5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 5:64

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور کہا یہودیوں نے کہ اللہ کا ہاتھ بند ہوگیا ہے، بند ہوئے ان کے ہاتھ، اور ان کے قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی، بلکہ اللہ کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں وہ خرچ فرماتا ہے جیسے چاہے، اور آپ کے رب کی طرف سے جو آپ پر نازل کیا گیا، وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر کے زیادہ ہونے کا سبب بن جائے گا، اور ہم نے ڈال دی ان کے درمیان دشمنی اور بغض قیامت کے دن تک، انہوں نے جب کبھی لڑائی کی آگ جلائی اللہ نے اسے بجھا دیا۔ اور یہ لوگ فساد کے لیے دوڑتے ہیں، اور اللہ فسادیوں کو دوست نہیں رکھتا

یہودیوں کی گستاخی اور سرکشی معالم التنزیل ج 2 ص 50 حضرت ابن عباس ؓ وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہود کو بہت مال دیا تھا، جب انہوں نے اللہ تعالیٰ اور سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی تو اللہ پاک نے جو مال و دولت دیا تھا اور بڑی مقدار میں جو پیداوار ہوتی تھی اس کو روک دیا، اس پر فخاص نامی ایک یہودی نے یہ بات کہی کہ اللہ کا ہاتھ خرچ کرنے سے بند ہوگیا، کہا تو تھا ایک ہی شخص نے لیکن دوسرے یہودیوں نے چونکہ اسے اس کلمہ سے نہیں روکا اور اس کی بات کو پسند کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اس میں شامل کردیا اور اس بات کو یہود کا قول قرار دیدیا۔ ان کی تردید فرماتے ہوئے اول تو یہ فرمایا کہ (غُلَّتْ اَیْدِیْھِمْ ) کہ خودیہودیوں کے ہاتھ خیر خیرات سے رکے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی فرمایا کہ ان کے اس قول کی وجہ سے ان لعنت کی گئی۔ پھر فرمایا (بَلْ یَدٰہُ مَبْسُوْطَتٰنِ یُنْفِقُ کَیْفَ یَشَآءُ ) (بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کھلے ہوئے ہیں۔ وہ جس طرح چاہے خرچ کرے) یہودی بڑی بےہودہ قوم تھی انہوں نے ایسی بےہودگی پر کمر باندھی کہ اللہ تعالیٰ کی شان عالی اور ذات مقدس کے بارے میں بھی نازیبا کلمات کہہ دیئے۔ جب کسی قوم میں ایمان نہ رہے تو ان کی ایسی ہی باتیں ہوتی ہیں وہ اللہ کو مانتے بھی ہیں اور اللہ پر اعتراض بھی کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اسے کوئی خرچہ کم نہیں کرتا وہ رات دن خرچ کرتا ہے تم ہی بتاؤ اس نے کتنا خرچ فرما دیا جب سے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا جو کچھ اس کے ہاتھ میں تھا اس میں ذرا بھی کم نہیں ہوا اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ (رواہ البخاری و مسلم ) کمی ہونے کے ڈر سے اسے ہاتھ روکنا پڑتا ہے جس کے پال مال محدود ہوا ور ختم ہوجانے کا ڈر ہو اللہ تعالیٰ جل شانہ خالق ہے اور مالک ہے اس کے خزانے بےانتہا ہیں۔ حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ عطائی کلام و عذابی کلام انما امری لشئی اَرَدتُّ ان اقول لہ کن فیکون۔ میرا عطا کردینا کلام ہے اور عذاب دینا بھی کلام ہے جب میں کسی چیز کا ارادہ کروں تو کن کہہ دیتا ہوں پس وہ چیز وجود میں آجاتی ہے (مشکوٰۃ المصابیح ص 205) رسول اللہ ﷺ نے کیسے سمجھانے کے انداز میں بیان فرمایا کہ جب سے اللہ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا ہے اس وقت سے اس نے اپنی مخلوق پر کتنا خرچ کردیا اس کو سوچو اور غور کرو۔ اتنا خرچ کرنے پر اس کے خزانوں میں کچھ بھی کم نہیں ہوا اور خرچ برابر ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا اور ابدالآباد تک اہل جنت پر خرچ ہوگا ایسے خالق ومالک اور داتا کو یہودیوں نے فقیر کہہ دیا جیسا کہ سورة آل عمران میں ذکر فرمایا (لَقدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ ) (البتہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے یوں کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں) انہوں نے جو یہ کہا کہ اللہ کا ہاتھ خرچہ کرنے سے رک گیا، یہ ان کی ضلالت اور سفاہت اور دیدہ دلیری ہے جس کی وجہ سے ملعون قرار دیئے گئے۔ فائدہ : اللہ تعالیٰ جل شانہ مخلوق کی طرح نہیں ہے وہ جسم سے اور اعضاء سے پاک ہے۔ حدیث و قرآن میں جو لفظ ید غیرہ آیا ہے اس پر ایمان لائیں کہ اس کا جو مطلب اللہ کے نزدیک ہے ہم اسے مانتے ہیں۔ اور سمجھنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ یہ متشابہات میں سے ہے۔ پھر فرمایا (وَ لَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا) (اور آپ کے رب کی طرف سے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے بہت سوں کی سرکشی اور کفر کے زیادہ ہونے کا سبب بن جائیگا) مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جو کتاب نازل فرمائی وہ تو ہدایت کے لئے ہے لیکن یہودی اس سے ہدایت حاصل نہیں کر رہے ان میں سے چند لوگ ایمان لائے جن کی تعداد زیادہ نہیں ہے وہی لوگ زیادہ ہیں جو اللہ کی کتاب سے ہدایت لینے کی بجائے اس کو اپنے لئے زیادہ سرکشی اور کفر میں بڑھنے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ حضرت قتادہ تابعی نے فرمایا کہ یہودیوں کو حسد کھا گیا انہوں نے محمد رسو اللہ ﷺ سے اور عرب سے حسد کیا اور اس وجہ سے قرآن چھوڑا اور محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کے منکر ہوئے اور آپ کے دین کو نہ مانا۔ حالانکہ وہ آپ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ (در منثورج 2 ص 297) پھر فرمایا (وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَھُمُ الْعَدَاوَۃِ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ) (اور ہم نے قیامت تک ان میں دشمنی کو اور بغض کو ڈال دیا) ان میں مختلف فرقے ہیں اور ایک فرقہ دوسرے کا دشمن ہے اور قیامت تک ان کی عداوت اور بغض کا یہی حال رہے گا۔ یہودیوں کا جنگ کی آگ کو جلانا پھر فرمایا (کُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَھَا اللّٰہُ ) (کہ جب کبھی انہوں نے لڑائی کی آگ جلائی اللہ نے اسے بجھا دیا) یعنی مسلمانوں کے خلاف تحریک چلاتے رہتے ہیں اور ان سے لڑنے کی تیاریاں کرتے رہتے ہیں لیکن اپنی تیاریوں میں کامیاب نہیں ہوتے یا تو مرعوب ہو کر رہ جاتے ہیں یا مغلوب ہیں اور شکست کا منہ دیکھتے ہیں۔ یہودیوں نے ہر موقعہ پر شکست کھائی، بنو قریظہ مقتول ہوئے اور بنو نضیر مدینہ منورہ سے خیبر کو جلا وطن کئے گئے پھر خیبر میں بھی ان پر چڑھائی کی گئی اور وہ وہاں مغلوب اور مقہور ہوئے۔ پھر فرمایا (وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا) (اور یہ لوگ زمین میں فساد کرنے کے لئے دوڑتے ہیں) (وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ ) (اور اللہ دوست نہیں رکھتا فساد کرنے والوں کو) لہٰذا یہ اللہ کے محبوب بندے نہیں ہیں، ان الفاظ میں ہمیشہ کے لئے فسادیوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو فساد فی الارض کے لئے منصوبہ بناتے رہتے ہیں اور فساد کرنے کا مشغلہ رکھتے ہیں۔
Ayah 5:65

