Ayah 3:151کافروں کے قلوب میں رعب ڈالنے کا وعدہ :
(سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ ) صاحب روح المعانی اس کا سبب نزول بتاتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ جب ابو سفیان اور اس کے ساتھی غزوہ احد کے بعد مکہ مکرمہ کی طرف چل دئیے اور کچھ دور پہنچ گئے تو نادم ہوئے اور کہنے لگے کہ تم لوگوں نے برا کیا، چاہیے تھا کہ ان لوگوں کو (یعنی سب مسلمانوں کو) قتل کر کے آتے یہاں تک کہ ان میں اس کے سوا کوئی بھی نہ باقی رہتا جو ادھر ادھر نکلا ہوا ہو لہٰذا واپس چلو اور ان سب کو ختم کر کے آؤ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہیں سے واپس چلے گئے البتہ ایک اعرابی کو اس پر کچھ دینا کیا کہ تو مدینہ منورہ پہنچے تو محمد ﷺ کے ساتھیوں کو یہ کہہ دینا کہ ہم نے ان کے لیے ایسی ایسی تیاری کر رکھی ہے، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو اس بات کی خبر دے دی آپ نے مقام حمراء الاسد تک اپنے صحابہ کو بھیجا تاکہ ان کا پیچھا کریں وہ لوگ جا چکے تھے کہیں ملاقات نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کا ذکر فرمایا کہ ہم ان کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے، اور رعب ڈالنے کا سبب بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ (بِمَآ اَشْرَکُوْا باللّٰہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا) کہ ہمارے اس رعب ڈالنے کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ شرک کیا جس کی کوئی دلیل اور سند اللہ نے نازل نہیں فرمائی۔ دنیا میں ان کے دلوں میں رعب ڈال کر مومنین کو محفوظ رکھا اور ان کا آخرت کا عذاب بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ مَاْوٰھُمُ النَّارُ ) کہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے (وَ بِءْسَ مَثْوَی الظّٰلِمِیْنَ ) اور وہ ظالموں کا برا ٹھکانہ ہے۔ آیت کے انداز بیان سے معلوم ہو رہا ہے کہ شرک باللہ رعب واقع ہونے کا سبب ہے اور یہ آزمائی ہوئی بات ہے حضرات صحابہ ؓ نے جب فارس کی طرف رخ کیا تو وہاں کے مشرکین آتش پرست بڑی بھاری تعداد میں ان کے مقابلہ میں آتے تھے۔ پھر جب معرکہ شروع ہوتا تھا ان کے کشتوں کے پشتے لگ جاتے تھے اور بچے کھچے بےتحاشا بھاگ جاتے تھے صلیبی جنگوں میں بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے۔ ہندوستان پر جب مسلمانوں نے حملے کیے تو مشرکین رعب کھا گئے، مقتول ہوئے اور راہ فرار اختیار کی اور فاتحین نے ان کے ملک پر توحید کے جھنڈے لہرا دئیے۔ شرک کے مزاج میں مرعوبیت اور توحید کے مزاج میں شجاعت دلیری اور بہادری ہے۔
دین حق وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہو :
(مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطَانًا) سے یہ بات بتائی ہے کہ زندگی گزارنے کا طریق کار وہی صحیح ہے جس کی اللہ کی طرف سے سند اور دلیل ہو انسان فطری طور پر اس بات کو مانتا ہے کہ میں مخلوق ہوں اور میرا کوئی خالق اور مالک اور معبود ہے لیکن جنہوں نے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کا دامن نہیں پکڑا انہوں نے اپنے خالق اور مالک حقیقی کی عبادت میں شرک کی ملاوٹ کردی وہ اپنے خالق کی بھی عبادت کرتے ہیں اور مخلوق کی بھی عبادت کرتے ہیں۔ اور بہت سے لوگوں نے اپنے خالق اور مالک کے بارے میں ایسے عقیدے تجویر کرلیے ہیں، جو گمراہی پر مبنی ہیں۔ عقائد اور عبادات کے بارے میں اپنی طرف سے کچھ تجویر کرلینا بالکل گمراہی ہے اسلام کے علاوہ دنیا میں جو مذاہب معروف ہیں اور ان میں جو عبادات کے طریقے رائج ہیں ان کے ماننے والے اپنے عقائد اور اعمال کے بارے میں کسی بھی طرح یہ ثابت نہیں کرسکتے کہ ان کے یہ عقائد اور اعمال ان کے مذہب کے بانیوں نے یا بعد کے لوگوں نے بنائے ہیں اور بتائے ہیں جو عقیدہ اور عمل خالق کی طرف سے نہ بتایا گیا ہو اس کو
زندگی کا مشغلہ بنانا اور اس پر نجات کی امید رکھنا عقل و فہم کی رو سے کسی بھی طرح صحیح نہیں۔ ایسے عقائد اور اعمال کے اختیار کرنے کی وجہ سے یہ امید رکھنا کہ موت کے بعد نجات ہوگی اور عذاب سے محفوظ ہوں گے بہت بڑی نادانی ہے جو عقل و دانش کے سراسر خلاف ہے۔ ان سب لوگوں سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ خالق کی ذات وصفات کے بارے میں جو عقائد رکھتے ہو اور جن طریقوں سے تم اس کی عبادت کرتے ہو کیا تمہارے پاس اس کی کوئی سند ہے کہ خداوند قدوس جل مجدہ نے تمہیں یہ عقائد اور اعمال بتائے ہیں۔ مشہور ادیان میں نصاریٰ کا دین بھی ہے نصاریٰ کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ فرمایا ہو کہ میں اللہ کا بیٹا ہوں یا یہ فرمایا ہو کہ لوگ مجھے قتل کردیں گے اور میرے قتل کے بعد جو شخص یہ عقیدہ رکھے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کو قتل کر اکر ان سب لوگوں کو نجات دے دی جو ان کو اللہ کا بیٹا مانیں۔ ان میں سے کوئی بات بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے نہیں فرمائی۔ یہ سب باتیں عرصہ دراز کے بعد تجویز کی گئیں ہر مذہب والا اس بات پر غور کرے کہ میں جس دین پر ہوں میرے پاس اس کی کیا دلیل اور سند ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس دین پر چلنے کا حکم دیا ہے اور اس پر چل کر آخرت میں میری نجات ہوگی۔ قرآن شریف نے واضح طور پر بتادیا کہ ہر عقیدہ اور ہر عبادت وہی صحیح ہے جس کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعلیم دی گئی ہو اور جو سند صحیح کے ساتھ بندہ تک پہنچی ہو سب کو معلوم ہے کہ دین اسلام کے علاوہ کوئی دین ایسا نہیں ہے جو اس بات کی سند پیش کرسکے کہ میرا دین اللہ کی طرف سے ہے۔ پس جب ان لوگوں کے پاس اپنے اپنے دین کے صحیح ہونے کی سند خالق ومالک جل مجدہ کی طرف سے نہیں ہے تو ہر شخص اس دین پر آئے جو دین اللہ جل شانہ نے بھیجا ہے اور تمام انسانوں کی نجات اسی پر رکھی ہے اور وہ دین اسلام ہے۔ ادامنا اللّٰہ علیہ و اما تنا علیہ۔
Ayah 3:152غزوہ احد میں شکست کے اسباب کیا تھے ؟
ان آیات میں مسلمانوں کی اس عارضی شکست کے اسباب بیان فرمائے جو انہیں غزوہ احد میں پیش آگئی تھی۔ اور ابتداءً جو مسلمانوں کو غلبہ ہوا تھا اس کا بھی تذکرہ فرمایا، نیز مسلمانوں کو غم کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ایک آرام اور چین کی صورت پیش آگئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اونگھ کا غلبہ فرما دیا تھا تاکہ غم غلط ہوجائے اس کا بھی تذکرہ فرمایا۔
جب رسول اللہ ﷺ نے تیر اندازوں کے ایک دستہ کو ایک پہاڑی پر مقرر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ تم یہاں سے مت ٹلنا اور یہ کہ ہم برابر غالب ہی رہیں گے جب تک کہ تم اپنی جگہ پر ثابت قدم رہوگے، اس وعدہ کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کی زبانی فرمایا تھا مسلمانوں کو ابتدا میں فتح حاصل ہوئی اور وہ دشمنوں کو باذن اللہ قتل کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مشرکین کی عورتیں جن میں ہند بنت عتبہ بھی تھیں، بھاگنے لگیں اپنے سامان میں سے قلیل یا کثیر اٹھا کر چلنے کا بھی ان کو ہوش نہ رہا۔ لیکن فتح دیکھنے کے بعد (جو مسلمانوں کو محبوب تھی) تیر انداز حضرات (جو پہاڑی پر مقرر تھے) نے اول تو آپس میں اختلاف کیا کہ ہم کیا کریں اختلاف کرنا ہی صحیح نہ تھا کیونکہ یہ ارشاد نبوی ﷺ کے خلاف تھا (اس کو (تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ ) سے تعبیر فرمایا) اور پھر اکثر افراد پہاڑی کو چھوڑ کر چلے ہی گئے اور مال غنیمت لینے لگے (اس کو (وَ عَصَیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ مَآ اَرٰکُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ ) میں بیان فرمایا) اور مال غنیمت کے لوٹنے میں مشغول ہونے کے بارے میں (مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا) فرمایا۔ جب دشمنوں نے پہاڑی خالی دیکھی تو پلٹ کر حملہ آور ہوئے اور مسلمانوں کو مقابلہ کی ہمت نہ رہی۔ اور دشمنوں کا دفاع نہ کرسکے اس کو (ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْھُمْ ) سے تعبیر فرمایا اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اس میں تمہاری آزمائش مقصود تھی (لِیَبْتَلِیَکُمْ ) ساتھ ہی معافی کا اعلان بھی فرمایا دیا (وَ لَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ وَ اللّٰہُ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ )
کافروں کے پلٹ کر حملہ کرنے سے جو مسلمانوں میں انتشار ہوا اور میدان چھوڑ کر چل دیئے تو رسول اللہ ﷺ کی آواز (اِلیَّ عِبَاد اللّٰہ) پر بھی متوجہ نہیں ہوئے (مگر چند افراد) تو اللہ تعالیٰ نے غم کے بدلہ غم پہنچایا یعنی رسول اللہ ﷺ کو جو تم نے تکلیف پہنچائی تھی اس تکلیف کے بدلہ تم کو تکلیف پہنچائی گئی۔ اس کو (اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلیٰٓ اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ فِیْٓ اُخْرٰلکُمْ فَاَثَابَکُمْ غَمًّا بِغَمٍّ ) میں بیان فرمایا ہے۔
تُصْعِدُوْنَباب افعال سے ہے صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس کا معنی ذھاب اور ابعادفی الارض ہے بعض حضرات نے اس کے مشہور معنی بھی لیے ہیں۔ اور گھوڑوں کا چڑھنا مراد لیا ہے۔
Ayah 3:153غَمًّا بِغَمٍّکی ایک تفسیر تو یہی ہے جو ابھی اوپر بیان ہوئی اور اس کے علاوہ مفسرین کے اور بھی چند اقوال اس کی تفسیر کے بارے میں بیان کیے گئے ہیں جن میں سے ایک قول یہ ہے کہ ایک غم تو مقتول اور مجروح ہونے اور مشرکین کے غالب ہونے کی وجہ سے تھا اور دوسرا غم وہ تھا جو رسول اکرم ﷺ کی شہادت کی خبر اڑ جانے سے ہوا (اس صورت میں باء مصاحبت کے لیے ہوگی) مزید اقوال جاننے کے لیے روح المعانی کا مطالعہ کیا جائے۔
غم پہنچنے میں بھی حکمت :
