Ayah 5:83کتاب اللہ کو سن کر حبشہ کے نصاریٰ کا رونا اور ایمان لانا
جب آنحضرت سرور عالم ﷺ نے اسلام کی دعوت دینا شروع کیا (جس کے اولین مخاطبین اہل مکہ تھے جو بتوں کی پوجا کرتے تھے) تو اہل مکہ دشمنی پر اتر آئے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرح طرح سے ستاتے تھے اور جو لوگ اسلام قبول کرلیتے تھے انہیں بہت زیادہ دکھ دیتے تھے اور مارتے پیٹتے تھے، اس وجہ سے بہت سے صحابہ کرام ؓ (جن میں مرد عورت سبھی تھے) حبشہ کیلئے ہجرت کر گئے حبشہ اس وقت قریب ترین ملک تھا جہاں ایمان محفوظ رکھتے ہوئے عافیت کے ساتھ رہنے کا امکان تھا جب یہ حضرات وہاں پہنچ گئے تو اہل مکہ نے وہاں بھی پیچھا کیا اور شاہ حبشہ کے پاس شکایت لے کر گئے لیکن اس نے ان لوگوں کی بات نہ مانی اور حضرات صحابہ ؓ کو امن وامان کے ساتھ ٹھکانہ دیا۔ ان مہاجرین میں رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی جعفر بن ابی طالب تھے یہ حضرات وہاں کئی سال امن وامان کے ساتھ رہے پھر جب حضرت جعفر ؓ وہاں سے رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضری کے لئے واپس آئے تو نجاشی (اصحمہ شاہ حبشہ) نے وفد کے ساتھ اپنے بیٹے کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بھیجا ان کا یہ وفد ساٹھ آدمیوں پر مشتمل تھا۔
نجاشی نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں تحریر کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں اور میں نے آپ کے چچا کے بیٹے کے ہاتھ پر آپ سے بیعت کرلی ہے اور میں نے اللہ کی اطاعت قبول کرلی۔ میں آپ کی خدمت میں اپنے بیٹے کو بھیج رہا ہوں۔ اور اگر آپ کا فرمان ہو تو میں خودآپ کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں گا والسلام علیک یا رسول اللہ !
نجاشی کا بھیجا ہوا یہ وفد کشتی میں سوار تھا لیکن یہ لوگ سمندر میں ڈوب گئے۔ حضرت جعفر ؓ اپنے ساتھیوں کے ساتھ جن کی تعداد ستر تھی دوسری کشتی میں سوار ہوئے تھے یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے ان میں بہتر حضرات حبشہ کے اور آٹھ آدمی شام کے تھے آنحضرت ﷺ نے اول سے آخر تک سورة یسین سنائی۔ قرآن مجید سن کر یہ لوگ رونے لگے اور کہنے لگے کہ ہم ایمان لے آئے اور یہ جو کچھ ہم نے سنا ہے یہ بالکل اس کے مشابہ ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوتا تھا اس پر اللہ جل شانہ نے یہ آیت کریمہ (وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَھُمْ مَّوَدَّۃً لّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصَاریٰ ) نازل فرمائی اس سے معلوم ہوا کہ آیت بالا نجاشی کے بھیجے ہوئے وفد کے بارے میں نازل ہوئی۔ (معالم التنزیل ج 2 ص 56، 57)
بعض حضرات نے جو یہ فرمایا کہ حضرات صحابہ جب ہجرت کر کے حبشہ پہنچے تھے اور شاہ حبشہ کے دربار میں حضرت جعفر ؓ نے جو بیان دیا تھا اور سورة مریم سنائی تھی اس سے متاثر ہو کر شاہی دربار کے لوگ رو پڑے تھے اس آیت کریمہ میں ان کا ذکر ہے۔ بعض مفسرین نے اس کو تسلیم نہیں کیا ان حضرات کا کہنا ہے کہ سورة مائدہ مدنی ہے جو ہجرت کے بعد نازل ہوئی لہذا جو واقعہ ہجرت سے پہلے پیش آیا وہ اس آیت میں مذکور نہیں (اللھم الا ان یقال ان ھذہ الایات مکیۃ واللّٰہ اعلم بالصواب)
نصاریٰ کے بارے میں یہ جو فرمایا کہ وہ مودت اور محبت کے اعتبار سے بہ نسبت دوسرے لوگوں کے ایمان والوں سے قریب تر ہیں اس کا سبب یہ بتایا کہ ان میں قسیسین ہیں اور رہبان ہیں اور یہ کہ وہ تکبر نہیں کرتے تھے۔ قسیس رومی زبان میں عالم کو کہتے ہیں اور رہبان راہب کی جمع ہے جو لوگ تارک دنیا ہو کر جنگلوں میں گرجے بنالیتے تھے اور وہیں زندگی گزارتے تھے انہیں راہب کہا جاتا تھا۔ اب نصاریٰ میں نہ قسیس ہیں نہ راہب ہیں اور نہ ان میں تواضع کی شان ہے۔ یہ لوگ پادری بنے ہوئے ہیں وہ بھی نصرانی حکومتوں کے پابند ہیں اور ان کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ نصرانی حکومتیں اور ان کے پادری اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تدبیریں سوچتے رہتے ہیں اور جس قدر ممکن ہو مسلمانوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے لہٰذا آیت کریمہ میں ان لوگوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
Ayah 5:84جن نصاریٰ نے قرآن مجید سنا اور حق کے پہچاننے کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے انہوں نے فوراً اپنے ایمان کا اعلان کردیا اور کھلے دل سے کہنے لگے (وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ باللّٰہِ وَ مَا جَآءَ نَا مِنَ الْحَقِّ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ ) (ہمیں کیا ہو جو ہم اللہ پر ایمان نہ لائیں اور اس پر ایمان نہ لائیں جو ہمارے پاس حق آیا اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالحین کے ساتھ داخل فرما دے گا) یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی امت میں شامل فرمادے اور ان کو جو انعامات ملیں گی ہمیں بھی ان میں شریک فرما دے۔
Ayahs 5:85–86معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب انہوں نے اپنے مومن ہونے کا اعلان کردیا تو یہودیوں نے ان کو عار دلائی اور ان سے کہا کہ تم کیوں ایمان لائے ؟ اس پر انہوں نے وہ جواب دیا جو اوپر مذکور ہوا درحقیقت جب قلوب میں ایمان کی لہر دوڑ جاتی ہے اور ایمان دل میں رچ پچ جاتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت ایمان کے خلاف آمادہ نہیں کرسکتی، اور کسی جاہل کا عار دلانا ایمان سے واپس نہیں کرسکتا آخر میں اللہ جل شانہ ‘ نے اہل ایمان کا انعام اور کافروں کی سزا بیان فرمائی چناچہ ارشاد ہے (فَاَثَابَھُمُ اللّٰہُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا) (سو اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کی وجہ سے ان کو ایسے باغیچے عنایت فرمائے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے) (وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ ) (اور یہ بدلہ ہے اچھے کام کرنے والوں کا) (وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ ) (اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہ دوزخ والے ہیں) ۔