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کے گناہوں کا کفارہ کردیتے، اور ہم انہیں ضرور نعمتوں کے باغوں میں داخل کردیتے

پھر فرمایا (وَ لَوْ اَنَّ اَھْلَ الْکِتٰبِ اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَکَفَّرْنَا عَنْھُمْ سَیِّاٰتِھِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰھُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ ) (اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ضرور ان کے گناہوں کا کفارہ کردیتے اور انہیں ضرور نعمتوں کے باغوں میں داخل کردیتے) اس میں اہل کتاب کو ترغیب دی ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائیں اور کفر سے بچیں، ایسا کریں گے تو ہم ان کے سابقہ گناہوں کا کفارہ کردیں گے اور ایمان نہ لانے اور کفر پر جمے رہنے کی وجہ سے آرام اور چین والی جنتوں سے محروم ہوں گے۔ اللہ کی کتاب پر عمل کرنے سے خوش عیش زندگی نصیب ہوتی ہے۔
Ayah 5:66

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر وہ قائم کرتے تو رات کو انجیل کو اور اس کو جو کچھ نازل ہوا ہے ان پر ان کے رب کی طرف سے تو ضرور کھاتے اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے، ان میں ایک جماعت سیدھی راہ اختیار کرنے والی ہے اور ان میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو برے کرتوت کرتے ہیں۔

پھر فرمایا (وَ لَوْ اَنَّھُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰیۃَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْھِمْ مِّنْ رَّبِّھِمْ لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِھِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِھِمْ ) اور اگر وہ قائم کرتے تو رات کو اور انجیل کو اور جو کچھ ان کی طرف نازل ہوا ہے ان کے رب کی طرف سے تو ضرور کھاتے اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے) مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب اگر توریت اور انجیل کے احکام پر عمل کرتے اور اب جو کچھ رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا اس پر عمل کرتے تو ان کو دنیا میں بھی خوب اچھی طرح نوزدیا جاتا۔ پہلی آیت میں یہ بتایا کہ ایمان لائیں گے تو جنت ہوں گے اور اس آیت میں یہ بتایا کہ اگر ایمان لاتے اور احکام الہیہ پر عمل کرتے تو اس کی وجہ سے دنیا میں خوب اچھی طرح نوازے جاتے، اوپر سے بھی کھاتے اور پاؤں کے نیچے بھی نعمتیں پاتے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا یہ مطلب بتایا کہ ان پر خوب بارشیں برستیں اور زمین سے خوب کھانے پینے کی چیزیں اگائی جاتیں۔ معالم التنزیل ج 2 ص 51 میں فراء سے نقل کیا ہے کہ اس سے رزق میں وسعت کردینا مراد ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے محاورے میں کہتے ہیں کہ فلان فی الخیر من قرنہ الی قدمہ (فلاں شخص سر سے پاؤں تک خیر ہی خیر ہے) اس آیت سے اور اعراف کی آیت (وَ لَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرآی اَمَنُوْا وَ اتَّقَوْا) سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ اعمال صالحہ میں لگنے اور گناہوں سے بچنے کی صورت میں (آخرت کی خیر کے ساتھ) بندگان خدا دنیا میں بھی بھر پور نعمتوں سے نواز دیئے جاتے ہیں۔ پھر فرمایا (مِنْھُمْ اُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ) (ان میں ایک جماعت ہے سیدھی راہ اختیار کرنیوالی) چند اہل کتاب جو ایمان لے آئے تھے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام وغیرہ ؓ اس میں ان حضرات کی تعریف فرمائی۔ پھر فرمایا (وَ کَثِیْرٌ مِّنْھُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ ) (اور ان میں سے بہت سے وہ ہیں جو برے کرتوت کرتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا عملو ابالقبیح مع التکذیب بالنبی کہ ان لوگوں نے اعمال قبیح کئے اور ساتھ ہی نبی اکرم ﷺ کی تکذیب بھی کرتے ہیں۔
Ayah 5:67

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے رسول ! آپ پہنچا دیجئے جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا، اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اللہ کا پیغام نہ پہنچایا، اور لوگوں سے اللہ آپ کی حفاظت فرمائے گا، بیشک اللہ کافر لوگوں کو راہ نہیں دکھائے گا۔

رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا حکم کہ جو کچھ نازل کیا گیا ہے سب کچھ پہنچا دو ، اللہ تعالیٰ آپ کی حفاظت فرمائیگا اس آیت شریفہ میں اللہ جل شانہ نے حضرت رسول اکرم ﷺ کو تبلیغ کا حکم دیا اور فرمایا کہ جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا اس کو پہنچا دیں، حضرت حسن ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا تو آپ کے دل میں کچھ گھبراہٹ سی ہوئی اور یہ خیال ہوا کہ لوگ تکذیب کرینگے اس پر آیت بالانازل ہوئی۔ معالم التنزیل ص 51 ج 1 اور لباب النقول ص 94 میں حضرت مجاہد تابعی (رح) سے نقل کیا ہے کہ جب (یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ) نازل ہوئی تو آپ نے عرض کیا کہ اے رب ! میں یہ کام کیسے کروں گا میں تنہا ہوں لوگ میرے خلاف جمع ہوجائیں گے۔ اس پر (فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ) نازل ہوئی مزید فرمایا (وَ اللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ) (اور اللہ لوگوں سے آپ کی حفاظت فرمائے گا) ۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے منقول ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو جو حضرات صحابہ ؓ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے ان سے آپ نے فرما دیا کہ آپ لوگ چلے جائیں اللہ نے میری حفاظت کا وعدہ فرما لیا ہے۔ حفاظت کرنے والوں میں رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس ؓ بھی تھے جب آیت نازل ہوئی تو انہوں نے پہرہ دینا چھوڑ دیا (لباب النقول ص 94) آخر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ ) یعنی اللہ تعالیٰ کافروں کو اس کی راہ نہ دکھائے گا کہ وہ قتل کرنے کے لئے آپ تک پہنچیں۔ قال صاحب الروح وفیہ اقامۃ الظاھر مقام المضمر ای لانّ اللّٰہ تعالیٰ لا یھد یھم الی امنیتھم فیک (ج) رسول اللہ ﷺ نے ذرا سی بھی کوئی بات نہیں چھپائی اللہ تعالیٰ جل شانہ نے جو کچھ نازل فرمایا وہ سب امت تک پہنچایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا کہ جو کوئی شخص تم میں سے یہ بیان کرے کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے نازل فرمودہ امور سے کچھ بھی چھپایا تو وہ جھوٹا ہے۔ (معالم التنزیل ج 2 ص 51) منیٰ اور عرفات میں رسول اللہ ﷺ کا حاضرین سے سوال آنحضرت سرور عالم ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر جو عرفات میں خطبہ دیا اس میں بہت سی باتیں بیان فرمائیں اور حاضرین سے فرمایا وانتم تسئلون عنی فما انتم قائلون (تم سے میرے بارے میں سوال کیا جائے گا سو تم کیا جواب دو گے) حاضرین نے عرض کیا۔ نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَ أَدَّیْتَ وَ نَصَحْتَ (کہ ہم گواہی دیں گے کہ بلاشبہ آپ نے پہنچایا اور اپنی ذمہ داری کو پورا فرمایا اور امت کی خیر خواہی کی) آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی پھر لوگوں کی طرف جھکائی اور تین بار اللہ پاک کے حضور میں عرض کیا اللّٰھُمَّ اشْھَدْ (کہ اللہ ! تو گواہ ہوجا ! ) (صحیح مسلم ج 1 ص 397) پھر دسویں تاریخ کو منی میں آپ نے خطبہ دیا اور حاضرین سے پھر وہی سوال فرمایا الاَھَلْ بَلَّغْتُخبردار ! ٹھیک بتاؤ کیا میں نے پہنچا دیا ! حاضرین نے کہا کہ نَعَمْ (ہاں آپ نے پہنچا یا) پھر آپ نے اللہ پاک کو حضور میں عرض کیا اللّٰھُمَّ اشْھَدْ (اے اللہ ! تو گواہ ہوجا) پھر ساتھ ہی فرمایا فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَاءِبَ (جو حاضر ہو وہ غائب کو پہنچا دے ) ۔ (رواہ البخاری ج 1 ص 235) قرآن مجید کی تصریح سے معلوم ہوا کہ اللہ جل شانہ نے نبی اکرم ﷺ کو حکم فرمایا کہ اللہ نے جو بھی کچھ آپ کی طرف نازل فرمایا ہے وہ سب پہنچا دیجئے۔ سورة حجر میں ارشاد ہے (فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ) کہ آپ خوب کھول کر واضح طور پر بیان فرما دیجئے آپ نے زندگی بھر اس پر عمل کیا اور حج کے موقعہ پر صحابہ ؓ سے دریافت فرمایا کہ میں نے پہنچا دیا سب نے ایک زبان ہو کر جواب دیا کہ ہاں آپ نے پہنچا یا اور سب نے وعدہ کیا کہ اللہ کے حضور میں ہم گواہی دینگے اور عرض کردیں گے کہ آپ نے سب کچھ پہنچا دیا۔ روافض کا رسول اللہ ﷺ پر تہمت لگانا یہ تو قرآن و حدیث کی تصریحا ہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا یہ جاہلانہ اور کافرانہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا تھا کہ اپنے بعد حضرت علی ؓ کی خلافت کا اعلان فرما دیں لیکن آپ نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کے ڈر سے اعلان نہیں فرمایا، ان لوگوں کا جھوٹا دعویٰ ہے کہ انہیں حضرات اہل بیت سے محبت ہے۔ جھوٹا اس لئے ہے کہ اہل بیت سے تو محبت کا دعویٰ ہے اور صاحب اہل بیت ﷺ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کا حکم نہیں پہنچایا یہ لوگ با ستثناء تین چار پانچ حضرات کے تمام اصحابہ ؓ کو کافر کہتے ہیں۔ قرآن مجید کی تحریف کا بھی عقیدہ رکھتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو بھی علم چھپانے کا مجرم بتاتے ہیں، یہ محبت عجیب قسم کی ہے کہ اہل بیت سے محبت ہو اور جس ذات والا صفات کی وجہ سے اہل بیت سے محبت ہوئی۔ اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھیں کہ منصب رسالت کی ذمہ داری پوری نہیں کی (العیاذ باللہ من ہذہ الخرافات و الہفوات ) جب اللہ کا نبی ہی مخلوق سے ڈر جائے اور احکام الہٰیہ کو چھپائے اور (فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ ) کی خلاف ورزی کرے تو پھر کون حق قائم کرے گا ؟ حیرت ہے ان لوگوں پر کہ جس رسول ﷺ کی حفاظت کا اللہ نے وعدہ فرمایا اور (وَ اللّٰہُ یعْصِمُکَ ) فرما کر حفاظت کی ضمانت دے دی اس رسول کے بارے میں وہ یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر و عمر ؓ کے ڈر سے اللہ کا حکم چھپالیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو آپ کی حفاظت کا وعدہ فرمایا اس وعدہ پر آپ کو بھروسہ نہیں تھا (والعیاذباللہ) ایک ادنی مومن بھی اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے کیا یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ کے رسول کو اللہ پر بھروسہ نہ ہو اور اللہ کے وعدہ کو سچ نہ سمجھا ہو ؟ پھر یہ عجیب بات ہے کہ جس کی خلافت بلافصل کے یہ لوگ مدعی ہیں جب چھبیس سال کے بعد انہیں خلافت ملی تو انہوں نے تو یہ نہ کہا کہ میں خلیفہ بلا فضل تھا مجھ سے خلافت چھین لی گئی تھی یہ انکے خواہ مخواہ کے حمایتی ان کو بھی مطعون کرتے ہیں کہ باوجود شجاع اور بہادر ہونے کے حضرت ابوبکر و عمر و عثمان ؓ سے ڈرتے رہے اور ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے رہے اور ان کے مشوروں میں شریک ہوتے رہے۔ اللہ جل شانہ ان جھوٹے حمایتیوں کے عقائد اور مکائد اور خیالات اور خرافات سے محفوظ رکھے۔ ولقدصَدَق اللّٰہ تعالیٰ حیث قالَ (اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَھْدِیْ الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْن)
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ اے اہل کتاب تم کسی راہ پر نہیں ہو یہاں تک کہ تورات کو اور انجیل کو اور اس چیز کو قائم کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی اور ضرور ضرور ان میں سے بہت سوں کی سرکشی کو اور کفر کو وہ مضمون زیادہ کر دے گا جو آپ کی طرف نازل کیا گیا، سو آپ کافر قوم پر افسوس نہ کیجئے

یہودیوں کی سرکشی اور کج روی کا مزید تذکرہ تفسیر در منثور ج 2 ص 299 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہودی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کیا آپ کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ آپ دین ابراہیمی پر ہیں اور تورات پر بھی آپ کا ایمان ہے آپ گواہی دیتے ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں ! یہ بات ٹھیک ہے (ان لوگوں کا یہ مطلب تھا کہ ہم بھی دین ابراہمی پر ہیں اور آپ کی گواہی کے مطابق توریت شریف بھی اللہ کی کتاب ہے لہٰذا ہم حق پر ہوئے) آپ ﷺ نے جواب فرمایا کہ تم نے دین ابراہیمی میں اپنے پاس سے بہت سی نئی چیزیں نکال لی ہیں اور تورات میں جو تم سے عہد لیا گیا تھا تم اس کے منکر ہوگئے ہو اور تمہیں جس چیز کو بیان کرنے کا حکم دیا گیا تھا اسے تم چھپا رہے ہو، اس پر انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہمارے پاس ہیں ہم اسے مانتے ہیں اور ہم ہدایت پر ہیں اور حق پر ہیں اور ہم آپ پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کا اتباع نہیں کرتے۔ اس پر اللہ جل شانہ نے آیت کریمہ (قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْءٍ ) (اخیر تک) نازل فرمائی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اہل کتاب سے فرما دیجئے کہ تم کسی ایسے دین پر نہیں جو اللہ کے نزدیک معتبر ہو جب تک کہ تم تورات اور انجیل کے احکام اور ارشادات پر پوری طرح عمل پیرا نہ ہو اور جب تک کہ اس پر ایمان نہ لاؤ جو تمہارے رب کی طرف سے بواسطہ محمد رسول اللہ ﷺ تم پر نازل کیا گیا، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر اور قرآن پر ایمان لانا تورات اور انجیل کے فرمان کے مطابق ہے۔ (یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَ ھُمْ فِی التَّوْرَاۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ ) اگر تم نے تورات اور انجیل کے بعض احکام کو مانا تو اس طرح سے توریت اور انجیل پر بھی تمہارا ایمان نہیں ہے، اور تمہارا دعویٰ ہے کہ ہم ہدایت پر ہیں یہ دعویٰ غلط ہے اور تم جس دین پر ہو وہ آخری نبی کا انکار کرنے کی وجہ سے اللہ کے نزدیک معتبر نہیں ہے، اس کے بعد فرمایا۔ (وَ لَیَزِیْدَنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ مَّآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ طُغْیَانًا وَّ کُفْرًا) کہ یہ لوگ قرآن سے ہدایت لینے والے نہیں بلکہ قرآن کا نازل ہونا ان کے لئے اور زیادہ سرکشی کرنے اور کفر میں ترقی کرنے کا باعث بنے گا، ان میں سے بہت سے لوگوں کا یہی حال ہے بجز چند افراد کے جو ایمان لے آئے تھے۔ (فَلَا تَاْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیْنَ ) (آپ کافر قوم پر رنج نہ کریں) جس کو ایمان قبول کرنا نہیں ہے وہ قبول نہ کرے گا رنج کرنے سے کوئی فائدہ نہیں۔
Ayah 5:69

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور جو لوگ یہودی ہیں اور فرقہ صابئین اور نصاریٰ ان میں سے جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ کرے تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے

صرف ایمان اور عمل صالح ہی مدار نجات ہے پھر فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا وَ الصّٰبِءُوْنَ وَ النَّصٰرٰی) (بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے اور جو یہودی ہیں اور جو فرقہ صابئین ہیں اور جو نصاریٰ ہیں ان میں سے جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ کرے تو ان پر کوئی خوف نہیں اور نہ وہ غمگین ہوں گے) اس طرح کی آیت سورة بقرہ میں بھی گزر چکی ہے (دیکھو آیت نمبر 62) وہاں آیت کی پوری تفسیر لکھ دی گئی ہے وہاں یہود و نصاریٰ اور صابئین کا تعارف بھی کرادیا گیا ہے سورة بقرہ میں اور یہاں اس آیت میں اللہ تعالیٰ جل شانہ، نے اپنا یہ قانون بیان فرمایا ہے جو بھی کوئی شخص اعتقادات اور اعمال میں اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ طریقہ کی اتباع کرے گا خواہ وہ شخص پہلے سے کیسا بھی ہو وہ اللہ کے ہاں مقبول ہوگا، نزول قرآن کے بعد اللہ کی پوری اطاعت قرآن کے ماننے میں اور دین اسلام کے قبول کرنے ہی میں منحصر ہے اس لئے مسلمان ہی وہ قوم ہے جنہیں کوئی خوف نہیں اور وہ غمگین نہ ہوں گے، بحیثیت اعتقاد تو یہ لوگ صحیح راہ پر ہیں ہی گناہوں کی وجہ سے کوئی گرفت ہوجائے تو وہ دوسری بات ہے بظاہر قانون بیان کرنے میں (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ تو مسلمان ہیں ہی لیکن (الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) کے اضافہ کرنے سے ایک خاص بلاغت پیدا ہوگئی اور یہ بتادیا کہ کسی پر ہماری عنایت ذاتی خصوصیت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ صفت موافقت کی وجہ سے ہے اس کو اس طرح سمجھ لیا جائے جیسے کوئی حاکم وقت یوں اعلان کرے کہ ہمارا قانون سب کے لئے عام ہے مخالف ہو یا موافق جو موافق ہے وہ موافقت کی وجہ سے مورد عنایت ہے اور مخالف بھی اگر مطیع ہوجائے تو وہ بھی مور دعنایت ہوجائے گا۔
Ayah 5:70

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

بلا شبہ ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف ہم نے رسول بھیجے جب بھی کوئی رسول ان کے پاس ایسا حکم لے کر آیا جو ان کی خواہشوں کے موافق نہیں تھا تو انہوں نے نبیوں کی ایک جماعت کو جھٹلادیا اور ایک جماعت کو قتل کردیا،

بنی اسرائیل کی عہد شکنی اس کے بعد فرمایا (لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ) کہ ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ان کی طرف رسول بھیجے، ان کا یہ طریقہ رہا کہ حضرات انبیاء کرام ( علیہ السلام) جو دین پیش کرتے تھے اس دین میں سے جو حصہ نفس کو نہیں بھاتا تھا اور اچھا نہیں لگتا تھا اس سے اعراض کرتے تھے، اور اس ناگواری کے باعث بہت سے انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلادیا اور بہت سوں کو قتل کردیا یہ مضمون سورة بقرہ کی آیت (اَفَکُلَّمَا جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ بِمَا لاَ تَھْوٰٓی اَنْفُسُکُمْ اسْتَکْبَرْتُمْ ) میں بھی گذر چکا ہے، ایمان کی شان یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو بھی حکم دیا جائے اور جو قانون نافذ کیا جائے اس کو بشاشت کے ساتھ قبول کیا جائے، نفسوں کو گوارا ہو یا نہ ہو، نفس کے مطابق ہو اتو مانا ورنہ ماننے سے انکار کردیا اور داعیوں کے دشمن ہوگئے، یہ ایمان کی شان نہیں، حضرت عبادہ بن صامت ؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ ہم بات سنیں گے اور حکم مانیں گے، تنگ دستی میں اور خوشحالی میں اور نفسوں کی خوشی میں اور ناگواری میں۔ ( رواہ البخاری 2 ص 1045) پھر کسی حکم میں اگر نفس کو تکلیف ہوتی ہے تو اس پر اجر بھی تو زیادہ ملتا ہے، سردیوں میں اچھی طرح وضو کرنا نیند قربان کر کے نماز کے لئے اٹھنا نفس کی ناگواری کے باوجود زکوٰۃ دینا روزہ رکھنا دشمنان دین سے لڑنا گناہوں سے بچنا یہ سب چیزیں نفسوں کے لئے ناگوار ہیں لیکن ان میں اجر وثواب بھی زیادہ ہے۔ نفس کے مطابق ہو تو مانا اور اور اگر خلاف نفس ہوا تو نہ مانا یہ تو نفس کی بندگی ہوئی، اللہ کے نیک بندے تو اللہ کی رضا تلاش کرتے ہیں نفس کی خواہشات کے پیچھے نہیں چلتے۔ بنی اسرائیل سے جو عہد لیا گیا سورة بقرہ میں اس کے بارے میں ارشاد ہے (وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ ) یہ عہد ان سے توریت شریف پر عمل کرنے کے لئے لیا گیا تھا نیز سورة بقرہ ہی میں آیت 83 اور آیت 84 میں بھی بعض عہدوں کا ذکر ہے۔ پھر فرمایا (وَ حَسِبُوْٓا اَلَّا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا) (اور انہوں نے گمان کیا کہ کچھ بھی فتنہ نہ ہوگا پھر وہ اندھے اور بہرے ہوگئے پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی، دوبارہ پھر اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ دیکھتا ہے جن کاموں کو وہ کرتے ہیں) بنی اسرائیل کی طغیانی اور سرکشی بیان فرمانے کے بعد ان کے اس گمان بد کا تذکرہ فرمایا کہ نہ کوئی ہماری گرفت ہوگی نہ کوئی عذاب ہوگا انہیں یہ خیال یا تو اس لئے ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت میں دیر ہوگئی اور یا اس لئے کہ اپنے کو اللہ کا محبوب سمجھتے تھے جب یہ خیال ہوگیا تو اور زیادہ شرارت اور معصیت پر اتر آئے اور اندھے بہرے بن گئے نہ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے معجزات و دلائل کو دیکھ کر متاثر ہوئے اور نہ حق سنا اور نہ حق کی طرف متوجہ ہوئے۔
Ayah 5:71

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور انہوں نے گمان کیا کہ کچھ بھی فتنہ نہ ہوگا پھر وہ اندھے اور بہرے ہوگئے پھر اللہ نے ان پر توجہ فرمائی پھر ان میں سے بہت سے لوگ اندھے اور بہرے ہوگئے اور اللہ ان کاموں کو دیکھتا ہے جن کو وہ کرتے ہیں۔

اس سرکشی میں چلتے رہے پھر اللہ پاک نے ان پر توجہ فرمائی بعض انبیاء کرام ( علیہ السلام) کو بھیجا لیکن وہ پھر بھی اندھے اور بہرے بنے رہے ان میں سے بہت سوں کا یہی حال رہا (وَ اللّٰہُ بَصِیْرٌ بِمَا یَعْمَلُوْنَ ) اور اللہ ان کے سب اعمال کو دیکھتا ہے۔ بنی اسرائیل کے مفاد اور اتار چڑھاؤ کا تذکرہ سورة بنی اسرائیل کے پہلے رکوع میں قدرے تفصیل سے فرمایا ہے اسکو ملاحظہ کرلیا جائے۔
Ayah 5:72

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں نے یوں کہا کہ اللہ ہی مسیح ابن مریم ہے حالانکہ مسیح نے فرمایا ہے کہ اے بنی اسرائیل ! تم اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے، بلاشبہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے تو اس میں شک نہیں کہ اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں

نصاریٰ کے کفر و شرک اور غلو کا بیان ان آیات میں نصاریٰ کی گمراہی اور ان کا کفر و شرک اور غلو بیان فرمایا ہے، نصاریٰ کے کئی فرقے تھے ان میں سے ایک فرقہ یہ کہتا تھا کہ اللہ اور مسیح ابن مریم ایک ہی ہیں یعنی وہ حلول کے قائل تھے یہ بھی سراسر کفر ہے خالق کا مخلوق میں حلول ماننا اور اتحاد کا قائل ہونا بہت بڑی گمراہی ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ اسی شخصیت کو خدا بتا رہے ہیں جس نے واضح طریقہ پر بنی اسرائیل کو فرما دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے وہ تو فرما رہے ہیں کہ اللہ میرا اور تمہارا رب ہے اور ان سے عقیدت کا اظہار کرنے والے ان کو عین خدا بتا رہے ہیں، نیز حضرت مسیح ابن مریم (علیہ السلام) کو عین خدا بنا کر ان کے لئے خدائی خصوصیات تجویز کردیں اور ان کو معبود ماننے لگے۔ شرک ظلم عظیم ہے ظالموں کے لئے قیامت کے دن کوئی مددگار نہ ہوگا۔
Ayah 5:73

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

بلاشبہ وہ لوگ کافر ہوئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین معبودوں میں سے ایک معبود ہے حالانکہ ایک معبود کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اگر اس بات سے باز نہ آئے جو وہ کہتے ہیں تو ضرور ضرور ان لوگوں کو جو ان میں کفر ہی پر جمے رہیں درد ناک عذاب پہنچ جائے گا،

نصاریٰ کی ایک جماعت کا یہ کہنا تھا کہ تین معبود ہیں ان میں سے ایک معبود اللہ تعالیٰ ہے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم بنت عمران علیہما الرحمتہ بھی معبود ہیں، اللہ جل شانہ نے ان کا قول نقل فرما کر اور تو ان کی تردید فرمائی ( وَ مَا مِنْ اِلٰہٍ اِلَّآ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ) (اور ایک معبود کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے) اور پھر فرمایا (وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَھُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (اگر یہ لوگ اپنے قول سے باز نہ آئے تو ان میں سے جو لوگ کفر پر جمے رہیں گے ان کے لئے عذاب ہے (جو لوگ توبہ کرلیں گے ایمان لے آئیں گے وہ عذب سے مستثنیٰ ہیں)
Ayah 5:74

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

کیا وہ اللہ کے حضور میں توبہ نہیں کرتے اور اس سے مغفرت نہیں چاہتے، اور اللہ غفور رحیم ہے

پھر فرمایا (اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَی اللّٰہِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَہٗ ) (کیا یہ اپنے عقائد باطلہ کو چھوڑ کر اللہ کے حضور میں توبہ نہیں کرتے اور اس سے مغفرت نہیں چاہتے) یعنی انہیں کفریہ عقائد پر برابر اصرار ہے ان عقائد کو چھوڑیں اور اللہ کے حضور میں توبہ کرلیں اور مغفرت طلب کریں اگر ایسا کریں گے تو اللہ مغفرت فرما دے گا اللہ غفور رحیم ہے کافر و مشرک توبہ کرے اور ایمان قبول کرے تو جو اللہ کے یہاں معتبر ہے تو اس کی بھی بخشش ہوجاتی ہے۔
Ayah 5:75

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

نہیں مسیح ابن مریم مگر ایک رسول، ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں، اور ان کی ماں سچی ہے، وہ دونوں کھانا کھاتے تھے، دیکھ لیجئے ! ہم کیسے ان کے لیے دلائل بیان کرتے ہیں پھر دیکھو کہ وہ لوگ کہاں الٹے جارہے ہیں۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا عہدہ اس کے بعد حضرت مسیح ابن مریم (علیہ السلام) کا عہدہ بتایا کہ (مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّارَسُوْلٌ) کہ مسیح ابن مریم صرف رسول ہیں، رسول وہ ہوتا ہے جو پیغام لیکر آئے، اللہ کے رسول مخلوق کی طرف اللہ کا پیغام لے کر آتے تھے اور یہ ان کا بہت بڑا منصب اور عہدہ تھا جو ان کے لئے بہت بڑی فضیلت کا باعث ہے، اللہ تعالیٰ نے جو پیغام بھیجے وہ پیغام لے کر آئے اور مخلوق تک پہنچا دیئے۔ ظاہر ہے کہ ان میں ایک دوسرے کا عین نہیں ہوسکتا یعنی دونوں ایک ہی ذات نہیں ہوسکتے پیغام بھیجنے والا وحدہ لا شریک ہے جس کو اس نے پیغام دیکر بھیجا وہ پیغام بھیجنے والے کی خدائی میں کیسے شریک ہوسکتا ہے ؟ جیسے دوسرے انبیاء کرام (علیہ السلام) اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے اور خدا کی الوہیت میں شریک نہیں تھے ایسے ہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی تھے، ہر نبی اللہ کا بندہ ہے اور تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اللہ کا بندہ ہونے ہی کی دعوت دیتے رہے ہیں۔ حضرت مریم [ صدیقہ تھیں اس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا تذکرہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا وَاُمُّہٗ صِدِّیْقَۃُاور ان کی والدہ خوب زیادہ سچی تھیں، انہوں نے اللہ کے کلمات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی (وَ صَدَّقَتْ بِکَلِمَاتِ رَبِّھَا وَ کُتُبِہٖ ) صدق اور تصدیق اور زہد و عبادت کی وجہ سے کوئی مرد عورت معبود نہیں ہوجاتا نہ کوئی شخص بغیر باپ کے پیدا ہوجانے سے عبادت کا مستحق ہوجاتا ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) معبود نہیں ہوسکتے ان کے علاوہ بھی دیگر انبیاء (علیہ السلام) سے معجزات صادر ہوئے تھے ان سے یا کسی نبی سے جو معجزہ صادر ہوا وہ صرف اللہ کے حکم سے تھا جس کو بِاِذْنِ اللّٰہ بتا کر سورة آل عمران میں بیان فرمایا ہے۔ ان معجزات کی وجہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا تعالیٰ کی خدائی میں شریک ماننا اور عبادت کا مستحق سمجھنا سراسر حماقت اور ضلالت اور جہالت ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم [ دونوں کھانا کھاتے تھے پھر فرمایا (کَانَا یَاْکُلٰنِ الطَّعَامَ ) (عیسیٰ اور ان کی والدہ کھانا کھاتے تھے) مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ نے جو حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ ( علیہ السلام) کو معبود مانا ان کی بےوقوفی اور جہالت اور ضلالت اسی سے ظاہر ہے کہ جسے اپنی زندگی برقرار رکھنے کے لئے کھانا کھانے کی ضرورت ہو اسے معبود بنا بیٹھے، معبود تو وہ ہے جو کسی کا محتاج نہیں اور وہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے، جو دوسرے کا محتاج ہو، اور جسے روٹی پانی کی ضرورت ہے وہ معبود نہیں ہوسکتا۔ پھر فرمایا (اُنْظُرْ کَیْفَ نُبَیِّنُ لَھُمُ الْاٰیٰتِ ) (آپ دیکھ لیجئے ہم ان کے لئے کس طرح آیات بیان کرتے ہیں) طرح طرح سے سمجھاتے ہیں دلائل پیش کرتے ہیں لیکن پھر بھی وہ اپنے عقائد شرکیہ سے باز نہیں آتے (ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ ) (پھر دیکھ لیجئے ! وہ کس طرح ہٹائے جارہے ہیں) حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف جاتے ہیں دلائل اور حقائق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔
Ayah 5:76

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے ضرر اور نفع کا اختیار نہیں رکھتے اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

