Ayah 5:47پھر فرمایا (وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ) (اور جو شخص اس کے موافق حکم نہ کرے جو اللہ نے نازل فرمایا تو یہی لوگ نافرمان ہیں) جن لوگوں کو انجیل شریف ان کے نبی کے ذریعہ پہنچی وہ اس کے مطابق نہ چلے اور اس کے موافق فیصلے نہ کئے اور اس میں تحریف بھی کردی اور توحید کے عقائد کی بجائے اپنے دین میں شرکیہ عقائد داخل کر لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بتادیا اور تین خدا مان لئے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے اعتقاد کر کے کفارہ کا عقیدہ نکال لیا، پھر جب سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی اور انجیل کی تصریح کے مطابق آپ کی نبوت و رسالت کا یقین ہوجانے کے باوجود ایمان نہیں لائے اور گمراہی میں ہی رہ گئے، ان کو حکم ہو رہا ہے کہ جو کچھ اللہ نے انجیل میں فرمایا ہے اس کے مطابق حکم کریں اور باطل عقائد کو چھوڑیں اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائیں، اللہ نے جو احکام نازل فرمائے ہیں ان کے مطابق فیصلہ نہ کرنا فاسقوں ہی کا کام ہے لفظ فاسق ” فسق “ سے لیا گیا ہے فسق اطاعت اور فرمانبرداری سے نکل جانے کو کہتے ہیں کفر و شرک کا مل فسق ہے اس لئے شیطان کے بارے میں (فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِرَبِّہٖ ) فرمایا۔
Ayah 5:48قرآن مجید دوسری کتب سماویہ کے مضامین کا محافظ ہے۔
توریت و انجیل کا تذکرہ فرمانے اور یہ بتانے کے بعد کہ یہ دونوں اللہ کی کتابیں ہیں اور ان میں ہدایت ہے نور ہے، اور یہ کہ جو شخص اللہ کے نازل کئے ہوئے احکام کے مطابق فیصلہ نہ دے وہ کافر ہے اور ظالم ہے اور فاسق ہے، آیات بالا میں قرآن مجید کا تذکرہ فرمایا اور یہ بتایا کہ ہم نے آپ کی طرف کتاب نازل کی ہے جو حق لے کر آئی ہے اور اس سے پہلے جو اللہ کی کتابیں ہیں انکی بھی تصدیق کرنے والی ہے ( کسی یہودی یا نصرانی کو اس سے منحرف ہونے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ وہ اپنے سے پہلے آسمانی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے) اور نہ صرف یہ کہ وہ سابقہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے بلکہ ان کی مضامین کی نگران بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا خود وعدہ فرمایا ہے اور اس سے پہلی کتابیں جو یہود و نصاریٰ کے پاس تھیں ان کو انہوں نے گم کردیا اور انکے مضامین بھی ادل بدل کردیئے اب یہ قرآن خود بھی محفوظ ہے (بحفاظت الہیہ) اور ان مضامین کا بھی محافظ ہے جو سابقہ کتابوں میں بیان ہوئے تھے۔ ان کتابوں میں جو مضامین عقائد صحیحہ کے خلاف لوگوں نے شامل کردیے تھے اور ان کے احکام کو بدل دیا تھا۔ قرآن مجید ان کی تردید کرتا ہے اور جو صحیح عقائد ان میں بیان کئے گئے تھے اور جو احکام بتائے گئے تھے ان میں سے جن احکام کی اس امت کو ضرورت ہے ان کو بیان کرتا ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے۔ جیسا کہ اوپر قصاص کے احکام بیان فرمائے اور فرمایا کہ یہ توریت شریف میں مذکور تھے (جو امت محمدیہ کے لئے بھی مشروع ہیں) اسی طرح یہود و نصاریٰ کے عقائد شرکیہ کی تردید فرمائی اور بتایا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے توحید کی دعوت دی تھی اور شرک سے بیزاری کا حکم دیا تھا۔
قرآن مجید کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم
پھر فرمایا (فَاحْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُمْ عَمَّا جَآءَ کَ مِنَ الْحَقِّ ) کہ جو حق آپ کے پاس آیا ہے اس کو چھوڑ کر آپ ان کی خواہشوں کا اتباع نہ کریں اللہ کے فرمان کے مطابق فیصلے کریں اور لوگوں کی خواہشوں کے مطابق فیصلے نہ کریں۔
یہودیوں کا ایک مکر
بظاہر یہ خطاب آنحضرت سرور عالم ﷺ کو ہے لیکن اس کا عموم تمام قضاۃ و حکام کو شامل ہے آپ ﷺ کو جو خاص کر کے مخاطب فرمایا اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ علماء یہود نے باہمی مشورہ سے ایک پروگرام بنایا تھا جو شرارت پر مبنی تھا، کعبہ بن اسد اور عبداللہ بن صوریا اور شاس بن قیس نے آپس میں کہا کہ محمد ﷺ کے پاس چلو ہم انہیں انکے دین سے ہٹانے کا کوئی راستہ نکال لیں، یہ لوگ آئے اور انہوں نے آکر کہا کہ اے محمد ! آپ کو معلوم ہے کہ ہم یہود کے علماء ہیں اور سردار ہیں اور ان میں ہمارا بڑا مرتبہ ہے اگر ہم آپ کا اتباع کرلیں گے تو تمام یہود آپ کا اتباع کرلیں گے وہ ہمارے خلاف نہ جائیں گے سو آپ ہمارے حق میں فیصلہ دینا۔ ایسا کرنے سے ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور آپ کی تصدیق کرلیں گے آپ ﷺ نے اس سے انکار فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ ان کی خواہشوں کا اتباع نہ کریں اور ان سے ڈرتے رہیں اور ہوشیار رہیں کہ وہ اللہ کے بعض احکام سے ہٹا دیں۔
اس لالچ میں کہ لوگ مسلمان ہوجائیں گے حق چھوڑنے کی اجازت نہیں
اس لالچ میں کہ لوگ مسلمان ہوجائیں گے حق کو چھوڑنے اور غلط فیصلہ دینے کی کوئی گنجائش نہیں جسے اسلام قبول کرنا ہو وہ حق کے لئے قبول کرے جسے شروع ہی سے حق پر چلنا منظور نہیں وہ بعد میں کیا حق پر چلے گا، جھوٹے مسلمانوں کو اپنا بنا کر اپنی اکثریت ظاہر کرنا یہ اسلام کے مزاج کے خلاف ہے، دوسری قومیں جنہیں حق مقصود نہیں سیاسی دنیا میں اپنی اکثریت دکھانے کے لئے غیروں کو بھی اپنوں کی فہرست میں شمار کرلیتی ہیں لیکن اسلام میں ایسا نہیں ہے اسی سے معلوم ہوگیا کہ یہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ مخلوق کو راضی کرنے کے لئے اور کافروں کو اپنے قریب لانے کے لئے اور دنیا میں اپنی اکثریت بنانے کے لئے باہمی مشورہ کر کے اسلام کے فلاں حکم کو بدل دو یہ جہالت اور گمراہی کی بات ہے اسی طرح بعض جاہل کہتے ہیں کہ گمراہ فرقے جو اپنے عقائد کی وجہ سے حدود کفر میں جا پڑے ہیں انہیں کافر مت کہو تاکہ اسلام کے ماننے والوں کی نفری کم نہ ہو یہ بھی احمقانہ بات ہے اسلام کو ایسے لوگوں کی بالکل ضرورت نہیں ہے جو اسلام کے مدعی ہیں لیکن عقائد کے اعتبار سے کافر ہیں، اسلام حق بتاتا ہے، حق ظاہر کرتا ہے مداہنت کی اجازت نہیں دیتا۔
