Ayah 5:95احرام میں شکار مارنے کی جزا اور ادائیگی کا طریقہ
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا حالت احرام میں (حج کا احرام ہو یا عمرہ کا) خشکی کا کوئی جانور شکار کرے (خواہ اس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو یا نہ کھایا جاتا ہو) تو اس کی سزا آیت بالا میں ذکر فرمائی ہے، یاد رہے کہ صید یعنی شکار ان جانوروں کو کہا جاتا ہے جو وحشی ہوں، انسانوں سے مانوس نہ ہوں ان سے دور بھاگتے ہوں جیسے شیر، گیدڑ، ہرن خرگوش، نیل گائے، کبوتر، فاختہ وغیرہ اور جو جانور انسانوں سے مانوس ہیں ان کے پاس رہتے ہیں جیسے گائے اونٹ، بھیڑ بکری مرغی یہ شکار میں داخل نہیں ہیں اور جو وحشی جانور ہوں ان میں سے بعض جانوروں کا مارنا حالت احرام میں بھی جائز ہے۔ یہ استثناء احادیث شریفہ میں وارد ہوا ہے ان میں کوا اور چیل اور بھیڑیا اور سانپ اور بچھو اور کاٹنے والا کتا اور چوہا شامل ہیں۔ یعنی محرم کو ان کا قتل کرنا جائز ہے اور جو جانور محرم پر حملہ کر دے اس کا قتل کرنا بھی جائز ہے اگرچہ ان جانوروں میں نہ ہو جن کے قتل کی اجازت ہے۔
احرام میں شکار مارنے کی جزا آیت بالا میں مذکور ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو جانور قتل کیا اس کا ضمان واجب ہوگا۔ اور اس ضمان کی ادائیگی یا تو اس طرح کر دے کہ جانور خرید کر بطور ھدی کعبہ شریف کی طرف یعنی حدود حرم میں بھیج دے جسے وہاں ذبح کردیا جائے اور اگر ھدی نہ بھیجے تو اس کی قیمت مسکینوں کی دیدے یا اس کے بدلے روزے رکھ لے۔
(مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ ) (یعنی جو جانور قتل کیا ہے اس جانور کا مثل بطور جزا کے واجب ہوگا) اس کے بارے میں حضرت امام شافعی (رح) نے یہ فرمایا ہے کہ جسامت میں اتنا بڑا جانور ہو جتنا بڑا جانور اس نے قتل کیا ہے مثلاً شتر مرغ قتل کیا ہے تو اس کے بدلہ اسی جیسا اونٹ ذبح کیا جائے۔ اور جس جانور کا مثل جسامت کے طور نہ ہو اس کی قیمت لگا دی جائے۔ اس مذہب کی تفصیلات کتب شافعیہ میں مذکور ہیں۔
اور حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک جسامت مثلیت نہیں یعنی ” مِثْلُ مَاقَتَلَ مِنَ النَّعَمِ “ سے مثل صوری (یعنی جسمانیت والی برابری) مراد نہیں ہے ان کے نزدیک ابتداء و انتھاء مثل معنوی ہی مراد ہے مثل معنوی سے مراد یہ ہے کہ مقتول جانور کی قیمت لگا دی جائے پھر اس قیمت سے جانور خرید کر بطور ھدی حدود حرم میں ذبح کردیا جائے۔
جس محرم نے شکار کیا ہے اسے اختیار ہے کہ قیمت کے عوض ھدی کا جانور حدود حرم میں ذبح کر دے یا کسی دوسرے شخص سے ذبح کرا دے اور اگر ھدی کا جانور ذبح کرانے کی بجائے اس قیمت کو مسکینوں پر صدقہ کرنا چاہئے تو یہ بھی کرسکتا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ فی مسکین بقدر صدقہ فطر غلہ یا اس کی قیمت صدقہ کر دے۔ اور اگر غلہ یا اس کی قیمت دینا چاہے تو بحساب فی مسکین نصف صاع گندم کے حساب سے اتنی شمار کے برابر روزے رکھ لے، اگر فی مسکین بقدرصدقہ فطر حساب کر کے دینے کے بعد اتنے پیسے بچ گئے جن میں ایک صدقہ فطر کے برابر غلہ نہیں خریدا جاسکتا تو اختیار ہے کہ یہ پیسے ایک مسکین کو دے دے یا اس کے عوض ایک روزہ رکھ لے۔
جس جانور کو قتل کیا ہے اس کی قیمت کون تجویز کرے اس کے بارے میں ارشاد ہے (یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ) یعنی مسلمانوں میں سے دو انصاف والے آدمی اس کی قیمت کا تخمینہ لگائیں۔ یہ تخمینہ اس جگہ کے اعتبار سے ہوگا جہاں وہ جانور قتل کیا ہے۔ اگر جنگل میں قتل کیا تو جو آبادی وہاں سے قریب تر ہو اس کے اعتبار سے قیمت کا تخمینہ لگایا جائے۔
احرام میں جو شکار کیا گیا ہے اس کے متعلق چند مسائل
مسئلہ : اگر جانور کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ بڑا جانور خریدا جاسکتا ہے تو اونٹ اور گائے حدود حرم میں ذبح کر دے بکری ذبح کرے یا گائے یا اونٹ ان میں قربانی کے جانور کی شرائط اور قربانی کے جانوروں کی عمروں کا لحاظ رکھے۔
مسئلہ : اگر مقتول جانور کی قیمت کے برابر ھدی کا جانور تجویز کیا اور جانور خریدنے کے بعد کچھ قیمت بچ گئی تو اس بقیہ قیمت کے بارے میں اختیار ہے کہ خواہ دوسرا جانور خرید کر حدود حرم میں ذبح کر دے یا اس کا غلہ خرید کر دے دے یا غلہ کے حساب سے فی نصف گیہوں ایک روزہ رکھ لے۔
مسئلہ : مسکینوں کو غلہ دینے اور روزہ رکھنے میں حرم کی قید نہیں ہے البتہ ھدی کا جانور حدود حرم ہی میں ذبح کرنا لازمی ہے۔ ذبح کر کے فقراء حرم میں صدقہ کر دے۔
مسئلہ : محرم کو جن جانوروں کا شکار کرنا حرام ہے اگر اس نے ان میں سے کسی جانور کو قتل کردیا تو وہ جانور میتہ یعنی مردار کے حکم میں ہوگا۔ اور کسی کو بھی اس کا کھانا حلال نہ ہوگا۔
مسئلہ : محرم کو جس جانور کا قتل کرنا حرام ہے اس کو زخمی کردینا یا پر اکھاڑ دینا ٹانگ توڑ دینا بھی حرام ہے اگر ان میں سے کوئی صورت پیش آجائے تو تخمینہ کرایا جائے اور اس جانور کی کتنی قیمت ہوگی پھر اس قیمت کے بارے میں انہیں تین قولوں میں سے کوئی اختیار کرلی جائے جو قتل کی سزا میں مذکور ہوئے ہیں۔
مسئلہ : مذکورہ جانوروں کا انڈہ توڑنا ممنوع ہے اگر محرم نے کسی جانور کا انڈہ توڑ دیا توڑ اس کی قیمت واجب ہوگی، اگر انڈے میں سے مرا ہوا بچہ نکل آیاتو اس کی قیمت واجب ہوگی۔
مسئلہ : اگر دو محرموں نے مل کر شکار کیا تو دونوں پر جزاء کا مل واجب ہوگی۔
مسئلہ : اگر کسی نے حاملہ ہرنی کے پیٹ میں مار دیا اور اس میں سے زندہ بچہ نکلا اور وہ بھی مرگئی تو دونوں کی قیمت واجب ہوگی۔
مسئلہ : اگر کسی غیر محرم نے شکار کیا پھر احرام باندھ لیا اس پر واجب ہے کہ شکارکو چھوڑ دے اگر نہ چھوڑا اور اس کے ہاتھ میں مرگیا تو اس کی قیمت واجب ہوگی۔
مسئلہ : مچھر کے قتل کرنے سے کچھ واجب نہیں ہوتا۔
مسئلہ : احرام میں چیونٹی کا مارنا جائز ہے جو ایذا دیتی ہو اور جو ایذا نہ دے اسے مارنا جائز نہیں لیکن اگر مار دیا تو کچھ واجب نہیں ہوگا۔
مسئلہ : اگر کسی محرم نے جوں ماردی تو کچھ صدقہ کر دے۔
مسئلہ : اگر کوئی محرم ٹڈی مار دے تو جتنا جی چاہے تھوڑا بہت صدقہ کر دے، حضرت عمر ؓ سے پوچھا گیا تو فرمایا ایک کھجور ٹڈی سے بہت ہے۔
مسئلہ : اگر بھولے سے یا خطاءً شکار کو قتل کردے تو اس پر جزا ہے جمہور کا یہی مذہب ہے۔
