Ayah 5:5اہل کتاب کا کھانا حلال ہے
اس آیت میں چند احکام بیان فرمائے۔ اول تو پاکیزچیزوں کے حلال کئے جانے کا دو بارہ تذکرہ فرمایا اور لفظ الیوم کا اضافہ فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ طیبات جو پہلے حلال تھیں اب بھی حلال ہیں ان میں کوئی نسخ واقع نہیں ہوا پھر فرمایا کہ تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی ان کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے جن لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی ان سے یہود نصاری مراد ہیں اور ان کے کھانے کی چیزوں سے ان کا ذبیحہ مراد ہے۔ یہودی نصاریٰ اگر بسم اللہ پڑھ کر کسی ایسے جانور کو ذبح کریں جس کا کھانا اسلام میں حلال ہے اور پھر اس گوشت میں سے مسلمانوں کو کھلائیں تو مسلمان کو اس میں سے کھانا حلال ہے۔ آیت شریفہ میں جو (وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمْ ) فرمایا ہے اس سے یہود نصاریٰ کا ذبیحہ مراد ہے مطلق کھانا مراد نہیں کیونکہ روٹی سبزی پھل چاول اور دوسری چیزیں ہر کافر مشرک کی دی ہوئی اور بیچی ہوئی حلال ہیں اس میں اہل کتاب کی کوئی خصوصیت نہیں، اہل کتاب کا ذبیحہ اسی لئے حلال قرار دیا کہ مسلمانوں کی طرح ان کے نزدیک بھی اس جانور کا کھانا حلال نہیں جو ذبح نہ کیا گیا ہو۔ اور جس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اگر اہل کتاب قصداً و ارادۃً کسی جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ نہ پڑھے تو اس کھانا مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے، سورة انعام میں فرمایا (وَ لاَ تَاْ کُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ وَ اِنَّہٗ لَفِسْقٌ) (اور ان جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اور یہ بڑا گناہ ہے ) ۔
اس آیت کے عموم سے ہر اس جانور کے کھانے کی حرمت معلوم ہوگئی جس کے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ ذبح کرنے والا مسلم ہو یا کتابی ہاں ! اگر مسلم یا کتابی ذبح کرتے وقت بھول کر بسم اللہ پڑھنا چھوڑ دے تو اس جانور کا کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس جانور کا کھانا حلال ہو، مسلم اور یہودی اور نصرانی کے علاوہ کسی کا ذبیحہ بھی حلال نہیں ہے اگرچہ وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کرے۔
مصنف عبد الرزاق (ص 481 ج 4) میں حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد نقل کیا ہے۔ ان فی المسلم اسم اللّٰہ فان ذبح ونسی اسم اللّٰہ فلیا کل وان ذبح المجوسیُّ و ذکر اسم اللّٰہ فلاتا کلہ، اس میں صاف بتادیا کہ اگر مجوسی اللہ کے نام لے کر ذبح کرے تب بھی اس کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔ مجوسی (آتش پرست) اور بت پرست بدھ مت وغیرہ کا ذبیحہ حلال نہیں کیونکہ یہ لوگ کتابی نہیں ہیں بلکہ یہودیوں اور نصرانیوں کے بارے میں بھی غور کرلینا چاہئے جو یہودی نصرانی اپنے اس دین پر ہیں جو ان کا دین نزول قرآن کے وقت تھا ان کا ذبیحہ حلال ہے بشرطیکہ اللہ کا نام لے کر ذبح کریں لیکن جو لوگ محض مردم شماری کے لحاظ سے یہودی اور نصرانی کہلاتے ہیں لیکن کسی مذہب کے قائل نہیں ہے خدا تعالیٰ کے وجود کے قائل ہیں نہ توریت، انجیل کو خدا تعالیٰ کی کتابیں مانتے ہیں ان کا ذبیحہ حلال نہیں اگرچہ بسم اللہ پڑھ کر ذبح کریں۔ اسی لئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نصاری بنی تغلب کے بارے میں فرمایا لاتاکلو امن ذبائح نصاری بنی تغلب فانھم لم یتمسکو امن النصرانیۃ بشی الا شر بھم الخمر (یعنی بنی تغلب کے نصاریٰ کا ذبیحہ نہ کھاؤ۔ کیونکہ انہوں نے دین نصرانیت میں شراب پینے کے سوا کسی چیز کو نہیں پکڑا )
مسئلہ : مرتد (جو اسلام چھوڑ کر کسی دوسرے دین میں داخل ہوجائے) اس کا ذبیحہ حلال نہیں اگرچہ نصرانی یا یہودی ہوگیا ہو۔
مسئلہ : جو لوگ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبی مانتے ہیں ان کا ذبیحہ بھی حلال نہیں۔
مسئلہ : جو لوگ نام کے مسلمان ہیں عقیدۃً ملحد اور زندیق ہیں ضروریات دین کے منکر ہیں یا دین کی کسی چیز کا مذاق اڑاتے ہیں قرآن کی کسی آیت میں تحریف کرتے ہیں یا تحریف کے قائل ہیں یہ لوگ بھی کافر ہیں ان میں سے کسی کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔
جس جانور پر ذبح کرتے وقت قصداً بسم اللہ نہ پڑھی گئی ہو اس کا کھانا حلال نہیں
یہود نصاریٰ اگر قصداً و اراداۃً اللہ کا نام ذکر کئے بغیر جانور ذبح کردیں تو اس جانور کا کھانا مسلمانوں کے لئے حلال نہیں جیسا کہ مسلمان کے اس ذبیحہ کا بھی یہی حکم ہے جس کے ذبح کرتے وقت قصداً بسم اللہ پڑھنا چھوڑ دیا ہو۔ اور اگر غیر اللہ کا نام ذکر کر کے کسی جانور کو ذبح کیا جائے تو اس کا کھانا بھی حلال نہیں۔
نئے مجتہد ین کی گمراہی
بعض لوگوں نے جو آیت کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اہل کتاب یہود و نصاریٰ خود جو کچھ کھاتے ہوں اس سب کا کھانا مسلمانوں کیلئے حلال ہے خواہ انہوں نے ذبح کیا ہو یا بلا ذبح کے مار دیا ہو خواہ بسم اللہ ہی نہ پڑھی ہو۔ یہ ان مجتہدین کی گمراہی ہے یورپ، امریکہ، آسٹریلیا وغیرہ میں ایسے گوشت ملتے ہی جن کے بارے میں یقین ہوتا ہے کہ ان پر نصرانیوں نے ذبح کرتے وقت بسم اللہ نہیں پڑھی پھر بھی وہاں کے رہنے والے یہ کہہ کر کھا جاتے ہیں یہ نصرانیوں کا کھانا ہے اس لئے ہمارے لئے حلال ہے یہ ان کی جہالت اور ضلالت ہے۔ یہ ان لوگوں کی بڑی ناسمجھی ہے کہ میتہ، موقوذہ، نطیحہ، متردیہ اس صورت میں مسلمان کے لئے حرام ہو جب اس کے گھر میں مرجائے اور نصرانی یا یہودی کے ہاتھ سے مرجائے تو حلال ہے۔ اللہ تعالیٰ جاہل مفتیوں سے امت کو محفوظ رکھے۔ اگر اہل کتاب کا ہر کھانا بغیر کسی شرط یا بغیر کسی قید کے حلال مان لیا جائے تو خنزیر اور ہر وہ چیز حلال ہوجائے گی جو وہ کھاتے ہیں العیاذ باللہ ! یہ جو فرمایا (وَ طَعَامُکُمْ حِلٌّ لَّھُمْ ) اس کا مطلب یہ ہے کہ مومنین اگر اپنا کھانا اہل کتاب کو کھلائیں تو یہ درست ہے ان کو اپنا کھانا کھلا سکتے ہیں۔
پاک دامن مومنات سے اور کتابی عورتوں سے نکاح کرنا