Ayahs 5:87–88حلال کھاؤ اور پاکیزہ چیزوں کو حرام قرار نہ دو اور حد سے آگے نہ بڑھو
ان آیات میں اللہ جل شانہ ‘ نے اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ نے جو چیزیں حلال قرار دی ہیں تم ان کو حرام قرار نہ دو ۔ حلال کو حرام قرار دینے کی ایک صورت تو یہ ہے کہ عقیدۃً حلال کو حرام قرار دیدیا جائے۔ اگر کوئی شخص حلال قطعی کو حرام قرار دے گا تو ملت اسلامیہ سے نکل جائے گا۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ عقیدۃً تو کسی حلال کو حرام قرار نہ دے لیکن حلال کے ساتھ معاملہ ایسا کرے جو حرام کے ساتھ کیا جاتا ہے یعنی بغیر کسی عذر کے خواہ مخواہ کسی حلال چیز سے اجتناب کرے۔ یہ بھی ممنوع ہے۔
اور تیسری صورت یہ کہ قسم کھا کر یا نذر مان کر کسی حلال چیز کو حرام قرار دیدے مثلاً یوں کہے کہ اللہ کی قسم فلاں چیز نہ کھاؤں گا یوں کہے کہ فلاں چیز میں اپنے اوپر حرام کرتا ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ ایک مرتبہ خطبہ دے رہے تھے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کھڑا ہوا ہے دریافت فرمایا کہ یہ کون ہے ؟ حاضرین نے بتایا کہ یہ ابو اسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ کھڑا ہی رہے گا، بیٹھے گا نہیں، اور سایہ میں نہ جائے گا اور یہ کہ بولے گا نہیں، اور روزہ دار رہے گا۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے کہو کہ بات کرے، اور سایہ میں جائے اور بیٹھ جائے۔ اور روزہ پورا کرے۔ (رواہ البخاری ج 2 ص 991)
حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ گناہ کی نذر ماننا درست نہیں اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ (رواہ ابوداؤد ج 2 ص 111)
بعض لوگ نذر یا قسم کے ذریعہ تو کسی حلال کو حرام نہیں کرتے لیکن راہبوں کے طریقے پر حلال چیزوں کے چھوڑنے کا اہتمام کرتے ہیں اور اس کو ثواب سمجھتے ہیں۔ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے اور اس میں ثواب سمجھنا بدعت ہے اگر کسی کو کوئی چیز مضر ہے اور وہ ضرر کی وجہ سے حلال سمجھتے ہوئے اس سے پرہیز کرے تو یہ جائز ہے۔
دوسرا حکم یہ فرمایا کہ حدود سے آگے نہ بڑھو اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں فرماتے۔ حد سے بڑھنے کی ممانعت سورة بقرہ میں بھی مذکور ہے جو گزر چکی ہے۔ اور سورة طلاق میں ارشاد فرمایا (وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ) (اور جو اللہ کی حدود سے آگے بڑھ جائے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا) اللہ تعالیٰ کی حدود سے آھے بڑھنے کی کئی صورتیں ہیں جن کی کچھ تفصیل ذیل میں لکھی جاتی ہے۔
حدود سے بڑھ جانے کی مثالیں
حدود سے بڑھنے کی بہت سی صورتیں ہیں ان میں سے چند ذکر کی جاتی ہیں۔
حلال کو حرام کر لینا
(1) اللہ نے جس چیز کو حلال کیا ہے اس کو اپنے اوپر حرام کرلینا جیسے کچھ لوگ بعض پھلوں کے متعلق طے کرلیتے ہیں کہ ہم یہ نہیں کھائیں گے یا اور کسی طرح سے حرام کرلیتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ شہد پینے کے متعلق فرما دیا تھا کہ اب ہرگز نہیں پیوں گا۔ اس کے متعلق اللہ جل شانہ نے آیت نازل فرمائی (یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ) (اے نبی ! تم اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہوئے جسے اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا ہے) ۔
ایسی بہت رسمیں آج لوگوں میں موجود ہیں جن میں عملاً بلکہ اعتقاداً بھی بہت سی حلال چیزوں کو حرام سمجھ رکھا ہے۔ مثلاً ذی قعدہ کے مہینہ (جسے عورتیں خالی کا مہینہ کہتی ہیں) اور محرم و صفر میں شریعت میں شادی کرنا خوب حلال اور درست ہے۔ لیکن اللہ کی اس حد سے لوگ آگے نکلتے ہیں اور ان مہینوں میں شادی کرنے سے بچتے ہیں۔ بہت سی قوموں میں بیوہ عورت کے نکاح ثانی کو معیوب سمجھتے ہیں اور اسے حرام کے قریب بنا رکھا ہے یہ بھی حد سے آگے بڑھ جانا ہے۔
جس طرح حلال کو حرام کرلینا منع ہے اس طرح حرام کو حلال کرلینا منع ہے حرام و حلال مقرر فرمانے کا اختیار اللہ ہی کو ہے۔ سورة نحل میں ارشاد ہے (وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّ ھٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ ) (اور جن چیزوں کے بارے میں تمہارے زبانی جھوٹا دعویٰ ہے ان کی نسبت یوں مت کہہ دیا کرو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام ہے، جس کا حاصل یہ ہوگا کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگا دو گے) ۔
اسی ممانعت میں اللہ کی رخصتوں سے بچنا بھی داخل ہے مثلاً سفر شرعی میں قصر نماز کرنا مشروع ہے اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔
جو چیز ثواب کی نہ ہو اسے باعث ثواب سمجھ لینا
(2) حدود سے آگے بڑھنے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ جو چیز اللہ کے یہاں تقرب اور نزدیکی کی نہ ہو اسے تقریب کا باعث سمجھ لینا مثلاً بولنے کا روزہ رکھ لینا یا دھوپ میں کھڑا رہنا وغیرہ وغیرہ۔
غیر ضروری کو ضروری کا درجہ دیدینا
(3) ایک طریقہ حد سے آگے بڑھنے کا یہ ہے کہ جو چیز شریعت میں ضروری نہیں ہے اسے فرض کا درجہ دیدیں اور جو اسے نہ کرے اس پر لعن طعن کریں مثلاً شب برات کا حلوہ اور عید الفطر کی سویاں کہ شرعاً ان دونوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ نہ ان کا کوئی ثبوت ہے مگر لوگ اسے ضروری سمجھتے ہیں اور جو نہ پکاوے اس کو نکو بننا پڑتا ہے جب شرعاً ان کی کوئی اصل نہیں تو ان کا اہتمام کرنا سراپا بدعت ہے۔
مطلق مستحب کو وقت کے ساتھ مقید کر لینا
(4) ایک طریقہ حد سے آگے بڑھنے کا یہ ہے کہ عمومی چیز کو کسی خاص وقت کے ساتھ مخصوص کرلینا مثلاً نماز فجر اور نماز عصر کے بعد امام سے مصافحہ کرنا اور اسے واجب کا درجہ دینا۔
بعض علاقوں میں دیکھا گیا ہے کہ موذن اذان شروع کرنے سے پہلے درود شریف پڑھتا ہے، درود شریف بڑی فضیلت کی چیز ہے مگر ان کو کسی ایسے وقت کے ساتھ مخصوص کرنا جس کے متعلق شریعت میں خصوصیت نہیں ہے حد سے آگے بڑھ جانا ہے۔ حدیث شریف میں اذان کے بعد درود شریف پڑھنا اور پھر اس کے بعد دعا (اللھم رب ھذۃ الدعوۃ) پڑھنا آیا ہے۔