ہر امت کے لئے اللہ تعالیٰ نے خاص شریعت مقرر فرمائی
پھر فرمایا (لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّ مِنْھَاجًا) کہ ہم نے تم میں سے ہر امت کے لئے ایک خاص شریعت اور ایک خاص طریقہ عمل مقرر کردیا ہے، عقائد تو تمام انبیاء کرام ( علیہ السلام) کے مشترک ہیں اور بہت سے احکام اور امرونواہی میں بھی اتفاق ہے البتہ بعض فروعی احکام میں اختلاف پایا جاتا ہے اور چونکہ یہ تمام احکام اللہ تعالیٰ ہی کے اوامرو نواہی کے تحت ہیں اس لئے جس امت نے اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول ﷺ کی ہدایت کے مطابق عمل کیا اس نے اللہ ہی کی فرماں برداری کی پچھلی امتوں کو جو بعض احکام دیئے گئے تھے وہ منسوخ ہوگئے توریت شریف کے بعض احکام حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے منسوخ فرما دیئے (وَ لِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ )
اور توریت و انجیل کے بعض احکام شریعت محمدیہ میں منسوخ ہوگئے جب ہر شریعت اللہ ہی کی طرف سے ہے اور اس پر عمل کرنے کا طریقہ مقرر ہے تو اس پر عمل کرنا یہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے اور اللہ کی فرمانبرداری میں اللہ کی رضامندی ہے، دین اور شریعت پر چلنے سے مقصد صرف اللہ کی رضا ہے اور کچھ نہیں جب اللہ راضی ہے تو اختلاف شرائع میں کچھ حرج نہیں اور جب اللہ تعالیٰ نے گزشتہ شریعتوں کو منسوخ کردیا اور سب سے آخری شریعت یعنی شریعت محمد یہ ﷺ ہی کو مدار نجات قرار دیدیا تو اب دوسری شریعتوں پر چلنے کی اجازت ختم ہوگئی۔
اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا
پھر فرمایا (وَ لَوْ شَآء اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ) (اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا) (وَّ لٰکِنْ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ ) لیکن اللہ نے ایک ہی ملت بنا ناپسند نہیں فرمایا۔ بلکہ مختلف امتوں کو مختلف شریعتیں عطا فرمائیں تاکہ وہ تمہیں اس دین اور اس شریعت کے بارے میں آزمائے جو تمہیں عطا فرمائی، آزمائش یہ تھی کہ یہ دین پر عمل کرنے والے اللہ کے حکم کے فرمانبردار ہیں یا جس شریعت پر پہلے سے عمل ہو رہا ہے اس شریعت پا جامد ہونا مقصود ہے کیونکہ وہ آباؤ اجداد کی شریعت بن چکی تھی، احکام میں صرف اللہ کی رضا کو دیکھنا ہے نہ کہ باپ دادوں کی نسبتوں کو، جو شخص اللہ تعالیٰ شانہ کافر مانبردار ہے اس کے نفس پر شریعت سابقہ کا چھوڑنا کیسا ہی شاق ہو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم مانے گا۔
اختلاف شرائع میں ایک بڑی حکمت یہ بھی ہے کہ امتداد زمانہ کے اعتبار سے جو عالم میں تغیر احوال ہے اس کے اعتبار سے احکام کا بدلنا مناسب ہوتا کہ ہر زمانہ کے لوگ اپنے اپنے زمانوں کے احوال کے اعتبار سے احکام الٰہیہ پر عمل کریں لیکن اپنے طور پر کسی حکم کو بدلنے کی اجازت نہیں ورنہ وہ شریعت الہیہ نہ رہے گی اور شریعت اسلامیہ کے بدلنے یا منسوخ ہونے کا کوئی احتمال ہی نہیں رہا جو آخر الانبیاء ( علیہ السلام) کو عطا کی گئی کیونکہ اس میں قیامت تک آنے والے تمام زمانوں اور تمام انسانوں کے لئے احکام و مسائل موجود ہیں۔
پھر فرمایا (فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ ) (کہ نیک کاموں کی طرف آگے بڑھو) اور نیک کام وہی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نیک عمل قرار دیا (اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ) (اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹنا ہے پھر وہ ان چیزوں کے بارے میں خبر دے گا جن میں تم اختلاف رکھتے تھے)
جزا سزا کے اعتبار سے پتہ چل جائے گا کہ حق پر کون تھا اور باطل پر کون تھا قال صاحب الروح ” فالانباء ھنا مجاز عن المجازاۃ لمافیھا من تحق الامر “۔
Ayah 5:49پھر فرمایا (وَ اَنِ احْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُمْ ) (اور آپ ان کے درمیان فیصلہ فرمائیں اس کے موافق جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور ان کی خواہشوں کا اتباع نہ کریں) اس میں مکرر حکم دیا کہ اللہ کے نازل فرمودہ احکام کے مطابق فیصلہ دیں اور فیصلہ طلب کرنے والوں کے درمیان خواہشوں کے مطابق فیصلہ نہ کریں، اس حکم کو دوبارہ بطور تاکید بیان فرمایا۔
احکام الٰہیہ سے اعراض کرنا مصیبت نازل ہونے کا سبب ہے
پھر فرمایا (فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّصِیْبَھُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِھِمْ ) کہ اگر یہ لوگ اس فیصلہ سے اعراض کریں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے تو آپ جان لیں کہ (چونکہ اللہ کی تشریع کو قبول نہیں کرتے اس لئے) ان پر تکوینی طور پر عذاب آنے والا ہے، اللہ چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے انکو عذاب دے، ان کے جرم تو بہت سے ہیں۔ بعض جرموں کی سزا بھی ان کی بربای اور ہلاکت کے لئے کافی ہے قال صاحب الروح ج 2 ص 100” وھوذنب التولی والاعراض فھو بعض مخصوص والتعبیر عنہ بذلک للایذان بان لھم ذنوباکثیرۃً ۔ واِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ ۔ (اور بلاشبہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو فرماں برداری سے خار ج ہیں) ان میں سرکشی بڑھی ہوئی ہے کفر پر مصر ہیں ایسے سرکش سزا ہی کے مستحق ہیں۔
Ayah 5:50آخر میں فرمایا (اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ حُکْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ) (کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں اور فیصلہ کرنے کے اعتبار سے ان لوگوں کے لئے اللہ سے اچھا کون ہے جو یقین رکھتے ہیں) ۔