اس کے بعد فرمایا (وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ ) یعنی پاک دامن مومن عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئیں ان سے نکاح کرنا درست ہے اس کے بعد فرمایا (وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ ) یعنی تم سے پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی ان میں جو پاکدامن عورتیں ہیں وہ بھی تمہارے لیے حلال ہیں ان سے بھی نکاح کرسکتے ہیں معلوم ہوا کہ مسلمان کو پاک دامن یہودی یا نصرانی عورت سے نکاح کرنے کی بھی اجازت ہے۔ اجازت تو ہے لیکن۔
حضرت عمر ؓ کی طرف سے کتابی عورتوں سے نکاح کی ممانعت
حضرت عمر ؓ نے اپنے زمانہ خلافت ہی میں اس سے روک دیا تھا۔ امام محمد بن الحسن نے کتاب الآثار میں لکھا ہے کہ حضرت حذیفہ ؓ نے مدائن میں ایک یہودی عورت سے نکاح کرلیا تھا حضرت عمر ؓ کو خبر ملی تو انہوں نے خط لکھا کہ اس کو چھوڑ دو ۔ حضرت حذیفہ ؓ کو خط ملا تو انہوں نے حضرت عمر کو لکھا کہ اے امیر المومنین ! کیا یہودیہ سے نکاح کرنا حرام ہے حضرت عمر ؓ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ میں تمہیں مضبوطی کے ساتھ پختہ طور پر یہ حکم دیتا ہوں کہ میرا خط پڑھ کر اس وقت تک نیچے نہ رکھنا جب تک کہ تم اس عورت کو چھوڑ نہ دو کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ دوسرے مسلمان بھی تمہارا اقتداء کرلیں گے اور اس طرح سے ذمی عورتوں سے نکاح کرنے کو ترجیح دیں گے کیونکہ ان میں حسن و جمال ہے اور مسلمان عورتوں کو چھوڑ دیں گے اور یہ مسلمان عورتوں کے لئے ایک بہت بڑا فتنہ ہوگا۔ روایت ختم کرنے کے بعد امام محمد لکھتے ہیں۔ وبہ ناخذ لانراہ حراما و لکنانریٰ ان یختار علیھن نساء المسلمین و ھو قول ابی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ (یعنی حضرت عمر ؓ نے جو فرمایا ہمارا بھی وہی مذہب ہے ہم اس کو حرام تو نہیں قرار دیتے لیکن اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ مسلمان عورتوں سے نکاح کیا جائے اور انہیں یہوی اور نصرانی عورتوں پر ترجیح دی جائے اور امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ کا بھی یہی قول ہے ) ۔
حضرت عمر ؓ نے جو ارشاد فرمایا کہ یہودی اور نصرانی عورتوں سے نکاح کرنے کا سلسلہ جاری ہوجائے تو چونکہ ان میں حسن و جمال نظرآتا ہے (اگرچہ حسین و جمیل نہ ہوں) اس لئے عموماً لوگ انہیں کی طرف مائل ہونگے اور مسلمان عورتوں کو چھوڑ دیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بہت سی مسلمان لڑکیاں بےبیاہی رہ جائیں گی ان کا اندیشہ بالکل صحیح تھا آج امریکہ اور یورپ اور آسٹریلیا وغیرہ میں ایسا ہو رہا ہے۔
احقر سے ایک امام صاحب کی ملاقات ہوئی جو کینیڈا میں امامت کے فرائض انجام دیتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ مسلمان لڑکے میرے پاس نکاح پڑھوانے کے لئے آتے ہیں اور سو میں سے تقریباً نوے نکاح ایسے ہوتے ہیں کہ نصرانی لڑکیوں ہی کو نکاح پڑھوانے کے لئے لے آتے ہیں اور مسلمان لڑکیوں کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اور اس سے بڑھ کر آجکل ایک بڑا فتنہ اور ہے اور وہ یہ کہ نصاریٰ اپنے مذہب کے پھیلانے کے لئے جو طریقے سوچتے رہتے ہیں ان میں جہاں مال تقسیم کرنا ہے اور ہسپتال بنانا ہے اور اسکول اور کالج کھولنا ہے وہاں ان کے مشن میں یہ بھی ہے کہ مسلمان لڑکوں کو لڑکیاں پیش کرتے ہیں۔ مسلمان لڑکے یہ کہہ کر ہمارے مذہب میں یہود و نصاری سے نکاح جائز ہے ان سے نکاح کرلیتے ہیں یہ لڑکیاں چونکہ سکھائی پڑھائی ہوتی ہیں اور نکاح کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ شوہر کو اور پیدا ہونے والی اولاد کو نصرانیت پر ڈال دیں اس لئے وہ برابر اپنا کام کرتی رہتی ہیں اور شوہر اور اولاد کو نصرانی بناکر چھوڑتی ہیں ان حالات کے اعتبار سے بھی ضروری ہے کہ مسلمان اپنے کے لئے مسلمان عورتیں تلاش کریں اور ان کو ترجیح دیں۔
اگر کوئی شخض یہ اعتراض کرے کہ حضرت عمر ؓ نے قرآن کریم کے حلال کی ہوئی چیز سے کیوں منع کیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے حلال کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ امت کی مصلحت کے پیش نظر منع فرمایا ہے وہ خلفاء راشدین میں سے تھے جن کی اقتداء کرنے کا رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا تھا۔
پھر فرمایا (اِذَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ ) (یعنی پاک دامن عورتیں اور پاکدامن کتابی عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں جبکہ تم ان کے مہران کو دید و) معلوم ہوا کہ کتابی عورتوں سے نکاح کیا جائے تو ان کے مہر بھی مقرر کئے جائیں اور ادا بھی کئے جائیں۔
اس بات کو یہاں ذکر کرنے کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ جو یہود و نصاری ذمی ہیں یعنی مسلمانوں کی عمل داری میں رہتے ہیں اگر ان کی عورتوں سے نکاح کیا جائے تو ان کے مہرادا کرنے کی بھی فکر کی جائے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ دباؤ میں رہنے کی وجہ سے مہر طلب نہ کریں اس لئے مقررہ مہر کی ادائیگی کی خود فکر کرو۔
پھر فرمایا (غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْٓ اَخْدَانٍ ) یعنی تم نکاح کر کے پاک دامنی اختیار کرو نہ کھلم کھلا زنا کرنے والے بنو نہ خفیہ طریقے پر دوستی کرنیوالے بنو۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی نفسانی خواہش کو غیر شرعی طریقہ پر پورا نہ کرو نہ کھلے ہوئے زانی بنو اور نہ چھپ چھپا کر عورتوں سے دوستی اور آشنائی پیدا کرو۔ کتابی عورتوں سے نکاح کرنے کا جواز بتانے کے بعد خاص طور سے اس بات کا ذکر فرما دینا کہ علانیہ یا خفیہ زنانہ کرو اس بات پر تنبیہ ہے کہ ذمی عورتیں خفیہ آشنائی کی راہیں نکال سکتی ہیں تم ہر طرح کے زنا سے بچو اعلانیہ بھی زنا نہ کرو اور خفیہ بھی۔ اللہ جل شانہ علام الغیوب ہے اسے ہمیشہ سے سب کچھ معلوم ہے آئندہ کیا کچھ ہونے والا ہے اسے اس سب کا علم ہے۔
دور حاضر میں یورپ اور امریکہ وغیرہ میں جو مردوں اور عورتون میں دوستی کا سلسلہ چلا ہوا ہے کہ آپس میں فرینڈز بن جاتے ہیں اور برسوں نیچر ملاتے رہتے ہیں حرام کی اولاد پیدا ہوتی رہتی ہے اللہ تعالیٰ شانہ نے پہلے سے اس کی پیش بندی فرما دی کہ پاک دامن کتابی عورتوں سے نکاح تو کرسکتے ہیں لیکن علانیہ زنا یا خفیہ دوستی سے بازر ہیں خود بھی پاک دامن رہیں اور بیویاں بھی پاک دامن تلاش کریں۔
مرتد کے اعمال اکارت ہوجاتے ہیں