کسی عمل کا ثواب خود تجویز کر لینا
(5) حد سے آگے بڑھ جانے کی ایک شکل یہ ہے کہ کسی عمل کی وہ فضیلت تجویز کرلی جائے جو قرآن و حدیث سے ثابت نہیں جیسے دعا گنج العرش اور عہد نامہ اور درود لکھی کی فضیلت گھڑ رکھی ہے۔
کسی عمل کی ترکیب خود وضع کرلینا
(6) ایک صورت سے حد سے آگے بڑھ جانے کی یہ ہے کہ کسی عمل کی کوئی خاص ترکیب و ترتیب تجویز کرلی جائے مثلاً مختلف رکعات میں مختلف سورتیں پڑھنا تجویز کرلینا (جو حدیث سے ثابت نہ ہو) پھر اس کا التزام کرنا یا سورتوں کی تعداد مقرر کرلینا (جیسے تہجد کی نماز کے متعلق مشہور ہے کہ پہلی رکعت میں 12 مرتبہ قل ہو اللہ پڑھی جائے) اور پھر ہر رکعت میں ایک ایک مرتبہ گھٹاتا جائے یہ لوگوں نے خود تجویز کرلیا ہے مہینوں اور دنوں کی نمازیں اور ان کی خاص خاص فضیلتیں اور ان کی مخصوص تر کیبیں لوگوں نے بنائی ہیں یہ بھی حد سے آگے بڑھ جانا ہے۔
کسی ثواب کے کام کے لئے جگہ کی پابندی لگا لینا
(7) کسی ثواب کے کام کو کسی خاص جگہ کے ساتھ مخصوص کرلینا (جس کی تخصیص شریعت سے ثابت نہ ہو) یہ بھی حد سے بڑھ جانا ہے۔ جیسے بعض جگہ دستور ہے کہ قبر پر غلہ یا روٹی تقسیم کرتے ہیں یا قبر پر قرآن پڑھواتے ہیں ثواب ہر جگہ پہنچ سکتا ہے پھر اس میں اپنی طرف سے قبر پر ہونے کو طے کرلینا حدود اللہ سے آگے بڑھنا ہے۔
بعض چیزوں کے بارے میں طے کرلینا کہ فلاں نہ کھائے گا
(8) ایک صورت حد سے آگے بڑھ جانے کی یہ ہے کہ بعض کھانے کی چیزوں کے متعلق اپنی طرف سے تجویز کرلیا جائے کہ فلاں شخص کھا سکتا ہے اور فلاں نہیں کھا سکتا جیسے مشرکین مکہ کیا کرتے تھے، سورة انعام میں ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ ھٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا وَ اِنْ یَّکُنْ مَّیْتَۃً فَھُمْ فِیْہِ شُرَکَآءُ سَیَجْزِیْھِمْ وَصْفَھُمْ اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ) اور وہ (یہ بھی) کہتے ہیں کہ یہ جو ان مویشی کے پیٹ میں ہے خالص ہمارے مردوں کے لیے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے اور اگر وہ مردہ ہے تو اس میں وہ سب (مرد عورت) ساجھی ہیں۔ اللہ ان کو عنقریب غلط بیانی کی سزا دے گا بلاشبہ وہ حکمت والا ہے علم والا ہے) ۔
اسی قسم کی شکلیں آجکل فاتحہ و نیاز والے لوگوں نے بنا رکھی ہیں۔ مثلاً حضرت فاطمہ زہراء ؓ کے ایصال ثواب کے لئے بی بی جی کی صحنک کے نام سے کچھ رسم کی جاتی ہے اس رسم میں جو کھانا پکتا ہے اس میں یہ قاعدہ بنا رکھا ہے کہ اس کھانے کو مرد اور لڑکے نہیں کھا سکتے صرف لڑکیاں کھائیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرض کر رکھا ہے کہ اس کھانے کے لئے کورے برتن ہوں، جگہ لیپی ہوئی ہو۔ یہ سب خرافات اپنی ایجادات ہیں۔
کسی گناہ پر مخصوص عذاب خود سے تجویز کرلینا
(9) ایک صورت حد سے آگے بڑھ جانے کی یہ ہے کہ اپنی طرف سے کسی گناہ کا مخصوص عذاب تجویز کرلیا جائے جیسا کہ بہت سے واعظ بیان کرتے پھرتے ہیں۔
(10) یہ صورت بھی حد سے بڑھ جانے کی ہے کہ کسی چیز کے متعلق یہ طے کرلیا جائے کہ اس کا حساب نہ ہوگا حالانکہ حدیث میں اس کا ثبوت نہ ہو جیسے مشہور ہے کہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو نیا کپڑا یا نیا جوتا پہن لیاجائے تو وہ بےحساب ہوجاتا ہے اسی لئے بعض لوگ بہت سے جوڑے اس روز پہن لیتے ہیں۔ یہ سب غلط اور لغو ہے (تلک عشرہ کاملۃ)
یہ چند صورتیں حد سے آگے بڑھ جانے کی لکھ دی گئی ہیں غور کرنے سے اور بھی نکل سکتی ہیں اللہ کی حدود سے آگے بڑھنا زبردست جرم ہے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ اس سے منع فرمایا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہے۔
(تَلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَقْرَبُوْھَا) (یہ اللہ کی حدود ہیں ان کے نزدیک بھی مت ہونا) (بقرہ)
اور فرمایا (تَلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلاَ تَقْرَبُوْھَا وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظَّلِمُوْنَ ) یہ اللہ کی حدود ہیں سو ان سے آگے مت نکلنا اور جو اللہ کی حدود سے باہر نکل جائے سو ایسے ہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں (بقرہ)
اور فرمایا (وَ مَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ) (نساء)
(اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری نہ کرے اور اس کی حدود سے آگے بڑھ جائے اللہ اس کو آگ میں داخل فرمائیگا جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا اور اس کے لئے ذلیل کرنے والی سزا ہے) ۔
تیسرا حکم یہ فرمایا کہ جو کچھ حلال وطیب اللہ نے تم کو عطا فرمایا اس میں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہیں۔ معلوم ہوا حلال اور پاکیزہ چیزوں کا کھانا دینداری کے خلاف نہیں ہے ہاں ! پرہیزگاری اس میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی خلاف ورزی نہ کی جائے، اگر کوئی چیز فی نفسہ حلال و پاکیزہ ہو لیکن دوسرے کی ملکیت ہو تو جب تک اس سے حلال پیسوں کے ذریعہ خریدنہ لے یا وہ بطور ہبہ نہ دیدے یا نفس کی خوشی سے استعمال کرنے کی اجازت نہ دیدے اس وقت تک اس کا کھانا، استعمال کرنا حلال نہیں ہوگا آخر میں تقویٰ کا حکم دیا اور فرمایا (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اَنْتُمْ بِہٖ مُؤْمِنُوْنَ ) (اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو)
اس کے عموم میں ایسی سب صورتیں ہوگئیں جن میں ظلم کر کے یا حقیقت تلف کر کے یا خیانت کر کے کوئی چیز کھالی جائے یا استعمال کرلی جائے۔ نیز اس سے تمام اشیاء محرمہ سے بچنے کی تاکید بھی ہوگئی۔
Ayah 5:89قسموں کے اقسام اور قسم توڑنے کا کفارہ
اوپر کی آیات میں یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں حلال قرار دی ہیں ان کو حرام قرار نہ دو ، چونکہ حلال و حرام کرنے کی صورت میں ایک یہ بھی ہے کہ کسی چیز کے کھانے یا استعمال نہ کرنے کی قسم کھالی جائے اس لئے اب قسم کے احکام بیان کئے جاتے ہیں۔