ابو بکر جصاص احکام القرآن میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان ؓ اور ابراہیم نخعی اور فقہاء امصار کا یہی مذہب ہے اور قرآن کریم میں جو لفظ ” مُتَعَمِّداً “ آیا ہے یہ ان حضرات کے نزدیک خطا و نسیان سے احتراز کے لئے نہیں بلکہ یہ لفظ اس لئے بڑھایا گیا ہے کہ (وَ مَنْ عَادَفَیَنْتَقِمُ اللّٰہُ مِنْہُ ) جو آگے آرہا ہے وہ اس پر متفرع ہو سکے کیونکہ خطاء و نسیان پر مواخذہ نہیں ہوتا بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ خطا ونسیان میں قتل صید کی جزا واجب نہیں۔ شیخ ابوبکر جصاص ؓ فرماتے ہیں۔ فالقول الاول ھوا لصیح یعنی پہلا قول ہی صحیح ہے پھر اس کی دلیل میں فرماتے ہیں۔
لا نہ قد ثبت ان جنایات الاحرام لا یختلف فیھا المعذور وغیر المعذور فی باب و جوب الفدیۃ الاتریٰ اَنَّ اللّٰہ تعالیٰ قد عذر المریض ومن بہ أذی من رأسہ ولم یخلھما من ایجاب الکفارۃ
مسئلہ : شکار کی طرف اشارہ کرنا یا شکاری کو بتانا کہ وہ شکار جا رہا ہے محرم کے لئے یہ بھی حرام ہے، اگر محرم نے شکار کی طرف اشارہ کردیا اور شکاری نے اسے قتل کردیا تو بتانے والے پر بھی جزاء واجب ہوگی۔
مسئلہ : اگر کسی غیر محرم نے شکار کیا اور محرم کو اس کا گوشت پیش کردیا تو اس کا کھانا جائز ہے، بشرطیکہ محرم نے شکاری کو نہ اشارہ سے بتایا ہو نہ زبان سے۔
مسئلہ : اگر ایسے محرم نے شکار کیا جس نے قرآن کا احرام باندھا ہوا تھا تو اس پر دوہری جزا واجب ہوگی کیونکہ اس کے دو احرام ہیں۔
مسئلہ : محرم کا شکار بیچنا خریدنا حرام ہے اگر کسی محرم نے ایسا کرلیا تو بیع باطل ہوگی۔
مسئلہ : محرم کے لئے حرم اور غیر حرم دونوں میں شکار کرنا حرام ہے۔
مسئلہ : حرم کا شکار محرم اور غیر محرم دونوں کے لئے حرام ہے۔ البتہ اس کے قتل کردینے سے محرم پر اور غیر محرم پر ایک ہی جزا واجب ہوگی۔
مسئلہ : مکہ مکرمہ کے چاروں طرف سر زمین حرم ہے جس کی مسافتیں مختلف ہیں، جدہ کی طرف تقریباً 15 کلو میٹر اور عرفات کی طرف تقریباً 14 کلو میٹر ہے۔ منی اور مزدلفہ دونوں حرم میں داخل ہیں اور تنعیم جو مدینہ منورہ کے راستہ میں آتا ہے یہ حرم سے خارج ہے۔ پرانی کتابوں میں لکھا ہے کہ تنعیم مکہ مکرمہ سے تین میل ہے لیکن اب مکہ معظمہ کی آبادی تنعیم بلکہ اس سے بہت آگے تک چلی گئی ہے۔
حرم شریف کی گھاس اور درخت کاٹنے کے مسائل
مکہ معظمہ کے حرم کی گھاس کاٹنا اور ایسے درخت کو کاٹنا جو کسی کی مملوک نہیں جسے لوگ بوتے نہیں یہ بھی ممنوع ہے۔
اگر کوئی شخص محرم یا غیر محرم حرم کا شکار مارے تو اس کی جزا دینا واجب ہوگی۔ اسی طرح اگر گھاس کاٹ دی یا غیر مملوک درخت کاٹ لیا تو اس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہوگا۔ اگر کوئی درخت حدود حرم میں کسی شخص کی ملکیت میں اگ آیا تو اس کے کاٹنے پر اس کی قیمت حرمت حرم کی وجہ سے واجب ہوگی جس کا صدقہ کرنا لازم ہوگا۔ اور ایک قیمت بطور ضمان اس کے مالک کو دینی ہوگی۔ اور اگر حرم کے کسی ایسے درخت کو کاٹ دیا جسے لوگ اگاتے ہیں۔ تو اس صورت میں صرف مالک کو قیمت دینا واجب ہوگی۔
Ayah 5:96احرام میں سمندر کا شکار کرنے کی اجازت
آخر میں فرمایا (اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَ للسَّیَّارَۃِ ) مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے سمندر کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال ہے اس میں محرم اور غیر محرم دونوں برابر ہیں پہلے سے دریائی شکار کر کے سفر میں جاتے وقت ساتھ لے گئے یا سفر میں دریائی شکار کرلیں، یہ مسافروں کے لئے درست ہے محرم ہوں یا غیر محرم۔ اور خشکی کا شکار محرم کے لئے حرام قرار دیا گیا خواہ کسی قسم کے احرام میں ہو (احرام عمرہ ہو یا احرام حج یا احرام قرآن ) ۔
(وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ) یعنی جملہ احکام کی پابندی کرو اللہ سے ڈرو اس کے اوامرو نواہی کی مخالفت نہ کرو۔ اس کی طرف سب کو جمع ہونا ہے۔ وہاں پیشی ہے حساب ہے لہٰذا وہاں کے لئے فکر مند رہو۔
Ayah 5:97کعبہ شریف لوگوں کے قائم رہنے کا سبب ہے
کعبہ (جس کے حروف اصلی ک، ع، ب ہیں) عربی زبان میں اوپر کو اٹھے ہوئے چو کور گھر کو کہتے ہیں۔ کعبہ شریف کی جگہ نشیب میں ہے اور کعبہ شریف دور سے اٹھا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ جب کعبہ شریف بنایا گیا تھا اس وقت اس کے چاروں طرف مسجد حرام بنی ہوئی نہیں تھی اس لئے دور سے اٹھا ہوا اور زمین سے ابھرا ہوا نظر آتا تھا اس ارتقاع کی وجہ سے اس کا نام ” کعبہ “ رکھا گیا۔ لفظ ” الکعبہ “ کے بعد ” البیت الحرام “ بھی فرمایا یعنی بہت محترم گھر اللہ تعالیٰ نے اس کو محترم قرار دیا۔ اس کی حرمت ہمیشہ سے ہے اس کا طواف بھی حرمت کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔
مکہ معظمہ کے چاروں طرف جو حرم ہے وہ بھی اسی کعبہ شریف کی وجہ سے محترم ہے اور اسی احترام کی وجہ سے حرم میں شکار کرنا اور اس کی گھاس اور درخت کا ٹنا ممنوع ہے حرم میں قتل و قتال بھی ممنوع ہے قتل و قتال کی ممانعت کا عقیدہ زمانہ جاہلیت میں بھی تھا۔
تفسیر در منثور میں ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کوئی شخص جرم کر کے حرم میں پناہ لے لیتا تھا تو اسے قتل نہیں کرتے تھے۔ آیت بالا میں ارشاد فرمایا کہ کعبہ جو بیت محترم ہے اللہ تعالیٰ نے اسے لوگوں کے قائم رہنے اور امن وامان کا ذریعہ بنایا جو بہت سے لوگوں کی معیشت کا ذریعہ بنا ہوا ہے زمین کے دور دراز گوشوں سے لوگ حج وعمرہ کی ادائیگی کے لئے مکہ معظمہ آتے ہیں شہر مکہ میں رہتے ہیں منیٰ میں قیام کرتے ہیں عرفات مزدلفہ میں وقوف کرتے ہیں ان سب کے آنے اور رہنے اور ضرورت کی اشیاء خریدنے کے باعث اہل عرب اور خاص کر اہل مکہ کی معیشت بنی رہتی ہے۔ اور اس خریداری کے اثرات پورے عالم کی فیکٹریوں اور کمپنیوں پر پڑتے ہیں۔ اہل مکہ کے لئے تو کعبتہ اللہ ذریعہ قیام اور بقاء ہے ہی بعض اعتبار سے پورے عالم کی بقاء کا ذریعہ ہے بحری جہازوں سے لوگوں کی آمد ہوائی جہازوں کی اڑان کروڑوں روپے کے کرائے اور بسوں اور کاروں کے سفر ان سب کے ذریعہ جو عرب و عجم میں مالی آمدنی ہے پورے عالم کو اس کا اقتصادی فائدہ پہنچتا ہے۔
سورة قصص میں فرمایا (اَوَ لَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (کیا ہم نے ان کو امن وامان والے گھر میں جگہ نہیں دی۔ جہاں ہر قسم کے پھل کھچے چلے آتے جو ہمارے پاس سے بطور رزق ان کو ملتے ہیں لیکن ان میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے) پھر چونکہ حج ایک عظیم عبادت ہے جو سراپا اللہ کے ذکر سے معمور ہے۔ اور اللہ کا ذکر ہی اس عالم کی روح ہے اس لئے بھی کعبہ شریف سارے عالم کی بقاء کا ذریعہ ہے۔ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک دنیا میں ایک مرتبہ بھی اللہ اللہ کہا جاتا رہے گا۔ (رواہ مسلم ص 84 جلد نمبر 1) جب دنیا میں کوئی بھی ایمان والا نہ رہے گا تو کعبہ شریف کا حج بھی ختم ہوگا۔ کعبہ شریف کا ختم ہوجانا بھی دنیا کی بربادی کا ذریعہ ہے۔
