واجب علی الکفایہ ہے)
کہا جاتا ہے کہ جب تمہیں کوئی مسلمان سلام کرے تو جواب میں اس سے اچھا جواب دو یا جیسا اس نے سلام کیا ویسا ہی تم دے دو ، جب کوئی تمہیں کہے اسلام علیکم تو تم جواب میں کہو ، وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ اور جب کوئی تمہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہو اور اگر کوئی تمہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے تو تم اس کے جواب اسی طرح کہو ۔
روایت کیا جاتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کو سلام کیا اور کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ پھر اس کے بعد کچھ اور زائد کہا تو حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے کہا کہ سلام وبرکاتہ تک ہے۔ عمران بن حصین کی روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا السلام علیکم ، پھر آپ ﷺ نے ویسے جواب دے دیا اور فرمایا دس ، وہ بیٹھ گیا اس کے بعد ایک اور شخص آیا اور اس السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا آپ ﷺ نے اس کو جواب دے کر ارشاد فرمایا بیس ، وہ بھی بیٹھ گیا ، اس کے بعد ایک اور شخص آیا اس نے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہا ، آپ ﷺ نے جواب دے کر فرمایا تیس ، وہ بھی بیٹھ گیا ، جان لو کہ سلام دینا سنت ہے اور اس کا جواب دینا فرض علی الکفایہ ہے ، یعنی کسی نے ایک جماعت پر سلام کیا ، اس میں سے ایک شخص نے جواب دے دیا تو فرض پورا ہوجائے گا اور اسی طرح اگر پوری جماعت میں سے کسی ایک نے سلام کیا تو پوری جماعت کی طرف سے سنت ادا ہوجائے گی ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ ایمان لے آئے اور تم میں سے اس وقت تک ایمان نہیں لاتے جب تک تم ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرو یا میں تمہیں ایسا کام نہ بتلاؤں جس کی وجہ سے تم ایک دوسرے کے محبت کرنے لگو گے، تم آپس میں خوب سلام پھیلاؤ ، عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں ، کہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے سوال کیا کہ کون سا اسلام بہتر ہے ؟ ارشاد فرمایا کہ بھوکے کھانا کھلانا اور سلام دینا جس کو تم پہچانو یا نہ پہچانو، ای الاسلام کا معنی ہے کہ اسلام کی کون سی خصلتیں بہتر ہیں ؟ بعض نے کہا کہ یہ اس وقت ہے جب تمہیں کوئی مسلمان شخص سلام کرے ” اور دوھا “ کا معنی ہے اس کے مثل تم سلام کو لوٹاؤ جب سلام کرنے والا مسلمان نہ ہو۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہیں کوئی یہودی سلام کرے اور وہ تمہیں یوں سلام کرے السام علیک (تم پر ہلاکت ہو) تو تم اس کو جواب میں ” علیک “ کہو، (آیت)” ان اللہ کان علی کل شیء حسیبا “۔ اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے ، سلام کو اسی طرح لوٹانے سے یا اس سے بہتر لوٹانے کی صورت میں ۔ ” حسیبا “ کا معنی ہے محاسبہ کرنے والا بدلہ لینے والا ، مجاہد (رح) نے اس کا ترجمہ نگران سے کیا ہے ، ابوعبیدہ ؓ نے اس کا ترجمہ کافیا سے کیا ہے
Ayah 4:8787۔ (آیت)” اللہ لا الہ الا ھو لیجمعنکم “۔ لام قسم ہے ۔ تقدیری عبارت یوں ہوگی ، ” واللہ لیجمعنکم فی الموت “ یعنی تم کو موت کے ساتھ جمع کرے گا یا قبروں میں جمع کرے گا ۔
(آیت)” الی یوم القیامۃ “ قیامت کو قیامۃ اس وجہ سے کہا گیا چونکہ قیامت کے دن ان کو قبروں سے اٹھایا جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” یوم یوم یخرجون من الاجداث سراعا “۔ بعض نے کہا کہ حساب دینے کے لیے ان کو اٹھایا جائے گا جیسا کہ رب کا فرمان ہے (آیت)” یوم یقوم الناس لرب العالمین “۔ ” لاریب فیہ ومن اصدق من اللہ حدیثا “ یعنی قول اور وعدہ کے ساتھ تصدیق کرنے والا ، حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ کے نزدیک صاد کے سکون کے ساتھ اور دال میں اشمام کے ساتھ پڑھا ہے ۔
Ayah 4:88(تفسیر) 88۔:
(آیت)” فمالکم فی المنافقین فئتین “۔
(فی المنافقین فئتین کا شان نزول)
اس کے نزول کے سبب میں آئمہ مفسرین رحمہم اللہ کا اختلاف ہے، بعض حضرات نے کہا کہ اس آیت کا نزول جنگ احد میں پیچھے رہنے والے منافقین کے بارے میں ہوا ، جب آپ ﷺ جنگ احد سے واپس تشریف لائے تو بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے آپ ﷺ سے کہ ان کو قتل کر دو کیونکہ یہ منافقین ہیں اور بعض صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ان کو درگزر فرمائیے کیونکہ یہ زبان سے اسلام والا کلام کرتے ہیں ۔
حضرت عدی بن ثابت ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ وہ زید بن ثابت ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ غزوہ احد کے لیے نکلے ان میں سے دو جماعتیں تھیں ایک جماعت وہ تھی جو یہ کہتے کہ ہم آپ کے ساتھ جہاد کے لیے جائیں گے اور ایک جماعت تھی وہ کہتے تھے کہ ہم نہیں جاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” فمالکم فی المنافقین فئتین واللہ ارکسھم بما کسبوا “۔ اور بعض نے کہا کہ وہ ایسے پاک ہوئے جیسے آگ چاندی کو چمکا دیتی ہے ۔
اور مجاہد (رح) کا قول ہے کہ کچھ لوگ مدینے آئے اور اسلام لائے ، پھر مرتد ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ سے مکہ واپس جا کر اپنا تجارتی مال لانے کی اجازت طلب کی اور چلے گئے اور وہیں رہنے لگے ، ان لوگوں کے متعلق مسلمانوں کی دو رائے ہوگئیں ، بعض مسلمان کہتے کہ وہ منافق ہوگئے اور بعض مسلمان کی رائے یہ تھی کہ وہ مؤمن ہیں اور بعض حضرات کا قول ہے کہ کچھ قریشی مدینہ آکر مسلمان ہوگئے پھر ان کو پیشمانی ہوئی اور تفریح کرنے والوں کے طریقے پر مدینہ سے باہر نکل گئے ، جب مدینہ سے دور ہوگئے تو وہاں سے رسول اللہ ﷺ کو خط لکھا کہ ہم اپنے سابقہ ایمان پر قائم ہیں مگر مدینہ کے اندر ہمارے پیٹ میں بیماری لگ گئی تھی اور اپنے وطن کا بھی شوق غالب آگیا کچھ مدت کے بعد یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام گئے ، مسلمانوں کو انکی روانگی کی اطلاع مل گئی اس پر بعض لوگوں کے کہا کہ ہم کو چاہیے کہ ہم جا کر ان سے لڑیں اور انکو لوٹ لیں کیونکہ وہ ہمارے دین سے پھرگئے ہیں ، دوسروں نے کہا کہ ہم ایسے لوگوں سے جو تمہارے مذہب پر ہیں صرف اس وجہ سے کیسے لڑ سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بستیاں نہیں چھوڑیں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔
اور بعض حضرات نے کہا کہ یہ قوم مکہ میں اسلام لائی پھر انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت نہیں کی اور مشرکوں کی مدد کرتے تھے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” فما لکم “ اے مؤمنین کی جماعت (آیت)” فی المنافقین فئتین “۔ یعنی وہ ہوگئے دو گروہ (آیت)” واللہ ارکسھم “۔ اور ان کو کفر کی طرف لوٹا دیا ، (آیت)” بما کسبوا “ ان کے اعمال کی وجہ سے یعنی مرتد ہونے کی وجہ سے (آیت)” اتریدون ان تھدون “ کہ تم ارادہ کرتے ہو کہ ہدایت یافتہ بن جاؤ ، (آیت)” من اضل اللہ “ بعض نے کہ کیا یہ لوگ راہ ہدایت پالیں گے حالانکہ اللہ نے انکو گمراہ کردیا ہے (آیت)” ومن یضلل اللہ “۔ جیسے کافروں کو ان کی ہدایت سے گمراہ کردیا ۔ (آیت)” فلن تجدلہ سبیلا “۔ حق تک پہنچانے والا راستہ نہیں ملے گا ۔
Ayah 4:89(تفسیر) 89۔:
(آیت)” ودوا “ تم تمنا کرتے ہو جس طرح وہ اپنے مذہب کی طرف لوٹ گئے تم بھی لوٹو (آیت)” لوتکفرون کما کفروا فتکونون سواء “ ۔ کفر میں وہ برابر ہیں ، جواب تمنی نہیں ہے کیونکہ جواب تمنی کی فاء منصوب ہوتی ہے بلکہ یہاں نسق مراد ہے۔ وہ تمنا کرتے ہیں کہ کافر ہوجائیں اور وہ چاہتے ہیں کہ وہ ایسے ہوجائے انکے برابر ہوجائیں ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ودوا لوتدھن فیدھنون “۔ ۔۔۔۔۔۔۔ فلا تتخذوا منھم اولیاء “۔ ان کے ساتھ موالات لین دین سے منع فرما دیا ۔ (آیت)” حتی یھاجروا فی سبیل اللہ “۔ یہاں تک کہ وہ آپ کے ساتھ ہجرت نہ کرلیں ، عکرمہ (رح) کا قول ہے یہ ایک اور ہجرت ہے ۔ ہجرۃ کی تین قسمیں ۔ ایک ہجرت جو سب سے پہلے مؤمنین نے کی ابتداء اسلام میں جیسا کہ (آیت)” للفقراء المھاجرین “۔ اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا (آیت)” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ “۔ اور اس طرح وہ آیات میں اس ہجرت کرنا معلوم ہے وہ آپ ﷺ کے ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کا نکلنا ،۔ اس آیت میں مؤمنین کو منافقین کے ساتھ موالات سے منع فرمایا ہے اس وقت کہ جب تک آپ کے ساتھ ہجرت نہ کریں اور تمام مؤمنین کی ہجرت اللہ کی منع کردہ چیزوں سے رکنا ہے ، جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد ہے کہ اہل مہاجر وہ ہے جو اللہ ورسول اللہ ﷺ کی منع کردہ اشیاء سے رکا ہو ، (آیت)” فان تولوا “۔ اگر وہ اعراض کریں توحید اور ہجرت سے (آیت)” فخذوھم “ ان کو پکڑ کر قیدی بنا لو اس سے کہ جاتا ہے ، ” اخیذ “ پکڑے ہوئے غلام کو (آیت)” واقتلوھم حیث وجدتموھم “۔ حل اور حرم میں (آیت)” ولا تتخذوا منھم ولیا ولا نصیرا “۔ پھر اس سے ایک جماعت کا استثناء کیا ۔
Ayah 4:9090۔ (آیت)” الا الذین یصلون الی قوم “۔ یہاں سے ان لوگوں کا استثناء ہے جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے باقی موالات کفار و منافقین کے ساتھ جائز نہیں ۔ (آیت)” یصلون “ کا معنی ہے جو منسوب کرتے ہیں اور تمہارے ساتھ اپنے آپ کو شامل کرتے ہیں یا عہد میں اپنے آپ کو تمہارے ساتھ شامل کرتے ہیں ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے اس سے مراد وہ قوم ہے جو تمہارے ماتحت ہے (آیت)” بینکم وبینھم میثاق “۔ یعنی ان کے اور تمہارے عہد ہے اور وہ اپنے آپ کو تمہارے حوالے کرنے والے ہیں کیونکہ آپ ﷺ نے ہلال بن عویمر کے ساتھ عہد کیا تھا مکہ سے نکلنے سے پہلے ،۔ یہ معاہدہ کیا تھا کہ ہلال نہ رسول اللہ ﷺ کی مدد کرے گا اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کے دشمنوں کی مدد کرے گا اور ہلال کے پاس اگر کوئی شخص اس کے قبیلے کا ہو یا غیر پہنچ کر پناہ پکڑلے تو ہلال کی طرح وہ بھی مامون رہے گا ، ضحاک (رح) نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ جس قوم کے درمیان عہد ہوا تھا وہ بنی بکر بن زید بن مناۃ تھا ان کے ساتھ صلح کی تھی ، مقاتل کا بیان ہے کہ یہ بنی خزاعہ تھا ۔
(آیت)” اوجاء وکم “ یعنی وہ تمہاری معاہدہ رکھنے والی قوم کے پاس پہنچ جائیں ۔ ” حصرت صدورھم “۔ ان کے سینے تنگ ہوجائیں ۔ حسن اور یعقوب کی قرات میں ” حصرۃ “ ہے منصوب ہے ان کے سینے تنگ ہیں ، یہ بنو مدلج قوم کے لوگ تھے ان کا قریشی کے ساتھ معاہدہ تھا کہ ان کے ساتھ لڑیں گے نہیں ۔ حصرت کا معنی ہے تنگ دل ہونا (آیت)” ان یقاتلوکم “ ان دونوں فریقوں کے درمیان عہد تھا کہ وہ آپس میں لڑیں گے نہیں (آیت)” اویقاتلوا قومھم “۔ جنہوں نے ان سے امان طلب کیا اور یہ بھی درست ہے کہ اس کا معنی یہ کیا جائے کہ نہ یہ کسی دوسری قوم کے ساتھ مل کر تم سے جہاد کریں گے اور نہ ہی تم کسی دوسری قوم کے ساتھ مل کر جہاد کرو ، یعنی قریش کے سینے ان لوگوں کے ساتھ لڑنے کو پسند نہیں کرتے جن کے ساتھ معاہدہ ہوا، بعض نے کہا کہ او بمعنی واؤ کے ہے گویا کہ انہوں نے یوں کہا کہ ان کا اور ان کا آپس میں معاہدہ ہے یا ان کا آپس میں لڑنا ناپسند ہے یہ قوم ہلال اسلمیون کی ہے اور بنوبکر کی جماعت ہے ، اللہ تعالیٰ نے ایسے مرتدین کے ساتھ قتال کرنے سے منع فرمایا ہے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کیا ہو کیونکہ شرعی اصول ہے کہ جو قوم کسی سے معاہدہ کرلیتی ہے تو اس معاہد قوم کا وہی حکم ہے جو اس کا ہے۔ اس کا خون ، عزت وآبرو محفوظ ہوجاتی ہے ۔ (آیت)” ولو شاء اللہ سلطھم علیکم فلقاتلوکم “۔ یہاں پر مسلمانوں کے اوپر احسان کا تذکرہ کیا کہ ہم نے تم پر احسان کیا ان کے ساتھ معاہدہ کروا کر کہ ان کے دلوں کو تمہارے خوف دلوا کر تمہارے ساتھ لڑنے سے باز رکھا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ تمہارے ساتھ لڑتا ” فان اعتزلوکم “ تم ان سے کنارہ کشی کرو گے ۔ (آیت)” فلم یقاتلوکم “۔ اور وہ تم سے نہ لڑیں یا کسی اور قوم کے ساتھ مل کر تم سے لڑیں ۔ (آیت)” والقوا الیکم السلم “۔ سلم سے مراد صلح ہے ۔ ان لوگوں نے اپنے آپ کو ان کے حوالے کردیا ۔ (آیت)” فما جعل اللہ لکم علیھم سبیلا “۔ قتل اور قتال کا طریقہ ۔
Ayah 4:91(تفسیر) 91۔:
(آیت)” ستجدون اخرین “ کلبی (رح) نے ابی صالح کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ یہ لوگ بنی اسد اور بنی غطفان کے تھے ، مدینہ میں آکر رہنے لگے تھے ، دکھاوے کے لیے اسلام کا کلمہ پڑھتے تھے مگر وہ حقیقت میں مسلمان نہیں تھے جب ان میں سے کسی سے اس کی قوم والے کہتے تھے کہ تو کیوں مسلمان ہوگیا تو جواب دیتا کہ میں اس بندر اور بچھو پر ایمان لایا ہوں لیکن جب صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے ان کی ملاقات ہوتی تو کہتے ہم آپ کے دین پر ہیں ، اس دوغلے پن سے ان کا یہ مقصد ہوتا تھا تاکہ دونوں طرف سے بےخطر ہوجائیں ۔ ضحاک (رح) نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ بنو عبدالدار ہیں جو اس صفت کے قائل تھے ۔ (آیت)” یریدون ان یامنوکم “۔ ان کے ساتھ کوئی تعرض نہ کیا جائے ۔
