Ayah 4:101101۔ (آیت)” واذا ضربتم فی الارض “۔ جب تم زمین پر سفر کرو (آیت)” فلیس علیکم جناح “۔ نہ اس میں تمہارے لیے کوئی حرج ہے اور نہ ہی کوئی گناہ۔ (آیت)” وان تقصروا من الصلوۃ “۔ یعنی چاررکعتوں کے بدلے میں دو رکعتیں ادا کرنا اور یہ ظہر ، عصر ، عشاء کی نماز ہوسکتا ہے۔ (آیت)” ان خفتم ان یفتنکم “۔ مال لوٹنے سے یا قتل کرنے سے تمہیں خوف ہو (آیت)” الذین کفروا “۔ نماز میں تمہیں یہ خوف ہو اس کی مثال اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے (آیت)” علی خوف من فرعون وملئھم ان یفتنھم “۔ یعنی ان کو تم قتل کرو گے (آیت)” ان الکافرین کانوا لکم عدوا مبینا “۔ ان کی دشمنی ظاہر ہوگئی ، سفر میں نماز کی قصر کرنا بالاجماع جائز ہے ۔
(سفر میں نماز کی قصر کا حکم )
سفر میں نماز کو پورا کرنے کے بارے میں اختلاف ہے، بعض حضرات کے نزدیک قصرواجب ہے یہ قول عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ ، علی ؓ ، ابن عمر ؓ ، جابر ؓ ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا ہے اور حسن بصری (رح) عمر بن عبدالعزیز (رح) ، قتادہ (رح) ، امام مالک (رح) ، اور اصحاب الرای کا یہی قول ہے ۔
جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب نماز فرض کی تھی تو اس وقت سفر وحضر میں دو رکعات فرض تھیں ، سفر کی نماز تو اپنی حالت پر برقرار ہے ۔ البتہ حضر کی نماز میں اضافہ ہوگیا اور بعض حضرات کے نزدیک پورا کرنا جائز ہے اور یہی روایت کیا گیا عثمان سعد بن ابی وقاص ؓ سے اور امام شافعی (رح) کا یہی قول ہے ۔ چاہے تو سفر میں اس کو پورار کرو اور چاہو تو قصر کرو لیکن قصر کرنا افضل ہے ۔
عطاء بن ابی الرباح ؓ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ آپ ﷺ نے کیا ، نماز کا اتمام بھی کیا اور قصر بھی کی اور ظاہر قرآن اسی پر دلالت کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت)” فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلاۃ “ لفظ لاجناح یہ رخصت پر محمول ہے حتمی چیز کے لیے مستعمل نہیں ہوتا ، آیت کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ قصر صرف خوف کے وقت جائز ہے حالانکہ معاملہ اس طرح نہیں ہے ، آیت کا نزول آپ ﷺ کے اکثر سفروں میں نازل ہوئیں اور اکثر رکعات تب پڑھی جائیں گی جب خوف نہ ہو اور قصر سفر میں جائز ہے ۔ اگرچہ امن کی حالت ہو اہل علم کا یہی قول ہے ۔
اس پر دلیل وہ روایت ہے جسں کو یعلی بن امیہ ؓ نے روایت کیا کہ میں نے حضرت عمر بن الخطاب ؓ سے دریافت کیا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلاۃ ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا “ اور اب لوگ امن سے ہیں ، حضرت عمر ؓ نے فرمایا مجھے بھی اس پر تعجب تھا اور میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کیا تھا تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ نے فرمایا یہ صدقہ ہے جو اللہ نے تم کو عطاء فرمایا ہے لہذا اللہ کے صدقہ کو قبول کرو۔
(صلوۃ خوف کے متعلق مسائل)
محمد بن سیرین (رح) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ﷺ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان سفر کیا ، حالت امن میں ان پر کوئی خوف نہیں تھا پھر بھی دو رکعتیں پڑھائیں ، بعض حضرات کے ندیک قصر یہ ہے کہ خوف کی حالت میں ایک رکعت پڑھی جائے ، یہی روایت حضرت جابر ؓ سے ہے اور یہی قول عطاء (رح) ، طاؤس (رح) ، اور حسن (رح) ، اور مجاہد (رح) ، کا قول ہے ۔ لہذا اس میں خوف کی شرط موجود ہے اور اکثر حضرات اہل علم کے ہاں ایک رکعات پر قصر کرنا جائز نہیں خواہ امن کی حالت ہو یا خائف (خوف) کی حالت ہو ، اہل علم کے نزدیک قصر کی مسافت میں آئمہ کا اختلاف ہے ، بعض حضرات نے کہا کہ قصر جائز ہے لمبے سفر میں بھی اور چھوٹے سفر میں بھی اور اسی طرح حضرت انس ؓ سے مروی ہے اور اسی طرح عمرو بن دینار نے کہا ، جابر بن زید ؓ نے کہا عرفۃ میں قصر کریں گے اور عام فقہاء کے نزدیک یہ قول ہے کہ چھوٹے سفر میں قصر کرنا جائز نہیں ۔ امام اوزاعی (رح) نے کہا ایک ومیوم کے سفر تک وہ قصر کرسکتا ہے ۔
ابن عمرو ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ چار برد تک قصر اور افطار کریں گے اور وہ سولہ فرسخ بنتا ہے اور اسی طرح امام مالک (رح) ، امام احمد (رح) ، امام اسحاق (رح) ، کا قول ہے اور یہی قول حسن بصری (رح)، زہری (رح) کا ہے ۔ ان دونوں کے نزدیک دو یوم کی مقدار ہے اور اسی طرف امام شافعی (رح) ، گئے ہیں ، اور بعض حضرات نے کہا کہ دو راتوں کی مقدار چلنا مراد ہے اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ چھیالیس میل ہاشمی ہے اور سفیان ثوری (رح) ، اور اصحاب الرای کے نزدیک تین دن تک اور بعض نے کہا (آیت)” ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا “۔ اس آیت کا تعلق ماقبل آیت کے ساتھ منفصل ہے اور مابعد آیت کے ساتھ متصل ہے ، حضرت ابوایوب انصاری کے اس (آیت)” فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلاۃ “ نازل ہوئی پھر ایک سال کے بعد لوگوں نے صلوۃ خوف کے متعلق دریافت کیا تو نازل ہوا (آیت)” ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا ، ان الکافرین کانوا لکم عدوا مبینا “۔ واذا کنت فیھم “۔ ایسی مثالیں قرآن میں بکثرت آئی ہیں ، پہلے پوری خبر ذکر کردی جاتی ہے پھر ترتیب کلام میں ایک اور خبر لائی جاتی ہے جو بظاہر ماقبل سے مربوط ہوتی ہے مگر حقیقت میں جدا ہوتی ہے ۔ ” الان حصص الحق انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصادقین “ یہ امراء ۃ العزیز “ کی حکایت ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب “۔ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں خبر ہے۔
Ayah 4:102(خوف کی نماز کا بیان)
(تفسیر) 102۔:
