Ayah 3:26اللہ تعالیٰ مالک الملک ہے جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے
معالم التنزیل صفحہ 279: ج 1 میں حضرت ابن عباس و حضرت انس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح فرما لیا تو آپ نے اپنی امت کو فارس اور روم کے فتح ہونے کی خوشخبری دی یہ سن کر منافقوں اور یہودیوں نے کہا اجی انہیں فارس اور روم کیسے مل جائیں گے ؟ وہ تو بڑے غلبہ والے اور قوت والے لوگ ہیں کیا محمد کو یہ کافی نہیں کہ مکہ اور مدینہ مل گیا ہے اسی پر بس نہیں کرتے جو آگے بڑھ کر ملک فارس اور ملک روم کے بارے میں بھی لالچ کر رہے ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی اور رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں یوں دعا کریں کہ اے اللہ آپ ملک کے مالک ہیں آپ جسے چاہیں ملک دیں اور جس سے چاہیں ملک چھین لیں اور جسے چاہیں عزت دیں اور جسے چاہیں ذلت دیں، اس میں دعا بھی ہے اور منافقین اور یہودیوں پر تعریض بھی ہے کہ اللہ ملک کا مالک ہے وہ جسے چاہے ملک دے سکتا ہے اور جس سے چاہے چھین سکتا ہے۔ اس نے مدینہ سے یہودیوں کا اقتدار ختم فرمایا اور مکہ معظمہ سے قریش کا اقتدار ختم فرمایا اور دونوں شہر اور ان کے ملحقات رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو عطا فرما دئیے یہ حضرات بےسرو سامان تھے ان کو اصحاب مال اور اصحاب شوکت پر غلبہ دیا اور فتح عطا فرمائی اللہ ہی نے فارس و روم کو اقتدار دیا ہے وہ ان سے چھین کر ان کے ملکوں کا اقتدار رسول اللہ ﷺ اور آپ کی امت کو دے سکتا ہے یہ لوگ فارس اور روم کی شان و شوکت اور کرو فر کو دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کو نہیں دیکھتے جس نے ان کو اقتدار دیا ہے، جو اقتدار دے سکتا ہے وہ اقتدار لے بھی سکتا ہے ملک کا دینا اور چھین لینا عزت دینا اور ذلت دینا سب اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے۔
پھر (بِیَدِکَ الْخَیْرُ ) کہ ساری خیر تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ خیر و شر سب اللہ ہی کے قبضہ میں ہے لیکن ایک کے ذکر پر اکتفا فرمایا دوسری چیز اسی سے سمجھ آگئی اور بعض حضرات نے فرمایا کہ کیونکہ یہ مقام دعا ہے اس لیے خیر پر اکتفاء کیا گیا (اور شر کی نفی بھی نہیں کی) کیونکہ مانگنے والا اسی بات کا ذکر کرتا ہے جس سے اس کا مطلب ہو جب لینا ہے تو یہی کہے گا کہ آپ کے ہاتھ میں خیر ہے اس موقعہ پر یوں کیوں کہے کہ آپ کے ہاتھ میں شر بھی ہے۔ آخر میں فرمایا : (اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) اس میں اجمالی طور پر پوری آیت کے مضمون کو دھرا دیا گیا ہے اور الفاظ کے عموم نے یہ بھی بتادیا کہ اوپر جو چیزیں مذکور ہیں ان کے علاوہ اور تمام چیزوں پر بھی اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے۔
Ayah 3:27قدرت خداوندی کے بعض مظاہرے :
پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بعض مظاہرے جو نظروں کے سامنے ہیں ان کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل فرماتا ہے کبھی رات بڑی کبھی دن بڑا پورے عالم میں اس کے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں۔ کہیں رات دن کے اوقات میں چار پانچ ہی گھنٹے کا فرق ہوتا ہے اور کہیں پندرہ سولہ گھنٹے یا اس سے زیادہ کا بھی فرق ہوجاتا ہے یہ نظام جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے کسی بھی مخلوق کو قدرت نہیں ہے کہ اس کے خلاف کرسکے، نیز فرمایا کہ اللہ تعالیٰ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ مفسرین نے اس کی شرح میں فرمایا ہے کہ نطفہ جو بےجان ہے اس سے زندہ حیوان نکالتا ہے اور زندہ حیوان سے نطفہ نکالتا ہے جو بےجان ہے، اور بعض حضرات نے اس کی مثال بچہ اور انڈے سے دی ہے کہ چوزہ کو انڈے سے اور انڈے کو پرندے سے نکالتا ہے، حضرت حسن اور عطاء نے اس کا ایک اور معنی بتایا اور وہ یہ کہ مومن کو کافر سے اور کافر کو مومن سے نکالتا ہے یعنی مومن کی اولاد کافر اور کافر کی اولاد مومن ہوتی ہے۔ مومن زندہ ہے اور کافر مردہ ہے۔
قَالَ تَعَالٰی (اَوَ مَنْ کَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰہُ وَ جَعَلْنَا لَہٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِہٖ فِی النَّاسِ کَمنْ مَّثَلُہٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْھَا) آخر میں فرمایا ! (وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) رازق حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے اور کمی بیشی کرنا بھی اس کے قبضہ میں ہے۔ (اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ )
Ayah 3:28اہل ایمان کو حکم کہ کافروں سے دوستی نہ کریں
اس آیت شریفہ میں اہل ایمان کو اس بات سے منع فرمایا کہ مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنائیں اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی شخص ایسا کرے گا یعنی مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنائے گا اللہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ معالم التنزیل صفحہ 291: ج 1 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ مذکورہ بالا آیت عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی، یہ لوگ ظاہر میں مومن ہونے کا دعویٰ کرتے تھے اور دل سے کافر تھے۔ یہودیوں سے اور مشرکوں سے دوستی رکھتے تھے اور ان کو مسلمانوں کی خبریں پہنچاتے تھے اور یہ امید باندھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں یہودی اور مشرکین غلبہ پالیں گے اور فتح یاب ہوجائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور مومنین کو منع فرما دیا کہ ان لوگوں کی طرح عمل نہ کریں اور کافروں کی دوستی سے پرہیز کریں اپنی دوستی صرف مسلمانوں سے رکھیں۔
حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ چند یہودی بعض انصار سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا اندرونی مقصد یہ تھا کہ ان کو دین اسلام سے پھیر دیں بعض صحابہ ؓ نے ان انصاریوں کو ان یہودیوں کی دوستی سے منع کیا ان لوگوں نے نہ مانا اور ان کے ساتھ گھلنا ملنا جاری رکھا۔ اللہ جل شانہ نے آیت بالا نازل فرمائی اور دشمنان دین کی دوستی سے منع فرما دیا۔ موالات کفار (کافروں کی دوستی) کی ممانعت اس آیت کے علاوہ دیگر آیات میں بھی وارد ہوئی ہے۔ سورة ممتحنہ میں فرمایا :
( یٰٓاََیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِِلَیْہِمْ بالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَا جَآءَکُمْ مِّنَ الْحَقِّ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِِیَّاکُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰہِ رَبِّکُمْ اِِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِہَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ تُسِرُّوْنَ اِِلَیْہِمْ بالْمَوَدَّۃِ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَا اَخْفَیْتُمْ وَمَا اَعْلَنتُمْ وَمَنْ یَّفْعَلْہُ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآء السَّبِیْلِ اِِنْ یَّثْقَفُوکُمْ یَکُوْنُوْا لَکُمْ اَعْدَآءً وَّیَبْسُطُوْٓا اِِلَیْکُمْ اَیْدِیَہُمْ وَاَلْسِنَتَہُمْ بالسُّوْٓءِ وَوَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ ) ” اے ایمان والو ! مت بناؤ میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست تم ان کی طرف دوستی کے پیغامات بھیجتے ہو حالانکہ انہوں نے اس کے ساتھ کفر کیا جو تمہارے پاس حق آیا وہ نکالتے ہیں رسول کو اور تم کو اس وجہ سے کہ تم ایمان لائے اللہ کے ساتھ جو تمہارا رب ہے اگر تم نکلے ہو میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے اور میری رضا کی تلاش میں، تم چپکے سے ان کی طرف دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم نے پوشیدہ کیا اور جو کچھ ظاہر کیا اور تم میں سے جو شخص ایسا کام کرے گا تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ اگر وہ تم کو پالیں تو تمہارے دشمن ہوں گے اور تمہاری طرف اپنے ہاتھوں اور زبانوں کو بڑھا دیں گے برائی کے ساتھ، اور ان کی آرزو ہے کہ کاش تم لوگ کافر ہوجاؤ۔
کافروں سے محبت کرنے کے نتائج :
ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ کافروں سے موالات اور ان سے دوستی رکھنا قطعاً اور سخت ممنوع ہے آجکل مسلمانوں کو اس ممانعت کی طرف بالکل توجہ نہیں ہے کافروں سے دوستی ہے اور اپنوں سے بیزاری ہے۔ دنیا کا مفاد پیش نظر ہے اپنے مفاد کو باقی رکھنے کے لیے کافروں سے دوستی کرتے ہیں اور مسلمانوں کی دوستی کا خیال تک نہیں آتا۔ مسلمان غیر قوموں کے مخبر بھی بن جاتے ہیں مسلمانوں کے ملکوں کی خبریں ان کے دشمنوں کو پہنچاتے ہیں۔ آپس میں بگاڑ ہے اور کافروں سے جوڑ ہے، اس افسوس ناک صورت حال نے مسلمانوں کے ملکوں کو کافروں کی حکومتوں کا دم چھلہ بنا رکھا ہے۔ کوئی ملک کافروں کی کسی حکومت کا سہارا لے کر جی رہا ہے اور کوئی ان کی کسی دوسری حکومت کا خاص الخاص بنا ہوا ہے، مسلمان مقالے لکھتے ہیں، ڈاکٹریٹ کرتے ہیں، دشمن ان سے ایسے مضامین لکھاتے ہیں جو مسلمانوں کے اندرونی حالات اور معاملات اور ان کے ارادوں اور اداروں کی خبروں پر مشتمل ہوں، یہ لوگ کافروں کے دوست ہیں اسلام اور مسلمان کی دوستی ان کے پیش نظر نہیں، مسلمانوں کے بعض ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم اور جفا کا معاملہ ہوتا ہے ان کو اجنبی کہہ کر ممالک سے خارج کردیا جاتا ہے اور کافروں کو المواطن کہہ کر گلے لگایا جاتا ہے۔
قرآن مجید میں کافروں کی موالات اور دوستی سے جو منع فرمایا یہ بہت اہم بات ہے لوگ اس کو روا داری کے خلاف سمجھتے ہیں، روا داری اور چیز ہے اور موالات یعنی دل سے دوستی کرنا اور چیز ہے۔ دل سے جب دوستی ہوتی ہے تو مسلمانوں کی خبریں بھی دشمنوں کو پہنچائی جاتی ہیں اور مسلمان حکومتوں کے اندر کے پروگرام بھی دشمن کو بتا دیئے جاتے ہیں، ایمان کا تقاضا ہے کہ قلبی محبت صرف مسلمانوں سے ہو کافروں سے نہ ہو، کہتے ہیں فلاں صاحب نمازی ہیں، نمازی تو ہیں لیکن اندر سے دشمنوں کے ہاتھ بکے ہوئے ہیں ان کو اسلام کا یہ حکم ماننا گوارا نہیں وہ کافروں سے موالات اور محبت نہ کریں۔
مسلمانوں میں طرح طرح کی عصبیتیں ہیں آپس میں موالات نہیں رہی کہیں صوبائی عصبیت ہے کہیں لسانی عصبیت، اور کہیں عرب و عجم کی عصبیت ہے۔ ایمانی رشتوں کو چھوڑ کر غیر ایمانی تقاضوں کو پورا کر رہے ہیں۔ اس میں کافروں سے بھی موالات کرنی پڑتی ہے اور یہ عصبیتیں کافروں ہی نے سمجھائی ہیں۔ بعض ملکوں میں تو کافروں سے دوستی کا یہ حال ہے کہ لوگ دشمنوں کے مندر تک بنوا دیتے ہیں اور ان کی دوستی میں نمازیں تک چھوڑ دیتے ہیں اور ان کے مذہبی تہواروں میں شرکت بھی کرتے ہیں اور ہدیے بھی دیتے ہیں۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کی اپنی ذاتی کوئی حیثیت دنیا میں باقی نہیں رکھی، کافروں سے یہ امید کرنا کہ وہ ہمیں فائدہ پہنچا دیں گے غلط خیال ہے جو بظاہر ان سے فائدہ پہنچتا ہے اس کی آڑ میں نقصان ہی پوشیدہ ہوتا ہے۔ سورة آل عمران کی آیت (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ لَا یَاْلُوْنَکُمْ خَبَالًا) میں صاف بتادیا کہ کافروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ اور یہ بھی واضح طور پر بتادیا گیا کہ وہ لوگ تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کوتاہی نہ کریں گے، وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں پھوٹ پڑی رہے ان کے ممالک ہماری طرف جھکے رہیں اس طرح ہمارے محتاج بھی رہیں اور ہمارے خلاف کچھ کر بھی نہ سکیں اور ہمیں ان کے اندرونی راز بھی معلوم ہوتے رہیں۔
آیت میں جو لفظ (مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) فرمایا اس میں اس پر خاص تنبیہ ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی نہ کریں۔ اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ مسلمانوں کو نہ چھوڑے ان سے بھی دوستی رکھے اور کافروں سے بھی۔ کیونکہ مقصود کافروں کی دوستی سے منع کرنا ہے اور حقیقت میں بات یہ ہے کہ کافروں سے قلبی دوستی جبھی ہوسکتی ہے جبکہ مسلمانوں کی دوستی کو نظر انداز کردیا جائے۔ خواہ مستقل طور پر مسلمانوں سے بےتعلقی اختیار کی جائے خواہ عارضی طور پر ہر حال میں کافروں سے قلبی محبت ہوگی تو وہ ضرور مسلمانوں سے کسی نہ کسی درجہ میں تعلق کم کرنے یا تعلق توڑنے پر مجبور کرے گی۔
کافروں سے موالات کرنے والوں کے لیے و عید شدید :
آیت شریفہ میں کافروں کی موالات سے سختی کے ساتھ منع فرمایا اور ان سے دوستی کرنے والوں کے حق میں ارشاد فرمایا کہ (وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْءٍ ) کہ جو شخص ایسا کرے گا تو اللہ کی دوستی یا اللہ کے دین کا اس سے کوئی بھی تعلق نہیں۔
قال صاحب الروح ص 121: ج 2 و الکلام علی حذف مضاف ای من ولایتہ او من دینہ والظرف الاول حال من (شیء) والثانی خبر لیس۔ و تنوین (شیء) للتحقیر ای لیس فی شیء یصح ان یطلق علیہ اسم الولایۃ او الدین۔
موالات کی ایک صورت مستثنیٰ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً ) یعنی اسی صورت میں ظاہری دوستی کی اجازت ہے جبکہ ان سے کسی قسم کا ضرر پہنچنے کا واقعی اندیشہ ہو، کوئی مسلمان کافروں میں پھنس جائے۔ مقتول ہونے کا یا کسی عضو کے تلف ہونے کا واقعی اندیشہ ہو اور کافر زبردستی کریں کہ تو ہمارے دین کے مطابق نہ بولا تو تجھے مار ڈالیں گے تو صرف ظاہری طور پر زبان سے (نہ کہ دل سے) کوئی کلمہ ایسا کہہ دے جس سے جان بچ جائے تو اس کی گنجائش ہے۔
