4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ بغوی

Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا اور رضاعی بہنیں اور ساسیں حرام کردی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کرچکے ہو ان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے ہو (وہ بھی حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (تو ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرلینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں بھی اور دو بہنوں کا اکٹھا کرنا بھی (حرام ہے) مگر جو ہوچکا (سو ہوچکا) بیشک خدا بخشنے والا (اور) رحم والا ہے

(تفسیر) 23۔: حرمت علیکم امھاتکم “ اس آیت میں تمام اصولی عورتیں جو حرام ہیں ان کو بیان کیا گیا ہے۔ (محرمات کی تفصیل) محرمات جن کا ذکر کتاب اللہ میں ہے وہ چودہ ہیں ، سات نسب سے حرام ہونے والی سات حرمت بالسبب ہیں، سات جو کسی سبب سے حرام ہیں ، ان میں دو جن کا تعلق رضاعت سے ہے اور چار صھر یہ سے متعلق ہیں اور ساتویں محصنات ہیں اور وہ شوہر والیاں ہیں ، امہات جمع ہے ام کی ، اس میں وادیاں بھی داخل ہیں ، اگرچہ وہ ماؤں کی جانب سے ہو اور باپ کی جانب سے ہو ، ” وبناتکم “ جمع ہے بنت کی اس میں پوتیاں بھی داخل ہیں ، اگرچہ ان سے نیچے ہو ” واخواتکم “ اخت کی جم ہے برابر ہے خواہ وہ حقیقی ماں باپ کی بیٹی ہو یا ماں باپ میں سے کسی ایک کی جانب سے ہو ۔ (آیت)” وعماتکم “ جمع ” عمۃ “ کی ہے اس میں باپ کی اخوات اور دادا کی اخوات اور ان سے اوپر ” وخالاتکم “ جمع خالۃ کی اور اس میں امہات اور جدات کی اخوات ہو۔ (آیت)” وبنات الاخ وبنات الاخت “۔ اس میں بھائی اور بہن کی اولاد بھی داخل ہے اور اس سے نیچے من جملہ مرد پر اس کے اصول وفصول (اولاد) پھر ان فصول کے پہلے اور ہر اصل کے بعد ، اصول سے مراد امہات اور جدات ہیں، فصول سے مراد بنات ، اولاد کی بنات ہیں اور فصول اول اصول سے اخوات اور بھائیوں کی بیٹیاں اور اول فصل ” من کل اصل بعدہ “ سے مراد پھوپھیاں اور خالائیں اور ان سے اوپر اور جو رضاعت کی وجہ سے حرام ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” وامھاتکم اللاتی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ “ من جملہ رضاعت سے بھی وہی حرام ہوجاتی جو نسب سے حرام ہوتی ہے۔ (حرمت رضاعت کا مسئلہ) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رضاعت سے حرمت ثابت ہوتی ہے جیسے نسب (ولادۃ) سے حرمت ثابت ہوتی ہے ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے پاس تشریف فرما تھے کہ میں نے ایک مرد کی آواز سنی جو حضرت حفصہ ؓ کے گھر میں داخلہ کی اجازت مانگ رہا تھا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کوئی شخص آپ کے گھر میں داخلہ کی اجازت مانگ رہا ہے ، آپ ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ کے رضاعی چچا کے متعلق فرمایا میرے خیال میں فلاں شخص ہوگا میں نے اپنے رضاعی چچا کا نام لے کر کہا یا رسول اللہ ﷺ اگر فلاں شخص زندہ ہوتا تو کیا وہ اندر آسکتا تھا ؟ فرمایا ہاں جو حرمت ولادت سے ہوتی ہے رضاعت سے بھی ہوتی ہے ، رضاعت کی حرمت دو شرطوں میں سے شرط پائی جائے تو رضاعت ثابت ہوجائے گی ، پہلی شرط یہ ہے کہ دو سالوں سے قبل دودھ پلائے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” والوالدات یرضعن اولادھن حولین کاملین “۔ ام سلمہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رضاعت سے اس وقت تک حرام نہیں ہوتی مگر آنتیں بھر جائیں (دودھ پینے سے) ابن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ رضاعت اس وقت تک ثابت نہیں ہوتی جب تک (دودھ سے) ہڈیاں اور گوشت پیدا نہ ہوجائیں اور یہ سب کچھ حالت صغر میں ہوتا ہے اسی وجہ سے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مدت رضاعت تیس ماہ ہے ۔ لقولہ تعالیٰ (آیت)” وحملہ وفصالہ ثلثون شھرا “۔ اکثر حضرات کے نزدیک یہ اقل مدت حمل ہے اور اکثر مدت رضاع ہے مدت حمل کی اقل مقدار چھے ماہ ہے ۔ دوسری شرط یہ ہے کہ پانچ مرتبہ پیٹ بھر کر دودھ پئے ، یہی حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے یہی عبداللہ بن زبیر اور امام شافعی (رح) کے نزدیک اور اکثر اہل علم کے نزدیک رضاع کی قلیل مقدار ہو یا کثیر حرمت کو ثابت کردیتی ہے ، یہی قول حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور ابن عمر ؓ کا ہے ، یہی سعید بن مسیب ؓ اور سفیان ثوری (رح) کا مذہب ہے ، امام مالک (رح) ، اوزاعی (رح) ، عبداللہ بن مبارک (رح) اور اصحاب الرای کا یہی مذہب ہے اور بعض نے کہا کہ قلیل حرام نہیں ، عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے وہ آپ ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک مرتبہ پستان کو چھونا حرام نہیں کرتا اور دو مرتبہ چھونا اسی طرح بعض اصحاب حدیث نے روایت کی ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ قرآن میں دس رضعات کا ذکر تھا پھر وہ منسوخ ہو کر خمس (پانچ) رضاعات رہ گئیں ، اور آپ ﷺ کی آخری حیات طیبہ تک یہی قراۃ تھی ۔ محرمات صھریۃ اللہ کے اس فرمان سے ” وامھات نسائکم “ جو بھی کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو اس کے خاوند پر بیوی کی مائیں اور اس کی دادیاں اور اس سے اوپر کے رشتہ دار رضاعی ہوں یا نسبی نفس عقد سے حرام ہوجائیں گی ۔ (آیت)” وربائکم الاتی فی حجورکم من نسائکم الاتی دخلتم بھن “۔ ربائب جمع ہے ربیبہ کی ، اپنی بیوی کی بیٹی کو کہا جاتا ہے جو دوسرے جو دوسرے خاوند سے ہو اس کو ربیبہ اس لیے کہتے ہیں چونکہ یہ اس کی زیر تربیت ہوتی ہے (آیت)” فی حجورکم “ سے مراد اس (خاوند) کی تربیت میں ہوتی ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں کسی کی گود میں ہے مطلب یہ ہے کہ اس کی تربیت میں ہے ، (آیت)” دخلتم بھن “۔ تم ان سے جماع کرو ۔ جب اس منکوحہ سے جماع کیا تو اس کی بیٹیاں اور اس کی پوتیاں اس پر حرام ہوگئیں ، اور اس سے نیچے بھی، اگرچہ وہ رضاعی ہوں ، نسبی اولاد منکوحہ کے ساتھ دخول کے بعد حرام ہوجائے گی ، اگر منکوحہ دخول سے پہلے جدا ہوجائے یا اس کے دخول سے پہلے پہلے مرگئی تو اس کی بیٹی سے نکاح کرسکتا ہے لیکن اس کی ماں کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے امہات کی حرمت کو مطلق ذکر کیا ہے ، ربائب کی تحریم کے بارے میں یہ ارشاد (آیت)” فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم “۔ ان کی بیٹیوں کے نکاح میں جب تم ان سے جدا ہوجاؤ یا وہ مرجائیں ، حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ بیوی کی ماں حرام نہیں ہوئی مگر بیوی کے ساتھ جماع کرنے سے جیسا کہ ربیبہ کے متعلق ہے ۔ (آیت)” وحلائل ابنائکم الذین من اصلابکم “۔ یعنی تمہارے بیٹوں کی بیویاں ، حلائل کی واحد حلیلۃ ہے، حلائل کے ساتھ اس لیے موسوم کیا کیونکہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے حلال ہے بعض نے کہا اس کو حلائل اس لیے کہا چونکہ یہ دوسرے کے لیے حلال ہوجاتے ہیں، جس طرح ایک چیز دوسرے میں حلول کر جاتی ہے اور وہ نزول ہے ، بعض نے کہا ان میں سے ہر ایک کی ازار دوسرے کے لیے حلال ہوجاتی ہے ، یہ عقل کی ضد ہے من جملہ ناکح پر حلائل کے بیٹے اور بیٹیاں بھی حرام ہیں اور ان سے نیچے کے رشتہ دار بھی ، اگرچہ وہ رضاعی ہوں اور نسبی اولاد نفس عقد کے ساتھ حرام ہوجائیں گے ، (آیت)” من اصلابکم “ فرمایا متبنی (منہ بولے بیٹے کا) حلیلہ اس مرد پر حرام نہیں کیونکہ آپ ﷺ نے زید بن حارثہ کی بیوی سے شادی کی اور زید منہ بولا بیٹا تھا ۔ اور چوتھی اقسام میں محرمات صھریہ باپ دادا کی حلیلہ یا اس کے اوپر کے رشتہ دار اس پر حرام ہیں اس کے بیٹے پر یا بیٹے کے بیٹے پر نفس عقد کی وجہ سے حرام ہوجاتا ہے برابر ہے کہ وہ باپ حقیقی ہو یا رضاعی ہو ، اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” ولا تنکحوا مانکح اباؤ کم من النساء “ اس کا تذکرہ ماقبل میں گزر چکا ہے ، اسی طرح جو عورت صرف نکاح سے حرام ہوجاتی ہے ، اسی طرح وہ وطی سے بھی حرام ہوجاتی ہے ، اسی طرح وطہ بالشبہ کا بھی یہی حکم ہے کہ اگر کسی عورت نے شبہ کے ساتھ یا ملک یمین کی وجہ سے وطی کرلی تو اس وطی کرنے والے پر لونڈی کی والدہ اور اس کی بیٹی حرام ہوجائے گی ۔ (حرمت زنا کا مسئلہ) اور اگر کسی نے عورت کے ساتھ ناز کرلیا تو اس میں آئمہ کا اختلاف ہے، بعض حضرات نے کہا کہ مزنیہ عورت کی ماں اور بیٹی اس پر حرام نہیں اور بعض نے کہا کہ اس کی ماں اور بیٹی حرام ہوگئی ، یہ قول علی ؓ ، ابن مسعود ؓ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ کا ہے اور یہی قول سعید بن المسیب (رح) ، عروہ (رح) ، زہری (رح)، اور اسی کی طرف امام مالک (رح) ، اور شافعی (رح) ، گئے ہیں اور بعض لوگ اس کی حرمت کی طرف گئے ہیں یہی روایت عمران بن حصین ؓ اور ابی ہریرہ ؓ اور یہی روایت جابر بن زید ؓ اور حسن ؓ اور یہی اصحاب الرای کا قول ہے ۔ اگر کسی عورت کو شہوت سے چھولیا تو کیا اس کی حرمت وطی کی حرمت کی طرح ہے ربیبہ کے حق میں ؟ اس میں دو قول ہیں اصح قول یہی ہے کہ اس سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے ، دوسرا قول یہ ہے کہ حرمت ثابت نہیں ہوتی جس طرح دیکھنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ، (آیت)” وان تجمعوا بین الاختین “۔ کسی مرد کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو بہنوں کو جمع کریں ایک نکاح میں خواہ وہ آپس میں حقیقی بہنیں ہوں یا رضاعی بہنیں ہوں ، ہاں اگر کسی نے ایک بہن کے ساتھ نکاح کیا پھر اس کو طلاق بائن دے دی تو اس کی بہن کے ساتھ نکاح جائز ہے اور اسی طرح اگر اس کی ملک میں دو بہنیں اکٹھی جمع ہوگئیں تو اس کے لیے ان دونوں سے وطی کرنا حلال نہیں ، اگر ایک کے ساتھ وطی کرلی تو دوسری کے ساتھ وطی کرنا حلال نہیں یہاں تک کہ پہلی کو اپنے اوپر حرام قرار دے دے اور اسی طرح جائز نہیں کہ کوئی شخص عورت اور اس کی پھوپھی کو یا خالہ بھانجی کو ایک نکاح میں جمع کرلے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عورت کو اس کی پھوپھی کے ساتھ جمع نہ کیا جائے اور نہ ہی عورت کو اس کی خالہ کے ساتھ ۔ ” الا ما قد سلف “۔ لیکن جو گزر گیا ہے وہ معاف ہے کیونکہ وہ سب افعال اسلام سے قبل کیا کرتے تھے ، عطاء وسدی فرماتے ہیں کا بیان ہے اس سے مراد حضرت یعقوب ہیں کیونکہ انہوں نے ام یہودا اور راحیل ام یوسف کو جمع کیا تھا حالانکہ یہ دونوں بہنیں تھیں ، ان اللہ کان غفورا رحیما “۔
Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں۔ (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اسطرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی۔ تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو انکا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو۔ اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(والمحصنات من النساء کی تفسیر اور شان نزول) (تفسیر) 24۔: (آیت)” والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم “۔ اس سے مراد شوہروں والی ہیں ، ان عورتوں کے ساتھ دوسرے شخص کا نکاح کرنا حرام ہے جب تک کہ یہ ان کو چھوڑ نہ دیں ، یہ ساتویں قسم ہے جو حرمت بالسبب کی وجہ سے ہے ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ یہ ان عورتوں کے متعلق نازل ہوئیں جو آپ ﷺ کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ آئیں تھیں اور وہ شوہر والی تھیں ، ان سے بعض مسلمانوں نے نکاح کرلیا ، پھر ان کے شوہر سابق ہجرت کرکے آئے ، ان سے مسلمانوں کو نکاح کرنے سے روکا گیا ، پھر اس سے استثناء کیا لونڈیوں اور باندیوں کو اس آیت سے (آیت)” الاما ملکت ایمانکم “۔ وہ عورتیں (باندیاں) جو تمہارے پاس قید ہو کر آئی ہیں اور ان کے شوہر دارالحرب میں تو ان کے مالکوں کے لیے جائز ہے کہ ان کے استبراء کے بعد ان سے وطی کرسکتے ہیں ، اس لیے کہ قید کرنے سے ان کا نکاح ختم ہوجاتا ہے ۔ ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے حنین کے دن اوطاس کی طرف ایک لشکر بھیجا ، ان کو مشرکین کی کچھ عورتیں ہاتھ آئیں ، وہ ان کو قید کرکے لے آئے ، ان کے شوہر موجود تھے ہم نے ان کے ساتھ قربت کرنا مناسب نہیں سمجھا ، آپ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ (آیت)” الا ما ملکت ایمانکم “۔ یہ ان باندیوں کے بارے میں ہے جو غلاموں کے نکاح میں تھیں ان باندیوں کو ان سے لینا جائز ہے ۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ شادی شدہ باندی کو بیچنا اس کے خاوند کے درمیان فرقت ڈالنا ہے اور یہ فرقت طلاق ہوگی ، مشتری کے لیے اس سے وطی کرنا جائز ہے ، بعض نے کہا کہ محصنات سے آزاد عورتیں مراد ہیں ، معنی یہ ہوگا کہ چار سے زائد عورتیں حرام ہیں مگر وہ عورتیں جن کے تم مالک ہوئے ہو کیونکہ باندیوں میں کوئی عدد متعین نہیں ، (آیت)” کتاب اللہ علیکم “۔ منصوب مصدر ہونے کی وجہ سے اصل عبارت یہ تھی ” ای کتب اللہ علیکم “۔ بعض نے کہا منصوب بنابراعزاء ہے عبارت یوں ہوگی ” الزموا ما کتب اللہ علیکم “۔ یعنی تم پر اللہ نے فرض کردیا ہے (آیت)” واحل لکم ماوراء ذلکم “۔ ابو جعفر (رح) ، حمزہ (رح) ، کسائی (رح) اور حفص (رح) نے ہمزہ کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اور حاء کے کسرہ کے ساتھ ، باقی قراء نے نصب کے ساتھ پڑھا ہے ، مطلب یہ ہے کہ ان کے علاوہ جو م حرمات میں سے ذکر کیے ہیں ، ” ان تبتغوا “ تم تلاش کرو، (آیت)” باموالکم “۔ تم ان سے نکاح کرو مہر کے عوض یا تم ان کو خریدو ثمن کے بدلے میں ” محصنین “ اس سے مراد شادی شدہ عورتیں یا پاکدامنی ” غیر مسافحین “۔ وہ زنا کرنے والی نہ ہوں سفح سے ماخوذ ہے اس کا معنی ہے بہانا چونکہ یہاں بھی منی بہائی جاتی ہے ۔ (آیت)” فمااستمتعتم بہ منھن “۔ اس کے معنی میں اختلاف ہے حسن اور مجاہد رحمھما اللہ کا قول ہے جب تم ان سے نفع حاصل کرو اور جماع سے لذت حاصل کرو نکاح صحیح کے ساتھ تو تم ان کو مہر ادا کرو ، (آیت)” فاتوھن اجورھن “۔ اس سے مراد مہر ہے ، بعض حضرات نے کہا کہ اس سے نکاح متعہ ہے وہ یہ ہے کہ ایک مدت تک عورت کے ساتھ نکاح کرنا اور جب اتنی مدت گزر جاتی تو وہ طلاق سے بائنہ ہوجاتی ، رحم (رحم کی صفائی) اس کے لیے ضروری ہوتا ہے اور ان کے درمیان میراث بھی جاری نہیں ہوتی یہ ابتداء اسلام میں مباح تھا پھر بعد میں آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ، ربیع بن سبرۃ جہنی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کے ساتھ تھے اور ارشاد فرمایا اے لوگو ! میں تمہیں عورتوں سے نفع حاصل کرنے کی اجازت دیا کرتا تھا اب بیشک اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن تک تم پر حرام قرار دیا ، اب اگر اس طرح تم میں سے کسی کے پاس کچھ ہو تو ان کو چھوڑ دو اور ان سے کوئی چیز نہ لو جو تم نے ان کو دیا ہے ۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے خبیر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے سے منع فرمایا ہے اور گھریلو گدھے کا گوشت حرام قرار دیا ، اس پر بعض علماء اہل علم نے متعہ کو حرام قرار دیا ہے اور اس آیت کو منسوخ قرار دیتے ہیں اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اس طرف گئے ہیں کہ یہ آیت محکم ہے اور نکاح متعہ میں رخصت دی ہے ، ابن ابی نضرہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے متعہ کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ تم سورة نساء کی یہ آیت نہیں پڑھتے (آیت)” فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی “۔ میں نے کہا کہ میں نے اس کو نہیں پڑھا ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت تین مرتبہ نازل ہوئی ، بعض حضرات نے کہا کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے اس قول سے رجوع کرلیا تھا، سالم عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن الخطاب ؓ منبر پر تشریف لائے اور حمد وثناء کی اور کہا کہ لوگوں کو کیا ہوگیا کہ وہ نکاح متعہ کرتے ہیں حالانکہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ، اگر کسی نے متعہ کیا ہوگا اور میرے پاس اس کو لایا جائے تو میں ضرور اس کو سنگسار کر دوں گا متعہ ختم ہوگیا نکاح ، طلاق ، عدت اور میراث سے منسوخ ہوگیا ۔ ربیع بن سلیمان نے کہا کہ میں نے حضرت شافعی (رح) سے یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نہیں جانتا کہ اسلام میں کسی چیز کو حلال کیا گیا ہو پھر حرام کیا گیا ہو پھر حلال کیا گیا ہو پھر حرام کیا گیا ہو متعہ کے علاوہ ، (آیت)” فاتوھن اجورھن “۔ ادا کرو ، ان کے مہروں کو (آیت)” فریضۃ ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ من بعد الفریضۃ “۔ نکاح متعہ میں پہلے یہ بات جائز تھی کہ جب فریقین کے ہاں ایک مدت متعین تک طے ہوجاتا اور وہ پوری ہوجاتی تو فریقین میں سے عورت چاہتی تو وہ مدت بڑھا دیتی اور مرد مال میں اضافہ کردیتا ، اگر دونوں فریق راضی نہ ہوں تو پھر جدائی ہوجاتی اور جو حضرات آیت کو استمتاع بالنکاح صحیح پر محمول کرتے ہیں تو اللہ کے اس فرمان کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ (آیت)” ولا جناح علیکم فیما تراضیتم بہ “۔ یعنی مہر مقرر ہونے کے بعد اگر عورت مقررہ مہر کا کچھ حصہ خود کم کر دے یا کل معاف کر دے یا مرد مقرر کردہ سے زائد از خود مقرر کردے تو درست ہے (آیت)” ان اللہ کان علیما حکیما “۔ (مہر کی مقدار کتنی ہونی چاہیے) مہر کی اکثر مقدار کی کوئی حد متین نہیں ، اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” واتیتم احداھن قنطارا فلا تاخذوا منہ شیئا “۔ مستحب یہ ہے کہ اس میں زیادہ غلو نہ ہو ، حضرت عمر بن الخطاب ؓ فرماتے ہیں کہ عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کرو ، اگر یہ زیادتی دنیاوی اکرام کی وجہ سے ہے اور اللہ سے تقوی کی وجہ سے تو تمہارے لیے اولی یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے فعل کے مطابق کہ انہوں نے اپنی بیویوں سے نکاح کیا اور ہم نے اپنی بیٹیوں کا نکاح کروایا تو بارہ اوقیہ سے زائد مہر نہیں رکھا ۔ حضرت ابی سلمہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے اپنی ازواج کا مہر کتنا رکھا تھا ؟ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنی ازواج کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا ، میں نے کہا کہ آپ جانتے ہو کہ نش کیا ہے ؟ میں نے کہا نہیں ، فرمایا نصف اوقیہ ہے ، یہ پانچ سو درہم ہوئے ، یہ آپ ﷺ کی ازواج کا مہر ہے ۔ (مہر کی مقدار میں ائمہ فقہاء کے مختلف اقوال) اس سے کم مقدار مہر میں آئمہ کا اختلاف ہے، بعض حضرات نے کہا یہ اس کی کم مقدار وہ ثمن ہے جو بیع یا ثمن بننے کی صلاحیت رکھے وہ مہر بن سکتا ہے ، یہ قول ربیعہ ، سفیان ثوری (رح) ، امام شافعی (رح) ، امام احمد (رح) ، امام اسحاق (رح) ، کا ہے ، حضرت عمر بن الخطاب ؓ کہ تین مٹھی چھوہارے مہر بن سکتے ہیں ۔ سعید بن المسیب ؓ کا بیان ہے کہ ایک کوڑے کو مہر بنانا بھی جائز ہے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ چوری کے نصاب کے برابر مہر کی مقدار ہے اور یہی قول امام مالک (رح) ، امام ابوحنیفہ (رح) ، کا ہے لیکن امام مالک (رح) ، کے نزدیک چوری کی سزا کی مقدار تین دراہم ہے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) ، کے نزدیک دس دراہم ہیں اس پر دلیل یہ حدیث مبارک ہے ۔ سہل بن سعد ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت آئی ، اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کیا ہے وہ کافی دیر کھڑی رہی ، پھر ایک اور شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! ﷺ آپ میری اس سے شادی کروا دیجئے اگر آپ کو اس سے حاجت نہیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اس کے مہر کے لیے کوئی چیز ہے ؟ اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! ﷺ میرے پاس اس ازار کے سوا کچھ نہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کو میرے پاس لے آؤ میں آپ ﷺ کے پاس بیٹھ گیا ، اس ازار کے علاوہ کچھ نہیں کوئی اور چیز ڈھونڈ لو ، وہ کہنے لگے ہم اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں پاتے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تلاش کرو اگرچہ ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو ، میں نے تلاش کیا لیکن کوئی چیز نہیں ملی ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا آپ کے پاس قرآن کی کوئی سورة یاد ہے فرمایا جی ہاں ! فلاں فلاں سورة آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ، میں نے آپ کی شادی فلاں سورة کے بدلے میں کردی ہے اس میں دلیل ہے کہ اقل مہر کی مقدار کی کوئی حد نہیں کیونکہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کے علاوہ کوئی اور چیز تلاش کرو ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جو چیز مال بننے کی صلاحیت ر کھیتی ہو تو وہ مہر بن سکتی ہے کیونکہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” ولو خاتما من حدید “۔ کیونکہ انگوٹھی کی اتنی قیمت نہیں جو زیادہ نافع ہو اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تعلیم قرآن کو مہر مقرر کرنا جائز ہے ، یہی قول امام شافعی (رح) کا ہے اور بعض اہل علم کا یہی قول ہے کہ اس پر جائز نہیں اور یہی اصحاب الرای کا مذہب ہے اور ہر وہ عمل جو قابل اجرت ہو بناء ہو یا خیاطۃ ہو اور اس کے علاوہ تو وہ مہر بننے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے کیوں کر آزاد کی منفعت کو مہر قرار دیا اس پر وہ حدیث دلیل ہے جس میں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی بیٹی کی شادی ایک عمل کی بناء پر کروائی تھی ، (وہ دس سال تک موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بکریاں چرائیں گے) جیسا اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ھاتین علی ان تاجرنی ثمانی ۔۔۔۔۔۔
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کر کے نکاح کرلو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں۔ نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں۔ پھر اگر نکاح میں آ کر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی انکو (دی جائے) یہ (لونڈی کیساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو۔ اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(آیت)” 25۔: (آیت)” ومن لم یستطع منکم طولا “ اس کا معنی ہے فضل اور قدرت ”(آیت)” ان ینکح المحصنات “ اس سے مراد آزاد عورتیں ہیں ” المؤمنات “ کسائی (رح) نے محصنات صاد کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے ہر مقام پر لیکن اس جگہ صاد کے زبر سے پڑھا ہے اور دوسرے قراء نے تمام جگہوں پر فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے ، (آیت)” فمن ماملکت ایمانکم من فتیاتکم “ اس سے مراد باندیاں ہیں۔ (آزاد عورت کے ساتھ نکاح کی قدرت رکھنے والا باندی سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں اس کا حکم) ” المؤمنات “ جو شخص آزاد مؤمنہ عورت کا حق مہر ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کو چاہیے کہ مؤمنہ باندی سے نکاح کرے، اس بات کی دلیل ہے کہ آزاد شخص باندی کو دو شرائط کے ساتھ نکاح میں لاسکتا ہے ۔ (1) وہ آزاد عورت کے مہر کی طاقت نہیں رکھتا ۔ (2) یا اس کو اپنے نفس پر گناہ کا خوف ہو تو پھر وہ باندی سے نکاح کرسکتا ہے ۔ جیسا کہ آیت کے آخر میں ذکر کیا گیا ہے (آیت)” ذلک لمن خشی العنت منکم “۔ یہ حضرت جابر ؓ کا قول ہے اور یہی قول طاؤس عمرو بن دینار کا ہے اس طرف امام مالک (رح) و شافعی (رح) گئے ہیں ۔ بعض اصحاب الرای کا قول ہے کہ باندی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے ، اگرچہ اس کے عقد میں پہلے سے آزاد عورت موجود ہو ، ۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے کہ اس کے جائز نہیں کہ اگر اس کے عقد میں پہلے سے آزاد عورت موجود ہو جیسا کہ آزاد شخص کے لیے حکم ہے یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمان کے لیے کتابیہ باندی سے نکاح کرنا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” فمن ماملکت ایمانکم من فتیاتکم المؤمنات “ ۔ یہاں باندی کے ساتھ نکاح کو جائز قرار دیا کہ وہ مؤمنہ ہو اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا (آیت)” وطعام الذین اوتوالکتاب حل لکم وطعامکم حل لھم والمحصنات من المؤمنات والمحصنات من الذین اوتوا الکتاب “۔ اس سے مراد آزاد عورتیں ہیں ، اس آیت میں کتابیہ عورت سے نکاح کا جواز ثابت ہوتا ہے ، بشرطیکہ وہ آزاد ہو اور اسی وجہ سے بعض اصحاب الرای نے مسلمان کے لیے کتابیہ باندی سے نکاح کو جائز قرار دیا ہے اور ملک الیمین والی باندی کے ساتھ بالاتفاق وطی جائز ہے ، (آیت)” واللہ اعلم بایمانکم “۔ تم ان کے باطن کا تعارض نہ کرو یعنی ان کے ایمان کے متعلق تعرض نہ کرو بلکہ ظاہری حالت کو دیکھو کیونکہ اللہ ان کے ایمان کو جانتا ہے ، (آیت)” بعضکم من بعض “۔ تم ایک دوسرے کے بھائی ہو اور بعض نے کہا کہ تم سب ایک نفس کی اولاد ہو ، لہذا تم باندیوں کے نکاح کو عیب نہ سمجھو ، (آیت)” فانکحوھن “۔ باندیوں سے نکاح کرو، (آیت)” باذن اھلھن “۔ اپنے مولی (آقا) کی اجازت کے ساتھ (آیت)” واتوھن اجورھن “۔ اس سے مراد مہر ہے ۔ بالمعروف دستور کے مطابق نہ اس میں ٹال مٹول کیا جائے اور نہ ہی نقصان پہنچایا جائے ” محصنات “ جو نکاح میں پاک دامن ہیں ۔ (آیت)” غیر مسافحات “۔ علی الاعلان بدکاریاں نہ کرنے والی ہوں (آیت)” ولا متخذات اخدان “۔ یعنی چھپ کر محبوب بنانے والی نہ ہوں ، حسن (رح) ، فرماتے ہیں کہ ” مسفحت “ کا معنی ہے ہرجائی ہوجانا اور یار بنانے والی سے مراد ہے کسی کی مخصوص داشتہ بن جانے والی عرب کے نزدیک اول فعل حرام تھا اور دوسرا جائز ، (عرب والے پہلی عورت کو حرام اور دوسری عورت کے ساتھ شادی کو جائز قرار دیتے تھے) (آیت)” فاذا احصن “۔ حمزہ (رح) ، کسائی (رح) ، ابوبکر (رح) ، کے نزدیک الف اور صاد کے فتحہ ” احصن “ اس کا معنی ہے جو اپنی عزت کی حفاظت کرنے والی ہو ، ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ وہ اسلام لانے والی ہو اور دوسرے قراء نے ہمزہ کے ضمہ اور صاد کے کسرہ کے ساتھ ” احصن “ پڑھا ہے اس کا معنی ہے وہ شادی شدہ ہوں ۔ (آیت)” فان اتین بفاحشۃ “۔ فاحشہ سے مراد زنا ہے ، (آیت)” فعلیھن نصف ما علی المحصنات “ آزاد باکرہ عورت اگر زنا کرے تو اس کی سزا کے نصف ان کو سزا ملے گی ، (آیت)” من العذاب “ اس سے مراد حد زنا ہے ، اگر غلام زنا کریں تو پچاس کوڑے لگائے جائیں گے ، کیا اس کو جلاوطن کیا جائے گا اس میں دو قول ہیں ، بعض نے کہا کہ اگر اس کو جلاوطن کیا گیا تو نصف سال جلاوطنی کیا جائے گا ، غلام پر رجم نہیں ہے ۔ جیسا کہ عبداللہ بن عباس بن ابی ربیعہ نے کہا کہ عمر بن الخطاب ؓ نے مجھے اور کچھ قریشی جوانوں کو حکم دیا کہ حکومت کی چند باندیوں کو زنا کی سزا میں پچاس پچاس کوڑے ماریں ، اور کہتے ہیں کہ غلام کی حد میں کوئی فرق نہیں ، اگرچہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ہو یہی اکثر اہل علم کا ہے اور بعض حضرات کا قول ہے کہ مملوک غلام اگر زنا کریں تو ان پر حد واجب نہیں ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” فاذا احصن ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔ من العذاب “۔ یہی روایت ابن عباس ؓ سے ہے اور یہی قول طاؤس (رح) کا بھی ہے ، بعض متاخرین نے احصان کا معنی اسلام لیا ہے اور اگر اس سے مراد شادی شدہ ہونا ہو تو پھر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ شادی شدہ ہوگا تو حد لے گی بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مملوک شادی شدہ ہونے کی بناء پر زنا کرلے تو اس پر رجم والی سزا نہیں آئے گی بلکہ اس کی سزا کوڑے ہیں ، برخلاف آزاد کے ، باندی کی حد بھی اسی آیت سے ثابت ہے غلام کو کوڑوں کی سزا اس حدیث سے ثابت ہے ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے کسی کی باندی زنا کرے اس پر حد جاری کرو لیکن شہر بدر نہ کرو ، پھر اگر دوبارہ زنا کرے تو اس کو حد جاری کرو اور شہر بدر نہ کرو ، پھر اگر وہ تیسری بار زنا کرے تو اس کو فروخت کر دو ، اگرچہ بالوں کی ایک رسی کے بدلے میں ہی کیوں نہ ہو ۔ ” ذلک “ باندی کے ساتھ نکاح کرنا آزاد کی طاقت نہ رکھتے ہوئے (آیت)” لمن خشی العنت منکم “۔ زنا کے ڈر سے غلبہ شہوت کی وجہ سے اور وہ باندی سے نکاح کرتا ہے وہ اپنے آپ پر مشقت کو محسوس کر رہا ہے تو پھر اس کو باندی کے ساتھ نکاح کرنے کی اجازت ہے ۔ (آیت)” وان تصبروا “ اگر وہ غلبہ شہوت پر صبر اختیار کرکے باندیوں کے ساتھ نکاح سے بچا رہتا اور اپنی پاک دامنی ہاتھ سے جانے کا اندیشہ نہ ہو ، (آیت)” خیرلکم “ یہ زیادہ بہتر ہے تاکہ تمہاری اولاد غلام پیدا نہ ہو ۔ (آیت)” اللہ غفور رحیم “۔
Ayah 4:26