آخر میں فرمایا (وَ مَنْ یَّکْفُرْ بالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (اور جو شخص ایمان کا انکار کر دے تو اس کا عمل اکارت ہوگیا اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا) آخرت کی بربادی ظاہر ہے کیونکہ مرتد ہو یا اصلی کافر اس کیلئے آخرت میں نجات نہیں ہے، دائمی عذاب ہے جس کی تفصیلات جگہ جگہ قرآن مجید مذکور ہیں۔
مرتد کے احکام سورة بقرہ کی آیت (وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْکُمْ عَنْ دِیْنِہٖ ) (الآیۃ) کے ذیل میں بیان کردیئے گئے ہیں وہاں مراجعت کرلی جائے۔ (دیکھو انوار البیان جلد 1)
Ayah 5:6وضو اور غسل کا حکم اور تیمم کی مشروعیت
ان آیات میں وضو کا حکم اور اس کا طریقہ بیان فرمایا ہے، اول تو وضو کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے جہروں کو اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو اور سروں کا مسح کرلو اور پاؤں کے ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔
اِذا قُمْتُمْ کا مطلب
چونکہ عام طور پر بیٹھے ہوئے اور کام کاج میں لگے ہوئے باوضو نہیں رہتے اس لئے یہ فرمایا کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو منہ اور ہاتھ اور پاؤں دھونے اور سر کا مسح کرنے کا عمل کرلیا کرو۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے سے وضو ہو تب بھی وضو کرو۔ غالب احوال کے پیش نظریوں فرمایا کہ جب نماز کی طرف کھڑے ہو تو یہ عمل کرو، رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے موقعہ پر ایک وضو سے چار نمازیں پڑھی تھیں۔ حضرت زید بن اسلم نے فرمایا کہ آیت کا مطلب یہ ہے جب نیند سے اٹھ کر نماز کے لئے کھڑے ہو تو وضو کرلیا کرو کیونکہ اس وقت تو بالیقین بےوضو ہی ہوتے ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس خطاب کا مطلب یہ ہے کہ جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو وضو کرلیا کرو اگر پہلے سے وضو ہے تب بھی وضو کرلینا افضل ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشا فرمایا کہ جس نے وضو پر وضو کیا اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔ (رواہ ابوداؤد والترمذی )
فقہاء نے لکھا ہے کہ جب پہلے وضو سے کوئی نماز پڑھ لے گا یا ایسا کوئی عمل کرے گا جو بلا وضو جائز نہیں تب یہ فضیلت حاصل ہوگی، یہ مطلب نہیں ہے کہ وضو پر وضو کرتا رہے اور ان اعمال میں سے کوئی عمل نہ کرے جو باوضو ادا کئے جاتے ہیں۔
وضو کا طریقہ
آیت شریفہ میں وضو کا طریقہ بتائے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اپنے چہروں کو دھولو، چہرہ کی لمبائی پیشانی کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک ہے اور چوڑائی ایک کان کی لو سے لے کر دوسرے کان کی لو تک ہے اگر داڑھی ہلکی ہو تو اس کے نیچے پانی پہنچانا کھال کا دھونا ضروری ہے اور اگر گھنی ڈاڑھی ہو جس میں اندر کی کھال نظر نہ آرہی ہو تو ڈاڑھی کا اوپر سے دھو دینا کافی ہے۔ بہت سے لوگ ایسا وضو کرتے ہیں کہ کانوں اور رخساروں کے درمیان جگہ سوکھی رہ جاتی ہے ان لوگوں کا وضو نہیں ہوتا۔
بے وضو ہونے کو حدث اصغر اور غسل فرض ہونے کو حدث اکبر کہا جاتا ہے دونوں حالتوں میں نماز پڑھنا ممنوع ہے اگر کوئی شخص حدث اکبر یا حدث اصغر کی حالت ہوتے ہوئے نماز پڑھ لے گا تو اس کی نماز نہ ہوگی دوبارہ پڑھنا لازمی ہوگا۔ ساری امت کا اس پر اجماع ہے۔ خوب احتیاط کے ساتھ اعضاء وضو پر ہر جگہ پانی پہنچانے کا فکر کرنا لازم ہے۔
چہرہ کی حد تو اوپر بیان ہوئی اور ہاتھوں کو انگلیوں سے لیکر کہنیوں سمیت اور پاؤں کو انگلیوں سے لے کر ٹخنوں سمیت دھونا فرض ہے۔ ذرا سی جگہ بھی پانی پہنچے بغیر رہ جائے گی تو وضو نہ ہوگا۔ پورے سر کا مسح کرنا سنت ہے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ عموماً پورے سر کا مسح فرماتے تھے، حدیث شریف میں ہے۔
فاقبل بھما وادبر، بدء بمقدم رأسہ حتی ذھب بھما الی قفاہ ثم ردَّ ھما حتی رجع الی المکان الذی بدأمنہ ثم غسل رجلیہ (رواہ البخاری ص 31 جلد نمبر 1)
اور بعض مرتبہ آپ نے صرف اپنی پیشانی پر یعنی سر کے سامنے کے حصہ پر مسح فرمایا (کما رواہ مسلم عن المغیر ۃ بن شعبہ ؓ اسی لئے حضرت امام ابوحنیفہ ؓ نے فرمایا کہ پورے سر کا مسح کرنا سنت ہے اور چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے۔
قرآن مجید میں جن چار چیزوں کا ذکر ہے (1) یعنی چہرہ دھونا (2) ہاتھوں کو دھونا (3) سر کا مسح کرنا (4) پاؤں کو دھونا۔ وضو میں یہ چار چیزیں فرض ہیں۔ سر کا مسح ایک ہی مرتبہ کرنا مسنون ہے البتہ چہرہ کا اور ہاتھوں کا پاؤں کا تین تین مرتبہ دھونا سنت ہے اور ایک مرتبہ دھونے سے فرض ادا ہوجاتا ہے۔ دھونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر جگہ پانی پہنچ جائے۔
وضور کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا، تین بار کلی کرنا، مسواک کرنا، تین بار ناک میں نرم جگہ تک پانی پہنچانا جس کو استنشاق کہتے ہیں اور تین بار ناک کو جھاڑنا اور انگلیوں کا خلال کرنا اور ہاتھ اور پاؤں دھونے میں داہنی طرف سے ابتداء کرنا اور ڈاڑھی کا خلال کرنا مسنون ہے۔ کانوں کا مسح کرنا بھی سنت ہے کانوں کے اندر اور باہر کا مسح کرنا اور کنپٹیوں پر ہاتھ پھیرنا اور کانوں میں مسح کرتے وقت انگلیاں داخل کرنا بھی احادیث سے ثابت ہے۔
فائدہ : جب سو کر اٹھے تو بغیر دھوئے پانی میں ہاتھ نہ ڈالے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو جب تک اپنا ہاتھ تین بار نہ دھو لے اسے پانی میں نہ گھسائے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔ (رواہ البخاری و مسلم )
فائدہ : استنشاق کے ساتھ استنشار (یعنی ناک جھاڑنے کا) بھی اہتمام کرنا چاہئے خاص کر جب سو کر اٹھے تو اس کا اہتمام زیادہ کرے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنی ناک جھاڑ لے کیونکہ شیطان رات کو اس کے ناک کے بانسے میں رہتا ہے۔ (رواہ البخاری و مسلم)
فائدہ : وضو میں خوب اچھی طرح پانی پہنچائے چیڑا چیڑی نہ کرے۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ معظمہ سے واپس ہوئے۔ چلتے چلتے عصر کی نماز کا وقت ہوگیا راستہ میں ایک جگہ پانی ملا۔ تو کچھ لوگ جلدی سے آگے بڑھ گئے اور جلدی جلدی وضو کرلیا ہم جب ان کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان کی ایڑھیاں ظاہر ہو رہی ہیں جن کو پانی نہ پہنچا آنحضرت ﷺ نے ان کو دیکھ کر فرمایا کہ ایڑھیوں کے لئے ہلاکت ہے جو دوزخ کی آگ کی صورت میں ظاہر ہوگی۔ اچھی طرح پانی پہنچا یا کرو۔ (رواہ مسلم ص 135 واختصرہ البخاری ج 1 ص 28)