پھر فرمایا (وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ وَ اِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُ ) اور اللہ تم کو اپنے سے ڈراتا ہے اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ لہٰذا ہر عمل میں اس کو سامنے رکھیں اللہ کی بار گاہ میں پیش ہونا ہے یہ ہمیشہ پیش نظر رہے اگر اس پر عمل کریں گے تو گناہوں سے بچ سکیں گے گناہوں میں موالات کفار بھی شامل ہے۔
مواسات اور مدارات کس حد تک جائز ہے :
واضح رہے کہ آیات قرآنیہ میں کافروں سے قلبی دوستی کی ممانعت فرمائی ہے مواسات اور مدارات کی ممانعت نہیں ہے خوش خلقی سے پیش آنا مہمانی کے طور پر کچھ کھلانا پلانا۔ دفتروں میں ان کے ساتھ ملازمتیں کرنا، تجارتی معاملات کرنا اس کی ممانعت نہیں ہے۔ البتہ جو کفار دارالحرب کے ہوں اور مسلمانوں سے برسر پیکار ہوں ان سے کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے اور معاملات میں بھی شرعی اصول کے موافق جائز ناجائز کا خیال رکھا جائے۔ حربی کافروں کے ہاتھ اسلحہ فروخت کرنا ممنوع ہے کافروں کو ملازم رکھنا اور ان کے اداروں میں ملازم ہونا یہ بھی جائز ہے۔ البتہ دلی دوستی اور محبت کسی کافر کے ساتھ کسی حال میں بھی جائز نہیں۔ قرآن کریم نے کافروں سے جو قلبی دوستی رکھنے سے منع فرمایا ہے یہ کوئی اشکال کی بات نہیں ہے۔ خود کافر بھی اسی پر عامل ہیں وہ بھی مسلمانوں سے قلبی دوستی نہیں رکھتے جب تک کفر اور کافر سے قلبی نفرت نہ ہوگی اسلامی احکام پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکتا۔
کافروں نے ممالک میں یک جہتی کے نام سے تحریک چلا رکھی ہے۔ اس طرح سے مسلمانوں کو ان کے دین میں کچا کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو اپنی جماعت میں مدغم کرنے کی کوشش میں ہیں اور ان کی کوشش انہیں مسلمانوں میں کامیاب ہوتی ہے جنہیں کفر اور کافر سے نفرت نہیں ہے بعض مسلمان کافروں سے جھینپتے ہیں کہ قرآن میں کافروں سے موالات کرنے کو منع فرمایا ہے اس میں جھینپنے کی کوئی بات نہیں کافر اس پر اعتراض کریں تو ان سے کہیں کہ تم خود بتاؤ کیا تم ہمیں دل سے چاہتے ہو اور ہمارے دین کو اچھا سمجھتے ہو ؟ کیا ہمارا وجود تمہیں گوارا ہے ؟ وہ اگر صحیح جواب دیں گے تو یہی کہیں گے کہ ہم تمہیں دل سے نہیں چاہتے لہٰذا ان سے کہیں کہ جو تمہارا حال ہے وہی ہمارا طریقہ ہے۔
روافض کا تقیہ اور اس کی تردید :
روافض کے دین میں تقیہ کی بہت اہمیت ہے یہ ان کے دین کا بہت بڑا رکن ہے لا ایمان لمن لا تقیۃ لہ ان کا مشہور عقیدہ ہے اور اس پر ان کا عمل بھی ہے انہوں نے اپنے تقیہ کے لیے آیت کے الفاظ (اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً ) سے استدلال کیا ہے اول یہ سمجھ لیں کہ روافض کو تقیہ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ بات یہ ہے کہ یہودیوں نے جب روافض کو سیدنا محمد رسول اللہ خاتم النّبیین ﷺ کے دین کے علاوہ دوسرا دین بنا کردیا تو اس میں یہ بھی تھا کہ حضرت ابوبکر وعمر اور حضرت عثمان ؓ نے خلافت غصب کرلی تھی اور حضرت علی ؓ خلیفہ بلا فصل تھے، اس پر مسلمانوں کی طرف سے یہ سوال اٹھایا گیا کہ اگر وہ خلیفہ بلا فصل تھے تو انہوں نے حق کا اعلان کیوں نہیں کیا اور 26 سال تک ان حضرات کے مشوروں میں کیوں شریک رہے ؟ اور جہادوں میں ان کے ساتھ کیوں شرکت کی اور ان کے پیچھے جمعہ اور عیدین کیوں پڑھتے رہے۔ اور روزانہ جماعتوں میں کیوں حاضر رہے ؟ اس پر روافض کو ان کے استادوں یعنی یہودیوں نے یہ نکتہ سجھا دیا کہ حضرت علی ؓ نے تقیہ کرلیا تھا، یہ تقیہ کا ایسا ہتھیار دشمنوں نے ان کے ہاتھ میں دیا کہ اس کو انہوں نے دین کا بہت بڑا ستون بنا لیا۔ ہر بات میں تقیہ کے ذریعہ گرفت میں آنے سے بچ جاتے ہیں۔ اور اپنے عقیدہ کے خلاف قصداً وارادۃً بہت سی باتیں کہہ جاتے ہیں اور اس کو بہت بڑی نیکی سمجھتے ہیں۔ کہاں حضرت علی المرتضیٰ شیر خدا جری اور بہادر ببانگ دہل حق کا اعلان کرنے والے اور کہاں روافض کا تقیہ جو عقیدہ کے خلاف کہہ دینے اور مخاطب کو دھوکہ دینے پر مبنی ہے، حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو خلفاء ثلاثہ سے دبنے کی کوئی ضرورت نہ تھی وہ حق گو، حق بین، حق شناس صحابی (t) تھے۔ باطل سے دبنا اور حق کے خلاف زبان نہ کھولنا اہل حق کا شیوہ نہیں۔ بزعم روافض حضرت علی ؓ خلیفہ بلا فصل بھی تھے اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر ؓ سے دب بھی گئے خاتم النّبیین ﷺ کا خلیفہ مخلوق سے دب جائے یہ بات اہل ایمان کی سمجھ میں آنے والی نہیں۔
اب دوسرا رخ لیجیے وہ یہ کہ حضرت حسین ؓ جب روافض کی دعوت پر کوفہ پہنچے اور وہاں دیکھا کہ ان کے جھوٹے حامی ان سے الگ ہوگئے اور ان کے ساتھ اپنے ہی خاص لوگ مختصر سی تعداد میں رہ گئے تو انہوں نے اظہار کے لیے جان دینا اور اپنے اہل بیت کو قتل کروانا مناسب جانا، اگر تقیہ کوئی دین کا کام تھا تو ان کو بطور تقیہ یزید اور ابن زیاد کی بات مان لینا چاہیے تھا، معلوم ہوا کہ روافض کا تقیہ ان کے آئمہ سے بھی ثابت نہیں ہے یہ ایک تراشیدہ عقیدہ ہے اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں قرآن سے اس کا کوئی ثبوت نہیں اور جن کو شیعہ اپنا امام مانتے ہیں ان سے بھی ثابت نہیں اور جو روایات روافض نے تقیہ کے بارے میں اماموں کی طرف منسوب کی ہیں وہ سب جعلی ہیں، شیعہ مؤلفین نے تراشی ہیں، حضرت علی مرتضیٰ ؓ اور دیگر آئمہ نے (بقول روافض) تقیہ خوف کی وجہ سے کیا ہو یا بلا خوف، یہ خلیفہ برحق کی شان کے خلاف ہے۔ اندر کچھ ہو اور باہر کچھ یہ امام کی شان کے خلاف ہے۔ روافض کے نزدیک خلیفہ اول کا جو حال ہے وہی بعد کے اماموں کا بھی حال ہے ان کے نزدیک وہ سب تقیہ کرنے والے تھے (العیاذ باللہ) روافض کا جو تقیہ ہے اس کا قرآن کریم سے کچھ بھی تعلق نہیں۔
(اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً ) میں یہ بتایا ہے کہ کوئی مسلمان کافروں میں پھنس جائے، مثلاً محبوس ہو یا محبوسوں کی طرح سے ہو (جیسے اندھے اپاہج، لنگڑے لولے اور بیمار) اور کافر کفر کلمہ کہلوانے پر کسی ایسی تکلیف دینے کی دھمکی دیں جو ناقابل برداشت ہو اور وہ جو دھمکی دے رہے ہیں اس پر وہ قادر بھی ہوں تو زبان سے کلمہ کفر کے کہنے کی اجازت ہے۔ جیسا کہ سورة نحل کی آیت (اِلَّا مَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہٗ مُطْمَءِنٌّ بالْاِیْمَانِ ) میں اجازت دی ہے۔ لیکن فضیلت اسی میں ہے کہ جان دیدے اور تکلیف اٹھا لے اور کفر کا کلمہ زبان پر نہ لائے اور روافض کو قرآن مجید سے استدلال کرنے کا حق کیا ہے وہ تو اسے محرف مانتے ہیں اور صحیفہ عثمانی مانتے ہیں، جو قرآن ہمارے پاس ہے جس کو ہم اللہ کی کتاب مانتے ہیں اور جس کے بارے میں محفوظ غیر محرف ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں اس سے منکرین قرآن کو استدلال کرنے کا کیا حق ہے۔ ممکن ہے کوئی رافضی یوں کہے کہ ہم تمہیں الزام دینے کے لیے تمہارے قرآن سے استدلال کرتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ اپنی جہالت سے اپنے خود تراشیدہ عقیدہ کے لیے آیت کا مطلب جو تم نے تجویز کیا ہے ہم پر حجت نہیں، پھر تمہیں تو پھر بھی تقیہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے اس کی دلیل کے لیے کم از کم حضرت علی ؓ کا ایک ارشاد ہی ثابت کردیجیے جو صحیح سند سے ہو۔ روافض کا بنایا ہوا نہ ہو۔
