Ayah 5:18یہود و نصاریٰ کی گمراہی جنہوں نے کہا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اسکے پیارے ہیں
ان آیات میں اول تو یہود و نصاریٰ کا ایک دعویٰ باطلہ نقل فرمایا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب اور پیارے ہیں (والعیاذ اللہ) یہ بھی ان کے اپنے تراشیدہ باطل دعوؤں میں سے ایک دعویٰ ہے۔ شیطان انسان کے پیچھے پڑا رہتا ہے ایمان اور اعمال صالحہ سے روکنے اور باز رکھنے کے لئے طرح طرح کی باتیں سمجھاتا ہے انہیں باتوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے یہود و نصاریٰ کو یہ سمجھایا کہ تم تو اللہ کی اولاد ہو اور اس کے محبوب ہو، تم رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ کیسے ہی اعمال کرو تمہارا سب کچھ معاف ہے۔ ان لوگوں نے شیطان کی اس بات کو مان لیا اور اپنے بارے میں عقیدہ رکھ لیا کہ ہم اللہ کی اولاد اور اس کے پیارے ہیں اسی لئے ہم کو عذاب نہیں ہوگا۔ دروغ گوراحافظہ نہ باشند۔ تفسیر قرطبی ص 20 ج 6 میں لکھا ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ یہود کے پاس تشریف لائے اور ان کو دعوت دی کہ اللہ تعالیٰ کو ماننے کی طرح مانیں اور اس کے عذاب سے ڈریں۔ یہ سن کر کہنے لگے کہ اے محمد ! ہمیں کیا ڈراتے ہو ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب ہیں۔ نصاریٰ نے یہ بات کہی تھی کہ یہود بھی کہنے لگے، اس پر اللہ جل شانہ نے آیت (وَ قَالَتِ الْیَھُوْدُ وَ النَّصٰرٰی نَحْنُ اَبْنآؤُا اللّٰہِ وَ اَحِبَّآؤُہٗ ) نازل فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل فرما کر ان کی تردید فرمائی جو الزامی جواب کے پیرا یہ میں بھی ہے اور وہ یہ کہ (فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ ) (آپ ان سے فرما دیجئے کہ پھر وہ تمہیں تمہارے گناہوں کے سبب کیوں عذاب دیگا) جب تم اس کے بیٹے اور محبوب ہو تو عذاب سے کیوں ڈرتے ہو۔ عذاب کے اقراری بھی ہو کیونکہ تم (لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً ) بھی کہتے ہو۔ کوئی شخص اپنے بیٹے یا محبوب کو ایک منٹ کیلئے بھی دنیا والی آگ میں ڈالنے کو تیار نہیں اور تم کہتے ہو کہ ہم چند دن کے لئے آخرت کے عذاب میں ڈالے جائیں گے۔ جھوٹے کو کچھ خیال نہیں رہتا کہ میں نے پہلے کیا کہا تھا۔ نصاریٰ کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے تنبیہ فرمائی تھی کہ (اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَأْوٰہُ النَّارُ ) (بلا شبہ جو شخص شرک کرے اللہ کے ساتھ تو اللہ اس پر جنت کو حرام فرما دیگا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے) شرک بھی کرلیا اللہ کی اولاد بھی تجویز کردی جو حسب تصریح سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) دوزخ میں داخل ہونے کا ذریعہ ہیں اور دعویٰ یہ ہے کہ ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور محبوب ہیں ہمیں عذاب نہیں ہوگا اللہ کے نبی نے یہ فرمایا کہ مشرک دوزخ میں داخل ہوگا اور نبی کافر مانا برحق ہے اور تم یہ کہتے ہو کہ ہمیں عذاب نہ ہوگا نبی کی تکذیب کفر ہے اور باعث دخول نار ہے۔ 1
اس کے بعد فرمایا (بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ ) کہ تم بھی اللہ کی مخلوق میں سے ہو۔
بشر ہو آدمی ہو جیسے دوسرے انسان ہیں ایسے ہی تم ہو جیسے دوسروں سے اللہ کا کوئی رشتہ ناطہ نہیں ہے تم سے بھی نہیں اس کا بیٹا تو کوئی ہو نہیں سکتا۔ رہا محبوب ہونا تو محبوبیت کا تعلق ایمان اور اعمال صالحہ سے ہے اللہ کے رسول ﷺ کی تکذیب کر کے کافر بنے ہوئے ہو پھر بھی محبوب ہونے کا دعویٰ ہے یہ بہت بڑی گمراہی ہے (یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ ) (اللہ تعالیٰ جس کو چاہے مغفرت فرمائے اور
1 علامہ قرطبی اپنے تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بعض حضرات نے یُعَذِّبُکُمْ کو عَذَّبَکُمْ کے معنی میں لیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے دعویٰ کے اعتبار سے اللہ کے بیٹے ہو اور محبوب ہو تو تمہیں مسخ کر کے بندر اور خنزیر کیوں بنا دیا اور تم سے پہلے جو یہود و نصاریٰ گزرے ہیں تمہارے ہی جیسے تھے انہیں اللہ تعالیٰ نے طرح طرح کے عذابوں میں کیوں مبتلا فرمایا۔ (تفسیر القرطبی ص 121 جلد 2)
جسے چاہے عذاب دے) کوئی شخص بھی اس سے زبردستی بخشش نہیں کرو اسکتا۔ (وَ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَھُمَا وَ اِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ) اور اللہ ہی کے لئے ہے ملک آسمانوں کا اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس کا قانون ہے کہ مشرک اور کافر کی بخشش نہ ہوگی۔ اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے وہاں جھوٹے دعوے جھوٹی باتیں سب سامنے آجائیں گی اور ان پر عذاب ہوگا۔ یوم الحساب کو سامنے رکھو اور جھوٹ اور افتراء پر دازی سے باز آجاؤ۔
رسول اللہ ﷺ کی بعثت ایسے وقت میں ہوئی جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ کئی سو سال سے منقطع تھا
Ayah 5:19اس کے بعد فرمایا (یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ قَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلُنَا یُبَیِّنُ لَکُمْ عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ ) کہ اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول آیا جو واضح طور پر تمہیں بتاتا ہے اور اس کی آمد ایسے وقت میں ہوئی جبکہ رسولوں کے آنے کا سلسلے (مدت دراز سے) موقوف تھا۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے نبیوں کی تشریف آوری کا سلسلہ جاری تھا ایک نبی وفات پا جاتا تو اس کی جگہ دوسرا نبی مبعوث ہوجاتا تھا لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے آسمان پر تشریف لے جانے کے بعد سلسلہ نبوت منقطع ہوگیا تھا انہوں نے بشارت دی تھی کہ میرے بعد ایک رسول آئیں گے جن کا نام احمد ہوگا۔ احمد سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کا دوسرا نام ہے۔
حضرت عیسیٰ رسول اللہ اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے درمیان کوئی نبی نہیں تھا، سورة مائدہ کی آیت میں جو (عَلٰی فَتْرَۃٍ مِّنَ الرُّسُلِ ) ہے اس سے اور سورة صف میں جو (مُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ یَّأْتِیْ مِنْ بَعْدِی اسْمُہٗٓ اَحْمَدُ ) ہے اس سے یہی معلوم ہوتا کہ ان دونوں حضرات کے درمیان کوئی نبی نہیں تھا۔ بلکہ صحیح بخاری ص 849 ج 2 میں اس کی تصریح ہے کہ آپ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا اور فرمایا لَیْسَ بَیْنَنَا نَبِیٌّکہ ہمارے درمیان کوئی نبی نہیں ہے۔