پھر فرمایا (لِّکَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ وَ لَا مَآ اَصَابَکُمْ ) (تاکہ تم غمگین نہ ہو اس چیز پر جو تم سے جاتی رہے اور نہ اس مصیبت پر جو تم کو پہنچ جائے) مطلب یہ ہے کہ جو غم تم کو پہنچا اس میں حکمت ہے کہ تم میں پختگی ہوجائے اور آئندہ جب کبھی کوئی مشکل در پیش ہو مثلاً کوئی چیز جاتی رہے یا کوئی مصیبت آپڑے تو تم صبر کرو۔ صبر کی عادت ہوجانے سے ہر مشکل آسانی سے گزر جائے گی اور یہ تو معلوم ہی ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے صبر سے اللہ کی مددنازل ہوتی ہے۔
Ayah 3:154غم غلط کرنے کے لیے نیند کا غلبہ :
مسلمانوں کو جو تکلیف پہنچ گئی اور شکست کا جو سامنا ہوا (جو بہت بڑا غم تھا) اس غم کو غلط کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر اونگھ بھیج دی اور اتنی زیادہ اونگھ سوار ہوئی کہ رنج و غم کی طرف توجہ ہی نہ رہے۔ علاج کرنے والوں کا یہ قاعدہ ہے کہ جب مریض کی تکلیف بڑھ جاتی ہے اور کسی طرح سے افاقہ نہیں ہوتا تو تکلیف سے بیخبر کرنے کے لیے کوئی ایسی دوا دیتے ہیں یا انجکشن لگا دیتے ہیں جس سے نیند آجائے اللہ جل شانہ نے ان حضرات پر نیند غالب فرما دی جس سے غم کا محسوس ہونا ختم ہوگیا (ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآءِفَۃً مِّنْکُمْ ) میں اسی کو بیان فرمایا اور اونگھ کو امنۃٌ یعنی چین اور راحت بتایا، یہ تو مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔ جو منافقین تھے ان کا دوسرا ہی رنگ تھا۔ ان کو اپنی جانوں کی پڑی تھی، انہیں رسول اللہ ﷺ سے اور دین اسلام سے کچھ بھی ہمدردی نہ تھی اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں حق کے خلاف جاہلیت کے خیالات پکار رہے تھے کہتے تھے کہ ہماری تو کچھ چلتی ہی نہیں۔ ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ شہر سے باہر جا کر نہ لڑیں ہماری بات چلتی اور ہماری رائے پر عمل ہوتا تو یہاں آکر ہم کیوں مارے جاتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو جواب دے دو کہ سب اختیار اللہ ہی کو ہے، سب کام اللہ کی قضا اور قدر کے مطابق ہوتے ہیں اگر تم اپنے گھروں میں ہوتے تب بھی وہ لوگ گھروں سے نکل کر اپنی اپنی قتل گاہوں میں پہنچ جاتے جن کے بارے میں مقتول ہونا مقدر ہوچکا تھا۔
پھر فرمایا (وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰہُ مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ )
” اور تاکہ اللہ آزمائے جو تمہارے سینوں میں ہے اور تاکہ اس کو صاف کرے جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ سینوں کی باتوں کو جاننے والا ہے۔ “
مطلب یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہوا اس لیے پیش آیا کہ اللہ تمہارے باطن کی آزمائش فرمائے کیونکہ مصیبت کے وقت سچوں اور جھوٹوں کا پتہ چلتا ہے، چناچہ منافقوں کا نفاق کھل گیا اور مومنین کا ایمان اور زیادہ مضبوط اور ثابت ہوگیا اور یوں تو اللہ تعالیٰ سب باتوں کو جانتا ہی ہے لیکن علم ظہور کے طور پر یہ باتیں ظاہر ہوگئیں اور مسلمانوں کو بھی سچوں اور جھوٹوں کا پتہ چل گیا۔
Ayah 3:155صحابہ ؓ کی معافی کا اعلان :
آخر میں فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْکُمْ ) (الآیۃ) بیشک تم میں سے جو لوگ اس دن پشت پھیر کر چلے گئے جس دن دونوں جماعتیں آپس میں مقابل ہوئیں بات یہی ہے کہ ان کو شیطان نے لغزش دے دی بعض ایسے اعمال کے سبب جو انہوں نے کیے اور البتہ تحقیق اللہ نے ان کو معاف فرمایا بیشک اللہ بخشنے والا علم والا ہے۔ اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو تسلی بھی دی ہے (کیونکہ ان کی معافی کا اعلان فرمایا ہے) اور یہ بھی بتایا ہے کہ جو لوگ پشت پھیر کر چل دیئے تھے ان کو شیطان نے لغزش دے دی تھی اور اس لغزش کا سبب ان کے بعض گناہ بن گئے اس سے معلوم ہوا کہ گناہ گناہوں کی طرف کھینچتے ہیں ایک گناہ دوسرے گناہ کا سبب بن جاتا ہے۔ اور گناہوں کے ذریعہ شیطان دوسرے گناہوں پر آمادہ کردیتا ہے۔
(غزوہ احد کے بارے میں ہم نے جو کچھ لکھا ہے حافظ ابن کثیر کی تفسیر سے اور البدایہ والنہایہ سے اور تفسیر روح المعانی سے ماخوذ ہے)
Ayah 3:156کافروں کی طرح نہ ہوجاؤ جن کو جہاد میں جانا پسند نہیں
بہت سے لوگوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ خیر کا کام نہ خود کرتے ہیں نہ دوسروں کو کرنے دیتے ہیں اور جو لوگ خیر کے کاموں میں لگیں ان کو طعنے دیتے ہیں۔ اور جو خیر انہیں نصیب ہو اسے نقصان سے تعبیر کرتے ہیں جو لوگ حب دنیا میں غرق ہوں انہیں دوسروں کے آخرت کے اعمال نہیں بھاتے۔ اللہ کے لیے جو ان کی جانی یا مالی قربانی ہو وہ انہیں اچھی نہیں لگتی۔ منافقین کا یہی حال تھا انہوں نے کہا کہ ہمارے بھائی (نسب میں ان کے بھائی ہوتے تھے اور منافقین ظاہری طور پر دینی بھائی بھی کہلاتے تھے) جو سفر میں گئے یا جہاد میں شریک ہوئے یہ اگر یہیں ہمارے پاس رہتے، سفر میں نہ جاتے، جہاد نہ کرتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے بظاہر ان کا یہ کہنا ہمدردی جتانے کے لیے تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ہمدردی خیر کے کاموں سے روکنے میں نہیں۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ ایسا کہنا ان کے قلوب میں حسرت کا سبب ہے پھر فرمایا کہ موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے کوئی شخص کسی جگہ قیام کرنے سے قضائے الٰہی سے نہیں بچ سکتا وہ جہاں بھی ہوگا قضا اور قدر کے موافق اجل مسمی پر اس کو موت آ ہی جائے گی۔
