5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 5:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اس جیسا اس کے ساتھ اور بھی ہوتا کہ وہ قیامت کے دن کے عذاب سے جان چھڑانے کے لیے دیدیں تو یہ ان سے قبول نہ کیا جائے گا اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے ،

قیامت کے دن اہل کفر کو عذاب کا سامنا اور جان چھڑانے کیلئے سب کچھ دینے پر راضی ہونا اس کے بعد اہل کفر کے بارے میں فرمایا کہ جب قیامت کے دن عذاب میں ڈال دیئے جائیں گے تو ان کی یہ آرزو اور تمنا ہوگی کہ زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اور اس کے ساتھ اس کے بقدر اور بھی ہو اور یہ سب دے کے خلاصی پالیں اور جان چھڑا لیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اول تو وہاں کچھ ہونے کا ہی نہیں تاکہ اس کو جان کے بدلہ میں دیا جاسکے اور بالفرض ہو بھی اور اس کو دے کر جان چھڑانا چاہے تو کوئی بدلہ اور فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا اور جود رد ناک عذاب ان کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ بہرحال اس عذاب میں ہمیشہ رہنا ہی ہوگا۔ سورة آل عمران میں فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ مَا تُوْا وَ ھُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِھِمْ مِّلْ ءُ الْاَرْضِ ذَھَبًا وَّلَوِا اقْتَدٰی بِہٖ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَھُمْ مِّنْ نٰصِرِیْنَ ) (یعنی بیشک جنہوں نے کفر اختیار کیا اور وہ اس حالت میں مرگئے کہ کافر تھے تو ان سے ہرگز بھی زمین بھر کر سونا قبول نہ کیا جائے اگرچہ وہ اس کو جان کے بدلہ میں دینا چاہیں، یہ لوگ ہیں جن کو دردناک عذاب ہوگا اور کوئی بھی ان کا مددگار نہ ہوگا) اور سورة رعد میں فرمایا (وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَہٗ لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَہٗ مَعَہٗ لاَ فْتَدَوْا بِہٖٓ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ سُوْٓءُ الْحِسَابِ وَمَاْ وٰ ھُمْ جَھَنَّمُ وَ بِءْسَ الْمھَادُ ) (اور جنہوں نے اس کا کہنا نہ مانا اگر ان کے پاس وہ سب کچھ ہو جو زمین میں ہے اور اسی قدر اس کے ساتھ اور ہو تو یہ لوگ اپنی جان چھڑانے کے لئے اس کو دے ڈالیں، ان لوگوں کے لئے حساب کی سختی ہے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے) ۔ اور سورة زمر میں فرمایا (وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِیْ الْاَرضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَہٗ مَعَہٗ لاَ فْتَدَوْا بِہٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) (اور ظلم کرنے والوں کے پاس اگر دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں اور ان کے ساتھ اسی قدر اور بھی ہو تو یہ لوگ قیامت کے دن برے عذاب سے چھوٹنے کے لئے اپنی جان کے بدلہ میں دینے کو تیار ہوں گے) قیامت کے دن جب عذاب دیکھیں گے تو نہ صرف مال بلکہ آل اولاد و اعزہ و اقرباء سب کو اپنی جان پر قربان کرنے اور اپنی جان کو عذاب سے چھڑانے کی آرزو کریں گے۔ سورة معارج میں فرمایا (یَوَدُّ الْمُجْرمُ لَوْ یَفْتَدِیْ مِنْ عَذَابِ یَوْمءِذٍ بِبَنِیْہِ وَ صَا حِبَتِہٖ وَ اَخِیْہَ وَ فَصِیْلَتِہِ الَّتِی تُؤْوِیْہِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمِیْعاً ثُمَّ یُنْجِیْہِ کَلَّا) یعنی اس دن مجرم تمنا کرے گا کہ کاش اس دن عذاب سے چھوٹنے کے عوض میں بیٹوں کو اور اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی اور اپنے کنبہ کو جس میں رہا کرتا تھا نیز جتنے لوگ زمین پر ہیں سب کو دیدے پھر یہ معاوضہ اس کو بچا لے، نہیں۔ کافردوزخ سے نکلنا چاہیں گے مگر کبھی نہ نکل سکیں گے
Ayah 5:37

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

وہ ارادہ کریں گے کہ دوزخ سے نکلیں حالانکہ وہ اس میں سے نکلنے والے نہیں اور ان کے لیے ہمیشہ باقی رہنے والا عذاب ہے۔

پھر فرمایا (یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُ جُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا ھُمْ بِخَارِ جِیْنَ مِنْھَا) کہ وہ دوزخ سے نکلنا چاہیں گے لیکن وہ اس سے نکلنے والے نہیں، سورة الم سجدہ میں فرمایا (کُلَّمَا اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْرُ جُوْا مِنْھَآ اُعِیْدُوْا فِیْھَا) (کہ جب بھی اس میں سے نکلنے کا ارادہ کریں گے اس میں واپس لوٹا دیے جائیں گے) پھر فرمایا (وَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ) اور ان کے لئے عذاب ہے جو ہمیشہ رہے گا۔ اوپر ڈاکہ زنی کی دنیا میں سزا بیان فرمائی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ یہ ان کی دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے پھر چند آیات کے بعد چوروں کی سزا بیان فرمائی (جوا گلی آیت میں آرہی ہے) ان دونوں کے درمیان ایک تو اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا دوسرے اللہ کی نزدیکی تلاش کرنے کا حکم دیا تیسرے جہاد فی سبیل اللہ کا حکم دیا چوتھے کافروں کا عذاب بیان کیا اور یہ بتایا کہ جب وہ عذاب میں داخل ہونگے تو اگر یہ دنیا اور اس قدر اور بھی کچھ ان کے پاس ہو تو یہ سب جان چھڑانے کے لئے خرچ کرنے کو تیار ہوجائیں گے، پہلے جو دو حکم ہیں یعنی تقویٰ اختیار کرنا اور اللہ کا قرب تلاش کرنا ان دنوں میں چوری ڈاکہ زنی سے بچنا بھی داخل ہے اور یہ حکم تمام فرائض واجبات اور مستحبات کی ادائیگی کو بھی شامل ہے تیسرا حکم یعنی جہاد فی سبیل اللہ کا جو حکم دیا اس میں یہ بتادیا کہ فساد فی الارض اور چیز ہے اور جہاد فی سبیل اللہ دوسری چیز ہے جہاد فساد فی الارض کو دبانے کے لئے ہے اگر اس سلسلہ میں قتل و خون ہوجائے کافر و مشرک مارے جائیں ڈاکوؤں کا خون ہوجائے تو یہ فساد فی الارض نہیں ہے اس سے تو اللہ کی رضا اور اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے جو لوگ ڈاکہ زنی یا چوری کرتے ہیں وہ مال جمع کرنے کے لئے یہ کام کرتے ہیں ان کو بتادیا کہ جو مال اور دولت لوٹ مار کے اور چوری اور ڈکیتی کے ذریعہ جمع کرو گے وہ آل اولاد اور دنیا کی مثل اور کچھ بھی مل جائے تو اس سب کو جان چھڑانے کے لئے خرچ کرنے کو تیار ہوجاؤ گے مگر وہاں مال موجود نہ ہوگا عذاب بھگتنا ہوگا اپنی ذات کو عذاب میں داخل کرنا ہوگا اور لوگوں کو تکلیف دیکر حرام مال جمع کرنا اور اولاد کے لئے چھوڑجانا اور آخرت میں عذاب میں گرفتار ہونا یہ تو اپنے اوپر سراسر ظلم ہے۔
Ayahs 5:38–40

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

جو چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت ہو سو ان کے کردار کے عوض ان کے ہاتھ کاٹ دو یہ بطور سزا کے اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ غالب ہے، حکمت والا ہے ،

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

سو جو شخص اپنے ظلم کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کرلے سو بلا شبہ اللہ اس کی توبہ قبول فرمالے گا بیشک اللہ غفور ہے رحیم ہے۔

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تجھے معلوم نہیں کہ بلا شبہ اللہ کے لیے ہے ملک آسمانوں کا اور زمینوں کا، وہ عذاب دیتا ہے جسے چاہے اور بخشتا ہے جسے چاہے بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