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو (اگلے لوگوں کے طریقے بتائے) اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(تفسیر) 26۔: (آیت)” یرید اللہ لیبین لکم “۔ یعنی تمہارے لیے بیان کر دے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” وامرت لا عدل بینکم “۔ وہ تمہارے لیے انصاف کا حکم کرتا ہے (آیت)” وامرنا لنسلم لرب العالمین “۔ اور ہم کو حکم ہوا کہ ہم پروردگار عالم کے تابع رہیں اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا (آیت)” وامرت ان اسلم “۔ کہ ہم کو حکم ہوا کہ ہم تابع رہیں ، آیت کا معنی یہ ہوگا (آیت)” یریداللہ ان یبین لکم “۔ یعنی تمہارے دین کے احکام اور مصالح امور کو کھول کر بیان کردیا ، عطاء فرماتے ہیں کہ تمہارے لیے بیان کردیا گیا ہے جو تمہیں اس کے قریب کر دے ، کلبی (رح) نے بیان کیا کہ تمہارے لیے واضح کردیا کہ باندیوں کے نکاح سے صبر تمہارے لیے بہتر ہے (آیت)” ویھدیکم “ وہ تمہیں راستہ دکھاتے ہیں ، ” سنن “ اس سے شرائع مراد ہیں ، (آیت)” الذین من قبلکم “۔ یعنی ماؤں، بیٹیوں اور بہنوں کی حرمت کیونکہ یہ ماقبل امتوں کے لیے بھی حرام تھیں ، بعض نے کہا کہ تمہیں راہ حنیف کی ہدایت عطا فرمائی اور وہ ملت ابراہیمی ہے ۔ (آیت)” ویتوب علیکم “۔ تم سے اس غلطی کو معاف کر دے گا جو تم پہلے کرچکے ہو احکام کے بیان کرنے سے پہلے ، بعض نے یہ مطلب بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تم ایسے کام کرلو جن سے تمہارے گناہوں کا کفارہ ہوجائے ، بعض نے کہا کہ اللہ تمہیں توبہ کی توفیق عطا فرما دیں گے ، (آیت)” واللہ علیم “۔ اور اللہ مصالح احکام سے خواہ وہ دینی امور سے متعلق ہوں یا دنیاوی امور سے متعلق ان کو جانتا ہے (آیت)” حکیم “۔ اور ان کے امور کی تدبیر پر حکمت ہے ۔
Ayah 4:27

