3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayahs 3:64–66

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ اے اہل کتاب آجاؤ ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم عبادت نہ کریں مگر اللہ کی اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر ہم آپس میں کوئی کسی دوسرے کو رب نہ بنائیں، سو اگر وہ رو گردانی کریں تو کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم فرمانبر دار ہیں۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم کیوں حجت کرتے ہو ابراہیم کے بارے میں، حالانکہ نہیں اتاری گئی توریت اور انجیل مگر ان کے بعد، کیا تم عقل نہیں رکھتے ہو

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

اے لوگو ! تم ایسے لوگ ہو جنہوں نے اس چیز میں جھگڑا کیا جس کا تمہیں کچھ علم تھا، پھر تم کیوں حجت کرتے ہو اس بات میں جس کا تمہیں علم نہیں اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے

اہل کتاب کو توحید کی دعوت اس آیت میں یہود و نصاریٰ کو توحید کی دعوت دی اور فرمایا کہ ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے نزدیک مسلم ہے ہم بھی مانتے ہیں تم بھی مانتے ہو اور وہ یہ کہ ہم سب صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ کو چھوڑ کر آپس میں ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں۔ یہود و نصاریٰ کو معلوم تھا کہ ہمارے دین کی اصل تعلیم یہی ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کریں۔ اگرچہ انہوں نے شرک اختیار کرلیا تھا لیکن ان کے دین میں جو صحیح بات تھی وہ ان کو معلوم تھی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ ان کو توحید کی طرف بلاؤ اور انہیں بتاؤ کہ یہ وہ چیز ہے جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے اس کو قبول کرو صحیح بات کو کیوں قبول نہیں کرتے۔ اس آیت سے بعض لوگوں نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ مسلمان عیسائیوں سے یہ بات کریں کہ ہمارا دین اور تمہارا دین جن چیزوں پر اتفاق ہے دونوں قومیں مل کر غیر قوموں کو ان چیزوں کی دعوت دیں یعنی یہود و نصاریٰ اپنے اپنے دین پر ہوتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ مل کر کام کریں اور توحید کی دعوت دیتے رہیں العیاذ باللہ آیت کا یہ مطلب نہیں ہے قرآن کسی قوم کو دین کفر پر باقی رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اگر لوگوں کو صرف توحید کی دعوت دی اور اسلام کی دعوت نہ دی اور وہ موحد ہوگئے تو یہ توحید اللہ تعالیٰ کے ہاں معتبر نہیں جب تک دین اسلام قبول نہ کریں گے باو جود موحد ہونے کے آخرت میں نجات نہ پائیں گے یہ تو غیر اقوام کو دھوکہ دینا ہوا کہ تم توحید کی دعوت میں شریک ہوجاؤ اگرچہ اسلام قبول نہ کرو۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ملک روم ہرقل کو خط لکھا تو اس میں تحریر فرمایا : سلام علی من اتبع الھدی یعنی اللہ کا سلام ہے اس پر جو ہدایت کا اتباع کرے، پھر تحریر فرمایا کہ : اما بعد فانی ادعوک بد عایۃ الاسلام اسلم تسلم یعطک اللّٰہ اجرک مرتین فان تولیت فان علیک اثم الیریسین۔ ” کہ میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں تو اسلام قبول کر سلامت رہے گا۔ اللہ تجھے دہرا اجر عطا فرمائے گا اور اگر تو نے اعراض کیا تو تیرے اوپر تمام کاشتکاروں کا گناہ ہوگا۔ “ مطلب یہ کہ اسلام قبول نہ کرنے کی وجہ سے تجھ پر تیرا گناہ تو ہوگا ہی تیری وجہ سے تیری مملکت کے کاشت کار جو اسلام قبول نہ کریں گے ان کا گناہ بھی تجھ پر ہوگا کیونکہ تو ان کو اسلام سے روکنے کا ذریعہ بنے گا۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ سرور عالم ﷺ نے اپنے مکتوب گرامی میں آیت بالا تحریر فرمائی۔ (صحیح بخاری صفحہ 5) آنحضرت سرور عالم ﷺ نے اول اسلام کی دعوت دی پھر آیت بالا تحریر فرمائی جس سے واضح ہوا کہ آیت شریفہ کا مقصد اسلام ہی کی دعوت دینا ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ تم یہودیت اور نصرانیت پر باقی رہتے ہوئے ہمارے ساتھ مل کر دعوت توحید کا کام کرو۔ قولہ تعالیٰ (وَلاَ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ) (اور نہ بنائیں ہم آپس میں ایک دوسرے کو رب، اللہ کو چھوڑ کر) تفسیر روح المعانی صفحہ 193: ج 3 میں ہے کہ حضرت عدی بن حاتم (صحابی ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم غیر اللہ کی عبادت تو نہیں کرتے تھے (پھر یہ کیوں فرمایا کہ آپس میں ایک دوسرے کو رب نہ بنائیں) آپ نے فرمایا کہ وہ لوگ تمہارے لیے کچھ چیزوں کو حلال اور کچھ چیزوں کو حرام قرار نہیں دیتے تھے اور تم ان کی بات پر عمل نہیں کرتے تھے تو عرض کیا ہاں ایسا تو تھا، آپ نے فرمایا یہ رب بنانے میں داخل ہے (کیونکہ چیزوں کو حلال یا حرام قرار دینا صرف اللہ تعالیٰ کی شان عالی کے لائق ہے وہ خالق ومالک ہے اپنی مخلوق میں جسے چاہے جس کے لیے حلال یا حرام قرار دے یہ مرتبہ کسی کو حاصل نہیں) واضح رہے کہ عدی بن حاتم پہلے نصرانی مذہب رکھتے تھے۔
Ayah 3:67

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

نہیں تھے ابراہیم یہودی اور نصرانی، لیکن وہ حق کو اختیار کرنے والے فرمانبر دار تھے، اور مشرکین میں سے نہ تھے

اہل کتاب کی بات کی تردید کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی یا نصرانی تھے لباب النقول صفحہ 53 میں ہے (بحوالہ دلائل النبوۃ للبیہقی) حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ نجران کے نصاریٰ اور یہودیوں کے علماء رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوئے اور آپ کے پاس جھگڑا کرنے لگے علماء یہود نے کہا کہ ابراہیم یہودی ہی تھے اور نصاریٰ کے کہا وہ تو نصرانی ہی تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی اور یہود و نصاریٰ دونوں جماعتوں کی سر زنش فرمائی کہ تم کو جو تھوڑا سا علم حضرت موسیٰ و عیسیٰ ( علیہ السلام) کے بارے میں تھا اس کے متعلق تو تم نے کچھ حجت بازی کرلی لیکن جس چیز کا تمہیں بالکل ہی علم نہیں اس کے بارے میں کیوں حجت بازی کرتے ہو۔ تورات اور انجیل میں جو باتیں ہیں ان کا کچھ تمہیں علم ہے لیکن ان باتوں سے غلط نتیجے نکال کر تم نے حجت بازی کرلی۔ اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں یہ دعویٰ کرنا کہ وہ یہودی تھے یا نصرانی تھے یہ تو جھوٹ ہی جھوٹ اس کی طرف تو کوئی بھی اشارہ تمہاری کتابوں میں نہیں ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) یہودی کیسے ہوسکتے ہیں جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کی نسل سے ہیں اور ان سے سینکڑوں سال کے بعد دنیا میں تشریف لائے اور مبعوث ہوئے اور ان پر تورات شریف نازل ہوئی، دین یہودیت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے شروع ہوا اب تم بتاؤ کہ جو شخص ان سے سینکڑوں سال پہلے گزر چکا ہو وہ ان کے دین پر کیسے ہوگا ؟ پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سینکڑوں سال کے بعد تشریف لائے ان پر انجیل شریف نازل ہوئی۔ اب بتاؤ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کے دین پر کیسے ہوسکتے ہیں ؟ اور تم نے تو دین یہودیت اور دین نصرانیت میں شرک ملا لیا ہے۔ خدا تعالیٰ کے لیے اولاد تجویز کرلی ہے۔ غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو اور ابراہیم (علیہ السلام) خالص موحد تھے مشرک نہ تھے۔ وہ حق کو اختیار کرنے والے اور باطل سے دوررہنے والے تھے بھلا وہ کیسے یہودی یا نصرانی ہوگئے ؟ تم علم کے دعویدار ہو اللہ تعالیٰ کے نزدیک جس بات کا وجود ہی نہیں تم اس کے مدعی ہو یہ سب تمہاری بےعقلی بھی ہے بےعلمی بھی ہے۔ پہلی آیت کے ختم پر (اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ) فرمایا اور دوسری آیت کے ختم پر (وَ اللّٰہُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ) فرمایا اس سے ان کا بےعقل ہونا بھی بتادیا اور بےعلم ہونا بھی۔
Ayah 3:68