وضو میں پانی خوب اچھی طرح پہنچائے لیکن اسراف کرنا اور ضرورت سے زیادہ بہانا جائز نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سعد ؓ پر گزر ہوا وہ وضو کر رہے تھے آپ نے فرمایا یہ کیا اسراف (فضول خرچی) ہے انہوں نے عرض کیا، کیا وضو میں بھی اسراف ہے آپ ﷺ نے فرمایا ہاں وضو میں بھی اسراف ہے اگرچہ تم جاری نہر پر ہو۔ (رواہ احمد و ابن ماجہ کمافی المشکوۃ ج 1 ص 47)
امت محمدیہ کی امتیازی شان
وضو پہلی امتوں میں بھی تھا اور اس امت میں بھی ہے لیکن ایک بات میں امت محمدیہ علی صاجہا الصلوٰۃ والسلام کو امتیازی شان حاصل ہے اور وہ یہ کہ قیامت کے دن وضو کے اثر کی وجہ سے ان کے ہاتھ پاؤں روشن ہو نگے۔ حضرت ابو الدرداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں سب سے پہلا وہ شخص ہوں جسے قیامت کے دن سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور میں سب سے پہلا وہ شخص ہوں جسے (سجدہ سے) سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی۔ سر اٹھا کر میں اپنے آگے دیکھوں گا تو ساری امتوں کے درمیان سے اپنی امت کو پہچان لوں گا اور پیچھے دیکھوں گا تب بھی اسی طرح پہچان لوں گا۔ اور داہنی طرف دیکھوں گا تب بھی اسی طرح پہچانوں گا اور بائیں طرف دیکھوں گا تب بھی اسی طرح پہچان لوں گا۔ یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ تمام امتوں کے درمیان سے اپنی امت کو کیسے پہچان لیں گے۔ جبکہ نوح (علیہ السلام) کی امت سے لیکر آپ کی امت تک سب امتیں موجود ہونگی۔ آپ نے فرمایا کہ میری امت کے لوگوں کے چہرے اور ہاتھ پاؤں وضو کے اثر سے روشن ہوں گے۔ اور انکے علاوہ کسی کو بھی یہ بات حاصل نہ ہوگی۔ (مشکوٰۃ المصابیح ج 1 ص 40)
غسل جنابت کا حکم اور اس کا طریقہ
وضوکا طریقہ بیان فرمانے کے بعد غسل کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا (وَ اِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّھَّرُوْا) (اور اگر تم جنبی ہو تو خوب اچھی طرح سے پاکی اختیار کرو) جس مرد یا عورت پر غسل فرض ہوجائے (خواہ میاں بیوی کے ملاپ سے خواہ احتلام ہوجانے سے خواہ کسی طرح شہوت کے ساتھ منی خارج ہونے سے) اس پر فرض ہے کہ سر سے پاؤں تک پورے بدن پر ایک بار پانی پہنچائے۔
چونکہ فاطَّھَّرُوْا مبالغہ پر دلالت کرتا ہے اس لئے حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ غسل فرضی میں مضمضہ یعنی ایک بار کلی کرنا بھی فرض ہے جب کلی کرلے تو پورے منہ میں خوب پانی بھر کر حلق تک پہنچائے نیز غسل فرضی میں استنشاق بھی فرض ہے یعنی ناک میں جہاں تک نرم جگہ ہے وہاں تک کم از کم ایک بار پانی پہنچائے، جب غسل کرنے لگے تو پہلے چھوٹا بڑا استنجاء کرے اور بڑا استنجاء خوب کھل کر کرے تاکہ جہاں تک پانی پہنچ سکے وہاں تک پہنچ جائے اس کے بعد نجاست کو دور کرے جو بدن پر لگی ہوئی ہے اس کے بعد وضو کرے جیسا کہ وضو کا مسنون طریقہ ہے اور مضمضہ و استنشاق میں مبالغہ کرے اگر روزہ نہ ہو پھر تین بار سارے بدن پر پانی پہنچائے غسل فرض میں ایک بارہر جگہ پانی پہنچانا فرض ہے اور تین بار سنت ہے۔ (غیر فرض غسل کرے تو اس میں بھی تین بار پانی بہانا سنت ہے) ناف میں بغلوں اور جس جگہ بغیر دھیان کئے پانی نہ پہنچنے کا اندیشہ ہو وہاں خوب دھیان سے پانی پہنچائے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے۔ لہذا بالوں کو دھوؤ اور جس جگہ پر بال نہیں ہیں اس کو صاف کرو۔ (یعنی اچھی طرح پانی پہنچاؤ تاکہ میل کچیل بھی دور ہوجائے) ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤ)
حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ غسل جنابت میں جس نے ایک بال کے برابر بھی جگہ چھوڑ دی تو اسے دوزخ میں ایسا ایسا عذاب دیا جائے گا۔ حضرت علی ؓ اس ڈر سے سر پر بال ہی نہیں رکھتے تھے ایسا نہ ہو کہ غسل فرض میں کسی جگہ پانی پہنچنے سے رہ جائے اور جنابت دور نہ ہو، حدیث بالا بیان فرما کر انہوں نے تین بار فرمایا کہ میں نے اسی لیے اپنے سر سے دشمنی کر رکھی ہے (بال بڑھنے نہیں دیتا منڈاتا رہتا ہوں) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 48)
مسئلہ : غسل فرض ہونے کے لیے میاں بیوی کے ملاپ میں یہ ضروری نہیں ہے کہ منی خارج ہو صرف حشفہ (یعنی سپاری) غائب ہونے سے مرد و عورت دونوں پر غسل فرض ہوجاتا ہے۔ البتہ احتلام ہونے کی صورت میں منی خارج ہونے سے غسل فرض ہوجاتا ہے۔
فائدہ : جس طرح جنابت کی وجہ سے غسل فرض ہوجاتا ہے اسی طرح حیض اور نفاس کے ختم ہونے سے بھی غسل فرض ہوجاتا ہے اور اس غسل کا طریقہ بھی وہی ہے جو اوپر غسل جنابت میں بیان ہوا ہے۔
تیمم کا بیان
غسل جنابت کا حکم دینے اور اجمالاً اس کا طریقہ بتانے کے بعد تیمم کی اجازت ذکر فرمائی اور ارشاد فرمایا (وَ اِنْ کُنْتُمْ مَّرْضآی اَوْ عَلٰی سَفَرٍ ) (آخر تک) اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا آئے تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت کی جگہ سے یا تم نے عورتوں سے قرب کی اور پھر تم پانی نہ پاؤ تو ارادہ کرلو پاک مٹی کا سو اس سے اپنے چہروں کا اور اپنے ہاتھوں کا مسح کرلو۔ تیمم کا طریقہ اور اس کے ضروری مسائل آیت سورة نساء (یٰٓاَیُّھَا الّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَقْرَبُوا الصَّلوٰۃ) (ع 7) کی تفسیر میں بیان ہوچکے ہیں اس کی مراجعت کرلی جائے۔
پھر فرمایا (مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰکِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَھِّرَکُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) (اللہ ارادہ نہیں فرماتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے لیکن وہ ارادہ فرماتا ہے کہ تم کو پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے تاکہ تم اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو جو تم پر ہے) ۔ اوپر جو وضو اور غسل کا حکم ہوا اور پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کی جو اجازت مذکور ہوئی اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو تم پر حدث اصغر ہوجانے پر وضو اور حدث اکبر ہوجانے پر غسل فرض فرمایا اس میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ نہیں کہ تمہیں تنگی میں ڈالے لیکن اس کا ارادہ یہ ہے تمہیں پاک کرے۔ لِیُطَھِّرَکُمْ سے دونوں قسم کی طہارت مراد لی جاسکتی ہے۔ طہارت ظاہری بھی اور طہارت باطنی بھی۔ طہارت ظاہری یہ ہے کہ نجاست حکمیہ (حدیث اکبر وحدث اصغر) دور ہوجائے اور طہارت باطنی یہ ہے کہ گناہ معاف ہوجائیں۔