(آیت)” ویامنوا قومھم “۔ اور وہ اپنی قوم سے بھی بےخطر ہوکر رہے ۔ (آیت)” کلما ردوا الی الفتنۃ “۔ جب بھی ان کو شرک کی دعوت دی جاتی ۔ (آیت)” ارکسوا فیھا “۔ تو وہ لوٹ جاتے شرک کی طرف (آیت)” فان لم یعتزلوکم “۔ اگر وہ تمہارے ساتھ قتال نہ رکیں یہاں تک کہ وہ مکہ کی طرف چلے جائیں (آیت)” ویلقوا الیکم السلم “۔ یعنی تم سے افادہ اور صلح کرنا چاہیں ۔ (آیت)” ویکفوا ایدیھم “۔ اور وہ اپنے ہاتھوں کو قتال سے نہ روکیں ۔ (آیت)” فخذوھم “ ان کو تم قید کرلو (آیت)” جعلنا لکم علیھم سلطانا مبینا “۔ وہ دلیل وحجت جو ظاہر ہے یعنی قتل و قتال ۔
Ayah 4:92(وما کان لمؤمن کی آیت کا شان نزول)
(تفسیر) 92۔:
(آیت)” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا “۔ یہ آیت عیاش بن ابی ربیعہ کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ ہجرت سے پہلے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اسلام لے آیا پھر اس کو اندیشہ ہوا کہ گھر والوں سے میرا مسلمان ہونا مخفی نہیں رہے گا اس لیے بھاگ کر مدینہ چلا گیا اور وہاں پہنچ کر ایک گڑھی میں قلعہ بند ہوگیا ، عیاش کے جانے کے بعد اس کی ماں کو بڑی بےتابی ہوئی اور اس نے اپنے دونوں بیٹوں ابوجہل اور حارث سے (جو ہشام کے نطفے سے تھے) کہا اللہ کی قسم جب تک تم عیاش کو نہ لاؤ گے میں کسی چھت کے سایہ میں نہ جاؤں گی نہ کھانا کھاؤں گی نہ پانی پیوں گی ، ماں کی قسم سن کر دونوں عیاش کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے اور حارث بن زید بن ابی انیسہ بھی ان کے ساتھ ہو لیا ، عیاش کے پاس پہنچے تو دیکھا وہ گڑھی میں پہاڑی پر قلعہ بند ہے ۔ اس سے کہا تم نیچے آجاؤ تمہارے بعد تمہاری ماں نے قسم کھالی ہے کہ جب تک تم نہ پہنچ جاؤ گے وہ سایہ میں نہ جائے گی اور نہ کچھ کھائے پئے گی اور ہم قسم کھا کر کہتے ہیں کہ تم کو کسی بات پر مجبور نہیں کریں گے نہ تمہارے مذہب سے تم کو روکیں گے ، جب ان لوگوں نے ماں کی بےتابی کا ذکر کیا اور اللہ کی قسمیں کھائیں تو عیاش گڑھی سے اتر آیا ، یہ لوگ اس کو مدینہ سے نکال کرلے چلے پھر ان کو نواڑھ سے باندھ دیا اور ہر ایک نے سو سو درے اس کو مارے اور ماں کے پاس پہنچا دیا ، ماں نے دیکھ کر کہا خدا کی قسم میں تیری بندش اس وقت تک نہیں کھولوں گی جب تک تو اس چیز کا انکار نہ کر دے جس پر ایمان لایا ہے ، پھر اس کو اسی طرح بندھا ہوا دھوپ میں ڈال دیا جب تک اللہ کی مشیت تھی وہ پڑا رہا ، آخر کار جو لوگ چاہتے تھے عیاش نے وہی کردی اور عیاش کو کھول دیا اتنے میں حارث بن زید آگیا اور وہ بولا کیا یہی وہ بات تھی جو تو نے اختیار کی تھی (یعنی تھوڑی سی تکلیف کی وجہ سے وہ تم نے چھوڑ دی) خدا کی قسم ! جس بات کو تو نے اختیار کیا تھا اگر وہ ہدایت تھی تو تو نے ہدایت چھوڑ دی اور اگر وہ گمراہی تھی تو تو اب تک گمراہی پر تھا ، عیاش کو اس کی بات پر غصہ آیا اور کہنے لگا خدا کی قسم ! اگر تنہائی مین تو میرے ہاتھ لگ گیا تو تجھے قتل کیے بغیر نہیں چھوڑوں گا ، کچھ دنوں کے بعد عیاش پھر مسلمان ہوگیا اور مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلا گیا ، عیاش کے کچھ دونوں کے بعد حارث بن زید بھی مسلمان ہوگیا ، اور ہجرت کرکے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا ، حارث کے پہنچنے کے وقت عیاش وہاں موجود نہ تھا نہ اس کو حارث کے مسلمان ہونے کی اطلاع ملی ۔
ایک روز عیاش قبا کے باہر جا رہا تھا کہ سامنے سے حارث آگیا ، عیاش نے حارث کو قتل کردیا ۔ لوگوں نے کہا ارے تو نے یہ کیا کیا حارث تو مسلمان ہوگیا تھا یہ سنتے ہی عیاش رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میرا اور حارث کا یہ واقعہ ہوا ہے اور آپ واقف ہیں کہ مجھے اس کے مسلمان ہونے کا علم نہ تھا اور اس لاعلمی میں میں نے اس کو مار ڈالا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” وما کان لمؤمن ان یقتل مؤمنا الا خطائ “ اس آیت میں مؤمن کو قتل کرنے سے منع فرمایا (آیت)” وما کان لکم ان توذوا رسول اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ الا خطائ “ استثناء منقطع ہے لیکن اگر خطاء ہو (آیت)” ومن قتل مؤمن خطاءتحریر رقبۃ مؤمنۃ “۔ اس پر ایک مؤمن غلام آزاد کرنا ہے ۔ ” ودیۃ مسلمۃ “۔ یہ اس کی کامل دیت ہے (آیت)” الی اھلہ “ مقتول کے ورثاء کو (آیت)” الا ان یصدقوا “۔ دیت کو صدقہ کردیں یعنی دیت معاف کردیں یا مرنے سے پہلے مقتول معاف کردے ۔ (آیت)” فان کان من قوم عدولکم وھو مؤمنتحریر رقبۃ مؤمنۃ “۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر مسلمان دارالحرب میں رہ رہا ہو کفار کیساتھ اس کو مسلمان مار ڈالیں اور اس کے اسلام کا مسلمانوں کو پتہ نہ ہو تو اس پر دیت نہین ہے البتہ کفارہ ہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کوئی مسلمان مقتول پایا جائے دارالاسلام میں لیکن وہ کافر خاندان سے تعلق رکھتا تھا ، یعنی اس کا خاندان کنبہ کا فر تھا اور وہ دارالحرب میں تھا ، جس سے مسلمانوں کی جنگ تھی جیسے حارث بن زید تھے اس صورت میں قتل کا کفارہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا ہے ، اس پر دیت واجب نہیں کیونکہ مسلمانوں کا اس سے کوئی معاہدہ نہیں ۔ (اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے مسلمان اور کافر کے درمیان وارثت بھی جاری نہیں ہوتی)
(آیت)” وان کان من قوم بینکم وبینھم میثاق فدیۃ مسلمۃ الی اھلہتحریر رقبۃ مؤمنۃ “۔ اس سے مراد جب کافر مقتول ذمہ ہو یا معاہد ہو تو پھر اس پر دیت اور کفارہ دونوں واجب ہیں ۔