Ayahs 3:157–158اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رحمت دنیاوی سامان سے بہتر ہے :
پھر فرمایا کہ تم اللہ کی راہ میں اگر قتل ہوگئے یا اللہ کی راہ میں مرگئے تو یہ کوئی نقصان کا سودا نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رحمت کا سبب ہے اور اللہ کی مغفرت اور رحمت اس سے بہتر ہے جو کچھ ایسی باتیں کرنے والے جمع کرتے ہیں۔ دنیا کے لالچی دنیا ہی کے لیے سوچتے ہیں اور اسی دنیا کو دوسروں کے لیے پسند کرنے کی وجہ سے انہوں نے یہ بات کہی کہ یہ لوگ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ مزید زندگی پالیتے کچھ پیسہ اور کما لیتے اور یہ پیسہ اللہ کی مغفرت اور رحمت کے سامنے کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر فرمایا کہ اگر تم مرگئے یا مقتول ہوگئے تو اللہ کی بار گاہ میں ضرور جمع کیے جاؤ گے، مرنا اور بار گاہ خداوندی میں پیش ہونا ہر ایک کے لیے ضروری ہے پھر اللہ کی راہ میں کیوں نہ مریں۔
Ayah 3:159رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کریمانہ
غزوہ احد کے موقعہ پر مسلمانوں سے جو لغزش ہوگئی تھی اور میدان چھوڑ کر چلے گئے تھے جس سے رسول اکرم ﷺ کو غم پہنچا اور تکلیف ہوئی اس پر آپ نے ان سے سختی کا معاملہ نہیں کیا۔ ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی اللہ تعالیٰ شانہ نے آپ کے ان کریمانہ اخلاق اور آپ کی نرم مزاجی کی اس آیت میں تعریف فرمائی۔ نیز مسلمانوں کی بھی دلداری اور دل جوئی ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اول تو دو مرتبہ اپنی طرف سے معافی کا اعلان فرمایا۔ جس کا ذکر پچھلے رکوع میں آچکا ہے پھر اس آیت میں نبی اکرم ﷺ کو ارشاد فرمایا کہ آپ بھی معاف فرما دیں اور نہ صرف یہ کہ خود معاف فرما دیں بلکہ ان کے لیے اللہ جل شانہ سے بھی استغفار کریں۔ اور مزید دلداری یوں فرمائی کہ آپ کو ان سے مشورہ لینے کا حکم دیا پھر فرمایا کہ مشورہ کے بعد جس طرف آپ کی رائے پختہ ہوجائے اللہ کے بھروسہ پر اس پر عمل کر لیجیے جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اعتماد رکھتے ہیں وہ اللہ کو محبوب ہیں۔
خوش خلقی کا بلند مرتبہ :
آنحضرت ﷺ خوش اخلاق و خوش مزاج ہمیشہ ہی سے تھے اس موقعہ پر خاص طور پر اس کا مظاہرہ ہوا۔ مؤطا میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں اسی لیے بھیجا گیا ہوں کہ حسن اخلاق کی تکمیل کروں۔ حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ سب سے زیادہ بھاری چیز قیامت کے دن جو مومن کی ترازو میں رکھی جائے گی وہ اچھے اخلاق ہوں گے اور بیشک اللہ کو فحش گو اور بد زبان مبغوض ہے۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک مومن اپنی خوش اخلاقی کی وجہ سے راتوں رات نماز پڑھنے والے اور دن بھر روزہ رکھنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔ نرمی خوش خلقی کا بہت بڑا جزو ہے صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نرمی سے محروم ہوگیا وہ خیر سے محروم ہوگیا۔ نیز یہ بھی ارشاد فرمایا کہ نرمی جس کسی چیز میں بھی ہوگی اسے زینت دے دے گی اور جس چیز سے نرمی نکال جائے گی وہ عیب دار ہوجائے گی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں بتادوں جو آتش دوزخ پر حرام ہے اور جس پر آتش دوزخ حرام ہے پھر فرمایا کہ یہ صفت اس شخص کی ہے جس سے ملنا جلنا آسان ہو نرم مزاج ہو قریب ہو سہل ہو، سنن ابو داؤد میں ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں سخت مزاج بد اخلاق داخل نہیں ہوگا۔ (یہ روایات مشکوٰۃ المصابیح باب الرفق والحیار و حسن الخلق) میں مذکور ہیں۔ آنحضرت ﷺ تو تمام خلق حسن والوں کے سردار تھے۔ آپ کیوں نرم نہ ہوتے آپ کو بڑی بڑی تکلیفیں پہنچیں سب کو سہہ گئے اور نرمی کے ساتھ نباہ گئے۔
یہ جو فرمایا (وَ لَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ ) (اور اگر آپ سخت مزاج اور سخت دل والے ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہوجاتے) اس میں جہاں آنحضرت سرور عالم ﷺ کی خوش خلقی اور نرم مزاجی اور رأفت اور شفقت کا ذکر ہے وہاں اس امر کی بھی تصریح ہے کہ یہ صحابہ جو آپ کے پاس جمع ہیں اور آپ سے بےپناہ محبت کرتے ہیں اور دل و جان سے آپ پر نثار ہیں اس میں اس کا بہت دخل ہے کہ آپ سخت مزاج اور سخت دل نہیں ہیں اگر خدا نخواستہ آپ ایسے ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے چلے جاتے اور منتشر ہوجاتے۔
معلمین اور مرشدین خوش خلقی اختیار کریں :