قسم کی کئی قسمیں ہیں اول یمین لغو، دوسری یمین غموس، تیسری یمین منعقدہ (عربی میں قسم کو یمین کہتے ہیں) یمین لغو کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ جو کوئی شخص قسم کی نیت کئے بغیر بات کرتے ہوئے لاَ وَ اللّٰہ یا بَلٰی وَ اللّٰہکہہ دے تو یمین لغو ہے۔ (رواہ البخاری)
(اہل عرب کی یہ عادت تھی اور اب بھی ہے کہ وہ اپنے محاورات میں باتیں کرتے کرتے اس طرح کے الفاظ بول جاتے تھے) اور بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ کوئی شخص کسی گزشتہ واقعہ کو اپنے نزدیک سچا جان کر قسم کھائے حالانکہ واقعتہ وہ غلط ہو تو یہ یمین لغو ہے۔ بہر حال یمین لغو کی یہ بھی تفسیر ہے اس پر مواخذہ نہیں جیسا کہ آیت کریمہ میں اس کی تصریح ہے اور اس میں کوئی کفارہ بھی نہیں ہے۔ قسم کی دوسری قسم یمین غموس ہے یعنی کسی گزشتہ واقعہ پر جانتے بوجھتے ہوئے جھوٹی قسم کھا لینا۔ مثلاً کوئی کام نہیں کیا اور قسم کھا کر کہتا ہے کہ اللہ کی قسم میں نے یہ کام کیا یا کوئی کام کیا ہے پھر جانتے بوجھتے قسم کھا کر کہتا ہے کہ اللہ کی قسم میں نے یہ کام نہیں کیا۔ یہ یمین غموس ہے اس کا گناہ بہت بڑا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر و ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بڑے گناہ یہ ہیں۔
(1) اللہ کے ساتھ شرک کرنا (2) ماں باپ کو دکھ دینا (3) کسی جان کو قتل کرنا (4) یمین غموس یعنی کسی خلاف واقعہ بات پر جھوٹی قسم کھانا (رواہ البخاری ج 2 ص 987)
لفظ غموس غمس سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے گھسا دینا، چونکہ جھوٹی قسم یہاں اس دنیا میں گناہ میں گھسا دیتی ہے پھر آخرت میں پہنچ کر دوزخ میں گھسا دینے کا سبب بنے گی اس لئے اس کا نام یمین غموس رکھا گیا۔
قسم کی تیسری قسم یمین منعقدہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کسی آنے والے زمانے میں کسی فعل کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھالے مثلاً یوں کہ اللہ کی قسم فلاں کام ضرور کروں گا یا فلاں چیز ضرور کھاؤں گا یا یوں کہے اللہ کی قسم فلاں کام نہیں کروں گا فلاں چیز نہیں کھاؤں گا یا فلاں سے بات نہیں کروں گا۔ اس قسم کا حکم یہ ہے کہ اس کے خلاف ورزی کی جائے تو کفارہ دینا فرض ہوجاتا ہے۔ کفارہ کیا ہے ؟ اس کی تفصیل آیت بالا میں بتائی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائیں یا دس مسکینوں کو کپڑے پہنا دیں یا ایک غلام آزاد کردیں اگر ان میں سے کسی چیز کو بھی استطاعت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھ لئے جائیں ( غلام آج کل ہیں نہیں کیونکہ مسلمانوں نے جہاد شرعی چھوڑ دیا جس کے ذریعہ غلام اور باندیاں حاصل ہوتے تھے) لہٰذا اب اسی پر عمل ہوسکتا ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلا دیے یا کپڑے پہنا دیئے اگر ان میں سے کسی کی استطاعت نہ ہو تو تین دن کے روزے لگا تار رکھ لے۔
کفارہ قسم کے مسائل
مسئلہ : یمین منعقدہ کی خلاف ورزی جسے ہمارے ماحول میں قسم کا توڑنا کہتے ہیں اس کا کفارہ حانث ہونے یعنی قسم ٹوٹنے سے پہلے ادا کردینا معتبر نہیں یعنی اگر پیشگی کفارہ ادا کردیا تو وہ نفلی صدقہ ہوجائے گا کفارہ میں نہیں لگے گا۔
مسئلہ : اگر دس مسکینوں کو کھانا کھلانے کی صورت اختیار کرے تو صبح شام پیٹ بھر کے کھانا کھلا دے ان دس مسکینوں میں کوئی بچہ نہ ہو اور ایسا کوئی شخص نہ ہو جس کا پہلے سے پیٹ بھرا ہوا ہو۔
مسئلہ : اگر کھانے کھلانے کے بدلہ مال دینا چاہے تو یہ بھی جائز ہے جس کی صورت یہ ہے کہ ہر مسکین کو صدقہ فطر کے برابر ایک سیر ساڑھے بارہ چھٹانک گیہوں یا اس کے دو گنے جو یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قیمت دے دے۔
مسئلہ : دس ہی مسکینوں کو دینا لازم ہے۔ اگر ایک ہی مسکین کو دس مسکینوں کا غلہ دے دیا تو اس سے پوری ادائیگی نہ ہوگی نو مسکینوں کو پھر دینا ہوگا۔
مسئلہ : اور اگر کپڑا دینے کی صورت اختیار کرے تو ہر مسکین کو اتنا کپڑا دے جس سے ستر ڈھک جائے اور اس میں نماز ادا ہو سکے، اور اگر عورت کو کپڑا دے تو اتنا بڑا کپڑا دے جس سے اس کا سارا بدن ڈھک جائے جس میں وہ نماز پڑھ سکے۔
مسئلہ : مسکینوں کو جو کھانا کھلائے تو گھٹیا کھانا نہ کھلائے اپنے اہل و عیال کو جو کھانا کھلاتا ہو اس کی درمیانی حیثیت کا کھانا ہو کیونکہ آیت کریمہ میں (مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَھْلِیْکُمْ ) کی تصریح موجود ہے۔
مسئلہ : اگر کھانا دینے یا کپڑا پہنانے کی مالی استطاعت نہ ہو تو لگاتار تین روزے رکھے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی قراۃ (فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ مُتَتَابِعَاتِ ) ہے جو حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کو پہنچی اسی لئے انہوں نے تتابع یعنی لگاتار روزے رکھنا مشروط قرار دیا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا بھی یہی مذہب ہے کہ قسم کے کفارہ کی ادائیگی کے لئے تین دن لگاتار وزے رکھنا ضروری ہے (بشرطیکہ کفارہ بالصیام متعین ہوجائے)
فائدہ : کسی بھی گناہ کی قسم کھانا گناہ ہے اگر کسی گناہ کی قسم کھالے مثلاً کہے کہ نماز نہ پڑھوں گا یا یوں کہہ دے کہ اللہ کی قسم ! ماں باپ یا بہن بھائی سے یا کسی بھی عزیز قریب سے بےتعلق رہوں گا، ان سے بول چال نہ رکھوں گا یا قطع رحمی کرونگا تو ایسی قسم کا توڑدینا واجب ہے، قسم توڑ دے اور کفارہ دیدے۔
آخر میں فرمایا (وَ احْفَظُوْٓا اَیْمَانَکُمْ ) کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو، صاحب روح المعانی ص 10 جلد 7 اس کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ای راعوھا لکی تؤدو الکفارۃ عنھا اذا حنثتم واحفظوا نفسکم من الحنث فیھا۔ یعنی اپنی قسموں کا خیال رکھو ایسا نہ ہو کہ قسم ٹوٹ جائے اور کفارہ ادا کرنے میں غفلت کر جاؤ یا یہ مطلب ہے کہ قسم کھالو تو اسے پوری ہی کر دو ۔ (جب اللہ کا نام لے کر کسی قول یا عمل کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائی ہے تو اب اسے پورا ہی کردو لیکن یہ اسی صورت میں ہے کہ جب گناہ کی قسم نہ کھائی ہو جیسا کہ احادیث میں اس کی تصریح ہے) ۔