کفارہ ایک مؤمن گردن آزاد کروانا ہے برابر ہے کہ مقتول مسلم ہو یا معاہد ہو ، مرد ہو یا عورت آزادہ ہو یا غلام اور قاتل کے مال میں سے ہو (آیت)” فمن لم یجد فصیام شھرین متتابعین “۔ قاتل اگر گردن آزاد کر ناپائے یا اس کو حاصل کرنے کی قدرت ہو بایں طور پر کہ اس کے ثمن پر قادر ہے اور وہ ثمن اس کے اہل و عیال کے خرچے سے زائد ہے تو پھر اس کو چاہیے کہ وہ غلام کو خرید کر آزاد کرے ، اس صورت میں وہ روزے نہیں رکھ سکتا ، ہاں اگر وہ اس غلام کو حاصل کرنے سے عاجر آجائے تو پھر دو ماہ کے روزے کی نیت کرلی تو اس پر دوبارہ ازسر نو روزے رکھنے پڑیں گے ، اگر اس کے روزوں میں ایک دن کا وفقہ آگیا کسی مرض یا سفر کی وجہ سے تو پھر اس کے بارے میں آئمہ کا اختلاف ہے کہ کیا وہ از سر نو روزے رکھے گا یا نہیں ؟ اس بارے میں بعض کا قول ہے کہ وہ اس طرح از نو روزے رکھے گا یہ قول امام نخعی (رح) ، امام شافعی (رح) کا ہے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ وہ از سر نو روزے نہ رکھے بلکہ جہاں سے اس نے چھوڑے ہیں وہاں سے آگے رکھے یہ قول سعید بن المسیب (رح) ، حسن (رح) ، وشعبی (رح) کا ہے ۔ اگر عورت ان دو ماہ کے روزوں کے درمیان حائضہ ہوگئی تو ایام حیض میں افطار کرے گی ، اس کی لگا تار ترتیب منقطع نہیں ہوگی ، جب وہ پاک ہوجائے تو جہاں سے اس نے روزے چھوڑے تھے وہیں سے دوبارہ رکھنا شروع کر دے کیونکہ عورتوں کے بارے میں عام طور پر اس کام سے نہیں بچ سکتے ، اگر وہ شخص دو ماہ روزے رکھنے سے عاجز آجائے تو اس بارے میں دو قول ہیں ، ایک یہی ہے کہ وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے جیسا کہ مسئلہ ظہار میں ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ ان روزوں سے چھٹکارا نہیں حاصل کرسکتا کیونکہ ان کا بدل ذکر نہیں کیا (آیت)” فصیام شھرین متتابعین “۔ کی قید موجود ہے ۔ (آیت)” توبۃ من اللہ “۔ یہ قتل خطاء کے قاتل کی توبہ ہے ۔ (آیت)” وکان اللہ علیما “۔ جو خطاء قتل کر دے ۔ ” حکیما “ جو تمہارے اوپر حکم لگایا ہے ۔
(دیت اور قتل کے احکام)
دیت کے متعلق بعض حضرات نے یہ کلام کیا ہے کہ قتل کی تین اقسام ہیں ” عمدمحض “۔ شبہ عمد، خطاء محض۔
عمد محض : وہ ہے کہ ایک انسان دوسرے کو ایسے آلہ سے قتل کرنے کا ارادہ کرے جس سے عام طور پر دوسرے انسان کو قتل کیا جاتا ہے ، اس میں قصاص ہے یا دیت مغلظہ ہے ۔
شبہ عمد : وہ ہے ایسی چیز سے کسی کو مارنا جس سے عام طور پر انسان مرتا نہیں اس طور پر کہ وہ چھوٹی لاٹھی سے مارے یا چھوٹے پتھر سے مارے ایک دفعہ مارے یا دو مرتبہ اور وہ مرگیا تو اس پر قصاص نہیں بلکہ اس پر دیت مغلظہ ہے جو تین سال تک وہ ادا کرے گا ۔
خطاء محض : کسی انسان کو دوسرے کے قتل کا ارادہ نہ ہو بلکہ وہ کسی اور چیز کا ارادہ کر رہا تھا تو وہ تیر اس شخص کو جا کر لگا جس سے وہ مرگیا ، اس پر قصاص نہیں ، البتہ اس کے عاقلۃ پر دیت مخففہ ہے جو وہ تین سال تک ادا کریں گے اور اس پر کفارہ واجب ہوگا مختلف انواع سے ۔
امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک قتل عمد کی صورت میں کفارہ واجب نہیں کیونکہ یہ تمام کبیرہ گناہوں سے بڑا گناہ ہے اور آزاد مسلمان کی دیت سو اونٹ ہے ۔ اگر وہ اونٹ نہ پائے تو دراہم ودنانیر سے اس کی دیت ادا کرے گا ۔
اور جن حضرات کے نزدیک دینار سے دیت ادا کی جائے گی ان کے ہاں ایک ہزار دینار ادا کیے جائیں گے یا بارہ سو دینار ادا کیے جائیں گے ، جیسا کہ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ فرض دیت سونے چاندی والوں میں سے ہزار دینار اور چاندی میں سے بارہ ہزار درہم اور بعض حضرات کے نزدیک واجب دیت سو اونٹ ہیں یا ایک ہزار دینار یا بارہ ہزار درہم ، یہ قول عروۃ بن زبیر حسن بصری ؓ کے نزدیک ہے اور یہی قول امام مالک (رح) کا ہے اور بعض حضرات کے نزدیک ایک سو اونٹ یا ایک ہزار دینار یا دس ہزار درہم ہیں ، یہ سفیان ثوری اور اصحاب الرای کا مذہب ہے اور عورت کی دیت مرد کی نصف دیت پر ہے اور اہل ذمہ اور معاہد کی دیت مسلمان کی تہائی دیت کے برابر ہے ۔ اگر وہ کتابی ہو اور اگر وہ مجوسی ہو پھر دیت کا پانچواں حصہ اس پر واجب ہوگا ، حضرت عمر ؓ مروی ہے فرماتے ہیں کہ یہودی اور نصرانی کی دیت چار ہزار درہم ہے اور مجوسی کی دیت آٹھ سو درہم ہے ، یہ قول سعید بن المسیب وحسن بصری کا ہے اور اسی طرف امام شافعی (رح) گئے ہیں اور بعض حضرات کے نزدیک ذمی اور معاہد کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہے اور روایت کیا گیا ابن مسعود ؓ سے اور یہ قول سفیان ثوری اور اصحاب الرای کا ہے اور بعض حضرات کے نزدیک ذمی اور معاہد کی دیت مسلمان کی دیت کے برابر ہے اور روایت کیا گیا ابن مسعود ؓ سے اور یہ قول سفیان ثوری (رح) اور اصحاب الرای کا ہے اور بعض حضرات کے نزدیک ذمی کی دیت مسلمان کی دیت سے نصف ہے ، یہ قول عمر بن عبدالعزیز کا ہے ، یہی قول امام مالک (رح) ، امام احمد (رح) ، کے نزدیک ہے ۔
عمد محض میں دیت اور شبہ عمد میں دیت مغلظہ ہے ، اس میں تیس حقے ، تیس جذعے اور چالیس خلفۃ ہیں ، یہ قول عمر بن خطاب ؓ ، زید بن ثابت ؓ کا ہے اور یہ قول عطاء (رح) کا ہے اور اسی طرح امام شافعی (رح) کا بھی قول ہے ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سنو کہ قتل عمد اور قتل خطاء جو کسی کو لاٹھی یا کوڑے سے مارے تو وہ مرجائے تو اس کی دیت سو اونٹ ہے ، اس میں چالیس خلفۃ ۔
اور بعض حضرات کے نزدیک دیت مغلظہ چار طرح ادا کی جائے گی پچیس بنت مخاض ، پچیس بنت لبون، پچیس حقہ اور پچیس جذعہ ، یہ قول امام زہری (رح) اور ربیعہ کا ہے ، امام مالک (رح) ، امام احمد (رح) اور اصحاب الرای (رح) کا یہی مذہب ہے ۔ قتل خطاء کی دیت خفیف ہے اور وہ اخماس کے طریقے سے ادا ہوگی یعنی پانچ قسم کے اونٹ سے دینی ہوگی ، بعض حضرات کے نزدیک بیس بنت مخاض اور بیس بنت لبون اور بیس ابن لبون اور بیس حقہ اور بیس جذعہ ادا کرنے ہوں گے ، یہ قول امام زہری اور ربیعہ کا ہے اور یہی قول اصحاب الرای کا ہے اور عمر بن عبدالعزیز (رح) سلیمان بن یسار (رح) کا بھی ہے اور امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) کا بھی یہی قول ہے اور بعض حضرات نے بنت لبون کی جگہ بنت مخاض کا ذکر کیا ہے یہ ابن مسعود ؓ سے مروی ہے اور امام احمد (رح) اور اصحاب الرای (رح) کا مذہب یہی ہے ، عورت کی دیعت مرد کی دیت سے نصف ہے ۔ قتل خطاء وشبہ عمد کی دیت عاقلہ پر ہے اور میت کے علاقہ مذکر عصبات ہیں اور جنایت کرنے والے پر کوئی چیز نہیں کیونکہ آپ ﷺ نے عاقلہ پر دیت کو واجب قرار دیا ہے ۔
Ayah 4:93(تفسیر) 93۔:
(آیت)” ومن یقتل مؤمنا متعمدا “۔
(من یقتل مؤمنا متعمدا کا شان نزول)