چوروں کی سزا کا بیان چند آیات پہلے ڈاکوؤں کی سزائیں ذکر فرمائیں اب چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کی سزا بیان کی جاتی ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت کا ہاتھ کاٹ دو یہ ان کے کرتوت کی سزا ہے جس میں دوسرے کے لئے عبرت بھی ہے۔ احادیث شریفہ میں اس کی تفصیلات وارد ہوئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ چور کا داہنا ہاتھ گٹہ سے کاٹ دیا جائیگا اس کے بارے میں علماء امت کے مختلف اقوال ہیں کہ کم ازکم کتنی مالیت کے چرانے پر قطع ید یعنی ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان ؓ اور عمر بن عبد العزیز اور امام اوزاعی اور امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ 190 دینار کی مالیت کا سامان چرا لے تو ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور حضرت امام مالک (رح) نے فرمایا کہ تین درہم یا اتنی مالیت کا مال چرالے تو ہاتھ کاٹا جائیگا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اور سفیان ثوری اور امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ دس درہم یا ان کی مالیت کی چوری کرنے پر ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ اس سے کم میں نہیں (اگر اس سے کم کی چوری کا ثبوت ہوجائے تو دوسری کوئی سزا دے دی جائے ہاتھ نہ کاٹا جائے) ۔ شرعی سزا نافذ کرنے میں کوئی رعایت نہیں اور کسی کی سفارش قبول نہیں جو بھی شخص چوری کرلے مرد ہو یا عورت اور چوری بقدر نصاب ہو (جس کا اوپر بیان ہوا) تو ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اس میں کوئی رورعایت نہ ہوگی، اور نہ کسی کی سفارش قبول کی جائے گی، مکہ معظمہ میں ایک عورت بنی مخزوم میں سے تھی اس نے چوری کرلی تھی۔ بنی مخزوم قریش کا ایک قبیلہ تھا اور یہ لوگ دنیاوی اعتبار سے اونچے سمجھے جاتے تھے قریش چاہتے تھے کہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ سرور عالم ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ فرما دیا تو قریش اس کے لئے فکر مند ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کسی سے سفارش کرائی جائے۔ پھر آپس میں کہنے لگے کہ اسامہ بن زید ؓ کے علاوہ کون جرات کرسکتا ہے، وہ نبی اکرم ﷺ کے پیارے ہیں ان سے عرض کیا گیا تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بات کی، آپ نے فرمایا کہ تم حدود اللہ میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو ؟ آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا کہ تم سے پہلے لوگ اسی لئے ہلاک ہوئے کہ ان میں سے شریف آدمی چوری کرتا تھا (جسے حسب نسب اور دنیاوی اعتبار سے شریف سمجھا جاتا تھا) تو اس کو چھوڑ دیا جاتا تھا اور اگر کمزور آدمی چوری کرتا تھا تو اس پر حد قائم کردیتے تھے (پھر فرمایا) اللہ کی قسم ! محمد کی بیٹی فاطمہ ( اعاذ ہا اللہ تعالیٰ ) اگر چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا۔ جب کوئی مرد یا عورت پہلی بار چوری کرے تو اس کا سیدھا ہاتھ گٹے سے کاٹ دیا جائے اس کے بعد دوبارہ چوری کرے تو ٹخنہ سے بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے یہاں تک تمام ائمہ کا اتفاق ہے، اس کے بعد تیسری مرتبہ چوری کرے تو کیا کیا جائے اس کے بارے میں حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ اب کوئی ہاتھ یا پاؤں نہ کاٹا جائے بلکہ اس کو جیل میں ڈال دیا جائے یہاں تک کہ تو بہ کرلے، حضرت امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد بن حنبل (رح) اور امام اوزاعی ؓ کا یہی قول ہے، اور حضرت امام مالک اور امام شافعی نے فرمایا کہ تیسری بار چوری کرے تو بایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے اور چوتھی بار چوری کرے تو دایاں پاؤں ہاتھ کاٹ دی جائے اگر اس کے بعد بھی چوری کرے تو اسے دوسری کوئی سزا دی جائے یہاں تک کہ توبہ کرلے۔ حضرت ابوبکر ؓ سے بھی ایسا مروی ہے۔ چور کا ہاتھ کاٹنے کا قانون حکمت برمبنی ہے اس کی مخالفت کرنے والے بےدین ہیں چور اور چورنی کی سزا بیان کرنے کے بعد فرمایا (جَزَآءً بِمَا کَسَبَا) کہ یہ سزا ہے اس فعل کی جو انہوں نے کیا اور ساتھ ہی (نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ) بھی فرمایا، نکال اس سزا کو کہتے ہیں جو دوسروں کیلئے عبرت ہو اللہ جل شانہ عالم الغیب ہے اسے معلوم تھا کہ چوری کی سزا جو ہاتھ کاٹنے کی صورت میں دی جا رہی ہے اس پر اعتراض کر کے ایمان کھو بیٹھنے والے بھی پیدا ہوں گے۔ ایسے احمقوں کے اعتراض کا جواب (جَزَآءً بِمَا کَسَبَانَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ) میں دیدیا اللہ جل شانہ، خالق ومالک ہے احکم الحاکمین ہے اسے اختیار ہے کہ بندوں کو جو چاہے حکم دے اور جو قانون چاہے تشریعی طور پر نافذ فرمائے پھر وہ عزیز بھی ہے وہ سب پر غالب ہے، اور حکیم بھی ہے اس کا ہر فعل ہر فیصلہ اور ہر قانون حکمت کے مطابق ہے وہ اپنی مخلوق کو جانتا ہے انسانوں میں کیسے کیسے جذبات ہیں ان میں مصلحین بھی ہیں اور مفسدین بھی، چور بھی ہیں اور ڈاکو بھی اور ان فسادیوں کا فساد کون سے قانون کے نافذ کرنے سے روکا جاسکتا ہے اور کونسی ایسی عبرت ناک سزا ہے جو مفسدین کو فساد سے باز رکھ سکتی ہے اور عامتہ الناس کے جان و مال کی حفاظت کس قانون کے نافذ کرنے سے ہوسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس سب کا علم ہے سورة ملک میں فرمایا (اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَ ھُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ ) (کیا وہ نہ جانے جس نے پیدا کیا اور وہ باریک بین ہے باخبر ہے) جو لوگ اسلام کی بتائی ہوئی مجرمین کی سزاؤں کو وحشیانہ یا ظالمانہ کہتے ہیں ان میں سب سے آگے آگے تو یہود و نصاری ہیں جن میں مستشرقین بھی ہیں یہ تو کھلے کافر ہیں اور ان کا اسلام کی حقانیت پر ایمان ہی نہیں ہے۔ یہ اعتراض کریں تو چنداں تعجب نہیں کیونکہ انہیں نہ حق قبول کرنا ہے نہ حق ماننا ہے اپنے اپنے دین کو باطل سمجھتے ہوئے بھی اسی پر جمے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد تجویز کر کے اور انیباء کرام (علیہ السلام) کو قتل کر کے خوش ہیں دوزخ میں جانے کو تیار ہیں۔ حیرت ان لوگوں پر ہے جو اسلام کے بھی دعویدار ہیں اور قرآن کریم کی مقررہ سزاؤں کو وحشیانہ بھی کہتے ہیں، یہ لوگ نام کے مسلمان ہیں مسلمانوں کے درمیان رہنے اور مسلمانوں سے دنیاوی منافع وابستہ ہونے کی وجہ سے یوں نہیں کہتے کہ ہم مسلمان نہیں ہیں مگر حقیقت میں یہ لوگ مسلمان نہیں وہ کیا مسلمان ہے جو اللہ پر، اللہ کی کتاب اور اللہ کے قانون پر اعتراض کرے اور اللہ کے قانون کو وحشیانہ اور ظالمانہ بتائے، یہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ عزیز ہے علیم ہے خبیر ہے اسے یہ معلوم ہے کہ امن وامان کیسے قائم رہ سکتا ہے اور شرو فساد کے خوگر کس قانون کے نافذ کرنے سے دب سکتے ہیں، پہلے یورپین حکومتوں کے جاری کردہ قوانین کو لے لیں (جنہیں ایشیا وغیرہ کے ممالک نے بھی قبول کرلیا) ۔ ان لوگوں کے یہاں چور ڈاکو کی یہ سزا ہے کہ انہیں جیل میں ڈال دیا جائے جو لوگ جرائم کے عادی ہوتے ہیں ان کے نزدیک جیل میں رہنا معمولی سی بات ہے جیلوں میں جاتے ہیں واپس آتے ہیں پھر چوری ڈکیتی کرلیتے ہیں پھر پکڑے جاتے ہیں پھر جیل میں چلے جاتے ہیں۔ مشہور ہے کہ اپنے ساتھیوں سے یہ کہہ کر جیل سے باہر جاتے ہیں کہ میرا چولہا ایسے ہی رہنے دینا چند دنوں بعد پھر واپس آؤں گا۔ اگر جیل کی سزا دینے سے امن وامان قائم ہوسکتا ہے اور چوری ڈکیتی کی واردتیں ختم ہوسکتی تھیں تو اب تک ختم ہوجاتیں لیکن وہ تو روز افزوں ہیں چور ڈاکو دندناتے پھرتے ہیں مال داروں پر ان کی نظریں رہتی ہیں کبھی کسی کو قتل کیا کبھی پستول دکھا کر کسی شہری کو لوٹ لیا کبھی کسی بس کو روک کر کھڑے ہوگئے۔ کبھی ریل میں چڑھ گئے اور مسافروں کے پاس جو کچھ مال تھا وہیں دھروالیا کبھی کسی کے گھر میں گھس گئے کبھی سونے کی دکان لوٹ لی، اول تو ان کو پکڑا نہیں جاتا اور اگر پکڑ بھی لیا گیا تو بعض مرتبہ رشوت چھڑوا دیتی ہے اور بعض مرتبہ یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ ان کو پکڑنے پر مامور ہیں اس ڈر سے کہ کہیں موقع دیکھ کر ہم پر حملہ نہ کردیں انہیں چھوڑ بھاگتے ہیں اور اگر پکڑ ہی لیا اور حاکم کے سامنے پیش کر ہی دیا اور اس نے رشوت لیکر نہ چھوڑا بلکہ سزا تجویز کر ہی دی تو وہ جیل کی سزا ہوتی ہے جیل میں سزا کے مقررہ دن گزار کر اور کبھی اس سے پہلے ہی نکل آتے ہیں اور پھر انہیں مشاغل میں لگ جاتے ہیں جن کی وجہ سے جیل میں گئے تھے۔ اب اسلام کے قانون کو دیکھئے ڈاکوؤں کی سزا اوپر بیان کردی گئی ہے۔ جس کی چار صورتیں بیان کی گئیں ہیں یہاں چور اور چورنی کی سزابیان فرمائی کہ ان کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ان سزاؤں کو نافذ کردیں چند کو ڈکیتی کی سزا مل جائے اور چند چوروں کے ہاتھ کٹ جائیں تو دیکھیں کیسے امن وامان قائم ہوتا ہے اور کیسے لوگ آرام کی نیند سوتے ہیں۔ جو لوگ اسلامی قوانین کے مخالف ہیں وہ چوروں کے حامی ہیں اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ اسلامی سزا کے نافذ کرنے کے مخالف ہیں ان کو چوروں اور ڈاکوؤں پر تو رحم آتا ہے کہ ہائے ہائے اس کا ہاتھ کٹ جائے گا اور ڈاکوؤں پر ترس آتا ہے کہ یہ مقتول ہوں گے سولی پر چڑھا دیئے جائیں گے اور ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں گے لیکن عامتہ الناس پر رحم نہیں آتا جو بد امنی اور شرو فساد کا شکار رہتے ہیں، کیسی بھونڈی سمجھ ہے کہ عام مخلوق کو چوروں اور ڈاکوؤں کے ظلم سے محفوظ و مامون کرنے کے لئے چند افراد کو سخت سزا دینے کے روا دار نہیں ہیں اور چوروں اور ڈاکوؤں کو چوری اور لوٹ مار کے مواقع فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ (جَزَآءً بِمَا کسَبَا) کے ساتھ جو (نَکَالًا مِّنَ اللّٰہِ ) فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ چور کے لئے جو سزا تجویز فرمائی وہ صرف ان ہی کے کرتوت کا بدلہ نہیں ہے بلکہ دوسروں کے لئے بھی اس میں عبرت ہے۔ پھر ساتھ ہی یہ فرما دیا کہ (وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) کہ (اللہ تعالیٰ غلبہ والابھی ہے اور حکمت والا بھی) اس کا قانون حکمت کے مطابق ہے اس کے خلاف کوئی بھی قانون بنی نوع انسان کے حق میں بہتر نہیں ہے، جن ممالک میں چور کا ہاتھ کا ٹنے کا قانون نافذ ہے وہاں کے بازاروں میں اب بھی یہ حال ہے کہ دکانوں پر معمولی سا پردہ ڈال کر نمازوں کے لئے چلے جاتے ہیں اور بعض دکانوں کے باہر رات بھر سامان پڑا رہتا ہے پھر بھی چوری نہیں ہوتی۔ چور کی سزا بیان کرنے کے بعد فرمایا (فَمَنْ تَابَ مِنْ بعْدِ ظُلْمِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوْبُ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (سو جو شخص اپنے ظلم کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کرلے تو بلاشبہ اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے بیشک اللہ غفور ہے رحیم ہے) ۔ یہ اللہ تعالیٰ شانہ کا عام قانون ہے کوئی شخص کتنا ہی بڑا ظلم کرلے اور اس کے بعد نا دم ہو کہ سچے دل سے توبہ کرلے اور یہ تو بہ اصول شریعت پر پوری اترتی ہو تو اللہ تعالیٰ جل شانہ معاف فرما دیں گے، یہاں چونکہ چور کی سزا کے بعد توبہ کا ذکر فرمایا ہے اس لئے مفسرین کرام نے آیت کا معنی یہ لکھا ہے کہ کوئی چور اپنے ظلم یعنی چوری کے بعد توبہ کرلے اور پھر اصلاح حال کرلے یعنی جو مال اس نے چرایا ہے وہ واپس کر دے یا مالک سے معاف کرا لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائے گا اس کی اس توبہ کا یہ فائدہ ہوگا کہ چوری کر کے جوا للہ کی نافرمانی کی ہے آخرت میں اس پر عذاب نہ ہوگا۔ رہا ہاتھ کاٹنے کا مسئلہ تو یہ معاف نہ ہوگا یعنی قاضی کے سامنے اگر چور توبہ کرلے تو قاضی ہاتھ کاٹنے کی سزا کو رفع دفع نہیں کرسکتا توبہ کا تعلق آخرت کی معافی سے ہے جو بندہ اور اللہ کے درمیان ہے اور ہاتھ کاٹنے کا قانون جو فیما بین العباد ہے اس پر عمل کیا جائے گا۔ فقہاء نے فرمایا ہے کہ ڈاکو گرفتار ہونے سے پہلے توبہ کرلیں تو ڈکیتی کی سزا ان پر جاری نہ ہوگی اور البتہ لوگوں کی جو حق تلفی کی ہے اس کا بھگتان کرنا ہوگا۔ لیکن اگر کوئی شخص چوری کرنے کے بعد گرفتاری سے پہلے یا اس کے بعد توبہ کرلے تو چوری کی شرعی دنیاوی سزا معاف نہ ہوگی یعنی حاکم توبہ کے بعد بھی ہاتھ کاٹ دیگا، آخر میں فرمایا (اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ ہی کے لئے ہے حکومت سب آسمانوں کی اور زمین کی وہ جس کو چاہے سزا دے اور جس کو چاہے معاف کر دے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر قدرت ہے) ۔ اس آیت میں بتادیا کہ آسمان اور زمین سب اللہ کی ہی ملکیت ہے اسے ہر چیز کے بارے میں پورا پورا اختیار ہے جسے چاہے عذاب دے جس کی چاہے مغفرت فرمائے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہاں تین آیات ہیں ایک آیت کے ختم پر (وَ اللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ) فرمایا دوسری آیت کے ختم پر (وَ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) فرمایا اور تیسری آیت کے ختم پر (اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) فرمایا۔ یعنی وہ عزیز ہے غلبہ والا ہے کسی کو اس کے کسی فعل یا قانون پر اعتراض کرنے کا کوئی حق نہیں وہ جسے چاہے عذاب دے جسے چاہے بخش دے اس کا بھی اسے پورا پورا اختیار ہے۔ اس کے سب افعال اور سب فیصلے حکمت کے مطابق ہیں کسی کو چوں چراں کرنے کی جرات نہیں ہے۔ نیز ہر چیز اس کے تصرف میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ مغفرت کا ذکر پہلے ہے اور عذاب کا ذکر بعد میں اور یہاں عذاب کا ذکر پہلے ہے کیونکہ چور کی سزا پہلے بیان ہوئی ہے اور توبہ پر مغفرت ہونے کا ذکر بعد میں آیا ہے لہذا ترتیب سابق کے موافق تعذیب و مغفرت کو بیان فرمادیا۔ تنبیہ : چوری کا ثبوت کس طرح ہوتا ہے اور مال لینے کی کون کون سی صورتیں اس چوری میں داخل ہیں جس کی وجہ سے ہاتھ کا ٹا جاتا ہے اور وہ کون کون سے مقامات ہیں جہاں سے چوری کرنے سے ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور پھر ہاتھ کاٹ کر کیا کیا جائے جو خون بند ہوجائے یہ سب تفصیلات فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔
Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے رسول ! آپ کو وہ لوگ رنجیدہ نہ کریں جو دوڑ دوڑ کر کفر میں گرتے ہیں جو ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں نے اپنے مونہوں سے کہا کہ ہم ایمان لائے اور حال یہ ہے کہ ان کے دل ایمان نہیں لائے اور ان لوگوں میں سے ہیں جو یہودی ہیں جو لوگ جھوٹ کو بہت زیادہ سننے والے ہیں، جو لوگ تمہارے پاس نہیں آئے ان کو باتیں پہنچانے کے لیے خوب دھیان سے سنتے ہیں، یہ لوگ کلمات کو ان کی جگہوں سے بدل دیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر تم کو یہ حکم ملے تو اس کو لے لینا اور اگر تم کو حکم نہ ملے تو اس سے پرہیز کرنا، اور اللہ جس کو فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ فرمائے تو اے مخاطب اس کے لیے اللہ پر تیرا کوئی زور نہیں چل سکتا یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اللہ نے یہ ارادہ نہیں فرمایا کہ ان کے دلوں کو پاک کرے، ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہے۔