بعض علماء نے بعض ایسے اشخاص کے بارے میں نبی ہونے کا احتمال کیا ہے جو سیدنا محمد رسول اللہ سے کچھ عرصہ پہلے گزرے تھے جن میں خالد بن سنان ایک نام ذکر کیا جاتا ہے لیکن یہ بات صحیح نہیں کیونکہ صحیح اور صریح حدیث کے خلاف ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے تھے اور بعض حضرات نے ان کی شخصیت کے موجود ہونے ہی میں شک کیا ہے۔ بہر حال اگر وہ نبی تھے تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے تھے۔
فَتْرَۃٍمِّنَ الرُّسُلِ کا زمانہ کتنا تھا
زمانہ فترہ جس میں حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) کے آنے کا سلسلہ منقطع رہا اس کی کتنی مدت تھی اس کے بارے میں حضرات مفسرین کرام نے متعدد اقوال نقل کئے ہیں۔ امام بخاری نے اپنی سند سے حضرت سلمان فارسی ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ کے درمیان چھ سو سال کا فاصلہ تھا۔ (بخاری ص 562 ج 3)
بعض حضرات نے پانچ سو ساٹھ سال کا فاصلہ بتایا ہے۔ ان ونوں میں اسی طرح تطبیق ہوسکتی ہے کہ حضرت سلمان ؓ نے حضرت عیسیٰ کے رفع سماء کے بعد سے آنحضرت ﷺ کے بعثت تک چھ سو سال مراد لئے ہوں اور جس نے پانچ سو سال والی بات کہی ہے اس نے آپ کی ولادت تک کا زمانہ مراد لیا ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
مفسر ابن کثیر نے ص 35 ج 2 میں ایک قول چھ سو بیس سال کا بھی نقل کیا ہے اور پھر فرمایا ہے کہ چھ سو اور چھ سو بیس میں کوئی منافات نہیں جس نے چھ سو سال کہا اس نے چھ سو سال شمسی مراد لئے ہیں اور جس نے چھ سو بیس کہا اس نے چھ سو بیس قمری مراد لئے ہیں کیونکہ سو سالہ شمسی میں (تقریباً ) تن سال قمری زائد ہوجاتے ہیں۔ یہ جو فترۃ کا زمانہ تھا اس میں جہالت کفر و شرک اور گمراہی کا جو حال تھا اس کے بارے میں جامع الفاظ میں مفسر ابن کثیر نے کیسی اچھی تعبیر کی ہے وہ فرماتے ہیں۔
والمقصود ان اللّٰہ بعث محمد ﷺ علیٰ فترۃ من الرسل وطموس من السبل و تغیر الادیان وکثرۃ عبادۃ الاوثان والنیران والصلبان فکانت النعمۃ بہ اتم النعم والحاجۃ امر عمم فان الفساد کان قد عم جمیع البلاد، والطغیان والجھل قد ظھر فی سائر العباد الاقلیلا من المتمسکین ببقایا من دین الانبیاء الاقد میں من بعض احبار الیھود و عباد النصاریٰ و الصَّابئین ھ (ص 35 ج 2)
(یعنی اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو ایسے وقت مبعوث فرمایا جب رسولوں کی آمد کا سلسلہ منقطع تھا اور ہدایت کے راستے مٹ گئے تھے اور دین بدل گئے تھے اور بت پرستی اور آتش پرستی اور صلیب پرستی کی کثرت ہوگئی تھی لہٰذا آپ کو مبعوث فرمانا اللہ تعالیٰ کی کامل ترین نعمت ہے اور آپ کی تشریف لانے کی سب کو ضرورت تھی تمام شہروں میں فساد عام تھا، سرکشی اور جہالت تمام بندوں میں پھیل گئی تھی بجز چند ایسے لوگوں کے جو انبیاء کرام علہیم السلام کے دین کی باقیات کو پکڑے ہوئے تھے جن میں بعض احبار یہود تھے اور بعض وہ لوگ تھے جو نصاریٰ اور صائبین میں سے اللہ کی عبادت میں لگے ہوئے تھے۔ حضرت عیاض بن حمار مجاشعی ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ میرے رب نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیں ان چیزوں میں سے بتادوں جو چیزیں آج اللہ نے مجھے تعلیم دی ہیں اور وہ تم نہیں جانتے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو مال میں کسی بندہ کو دوں وہ اس کے لئے حلال ہے (لوگوں کے اپنے طور پر حرام قرار دینے سے اللہ کا دیا ہوا مال حرام نہ ہوگا۔ مشرکین بعض چیزوں کو حرام قرار دیتے تھے جو اللہ کے قانون میں حلال تھیں ان کی تردید فرمائی) اللہ تعالیٰ شانہ نے یہ بھی فرمایا کہ میں اپنے بندوں کو دین حق پر پیدا کیا اور ان کے پاس شیاطین آگئے جنہوں نے ان کو ان کے دین سے ہٹا دیا۔ اور شیاطین نے ان پر وہ چیزیں حرام کردیں جو میں نے ان کے لئے حلال کی تھیں اور شیاطین نے ان کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ شرک کریں جس کی میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ (پھر فرمایا کہ) بلا شبہ اللہ نے زمین والوں کو دیکھا تو عرب اور عجم سب کو بہت زیادہ مبغوض قرار دیا بجزان چند لوگوں کے جو اہل کتاب میں باقی رہ گئے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہیں رسول بنا کر بھیجتا ہوں تاکہ تم کو آزمائش میں ڈالوں اور تمہارے ذریعہ دوسروں کو آزماؤں اور میں نے تم پر ایسی کتاب نازل کی جسے پانی نہیں دھوئیگا۔ ( کیونکہ وہ سینوں میں محفوظ ہوگی) آپ اسے سوتے ہوئے بھی پڑھو گے اور جاگتے ہوئے بھی، پھر فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش کو جلادوں میں نے عرض کیا کہ اے میرے رب ! ایسا کرنے سے تو وہ میرا سر پھوڑ دیں گے اور اسے کچل کر روٹی کی طرح بنا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم انہیں (جنگ کیلئے) نکالو جیسے انہوں نے تمہیں نکالا اور ان سے جنگ کرو ہم تمہاری مدد کرینگے اور خرچ کرو ہم تم پر خرچ کرینگے اور تم اپنا لشکر بھیجو ہم اس سے پانچ گناہ زیادہ لشکر بھیجیں گے۔ (الحدیث راوہ مسلم ص 385 ج 2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمانہ فترۃ میں چند ہی لوگ تھے جو توحید پر قائم تھے اور ان کے علاوہ عرب اور عجم کے لوگ مشرک اور گمراہ تھے اللہ جل شانہ نے کرم فرمایا نبی آخر الزمان سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور آپ کی مشقتوں اور محنتوں اور آپ کے صحابہ ؓ کی قربانیوں اور مجاہدوں سے کفر کی فضائیں چھٹ گئیں شرک کی جگہ توحید پھیل گئی، لوگوں پر ایمان اور کفر پوری طرح واضح ہوگیا۔ حق اور ہدایت کے راستے کھل گئے عرب و عجم کے شہروں میں اور دیہاتوں میں اور دو افتادہ قبیلوں میں ایمان کی لہریں دوڑ گئیں اور قلوب ہدایت کے نور سے جگمگا اٹھے۔
اللہ تعالیٰ نے سب پر اپنی حجت پوری فرما دی کسی کو یہ بات کہنے کا موقع اور بہانہ نہ رہا کہ ہمارے پاس کوئی بشیر و نذیر نہیں آیا تھا (فَقَدْ جَآءَ کُمْ بَشِیْرٌ وَّ نَذِیْرٌ) ( سو تمہارے پاس بشیر و نذیر آگیا) کسی بھی حجت اور حیلے سازی کا بہانہ نہ رہا جو نبی آخر الزمان ﷺ کو نہ مانے وہ عذاب دائمی کا مستحق ہوگا۔ (وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے) اسے پوری قدرت ہے کہ اپنے نافرمانوں کو سزادے اور فرمانبرداروں کو انعامات سے نوازے۔
Ayahs 5:20–26حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلانا اور انہیں ایک بستی میں داخل ہونے کا حکم دینا اور ان کا اس سے انکاری ہونا