یہ آیت مقیس بن حبابہ کندی کے بارے میں نازل ہوئی ، یہ اور اس کا بھائی ہشام اسلام لے آئے تھے ایک روز مقیس کو محلہ بنی نجار میں ہشام کی لاش ملی اور وہ خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور واقعہ عرض کیا ، حضور اقدس ﷺ نے اس کے ساتھ ایک فہری شخص کو بھیج دیا اور بنو نجار کو کہلا بھیجا کہ رسول اللہ ﷺ کا حکم ہے کہ اگر تم ہشام کے قاتل سے واقف ہو تو اس کو مقیس کے حوالے کرو تاکہ وہ اپنے بھائی کا قصاص لے لے اور نہیں جانتے ہو تو ہشام کی دیت ادا کرو ، فہری نے رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچا دیا ، بنی نجار نے جواب دیا اللہ کے رسول ﷺ کا حکم سر آنکھوں پر ہم کو ہشام کا قاتل تو معلوم نہیں ہاں ہم دیت ادا کرتے ہیں ۔ چناچہ انہوں نے مقیس کو سو اونٹ دے دیئے ، مقیس اور فہری لوٹ آئے ، راستے میں مقیس کو شیطان نے بہکایا ، اس نے خیال کیا کہ اگر میں دیت لے کر بیٹھ رہوں گا تو یہ بڑی ذلت کی بات ہوگی ، بہتر یہ ہے کہ میں فہری کو قتل کردوں تاکہ جی کا بدلہ جی ہوجائے اور دیت مزید رہے ، چناچہ اس نے فہری کو غافل پا کر زور سے ایک پتھر مارا اور اس کا سر پھاڑ دیا ، فہری مرگیا ، پھر اونٹ پر سوار ہو کر باقی اونٹوں کو ہنکا کر مکہ لے گیا اور مرتد ہوگیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ومن یقتل مؤمنا متعمدا ۔۔۔۔۔۔ فجزاؤہ جھنم خالدا فیھا “۔ اس میں ہمیشہ رہے گا اس کے کفر و ارتداد کی وجہ سے ، اس سے وہ شخص مستثنی ہے جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا کہ اگر ابن خطل کعبہ کے پردے کے ساتھ چمٹا ہو تو پھر بھی اس کو قتل کر دو ۔
(آیت)” وغضب اللہ علیہ ولعنہ “۔ اس کو رحمت سے دوری ہے (آیت)” اعدلہ عذابا عظیما “۔ اس آیت کے حکم میں آئمہ کا اختلاف ہے ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ مؤمن کو عمدا قتل کرنے والے کے لیے توبہ نہیں ، کہا گیا کہ کیا سورة فرقان میں یہ نہیں فرمایا گیا (آیت)” ولا تقتلوا النفس التی حرم اللہ الا بالحق “۔ سے لے کر (آیت)” ومن یفعل ذلک یلق اثاما یضاعف لہ العذاب یوم القیامۃ ویخلد فیہ مھانا الا من تاب “۔ اس آیت میں تو صراحتا موجود ہے کہ قاتل کی توبہ قبول کی جائے گی اور توبہ کرنے والا قاتل دوامی سزا سے مستثنی ہے ، فرمایا کہ یہ زمانہ جاہلیت کا حکم ہے کہ اس وقت لوگ مشرک تھے جنہوں نے قتل وزنا کے جرائم کا ارتکاب کیا تھا ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا آپ ہم کو جس بات کی دعوت دے رہے ہیں وہ ہے تو اچھی کاش ! آپ ﷺ یہ بھی بتلا دیجئے کہ جو کچھ ہم کو چکے ہیں یہ اس کا کفارہ ہوجائے گا اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” والذین لا یدعون مع اللہ الھا آخر ۔۔۔۔۔۔۔۔ الا من ۔۔۔۔۔ تاب ۔۔۔۔۔۔ وامن “۔ پس یہ ہی لوگ ہیں باقی سورة نساء میں یعنی (آیت)” فجزاء ہ جھنم خالدا فیھا “۔ آیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص مسلمان ہوگیا اور اسلام کے احکام سے اس کو واقفیت ہوگئی اور پھر اس نے مؤمن کو قتل کردیا تو اس کی سزا جہنم ہے ۔
حضرت زید بن ثابت ؓ نے فرمایا جب یہ آیت ” والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر “۔ نازل ہوئی تو ہم کو اس کی نرمی پر تعجب ہوا ، سات مہینے ہم اسی حالت میں رہے اس کے بعد سورة نساء کی آیت سخت نازل ہوئی اور نرم حکم والی آیت منسوخ کردی گئی لیکن اس آیت کو نرم حکم والی آیت کا ناسخ قرار دینا اور منسوخ ماننا صرف حضرت زید بن ثابت ؓ کا قول ہے ۔
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے کہ آیت مکیہ ہے اور یہ مدنی ہے لہذا کوئی ناسخ و منسوخ نہیں اور یہی اکثر مفسرین کا قول ہے اور یہی مذہب اہل سنت والجماعت کا ہے ۔ مسلمان کا قاتل اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہے ۔ لقولہ تعالیٰ (آیت)” وانی لغفار لمن تاب وامن وعمل صالحا “۔ اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا (آیت)” ان اللہ لا یغفر انی یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشائ “۔ اور جو حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے وہ تشدید اور تغلیظ پر محمول ہے ، جیسا کہ سفیان بین عیینہ سے مروی ہے کہ ان کے بارے میں مروی ہے کہ اگر کسی نے کسی کو بھی قتل نہیں کیا تو اس پر توبہ کرنا ضروری نہیں ہاں اگر کسی نے کسی شخص کو قتل کردیا تو اس کے لیے توبہ کرنا ضروری ہے اور اسی طرح حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے ، اس آیت کا تعلق اس سے نہیں کہ جو شخص کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا تو وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں داخل ہوگا کیونکہ اس آیت میں اس شخص کا ذکر ہے جو دوسرے کو کافر سمجھ کر قتل کر رہا ہو اور وہ مقیس بن حبابہ ہے ۔
اور بعض حضرات نے کہا کہ ” مخلد فی النار “ کا تعلق اس شخص کے ساتھ ہے جو کسی کو حلال سمجھ کر قتل کرے اور جو شخص مؤمن کو مؤمن سمجھتے ہوئے قتل کرے تو وہ کافر ہونے کے سبب ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” فجزاء ہ جھنم خالدا فیھا “۔ کیونکہ اس کا وعدہ ہے کہ وہ چاہے جس کو بخش دے ۔
عمرو بن عبید سے حکایت کی جاتی ہے کہ وہ عمرو بن العلاء کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ کیا اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ فرمایا نہیں ۔ پھر ارشاد فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا (آیت)” ومن یقتل مؤمنا متعمدا فجزاء ہ جھنم خالدا فیھا “۔ ابو عمرو بن العلاء نے جواب دیا کہ کیا آپ عجم سے ہو کہ عرب لوگ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتے بلکہ وہ وعدہ خلافی کو مذمت شمار کرتے ہیں ، اس بات میں دلیل یہ ہے کہ شرک کے علاوہ کسی گناہ کی وجہ سے وہ ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا جو کچھ ہم نے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے کسی قسم کا کوئی شرک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔
حضرت عبادۃ بن صامت ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں وہ بدر کے دن حاضر ہوئے اور نقباء میں سے ایک تھے ۔
(آیت)” لیلۃ العقبہ “۔ کی رات آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب ان کے ارد گرد صحابہ ؓ کی جماعت موجود تھی ، فرمایا کہ مجھ پر تم بیعت کرو اس شرط پر کہ تم شرک نہیں کرو گے ، اللہ کے ساتھ اور نہ چوری کرو گے اور نہ زنا کرو گے اور نہ اپنی اولاد کو قتل کرو گے اور نہ کسی پر جھوٹی تہمت باندھو گے جو تمہارے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان ہے اور نیکی کے کاموں میں نافرمانی نہیں کرو گے جس نے ان کو پورا پورا کیا اس کا اجر اللہ کے پاس ہے جو شخص ان میں سے کسی کو پہنچ گیا اور اس کو دنیا میں سزا دی گئی تو وہ اس کا کفارہ بن جائے گی اور جو شخص کسی گناہ میں مبتلا ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ نے اس پر پردہ پوشی کی تو وہ اللہ کے سپرد ہے چاہے تو وہ اس پر سزا دے اور چاہے تو بخش دے ہم نے اس پر آپ ﷺ کے ساتھ بیعت کی ۔