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو

(تفسیر) 27۔: (آیت)” واللہ یرید ان یتوب علیکم “۔ اگر تم سے دینی امور میں کوئی کمی واقع ہوگئی (آیت)” ویرید الذین یتبعون الشھوات ان اتباع شہوات “۔ کے متعلق مختلف اقوال ہیں ، سدی (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود و نصاری ہیں ، بعض نے کہا کہ اس سے مجوسی مراد ہیں کیونکہ یہی لوگ بہنوں اور بھائیوں کی بیٹیوں اور بیٹیوں کی بیٹی سے نکاح کو حلال سمجھتے تھے ، مجاہد (رح) کا قول ہے کہ اس سے زانی لوگ مراد ہیں جو حق سے روگردانی کرکے زنا کرتے ہیں اور بعض نے کہا کہ اس سے تمام اہل باطل مراد ہیں ۔
Ayah 4:28

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعا) کمزور پیدا ہوا ہے

28۔ (آیت)” یرید اللہ ان یخفف عنکم “۔ تمہارے اوپر احکام شرع کو آسان کرنا چاہتا ہے ، جیسا کہ اللہ عزوجل نے اس آیت میں ذکر کیا ہے (آیت)” ویضع عنھم اصرھم “۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ مجھے دین حنیف دے کر بھیجا گیا ہے جس پر عمل کرنا آسان ہے ، (آیت)” وخلق الانسان ضعیفا “۔ طاؤس (رح) ، کلبی (رح) ، اور دوسرے حضرات کا قول ہے کہ یہ عورتوں کے بارے میں نازل ہوئی کہ وہ اس پر صبر نہیں کرسکتیں ، ابن کیسان (رح) کا قول ہے کہ وہ خواہش پر ست اور شہوت کی طرف مائل ہونے میں کمزور ہیں ، حسن بصری (رح) (رح) کا قول ہے کہ ان کو کمزور پانی سے پیدا کیا گیا ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے ۔ (آیت)” اللہ الذی خلقکم من ضعف “۔
Ayah 4:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

مومنو ! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ ہوجائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تم پر مہربان ہے

29۔ (آیت)” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “۔ باطل سے مراد حرام ہے خواہ وہ سود ہو ، قمار ہو یا کسی سے غصب کیا ہو چوری یا ہو یا خیانت کی ہو ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد عقود فاسدہ ہیں ۔ (آیت)” الا تن تکون تجارۃ “۔ اہل کوفہ نے ” تجارۃ “ منصوب پڑھا ہے کان کی خبر ہونے کی وجہ سے ، مطلب ہوگا کہ مگر ہو اموال تجارۃ ، دوسرے قراء نے ” تجارۃ “ رفع کی حالت میں پڑھا ہے معنی ہوگا واقع ہو ان کے درمیان تجارۃ (آیت)” عن تراض منکم “۔ تم میں سے ہر ایک کی اپنی خوشی سے ، بعض نے کہا کہ آپس کی رضا مندی سے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیع صرف آپس کی رضا مندی سے ہوتی ہے ۔ نافع حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بیع کرنے والوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہوتا ہے جب تک وہ مجلس سے جدا نہ ہوئے ہوں (آیت)” ولا تقتلوا انفسکم “۔ ابو عبیدہ ؓ فرماتے ہیں یعنی تم اس کو ہلاک نہ کرو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ “۔ بعض نے کہا کہ اپنے آپ کو باطل مال کھلا کر ہلاکت میں نہ ڈالو ، بعض نے کہا کہ اس سے مراد مسلمان کا اپنے آپ کو قتل کرنا ۔ ثابت بن ضحاک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے جس چیز سے دنیا میں اپنے آپ کو قتل کیا قیامت کے دن اسی چیز کے ساتھ عذاب دیا جائے گا ، جندب بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گزشتہ اقوام میں سے ایک آدمی کے اعضاء پر زخم ہوگیا ، اس سے برداشت نہ ہوسکا اور چھری نکال کر اس نے اپنا ہاتھ خود کاٹ ڈالا ، آخر مرتے دم تک اس کا خون نہ رکا اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے جان دینے میں جلدی کی ، میں نے اس پر جنت حرام کردی ، حسن بصری (رح) فرماتے ہیں (آیت)” لا تقتلوا انفسکم “۔ اس سے مراد اپنے بھائیوں کو قتل نہ کرو، یعنی تم میں سے بعض بعض کو قتل نہ کرے ، (آیت)” ان اللہ کان بکم رحیما “۔ حضرت جریر ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الواداع کے موقع پر مجھ سے فرمایا میں لوگوں کو یہ بات سنا دیتاچاہتا ہوں کہ میرے بعد تم لوگ لوٹ کر کافر نہ ہوجانا کہ باہم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو،۔
Ayah 4:30

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے

(تفسیر) 30۔: (آیت)” ومن یفعل ذلک “۔ جو ایسا کرے گا جو کچھ محرمات کے متعلق ماقبل میں گزرا ہے (آیت)” عدوانا وظلما “۔ عدوان حد سے تجاوز کرنے کو کہتے ہیں ظلم کہتے ہیں ” وضع الشیء فی غیر موضعہ “ کسی چیز کو اس کے مقام کے علاوہ جگہ پر رکھنا (آیت)” فسوف نصلیہ “ اس کو آخرت میں داخل کردیں گے ، ” نارا “ اس میں وہ جلتا رہے گا (آیت)” وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ آگ میں داکل کرنا اس کے لیے آسان ہے ۔
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے

(کبیرہ گناہوں اور ان کے مراتب کا بیان) 31۔ (آیت)” ان تجتنبوا کبائر ماتنھون عنہ “۔ ان کبائر کے متعلق آئمہ مفسرین (رح) کا اختلاف ہے کہ کون سے کبائر گناہ ہیں جن کو صغائر کی معافی کے لیے شرط اجتناب ضروری قرار دیا ہے، اس آیت میں وہی کبائر ہیں کہ ان کبائر سے بچو گے تو صغائر معاف ہوں گے ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کبیرہ گناہ یہ ہیں : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا ، جان کو قتل کرنا ، اور جھوٹی قسم کھانا، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں کبیرہ گناہوں کے متعلق خبر نہ دوں ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ فرمایا : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، آپ ﷺ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے پھر اٹھ کر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا سنو ! جھوٹی بات کرنا ، آپ ﷺ نے اس کو بار بار ذکر فرمایا ، ہمارا خیال ہوا کہ اب آپ ﷺ خاموش ہوجائیں ۔ حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ، اے اللہ کے رسول ﷺ کون سا گناہ بڑا ہے ؟ فرمایا کہ تم اپنے بیٹے کو قتل کر دو اس ڈر سے کہ وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک ہوگا ، میں نے کہا پھر کون سا گناہ بڑا ہے ؟ فرمایا کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے ، آپ ﷺ کے اس بیان کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت)” والذین لا یدعون مع اللہ الھا اخر ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق ولا یزنون “۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچو ، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کون سی ہیں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا ، جادو کرنا ، ناحق شخص کو قتل کرنا ، جس کے قتل سے منع کیا گیا ہے ، سود کھانا یتیم کا مال کھانا ، جہاد کے میدان میں پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور پاکدامن عورت پر زنا کی تہمت لگانا ، عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ بڑے گناہ یہ ہیں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے امن کا ہونا (خوف نہ کھانا) اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا اور ناامید ہونا۔ عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کبیرہ گناہوں میں سے یہ ہے کہ انسان اپنے والدین کو برا بھلا کہے، صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ،ﷺ کوئی شخص کیسے اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ آدمی کسی دوسرے کے والدین کو برا بھلا کہتا ہے پھر وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے آدمی کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے ۔ سعید بن جبیر ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے کبائر کے متعلق پوچھا کہ کیا وہ سات ہیں ؟ فرمایا وہ تو سات سو کے قریب ہیں مگر وہ استغفار کے ساتھ کبیرہ نہیں رہتے اور اصرار کے بغیر وہ صغیرہ نہیں رہتے، (یعنی اگر وہ صغیرہ باقی رہے تو وہ صغیرہ نہیں رہتا کبیرہ بن جاتا ہے) اور فرمایا جس عمل سے اللہ کی نافرمانی کی جائے وہ کبیرہ ہے ۔ لہذا جو شخص اگر اس طرح کا کوئی عمل کر گزرے تو اس کو اللہ سے استغفار کرنا چاہیے کیونکہ اللہ دوزخ کے اندر اس امت میں سے کسی کو ہمیشہ نہیں رکھے گا سوائے اس کے جو اسلام سے پھر گیا ہو یا کسی فرضیت کا انکار کردیا ہو یا تقدیر کو نہ مانا ہو۔ (گناہ کبیرہ وصغیرہ میں فرق) عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں جو منع فرمایا ہے وہ کبیرہ گناہ ہے۔ حضرت علی بن ابی طالب ؓ کا قول ہے ہر وہ گناہ جس پر آگ کی مہر لگائی ہو یا جس پر اللہ کا غضب ہوا یا جس پر اللہ نے لعنت فرمائی یا جس پر عذاب کی وعید سنائی وہ کبیرہ ہے ، ضحاک (رح) فرماتے ہیں جس گناہ پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں وعید فرمائی ہو یا آخرت میں عذاب کی وعید سنائی ہو ۔ حسن بن فضل (رح) کا قول ہے جس کو قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے کبیرا یا عظیما فرمایا وہ کبائر ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” انہ کان حوبا کبیرا “۔۔۔۔۔۔۔۔ ان قتلھم کان خطئا کبیرا “۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ان الشرک الظلم عظیم “۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ” ان کیدکن عظیم “۔ ۔۔۔۔۔۔۔ سبحانک ھذا بھتان عظیم “۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان ذلک کان عنداللہ عظیما “۔ ان آیات میں کبیرہ گناہ ہی مراد ہے ۔ سفیان ثوری (رح) کا بیان ہے کہ کبائر وہ گناہ ہیں جن میں بندوں اور اللہ کے درمیان مظالم کا ذکر ہے اور صغائر وہ جو بندوں اور اللہ کے درمیان مظالم کا ذکر نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ تو کریم ہے معاف کرنے والا ہے ۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن عرش کے درمیان سے آواز دینے والا آواز دے گا ، اے امت محمدیہ ! اللہ عزوجل نے تم سب مؤمن ومؤمنات کو معاف کردیا تم اپنے مظالم کو معاف کرو اور اس کی رحمت سے جنت میں داخل ہوجاؤ ، مالک بن مغول کا بیان ہے کبائر اہل بدعت کے گناہ مراد ہیں اور صغائر اہل سنت والجماعت کے گناہ ہیں اور بعض حضرات نے کہا کہ کبائر وہ گناہ جن کو جان کر کیا جائے اور صغائر جن کو بھول کر یا نسیانا کیا جائے یا جن گناہوں پر زبردستی کی گئی ہو ، حدیث النفس (جو بات دل میں آئے اور چلی جائے) بھی اس امت سے معاف ہے ۔ بعض نے کہا کہ کبائر وہ گناہ جو گناہوں کو حلال سمجھ کر کریں اور سیئات (صغائر) وہ گناہ جو استغفار کرنے والے کریں ، پہلے کی مثال ابلیس کا گناہ اور دوسرے کی مثال آدم (علیہ السلام) کی خطاء ، سدی (رح) کا قول ہے کہ کبائر وہ گناہ ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے کرنے سے منع فرمایا ہو اور سیئات وہ گناہ جو اس کے مقدمات اور توابع ہیں جو صالح اور فاسق انسان میں جمع ہوسکتے ہیں، مثلا بدنظری ، کسی کو چھونا ، بوسہ لے لینا اور اس کے مشابہ ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا آنکھیں زنا کرنے والی ، ہاتھ گناہ کرنے والے اور پاؤں زنا کرنے والے اور اس کی تصدیق فرج کرتی ہے یا اس کو جھٹلاتی ہے اور بعض نے کہا کہ کبائر وہ گناہ ہیں جن کو بندے حقیر نہ سمجھیں اور صغائر وہ ہیں جن کو وہ بڑا نہ سمجھتے ہوں اور اس میں واقع ہونے سے ڈرتے ہوں ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ تم لوگ کچھ اعمال ایسے کرتے ہو جو تمہارے نزدیک بال سے بھی زیادہ باریک ہوتے ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم ان کو تباہ کن گناہوں میں سے شمار کرتے تھے ۔ بعض نے کہا کہ کبائر اللہ کے ساتھ شرک ٹھہرانا اور اس کی طرف لانے والی اشیاء اور شرک کے علاوہ جو گناہ ہیں وہ صغائر ہیں ۔ جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے (آیت)” ان اللہ لایغفران یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ ” نکفر عنکم سیئاتکم “ ایک نماز میں سے دوسری نماز تک یا ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک ہم گناہوں کو مٹا دیتے ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کے درمیان گناہوں کا کفارہ ہیں ۔ بشرطیکہ وہ کبائر سے بچتا رہے۔ (آیت)” وندخلکم مدخلا کریما “۔ بمعنی حسنا ہے مراد جنت ہے اہل مدینہ کے قراء نے ” مدخلا “ میم کے فتحہ کے ساتھ اور سورة حج میں بھی اس طرح پڑھا ہے بمعنی داخل ہونے کی جگہ اور باقی قراء نے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں مصدر بمعنی ادخال کے ہوگا ۔
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضلیت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کے کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کے کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