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

بلاشبہ انسانوں میں ابراہیم کے ساتھ سب سے زیادہ قریب تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا اتباع کیا اور یہ نبی ہیں اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ سب مومنین کا ولی ہے۔

حضرت ابراہیم سے زیادہ خصوصی تعلق والا کون ہے ؟ پھر فرمایا (اِنَّ اَوْلَی النَّاسِ بِاِبْرٰھِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ ) (الآیۃ) (بلاشبہ انسانوں میں ابراہیم کے ساتھ سب سے زیادہ خصوصیت رکھنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کا اتباع کیا) یہود و نصاریٰ نے نہ صرف یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے اپنا تعلق ظاہر کیا بلکہ یہ دعویٰ کیا کہ وہ یہودی اور نصرانی تھے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کی تکذیب فرمائی اور فرمایا کہ ابراہیم سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ تھے جنہوں نے ان کی شریعت کا اتباع کیا اور یہ نبی یعنی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ اور جو لوگ ان پر ایمان لائے یہ بھی ابراہیم سے قریب تر ہیں کیونکہ یہ امت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہے۔ جیسا کہ سورة حج کے آخر میں فرمایا۔ (مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ ) توحید اور عقیدہ معاد میں تمام انبیاء (علیہ السلام) مشترک ہیں لیکن شریعت محمدیہ ﷺ کے احکام کثیر تعداد میں ایسے ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کے موافق ہیں توحید کے لیے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے جو محنت کی جان جوکھوں میں ڈالی۔ اس کے لیے آگ میں ڈالے گئے وطن چھوڑا۔ امت محمدیہ نے پوری طرح محنت اور کوشش کرکے جانوں اور مالوں کی قربانی دے کر اس دعوت کو صحیح طریقہ پر باقی رکھا اور کروڑوں موحد ان کوششوں کی وجہ سے وجود میں آئے۔ دعوت توحید کے لیے اور توحید پر خود باقی رہنے اور دوسروں کو باقی رکھنے میں امت محمدیہ نے جو قربانیاں دی ہیں اس کی نظیر دوسری امتوں میں نہیں ہے۔ یہود و نصاریٰ تو مشرک ہوگئے۔ انہوں نے توحید کی دعوت ختم ہی کردی ان کا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ اللہ مومنین کا ولی ہے : آخر میں فرمایا (وَ اللّٰہُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ ) کہ اللہ ایمان والوں کا ولی ہے۔ وہ دنیا و آخرت میں ان کی مدد اور حفاظت فرمائے گا اور ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کی جزا دے گا وَلِیُّھُمْ کی بجائے (وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ ) فرمایا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ صفت ایمان ہی ایسے چیز ہے جس کے ذریعہ اللہ کی مدد و نصرت اور حفاظت حاصل ہوتی ہے۔
Ayahs 3:69–70

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

اہل کتاب کی ایک جماعت نے اس بات کی خواہش کی کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کردیں۔ اور وہ گمراہ نہیں کرتے مگر اپنے ہی نفسوں کو اور وہ نہیں سمجھتے

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم کیوں کفر کرتے ہو اللہ کی آیات کے ساتھ، حالانکہ تم اقرار کرتے ہو

اہل کتاب کی خواہش کہ مسلمانوں کو گمراہ کریں ان آیات میں اول تو مسلمانوں کو یہ بتایا کہ اہل کتاب کا ایک گروہ ایسا ہے جو تمہیں گمراہ کرنے کے درپے ہے ان کی خواہش ہے کہ جس طرح ہو سکے تمہیں گمراہ کرلیں۔ کافروں کو یہ گوارا نہیں کہ تم اپنے دین پر رہو اور وہ اپنے دین پر رہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجاؤ۔ سورة بقرہ کے رکوع 13 میں گذر چکا ہے کہ اہل کتاب تمہیں مرتد بنانے کی آرزو رکھتے ہیں۔ (وَدَّ کَثِیْرٌ مِّنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَوْ یَرُدُّوْنَکُمْ مِّنْ بَعْدِ اِیْمَانِکُمْ کُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِنْدِ اَنْفُسِھِمْ مِّنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ ) اور سورة نساء میں فرمایا (وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَآءً ) (یعنی ان کی خواہش ہے کہ تم کافر ہوجاؤ جیسا کہ انہوں نے کفر اختیار کیا اور ان کی خواہش ہے کہ تم اور وہ برابر ہوجائیں) اور سورة ممتحنہ میں فرمایا (وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ ) (اور ان کی خواہش ہے کہ کاش تم کافر ہوجاتے) زمانہ نبوت میں جو یہود و نصاریٰ اور مشرکین تھے ان کی یہ خواہش ہمیشہ رہی کہ مسلمان اپنا دین چھوڑ کر کفر اختیار کریں اور اس کے لیے تدبیریں کرتے رہے۔ ان کا ایسی تدبیریں کرنا خود ان ہی کی مزید گمراہی میں مبتلا ہونے اور کفر میں شدید ہونے کا ذریعہ بنتا رہا۔ اور ان کی اس کوشش کا و بال نہیں پڑا، آج بھی کافروں کی اس طرح کی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے دلوں پر ایسے سیاہ پردے پڑے ہوئے ہیں کہ انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ ہم گمراہی میں ترقی کر رہے ہیں۔
Ayah 3:71

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں مخلوط کرتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو۔

اے اہل کتاب ! تم کیوں کفر اختیار کرتے ہو اور حق کو باطل کے ساتھ کیوں ملاتے ہو ؟ پھر اہل کتاب سے خطاب فرمایا کہ تم اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ یہ آیات حق ہیں محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت اور رسالت پر جو دلائل قاطعہ سامنے آ چکے ہیں ان کو جانتے ہوئے گمراہی کو اختیار کرنا سخت در سخت عذاب کا ذریعہ ہے۔ نیز فرمایا کہ اے اہل کتاب ! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں مخلوط کرتے ہو، اس کے بارے میں حضرت حسن ؓ نے فرمایا کہ توریت اور انجیل میں جو انہوں نے تحریف کرلی تھی مخلوط کرنے سے وہ مراد ہے اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس سے یہ مراد ہے کہ وہ زبان سے اسلام ظاہر کرتے تھے اور دلوں میں انہوں نے کفر اختیار کر رکھا تھا۔ منافق بنے ہوئے تھے اس کی تفسیر میں اور بھی بعض اقوال ہیں، مزید فرمایا : (وَ تَکْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) کہ تم حق کو یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کو چھپاتے ہو۔ حالانکہ تم جانتے ہو کہ وہ نبی برحق ہے، یہودی آپس میں اور بعض مرتبہ انصار اور مہاجرین کے سامنے یہ بات کہہ دیتے تھے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں لیکن دنیاوی اغراض کی وجہ سے حق قبول نہیں کرتے تھے۔ جانتے بوجھتے گمراہ ہونا بہت بڑی شقاوت ہے۔
Ayah 3:72

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اور کہا اہل کتاب کے ایک گردہ نے کہ ایمان لاؤ اس پر جو نازل کیا گیا مسلمانوں پر دن کے شروع حصہ میں اور منکر ہوجاؤ دن کے آخر حصہ میں امید ہے کہ یہ لوگ واپس لوٹ آئیں۔

