Ayah 3:195دعاؤں کی مقبولیت :
(فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّیْ لَآ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ اَوْ اُنْثٰی) (سو ان کے رب نے ان کی دعا کو قبول فرما لیا اور فرمایا کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا، مرد ہو یا عورت) اعمال کا ثواب سب کو ملے گا، جو کبھی کوئی فرد ایمان قبول کرے گا، اعمال صالحہ میں لگے گا، دعائیں کرے گا اس کا کچھ بھی ضائع نہ ہوگا، جیسے مردوں کے اعمال صالحہ مقبول ہیں اسی طرح عورتوں کے اعمال صالحہ بھی مقبول ہیں۔
(بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ ) (تم میں سے بعض بعض سے ہیں) اس کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں ماقبل سے مرتب ہونے کے اعتبار سے ” ضحاک “ کا قول اقرب معلوم ہوتا ہے جسے معالم التنزیل صفحہ 327: ج 1 میں نقل کیا ہے رجالکم شکل نسائکم ونسائکم شکل رجالکم فی الطاعۃ یعنی اللہ کی فرمانبر داری میں مرد عورتوں کی طرح اور عورتوں مردوں کی طرح ہیں۔ جو بھی فرمانبر دار ہوگا اپنا اجر وثواب پائے گا۔ نیز اعمال خیر میں مرد عورتوں کے اور عورتیں مردوں کی معاون ہیں ایک دوسرے کے لیے خیر کا سبب ہیں جیسا کہ سورة توبہ میں فرمایا (وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ) (اور مومن مرد و عورتیں بعض بعض کے معاون اور مددگار ہیں) ۔
مہاجرین اور مجاہدین کا ثواب :
(فَالَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ ) (الی قولی تعالیٰ ) (وَ اللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ) (سو جن لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میرے راستے میں انہیں ایذا دی گئی اور جنہوں نے قتال کیا اور جو مقتول ہوئے میں ضرور ضرور ان کی برائیوں کا کفارہ کر دوں گا اور ضرور ضرور ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ ان کو اللہ کی طرف سے بدلہ دیا جائے گا اور اللہ کے پاس اچھا بدلہ ہے) ۔ اس آیت میں چند اعمال خیر کا تذکرہ فرمایا پھر اصحاب اعمال کے بدلہ کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ ان کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور یہ حضرات جنت میں داخل ہوجائیں گے جن اعمال کا تذکرہ فرمایا ان میں ایک ہجرت ہے۔ جن لوگوں نے دشمنوں کے مجبور کرنے سے دین حق پر باقی رہنے کے لیے اپنے وطن کو اور جاگیر و جائداد اور عزاء و اقربا کو چھوڑا ان کی بڑی قربانی ہے، نیز اللہ کی راہ میں جن لوگوں کو تکلیفیں پہنچائی گئیں اور وہ صبر و استقامت کے ساتھ ایمان پر باقی رہے اور اعمال صالحہ میں لگے رہے یہ عمل بھی بہت بڑا ہے جسے (وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ ) سے تعبیر فرمایا، نیز اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کا بھی تذکرہ فرمایا جس میں کافروں کو قتل کیا جاتا ہے اور اہل ایمان بھی مقتول ہوجاتے ہیں اس عمل کو وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْاسے تعبیر فرمایا، جہاد بہت بڑا عمل ہے جسے ایک حدیث میں چوٹی کا عمل بتایا، (ذروۃ سنامہ الجھاد ” مشکوٰۃ ص 14) مذکورہ بالا اعمال خیر کا بدلہ تکفیر سیئات اور دخول جنت کی صورت میں ہوگا، آخر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ عِنْدَہٗ حُسْنُ الثَّوَابِ ) اس میں عمومی طور پر فرما دیا کہ نیک اعمال کا جو بدلہ اللہ کے پاس سے ملے گا وہ اچھا ہی ہوگا۔