(آیت)” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ “۔ کلبی (رح) نے ابی صالح (رح) کے حوالے سے اور وہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ مشرکین نے جب رسول اللہ ﷺ اور ان کے اصحاب کو ظہر کی نماز میں دیکھا کہ وہ سب اکٹھے نماز پڑھ رہے ہیں ، ان کو ندامت ہوئی کہ ہم نے ان پر یکبارگی حملہ کیوں نہیں کیا ، بعض نے بعض سے کہا کہ چھوڑئیے اس کے بعد ایک نماز آرہی ہے جو ان کو اپنے آباء اور اپنے بیٹوں سے بھی پیاری ہے اور وہ عصر کی نماز ہے ، جب وہ اس نماز میں کھڑے ہوئے ہوں گے تو ہم ان پر حملہ کردیں گے اور ان کو قتل کردیں گے ، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور فرمایا کہ یہ خوف کی نماز ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ “۔ پھر صلوۃ خوف کی تعلیم دی کہ جب دشمن میدان جنگ میں برسرپیکار ہو اور وہ قبلہ کی سمت نہ ہو تو امام قوم کی دو جماعتیں بنائے ۔ ایک گروہ دشمن کے سامنے کھڑا ہو اور دوسرا گروہ نماز پڑھے اور امام کے لیے مشروع ہے کہ وہ دو جماعتیں نماز میں بنائے ، ایک گروہ کو وہ ایک رکعت پڑھا لے تو کھڑا ہوجائے اور اسی طرح کھڑا رہے ، یہاں تک کہ وہ نماز پوری کرلیں، پھر وہ چلے جائیں اور دوسرا گروہ آکر امام کے پیچھے ایک رکعت پڑھے ، ان کے ساتھ سلام پھیرے ، یہ سہل بن ابی حثمہ ؓ کے نزدیک ہے کہ آپ ﷺ نے ذات الرقاع میں اسی طرح نماز پڑھائی ، یہی قول امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) ، امام احمد (رح) ، امام اسحاق (رح) ، اللہ کے نزدیک ہے ۔ ـصالح بن خوات سے مروی ہے ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ذات الرقاع کے دن صلوۃ خوف پڑھی ، اس کا طریقہ یہ اختیار کیا کہ ایک جماعت کو اپنے پیچھے کھڑا کیا اور دوسری جماعت کو دشمن کے روبرو پھر اپنے ساتھ والوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر وہ برابر کھڑے رہے اور مقتدیوں نے اپنی بقیہ نماز مکمل کی پھر وہ چلے گئے اور دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے اور دوسری جماعت نے امام کے ساتھ بقیہ رکعت پڑھی ، پھر بیٹھے رہے اور مقتدیوں نے جب اپنی رکعت مکمل کی تو امام کے ساتھ انہوں نے سلام پھیرا ، امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے صلوۃ خوف کے متعلق اس سے اچھا اور کہیں نہیں سنا۔
سہل بن ابی حثمہ ؓ بھی اسی طرح نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں اور ایک جماعت کا قول ہئے کہ جب امام ایک رکعت جماعت اولی کو پڑھا لے گا تو وہ دشمن کے سامنے چلی جائے گی اور دوسری جماعت اگر امام کی دوسری رکعت میں شامل ہوگی امام ان کو دوسری رکعت پڑھائے گا اور امام اپنی نماز مکمل کر کے سلام پھیر دے گا ، پھر یہ جماعت اپنی نماز کو مکمل کیے بغیر دشمن کے سامنے چلی جائے گی ، پھر طائفہ اولی واپس مسجد میں آئے گا اور اپنی نماز مکمل کرے گا ، پھر اسی طرح دوسرا طائفہ آئے گا اور اپنی نماز مکمل کرے گا یہ روایت حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی ہے ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح نقل کی ہے اور یہی اصحاب الرای کا قول ہے ۔
زہری عن سالم سے منقول ہے اور وہ اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے دو گروہوں کو صلوۃ خوف اس طرح پڑھائی کہ ایک گروہ کو نماز پڑھائی اور دوسرے گروہ کو دشمن کے سامنے بھیجا ، پھر یہ گروہ ایک رکعت پڑھ کر دشمن کے سامنے چلا گیا اور دوسرے گروہ نے آکر امام کے ساتھ بقیہ ایک رکعت پڑھی ، پھر امام نے دوسرے گروہ کے ساتھ سلام پھیرا۔ یہ دونوں روایتیں صحیح ہیں اور بعض حضرات نے کہ یہ اختلاف مباح ہے اور امام شافعی (رح) بھی اسی سہل بن حثمہ ؓ کی روایت کی طرف گئے ہیں کیونکہ یہ قرآن کے موافق ہے اور نماز کے زیادہ قریب ہے اور دشمن کی حراست میں یہ زیادہ ابلغ ہے اور یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت)” فاذا سجدوا فلیکونوا من ورائکم “۔ جب تم نماز پڑھ چکو پھر آگے ارشاد فرمایا (آیت) )’ ولتات طائفۃ اخری لم یصلوا “۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ طائفہ اولی نماز پڑھ چکا اور فرمایا (آیت)” فلیصلوا معک “ یعنی اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ پوری نماز پڑھے اور صلوۃ خوف میں تو ظاہر ہے کہ ہر گروہ اپنی نماز مکمل کیے بغیر امام سے جدا ہوجاتا ہے ، نماز کے سلسلہ میں یہ احتیاط لازمی ہے کہ اس میں زیادہ چلنا پھرنا ، آنا جانا نہیں پایا جاتا ، اور اس بات میں احتیاط ہے کہ جب دونوں فریق حالت نماز میں نہ ہوں تو اس صورت میں جنگ کا امکان ہے اور اگر دوران جنگ نماز کا وقت آجائے تو صلوۃ خوف کا حکم ہے یہ تو دورکعات کا حکم ہے اگر چار رکعات والی نماز ہو تو پھر ہر ایک طائفہ کو دو رکعت پڑھائے گا ۔
حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم آپ ﷺ کے غزوہ ذات الرقاع میں گئے یہاں تک کہ ہم ایک خوب سایہ دار درخت کی چھاؤں میں بیٹھے ، آپ اپنی تلوار درخت پر لٹکا دی ، اچانک مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور آپ ﷺ کی لٹکی ہوئی تلوار اٹھائی اور آپ ﷺ پر سونت لی اور رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ کیا آپ مجھ سے ڈرتے ہو ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں ، اس شخص نے کہا کون آپ کو مجھ سے پچائے گا ؟ آپ ﷺ نے جواب دیا مجھے تم سے اللہ بچائے گا ، آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین آئے ، اس شخص نے کہا کہ میرے ہاتھ سے تلوار گرگئی ، اور آپ ﷺ نے اس کو لے لیا ، پھر نماز کے لیے اذان دے دی گئی ، پھر ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ پیچھے ہٹ گئے، پھر دوسرے گروہ کو دو رکعات نماز پڑھائی ۔
فرمایا کہ آپ ﷺ کی چار رکعات ہوئیں اور قوم کی دو رکعات ہوئیں ، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے بطن نخلہ میں ظہر کی نماز صلوۃ خوف سے پڑھی ، آپ ﷺ نے ایک طائفہ کو دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا ، پھر دوسرے طائفہ کو دو رکعت پڑھا کر سلام پھیر دیا ۔
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ سے صلوۃ خوف کے متعلق روایت نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک رکعت نماز پڑھائی ، ایک گروہ کو اور دوسرے گروہ کو ایک رکعت نماز پڑھائی اور اس کی قضاء نہیں کی ۔ زید بن ثابت ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ قوم کی ایک رکعت ہوئی تھی اور نبی کریم ﷺ کی دو رکعات اور بعض قوم نے اس کو بہت شدت خوف پر محمول کیا ہے اور انہوں نے کہا ایسی حالت میں ایک رکعت فرض ہے اور اکثر اہل علم نے کہ شدت خوف کی وجہ سے رکعت کی تعداد میں کمی نہیں ہوتی ۔