جو لوگ اللہ کے حکم کے خلاف دوسرا حکم تلاش کرتے ہیں ان کی توبیخ کے لئے سوال کے پیرایہ میں ارشاد فرمایا کیا یہ لوگ جاہلیت کے فیصلے کو چاہتے ہیں ؟ اللہ کا فیصلہ سامنے ہوتے ہوئے جو اللہ کی کتاب بتارہی ہے اور جو اللہ کے نبی ﷺ نے سنایا ہے، اس سے اعراض کر رہے ہیں اور ہٹ رہے جب اللہ کا فیصلہ ماننے سے انکار ہے تو اب کونسا فیصلہ چاہتے ہیں۔ اللہ کے فیصلے کے خلاف تو جاہلیت کا ہی فیصلہ ہے اللہ کے فیصلے کو چھوڑنا اور جاہلیت کے فیصلے کو اختیار کرنا کس لئے ہے ؟ کیا جاہلیت کا فیصلہ اللہ کے فیصلے سے اچھا ہے ؟ ایساہر گز نہیں ! اللہ سے بڑھ کر اچھا فیصلہ دینے والا کوئی نہیں لیکن اس بات کو یقین والے بندے جانتے اور مانتے ہیں، جن کی کفر ہی پر جمے رہنے کی نیت ہے وہ اللہ کے فیصلہ پر راضی نہیں، جاہلیت کا فیصلہ ہی انہیں مطلوب اور محبوب ہے۔ یہ عجیب احمقانہ بات ہے اور نہایت درجہ منکر قبیح اور شنیع ہے۔
دور حاضر کے نام نہاد مسلمان بھی جاہلیت کے فیصلوں پر راضی ہیں
گزشتہ آیات میں یہودیوں کی حکم عدولی اور گمراہی کا تذکرہ ہے ان لوگوں نے رجم کے سلسلہ میں توریت کے حکم کو چھوڑ کر زانی اور زانیہ کی سزا اپنے طور پر تجویز کرلی تھی اور قصاص کے حکم کو بھی بدل دیا تھا اللہ کے فیصلے کی بجائے اپنے تجویز کردہ فیصلوں کو بطور قانون کے نافذ کردیا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ کا فیصلہ معلوم کرنے کے لئے اپنے نمائندے بھیجے تو ان سے کہہ دیا کہ تمہارے موافق ہو تو فیصلہ قبول کرلینا اور تمہارے موافق نہ ہو تو اس سے گریز کرنا۔
آج یہی حال ان لوگوں کا ہے جو مسلمان ہونے کے مدعی ہیں اور حکومتیں لئے بیٹھے ہیں اور نہ صرف وہ لوگ جنہیں حکومت مل جاتی ہے بلکہ عوام بھی قرآن کریم کے فیصلوں سے راضی نہیں ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں کو ماننے سے انکاری ہیں جب ان سے کہا جاتا ہے کہ قرآنی نظام نافذ کرو تو کانوں پر ہاتھ دھرتے ہیں ان میں سے بہت لوگ نمازی بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کی محبت کے دعویدار بھی ہیں لیکن یہ لوگ بھی قرآنی نظام نافذ کرنے اور نافذ کروانے کے حق میں نہیں ہیں۔
یورپین اقوام نے جو قوانین بتائے ہیں ان ہی کے باقی رکھنے کے حق میں ہیں ان پر آیت شریفہ کا مضمون (اَفَحُکْمَ الْجَاھِلِیَّۃِ یَبْغُوْنَ ) پوری طرح صادق آرہا ہے۔ مقدمہ لڑاتے ہیں برسوں کیس چلتا ہے۔ دونوں طرف کے وکیل فیس کھاتے رہتے ہیں مال بھی خرچ ہوتا ہے اور وقت بھی ضائع، معمولی سا حق حاصل کرنے کے لئے کئی کئی گنا مال خرچ کرنا پڑتا ہے پھر بھی جاہلانہ نظام پر راضی ہیں اور اس بات پر راضی نہیں کہ قاضی اسلام کے پاس جائیں گواہ یا قسم کی بنیاد پر قرآن و حدیث کے موافق فیصلہ ہوجائے۔
جاہلانہ قانون کا سہار لے کر دوسروں کی جائیدادیں دبا لیتے ہیں مرحوم باپ کی میراث سے ماں اور بہنوں کو محروم کردیتے ہیں اور طرح طرح سے ضعفاء اور فقراء کے حقوق مار لیتے ہیں۔ یہی ظالمانہ منافع تو قانون اسلام کے نافذ کرنے کی حمایت نہیں کرنے دیتے۔ کافرانہ نظام کا سہارا لیکر اگر دنیا میں کسی کا حق مار لیا تو جب مالک یوم الدین جل جلالہ کی بارگاہ میں پیشی ہوگی اس وقت چھٹکارہ کیسے ہوگا ؟
نام کے مسلمان لوگوں نے کیا طریقہ نکالا ہے کہ مسلمان بھی ہیں اور اسلام گوارا بھی نہیں، اور عجیب بات ہے کہ جو لوگ قرآن کو مانتے ہی نہیں ان کو راضی رکھنا بھی مقصود ہے چونکہ ان کی رائے اسلامی نظام کے حق میں نہیں اس لئے قرآن ماننے والے بھی نظام قرآن نافذ کرنے کے حق میں نہیں۔ (اِنا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ )
Ayah 5:51یہود و نصاریٰ سے دوستی کرنے کی ممانعت
معالم التنزیل ج 2 ص 44 اور تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 68 میں لکھا ہے کہ حضرت عبادہ بن صامت ؓ جو انصار کے قبیلہ خزرج میں سے تھے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہودیوں میں میرے بہت سے دوست ہیں جن کی تعداد کثیر ہے۔ میں ان کی دوستی سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں اور اللہ اور اس کے رسول ہی کی دوستی کو پسند کرتا ہوں اس پر عبداللہ بن ابی نے کہا (جو رئیس المنافقین تھا) مجھے تو زمانہ کی گردشوں کا خوف ہے جن لوگوں سے میری دوستی (یعنی یہود سے) میں ان سے بیزار نہیں ہوتا اس پر اللہ تعالیٰ نے جل شانہ (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَ النَّصٰرآی اَوْلِیَآءَ ) سے لیکر دو آیتیں نازل فرمائیں۔
ترک موالات کی اہمیت اور ضرورت
در حقیقت کافروں سے ترک موالات کا مسئلہ بہت اہم ہے، اپنے دین پر مضبوطی سے جمتے ہوئے سب انسانوں کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آنا ان کو کھلانا پلانا اور حاجتیں پوری کردینا یہ اور بات ہے لیکن کافروں کے ساتھ دوستی کرنا جائز نہیں ہے جب دوستی ہوتی ہے تو اس میں دوستی کے تقاضے پورے کرنے پڑتے ہیں جن میں بعض باتیں ایسی بھی بتانی پڑجاتی ہیں جن کے بتانے میں مسلمانوں کا نقصان ہوتا ہو اور جس سے مسلمانوں کی حکومت میں رخنہ پڑتاہو اور جس سے مسلمانوں کی جماعت میں ضعف آتا ہو، جو سچے پکے مسلمان ہوتے ہیں وہ کافروں سے دوستی کرتے ہی نہیں اور جن لوگوں کے دلوں میں ایمان نہیں صرف زبانی طور پر اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور دل سے کافر ہیں وہ لوگ کافروں سے دوستی کرتے ہیں، یہ لوگ اسلام کے نام لیوا بھی بنتے ہیں لیکن چونکہ اندر سے مسلمان نہیں اس لئے کافروں کی دوستی چھوڑنے کو تیار نہیں ہوتے۔ انہیں یہ خوف بھی کھائے جاتا ہے کہ ممکن ہے مسلمان کو غلبہ نہ ہوا گر کھل کر مسلمان ہونے کا اعلان کردیں تو کافروں سے جو دنیاوی فوائد وابستہ ہیں وہ سب ختم ہوجائیں گے۔
اگر قحط پڑجائے یا اور کسی قسم کی کوئی تکلیف پہنچ جائے یا اور کوئی گردش آجائے تو کافروں سے کوئی بھی مدد نہ ملے گی اس خیال خام میں مبتلا ہو کر نہ سچے دل سے مومن ہوتے ہیں نہ کافروں سے بیزاری کا اعلان کرنے کی ہمت رکھتے ہیں، زمانہ نبوت میں بھی ایسے لوگ تھے جن کا سردار عبد اللہ بن ابی تھا اس کا قول اوپر نقل فرمایا۔