بعض حضرات نے ” قِیاماً “ کا ترجمہ ” اَمْنًا “ سے بھی کیا۔ بلا شبہ حرم مکہ زمانہ قدیم سے مَا مَنْ یعنی امن کی جگہ ہے سورة بقرہ میں فرمایا (وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَیْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا) (اور جب ہم نے کعبہ لوگوں کے جمع ہونے کی جگہ اور امن کی جگہ بنایا) اور سورة عنکبوب میں فرمایا (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِھِمْ ) (کیا انہیں معلوم نہیں کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنا دیا اور ان کے گرد و پیش سے لوگوں کو اچک لیا جاتا ہے) بلاشبہ عبادات اور مالیات اور امن وامان یہ سب انسانوں کے قیام اور بقا کا ذریعہ ہے۔
ھدی کے جانور
ھدی وہ جانور ہے جو بطور نیاز کعبہ شریف کی طرف بھیجا جائے، ہدی واجب بھی ہوتی ہے اور مستحب بھی، اور دم جنایات جو واجب ہیں حرم ہی میں ان کو ذبح کیا جاتا ہے۔ دم تمتع اور دم قرآن بھی حرم ہی کے اند رذبح کرنا لازم ہے اور شکار کے بدلے جو جانور ذبح کیا جائے اس کے بارے میں بھی (ھَدْیًا بالِغَ الْکَعْبَۃِ ) فرمایا ہے۔ ھدی کے جانوروں کا حدود حرم میں ذبح کرنا لازم ہے آجکل ھدی کے جانور منیٰ میں ہی مل جاتے ہیں۔ زمانہ قدیم میں ھدی کے جانور اپنے وطن سے ساتھ لایا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ عمرہ حدیبیہ کے موقعہ پر اور حجتہ الوداع کے موقع پر ھدی کے جانور ساتھ لے گئے تھے۔ ا ورعام طور سے ھدی کے جانور ساتھ لانے کا دستور تھا۔
القلائد :
صاحب روح المعانی نے ج 7 ص 36 لکھا ہے کہ ” القلائد “ سے ذوات القلائد مراد ہیں۔ اونٹوں کے گلوں میں قلائد یعنی پٹے ڈال دیا کرتے تھے ھدی کے ذکر کے بعدا ونٹوں کا ذکر مستقل طریقہ پر کیا کیونکہ ان کے ذبح کرنے میں ثواب زیادہ ہے۔ 1 ھ
خلاصہ یہ ہے کہ کعبہ شریف اور اس سے متعلقہ چیزیں جن میں شہر حرام اور ھدی کے چھوٹے بڑے جانور بھی ہیں انکو لوگوں کے قیام اور بقا کا ذریعہ بنایا۔ اہل عرب شہر حرام میں امن وامان سے رہتے تھے۔ بےتکلف حج بھی کرتے تھے اور دوسری اغراض دنیویہ کے لئے بھی نکلتے تھے اور جن قبیلوں میں آپس میں دشمنی ہوتی تھی وہ بھی ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرتے تھے اور ھدی کے جانوروں کا گوشت کھانا بھی معمول تھا۔ پھر ان جانوروں کی خریدو فروخت بھی ہوتی تھی اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے ان سب وجوہ سے کعبہ اور شہر حرام اور ھدی کے جانور یہ سب لوگوں کے قیام یعنی بقاء کا ذریعہ ہیں۔
قال الجصاص فی احکام القرن ص 482 ج 2 وھذا الذی ذکرہ اللہ تعالیٰ من قوام الناس بمناسک الحج والحرام والا شھر الحرم والھدی والقلائد معلوم مشاھد فلانریٰ شیئامن امر الدین والدنیا تعلق بہ من صلاح المعاش والمعاد بعد الایمان ما تعلق بالحج الاتری الی کثرۃ منافع الحاج فی المواسم التی یردن علیھا من سائر البلدان التی یجتازون بمنی و بمکۃ الی ان یرجعو الیٰ اھالیھم وانتفاع الناس بھم وکثرۃ معایشھم وتجارتھم معھم (الی اخر ماقال) ۔
پھر فرمایا (ذٰلِکَ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِِیْمٌ) (اور یہ اس لئے کہ تم جان لو کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور بیشک اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے)
شیخ ابوبکر جصاص لکھتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کے بارے میں خبر دی ہے کہ اس کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔ اس نے دین و دنیا کے منافع حج میں رکھ دئے۔ یہ تدبیر ایسی عجیب ہے کہ جس میں امت کے لئے اول سے لیکر آخر تک یعنی قیامت کے دن آنے تک سب کی صلاح کا انتظام ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ عالم الغیب نہ ہوتا اور تمام اشیاء کو انکے وجود سے پہلے نہ جانتا تو ایسی تدبیر نہیں ہوسکتی تھی جس میں بندوں کی دین و دنیا کی صلاح ہے۔
Ayah 5:98پھر فرمایا (اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (بلا شبہ جان لوگ کہ اللہ سخت عذاب والا ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے)
اس میں تنبیہ ہے کہ احکام الہٰی کی خلاف ورزی نہ کرو اور احیانا کہیں خلاف ورزی ہوجائے تو جلدی سے توبہ کرو اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو وہ غفورحیم ہے۔
Ayah 5:99پھر فرمایا (مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَکْتُمُوْنَ ) (رسول کے ذمہ نہیں ہے مگر پہنچانا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو) اس میں اس پر تنبیہ ہے کہ تمام احکام کی پابندی کرو رسول ﷺ کے ذمہ صرف پہنچا دینا ہے آگے عمل کرنا تمہارا پنا کام ہے۔
ہر طرح کے اعمال ظاہرہ اور باطنہ کو صحیح طریقہ پر انجام دو ۔ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام ارادوں سے اور تمام اعمال باطنہ اور اعمال ظاہرہ سے باخبر ہے وہ ہی حساب لے گا اور جزا دے گا۔
Ayah 5:100خبیث اور طیب برابر نہیں ہیں
لباب النقول ص 98 میں اس آیت کا سبب نزول یہ بیان کیا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے شراب کی حرمت بیان فرمائی تو ایک دیہات کا رہنے والا آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ میں شراب کی تجارت کرتا تھا اس کے ذریعہ میں نے مال حاصل کیا اگر یہ مال اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں خرچ کروں تو کیا یہ مال مجھے نفع دے گا ؟
نبی اکرم ﷺ نے جواب ارشاد فرمایا اِنَّ اللّٰہَ لا یقبل الا الطیب ( کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا۔ مگر پاکیزہ مال کو) اس پر اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ نے کی تصدیق فرماتے ہوئے آیت (قُلْ لاَ یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ ) نازل فرمائی۔
اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ شراب کی حرمت سے جو مال پہلے کمایا ہوا تھا وہ تو حلال ہونا چاہئے اس کو خبیث کیوں فرمایا ؟