یہودیوں کی ایک مکاری کا تذکرہ ان آیات میں اول تو یہودیوں کے ایک منافقانہ طریق کار کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ ان میں سے ایک جماعت نے آپس میں ایک دوسرے کو مشورہ دیا کہ صبح صبح جب دن شروع ہو تم مسلمانوں کے پاس جاؤ اور ان کے سامنے یوں کہو کہ ہم مسلمان ہیں ہم نے تمہارا دین قبول کرلیا اور دن بھر اسی طرح گزار دو ، اور جب شام کا وقت ہوجائے دن جانے لگے تو کفر اختیار کرلو۔ تاکہ مسلمان اپنے دین سے واپس ہوجائیں۔ صاحب روح المعانی صفحہ 199: ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہود خیبر کے علماء میں سے بارہ آدمیوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا تھا اور (وَ اکْفُرُوْٓا اٰخِرَہٗ ) جو انہوں نے کہا تھا کہ اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ صبح کو اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرنے کے بعد اسی دن شام کو اپنے کفر کا اظہار کردینا (جو دل میں پہلے ہی سے تھا) اور مسلمانوں سے یوں کہنا کہ ہم نے اپنی کتابوں میں غور کیا اور اپنے علماء سے مشورہ کیا تو ہماری سمجھ میں یہی آیا کہ محمد ﷺ کا دین باطل ہے جب ایسا کہو گے تو سچے مسلمانوں پر بھی اثر پڑے گا وہ سمجھیں گے کہ یہ تو اہل کتاب ہیں اہل علم ہیں جب انہوں نے دین اسلام قبول کرکے چھوڑ دیا تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دین اسلام صحیح نہیں ہے۔ یہ طریقہ کار انہوں نے اپنے خیال میں مسلمانوں کو ورغلانے کے لیے اختیار کیا لیکن دشمنوں کے مکرو فریب کا الحمدللہ کسی مسلمان نے کچھ بھی اثر نہ لیا۔
Ayahs 3:73–74

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور اقرار مت کرنا مگر ایسے شخص کے سامنے جو تمہارے دین کا تابع ہو۔ آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ ہدایت وہی ہے جو اللہ کی ہدایت ہے یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ کسی دوسرے کو ایسی چیز مل رہی ہے جو تمہیں دی گئی یا اس لیے کہ وہ تم پر دلیل میں غالب ہوجائیں گے تمہارے رب کے پاس۔ آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ اسے عطا فرماتا ہے جسے چاہے اور اللہ واسع ہے خوب جاننے والا ہے۔

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

وہ مخصوص فرماتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ جس کو چاہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

اس کے بعد یہودیوں کی ایک اور بات کا تذکرہ فرمایا اور وہ یہ کہ انہوں نے آپس میں یوں کہا (وَ لَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ ) کہ تمہارا جو دین یہودیت ہے اس دین پر مضبوطی کے ساتھ جمنے کا اقرار ان ہی لوگوں کے سامنے کرنا جو تمہارے دین کے تابع ہیں۔ یعنی اپنا اندرونی عقیدہ اپنے ہی لوگوں کے سامنے بیان کرنا۔ اور مسلمانوں کو دین اسلام سے پھیر نے کے لیے اوپر اوپر سے یہ کہہ دینا کہ ہم نے تمہارا دین قبول کرلیا (اندر سے اپنے عقیدہ پر رہنا) پھر ظاہری طور پر بھی یوں کہہ دینا کہ ہم اپنے دین پر واپس آگئے حالانکہ دل سے انہوں نے اپنا دین چھوڑا ہی نہیں تھا۔ یہ ان کا مکر تھا۔ اور بعض مفسرین نے (وَ لَا تُؤْمِنُوْٓا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَکُمْ ) کا مطلب یہ بتایا ہے کہ تم صرف اسی شخص پر ایمان لاؤ جو تمہارے دین کی موافقت کرتا ہو کمافی معالم التنزیل ای ولا تصدقوا الا لمن تبع دینکم ای وافق ملتکم (جس کا معنی یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ چونکہ نئی شریعت لے کر آئے ہیں اور وہ تمہاری شریعت کے موافق نہیں ہے اس لیے تم ان پر ایمان نہ لاؤ) اللہ جل شانہٗ نے فرمایا : ( قُلْ اِنَّ الْھُدٰی ھُدَی اللّٰہِ ) کہ اے محمد ﷺ آپ فرما دیں کہ بلاشبہ ہدایت اللہ ہی کی ہدایت ہے وہ جسے ہدایت دینا چاہے اور ہدایت پر رکھنا چاہے اسے کسی کی تدیبر ہدایت سے نہیں روک سکتی یہ معنی پہلی تفسیر کے مطابق ہے اور دوسری تفسیر کے مطابق اس کا یہ معنی ہوگا کہ اللہ کو اختیار ہے کہ اپنی بھیجی ہوئی ایک شریعت کو منسوخ کر دے اور اس کی جگہ دوسری شریعت بھیج دے اور اس پر عمل کرنے کا حکم فرما دے جب اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ دوسری شریعت بھیج دی تو اسے قبول کرلو اگر اس کے خلاف چلو گے تو برابر کفر کی گمراہی میں رہو گے قولہ تعالیٰ (اَنْ یُّؤْتٰٓی اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِیْتُمْ ) اس میں بھی یہودیوں کی ایک بات کا تذکرہ فرمایا ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے آپس میں کہا کہ تم کبھی یہ تصدیق نہ کرنا کہ تم کو جو علم اور کتاب اور حکمت دی گئی ہے اس جیسی کسی اور کو بھی عطا کی گئی ہو، علم اور کتاب اور حکمت یہ صرف ہمارا ہی حصہ ہے، نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ تم اس بات کی تصدیق نہ کرنا کہ تمہارے رب کے پاس دوسرے لوگ حجت میں تم پر غالب آجائیں گے۔ کیونکہ تمہارا ہی دین صحیح ہے اس صورت میں (اَنْ یُّؤْتٰٓی) سے پہلے ایک (وَ لَا تُؤْمِنُوْا) مقدر ماننا ہوگا صاحب بیان القرآن نے (اَنْ یُّؤْتٰٓی اَحَدٌ مِّثْلَ مَآ اُوْتِیْتُمْ ) کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ اے یہودیو ! تم ایسی باتیں اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں مسلمانوں پر حسد ہے کہ انہیں آسمانی کتاب کیوں مل گئی یا یہ لوگ تم پر مذہبی مناظرہ میں کیوں غالب آجاتے ہیں اس حسد کی وجہ سے اسلام اور اہل اسلام کے تنزل کی کوششیں کرتے ہو اس صورت میں (اَنْ یُّؤْتٰٓی) سے پہلے تدبر تم یا قلتم مقدر ماننے کی ضرورت ہوگی۔ آخر میں یہودیوں کی تردید فرمائی اور ارشاد فرمایا : (قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآءُ ) (الآیۃ) آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہے عطا فرما دے، وہ بڑی وسعت والا ہے بڑے علم والا ہے، وہ اپنی رحمت کے ساتھ جس کو مخصوص فرما دے اور وہ بڑے فضل والا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاتم النّبیین سیدنا محمد عربی ﷺ کو نبوت و رسالت سے نواز دیا اور ان پر کتاب نازل فرما دی اور ان کے ذریعہ ہدایت پھیلا دی اس پر تم حسد کرنا جہالت اور کفر ہے یہ تو اللہ تعالیٰ پر اعتراض ہے کہ اس نے بنی اسرائیل کے علاوہ کسی دوسرے کو نبی کیوں بنایا۔ یہ عصبیت جاہلیہ اہل علم کو برباد کردیتی ہے، مزید توضیح اور تشریح کے لیے سورة بقرہ (ع 11) میں (بَغَیَا اَنْ یُّنَزِّلَ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِِہٖ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ ) کی تفسیر پیچھے گزر چکی ہے۔ یہ لوگ عصبیت جاہلیہ کی وجہ سے کفر اختیار کرنے اور کفر پر جمے رہنے اور دائمی عذاب میں پڑنے کو تیار ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے راضی ہونے پر تیار نہیں کہ وہ اپنی رحمت سے جسے چاہے اپنا فضل عطا فرمائے۔ اللہ کی مشیت اور ارادہ میں کسی کو چوں کرنے کا مقام نہیں۔
Ayah 3:75