(تفسیر) 32۔: (آیت)” ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض “۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ام سلمہ ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مرد تو جہاد کرتے ہیں اور ہم جہاد نہیں کرتیں اور مردوں کا میراث میں ہم سے دگنا حصہ ہے اگر ہم بھی مرد ہوتیں تو ان کی طرح ہم بھی جہاد کرتیں اور ان کے برابر ہمارا بھی میراث میں حصہ ہوتا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ اور بعض حضرات نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے میراث کے متعلق یہ آیت ” للذکر مثل حظ الانثیین “۔ نازل فرمائی تو عورتوں نے کہا کہ ہم زیادہ حق دار اور محتاج ہیں ، مردوں سے کیونکہ ہم کمزور صنف ہیں جبکہ مرد قوی ہیں اور وہ طلب معاشی پر قادر بھی ہیں ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض “۔ قتادہ (رح) اور سدی (رح) فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا (آیت)” للذکر مثل حظ الانثیین “۔ تو ایک شخص نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نیکیوں میں آخرت کے اندر عورتوں سے فضیلت پاجائیں گے اور ہمارا اجر عورتوں کے اجر سے دگنا ہوگا ، جیسا کہ ہمیں میراث کے مسئلہ میں فضیلت بخشی گئی ، اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” للرجال نصیب مما اکتسبوا “۔ ثواب میں جو انہوں نے کمایا (آیت)” وللنساء نصیب ممااکتسبن “۔ اس کا معنی ہے کہ آخرت میں مرد اور عورتوں کا اجر برابر سرابر ہوگا ، حدیث میں جو آیا کہ ایک نیکی کے بدلے میں دس گنا ملیں گی ، اس میں مرد و عورت برابر ہیں ۔ مردوں کا عورتوں پر فضلیت بخشی ہے دنیا میں بعض نے کہا کہ اس کا معنی یہ ہے کہ مردوں کے لیے حصہ ہے جو وہ جہاد سے کماتے ہیں اور عورتوں کے لیے حصہ ہے جو وہ اپنے شوہروں کے متعلق ان کی طاعات میں کماتی ہیں ، اور اپنی عفت وپاک دامنی کی حفاظت کرتی ہیں ، (آیت)” واسئلو اللہ من فضلہ “ ابن کثیر (رح) ، کسائی (رح) ، نے ” وسلوا، وسل ، وفسل “ پڑھا ہے ، سین سے پہلے واؤ ، فاء ہو بغیر ہمزہ کے ، اس صورت میں ہمزہ کی حرکت نقل کر کے سین کو دی اور باقی قراء سین کو ساکن پڑھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز کی آرزو کرنے سے منع فرمایا جو حسد کے دواعی میں سے ہو ، حسد کہتے ہیں کہ کوئی شخص دوسرے سے نعمت کے زائل ہونے کی تمنا کرنا خواہ وہ نعمت اس کو حاصل ہو یا نہ ہو ، یہ حرام ہے اس کے ساتھ غبطہ ہے جو اپنے ساتھی کے پاس نعمت ہے اس کو اپنے لیے آرزو کرنا اس سے زائل ہونے کی نیت کے بغیر یہ جائز ہے۔ کلبی (رح) کا بیان ہے کوئی شخص اپنے بھائی کی تمنا نہ کرے اور نہ ہی اس کی بیوی کی تمنا کرے اور نہ ہی اس کی لونڈی کی تمنا کرے لیکن وہ یوں کہے اے اللہ ! مجھے بھی اسی طرح عطا فرما اسی طرح تورات میں بھی مذکور ہے اور قرآن میں بھی موجود ہے اور اللہ کے اس فرمان (آیت)” واسالوا اللہ من فضلہ “۔ اس سے مراد رزق ہے، سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ یہاں فضل سے مراد عبادت ہے، یعنی عبادت کی توفیق کا سوال کرنا سفیان عیینہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کسی چیز کے متعلق ہم سے مانگا نہ ہوگا مگر ہم نے اس کو عطا کیا (آیت)” ان اللہ کان بکل شیء علیما “۔
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حقداروں میں تو تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی انکا حصہ دو بیشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

(تفسیر) 33۔: (آیت)” ولکل جعلنا موالی “۔ ہر ایک کے لیے خواہ مردوں میں سے ہو یا عورتوں میں سے اس لیے کیلئے وارث مقرر کر رکھا ہے (آیت)” مما ترک الوالدان والاقربون “۔ ماں باپ اور اقارب وارث ہیں اور بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے جو انہوں نے ترکہ میں چھوڑا ، ان کا وارث ہوا ، اس صورت میں ” ما “ بمعنی ” من “ کے ہوگا، پھر موالی کی وضاحت کردی اور فرمایا (آیت)” الوالدان والاقربون “۔ یہ دونوں ورثاء میں سے ہیں (آیت)” والذین عقدت ایمانکم “ عقدت بغیر الف کے معنی یہ ہوگا کہ جس نے تمہارے ساتھ عہد کیا ہوا ہے، عقدت یہ معا قدۃ باب مفاعلہ سے بھی ہے ، معاہدہ کو کہتے ہیں ، ایمان جمع ہے یمین کی خواہ وہ قسم ہاتھوں میں ہاتھ دے کر ہو یا قسم کے ساتھ ہو ، بسا اوقات کسی کی مخالفت پر لوگ ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر عہد کرتے ہیں، اس طرح مضبوطی سے پکڑنے کو عہد کہتے ہیں ، زمانہ جاہلیت میں عہد کا یہ طریقہ تھا کہ ایک شخص دوسرے سے کہتا کہ میرا خون تیرا خون ، میرا قتل تمہارا قتل ہے ، میرے ساتھ جنگ گویا تیرے ساتھ جنگ کرنا ، میرا تسلیم کرنا تیرا تسلیم کرنا، میری وراثت تیری وراثت ، میرا طلب کرنا گویا تیرا طلب کرنا ، میری طرف سے جزیہ دینا تیری طرف سے دینا ہے ، اس صورت میں دوسرے حلیف کو چھٹا حصہ دیا جاتا تھا ، یہی رواج ابتداء اسلام میں رہا ۔ (آیت)” فاتوھم نصیبھم “۔ یعنی ان کی میراث سے حصہ دیا جاتا تھا ، پھر یہ اس آیت سے منسوخ قرار دیا ، (آیت)” واولوا الارحم بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ “۔ ابراہیم اور مجاہد (رح) کا قول ہے کہ (آیت)” فاتوھم “ سے مراد ان کی مدد کرنا ، سہارا دینا ہے میراث دینا مراد نہیں ، اس صورت میں یہ اس آیت سے منسوخ نہیں ہوگا ، (آیت)” اوفوابالعقود “۔ آپ ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ میں ارشاد فرمایا جاہلیت کے حلف کو پورا کرو ، اسلام اس میں مزید قوت پیدا کرتا ہے ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ یہ آیت ان مہاجرین و انصار کے متعلق نازل ہوئے جن کے درمیان آپ ﷺ نے مواخات (بھائی چارہ) قائم کرایا تھا ، یہ دونوں ایک دوسرے کے مال کے وارث ہوتے تھے لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت)” ولکل جعلنا موالی “۔ تو یہ حکم منسوخ ہوگیا پھر فرمایا (آیت)” والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم “۔ مدد کرنے کے ساتھ یا سہارا دینے میں اور نصیحت کرنے میں ، سعید بن المسیب ؓ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے متبنی بیٹے کے وارث ہوتے تھے اس آیت سے وہ حکم بھی منسوخ ہوگیا ، (آیت)” ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا “۔
Ayah 4:34

اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْ١ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ١ؕ وَ الّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَهُنَّ فَعِظُوْهُنَّ وَ اهْجُرُوْهُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَ اضْرِبُوْهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْهِنَّ سَبِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیًّا كَبِیْرًا Open ayah 4:34 in the Quran reader

مرد عورتوں پر حاکم ومسلط ہیں اس لیے کہ خدا نے بعض کو بعض سے افضل بنایا ہے اور اس لئے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں تو جو نیک بیبیاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں اور ان کے پیٹھ پیچھے خدا کی حفاظت میں (مال و آبرو کی) خبر داری کرتی ہے اور جن عوتوں کی نسبت تمہیں معلوم ہو کہ سرکشی اور (بدخوئی) کرنے لگی ہیں تو (پہلے) ان کو (زبانی) سمجھاؤ (اگر نہ سمجھیں تو) پھر ان کے ساتھ سونا ترک کردو۔ اگر اس پھر بھی باز نہ آئیں تو پھر زد کو ب کرو اور اگر فرمانبردار ہوجائیں تو پھر ان کو ایذا دینے کا کوئی بہانہ مت ڈھونڈوں بیشک خدا سب سے اعلی (اور) جلیل القدرر ہے