Ayah 3:196ہرگز دھوکہ میں نہ ڈالے آپ کو کافروں کا شہروں میں آنا جانا، یہ تھوڑا سا نفع ہے۔ پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا بچھونا ہے، لیکن وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، یہ مہمانی ہوگی اللہ کی طرف سے، اور جو اللہ کے پاس ہے بہتر ہے نیک بندوں کے لیے۔
Ayah 3:197کافروں کے احوال و اموال دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں
گزشتہ آیت میں اہل ایمان کا اجر وثواب بتایا ہے اہل ایمان میں تنگدست فقراء اور مساکین بھی ہوتے ہیں۔ اور دنیاوی احوال و اموال کے اعتبار سے ان میں ایک گونہ کمزوری ہوتی ہے۔ اس لیے ان کی تسلی کے لیے فرمایا کہ اہل کفر کو جو دنیا میں ادھر ادھر آنے جانے اور اموال کمانے کی قدرت اور وسعت دی گئی ہے یہ کوئی قابل رشک چیز نہیں ہے ان لوگوں کی خوشحالی تمہیں دھوکہ میں نہ ڈالے یہ تو چند دن کی بہار ہے اس کے بعد ان کے لیے عذاب ہی عذاب ہے۔ عذاب بھی معمولی نہیں بلکہ جہنم کا عذاب ہے جو آگ ہی آگ ہے ایسی خوشحالی پر کیا رشک کرنا جس کے کچھ عرصہ کے بعد آگ کے دائمی عذاب میں داخل ہونا پڑے۔ اسباب النزول صفحہ 134 میں لکھا ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ خوشحال تھے تجارت کرتے تھے اور دنیا کے سازو سامان سے منتفع ہوتے تھے۔ بعض اہل ایمان کے منہ سے نکل گیا کہ اللہ کے دشمن تو اچھے حال میں ہیں اور ہم بھوک اور مشقت سے ہلاک ہو رہے ہیں اس پر آیت لَایَغُرَّنَّکَ آخر تک نازل ہوئی۔
جہنم کے بارے میں کہیں (بِءْسَ الْمَصِیْرُ ) اور کہیں (بِءْسَ الْمِھَادُ ) فرمایا اور کہیں دوسرے الفاظ میں اس کا برا ٹھکانا ہونا بتایا۔ یہاں (بِءْسَ الْمِھَادُ ) برا بچھونا جو فرمایا ہے سیاق کلام کے اعتبار سے نہایت ہی برمحل ہے۔ کیونکہ جو لوگ اصحاب اموال ہوتے ہیں دنیاوی چیزوں سے منتفع اور متمتع ہونے کے جو ان کے طریقے ہیں، ان میں جہاں عمدہ کھاناپینا اور لباس فاخرہ ہوتا ہے وہاں بسترے بھی عمدہ اور نرم ہوتے ہیں۔ آیت شریفہ میں بتادیا کہ ان کے یہاں کے بستروں کو نہ دیکھو ان کے اصلی اور دائمی بستر پر نظر کرو جو دوزخ کی آگ کا ہوگا، وہاں آرام کا نام نہیں اور نیند کا گمان نہیں۔
نزول قرآن کے وقت سفر کے ذرائع یہی چو پائے تھے گھوڑے، اونٹ خچر وغیرہ۔ دور حاضر میں سیارے اور طیارے ہیں جن سے تقلب کا مفہوم بہت زیادہ واضح ہے ایک شخص ایک ہی دن میں ایشیا میں بھی ہے اور یورپ میں بھی دوسرا شخص امریکہ جاتا ہے پھر شام تک واپس بھی آجاتا ہے، ایشیا والوں کے لیے افریقہ اور آسٹریلیا ایسے ہیں جیسے کبھی دو تین میل کی مسافت تک جا کر واپس آجاتے تھے۔ یہ تقلب کا بہت بڑا مصداق ہے، قرآن مجید میں جو لفظ تقلب ہے قیامت تک آنے والی سواریوں کے لیے شامل ہے۔
سورة مومن میں بھی اس مضمون کو بیان فرمایا (مَا یُجَادِلُ فِیْ اٰیٰتِ اللّٰہِ اِِلَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَلاَ یَغْرُرْکَ تَقَلُّبُہُمْ فِی الْبِلاَدِ ) (نہیں جھگڑتے ہماری آیات کے بارے میں مگر وہی لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ سو دھوکہ میں نہ ڈالے آپ کو شہروں میں ان کا چلنا پھرنا) ۔
Ayah 3:198متقیوں کا ثواب :