Ayah 4:94(یایھا الذین امنوا اذا ضربتم، کا شان نزول)
(تفسیر) 94۔:
(آیت) ” یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا “۔ کلبی (رح) نے ابی صالح (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت کا نزول بنی مرہ بن عوف کے بارے میں ہوا ۔ اس کا نام مرداس بن نھیک تھا اور وہ اہل فدک میں سے ہے یہ مسلمان ہوا تھا لیکن اس کی قوم والے اسلام نہیں لائے تھے ۔ جب قوم والوں کو مسلمانوں کے آنے کی خبر ملی تو سب بھاگ گئے مگر مرداس چونکہ مسلمان تھا یہ وہیں مقیم رہا ، جب سواروں کو دیکھا تو اسے ڈر ہوا کہ یہ کہیں رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کے علاوہ کہیں اور کوئی نہ ہوں اس لیے اس نے اپنی بکریاں پہاڑ کے کسی محفوظ مقام میں پہنچا دیں اور خود پہاڑ پر چڑھ گیا ، جب سوار آہی پہنچے اور مرداس نے انکی تکبیر کی آواز سنی تو پہچان گیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھی ہیں فورا کلمہ پڑھتا ہوا نیچے اتر آیا اور آکر کہا السلام علیکم لیکن حضرت اسامہ بن زید ؓ نے اس پر تلوار چھوڑ دی اور قتل کردیا اور بکریاں ہنکا کرلے گئے ۔ جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لوٹے اور واقعہ کی اطلاع دی لیکن حضور ﷺ کو یہ خبر پہلے ہی پہنچ چکی تھی اور آپ ﷺ کو اس خبر سے بہت رنج محسوس ہوا اس لیے آپ ﷺ نے فرمایا تم نے اس کے مال کے لالچ میں اس کو مار ڈالا ، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ حضرت اسامہ بن زید ؓ نے کہا یا رسول اللہ ! ﷺ میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئے ۔ فرمایا ” لا الہ الا اللہ “ کا کیا ہوگا یعنی اس نے تو کلمہ پڑھ لیا تھا پھر تم نے اس کو مار دیا ، آپ ﷺ نے یہ کلمہ تین بار ارشاد فرمایا ، حضرت اسامہ ؓ کا بیان ہے حضور ﷺ بار بار یہ ارشاد فرماتے رہے یہاں تک کہ میں نے دل میں خیال کیا کہ کاش ! میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوتا ، آخر تین بار انکار کے بعد آپ ﷺ نے میرے لیے دعائے مغفرت کردی اور فرمایا ایک غلام آزاد کر دو ۔
ابوظبیان کی روایت میں ہے کہ حضرت اسامہ ؓ یہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے توہتھیاروں سے ڈر کر کلمہ پڑھا تھا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہیں دیکھا کہ تجھے معلوم ہوجاتا کہ اس نے دل سے کہا ہے یا نہیں ۔
عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ بنی سلیم کے پاس سے آپ ﷺ کے اصحاب گزرے ، اس شخص کے ساتھ بکریاں تھیں اس شخص نے سلام کیا ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کہنے لگے کہ اس نے ہم پر سلام کیوں مگر یہ کہ ہم سے پناہ مانگنا چاہتا تھا وہ کھڑے ہوئے اور اس کو قتل کردیا اور اس کی بکریوں کو پکڑ کرلے آئے اور جب آپ ﷺ کی خدمت گرامی میں پہنچے تو پھر یہ آیت نازل ہوئی یایھا الذین امنوا اذا ضربتم فی سبیل اللہ “۔ یعنی تم جب جہاد کے لیے جاؤ اللہ کے راستے میں ” فتبینو “ ‘ ۔ حمزہ (رح) اور کسائی (رح) نے ان دونوں جگہوں پر اور سورة حجرات میں تاء کے ساتھ پڑھا ہے ، یعنی تم کسی کو قتل کرنے سے اس وقت تک رکے رہو جب تک کہ تمہیں معلوم نہ ہوجائے کہ یہ کافر ہے یا مسلمان اور دوسرے قراء نے یاء اور نون ” تبین “ سے پڑھا ہے ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ” تبینت الامر “ جب اس کام میں غور وتامل کیا جائے ۔
(آیت)” ولا تقولوا لمن القی الیکم السلام “۔ اسی طرح اہل مدینہ ابن عامر اور حمزہ نے پڑھا ہے ۔ اس سے مراد معاذۃ ہے اور وہ اس کا قول ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “۔ دوسرے حضرات نے اسلام سے مراد تحیۃ السلام لیا ہے کیونکہ اس شخص نے مسلمانوں کے لشکر پر سلام بھیجا اور بعض نے کہا ” السلام “ اور ” والسلام “ واحد ہیں ، مطلب یہ ہے کہ تم نہ کہو اس شخص کو مؤمن جو تم پر سلامتی بھیجے ، اس صورت میں اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” لست مؤمنا تبتغون عرض الحیوۃ الدنیا “۔ سے مراد اس کی بکریاں اور اس کا مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے (آیت)” عرض الحیوۃ الدنیا “۔ اس سے مراد دنیا کے منافع اور اس کا سامان مراد ہے ۔ (آیت)” فعند اللہ مغانم “ اس سے مراد مال غنیمت ہے ” کثیرۃ “ جو شخص مؤمن کے قتل کرنے سے ڈرا اس کے لیے کثیر ثواب ہے ۔
(آیت)” کذلک کنتم من قبل “۔ سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ اسی طرح تم ایمان کو چھپاتے تھے مشرکین سے (آیت)” فمن اللہ علیکم “۔ اسلام کے اظہار کے ساتھ تمہارے ساتھ احسان والا معاملہ کیا کہ وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم دیا ۔ ” فتبینوا “ کہ تم مؤمن کو قتل کرو (آیت)” ان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ اگر مجاہدین اسلام کو کسی شہر یا بستی میں اسلام کی کوئی غلامت نظر آجائے تو وہاں کے رہنے والوں کو قتل کرنے سے باز آجائیں کیونکہ آپ ﷺ جب کسی بستی پر حملہ کرنا چاہتے تو اذان سنتے تو پھر اس بستی پر حملہ نہ کرتے اور اگر اس بستی سے اذان کی آواز نہ آئے تو پھر اس پر حملہ کردیتے ، ابن عصام اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب کسی بستی پر حملہ کرنے کے لیے لشکر بھیجتے تو ارشاد فرماتے کہ اگر تم کو وہاں مسجد نظر آئے یا مؤذن کی آواز سن لو تو کسی کو قتل نہ کرنا ۔
Ayah 4:95(لا یستوی القاعدون کا شان نزول)
(تفسیر) 95۔:
(آیت)” لا یستوی القاعدون من المؤمنین “۔ حضرت سہل بن سعد الساعدی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے مروان بن الحکم کو مسجد میں بیٹھا ہوا دیکھا تو میں ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا اور مجھے خبر دی گئی کہ نبی کریم ﷺ حضرت زید بن ثابت سے کچھ لکھوا رہے تھے (آیت)” لا یستوی القاعدون من المؤمنین والمجاھدون فی سبیل اللہ “۔ کہ اچانک حضرت ابن ام مکتوم ؓ آگئے اور وہ یہ لکھ چکے تھے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! ﷺ اگر میں جہاد کی طاقت رکھتا تو ضرور جہاد کرتا ، حضرت ابن ام مکتوم نابینا شخص تھے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