Ayah 3:29اللہ سب جانتا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
پہلے تو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ کو سب کچھ معلوم ہے دلوں کا حال چھپاؤ یا ظاہر کرو وہ سب کو جانتا ہے، جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔ اسے وہ سب معلوم ہے اور اسے ہر چیز پر قدرت بھی ہے۔ جس ذات پاک کے علم وقدرت سے کچھ بھی باہر نہیں اس سے ڈرنا اور اس کے احکام کی پابندی کرنا لازم ہے۔
Ayah 3:30قیامت کے دن کی پریشانی :
پھر قیامت کے دن کا ایک منظر بتایا اور وہ یہ کہ دنیا میں جس شخص نے جو بھی عمل کیا ہوگا خیر ہو یا شر وہ اسے وہاں اپنے سامنے حاضر کیا ہوا پالے گا انسان کی یہ تمنا ہوگی کہ کاش یہ دن نہ ہوتا جس میں اعمال پیش ہوئے، میرے اور اس دن کے درمیان بہت بڑی مسافت حائل ہوتی، لہٰذا اس دن سے پہلے ہی ہر شخص کو اپنے اعمال درست کرلینا اور اعمال صالحہ کی فکر کرلینا لازم ہے۔ برے عمل کا برا انجام ہے پہلی آیت میں (وَ یُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ) فرمایا پھر اس آیت میں بھی اس کا اعادہ فرما کر مکرر نصیحت فرما دی۔
Ayahs 3:31–35اگر اللہ سے محبت ہے تو رسول اللہ کا اتباع کرو
ان دونوں آیتوں میں رسول اللہ ﷺ کے اتباع اور اطاعت کا حکم دیا ہے، اطاعت فرمانبر داری اور حکم ماننے کو کہتے ہیں اور اتباع اپنے مقتدا کے پیچھے چلنے اور اس کی راہ اختیار کرنے کو کہتے ہیں۔ جتنی بھی مذہبی قومیں ہیں وہ اللہ کو مانتی ہیں (اگرچہ ماننے کے طریقے مختلف ہیں) اور انہیں یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہم اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خاتم الانبیاء ﷺ سے اپنی کتاب میں یہ اعلان کروا دیا کہ محبت صرف دعویٰ کرنے کی چیز نہیں اس کا ایک معیار ہے اور وہ محبت معتبر ہے جو محبوب کی مرضی کے مطابق ہو اس محبت کا معیار جو اللہ کے نزدیک معتبر ہے یہ ہے کہ حضرت خاتم النّبیین ﷺ کا اتباع کیا جائے آپ نے جو کچھ بتایا ہے اور جو کچھ کرکے دکھایا اسے اختیار کریں اور اسے عمل میں لائیں، اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کو بھی اس سے محبت ہوگی۔ اور یہ محبت دنیا اور آخرت میں خیر و خوبی کا ذریعہ بنے گی۔ اتباع کے ساتھ اطاعت کا بھی حکم دیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، ان دونوں اطاعتوں سے اعراض کرنے والے کو کافر قرار دیا اور فرمایا کہ اگر وہ اعراض کریں تو اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا، فرمانبر داری عقائد میں بھی ہے اور ارکان دین میں بھی، فرائض میں بھی اور واجبات میں بھی، عقائد اسلامیہ سے اعراض کرنا تو کفر ہے ہی۔ فرائض کی فرضیت کا انکار بھی کفر ہے، اگر کسی کے عقائد صحیح ہوں اور فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہو اور فرائض کو مانتا ہو تو ترک فرائض کی وجہ سے اس کا کفر اعتقادی نہیں بلکہ عملی ہوگا۔
محبت کے دعویداروں کو تنبیہ :
جو لوگ دین اسلام قبول نہیں کرتے اور اللہ سے محبت کرنے کے دعویدار ہیں ان کے لیے تو آیت شریفہ میں تنبیہ ہے ہی کہ جب تک محبوب رب العالمین خاتم النّبیین ﷺ کی دعوت پر لبیک نہ کہو گے ان کی دعوت اور ان کا دین قبول نہ کرو گے اللہ سے محبت کرنے والوں میں اللہ کے نزدیک شمار نہ ہو گے اور تمہاری محبت اور محبت کا دعویٰ سب ضائع ہے بیکار ہے اور اکارت ہے، ساتھ ہی ان مسلمانوں کو بھی تنبیہ ہے جو اللہ سے محبت کے بھی دعویدار ہیں اور نبی کریم ﷺ کی محبت کا بھی بڑھ چڑھ کر دعوی کرتے ہیں لیکن نبی اکرم ﷺ کے اتباع اور اطاعت سے دور ہیں کاروبار بھی حرام ہے۔ پھر بھی اللہ و رسول سے محبت ہے داڑھی منڈی ہوئی ہے پھر بھی محبت کا دعویٰ ہے۔ لباس نصرانیوں کا ہے پھر بھی مدعیان محبت ہیں ملکوں کو کافروں کے قوانین کے مطابق چلاتے ہیں پھر بھی محبت کرنے والے ہیں، یہ محبت نہیں محبت کا دھوکہ ہے اور جھوٹا دعویٰ ہے۔
منکرین حدیث کی تردید :
ساٹھ ستر سال سے ایک گروہ ایسا نکلا ہے جو عمل بالقرآن کا مدعی ہے یہ لوگ اطاعت رسول اور اتباع رسول کو دین کا جزو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ قرآن اللہ کی کتاب ہے جو رسول کے ذریعہ آئی ہے اور رسول کی حیثیت ایک ڈاکیہ کی ہے کتاب کو ہم سمجھ لیں گے جیسے مکتوب الیہ اپنے نام کا خط خود پڑھ لیتا ہے رسول کو بیچ میں ڈالنے اور اس کے سمجھانے اور تفسیر کرنے کی کیا ضرورت ؟ العیاذ باللہ یہ لوگ ان تمام آیات کے منکر ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ کے اتباع اور اطاعت کا حکم دیا گیا ہے سورة نحل میں فرمایا (وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ) اور ہم نے آپ کی طرف ذکر کو نازل فرمایا تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان فرمائیں جو ان کی طرف نازل کیا گیا اور تاکہ لوگ فکر کریں۔ اور سورة نساء میں فرمایا (اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰیک اللّٰہُ ) (بےشک ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی تاکہ آپ لوگوں کے درمیان فیصلے کریں اس چیز کے ساتھ جو اللہ نے آپ کو سمجھایا) معلوم ہوا کہ کتاب اللہ کا بیان کرنا بھی رسول اللہ ﷺ کا کام ہے اس سے ہٹ کر جو سمجھنے کا ارادہ کرے گا وہ اللہ کی کتاب سے دور ہوگا، عامل بالقرآن نہیں ہوگا۔ بلکہ اپنے نفس کی ذاتی رائے پر چلنے والا ہوگا۔ سورة اعراف میں رسول اللہ ﷺ کی صفت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا، (یُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبآءِثَ ) کہ وہ لوگوں کے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیتے ہیں اور خبیث چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں، معلوم ہوا کہ تحریم و تحلیل کا کام بھی رسول اللہ ﷺ کو سپرد کیے ہوئے کاموں میں سے ہے۔
حدیث کو چھوڑ کر عمل بالقرآن کے مدعی درحقیقت نفس کی آزادی چاہتے ہیں اور اتباع رسول اور اطاعت رسول کے انکار کی لپیٹ میں انکار قرآن بھی مضمر ہے اور یہ لوگ عجمی سازش کا شکار ہیں اپنے عجمی استادوں یعنی یورپ اور امریکہ کے یہود و نصاریٰ کے اشاروں سے گمراہی اور زندقہ پھیلا رہے ہیں اگر قرآن کے ماننے والے ہوتے تو بحکم قرآن رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور اتباع کو لازم قرار دیتے اور احادیث شریفہ پر عمل کرنے کی تلقین کرتے۔