پھر فرمایا (لٰکِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا) (جو لوگ اپنے رب سے ڈریں ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے) اس میں تسلی ہے اہل ایمان کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں کہ تمہیں ہمیشہ کے لیے وہ نعمتیں ملیں گی جو اہل کفر کے تصور میں بھی نہیں۔ ان کی نعمتوں کو ہیچ سمجھو۔ ان کی نعمتیں ان کے لیے باعث عذاب ہیں اور تمہاری نعمتیں واقعی اور حقیقی اور دائمی ہوں گی جو اللہ کی طرف سے بطور مہمانی کے عطاء کی جائیں گی۔ کما قال تعالیٰ (نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ ) (مہمانی ہے اللہ کی طرف سے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیک بندوں کے لیے بہتر ہے) کیونکہ یہ دائمی ہے اور کثیر در کثیر اور کافروں کے پاس قلیل در قلیل ہے اور عارضی ہے۔
Ayah 3:199مومنین اہل کتاب کا اجر
مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب سب ہی ایسے نہیں جو کفر پر جمے رہیں۔ اور اللہ کے آخری نبی اور آخری کتاب کے انکار پر تلے رہیں۔ بلکہ ان میں ایسے بھی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور جو کتاب تم پر یعنی اہل اسلام پر نازل ہوئی ہے اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور جو کتاب ان پر اتاری گئی (یعنی ان کے انبیاء (علیہ السلام) کے واسطہ سے ہے) اس پر بھی ایمان لاتے ہیں، ان میں عناد اور تکبر نہیں ہیں۔ وہ اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور اللہ کی آیات کے ذریعہ تھوڑی سی قیمت حاصل نہیں کرتے یعنی یہ لوگ طالب دنیا نہیں ہیں جو پوری کی پوری آخرت کے مقابلہ میں ذرا سی چیز ہے یہ لوگ آخرت کے طالب ہیں اللہ کی رضا چاہتے ہیں، اللہ کے ہاں ان کو اپنا اجر ملے گا، لہٰذا حق کو نہیں چھپاتے، اور اللہ کی آیات کو صحیح صحیح بیان کرتے ہیں، اپنی قوم سے کسی طرح کی رشوت کے طالب نہیں۔
(اُولٰٓءِکَ لَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ ) (ان کے لیے ان کا اجر ہے ان کے رب کے پاس) یعنی ان کے اعمال کا ثواب ان کو ملے گا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اضافت عہد کے لیے ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کو وہ اجر عطا کردیا جائے گا جس کا ان سے وعدہ فرمایا ہے جو سورة قصص میں مذکور ہے۔ (اُولٰٓءِکَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا) کہ انہیں دہرا اجر دیا جائے گا اس وجہ سے کہ انہوں نے صبر کیا۔
اسباب النزول صفحہ 134 میں حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت انس اور حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ آیت بالا نجاشی کے بارے میں نازل ہوئی (جو حبشہ کا بادشاہ تھا اور وہیں اس نے اسلام قبول کرلیا تھا) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے اور آنحضرت ﷺ کو نجاشی کی موت کی خبر دی آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ چلو اپنے بھائی کی نماز جنازہ پڑھو جو تمہاری اس سر زمین کے علاوہ دوسری جگہ وفات پا گیا۔ آپ بقیع کی طرف روانہ ہوگئے اور جب اس کی نماز جنازہ پڑھانے لگے تو نجاشی کا جنازہ آپ کے سامنے کردیا گیا (یہ بطور معجزہ تھا) آپ نے نماز جنازہ پڑھی اور اس کے لیے استغفار کیا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ اس کے لیے استغفار کرو اس پر منافقین کہتے لگے کہ دیکھو یہ ایک حبشی نصرانی کی نماز جنازہ پڑھا رہے ہیں جس کو انہوں نے دیکھا بھی نہیں اور جو ان کے دین پر بھی نہیں تھا۔ اس پر آیت (وَ اِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ ) آخر تک نازل ہوئی۔