انسان کا مزاج ہے کہ بردبار و خوش اخلاق متواضع اور منکر المزاج کے پاس جانا اور اٹھنا بیٹھنا اور اس سے فیض لینا اور علم و معرفت حاصل کرنا پسند کرتا ہے جو حضرات حضرت رسول اکرم ﷺ کے نائب ہیں معلم ہیں محدث ہیں، مفتی ہیں، مرشد ہیں، مبلغ ہیں داعی اور ہادی ہیں، ان لوگوں کے لیے اس میں بہت بڑی نصیحت ہے، اگر امت کو علم سکھانا اور فیض پہنچانا ہے تو نرم مزاج، نرم خو، شفیق اور مہربان بردبار بنیں ورنہ صاحب بڑے عالم اور اونچے درجہ کے مرشد ہیں اور ہمیں ان سے فیض مل سکتا ہے پھر بھی فیض لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے، یوں تو ہر مسلمان ہی کو خوش خلق اور نرم مزاج ہونا چاہیے لیکن خاص کر مسلمین مصلحین، مبلغین مرشدین کو تو بہت ہی زیادہ اس صفت سے متصف ہونا ضروری ہے۔ حضرت سعدی (رح) نے کیا اچھا فرمایا :
کس نہ بیند کہ تشنگان حجاز
برلب آب شور گرد آیند
ہر کجا چشمہ بود شیریں
مردم و مرغ و مور گرد آیند
کمال یہی ہے کہ عامۃ المسلمین میں گھل مل کر رہے۔ خیر کے کام کرے خیر کی تعلیم دے اور ان سے جو تکلیف پہنچے اس کو برداشت کرے۔ اپنی ذاتی نیکیوں کو لے کر تنہائی میں بیٹھ جانا تاکہ لوگ تکلیف نہ دیں اس میں وہ بات نہیں جو خیر پہنچانے اور تکلیف اٹھانے میں ہے۔ سنن مذتری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو مسلمان لوگوں میں گھل مل کر رہتا ہے اور ان سے جو تکلیف پہنچے اس پر صبر کرتا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو گھل مل کر نہیں رہتا اور لوگوں کی تکلیف پر صبر نہیں کرتا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 432)
مشورہ کرنے کا حکم :
پھر فرمایا (وَ شَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ ) اللہ جل شانہ نے آنحضرت سرور عالم ﷺ کو صحابہ کرام سے مشورہ فرمانے کا حکم دیا۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے بھی اپنے صحابہ سے مشورہ فرماتے تھے۔ اور اس کے بعد بھی آپ نے مشورے فرمائے۔ آیت شریفہ میں مشورے کا حکم دے کر حضرات صحابہ کی اللہ تعالیٰ نے دلجوئی فرمائی اور ان کا اعزازو اکرام فرمایا یہ مشورہ ان امور میں نہیں تھا جہاں کوئی نص قطعی اور واضح حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے موجود ہو، جن امور کو آنحضرت سرور عالم ﷺ کے سپرد فرما دیا گیا ان میں مشورہ کرنے کا حکم فرمایا۔
مشورہ کی ضرورت اور اہمیت :
اس سے مشورے کی اہمیت اور ضرورت ظاہر ہوئی اور یہ بھی پتہ چلا کہ جب سید الاولین والآخرین ﷺ مشورہ سے مستغنی نہیں تو آپ کے بعد ایسا کون ہوسکتا ہے جو مشورہ سے بےنیاز ہو، آئندہ آنے والے امراء اور اصحاب اقتدار اور امت کے کاموں کے ذمہ دار جو بھی آئیں سب کے لیے مشورہ کرنے کی ضرورت واضح ہوگئی۔ مشورہ میں بہت خیر ہے جو اصحاب رائے ہوں خواہ عمر یا مرتبہ میں چھوٹے ہی ہوں ان کو مشورہ میں شریک کرنا چاہیے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ مشورہ کرنے کی صورت میں مختلف رائیں سامنے آجاتی ہیں۔ ان رایوں کے درمیان سے کسی مناسب ترین رائے کو اختیار کرلینا آسان ہوتا ہے۔ بعض مرتبہ بڑے کی نظر سے وہ گوشے اوجھل رہ جاتے ہیں جو چھوٹوں کی سمجھ میں آجاتے ہیں۔ تمام گوشے سامنے آنے سے کسی پہلو کو اختیار کرنے میں بصیرت حاصل ہوجاتی ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مَا خَابَ مَنِ اسْتَخَارَ وَلاَ نَدِمَ مَنِ اسْتَشَارَ (یعنی جس نے استخارہ کیا وہ نا کام نہ ہوگا۔ اور جس نے مشورہ کیا اسے ندامت نہ ہوگی) ۔ (ذکرہ الہیثمی فی مجمع الزوائد)
خانگی امور میں اور اداروں کے معاملات میں مشورے کرتے رہنا چاہیے جن لوگوں سے مشورہ کیا جائے ان کی ذمہ لازم ہے کہ وہ وہی رائے دیں جسے اپنی دیانت سے فیما بینھم و بین اللّٰہ صحیح سمجھتے ہوں۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ان المستشار مؤتمن (یعنی جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہے) (اخرجہ الترمذی فی ابواب الزہدو ابن ماجہ فی کتاب الادب)
اگر کوئی شخص اپنے ذاتی معاملہ میں مشورہ کرے تب بھی اسے وہی مشورہ دے جو اس کے حق میں بہتر ہو۔ سنن ابو دواؤد میں ہے کہ آنحضرت سرورعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ من اشار علی اخیہ بامر یعلم ان الرشد فی غیرہ فقد خانہ (جس نے اپنے بھائی کو کوئی ایسا مشورہ دیا جس کو وہ سمجھتا ہے کہ مشورہ لینے والے کی بہتری دوسری رائے میں تھی جو پیش نہیں کی گئی تو اس نے خیانت کی) (رواہ ابو داؤد فی کتاب العلم) اور حضرت علی ؓ سے اس کا قاعدہ کلیہ مروی ہے جسے علامہ سخاوی نے المقاصد الحسنہ صفحہ 383 میں نقل کیا ہے اور وہ یہ کہ فاذا استشیر احد کم فلیشر بما ھو صانع لنفسہ (کہ جب کسی سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ مشورہ دے جسے وہ اپنے لیے اختیار کرتا اگر وہ خود اس حال میں مبتلا ہوتا جس میں مشورہ لینے والا مبتلا ہے) اور یہ مضمون اس حدیث کے مطابق ہے جس میں افضل الایمان بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ ان تحب للناس ماتحب لنفسک وتکرہ لھم ماتکرہ لنفسک (یعنی یہ کہ تو لوگوں کے لیے اسی کو پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے لوگوں کے لیے اس چیز کو ناپسند جانے جس کو اپنے لیے ناپسند جانتا ہے) (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 16)