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں بعض ایسے ہیں کہ ان کے پاس اگر بہت مال امانت رکھ دو گے تو وہ تمہاری طرف ادا کردیں گے اور ان میں ایسے ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ایک دینار امانت رکھ دو گے تو وہ تمہاری طرف ادا نہیں کریں گے مگر یہ کہ تم برابر سر پر کھڑے رہو۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا کہ ان پڑھوں کے بارے میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے اور وہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔

اہل کتاب کی امانت داری اور خیانت کا تذکرہ اس آیت میں ان اہل کتاب کا بیان ہے جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ اور ان اہل کتاب کا ذکر ہے جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا اور وہ بدستور حب مال اور حب دنیا میں غرق رہے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ (یُّؤَدِّہٖٓ (اِلَیْکَ ) سے مومنین اہل کتاب مراد ہیں جیسے عبداللہ بن سلام اور دیگر صحابہ جو پہلے یہودی تھے اور بعد میں انہوں نے اسلام قبول کیا اور (لَاْ یُّؤَدِّہٖٓ اِلَیْکَ ) سے وہ یہود مراد ہیں جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا اور بدستور حب دنیا اور حب مال میں مستغرق تھے۔ جیسے کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی۔ پھر حضرت ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن سلام کے پاس ایک شخص نے بارہ سو اوقیہ سونا امانت رکھ دیا تھا انہوں نے اس کو ادا کردیا (ایک اوقیہ چالیس درہم کے وزن کے برابر ہوتا ہے) اور نحاص بن عازواء ایک یہودی تھا اس کے پاس ایک قریشی نے ایک دینار امانت رکھ دیا تو وہ خیانت کر بیٹھا۔ قرآن مجید میں اہل کتاب کی دو جماعتوں کا حال بیان فرمایا کہ بعض ان میں ایسے ہیں کہ اگر تم ان کے پاس قنطار یعنی مال کثیر امانت رکھ دو گے تو وہ واپس کردیں گے اور اچھے طریقے پر ادا کردیں گے اور بعض لوگ ایسے ہیں کہ ان کے پاس اگر ایک دینار امانت رکھ دو تو ادا نہ کریں گے ہاں سر پر برابر کھڑے ہی رہو اور تقاضوں سے عاجز آکر ادا کر دے تو دوسری بات ہے۔ ابوبکر جصاص احکام القرآن صفحہ 17: ج 2 میں لکھتے ہیں کہ (اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْہِ قَآءِمًا) سے معلوم ہوا کہ جس کا حق ہے وہ اس کے پیچھے پڑ سکتا ہے اور مسلسل اس کا پیچھا کرسکتا ہے جس کے اوپر حق ہے۔ و قد دلت الایۃ علی ان للطالب ملازمۃ المطلوب للدین۔ آیت میں اہل کتاب کا تذکرہ تو ہے ہی اس امت کے نادہندہ لوگوں کو بھی تنبیہ ہے قرض لینے اور امانت رکھنے کے لیے تو جلد سے جلد تیار ہوجاتے ہیں اور جب دینے کا وقت آتا ہے تو ٹال مٹول کرتے ہیں۔ صاحب حق کو چکر کھلاتے ہیں۔ پریشان کرتے ہیں امانت کھا جاتے ہیں قرض مار لیتے ہیں۔ پھر بدنیت لوگوں کی اللہ پاک کی طرف سے مدد بھی نہیں ہوتی۔ صحیح بخاری صفحہ 321: ج 1 میں حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے لوگوں کے مال لے لیے جن کی ادائیگی کا وہ ارادہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادا فرما دیتا ہے یعنی اس کی حسن نیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے سہولت پیدا فرما دیتے ہیں اور جس نے لوگوں کے مال لیے جنہیں وہ تلف کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ تلف فرما دیتا ہے (مال اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا اور اس پر قرضہ باقی رہ جائے گا۔ قیامت کے دن حقوق العباد مارنے کی وجہ سے عذاب میں جائے گا) ۔ (کما فی حاشیۃ البخاری عن العینی) یہودیوں کا یہ جھوٹ کہ ہمیں ان پڑھوں کا مال مارنا حلال ہے : یہودیوں پر ایک اور جہالت سوار تھی اور وہ یوں کہتے تھے کہ عرب کے امی لوگوں کا ہمارے لیے سب کچھ حلال ہے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ جو بھی کوئی ہمارے دین پر نہ ہو اس پر ظلم کرنا مال مارنا حلال ہے۔ حضرت حسن نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں عرب لوگوں نے یہودیوں سے خریدو فروخت کے معاملات کیے یہودیوں پر ان کے قرضے تھے جب وہ لوگ مسلمان ہوگئے اور یہودیوں سے تقاضا کیا تو انہوں نے کہا کہ تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں۔ اور نہ ہمارے ذمہ کچھ ادائیگی ہے تم نے اپنا دین چھوڑ دیا اور ہمارے تمہارے درمیان جو عہد تھا وہ ختم ہوگیا اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہم نے یہ بات اپنی کتابوں میں پائی ہے۔ عربوں کو اُمِّیُّوْن (ان پڑھ) کہا کیونکہ یہ لوگ یہودیوں کے مقابلہ میں پڑھے لکھے نہیں تھے یہودیوں نے کہا کہ ان پڑھوں کے ہم نے مال مار لیے تو کیا ہے ان کے مالوں کے بارے میں ہم سے کوئی پوچھ گچھ نہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں کو ہمارے لیے حلال کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور فرمایا (وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَ ھُمْ یَعْلَمُوْنَ ) کہ یہ لوگ اللہ کے ذمہ جھوٹ لگاتے ہیں اور جانتے بھی ہیں کہ ہم جھوٹ کہہ رہے ہیں (معالم التنزیل صفحہ 317۔ 318: ج 1) تفسیر ابن کثیر میں حضرت سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہ جب اہل کتاب نے (لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ) کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کذب اعداء اللّٰہ کہ اللہ کے دشمنوں نے جھوٹ کہا۔ تفسیر ابن کثیر صفحہ 374: ج 1 میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک آدمی نے کہا کہ ہم جہاد میں جاتے ہیں اور ذمی (یعنی وہ کافر جو دار الاسلام میں رہتے ہیں) ہم کو ان کے جو مال مل جاتے ہیں مرغی اور بکری ہم انہیں کھا جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا تم کیا سمجھ کر کھا جاتے ہو اس نے جواب دیا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ تو ایسا ہی ہے کہ جیسے اہل کتاب نے کہا (لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ) جب ذمیوں نے جزیہ ادا کردیا تو تمہارے لیے ان کے مال حلال نہیں ہیں ہاں اگر وہ اپنے نفسوں کی خوشی کے ساتھ دیں تو اور بات ہے۔ جھوٹے فقروں کا طریق کار : اس امت میں بھی بہت سے جھوٹے پیر فقیر ایسے ہیں کہ جن بستیوں میں ان کے کسی باپ دادا سے لوگ مرید ہوگئے تھے ان بستیوں کو اپنا مرید آباد بنا رکھا ہے۔ سالانہ ان علاقوں میں گشت کرتے ہیں اور جو کچھ چاہتے ہیں ان کے مالوں میں سے بلا اجازت لیتے ہوئے چلے جاتے ہیں اور وہ لوگ لحاظ اور مروت کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔ شرعاً اس طرح کا لیا ہوا مال حلال نہیں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ الا لا یحل مال امرء مسلم الا بطیب نفس منہ (خبر دار کسی مسلمان آدمی کا مال حلال نہیں ہے مگر یہ کہ وہ نفس کی خوشی سے دے دے۔ ) کمافی المشکوٰۃ صفحہ 255، بےآبروئی کے ڈر سے یا کسی بھی طرح کے دباؤ سے کوئی شخص اگر اجازت دیدے تب بھی اس کا مال لینا حلال نہیں ہوتا اگرچہ وہ ظاہری طور پر زبان سے اجازت بھی دیدے یا خاموش رہے، اسی لیے طیب نفس کی قید لگائی جو مال طیب نفس سے نہ ملے گا اور یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ جو شخص فاسق ہو اندر سے اس کا باطن پاک نہ ہو اور اسے بزرگ سمجھ کر ہدیہ دیا جائے اگرچہ خوشدلی سے ہو وہ ہدیہ اس کے لیے حلال نہیں ہے۔ (کمافی احیاء العلوم صفحہ 104: ج 2)
Ayah 3:76

