5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 5:109–110

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

جس دن اللہ رسولوں کو جمع فرمائے گا، پھر ان سے سوال فرمائے گا تمہیں کیا جواب ملا وہ عرض کریں گے ہمیں کچھ علم نہیں۔ بلا شبہ آپ غیبوں کو خوب جاننے والے ہیں۔

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

جب اللہ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ بن مریم یاد کرو میری نعمت جو تجھ پر ہے اور تیری والدہ پر جب کہ میں نے روح القدس کے ذریعہ تیری تائید کی، تو بات کرتا تھا گہوارہ میں اور بڑی عمر میں اور جبکہ میں نے تجھے تعلیم دی کتاب کی اور حکمت کی اور توریت کی اور انجیل کی، اور جبکہ تو بناتا تھا مٹی سے پرندہ جیسی صورت میرے حکم سے پھر تو اس میں پھونک مار دیتا تھا تو وہ صورت پرندہ بن جاتی تھی میرے حکم سے، اور تو اچھا کرتا تھا مادر زاد اندھے کو اور برص والے کو میرے حکم سے، اور جبکہ تو نکالتا تھا مردوں کو میرے حکم سے، اور جبکہ میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکے رکھا جبکہ تو ان کے پاس دلیلیں لے کے آیا ان لوگوں نے کہا جو کافر تھے کہ یہ نہیں ہے مگر کھلا ہوا جادو۔