وضو اور تیمم حکم تطہیر میں برابر ہیں
اللہ تعالیٰ کا مزید فضل یہ ہے کہ پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کو بھی وضو اور غسل کے قائم مقام قرار دے دیا۔ نجاست حکمیہ جیسے وضو اور غسل سے دور ہوجاتی ہے تیمم سے بھی دور ہوجاتی ہے اور جو کام پانی سے وضو غسل کرنے والے کے لئے جائز ہوجاتے ہیں (مثلاً نماز پڑھنا، طواف کرنا، قرآن مجید کا چھونا) تیمم کے ذریعہ بھی جائز ہوجاتے ہیں جب تک پانی نہ ملے اور کوئی ناقض وضو اور موجب غسل پیش نہ آجائے تیمم سے وہ سب کام جائز رہتے ہیں جو وضو اور غسل کرنے سے جائز ہوتے ہیں جب تیمم کرلیا تو اس سے جتنی چاہے فرض نفل نمازیں پڑھنے کا اختیار ہے پانی نہ ہونے کی صورت میں تیمم کی اجازت ہونا مستقل ایک نعمت ہے اور اللہ کی رحمت ہے۔
پھر جیسے نماز پڑھنے سے گناہ معاف ہوتے ہیں اسی طرح وضو کرنے سے بھی معاف ہوتے ہیں۔ حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے وضو کیا اس کے جسم سے اس کے گناہ نکل جائیں گے یہاں تک اس کے ناخنوں کے نیچے سے بھی نکل جائیں گے۔ (رواہ مسلم ج 1 ص 125)
وضو غسل اور تیمم کا حکم فرمانے میں جہاں ظاہری اور باطنی طہارت کا فائدہ ہے وہاں اتمام نعمت کا فائدہ بھی ہے۔ اللہ جل شانہ، نے نماز وضو غسل اور تیمم کا حکم دے کر اپنی نعمت کامل فرما دی۔ یہ نعمت عزیمت کو بھی شامل ہے اور خصت کو بھی جب اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمت پوری فرما دی شکر لازم ہوا اس لئے اخیر میں (لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ) فرمایا۔
Ayah 5:7اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو
پھر فرمایا (وَ اذْکُرُوْا نِعْمَۃَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ ) کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو جن سے اس نے تمہیں نوازا ہے یہ نعمتیں ظاہری بھی ہیں اور باطنی بھی، جسمانی بھی ہیں اور روحانی بھی، مزید فرمایا (وَ مِیْثَاقَہُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِہٖٓ) کہ اللہ کے عہد کو یاد کرو جو تم نے مضبوطی کے ساتھ عہد کیا جب تم سے عہد لیا تو تم نے (سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا) کہہ کر پکا اور مضبوط عہد کرلیا۔ صاحب روح المعانی ج 6 ص 8 لکھتے ہیں اس سے وہ عہد مراد ہے جو 13 نبوی میں لیلتہ العقبہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے لیا تھا جو حضرت عبادہ بن صامت ؓ کی روایت میں مذکور ہے حضرت عبادہ بن صامت ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس پر بیعت کی کہ ہم بات سنیں گے اور فرماں برداری کریں گے۔ آسانی میں بھی اور سختی میں بھی، خوشی میں بھی اور ناگواری میں بھی (یعنی کوئی حکم نفسوں کو نا گوار ہوگا تب بھی عمل کریں گے) ۔ (اخرجہ مسلم ج 2 ص 125)
اس کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ میثاق مذکور سے بیعت رضوان بھی مراد ہوسکتی ہے جو حدیبیہ کے موقع پر ہوئی تھی (جس کا ذکر سورة فتح کے تیسرے رکوع کے شروع میں ہے) پھر لکھتے ہیں کہ چونکہ یہ بیعت اللہ کی طرف سے تھی اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر تھی اس لئے اس میثاق کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی کمابہ نطق قولہ تعالیٰ (اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰہَ ) چونکہ ہر مسلمان جب توحید اور رسالت پر ایمان لانے کا اقرار کرتا ہے تو ہر بات کے ماننے اور حکم کے تسلیم کرنے کا اعلان کردیتا ہے۔ اس لیے میثاق مذکور سے تمام مسلمانوں کا توحید و رسالت کا اقرار اور اعلان مراد لینا مناسب ہے اور یہ اقرار ہی پختہ عہد ہے لہٰذا لیلتہ العقبتہ یا حدیبیہ کے موقع پر بیعت مراد لینے لی ضرورت نہیں ہے۔
آخر میں فرمایا کہ (وَ اتَّقُوا اللّٰہ) کہ (اللہ سے ڈرو) اس کی نعمتوں کو نہ بھول جاؤ اور اس سے جو پختہ عہد کیا ہے اسے نہ توڑو۔ (اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ سینوں کی اندر کی چیزوں کو جانتا ہے) اسے ظاہری اعمال کا بھی علم ہے اور دلوں کے ارادوں اور نیتوں کی بھی اسے خبر ہے وہ حساب لے گا اور بدلہ دے گا۔
Ayahs 5:8–10انصاف پر قائم ہونے کا حکم
سورة نساء میں فرمایا (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ وَ لَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ ) کہ اللہ کے لئے خوب انصاف کے ساتھ قائم رہنے والے بنو اگرچہ انصاف تمہاری اپنی جانوں یا تمہارے ماں باپ یا تمہارے رشتہ داروں کے خلاف پڑجائے اور یہاں فرمایا (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآء بالْقِسْطِ وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا) (یعنی ہوجاؤ اچھی طرح سے کھڑے ہوجانے والے اللہ کے لئے، گواہی دینے والے انصاف کے ساتھ، اور تمہیں کسی قوم کا بغض ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم انصاف نہ کرو) بات یہ ہے کہ انسان کو عدل و انصاف سے اور سچی گواہی دینے سے روکنے والی دو چیزیں ہوتی ہیں ایک تو اپنا نفس اور اپنے قرابت والوں اور دوستوں کی طرف داری، دوسرے کسی قوم کی دشمنی۔ سورة نساء میں جس بات کی طرف توجہ دلائی ہے وہ یہ ہے کہ اپنی جانوں اور رشتہ داروں کی رعایت کر کے سچی گواہی سے نہ رکنا اور عدل و انصاف کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دینا، اور سورة مائدہ کی اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ کسی قوم کا بغض اور دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم عدل و انصاف نہ کرو، مسلمان کے خاص اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ ہمیشہ حق کا ساتھ دے حق کی گواہی دے کبھی کسی حالت میں بھی عدل و انصاف کو نہ چھوڑے۔ مزید تشریح و توضیح کے لے سورة نساء کی آیت مذکورہ کی تفسیر اور سورة مائدہ کی آیت (وَ لاَ یَجْرِ مَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا) کی تفسیر دیکھ لی جائے۔