قرآن کے بارے میں قرآن ہی کا بیان معتبر ہے قرآن نے تو یہ نہیں فرمایا کہ میری حیثیت ایک ذاتی خط کی ہے قرآن نے تو اپنے بارے میں (ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَ الْفُرْقَانِ ) فرمایا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ سارے انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا۔ اور چونکہ عقل انسانی ہدایت پانے کے لیے نا کافی ہے (اور اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کتاب نازل فرمائی) اور اللہ جل شانہٗ نے رسول اللہ ﷺ کو مبین قرآن اور مفسر قرآن بنا کر بھیجا اور آپ کے اتباع کا حکم دیا اس لیے آپ کی تشریحات وتعلیمات کے مطابق عمل پیرا ہونا لازم ہے اگر کتاب اللہ کے معانی و مفاہیم ہر شخص کی سمجھ کے مطابق تسلیم کرلیے جائیں تو ہر ہر آیت کے معانی سینکڑوں طرح کے تجویز کردیئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب عقلمندی کے جھوٹے دعویداروں کا کھلونا بن کر رہ جائے گی۔ (اعاذنا اللّٰہ خرافاتھا)
ان جاہلوں کو اپنے خیال میں قرآن سے عقیدت ہے لیکن قرآن کے نازل فرمانے والے کو اپنے اعتراضات کا نشانہ بنانے میں ذرا بھی باک محسوس نہیں کرتے وہ خالق ومالک ہے اسے سب کچھ اختیار ہے۔ اگر اس نے کتاب نازل فرما کر رسول اللہ ﷺ کے ذمہ اس کی تشریح و تفسیر عائد فرما دی اور بہت سے احکام آپ کی زبانی بیان کروا دیئے تو اس سے ناگواری کیوں ہے ؟
Ayah 3:36حضرت مریم کی والدہ کی نذر، اور ان کی ولادت اور کفالت کا تذکرہ
ان آیات میں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم اور حضرت نوح ( علیہ السلام) کو اور حضرت ابراہیم اور جناب عمران کی آل و اولاد کو سارے جہانوں پر فضیلت دی اور ان کو منتخب فرما لیا اور یہ بھی فرمایا کہ یہ بعض بعض کی اولاد ہیں آدم (علیہ السلام) تو سب کے باپ ہیں ہی پھر نوح (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی آل اور عمران اور آل عمران سب ہی نسل در نسل آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں، اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو نبوت سے سر فراز فرمایا حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی پیغمبر بنایا اور آئندہ جتنے بھی نبی آئے وہ سب انہیں کی نسل میں سے تھے۔ جن میں خاتم النّبیین سیدنا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ بھی ہیں اور آل عمران بھی ان ہی کی نسل میں سے تھے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت مریم [ کے بیٹے تھے۔ اور یہ عمران کی بیٹی تھیں یہ عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد کے علاوہ دوسرے عمران ہیں۔ معالم التنزیل صفحہ 246: ج 1 میں لکھا ہے کہ ان دونوں کے درمیان 1800 سال کا فاصلہ تھا۔ پھر مریم [ کی والدہ عمران کی بیوی کی نذر کا تذکرہ فرمایا انہوں نے نذر مانی تھی کہ اے میرے رب میرے پیٹ میں جو بچہ ہے میں نے اس کو آزاد چھوڑنے کی منت مان لی اور آزاد چھوڑنے کا مطلب یہ تھا کہ اس کو صرف بیت المقدس کی خدمت کے لیے فارغ رکھوں گی دنیا کا کوئی کام نہیں لوں گی۔ مسجد کی خدمت کرنے والے مرد ہوتے تھے اب ہوا یہ کہ جس حمل کے بچہ کو آزاد چھوڑنے کی منت مانی تھی جب اس حمل کی پیدائش ہوئی تو لڑکا نہ تھا بلکہ لڑکی تھی۔ عمران کی بیوی افسوس کرنے لگیں اور کہنے لگیں کہ اے میرے رب میرے تو لڑکی پیدا ہوگئی۔ لڑکی بیت المقدس کی خدمت گزار کیسے بنے گی۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہی تھا کہ اس نے کیا جنا لیکن انہوں نے بطور حسرت کے اللہ پاک سے یوں خطاب کیا۔ (رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثٰی) اور اپنی حسرت کو دوسرے الفاظ میں یوں دہرایا۔ (وَ لَیْسَ الذَّکَرُ کَالْاُنْثٰی) کہ لڑکا لڑکی کی طرح سے نہیں ہے۔ اس عبارت کو بعض علماء نے مبالغۃً قلب پر محمول کیا ہے اور علامہ بیضاوی نے اول تو دونوں لاعہد کے لیے بنائے ہیں پھر یہ تفسیر کی ہے۔ اَیْ وَلَیْسَ الذَّکَرُ الَّذِیْ طلبت کالانثیٰ التی وھبت اور پھر لکھا ہے۔ و یجوزان یکون من قولھا بمعنی و لیس الذکر کالانثیٰ سیئا فیما نذرت فیکون الام للجنسمطلب یہ ہے کہ لڑکا لڑکی فی الحقیقت برابر نہیں ہیں۔ لڑکی وہ کام نہیں کرسکتی جو لڑکا کرسکتا ہے۔
حضرت حکیم الامت تھا نوی قدس سرہ نے فرمایا کہ ولیس الذکر کالانثی حضرت مریم کی والدہ کا قول نہیں ہے بلکہ یہ جملہ معترضہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو لڑکی انہوں نے جنی ہے لڑکا اس لڑکی کے برابر نہیں ہوسکتا تھا جو انہوں نے طلب کیا تھا بلکہ یہ لڑکی ہی افضل ہے کیونکہ ان کے کمالات و برکات عجیب و غریب ہوں گے یہ معنی لینے سے تشبیہ مقلوب کا احتمال ختم ہوجاتا ہے۔
عمران کی بیوی نے لڑکا پیدا نہ ہونے کا افسوس ظاہر کرنے کے بعد کہا (وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُھَا مَرْیَمَ ) کہ میں نے اس بچی کا نام مریم رکھ دیا پھر یوں کہا (وَ اِنِّیْٓ اُعِیْذُھَابِکَ وَ ذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ) (کہ میں اس لڑکی اور اس ذریت کو تیری پناہ میں دیتی ہوں شیطان مردود سے) صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے شیطان اس کو چھوتا ہے جس وقت پیدا ہوتا ہے۔ سو وہ اس کے چھونے سے چیختا ہے سوائے مریم اور اس کے بیٹے کے (کہ وہ ان کو نہیں چھو سکا) بعض روایات میں ہے کہ شیطان اپنی انگلی سے کچو کا دیتا ہے اسی لیے بچہ چیخ پڑتا ہے سوائے مریم اور ان کے بیٹے کے کہ وہ ان دونوں تک نہیں پہنچ سکا اور ایک روایت میں ہے کہ وہ پردے میں انگلی مار کر چلا گیا۔ (روح المعانی ص 137: ج 1)
Ayah 3:37حضرت مریم کا نشوونما اور حضرت زکریا کی کفالت :
حضرت مریم کی والدہ کا قول ذکر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَتَقَبَّلَھَا رَبُّھَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْبَتَھَا نَبَاتًا حَسَنًا وَّ کَفَّلَھَا زَکَرِیَّا) کہ اس کے رب نے اس بچی کو قبول فرما لیا، نذر کو ہدیہ سے تشبیہ دی۔ اور ان کی نذر سے راضی ہونے کو قبول کرنے سے تعبیر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور بہت خوبی کے ساتھ قبول فرمایا۔ علماء تفسیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب حضرت مریم پیدا ہوگئیں تو ان کی والدہ جن کا نام حنہ تھا ان کو کپڑے میں لپیٹ کر بیت المقدس میں لے گئیں اور وہاں جو عبادت میں مشغول رہنے والے حضرات مقیم تھے ان کے سامنے رکھ دیا (اور پوری کیفیت بتادی کہ میری یہ نذر تھی اور لڑکی پیدا ہوئی ہے) زمانہ حمل میں لڑکی کے والد جناب عمران کی وفات ہوچکی تھی وہ وہاں کے امام بھی تھے۔ وہ ہوتے تو پرورش کے زیادہ مستحق تھے۔ مریم کی والدہ نے مریم (عابدہ) نام رکھا جس میں یہ اشارہ ہے کہ میں اپنی نذر پر اب بھی قائم ہوں۔ خدمت کے لیے نہیں تو عبادت ہی کے لیے سہی اسی نذر کی وجہ سے وہ بیت المقدس کے مقیمین کے پاس لے گئیں۔ (روح المعانی وبیان القرآن)