پھر حضرت مجاہد اور ابن جریج اور ابن زید سے صاحب اسباب النزول نے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ان تمام اہل الکتاب کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔ سبب نزول خاص ہوتے ہوئے بھی الفاظ کا عموم تمام اہل کتاب مومنین کو شامل ہے۔ (اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ ) (بےشک اللہ جلدی حساب لینے والا ہے) ابرار اور صالحین کو ان کا بدلہ دیا جائے گا اور کافر اور اشرار کو ان کا بدلہ دے دیا جائے گا یہ دنیاوی زندگی گزرنے میں جو دیر لگ رہی ہے اس کو دیر نہ سمجھنا چاہیے۔
Ayah 3:200اہل ایمان کو چند نصیحتیں
یہ سورة آل عمران کی آخری آیت ہے اس میں اہل ایمان کو چار وصیتیں فرمائیں، جن میں جینے کا طریقہ بتایا ہے، عام حالات میں کیسے رہیں اور کافروں سے مقابلہ ہو تو کیسے لڑیں۔ اجمالی طور پر یہ بات بتادی ہے۔ پہلی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا صبر کرو، صبر کے تینوں معنی ذہن میں لے آئیں (یعنی نیک کاموں پر مضبوطی سے قائم رہنا اور گناہوں سے بچنے کا اہتمام کرتے رہنا اور جو دکھ تکلیف پیش آئے اس کے بارے میں جزع فزع سے باز رہنا) ۔
دوسری نصیحت یہ فرمائی وَ صَابِرُوْا چونکہ یہ بات مفاعلہ ہے اس لیے عربی قواعد کے اعتبار سے دونوں جانب سے اشتراک کو چاہتا ہے، اسی کے پیش نظر حضرات مفسرین نے اس کا مطلب یہ بتایا ہے کہ دشمنوں سے مقابلہ کی نوبت آجائے تو خوب جم کر مقابلہ کرو۔ گو اصبروا میں بھی یہ مفہوم داخل ہے لیکن مستقل طریقہ پر اس کو علیحدہ ذکر فرمایا کیونکہ قتال کے موقع پر صبر کی اہمیت اور فضیلت زیادہ ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں :
وذکرہ بعد الا مر بالصبر العام لانہ اشد فیکون افضل، فالعطف کعطف جبریل علی الملائکۃ والصلوٰۃ الوسطی علی الصلوات۔
تیسری نصیحت یہ فرمائی و رابطوا یہ بھی باب مفاعلہ سے ہے جس کا مادہ ربط ہے اور ربط باندھنے کو اور اپنے نفس کو کسی کام پر جمائے رکھنے کہ کہتے ہیں۔ کفار کے مقابلہ کے لیے گھوڑے باندھ کر رکھنا ان کو کھلانا پلانا چرانا جنگ کے لیے تیار کرنا اس کے لیے بھی لفظ رباط واردہوا ہے۔ جیسا کہ سورة انفال میں ہے۔ (وَ اَعِدُّوْا لَھُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْھِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمْ ) (اور تیاری کرو ان کے لیے جو بھی طاقت تمہارے بس میں ہو اور گھوڑوں سے بھی تیاری کرو جو تمہارے پاس بندھے ہوئے ہیں تم اس کے ذریعہ اللہ کے دشمنوں اسلامی ملک کی سرحد کی حفاظت اور اپنے دشمنوں پر رعب ڈالتے رہو گے) نیز لفظ رباط اسلامی ملکوں کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھی آیا ہے۔ جنگ کے مواقع تو کبھی کبھار آتے ہیں لیکن چونکہ کافروں کی طرف سے حملہ کرنے کا خطرہ ہر وقت لگا رہتا ہے اس لیے سرحدوں پر لشکروں کو پڑاؤ ڈالنے کی ضرورت رہتی ہے۔ اس کی بھی بہت فضیلت ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے صاحب روح المعانی نے لفظ رابطورا کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے۔ ای اقیموا فی الثغور رابطین خیولکم فیھا حابسین لھا مترصدین للغزو مستعدین لہ بالغین فی ذلک المبلغ الاوفی اکثر من اعداء کم (یعنی سرحدوں میں قیام کیے رہو۔ گھوڑوں کو وہاں باندھ کر رکھو اور جہاد کے مواقع کی تاک میں رہو۔ خوب اچھی طرح جنگ کے لیے تیار رہو تمہاری تیاری دشمنوں کی تیاری سے بڑھ کر ہو)