پھر فرمایا (اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ للتَّقْوٰی) (انصاف تقویٰ سے قریب تر ہے) جب کوئی شخص عدل و انصاف کی صفت سے متصف ہوگا تو تقویٰ کی صفت سے بھی متصف ہوگا عدل تقویٰ کی طرف اور تقویٰ عدل کی طرف کھینچتا ہے۔ پھر فرمایا (وَ اتَّقُوْا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ) اس میں یہ بتایا کہ قیامت کی پیشی کا دھیان رکھو اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں سے باخبر ہے جب اللہ کا خوف ہوگا اور یہ یقین ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے عمل کا علم ہے، روز جزا میں پیشی ہوگی اور اعمال کے بدلے ملیں گے تو جھوٹی گواہی سے بچنا سچی گواہی دینا اور انصاف کرنا آسان ہوگا۔
اس کے بعد ان لوگوں سے اجر عظم اور مغفرت کا وعدہ فرمایا جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ اختیار کئے اور جن لوگوں نے کفر کیا اور آیات الہٰیہ کو جھٹلایا ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ دوزخ والے ہیں۔
Ayah 5:11رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کا ایک خاص واقعہ اور اللہ کی نعمت کی یاد ہانی
اسباب النزول ص 186 میں حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک شخص جس کا نام غورث تھا اس نے اپنی قوم بنی غطفان اور بنی محارب سے کہا کہ کیا میں محمد ﷺ کو قتل نہ کردوں ؟ وہ لوگ کہنے لگے کہ تو کیسے قتل کرے گا اس نے کہا کہ اچانک ایسی صورت بنا کر قتل کردوں گا کہ اس کی طرف دھیان بھی نہ جائے۔ یہ کہہ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کی گود میں آپ کی تلوار تھی۔ یہ شخص کہنے لگا اے محمد ! ﷺ کیا میں آپ کی تلوار دیکھ سکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں دیکھ لے ! اس نے تلوار لے لی اور نیام سے باہر نکال لی وہ ہاتھ میں تلوار لے کر ہلاتا رہا۔ اور ارادہ کرتا رہا کہ آپ پر حملہ کرے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے ارادہ میں ناکامی ہوتی رہی۔ پھر وہ کہنے لگا اے محمد ! کیا آپ مجھ سے نہیں ڈرتے آپ نے فرمایا نہیں ! کہنے لگا کہ آپ مجھ سے نہیں ڈرتے حالانکہ میرے ہاتھ میں تلوار ہے آپ نے فرمایا کہ اللہ میری حفاظت فرمائے گا اس کے بعد اس نے تلوار نیام میں رکھ دی اور آنحضرت ﷺ کو واپس کردی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بالا نازل فرمائی۔
اللہ جل شانہ نے امت محمدیہ ﷺ کو اپنی نعمت یاد دلائی کہ اس نے ان کے نبی کی حفاظت فرمائی جس میں امت پر بھی انعام و احسان ہے۔
تقویٰ اور توکل کا حکم
آخر میں تقوی کا حکم دیا اور ساتھ توکل کا حکم فرمایا کہ اہل ایمان کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے تقویٰ اور توکل بہت بڑی چیزیں ہیں۔ اہل ایمان کے سب کام ان دونوں سے چلتے ہیں جسے اللہ پر توکل ہو وہ مخلوق سے نہیں ڈرتا۔ تقویٰ گناہوں سے بچنے کا نام ہے۔ جو شخص اللہ کی رضا کے لئے گناہوں سے بچے گا اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر مشکل سے بچنے کا راستہ نکال دے گا۔
سورة طلاق میں فرمایا (وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِِبُ وَمَنْ یَّتَوَ کّلُ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہٗ ) (اور جو شخص اللہ سے ڈرے اللہ تعالیٰ اس کے لئے مشکلوں سے نکلنے کا راستہ بنا دے گا اور اللہ اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں اسے گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر بھروسا کرے اللہ اس کے لئے کافی ہے ) ۔
Ayah 5:12اللہ تعالیٰ کا بنی اسرائیل سے عہد لینا پھر ان کا عہد توڑ دینا
اس سے پہلے مسلمانوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا کہ جو اللہ سے عہد کیا ہے اور (سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا) کہہ کر جو فرمانبرداری کرنے کی ذمہ داری لے لی ہے اس کو پورا کرو۔ ان آیات میں بنی اسرائیل سے جو عہد لیا تھا اس عہد کو پورا کرنے پر جس انعام کا وعدہ فرمایا تھا اس کا ذکر پھر اس عہد شکنی پر جو انہیں سزا ملی اس کا تذکرہ فرمایا۔ اس میں مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ عہد پورا نہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت ہوجاتی ہے ایسا نہ کرو کہ عہد شکنی کر کے اپنے اوپر وبال آنے کا ذریعہ بن جاؤ۔
اول یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا تھا (جوان کے نبی سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے لیا گیا تھا) پھر فرمایا کہ ہم نے ان میں سے بارہ سردار مقرر کر دئیے (بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ہر ہر قبیلہ کا ایک سردار مقرر فرما دیا جو ان کو اللہ کے عہد یاد دلاتا رہے اور عہد پر چلنے کی تلقین کرتا رہے) اللہ تعالیٰ شانہ، نے یہ بھی فرمایا کہ بلاشبہ میں تمہارے ساتھ ہوں مجھے تمہارے ہر عمل کی خبر ہے نیکی اور گناہ ہر چیز کا علم ہے۔
بنی اسرائیل سے جو عہد لیا تھا اسے (لَءِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ ) سے (قَرْضًا حَسَنًا) تک بیان فرمایا پھر لَاُ کَفِّرَنَّ عَنْکُمْ سے (تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ) تک عہد پورا کرنے کا اجر بتایا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نماز قائم کرتے رہے اور زکوٰتیں دیتے رہے اور میرے رسولوں پر ایمان لائے اور رسولوں کی مدد کرتے رہے اور اللہ کو قرض اچھا دیتے رہے تو تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کردوں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ معلوم ہوا کہ نماز اور زکوٰۃ کا حکم پہلی امتوں کو بھی تھا، رسولوں پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کا عہد اس لئے لیا کہ بنی اسرائیل میں بہت سے نبی ہوئے ایک نبی چلا جاتا تو دوسرا آجاتا۔ جیسا کہ عنقریب ہی آیت کریمہ (اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ وَ جَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا) میں اس کا بیان آرہا ہے انشاء اللہ العزیز !