جو شخص نفع و ضرر کا مالک نہ ہو اس کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ اس کے بعد فرمایا (قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا) (آپ فرما دیجئے ! کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی عبادت کرتے ہو جو تمہارے لئے ضرر اور نفع کا مالک نہیں) یہ نصاریٰ کو خطاب ہے لیکن الفاظ کا عموم تمام مشرکین کو شامل ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوں یا ان کی والدہ ہوں یا ان کے علاوہ مخلوق میں سے کوئی بھی شخصیت ہو نبی ہو یا ولی ہو کوئی بھی کسی کے لیے نفع نقصان کا مالک نہیں۔ نفع ضرر اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ اور قدرت میں ہے جب تمام انبیاء عظام (علیہ السلام) اور اولیاء کرام اور دیگر تمام انسان و جنات اور فرشتے بھی نفع اور ضرر کے مالک نہیں، تو بت نفع و ضرر کے کیسے مالک ہو نگے ؟ جو ضرر اور نفع کا مالک ہے اس کو چھوڑ کر غیروں کی عبادت کرنا سراسر کفر ہے اور خلاف عقل بھی ہے۔ سورة یونس میں فرمایا (وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ ) (اور مت پکار اس کو جو تجھے نہ نفع دے نہ ضرر دے سو اگر تو ایسا کرے تو اس وقت تو ظالموں میں ہوجائے گا) پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) (اور اللہ سننے والا جاننے والا ہے) وہ ہر روز کی اور آہستہ والی آواز کو سنتا ہے۔ سب کے اعمال کو جانتا ہے ہر ایک کے احوال سے باخبر ہے، وہ سب کو اعمال کے مطابق جزا سزا دے گا۔
Ayah 5:77

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے اے اہل کتاب ! تم اپنے دین میں ناحق کا غلونہ کرو اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو پہلے گمراہ ہوچکے ہیں اور انہوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور سیدھے راستے سے بہک گئے۔

اہل کتاب کو غلو کرنے کی ممانعت اس کے بعد اہل کتاب کو غلو فی الدین سے بچنے کا حکم دیا، ارشاد ہے (قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ ) (آپ فرما دیجئے اے اہل کتاب ! تم اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو) اہل کتاب نے اپنے دین میں غلو کر رکھا تھا، حد سے زیادہ بڑھ جانے کو غلو کہتے ہیں اور یہ غلو ناحق ہوتا ہے کیونکہ حق کی حد کے اندر رہنا ہی حق ہے، نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اتنا آگے بڑھایا کہ خدا اور خدا کا بیٹا بنا دیا اور ان کی والدہ کو بھی معبود مان لیا۔ اور یہود نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنا دیا حالانکہ خالق اور مخلوق میں رشتہ نہیں ہوسکتا اور کوئی مخلوق معبود بھی نہیں ہوسکتی ان لوگوں نے دین میں غلو کردیا اور وہ باتیں دین میں داخل کردیں جو اس دین میں نہ تھیں، جو دین اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے واسطہ سے ان کے پاس آیا تھا چونکہ دین میں غلو اپنی ذاتی خواہشوں سے ہوتا ہے اس لیے فرمایا (وَ لَا تَتَّبِعُوْٓا اَھْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ ) (اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو پہلے سے گمراہ ہوچکے ہیں) انہوں نے اپنی خواہشات کو سامنے رکھا اور دین میں غلو کیا تم ان کی پیروی نہ کرو اور دین میں غلو نہ کرو۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ کی بعثت سے پہلے یہود و نصاریٰ کے اکابر نے اپنی ذاتی خواہشوں اور رایوں کے مطابق اپنے دین کو بدل دیا تھا اور اس میں عقائد باطلہ تک شامل کردیئے تھے خود بھی گمراہ ہوئے (وَ اَضَلُّوْا کَثِیْرًا) (اور بہت سوں کو گمراہ کیا) پھر خاتم النبیین ﷺ کی بعثت کے بعد بھی حق واضح ہوتے ہوئے گمراہی پر جمے رہے (وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآء السَّبِیْلِ ) (اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے ) ۔ امت محمدیہ کو غلو کرنے کی ممانعت دین میں غلو کرنا امتوں کا پرانا مرض ہے آنحضرت سرور عالم ﷺ کو خطرہ تھا کہ کہیں آپ کی امت بھی اس مرض مہلک میں مبتلا نہ ہوجائے، آپ نے فرمایا لاتطرونی کما اطرت النصاریٰ ابن مریم فانما انا عبدہ فقولوا عبداللّٰہ و رسولہ۔ یعنی میری تعریف میں مبالغہ نہ کرنا جیسے نصاریٰ نے ابن مریم کی تعریف میں مبالغہ کیا، میں تو بس اللہ کا بندہ ہو، میرے بارے میں یوں کہو عبد اللہ و رسولہ (کہ اللہ بندہ اور رسول ہیں) (رواہ البخاری ج 1 ص 490) آنحضرت سرور عالم ﷺ کی تنبیہ کو دیکھیں اور پھر ان لوگوں کو دیکھ لین جو رسول اللہ ﷺ کو تمام خدائی اختیارت سونپ دیئے جانے کا عقیدہ رکھتے ہیں اور قرآن کی تصریحات کے باوجود آپ کی بشریت کے منکر ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم اس عقیدہ کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ سے بہت بڑی محبت کرنے والے بن گئے سورة الاسراء میں فرمایا ہے۔ (قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا) (آپ فرما دیجئے کہ میرا رب پاک ہے میں نہیں ہوں مگر ایک بشررسول) ایک عالم نما جاہل نے تو غضب ہی کردیا سورة کہف کی آیت (قُلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ) کے بارے میں کہہ دیا کہ اس میں مانافیہ ہے اپنے خیال میں بہت دور کی کوڑی لائے لیکن انہیں یہ بھی پتہ نہیں کہ اِنَّ جملہ مثبتہ کی تحقیق کے لئے آتا ہے جملہ منفیہ کے لئے نہیں آتا۔ صحیح بخاری ص 1065 میں ہے کہ آپ نے فرمایا اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌکہ میں ایک بشر ہی ہوں، اللہ جل شانہ، تو آپ سے فرمائیں کہ اپنے بارے میں اعلان کردیں کہ میں تمہارا جیسا بشر ہوں لیکن محبت کے دعویدار کہتے ہیں کہ نہیں آپ بشر نہیں تھے یہ عجب قسم کی محبت ہے ان میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ آیت کا یہ مطلب ہے کہ میں ظاہر میں بشر ہوں یہ لفظ ظاہراً اپنی طرف سے بڑھایا گیا ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک قرآن میں تحریف ہوجائے تو کچھ حرج نہیں مگر ان کی بات پچ باقی رہے (العیاذ باللہ) قرآن مجید میں فرمایا ہے (یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرْسٰھَا قُلْ اِنَّمَا عِلْمُھَا عِنْدَ رَبِّیْ لَا یُجَلِّیْھَا لِوَقْتِھَآاِلاَّ ھُوَ ) (وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کب ہوگی ؟ اس کے جواب میں کہہ دیجئے اس کی خبر تو میرے رب ہی کے پاس ہے اس کے وقت پر وہی اسے ظاہر فرمائے گا) اس میں بات کی تصریح ہے کہ قیامت کے آنے کا وقت صرف اللہ ہی کے علم میں ہے۔ لیکن حب نبی ﷺ کے دعویدار کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو متعین طریقہ پر قیامت کے وقت کا بھی علم تھا۔ یہ عجیب محبت ہے جو قرآن کی تصریحات کے خلاف عقیدہ رکھنے پر آمادہ کر دے۔ ملا علی قاری (رح) اپنی کتاب الموضاعات الکبیر میں لکھتے ہیں : وقد جاھر بالکذب بعض من یدعی فی زماننا العلم وھو متشبع بمالم یعط ان رسول اللہ ﷺ کان یعلم متی تقوم الساعۃ (یعنی ہمارے زمانے میں بعض ایسے لوگ جو علم کے دعویدار ہیں حالانکہ ان کے پاس علم نہیں ہے انہوں نے صاف صریح جھوٹ بولا اور یہ کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو علم تھا کہ قیامت کب قائم ہوگی) ۔ جس طرح عقائد میں محبت کے دعویداروں نے غلو کیا ہے اسی طرح سے مرنے جینے سے متعلق بہت سی رسمیں اپنی طرف سے تجویز کر کے دین میں داخل کردیں اپنی رسموں اور بدعتوں کو جاری رکھنے کے لئے اپنی طرف سے حد یثیں بھی تراش لیتے ہیں اور خالص شرکیہ افعال کو دین کا جزو بنائے ہوتے ہیں۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ من خرافاتِھِم
Ayah 5:78