ان آیات میں بنی اسرائیل کا ایک واقعہ ذکر فرمایا ہے، اس واقعہ میں عبرت اور اس بات کی دلیل بھی ہے کہ بلاشبہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہیں سورة مائدہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی وہاں یہود موجود تھے انہیں اپنے آباؤ اجداد کے قصے معلوم تھے، آنحضرت ﷺ کا ایسے واقعات کو بتانا ( جن کے جاننے کا آپ کے لئے وحی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا) اس امر کی صریح دلیل ہے کہ آپ بلا شبہ اللہ کے رسول ہیں، یہودیوں میں سے چند افراد ہی ایمان لائے مگر حجت سب پر پوری ہوگئی۔
واقعہ یہ ہے کہ جب فرعون کا لشکر سمندر میں ڈوب کر ختم ہوگیا اور فرعون بھی ہلاک ہوگیا اور بنی اسرائیل سمندر پار ہو کر شام کے علاقہ میں داخل ہوگئے تو اب انھیں اپنے وطن فلسطین میں جانا تھا یہ لوگ کئی سو سال کے بعد مصر سے واپس لوٹے تھے، ” جائے خالی راد یومی گیرد “ ، ان کے پیچھے عمالقہ نے ان کے وطن پر قبضہ کرلیا تھا یہ لوگ قوم عاد کا بقیہ تھے اور بڑے قدو قامت اور بڑے ڈیل ڈول والے اور قوت و طاقت والے تھے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے مقدر فرمادیا تھا کہ یہ سرزمین بنی اسرائیل کو ملے گی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ا ول تو انکو اللہ کی نعمتیں یاد دلائیں اور انہیں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی تم پر بڑی بڑی مہربانیاں ہیں۔ آئندہ زمانہ میں تم میں کثرت کے ساتھ نبی ہوں گے اور تم میں بہت سے بادشاہ ہوں گے اس نعمت کے رکھ رکھاؤ کے لئے اپنی جگہ ہونی چاہئے جس میں حضرات انبیا کرام (علیہ السلام) آزادی کے ساتھ تبلیغ کرسکیں اور احکام الہٰیہ پہنچا سکیں اور جس میں تمہارے بادشاہ اپنے اقتدار کو کام میں لاسکیں اور معاملات کو نمٹا سکیں۔ اب تک تم قبط (مصری قوم) کے ماتحت تھے۔ جنہوں نے تمہیں غلام بنا رکھا تھا اب تم اپنے وطن میں داخل ہوجاؤ یہ مقدس سرزمین تمہارے لئے اللہ نے مقدر فرما دی ہے، تم پشت پھر کر واپس نہ ہو آگے بڑھو۔ جنگ کرو، جن لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے وہ وہاں سے نکل جائیں گے ہمت کرو اور حوصلہ سے کام لو ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔ اس موقع پر چند آدمی بطور نقیب قوم عمالقہ کی خیر خبر لینے کے لئے بھیجے گئے تھے انہوں جو عمالقہ کا ڈیل ڈول اور قد وقامت دیکھا تو واپس آکر موسیٰ (علیہ السلام) سے بیان کیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ان کا حال پوشیدہ رکھو لشکر والوں میں سے کسی کو نہ بتانا ورنہ بزدلی اختیار کرلیں گے اور لڑنے سے گریز کریں گے، لیکن وہ نہ مانے انہوں نے اپنے اپنے رشتہ داروں کو بتادیا البتہ ان میں سے دو حضرات یعنی حضرت یوشع بن نون اور حضرت کالب بن یوقنا نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بات پر عمل کیا اور نہ صرف یہ کہ بنی اسرائیل سے عمالقہ کا حال پوشیدہ رکھا بلکہ بنی اسرائیل کو ہمت اور حوصلہ دلایا کہ چلو آگے بڑھو دروازہ میں داخل ہو ! دیکھو اللہ کی کیسی مدد ہوتی ہے تم داخل ہو گے تو وہ نکل بھاگیں گے اور تم کو غلبہ حاصل ہوگا اگر مومن ہو تو اللہ ہی پر بھروسہ کرو مومن کا کام اللہ پر توکل کرنا ہے۔ پیچھے ہٹنا نہیں ہے خصوصاً جبکہ تمہیں بشارت دی جارہی ہے کہ یہ زمین اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے تو پھر کیوں پشت پھیرتے ہو۔ بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی سمجھایا اور یوشع بن نون، اور کالب نے بھی زور دیا کہ چلو آگے بڑھو لیکن انہوں نے ایک نہ مانی۔ آپس میں کہنے لگے کہ کاش ! ہم مصر سے نہ آتے وہیں رہ جاتے ( جب غلامی کا ذہن بن جاتا ہے اور ذلت اور پستی دلوں میں رچ اور پچ جاتی ہے تو انسان تھوڑی سی تکلیف سے جو عزت ملے اس کی بجائے ذلت کو ہی گوارا کرلیتا ہے) دھاڑیں مار کر رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ہم مصر ہی میں ہوتے تو اچھا تھا، کبھی کہتے تھے کہ کاش ! ہم اسی جنگل میں مرجاتے اور ہمیں عمالقہ کی سر زمین میں داخل ہونے کا حکم نہ ہوتا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے انہوں نے برملا کہہ دیا کہ ہم ہرگز اس سرزمین میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ وہاں سے نہ نکل جائیں اگر وہ وہاں سے نکل جائیں تو ہم داخل ہوسکتے ہیں۔ ( گویا یہ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان ہے کہ وہ نکلیں گے تو ہم داخل ہوجائیں گے) انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ بھی کہا کہ جب تک وہ لوگ اس میں موجود ہیں ہم ہرگز کبھی بھی اس میں داخل نہیں ہوسکتے۔ (لڑنا ہمارے بس کا نہیں) تو اور تیرا رب دونوں جا کر لڑ لیں ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔
جب سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کا یہ ڈھنگ دیکھا اور ان کے ایسے بےت کے جواب سنے تو بار گاہ خداوندی میں عرض کیا کہ اے میرے رب ! میرا بس ان لوگوں پر نہیں چلتا، مجھے اپنے نفس پر قابو ہے اور میرا بھائی یعنی ہارون (علیہ السلام) بھی فرماں برداری سے باہر نہیں ہم دونوں کیا کرسکتے ہیں لہٰذا ہمارے اور فاسقوں کے درمیان فیصلہ فرما دیجئے۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ یہ سر زمین ان لوگوں پر چالیس سال تک حرام ہے اپنی حرکتوں کی وجہ سے اس وقت داخلہ سے محروم کئے جارہے ہیں۔ اس چالیس سالہ مدت میں زمین میں حیران پھرتے رہیں گے، چناچہ چالیس سال تک چھ فرسخ یعنی اٹھارہ میل جگہ میں گھومتے رہے صبح کو جہاں سے چلتے تھے شام کو وہیں کھڑے ہوئے تھے اس وقت ان کی تعداد چھ لاکھ تھی۔ اس عرصہ میں حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کی وفات بھی ہوگئی اور اس وقت جتنے بنی اسرائیل موجود تھے تقریباً سب کو اسی میدان میں اس چالیس سالہ مدت کے اندر اپنے اپنے وقت پر موت آگئی، البتہ حضرت یوشع اور حضرت کالب زندہ تھے اور جب چالیس سال پورے ہوگئے اور نئی نسل تیار ہوگئی تو حضرت یوشع (علیہ السلام) کی سر کردگی میں وہ مقدس سرزمین فتح ہوئی اور بنی اسرائیل اس میں داخل ہوئے۔ (من ابن کثیر ومعالم التنزیل)
فوائد متعلقہ واقعہ بنی اسرائیل