یہودیوں کی شرارت اور جسارت اور تحریف کا تذکرہ جیسا کہ ہم نے (یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الِّتیْ ) (آخر تک) کی تفسیر کے ذیل میں لکھا ہے کہ مدینہ منورہ میں آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے یہودی زمانہ قدیم سے آکر آباد ہوگئے تھے جب خاتم النّبیین ﷺ مکہ معظمہ سے ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں نے باوجود یکہ آپ کو جان لیا اور آپ کی جو صفات تورات شریف میں پڑھی تھیں ان کے مطابق آپ کو پالیا تب بھی باستثناء معدودے چند افراد کے یہ لوگ مسلمان نہ ہوئے اور طرح طرح سے مخالفت کرنے لگے اور تکلیفیں دینے لگے انہیں لوگوں میں سے منافق لوگ بھی تھے جنہوں نے ظاہر میں اسلام کا کلمہ پڑھ لیا اور جھوٹ موٹ کہہ دیا کہ ہم مسلمان ہیں حالانکہ دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے یہ لوگ بھی مصیبت بنے ہوئے تھے۔ توریت میں زانی کی سزا رجم تھی شادی شدہ مرد کی سزا کے بارے میں توریت شریف میں وہی حکم تھا جو شریعت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰ ۃ التحیہ میں ہے اور وہ یہ کہ زانی مرد و عورت شادی شدہ ہو تو اس کو رجم کردیا جائے یعنی پتھروں سے مار دیا جائے جسے سنگسار کہتے ہیں۔ یہودیوں نے توریت شریف کے حکم کو بدل لیا تھا، ایک مرتبہ ایک یہودی نے ایک عورت سے زنا کرلیا تھا۔ آپس میں یہ لوگ کہنے لگے کہ یہ جو نبی آئے ہیں ان کے پاس چلوان کے دین میں تخفیف ہے اگر رجم کے علاوہ انہوں نے کوئی اور فتویٰ دیا تو ہم قبول کرلیں گے اور اللہ کے یہاں حجت میں پیش کردیں گے کہ ہم نے تیرے نبیوں میں سے ایک نبی کے فتوے پر عمل کیا۔ (سنن ابی داؤد ج 2 ص 255) معالم التنزیل ج 2 ص 36 میں ہے کہ خیبر میں جو یہودی رہتے تھے ان میں سے جو سردار قسم کے لوگ تھے ان میں سے ایک مرد نے ایک عورت کے ساتھ زنا کرلیا تھا اور یہ دونوں شادی شدہ تھے۔ توریت شریف کے قانون کے مطابق ان کو رجم کرنا تھا یہودیوں نے ان کو رجم کرنے سے گریز کیا۔ رجم کو اچھا نہ جانا کیونکہ وہ ان کے بڑے لوگوں میں تھے پھر آپس میں کہنے لگے کہ یثرب یعنی مدینہ میں جو یہ صاحب ہیں (یعنی خاتم الانبیاء ﷺ ان کی کتاب میں رجم نہیں ہے کوڑے مارنا ہے لہٰذا ان کے پاس چلو اور ان سے سوال کرو۔ یہودیوں کا ایک قبیلہ بنی قریظہ مدنیہ منورہ میں رہتا تھا خیبر کے یہودیوں نے ان کے پاس پیغام بھیجا اور کہا کہ محمد (مصطفی) سے دریافت کرو کہ اگر مرد اور عورت زنا کریں اور وہ شادی شدہ ہوں تو ان کی کیا سزا ہے اگر وہ یہ حکم دیں کہ کوڑے مارے کر چھوڑ دو تو قبول کرلینا اور اگر رجم کا حکم دیں تو قبول نہ کرنا اور گریز کرنا۔ جب یہ لوگ مدینہ منورہ آئے اور بنی قریظہ کے سامنے یہ بات رکھی تو انہوں نے کہا کہ پہلے سے سمجھ لو وہ اس بات کا حکم دیں گے جس سے تم ڈرتے ہو اس کے بعد یہودیوں کے سردار رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مسئلہ دریافت کیا آپ نے فرمایا کہ تم میرے فیصلے پر راضی ہوگے تو انہوں نے کہا ہاں ! ہمیں آپ کا فیصلہ منظور ہوگا آپ نے ان کو رجم کا فیصلہ سنا دیا اس پر وہ فیصلہ ماننے سے منحرف ہوگئے۔ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا کہ آپ ابن صوریا کو درمیان میں ڈالیں یہ شخص ان کے علماء میں سے تھا اور کانا تھا آپ نے یہود سے فرمایا کہ تم ابن صوریا کو جانتے ہو ؟ کہنے لگا کہ ہاں ! فرمایا وہ تم لوگوں میں کیسا شخص ہے ؟ کہنے لگے کہ یہودیوں میں روئے زمین پر اس سے بڑا کوئی عالم نہیں ہے جو توریت شریف کے احکام سے واقف ہو، ابن صوریا کو لایا گیا آپ ﷺ نے یہودیوں سے فرمایا کہ تم اپنے درمیان اسے فیصلہ کرنے والا منظور کرتے ہو، کہنے لگے کہ ہاں ! ہمیں منظور ہے آپ نے ابن صوریا سے فرمایا میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر توریت نازل فرمائی اور تمہیں مصر سے نکالا اور تمہارے لئے سمندر پھاڑا اور تمہیں نجات دی اور جس نے تم پر بادلوں کا سایہ کیا اور جس نے تم پر من وسلوی نازل فرمایا۔ کیا تم اپنی کتاب میں شادی شدہ زانیوں کے بارے میں رجم کرنے کا قانون پاتے ہو ؟ ابن صوریا نے کہا کہ ہاں ! قسم اس ذات کی جس کی مجھے آپ نے قسم دلائی ہے توریت شریف میں رجم کا حکم ہے اگر مجھے اس کا ڈر نہ ہوتا کہ جھوٹ بولنے یا توریت کا حکم بدلنے کی وجہ سے میں جل جاؤں گا تو میں اقرار نہ کرتا، آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرمایا کہ تم لوگوں نے سب سے پہلے خداوند تعالیٰ کے حکم کے خلاف کب رخصت نکالی ؟ ابن صوریا نے کہا کہ ہم یہ کرتے تھے کہ جب کوئی بڑا آدمی زنا کرتا تو سزا دیئے بغیر چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور آدمی زنا کرتا تو اس پر سزا جاری کرتے تھے اس طرح سے ہمارے بڑے لوگوں میں زنا کاری زیادہ ہوگئی۔ اور ایک واقعہ پیش آیا کہ ایک بادشاہ کے چچا کے بیٹے نے زنا کرلیا ہم نے اس پر رجم کی سزا جاری نہ کی پھر ایک اور شخص نے زنا کرلیا جو عام لوگوں میں تھا بادشاہ نے چاہا کہ اسے سنگسار کرے اس پر اس کی قوم کے لوگ کھڑے ہوگئے اور کہنے لگے کہ اللہ کی قسم ! اس شخص کو سنگسار نہیں کیا جاسکتا جب تک کہ بادشاہ کے چچا کے بیٹے پر زنا کی سزا جاری نہ ہو۔ جب یہ بات سامنے آئی تو آپس میں کہنے لگے کہ رجم کی سزا کے علاوہ کوئی صورت تجویز کرلیں جو بڑے اور چھوٹے ہر قسم کے لوگوں پر جاری کی جاسکے لہذا ہم نے یہ طے کرلیا کہ جو شخص بھی زنا کرلے اس کو ایسی رسی سے چالیس کوڑے مارے جائیں جس پر روغن قار (تار کول) لگا ہوا ہو۔ کوڑے مار کر چہروں کو کالا کردیتے تھے اور گدھوں پر بٹھا کر بازاروں میں گھما دیتے تھے گدھوں پر الٹ سوار کرتے تھے یعنی منہ گدھوں کی پچھلی ٹانگوں کی طرف ہوتا تھا جب ابن صوریا نے یہ کہا تو یہود کو صحیح بات بتانا ناگوار ہوا۔ ابن صوریا نے کہا کہ اگر مجھے توریت کی مار پڑنے کا ڈر نہ ہوتا تو میں نہ بتاتا۔ جب ابن صوریا نے توریت شریف کا قانون سنایا اور یہودی پہلے کہہ چکے تھے کہ ہم آپ کے فیصلہ پر راضی ہیں تو آنحضرت ﷺ نے ان دونوں یہودیوں یعنی زنا کرنے والے مرد اور عورت کو رجم کرنے کا فیصلہ نافذ کردیا جن کو آپ کی مسجد کے قریب رجم کردیا گیا اور آپ نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا اے اللہ ! میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے آپ کے حکم کو زندہ کیا جسے یہودیوں نے مردہ کردیا تھا اس پر اللہ جل شانہ نے آیت بالا (یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْکَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْکُفْرِ ) (آخر تک) نازل فرمائی، ارشاد فرمایا کہ اے رسول ﷺ تمہیں وہ لوگ رنجیدہ نہ کریں جو جلدی جلدی کفر کی طرف دوڑتے ہیں ان میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے زبان سے کہہ دیا کہ وہ مومن ہیں حالانکہ وہ دل سے مومن نہیں ہیں اور ان میں وہ بھی ہیں جو جھوٹ بولنے کے لئے آگے بڑھ بڑھ کر سنتے ہیں یعنی وہ آپ سے باتیں سنتے ہیں تاکہ آپ کے ذمہ وہ باتیں لگائیں جو آپ نے نہیں کہیں (سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ لَمْ یَاْتُوْکَ ) یہ ان لوگوں کے لئے سنتے ہیں اور کان دھرتے ہیں جو آپ کے پاس نہیں آئے یعنی دوسرے لوگوں کے جاسوس ہیں بنی قریظہ جو اہل خیبر کے جاسوس بن کر آئے تھے اس میں ان کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے انہوں نے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے آپ نے فرمایا کہ تو ریت میں رجم کے بارے میں کیا لکھا ہوا پاتے ہو، انہوں نے کہا کہ اس میں تو یہ لکھا ہے کہ ان کو رسوا کیا جائے اور کوڑے مارے جائیں، حضرت عبداللہ بن سلام ﷺ وہیں موجود تھے (یہ علماء یہود میں سے تھے جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا) انہوں نے کہ تم جھوٹے ہو بلا شبہ تو ریت میں رجم کی آیت موجود ہے۔ توریت لے آؤ، وہ توریت لے آئے اسے کھولا لیکن ان میں سے ایک شخص نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا اور اس سے پہلے اور بعد میں جو مضمون تھا اسے پڑھ دیا حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا کہ اپناہاتھ اٹھا ! ہاتھ اٹھایا تو اس میں رجم کی آیت موجود تھی کہنے لگے کہ ہاں اس میں رجم کی آیت ہے اس کے بعد زنا کرنے والے مرد و عورت دونوں کو سنگسار کردیا گیا۔ یہودیوں کا کتاب اللہ کی تحریف کرنا یہود کی حالت بیان کرتے ہوئے مزید فرمایا (یُخَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہٖ ) کہ یہ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہوں سے ہٹا دیتے ہیں، تورت کے حکم کو انہوں نے بدل دیا تھا اور آپس میں مل کر رجم کے حکم کو منسوخ کر بیٹھے تھے، جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ بھی اللہ کا حکم نافذ کرنے کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ رخصت اور آسانی تلاش کرنے کے لئے آئے تھے۔ (یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ ھٰذَا فَخُذُوْہُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوْا) اسی وجہ سے کہ انہیں قانون خداوندی پر چلنا مقصود نہ تھا بلکہ آسانی تلاش کرنا چاہتے تھے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ دیکھنا اگر مطلب کے موافق حکم ملے تو اسے مان لینا اور اگر مطلب کے خلاف ہو تو گریز کرنا جن کو حق پر چلنا مقصود نہیں ہوتا ان کی ایسی ہی باتیں ہوتی ہیں، حق پر چلنا مقصود ہوتا تو تو ریت شریف میں کیوں تحریف کرتے اور توریت شریف میں بیان کردہ صفات کے مطابق نبی آخر الزمان ( علیہ السلام) کو دیکھ کر کفر پر کیوں جمے رہتے۔ بات یہ ہے کہ جب کوئی شخص گمراہی پر کمر باندھ ہی لے اور کفر در کفر اختیار کرتا چلا جائے اور تیزی سے کفر میں گرتاچلا جائے تو اللہ کی طرف سے اسے ہدایت نہیں ہوتی۔ (وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ فِتْنَتَہٗ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا) (اور اللہ جس کو فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ فرمائے تو اللہ پر تیرا کوئی زور نہیں چلتا) (اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰہُ اَنْ یُّطَھِّرَ قُلُوْبَھُمْ ) (یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو پاک کرنے کا ارادہ نہیں فرمایا) (لَھُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ) (ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے (جو سب کے سامنے آئے گی) اور آخرت میں ان کے لیے عذاب عظیم ہے یعنی وہ جہنم میں داخل ہوں گے) ۔
Ayahs 5:42–43