مشورہ کی شرعی حیثیت :
مشورے کا حکم دینے کے بعد فرمایا ( فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ) (پھر جب آپ پختہ عزم کرلیں تو اللہ پر تو کل کیجیے بیشک تو کل کرنے والے اللہ کو محبوب ہیں) مطلب یہ ہے کہ مشورے کے بعد آپ جب کسی جانب کو طے فرما کر عزم کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کیجیے اور اپنے عزم کے مطابق عمل کیجیے۔ اس میں یہ بات ظاہر ہے کہ مشورہ کرنے کے بعد آپ کو سب کے یا کسی ایک کے مشورے کا پابند ہونا ضروری نہیں۔ جس طرف آپ کا رحجان ہو اس پر عمل کرلیں اس میں مشورہ دینے والوں کو بھی دلگیر ہونے کی ضرورت نہیں مشورہ دینا اور لینا ضائع نہیں ہے کیونکہ اس میں ہر شخص کو غور و خوض کرنے اور اپنی رائے پیش کرنے کا ثواب مل چکا ہے اب آپ جس رائے کو مناسب جانیں (اور رایوں میں اپنی ذاتی رائے بھی ہے) اس پر عمل فرمائیں۔
اپنا عزم فرمانے کے بعد اللہ پر بھروسہ کرنے کا حکم فرمایا اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ تمام مشوروں اور تدبیروں کے بعد بھروسہ صرف اللہ ہی پر رہے بندوں کی رائیں اور تدبیریں صرف اسباب کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسباب پر بھروسہ کرنا مومن کا کام نہیں، مومن کا بھروسہ صرف اللہ پر ہوتا ہے۔
آنحضرت سرور عالم ﷺ کے بعد بھی مشورہ کی سنت جاری ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ مشورہ لینے والے کے لیے خواہ امیر المؤمنین ہی ہو یہ ضروری نہیں ہے کہ سب کا یا کسی ایک کا مشورہ مانے۔ باوجود مشورہ لینے کے اسے اپنی رائے پر عمل کرنے کا پورا پورا اختیار ہے۔ حق بات یہ ہے کہ جب مشورہ لینے والا بھی مخلص ہو اور مشورہ دینے والے بھی مخلص ہوں اور ہر ایک کو اللہ کی رضا مقصود ہو تو کسی وقت بھی بدمزگی پیدا ہونے کا موقعہ نہیں رہتا۔ آپس میں ضدا ضدی اور یہ اعتراض کہ میری رائے پر عمل کیوں نہ کیا اور امیر کی شکایت کہ وہ آمر مطلق ہے مشورہ کرکے بھی اپنی رائے پر عمل کرتا ہے۔ یہ سب باتیں جبھی ہوتی ہیں جب امیر اور مامور میں اخلاص نہ ہو اور آپس میں اعتماد نہ ہو اور امارت کے اصول پر امیر و مامور کو چلنے کا ارادہ نہ ہو، نفسانی اور دنیاوی چیزوں نے جگہ پکڑ رکھی ہو۔ اگر امیر کے انتخاب میں اللہ کی رضامندی کا دھیان رکھا ہو ار متقی آدمی کو امیر بنایا ہو جس کے علم و عمل اور اخلاص پر اعتماد ہو جو دنیا دار نہ ہو عہدہ کا طالب نہ ہو تو اس صورت میں امیر کا اپنی رائے پر عمل کرنا ناگوار نہ ہوگا۔ انتخاب تو غلط کریں اور پھر امیر کے خلاف احتجاج کرنے جلوس نکالنے کے جاہلانہ طریقوں سے امیر کو ہٹانے کی کوشش کریں۔ ان دونوں باتوں میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔
موجودہ جمہوریت اور اس کا تعارف
زمانہ قدیم میں بادشاہتیں جاری تھیں ولی عہدی کے اصول پر بادشاہت ملتی تھی عرب و عجم میں بادشاہ تھے ان میں ظالم بھی تھے، رحم دل بھی تھے اور انصاف پسند بھی۔ لیکن بادشاہت کی تاریخ میں زیادہ تر مظالم ہی ملتے ہیں۔ ان مظالم سے تنگ آکر یورپ والوں نے جمہوریت کا طرز حکومت جاری کیا۔ اور اس کا نام عوامی حکومت رکھا۔ اس کے جو طریق کار ہیں انہیں عام طور سے سبھی جانتے ہیں۔ اس جمہوریت کا خلاصہ عوام کو دھوکہ دینا اور کسی ایک پارٹی کے چند افراد کے ملک پر مسلط ہونے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ عنوان یہ ہے کہ اکثریت کی رائے انتخاب میں معتبر ہوگی۔ اور انتخاب بالغ رائے دہندگی کی بنیاد پر ہوگا اس میں امید وار کے لیے عالم ہونا، دیندار ہونا بلکہ مسلمان ہونا بھی شرط نہیں پڑھے لکھے اور بالکل جاہل، جپٹ مرد عورت امید وار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ بعض پارٹی کے نمائندے ہوتے ہیں اور بعض آزاد ہوتے ہیں ان میں بعض وہ بھی ہوتے ہیں جو اسلام کے خلاف بولتے رہتے ہیں۔ اسلام کے نظام حدود و قصاص کو ظالمانہ کہتے ہیں جس کی وجہ سے حدودکفر میں داخل ہوجاتے ہیں اور انتخاب میں پارٹیوں کے زور پر اور سرداروں کے زور پر اور پیسوں کے زور پر ووٹ دینے والے بھی عموماً وہی لوگ ہوتے ہیں جو دین اسلام کے تقاضوں کو نہیں جانتے لہٰذا بےپڑھے اور ملحد اور زندیق بھی منتخب ہو کر پارلیمنٹ میں آجاتے ہیں۔ جس شخص کو زیادہ ووٹ مل گئے وہی ممبر منتخب ہوجاتا ہے اگر کسی سیٹ پر گیارہ آدمی کھڑے ہوں تو ان میں سے اگر دس آدمیوں کو 15۔ 15 ووٹ ملیں اور ایک شخص کو سولہ ووٹ مل جائیں تو یہ شخص سب کے مقابلہ میں کامیاب مانا جائے گا اور کہا یہ جائے گا کہ اکثریت سے منتخب ہوا حالانکہ اکثریت اس شخص کے مخالف ہے ڈیڑھ سو افراد نے اسے ووٹ نہیں دیئے۔ سولہ آدمیوں نے ووٹ دیئے ہیں ڈیڑھ سو کی رائے کی حیثیت نہیں یہ جمہوریت ہے جس میں 150 آدمیوں کی رائے کا خون کیا گیا اور سولہ افراد کی رائے کو مانا گیا۔ پھر پارلیمنٹ میں جس کسی پارٹی کے افراد زیادہ ہوجائیں اسی کی حکومت بن جاتی ہے اور وہ افراد اسی طریقہ پر پارلیمنٹ میں آئے ہیں جو ابھی ذکر ہوا اس طرح سے تھوڑے سے افراد کی پورے ملک پر حکومت ہوجاتی ہے اور پارٹی کے چند افراد اختیار سنبھال لیتے ہیں اور سیاہ وسفید کے مالک ہوجاتے ہیں خود پارٹی کے جو افراد کسی بات سے متفق نہ ہوں انہیں پارلیمنٹ میں پارٹی ہی کے موافق بولنا پڑتا ہے اپنی ذاتی رائے کا خون کردیتے ہیں۔ یہ جمہوریت اور اکثریت کی حقیقت ہے۔