جب کوئی نبی آجاتا تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا ان پر فرض ہوجاتا تھا حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا اور ان کے بعد خاتم الانبیاء سید المرسلین حضرت محمد ﷺ کی بعثت ہوئی لیکن بنی اسرائیل عموماً ان دونوں رسولوں کی رسالت کے منکر ہوگئے۔
یہ جو فرمایا (وَ اَقْرَضْتُمُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا) اس کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کے علاوہ دوسرے مصارف خیر میں بھی خرچ کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو قرض حسن سے تعبیر فرمایا قرض اس لئے فرمایا کہ اس کا بدلہ ادھار ہے جو آخرت میں ملے گا اور حسن اس لئے فرمایا کہ وہ بدلہ بہت بڑا ہے ذرا سا خرچ کرنے پر آخرت میں بڑے بڑے اجور ملیں گے۔
سورۂ حدید میں فرمایا (مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لہٗ وَ لَہٗٓ اَجْرٌ کَرِیْمٌ) (کون ہے جو قرض دے اللہ کو اچھا قرض سو اللہ بڑھا دے اس سے چند در چند اور اس کے لئے اجر ہے بہت عمدہ) یہ اللہ پاک کا کتنا بڑا احسان ہے کہ مال اسی کا دیا ہوا ہے جب کوئی اسے خرچ کرتا ہے (اور خرچ بھی اپنوں پر یا اپنے ہم جنس دوسرے افراد پر) تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ذمہ قرض شمار فرما لیتا ہے جس نے دیا اسے تو پورا اختیار ہے ساے مال کو خرچ کرنے کا حکم فرما دے اور ذرا سا بھی اجر نہ دے لیکن یہ محض اس کا کرم ہے کہ جو کچھ اس کی رضا کے لئے خرچ کیا جائے اسے اپنے ذمہ قرض شمار فرمالیا اور اس کا اجر خوب بڑھا چڑھا کردینے کا وعدہ فرمایا۔
پھر فرمایا (فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآء السَّبِیْلِ ) (کہ اس کے بعد جو شخص تم میں سے کفر اختیار کرے سو وہ سیدھے راستہ سے بھٹک گیا) عہد لیتے وقت یہ تنبیہ فرما دی تھی لیکن انہوں نے عہد کو توڑ دیا جس کا ذکر آئندہ آیت میں ہے۔
Ayah 5:13بنی اسرائیل کی عہد شکنی کا وبال :
پھر بنی اسرائیل کی عہد شکنی اور اس کے وبال کا تذکرہ فرمایا (فَبِمَا نَقْضِھِمْ مِّیْثَاقَھُمْ لَعَنّٰھُمْ وَ جَعَلْنَا قُلُوْبَھُمْ قٰسِیَۃً ) یعنی چونکہ انہوں نے عہد کو توڑ دیا اس لئے ہم نے ان پر لعنت کردی یعنی اپنی رحمت سے دور کردیا اور ہم نے ان کے دلوں کو سخت کردیا جن میں حق ماننے اور حق کی طرف متوجہ ہونے اور حق قبول کرنے کی صلاحیت ہی نہ رہی، اس ملعونیت اور قساوت قلب کی وجہ سے وہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی تکذیب بھی کرتے تھے اور انہیں قتل بھی کرتے تھے، اپنی اسی عادت کے مطابق انہوں نے خاتم النبیین ( علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی اور یہ جانتے ہوئے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں حضرت کے منکر ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (بَلْ لَِّعَنَھُمُ اللّٰہُ بِکُفْرِ ھِمْ فَقَلِیْلاً مَّا یُؤْمِنُوْنَ ) (بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کردی سو ان میں کم ہیں جو مومن ہوں گے) ان کی قسادت قلبی کا ذکر فرماتے ہوئے سورة بقرہ میں فرمایا (ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَھِیَ کَالْحِجَارَۃٍ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃُ ) (اور پھر تمہارے دل سخت ہوگئے سو وہ پتھروں کی طرح ہیں یا ان سے بھی زیادہ سخت ہیں) جب انسان باربار گناہ پر گناہ کرتا رہے تو اس میں سرکشی کی شان پیدا ہوجاتی ہے اور اس سر کشی سے دل میں قساوت اور سختی آجاتی ہے جس کی وجہ سے توبہ کی طرف توجہ نہیں ہوتی اور موعظت اور نصیحت کی بات بھی بری لگتی ہے اللہ پاک نے اہل ایمان کو توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَلَمْ یَأْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَ لاَ یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوتُو الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمَ وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ) (کیا ایمان والوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے لئے اور جو دین حق نازل ہوا ہے اس کے سامنے جھک جائیں اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے پہلے کتاب ملی تھی پھر ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا پھر ان کے دل سخت ہوگئے اور بہت سے آدمی ان میں سے فاسق ہیں)
یہودیوں کا توریت شریف میں تحریف کرنا
مزید یہود کی شناعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا (یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ وَ نَسُوْا حَظّاً ذُکِّرُوْا بِہٖ ) (یہ لوگ کلمات کو بدلتے ہیں ان کو مواقع سے اور انہوں نے ایک بڑا حصہ چھوڑ دیا جس کے ذریعہ انہیں نصیحت کی گئی) اس میں یہودیوں کی قسادت قلبی اور سخت دلی کا بیان فرمایا کہ ان کے دل ایسے سخت ہوگئے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدل دیا۔ ان کے علماء توریت شریف کو بدلتے تھے اور جو کچھ اپنے پاس سے بناتے اور لکھتے تھے اپنی عوام سے کہتے تھے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ عوام کو راضی رکھ کر ان سے پیسے لے لینا اور علم کی بجائے ان کو جہل میں مبتلا کردینا اور ہدایت کی بجائے انہیں گمراہی پر ڈالنا اور اللہ سے ڈرنا آخرت کے حساب و کتاب سے بےپرواہ ہوجانا کتنی بڑی قسادت ہے لیکن انہیں اس کا کچھ احساس نہیں۔
جب تحریف کرلی تو توریت شریف کا بہت بڑا حصہ ان کے حافظہ سے نکل گیا جو شخص اپنی تحریف کو اصل میں ملانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اصل کتاب کے الفاظ و معانی سے محروم ہوجاتا ہے۔
یہود کی خیانتیں
پھر فرمایا (وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآءِنَۃٍ مِّنْھُمْ اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْھُمْ ) (اور آپ ہمیشہ ان کی طرف سے کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے۔ سوائے تھوڑے سے لوگوں کے) اس میں یہود کی خیانت بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ یہ برابر یہ خیانتیں کرتے رہیں گے اور آپ کی ان کی خیانتوں کا علم ہوتا رہے گا خیانت ان کے مزاج میں داخل ہوگئی ہے ان کے اسلاف نے خیانتیں کیں۔ حدیہ کہ اللہ کی کتاب میں بھی تحریف کر بیٹھے جو بہت بڑی خیانت ہے۔ ان کے اخلاف (موجودہ یہودی) اس عادت کو چھوڑیں گے نہیں ہاں ان میں سے چند لوگ جو مسلمان ہوگئے ہیں (حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ) یہ حضرات خیانت سے دور ہوگئے اور صفت ایمان نے ان کو امانت دار بنا دیا۔
(فَاعْفُ عَنْھُمْ وَ اصْفَحْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) (آپ ان کو معاف کیجئے اور ان سے درگزر کیجئے بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوبی کا معاملہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے)
صاحب روح المعانی ج 6 ص 90 پر اسکی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں اَیْ اِذَا تَابُوْ ا اَوْبذلوا الجذیۃ۔ یعنی جب وہ توبہ کرلیں (اسلام قبول کرلیں اور خیانت سے باز آجائیں) یا جزیہ دے کر عہد کی پابندی کرتے رہیں تو ان کو معاف کیجئے درگزر کیجئے اگر یہ معنی لئے جائیں تو آیت میں کوئی نسخ نہیں ہے۔ اس کے بعد صاحب روح المعانی نے علامہ طبری سے یہ نقل کیا ہے کہ معافی اور درگزر کرنے کا حکم پہلے تھا جب کافروں سے جنگ کرنے کا حکم آگیا تو منسوخ ہوگیا۔ صاحب بیان القرآن اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب تک شرعی ضرورت نہ ہو ان کی خیانتوں کا اظہار اور ن ان کی فضیحت نہ کیجئے یہ معنی (یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) سے قریب تر ہے۔