قیامت کے دن رسولوں سے اللہ جل شانہ کا سوال ان دو آیات میں سے پہلی آیت میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ جل شانہ قیامت کے دن اپنے رسولوں سے سوال فرمائے گا۔ (جنہیں مختلف امتوں کی طرف دنیا میں مبعوث فرمایا تھا) کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا تھا۔ وہ حضرات جواب میں عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں بیشک آپ غیبوں کے خوب جاننے والے ہیں۔ بظاہر اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) اپنی امت کے خلاف گواہی دیں گے۔ لہٰذا ان کا یہ جواب دینا کہ ” ہمیں کچھ خبر نہیں “ کیونکر صحیح ہوسکتا ہے اس کے کئی جواب ہیں جن کو مفسرین کرام نے اکابر سلف سے نقل کیا ہے۔ ایک جواب یہ ہے کہ یہ سوال و جواب قیامت کے دن بالکل ابتداء میں ہوگا اس دن کی ہولناکی کی وجہ سے وہ یوں کہہ دیں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں۔ صاحب روح المعانی نے ج 1 ص 55 یہ جواب حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے پھر اس پر ایک اشکال کیا اور اس کا جواب بھی نقل کیا ہے بظاہر یہ جواب ہی صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ (لَا عِلْمَ لَنَا) سے علم تحقیقی اور واقعی مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہمیں جو کچھ علم تھا وہ ظاہر تھا اور وہ درجہ گمان میں تھا ہم اسے حقیقی علم نہیں سمجھتے باطن میں کسی کا کیا عقیدہ تھا اور کیا نیت تھی اس کا ہمیں کچھ علم نہیں حقائق کا آپ ہی کو علم ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کا خطاب اور نعمتوں کی یاد دہانی، اور ان کے معجزات کا تذکرہ اس کے بعد سیدنا حضر عیسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب فرمانے کا ذکر ہے۔ کہ اللہ جل شانہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے فرمائیں گے کہ تم اور تمہاری والدہ کو جو میں نے نعمتیں دیں انہیں یاد کرو۔ جو نعمتیں قرآن مجید میں مذکور ہیں وہ یہ ہیں۔ (1) ان کی والدہ پر یہ انعام فرمایا کہ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں تھیں تو غیب سے ان کے پاس پھل آتے تھے (2) ان کو پاک دامن رکھا (3) ان کو بغیر باپ کے فرزند عطا فرمایا۔ (4) اس فرزند نے گہوارہ میں ہوتے ہوئے بات کی۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اول تو یہ نعمت فرمائی کہ انہیں حضرت مریم (علیہ السلام) کے بطن سے پیدا فرمایا جو اللہ کی برگذیدہ بندی تھیں۔ اور بنی اسرائیل سے آپ کی حفاظت فرمائی۔ پھر آپ کو گود کی حالت میں بولنے کی قوت عطا فرمائی نیز نبوت سے سرفراز فرمایا۔ آپ کو توریت اور انجیل کا بھی علم عطا فرمایا، بنی اسرائیل آپ کے دشمن تھے اس لئے حضرت روح القدس یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعہ آپ کی حفاظت فرمائی اور آپ کو کھلے کھلے معجزات عطا فرمائے جن میں ایک یہ تھا کہ آپ مٹی کے گارے سے پرندہ کی شکل کی ایک چیز بنا لیتے تھے پھر آپ اس میں پھونک مار دیتے تو وہ مٹی کی بنائی ہوئی تصویر سچ مچ کا پرندہ ہو کر اڑ جاتی تھی۔ اور ایک معجزہ یہ تھا کہ جو مادر زاد اندھے ہوتے تھے یا جو برص کے مریض ہوتے تھے ان پر داہنا ہاتھ پھیر دیتے تھے تو اس کا اثر یہ ہوتا تھا کہ برص و مرض کا اثر چلا جاتا تھا اور نابینا بینا ہوجاتا تھا۔ اور ایک معجزہ یہ تھا کہ قبروں پر جا کر مردہ کو آواز دیتے تو مردے زندہ ہو کر نکل آتے تھے اور نابینا ہوجاتا تھا ایک معجزہ یہ بھی تھا کہ لوگ جو گھروں میں کھاتے پیتے تھے یا ذخیرہ کردیتے تھے آپ اس سے بھی باخبر کردیتے تھے آپ بنی اسرائیل کو ایمان کی دعوت دیتے۔ اور مذکورہ بالا معجزات آپ سے ظاہرہوتے تھے۔ باوجود ان معجزات کے بنی اسرائیل آپ کے دشمن ہوگئے اور آپ کو تکلیف دینے کے در پے رہتے تھے۔ حتیٰ کہ انہوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ بھی بنا لیا۔ اللہ جل شانہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی حفاظت فرمائی اور بنی اسرائیل کو تکلیف پہنچانے سے بازرکھا۔ جیسے دیگر انبیاء ( علیہ السلام) کی امتوں کی عادت تھی کہ وہ حضرات انبیاء ( علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر جادو کہہ دیا کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے امتی بھی پیش آئے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے کھلے معجزات کو صریح اور کھلا جادو بتادیا، بنی اسرائیل نے معجزات کو نہ مانا اور آپ کی تکذیب کی اور چند افراد نے آپ کے دین کو قبول کیا جن کو حواری کہا جاتا تھا۔ (حواریوں کا ذکر اور ان کا مائدہ کا سوال بھی عنقریب انشاء اللہ تعالیٰ آتا ہے) جنہیں نہ ماننا تھا انہوں نے آپ کی تکذیب کی، اور کچھ اتنے آگے بڑھے کہ آپ کو اللہ کا بیٹا بتادیا اور معبود بنا لیا حالانکہ آپ نے خوب واضح طور پر فرما دیا تھا (اَنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ) (کہ بلاشبہ میرا رب اور تمہارا رب اللہ ہے سو اس کی عبادت کرو) جگہ جگہ قرآن مجید میں نصاریٰ کی تردید فرمائی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر اور لائق فکر ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کا ذکر فرماتے ہوئے اللہ جل شانہ نے ” باذنی “ فرمایا ہے اس سے یہ بتادیا کہ مٹی سے پرندہ کی شکل بنانا اور پھر پھونک مارنے سے اس کا اصلی پرندہ بن کر اڑ جانا اور نابینا اور برص والے کا اچھا ہوجانا اور قبروں سے مردوں کا نکلنا یہ سب اللہ کے حکم سے ہے۔ کوئی شخص ظاہر کو دیکھ کر مخلوق کے بارے میں یہ عقیدہ نہ بنالے کہ یہ پرندہ کا بنا نا، اڑانا، نابینا کا اچھا ہونا، مردہ کا زندہ ہونا بندہ کا حقیقی تصرف ہے۔ خالق اور قادر اور مصور اور شافی اور محی (زندہ کرنے والا) درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس نے اپنے نبیوں کی نبوت کی دلیل کے طور پر خلاف عادت جو چیزیں ظاہر فرمائیں حقیقت میں ان کے وجود کا انتساب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہے اگر وہ نہ چاہتا تو کسی نبی سے کوئی بھی معجزہ ظاہر نہ ہوتا۔
Ayahs 5:111–115