(1) یہ جو فرمایا (وَّ اٰتَاکُمْ مَّالَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ ) (اور تم کو وہ دیا جو جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا) بظاہر اس سے جو یہ ایہام ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کو باقی تمام امتوں پر فضیلت دے دی گئی ( حالانکہ امت محمدیہ سب سے افضل ہے) اس ایہام کا دفعیہ یوں ہے کہ بنی اسرائیل کے زمانہ تک جو امتیں تھیں ان کو جو عطا فرمایا تھا ان میں سے سب سے زیادہ بنی اسرائیل کو دیا تھا۔ اگلی پچھلی تمام امتیں اس سے مراد نہیں ہیں اسی لئے مفسرین کرام اَلْعَالَمِیْنَ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں یعنی عالمی زمانھم۔ اور صاحب معالم التنزیل نے مجاہد سے یوں نقل کیا ہے یعنی المن و السلوی والحجر و تظلیل الغمام۔ یعنی آیت میں جو یہ فرمایا کہ تمہیں وہ کچھ یا ہے جو کسی کو نہیں دیا اس سے من وسلوی نازل فرمانا اور پتھر سے پانی کا چشمے نکالنا اور بادلوں کا سایہ کرنا مراد ہے۔ یہ چیزیں بحیثیت امت کے بنی اسرائیل کے علاوہ اور کسی کو نہیں دی گئیں۔
(2) چھ فرسخ جگہ جس میں چالیس سال تک سر گرداں پھرتے رہے اس کے بارے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کہاں جانا چاہ رہے تھے جس بستی میں جانے کا حکم ہوا تھا وہاں تو جانا گوارہ نہ تھا پھر صبح سے شام تک جو سفر کرتے تھے وہ کس مقصد سے تھا ؟ اس کے بارے میں علماء تسیر نے فرمایا ہے کہ یہ لوگ مصر جانا چاہتے تھے کیونکہ وہاں کئی سو سال رہے تھے وہاں کی سرزمین سے مانوس ہوگئے تھے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ بظاہر مقصد کچھ بھی نہ تھا یہ جو انہوں نے کہا تھا کہ ہم ہرگز اس بستی میں داخل نہ ہوں گے جب تک کہ جبر و قوت والی قوم وہاں سے نکل جائے تو اس کی سزا انہیں یہ ملی کہ جب حکم کے مطابق ایک جگہ قیام پذیر ہونا نہیں چاہتے تو اب چلتے ہی رہو۔
(3) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو یہ دعا کی کہ (فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِیْنَ ) (کہ ہمارے اور فاسقوں کے درمیان فیصلہ کر دیجئے) اس کا مطلب یہ تھا کہ ہمارے اور نافرمان قوم کے درمیان میں فیصلہ فرما دیجئے۔ یہ لوگ جس سزا کے مستحق ہیں ان کو وہ سزا دید یجئے اور جس انعام کی ہمیں ضرورت ہے اس انعام سے ہمیں نواز دیجئے۔ قال صاحب الروح بان تحکم لنا بما نستحقہ علیھم بما یستحقونہ کما ھو المروی عن ابن عباس والضحاک ؓ
(4) بنی اسرائیل کے قول قبیح کے بر خلاف حضرت مقداد ؓ نے بدر کے موقع پر کیا ہی اچھا جواب دیا۔ رسول اللہ ﷺ غزوہ بدر کے موقع پر مشرکین سے جنگ کرنے کے بارے میں مشورہ فرما رہے تھے۔ اس موقع پر حضرت مقداد بن الاسود نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم ایسا نہ کہیں گے جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہا تھا (اِذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلَآ اِنَّا ھٰھُنَا قٰعِدُوْنَ ) آپ چلیئے (جنگ کیجئے) ہم آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے جنگ کریں گے۔ ان کی بات سن کر رسول اللہ ﷺ کو بہت خوشی ہوئی چہرہ انور چمکنے لگا۔ (صحیح بخاری ج 2 ص 564 اور ج 2 ص 263)
Ayah 5:27حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا واقعہ، ایک کا دوسرے کو قتل کرنا، پھر اس کی لاش کو لئے ہوئے پھرنا
یہاں قرآن مجید آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا واقعہ نقل فرمایا ہے مشہور یہی ہے کہ یہ دونوں حضرت آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے تھے اور آیت کریمہ کے ظاہری الفاظ بھی اس پر دلالت کرتے تھے۔ کیونکہ حقیقی معنی صحیح ہوسکتے ہوں تو مجازی معنی لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، اگرچہ بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دونوں بھائی (قاتل ومقتول) بنی اسرائیل میں سے تھے اور مجازاً دوردراز پوتوں (اِبْنَیْ اٰدَم) (آدم کے دو بیٹوں) سے تعبیر فرمایا ہے۔
قصہ کیوں پیش آیا اور اس کے اسباب و محرکات کیا تھے اس کے بارے میں جو کچھ ملتا ہے وہ سب اسرائیلی روایات سے ماخوذ ہے قرآن کریم میں اجمالی قصہ ذکر فرمایا ہے اور پھر آخر میں بطور عبرت (مِنْ اَجْلِ ذَالِکَ کَتَبْنَا) (الیٰ اخرہ) فرما دیا۔ تفصیل کے ساتھ قصہ معلوم نہ ہو تب بھی مضمون عبرت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مفسر ابن کثیر ج 2 ص 41 نے بحوالہ سدی حضرت ابن عباس ؓ و ابن مسعود ؓ وغیرھم سے نقل کیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی جو اولاد ہوتی تھی اس میں ہر بار ایک لڑکا اور ایک لڑکی جوڑا پیدا ہوتے تھے (اس زمانے میں نسل بڑھانے کی ضرورت تھی اور اولاد کا آپس میں نکاح کرنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا کہ ایک ہی شخص کی صلبی اولاد کا آپس میں نکاح کردیا جائے تاہم اتنافرق ضرور کرتے تھے کہ ایک ہی بطن سے ایک ساتھ جو جڑواں لڑکا لڑکی پیدا ہوتے ان کا آپس میں نکاح نہیں کرتے تھے بلکہ) ایک بطن کے لڑکے کے ساتھ جو لڑکی پیدا ہوتی تھی اس کا نکاح دوسرے بطن سے پیدا ہونے والے لڑکے سے کیا جاتا تھا، حتی کہ دو لڑکے پیدا ہوئے ایک کا نام قابیل تھا جو کھیتی کرنے والا تھا اور دوسرے کا نام ہابیل تھا جس کے پاس دودھ دینے والے مویشی تھے، قابیل بڑا تھا اور اس کے ساتھ جو بہن پیدا ہوئی تھی وہ ہابیل کیساتھ پیدا ہونے والی بہن سے زیادہ خوبصورت تھی ہابیل نے چاہا کہ قابیل کی بہن سے نکاح ہوجائے اور ضابطہ کے مطابق اس کا نکاح ہابیل سے ہی ہونا چاہئے تھا۔ قابیل اس بات پر نہ مانا اور اس نے کہا کہ یہ میری بہن ہے میرے ساتھ پیدا ہوئی ہے جو تیرے ساتھ پیدا ہونے والی بہن سے زیادہ خوبصورت ہے اور میں اس کا زیادہ مستحق ہوں کہ میرا نکاح اس سے ہو (قانون شرعی کے خلاف نفس کی خواہش پر عمل کرنے کا ارادہ کیا) ۔
حضرت آدم (علیہ السلام) نے قابیل سے کہا کہ یہ لڑکی جو تیرے ساتھ پیدا ہوئی ہے اس کا نکاح ہابیل سے کردیں لیکن قابیل نہیں مانا پھر جھگڑے کو ختم کرنے کے لئے دونوں نے الگ الگ اللہ کی بارگاہ میں نیاز پیش کی کہ جس کی نیاز قبول ہوجائے وہی اس لڑکی سے نکاح کرنے کا حق دار ہوگا۔ دونوں نے جب نیاز پیش کی تو ہابیل کی نیاز قبول ہوگئی۔ آسمان سے آگ آئی اور اس کو جلا دیا قابیل کی نیاز رکھی رہ گئی۔ جب اس کی نیاز قبول نہ ہوئی اور آسمانی فیصلہ بھی اس کے خلاف ہوگیا تو کٹ حجتی کرنے والوں کی طرح ہابیل سے کہا کہ میں تجھے قتل کر دوں گا اس میں ہابیل کا کچھ قصور نہ تھا اس کی نیاز قبول ہونے کا فیصلہ اللہ کیطرف سے تھا لیکن قابیل غصہ ہونے لگا جیسا کہ ہٹ دھرموں کا طریقہ ہے۔ ضدی آدمی جب دلیل سے عاجز ہوجاتا ہے تو فریق مخالف سے کہتا کہ ہے میں تجھے ماروں گا یا قتل کر دوں گا۔ ہابیل نے متانت کے ساتھ جواب میں کہا کہ (اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ ) (اللہ تعالیٰ متقی بندوں سے ہی قبول فرماتا ہے) بات کہنے کا کیسا اچھا اسلوب اختیار کیا نہ تو اپنی تعریف کی کہ میں مخلص ہوں اور نہ قابیل سے یوں کہا کہ تو مخلص نہیں ہے اور ایک قانونی بات بتادی اور اچھے پیرا یہ میں یہ سمجھا دیا کہ اگر تو متقی ہوتا تو تیری نیاز قبول ہوجاتی۔