تنبیہ : غیر اللہ کی قسم کھانا حرام ہے ارشاد فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ مَنْ خَلَفَ بِغَیْرِ اللّٰہِ فَقَدْ اَشْرَکَ یعنی جس نے اللہ کے سوا کسی چیز کی قسم کھائی تو اس نے شرک کیا (رواہ الترمذی) نیز رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے باپوں کی اور اپنی ماؤں کی قسم نہ کھاؤ اور اللہ کی قسم (بھی) جب ہی کھاؤ جب تم سچے ہو۔ (مشکوۃ ص 296)
Ayah 5:90خمر اور میسر اور انصاب و ازلام ناپاک ہیں
ان آیات میں شراب اور جوئے اور بت اور جوا کھیلنے کے تیروں کو گندی چیزیں بتایا ہے اور یہ بھی فرمایا ہے کہ یہ چیزیں شیطان کے کاموں میں سے ہیں۔ عرب کے لوگ بت پوجا کرتے تھے، اور بتوں کے پجاریوں کے پاس تیر رکھ دیتے تھے ان تیروں کے ذریعہ جوا کھیلتے تھے جس کی تشریح سورة مائدہ کی آیت نمبر 3 کے ذیل میں گزر چکی ہے۔ سورة بقرہ میں فرمایا (یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فِیْھِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ للنَّاسِ وَ اِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا) (اور آپ سے سوال کرتے ہیں شراب اور جوئے کے بارے میں ! آپ فرما دیجئے ! کہ ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں اور ان کا گناہ ان کے منافع سے زیادہ بڑا ہے) اس سے واضح ہوا کہ شراب اور جوئے میں اگرچہ کچھ نفع بھی ہے مگر ان کا جو گناہ ہے وہ ان کے نفع سے زیادہ بڑا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی چیز کے جائز ہونے کے لئے یہی کافی نہیں ہے کہ وہ نفع مند ہو بہت سے لوگ جوئے اور شراب اور سود وغیرہ کے صرف منافع کو دیکھتے ہیں اور شریعت اسلامیہ میں جو ان کی حرمت بیان کی گئی ہے اس کی طرف دھیان نہیں کرتے اور نفع کی شق کو دیکھ کر حلال قرار دے دینے کی بےجا جسارت کرتے ہیں۔ یہ ملحدوں اور زندیقوں کا طریقہ ہے۔
شراب کی حرمت
ایک صاحب نے اپنے ایک ملنے والے کے بارے میں فرمایا کہ وہ دھڑلے سے شراب پیتا اور کہتا ہے کہ بتاؤ قرآن میں شراب کو کہاں حرام فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جن چیزوں کی ممانعت صریح قرآن مجید میں نہیں ہے بلکہ احادیث شریفہ میں آئی ہے یا جس چیز کی ممانعت فرماتے ہوئے لفظ حرام استعمال نہیں فرمایا اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی جہالت اور گمراہی ہے۔
ایسے ہی قرآن کے ماننے والے ہیں تو قرآن ہی سے یہ ثابت کردیں کہ قرآن نے جس چیز کی ممانعت کے لئے لفظ حرام استعمال کیا ہے بس وہی حرام ہے قرآن مجید میں بہت سی چیزوں سے منع فرمایا گیا ہے لیکن ان کے ساتھ لفظ حرام استعمال نہیں فرمایا اور رسول اللہ ﷺ کی فرما نبرداری اور آپ کے اتباع کا بھی حکم دیا ہے اور آپ کی صفات بیان کرتے ہوئے سورة اعراف میں (یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبَاتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبَآءِثَ ) فرمایا ہے۔ معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا کسی چیز کو حرام قرار دینا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو۔
سات وجوہ سے شراب اور جوئے کی حرمت
سورۂ مائدہ کی آیت بالا میں شراب اور جوئے کو ” رجس “ یعنی گندی چیز بتایا ہے اور پھر سورة اعراف میں (یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبَآءِثَ ) فرمایا ہے اس کی تصریح کے ہوتے ہوئے بھی کوئی شخص شراب اور جوئے کو حرام نہ سمجھے تو اس کے بےدین ہونے میں کیا شک ہے ایسا شخص ملحد اور بےدین اور کافر ہے پھر یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ اگرچہ قرآن مجید میں شراب کے لئے لفظ حرام استعمال نہیں فرمایا لیکن اس کی حرمت کی وجوہ بتادی ہیں اور سات باتیں ذکر فرمائی ہیں۔ جن کے ذکر سے واضح طور پر حرمت کا اعلان بار بار فرمایا دیا۔
(1) اول تو یہ فرمایا کہ شراب اور جوا ” رجس “ یعنی گندی چیزیں ہیں (2) پھر فرمایا (مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ ) کہ یہ شیطانی کاموں میں سے ہیں (3) پھر فرمایا فاجْتَنِبُوْہُکہ اس سے بچو (4) فرمایا (لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ معلوم ہوا کہ جوئے اور شراب میں مشغول ہونا ناکامی کا سبب ہے۔ جو دنیا اور آخرت میں سامنے آئے گی۔
Ayah 5:91(5) فرمایا (اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ ) کہ شیطان یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے اند ردشمنی اور بغض ڈال دے (6) فرمایا (وَ یَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَ عَنِ الصَّلٰوۃِ ) کہ شیطان شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکنا چاہتا ہے (7) آخر میں فرمایا (فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ ) کیا تم باز آنے والے ہو ؟
غور کرلیں کہ کتنی وجہ سے شراب اور جوئے سے منع فرمایا ہے ایسے صاف واضح بیان کے ہوتے ہوئے جو شخص شراب اور جوئے کو حلال کہے گا اس کی بدبختی اور بےدینی میں کیا شک ہے ؟ اللہ جل شانہ نے شراب کی حرمت تدریجا نازل فرمائی۔ سورة بقرہ میں فرمایا (قُلْ فِیْھِمَآ اِثْمٌ کَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ للنَّاسِ وَ اِثْمُھُمَآ اَکْبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا) اس کو سن کر بعض صحابہ ؓ نے شراب پینا چھوڑ دیا اور بعض پیتے رہے۔ حتیٰ کہ ایک دن ایسا ہوا کہ نماز مغرب میں ایک مہاجر صحابی نے امامت کرتے ہوئے قرآت میں غلطی کردی اس پر آیت کریمہ (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَقْرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنْتُمْ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ ) ( سورة النساء آیت 43) نازل ہوگئی۔ اس کے بعد ایسے انداز سے شراب پیتے تھے کہ نماز کا وقت آنے تک ہوش میں آجائیں اس کے بعد سختی سے شراب پینے کی ممانعت فرما دی اور فرمایا (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ ) (الی قولہ تعالیٰ ) (فَھَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَھُوْنَ )
جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے کہا ” اِنتَھَیْنَا رَبَّنَا “ (اے ہمارے رب ! ہم باز آگئے) درمنثور ص 214 جلد نمبر 2 از مسند احمد بروایت ابی ہریرہ ؓ