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے وحی کے ذریعے حواریین کو حکم دیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ انہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اور آپ گواہ ہوجائیں کہ بلا شبہ ہم فرماں بردار ہیں۔

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

اور جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا آپ کا رب یہ کرسکتا ہے کہ ہمارے اوپر آسمان سے خوان نازل فرما دے انہوں نے جواب میں فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوجائیں اور ہم اس بات کو جان لیں کہ آپ نے ہم سے سچ کہا اور ہم اس پر گواہ ہوجائیں۔

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

عیسیٰ بن مریم نے عرض کیا کہ اے اللہ ! جو ہمارا رب ہے ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما دے جو ہمارے موجودہ لوگوں کے لئے اور بعد میں آنے والوں کے لئے عید ہوجائے اور آپ کی طرف سے ایک نشانی ہوجائے اور آپ ہمیں عطا فرمائیے ! اور آپ تمام عطا کرنے والوں میں سے سب سے بہتر عطا فرمانے والے ہیں۔

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں بیشک تم پر خوان نازل کرنے والا ہوں۔ سو تم میں سے جو شخص اس کے بعد نا شکری کریگا تو بیشک میں اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ ایسا عذاب جہانوں میں سے کسی کو بھی نہ دوں گا۔

حواریوں کا سوال کرنا کہ مائدہ نازل ہو یہ پانچ آیات ہیں ان میں سے ایک آیت میں اس بات کا ذکر ہے کہ اللہ پاک نے بذریعہ وحی عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو یہ حکم دیا کہ اللہ پاک پر ایمان لائیں اور اس کے رسول پر۔ ان لوگوں نے کہ ہم ایمان لائے اور آپ ہمارے فرمانبردار ہونے کے گواہ ہوجائیں۔ لفظ اَوْحَیْتَ سے کسی کو یہ شبہ نہ ہو کہ وحی تو حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) پر آتی تھی پھر حواریوں پر کیسے وحی آئی جو نبی نہ تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ وحی کا اصل معنی ہے دل میں ڈال دینا جیسا کہ شہد کی مکھی کے لئے بھی لفظ اَوْحٰی وارد ہوا ہے۔ اَوْحَیْتَ کا معنی اگر یہ لیا جائے تو بنی اسرائیل کے دلوں میں اللہ نے یہ بات ڈالی کہ ایمان قبول کریں ایمان پر جمے رہیں تو درست ہے اس بات میں کوئی استبعاد نہیں۔ اور اَوْحَیْتَ کے اگر یہ معنی لئے جائیں کہ اللہ نے اپنے رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ پیغام بھیجا تو یہ بھی صحیح ہے۔ اس کے بعد چار آیات میں سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے حواریوں کا ” مائدہ “ یعنی خوان اترنے کا سوال کرنا پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ان کو جواب دینا اور پھر اللہ جل شانہ سے مائدہ کا سوال کرنا مذکور ہے۔ حضرت سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) جو معجزے دکھاتے تھے (جن کا ذکر عنقریب ہی گذرا ہے) وہ معجزے ایک سمجھدار آدمی کے لئے کافی تھے لیکن حواریوں نے مزید سوال کئے اور سوال بھی عجیب کیا اور وہ یہ کہ آسمان سے خوان نازل ہوجائے جس میں پکا پکایا کھاناہو، طرز سوال بھی مناسب نہ تھا۔ انہوں نے یوں نہیں کہا کہ آپ اللہ سے عرض کریں کہ مائدہ نازل فرما دے بلکہ یوں کہا کہ کیا تمہارا رب یوں کرسکتا ہے کہ آسمان سے خوان نازل فرما دے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کا سوال اور طرز سوال نا گوار ہوا اور فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ (ھَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ ) کہنے سے ان کا مقصد اللہ کی قدرت میں شک کرنا نہیں تھا بلکہ مطلب یہ تھا کہ آپ اگر سوال کریں تو آپ کا یہ سوال پورا فرما دے گا یا نہیں لیکن ان کے الفاظ نامناسب تھے اس لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے مؤاخذہ میں شدت نہیں فرمائی۔ بلکہ (اتَّقُوا اللّٰہَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ) فرما کر ناگواری کی طرف اشارہ فرما دیا اور اس میں یہ بھی بتادیا کہ اپنی طرف سے معجزات کی فرمائشیں کرنا مومنین کا کام نہیں۔ بعض سابقہ امتوں نے ایسی فرمائشیں کیں پھر ان کی فرمائشوں کے مطابق معجزہ ظاہر ہوا تب بھی ایمان نہ لائے۔ قوم ثمود نے سوال کیا کہ پہاڑ سے اونٹنی نکل آئے اونٹنی پہاڑ سے نمودار ہوگئی تب بھی اسلام قبول نہ کیا۔ بالآخر عذاب میں گرفتار ہوئے اور برباد ہوئے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو تو وہ کہنے لگے کہ ہمارا تو یہ مقصد ہے کہ اس خوان سے کھائیں اور ہمارے دلوں کو اطمینان ہوجائے اور عین الیقین کے طریقہ پر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے فرمایا وہ سب سچ ہے اور یہ اطمینان قلبی حاصل ہونے کا ارادہ ایسا ہی ہے جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے (رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی) کی دعا کر کے (لِیَطْمَءِنَّ قَلْبِیْ ) کہا تھا۔ حواریین نے یہ بھی کہا کہ اس مائدہ کے نازل ہونے کا یہ بھی فائدہ ہوگا کہ جن لوگوں نے اس کو نہیں دیکھا ہوگا ہم ان کے لئے گواہی دینے والوں میں سے بن جائیں گے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول مائدہ کے لئے سوال کرنا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملنا الحاصل حضرت سید نا عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ پاک کے حضور میں آسمان سے مائدہ اتارے جانے کی درخواست پیش کردی اور عرض کیا کہ اے اللہ ! آسمان سے مائدہ نازل فرما دیجئے جو ہمارے اس زمانہ کے لوگوں کے لئے عید ہو اور ہمارے بعد والے لوگوں کے لئے بھی۔ اللہ جل شانہ ارشاد فرمایا کہ میں تم پر دستر خوان اتارنے والا ہوں اس کے اتر جانے کے بعد تم میں سے جو شخص نا شکری کرے گا اس کو وہ عذاب دوں گا جو جہانوں میں سے کسی کو بھی نہ دوں گا۔ بعض حضرات کا یہ کہنا ہے کہ مائدہ نازل نہیں ہوا۔ لیکن قرآن مجید کا سیاق یہی بتاتا ہے کہ مائدہ نازل ہوا اور بعض احادیث میں بھی مائدہ نازل ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ تفسیر در منثور ج 2 ص 348 میں بحوالہ ترمذی وغیرہ حضرت عمار بن یاسر ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آسمان سے مائدہ نازل کیا گیا تھا اس میں روٹی اور گوشت تھا ان کو حکم تھا کہ خیانت نہ کریں اور کل کے لئے نہ رکھیں لیکن ان لوگوں نے خیانت بھی کی اور ذخیرہ بھی بنا کر رکھا۔ لہٰذا وہ بندروں اور سؤروں کی صورتوں میں مسخ کردیئے گئے۔ (حدیث مرفوع لکن قال الترمذی الوقف اصح) اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی نا شکری بہت بری چیز ہے اس کا بڑا وبال ہے نا شکری کرنے سے نعمتیں چھین لی جاتی ہیں جن کا ذکر جگہ جگہ قرآن مجید میں فرمایا ہے۔ سورۂ ابراہیم میں فرمایا (لَءِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزْیْدَنَّکُمْ وَ لَءِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ) (اور جب تیرے رب نے اعلان فرما دیا کہ یہ بات ضروری ہے کہ اگر تم شکر کرو گے تو اور زیادہ دوں گا۔ اور اگر نا شکری کرو گے تو بلاشبہ میرا عذاب سخت ہے) قوم سبا کی بربادی کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا (ذٰلِکَ جَزَیْنٰھُمْ بِمَا کَفَرُوْا وَ ھَلْ نُجٰزِیْٓ اِلَّا الْکَفُوْرَ ) کہ ہم نے ان کو بدلہ دیا اس وجہ سے کہ انہوں نے نا شکری کی اور ہم نا شکری کرنے والوں ہی کو بدلہ دیا کرتے ہیں) ۔ سورۂ نحل میں ایک بستی کا ذکر فرمایا جسے خوب زیادہ نعمتیں مل رہی تھیں (فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰہِ فَاَذَاقَھَا اللّٰہُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ) گوشت کے خراب ہونے کی ابتداء بنی اسرائیل سے ہوئی جن لوگوں نے نزول مائدہ کی فرمائش کی تھی ان لوگوں نے بھی نافرمانی کی یعنی باوجود ممانعت کے کل کے لئے اٹھا کر رکھ دیا۔ اور نافرمانی بہت بڑی نا شکری ہے۔ ان لوگوں سے پہلے بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی ایسی حرکت کرچکے تھے ان سے فرمایا تھا کہ من وسلویٰ جو نازل ہوتا ہے اس کو بعد کے لئے اٹھا نہ رکھنا لیکن انہوں نے اس پر عمل نہ کیا لہٰذا وہ گوشت سڑ گیا اور ہلاک ہوگیا اور ہمیشہ کے لئے گوشت کے سڑنے کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ لولابنو اسرائیل لم یخبث الطعام ولم یخنز اللحم ولولاحواء لم تخن انثی زوجھا الدھر (راوہ مسلم ج 1 ص 475) یعنی اگر بنی اسرئیل نہ ہوتے تو کھانا خراب نہ ہوتا اور گوشت نہ سڑتا۔ اور اگر حواء نہ ہوتی تو کوئی عورت کبھی بھی اپنے شوہر کی خیانت نہ کرتی۔ بنی اسرائیل سے گوشت سڑنے کی ابتداء ہوئی اور حضرت حواء سے شوہر کی خیانت کی ابتداء ہوئی۔ شراح حدیث نے لکھا ہے کہ ان کی خیانت یہ تھی کہ انہوں نے اپنے شوہر حضرت آدم (علیہ السلام) کو اس درخت کے کھانے پر آمادہ کیا جس کے کھانے سے منع فرمایا گیا تھا۔
Ayah 5:116