بصورت صحت حدیث اس اشکال کا یہ جواب ہوسکتا ہے کہ چونکہ شراب کی حرمت نئی نئی نازل ہوئی تھی اس لئے کلی طور پر اس کے منافع سابقہ اور لاحقہ سب سے منع فرما دیا۔ یہ تشدید اس لئے کی گئی کہ شراب کے منافع سے بالکل ہی دست بردار ہوجائیں۔ اور دلوں میں اس سے کسی قسم کا لگاؤنہ رہے آیت کا سبب نزول جو کچھ بھی ہو بہر حال اس میں ایک اصولی بات بتاد ی اور وہ یہ خبیث اور طیب برابر نہیں۔
خبیث بری چیز کو اور طیب اچھی کو کہتے ہیں۔ بعض حضرات نے خبیث کا ترجمہ ناپاک اور طیب کا ترجمہ پاک کیا ہے۔ آیت کا مفہوم عام ہے اچھے برے اعمال اور اچھے برے اموال اور اچھے برے افراد سب کو شامل ہے۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ خبیث سے حرام مال اور طیب سے حلال مراد ہے بعض حضرات نے خبیث سے کافر اور طیب سے مومن مراد لیا۔ ان اقوال میں کوئی تعارض نہیں الفاظ قرآنیہ کا عموم ان سب کو شامل ہے۔ کسب مال میں بھی حلال کا دھیان رکھا جائے۔ اور جب اللہ پاک کی راہ میں خرچ کرنے لگیں تو حلال اور عمدہ مال خرچ کریں اور مومن کو کافر پر ترجیح دیں البتہ ظلم کسی پر نہ کریں۔
حرام مال سے صدقہ قبول نہیں ہوتا
حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی بندہ حرام کمائے گا پھر اس میں سے صدقہ کریگا تو قبول نہ کیا جائے گا اور اس میں سے خرچ کریگا تو اس میں برکت نہ ہوگی اور اپنے پیچھے چھوڑ جائے گا تو یہ اس کے لئے دوزخ میں جان کا توشہ ہوگا۔ بیشک اللہ برائی کو برائی سے نہیں ہٹاتا (یعنی مال خبیث کما کر اس میں سے صدقہ کردے تو اس صدقہ سے حرام مال پاک نہ ہوجائیگا اور حرام کمانے کا گناہ معاف نہ ہوگا) (مشکوۃ المصابیح ص 242) وَلَوْ اَعْجَبَکَ کَفْرَۃُ الْخَبِیْثِمیں یہ ارشاد فرمادیا کہ کسی چیز کا زیادہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ اچھی بھی ہو۔ دنیا میں کافر زیادہ ہیں اس کثرت کی وجہ سے وہ اللہ کے نزدیک اچھے نہیں ہوگئے جو لوگ اسلام کے دعویدار ہیں ان میں بھی اکثر وہ ہیں جو بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہیں۔ بعض لوگ ان کی اکثریت دیکھ کر گناہوں کی راہ اختیار کرتے ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ گناہ چھوڑو تو کہہ دیتے ہیں کہ لاکھوں آدمی گناہ کر رہے ہیں یہ بھی اللہ کے بندے ہیں، یہ جاہلانہ جواب ہے اللہ کے بندے تو ہیں مگر گناہگار بندے ہیں۔ تمہیں پرہیزگار بندوں کی راہ اختیار کرنی چاہئے برے بندوں کے پیچھے کیوں چلتے ہو۔
الیکشن کی قباحت
آیت کریمہ سے الیکشن کی قباحت بھی معلوم ہوگئی چونکہ الیکشن کی بنیاد اکثریت پر رکھی گئی ہے اس لئے الیکشن میں وہ آدمی جیت جاتا ہے جس کو ووٹ زیادہ مل جائیں بلکہ جس کے حق میں ووٹوں کی گنتی زیادہ ہوجائے وہ جیتنا ہے خواہ کسی طرح بھی ہو۔ دھاندلی بھی کی جاتی ہے ووٹ خریدے بھی جاتے ہیں فریق مخالف کے ووٹوں کے بکس بھی غائب کئے جاتے ہیں۔
قطع نظر ان سب باتوں کے اکثریت پر کامیابی کی بنیاد رکھنا یہ مستقل وبال ہے اور غیر کے دین پر نہ خود چلنا ہے نہ دوسروں کو چلنے دینا ہے ایسے لوگوں کی رائے کا شرعاً کچھ وزن نہیں۔ دنیا میں جب سے جمہوریت کا سلسلہ چلا ہے بہت سے لوگ جنہیں علم کا گمان بھی ہے وہ بھی جمہوریت کے لئے اپنی کوششیں خرچ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہماری کوشش سے فلاں ملک میں جمہوریت گئی ہے گویا انہوں نے دین کا بہت بڑا کام کردیا۔ یہ لوگ جمہوریت کے دینی نقصانات جانتے ہوئے اس کے لئے اپنی کوششیں صرف کرتے ہیں پھر جمہوریت کے اصول پر جو بھی کوئی بد سے بدتر ملحد زنذیق منکر اسلام منتخب ہوجائے اسے مبارکباد دیتے ہیں ‘ کسی حلقے میں ووٹ ہوں اور اکیاون ووٹ کسی ملحد بےدین کو مل جائیں (جو اسی جیسے بےدینوں سے ملتے ہیں) تو فاسق فاجر الیکشن جیت لیتا ہے اور کامیاب سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کے کسی ملک کے چھوٹے بڑے عہدہ کے لئے کسی بھی فاسق فاجر کی رائے پر اعتماد کرنا درست نہیں جو لوگ اکثریت کے فیصلہ پر ایمان لاتے ہیں (اور اکثریت کا بےدین فاسق فاجر ہونا معلوم ہے) وہ (وَ لَوْ اَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ ) پر بار بار دھیان کریں۔ پھر فرمایا (فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) کہ (اے عقل والو ! اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں ج 7 ص 37۔
” اں مدار الاعتبار ھوالخیر یۃ والرداء ۃ لا الکثرہ والقلۃ “ (ج)
یعنی خبیث کے بچنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو اگرچہ زیادہ ہو اور طیب کو ترجیح دو اگرچہ کم ہو کیونکہ اچھا یا برا ہونے کا مدار اچھائی اور برائی اختیار کرنے پر ہے قلت یا کثرت پر نہیں۔
Ayah 5:101بےضرورت سوالات کرنے کی ممانعت
مفسر ابن کثیر نے ج 2 ص 105 بحوالہ جریر حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ ﷺ باہر تشریف لائے اس وقت غصے کی حالت میں تھے چہرہ انور سرخ ہو رہا تھا، آپ منبر پر تشریف فرما ہوگئے۔ ایک شخص نے سوال کیا کہ میرا ٹھکانہ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا دوزخ میں ہے پھر ایک اور آدمی کھڑا ہو اس نے کہا میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے۔
یہ منظر دیکھ کر حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے اور (آپ کا غصہ ٹھنڈا کرنے اور آپ کو راضی کرنے کے لئے) یہ پڑھنے لگے رَضِیْنَا بِا للّٰہِ رَبًّا وَّ بالْاِسْلَامِ دِیْناً وَّ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ نَبِیّاً وَ بالْقُرْاٰٰنِ اِمَامًا (ہم راضی ہیں اللہ کے رب ہونے پر اور اسلام کے دین ماننے پر اور محمد ﷺ کے نبی ماننے پر اور قرآن کو امام ماننے پر) اس کے بعد عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم لوگ جاہلیت اور شرک میں تھے نئے نئے مسلمان ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ ہمارے باپ کون ہیں۔ یہ سن کر آپ ﷺ کا غصہ ٹھہر گیا اور آیت (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْءَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَلَکُمْ تَسُؤْکُمْ ) نازل ہوئی۔ صحیح بخاری ج 2 ص 665 میں ہے کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے بطور تمسخرو استہزاء پوچھا کرتے تھے، کوئی کہتا تھا میرا باپ کون ہے ! اور کوئی کہتا تھا میری اونٹنی کہاں ہے ! اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔
مفسر ابن کثیر نے حضرت علی ؓ سے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ جب آیت (وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً ) نازل ہوئی۔ تو بعض صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہر سال حج فرض ہے آپ نے خاموشی اختیار فرمائی، حاضرین نے دوبارہ سوال کیا تو فرمایا نہیں ! (ہر سال فرض نہیں ہے) اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو ہر سال حج کرنا واجب ہوجاتا۔ اور اگر ہر سال واجب ہوجاتا تو تم اس کی طاقت نہ رکھتے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت شریفہ مذکورہ بالا (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْءَلُوْا) نازل فرمائی۔
اسباب نزول متعدد بھی ہوسکتے ہیں اس میں کوئی تعارض کی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے آیت کریمہ میں مسلمانوں کو اس بات کی ہدایت فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ سے ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کیا کرو جن کی ضرورت نہیں ہے، اور جن کے ظاہر کرنے سے سوال کرنے والے کو نا گواری ہوگی اور جواب اچھا نہ لگے گا ایک آدمی نے پوچھ لیا کہ میرا ٹھکانہ کہاں ہے آپ نے جواب دیدیا کہ دوزخ میں ہے بات معلوم کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ پھر جو جواب ملا وہ گوارا نہ تھا یوں تو حضرات صحابہ ؓ مسائل و احکام تو دریافت کیا ہی کرتے تھے اور سوال کرنے کا حکم بھی ہے جیسا کہ سورة نحل اور سورة انبیاء میں ارشاد ہے (فَاسْءَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکِرْ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ ) (سو سوال کرو اہل علم سے اگر تم نہیں جانتے) معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا آیت میں جن چیزوں کے بارے میں سوال کرنے سے ممانعت فرمائی ہے وہ ایسی چیزیں ہیں جن کی ضرورت نہ ہو۔
صاحب روح المعانی 39 ج 7 لکھتے ہیں۔
والمراد مالا خیرلھم فیہ من نحو التکالیف الصعبۃ التی لا یطیقونھا والا سرار الخفیۃ التی قد یفتضحون بھا فکما ان السؤال عن الامور الواقعۃ مستتبع لابداء ھا کذلک السؤال عن تلک التکالیف مستتبع لا یجابھا علیھم بطریق التشدید لا سائتھم الادب وترکھم ماھو الاولیٰ بھم من الاستسلام لا مراللّٰہ تعالیٰ من غیر بحث فیہ ولا تعرض عنالکیفیۃ واللکمیّۃ اھ۔
یعنی آیت بالا میں جن اشیاء کے بارے میں سوال کرنے کی ممانعت فرمائی ہے ان سے وہ سخت احکام مراد ہیں جن کی طاقت نہیں اور وہ پوشیدہ بھید کی چیزیں مراد ہیں جن کے ظاہر کرنے میں لوگوں کی رسوائی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ جس طرح گزشتہ امور کے بارے میں سوال کرنے پر نتیجہ اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کو ظاہر کیا جائے اسی طرح تکالیف شاقہ یعنی سخت احکام کے بارے میں سوال کرنا اس امر کو مستلزم ہے کہ حکماً ان احکام کو بطور سزا سوء ادبی کی پاداش میں واجب کردیا جائے، اور جو طریقہ اختیار کرنا چائے تھا یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کو مان لینا اور کیفیت اور کمیت کی بحث میں نہ پڑنا اس کے ترک کرنے کی وجہ سے حکم میں تشدید کردی جاتی ہے۔
پھر فرمایا (وَ اِنْ تَسْءَلُوْا عَنْھَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَلَکُمْ ) یعنی نزول قرآن کے وقت سوال کرو گے تو تمہارے سوالوں کا جواب بذریعہ وحی دیدیا جائے گا۔ اور سوال کا جواب ملے گا تو ضروری نہیں کہ سائل کی مرضی کے مطابق ہو۔ لہٰذا سوال نہ کرنا ہی صحیح ہے۔
علامہ ابوبکر جصاص ؓ احکام القرآن ج 2 ص 483 میں تحریر فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ میں ان چیزوں کے بارے میں سوال کرنے سے ممانعت فرمائی ہے جن کے جاننے کی حاجت نہیں تھی مثلاً عبد اللہ بن حذافہ ؓ نے پوچھ لیا میرا باپ کون ہے ؟ اس سوال کی ضرورت نہ تھی کیونکہ وہ حسب قاعدہ شرعیہ الولد للفراش حذافہ ہی سے ثابت النسب تھے پھر اگر واقعۃً حذافہ کے نطفہ کے علاوہ کسی دوسرے کے نطفہ سے پیدا ہوئے ہوتے اور آپ ﷺ اس کو ظاہر فرما دیتے تو کس قدر رسوائی ہوتی۔
اسی طرح وہ جو ایک صحابی نے دریافت کرلیا ” کیا ہر سال حج فرض ہے ؟ “ اس کی کوئی ضرورت نہ تھی اگر رسالت مآب ﷺ فرما دیتے کہ ہاں ! ہر سال فرض ہے تو ساری امت کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوجاتی۔
پھر فرمایا (عَفَا اللّٰہُ عَنْھَا) اس کی ایک تفسیر تو یہ کی گئی ہے کہ اب تک جو تم نے نا مناسب سوال کئے ہیں یہ سوال کرنا اللہ نے معاف ہیں، یعنی جو حکم نہیں کئے گئے ان کے بارے میں سوال نہ کرو۔ ہوسکتا ہے سوال کرنے سے ان کے بارے میں حکم نازل ہوجائے، اور جب تک کسی چیز کے بارے میں نفیاً اثباتاً کوئی حکم نہیں ہے اس کے بارے میں تمہیں اختیار ہے اسے کرو یا نہ کرو۔ سوال کر کے اور کرید کر اپنے اوپر کوئی چیز واجب کیوں کراتے ہو ؟
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر فرمائے ہیں تم انہیں ضائع نہ کرو اور کچھ حدود مقرر فرمائی ہے تم ان سے آگے نہ بڑھو اور کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے تم ان کا ارتکاب نہ کرو۔ اور تم پر مہربانی فرماتے ہوئے بہت سی چیزوں سے خاموشی اختیار فرمائی اور یہ خاموشی بھولنے کی وجہ سے نہیں ہے لہٰذا تم ان کے بارے میں سوال نہ کرو۔ (رواہ الدار قطنی وغیرہ کمال قال النووی فی اربعینہ وقال حدیث حسن )
Ayah 5:102گزشتہ قوموں نے سوال کئے پھر منکر ہو گئے
پھر فرمایا (قَدْ سَاَلَھَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِکُمْ ثُمَّ اصْبَحُوْا بِھَا کٰفِرِیْنَ ) کہ تم سے پہلے لوگوں نے سوال کئے تھے پھر ان کے منکر ہوگئے یعنی جب ان سوالات کا جواب دیا گیا تو ان جوابوں سے منتفع نہ ہوئے اور جو حکم ملا اس پر عمل نہ کیا۔ یہود و نصاریٰ کی ایسی عادت تھی پوچھتے تھے پر عمل نہیں کرتے تھے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کا یہ سوال کرنا کہ آسمان سے مائدہ نازل ہو۔ یہ تو مشہور ہی ہے مائدہ نازل ہوا تو ان لوگوں سے کہا گیا تھا کہ جو کھا سکتے ہو کھالو۔ اس سے اٹھا کر نہ رکھنا لیکن وہ لوگ نہ مانے اور گنہگار ہوئے۔ اسی طرح قوم ثمود نے پہاڑ سے اونٹنی نکالنے کا سوال کیا پھر جب اونٹنی نکل آئی تب بھی ایمان نہ لائے اور اونٹنی کو کاٹ ڈالا۔
جو کوئی ضرورت پیش آگئی ہو اس کے بارے میں سوال کرنا درست ہے اور خواہ مخواہ بلا ضرورت سوال کرنے میں اضاعت وقت بھی ہے اور لایعنی کا ارتکاب بھی، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مِنْ حُسْنِِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْکُہٗ مَا لَا یَعْنِیْہِ (ترمذی) یعنی انسان کے اسلام کے ایک خوبی یہ ہے کہ لایعنی چیزکو چھوڑ دے۔ لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ فرائض وواجبات تک نہیں جانتے نماز تک یاد نہیں لیکن ادھر ادھر کے سوالات کرتے رہتے ہیں۔