Ayah 5:92پھر فرمایا (وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا) (اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ڈرتے رہو) یعنی اللہ و رسول کی مخالفت نہ کرو (فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَلٰی رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ ) (سو اگر تم رو گردانی کرو تو جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ واضح طور پر پہنچا دینا ہے) اللہ کے رسول ﷺ نے خوب اچھی طرح کھول کر بیان فرما دیا اللہ تعالیٰ کی بات پہنچادی پھر بھی اگر کوئی خلاف ورزی کرے گا تو اپنا انجام دیکھ لے گا۔
سات وجوہ سے جوئے اور شراب کی ممانعت فرمانے کے بعد گویا اس آخری آیت میں مزید تنبیہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت سے ڈرو۔ جو لوگ قرآن ہی میں ممانعت اور حرمت دیکھنا چاہتے ہیں اور حدیث رسول اللہ ﷺ کو حجت نہیں سمجھتے ان کو تنبیہ فرمادی کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ضروری ہے اور دونوں کی مخالفت سے بچنا لازم ہے۔
احادیث شریفہ میں شراب کی حرمت اور اس کے پینے پلانے والے پر لعنت اور آخرت کی سزا
رسول اللہ ﷺ نے شراب کے بارے میں جو کچھ ارشاد فرمایا اس میں سے چند احادیث کا ترجمہ لکھا جاتا ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر نشہ لانے والی چیز خمر یعنی شراب ہے اور ہر نشہ لانے والی چیز حرام ہے اور جو شخص دنیا میں شراب پئے گا اور اس حال میں مرگیا کہ شراب پیتا رہا اور توبہ نہ کی تو آخرت میں شراب نہیں پئے گا (جنت کی شراب سے محروم ہوگا اگر جنت کا داخلہ نصیب ہوگیا) ۔ (رواہ مسلم ص 168 جلد 3)
حضرت جابر ؓ نے بیان فرمایا کہ ایک شخص یمن سے آیا اس نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ ہمارے علاقے میں ایک شراب ہے جو جوار سے بنائی جاتی ہے لوگ اسے پیتے ہیں، آپ نے دریافت کیا وہ نشہ لاتی ہے ؟ سوال کرنے والے نے عرض کیا ہاں وہ نشہ لاتی ہے ! آپ نے فرمایا ” کُلُّ مُسْکِرٍحرام “ کہ نشہ لانے والی ہر چیز حرام ہے پھر فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ عہد فرمالیا ہے کہ جو شخص نشہ لانے والی چیز پیئے گا اللہ اسے ” طِیْنَۃ الخبَال “ سے پلائے گا، صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ” طِیْنَۃ الخبَال “ کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ دو زخیوں کے جسموں کا نچوڑ ہے۔ (رواہ مسلم ص 162 جلد نمبر 2)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے لعنت کی شراب پر اور اسکے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر اور اس کے بیچنے والے اور اس کے خریدنے والے پر اور شراب بنانے والے پر اور بنوانے والے پر۔ اور جو شراب کو کسی کے پاس لے جائے اس پر اور جس کے پاس لے جائے اس پر بھی۔ (رواہ ابوداؤد ص 161 جلد نمبر 2)
جو لوگ اپنی دکانوں میں شراب بیچتے ہیں اپنے ہوٹلوں میں شراب پلاتے ہیں اور ایسی دکانوں پر ملازمت کرتے ہیں وہ اپنے بارے میں غور کرلیں کہ روزانہ کتنی لعنتوں کے مستحق ہوتے ہیں، شراب کا بنانے والا تو مستحق لعنت ہے ہی اس کا بیچنے والا، پینے والا، اور پلانے والا اور اس کے اٹھا کرلے جانے والا اور جس کی طرف شراب لے جائی جائے ان سب پر اللہ کی لعنت ہے۔
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہا ی سے دستر خوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب کا دور چل رہا ہو۔ (رواہ البیہقی)
جو لوگ یورپ امریکہ وغیرہ میں رہتے ہیں اور نصرانیوں کے میل ملاپ کی وجہ سے شراب پی لیتے ہیں غور کریں کہ ان کا ایمان باقی ہے یا نہیں ؟ ایک حدیث میں ارشاد ہے الْخَمْرُ جُمَّاعُ الْاِثْمِکہ شراب تمام گناہوں کو جمع کئے ہوئے ہیں۔
اگر اس بات کی مصداق دیکھنا ہو تو یورپ امریکہ کے شراب خوروں کو دیکھ لیا جائے کیا کوئی برائی ان سے چھوٹی ہوئی ہے ؟ شراب خوری نے انہیں ہر گناہ پر آمادہ کردیا ہے۔
شراب ہر برائی کی کنجی ہے
حضرت ا بو الدرداء ؓ نے بیان فرمایا کہ مجھے میرے دوست سید الانبیاء ﷺ نے وصیت فرمائی کہ کسی بھی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرنا، اگر تیرے ٹکڑے کر دئیے جائیں اور تجھے جلا دیا جائے اور قصداً نماز نہ چھوڑنا کیونکہ جس نے قصداً نماز چھوڑ دی اس سے اللہ کا ذمہ بری ہوگیا اور شراب مت پینا کیونکہ وہ ہر برائی کی کنجی ہے۔ (مشکوۃ المصابیح ج 1 ص 51)
جو لوگ شراب نہ چھوڑیں ان سے قتال کیا جائے
حضرت دیلم حمیری ؓ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم ٹھنڈی سر زمین میں رہتے ہیں اور سخت محنت کرتے ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ ہم گیہوں کی شراب بنا لیتے ہیں جسے استعمال کر کے ہم محنت کے کاموں پر اپنے شہروں کی ٹھنڈک پر قوت حاصل کرتے ہیں آپ نے سوال فرمایا کہ وہ نشہ لاتی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں وہ نشہ لاتی ہے ! آپ ﷺ نے فرمایا اس سے پرہیز کرو۔ میں نے عرض کیا کہ لوگ اسے چھوڑنے والے نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اسے نہ چھوڑیں تو تم ان سے قتال کرو یعنی جنگ کرو۔ (رواہ ابو داؤد فی کتاب الشربتہ )
اللہ کے خوف سے شراب چھوڑنے پر انعام
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور جہانوں کے لئے ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور میرے رب نے مجھے حکم دیا کہ گانے بجانے کے سامان کو اور بتوں کو صلیب کو (جس کی نصاریٰ عبادت کرتے ہیں) اور جاہلیت کے کاموں کو مٹادوں اور میرے رب عزوجل نے قسم کھائی ہے کہ میرے بندوں میں سے جو بھی بندہ کوئی گھونٹ شراب کا پئے گا تو اسے اسی قدر پیپ پلاؤں گا۔ اور جو بھی کوئی شخص میرے ڈر سے شراب چھوڑ دے گا میں اسے ضرور مقدس حوضوں میں سے پلاؤں گا۔ (رواہ احمد کمافی المشکوۃ ص 318)
جواری اور شرابی کی جنت سے محرومی
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ماں باپ کو تکلیف دینے والا اور جوا کھیلنے والا اور احسان جتانے والا اور جو شخص شراب پیا کرتا ہے یہ لوگ جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ (رواہ الدارمی ص 31 جلد نمبر 2)