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

یہ لوگ جھوٹ کو خوب زیادہ سننے والے ہیں خوب حرام کھانے والے ہیں، سو اگر وہ آپ کے پاس آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ فرما دیجئے یا ان سے اعراض فرما لیجئے، اور اگر آپ اعراض کریں تو یہ آپ کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتا اور اگر آپ فیصلہ دیں تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائیے بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور وہ آپ سے کیسے فیصلہ کراتے ہیں حالانکہ ان کے پاس تو رات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے پھر اس کے بعد وہ رو گردانی کرتے ہیں اور وہ لوگ مومن نہیں ہیں۔

یہودیوں کی حرام خور ی اس کے بعد فرمایا (سَمّٰعُوْنَ لِلْکَذِبِ اَکّٰلُوْنَ للسُّحْتِ ) کہ یہ لوگ جھوٹ سننے والے ہیں اور خوب کان لگانے والے ہیں (اَکّٰلُوْنَ للسُّحْتِ ) خوب زیادہ حرام کھانے والے ہیں۔ علماء تفسیر نے فرمایا ہے کہ یہ یہودی حکام کے بارے میں فرمایا یہ لوگ رشوت لیتے تھے اور جو شخص رشوت دینے کا اشارہ کردیتا تھا اس کی بات پر کان دھرتے تھے اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کردیتے تھے اور جس نے رشوت نہ دی خواہ وہ کیسا ہی مظلوم ہو نہ اس کی بات سنی جاتی تھی نہ اس کے حق میں فیصلہ دیا جاتا تھا، لفظ سحت عربی زبان میں کسی چیز کو بالکل جڑ سے ختم کرنے کے لئے موضوع ہے اس کو رشوت کے لئے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ جہاں حاکموں میں رشوت کا لین دین ہوجائے وہاں حق اور انصاف بالکل ہی ختم ہوجاتا ہے رشوت گناہ کبیرہ ہے اور جو مال رشوت میں لیا جائے وہ حرام ہے رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے لَعَنَ اللّٰہُ اَلرَّشِیْ وَ الْمُرْتَشِیْ وَ الرَّاءِشَکہ اللہ کی لعنت ہے رشوت دینے والے پر اور رشوت لینے والے پر اور اس شخص پر جو ان کے درمیان واسطہ بنے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 326) یوں تو ہر رشوت کا لین دین حرام ہے لیکن خاص کر حاکم اور قاضی مجسٹریٹ اگر رشوت لے تو یہ اور زیادہ بڑا گناہ ہوجاتا ہے کیونکہ جس سے رشوت لے لی جائے اس کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے اور عموماً ایسے فیصلہ ظالمانہ ہی ہوتے ہیں۔ ظالمانہ فیصلوں کا نتیجہ دنیا میں بھی بہت برا ہے اور آخرت میں بھی اس کی بڑی سزا ہے۔ چند ایسے امور کا تذکرہ جن کی وجہ سے دنیا میں عذاب آجاتا ہے حضرت عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی قوم میں بھی زنا کاری پھیل جائے تو قحط کے ذریعہ ان کی گرفت کی جائے گی اور جس کسی قوم میں رشوتوں کا لین دین رواج پایا جائے تو رعب کے ذریعہ ان کی گرفت کی جائے گی (یعنی ان کے دلوں پر رعب ڈال دیا جائے گا) ۔ (رواہ احمد کمافی المشکوۃ ص 313) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جس کسی قوم میں خیانت کا رواج ہوجائے اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں رعب ڈال دے گا اور جس کسی قوم میں زنا کاری پھیل جائے ان میں موتیں زیادہ ہوں گی۔ اور جو قوم ناپ تول میں کمی کرنے لگے گی ان کا رزق کاٹ دیا جائے گا اور جو قوم ناحق فیصلے کرے گی ان میں قتل و خون زیادہ ہوگا اور جو لوگ بد عہدی کریں گے ان پر دشمن مسلط کردیا جائیگا۔ (رواہ مالک کمافی المشکوۃ فی 409) ان سب چیزوں کی تباہ کاری پہلی امتیں بھگت چکی ہیں اور اب بھی بہت سی قوموں میں یہ اعمال ہیں اور ان کے نتائج دیکھنے میں آرہے ہیں جو لوگ مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں وہ غور کریں اور اپنے حالات کو سامنے رکھیں اور سوچ لیں کہ وہ کدھر جارہے ہیں۔ رشوت کی بعض صورتیں رشوت صرف یہی نہیں کہ حاکم کو کچھ دیکر اپنے حق میں فیصلہ کرالیا جائے بلکہ ہر وہ کام جو کسی کے ذمے شرعاً فرض یا واجب ہو اور ہر وہ کام جو تنخواہ لینے کی وجہ سے کسی نے اپنے ذمہ کرلیا ہو اس کام پر نقد یا کچھ بھی لینا رشوت لینا ہے۔ رشوت کی بہت سی صورتیں ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں جو شخص کسی محکمہ میں ملازم ہو اگر اس محکمہ میں کام کرنا شرعاً جائز ہو (اور اگر وہ محکمہ ہی حرام ہو تو اس کی تو نوکری ہی حرام ہے) تو جو کام بحیثیت ملازم کے اس کے ذمہ واجب ہے اگر وہ عوام سے پیسہ لے کر کرے تو پیسہ لینا حرام ہے کیونکہ اس کام کی تنخواہ اسے مل رہی ہے حاکم اگر صحیح فیصلہ کرے تب بھی اس کو کسی فریق سے بھی پیسہ لینا حرام ہے کیونکہ وہ صحیح فیصلہ کرنے کا پابند ہے اور اگر رشوت بھی لی اور فیصلہ بھی غلط کیا تو رشوت تو حرام ہے ہی تنخواہ بھی حرام ہوگی کیونکہ جس کام پر مامور ہے اور جس کی تنخواہ لے رہا ہے اس نے وہ کام نہیں کیا۔ جو لوگ کسی عہدہ پر پہنچ جاتے ہیں لوگ دوڑ دوڑ کر ان کے پاس مال لاتے ہیں اور ہدیہ بنا کردیتے ہیں اور حقیقت میں یہ ہدیہ نہیں ہوتا بلکہ اس سے کسی وقت کام لینا مقصود ہوتا ہے کیونکہ حقیقت میں رشوت اور ظاہراً ہدیہ ہوتا ہے اسی لئے حضرات فقہا نے لکھا ہے کہ جو شخص حاکم بنا اس کا ہدیہ لینے دینے کا جن لوگوں سے پہلے سے تعلق تھا وہ اب بھی ہدیہ سمجھا جائے گا لیکن جو لوگ اب دینا شروع کردیں گے وہ رشوت میں شمار ہوگا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ کے زمانہ خلافت میں ان کے ایک قریبی عزیز نے بطور ہدیہ کچھ پیش کردیا انہوں نے اسے واپس کردیا جو غلام لے کر آیا تھا اس نے کہا کہ آپ ہدیہ نہیں لیتے ہدیہ تو رسول اللہ ﷺ نے بھی لیا ہے۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے ہدیہ تھا اور آج ہمارے لئے رشوت ہے۔ (تاریخ الخلفاء ) فائدہ : کسی سے بیٹی کا نکاح کرنے پر جو رقوم لی جائے وہ رشوت ہے (جو مہر کے علاوہ ہو) اسی طرح اپنے بیٹے کے لئے لڑکی قبول کرنے پر جو مال لیا جائے وہ بھی رشوت ہے (بنگال بہار آسام میں اس کا رواج ہے) کسی کی سفارش کردینے پر رقم یا جو بھی کچھ مال لیا جائے وہ رشوت ہے کوئی آفیسر کسی کو اپنے محکمہ میں ملازم رکھے اور اس پر رقم لے تو یہ بھی رشوت ہے۔ بنی اسرائیل کو برا کہہ کر دل ٹھنڈا نہ کرلیں بلکہ اپنے ماحول کو بھی دیکھیں کہ ہم کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔ پھر فرمایا (فَاِنْ جَآءُ وْکَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْھُمْ ) (سو اگر وہ آپ کے پاس آجائیں تو ان کے درمیان فیصلہ فرما دیجیے یا ان سے اعراض کریں) (وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْھُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْکَ شَیْءًا) (اور اگر آپ ان سے اعراض فرمائیں تو وہ آپ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے) اس آیت میں اختیار دیا ہے کہ آپ اگر چاہیں ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں چاہیں فیصلہ نہ فرمائیں یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب یہود مدینہ پر اہل ذمہ کے احکام جاری نہیں ہوتے تھے اور یہودیوں سے صرف اس بات کا معاہدہ ہوا تھا کہ مدینہ منورہ پر کوئی قوم حملہ کرے گی تو مل کر دفاع کریں گے جو لوگ ذمی ہوں وہ لوگ اگر کوئی فیصلہ لے کر آئیں تو ان کے درمیان فیصلہ کردینا واجب ہے جیسا کہ آئندہ رکوع میں ارشاد ہے۔ (وَ اِنْ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُمْ ) انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم پھر فرمایا (وَ اِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بالْقِسْطِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ) اور جس صورت میں فیصلہ کرنے نہ کرنے کا اختیار دیا ہے اس صورت میں اگر فیصلہ کرنے کی جانب رجحان ہو تو انصاف ہی کا فیصلہ کریں بلاشبہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے پھر فرمایا (وَ کَیْفَ یُحَکِّمُوْنَکَ وَ عِنْدَ ھُمُ التَّوْرٰۃُ فِیْھَا حُکْمُ اللّٰہِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَ مَآ اُولٰٓءِکَ بالْمُؤْمِنِیْنَ ) کہ یہ لوگ آپ سے کیسے فیصلہ کراتے ہیں حالانکہ ان کے پاس توریت شریف موجود ہے اس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے ان کو اس کتاب کے ماننے کا دعویٰ بھی ہے ( اسے چھوڑ کر آپ سے فیصلہ کرانا تعجب کی بات ہے) ان کو حق کا فیصلہ منظور نہیں ہے دلوں میں چور دوسرا ہے مقصد ان کا یہ ہے کہ ہمارے موافق فیصلہ ہو تو مانیں گے ورنہ نہیں اصل بات یہ ہے کہ انہیں حق پر چلنا مطلوب نہیں ہے۔ (وَ مَآ اُولٰٓءِکَ بالْمُؤْمِنِیْنَ ) اور نہ یہ ایمان لانے والے ہیں۔
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم نے توریت نازل کی اس میں ہدایت ہے اور روشنی ہے، اس کے ذریعہ انبیاء فیصلہ کرتے تھے انبیاء جو اللہ کے فرمانبردار تھے یہ فیصلے ان لوگوں کو دیتے تھے جو یہود تھے اور اللہ والے اور علم والے بھی فیصلہ دیتے تھے بوجہ اس کے کہ ان کو اللہ کی کتاب کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، اور اس پر گواہ تھے۔ تو تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیتوں کے ذریعہ تھوڑی سی قیمت مت خریدو، اور جو شخص اس کے موافق حکم نہ کرے جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔ سو یہی لوگ کافر ہیں۔