علامہ ابوبکر جصاص ؓ کا ارشاد
علامہ ابوبکر جصاص ؓ احکام القرآن میں تحریر فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے آیت بالا سے اس پر استدلال کیا ہے کہ حوادث اور نوازل کے بارے میں جواب وسوال نہ کیا جائے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے بیان نہیں فرمائے تو ہمیں ان کی حاجت نہیں لہٰذا جو احکام غیر منصوص ہیں ان کے بارے میں غوروفکر کی ضرورت نہیں ان لوگوں کا یہ کہنا صحیح نہیں احکام غیر منصوصہ کے بارے میں سوال کرنا آیت کے مفہوم میں داخل نہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے ناجیہ بن جندب ؓ کو ھدی کے اونٹ حرم مکہ لے جانے کی ذمہ داری پیش کی تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اگر ان میں سے کوئی جانور ہلاک ہونے لگے تو اس کا میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا کہ اس کو ذبح کردینا اور اس کے جوتے کو (جو بطور نشانی کی اس کی گردن میں پڑا ہو کہ یہ ھدی کا جانور ہے) خون سے رنگ دینا۔ حضرت ناجیہ ؓ نے ایک صورت حال کے بارے میں سوال کیا جو پیش آسکتی تھی۔ آپ کو اس سوال سے بھی ناگواری نہ ہوئی اور جواب عنایت فرما دیا۔
شیخ ابوبکر جصاص ؓ نے اور دو تین روایتیں ایسی نقل کی ہیں جن میں پیش آسکنے والے واقعات کے بارے میں سوال پیش کرنے پر آنحضرت ﷺ کے جواب دینے کا ذکر ہے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں اس طرح کی بہت احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امور غیر منصوصہ کے بارے میں سوال کرنا ممنوع نہیں پھر لکھتے ہیں کہ صحا بہ کرام ؓ مسجد میں جمع ہوتے اور نئے نئے مسائل کے بارے میں آپس میں مذاکرہ کرتے تھے اور یہی حضرات تابعین کا معمول رہا اور ان کے بعد فقہا نے اپنا معمول بنا لیا اور آج تک ایسا ہورہا ہے اس کے بعد شیخ ابوبکر جصاص ؓ لکھتے ہیں کہ امور غیر منصوصہ کے بارے میں بولنے سے اور ان کا فقہ مستنبط کرنے سے عاجز رہے۔ نبی اکرم ﷺ کا ارشا ہے :
” رب حامل فقہ غیر فقیہ و رب حامل فقہ الی من ھوا فقہ منہ “ (بہت سے حامل فقہ ایسے ہیں جو خود فقیہ نہیں اور بہت سے حامل فقہ ایسے ہیں جو اپنے سے زیادہ فقیہ تک پہنچا دیتے ہیں)
علامہ جصاص ؓ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ جماعت جو احکام غیر منصوصہ میں غور فکر کرنے کا انکار کرتی ہے یہ لوگ اس آیت کا مصداق ہے۔ (مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوْا التَّوْرَاۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْھَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا)
Ayah 5:103مشرکین عرب کی تردید جنہوں نے بعض جانوروں کو حرام قرار دے رکھا تھا اور ان کے نام تجویز کر رکھے تھے، اور اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے
دنیا میں جو گمراہیاں پھیلیں ان میں سب سے بڑی گمراہی شرک ہے اور شرک کی بہت سی انواع و اقسام ہیں جن میں سے بعض اقسام ایسی ہیں کہ ان میں جانوروں کو ذریعہ شرک بنایا گیا۔ جیسا کہ سورة نساء (20) میں گذرا ہے کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ کے حضور میں یہ کہا تھا۔
(لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا وَّ لَاُضِلَّنَّھُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّھُمْ وَلَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّھُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰہِ ) (میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقرر حصہ لوں گا اور میں ان کو گمراہ کروں گا اور میں ان کو آرزوؤں میں پھنسا دوں گا، اور میں ان کو حکم کروں گا جس کی وجہ سے وہ چارپایوں کے کانوں کو کاٹیں گے، اور میں ان کو حکم کروں گا جس کی وجہ سے اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑیں گے) ۔
شیطان نے اپنی کوششیں جاری رکھیں اور بہت سے لوگوں کو اپنی طرف لگا لیا شرک و کفر میں ڈال دیا اور مشرکوں نے بتوں کے نام پر جانوروں کے کان بھی کاٹے اور کئی طریقہ سے جانوروں کو شرک کا ذریعہ بنایا جس طرح بتوں کے نام تجویز کرلیتے تھے اسی طرح جانوروں کے نام بھی مقرر کرلیتے تھے۔
آیت بالا میں اس طرح کے چار ناموں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ اول بحیرہ۔ دوم سائبہ، سوم وصیلہ، چہارم حام۔
بحیرہ
بحیرہ کی کئی تفسیریں لکھی ہیں ان میں سے ایک قول زجاج نے نقل کیا ہے اور وہ یہ کہ اہل جاہلیت یہ کرتے تھے کہ جب کسی اونٹنی سے پانچ مرتبہ بچے پیدا ہوجاتے اور پانچویں مرتبہ مذکر ہوتا تو اس کے کان کو چیر دیتے اور پھر اسے نہ ذبح کرتے تھے اور نہ اس پر سواری کرتے۔ اور پھر اسے نہ پانی سے روکا جاتا اور نہ کسی جگہ چرنے سے منع کیا جاتا تھا۔
اور حضرت قتادہ تابعی سے یوں نقل کیا ہے کہ جب کسی اونٹنی کے پانچ بچے ہوجاتے تو پانچویں بچے کو دیکھتے اگر نر ہوتا تو ذبح کر کے کھا جاتے اور مادہ ہوتا تو کان چیر کر چھوڑ دیتے تھے وہ چرتا پھرتا تھا اور اس سے سواری وغیرہ کا کوئی کام نہیں لیتے تھے اور بھی بعض اقوال نقل کئے ہیں۔
سائبہ
سائبہ کے بارے میں مختلف اقوال لکھے ہیں۔ محمد بن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ سائبہ وہ اونٹنی ہوتی تھی جس کے دس بچے پیدا ہوجاتے اسے چھوڑ دیتے تھے نہ اس پر سواری کرتے تھے اور نہ اس کے بال کاٹتے تھے اور نہ اس کا دودھ دوہتے تھے۔ ہاں اگر کوئی مہمان اس کا دو دھ لیتاتو اس کی اجازت تھی۔
اور ایک قول یہ نقل کیا ہے کہ سائبہ وہ جانور تھا جسے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور بت خانوں میں جو بچاری رہتے تھے ان کے حوالے کردیتے تھے اور اس کا گوشت صرف مسافر اور انہی کی طرح کے لوگ کھاتے تھے۔
یہ تفسیر حضرت ابن عباس اور حضرت ابن مسعو ؓ سے منقول ہے،
وصیلہ
وصیلہ کے بارے میں بھی کئی قول نقل کئے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ” وصیلہ “ اس بکری کو کہتے تھے جس کے سات مرتبہ بچے پیدا ہوجائیں۔ ساتویں نمبر اگر بچی پیدا ہوئی تو اس سے عورتیں ذرا بھی منتفع نہیں ہوسکتی تھیں۔ ہاں اگر وہ مرجاتی تو مرد اور عورت سب اسے کھا سکتے تھے۔ اور اگر ساتویں مرتبہ کے حمل سے ایک بچہ اور ایک بچی (نر و مادہ) پیدا ہوگئے تو کہتے تھے کہ ” وصلت اخاھا “ (کہ اپنے بھائی کے ساتھ جڑواں پیدا ہوئی ہے) پھر ان دونوں کو چھوڑ دیتے تھے اور اس سے صرف مرد منتفع ہوتے تھے۔ عورتیں منتفع نہیں ہوتی تھں۔ اگر یہ مادہ مرجاتی تو عورتیں مرد سب منتفع ہوتے تھے۔