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

ہاں جس نے اپنے عہد کو پورا کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ متقیوں کو دوست رکھتا ہے۔

مَنْ اَوْفیٰ بِعَھْدِہٖ وَا تَّقٰی کی تفسیر : آخر میں فرمایا : (بَلٰی مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہٖ وَ اتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ ) کہ یہ بات نہیں ہے کہ ان پڑھوں کے مالوں کو حرام طریقے پر رکھ لینے سے ان پر کوئی مواخذہ نہ ہو ان پر مواخذہ ضرور ہے۔ فی الروح لصفحہ 203: ج 3 بلی جواب لقولھم لیس علینا فی الامیین سبیل وایجاب لما نفوہ والمعنی بلی علیھم فی الامیین سبیل اور من او فی بعھد و اتقی۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ یہودی باو جود ایسی حرکتوں کے جو اوپر ذکر ہوئیں اپنے کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بھی سمجھتے ہیں۔ اللہ کا محبوب وہ ہے جو اس کے عہد کو پورا کرے (عہد میں یہ بھی شامل ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان لائیں) اور گناہوں سے بچے سب سے بڑا گناہ کفر اور شرک ہے اس سے بھی بچے اور لوگوں کے اموال مارنے سے بھی بچے (یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد کا پوری طرح خیال رکھے) جو شخص ایسا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس سے محبت فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ متقی لوگوں کو پسند فرماتا ہے۔ قال ابن کثیر صفحہ 374: ج 1 ای لکن من او فی بعھدہ و اتقی منکم یا اھل الکتاب الذی عاھد کم اللّٰہ علیہ من الایمان بمحمد ﷺ اذا بعث کما اخذ العھد والمیثاق علی الانبیاء و اممھم بذلک و اتقی محارم اللّٰہ و اتبع طاعتہ و شریعتہ التی بعث بھا خاتم رسلہ و سید ھم (فان اللّٰہ یحب المتقین) اس آیت میں عہد پورا کرنے کی اہمیت کا بھی ذکر ہے۔ اللہ سے عہد ہو یا بندوں سے اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ اللہ سے اہل کتاب کا یہ عہد تھا کہ نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان لائیں گے اسے انہوں نے پورا نہ کیا اور ہر مسلمان کا اللہ سے عہد ہے کہ میں آپ کے احکام کی تعمیل کروں گا۔ حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے ایک بات بتا دیجیے جس کے بعد مجھے آپ کے علاوہ کسی اور سے پوچھنا نہ پڑے اور یہ بات اسلام کی باتوں میں سب سے زیادہ جامع ہو آپ نے فرمایا : قال اٰمنت باللّٰہ ثم استقم (تو امنت باللہ کہہ دے اور اس پر جما رہے) ۔ (رواہ مسلم کمافی المشکوٰۃ صفحہ 12) اسلام کا کلمہ پڑھ لینا محض زبانی بات نہیں ہے اس کی ذمہ داریاں ہیں اس میں اللہ تعالیٰ سے اقرار ہے اور عہد ہے کہ میں آپ کے احکام پر چلوں گا جو آپ کی کتاب اور آپ کے رسول کے ذریعے مجھے پہنچے ہیں۔ اسلام کی جو پابندیاں ہیں ہر مسلمان ان کے پورے کرنے کا عہد کرچکا ہے ان کا پورا کرنا لازم ہے اور بندوں سے بھی بہت سے عہد کیے جاتے ہیں ان میں سے جو گناہ نہ ہو اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا (وَ اَوْفُوْا بالْعَھْدِ اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْءُوْلًا) (اور عہد کو پورا کرو بلاشبہ عہد کے بارے میں باز پرس ہونے والی ہے) حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ چار چیزیں جس شخص میں ہوں گی خالص منافق ہوگا اور جس میں ان میں ایک خصلت ہوگی جب تک اسے چھوڑ نہ دے گا اس میں نفاق کی ایک خصلت موجود ہوگی (1) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔ (2) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (3) جب عہد کرے تو دھوکہ دے۔ (4) جب جھگڑا کرے تو گالیاں دے۔ (صحیح بخاری کتاب الایمان)
Ayah 3:77

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

بیشک اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے مقابلہ میں جو لوگ حقیر معاوضہ لیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ان سے اللہ تعالیٰ کلام فرمائے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف نظر فرمائے گا اور نہ ان کو پاک فرمائے گا اور ان کے لیے عذاب ہے دردناک