اور اگر دشمن قبلہ کی سمت ہو تو اس صورت میں امام کے ساتھ مقتدی اسلحہ لے کر کھڑے ہوں گے اور سجدہ میں (اگلی صف پہلے جائے گی جب وہ اٹھ کھڑے ہوں تو دوسری صف سجدہ کرے گی) حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے صلوۃ خوف پڑھائی تو آپ ﷺ نے اپنے پیچھے دو صفیں بنائیں اور دشمن ہمارے اور ہمارے قبلہ کی جانب تھا ، آپ ﷺ نے تکبیر کہی تو ہم نے بھی ان کے ساتھ تکبیر کہی ، پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا ، ہم نے بھی رکوع کیا ، پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم سب نے اٹھایا ، پھر آپ ﷺ جب سجدہ میں گئے تو آپ ﷺ کے ساتھ والی صف سجدہ میں گئی ، اور آخری صف دشمن کے لیے کھڑی رہی ، جب آپ ﷺ سجدے سے فارغ ہوئی اور کھڑے ہوئے پھر پچھلی صف سجدے میں گئی پھر دوسری رکعت میں آپ ﷺ نے رکوع کیا اور سب نے ان کے ساتھ رکوع کیا ، پھر سب نے آپ ﷺ کے ساتھ رکوع سے اٹھایا ، پھر آپ ﷺ سجدے میں گئے ۔ پھر آپ ﷺ کے ساتھ والی صف والے سجدے میں گئے اور پھر جب وہ سجدے سے اٹھے تو دوسری صف والے سجدہ میں گئے، پھر آپ ﷺ نے سلام پھیرا ہم سب نے آپ ﷺ کے ساتھ سلام پھیرا ، حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں جیسا کہ ہم اپنے امراء کے لیے پہرہ دیا کرتے تھے، آپ ﷺ کے بعد نماز خوف مشروع ہے یہی اہل علم کا قول ہے اور بعض کے نزدیک یہ جائز نہیں اور عدم جواز کی کوئی وجہ نہیں ۔
امام احمد بن حنبل (رح) فرماتے ہیں کہ ہر وہ حدیث جو صلوۃ خوف کے بارے میں وارد ہوئی ہے اس پر عمل کرنا جائز ہے اس میں چھے یا سات وجہ ہیں ، مجاہد (رح) نے اس آیت کے سبب نزول کے بارے میں لکھا ہے ۔ ابن عیاش زرقی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کے ساتھ عسفان میں تھا اور مشرکین بھی تھے خالد بن ولید بھی تھے ۔
ظہر کی نماز پڑھی تو مشرکیننے کہا کہ ہمیں بہت بڑا دھوکہ پہنچا ہے اگر ہم ان پر حملہ کردیتے تو کیا ہوتا ، پھر نماز ظہر وعصر کے درمیان یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت)” واذا کنت فیھم “۔ اگر آپ ان کے ساتھ موجود ہوں اور نماز کا وقت ہوجائے ۔
(آیت)” فلتقم طائفۃ منھم معک “۔ ؛ چاہیے کہ آپ کھڑا کریں جیسا کہ دوسری جگہ اللہ کا فرمان ہے (آیت)” واذا اظلم علیھم قاموا “ اس کا معنی ہے جب وہ ٹھہرا رہے (آیت)” ولیاخذوا اسلحتھم “۔
(اسلحہ لیکر نماز پڑھنے کا حکم)
اس بارے میں آئمہ کرام کا اختلاف ہے کہ کیا اسلحہ لے کر نماز میں کھڑے ہوسکتے ہیں یا نہیں ؟ بعض نے کہا اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو امام کے ساتھ نماز میں کھڑے ہوں اور اسلحہ ان کے ساتھ ہو، یہ اس صورت میں ہے جب اسلحہ ان کو نماز سے مشغول نہ کر دے اور نہ ہی اپنے ساتھی کو نقصان پہنچائے ، اگر اس کو نماز میں مشغول کر دے تو اتار لے یا نماز میں اس کو اسلحہ بھاری معلوم ہو تو اس صورت میں وہ نہ لے ۔ بعض نے کہا کہ (آیت)” ولیاخذوا اسلحتھم “۔ باقی لوگ اسلحہ لے کر دشمن کے سامنے کھڑے ہوجائیں (آیت)” فاذا سجدوا “ یعنی جب وہ نماز پڑھیں (آیت)” فلیکونوا من ورائکم “۔ یعنی وہ جگہ جہاں دشمن موجود ہو۔ ” ولتاتطائفۃ اخری لم یصلوا “۔ وہ گروہ جو دشمن کے سامنے کھڑا تھا ۔ (آیت)” فلیصلوا معک ولیاخذوا حذرھم واسلحتھم “۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد وہ ہیں جو دشمن کے سامنے آئے اور بعض نے کہا کہ وہ مراد ہیں جنہوں نے نماز پڑھ لی ہے ۔ (آیت)” ود الذین کفروا لوتغفلون “۔ یعنی کفار یہ تمنا کرتے ہیں کہ اگر وہ تمہیں غافل پائیں ۔ (آیت)” عن اسلحتکم وامتعتکم فیمیلون علیکم میلۃ واحدۃ “۔ وہ ارادہ کرتے ہیں اور یک بارگی حملہ کرنا چاہتے ہیں۔
(آیت)” ولا جناح علیکم ان کان بکم اذی من مطر اوکنتم مرضی ان تضعوا اسلحتکم “۔ حالت مرض اور بارش کی حالت میں اسلحہ اتارنے کی اجازت ہے کیونکہ ان دونوں حالتوں میں اسلحہ اٹھانا بھاری ہے ۔ (آیت)” وخذوا حذرکم “۔ کسی محفوظ مقام پر پناہ گیر رہا کرو تاکہ دشمن ناگہاں تم پر حملہ نہ کر دے ، کلبی (رح) نے ابو صالح (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نبی محارب اور بنی انمار سے جہاد کرنے تشریف لے گئے ، ایک جگہ پڑاؤ کیا ، وہاں دشمن کا کوئی آدمی نظر نہیں آتا تھا ، لوگوں نے ہتھیار کھول دیئے اور رسول اللہ ﷺ بھی ہتھیار کھول کر قضائے حاجت کے لیے وادی قطع کرکے پار چلے گئے ، بارش ہو رہی تھی ، رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے درمیان وادی حائل ہوگئی ، ایک درخت کے نیچے قضاء حاجت کے لیے بیٹھ گئے ، غویرث بن حارث محاربی نے دور سے آپ کو دیکھ لیا ، کہنے لگا اللہ مجھے قتل کر دے اگر میں اس کو قتل نہ کر دوں ، پھر تلوار سونت کر پہاڑ سے نیچے آیا اور بولا اے محمد ﷺ اب آپ کو مجھ سے کون بچائے گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ ۔ پھر آپ ﷺ نے دعا کی اے اللہ ! تو جس طرح چاہے مجھے غویرث بن حارث سے بچا ۔ غویرث نے مانے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی طرف تلوار بڑھائی تھی کہ یکدم اس کے دونوں شانوں کے درمیان درد اٹھا اور درد کی وجہ سے منہ کے بل گرپڑا اور تلوار ہاتھ سے چھوٹ کر الگ جا پڑی ، حضور ﷺ نے فورا اٹھ کر تلوار لے لی اور فرمایا غویرث اب تجھے میرے ہاتھ سے کون بچائے گا بولا کوئی نہیں ، حضور ﷺ نے فرمایا کیا تو شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کا بندہ اور رسول ہے ، میں تیری تلوار تجھے دے دوں گا ، بولا نہیں ، ہاں اس بات کی شہادت دیتا ہوں کہ آپ ﷺ سے جنگ کبھی نہیں کروں گا اور تمہارے خلاف کسی دشمن کی مدد نہیں کروں گا ، رسول اللہ ﷺ نے تلوار دے دی ، غویرث بولا خدا کی قسم ! تم مجھ سے بہتر ہو ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، بیشک میں اس کا مستحق بھی تجھ سے زیادہ ہوں ۔ غویرث چلا گیا ساتھیوں کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا ارے تجھے کیا ہوگیا کس چیز نے تجھے روک دیا ، بولا میں نے مارنے کے لیے اس کی طرف تلوار بڑھائی ہی تھی کہ میں نہیں جان سکا کہ کس نے میرے دونوں شانوں کے درمیان درد پیدا کردیا اور میں منہ کے بل گرپڑا اور پور احال ذکر کیا اور فرمایا وادی میں خاموشی ہوگئی ، آپ ﷺ نے وادی پار کی اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو اس بات کی خبر دی اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت)” ولا جناح علیکم ان کان بکم اذی من مطر اوکنتم مرضی ان تضعوا اسلحتکم وخذوا حذرکم “۔ تمہارے دشمنوں سے ۔ سعید بن جبیر (رح) ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اس آیت کے متعلق فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف زخمی تھے ۔ (آیت)” ان اللہ اعد للکافرین عذابا مھینا “۔ اہانت والا عذاب ، جناح کہا جاتا ہے گناہ کو ، کہا جاتا ہے کہ یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی شخص اپنے ارادے سے پھر جائے ۔
Ayah 4:103(تفسیر) 103۔:
(آیت)” فاذا قضیتم الصلوۃ “۔ جب تم صلوۃ خوف سے فارغ ہوجاؤ ، (آیت)” فاذکروا اللہ “ اللہ کے ذکر میں لگ جاؤ، ” قیاما “ صحت کی حالت میں کھڑے ہو کر ” وقعودا “ اور حالت مرض میں بیٹھ کر (آیت)” وعلی جنوبکم “ زخمی یا اپاہج ہونے کی وجہ سے، بعض نے کہا اللہ کو یاد کرو تسبیح ، تحمید ، تہلیل ، اور تجمید کے ساتھ ہر حال میں ۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے ۔ (آیت)” فاذا اطماننتم “ جب تم سکون اور اطمینان کی حالت میں ہو (آیت)” فاقیموا الصلوۃ “ تو تم اس نماز کو تمام ارکان کے ساتھ پورا پورا ادا کرو۔ (آیت)” ان الصلوۃ کانت علی المؤمنین کتابا موقوتا “۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد واجب وفرض نماز ہے۔ یعنی حضر میں تمہارے اوپر چار رکعت فرض ہے اور سفر میں دو رکعات فرض ہے ، مجاہد (رح) کا قول ہے کہ وہ فرض ہے وقت کے اندر جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وقت متعین کیا ہے جب کہ حدیث میں نماز کے اوقات معین ہیں ۔
(نمازوں کے اوقات کی تفصیل)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے میری امامت بیت اللہ کے قریب دو مرتبہ کی ، پہلی بار ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سایہ تسمہ کے برابر تھا ، پھر عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہرچیز اپنے سایہ کی مثل ہوگئی تھی ، پھر مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب چکا تھا اور روزہ دار روزہ کھولتا ہے پھر عشاء کی نماز اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہوچکی تھی ، پھر فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روشنی پھوٹتی ہے اور روزہ رکھنے والے کے لیے کھانا منع ہوجاتا ہے ۔
جب دوسرے دن ظہر کا وقت آیا جس وقت گزشتہ دن کے عصر کے وقت کی طرح جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہوچکا تھا اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوگیا تھا ، پھر مغرب اولی وقت کی طرح پڑھائی اور عشاء ایک تہائی رات گئے تک پڑھائی ، پھر فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب زمین زرد ہوگئی تھی ، پھر میری طرف رخ کرکے جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا محمد ﷺ آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہم السلام) کا یہی وقت ہے اور ان دونوں کے درمیان نماز کا وقت ہے ۔
حضرت ابوموسی اشعری ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک سائل آیا ، اس نے آپ ﷺ سے نمازوں کے اوقات کے متعلق پوچھا ، صحابی ؓ فرماتے ہیں آپ ﷺ نے کوئی جواب نہیں دیا ، پھر حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ اذان دیں پھر نماز قائم ہوئی ، جب فجر طلوع ہوئی تو نماز پڑھ لی اور جب ظہر کا وقت آیا کہنے والے نے کہا کہ سورج زائل ہوا یا نہیں ؟ اور وہ اس کے متعلق ہم سے زیادہ جانتے تھے، پھر آپ ﷺ نے عصر کی نماز کا حکم دیا ، جب سورج سامنے چمک رہا تھا پھر مغرب کی نماز کا حکم دیا جب سورج غروب ہوگیا ، پھر عشاء کی نماز کا حکمدیا جب شفق زائل ہوگئی تھی ، راوی فرماتے ہیں کہ دوسرے دن فجر کی نماز اس وقت پڑھائی کہنے والے نے یوں کہا کہ طلوع شمس ہوا ہے یا نہیں ؟ (ہمیں اس میں شک تھا) اور دوسرے دن ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جس وقت پہلے دن تقریبا عصر کی نماز پڑھائی تھی اور دوسرے دن عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج سرخ ہوگیا تھا ، اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی شفق کے غائب ہونے سے پہلے اور عشاء کی نماز تہائی رات کے وقت پڑھائی ، پھر ارشاد فرمایا نماز کے اوقات پوچھنے والا سائل کہاں ہے ؟ اس شخص نے کہا میں ہوں یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ان دنوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے ۔
Ayah 4:104(تفسیر) 104۔:
(آیت)” ولا تھنوا فی ابتغاء القوم “۔ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ ابو سفیان اور اس کے ساتھی جب احد کے دن واپس لوٹ گئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے پیچھے ایک جماعت کو بھیجا جب انہوں نے اپنے زخموں کی شکایت کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ۔ (آیت)” ولا تھنوا فی ابتغاء القوم “۔
یعنی تم کمزوری نہ دکھاؤ، قوم کی تلاش میں ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے لیے (آیت)” ان تکونوا تالمون “ اگر تم (زخموں کا) دیکھ محسوس کرتے ہو ، (آیت)” فانھم یالمون “۔ وہ بھی تکلیف میں ہیں یعنی کفار (آیت)” کماتالمون وترجون من اللہ مالا یرجعون “۔ اور تمہیں جو دکھ درد پہنچا ہے اس کی وجہ سے تمہیں اللہ سے ثواب کی امید ہے آخرت میں اور دنیا میں اس کی مدد کی امید ہے جو کہ کافروں کو نہیں ہے ۔ بعض مفسرین رحمہم اللہ کا قول ہے کہ رجاء سے مراد خوف ہے ، ہر امید رکھنے والا خائف ہوتا ہے کہ معلوم نہیں اس کی امید پر مکمل اتر سکے گا یا نہیں ؟ آیت کا معنی یہ ہے کہ تم اللہ سے امید رکھتے ہو یعنی اللہ سے ڈرتے ہو ، اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہو جو کہ وہ نہیں ڈرتے ، فراء کا قول ہے کہ رجاء بمعنی خوف کے نہیں کیونکہ کوشش کے ساتھ وہ چیز حاصل ہوجاتی ہے ۔ (آیت)” قل للذین امنوا یغفروا للذین لا یرجعون ایام اللہ “۔ اس کا معنی ہے کہ وہ نہیں ڈرتے ، (آیت)” مالکم لا ترجون للہ وقارا وہ اللہ کی عظمت سے نہیں ڈرتے ، اس صورت میں رجاء بمعنی خوف کے نہیں ہوگا ، (آیت)” وکان اللہ علیما حکیما “۔
Ayah 4:105(انا انزلنا الیک الکتاب کا شان نزول)
(تفسیر) 105۔:
کلبی (رح) نے ابو صالح (رح) کی روایت ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ اس آیت کا نزول ایک انصاری شخص کے متعلق ہوا ، اس کا نام طعمہ بن ابیرق تھا اور خاندان بنی ظفر بن حارث میں سے تھا ۔ اس نے اپنے ہمسائے قتادہ بن نعمان کی زرہ چرائی تھی ، زرہ ایک تھیلے میں تھی جس کے اندر آٹا بھرا ہوا تھا ، تھیلے میں شگاف تھا ، شگاف سے آٹا بکھرتا ہوا چلا گیا اور چور کے مکان تک یونہی چلا گیا ، طعمہ نے زرہ لیجا کر ایک یہودی کے پاس جس کا نام زید السمین تھا چھپا دی ، زرہ کی تلاش طعمہ کے پاس ہوئی ، طعمہ نے قسم کھائی کہ نہ میں نے زرہ لی ہے اور نہ مجھے اس کا علم ہے ۔ زرہ والوں نے کہا ہم نے آٹے کا نشان اس کے گھر تک دیکھا ہے لیکن طعمہ نے قسم کھالی تو زرہ والوں نے اس کو چھوڑ دیا اور یہودی کے گھر تک آٹے کا نشان کے پیچھا کیا اور یہودی کو پکڑا ، یہودی نے کہا کہ یہ زرہ مجھے طعمہ بن ابیرق نے دی ہے۔ طعمہ کی قوم والے یعنی بنی ظفر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضور ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ہمارے آدمی کی وکالت کریں ، اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو ہمارا آدمی رسوا ہوجائے گا ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے یہودی کو سزا دینے کا ارادہ کیا ۔
اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ دوسری روایت میں ہے وہ یہ کہ طعمہ نے زرہ اس تھیلے سمیت چرائی جس کے اندر بھوسی رکھی ہوئی اور سارے راستے بھوسی بکھرتی چلی گئی ، طعمہ نے زید السمین کے گھر تک لے جا کر اس کے دروازے پر تھیلہ رکھ دیا اور زرہ اپنے گھر لے گیا ، زرہ کا مالک بھوسی کے نشان پر زید السمین کے گھر پہنچا اور اس کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا ، رسول اللہ ﷺ نے یہودی کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا ، مقاتل کا بیان ہے کہ زید السمین نے طعمہ کے پاس زرہ بطور امانت رکھی تھی ، جس کا طعمہ نے انکار کیا، اس پر آیت انا انزلنا الیک الکتاب نازل ہوئی ۔ (آیت)” لتحکم بین الناس بما اراک اللہ “۔ جو اللہ نے ان کو سکھلایا اور آپ کی طرف وحی کی اس کے ذریعے سے فیصلہ کریں ۔ (آیت) ” ولا تکن للخائنین “۔ اس سے مراد طعمۃ ہے۔ ” خصیما “۔ مددگار اور ان سے دفاع کرنے والا۔
Ayah 4:106106۔ (آیت) ” واستغفر اللہ “۔ جو آپ یہودی کو سزا دینے کا ارادہ کرچکے تھے اس کے بارے میں اللہ سے استغفار کیجئے ، مقاتل (رح) کا بیان ہے اللہ سے بخشش طلب کیجئے جو آپ نے طعمہ کے بارے میں جھگڑا کیا ۔ (آیت)” ان اللہ کان غفورا رحیما ‘ ؓ
Ayah 4:107(تفسیر) 107:
(آیت)” ولا تجادل “ نہ جھگڑا کرو ، (آیت)” عن الذین یختانون انفسھم “۔ وہ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ، خیانت کرکے اور چوری کرکے (آیت)” ان اللہ لا یحب من کان خوانا “۔ خوانا سے مراد خیانت کرنے والا ” اثیما “ زرہ چوری کرکے اور اور اس کا الزام یہودی پر لگا کر گناہ کا مرتکب ہوئے اور بعض نے کہا کہ خطاب النبی ﷺ کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگ بھی شامل ہیں ، (آیت)” فان کنت فی شک مما انزلنا الیک “۔ انبیاء کرام (علیہم السلام) کے حق میں نبوت کے بعد تین وجوہ میں سے ایک وجہ سے استغفار کرنا جائز ہے ۔
(1) نبوت سے پہلے گناہ کے لیے استغفار کرنا ۔
(2) اپنی امت اور اہل قرابت کے گناہوں کے استغفار کے لیے ۔
(3) اس مباح فعل کے لیے استغفار جس کی شرعی ممانعت آنے پر اس کو چھوڑ دیا ، اس صورت میں استغفار کا معنی سمع اور طاعت ہوگا ۔
Ayah 4:108108۔ (آیت)” ویستخفون من الناس “۔ لوگوں سے حیا کر کے ان سے چھپاتے ہو، اس سے مراد بنی ظفر بن الحارث ہے ۔ (آیت)” ولا یستخفون من اللہ “۔ جبکہ وہ اللہ سے نہ حیا کرتے ہیں اور نہ چھپاتے ہیں ۔ (آیت)” وھو معھم اذ یبیتون “۔ وہ باتیں کرتے ہیں تبیت کہا جاتا ہے رات کو کسی کام کے متعلق تدبیر کرنا ، (آیت)” مالا یرضی من القول “۔ طعمہ والوں کی قوم نے آپس میں یہ طے کیا کہ معاملہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کریں چونکہ طعمہ مسلمان تھا اس لیے حضور ﷺ اس کے قول قسم کا اعتبار کرلیں اور یہودی چونکہ کافر ہے ، اس لیے اس کی بات نہیں سنی جائے گی اللہ نے قوم طعمہ کے اس مشورہ کو پسند نہیں فرمایا ۔ (آیت)” وکان اللہ بما یعملون محیطا “۔ پھر قوم طعمہ نے یہ کہا۔
Ayah 4:109109۔ (آیت)” ھا انتم ھولائ “۔ ہاں اے لوگو ! تم ایسے ہو ۔ ” جادلتم “۔ بمعنی جھگڑنا ۔ ” عنھم “۔ طعمہ کے متعلق تم جھگڑتے ہو (آیت)” فی الحیوۃ الدنیا “۔ جدال سخت جھگڑے کو کہتے ہیں وہ سخت قتل کردینا ، یعنی وہ اس کے قتل کا ارادہ رکھتے تھے ، دلیل وحجت کے ساتھ یا لفظ جدال وجدالۃ سے ہے اس کا معنی ہے زمین ، جدال کا معنی یہ ہوا کہ ہر حریف کا دوسرے حریف کو کشتی لڑا کر زمین پر گر دینے کی کوشش کرنا ، (آیت)” فمن یجادل اللہ عنھم “۔ طعمۃ کے متعلق ، (آیت)” یوم القیامۃ “ قیامت کے دن اللہ تم کو اس کے بارے میں عذاب میں مبتلا کرے گا ، (آیت)” ام من یکون علیھم وکیلا “ بمعنی کفیل کے ہے ، ناگوار امر کو اپنے مؤکل کی طرف سے دفع کرنے والا کیونکہ یہ بھی اپنے کام کو قیامت کی طرف پھیر دیتا ہے ، پھر اس کو لوٹایا جائے گا ۔
Ayah 4:110110۔ (آیت)” ومن یعمل سوء ا “۔ بمعنی چوری کے ہے (آیت)” اویظلم نفسہ “۔ دوسرے شخص کے اوپر بری تہمت لگانا ، بعض نے کہا اس سے مراد جو براکام کرے یعنی کسی کو شریک ٹھہرائے یا اس کے نفس پر ظلم کرے ، شرک کے علاوہ کوئی دوسرا گناہ کرے ، (آیت)” ثم یستغفر اللہ “ پھر وہ اس گناہ سے توبہ کرے اور استفغار کرے (آیت)” یجد اللہ غفورا رحیما “ یعنی طمعہ کے اوپر اس بارے میں توبہ کو پیش کیا گیا اور ان کو ترغیب دی گئی ۔
Ayah 4:111(تفسیر) 111۔:
(آیت)” ومن یکسب اثما “ طعمہ کا جھوٹی قسم کھانا یہ گناہ کی بات ہے کہ اس نے چوری نہیں کی ، چوری تو یہودی نے کی (آیت)” فانما یکسب علی نفسہ “۔ جھوٹی قسم کھا کر اس نے کسی کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ، (آیت)” وکان اللہ علیما “۔ زرہ کی چوری کو اللہ ہی جانتا ہے ۔ (آیت)” حکیما “۔ اور چور کا ہاتھ کاٹنے میں حکم دیتا ہے ۔
Ayah 4:112112۔ (آیت)” ومن یکسب خطیئۃ “ زرہ چوری کرے ، (آیت)” اواثما “ اس سے مراد جھوٹی قسم ہے (آیت)” ثم یرم بہ “ تہمت لگائے جس نے اس گناہ کا ارتکاب نہیں کیا ، (آیت)” بریئا “ یہود کی طرف چوری کی نسبت کرنے سے وہ بری ہے (آیت)” فقد احتمل بھتانا “ بہتان اس جھوٹ کو کہتے ہیں جس سے انسان حیران رہ جائے (آیت)” واثما مبینا “۔ ایسا گناہ جو واضح ہے (آیت)” ثم یرم بہ “ یہاں پر ضمیر مفرد کی لائی ہے تثنیہ بھما نہیں ذکر کی حالانکہ ماقبل میں دو گناہ ” خطیئۃ “۔ اور ” اثما “ موجود ہیں یایہاں پر ” کنایۃ اثم “ مراد لیا ہے یا ” خطیئۃ “ اور ” اثم “ کو ایک چیز شمار کیا ۔
Ayah 4:113113۔ (آیت)” ولولا فضل اللہ علیک ورحمتہ “۔ یہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے ” لھمت “ ارادہ کرچکے تھے (آیت)” طائفۃ منھم “۔ اس سے مراد طعمۃ کی قوم ہے (آیت)” ان یضلوک “ فیصلے میں راہ حق سے ہٹا دیتے اور سارا معاملہ ملتبس کردیتے ، یہاں تک کہ طعمہ کی طرف سے دفاع کرنے لگے تھے (آیت)” وما یضلون الا انفسھم “۔ اس کا وبال ان ہی کی طرف لوٹے گا ، (آیت)” وما یضرونک من شیئ “ ان کا ضرر ان ہی کی طرف لوٹے گا (آیت)” انزل اللہ علیک الکتاب “۔ کتاب سے مراد قرآن مجید ہے (آیت)” والحکمۃ “ یہ فیصلہ وحی کے ذریعے کرنا (آیت)” وعلمک مالم تکن تعلم “۔ احکام میں سے، بعض نے کہا علم الغیب میں سے (آیت)” وکان فضل اللہ علیک عظیما “۔