ہابیل نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر تو نے مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ بڑھایا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے تیرے طرف ہاتھ نہ بڑھاؤں گا میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو رب العالمین ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ہابیل قابیل سے قوت اور طاقت میں زیادہ تھا لیکن اس نے مقتول ہوجانا گوارہ کرلیا۔ اور اپنے بھائی پر ہاتھ اٹھانا گوارہ نہ کیا۔ دفاع کے لئے جوابی طور ہتھیار اٹھانا مشروع تو ہے لیکن ہابیل نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ مظلوم ہو کر مقتول ہوجانا قاتل ہونے سے بہتر ہے صبر کرلیا ( یہاں بعض چیزوں میں ہماری شریعت کے اعتبار سے بعض اشکلات بھی سامنے آسکتے ہیں لیکن چونکہ یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام انبیاء کی شرائع احکام کے اعتبار سے متفق ہوں اس لئے یہ اشکال رفع ہوجاتے ہیں) ۔
Ayah 5:28رسول اللہ ﷺ کا ارشاد کہ فتنوں کے زمانہ میں کیا کریں
اخیر زمانہ میں فتنے بہت زیادہ ہوں گے۔ اس وقت قتل و خون بہت ہوگا اس وقت بھی ہابیل کا طریقہ اختیار کرنے کا حکم فرمایا گیا۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے ہوں گے ان فتنوں میں انسان صبح مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوگا اور شام کو مومن ہوگا اور صبح کو کافر ہوگا بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا اس وقت تم اپنی کمانوں کو توڑ دینا اور ان کی نانتوں کو کاٹ دینا اور اپنی تلواروں کو پتھروں سے کچل دینا، اور اپنے گھروں میں اندر بیٹھ جانا پھر بھی تم میں سے کسی کے پاس کوئی شخص قتل کرنے کے لئے پہنچ جائے تو آدم کے دو بیٹوں میں جو اچھا تھا اس کی طرح ہوجانا۔ (مشکو ۃ المصابیح ج 4 ص 464)
یعنی ہابیل کی طرح ہوجانا قتل ہوجانا منظور کرلینا اور خود قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہ اٹھانا۔ حضرت ایوب سختیانی نے فرمایا کہ اس امت میں سے سب سے پہلے جس نے (مَآ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْکَ لِاَقْتُلَکَ ) پر عمل کیا وہ حضرت عثمان بن عفان ؓ تھے وہ امیر المومنین تھے قتال اور دفاع سب کچھ کرسکتے تھے لیکن انہوں نے مقتول ہونا پسند کرلیا اور قتال کرنا منظور نہ کیا۔
Ayahs 5:29–30ہابیل نے مزید سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا (اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓاَ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ) یہ قابیل کو خطاب ہے اور مطلب یہ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنے گناہ بھی لے اور میرے گناہ بھی لے ان سب کو اپنے اوپر اٹھا لے اور دوزخ والوں میں ہوجائے، (وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ ) اور یہ ظالموں کی جزا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تیرے جو گناہ ہیں ان کا بوجھ تو تیرے اوپر ہے ہی اور ان میں میرے قتل کا گناہ بھی اپنے سر دھر نے کو تیار ہے۔ یہ سب گناہ مل کر تیرے دوزخ میں جانے کا سبب بن جائیں گے۔
ایک اشکال اور اس کا جواب
یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ایک مومن بھائی کا خیر خواہ ہونا چاہئے ہابیل نے جو یہ کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تو اپنا اور میرا گناہ اپنے سر رکھ لے اور دوزخیوں میں سے ہوجائے یہ تو خیر خواہی کے جذبہ کے خلاف ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے ہر طرح سے اپنے بھائی کو سمجھالیا تھا جب اس نے نصیحت قبول نہ کی اور کسی طرح تفہیم فائدہ مند نہ ہوئی تو پھر ہابیل نے دوسرا رخ اختیار کیا اور بتادیا کہ جو کچھ تو کرنا چاہتا ہے اس کا نتیجہ برا ہے جو دوزخ میں جانے کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ میرا ہاتھ نہ اٹھانا تیرے دوزخ میں جانے کا ذریعہ بن جائے گا۔
ممکن ہے کہ ہابیل کی نصیحت سے اور کچھ اپنی سمجھ میں قابیل کو تردد ہوا ہو کہ قتل کرے یا نہ کرے لیکن بالاخر اس کے نفس نے اس پر آمادہ کر ہی دیا کہ اپنے بھائی کو قتل کر دے، چناچہ اس نے قتل کر ہی ڈالا، قتل کر کے زبردستی نقصان میں پڑگیا، دنیا میں بھی نقصان ہوا کہ ایک بھائی سے محروم ہوا اور والدین بھی ناراض ہوئے اور خالق کائنات جل مجدہ کو بھی ناراض کردیا اور آخرت کا عذاب اس کے علاوہ رہا۔
قتل کا طریقہ ابلیس نے بتایا
قابیل نے قتل کا ارادہ تو کرلیا لیکن قتل کیسے کرے یہ بھی ایک سوال تھا کیونکہ اس سے قبل دنیا میں کوئی مقتول نہ ہوا تھا۔ قتل کرنا چاہا تو گردن مروڑنے لگا لیکن اس سے کچھ حاصل نہ ہوا اس موقع پر ابلیس ملعون پہنچ گیا اور اس نے ایک جانور لیا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ دوسرے پتھر سے مار دیا۔ قابیل دیکھتا رہا اور پھر اس نے اپنے بھائی کے ساتھ بھی ایسا کیا اور قتل کردیا اس بارے میں مفسرین نے دوسری صورتیں بھی نقل کی ہیں لیکن کیفیت قتل کی تعیین پر کوئی حکم شرعی موقوف نہیں ہے اس لئے کسی صورت کے متعین کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ یقینی بات ہے کہ اس نے قتل کردیا جس کی تصریح لفظ فقتلہٗ میں موجود ہے۔
Ayah 5:31قابیل کو پریشانی کہ مقتول بھائی کی لاش کا کیا کرے ؟
قتل تو کردیا لیکن اس سے پہلے کوئی میت دیکھی نہ تھی کوئی مرجائے تو کیا کیا جائے اس کے بارے میں کچھ علم نہ تھا اب قابیل حیران تھا کہ بھائی کی اس لاش کو کیا کرے اسی حیرانی اور پریشانی میں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے دو کوے بھیجے دونوں آپس میں لڑے اور ایک نے دوسرے کو مار دیا پھر اسی مارنے والے کوے نے زمین کو کریدا اور مردہ کوے کی لاش کو دفن کردیا (فَبَعَثَ اللّٰہُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَہٗ کَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَ ۃَ اَخِیْہِ ) (سو اللہ نے بھیج دیا ایک کوا جو کرید رہا تھا زمین کو تاکہ وہ اسے دکھائے کہ کیسے چھپائے اپنے بھائی کی لاش کو) جب قابیل نے یہ منظر دیکھ لیا تو زمین کھود کر اپنے بھائی کی لاش کو دفن کردیا اور یہ بھی کہا (یٰوَیْلَتٰٓی اََعَجَزْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِثْلَ ھٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَ ۃَ اَخِیْ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ ) (ہائے افسوس ! میری حالت پر ! کیا میں اس سے بھی عاجز ہوگیا کہ اس کوے کی طرح ہوجاؤں پھر اپنے بھائی کی لاش کو چھپا دوں۔ ) خسران یعنی نقصان عظیم کا تو مستحق ہوا ہی تھا ! اپنی ناسمجھی پر نادم بھی ہوا کہ میں کوے جیسا بھی نہ ہوسکا جو اپنے بھائی کی لاش کو اپنی سمجھ سے کہیں ٹھکانہ لگا دیتا۔