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

بنی اسرائیل میں سے جو لوگ کافر تھے وہ ملعون ہوئے داؤد کی زبان پر اور عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کی زبان پر، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ زیادتی کرتے تھے

معاصی کا ارتکاب کرنے اور منکرات سے نہ روکنے کی وجہ سے بنی اسرائیل کی ملعونیت ان آیات میں بنی اسرائیل کی ملعونیت اور مغضوبیت بیان فرمائی ہے اور ان کی بد اعمالیوں کا تذکرہ فرمایا ہے، ان بد اعمالیوں میں سے ایک یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو گناہ کے کام سے نہیں روکتے تھے، تفسیر ابن کثیر میں مسند احمد سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑگئے تو ان کے علماء نے ان کو منع کیا وہ لوگ گناہوں سے باز نہ آئے پھر یہ منع کرنے والے ان کے ساتھ مجلسوں میں اٹھتے بیٹھتے رہے اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے رہے (اور اس میل جول اور تعلق کی وجہ سے انہوں نے گناہوں سے روکنا چھوڑ دیا) لہٰذا اللہ نے بعض کے دلوں کو بعض پر مار دیا یعنی یکساں کردیا اور ان کو داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم کی زبانی ملعون کردیا۔ پھر آیت بالا کا یہ حصہ (ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْا وَّ کَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ) پڑھا، اس موقع پر رسول اللہ ﷺ تکیہ لگائے بیٹھے تھے آپ ﷺ تکیہ چھوڑ کر بیٹھ گئے اور فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم اپنی ذمہ داری سے اس وقت تک سبکدوش نہ ہو گے جب تک گناہ کرنے والوں کو منع کر کے حق پر نہ لاؤ گے۔ (ج 2 ص 82) سنن ابی داؤد ج 2 ص 240 میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ سب سے پہلے جو بنی اسرائیل میں نقص وارد ہوا وہ یہ تھا کہ ایک شخص دوسرے سے ملاقات کرتا تھا (اور اسے گناہ پر دیکھتا تھا) تو کہتا تھا کہ اللہ سے ڈرو اور یہ کام چھوڑ دو کیونکہ وہ تیرے لئے حلال نہیں، پھر کل کو ملاقات کرتا اور گناہ میں مشغول پاتا تو منع نہ کرتا تھا کیونکہ اس کا اس کے ساتھ کھانے پینے اٹھنے بیٹھنے میں شرکت کرنے والا آدمی ہوتا تھا سو جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے ان کے قلوب کو آپس میں ایک دوسرے پر مار دیا یعنی یکساں بنا دیا پھر آپ ﷺ نے آیت بالا (لُعِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) سے (فَاسِقُوْنَ ) تک تلاوت فرمائی، پھر فرمایا کہ خوب اچھی طرح سمجھ لو اللہ کی قسم ! تمہاری یہ ذمہ داری ہے کہ امر بالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر کرتے رہو اور ظالم کا ہاتھ پکڑتے رہو اور اسے حق پر جماتے رہو (برائی سے) اس سے برائی چھڑا دو ۔ نیز سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ عام عذاب لے آئے جس میں سب مبتلا ہوں گے۔ نیز سنن ابو داؤ میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی شخص کسی قوم میں گناہ کرنے والا ہو اور جو لوگ وہاں موجود ہوں قدرت رکھتے ہوئے اس کے حال کو نہ بدلیں یعنی اس سے گناہ کو نہ چھڑائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی موت سے پہلے ان پر عام عذاب بھیج دے گا۔
Ayah 5:79

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو برے کام سے نہیں روکتے تھے جو انھوں نے کیا واقعتہً برے تھے وہ افعال جو وہ کرتے تھے

امت محمدیہ میں نہی عن المنکر کا فقدان یہ نقص جو بنی اسرائیل میں تھا دور حاضر کے مسلمانوں میں بھی ہے گناہوں سے روکنے کی قدرت ہوتے ہوئے گناہوں پر نہیں ٹوکتے، گناہگاروں سے ملتے جلتے ہیں ان سے تعلق رکھتے ہیں اور تعلقات کشیدہ ہونے کے ڈر سے ان کو گناہ سے نہیں روکتے، خالق مالک جل مجدہ، کی ناراضگی کا خیال نہیں کرتے مخلوق کی ناراضگی کا خیال کرتے ہیں کہ اسے گناہ سے روک دیا تو یہ ناراض ہوجائیگا۔ بنی اسرائیل کے اسی طرز کو بیان فرما کر ارشاد فرمایا (لَبِءْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ) کہ برا ہے وہ عمل جو وہ کرتے تھے۔ بنی اسرائیل والے طریقے مدعیان اسلام نے بھی اپنا لئے اسی لئے دنیا میں عام عذاب اور عقاب میں مبتلا ہوتے رہتے ہیں۔
Ayah 5:80

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

تو ان میں سے بہت سوں کو دیکھے گا کہ ان لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا واقعۃً برے ہیں وہ افعال جو ان کی جانوں نے آگے بھیجے یہ کہ اللہ ان پر ناراض ہوا اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہنے والے ہیں،

مشرکین مکہ سے یہودیوں کی دوستی پھر فرمایا (تَرٰی کَثِیْرًا مِّنْھُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا) (تو ان میں بہت سوں کو دیکھے گا کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں ) صاحب روح المعانی ج 3 لکھتے ہیں کہ اس سے کعب بن اشرف اور دوسرے یہودی مراد ہیں جنہوں نے مشرکین مکہ سے دوستی کی تھی (جن کو خود بھی کافر کہتے تھے) یہودیوں کی جماعت مکہ معظمہ پہنچی اور انہوں نے مشرکین مکہ کو رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنے پر آمادہ کیا ( رسول اللہ ﷺ کو حق پر جانتے ہوئے آپ پر ایمان نہ لائے مشرکوں سے دوستی کرنے کو پسند کیا ) ۔ (لَبِءْسَ مَا قَدَّمَتْ لَھُمْ اَنْفُسُھُمْ ) (البتہ وہ عمل برے ہیں جو انہوں نے اپنے آگے بھیجے) (اَنْ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ ) (اور وہ اعمال ایسے ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان سے ناراض ہوا) (وَ فِی الْعَذَابِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ ) (اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے)
Ayah 5:81

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اور اگر وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی پر اور اس پر جو اتارا گیا ہے نبی کی طرف تو کافروں کو دوست نہ بناتے لیکن بہت سے لوگ ان میں سے فرمانبرداری سے خارج ہیں۔

پھر فرمایا (وَ لَوْ کَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ وَ النَّبِیِّ ) (الایۃ) (اور اگر وہ لوگ نبی کریم ﷺ پر اور اس چیز پر ایمان لاتے جو آپ پر نازل کی گئی تو کافروں کو دوست نہ بناتے) اس میں منافقوں کی طرف بھی اشارہ ہے جو کہتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں ان کا دعوائے ایمان غلط تھا، اگر آپ پر ایمان لاتے تو آپ کے دشمنوں سے کیوں دوستی کرتے (وَ لٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ) (لیکن ان میں بہت سے وہ ہیں جو نافرمان ہیں) ان میں سے تھوڑے ہی افراد نے اسلام قبول کیا اور باقی اشخاص نے سرکشی اور نافرمانی کو اختیار کیا اور برابر کفر پر اڑے رہے۔
Ayah 5:82

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

تو اہل ایمان کے لیے سب سے زیادہ دشمن یہودیوں اور مشرکین کو پائے گا، اور ضرور بالضرور اہل ایمان سے محبت میں سب سے زیادہ قریب تر تو ان لوگوں کو پائے گا جنہوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں، یہ اس وجہ سے کہ ان میں علماء ہیں اور درویش ہیں وہ تکبر نہیں کرتے۔