Ayahs 5:14–16نصاریٰ سے عہد لینا اور ان کا اس کو بھول جانا
ان آیات میں نصاریٰ کی طرف سے روئے سخن ہے ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے کہا ہم نصاریٰ ہیں ان سے بھی ہم نے پختہ عہدلیا وہ لوگ بھی عہد پر قائم نہ رہے جو کچھ انکو نصیحتیں کی گئی تھیں ان میں سے ایک بہت بڑا حصہ بھول گئے ان کے اس عہد کو توڑنے اور جو نصیحتیں کی گئی تھیں ان کے بھولنے کی وجہ سے ہم نے ان کے درمیان دشمنی اور بغض کو ڈال دیا وہ قیامت تک آپس میں دشمن رہیں گے اور ایک دوسرے سے بغض رکھیں گے۔ نصاریٰ میں متعدد فرقے تھے اور اب بھی ہیں ان میں سے بعض کا یہ کہنا تھا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہے، اس طرح سے اتحاد ذاتی کے قائل تھے اور ایک فرقہ کہتا تھا کہ تین معبود ہیں اللہ اور مریم ( علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم، یہود کی طرح نصاریٰ بھی نصیحت کا بہت بڑا حصہ چھوڑ بیٹھے اور اسے بھول بھلیاں کردیا، اس نصیحت میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا بھی تھا جن کے بعثت کی بشارت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دی تھی اور جن کی نبوت اور رسالت کی خبر توریت اور انجیل میں دی گئی تھی۔ (اَلَّذِیْنَ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ ) اس عہد شکنی اور خلاف ورزی کی انہیں سزا مل گئی اور ملتی رہے گی۔ پھر ارشاد فرمایا (وَ سَوْفَ یُنَبِّءُھُمُ اللّٰہُ بِمَا کَانُوْا یَصْنَعُوْنَ ) یعنی عنقریب انہیں جتلا دے گا جو کام وہ کیا کرتے تھے۔
اس کے بعد اہل کتاب (یعنی یہود و نصاریٰ دونوں) کو خطاب فرمایا کہ اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول اللہ ﷺ آیا ہے وہ بہت سی وہ باتیں بیان کرتا ہے جو اللہ کی کتاب میں سے تم چھپاتے تھے۔ اور بہت سی چیزوں سے در گزر کرتا ہے اس رسول ﷺ کا اتباع فرض ہے، مزید فرمایا کہ تمہارے پاس اللہ کا نور آیا ہے اور واضح بیان کرنے والی کتاب آئی ہے، نور سے مراد سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے اور کتاب مبین سے قرآن کریم مراد ہے دونوں کے ذریعہ اللہ سلامتی کے راستہ کی ہدایت فرماتا ہے یہ ہدایت ان لوگوں کو ملتی ہے جو رضائے الٰہی کے طالب ہوں، اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت بھی دیتا اور طرح طرح کے اندھریوں سے نکال کر (جو شرک و کفر کی صورت میں باطل افکار اور اہواء کی وجہ سے انسان کو گھیر لیتی ہیں) نور کی طرف لے آتا ہے۔ کفر کے راستے چونکہ بہت سے ہیں لفظ ظلمات بصیغہ جمع استعمال فرمایا اور نور چونکہ ایک ہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ہدایت اس لئے لفظ نور کو واحد لایا گیا۔
Ayah 5:17نصاریٰ کا کفر جنہوں نے مسیح ابن مریم کو معبود بنایا
اس کے بعد نصاری کی گمراہی بیان فرمائی ان میں سے ایک فریق کہتا تھا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہے ان کی تردید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا بتاؤ اگر اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں کو اور روئے زمین کے تمام افراد کو ہلاک کرنا چاہئے تو انہیں کون بچا سکتا ہے چونکہ وہ لوگ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ (علیہما السلام) کی موت کے قائل تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ ان کو اللہ نے موت دی ہے اس لئے ان سے سوال کر کے خود ان پر حجت قائم کی گئی جسے موت آجائے وہ کیسے خدا ہوسکتا ہے۔ (اور لفظ اِنْ اَرَدَ اس لیے فرمایا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) ابھی تک زندہ ہیں (اگرچہ یہود و نصاریٰ ان کی موت کے قائل ہیں ) ۔
پھر فرمایا (وَ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا) کہ اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، جو مملوک ہو وہ کیسے معبود ہوسکتا ہے اور اپنے خالق کے ساتھ الوہیت میں کیسے شریک ہوسکتا ہے) اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے وہ جو چاہے پیدا فرمائے اس نے مریم کو بھی پیدا فرمایا اور مریم کے بیٹے عیسیٰ ( علیہ السلام) کو بھی پیدا فرمایا چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش عادت معروفہ کے مطابق نہ تھی اس لئے وہ ان کو خدا کا بیٹا کہنے لگے۔ مخلوق معبود نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کا وجود اس کے خالق کا دیا ہوا ہے۔ خالق جل مجدہ، نے جس طرح بھی وجود دیا ہو بہرحال مخلوق ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بغیر باپ کے پیدا فرما کر اپنی قدرت دکھا دی اس سے یہ کیسے لازم آیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عین خدایا مستقل معبود ہوجائیں۔
رسول اللہ ﷺ نور بھی تھے اور بشر بھی
آیت بالا میں جو (قَدْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّ کِتٰبٌ مُّبٍیْنٌ) فرمایا ہے اس میں نور سے رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی مراد ہے۔ نور روشنی کو کہتے ہیں آپ کی تشریف آوری سے پہلے سارا عالم کفر و شرک کی تاریکیوں سے بھرا ہوا تھا توحید کے ماننے والے خال خال ہی دنیا کے کسی گوشہ میں اکا دکا پائے جاتے تھے، خاتم النبیین شمس الرسالتہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ نے توحید کی دعوت دی اور اس بارے میں بہت زیادہ محنت اور بڑی مشقتیں اٹھائیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے سارا عالم جگمگا اٹھا کفرو شرک کی ظلمتیں چھٹ گئیں اور ایمان و یقین کے نور سے قلوب منور ہوگئے۔
بَلَغَ الْعُلٰی بِکَمَالِہٖ کَشَفَ الدُّ جٰی بِجَمَالِہٖ حَسُنَتْ جَمِیْعُ خِصَالِہٌ صَلُّوْا عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
بہت سے لوگ نور ہونے کا یہ مطلب سمجھتے ہیں کہ آپ بشر نہیں تھے ان کی جاہلانہ بات سے قرآن کریم کی یہ آیت (قَلْ سُبَحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ الاَّ بَشَرًا رَّسُوْلاً ) (آپ فرما دیجئے کہ میں اپنے رب کی پاکی بیان کرتا ہوں میں نہیں ہو مگر بشر رسول) کا انکار لازم آتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ فرما دیں کہ میں بشر ہوں رسول ہوں۔ لیکن محبت کے دعویدار کہتے ہیں کہ بشر نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کو جھٹلاتے ہیں پھر بھی اسلام کے دعودے دار ہیں اللہ تعالیٰ ہدایت دے۔
فائد : یہ جو فرمایا (یَّھْدِیْ بِہِ اللّٰہُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَہٗ سُبُلَ السَّلٰمِ ) اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا طالب ہوگا اللہ تعالیٰ اسے ضرور ہدایت عطا فرمائے گا جو لوگ اسلام کے مخالف ہیں اور جو لوگ مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں (لیکن ضروریات دین کے منکر ہیں) انہیں علماء اسلام متنبہ کرتے ہیں کہ تمہارے عقائد کفریہ ہیں لیکن انہوں نے ضد اور عنا پر کمر باندھ رکھی ہے ھداھم اللہ تعالیٰ ۔
فائدہ : جنت میں لے جانے والے اعتقادات اور اعمال کو (سُبُلَ السَّلٰمِ ) فرمایا اور جنت کو دارالسلام فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کا نام اسلام رکھا اور اللہ تعالیٰ کے ناموں میں ایک نام السلام بھی ہے اور جب مسلمانوں میں آپس میں ملاقات ہو اس کے لئے سلام کو مشروع فرمایا اور فرض نمازوں کے بعد دعا (اَللَّھُمَّ اَنْتَ السَّلاَمُ وَ مِنْکَ السَّلَامُ ) (اخیرتک) تعلیم فرمائی درحقیقت اللہ کے دین میں سلامتی ہی سلامتی ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