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور جب اللہ کا فرمانا ہوگا کہ اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کے تم مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنالو ؟ وہ عرض کریں گے میں آپ کی پاکی بیان کرتا ہوں۔ میرے لئے یہ بات زیبا نہیں ہے کہ ایسی بات کہوں جس کے کہنے کا مجھے کوئی حق نہیں۔ اگر میں نے کہا ہوتا تو وہ آپ کو معلوم ہوتا۔ آپ جانتے ہیں جو میرے جی میں ہے اور میں وہ نہیں جانتا جو آپ کے علم میں ہے۔ بیشک آپ غیبوں کے جاننے والے ہیں۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ جل شانہ کا دوسرا خطاب قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے جو اللہ جل شانہ کا سوال ہوگا ان میں سے ایک یہ بھی سوال ہے کہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنا لو۔ یہ سوال قیامت کے دن اس وقت ہوگا جبکہ میدان قیامت میں اولین و آخرین سب جمع ہوں گے۔ نصاریٰ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ماننے کے مدعی ہیں ان کے سامنے سوال ہوگا کہ اے عیسیٰ ابن مریم ! کیا تم نے اپنے کو اور اپنی والدہ کو معبود بنانے کی دعوت تھی اور تم نے لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو اللہ کے سوا معبود بنالو۔ وہ برملا سب کے سامنے جواب دیں گے کہ میں آپ کی پاکی بیان کرتا ہوں۔ آپ ہر طرح کے شریک سے منزہ ہیں میرے لئے یہ شایان شان نہیں کہ میں شرک کی دعوت دوں، اگر میں نے کہا ہوتا تو آپ کو ضرور معلوم ہوتا چونکہ آپ کے علم میں نہیں لہٰذا میں نے کہا بھی نہیں۔ میرے نفس میں جو کچھ ہے وہ آپ جانتے ہیں۔ اور میں آپ کی تمام معلومات کو نہیں جانتا۔ آپ غیبوں کو جاننے والے ہیں۔ میں نے وہی بات کہی جس کا آپ نے مجھ کو حکم فرمایا۔ اور وہ یہ کہ اللہ کی عبادت کرو میرا ور تمہارا رب وہی ہے۔ میں نے ان کو شرک کی دعوت نہیں دی توحید ہی کی دعوت دیتا رہا۔ میں جب تک ان میں موجود تھا ان کے حالات سے باخبر تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو آپ ہی ان کے نگران تھے اور آپ ہر چیز کی پوری خبر رکھتے ہیں۔ میرے بعد انہوں نے کیا کیا۔ اور شرک کی گمراہی میں کیسے پڑے۔ اور عقیدہ تثلیث (تین خداؤں کا ماننا) ان میں کیسے آیا اس کا آپ ہی کو علم ہے۔ واضح رہے کہ یہ سوال و جواب ان لوگوں کے سامنے ہوگا جو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اپنی نسبت کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر ہیں اس سوال و جواب سے واضح طور پر ان پر حجت قائم ہوجائے گی کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین پر نہیں ہیں۔ وہ ان لوگوں کے سامنے عقیدہ تثلیث باطل ہونا ظاہر فرما دیں گے اور اتمام حجت کے بعد ان کو دوزخ میں بھیج دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کو تو سب کچھ معلوم ہے۔ لیکن نصاریٰ کی ملامت اور سرزنش کے لئے اور اتمام حجت کے واسطے مذکورہ بالا سوال و جواب ہوگا۔
Ayah 5:117