اور آج کل بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو مسلمانوں سے مل کر رہتے ہیں اور کافروں سے بھی تعلق رکھتے ہیں، کافروں کے لئے جاسوسی بھی کرتے ہیں اور مسلمانوں کے اندرونی حالات انہیں بتاتے ہیں اور خفیہ آلات کے ذریعہ دشمنان اسلام کو مسلمانوں کے مشوروں اور ان کی طاقت اور عسا کرو افواج کی خبریں پہنچاتے ہیں، چونکہ یہ لوگ خالص دنیا دار ہوتے ہیں اس لئے نہ اپنی آخرت کے لئے سوچتے ہیں نہ مسلمانوں کی بھلائی کے لئے فکر کرتے ہیں صرف اپنی دنیا بناتے ہیں اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہمیں مسلمان کیا نفع پہنچائیں گے آڑے وقت اور نازک حالات میں یہود و نصاریٰ سے ہی پناہ مل سکتی ہے (العیاذ باللہ تعالیٰ ) ۔
اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ یہودو نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں جو شخص ان سے دوستی کریگا وہ انہیں میں سے ہے (دوستی کے درجات مختلف ہیں بعض مرتبہ دوستی ایسی ہوتی ہے کہ اسے نباہنے کے لئے ایمان کو چھوڑ دیا جاتا ہے یہ تو سراپاکفر ہے اور فَاِنَہُ مِنْھُمْ کا حقیقی مصداق ہے اور اگر کسی نے ایمان کو چھوڑے بغیر کافروں سے دوستی کی تو اپنی دوستی کے بقدر درجہ بدرجہ انہیں میں سے شمار ہوگا اور یہ کیا کم ہے کہ دیکھنے والے اس دوستی کرنے والے کو کافروں کا ہی ایک فرد سمجھیں گے) (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ) (بلا شبہ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا) کافروں سے دوستی کرنا اپنے اوپر اور دوسرے تمام مسلمانوں پر ظلم ہے اور یہ ظم کرنے والے اپنے خیال میں ہوشیار بن رہے ہیں راہ ہدایت سے منہ موڑے ہوئے ہیں انہیں ہدایت مطلوب ہی نہیں ہے اللہ انہیں ہدایت نہیں دے گا۔
Ayah 5:52فَعَسَی اللّٰہُ یَّأْتِیَ بالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عندِْہٖ
منافقوں نے عہد نبوت میں یوں کہا تھا کہ اگر ہم یہودیوں سے تعلق نہ رکھیں اور ان سے دوستی ختم کردیں تو ہمیں ڈر ہے کہ آڑے وقت پر کوئی کام آنے ولا نہ ملے گا، اگر اسلام کا غلبہ نہ ہوا اور یہودیوں سے بگاڑ کر بیٹھیں تو ہم کہیں کے نہ رہیں گے یا اگر کسی قسم کی کوئی گردش آگئی قحط پڑگیا مہنگائی ہوگئی تو ساہوکار یہودیوں سے جو امداد مل سکتی ہے اس سے محروم ہوجائیں گے، یہ خالص دنیا داری کا جذبہ ہے ایمانی تقاضوں کو پس پشت ڈال کر دنیاوی منافع حاصل ہونے کے احتمال پر ایسی بات کہہ گئے۔
اللہ جل شانہ نے اہل ایمان کو تسلی دی اور فرمایا (فَعَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاْتِیَ بالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عَنْدِہٖ ) (سو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ فتح کی صورت پیدا فرما دے یا اور کوئی صورتحال اپنے پاس سے ظاہر فرما دے) بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ فتح سے مراد فتح مکہ ہے اور بعض حضرات نے اس سے یہودیوں کی بستیاں خیبر اور فدک کا فتح ہونا مراد لیا ہے اور اَمْرِ مِّنْ عِنْدِہٖ کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے اسلام کا غلبہ مراد ہے، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہودیوں کے قبیلے بنی نضیر کی جلا وطنی مراد ہے جنہیں 4 ھ میں جلا وطن کردیا گیا تھا چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا مکہ معظمہ بھی فتح ہوا خیبر اور فدک کی بستیاں بھی مسلمانوں کے قبضے میں آئیں بنی نضیر کی جلاوطنی بھی ہوئی جن سے منافقوں کو آڑے وقت میں امداد کی امید تھی (فَیُصْبِحُوْا عَلٰی مَآ اَسَرُّوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ نٰدِمِیْنَ ) یعنی جب اسلام کا غلبہ ہوگا اور مسلمانوں کو فتحیابی حاصل ہوگی تو یہ منافقین اپنے نفسوں میں چھپائی ہوئی بات پر نادم ہوں گے کہ ہم نے کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا ؟ ہم سمجھتے تھے کہ کافروں کی دوستی کچھ کام دیگی لیکن وہ تو کچھ بھی کام نہ آئی، نیز بعد میں انکا نفاق بھی کھل کر سامنے آگیا، کافر تو مغلوب ہوئے اور یہ لوگ مسلمانوں کے بھی معتمد نہ رہے یہ بھی ندامت کا سبب ہوا۔
Ayah 5:53(وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا) (الایۃ) یعنی جب منافقین کا نفاق کھل کر سامنے آئے گا تو اہل ایمان تعجب سے کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو بڑی مضبوطی کے ساتھ اللہ کی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ان کا باطن تو کچھ اور ہی نکلا، جھوٹے کو جب اپنی بات کو باور کرانا ہوتا ہے تو بار بار تاکید کے ساتھ قسمیں کھاتا ہے، منافقین بھی ایسا ہی کرتے تھے، سچے کو قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں ہوتی اس کے اعمال اور اخلاق سے ظاہر ہوتا ہے یہ سچا ہے قسموں کے بغیر ہی اس پر اعتماد ہوجاتا ہے۔ منافقوں نے جو نفاق کی چالیں چلیں اور دکھانے کو بظاہر جو نیک اعمال کئے وہ سب اکارت چلے گئے ان سے کچھ فائدہ نہ ہوا پھر نقصان میں پڑگئے۔ اسی کو فرمایا (حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ )
Ayah 5:54مسلمان اگر دین سے پھرجائیں تو اللہ تعالیٰ دوسری قوم کو مسلمان بنا دیگا
ان آیات میں اللہ جل شانہ، نے اول تو مسلمانوں کو خطاب کر کے یوں فرمایا کہ دین اسلام کا چلنا چمکنا اور آگے بڑھنا کوئی تم پر موقوف نہیں ہے اگر تم مرتد ہوجاؤ یعنی اسلام سے پھر جاؤ (العیاذ باللہ) تو اسلام پھر بھی باقی رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پیدا فرمائے گا جو ایمان قبول کریں گے اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کریں گے۔ یہ لوگ اللہ کے محبوب ہوں گے۔ اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والے ہوں گے۔
یہ لوگ اہل ایمان سے تواضع اور نرمی اور مہربانی کیساتھ پیش آئیں گے اور کافروں کے مقابلہ میں قوت اور طاقت اور عزت اور غلبہ کی شان دکھائیں گے۔ یہ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لئے جان و مال کی قربانیاں دیں گے کافروں سے لڑیں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔
ان لوگوں کی صفات مذکورہ بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ ) کہ یہ سب اللہ کا فضل ہے جس کو چاہے عطا فرمائے اس میں ہر دور کے مسلمانوں کو تنبیہ ہے کہ ایمان اور ایمان کے تقاضوں پر چلنے اور اللہ کی راہ میں قربانیاں دینے کو اپنا ذاتی کمال نہ سمجھیں اور مغرور نہ ہوں یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل و انعام ہے جسے چاہے ایمان اور اعمال صالحہ کی دولت سے نواز دے۔
منت مکن خدمت سلطان ہمی کنی
شکر خدا کن کہ موافق شدی بخیر
منت شناس از و کہ بخدمت بداشتت
زفضل و انعامش مطعل نہ گذاشت
(وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ) (اور اللہ بڑی وسعت والا ہے اور بڑے علم والا ہے) وہ جسے چاہے دے اور جتنا دے اسے اختیار ہے اور جسے نعمت ملے وہ شکر گزار ہو یا ناشکرا بنے اسے سب کا علم ہے۔
اہل ایمان کی صفت خاصہ کہ وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں
اہل ایمان کی جو صفات بیان فرمائیں اس میں ایک یہ ہے کہ اللہ ان سے محبت فرمائے گا اور وہ اللہ سے محبت کریں گے۔ درحقیقت یہی مومن بندوں کی اصل صفت ہے، سورة بقرہ میں فرمایا (وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ ) (اور جو لوگ اللہ پر ایمان لائے وہ اللہ کی محبت کے اعتبار سے بہت سخت ہیں) نیز ارشاد فرمایا (قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ) (آپ فرما دیجئے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میرا اتباع کرو اللہ تم سے محبت فرمائے گا۔ اور تمہارے گناہوں کو معاف فرما دیگا) ۔
جب اللہ سے محبت ہوگی جو صالح بندہ ہو تو اللہ کے رسول ﷺ سے بھی محبت ہوگی جن کی اتباع کو محبت کا معیار قرار دیا ہے، اللہ کے رسول سے محبت ہوگی تو اللہ کی کتاب سے بھی محبت ہوگی اور ہر اس بندہ سے محبت ہوگی جو صالح بندہ ہو جو اللہ اور رسول ﷺ کا فرماں بردار ہو۔
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین خصلتیں ایسی ہیں وہ جس کسی شخص میں ہونگی ایمان کی مٹھاس محسوس کریگا ایک خصلت تو یہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ اس کو سب سے زیادہ محبوب ہوں (اللہ اور رسول سے جو محبت ہو اس جیسی اور کسی سے محبت نہ ہو) دوسرے یہ کہ جس کسی بندہ سے محبت کرے تو یہ محبت صرف اللہ ہی کے لئے ہو۔ تیسرے یہ کہ جب اللہ نے اسے کفر سے بچا دیا تو اب کفر میں واپس جانے کو ایسا ہی برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو براجانتا ہے۔ (راوہ البخاری ص 7 ج 1)
اہل ایمان کی دوسری صفت کہ وہ مومنوں کے لئے نرم اور کافروں کے لئے سخت ہیں
اہل ایمان کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی (اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیْنَ ) (کہ یہ لوگ ایمان والوں کے لئے نرم اور رحم دل ہوں گے اور کافروں کے مقابلہ میں غلبہ اور دبدبہ والے ہوں گے) اس کو سورة فتح میں یوں بیان فرمایا (مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ ) (محمد رسول اللہ اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں سخت ہیں کافروں پر اور حم دل ہیں آپس میں) یہ صفت بھی بہت بڑی ہے اس کے بغیر ایمانی برادری کا اجتماعی مزاج نہیں بنتا اور جاندار وحدت وجود میں نہیں آتی، کافروں کے مقابلہ میں سخت ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان پر ظلم کیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ کافر یہ محسوس کرتے رہیں کہ یہ لوگ قوی ہیں عزت اور شوکت والے ہیں ان سے ہم مقابلہ نہیں کرسکتے اپنا اجتماعی اور انفرادی طور طریقہ ایسا رکھیں کہ کافر یہ سمجھیں کہ یہ لوگ ہم سے برتر ہیں قوت میں زیادہ ہیں اس کو سورة توبہ میں فرمایا۔
(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْکُمْ غَلْظَۃً ) (اے ایمان والو ! ان لوگوں سے جنگ کرو جو تمہارے قریب ہیں اور وہ تمہارے اندر سختی محسوس کریں) ۔
کفر و ایمان کی جنگ تو ہمیشہ رہی ہے اور کافروں سے بیزاری ظاہر کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ سورة ممتحنہ میں ارشاد ہے۔ (قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْ اِِبْرٰھِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ اِِذْ قَالُوْا لِقَوْمِہِمْ اِِنَّا بُرَء آ ؤُا مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤْمِنُوْا باللّٰہِ وَحْدَہٗٓ) (تمہارے لئے نیک پیروی موجود ہے ابراہیم (علیہ السلام) میں اور ان لوگوں میں جو ابراہیم کے ساتھ تھے، جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا ہم بےتعلق ہیں تم سے اور ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ہم میں اور تم میں ظاہر ہوگئی دشمنی اور بغض ہمیشہ کے لئے جب تک کہ تم ایمان نہ لاؤ اللہ پر جو تنہا ہے۔ )
درحقیقت جب تک کافروں سے براءت اور بیزاری نہ ہو اور ان سے بغض اور دشمنی نہ ہو اس وقت تک کافروں کی موالات یعنی دوستی کا جذبہ ختم ہو ہی نہیں سکتا۔ گزشتہ آیت میں جو کافروں کو دوست نہ بنانے کا حکم فرمایا ہے اس پر عمل ہونے کا یہی راستہ ہے کہ ان کو دشمن سمجھا جائے جو کافر مسلمانوں کی عملداری میں رہتے ہیں جن کو شریعت کی اصطلاح میں ذمی کہا جاتا ہے اصول شریعت کے مطابق ان سے رواداری رکھی جائے اس طرح جو مسلمان کافروں کے ملک میں رہتے ہیں وہ وہاں کے کافروں سے خریدو فروخت کی حد تک اور امور انتظامیہ میں (جو شرعاً درست ہوں) میل جول رکھیں لیکن دوستی نہ کریں، آج مسلم ممالک کے حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ کافروں سے ان کا جوڑ زیادہ ہے جو لوگ کافر ملکوں کے سربراہ ہیں ان کے سامنے بچھے جاتے ہیں اور جو مسلمان ہیں ان کے ساتھ سختی کرتے ہیں مسلمانوں کے ایک ملک کے ذمہ دار دوسرے مسلم ممالک کے مسلمانوں کو اپنے ملک سے نکالتے ہیں اور ان پر قید و بند کی سختیاں کرتے ہیں اور جو کافر اپنے پاس رہتے ہیں ان کو عہدے بھی دیتے ہیں اور ان کی امداد بھی کرتے ہیں بلکہ ان کو راضی کرنے کے لئے قرآن و حدیث کے قوانین جاری کرنے کو راضی نہیں، یہ سب دنیا داری کے تقاضے ہیں قرآن حدیث کی تصریحات کے خلاف ہیں۔