سرحد کی حفاظت کے لیے پڑاؤ ڈال کر رہنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رباط الیوم فی سبیل اللہ خیر من الدنیا وما علیھا۔ (اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی حفاظت میں گزارنا دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سب سے بہتر ہے) ۔ (رواہ البخاری صفحہ 405: ج 1)
حضرت سلمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن اور ایک رات اسلامی سرحد کی حفاظت میں گزارنا ایک ماہ کے روزے رکھنے اور ایک ماہ راتوں رات نماز میں قیام کرنے سے بہتر ہے، اور اگر اسی عمل میں موت آگئی تو اس کا وہ عمل جاری رہے گا جو وہ کرتا تھا۔ اور اس کا رزق اسے ملتا رہے گا، اور وہ قبر میں عذاب دینے والوں سے بےخوف رہے گا۔ (رواہ مسلم صفحہ 142: ج 2)
اور حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں سرحد کی حفاظت کرتے ہوئے وفات پا گیا وہ بڑی گھبراہٹ (یعنی قیامت کے دن کی پریشانی) سے محفوظ رہے گا۔ اور (قبر میں) اسے صبح شام رزق ملتا رہے گا اور اسے برابر مرابط (یعنی رباط کے کام میں لگنے والے) کا ثواب ملتا رہے گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے (قیامت کے دن قبر سے) اٹھائے۔ (رواہ الطبرانی ورواتہ ثقات کمافی الترغیب صفحہ 243: ج 2)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے رباط کے ثواب کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایک رات رباط کے کام میں مشغول رہا مسلمانوں کی حفاظت کرتا رہا تاکہ دشمن حملہ آور نہ ہوجائے تو اسے ان سب لوگوں کا ثواب ملے گا جو اس کے پیچھے روزہ رکھ رہے ہوں اور نماز پڑھ رہے ہوں۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط باسنا دجید کمافی الترغیب صفحہ 245: ج 2)
حضرت عثمان ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن اللہ کی راہ میں رباط کے کام میں خرچ کرنا ان ہزار دنوں سے افضل ہیں جو اس کے علاوہ دوسری عبادات میں خرچ کیے جائیں۔ (رواہ النسائی والترمذی وقال حدیث حسن غریب کما فی الترغیب صفحہ 246: ج 2)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دو آنکھیں ایسی ہیں جنہیں دوزخ کی آگ نہیں پہنچے گی، ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے روئی اور اور دوسری وہ آنکھ جس نے اللہ کی راہ میں (مسلمانوں کی) حفاظت کرتے ہوئے رات گزاری ہو۔ (رواہ الترمذی و قال حدیث حسن غریب کمافی الترغیب صفحہ 248: ج 2)
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں ایسی رات نہ بتادوں جو شب قدر سے بھی افضل ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ وہ رات ہے کہ جس میں کسی نے خوف و خطرہ کی جگہ چوکیداری کی (مسلمانوں کی حفاظت میں رات گزاری) اسے خطرہ ہے کہ شاید اپنے گھر واپس ہی نہ جائے گا (لیکن پھر بھی حراست اور حفاظت کے کام میں لگا ہوا ہے) ۔ (رواہ الحاکم وقال صحیح علی شرط البخاری کمافی الترغیب صفحہ 250: ج 2)