اللہ کے عہد کے عوض دنیا کمانے والوں کو تنبیہ یہودیوں سے جو اللہ تعالیٰ کا عہد تھا کہ نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائیں گے اس عہد کو انہوں نے اپنے عوام سے چھپایا اور بدل بھی دیا۔ کیونکہ جو صفات تورات شریف میں رسول اللہ ﷺ کی پڑھی تھیں ان کو واقعی طور پر جاننے کے باو جود بھی تغیر و تبدل کردیا اور اپنے عوام کو بتایا کہ جو صفات ہم نے پڑھی ہیں وہ ان پر منطبق نہیں ہوتیں اور اس طرح اپنے عوام کو اپنی جانب کرکے اپنی ریاست باقی رکھی۔ اور اپنے عوام سے رشوت لیتے رہے۔ یہ عہد خداوندی کے عوض حقیر دنیا حاصل کرنا ہوا۔ حضرت عکرمہ ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت ابو رافع اور کنانہ اور حیی اور ان کے علاوہ دیگر رؤساء یہود کے بارے میں نازل ہوئی ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی ان صفات کو چھپا دیا جو تورات شریف میں مذکور تھیں اور ان کو بدل کر دوسری صفات اپنے قلم سے لکھ دیں اور انہوں نے قسم کھائی کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے تاکہ رشوتیں اور کھانے پینے کے طریقے جو جاری کر رکھے تھے وہ ہاتھ سے نہ جائیں۔ اور ان کے اتباع سے جو کچھ ملتا تھا وہ ملتا رہے۔ جھوٹی قسم اور اس کا و بال : یہودی مالیات کے سلسلے میں جھوٹی قسمیں بھی کھا جاتے تھے اور اس طرح کی حرکتیں دوسرے لوگوں سے بھی صادر ہوتی ہیں اس لیے کسی جماعت کا نام لینے کے بجائے عمومی بات ذکر فرما دی کہ جو لوگ ایسا ایسا کریں گے ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر سخت غصہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ فرمائے گا۔ اور ان کی طرف نظر رحمت سے بھی نہیں دیکھے گا۔ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے فرمائیں۔ صاحب روح المعانی صفحہ 204: ج 3 میں لکھتے ہیں کہ یہ لوگ اس لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے خود حساب لے، بلکہ فرشتے ان سے بات کریں گے اور حساب لیں گے۔ ولا یزکیھم کی تفسیر کرتے ہوئے علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ 319: ج 1 میں فرماتے ہیں ای لا یثنی علیھم بالجمیل ولایطھر ھم من الذنوب کہ اللہ تعالیٰ ان کو اچھائی کے ساتھ یاد نہ فرمائے گا اور انہیں گناہوں سے پاک نہ کرے گا۔ اور حافظ ابن کثیر صفحہ 375: ج 1 میں لکھتے ہیں کہ ای من الذنوب و الادناس ویامربھم الی النار یعنی اللہ تعالیٰ ان کو گناہوں سے پاک نہیں کرے گا اور ان کو دوزخ میں بھیج دے گا۔ (نہ ان کی مغفرت ہوگی جس سے گناہ معاف ہوں اور نہ یہ ہوگا کہ کچھ مدت کے لیے دوزخ میں بھیج کر گناہوں کی سزا دے کر پاک صاکر کے جنت میں بھیجا جائے جیسا کہ بعض گنہگار اہل اسلام کے ساتھ ہوگا) (وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے جس سے کبھی نہ نکلیں گے۔ صحیح بخاری صفحہ 366: ج 1 میں ہے کہ حضرت اشعث بن قیس ؓ نے بیان فرمایا کہ میرے اور ایک یہودی شخص کے درمیان زمین کے بارے میں مخاصمت تھی اس نے انکار کردیا اور کہا کہ تمہارا کوئی حق نہیں۔ میں اسے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں لے گیا۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس گواہ ہیں میں نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے یہودی سے فرمایا کہ تو قسم کھا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ تو قسم کھالے گا اور میرا مال لے جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر آیت نازل فرمائی (اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا) (الآیۃ) ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا کہ جو بھی کوئی شخص جھوٹی قسم کھالے تاکہ کسی کا مال اس کے ذریعہ حاصل کرے تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کی تصدیق نازل فرمائی۔ اس کے بعد حضرت ابن مسعود ؓ نے آیت بالا تلاوت فرمائی۔ روای حدیث حضرت ابو وائل (شاگرد ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت اشعث سے میری ملاقات ہوئی انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ بن مسعود نے آج تم سے کیا بیان کیا میں نے ان سے حدیث بالا بیان کردی اور عرض کردیا کہ آخر میں انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ حضرت اشعث نے فرمایا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری صفحہ 368: ج 1) حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ؓ نے بیان فرمایا کہ ایک شخض مال بیچنے کے لیے کھڑا ہوا اور اس نے اللہ کی قسم کھالی کہ میں نے اس کے عوض اتنا اتنا مال دیا ہے (اور یہ جھوٹ تھا۔ کیونکہ اس نے اتنا مال نہیں دیا تھا جتنا اس نے بتایا۔ تاجروں کی عادت ہوتی ہے کہ زیادہ نفع کمانے کے لیے گاہک کے سامنے جھوٹی قسم کھا جاتے ہیں کہ میں نے تو خود اتنے میں خریدا ہے) اس پر آیت (اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَ اَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا) نازل ہوئی۔ (صحیح بخاری صفحہ 367: ج 1) مذکورہ بالا روایات سے آیت کے چند اسباب نزول معلوم ہوئے بیک وقت چند چیزیں جمع ہوگئی ہوں جو آیت نازل ہونے کا سبب بن گئیں اس میں کوئی بعد نہیں۔ آیت شریفہ میں اللہ کے عہد کو بدلنے والوں اور جھوٹی قسم کھا کر دوسروں کا مال حاصل کرنے والوں کی مذمت فرمائی ہے اور ان کی آخرت کی سزا ذکر کی ہے۔ آیت کا مضمون عام ہے اور ہر اس شخص کو شامل ہے جو اس طرح کی حرکت کرے۔ حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین شخص ایسے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ ان سے کلام نہ فرمائے گا۔ ان کے لیے عذاب الیم ہے حضرت ابوذر ؓ نے عرض کیا ان کا برا ہو اور نقصان میں پڑیں۔ کون ہیں یہ لوگ یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا اپنے کپڑوں کو ٹخنے سے نیچے لٹکانے والا اور (کسی کو کچھ دے کر) احسان جتانے والا۔ اور اپنی بکری کے سامان کو جھوٹی قسم کے ذریعہ چالو کرنے والا۔ (صحیح مسلم) نیز حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قسم سودا بکوا دیتی ہے اور برکت کو ختم کردیتی ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 243: ج 1 از بخاری و مسلم) بہت سے لوگ حاکم کے ہاں جھوٹا مقدمہ لے جاتے ہیں بعض مرتبہ مدعی جھوٹا ہوتا ہے اور جھوٹے گواہ پیش کردیتا ہے اور بعض مرتبہ مدعی علیہ جھوٹا ہوتا ہے وہ جھوٹی قسم کھا جاتا ہے۔ حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے اس چیز کا دعویٰ کیا جو اس کی نہیں ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور ایسا شخص اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنا لے۔ (رواہ مسلم) حضرت عبداللہ بن انیس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بڑے بڑے گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور ماں باپ کو تکلیف دینا ہے۔ جھوٹی قسم کھانا ہے اور جس کسی شخص نے بھی اپنی بات پر جمتے ہوئے قسم کھائی اور اس میں مچھر کے پر کے برابر بھی کوئی جھوٹی بات داخل کردی تو وہ قسم قیامت کے دن تک اس کے لیے سیاہ داغ بن جائے گی۔ (رواہ الترمذی کمافی المشکوٰۃ صفحہ 328)
Ayah 3:78

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور بلاشبہ ان میں ایک گروہ ایسا ہے جو اپنی زبانوں کو موڑ کر کتاب بیان کرتا ہے تاکہ تم اس کو کتاب سے سمجھو حالانکہ وہ کتاب سے نہیں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے پاس سے ہے حالانکہ وہ اللہ کے پاس سے نہیں ہے اور وہ اللہ پر جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔

بعض اہل کتاب، کتاب اللہ میں تحریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے ہے یہ آیت بھی یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی یہ لوگ تورات شریف میں تحریف اور تغیر کرتے تھے۔ بیان کرتے ہوئے اس انداز سے زبان موڑ کر بات کر جاتے تھے کہ سننے والا یہ سمجھ لے کہ جو کچھ کہہ رہے ہیں یہ اللہ کی کتاب میں سے ہے رسول اللہ ﷺ کی صفات جو تورات شریف میں پائی تھیں ان کو بدل دیا اور آیت رجم کو چھپالیا۔ تحریف کرتے ہوئے جو بات کہتے تھے اس کو ایسے انداز میں پیش کرتے تھے کہ سننے والا یہ سمجھے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ بات خود تراشیدہ ہوتی تھی۔ اَلْسِنَتَھُمْ کا جو مطلب اوپر عرض کیا گیا اس کی ایسی مثال ہے جیسے ایک شخض سے مدعی نے کہا کہ تو کعبہ کی قسم کھا اس نے زبان دبا کر کا بک کی قسم کھالی دوسرے کاف کی طرف مدعی اور دوسرے سننے والوں کا ذہن بھی نہ گیا انہوں نے سمجھا کہ اس نے واقعی کعبہ کی قسم کھالی۔ پھر جب مجلس سے جدا ہوا تو اس کے متعلقین نے کہا کہ تو نے جھوٹی قسم کھائی تو کہنے لگا کہ میں نے تو کا بک کی قسم کھائی ہے۔ کابک بعض علاقوں میں کبوتر بند کرنے کے پنجرے کو کہتے ہیں۔ کعبہ کی قسم کھانا بھی جائز نہیں ہے ایک مثال ذہن میں آئی تھی عرض کردی اس طرح کے اور بھی واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ صاحب معالم التنزیل فرماتے ہیں کہ یہ کلمہ لوی لسانہ عن کذا سے ماخوذ ہے اور یہ غیر کے معنی میں ہے۔ حافظ ابن کثیر اس کا معنی بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ : یحرفون الکلم عن مواضعہ و یبدلون کلام اللّٰہ و یزیلونہ عن المراد بہ لیو ھموا الجھلۃ انہ فی کتاب اللّٰہ کذلک و ینسبونہ الی اللّٰہ ھو کذب علی اللّٰہ و ھم یعلمون من انفسھم انھم قد کذبوا و افتروا فی ذلک کلہ۔ حافظ بغوی اور حافظ ابن کثیر نے زبان موڑ کر بیان کرنے کا معنی یہی لیا ہے کہ وہ اللہ کی کتاب میں تحریف کرتے ہیں یعنی اس کا مطلب غلط بتاتے ہیں اور لوگوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ ہم نے اللہ کی کتاب کا مطلب تمہارے سامنے صحیح بیان کیا ہے وہ لوگ تحریف کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے لکھ کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے اور جان بوجھ کر یہ گناہ کرتے تھے۔ سورة بقرہ میں فرمایا : (فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْھِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلاً فَوَیلٌ لَّھُمْ مِّمَّا کَتَبَتْ اَیْدِیْھِمْ وَ وَیلٌ لَّھُمْ مِّمَّا یَکْسِبُوْنَ ) چونکہ اللہ کی کتاب کی تعلیم ان کے ہاں عام نہیں تھی اور چند علماء ہی ٹھیکیدار بنے ہوئے تھے اس لیے اپنے عوام کو جو چاہتے تھے سمجھا دیتے تھے۔ امت محمدیہ میں بھی بعض فرقے جو اہل ہویٰ ہیں حقیر دنیا کے لیے اہل کتاب کی نقل اتارتے ہیں ایک واعظ صاحب جو رسول اللہ ﷺ کی بشریت کے منکر تھے اپنے عوام کو خوش کرنے کے لیے (قُل اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ) کا ترجمہ کرتے ہوئے ماکو نافیہ بتا گئے اور اس سے بشریت کی نفی ثابت کر گئے اہل ہویً کا یہ طریقہ ہوتا ہے کہ خواہ کافر ہی ہوجائیں لیکن ان کے عوام ناراض نہ ہوں۔ اور عوام سے جو ملتا ہے وہ ملتا رہے۔
Ayah 3:79