توریت شریف میں ہدایت تھی اور نور تھا ان آیات میں اول تو توریت شریف کی صفت بیان فرمائی کہ ہم نے توریت کو نازل کیا اس میں ہدایت تھی اور نور یعنی روشنی تھی جو حق و باطل کے درمیان فرق ظاہر کرتی تھی۔ پھر فرمایا کہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) اللہ کے فرماں بردار بندے تھے توریت کے ذریعے فیصلے فرماتے تھے انکے یہ فیصلے یہودیوں کے حالات اور معاملات سے متعلق تھے پھر النَّبِیُّوْنَ پر عطف فرمایا (وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ ) کہ ربانی اور احبار بھی توریت شریف کے ذریعہ حکم فرماتے تھے۔ ربانی رب کی طرف منسوب ہے یعنی رب والے لوگ جنہیں ہماری اصطلاح میں اللہ والے کہا جاتا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو انبیاء کرام ( علیہ السلام) تشریف لائے وہ انہیں کی شریعت پر چلتے تھے اور اسی پر بنی اسرائیل کو چلاتے تھے توریت شریف کی تعلیم تبلیغ اور ترویج کی ذمہ داری سنبھالتے تھے، ان حضرات کے علاوہ جو اللہ کے نیک بندے تھے اللہ والے تھے اصحاب علم تھے وہ بھی حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) کے طریقہ پر توریت شریف کے ذریعے فیصلہ کرتے تھے۔ ربانیوں اور احبار دو جماعتیں علیحدہ علیحدہ رہی ہیں جو لوگ عبادت میں زیادہ مشغول ہوئے ان کو ربانی اور جو لوگ علم کا مشغلہ زیادہ رکھتے تھے ان کو احبار فرمایا محض عالم جس میں عبادت نہ ہو چونکہ اس کا اپنا علم خود اس کے لئے مفید نہیں ہوتا اس لئے دوسرے لوگوں کو بھی اس سے نفع نہیں پہنچتا عموماً دیکھا جاتا ہے کہ جو شخص صرف علم کا حامل ہو اس کی طرف لوگ رجوع نہیں کرتے اور نہ اس کا علمی فیض پھیلتا ہے۔ اور جو شخص محض عبادت گزار ہو علم نہ ہو وہ جہالت میں مبتلا ہوجاتا ہے ضروری علم تو ہر عامی سے عامی شخص کے لئے بھی ضروری ہے پھر جو شخص عبادت میں زیادہ منہمک ہو اس کے لئے علم کیوں ضروری نہ ہوگا ؟ پس غالب اشتغال کے اعتبار سے عالم اور درویش دو جماعتیں سمجھی جاتی رہی اور اب بھی سمجھی جاتی ہیں جس کا علمی اشتغال زیادہ ہے اسے عالم کہتے ہیں اور جس کا اشتغال عبادت میں زیادہ ہے اسے درویش کہتے ہیں اور بعض حضرات میں دونوں صفات زیادہ ہوتی ہیں ایسے حضرات بہت مبارک ہوتے ہیں جیسے امت محمدیہ علی الصلوٰۃ والتحیہ میں دونوں جماعتیں ہیں اسی طرح حاملین توریت میں بھی دونوں جماعتیں تھیں۔ جب تک توریت منسوخ نہیں ہوئی اسی پر عمل کرنا فرض تھا، جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی اور انجیل شریف نازل ہوئی تو اس کے حکام پر چلنا فرض ہوگیا انجیل شریف نے توریت کے بعض احکام کو باقی رکھا اور بعض کو منسوخ کردیا (وَ لِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ ) حضرات انبیاء کرام اور ان کے نائبین توریت کی حفاظت کرنے پر مامور تھے پھر فرمایا (بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ کِتٰبِ اللّٰہِ ) یعنی حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) اور ان کے نائبین ربانیین اور احبار توریت کے احکام جاری کرنے کے اس لئے پابند تھے کہ اللہ تعالیٰ نے توریت شریف کو محفوظ رکھنا ان کے ذمہ لگا دیا تھا (وَ کَانُوْا عَلَیْہِ شُھَدَآءَ ) اور اس بات پر وہ گواہ بھی تھا کہ ہاں ہمارے ذمہ حفاظت کی ذمہ داری کی گئی ہے اور ہم اس کے نگران اور محافظ ہیں اس ذمہ داری کو جب تک علماء یہود نے پورا کیا تو ریت شریف کو تحریف سے محفوظ رکھا جب اس ذمہ داری کا احساس ختم کردیا تو توریت شریف میں خود ہی تحریف کر بیٹھے۔ حضرت خاتم النبیین ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی علماء یہود نے توریت شریف میں تحریف کرلی تھی اور آپ کے زمانہ کے علماء یہود بھی تحریف کرتے تھے اور اسی پر پیسے کھاتے تھے جس نے پیسے دیے اس کی مرضی کے مطابق مسئلہ بتادیا۔ اپنی چودھراہٹ قائم رکھنے کے لئے انہوں نے اپنے عوام کو سمجھادیا تھا کہ توریت شریف میں نبی آخر الزمان ﷺ کی جو صفات آئی ہیں وہ آپ میں پوری نہیں ہیں (العیاذ اللہ) اسی لئے متصلاً ہی فرمایا۔ (فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا) (کہ تم لوگوں سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اور میری آیات کے بدلہ دنیا کا متاع قلیل حاصل نہ کرو) نہ مالی رشوت لو اور نہ اپنی ریاست و چودھراہٹ باقی رکھنے کے لئے میری آیات کو بدلو، اللہ کا خوف سب سے زیادہ ضروری ہے جو ہر گناہ سے بچاتا ہے۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل فرمودہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہ کافر ہیں پھر فرمایا (وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ) جو شخص اس کے موافق حکم نہ کرے جو اللہ نے نازل فرمایا تو یہ لوگ کافر ہیں، یہودیوں نے توریت کے حکم رجم کو جانتے ہوئے بدل دیا۔ زانیوں کے بارے میں وہ فیصلہ نہ کرتے تھے جو تورات شریف میں تھا، تحریف کے باوجود رجم کا حکم رسول اللہ ﷺ کے عہد تک توریت شریف میں موجود تھا۔ اسی حکم کے خلاف دوسرا فیصلہ کرانے کے لئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن آپ ﷺ نے وہی فیصلہ فرمایا جو توریت میں تھا اور آپ کی اپنی شریعت بھی اس کے مطابق تھی۔ آپ ﷺ نے اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ فرمایا اور ان لوگوں نے حق کو چھپایا اور اللہ کے قانون کی تصدیق نہ کی بلکہ اس کے انکاری ہوگئے یہاں تک کہ جب ابن صوریا نے حق بات بتادی تو یہودیوں کو اس کا بتانا ناگوار ہوا یہودی توریت شریف سامنے ہوتے ہوئے بھی اس کے حکم کی تصدیق نہیں کرتے تھے کفر در کفر کے مرتکب بنے ہوئے تھے۔
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر تورات میں لکھ دیا کہ جان جان کہ بدلہ، اور آنکھ آنکھ کے بدلہ اور ناک ناک کہ بدلہ اور کان کان کے بدلہ اور دانت دانت کے بدلہ اور زخموں کا بدلہ ہے۔ سو جو شخص معاف کر دے وہ اس کے لیے کفارہ ہے۔ اور جو شخص اسکے موافق حکم نہ کرے جو اللہ نے نازل فرمایا سو یہی لوگ ظالم ہیں