Ayah 4:114114۔ (آیت)” لا خیر فی کثیر من نجواھم “۔ اس سے مراد طعمہ کی قوم ہے اور مجاہد (رح) کا قول ہے کہ یہ آیت تمام انسانوں کے حق میں عام ہے ، نجوی کہتے ہیں کہ کسی کام کی تدبیر کو پوشیدہ رکھنا اور بعض نے کہا کہ نجوی یہاں پر یہ ہے بہت سارے لوگ آپس میں اس بارے میں سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” واذھم نجوی الا من امر بصدقۃ “ بعض نے کہا کہ یہ استثناء منقطع ہے یعنی وہ شخص جو ان کو صدقہ کرنے پر ابھارے ، (آیت)” اومعروف “ اللہ کی اطاعت میں اور جو کچھ انہوں نے شریعت سے حاصل کیا ، نیک اعمال سارے کے سارے معروف میں داخل ہیں کیونکہ عقلیں اس کو جانتی ہیں ۔
(آیت)” اواصلاح بین الناس “ حضرت ام درداء ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا میں تمہیں نہ بتلاؤں وہ عمل جو روزہ ، صدقہ اور نماز سے افضل ہے، ہم نے کہا کیوں نہیں ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں کے باہمی تعلقات کو درست کردینا اور تعلقات کو باہمی خراب کرنا نیکیوں کو مونڈنے والا ہے ، ام مکتوم بنت عقبہ ؓ سے روایت ہے اور وہ مہاجرین اولین میں سے ہیں ، فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ جھوٹا وہ نہیں جو لوگوں کے درمیان اصلاح کرے اور نیکی کی بات کرے اور خیر کی نصیحت کرے ۔ (آیت)” ومن یفعل ذلک “ ۔ یہ اشیاء مذکورہ جن کا ذکر ہوچکا ۔ (آیت)” ابتغاء مرضاۃ اللہ “ اللہ کی رضا کے حصول کے لیے (آیت)” فسوف نوتیہ “۔ آخرت میں ”(آیت)” اجرا عظیما “۔ ابو عمرو ؓ اور حمزہ (رح) نے ” یوتیہ “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے نون کے ساتھ پڑھا ہے ۔
Ayah 4:115(تفسیر) 115۔:
(آیت)” ومن یشاقق الرسول “۔ اس آیت کا نزول طعمہ بن ابیرق کے بارے میں ہوا ، جب اس پر چوری کا ظہور ہوا تو اس کو ڈر وخوف لاحق ہوا کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور یہ رسوا ہوجائے گا تو پھر یہ مکہ کی طرف بھاگ گیا اور مرتد ہوگیا ، اس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ومن یشاقق الرسول “۔ بمعنی مخالفت کرنا (آیت)” من بعد ما تبین لہ الھدی “۔ توحید اور حدود کے ظاہر ہونے کے بعد ” ویتبع غیر سبیل المؤمنین “ مؤمنین کے راستے کے علاوہ (آیت)” نولہ ما تولی “۔ اس کو آخرت کی طرف پھیر دیں گے جس کو انہوں نے دنیا میں چھوڑ دیا تھا (آیت)” ونصلہ جھنم وساء ت مصیرا “۔ روایت کیا گیا ہے کہ طعمہ بن ابیرق ایک شخص کے ہاں ٹھہرا جس کا تعلق قبیلہ بنی سلیم کے ساتھ تھا مکہ کا رہنے والا تھا اس کا نام حجاج بن علاط ہے اس کے گھر پر کسی نے نقب لگایا اور اس پر پتھر آگرا کوئی طاقت نہیں رکھتا تھا کہ وہ اس کے گھر میں داخل ہوجائے بعض لوگوں نے کہا کہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ اس نے ہماری طرف پناہ پکڑی ہوئی ہے اور اس کو چھوڑ دو تاکہ مکہ کی طرف چلا جائے ، پھر یہ وہاں سے تجارتی قافلہ کے ساتھ نکل کر شام چلا گیا ، راستے میں جب قافلہ ٹھہرا اس نے قافلہ والوں سے کچھ سامان چوری کیا اور کچھ کو مارا ، پھر قافلہ والوں نے اس کو طلب کرکے اس کو پکڑا اور پتھروں کے ساتھ اس کو ہلاک کردیا ، پس اس کی قبر وہ پتھروں کی جگہ بن گئی ، بعض نے کہا کہ یہ ایک کشتی میں سوار ہوا تاکہ جدہ کی طرف جائے ، اس نے اس کشتی سے کسی کا بیگ چرایا جس میں دنانیر تھے پھر یہ پکڑا گیا اس کو پھر اہل کشتی والوں نے سمندر میں پھینک دیا اور بعض نے کہا کہ یہ قبیلہ بنی سلیم کے مقام حرہ میں اترا ، یہ وہیں بتوں کی پوجا کرنے لگا یہاں تک کہ مرگیا ، اس پر یہ آیات نازل فرمائی ۔
Ayah 4:116116۔ (آیت)” ان اللہ لا یغفر ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔ ضل ضلالا بعیدا “ وہ راستے سے بھاگ گیا ، خیر سے محروم کردیا گیا ۔
(” ان اللہ لا یغفر کا شان نزول)
ضحاک (رح) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اس آیت کا نزول عرب کے شیوخ کے بارے میں ہوا کہ یہ آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے اے اللہ کے نبی ! ﷺ یہ بوڑھا گناہوں سے لت پت ہے صرف اس نے ایک گناہ نہیں کیا وہ یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا ، جب ہم نے اس کو جانا اور اس نے ایمان قبول کیا اور نہ ہی اس نے اللہ کے سوا کسی کو پکارا اور نہ ہی ایسے گناہ کیے جس پر انسان جری ہوجاتا ہے نہ میرے دماغ میں کبھی یہ بات آئی کہ میں اللہ سے بھاگ کر بےبس کر دوں گا ، اب میں پشیمان ہوں توبہ کرتا ہوں معافی چاہتا ہوں ، میرا کیا حال ہوگا ؟ اس پر آیات نازل ہوئی ۔
Ayah 4:117(تفسیر) 117۔:
(آیت)” ان یدعون من دونہ الا اناثا “۔ اس آیت کا نزول مکہ والوں کے بارے میں ہوا کہ وہ نہیں پکارتے مگر انہیں مورتیوں کا اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وقال ربکم ادعونی “۔ یعنی تم عبادت کرو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق (آیت)” ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین “۔ ۔۔۔۔۔۔ (آیت)” من دونہ “۔ سے مراد اللہ کے سوا (آیت)” الا اناثا “ اناث سے مراد بت ہیں چونکہ وہ بتوں کو اسی نام سے موسوم کرتے تھے جیسا کہ لات ، منات عزی ، اور وہ یہ کہتے تھے کہ ہر ایک قبیلہ کا بت ہے جومؤنث ہے ” انثی بنی فلاں “۔ ان بتوں میں سے ایک ایک کے ساتھ شیطان ہوتا تھا جو ان کے ساتھ کہانت اور کلام کرتا تھا (اور یہ لوگ سمجھتے تھے کہ بت بول رہے ہیں) اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت)” وان یدعون الا شیطانا مریدا “۔ یہ اکثر مفسرین کا قول ہے جو اس کی تاویل کی صحت پر دلالت کرتی ہے ، یہاں اناث سے مراد بت ہیں ، یہی قرات حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی ہے ۔ ” اناثا “ جمع ہے وثن کی واؤ کو ہمزہ سے بدل دیا ، حسن (رح) اور قتادہ (رح) کا قول ہے کہ (آیت)” الااناثا “ سے مراد کہ ایسے مردے جن میں کبھی روح نہ آئی ہو چونکہ بت بھی انہیں صفات کے حامل تھے اس لیے ان کو اناث کہتے ہیں ان کو مرنے کی کوئی خبر نہیں ہوتی ، جیسا کہ ان کے بتوں کو کوئی خبر نہ ہوتی اور اناث دونوں جنسوں میں بہت گھٹیا ہے ، جیسا کہ موات حیوان سے ارذل ہے ۔ ضحاک (رح) کا قول ہے کہ ان کا مطلب اناث سے فرشتے ہیں اور بعض نے کہا وہ فرشتوں کی پوجا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ملائکہ اناث ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ (آیت)” وجعلوا الملائکۃ الذین ھم عبادالرحمن اناثا وان یدعون الا شیطانا مریدا “۔ یعنی وہ عبادت نہیں کرتے صرف شیطان مرید کی کیونکہ جب وہ بتوں کی پوجا کرتے ہیں تو شیطان کی پیروی کرتے ہیں ، مرید ، مارد جو اطاعت سے خالی ہوا س مراد ابلیس ہے ۔