اور محمد بن اسحاق کا قول ہے کہ ” وصیلہ “ وہ بکری تھی جس کے پانچ بطن سے متواتر دس مادہ پیدا ہوجائیں۔ پھر جب نر اور مادہ دونوں ایک ہی حمل سے پیدا ہوجاتے تو کہتے تھے کہ یہ اپنے بھائی کے ساتھ جڑواں پیدا ہوئی۔ لہذا اسے ذبح نہیں کرتے تھے۔
حام
حام کی تفسیر میں بھی اختلاف ہے۔ یہ حمی یحمی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے جس کا معنی بچانے اور محفوظ رکھنے کا ہے۔ فراء کا قول ہے کہ جس سانڈ کے بیٹے کا بیٹا اونٹنی کو حاملہ کردیتا تھا اس اونٹ کو حامی کہتے تھے اس پر سواری نہیں کی جاتی تھی آزاد چھوڑدیا جاتا تھا۔ اور کہتے تھے کہ اس نے اپنی کمر کی حفاظت کرلی اسے کسی جگہ پانی سے یا چراگاہ سے ہٹایا نہیں جاتا تھا اور ایک قول یہ ہے کہ جس سانڈ کی پشت سے دس مرتبہ حاملہ ہو کر اونٹنی بچے جن لیتی تھی اسے حامی کہتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ اس نے اپنی کمر کی حفاظت کرلی اب اس پر نہ بوجھ لادا جائے گا اور نہ کسی پانی اور گھاس کی جگہ سے ہٹایا جائیگا۔ اللہ تعالیٰ کے دین اور شریعت سے ان باتوں کا کچھ بھی خیال نہ تھا۔ لیکن وہ یوں کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہم یوں کرتے ہیں شرک بھی کرتے تھے اور پھر اللہ کی طرف اس کی نسبت بھی کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ نے فرمایا کہ اللہ نے ان جانوروں کے بارے میں احکام نازل نہیں فرمائے بلکہ ان لوگوں نے خود تجویز کئے اور اللہ پاک پر تہمت رکھ دی کہ اللہ نے ہمیں حکم دیا۔
(وَّ لٰکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ) (لیکن جن لوگوں نے کفر کیا وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں) تحلیل، تحریم کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کسی مخلوق کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے طریقہ سے کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دیدے۔ اول تو یہ جانوروں کو خود حرام قراردیدینا بہت بڑا گناہ ہے پھر اس تحریم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا جبکہ اس نے ان کے حرام ہونے کی کوئی تصریح نہیں فرمائی یہ گناہ در گناہ ہے۔ شیطان کا یہ طریقہ رہا ہے کہ لوگوں سے شرک کرواتا ہے اور پھر اپنے ماننے والوں کو یہ سمجھاتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا بتایا ہوا طریقہ ہے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن کی نماز پڑھائی نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ مجھے اس مقام میں وہ سب چیزیں دکھائی گئیں جن کی تم کو خبر دی گئی ہے میں نے یہاں جنت کو دیکھا اور دوزخ کو بھی دیکھا اور میں نے دوزخ میں عمر و بن لحی کو دیکھا اور یہ وہ شخص تھا جس نے ” سائبہ “ جانوروں کا طریقہ جاری کیا۔ (صحیح مسلم ج 1 ص 296)
عمرو بن لحی نے سوائب کا سلسلہ جاری کردیا تھا۔ اور عرب کے لوگ اسی کی راہ کو اختیار کئے ہوئے تھے اور اس طریقہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا ہے۔ آیت کریمہ میں اس کی تردید فرمائی اور یہ بھی فرمایا (وَ اَکْثَرُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ ) کہ ان میں اکثر لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔
Ayah 5:104اہل جاہلیت کہتے تھے کہ ہم نے جس دین پر اپنے باپ دادوں کو پایا ہے وہ ہمیں کافی ہیں
اہل جاہلیت نے جو شرک اور کفر کے کام اختیار کر رکھے تھے اور جو تحلیل و تحریم کے احکام جاری کر رکھے تھے ان کے بارے میں ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نہ سند نہ تھی۔ جب ان سے پوچھا جاتا تھا کہ یہ کام تم کیوں کرتے ہو تو یوں کہہ دیتے تھے کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو اسی پر پایا ہے اور ہمیں اور کسی ہدایت کی ضرورت نہیں۔
جب اللہ تعالیٰ کی کتاب ان کے سامنے پیش کی جاتی تھی اور اللہ تعالیٰ کا رسول ﷺ انہیں دعوت حق دیتا تھا تو وہ اس کی طرف بالکل دھیان نہیں دیتے تھے اور یہ جاہلانہ جواب دے دیتے کہ ہمیں باپ دادوں کا اقتداء کافی ہے، اللہ جل شانہ نے ان کی جاہلیت کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَوَ لَوْ کَانَ اٰبَآؤُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْءًا وَّ لَا یَھْتَدُوْنَ ) معلوم ہوا کہ جو باپ دادے ہدایت پر ہوں ان کے راستہ پر چلنا درست ہے۔
اسی کو سورة انعام میں فرمایا (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ ھَدَی اللّٰہُ فَبِھُدٰ ھُمُ اقْتَدِہ) جاہل و کافر اور مشرک آباؤ اجداد و اسلاف کا اقتداء درست نہیں وہ خود بھی برباد ہیں اور جو ان کا اتباع اوراقتداء کرے گا وہ بھی برباد ہوگا۔
اللہ جل شانہ کے نزدیک حق کا معیار ” مَا اَنْزَلَ اللّٰہُ (یعنی اللہ تعالیٰ کی کتاب) اور اللہ کے رسول ﷺ کی تعلیم ہے۔ جو لوگ ان دونوں کا اتباع کرتے ہیں وہ لوگ قابل اتباع ہیں اور جو لوگ کتاب اللہ اور طریقہ رسول اللہ ﷺ کے خلاف چلتے ہیں انکی اتباع میں سراپا بربادی اور ہلاکت ہے مدعیان اسلام میں بہت سی بدعتیں اور شرکیہ رسمیں جا ری ہیں اور جو لوگ ان میں لگے ہوئے ہیں ان کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹنے کی دعوت دی جاتی ہے تو آباؤ اجداد کے اتباع کا سہارا لیتے ہیں۔ اور مزید گمراہی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ بدعتوں اور شرکیہ رسموں کا ایسا چسکا لگا ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی طرف آنے کو تیار نہیں ہوتے۔
Ayah 5:105اپنے نفسوں کی اصلاح کرو
اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا کہ اپنی جانوں کی فکر کریں اعمال صالحہ میں لگے رہیں اور گناہ سے بچتے رہیں۔ اگر خود ہدایت پر ہوں گے تو دوسرا کوئی شخص جو گمراہ ہوگا وہ ضرر نہ پہنچا سکے گا۔
الفاظ کے عموم سے یہ ابہام ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ضروری نہیں، لیکن حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس وہم کو دور فرما دیا اور فرمایا کہ تم لوگ یہ آیت (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّکُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ ) پڑھتے ہو اور اس کا مطلب غلط لیتے ہو کہ نہی عن المنکر ضروری نہیں تمہارا یہ سمجھنا صحیح نہیں۔ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ لوگ جب منکر کو دیکھیں اور اس کی تغییر نہ کریں (یعنی اسے دور نہ کریں) تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب پر عام عذاب بھیج دے گا۔ (تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 109 ازمسند احمد)