قصاص کے احکام : اس کے بعد قصاص فی النفس اور قصاص فی الاعضاء کا حکم بیان فرمایا، توریت شریف میں جو قصاص کے احکام تھے عملی طور پر یہود نے ان کو بھی بدل دیا تھا، مدینہ منورہ میں یہودیوں کے دو بڑے قبیلے تھے ایک قبیلہ بنی نضیر اور دوسرا بنی قریظہ تھا ان میں آپس میں لڑائی جھگڑا اور مار کاٹ کی واردتیں ہوتی رہتی تھی، بنی نضیر اپنے کو اشرف اور اعلیٰ سمجھتے تھے جب کوئی شخص بنی نضیر میں سے بنی قریظہ کے کسی شخص کو قتل کردیتا تھا تو اسے قصاص میں قتل نہیں ہونے دیتے تھے اور اس کی دیت میں ستر و سق کھجوریں بھی دے دیتے تھے اور جب کوئی شخص بنی قریظہ میں سے بنی نضیر کے کسی شخص کو قتل کردیتا تھا تو قاتل کو قصاص میں قتل بھی کرتے تھے اور دیت میں ایک سو چالیس وسق کھجوریں بھی لیتے تھے اور اگر بنی نضیر کی کوئی عورت بنی قریظہ کے ہاتھ قتل ہوجاتی تو اس کے عوض بنی قریظہ کے مرد کو قتل کرتے تھے اور اگر کوئی غلام قتل ہوجاتا تھا تو اس کے بدلہ بنی قریظہ کے آزاد مرد کو قتل کرتے تھے اسی طرح کے قانون انہوں نے جراحات کے عوض کے بارے میں بنا رکھے تھے بنو قریظہ کو مال کم دیتے تھے اور خود اس سے دوگنا لیتے تھے۔ (معالم التنزیل ج 1 ص 38 وبعضہ فی سنن ابی داؤد۔ اول کتاب الدیات) (جراحات سے وہ زخم مراد ہیں جس سے مضروب مقتول نہ ہوتا تھا) اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ پر آیت نازل فرمائی جس میں قصاص کے احکام بیان فرمائے۔ جس سے یہ معلوم ہوگیا کہ ان میں سے جو زور آور قبیلہ نے کمزور قبیلہ کے ساتھ معاملہ کر رکھا ہے یہ معاملہ توریت شریف کے خلاف ہے۔ احکام توریت کے احکام کے خلاف ہیں اور ظالمانہ ہیں اور انکے تجویز کردہ ہیں اسی لئے اخیر میں فرمایا (وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ) (اور جو شخص اس کے موافق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل فرمایا تو یہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں) قصاص کا یہ قانون ہمارے لئے بھی اسی طرح مشروع ہے کہ جان کو جان کا بدلہ میں قتل کیا جائے گا بشرطیکہ قاتل نے قصداً قتل کیا ہو۔ اس میں چھوٹا بڑا مرد عورت بینا اور نابینا، تندرست اور اپاہج سب برابر ہیں، کسی مال دار کو کسی غریب پر اور کسی قبلہ کو دوسرے قبیلہ پر کوئی فوقیت حاصل نہیں البتہ یہ معاملہ مقتول کے اولیاء کے سپرد ہوگا وہ اگر چاہیں تو قصاص لیں اور چاہیں تو معاف کردیں اور چاہیں تو دیت لے لیں۔ کما قال اللّٰہ تعالیٰ (فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌ بالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَانٍ ) قصاص کے بدلہ دیت لینے کی اجازت شریعت محمدیہ علیٰ صاحہبا الصلوٰۃ والتحیہ ہی میں ہے۔ یہودیوں کے حق میں صرف قصاص ہی مشروع تھا جیسا کہ (ذلِکَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ رَحْمَۃٌ) کے ذیل میں مفسرین نے بات لکھی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کی آنکھ میں مار دے جس سے روشنی چلی جائے تو اس پر بھی قصاص ہے مارنے والے کی آنکھ کی روشنی ختم کردی جائے اور اگر کوئی شخص کسی کا دانت توڑ دے یا اکھاڑ دے تو اس کا بدلہ بھی دلایا جائے گا اسی طرح کوئی شخص کسی کی ناک کاٹ دے تو کاٹنے والے کی ناک کاٹ دی جائے گی اور اگر کوئی شخص کسی کا کان کاٹ دے تو اس میں قصاص ہے یعنی کاٹنے والے کا کان کاٹا جائے گا۔ قرآن مجید میں قصاص فی النفس کے بعد، آنکھ، ناک، کان اور دانت میں قصاص بتایا ہے دوسرے اعضا کا ذکر نہیں فرمایا فقہ کی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ دیگر اعضاء اطراف کے قصاص کے مسائل بھی لکھے ہیں اگر کوئی شخص کلائی سے قصداً کسی کا ہاتھ کاٹ دے تو کاٹنے والے کا بھی ہاتھ کاٹ دیا جائے اگرچہ اس کا ہاتھ بڑا ہو اسی طرح انگلیوں میں بھی قصاص ہے اگر کوئی شخص کسی کی پوری انگلی جڑ سے کاٹ دے بیچ کے جوڑوں میں سے کسی جوڑ سے کاٹ دے تو اس میں بھی قصاص ہے اسی طرح پاؤں کاٹنے میں بھی قصاص ہے، اگر کوئی شخص ٹخنے کے جوڑ سے کسی کا پاؤں کاٹ دے تو اس کے بدلہ اسی جوڑ سے کاٹنے والے کا پاؤں کاٹ دیا جائے گا اور بھی بہت سی تفصیلات ہیں جو فتاویٰ عالمگیری وغیرہ میں لکھی ہیں۔ آخر میں فرمایا (وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ) (اور زخموں میں قصاص ہے) زخموں کے فقہاء نے دس قسمیں لکھی ہیں اور ان کے احکام میں بڑی تفیصلات ہیں جس زخم میں مساوات یعنی برابری ہو سکے اس میں قصاص ہے اور جس میں برابری نہ ہو سکے اس میں مال دیا جائے گا ہدایہ میں (کتاب الجنایات) فصل فی الشجاج کا مطالعہ کرلیا جائے۔ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ کے معنی پھر فرمایا (فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہٖ فَھُوَ کَفَّارَۃٌ لَّہٗ ) حضرات مفسرین کرام نے اس کے دو مطلب لکھے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ لہ کی ضمیر کس طرف راجع ہے اگر جریح (زخمی) اور قتیل کے ولی کی طرف راجع ہے تو آیت کا یہ مطلب ہے کہ مجروح نے یا مقتول کے ولی نے اگر جارح اور قاتل کو معاف کردیا اور اپنے حق کا صدقہ کردیا یعنی جارح اور قاتل کو معاف کردیا تو یہ اس کے لئے کفارہ ہے حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاص ؓ اور حسن شعبی اور قتادہ سے ایسا ہی مروی ہے۔ اور اگر لہ کی ضمیر جارح اور قاتل (یعنی زخم کرنے والے اور قتل کرنے والے) کی طرف راجع ہو تو پھر معنی یہ ہوگا کہ مجروح نے یا مقتول کے ولی نے جب معاف کردیا تو یہ زخمی کرنے والے اور قتل کرنے والے کے گناہ کا کفارہ ہوگیا اب اس پر آخرت میں مواخذہ نہ ہوگا رہا معاف کرنے کا اجرو ثواب تو وہ اپنی جگہ ہے جو دوسری آیت (فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہ) میں بیان فرمایا ہے، حضرت ابن عباس ؓ سے ایسا ہی منقول ہے اور بعض تابعین ابراہیم، نخعی، مجاہد اور زید بن اسلم کا بھی یہی قول ہے۔ (معالم التنزیل ج 2 ص 41 و 43) قصاص کا شرعی قانون نافذ نہ کرنے کا وبال قصاص کا قانون سورة بقرہ میں بھی بیان فرمایا اور یہاں سورة مائدہ میں بھی جو لوگ مسلمان نہیں ہیں انہوں نے اپنے جاہلانہ قانون بنا رکھے ہیں اول تو قتل عمد ثابت ہی نہیں ہوتا۔ وکیلوں اور بیرسٹوں کی دنیا ہے ” قاتل “ کی حمایت کرنے والا وکیل اور بیرسٹر ایسی قانونی موشگافی کرتا ہے کہ وہ قاتل کے خلاف فیصلہ ہونے ہی نہیں دیتا اور اگر دوسری جانب کے وکیل نے اسے پچھاڑ ہی دیا اور حاکم کی رائے سزا دینے کی ہو ہی گئی تو وہ لمبی جیل کردیتا ہے اور یہ جیل بھی ایسی کہ بیس سال کی جیل ہو تو دس سال ہی میں پوری ہوجائے گی کیونکہ رات اور دن کا سال علیحدہ علیحدہ شمار ہوتا ہے اس میں اول تو قاتلوں کو عبرت نہیں ہوتی ان کو جیلیں کاٹنے کی عادت ہوتی ہے دوسرے اولیاء مقتول کی کوئی حیثیت نہیں سمجھی جاتی نہ انہیں حق قصاص دلایا جاتا ہے نہ دیت دلائی جاتی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ رؤ سا مملکت کو جان بخشی کی درخواست دی جائے تو وہ بالکل ہی معاف کردیتے ہیں حالانکہ ان کو معاف کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کافروں نے جو قانون بنا رکھے ہیں انہیں کو ان حکومتوں نے اپنا رکھا ہے جو ممالک مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہیں یہ لوگ بھی قصاص اور دیت کا قرآنی قانون نافذ نہیں کرتے اور اس کا بدترین پہلو یہ کہ بعضے جاہل قصاص کو وحشیانہ سزا بھی کہ دیتے ہیں اللہ کے قانون پر اعتراض کر کے کافر ہونے کو تیار ہیں لیکن دنیا میں امن وامان قائم کرنے اور قتل و خون کی واردتیں ختم کرنے کو تیار نہیں، ان کو رحم بھی آتا ہے تو قاتلوں پر ہی آتا ہے کیسی بھونڈی سمجھ ہے۔
Ayah 5:46

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا جو اس کتاب کی تصدیق کرنے والے تھے جو انکے سامنے تھی یعنی توریت اور ہم نے انجیل دی جس میں ہدایت تھی اور روشنی تھی اور وہ تصدیق کرنے والی تھی اس چیز کی جو ان کے سامنے تھی یعنی توریت اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے ہدایت تھی اور نصیحت۔

انجیل شریف میں ہدایت تھی اور نور تھا توریت شریف اور اس کے بعض احکام کا تذکرہ فرمانے کے بعد حضرت سیدنا عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) اور انجیل شریف کا تذکرہ فرمایا جو حضرت سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی اور ارشاد فرمایا (وَ قَفَّیْنَا عَلآی اٰثَارِھِمْ بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ ) کہ انبیاء کے بعد (جو توریت کے مطابق حکم کرتے تھے) ہم نے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو بھیجا وہ توریت شریف کی تصدیق کرنے والے تھے جو پہلے سے موجود تھی انجیل میں متقیوں کے لئے ہدایت تھی اور نصیحت تھی، اس میں یہ بتاد یا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی توریت کی تصدیق کرنے والے تھے اور جو کتاب ان پر نازل ہوئی یعنی انجیل وہ بھی توریت شریف کی تصدیق کرنے والی تھی سارے ہی انبیاء کرام ( علیہ السلام) آپس میں ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والے تھے اور انجیل میں توریت شریف کی تصدیق موجود تھی بعد میں گروہ بندیاں ہوگئیں اور بنی اسرائیل نے حضرت سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا نہ صرف یہ کہ انکار کردیا اور ان کی کتاب کو نہ مانا بلکہ ان کے قتل کے درپے ہوگئے قتل تو نہ کرسکے لیکن اپنی کرنی میں انہوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی عیسائیوں میں برابر باہمی مخالفت رہی اور نصرانی یہودیوں کو یہ الزام دیتے رہے کہ انہوں نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کیا ہے۔ چند سال پہلے سیاسی گٹھ جوڑ کے تقاضے پر نصرانیوں نے اپنا الزام واپس لے لیا۔ گٹھ جوڑ مسلمانوں کی مخالفت میں متحد ہونے کے لئے کیا گیا ہے۔ یہودیوں کے مقاصد نصرانیوں سے متعلق ہیں اس لئے باہمی مخالفت کو دور کرنے کے لئے یہ راستہ نکالا گیا جو اوپر مذکور ہوا۔ اللہ کے نبی اور اللہ کی کتابیں سب ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں بہر حال یہ سیاسی گرو بندی اور مخالفت اور موافقت لوگوں کے اپنے معاملات کی وجہ سے ہے اللہ کے نبیوں میں آپس میں کوئی مخالفت نہیں اور اللہ کی کوئی کتاب دوسری کتاب کی تکذیب کرنیوالی نہیں توریت اور انجیل میں رسول اللہ ﷺ کی تصدیق موجود تھی جسے یہود و نصاریٰ نے محرف کردیا اور تحریف کے باوجود بھی تصریحات ملتی ہیں جن میں آپ کی تصدیق اور تشریف آوری کی تبشیر موجود ہے انجیل کے بارے میں فرمایا (وَ ھُدًی وَّ مَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ) کہ وہ ہدایت ہے اور نصیحت ہے پرہیزگاروں کے لئے، یہ ایسا ہی جیسے قرآن مجید کے بارے میں (ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ) اور (ھٰذَا بَیَانٌ لّلنَّاسِ وَ ھُدًی وَّمَوْ عِظَۃٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ ) فرمایا ہے۔