حضرت ثابت بن زید ؓ کا بیان ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس وقت آپ ﷺ کی ران میری ران پر تھی اور نزول وحی کا میرے اوپر اتنا بوجھ پڑا کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں میری ران ٹوٹ نہ جائے ، اس کے بعد وحی ختم ہوگئی ” غیر اولی الضرر “۔ یہ جہاد کی فضیلت اور اس پر برانگیختہ کرنے کے لیے ارشاد فرمایا (آیت)” لا یستوی القاعدون من المؤمنین “۔ اس سے مراد جہاد سے برابری ہے (آیت)” غیر اولی الضرر “۔ قراء اہل مدینہ ، کسائی (رح) ، ابن عامررحمۃ اللہ علیہ نے راء کے نصب کے ساتھ پڑھا ہے ، اس صورت میں غیر بمعنی ” الا “ کے ہوگا ، عبارت یہ ہوگی (آیت)” الا اولی الضرر “۔ اور دوسرے حضرات نے راء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے ۔ اس صورت میں یہ ” القاعدین “ کی صفت ہوگی ، مطلب یہ ہوگا کہ ایسے بیٹھے رہنے والے جو معذور نہ ہوں یا بیٹھ رہنے والے جو بیمار نہ ہوں خواہ وہ کمزوری بڑھاپے کی ہو یا کوئی اور ہو اندھا ہو ۔ (آیت)” والمجاھدون فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم “۔ یعنی وہ مؤمن جو جہاد سے بیٹھے رہے بغیر عذر کے اور وہ مجاہدین جو اپنے جان ومال سے جہاد کرتے ہیں یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے ، لیکن جو لوگ کسی عذر کی وجہ سے جہاد میں نہ جاسکے لیکن ان کی نیت یہ تھی کہ وہ اگر معذور نہ ہوتے تو ضرور جہاد میں شرکت کرتے ۔ یہ حضرات ثواب میں مجاہدین کے برابر ہیں ۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک واپس تشریف لائے اور مدینہ کے قریب تشریف لائے تو فرمایا مدینہ کے قریب کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جنتی مسافت تم نے طے کی اور جس وادی کو تم نے قطع کیا وہ برابر تمہارے ساتھ رہے ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا ۔ کیا مدینہ میں رہتے ہوئے فرمایا ، ہاں وہ مدینہ میں ہی رہے ان کو عذر نے روک رکھا تھا ، قاسم نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بدر کو جانے والے اور بدر کو نہ جانے والے برابر نہیں ہوسکتے ۔
(آیت)” فضل اللہ المجاھدین باموالھم وانفسھم علی القاعدین درجۃ “۔ درجہ سے مراد فضیلت ہے۔ بعض نے کہا کہ یہاں قاعد سے مراد اولی الضرر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کو فضیلت دی ہے ایک درجہ کیونکہ مجاہدین نے کفار کے ساتھ مل کر جہاد کیا اور اولی الضرر لوگوں کو جہاد کرنے کی نیت تھی لیکن وہ کافروں سے نہیں ملے اس لیے ان کا ایک درجہ کم ہے ۔ (آیت)” وکلا وعد اللہ الحسنی “۔ ان کے ایمان کے سبب ان کے لیے جنت کا وعدہ ہے ، مقاتل کا قول ہے کہ اس سے مراد مجاہد اور قاعد سے مراد معذور شخص ہے ۔ (آیت)” وفضل اللہ المجاھدین علی القاعدین اجرا عظیما “۔ بیٹھنے والوں پر جن کے ساتھ کوئی عذر نہیں تھا ۔
Ayah 4:96(درجات سے کیا مراد ہے ؟ )
(تفسیر) 96۔ـ: ابن محیریز نے اس آیت کے متعلق ارشاد فرمایا کہ اس سے مراد ستر درجات ہیں اور ہر درجہ کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کہ تیز رفتار گھوڑا ستر سال چلتا رہے ۔ بعض نے کہا کہ درجات سے مراد اسلام ، جہاد ، ہجرت ، شہادت جس پر مجاہدین فائز ہوتے ہیں ۔
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے سعید ! جو شخص اللہ کے رب ہونے پر راضی ہو ، اسلام کے دین ہونے پر راضی ہو اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہو ، اس کے لیے جنت واجب ہے ، حضرت ابو سعید خدری ؓ کو یہ سن کر تعجب ہوا اور دوبارہ ارشاد کی درخواست کی ، حضور ﷺ نے دوبارہ ارشاد فرما دیا ، پھر فرمایا ایک اور بات بھی ہے جس کی وجہ سے اللہ جنت کے اندر بندے کے سو درجے بلند فرمائے گا اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنی اونچائی ہوگی جیسے آسمان کی زمین سے ہے ۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ وہ کیا بات ہے ؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد ، اللہ کی راہ میں جہاد ، یہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتا ہے اور نماز قائم کرتا ہے اور رمضان کے روزے رکھتا ہے تو اللہ عزوجل پر حق ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کر دے خواہ اس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہو یا بیٹھا رہا ہو، اس زمین میں جس میں وہ پیدا کیا گیا تھا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا لوگوں کو ہم یہ خوش خبری نہ سنا دیں ؟ فرمایا جنت میں سو درجات ہیں جو اللہ نے اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لیے تیار کر رکھے ہیں ، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جیسے آسمان و زمین کے درمیان جب تم اللہ سے مانگو تو جنت الفردوس مانگو ، یہ اوسط اور اعلی جنت ہے اس سے اوپر رحمن کا عرش ہے اور عرش سے ہی جنت کے دریا نکلتے ہیں ۔
جان لو کہ جہاد فی الجملہ فرض ہے ، علاوہ اس بات کے کہ اس کی دواقسام ہیں فرض عین اور فرض کفایہ ۔ فرض عین وہ جہاد ہے کہ کفار لوگ مؤمنین کے گھروں میں داخل ہوجائیں تو اس صورت میں مردوں میں سے جو کوئی معذور نہیں تھا اور نہ ہی کوئی عذر تھا تو دشمن کی طرف ان کا خروج ضروری ہے خواہ وہ بندہ آزاد فقیر ہو یا غنی ، اپنے آپ سے ان کو دور کرنے کی وجہ سے اور اپنے پڑوسیوں سے انکو دور کرنے کی وجہ سے ، ان لوگوں کے بعد جو پیچھے رہ گئے ہوں انکے لیے جہاد فرض علی الکفایہ ہے ، اگر کوئی جہاد کفایہ پورا نہ کرتا ہو تو اس صورت میں مؤمنین کے لیے لازمی ہے کہ مجاہدین کی مدد کریں ، اگر ان کے ساتھ اور مجاہدین بھی شامل ہوگئے اور انکو فتح حاصل ہوجاتی ہے تو پھر دور والوں کے لیے فرض کفایہ ہے ۔
اس حکم میں غلام شامل نہیں اور اسی طرح فقراء بھی شامل نہیں ۔ جہاد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے شہر میں کفار کو جنت کرنے کی جرات نہ ہو اس لیے امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر سال کسی جانب کوئی لشکر بھیجا کرے تاکہ کوئی سال جہاد سے خالی نہ ہو اور نہ ہی وہ اس سے معطل ہو سکے اور صاحب طاقت کو اختیار ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہونے کے باوجود بھی وہ جہاد سے بیٹھا نہ رہے لیکن اس شخص پر جہاد فرض نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس صورت میں جہاد کرنے والوں اور بیٹھے رہنے والوں کو ثواب کا اعلان کیا ہے (آیت)” وفضلا وعداللہ الحسنی “۔ اگر یہ فرض کفایہ نہ ہوتا تو بیٹھنے والوں کو مستحق عذاب قرار دیا جاتا نہ کہ ثواب کا۔