روایات حدیث سے معلوم ہوا کہ عین سرحد پر ہی مسلمانوں کی حفاظت کے لیے رات گزارنا فضیلت عظیمہ کا باعث نہیں بلکہ جس موقع پر بھی شہر میں محلہ میں آبادی سے باہر یا اندر مسلمانوں کی حفاظت میں وقت خرچ کیا جائے وہ سب بہت بڑے اجر وثواب کا باعث ہے حدیث شریف میں بعض اعمال صالحہ میں پابندی سے لگے رہنے کو بھی رباط سے تعبیر فرمایا ہے۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں وہ اعمال نہ بتادوں جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ خطاؤں کو محو فرما دے گا (یعنی بالکل ختم کر دے گا) اور درجات کو بلند فرما دے گا، صحابہ ؓ نے عرض کیا کہ ضرور ارشاد فرمائیں آپ نے فرمایا (وہ کام یہ ہیں):
(1) ناگواریوں کے باوجود وضو کا پانی اچھی طرح اعضاء پر پہنچانا (سردی میں گرمی میں ہر حالت میں خوب اچھی طرح ہر جگہ اعضائے وضو پر پانی پہنچانا اگرچہ نفس کو نا گوار ہو خاص کر سردی کے زمانہ میں ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا۔ (2) مسجدوں کی طرف کثرت کے ساتھ جانا۔ (3) نماز کے بعد نماز کا انتظار کرنا۔
یہ بیان فرما کر آپ نے فرمایا فذلکم الرباط (یہ رباط ہے جس میں نفس کو پابند رکھا جاتا ہے) بعض روایات میں ہے کہ آپ نے ذلکم الرباط دو مرتبہ فرمایا (صحیح مسلم صفحہ 227: ج 1) اور مؤطا میں ہے کہ اس لفظ کو تین بار فرمایا (کمافی شرح النووی)
اوپر جو رابطور کا ترجمہ کیا گیا کہ نیک کاموں میں لگے رہو اسی عموم کے اعتبار سے کیا ہے جس کی طرف اس حدیث میں اشارہ ملتا ہے۔
چوتھی نصیحت فرماتے ہوئے (وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ) فرمایا یہ حکم بار بار جگہ جگہ قرآن میں وارد ہوا ہے اور صفت تقویٰ ہی وہ چیز ہے جو خیر کے ہر کام پر لگاتی اور گناہوں سے بچاتی ہے، یہ صفت جامع الخیرات ہے اس لیے بار بار اس کا اعادہ فرمایا۔
آخر میں فرمایا (لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ) کہ تم یہ کام کرو گے تو کامیاب ہو گے۔ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے جو ایمان اور اعمال صالحہ پر تقویٰ اختیار کرنے پر موقوف ہے۔
فائدہ : حضرت ابن عباس ؓ ایک دن رات کو اپنی خالہ حضرت میمونہ ؓ کے پاس سو گئے (یہ رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ تھیں) اور مقصد یہ تھا کہ رات کو رسول اللہ ﷺ کی نماز تہجد دیکھیں۔ انہوں نے بیان فرمایا کہ جب آپ رات کو اٹھے تو آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی اور (اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّموٰتِ وَالْاَرْضِ ) سے شروع فرما کر ختم سورت تک سورة آل عمران کی آخری آیات کی تلاوت فرمائی (صحیح بخاری صفحہ 257: ج 2 صحیح مسلم صفحہ 261: ج 1) لہٰذا تہجد پڑھنے کے لیے اٹھیں تو ان آیات کو پڑھیں۔
حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ جس نے سورة آل عمران کا آخری حصہ (اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّموٰتِ ) سے کسی رات میں پڑھ لیا تو اسے پوری رات میں قیام کرنے کا ثواب ملے گا۔ (رواہ الدارمی صفحہ 225: ج 2)
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ جس نے سورة آل عمران پڑھ لی وہ مالدار ہے اور ایک روایت میں یوں ہے کہ فقیر آدمی کا خزانہ سورة آل عمران ہے جسے وہ تہجد کی نماز میں پڑھتا ہے۔ (سنن دارمی صفحہ 225: ج 2)
ولقدتم تفسیر سورة آل عمران بفضل اللہ و حسن توفیقہ والحمد للہ اولاً وآخراً وظاھراً و باطناً