فوائد متعلقہ واقعہ ہابیل و قابیل
(1) واقعہ مذکورہ سے معلوم ہوا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنی اولاد میں شروع ہی سے توحید پھیلائی تھی اور جو احکام ان کے لئے مشروع کئے گئے تھے ان احکام پر عمل کرتے تھے اور اپنی اولاد کو بھی ان کے مطابق چلائے تھے اسی لئے تو یہ سوال پیدا ہوا کہ فلاں بطن کے لئے حرام ہے، پھر جب اختلاف ہوا تو دونوں لڑکوں نے بارگاہ خدا واندی میں قربانی پیش کی اور قربانی کے ذریعہ اختلاف کا فیصلہ کرنا چاہا کہ اللہ تعالیٰ جس کی قربانی قبول کرے گا وہ صحیح راہ پر ہوگا۔
انسان اپنے عہد اول سے توحید کا عقیدہ رکھنے کا پابند ہے اور اس پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرے جو اسے اس کے نبی کے ذریعہ پہنچے ہوں، حضرت آدم (علیہ السلام) سب سے پہلے انسان بھی تھے اور سب سے پہلے نبی بھی و قد جاء تصریح ذالک فی الحدیث کما فی المشکوٰۃ۔ (ص 511 وص 512)
(2) جب دونوں بھائیوں نے اللہ کی بارگاہ میں نیاز پیش کی (ہابیل نے ایک مینڈھا پیش کیا اور قابیل نے کچھ بالیں پیش کیں) تو اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی نیاز کو قبول فرما لیا، آسمان سے آگ آئی اور اس کو جلا دیا، قابیل نے جو کچھ پیش کیا تھا وہ یوں ہی رکھارہ گیا اس پر اسے غصہ آیا اول تو پہلے ہی سے ناراض تھا۔ اب مزید نفسانیت میں ابھار آیا۔ اس ابھار کا باعث یہ بھی ہے کہ لوگوں کو جب یہ معلوم ہوگا کہ اس کی نیاز قبول نہیں ہوئی تو ان کی نظروں میں خفیف ہوں گا، قابیل ہابیل سے کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردوں گا اس میں ہابیل کا کوئی قصور نہ تھا، جس لڑکی کے بارے میں جھگڑا ہو رہا تھا اس کے بارے میں ہابیل کی بات قانون خداوندی کے مطابق تھی اور جب نیاز قبول نہ ہوئی تو اس میں بھی ہابیل کا کوئی قصور نہ تھا، قابیل کو حسد ہوا کہنے لگا کہ میں تجھے قتل کردوں گا اس پر ہابیل نے اچھے انداز میں اس کو سمجھایا اور یہ کہہ دیا کہ (اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ ) (کہ اللہ تعالیٰ متقین ہی سے قبول فرماتا ہے) مطلب یہ تھا کہ اگر تو متقی ہوتا تو تیری نیاز قبول ہوتی، اول تو پہلے ہی حکم شرعی کی خلاف ورزی پر اصرار ہے اور اب مجھے قتل کرنے کا ارادہ کر رہا ہے ان سب باتوں کو چھوڑ کر تقویٰ اختیار کرنا چاہیے تاکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اعمال قبول ہوں۔
تقویٰ کے عموم میں کفر شرک سے بچنا اور ہر طرح کے گناہوں سے بچنا سب آجاتا ہے اور کافر کا تو کوئی عمل قبول ہی نہیں ہے، کسی عمل کا اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوجانا بہت بڑی نعمت ہے، عمل تو بہت کئے جاتے ہیں لیکن ثواب اسی عمل پر ملے گا جو اللہ کے یہاں قبول ہوجائے حضرت ابوالدردا ؓ نے فرمایا۔
لان استیقن ان اللہ تقبل لی صلوٰۃ وا حدۃ احب الیَّ من الد نیا و مافیھا، ان اللّہ یقول انما۔ یتقبل اللّٰہ من المتقین۔ (ابن کثیر)
(اگر مجھے یہی یقین ہوجائے کہ میری ایک نماز مقبول ہوگئی تو ہی میرے لئے ساری دنیا اور اس میں جو کچھ ہے اس سب سے بہتر ہوگا) تو گویا ایک اچھے پیرائے میں ہابیل نے قابیل کو سمجھا دیا کہ تقویٰ اختیار کر چونکہ اس میں حسد کی آمیزش بھی تھی وہ بھی گناہ ہے اس لئے تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت میں حسد سے باز رہنے اور بچنے کی تنبیہ ہوگئی، حاسد یہ دیکھتا ہے کہ فلاں شخص کو ایسی ایسی نعمت مل گئی ہے تو خواہ مخواہ صاحب نعمت سے جلتا ہے حالانکہ صاحب نعمت کا اس میں کچھ بھی قصور نہیں ہوتا اس میں تو اللہ تعالیٰ سے ناراضگی ہے کہ فلاں کو کیوں دیا مجھے کیوں نہیں دیا، ہابیل نے جو قابیل کو نصیحت کی اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ صاحب نعمت کی نعمت کے زوال کی فکر میں پڑنے کی بجائے حاسد کو تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔ در حقیقت تقویٰ بہت بڑی چیز ہے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے اوصیک بتقوی اللہ فانہ ازین لا مرک کُلّہ (کہ میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کیونکہ یہ تیرے ہر کام کو زینت دینے والا ہے) ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 415)
(3) مفسرین لکھتے ہیں کہ ہابیل سب سے پہلا مقتول بھی تھا اور سب سے پہلا میت بھی تھا اس سے پہلے کسی انسان کی موت نہ ہوئی تھی لہٰذا قتل کرنے کے بعد قابیل کو پریشانی تھی کہ نعش کو کیا کرے لہٰذا بوری وغیرہ میں بند کر کے نعش کو کمر پر اٹھائے ہوئے پھرتا رہا۔ اول تو بوجھ اٹھا کر لئے پھرنے کی مصیبت ! دوسرے اس کے اردگرد مردہ خور جانوروں کی بھیڑ کہ یہ اسے پھینکے تو کھائیں دونوں وبال جان بنی ہوئی تھیں، جب ایک کوے نے دوسرے کوے کو قتل کر کے اور دفن کر کے دکھایا تو اپنے بھائی کی لاش کو دفن کیا، لاش کو ختم کرنے کے اور بھی طریقے تھے مثلاً آگ میں جلا دیا جائے یا سمندر میں پھینک دیا جائے لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین میں دفن کرنے کا طریقہ بتایا گیا جو ایک طبعی اور فطری طریقہ ہے انسان مٹی سے پیدا ہوا ہے مٹی ہی میں مل جاتا ہے۔ گلے سڑے جو کچھ ہو مٹی کے اندر ہو اس کے بعد سے عموماً تمام انسان نعشوں کو دفن ہی کرتے ہیں سوائے ہندوستان کے مشرکوں کے وہ جلاتے ہیں اور سوائے پارسیوں کے کہ وہ اپنی نعشوں کو گدھوں کو کھلا دیتے ہیں انسان کا اکرام اسی میں ہے کہ موت کے بعد اسے دفن کردیا جائے، اور حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) کا یہی طریقہ ہے۔
Ayah 5:32جس نے ایک جان کو قتل کیا گویا تمام انسانوں کو قتل کیا
یعنی اس وجہ سے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے نے اپنے بھائی پر ظلم و زیادتی کرتے ہوئے قتل کردیا ہم نے نبی اسرائیل پر یہ بات لکھ دی یعنی ان کے لئے شریعت بناد ی اور اس کا اعلان کردیا کہ جو بھی کوئی شخص کسی شخص کو قتل کر دے اور یہ قتل کرنا کسی جان کے عوض نہ ہو اور زمین میں جو فساد ہوا سے روکنے کے لئے نہ ہو تو گویا کہ اس قاتل نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی جان کو زندہ کردیا یعنی کسی جان کو ہلاکت سے بچا لیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندہ کردیا۔