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے ان سے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہا جو آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ عبادت کرو اللہ کی جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے۔ اور میں ان کے بارے میں باخبر تھا جب تک میں ان میں موجود تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو آپ ہی ان کے نگران تھے اور آپ ہر چیز پر مطلع ہیں۔

گمراہوں کی تردید بعض گمراہ لوگ ایسے نکلے ہیں جو لفظ (فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ ) سے اس بات پر استدلال کرتے ہیں کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ہوگئی۔ اور یہ لوگ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے رفع الی السماء یعنی آسمان کی طرف اٹھائے جانے کے منکر ہیں۔ یہ لوگ آیت قرآنیہ (بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ) کے اور بیسیوں حدیثوں کے منکر ہیں۔ جن میں سیدنا عیسیٰ کا قیامت سے پہلے آسمانوں سے اترنا اور اس دنیا میں رہنا طبعی وفات پانا مذکور ہے اول تو لفظ توفی ضروری نہیں کہ موت ہی کے لئے استعمال ہو۔ قرآن مجید میں نیند کے لئے استعمال ہوا ہے۔ سورۂ انعام میں ہے (وَ ھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّھَارِ ) اور سورة زمر میں ہے۔ (اللّٰہُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِہَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِہَا) ان دونوں آیتوں میں توفی کو منام یعنی نیند کے لئے استعمال فرمایا۔ درحقیقت تو فی کا معنی ہے کسی چیز کو پورا پورا لے لینا۔ یہ مفہوم زندہ اٹھا لینے اور سلا دینے اور موت دیدینے تینوں کو شامل ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ گفتگو قیامت کے میدان میں ہو رہی ہے، اور اس وقت سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) آسمان سے تشریف لا کر زمین میں رہ کر طبعی موت پا کر دنیا سے رخصت ہوچکے ہوں گے۔ لہٰذا تَوَفَّیتَنِیْکو موت کے معنی میں لیا جائے تب بھی ان ملحدوں کا استدلال صحیح نہیں۔ جو اپنے تراشیدہ عقیدہ کے مطابق قرآن مجید کے مفاہیم تجویز کرتے ہیں۔ پھر فرمایا ،
Ayah 5:118

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اگر آپ ان کو عذاب دیں تو بیشک وہ آپ کے بندے ہیں۔ اور اگر آپ ان کی مغفرت فرما دیں تو بلا شبہ آپ زبردست ہیں حکمت والے ہیں۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بارگاہ خداوندی میں یہ بھی عرض کریں گے کہ (اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ ) (اگر آپ ان کو عذاب دیں تو یہ آپ کے بندے ہیں) (وَ اِنْ تَغْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ) (اور آپ ان کی مغفرت فرما دیں تو آپ عزیز و حکیم ہیں) مطلب یہ ہے کہ آپ کا ہر فیصلہ عدل و حکمت پر مبنی ہے یہ آپ کے بندے ہیں۔ اگر آپ ان کو عذاب دیں تو آپ کو اس کا بھی اختیار ہے اور اگر آپ ان کی مغفرت فرمائیں تو یہ بھی حکمت کے موافق ہوگا۔ آپ عزیز ہیں غالب ہیں جسے عذاب دینا چاہیں وہ کہیں بچ کر نہیں جاسکتا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ عرض کرنا اللہ کی قدرت اور عزت و حکمت اور شان غفاریت بیان کرنے کے لئے ہوگا۔ اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ مشرکین کی مغفرت بھی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ سورة نساء کی آیت (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ ) میں بالتصریح صاف اور واضح طور پر بیان فرما دیا کہ مشرکین کی مغفرت نہیں ہوگی۔
Ayah 5:119

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

اللہ کا ارشادہو گا یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی نفع دیگی ان کے لئے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہو نگی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