اہل ایمان کی تیسری صفت کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں
اہل ایمان کی ایک اور صفت بیان فرمائی (یُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں لفظ جہاد جہد سے لیا گیا ہے، عربی زبان میں محنت اور کوشش اور تکلیف اٹھانے کو جہد کیا جاتا ہے اللہ کا دین پھیلانے کے لئے اس کا بول بالا کرنے کے لئے جو بھی محنت اور کوشش کی جائے وہ سب جہاد ہے اور کافروں سے جو جنگ کی جائے وہ بھی جہاد کی ایک صورت ہے اور چونکہ اس میں جان و مال کی قربانی دی جاتی ہے اس لئے اس کا بہت بڑا مرتبہ ہے۔ اسلام میں جو قتال مشروع ہوا ہے کفر اور شرک کو مٹانے اور نیچا دکھانے کے لئے ہے۔
خالق کائنات جل مجدہ کی سب سے بڑی بغاوت اور نافرمانی یہ ہے کہ اس پر ایمان نہ لائیں اسے وحدہ لا شریک نہ جانیں اس کے ساتھ عبات میں کسی دوسرے کو شریک کرلیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات اور اس کی خالقیت اور مالکیت کو سامنے رکھا جائے اور اہل کفر کی بغاوت کو دیکھا جائے تو جہاد کی مشروعیت بالکل سمجھ میں آجاتی ہے اللہ تعالیٰ کے باغیوں سے اس کے بندے قتال کریں تو اس پر کیوں طعن کیا جاتا ہے جب ایمان اور کفر کی دشمنی ہی ہے تو اہل ایمان دشمن کے خلاف جو بھی کاروائی کریں جو شریعت اسلامیہ کے موافق ہو اسے ظلم نہیں کہا جائے گا۔
آخر کافر بھی تو مسلمانوں پر حملہ کرتے ہیں ان کو قتل کرتے ہیں ان کی دکانیں جلاتے ہیں ان کے ملکوں پر قبضہ کرتے ہیں اور سالہا سال انہوں نے صلیبی جنگیں لڑی ہیں، مسلمان دشمنی کا جواب دشمنی سے دیتے ہیں تو اس میں اعتراض کا کیا موقعہ ہے ؟ مسلمانوں کو دبنگ ہو کر رہنا چاہئے ورنہ اہل کفر دبا لیں گے۔ (جہاد کے بارے میں انور البیان ج 1 ص 395) کا مضمون بھی دیکھ لیا جائے۔ سورة توبہ اور سورة تحریم فرمایا۔
(یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْھِمْ وَ مَاْوٰھُمْ جَھَنَّمُ وَ بِءْسَ الْمَصِیْرُ ) (اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے) ۔
بعض ملکوں میں مسلمانوں نے کافروں سے اس حد تک دوستی کر رکھی ہے (اور اس کا نام رواداری اور یک جہتی رکھا ہوا ہے) کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر حرام چیزیں بھی کھا پی لیتے ہیں او ان کے مذہبی تہواروں میں بھی شریک ہوجاتے ہیں حدیہ کہ ان کے عبادت خانوں کو بنانے میں ان کی مدد بھی کردیتے ہیں ایسی رواداری کرنے کی شریعت ہرگز اجازت نہیں دیتی بہت بڑا خطرہ ہے کہ ایسی رواداری کرنے والوں کو اور ان کی نسلوں کو یہ رواداری کافر نہ بنادے۔ (والعیاذ باللہ ) ۔
اہل ایمان کی چوتھی صفت کہ وہ کسی کی ملامت سے نہیں ڈرتے
اہل ایمان کی ایک صفت یوں بیان فرمائی کہ (وَ لاَ یَخَافُوْنَ لَوْمَۃَ لَآءِمٍ ) (وہ لوگ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے) یہ بھی اہل ایمان کی ایک عظیم صفت ہے جب اللہ پر ایمان لے آئے اور اللہ سے محبت کرتے ہیں تو مخلوق کی کیا حیثیت رہ گئی اللہ کے بارے کسی کے برا بھلا کہنے کا خیال کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے حکم کی برتری ابھی تک دل میں نہیں بیٹھی۔
یہ سوچنا کہ اگر ہم اسلام پر عمل کریں گے، سفر حضر میں نماز پڑھیں گے تو کافر برامانیں گے اذان دیں گے تو کافر کیا کہیں گے اگر ڈاڑھی رکھ لی تو لوگ بری نظروں سے دیکھیں گے کافروں فاسقوں کا لباس نہ پہنا تو سوسائٹی میں برے بنیں گے۔ یہ سب ایمانی تقاضوں کے خلاف ہے مومن کو اس سے کیا مطلب کہ لوگ کیا کہیں گے ؟
اللہ کے رسول ﷺ کا اتباع کرنا ہے مومن تو اللہ کا بندہ ہے اسی کا فرمانبردار ہے مخلوق راضی ہو یا ناراض، اچھا کہے یا برا اسے اپنے رب کے پسند فرمودہ راستہ پر چلنا ہے۔
Ayah 5:55اللہ اور رسول اہل ایمان کے ولی ہیں
مومنین کی صفات بیان فرمانے کے لئے بعد فرمایا (اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ ھُمْ رٰکِعُوْنَ ) ( تمہارا ولی تو بس اللہ اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہ رکوع کرنیوالے ہیں) ۔
اہل ایمان کی دوستی کو صرف اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کی دوستی میں منحصر فرما دیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ اور مومنین کے علاوہ اہل ایمان کا کوئی دوست نہیں ہے، اگر کسی دوسرے کو دوست بنایا تو خطا کریں گے دھوکہ کھائیں گے دنیا و آخرت کا نقصان اٹھائیں گے ساتھ ہی اہل ایمان کی دو اہم صفات بھی بیان فرمائیں اور وہ یہ کہ نماز قائم کرتے ہیں ( جو جانی عبادت ہے اور ایمان کی سب سے بڑی دلیل ہے) اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو مالی عبادت ہے۔ (وَ ھُمْ رٰکِعُوْنَ ) اس کے مفسرین نے کئی معنی نقل کئے ہیں ایک یہ کہ ان میں خشوع اور تواضع کی صفت ہے ان کے دل اللہ کی فرماں برداری کے لئے جھکے ہوئے ہیں۔
اور بعض حضرات راکِعُوْنَ کا معروف مراد لیا ہے اور وہ یہ کہ نماز پڑھتے ہوئے رکوع کی حالت میں زکوٰۃ دیتے ہیں۔ معالم التنزیل ج 2 ص 47 میں لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے رکوع میں جا چکے تھے وہاں سے ایک سائل گزرا اس نے سوال کیا تو آپ نے رکوع ہی میں اپنے ہاتھ سے انگوٹھی اتار دی۔ حضرت علی ؓ نے خیر کے کام میں سبقت فرمائی اور نماز ختم کرنے کا بھی انتظار نہ کیا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے عمل کی تعریف فرمائی آیت کا سبب نزول خواہ حضرت علی ؓ کا عمل ہی ہو لیکن الفاظ کا عموم راکعین اور خاشعین اور متواضعین اور تمام زکوٰۃ ادا کرنے والوں کو شامل ہے۔
احکام القرآن میں علامہ ابوبکر جصاص ؓ نے لکھا ہے کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ نماز میں تھوڑی سی حرکت کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی اور یہ بھی معلوم ہوا کہ نفلی صدقہ کے لئے بھی لفظ زکوٰۃ استعمال کردیا جاتا ہے جیسا کہ سورة روم میں فرمایا (وَ مَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًالِّیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ وَ مَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُضْعِفُوْنَ ) (جو بھی زکوٰۃ تم ادا کرو گے جس سے اللہ کی رضا مطلوب ہو سو وہی لوگ ہیں ثواب کو چند در چند کرنے والے ) ۔