علامہ قرطبی ج 6 ص 146 لکھتے ہیں کہ اس آیت میں جو تشبیہ ہے اس کے بارے میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں پھر حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ کے اقوال نقل کئے ہیں۔ ان میں ایک قول حضرت مجاہد تابعی کا بھی ہے اور وہ یہ کہ جو شخص کسی بھی ایک جان کو بلا وجہ شرعی قصداً قتل کردے تو اس کی سزا جہنم کا داخلہ ہے اور اللہ کا اس پر غضب ہوگا اور اللہ کی اس پر لعنت ہوگی اور اس کے لئے بڑا عذاب ہے جیسا کہ سورة نساہ میں اس کی تصریح ہے اگر کوئی شخص تمام لوگوں کو قتل کر دے تو اس کی سزا اس سے زیادہ نہیں ہے لہٰذا ایک جان کا قتل کرنا اور سب جانوں کا قتل کرنا برابر ہوا لہٰذا کوئی شخص کسی ایک جان کو بھی قتل نہ کرے اسی طرح سے جو شخص قتل کر رہا تھا اور وہ قتل سے رک گیا تو گویا اس نے سب آدمیوں کو بچالیا۔
اور ایک قول علامہ قرطبی نے یہ نقل کیا ہے کہ ایک جان کو قتل کرنے والا کو ایسا گناہ ہوتا ہے جیسا کہ سب لوگوں کو قتل کرنے کا گناہ، یہ قول آیت کے ظاہر الفاظ سے قریب تر ہے اور حدیث شریف میں جو یہ فرمایا ہے کہ لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا الاّ کَانَ علٰی ابْنِ اٰدَمَ الْاَوَّلِ کِفْلٌ مِنْ دَمِھَا لِاَنَّہٗ اَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ (کہ جو شخص بھی ظلماً قتل ہوگا آدم کے پہلے بیٹے پر بھی اس کے قتل کی شرکت رہے گی کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کی بنیاد ڈالی) (رواہ البخاری ومسلم) اس حدیث سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے، علامہ قرطبی لکھتے ہیں کہ یہ بنی اسرائیل کے ساتھ مخصوص ہے ان پر عذاب میں تغلیظ اور تشدید فرمائی، اس تغلیظ کی وجہ بعض مفسرین نے لکھی ہے کہ بنی اسرائیل پر سب سے پہلے کتاب اللہ یعنی توریت شریف میں قتل نفس کا ممنوع ہونانازل ہوا تھا اگرچہ اس سے پہلے بھی قتل نفس ممنوع تھا لیکن کسی کتاب الہٰی میں ممانعت وارد نہیں ہوئی تھی۔ اور ان لوگوں میں سرکشی اور طغیانی بھی بہت تھی حتیٰ کہ بہت سے انبیاء ( علیہ السلام) کو بھی انہوں نے قتل کردیا۔ اس کے بعد کسی جان کو بچانے کی فضیلت بیان فرمائی۔ (وَ مَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا) (اور جس کسی نے جان کو زندہ رکھا یعنی کسی کی زندگی کے بچنے کا ظاہری سبب بن گیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو زندہ کیا) ۔
اس کے بعد بنی اسرائیل کی نافرمانی کا ذکر فرمایا (وَ لَقَدْ جَآءَ تْھُمْ رُسُلُنَا بالْبَبیِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ ) (اور ان کے پاس ہمارے رسول کھلی کھلی دلیلیں لے کر آئے پھر بھی ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں اسراف کرنے والے یعنی حد سے بڑھنے والے ہیں) ۔
فائدہ : حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ جو بھی کوئی شخص دنیا میں ظلماقتل کریگا اس کے گناہ میں آدم کے اس بیٹے کا حصہ بھی ہوگا جس نے دنیا میں سب سے پہلے قتل کیا تھا، عذاب وثواب کا ایک یہ بھی قانون ہے کہ جو شخص کسی خیر کی ابتداء کرے گا اسے اپنے عمل کا بھی ثواب ملے گا اور جو لوگ اس کی دیکھا دیکھی یا اس کی تعلیم و تبلیغ سے اس پر عمل کریں گے ان کے عمل کا بھی اس ابتداء کرنے والے شخص کو ثواب ملے گا اور عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی، اسی طرح اگر کسی شخص نے اپنے عمل سے یا قول سے کسی برائی کی بنیاد ڈال دی تو اس برائی کو جو لوگ اختیار کریں گے ان کے گناہوں کا بوجھ بھی اس بنیاد ڈالنے والے پر ہوگا اور عمل کرنے والوں کو گناہوں میں کچھ کمی نہ ہوگی۔ (کما جاء مصرحاً فی حدیث ابی مسعود عند مسلم، مشکوٰۃ المصابیح ج 1 ص 33)
مومن بندوں کو خیر کا داعی اور خیر کا رواج دینے والا اور خیر کا پھیلانے والا بننا چاہئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس بندہ کے لئے خوشخبری ہو جسے اللہ نے خیر کی چابی بنایا ہو اور خیر کا تالا بنایا ہو، اور خرابی ہے اس شخص کے لئے جسے اللہ تعالیٰ نے شر کی چابی بنایا ہو اور شر کا تالا بنایا ہو (مشکوٰ ۃ المصابیح ص 444) بدعتوں کو رواج دینے والے اپنے بارے میں غور کرلیں۔
Ayah 5:33دنیا اور آخرت میں ڈاکوؤں کی سزا
ان آیات میں اللہ جل شانہ نے ڈاکوؤں اور راہزنوں کی سزا بیان فرمائی ہے جو دنیاوی احکام سے متعلق ہے اور آخر میں فرمایا کہ یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہوگا۔ آیت شریفہ میں چار سزاؤں کا ذکر ہے ایک قتل دوسرے سولی پر چڑھانا تیسرے ہاتھ پاؤں مخالف جانب سے کاٹ دینا۔ یعنی داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں، چوتھے زمین سے دور کرنا۔ ڈکیتی اور رہزنی کو اللہ اور رسول سے لڑنے سے تعبیر فرمایا کیونکہ یہ لوگ اللہ کی شریعت کا مقابلہ کرتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ بندوں تک پہنچی ہے اور زمین میں جو امن وامان ہے اسے تباہ کرتے ہیں۔
آیت کریمہ اِنَّمَاجَزَآءُ الَّذِیْنَ کا سبب نزول
زمانہ نبوت میں ایک واقعہ پیش آیا جو آیت بالا کے نازل ہونے کا سبب بن گیا اور ڈکیتی کرنے والوں کے بارے میں مستقل ایک قانون نازل ہوگیا۔ علامہ واحدی نے اسباب النزول میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے۔ کہ بنی عکل اور بنی عرینہ کے چند آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو آٹھ افراد تھے ان لوگوں نے (ظاہری طور پر) اسلام قبول کرلیا اور آپ سے بیعت اسلام بھی کرلی پھر ان کو مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی بیمار ہوگئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ان کے مرض کی کیفیت بیان کی گئی آپ نے ان سے فرمایا کہ تم چاہو تو صدقہ کے اونٹوں کی طرف نکل جاؤ جہاں وہ چرتے ہیں جانوروں کو جو چرانانے والا ہے اسی کے ساتھ رہو ان اونٹوں کا پیشاب اور دودھ پیتے رہو۔ ان لوگوں نے اسے منظور کرلیا وہاں جنگل میں رہنے لگے۔ انہوں نے اونٹوں کا پیشاب بھی پیا اور دودھ بھی، جب تندرست ہوگئے تو چروا ہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہانک کرلے گئے جب آنحضرت ﷺ کو ان کی اطلاع ہوئی تو ان کے پیچھے آدمی بھیجے ان کو پکڑ کر لایا گیا اور خدمت عالی میں پیش کیا گیا پھر آپ کے حکم سے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے اور ان کی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر دی گئی (جس سے وہ اندھے ہوگئے) پھر دھوپ میں ڈال دیئے گئے یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