قیامت کے دن سچائی نفع دیگی (قَال اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ ) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ یہ وہ دن ہے جس میں سچے لوگوں کو ان کی سچائی نفع دے گی جو حضرات صادق فی الا ایمان صادق فی الاعمال، صادق فی الاخبار تھے جن میں حضرات انبیاء (علیہ السلام) اور ان میں سے ہر ایک کی امت اجابت ہوگی۔ ان کا سچ ان کو نفع دے گا۔ جس کی وجہ سے وہاں کی نعمتوں سے مالا مال ہوں گے۔ (لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا) (ان کے لئے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہونگی، ان باغوں میں ہمیشہ رہیں گے) (رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَ رَضُوْا عَنْہُ ) (اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے) (ذَالِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ ) (یہ بڑی کامیابی ہے) خالق مالک بھی راضی اور ہمیشہ ہمیشہ باغوں میں رہنا اور ان نعمتوں کی وجہ سے دل سے خوش اور مست اور مگن ہوں گے۔ واقعی اس سے بڑی کیا کامیابی ہوگی حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائیں گے کہ اے جنت والو ! وہ کہیں گے اے ہمارے رب ! ہم حاضر ہیں اور تعمیل ارشاد کے لئے موجود ہیں اور خیر تمام تر آپ ہی کے قبضہ میں ہے اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم راضی ہو ؟ وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب ! ہم کیوں کر راضی نہ ہوں۔ حالانکہ آپ نے ہمیں وہ عطا فرمایا ہے جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی نہیں دیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کیا میں تمہیں اس سب سے افضل چیز عطا نہ کروں ؟ وہ عرض کریں گے اے رب ! اس سے افضل کیا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ میں تم پر اپنی رضا مندی نازل کرتا ہوں۔ سو اس کے بعد کبھی بھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔ (رواہ البخاری ص 121 ج 2) فائد : آیت بالا میں صدق یعنی سچائی کی تعریف فرمائی۔ درحقیقت سچائی بہت بڑی نعمت ہے اور اسی پر نجات اور رفع درجات کا مدار ہے۔ ایمان میں سچائی نہ ہو تو منافقت ہوتی ہے۔ اعمال میں سچائی نہ ہو تو ریاکاری آجاتی ہے اوراقوال میں سچائی نہ ہو تو جھوٹ صادر ہوتا رہتا ہے۔ مومن کو ہر حال اور ہر قال میں سچائی اختیا کرنا لازمی ہے۔ اللہ سے جو وعدے ہیں وہ بھی پورے کئے جائیں۔ ایسے حضرات کی مدح کرتے ہوئے فرمایا (رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ ) (سورۂ احزاب آیت نمبر 23) (کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سچ کر دکھایا جو عہد انہوں نے اللہ سے کیا) مخلوق سے جو وعدہ ہو اس کو بھی پورا کیا جائے، ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تم میرے لئے اپنی طرف سے چھ چیزوں کے ضامن ہوجاؤ۔ میں تمہارے لئے جنت کا ضامن ہوجاؤں۔ (1) سچ بولو جب بات کرو (2) پورا کرو جب وعدہ کرو (3) ادائیگی کرو جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے۔ (4) اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو (5) اپنی نظروں کو پست رکھو (6) اور اپنے ہاتھوں کو (ظلم و زیادتی کرنے سے) روکے رکھو (مشکوۃ المصابیح ج 2 ص 11415 زاحمد و بیہقی فی شعب الایمان) تاجروں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : التاجر الصدوق الامین مع النّبیین والصدیقین والشھداء (سچائی اختیار کرنے والا امانتدار، تاجر، نبیوں اور صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا) (مشکوۃ المصابیح ج 1 ص 11243 زترمذی ودارمی ودار قطنی (
Ayah 5:120

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

اور اللہ کے لئے ہے ملک آسمانوں کا اور زمین کا، اور جو ان کے درمیان ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

آخر میں فرمایا (لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْھِنَّ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (اللہ ہی کے لئے ہے ملک آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے اندر ہے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے) اس آیت میں پوری سورة کے مضامین کی طرف اجمالی اشارہ فرمایا ہے چونکہ ساری مخلوق اللہ ہی کی ہے اور سارا ملک اسی کا ہے اس لئے اس کو اختیار ہے جس کو چاہے جو حکم دے۔ جس کو چیز کو چاہے حلال قرار دے جس چیز کو چاہے حرام قراردے اور مجرموں کیلئے دنیا و آخرت میں جو سزا چاہے تجویز فرمائے جس کو چاہے بخش دے جس کو چاہے سزا دے اس کو کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں (وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) تم تفسیر سورة المائدہ الحمد للہ اولاً واٰخرا وظاھراً و باطنا۔