مفسر ابن کثیر نے بحوالہ عبدالرزاق نقل کیا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ سے ایک شخص نے آیتہ شریفہ (عَلَیْکُمْ اَنْفُسَکُمْ لَا یَضُرُّ کُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اھْتَدَیْتُمْ ) کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا کہ یہ وہ زمانہ نہیں ہے (جس میں اپنی ذات کو لے کر بیٹھ جاؤ اور نہی عن المنکر نہ کرو) آج تو بات مانی جاتی ہے۔ (یعنی تبلیغ کا اثر لیا جاتا ہے) ہاں عنقریب ایسازمانہ آئے گا کہ تم امر بالمعروف کروگے تو تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے گا۔ یا یوں فرمایا کہ اس وقت تمہاری بات قبول نہ کی جائے گی۔ اس وقت آیت پر عمل کرنے کا موقع ہوگا۔
سنن ترمذی میں ابو امیہ شعبانی کا بیان نقل کیا ہے کہ میں حضرت ابو ثعلبہ خشنی ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا اس آیت کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے اس آیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا آپ نے فرمایا کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرتے رہو یہاں تک جب تم دیکھو کہ کنجوسی کا اتباع کیا جاتا ہے اور خواہشات کا اتباع کیا جاتا ہے اور ہر رائے والا اپنی رائے کو پسند کرتا ہے تو اس وقت اپنی جان کی حفاظت کرلینا اور عوام کو چھوڑ دینا۔ کیونکہ تمہارے پیچھے ایسے دن آنے والے ہیں کہ ان میں دین پر جمنے والا ایساہو گا جیسے اس نے ہاتھ میں آگ کے انگارے پکڑ لئے ہوں۔ ان دونوں میں عمل کرنے والے کو ایسے پچاس آدمیوں کا ثواب ملے گا جو تمہارا جیسا عمل کرے۔ (قال الترمذی ہذا حدیث حسن)
ان روایات سے معلوم ہوا کہ آیت میں یہ نہیں بتایا کہ ہر شخص ابھی سے اپنی اپنی جان کو لیکر بیٹھ جائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے۔ اپنی جان کی صلاح واصلاح کے ساتھ لے کر بیٹھنے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر چھوڑ دینے کا وقت اس وقت آئیگا جب کوئی کسی کی نہ سنے گا۔ اور جو شخص امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انجام دے گا اس کو لوگوں کی طرف سے ایسی مصیبتوں اور تکلیفوں میں مبتلا ہونا پڑے گا۔ جیسے کوئی شخص ہاتھ میں چنگاری لے لے۔ البتہ اپنے اعمال ذاتیہ اور اپنی اصلاح کی خبر رکھنا ہر حال میں ضروری ہے۔
Ayahs 5:106–108حالت سفر میں اپنے مال کے بارے میں وصیت کرنا
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص جو قبیلہ بنی سہم میں سے تھا اس کو موت نے آگھیرا اس وقت وہاں کوئی مسلمان نہیں لہذا اس نے اپنے دونوں ساتھیوں یعنی تمیم داری اور عدی بن بداء کو اپنے مال کی حفاظت اور ورثاء تک پہنچانے کے لئے وصی بنا دیا (اس وقت یہ دونوں ساتھی نصرانی تھے) اس نے اپنے مال کی فہرست بنا کر سامان میں رکھ دی اور اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا کہ میرا یہ مال میرے وارثوں کو پہنچا دینا۔ ان دونوں نے مال تو پہنچا دیا لیکن میت کے وارثوں نے جب فہرست سے سامان کا میلان کیا تو اس میں ایک چاندی کا جام غائب پایا اس جام پر سونے کا کام بھی تھا، انہوں نے اس جام کا تقاضا کیا اور معاملہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا۔ آپ نے تمیم اور عدی کو قسم دلائی ان دونوں نے قسم کھالی کہ جام کا نہ ہمیں پتہ ہے اور نہ ہم نے چھپایا ہے اس کے بعد وہ جام مکہ معظمہ میں کسی تاجر کے پاس مل گیا، تاجر سے پوچھا گیا کہ یہ جام تمہارے پاس کہاں سے آیا ؟ تاجر نے بتایا کہ کہ ہم نے تو تمیم اور عدی سے خریدا ہے، اس کے بعد قبیلہ بنی سہم والے آدمی کے دو اولیاء کھڑے ہوے اور انہوں نے قسم کھائی کہ اللہ کی قسم ہماری گواہی ان دونوں کی گواہی کی بنسبت درست ہے۔ اور یہ جام ہمارے آدمی کا ہے۔ آیت بالا ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة المائدہ)
بعض روایات میں یوں ہے کہ تمیم داری نے خود بیان کیا کہ وہ جام ہم دونوں نے ایک ہزار درہم میں بیچ دیا تھا۔ پھر ہم دونوں (تمیم اور عدی) نے رقم تقسیم کرلی۔ جب میں نے اسلام قبول کرلیا تو مجھے گناہگاری کا احساس ہوا، لہٰذا میں مرنے والے کے گھر والوں کے پاس گیا اور پوری صورت حال بیان کی اور پانچ سو درہم ان کو ادا کردیئے اور یہ بتادیا کہ پانچ سو درہم میرے ساتھی (عدی) کے پاس ہیں۔ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے خدمت میں حاضر ہوئے اور اس شخص کو بھی ساتھ لائے جو تمیم داری کے ساتھ تھا (یعنی عدی بن بداء) رسول اللہ ﷺ نے مرنے والے کے ورثاء سے گواہ طلب کئے ان کے پاس گواہ نہ تھے لہٰذا آپ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ تم لوگ اس شخص سے قسم لے لو۔ اس سے قسم لی گئی تو قسم کھا گیا اس پر آیت نازل ہوئی۔ (در منثور ص 341 ج 2)
آیت بالا سے معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص سفر میں ہو اور اس کو موت کے آثار دکھائی دینے لگیں تو وہ دو آدمیوں کو وصی بنا دے یہ دونوں مسلمان دیانت دار ہونے چاہیں۔ اگر مسلمان نہ ملیں تو دوسری قوم میں سے دو آدمیوں کو وصی بنا دے اور یہ دونوں جب واپس آئیں تو مرنے والے کے وارثوں کو اس کا مال پہنچا دیں۔ اگر میت کے وارثوں کو شک ہو کہ ان دونوں نے کچھ مال چھپالیا ہے تو ان دونوں کو نماز کے بعد روک لیں تاکہ وہ قسم کھالیں۔ قسم دلائی جائے کہ ہمارے پاس اور کوئی مال نہیں ہے۔ نماز کے بعد روک کر قسم کھلانا تغلیظ یمین (یعنی قسم میں مضبوطی اور تاکید کے لئے ہے نماز کے بعد روکنا کوئی واجب نہیں)
یہ لوگ اپنی قسم میں کہیں کہ ہمیں اپنی قسم کے ذریعے کوئی دنیاوی نفع مطلوب نہیں اگر ہماری قسم سے کسی قریبی رشتہ دار کو یہ پتہ چل جائے کہ مرنے والے کا مال اور بھی تھا جو وارثوں تک نہیں پہنچا تو وارثوں میں سے دو شخص اس بات پر قسم کھائیں کہ ہمارا مال ابھی باقی ہے وہ مال ہمیں ملنا چاہئے اور یہ بیان دیں کہ ہماری گواہی ان دونوں کی بہ نسبت صحیح ہے۔ ہم نے اپنی جان میں کوئی زیادتی نہیں کی، اگر ہم زیادتی کریں گے اور حد سے آگے نکلیں گے تو ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔ یہ دونوں شخص جو مرنے والے کے اولیاء میں ہوں میت سے رشتہ کے اعتبار سے قریب تر ہوں۔