Ayah 4:118118۔ (آیت)” لعنۃ اللہ “ وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوتے ہیں ” وقال “ ابلیس نے کہا (آیت)” لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا “۔ جو حق معلوم ہے اور ابلیس کے ساتھ اطاعت کرنا ایک مفروضہ ہے ، بعض تفاسیر میں ہے کہ ایک ہزار میں نوسوننانوے ابلیس کے پیروکار ہیں ، اصل فرض لغت میں کہ جاتا ہے کاٹنے کو اور اسی سے ”’ فرضۃ فی النھر “ بولا جاتا ہے ۔
Ayah 4:119119۔ (آیت)” ولا اضلنھم “۔ حق سے گمراہ کرنا یعنی ان سب کو گمراہ کرنا ، ابلیس کے اس پوشیدہ کلام کرنے کے ساتھ ۔ ابلیس کو اسی وجہ سے ابلیس کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگوں پر حق کو ملتبس کردیتا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” لازینن لھم فی الارض “ کہ ہم زمین کو خوب مزین کردیں گے ۔ (آیت)” ولامنینھم “ وہ تمنائیں ڈالتا ہے کہ نہ جنت ہے نہ دوزخ ہے نہ کوئی عذاب اور نہ ہی کوئی قیامت اور نہ جی کر اٹھنا اور بعض نے کہا معاصی کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ آخرت کے ادراک کی تمنا کرنا (آیت)” ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم لیغیرن خلق اللہ “۔
(فلیغیرن خلق اللہ کی وضاحت)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور حسن بصری (رح) ، مجاہد (رح) ، قتادہ (رح) ، سعیدبن المسیب (رح) اور ضحاک (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد اللہ کا دین ہے۔ اس کی مثال اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” لا تبدیل لخلق اللہ “۔
اس کا مطلب ہے اللہ کا دین ۔ یعنی وہ دین میں اس بات کا ارادہ کرتے ہیں کہ حرام کو حلال قرار دیں اور حلال کو حرام قرار دیں ، عکرمہ اور ایک مفسرین کی جماعت کہ اللہ کی بنائی ہوئی چیز کو تبدیل کرتے ہیں ، اختصاء داغنے ، کان کاٹنے ، یہاں تک کہ بعض نے خصی ہونے کو جائز قرار دیا اور بعض نے کہا کہ صرف جانوروں کو خصی کرنا جائز ہے چونکہ ان میں غرض تو ظاہر ہے اور بعض نے کہا کہ وہ اللہ کی بنائی ہوئی چیز میں تبدیلی کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو سوار ہونے اور کھانے اور بعض کو کھانے سے حرام قرار دیا ہے اور سورج ، چاند ، پتھر ، حجر بندوں کے منافع کے لیے پیدا کیا گیا ہے ، بس یہ لوگ ان کو معبود سمجھتے ہیں (آیت)” ومن یتخذ الشیطان ولیا من دون اللہ “ ایسا رب جو اس کی اطاعت کرے ۔ (آیت)” فقد خسر خسرانا مبینا “۔
Ayah 4:120(تفسیر) 120۔:
(آیت)” یعدھم ویمنیھم “۔ شیطان ان کو وعدے دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے جو انسان کے دل میں واقع ہو وہ عمر کی طویلی اور دنیا میں ہمیشگی کی امیدیں دلانا ، یہ کبھی خوف دلاتا کہ خرچ نہ کرو فقر وفاقہ آجائے گا پھر وہ خرچ کرنے سے روکتا ہے اور صلہ رحمی سے روکتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت)” الشیطان یعدکم الفقر “۔ ان کو شیطان یہ امیدیں دلاتا ہے کہ نہ دوبارہ اٹھایا جائے گا اور نہ ہی کوئی جنت ہے اور نہ دوزخ (آیت)” وما یعدھم الشیطان الا غرور “۔ غرور سے مراد باطل ہے ۔
Ayah 4:121121۔ (آیت)” اولئک ماواھم جھنم ولا یجدون عنھا محیصا “۔ نہ ہی ان سے چھٹکارا پاسکیں گے اور نہ ہی اس سے بھاگ سکیں گے ،
Ayah 4:122122۔ (آیت)” والذین امنوا وعملوا الصلحت سندخلھم جنات تجری من تحتھا الانھار “۔ ان کے کمروں اور مکانوں کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی (آیت)” خالدین فیھا ابدا وعداللہ حقا ومن اصدق من اللہ قلیلا “۔
Ayah 4:123123۔ (آیت)” لیس مامانیکم ولا امانی اھل الکتاب “۔
(لیس بامانیکم کی تفسیر)
مسروق (رح) ، قتادہ (رح) ، اور ضحاک (رح) ، کا قول ہے کہ (آیت)” لیس بامانیکم “۔ سے مراد مسلمانوں کو خطاب ہے اور (آیت)” ولا امانی “ سے مراد اہل کتاب یہود و نصاری ہیں ، یہ اس وجہ سے کہ وہ ایک دوسرے پر فخر کرتے تھے ، اہل کتاب کہنے لگے کہ ہمارا نبی تمہارے نبی سے پہلے ہے اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے مقدم ہے ، لہذا ہم تمہارے سے زیادہ اللہ کے قریب ہیں اور مسلمانوں نے ان سے کہا ہمارے نبی خاتم الانبیاء ﷺ ہیں اور ہماری کتاب کا فیصلہ سب کتابوں پر لاگو ہے اور ہمارا ایمان تمہاری کتاب پر بھی ہے مگر تمہارا ایمان ہماری کتاب پر نہیں ہے اس لیے ہم افضل ہیں اس شان نزول پر (آیت)” بامانیکم “ کا خطاب مؤمنوں کا ہوگا ۔
مجاہد (رح) کا قول ہے کہ (آیت)” لیس بامانیکم “۔ سے مراد اہل کتاب کے مشرکین ہیں ، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا کہ نہ کوئی اٹھائے جانے کا دن ہے اور نہ ہی کوئی حساب کتاب ہے اور اہل کتاب نے کہا کہ (آیت)” لن تمسنا النار الا ایام معدودۃ “۔ کہ آگ ہمیں نہیں چھوئے گی مگر چند دن اور (آیت)” لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصاری “۔ کہ جنت میں یہود و نصاری ہی داخل ہوں گے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” لیس بامانیکم “۔ حقیقت امر تمہاری آرزوؤں سے وابستہ نہیں بلکہ حقیقت تو عمل صالح کے ساتھ وابستہ ہے (آیت)” من یعمل سوء ا یجزبہ “۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، سعید بن جبیر ؓ اور ایک جماعت کے نزدیک اس آیت کا تعلق ہر عامل کے ساتھ ہے ۔
(آیت)” من یعمل سوء ا یجزبہ “۔ کی تفسیریں)
کلبی (رح) نے ابی صالح (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں کو بڑا شاق ہوا ، انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ کے علاوہ ہم میں سے کون ہے جس نے کوئی بدی نہیں کی پھر سزا کس طرح ہوگی ، حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمـ نے ارشاد فرمایا دنیا میں جو کچھ آتا ہے وہ اسی سزا کی ایک قسم ہے پس جو شخص کوئی ایک نیک کام کرے گا اس کو دس نیکیاں دی جائیں گی اب اگر کسی بدی کی سزا دی گئی تو دس نیکیوں میں سے ایک کا ثواب گھٹ جائے گا اور نو نیکیاں رہ جائیں گی ، افسوس ہے اس شخص پر جس کی اکائیاں دہائیوں سے بڑھ جائیں ، رہا نیکیوں کا بدلہ تو وہاں نیکیوں اور بدیوں کا توازن کیا جائے گا ، ہر گناہ کے بدلے میں ایک نیکی ساقط کردی جائے گی اس کے بعد اگر نیکی باقی رہی تو جنت میں اس کا ثواب ملے گا اور ہر بیشی والے کو اس کی بیشی ملے گی ،