Ayah 5:56اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ سے دوستی کرنیوالے ہی غالب ہوں گے
پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ ) (اور جو شخص دوستی کرے اللہ سے اور اس کے رسول سے اور ایمان والوں سے سو اللہ کے گروہ کے لوگ ہی غالب ہونے والے ہیں) ۔
اس میں ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کریں اور اس تردد میں رہیں کہ نہ جانے کون غالب ہوتا ہے، اگر کافروں سے دوستی رکھی اور وہ غالب ہوگئے تو یہ دوستی کام دیگی جیسا کہ عبد اللہ بن ابی نے کہہ دیا تھا (نَخْشٰی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآءِرَۃٌ) (ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ہم پر کوئی گردش آجائے) اللہ تعالیٰ جل شانہ نے فرمایا کہ اللہ کا گروہ ہی غالب ہوگا، جو اللہ کے دین کو زندہ کرنے اور پھیلانے اور بڑھانے کے لئے محنت کرتے ہیں اللہ کے لئے جیتے اور مرتے ہیں یہ لوگ حزب اللہ یعنی اللہ کی جماعت ہیں۔
اللہ پاک کی طرف سے ان کی مدد ہوتی ہے اور ان کو غلبہ حاصل ہوتا ہے سورة مجادلہ میں فرمایا (کَتَبَ اللّٰہُ لَآغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ) اللہ لکھ چکا ہے کہ ضرور غالب رہوں گا میں اور میرے رسول، بیشک اللہ زور والا ہے زبردست ہے۔
سورة الصّٰفّٰت میں فرمایا : (وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ اِِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنصُورُوْنَ وَاِِنَّ جُندَنَا لَہُمُ الْغَالِبُوْنَ ) (اور پہلے ہی ہمارا حکم ہوچکا اپنے بھیجے ہوئے بندوں کے لئے بیشک پیغمبروں ہی کی مدد ہوگی اور بیشک ہمارا لشکر ہی غالب ہے) ۔
مسلمانوں کی مغلوبیت کا سبب
اہل ایمان جب ایمان پر جمے رہیں، نافرمانیوں سے بچتے رہیں اللہ پر بھروسہ رکھیں، احکام الہیہ کے مطابق زندگی گزاریں اور اخلاص کے ساتھ کافروں سے جنگ کریں تو ضرور یہی لوگ غالب ہوں گے کسی بےتدبری یا معصیت کیوجہ سے کبھی کوئی زک پہنچ جائے تو یہ دوسری بات ہے، آیت کا یہ مطلب نہیں کہ کبھی کوئی مسلمان کافروں کے ہاتھ سے نہ مارا جائیگا اور شہید نہ ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ انجام کار کے طور پر فتح و نصرت اور غلبہ اہل ایمان ہی کو حاصل ہوگا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اہل ایمان جب تک ایمان پر قائم رہے اخلاص کے ساتھ کافروں سے لڑتے رہے، اللہ کے دین کو بلند کرنے کے جذبہ سے سرشار رہے، عالم میں فتح یابی کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ قیصر و کسریٰ کی حکومتیں ان کے جہاد کی وجہ سے پاش پاش ہوئیں بڑے بڑے ممالک ان کے زیرنگیں آگئے اور کفار پیچھے ہٹتے چلے گئے لیکن جب سے اعمال شرعیہ کی پابندی چھوڑی اللہ کی نافرمانیوں پر اتر آئے دنیا کو مقصود بنا لیا۔ کافروں کی دوستی کا دم بھرنے لگے تو ان کے قبضہ میں جو ممالک تھے وہ بھی ہاتھ سے نکل گئے اور کافروں نے عالمی ادارے بنا کر مسلمانوں کو ان کا ممبر بنا لیا۔ اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈال دی اور پس پر دہ کٹھ پتلی کی طرح انہیں نچا دیا، مسلمان اب بھی صحیح طریقہ پر حزب اللہ یعنی اللہ کی جماعت بنیں تو اب بھی غلبہ پاسکتے ہیں۔
Ayahs 5:57–59اہل کتاب اور دوسرے کفار کو دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنا لیا ہے
ان آیات میں اولاً تو اس مضمون کا اعادہ فرمایا جو گزشتہ رکوع کے شروع میں تھا کہ کافروں کو دوست نہ بناؤ وہاں یہود و نصاریٰ سے دوستی کرنے کو منع فرمایا اور یہاں یہود و نصاریٰ کے ساتھ لفظ والْکُفَّارَ کا بھی اضافہ فرمادیا تاکہ دوستی کرنے کی ممانعت تمام کافروں کے بارے میں عام ہوجائے، یہود اور نصاریٰ اور دوسرے تمام کافر جن میں مشرکین ملحدین، منافقین، مرتدین سب داخل ہیں ان سب سے دوستی کرنے کی ممانعت فرما دی، اول تو ان کا کفر ہی دوستی نہ کرنے کا بہت بڑا سبب ہے لیکن ساتھ ہی ان کی ایک اور بدترین حرکت کا بھی تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ انہوں نے دین اسلام کو ہنسی اور مذاق اور کھیل بنا لیا۔ خاص کر جب نماز کے بلاوے یعنی اذان کی آواز سنتے ہیں تو اس کا مذاق بناتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص مسلمانوں کے دین کا مذاق بنائے گا مسلمان کو اس سے دوستی کرنے کا کیا جواز ہوسکتا ہے۔ کافروں کی یہ حرکت ناسمجھی اور بےعقلی پر مبنی تھی اسی لئے فرمایا (ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّ یَعْقِلُوْنَ ) (یہ اس لئے ہے کہ یہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے) اس کے بعد فرمایا (قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ ھَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّآ) آپ اہل کتاب سے فرما دیجئے کہ تم ہم سے کیوں ناراض ہو ؟ اور ہم میں کون سے عیب پاتے ہو ؟ تمہاری ناگواری کی صرف یہ بات ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اللہ نے جو کتاب ہماری طرف نازل کی اس پر ایمان لائے اور اس سے پہلے جو کتابیں نازل ہوئیں ان پر بھی ایمان لائے یہ باتیں ناگواری اور ناراضی اور عیب کی نہیں ہیں اچھی باتوں کو تم نے ناراضی کا سبب بنا لیا یہ تمہاری حماقت ہے اور دوسرا سبب تمہاری ناراضی کا یہ ہے کہ تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں یعنی اللہ کی فرمانبرداری سے خار ج ہیں (چونکہ ان میں سے معدودے چند افراد ہی نے اسلام قبول کیا تھا اس لیے فرمایا کہ تم میں اکثر نافرمان ہیں یعنی کفر پر مصر ہیں) مسلمان قرآن پر اور اس سے پہلی کتابوں پر ایمان لائے یہ تو ناراضگی کا سبب نہیں ہوسکتا۔