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کسی بشر سے یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ اسے کتاب حکمت اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے یوں کہے کہ تم اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ اور لیکن وہ یہ کہے گا کہ تم اللہ والے ہوجاؤ اس وجہ سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس وجہ سے کہ تم پڑھتے ہو

ہر نبی کی دعوت ہوتی تھی کہ اللہ والے بن جاؤ لباب النقول صفحہ 54 میں ہے کہ جب مدینہ کے یہودی اور نجران کے نصاریٰ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جمع ہوئے اور آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی تو ابو رافع نے کہا (جو یہود کے قبیلہ بنی قریظہ سے تھا) اے محمد ! آپ جو چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی عبادت کریں جیسے نصرانی عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں آپ نے فرمایا معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) میں ایسی دعوت کیوں دینے لگا ؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ اور حضرت حسن بصری ؓ نے فرمایا کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ہم آپ کو اسی طرح سلام کرتے ہیں جیسے آپس میں ایک دوسرے کو سلام کیا جاتا ہے کیا ہم ایسا نہ کریں (کہ آپ کی رفعت اور عظمت ظاہر کرنے کے لیے) آپ کو سجدہ کریں آپ نے فرمایا نہیں ایسا نہ کرو اپنے نبی کا اکرام کرو اور صاحب حق کا حق پہچانو۔ کیونکہ اللہ کے سوا کسی کے لیے سجدہ کرنا درست نہیں ہے اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ (روح المعانی صفحہ 207: ج 3) اوپر آیت کے دو سبب نزول بیان ہوئے اگر دونوں ہی ہوں تو اس میں کوئی بات قابل اشکال نہیں آیت میں صاف صاف واضح طور پر بیان فرمایا کہ جس کسی بشر کو اللہ پاک کتاب اور حکمت عطا فرمائے اور نبوت سے نوازے اس کے لیے کسی طرح سے بھی یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو اپنے بندہ بنانے کی دعوت دے۔ نبیوں کا کام تو یہ تھا کہ لوگوں کو خدائے پاک کی بندگی کی طرف بلائیں اور خدا کا بندہ بنائیں وہ خدائے پاک کی عبادت چھڑا کر اپنی عبادت یا کسی بھی غیر اللہ کی طرف دعوت نہیں دے سکتے اس میں نصاریٰ کی تردید ہوگئی جو یہ کہتے تھے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی اور اپنی ماں کی عبادت کی دعوت دی ہے۔ اور یہودیوں کے اس قول کا بھی رد ہوگیا جنہوں نے کہا کہ اے محمد ! تم اپنی عبادت کرانا چاہتے ہو۔ جس کسی بھی بندہ کو اللہ نے نبوت سے سر فراز فرمایا اس نے یہی دعوت دی کہ تم ربانی بن جاؤ، اللہ پر ایمان لاؤ اسی کی عبادت کرو۔ قولہ تعالیٰ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْکِتَابَ وَ بِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ ، اس کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب روح المعانی صفحہ 208: ج 2 میں لکھتے ہیں کہ الباء السببیۃ متعلقۃ بکونوا ای کونوا کذلک بسبب مثابر تکم علی تعلیمکم الکتاب و دراستکم لہ و المطلوب ان لا ینفک العلم عن العمل اذلا یعتد احد ھما بدون الآخراس کا مطلب یہ ہے کہ باء سببیہ ہے جار مجرور کُوْنُوْا سے متعلق ہے۔ یعنی تم لوگ ربانی ہوجاؤ۔ اس وجہ سے کہ تم کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور کتاب کو پڑھتے ہو جس کتاب کی تعلیم دیتے ہو اور جس کو پڑھتے پڑھاتے رہے ہو اس کا تقاضا یہی ہے کہ ربانی بنو اور جو تمہارے پاس علم ہے اس پر عمل کرو کیونکہ علم بغیر عمل کے معتبر نہیں اور عمل بغیر علم کے صحیح نہیں۔ ربانی کون ہیں ؟ لفظ رَبّٰنِیّٖنَربانی کی جمع ہے جو رب کی طرف منسوب ہے نسبت میں الف اور نون زائد کردیا گیا ہے۔ لفظ ربانی کا معنی بتاتے ہوئے حضرات مفسرین کرام نے صحابہ ؓ اور تابعین کے متعدد اقوال نقل کیے ہیں معالم التنزیل صفحہ 320: ج 1 میں حضرت علی اور ابن عباس اور حسن سے کونوا ربانیین کا معنی نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کونوا فقھاء، علماء اور حضرت قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ حکماء و علما اور سعید بن جبیر نے فرمایا العالم الذی یعمل بعلمہ اور حضرت ابن عباس کا ایک قول یہ ہے۔ فُقَھَاء مُعَلِّمِیْناور حضرت علی ؓ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا ہے۔ ھو الذی یوتی علمہ بعملہ۔ مجموعی طور پر ان سب اقوال کا خلاصہ یہی ہوا کہ ربانی وہ لوگ ہیں جو اہل علم ہیں فقیہ ہیں حکیم ہیں متقی ہیں اپنے علم پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی حق کی راہ بتاتے ہیں اور حق پر چلاتے ہیں۔ اور ایمان تو بہر حال ثواب اور نجات آخرت کے لیے شرط ہے ہی، یہ سب چیزیں ہوں اور باایمان ہو تب ربانی کا مصدق ہوگا جس کا ترجمہ حضرت حکیم الامت تھانوی نے اللہ والے فرمایا۔ یہ ترجمہ بہت جامع ہے اس میں علم اور عمل تعلیم تدریس عبادت اخلاق حسنہ سب کچھ آجاتا ہے۔ ربانیین کی ذمہ داری ہے کہ خود بھی عمل کریں اور دوسروں کو بھی عمل پر ڈالیں۔ سورة مائدہ میں فرمایا (لَوْ لَا یَنْھٰھُمْ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِھِمُ الْاِثْمَ وَ اَکْلِھِمُ السُّحْتَ ) (کیوں نہیں روکتے ان کو ربانی لوگ اور اہل علم گناہ کی باتیں کرنے سے اور حرام کھانے سے)
Ayah 3:80

وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 3:80 in the Quran reader

اور وہ تمہیں یہ حکم نہیں دے گا کہ تم فرشتوں کو اور نبیوں کو رب بنا لو کیا وہ تم کو کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم مسلمان ہو۔