(الرجال قوامون کی آیت کا شان نزول) (تفسیر) 34۔: اس آیت کا نزول سعد بن ربیع اور ان کی بیوی کے حق میں ہوا ، سعد کا شمار نقباء میں سے ہوا اور ان کی بیوی حبیبہ بنت زید بن ابی زہیر تھی ، مقاتل (رح) ، اور کلبی (رح) کا بیان ہے کہ سعد کی بیوی محمد بن مسلمہ ؓ کی بیٹی تھی ، واقعہ یہ ہوا کہ سعد کی بیوی نے سعد کے حکم کے خلاف کوئی بات کی ، سعد نے ان کو طمانچہ مارا ، وہ اپنے والد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور اس کے والد نے کہا کہ آپ نے میری پیاری آنکھوں کی ٹھنڈک سعد کردی اور اس نے اس کو طمانچہ مارا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس کو اپنے شوہر سے قصاص (بدلہ) لینے کا حق حاصل ہے ، وہ اپنے باپ کے ساتھ واپس آئیں تاکہ سعد سے بدلہ لیں ، پھر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا آپ دونوں لوٹ جاؤ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لے آئے پھر یہ آیت نازل ہوئی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہم نے کچھ سمجھا اور اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا اور جو خدا کو منظور ہوتا ہے وہ بہتر ہوتا ہے، اس کے بعد آپ ﷺ نے بدلہ لینے سے روک دیا ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان (آیت)” الرجال قوامون علی النسائ “ مردوں کو عورتوں کی تادیب کرنے پر مسلط کیا ہے اور قوام ، قیم دونوں کا معنی ایک ہے لیکن قوام ابلغ ہے اس کو کہتے ہیں کہ جو مصالح دینیہ و دنیاوی کے لیے قائم ہو اور جس کے ساتھ تدبیر اور تادیب کے مصالح وابستہ ہوں (آیت)” بما فضل اللہ بعضھم علی بعض “۔ اللہ نے مردوں کو عورتوں پر فضیلت بخشی زیادتی عقل ، دین اور ولایت کی وجہ سے ، بعض نے کہا کہ گواہوں کے اعتبار سے مرد فضیلت رکھتے ہیں عورتوں پر ۔ لقولہ تعالیٰ (آیت)” فان لم یکونا رجلین فرجل وامراتان “۔ اگر گواہی میں دو مرد موجود نہ ہوں تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں ، بعض نے کہا کہ مرد فضیلت رکھتے ہیں عورتوں پر جہاد کی وجہ سے بعض نے کہا کہ یہ فضیلت جمعہ کی نماز اور پانچوں نمازیں جماعت کے ساتھ ادائیگی میں ہے ۔ بعض نے کہا کہ یہ فضیلت نکاح میں ہے کہ ایک مرد چار عورتوں سے شادی کرسکتا ہے جبکہ ایک عورت ایک ہی شوہر کرسکتی ہے بعض نے کہا کہ یہ فضیلت طلاق میں ہے کہ مرد عورتوں کو طلاق دیتے ہیں بعض نے کہا کہ میراث میں مرد عورت سے قوی ہے بعض نے کہا کہ دیت میں قوی ہے اور بعض نے کہا نبوت میں کیونکہ عورت نبی نہیں بن سکتی ، (آیت)” وبما انفقوا من اموالھم “ اس سے مراد مہر کی ادائیگی اور نان ونفقہ کا خرچ ہے۔ معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ، (آیت)” فالصالحات قانتات “ اس سے مراد فرمانبردار عورتیں ہیں ۔ (آیت)” حافظات للغیب “ اپنے شوہروں کی عدم موجودگی میں اپنی عفت کی حفاظت کرنے والی اور بعض نے کہا کہ پوشیدہ امور کی حفاظت کرنے والی ، (آیت)” فما حفظ اللہ “ بعض نے کہا کہ (آیت)” بما حفظ اللہ “ منصوب ہے ۔ اللہ کی اطاعت میں حفاظت کرنے والی ، دوسرے قراء نے مرفوع پڑھا ہے ، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ نے عورتوں کے حقوق کی جو محافظت کی ہے مہر ونقہ اور عورتوں کی نگہداشت و حفاظت اور ان کی ضروریات کی فراہمی مردوں کے ذمہ کردی ہے، بعض حضرات نے کہا کہ وہ حفاظت کرنی والی ہیں غیب میں جس کی حفاظت کرنے کا اللہ نے حکم دیا ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سب سے اچھی بیوی وہ ہے اگر تو اس کی طرف دیکھے تو خوش ہو اگر تو کسی کام کا اس کو حکم دے تو وہ تیرا حکم مانے اور اگر تو غیر حاضر ہو تو تیری غیر موجودگی میں اپنے مال وآبرو کی حفاظت رکھے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت)” الرجال قوامون علی النسائ “ ۔۔۔۔۔۔ والتی تخافون نشوزھن “۔ سے مراد نافرمانی ہے ، اصل میں نشوز کہا جاتا ہے تکبر کو اور اوپر کو اٹھنا اسی سے نشز ہے اونچی جگہ کو کہتے ہیں ۔ (آیت)” فعظوھن “ اللہ کے خوف سے ان کو نصیحت کرو اور یہ نصیحت زبانی ہو ، ” واھجروھن “ اگر تمہارے قول سے وہ باز نہیں آئیں تو تم ان سے علیحدگی اختیار کرلو ، (آیت)” فی المضاجع “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ بستر پر ان کی طرف سے پیٹھ پھیرنا اور ان سے بات چیت نہ کرنا ہے اور دوسرے حضرات نے کہا کہ دوسرے بستر پر اس سے علیحدگی اختیار کرو (آیت)” واضربوھن “۔ اگر ترک تعلق اور ہجران سے معاملہ نہ سنبھلے تو انکی پٹائی لگاؤ جس میں نشان نہ پڑے اور نہ ہی کوئی ہڈی وغیرہ ٹوٹ جائے ، عطاء (رح) کا قول ہے کہ اس کو مسواک سے ماریں ، حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عورت پر حق ہے کہ جب تم کھاؤ تو اس کو بھی کھلاؤ اور جب تم پہنو تو اس کو بھی پہناؤ اور اس کے چہرے پر نہ مارو اور نہ اس سے نفرت کرو اور اس سے ناراض نہ ہو مگر گھر کے اندر ہی (آیت)” فان اطعنکم فلا تبغوا علیھن سبیلا “۔ ان کے گناہوں کی سزا نہ دو جب وہ اس گناہ سے توبہ کرلیں ، ابن عیینہ (رح) کا قول ہے تم ان کو اپنی محبت کا مکلف نہ بناؤ کیونکہ تمہارا دل ان کے ہاتھوں میں نہیں ہے ، (آیت)” ان اللہ کان علیا کبیرا “۔ اللہ اپنے بندوں کو اس کام کا مکلف نہیں بناتا جو اس کی طاقت نہیں رکھتے اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مرد دونوں چیزوں کو جمع رکھے وعظ ونصیحت، ہجران وضرب کو ، بعض حضرات اس آیت کے ظاہر پر عمل کرتے ہیں کہ جب بیوی کی جانب سے نافرمانی ہوجائے تو ان افعال کو جمع کرے اور خوف کو محمول کیا اس آیت میں (آیت)” والاتی تخافون نشوزھن “۔ سے مراد علم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد (آیت)” فمن خاف من موص جنفا “۔ اس سے مراد بھی جاننا ہے اور بعض حضرات نے خوف کو خشیت پر محمول کیا ہے نہ کہ حقیقت علم پر ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت)” واما تخافن من قوم خیانۃ “۔ یہ تمام افعال جرائم کی ترتیب پر ہیں اگر اس کو بیوی کی نافرمانی کا خوف ہو یا اس کی علامات ظاہر ہوں یعنی بد خلقی وغیرہ ، اگر اس کا نشوز ظاہر ہوجائے تو اس کو علیحدہ کر دے اور اگر اس سے بڑھ جائے تو اس کی پٹائی لگاؤ ۔