ہاں ! اہل کتاب کا نافرمان ہونا اور اللہ کی فرمانبرداری سے ہٹنا اور بچنا یہ مسلمانوں سے ناراضگی کا سبب ہوسکتا ہے۔ اور حقیقت میں کافروں کی ناراضگی کا یہی سبب تھا اور اب بھی ہے، اہل کتاب کو اس میں تنبیہ ہے اور ہدایت ہے کہ تم سرکشی سے باز آؤ اور مسلمان ہو کر مسلمانوں میں گھل مل جاؤ۔
Ayah 5:60اہل کتاب کی شقاوت اور ہلاکت
پھر فرمایا (قُلْ ھَلْ اُنَبِّءُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃً عِنْدَ اللّٰہِ ) اے اہل کتاب تم ہم سے اس لئے ناراض ہو کہ ہم لوگ اللہ پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لائے ہوئے ہیں یہ تو کوئی ناراضگی کی بات نہیں ہے لیکن تم اپنی حماقت و شرارت اور سرکشی کیوجہ سے اسے برا سمجھتے ہو۔
بالفرض اگر یہ اچھی چیز نہیں ہے تو میں تمہیں اس سے بڑھ کر بری چیز بتاتا ہوں جس میں تمہاری شقاوت اور ہلاکت ہے اور وہ سزا کے اعتبار سے بہت بری ہے غور کرو گے تو تمہاری سمجھ میں آجائے گا کہ جس راہ پر تم ہو وہ راہ بہت بری ہے اور اللہ کے نزدیک اس کا بدلہ بہت برا ہے یہ بری چیز کیا ہے ؟ ان لوگوں کے اعمال ہیں جن پر اللہ نے لعنت کردی اور اپنی رحمت سے محروم کر کے مرد ود قرار دیدیا اور ان پر غصہ فرمایا اور ان کو بندر اور سور بنادیا، اور انہوں نے شیطان کی پرستش کی، ان لوگوں کا یہ طریقہ اس طریقہ سے برا ہے جو ہمارا طریقہ ہے۔ ہمارے طریقہ میں توحید ہے ایمان ہے اللہ کی کتابوں پر ایمان ہے اور اس کے نبیوں کی تصدیق ہے جو سراسر خیر اور حق ہے اور تمہارے اندر کفر ہے نبیوں کا انکار ہے اللہ کی کتابوں کی تکذیب ہے اللہ کی نافرمانی ہے اور اس کا نتیجہ تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے آباؤ اجداد میں سے جنہوں نے نافرمانی کی ان کو بندر اور سور بنا دیا گیا، جس کا تمہیں اقرا رہے۔ ایسے لوگ اللہ کے یہاں بہت برا بدلہ پائیں گے یہ آخرت میں بدترین لوگ ہوں گے ان کی جگہ دوزخ ہے جو بہت بری جگہ ہے اور یہ لوگ دنیا میں سیدھے راستہ سے بہت دور ہیں اس میں اہل کتاب کو تنبیہ ہے کہ تم مسلمانوں پر ہنستے ہو اور ان کی اذان کا مذاق بناتے ہو۔ ہمارے طریقہ میں تو کوئی بات استہز اء اور مذاق اور گمراہی کی نہیں ہے ہاں تمہارا طریقہ نافرمانی کفر و فسوق کا ہے تمہارے آباؤ اجداد بھی ایسے ہی تھے جنہوں نے کفر یہ عقائد اختیار کئے۔
گائے کے بچھڑے کو پوجا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنایا، سینچر کے دن کی جو تعظیم لازم کی گئی تھی اس کی خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے بندر بنادیئے گئے، بعض مفسرین نے لکھا ہے جن لوگوں نے سینچر کے دن کے بارے میں حکم عدولی کی تھی ان میں جوانوں کو بندر اور بوڑھوں کو خنزیر بنا دیا گیا تھا۔
Ayah 5:61منافقوں کی حالت
پھر منافقوں کا ذکر فرمایا کہ اے مسلمانو ! جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ان کا یہ کہنا جھوٹ ہوتا ہے (وَ قَدْ دَّخَلُوْا بالْکُفْرِ وَ ھُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِہٖ ) (وہ داخل بھی ہوئے کفر کے ساتھ اور نکلے بھی کفر کے ساتھ) نہ پہلے مومن تھے نہ تمہاری مجلس میں باایمان ہو کر بیٹھے، جیسے حالت کفر میں آئے ویسے ہی چلے گئے۔
یہ ظاہر میں ایمان والے بنتے ہیں اور دلوں کے اندر کفر چھپا رکھتے ہیں اللہ کو اس بات کو پورا پورا علم ہے جسے وہ چھپائے ہوئے ہیں۔
یہودیوں کی حرام خوری اور گناہگاری
یہودیوں میں حرام کھانے کا بہت رواج تھا اور گناہ بھی بڑھ چڑھ کر کرتے تھے ظلم اور زیادتی میں بھی خوب آگے بڑھے ہوئے تھے سود کا لین دین بھی خوب تھا اور رشوتوں کا بھی خوب چرچا تھا اس کو فرمایا۔
Ayahs 5:62–63(وَ تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْھُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَکْلِھِمُ السُّحْتَ ) (آپ ان میں سے بہت سوں کو دیکھیں گے کہ گناہ کرنے میں اور ظلم و زیادتی میں تیزی کے ساتھ دوڑتے ہیں اور حرام کھانے میں خوب تیز ہیں) (لَبِءْْسَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ) (البتہ وہ کام برے ہیں جو وہ کرتے ہیں) ۔
جھوٹے درویشوں کی بد حالی
امت محمدیہ میں جو جھوٹے درویش بنے ہوئے ہیں انہوں نے دنیا حاصل کرنے کے لئے پیری مریدی اختیار کرلی ہے۔ مال داروں میں گھل مل کر رہتے ہیں، جن سے اغراض وابستہ ہیں یا وہ حکومتوں کے ملازم ہیں، ان کے ذریعہ کام نکلتا ہے، ان کی اصلاح کی کوئی فکر نہیں، اپنی ذات کا نفع سامنے رہتا ہے، ایسے درویش اور بعض علماء بھی اسی مصیبت میں مبتلا ہیں کہ حرام کھانے سے اور حرام کمانے سے اور گناہوں میں مال لگانے سے نہیں روک سکتے۔
جو لوگ قبروں کے مجاور بنے ہوئے ہیں طرح طرح سے لوگوں سے مال وصول کرتے ہیں بےنمازی ہیں اور بزرگ بنے ہوئے ہیں داڑھیاں منڈی ہوئی ہیں اور درویشی کے دعویدار ہیں حلال حرام کی تمیز کے بغیر لوگوں سے سب کچھ وصول کرلیتے ہیں بھلا ایسے لوگ کیا حق بات کہہ سکتے ہیں اور کیا گناہوں سے روک سکتے ہیں ؟
ان لوگوں کے ہم مشرب اور ہم مسلک علماء ہیں ان کے مونہوں پر لگامیں ہیں۔ قبروں پر جو عرس ہوتے ہیں ان میں خود شریک ہوتے ہیں اور یہ نہیں کہ سکتے کہ فلاں فلاں اعمال کر رہے ہو یہ شرک اور بدعت ہیں بلکہ یہ دنیا دار علماء اپنے عمل سے اپنے علم کو مشرکا نہ مبتدعانہ اعمال کی تائید میں خرچ کرتے ہیں۔
حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ کا ارشاد
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قرآن کریم میں (درویشوں اور عالموں کی) توبیخ کے لئے اس آیت سے زیادہ سخت کوئی آیت نہیں ہے، حضرت علی ؓ نے ایک دن خطبہ دیا اور حمد وصلوٰۃ کے بعد فرمایا اے لوگو ! تم سے پہلے لوگ اس لئے ہلاک ہوئے کہ وہ گناہ کرتے تھے اور درویش اور اہل علم انہیں نہیں روکتے تھے جب گناہوں میں بڑھتے چلے گئے تو ان پر عذاب نازل ہوگیا لہٰذا تم امر بالمعروف کرو اور نہی عن المنکر کرو اس سے پہلے کہ تم پر وہ عذاب آئے جو ان لوگوں پر آیا تھا اور یہ بات جان لو کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی وجہ سے نہ رزق منقطع ہوتا ہے اور نہ موت وقت سے پہلے آتی ہے۔