شراب اور خنزیر اور بتوں کی بیع کی حرمت
حضرت جابر ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فتح مکہ کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا کہ بیشک اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے شراب اور مردار اور خنزیر اور بتوں کی بیع کو حرام قرار دیا ہے۔ (رواہ البخاری ج 1 ص 298)
Ayah 5:93حرمت کی خبر سن کر صحابہ ؓ نے راستوں میں شراب بہا دی
حضرت انس ؓ نے بیان فرمایا کہ میں ابو طلحہ ؓ کے گھر میں حاضرین کو شراب پلا رہا تھا ( یہ حضرت انس ؓ کے سوتیلے باپ تھے) اسی ثناء میں حکم نازل ہوگیا کہ شراب حرام ہے باہر سے آنے والی ایک آواز سنی کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے کوئی شخص اعلان کر رہا ہے، ابو طلحہ ؓ نے کہا کہ باہر نکلو یہ دیکھو یہ کیا آواز ہے ؟ باہر نکلا تو میں نے واپس ہو کر بتایا کہ یہ پکارنے والا یوں پکار رہا ہے کہ خبردار شراب حرام کردی گئی ہے، یہ سن کر ابو طلحہ ؓ نے کہا جاؤ یہ جتنی شراب ہے سب کو گرا دو ۔ چناچہ شراب پھینک دی گئی جو مدینہ کی گلیوں میں بہہ رہی تھی۔
بعض صحابہ کو یہ خیال ہوا کہ ہم میں سے بہت لوگ مقتول ہوچکے ہیں جن کے پیٹوں میں شراب تھی۔ (یعنی جو لوگ اب تک شراب پیتے رہے اور دنیا میں موجود نہیں ان کا کیا بنے گا وہ تو اپنے پیٹوں میں شراب لے کر چلے گئے) اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ (لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا) نازل فرمائی (رواہ البخاری ج 2 ص 664)
تفسیر در منثور میں اس واقعہ کو حضرت انس ؓ کے زبانی یوں بیان کیا ہے کہ میں ابو طلحہ اور ابو عبیدہ بن الجراح اور معاذ بن جبل اور سہیل بن بیضاء اور ابودجانہ ؓ کو شراب پلا رہا تھا میرے ہاتھ میں پیالہ تھا جسے میں بھر بھر کر ایک دوسرے کو دے رہا تھا۔ اسی حال میں ہم نے آواز سنی کہ کوئی شخص پکار کر آواز دے رہا ہے الا ان الخمر قد حرمت (خبردار ! شراب حرام کردی گئی ہے) آواز کا سننا ہی تھا کہ نہ کوئی اندر آنے پایا تھا نہ باہر نکلنے پایا تھا کہ ہم نے شراب کو گرا دیا اور مٹکے توڑدیئے۔ جس کی وجہ سے مدینہ کی گلی کوچوں میں شراب (پانی کی طرح) بہنے لگی۔ (درمنثور ص 221 ج 2 و رواہ مسلم بحذف بعض الاسماء ج 2 ص 163)
صحابہ ؓ کی بھی کیا شان تھی، شراب گویا ان کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی اس کے بڑے دلدادہ تھے پھر اس کے حرام ہونے کی خبر سنی تو بغیر کسی پس و پیش کے اسی وقت گرادی۔
شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے جو لوگ شراب پی چکے اور دنیا سے جا چکے ان کے بارے میں سوال اور اس کا جواب
جب شراب کی حرمت نازل ہوگئی تو ان کو اپنے بھائیوں کا فکر ہوا، جو شراب پیتے تھے اور اسی حال میں وفات پا گئے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آیت (لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) آخر تک نازل فرمائی۔
جس میں یہ بتایا کہ جو لوگ اہل ایمان تھے اور اعمال صالحہ کرتے تھے وہ حرمت کا قانون نازل ہونے سے پہلے وفات پا گئے تھے انہوں اس زمانہ میں جو شراب پی تھی اس کا کوئی گناہ نہیں۔ رسول اللہ ﷺ جب تک تشریف فرما تھے احکام میں نسخ ہونے کا احتمال رہتا تھا شراب حلال تھی پھر حرام قرار دیدی گئی اس کے علاوہ اور بھی بعض دیگر احکامات میں نسخ ہوا۔
آیت بالا میں فرمایا (لَیْسَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْٓا اِذَا مَا اتَّقَوْ وَّ اٰمَنُوْا و عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ) (ان لوگوں پر اس بارے میں کوئی گناہ نہیں کہ انہوں نے کھایا پیا جبکہ وہ تقویٰ اختیار کرتے ہوں۔ ) یعنی شراب کے علاوہ دوسری حرام چیزوں سے بچتے ہوں، شراب پینے پر تو مواخذہ اس لئے نہیں کہ وہ اس وقت حرام نہیں تھی اور جب دوسری ممنوعات سے بچتے رہے تو ظاہر ہے کہ دنیا سے بےگناہ چلے گئے۔ اور انہوں نے نہ صرف ممنوعات سے پرہیز کیا بلکہ دوسرے اعمال صالحہ بھی انجام دیتے رہے۔ (ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْ ) (پھر تقویٰ اختیار کئے رہے اور ایمان پر باقی رہے) یعنی اس کے بعد جب بھی کسی چیز کی حرمت نازل ہوگئی ایمان پر رہے اور حرام چیز سے بچے (ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا) (پھر تقویٰ اختیار کیا اور اچھے کام کرتے رہے) (یعنی جب حرمت آگئی اس کی خلاف ورزی نہ کی اور جن نیک کاموں میں لگے ہوئے تھے بدستور ان کے انجام دینے میں لگے رہے) ۔
اس میں تقویٰ کا ذکر تین بار ہے پہلی بار جو تقویٰ مذکور ہے اس کا تعلق تمام ممنوعات سے بچنے سے ہے پھر دوسری بار کسی حلال چیز کی حرمت نازل ہونے کے بعد اس سے پرہیز کرنے سے متعلق ہے۔ پھر تیسری بار یا تو سابقہ حالت پر استقامت کے ساتھ تمام ممنوعات سے پرہیز کرنے سے متعلق ہے یا اس طرف اشارہ ہے کہ جب کبھی بھی کوئی چیز حرام ہوئی اس سے پرہیز کرتے رہے۔
حضرات صحابہ ؓ نے اپنے وفات پاجانے والے بھائیوں کے بارے میں سوال کیا تھا لیکن آیت کے عموم میں زندوں کے بارے میں بھی حکم بتادیا کہ حرمت کا قانون آنے سے پہلے نہ شراب میں کوئی گرفت تھی اور نہ آئندہ کسی عمل پر گرفت ہوگی جو حرمت کا قانون آنے سے پہلے کرلیا جائے آخر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) (اللہ اچھے کام کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے) ۔
فائدہ : شراب پینے کی دنیاوی سزا اسی کوڑے ہے جس کی تفیصلات کتب فقہ میں مذکور ہیں۔ اور آخرت کی سزا یہ ہے کہ شراب پینے والے کو دوزخیوں کے زخموں کا نچوڑ یعنی ان کی پیپ پلائی جائے گی۔ جس کا ذکر روایات حدیث میں گزر چکا ہے۔
شراب اور جوا دشمنی کا سبب ہیں اور ذکر اللہ سے اور نماز سے روکتے ہیں، شراب اور جوئے کے بارے میں فرمایا کہ شیطان اس کے ذریعے تمہارے درمیان بغض اور دشمنی ڈالنا چاہتا ہے اور ذکر و نماز سے روکنا چاہتا ہے۔
بغض اور دشمنی تو ظاہر ہی ہے جو کوئی شخص جوئے میں ہار جاتا ہے حالانکہ اپنی خوشی سے ہارتا ہے تو جلد سے جلد جیتنے والے سے بدلہ لینے کی فکر کرتا ہے اور شراب پی کر جب آدمی بد مست ہوجاتا ہے تو اول فول بکتا ہے دوسروں کو برا بھی کہتا ہے اور گالی گلوچ کرتا ہے اور کبھی کسی کو مار بھی دیتا ہے۔ جس سے جڑے دل ٹوٹتے ہیں اور دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں۔