اہل ایمان سے یہودیوں اور مشرکوں کی دشمنی ان آیات میں اول تو یہ فرمایا کہ آپ اہل ایمان کے سب سے زیادہ سخت ترین دشمن یہودیوں کو اور ان لوگوں کو پائیں گے جو مشرک ہیں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے، مشرکین مکہ نے جو حضرات صحابہ ؓ پر ظلم وستم ڈھائے وہ معروف و مشہور ہیں اور جہاں کہیں بھی مشرکین ہیں وہ اب بھی مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں اور تاریخ کے ہر دور میں ان کی دشمنی بڑھ چڑھ کر رہی ہے، جب رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت فرمائی تو یہودیوں نے سخت دشمنی کا مظاہرہ کیا۔ یہ لوگ بہت سے مدینہ منورہ رہتے تھے۔ نبی آخر الزمان ﷺ کی نعوت اور صفات جو انہیں پہلے سے معلوم تھیں اور تورات شریف میں پڑھی تھیں ان کے موافق آپ ﷺ کو پالیا اور پہچان لیا تب بھی آپ کے دشمن ہوگئے اور بہت زیادہ دشمنی پر کمر باندھ لی آنحضرت ﷺ کو قتل کرنے کے لئے مشورہ کیا آپ کو زہر بھی دیا اور آپ پر جادو بھی کیا مشرکین مکہ کو جاکر جنگ کے لیے آمادہ کیا اس پر وہ لوگ متعدد قبیلوں کو لے کر مدینہ منورہ پر چڑھ آئے، اور یہود برابر اسلام اور اہل اسلام کے بارے میں مکاری اور دسیسہ کاری کرتے رہے۔ اور آج تک بھی ان کی دشمنی میں کوئی کمی نہیں آئی۔ تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 80 میں بحوالہ حافظ ابوبکر بن مردویہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ مَا خَلاَ یَھُوْدِیٌّ بمُسْلِمٍ قَطُّ الاَّ ھَمَّ بِقَتْلِہٖ یعنی جب کبھی بھی کوئی یہودی کسی مسلمانوں کے ساتھ تنہائی میں ہوگا تو ضرور مسلمان کو قتل کرنے ارادہ کرے گا، مسلمان اور اسلام کے خلاف یہودیوں کی چال بازیاں اور شرارتیں برابر جاری ہیں اور وہ اپنی شرارتوں سے باز آنے والے نہیں ہیں، نصاریٰ کو بھی وہ مسلمانوں کے خلاف ابھارتے رہتے ہیں اور ان کو ایسی ایسی اسکیمیں سجھاتے ہیں اور ایسی ایسی تدبیریں سکھاتے ہیں جن سے دنیا میں مسلمانوں کو سخت مصائب کا سامنا پڑتا رہتا ہے، خفیہ تنظیمیں کرنے میں ماہر ہیں ان کی خفیہ تنظیم فری میسن تو اب آشکارا ہوچکی ہے۔ نصاریٰ کی مودت اور اس کا مصداق یہود اور مشرکین کی دشمنی کا حال بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصَاریٰ ) کہ آپ ایمان والوں کے لئے محبت کے اعتبار سے سب سے زیادہ قریب تر ان لوگوں کو پائیں گے جن لوگوں نے اپنے بارے میں کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ نصاریٰ معروف جماعت ہے یہ وہ لوگ ہیں جو سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اپنا انتساب کرتے ہیں مفسر ابن کثیر ج 2 ص 82 (قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی) کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ اَی الَّذِیْنَ زَعَمُوْا اَنَّھُمْ نَصَارٰی مَنْ اَتَّبَاع الْمسیح وعلٰی منھاج انجیلہ فیھم مودۃ للاسلام واھلہ فی الجملۃ وماذاک الالما فی قلوبھم اذکانوا علی دین المسیح من الرقۃ والرافۃ کما قال تعالیٰ وجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَأفَۃً وَّرَحْمَۃً وفی کتابھم من ضربک علی خدک الایمن فادِرْلہٗ خدک الا یسرولیس القتال مشروعا فی مِلَّتِھمْ 1 ھ۔ یعنی اس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے یہ خیال کیا کہ وہ نصاریٰ ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین میں سے ہیں اور انجیل میں جو راہ بتائی تھی اس کی متبع ہیں فی الجملہ ان لوگوں کے دلوں میں اسلام اور اہل اسلام کے لئے مودت ہے اور یہ اس وجہ سے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دین میں نرمی اور مہربانی کی شان تھی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے عیسیٰ کا اتباع کیا ان کے دلوں میں ہم نے مہربانی اور رحم کرنے کی صفت رکھ دی۔ ان کی کتاب میں یہ بھی تھا کہ جو شخص تیرے داہنے رخسار پر مارے تو بایاں رخسار بھی اس کی طرف کردے، اور ان کے مذہب میں جنگ کرنا بھی مشروع نہیں تھا۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں پر ہر نصرانی اور مدعی عیسائیت کا ذکر نہیں ہے بلکہ ان نصرانیوں کا ذکر ہے جو اپنے کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انجیل کا پابند سمجھتے تھے اور دین مسیح کے مدعی ہونے کی وجہ سے ان کے دلوں میں نرمی اور مہربانی تھی ان لوگوں کے سامنے جب دین اسلام آیا اور اہل اسلام کو دیکھا تو اگرچہ اسلام قبول نہیں کیا لیکن مسلمانوں سے محبت اور تعلق رکھتے تھے۔ ان کے دین میں جنگ تو مشروع ہی نہ تھی لہٰذا مسلمانوں سے جنگ کرنے کا سوال ہی نہ تھا پھر ان میں قسیسین تھے یعنی علماء تھے (جن کے پاس تھوڑا بہت انجیل کا علم رہ گیا تھا وہ اس کے ذریعہ نصیحت کرتے رہتے تھے) نیز ان میں راہب بھی تھے جن کو عبادت کا ذوق تھا وہ عبادت میں لگے رہتے تھے جب انہوں نے اہل اسلام کی عبادت کو دیکھا تو محبت اور مودت میں بہ نسبت دوسری قوموں کے ان سے زیادہ قریب ہوگئے۔ اللہ جل شانہ نے فرمایا۔ (ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْھُمْ قِسِّیْسَیْنَ وَرُھُبَانًا) کہ ان کی محبت اس لیے ہے کہ ان میں قسیسین ہیں اور رہبان ہیں اور فرمایا (وَ اَنَّھُمُ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ ) اور تکبر نہیں کرتے، چونکہ ان میں تکبر نہیں اس لئے حق اور اہل حق سے عناد نہیں اور یہ عناد نہ ہونا قرب مودت کا ذریعہ ہے صاحب التنزیل ج 2 ص 56 تحریر فرماتے ہیں : لم یردبہ جمیع النصاریٰ لانھم فی عداوتھم المسلمین کالیھود فی قتلھم السملمین واسرھم و تخریب بلادھم وھدم مساجدھم واحراق مصاحفھم، لا ولا کر امۃ لھم، بل الایۃ فیمن اسلم منھم مثل النجاشی و اصحابہ۔ یعنی آیت کریمہ میں جو نصاریٰ کو اہل ایمان کی محبت کے اعتبار سے قریب تر بتایا ہے اس سے تمام نصاریٰ مراد نہیں ہیں کیونکہ وہ اہل اسلام سے دشمنی رکھنے میں یہود اور مشرکین ہی کی طرح ہیں، مسلانوں کو قتل کرنا اور قید کرنا اور اور ان کے شہروں کو برباد کرنا اور ان کی مسجدوں کو گرا دینا اور ان کے مصاحف کو جلادینا یہ سب نصاریٰ کے کرتوت ہیں (لہٰذا تمام نصاری (اَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّۃً ) کا مصداق نہیں ہوسکتے) بلکہ آیت کریمہ میں وہ نصاریٰ مراد ہیں جنہوں نے اسلام قبول کرلیا مثلاً نجاشی (شاہ حبشہ) اور اس کے ساتھی۔