Ayah 4:97(ان الذین توفھم الملائکۃ ظالمی کا شان نزول)
97۔ (آیت)” ان الذین توفھم الملائکۃ ظالمی انفسھم “۔ یہ اہل مکہ کے کچھ لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کیا لیکن ہجرت نہیں کی ، ان میں قیس بن ولید بن مغیرہ اور ان کے مشابہ ہم عصر ہیں ، جب مشرکین بدر کی طرف نکلے تو یہ بھی ان کے ساتھ نکلے تو کافروں کے ساتھ مارے گئے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” ان الذین توفھم الملائکۃ “۔ ملائکہ سے مراد ملک الموت اور ان کے ساتھی ہیں یا اکیلے ہی ملک الموت ہیں ، جیسا کہ ارشاد باری ہے (آیت)” قل یتوفاکم ملک الموت الذی وکل بکم “۔ عرب کے ہاں یہ مشہور ہے کہ واحد کو جمع کے ساتھ پکارتے ہیں ۔ (آیت)” ظالمی انفسھم “۔ ظلم سے مراد شرک ہے یہ منصوب ہے حال ہونے کی وجہ سے ، عبارت یوں ہوگی ” فی حال ظلمھم “۔ بعض نے کہا مقام سے مراد شرک ہے اسی لیے کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کی ہجرت کے بعد اسلام کو قبول نہیں کرتا مگر ہجرت کے ساتھ ، پھر ہجرت کا کا حکم فتح مکہ کے بعد منسوخ ہوگیا ، آپ ﷺ کے اس ارشاد کی بناء پر فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ، وہ لوگ جنہوں نے ہجرت نہیں کی تھی بدر کے دن مارے گئے ۔ ملائکہ نے ان کے چہروں اور پیٹھوں پر ضرب کاری لگائین اور ان کو کہا تم کس کام میں تھے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت)” قالوا فیم کنتم “۔ کہ تم کس حال میں تھے کہ تم ان دونوں فریقوں میں سے کس کے ساتھ تھے کیا مسلمانوں کے ساتھ تھے یا مشرکین کے ساتھ ، یہ سوال بطور توبیخ کے کرتے اور ان کو عار دلاتے پھر وہ عذر پیش کرتے اپنی کمزوری کا کہ ہم مشرکین سے جدا نہیں ہوسکتے تھے ۔ (آیت)” قالوا کنا مستضعفین “۔ مستضعفین ، سے مراد عاجز ہیں (آیت)” فی الارض “ مکہ کی سرزمین میں ۔ (آیت)” قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا “۔ مدینہ کی طرف ہجرت ، مشرکوں کے درمیان سے نکل کر مدینہ کی طرف ہجرت کی ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تکذیب کی اور ان کی تکذیب کا علم ان کو بتلا دیا اور فرمایا (آیت)” فاولئک ماوھم “۔ اس سے مراد ٹھکانا ہے ۔ ” جھنم وساء ت مصیرا “۔ ان کا برا ٹھکانا جہنم کی طرف لیکن معذورین کا ان سے استثناء کیا ہے اور ارشاد فرمایا ۔
Ayah 4:9898۔ (آیت)” الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان لا یستطیعون حیلۃ “۔ نہ ہو کسی حیلہ پر قادر ہیں اور نہ ہی وہ نفقہ پر قادر ہیں اور نہ ان کو وہاں سے نکلنے کی قدرت حاصل ہے ۔ (آیت)” ولا یھتدون سبیلا “۔ اور نہ ہی وہ راستے سے واقف ہیں کہ مدینہ کو کون سا راستہ جاتا ہے ۔
Ayah 4:99(تفسیر) 99۔ـ:
(آیت)” فاولئک عسی اللہ ون یعفوا عنھم “۔ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اللہ سے امید رکھنا واجب ہے کیونکہ یہ بھی ایک خواہش ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے جب کوئی بندہ خواہش کرتا ہے اللہ اس کو عطا کردیتا ہے ۔ (آیت)” وکان اللہ عفوا غفورا “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں اور میری ماں ان میں سے تھی جن کو عذر لاحق تھا یعنی (آیت)” مستضعفین “۔ میں سے تھے آپ ﷺ ان جیسے ” مستضعفین “ کے لیے نماز میں دعا کیا کرتے تھے ۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ کسی قوم کے لیے دعا کرتے تو رکوع کے بعد اس کے لیے دعا کرتے اور کبھی اس طرح کرتے (آیت)” سمع اللہ لمن حمدہ ربنالک الحمد “ عشاء کی نماز میں آخری رکعت کے رکوع کے بعد یہ دعا کرتے تھے ، اے اللہ ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ۔ اے اللہ ! ولید کو نجات دے ، اے اللہ سلمۃ بن ہشام کو نجات دے ۔ اے اللہ ! کمزور مسلمانوں کو نجات دے ، اے اللہ ! قبائل مضر کو سخت پامال کردے ، اے اللہ ! ان کے سالوں کی طرح (قحط) کے بنا دے ۔
Ayah 4:100100۔ (آیت)” ومن یھاجر فی سبیل اللہ ۔۔۔۔۔۔ تا کثیرا وسعۃ “۔ علی بن ابی طلحۃ کی روایت سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ ” مراغما “ کا معنی ہے منتقل ہونے کی جگہ جہاں منتقل ہو کر جاسکے ، مجاہد (رح) نے کہا ” مراغما “ یعنی ناگوار امور سے ہٹنے کا مقام ، ابوعبیدہ (رح) نے کہا ” مراغما “ یعنی ہجرت کا مقام ، جیسا کہ کہا جاتا ہے ” راغمت قومی وحاجرتھم “۔ میں نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا مضطرب اور مذہب پر بھی بولا جاتا ہے ، بعض نے کہا کہ اس کو مہاجرۃ اس وجہ سے کہا جاتا ہیے کہ وہ اپنی قوم کی ناک خاک آلود کردے ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کی مرضی کے خلاف ترک وطن کرکے چلا جائے ، بعض نے کہا کہ گمراہی سے ہدایت کی طرف چلنا۔
روایت کیا گیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو قبیلہ بنی لیث کے ایک بہت بوڑھے بیمار شخص نے جس کا نام جندع بن حمزہ تھا ۔ اس کو سن کر کہا خدا کی قسم میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جن کا اللہ نے استثناء کردیا ، مجھے تدبیر بھی آتی ہے اور میرے پاس اتنا مال بھی ہے کہ میں مدینہ تک بلکہ مدینہ سے بھی دور پہنچ سکتا ہوں ۔ بخدا آج رات میں مکہ میں نہیں گزاروں گا مجھے مکہ سے باہر نکال لے چلو چناچہ ایک چارپائی پر ڈال کر لوگ اٹھا کر مکہ سے تنعیم تک لے آئے ۔ تنعیم میں پہنچ کر اس کا پیام موت آگیا تو تالی بجا کر بولا اے اللہ ! یہ تیرے اور تیرے رسول کے لیے ہے میں تجھ سے وہی عہد کرتا ہوں جو تیرے رسول نے تجھ سے کیا ہے اس کے بعد اس کا انتقال ہوگیا ، اس کی خبر آپ ﷺ کو پہنچی تو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے کہا اگر وہ مدینہ تک پہنچ جاتا تو اس کا ثواب بالکل پورا اور کامل ہوجاتا ، مشرک یہ حالت دیکھ کر ہنسنے اور کہنے لگے اس کا مقصد پورا نہ ہوا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت “۔ وہاں پہنچنے سے پہلے (آیت)” فقد وقع “ اس پر واجب ہے ۔ (آیت)” اجرہ علی اللہ “ اس نے جو اپنے اوپر لازم کیا یعنی ہجرت کی تو اس کو فضیلت ملی (آیت)” وکان اللہ غفورا رحیما “۔