یہ واقعہ امام مسلم نے ج 2 ص 57 مختلف اسانید سے نقل کیا ہے۔ صحیح بخاری 2 ص 602 میں بھی مذکور ہے اسباب النزول میں ہے کہ حضرت قتادہ تابعی نے فرمایا کہ آیت (اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ ) (آخر تک) کے بارے میں ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ مذکورہ بالا واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ علماء نے فرمایا ہے کہ پیشاب پینے کی جو اجازت ان لوگوں کو دی گئی تھی وہ اس وجہ سے تھی کہ ان کے بارے میں آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دیدی گئی تھی کہ وہ مرتد ہوجائیں گے۔ وفیہ توجیھات اخر مذکورۃ فی شروح الحدیث۔
ڈاکوؤں کی چار سزائیں
آیت بالا میں چار سزاؤں کا ذکر ہے (1) قتل کرنا (2) سولی چڑھنا (3) جانب مخالف سے ہاتھ پاؤں کاٹنا (4) زمین سے دور کردینا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے کہ چار سزائیں مختلف جرائم کے اعتبار سے ہیں اگر ڈاکوؤں نے قتل بھی کیا ہو مال بھی لیا ہو تو وہ قتل کئے جائیں گے اور سولی پر چڑھائے جائیں گے اور اگر قتل کیا ہو مال نہ لیا ہو تو قتل کئے جائیں گے، اور اگر مال لیا ہو اور قتل نہ کیا ہو تو ہاتھ پاؤں جانب مخالف سے کاٹ دیئے جائیں گے اور اگر کہیں رہزنی کے لئے بیٹھ گئے ہوں جس سے لوگ خوف زدہ ہوں تو ان کو زمین سے دور کردیا جائے۔ زمین سے دور کرنے کا مطلب کیا ہے اس کے بارے میں حضرت امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جلا وطن کردیا جائے اور حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جیل میں ڈال دیا جائے جب تک کہ توبہ نہ کرے جیل میں ہی رکھا جائے۔ محمد بن جریر طبری نے دونوں باتوں کو جمع کردیا وہ کہتے ہیں کہ اسے اپنے شہر سے دور کسی دوسرے شہر کی جیل میں ڈال دیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے۔ حضرت مکحول تابعی نے فرمایا کہ حضرت عمر ؓ پہلے خلیفہ ہیں جنہوں نے جیل میں رکھنے کا سلسلہ جاری کیا اور فرمایا کہ بندر کھوں گا جب تک مجھے اس کی توبہ کا علم نہ ہوجائے اور میں جلا وطن نہ کروں گا تاکہ یہ وہاں کے لوگوں کو تکلیف نہ دے۔
بعض علماء نے یہ بھی فرمایا ہے کہ امیرالمومنین کو اختیار ہے کہ چار سزاؤں میں سے جو بھی سزا جس ڈاکو کے لئے اختیار کرے کرسکتا ہے ان حضرات کے نزدیک یہ چار سزائیں مختلف احوال کے اعتبار سے نہیں ہیں لیکن حضرت امام ابوحنیفہ اور امام شافعی (رح) نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے اوپر منقول ہوئی ہے۔
سولی دینے کا جو اوپر ذکر آیا ہے اس کے بارے میں اما شافعی (رح) نے فرمایا کہ ان کو قتل کر کے سولی پر لٹکا دیا جائے اور بعض ائمہ نے فرمایا ہے کہ زندہ سولی پر لٹکاکر نیچے سے پیٹ میں نیزہ گھونپ دیا جائے اور وہ اسی حالت میں مرجائے۔ بعض حضرات کا یہ بھی فرمانا ہے کہ تین دن تک زندہ سولی پر لٹکا دیا جائے اور پھر اسے اتار کر قتل کردیا جائے (معالم التنزیل ج 2 ص 33) مال لینے کی صورت میں جو یہ فرمایا ہے جانب مخالف سے ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے جائیں اس کے بارے میں فقہاء لکھتے ہیں کہ داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جائے۔
فائدہ : یہ قتل کرنا اور ہاتھ پاؤں کاٹنا شرعی سزا کے طور پر ہے جس کو قتل کرنا ہو اس کے لئے مقتول کے اولیاء اگر معاف کردیں تب بھی معاف نہ کیا جائے گا۔ ان کے معاف کرنے کے باوجود اسے قتل کردیا جائے گا۔ اسی طرح سے اگر اس نے مال معاف کردیا جس کا مال لیا ہے تب بھی سزا معاف نہ ہوگی۔ ڈکیتی کے طور پر مال لوٹنے میں چونکہ چوری سے بڑھ کر جرم ہے جس کی وجہ سے امن عام فوت ہوجاتا ہے اس لئے ڈکیتی کی سزا دوہری ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ چوری کرنے کی وجہ سے پہلی بار داہنا ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور دوبارہ چوری کرے تو بایاں پاؤں کاٹا جاتا ہے لیکن ڈکیتی میں پہلی ہی مرتبہ دونوں سزائیں مشروع کی گئی ہیں۔
اسی طرح سے قتل کرنے کی صورت میں تمام ڈاکوؤں کو قتل کردیا جائیگا جنہوں نے کسی جگہ جماعتی طور پر بیٹھ کر کسی کو قتل کیا ہو۔ اگر ان میں سے ایک ہی شخص نے قتل کیا ہو اور ایک ہی شخص کو قتل کیا ہو۔ تب بھی سب کو قتل کیا جائیگا کیونکہ یہ قتل قصاص کے اصولوں پر نہیں ہے بلکہ عامتہ الناس کا امن فوت کرنے اور اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنے کے لئے نکلنے کی سزا کے طور پر ہے۔
ڈاکوؤں کی سزائیں بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا (ذٰلِکَ لَھُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ) کہ یہ ان لوگوں کی اس دنیا میں رسوائی ہے۔ مقتول ہوں گے اور سولی پر چڑھیں گے اور ہاتھ پاؤں کٹے پھریں گے۔ اور آخرت میں بھی ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔
ایک پانچویں صورت رہ گئی اسے صاحب ہدایہ نے ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ نہ تو انہوں نے مال لیا اور نہ ہی قتل کیا بلکہ کسی شخص کو زخمی کردیا اس کے بارے میں صاحب ہدایہ لکھتے ہیں کہ جن زخموں میں قصاص لیا جاتا ہے ان میں قصاص لیا جائے گا اور جن میں دیت لی جاتی ہے ان میں دیت لی جائے گی۔
Ayah 5:34پھر فرمایا (اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْھِمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) (مگر وہ لوگ جنہوں نے اس سے پہلے توبہ کرلی کہ ان پر تم قابو پاؤ تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے) اس کے بارے میں حضرات مفسرین فرماتے ہیں کہ حکومت کے گھیراؤ میں آنے اور قابو پانے سے پہلے ڈاکو توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی توبہ قبول ہے لیکن اس سے توبہ سے صرف حد شرعی ساقط ہوجائے گی۔ حق العبد معاف نہ ہوگا۔ اگر عمداً کسی کو قتل کیا تو مقتول کے اولیاء کو اختیار ہے کہ قتل کردیں یا معاف کردیں اور جو مال لیا ہے اس کا واپس کرنا بھی واجب ہوگا۔ خلاصہ یہ ہے کہ توبہ سے حد شرعی معاف ہوگئی حق العبد معاف نہیں ہوگا۔
Ayah 5:35اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے کا حکم
ان آیات میں اول اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا اور اللہ تعالیٰ کا قرب تلاش کرنے کا حکم دیا ہے تمام طاعات فرائض، واجبات، سنن و نوافل یہ سب اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہیں۔
قال النبی ان اللّہ قال من اٰذی لی ولیا فقد اٰذنتہ بالحرب وما تقرب الی عبدی بشی احب الی مما افتر ضتہ والا یزال عبدی یتقرب الی بالنو افل حتی احببتہ (الحدیث) (صحیح بخاری ص 963)
پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا اور اس سب کو ذریعہ کامیابی بتایا۔