ان حضرات نے بچی کی کفالت کے سلسلے میں منافست اختیار کی اور ہر ایک چاہتا تھا کہ میں اس کی پرورش کروں انہیں حضرات میں حضرت زکریا (علیہ السلام) بھی تھے جو ان سب کے سردار تھے انہوں نے فرمایا کہ میں اس کی پرورش کا سب سے زیادہ حقدار ہوں اس لیے کہ اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے وہ حضرات کہنے لگے کہ ہم سب آپس میں قرعہ ڈالیں گے جس کا نام نکل آیا وہی زیادہ حقدار ہوگا۔ چناچہ انہوں نے اپنے قلم منگوائے اور ان کو جمع کرکے ڈھانک دیا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ایک نابالغ بچے سے فرمایا کہ تو ہاتھ ڈال کر ایک قلم نکال لے اس نے نکالا تو حضرت زکریا (علیہ السلام) کا قلم نکل آیا۔ لہٰذا انہوں نے حضرت مریم [ کو اپنی کفالت میں لے لیا۔ (اس کی مزید تفصیل انشاء اللہ تعالیٰ چند صفحات کے بعد آئے گی) حضرت زکریا (علیہ السلام) کی کفالت میں مریم [ رہنے لگیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا نشوونما خوب اچھے طریقہ سے کیا جو دوسرے بچوں سے مختلف تھا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ان کو علیحدہ ایک محراب میں رکھ چھوڑا تھا۔ محراب سے کیا مراد ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ بیت المقدس میں ایک کمرہ ان کے لیے مخصوص کردیا تھا یہ کمرہ بلندی پر تھا۔ جس میں زینہ سے چڑھتے تھے اور بعض حضرات نے محراب سے مطلق مسجد مراد لی ہے اور بعض حضرات نے محراب کا معروف معنی مراد لیا ہے۔
حضرت مریم کے پاس غیب سے پھل آنا :
بہر حال وہ بیت المقدس میں رہتی رہیں اور نشوونما ہوتا رہا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی طور پر ان کو پھل ملتے رہے، گرمی کے پھل سردی کے زمانہ میں اور سردی کے پھل گرمی کے زمانہ میں ان کے پاس ملتے تھے۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ان کا بہت دھیان رکھتے تھے۔ اور ان کے سوا کوئی شخص حضرت مریم [ کے پاس نہیں جاسکتا تھا جب وہ ان کے پاس جاتے تو دیکھتے تھے کہ غیر موسم کے پھل رکھے ہوئے ہیں اول تو دروازہ بند ہوتے ہوئے اندر پھلوں کا پہنچ جانا پھر غیر موسم کے پھل ہونا۔ یہ دونوں باتیں بڑے تعجب کی تھیں حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ان سے سوال فرمایا کہ یہ پھل کہاں سے آئے انہوں نے جواب دیا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ (اِنَّ اللّٰہَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ ) کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے بےحساب رزق عطا فرماتا ہے۔ اس آیت سے کرامات اولیاء کا ثبوت ہوتا ہے۔ (روح المعانی)
Ayah 3:38اولاد کے لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعاء
حضرت زکریا (علیہ السلام) خوب زیادہ بوڑھے ہوچکے تھے اور ان کے کوئی اولاد نہ تھی جو دینی علوم اور اعمال میں ان کی وارث بنے جیسا کہ سورة مریم میں ذکر فرمایا :
(قَالَ رَبِّ اِنِّیْ وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَ اشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّ لَمْ اَکُنْ بِدُعَآءِکَ رَبِّ شَقِیًّا وَ اِنِّیْ خِفْتُ الْمَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَ کَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ وَ اجْعَلْہُ رَبِّ رَضِیًّا)
” عرض کیا اے میرے پروردگار میری ہڈیاں کمزور ہوگئیں اور سر میں بالوں کی سفیدی پھیل پڑی اور آپ سے مانگنے میں اے میرے رب ناکام نہیں رہا ہوں اور میں اپنے بعد رشتہ داروں سے اندیشہ رکھتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے سو آپ مجھ کو خاص اپنے پاس سے ایک وارث دے دیجیے کہ وہ میرا وارث بنے اور یعقوب کے خاندان کا وارث بنے اور اس کو اے میرے رب پسندیدہ بنائیے۔ “
Ayah 3:39حضرت یحییٰ کی پیدائش کی خوشخبری :
حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور فرشتوں کے ذریعے ان کو خوشخبری بھیجی کہ تمہارے لڑکا پیدا ہوگا جس کا نام یحییٰ ہوگا یہ لڑکا اللہ کے کلمہ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا ہوگا۔ اور یہ لڑکا سردار ہوگا (صاحب روح المعانی نے متعدد علماء کرام سے سیداً کے متعدد معانی نقل کیے ہیں، الکریم، الحلیم، الحسن، الخلق، الشریف، الفقیہ العالم، الراضی بقضاء اللّٰہ تعالیٰ ، الخلیل، المتوکل العظیم الھمۃ، الذی لا یحسد، الذی یفوق بالخیر قومہ، اس کے بعد لکھتے ہیں کہ سب معانی یحییٰ (علیہ السلام) کی شان کے لائق ہیں مگر تحقیقی بات یہ ہے کہ سید کے اصل معنی یہ ہیں کہ جو اپنی قوم کا سردار ہو اور اس کے اتباع ہوں پھر ہر اس شخص کے لیے اسی کا اطلاق ہونے لگا جو دین میں یا دنیا میں دوسروں پر فائق ہو۔
حصور کا معنیٰ :
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے او صاف میں حصور بھی فرمایا اس کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں معناہ الذی لا یاتی النساء مع القدرۃ علیٰ ذلک یعنی حصور وہ ہے جو قدرت ہوتے ہوئے عورتوں سے شہوانی حاجت پوری نہ کرے اور نفس کی خواہش کے باوجود صبر کرتا رہے۔ بعض حضرات نے فرمایا اس سے ہر طرح کی مباح اور حلال خواہشوں سے بچنا مراد ہے۔ نیز حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی صفات بتاتے ہوئے (نَبِیًّا مِّنَ الصَّالِحِیْنَ ) بھی فرمایا کہ یہ بچہ جس کی پیدائش کی بشارت دی جا رہی ہے نبی ہوگا اور صالحین میں سے ہوگا۔
صالحین کا مصداق :
صالح صلاح سے مشتق ہے جو شخص گناہوں سے بچتا ہو اور نیکیوں سے آراستہ ہو اللہ تعالیٰ کی طرف انابت اور رجوع رکھتا ہو وہ صالح ہے اور اس کے بہت سے درجات ہیں اور مراتب ہیں۔ حضرات سلیمان (علیہ السلام) نے دعا کرتے ہوئے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا (وَاَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِکَ فِیْ عِبَادِکَ الصَّالِحِیْنَ ) اور سورة انبیاء میں متعدد انبیاء کرام (علیہ السلام) کا ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : (وَ اَدْخَلْنٰھُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا اِنَّھُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ) (اور ہم نے ان کو اپنی رحمت میں داخل کرلیا۔ بیشک وہ صالحین میں سے تھے) معلوم ہوا کہ صالحیت بہت بڑی بلکہ اہل خیر کی مرکزی صفت ہے۔ صالح ہونا بہت بڑی چیز ہے۔ آجکل کوئی شخص بزرگ مشہور ہو اس کے مریدوں کے سامنے کوئی کہہ دے کہ ان کے پیر صالح آدمی ہیں تو وہ برا مانے گا کہ واہ صاحب ہمارے حضرت بس صرف صالح ہیں وہ تو شمس العارفین ہیں اور قطب الاقطاب ہیں حالانکہ کسی کے بارے میں صالح ہونے کی گواہی بہت بڑی گواہی ہے کیونکہ یہ مقبولین بار گاہ الٰہی کی مرکزی صفت ہے۔
Ayahs 3:40–41حضرت زکریا کو استعجاب اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب :
جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کو بیٹا ملنے کی خوشخبری مل گئی اور بیٹے کی صفات بھی معلوم ہوگئیں تو بار گاہ خداوندی میں عرض کرنے لگے کہ میرے لڑکا کہاں سے ہوگا میں تو بوڑھا ہوچکا اور میری بیوی بھی بانجھ ہے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے تو دعا ہی میں عرض کردیا تھا کہ میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے اور اللہ کی قدرت پر بھروسہ کرتے ہوئے انہوں نے دعا کی تھی اب جب دعا قبول ہوگئی تو تعجب کیوں کر رہے ہیں ؟ اس سوال کے جواب میں حضرات مفسرین کرام نے کئی باتیں لکھی ہیں اول یہ کہ ان کا سوال حصول ولد کی کیفیت سے تھا کہ مجھے اسی عورت سے اولاد عطا ہوگی یا دوسری کوئی جوان عورت سے نکاح کرنا ہوگا۔ دوم یہ کہ یہ تعجب بشریت کے فطری تقاضے کے اعتبار سے ان کی زبان سے ظاہر ہوگیا۔ قدرت الٰہی کو کامل جانتے ہوئے بھی اس قسم کے مواقع پر انسان کی زبان سے ایسے کلمات نکل جاتے ہیں۔ سوم بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ غایت اشتیاق کی وجہ سے انہوں نے سوال کیا تاکہ خدائے پاک کی طرف سے دوبارہ بشارت کا اعادہ ہو اور قلبی لذت میں اضافہ ہوجائے۔ جب حضرت زکریا (علیہ السلام) نے اپنے تعجب خیز انداز میں یہ کہا کہ اے میرے رب میرے لڑکا کیسے ہوگا حالانکہ مجھ کو بڑھاپا پہنچ گیا اور میری عورت بانجھ ہے تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا (کَذٰلِکَ اللّٰہُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ ) یعنی تمہارا بڑھاپا ہوتے ہوئے ہی اولاد ہوجائے گی اللہ جو چاہے کرے اسے اختیار ہے، خلاف عادت افعال عجیبہ پر اس کو پوری طرح قدرت ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ کذلک مبتدا محذوف کی خبر ہے یعنی الامر کذلک اور (اللّٰہ یفعل ما یشاء ) کو اس کا بیان قرار دیا ہے۔
جب دوبارہ بشارت مل گئی تو حضرت زکریا (علیہ السلام) نے بار گاہ خداوندی میں عرض کیا کہ میرے لیے کوئی ایسی نشانی مقرر فرما دیجیے کہ جس سے مجھے پتہ چل جائے کہ استقرار حمل ہوچکا۔ یہ اس لیے عرض کیا کہ خوشی کی ابتداء ابتداء حمل ہی سے ہوجائے اور اللہ کی نعمت کا شکر مزید در مزید ہوتا رہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے ان کے لیے یہ نشانی مقرر فرما دی کہ تم تین دن تین رات تک لوگوں سے بات نہ کرسکو گے تین دن کا ذکر تو یہیں اسی آیت میں موجود ہے۔ اور تین رات کا ذکر سورة مریم میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ تم لوگوں سے بول ہی نہ سکو گے البتہ ہاتھ کا یا سر کا اشارہ کرکے بات کرسکو گے زبان سے بات کرنے پر قدرت نہ ہوگی اللہ کے ذکر پر تم کو قدرت ہوگی۔ اور اپنے رب کا ذکر خوب زیادہ کرنا۔ صبح شام اللہ کے ذکر میں مشغول رہنا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے اوقات نماز کی پابندی مراد ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ صبح شام کنایہ ہے جمع اوقات سے مطلب یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کی تسبیح بیان کرتے رہنا۔
سورة انبیاء اور سورة مریم میں بھی حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعا اور دعا کی قبولیت کا ذکر ہے۔ سورة مریم میں کچھ مضمون زائد ہے۔ پہلے رکوع کے ختم پر دیکھ لیا جائے اور سورة انبیاء میں فرمایا (فَاسْتَجَبْنَا لَہٗ وَ وَھَبْنَا لَہٗ یَحْیٰی وَ اَصْلَحْنَالَہٗ زَوْجَہٗ ) کہ ہم نے زکریا کی دعا قبول کی اور ان کو یحییٰ (بیٹا) عطا فرما دیا اور اس کی بیوی کو درست کردیا یعنی ولادت کے قابل بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ خالق الاسباب اور خالق المسببات ہے۔ وہ اسباب بھی پیدا فرماتا ہے اور اسباب کے بغیر بھی اسے ہر چیز کی تخلیق پر قدرت ہے۔
نکاح کی شرعی حیثیت :
حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی صفات میں جو لفظ حصوراً وارد ہوا ہے (عورتوں سے پرہیز کرنے والا) اس سے حضرات شوافع نے اپنے مذہب کے لیے استدلال کیا ہے کہ نکاح نہ کرنا افضل ہے۔ حنفیہ کا مذہب یہ ہے کہ نکاح کرنا سنت ہے اور نفس کا تقاضا زیادہ ہو تو نکاح کرنا واجب ہے۔ احادیث شریفہ سے یہ امر بخوبی واضح ہے۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اے جوانو ! تم میں سے جسے نکاح کی قدرت ہو وہ نکاح کرلے کیونکہ وہ نظر کو پست رکھنے کا ذریعہ ہے اور شرم کی جگہ کو پاک رکھنے والی چیز ہے، اور جسے نکاح کی قدرت نہ ہو اسے چاہیے کہ روزے رکھے۔ کیونکہ روزوں سے اس کی قوت شہوانیہ دب جائے گی۔ حضرت عثمان بن مظعون ؓ نے تبتل یعنی نکاح نہ کرنے کی اجازت چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی بات کو رد فرما دیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 267 از بخاری و مسلم)
نکاح نہ کرنا حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی خصوصیت تھی۔ عام طور سے حضرات انبیاء (علیہ السلام) نکاح کرتے رہے۔ سورة رعد میں فرمایا : (وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ وَ جَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّۃً ) (اور البتہ تحقیق ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیویاں مقرر کیں اور اولاد عطا کی) سنن الترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں پیغمبروں کے طریقوں میں سے ہیں شرم والا ہونا۔ عطر لگانا۔ مسواک کرنا۔ نکاح کرنا۔
Ayah 3:42فرشتوں کا حضرت مریم کو بتانا کہ اللہ نے تمہیں چن لیا
اس سے پہلے رکوع کی ابتداء میں فرمایا تھا کہ آل عمران کو اللہ تعالیٰ نے منتخب فرما لیا پھر اسی ذیل میں حضرت مریم کی پیدائش اور نشوونما اور حضرت زکریا کی دعا اور حضرت یحییٰ کا پیدا ہونا بیان فرمایا اب اسی سلسلہ کے تتمہ کا بیان شروع ہو رہا ہے۔ حضرت مریم کا منتخب فرمانا پھر ان کے بیٹے عیسیٰ (علیہ السلام) کی خوشخبری دینا اور ان کو رسالت سے سر فراز فرمانا اور ان کے بعض معجزات کا ذکر فرمانا۔ یہ باتیں اس رکوع میں مذکور ہیں۔ اصطفک کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں اختارک من اول الامرو لطف بک و میزک علی کل محررو خصلک بالکرامات السنیۃ یعنی شروع ہی سے اللہ نے تجھے چن لیا اور تیرے ساتھ مہربانی فرمائی اور تجھے ان تمام لڑکوں پر امتیاز بخشا جن کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے آزاد کیا جاتا ہے اور بڑی بڑی کرامات کے ساتھ تجھے مخصوص فرمایا، اور طھرک کے بارے میں لکھتے ہیں ای من الادناس و الاقذار التی تعرض للنساء مثل الحیض والنفاس حتی صرت صالحۃ لخدمۃ المسجد یعنی اللہ نے تجھے ان گندگیوں سے پاک فرمایا جو عورتوں کو پیش آجاتی ہیں جیسے حیض اور نفاس یہاں تک کہ تو مسجد کی خدمت کے لائق ہوگئی اور بعض حضرات نے فرمایا کہ طھرک بالایمان عن الکفر و بالطاعۃ من المعصیۃ یعنی تجھے ایمان دیا اور کفر سے پاک رکھا اور طاعت میں لگایا اور گناہوں سے پاک رکھا اور بعض حضرات نے اس کا مطلب بتاتے ہوئے یوں فرمایا ہے کہ (نَزَھَکِ عَنِ الْاَخْلاَقِ الذَّمِیْمَۃِ وَ الطَّبَاع الرَّدِّیَّۃِ ) یعنی تجھے برے اخلاق سے اور بری طبیعتوں سے پاک صاف کردیا۔ اس کے بعد صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اولیٰ یہ ہے کہ عموم پر محمول کیا جائے اور مطلب یہ ہے کہ ہر طرح کی گندگیوں سے تجھے اللہ نے پاک کردیا۔ اقذار حسیہ معنویہ قلبیہ قالبیہ سب سے صاف اور ستھری بنا دیا۔