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے بیان کرتے ہیں کہ کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے مروی ہے کہ میں نے حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ (آیت)” من یعمل سوء ا یجزبہ “۔ نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابوبکر ! (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) میں تم کو ایک آیت سناؤں جو مجھ پر نازل ہوئی ہے ۔ میں نے عرض کیا فرمائیے حضور اقدس ﷺ نے مجھے یہ آیت پڑھائی ، یہ آیت سنتے ہی میری کمر سے درد نکلنے لگا میں نے کمر کو سیدھا کیا ، حضور اقدس ﷺ نے فرمایا ابوبکر ! کیا ہوگیا ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ، ہم میں سے کسی نے برا عمل نہیں کیا اور ہم کو ہر کیے ہوئے گناہ کی سزا ضرور دی جائے گی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اور تمہارے ساتھ مؤمن دنیا ہی میں برائی کی سزا پالیں گے ، اللہ کے سامنے جائیں گے تو گناہ سے پاک ہو کر باقی دوسرے لوگوں کی بدیاں جمع رکھیں جائیں گی یہاں تک کہ قیامت کے دن ان کو سزا دی جائے گی ۔
Ayah 4:124(تفسیر) 124۔:
(آیت)” من یعمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔ نقیرا “۔ کھجور کی مقدار نقیر وہ گڑھا جو کھجور کی گٹھلی پر ہوتا ہے ، ابن کثیر (رح) ، ابو جعفر (رح) ، اور اہل بصرہ اور ابوبکر صدیق ؓ کے نزدیک ” یدخلون “ یاء کے ضمہ اور خاء کے فتحہ کے ساتھ اور سورة مریم سورة حم المؤمن میں اسی طرح ہے ۔ ابوعمرو ؓ نے ” یدخلونھا “۔ پڑھا ہے سورة فاطر میں اور دوسرے قراء نے یاء کے فتحہ اور خاء کے ضمہ کے ساتھ نقل کیا ہے ، اعمش نے ابی الضحی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کیا ، فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتاب من یعمل سوء یجزبہ “۔ اہل کتاب نے کہا ہم اور تم اس معاملے میں برابر ہو، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ومن یعمل من الصالحات “۔
Ayah 4:125(تفسیر) 125۔:
(آیت)” ومن احسن دینا “۔ اس سے مراد محکم دین ہے ، (آیت)” ممن اسلم وجہہ للہ “ جس کا عمل خالص اللہ ہی کے لیے ہو۔ بعض نے کہا کہ جس نے اپنا کام اللہ کے سپرد کردیا ہو (آیت)” وھومحسن “۔ محسن سے مراد مواحد ہے (آیت)” وتبع ملۃ ابراھیم “۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ۔ ” حنیفا “ یعنی مخلص مسلمان ہو کر ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ دین ابراہیم (علیہ السلام) سے مراد کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا ، طواف کرنا اور مناسک حج مراد ہے ، یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کو اس لیے خاص کیا کہ تمام امتوں کے نزدیک مقبول ہیں ، بعض نے کہا کہ آپ ﷺ کی بعثت چونکہ ملت ابراہیمی پر ہوئی اور پھر دوسری چیزیں بھی عطا کیں (آیت)” واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا “۔ اس کا معنی ہے سچا دوست اور ” خلۃ “ کہا جاتا ہے خالص محبت کو۔
(حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل کا لقب دینے کا تفصیلی واقعہ)
کلبی (رح) نے ابی صالح (رح) کے حوالے سے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے ، آپ بڑے مہمان نواز تھے آپ کا مکان سرراہ تھا جو ادھر سے گزرتا آپ اس کی میزبانی کرتے تھے، ایک مرتبہ لوگوں پر قحط شدید پڑا لوگ کھانا طلب کرنے کے لیے آپ کے دروازے پر جمع ہوگئے آپ کے لیے غلہ کی رسد ہر سال مصر سے ایک کے پاس آیا کرتی تھی ، اس سال بھی آپ نے اپنے غلاموں کو اونٹ دے کر اس مصری دوست کے پاس بھیجا تاکہ غلہ لے آئیں ، دوست نے غلاموں سے کہا اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے لیے طلب کرتے تو ہم ان کی خاطر اس بار کو اٹھا بھی لیتے کیونکہ جو مصیبت لوگوں پر آئی ہے ہم پر بھی آئی ہے قاصد لوٹ پڑے اثناء راہ میں ایک وادی کی طرف سے گزر ہوا آپس میں کہنے لگے اونٹ خالی لے جاتے ہوئے تو ہم کو شرم آتی ہے مناسب یہ ہے کہ اس وادی کی کچھ مٹی لے کر ہم بوریوں میں بھر لیں تاکہ لوگ دیکھ کر خیال کریں کہ ہم غلہ لے کر آئے ہیں یہ کہہ کر بوریاں، بھر لیں اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ کی اطلاع دے دی ۔
اس وقت حضرت سارہ (علیہ السلام) سو رہی تھیں لوگ دروازہ پر تھے ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ بات سن کر بڑا افسوس ہوا اسی دوران میں نیند میں مغلوب ہو کر سو گئے ، سارہ بیدار ہوئیں تو دن چڑھ گیا تھا کہنے لگیں تعجب ہے غلام نہیں آئے ، غلاموں نے آواز دی کیوں نہیں ، حضرت سارہ (علیہ السلام) نے جواب دیا تو پھر کچھ لائے نہیں ، غلاموں نے کہا لائے کیوں نہیں ، سارہ (علیہ السلام) اٹھ کر بوروں کے پاس گئیں اور ان کو کھولا تو ان میں بڑا کھرا آتا نکلا ، آپ نے روٹی پکانے والوں کو حکم دیا حسب الحکم انہوں نے روٹیاں پکائیں اور لوگوں کو کھانا کھلایا ، اتنے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیدار ہوگئے اور آپ کو کھانے کی خوشبو آئی ، فرمایا سارہ یہ کہاں سے آیا ہے ؟ سارہ (علیہ السلام) نے کہا آپ کے مصری دوست کے پاس سے فرمایا کہ یہ میرے خلیل کے پاس سے آیا جو اللہ ہے اسی روز اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خلیل بنایا ، اس دن سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ کہلانے لگے ، زجاج (رح) کا قول ہے کہ خلیل اس کو کہا جاتا ہے جس کی محبت میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو ، ” خلۃ “ کا معنی ہے سچائی ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے محبت اور چنے ہوئے بندے ہیں اور بعض نے کہا کہ ” خلۃ “ حاجت کو کہا جاتا ہے چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی حاجت صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے ہی رکھتے ہیں ، پہلا قول زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ارشاد فرمایا (آیت)” واتخذ اللہ ابراھیم خلیلا “۔ خلۃ جانبین “ سے تقاضا کرتا ہے اور حاجت جانبین سے نہیں ہوتی بلکہ جانب سے واحد سے ہوتی ہے ۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں کسی کو اپنا خلیل بناتا تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو خلیل بناتا لیکن ابوبکر ؓ میرے بھائی اور رفیق ہیں اور اللہ نے تمہارے ساتھی کو خلیل بنا لیا۔
Ayah 4:126(تفسیر) 126۔ :
(آیت)” واللہ ما فی السموت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ وکان اللہ بکل شیء محیطا “۔ اس کا علم تمام اشیاء پر محیط ہے ۔