غیر اللہ کو رب بنانے کی ممانعت : پھر فرمایا (وَ لَا یَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلآءِکَۃَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا) (کہ نبی تم کو یہ حکم نہیں دیتا کہ تم فرشتوں کو اور پیغمبروں کو اپنا رب بنا لو) تمام انبیاء (علیہ السلام) توحید کی دعوت دینے کے لیے تشریف لائے تھے وہ غیر اللہ کو رب ماننے کی دعوت کیسے دے سکتے تھے ؟ (اَیَاْمُرُکُمْ بالْکُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) (کیا نبی تم کو کفر کا حکم دے گا بعد اس کے کہ تم اللہ کے فرمانبر دار ہو) ۔ اگر تم موحد ہو تو نبی تم کو توحید سے کیوں ہٹائے گا ؟ وہ شرک کی دعوت نہیں دے سکتا۔ ہاں اپنی نبوت اور رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دے گا۔ جس کا وہ مامور ہے اور جس پر ایمان لائے بغیر تم مومن نہیں ہوسکتے اور تمہارا عقیدہ توحید اس پر ایمان لائے بغیر تمہیں نجات نہیں دلا سکتا۔ حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت یہ تھی کہ صرف اللہ کے بندے بنو اسی کی عبادت کرو نبی آخر الزمان حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی اسی کی دعوت دی اور اسی دعوت پر محنت کی۔ اور آپ کے صحابہ ؓ نے بھی اسی دعوت کے لیے مشقت اٹھائی اور جہاد کیے۔ ایک مرتبہ فارس کے جہاد کے موقع پر حضرت ربعی بن عامر ؓ بطور سفیر رستم کے پاس تشریف لے گئے۔ رستم اہل فارس کا صاحب اقتدار تھا۔ رستم نے کہا کہ تم لوگ کیوں آئے ہو انہوں نے فرمایا کہ اللہ نے ہم کو بھیجا ہے تاکہ ہم بندوں کی عبادت سے نکال کر اللہ کی عبادت کی طرف لے جائیں اور موجودہ دین میں ان کے ظلم سے بچا کر اسلام کے عدل کی طرف لے آئیں۔ (کما ذکر ابن کثیر فی البدایۃ فی ذکر یوم القادسیہ) دور حاضر میں بہت سے ایسے پیر و فقیر ہیں جنہیں نہ شریعت سے تعلق ہے نہ طریقت کو جانتے ہیں، سجا دے بنے ہوئے گدیاں سنبھالے ہوئے ہیں۔ اپنے مریدوں سے خود اپنے کو سجدہ کراتے ہیں اور ان قبروں کو بھی جن کو کسب دنیا کا ذریعہ بنا رکھا ہے طریقت تو شریعت کی خادم ہے۔ بیعت اور ارشاد اور تصوف و سلوک اسی لیے ہے کہ انسان اللہ کے بندے بنیں اور اس کی عبادت میں لگیں نہ اس لیے کہ غیر اللہ کو سجدے کیے جائیں۔
Ayahs 3:81–82

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:81 in the Quran reader

اور جب اللہ نے نبیوں سے عہد لیا کہ میں جو کچھ بھی تم کو کتاب اور حکمت عطا کروں پھر آجائے تمہارے پاس رسول جو تصدیق کرنے والا ہو اس چیز کی جو تمہارے پاس ہے تو تم ضرور اس پر ایمان لاؤ گے اور ضرور ضرور اس کی مدد کرو گے۔ فرمایا کیا تم نے اقرار کرلیا اور تم نے اس پر میرا مضبوط عہد قبول کرلیا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ہم نے اقرار کرلیا، فرمایا سو تم گواہ رہو اور میں تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں

فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:82 in the Quran reader

پھر جو شخص اس کے بعد رو گردانی کرے گا سو یہی لوگ نافرمان ہیں۔

حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کا عہد لینا ان دو آیتوں میں اس عہد کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے لیا۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی سے یہ عہد لیا کہ تمہاری موجودگی میں جو دوسرا کوئی نبی آئے گا اس پر ایمان لانا اور اپنی امت کو بھی اس پر ایمان لانے کی دعوت دینا تبلیغ کرنا اور اس نبی کی مدد کرنا۔ اگر تمہاری موجودگی میں کوئی نبی نہ آئے تو اپنی امت کو تاکید کردینا کہ اس نبی پر ایمان لانا جو میرے بعد آئے اور اس کی تصدیق اور اس کی مدد کرنا۔ اسی سلسلہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عہد لیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائیں۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے عہد لیا کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائیں۔ یہ اس صورت میں ہے کہ جبکہ رسول کی تنوین تنکیر کے لیے ہو اور بعض مفسرین نے یوں بیان فرمایا کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے سب نبیوں سے عہد لیا کہ تمہاری موجودگی میں محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں گے تو ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا اور اپنی امتوں کو بھی اس کا حکم دینا کہ ان میں سے جو بھی ان کا زمانہ پالے ان پر ایمان لائے اور ان کی مدد کرے۔ (معالم التنزیل صفحہ 322: ج 1) عہد لے کر اللہ تعالیٰ نے تاکیداً فرمایا (ءَ اَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ ) (کیا تم نے اقرار کرلیا اور اس پر تم نے میرا مضبوط عہد لے لیا) سب نے عرض کیا کہ ہاں ہم نے اس کا اقرار کرلیا اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ تم گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔ یہ عہد حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے بھی لیا اور ان کے واسطے سے ان کی امتوں سے بھی لیا۔ اس عہد کو جن لوگوں نے پورا نہ کیا ان کے بارے میں فرمایا : (فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ) کہ جس نے اس عہد کے بعد رو گردانی کی عہد کو پورا نہ کیا کسی بھی ایک نبی کو جھٹلایا تو ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے نافرمان ہیں اور نافرمانی کے بدترین مرتبہ میں ہیں کیونکہ وہ کافر ہیں۔ (قال فی الروح ای الخار جون فی الکفر الی افحش مراتبہ) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سے تو اللہ کی نافرمانی کا صدور ہو ہی نہیں سکتا۔ ان کی امتوں نے اس عہد سے منہ موڑا اور کفر اختیار کیا۔ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائے اور یہود و نصاریٰ دونوں قومیں محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کی منکر ہو کر کفر پر مصر رہیں۔ خاتم النّبیین ﷺ کی فضیلت : شیخ ابو الحسن تقی الدین السبکی (رح) کا مستقل ایک رسالہ ہے جو آیت بالا کی تفسیر سے متعلق ہے اس رسالہ کا نام التعظیم والمنّۃ فی لَتُؤْمِنُنَّ بَہٖ وَ لَتَنْصُرُنَّہٗہے جو فتاویٰ سبکی میں صفحہ 38: ج 1 سے شروع ہے۔ علامہ سبکی فرماتے ہیں کہ مفسرین نے فرمایا ہے کہ رسول مصدق سے مراد اس آیت میں ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں اور کوئی نبی ایسا نہیں جس سے اللہ نے یہ عہد نہ لیا ہو کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کروں گا اگر وہ تمہارے زمانہ میں آئیں تو تم ان پر ایمان لانا اور ان کی مدد کرنا اور اپنی امت کو اس کی وصیت کرنا۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اور اخذ میثاق میں نبی اکرم ﷺ کی جس عظمت شان کا بیان ہے وہ پوشیدہ نہیں اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر انبیاء کرام کے زمانہ میں آپ کی بعثت ہوتی تو آپ ان کے لیے بھی مرسل ہوتے اور اس طرح سے آپ کی نبوت اور رسالت تمام مخلوق کو عام ہوگئی۔ آدم (علیہ السلام) سے لے کر اخیر زمانے تک۔ اور اس طرح سے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کی امتیں سب آپ کی امت میں داخل ہیں۔ اور آپ کا ارشاد ہے بعثت الی الناس کافۃً صرف انہیں لوگوں سے متعلق نہیں ہے جو آپ کے زمانہ سے لے کر قیامت تک ہوں گے بلکہ ان لوگوں سے بھی متعلق ہے جو آپ سے پہلے تھے۔ اور اس سے آپ کے ارشاد کنت نبیا و آدم بین الروح والجسد کا معنی بھی واضح ہوجاتا ہے۔