حضرت مریم کی فضیلت :
پھر فرمایا (وَ اصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ ) اور تجھے جہانوں کی عورتوں کے مقابلہ میں منتخب فرما لیا۔ عموم الفاظ کے پیش نظر بعض حضرات نے فرمایا کہ دنیا کی تمام عورتوں پر حضرت مریم کو فضیلت دی گئی اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے ان کے اپنے زمانہ کی عورتیں مراد ہیں۔
روایات حدیث میں حضرت مریم بنت عمران حضرت آسیہ (فرعون کی بیوی) اور حضرت خدیجہ بنت خویلد ( رسول اللہ ﷺ کی سب سے پہلی اہلیہ) اور حضرت فاطمہ بنت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اور حضرت عائشہ ؓ کے فضائل وارد ہوئے ہیں۔ ان فضائل کی وجہ سے بعض حضرات نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور بعض حضرات نے توقف کیا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ ان کے فضائل مختلف جہات سے ہیں۔
حضرت سیدہ فاطمہ ؓ کی فضیلت :
حضرت فاطمہ ؓ رسول اللہ ﷺ کا جگر گوشہ تھیں اس حیثیت سے ان کو سب پر فضیلت حاصل ہے اور صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا حصہ ہے۔ مجھے وہ چیز ناگوار ہوتی ہے جو اسے ناگوار ہو۔ اور وہ چیز مجھے ایذا دیتی ہے جو اسے ایذا دے (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 578 از بخاری و مسلم) نیز صحیح بخاری صفحہ 512: ج 1 میں ہے کہ آنحضرت سرور دو عالم ﷺ نے اپنے مرض وفات میں حضرت فاطمہ سے فرمایا اما ترضین ان تکونی سیدۃ نساء اھل الجنۃ او نساء المومنین (کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ جنت والی عورتوں کی سردار ہوگی یا یوں فرمایا کہ مومنین کی عورتوں کی سردار ہوگی)
حضرت خدیجہ ؓ کی فضیلت :
حضرت خدیجہ ؓ اس اعتبار سے افضل ہیں کہ وہ آنحضرت ﷺ کی سب سے پہلی بیوی ہیں اور سب سے پہلے انہوں نے ہی اسلام قبول کیا اور اپنا مال رسول اللہ ﷺ پر اور دین اسلام کی خدمت میں پوری طرح لگا دیا جس کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا : (وَوَجَدَکَ عَآءِلاً فَاَغْنٰی) اس کی تفسیر میں علماء لکھتے ہیں اَی بمالٍ خدیجَۃَ (یعنی اللہ نے آپ کو بےپی سے والا پایا سو آپ کو خدیجہ کے مال کے ذریعہ مال والا بنا دیا) ۔
حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت :
حضرت عائشہ ؓ کی فضیلت اس اعتبار سے دوسری تمام عورتوں کے مقابلہ میں زیادہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد انہوں نے آپ کے علوم کو تمام بیویوں سے زیادہ پھیلایا احکام و مسائل بتا دئیے بہت بڑی تعداد میں ان کے شاگرد تھے جنہوں نے ان سے علوم حاصل کیے۔ الاصابہ صفحہ 260: ج 4 میں ہے کہ حضرت عطاء بن ابی رباح تابعی نے فرمایا کہ حضرت عائشہ ؓ سب لوگوں سے زیادہ فقیہ تھیں۔ اور حضرت ابو موسیٰ ؓ نے فرمایا کہ جب بھی کوئی مشکل معاملہ پیش ہوا تو ہم نے عائشہ ؓ کے پاس ضرور اس کے بارے میں علم پایا۔ یہ تو حضرت خدیجہ، حضرت فاطمہ اور حضرت عائشہ ؓ کی فضیلتیں ہیں جو مختلف جہات سے ہیں اور حضرت مریم [ کی فضیلت اس اعتبار سے ہے کہ ان کی والدہ نے ان کو بیت المقدس کے لیے بطور خادم مقرر کیا اور حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ان کی کفالت کی اور ان کے پاس غیب سے رزق آیا اور وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ بنیں۔
حضرت آسیہ کی فضیلت :
اور حضرت آسیہ (فرعون کی بیوی) کی فضیلت اس اعتبار سے ہے کہ انہوں نے اس ماحول میں اسلام قبول کیا جبکہ فرعون ایمان قبول کرنے والوں کو بہت تکلیف دیتا تھا۔ زمین پر لٹا کر ہاتھوں میں کیلیں گاڑ دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے بطور مثال اہل ایمان کا ذکر فرماتے ہوتے سورة تحریم میں یوں ان کا ذکر فرمایا (وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِمْرَاَۃَ فِرْعَوْنَ اِِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ) (اور اللہ نے بیان فرمایا مسلمانوں کے لیے فرعون کی بیوی کا حال جبکہ اس نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار میرے واسطے جنت میں اپنے قرب میں مکان بنائیے اور مجھ کو فرعون سے اور اسکے عمل سے نجات دیجیے اور مجھ کو تمام ظالم لوگوں سے نجات دیجیے) ۔
صحیح بخاری صفحہ 532: ج 1 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ مردوں میں بہت لوگ کامل ہوئے اور عورتوں میں کامل نہیں ہیں مگر مریم بنت عمران اور آسیہ فرعون کی بیوی اور عائشہ کی فضیلت عورتوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت ہے ثرید کی باقی تمام کھانوں پر۔
بہر حال ان پانچوں خواتین کی فضیلت بہت زیادہ ہے جو روایات حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ کلی فضیلت کس کو حاصل ہے۔ اللہ ہی کو معلوم ہے۔
Ayah 3:43وَ ارْکَعِیْ مَعَ الرّٰکِعِیْنَ کی تفسیر :
حضرت مریم [ کے انتخاب اور اصطفاء کا ذکر فرمانے کے بعد اس بات کا ذکر فرمایا کہ فرشتوں نے ان سے اللہ تعالیٰ شانہٗ کی فرمانبر داری کرنے اور رکوع کرنے اور رکوع سجدہ کرنے کے لیے کہا اس میں سجدہ کا ذکر رکوع سے پہلے ہے اس کی وجہ سے بعض علماء نے فرمایا ہے کہ پہلی امتوں میں سجدہ رکوع سے پہلے کیا جاتا تھا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ واو ترتیب کے لیے نہیں مطلق جمع کے لیے ہے پہلی امتوں میں بھی رکوع سجدہ سے پہلے ہی تھا۔ رکوع کے ذکر کے ساتھ مع الراکعین بھی فرمایا اس کے بارے میں حضرت حکیم الامت تھانوی قدس سرہٗ تحریر فرماتے ہیں کہ بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ بعض یہود نے نماز میں رکوع چھوڑ دیا تھا جیسے بعضے ہم میں قومہ چھوڑ دیتے ہیں اور بعضے رکوع کرتے تھے اس لیے حکم فرمایا کہ نماز کے طریقہ میں ان لوگوں کے ساتھ رہنا جو رکوع بھی کیا کرتے ہیں پس مقصود اہتمام ہے رکوع کا، میں کہتا ہوں کہ اگر یہ امر منقول کسی کے نزدیک ثابت نہ ہو تو عمدہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ فرائض صلوٰۃ میں قیام و سجود کی ہیئت میں عادۃً خلل کم ہوسکتا ہے بخلاف رکوع کے کہ اس کی ہیئت میں خلل زیادہ محتمل ہوتا ہے جیسا کہ اکثر مشاہدہ ہے کہ رکوع میں لوگ کم جھکتے ہیں جس سے وہ اقرب الی القیام رہتا ہے اور کیونکہ اس ہیئت میں معانیہ کو ایک خاص دخل ہے اس لیے مع الراکعین بڑھا دیا کہ جس طرح سے کامل راکعین کیا کرتے ہیں۔ ویسے ہی کرنا۔