اور اللہ کی یاد اور نماز سے غافل ہونا تو یہ ایسی ظاہر بات ہے جو نظروں کے سامنے ہے جب کسی نے شراب پی لی تو نشہ میں بدمست ہوگیا۔ اب نماز اور اللہ کے ذکر کا موقعہ کہاں رہا، جن کو شراب کی عادت ہوجاتی ہے، وہ تو اسی دھن میں رہتے ہیں کہ نشہ کم ہو تو اور پئیں پھر کم ہو پھر پئیں۔ اور جب کوئی شخص جوا کھیلنے میں لگ جاتا ہے تو گھنٹوں گزر جاتے ہیں جیتنے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ اللہ کے ذکر اور نماز کا اس کے ہاں کوئی موقع ہی نہیں ہوتا۔
حتی کہ جو لوگ بغیر ہار جیت کے شطرنج کھیلتے رہتے ہیں وہ بھی گھنٹوں کھیلتے رہتے ہیں انہیں ذرا بھی اللہ کے ذکر کی طرف توجہ نہیں ہوتی۔ نماز کا پورا وقت اول سے اخیر تک گزر جاتا ہے لیکن نماز اور ذکر اللہ کی طرف ذرا بھی دھیان نہیں ہوتا نماز بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی ہے لیکن اس کو علیحدہ ذکر فرمایا کیونکہ عام ذکر سے اس کی اہمیت زیادہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ فرض ہے اور عام طور پر ذکر میں مشغول رہنا مستحب ہے اگرچہ اس عام ذکر کے بھی بڑے بڑے اجور وثمرات ہیں۔
جوئے کی تمام صورتیں حرام ہیں
آیت بالا میں شراب اور جوا دونوں کو حرام قرار دیا ہے اور دنوں کو ناپاک بتایا ہے اور سورة بقرہ میں فرمایا ہے (وَ اِثْمُھُمَآ اَکُبَرُ مِنْ نَّفْعِھِمَا) کہ ان دونوں کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے جوئے کے لئے سورة بقرہ میں اور یہاں سورة مائدہ میں لفظ الْمَیْسَرْ استعمال فرمایا ہے عربی میں اس کا دوسرا نام قمار ہے۔
ہر وہ معاملہ جو نفع اور نقصان کے درمیان دائر اور مبہم ہو شریعت میں اسے قمار کہا جاتا ہے مثلاً دو آدمی آپس میں بازی لگائیں کہ ہم دونوں دوڑتے ہیں اور ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ تو آگے بڑھ گیا تو میں ایک ہزار روپیہ دوں گا اور اگر میں بڑھ گیا تو مجھے ایک ہزار روپے دینا ہوں گے۔ یا مثلاً بند ڈبے ہیں وہ فی ڈبہ ایک روپیہ کے حساب سے فروخت ہوں گے۔ لیکن کسی ڈبہ میں پانچ روپے کی چیزیں نکلیں گی اور کسی ڈبہ میں 25 پیسے کا مال نکلے گا تو ان ڈبوں کی خریدو فروخت قمار یعنی جوئے میں داخل ہے اور ہر وہ معاملہ جو نفع اور ضرر کے درمیان دائر ہو وہ معاملہ قمار ہی کی صورت ہے۔
اخباری معموں کے ذریعہ بھی قمار یعنی جواء کا سلسلہ جاری ہے۔ بطور اشتہار اخباروں اور ماہوار رسالوں اور ہفت روزہ جریدوں میں معمہ کی مختلف صورتوں کا اشتہار دیا جاتا ہے کہ جو شخص اس کو حل کر کے بھیجے اور اس کے ساتھ اتنی فیس مثلاً پانچ روپے بھیجے تو جن لوگوں کے حل صحیح ہوں گے ان لوگوں میں سے جس کا قرعہ اندازی میں نام نکل آئے گا اسے انعام کے عنوان سے مقررہ رقم یا کوئی بھاری قیمت کی چیز مل جائے گی۔ یہ سراسر قمار ہے یعنی جوا ہے اور حرام ہے کیونکہ جو شخص فیس کے نام سے کچھ پیسے بھیجتا ہے وہ اس موہوم نفع کے خیال میں بھیجتا ہے کہ یا تو یہ روپے گئے یا ہزاروں مل گئے فیس کے نام سے روپیہ بھیجنا اور اگر اس روپے پر کچھ زائد مل جائے اس کا لینا اور معمہ شائع کر کے لوگوں کی رقمیں لے لینا یہ سب حرام ہے۔ اور ہر قسم کی لاٹری جس میں کچھ دے کر زائد ملنے کی امید پر مال جمع کیا جاتا ہے پھر اس پر مال ملے نہ ملے یہ سب حرام ہے۔ گھوڑ دوڑ کے ذریعہ بھی جوا کھیلا جاتا ہے جس کا گھوڑا آگے نکل گیا اسے ہارنے والے کی جمع کی ہوئی رقم مل جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار حرام ہے اور جو اس طریقہ سے رقم حاصل کی وہ بھی حرام ہے۔
پتنگ بازی اور کبوتر بازی کے ذریعہ بھی جوا کھیلا جاتا ہے۔ یہ دونوں کام خود اپنی جگہ ممنوع ہیں پھر ان پر ہار جیت کے طور پر جو رقم لگاتے ہیں وہ مستقل گناہ ہے اور صریح حرام ہے کیونکہ قمار یعنی جوا ہے۔ سٹے کا کاروبار بھی سراپا قمار ہے اور حرام ہے۔ انشورنس یعنی بیمہ پالیسی کی بھی وہ سب صورتیں حرام ہیں جن میں رقمیں جمع کی جاتی ہیں اور حادثہ ہوجانے پر جمع کردہ رقم سے زیادہ مال مل جاتا ہے۔ زندگی کا بیمہ ہو یا گاڑیوں کا یا دکانوں کا یہ سب حرام ہے اور ان میں اپنی جمع کردہ رقم سے جو مال زائد ملے وہ سب حرام ہے۔
قمار کے جتنے بھی طریقے ہیں ( گھوڑ دوڑ وغیرہ) ان سب کی آمدنی حرام ہے۔ ہر مومن کو اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنا لازمی ہے۔ دنیا چند روزہ ہے اس لئے حرام کا ارتکاب کرنا حماقت ہے۔
Ayah 5:94حالت احرام میں شکار والے جانوروں کے ذریعہ آزمائش
حج اور عمرہ کا اگر کوئی شخص احرام باندھ لے تو احرام سے نکلنے تک بہت سے کام ممنوع ہوجاتے ہیں ان ممنوع کاموں میں خشکی کا شکار کرنا بھی ہے۔
ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرات صحابہ ؓ کو اس طرح آزمایا کہ احرام کی حالت میں تھے اور شکاری جانور خوب بڑھ چڑھ کر آرہے تھے یہ ایسی آزمائش تھی جیسے بنی اسرائیل کو آزمایا گیا تھا، ان کے لئے سنیچر کے دن مچھلیوں کا شکار کرنا ممنوع تھا لیکن سنیچر کے دن مچھلیاں خوب ابھر ابھر کر پانی کے اوپر آجاتی تھیں اور دوسرے دنوں میں ایسا نہیں ہوتا تھا جس کا زکر سورة اعراف کی آیت (وَ سْءَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ ) میں فرمایا ہے۔
تفسیر در منشور ص 327 جلد نمبر 2 میں ابن ابی حاتم سے نقل کیا ہے کہ آیت بالا حدیبیہ والے عمرہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ وحشی جانور اور پرندے ان کے ٹھہرنے کی جگہوں میں چلے آرہے تھے اس سے پہلے ایسے منظر انہوں نے کبھی نہیں دیکھے تھے ان کو ہاتھوں سے پکڑنا اور نیزوں سے مارنا بہت ہی زیادہ آسان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا تھا کہ احرام کی حالت میں شکار قطعاً نہ کرنا جو شکار کرنے سے پرہیز کرے گا وہ امتحان میں کامیاب ہوگا۔ اور یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ دیکھے بغیر اللہ تعالیٰ سے کون ڈرتا ہے (اور جو شخص شکار کرلے گا وہ گناہ کا ارتکاب کرلے گا اور آزمائش میں ناکام ہوگا)