پھر خدا کی پناہ مرکزی حکومت کے صدر اور وزیر اعظم اور دوسرے وزراء کے بےت کے اخراجات بنگلے اور ان کی سجاوٹیں گاڑیاں ڈرائیور، پٹرول کا خرچ، باورچی، مالی اور دوسرے خادموں کی تنخواہیں اور وزیروں کی بےجا کھپت پارٹی کے آدمی ہونے کی بنیاد پر خواہ مخواہ عہدے نکالنا اور حدیہ ہے کہ وزیر بےقلمدان بنانا اور کثیر تعداد میں مشیروں کو کھپانا ان سب کا بوجھ قوم کی گردن پر ہوتا ہے۔ پھر ہر صوبہ کا گورنر، وزیر اعلیٰ دوسرے وزراء اور نائب وزراء ان سب اخراجات سے ملک کا خزانہ خالی ہوجاتا ہے اور ملک چلانے کے لیے سودی قرضے لیتے ہیں۔ اور قوم پر ٹیکس لگاتے ہیں۔ انکم ٹیکس، برآمد ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی۔ یہ سب مصیبت قوم پر سوار ہوتی ہے اور عوام کو دھوکہ دے رکھا ہے کہ تمہاری حکومت ہے عوام ان پارٹی بازوں اور سیاسی بازی گروں کی باتوں میں آجاتے ہیں اور سیدھا سادھا اسلامی نظام جس میں ایک امیر مرکزی حکومت میں ہو جس کا معمولی سا وظیفہ ہو۔ اور علاقوں میں چند امیر ہوں اور یہ سب لوگ سادگی کے ساتھ رہیں بقدر ضرورت واجبہ ان کو وظیفہ مل جائے معمولی سے گھر میں رہیں۔ اگر کسی کا اپنا گھر ہے تو اسی میں قیام پذیر ہو۔ اس نظام کو ماننے کے لیے لوگ تیار نہیں۔ انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
کہا جاتا ہے کہ اسلام میں جمہوریت ہے اگر اس کا یہ مطلب ہے کہ اسلام میں شوریٰ کی بھی کوئی حیثیت ہے تو یہ بات ٹھیک ہے۔ مگر اس کی حیثیت وہی ہے جو اوپر ذکر کردی گئی ایسی حیثیت جس میں پورے ملک میں انتخاب ہو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہر کس وناکس ووٹر ہو اور کثرت رائے پر فیصلہ رکھا جائے اسلام میں ایسی جمہوریت نہیں ہے۔ بعض اہل علم بھی دانستہ یا نا دانستہ طور پر اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں وہ اسلام کی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بڑی محنتوں سے جمہوریت کو لائے ہیں اب اس کے خلاف کیسے بولیں۔ اور ان کی لائی ہوئی جمہوریت بالکل جاہلانہ جمہوریت ہوتی ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انتخاب میں کوئی بھی کیسا ہی بےدین منتخب ہوجائے جمہوریت جاہلیہ کی وجہ سے اس کے عہدہ کو ماننے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اب کیا کریں اب تو منتخب ہو ہی گیا عوام کی رائے کو کیسے ٹھکرائیں۔ قانون کے تابع ہیں اس کے خلاف چلنے بولنے کی کوشش کرنے کی کوئی اجازت نہیں۔
حضرات خلفائے اربعہ کا انتخاب :
یہ تو سب جانتے ہیں کہ حضرات ابوبکر و عمر و عثمان و علی ؓ خلفاء راشدین تھے ان حضرات کو منتخب کرتے وقت کوئی بالغ رائے دہندگی کی بنیاد پر انتخاب نہیں ہوا۔ نہ پورے ملک سے ووٹ لیے گئے تاریخ اور سیرت کے جاننے والے اس امر سے واقف ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرات مہاجرین اور انصار سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے۔ وہاں اس بات کا مشورہ ہو رہا تھا کہ امیر کون ہو۔ انصار میں سے بعض حضرات یہ رائے دے رہے تھے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو اور ایک مہاجرین میں سے ہو۔ حضرت ابوبکر و عمر ؓ بھی وہاں پہنچ گئے۔ حضرت عمر ؓ نے حضرت ابوبکر ؓ سے کہا کہ آپ اپنا ہاتھ لائیے میں بیعت کرتا ہوں انہوں نے ہاتھ بڑھا دیا۔ حضرت عمر ؓ نے بیعت کرلی اس کے بعد مہاجرین نے بیعت کرلی ان کے بعد انصار نے بیعت کی۔ یہ تو حضرت ابوبکر ؓ کا انتخاب تھا جو سب سے پہلے خلیفہ تھے۔ اس کی تفصیل البدایۃ والنہایۃ صفحہ 246: ج 5 میں مذکور ہے، اس کے بعد جب ابوبکر ؓ کی وفات ہونے لگی تو انہوں نے بغیر کسی مشورہ کے حضرت عمر ؓ کو خلیفہ بنا دیا۔ پھر جب حضرت عمر ؓ کو دشمن نے خنجر مار دیا اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اب میں جانبر ہونے والا نہیں ہوں تو انہوں نے فرمایا کہ خلافت کا مستحق ان حضرات کے علاوہ کوئی نہیں جن سے رسول اللہ ﷺ راضی تھے اور اسی حالت رضا مندی میں آپ کی وفات ہوئی۔ پھر انہیں حضرات میں سے حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ کے نام لیے اور فرمایا کہ ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرلیا جائے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ میرا بیٹا عبداللہ بن عمر ؓ مشورے میں شریک ہوگا لیکن اسے خلافت سپرد نہ کی جائے اور فرمایا کہ اگر سعد کو منتخب کرلیا جائے تو وہ اس کے اہل ہیں۔ اور اگر ان کے علاوہ کسی دوسرے کو امیر بنا لیا جائے تو وہ ان سے مدد لیتا رہے جب حضرت عمر ؓ کی وفات ہوگئی اور ان کو دفن کردیا گیا تو وہ حضرات جمع ہوئے جن کو خلافت کے لیے نامزد فرمایا تھا کہ اپنے میں سے کسی ایک کو منتخب کرلیں۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے فرمایا کہ تم سب اپنا معاملہ تین آدمیوں کے سپرد کرو حضرت زبیر ؓ نے فرمایا میں نے اپنا معاملہ حضرت علی ؓ کے سپرد کیا اور حضرت طلحہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے اپنا معاملہ عثمان ؓ کے سپرد کیا۔ حضرت سعد ؓ نے فرمایا کہ میں نے اپنا معاملہ عبدالرحمن بن عوف ؓ کے سپرد کیا۔ اس کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے حضرت علی ؓ اور حضرت عثمان ؓ سے کہا کہ تم دونوں میرے سپرد کرتے ہو تو میں تم میں جو افضل ترین ہوگا اس کے انتخاب میں کوتاہی نہیں کروں گا ان دونوں نے کہا کہ ہاں ہم تمہارے سپرد کرتے ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے دونوں سے علیحدہ علیحدہ تنہائی میں بات کی اور دونوں نے اقرار کیا کہ اگر میرے علاوہ دوسرے کو تم نے امیر بنا دیا تو میں فرمانبر داری کروں گا اس کے بعد انہوں نے حضرت عثمان ؓ سے کہا لاؤ ہاتھ بڑھاؤ یہ کہہ کر ان سے خود بیعت کرلی اور حضرت علی ؓ نے بھی ان سے بیعت کرلی۔ دوسرے حضرات جو باہر منتظر تھے وہ بھی اندر آئے اور انہوں نے حضرت عثمان ؓ سے بیعت کرلی۔ مفصل واقعہ صحیح بخاری صفحہ 524: ج 1 میں مذکور ہے۔ یہ انتخاب خلیفہ ثالث کا تھا (اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت علی ؓ نے برضاء ورغبت حضرت عثمان ؓ سے بیعت کی تھی اور پہلے سے اقرار کرلیا تھا کہ اگر ان کو امیر بنا دیا گیا تو میں فرمانبر دار ہوں گا) ۔
جب حضرت عثمان ؓ کی شہادت ہوئی تو ان کی جگہ کسی امیر کے انتخاب کی ضرورت محسوس کی گئی اہل مصر جنہوں نے حضرت عثمان ؓ کو شہید کیا تھا وہ حضرت علی ؓ کو اصرار کرتے رہے کہ آپ خلافت کا بوجھ سنبھالیں لیکن وہ راضی نہ ہوئے اور باغوں کی طرف تشریف لے گئے۔ کوفہ والوں نے حضرت زبیر ؓ کو تلاش کیا وہ بھی نہ ملے۔ بصرہ والوں نے حضرت طلحہ ؓ سے عرض کیا انہوں نے انکار کردیا۔ پھر حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور معروض پیش کی انہوں نے بھی قبول نہ کیا۔ حضرت ابن عمر ؓ کے پاس گئے انہوں نے بھی نہ مانا ساری کوششیں کرکے پھر حضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خلافت قبول کرنے پر اصرار کرتے رہے آخر میں انہوں نے ذمہ داری قبول فرمائی۔ یہ تفصیل البدایۃ والنہایۃ صفحہ 226: ج 7 میں لکھی ہے۔
یہ چاروں خلفاء کا انتخاب تھا ان میں کبھی بھی پورے ملک میں الیکشن نہیں ہوا۔ بلکہ پورے صحابہ ؓ بھی شریک نہیں ہوئے نہ پورا مدینہ شریک ہوا چند افراد نے منتخب کرلیا سب نے مان لیا۔ ممکن ہے یورپ کی جمہوریت جاہلیہ سے مرعوب ہو کر بعض ناواقف یہ کہنے لگیں کہ صحیح طریقہ وہی ہے جو آج کل رواج پائے ہوئے ہے۔ ان حضرات نے انتخاب صحیح نہیں کیا۔ (العیاذ باللہ) اس جاہلانہ اپچ کا جواب دینے کی ضرورت تو نہیں لیکن پھر بھی ہم عرض کردیتے ہیں کہ یہ اعتراض اللہ تعالیٰ کی ذات پر پہنچتا ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے سورة توبہ کی آیت نمبر 100 میں مہاجرین اور انصار اور جو خوبی کے ساتھ ان کا اتباع کریں ان کی تعریف فرمائی اور ان کے بارے میں رضی اللّٰہ عنھم و رضواعنہ فرمایا اگر انہیں حضرات نے اسلام کو نہیں سمجھا اور امیر کا انتخاب جس طرح ہونا چاہیے تھا اس طرح نہیں کیا تو ان کے بعد اسلام کو اور اسلام کے تقاضوں کو جاننے والا کون ہے ؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المھدیین (رواہ ابو داؤد الترمذی) (کہ میرے طریقے کو اور خلفاء راشدین کے طریقے کو اختیار کرنا) اگر ان حضرات کا اپنا انتخاب صحیح نہیں اور انہوں نے دوسروں کا انتخاب صحیح نہیں کیا تو وہ خلفاء راشدین ہو ہی نہیں سکتے اگر آج کے جاہلوں کی بات مان لی جائے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ حضرات صحابہ ؓ میں سے کوئی بھی خلیفہ راشد نہیں ہوا (العیاذ باللہ) دشمنوں کے طریقہ کار سے مرعوب ہو کر اسلام کی تحریف اور تبدیل کرنے پر آمادہ ہو جاناایمانی تقاضوں کے سراسر خلاف ہے۔
Ayah 3:160اللہ تعالیٰ مدد فرمائے تو کوئی غالب نہیں ہوسکتا
پہلی آیت میں ارشاد فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ ) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ تو کل کرنے والوں سے محبت فرماتے ہیں) اس آیت شریفہ میں اللہ پر تو کل کرنے کا حکم دیا ہے اور ساتھ ہی یہ ارشاد فرمایا ہے کہ کسی قوم پر غالب ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد ہی اصل چیز ہے قلت اور کثرت اور اسباب سے اس کا حقیقی تعلق نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے تو تم پر کوئی غالب ہونے والا نہیں۔ بدر میں اللہ تعالیٰ نے نصرت فرمائی۔ مسلمان تھوڑے تھے سامان حرب بھی معمولی تھا دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی اور ان کے پاس سامان بھی بہت تھا لیکن دشمن مغلوب ہوئے۔ پھر فرمایا اگر اللہ تعالیٰ تم کو مدد کے بغیر چھوڑ دے تو کون ہے جو تمہاری مدد کرے ؟ اور واقعہ احد میں یہ بات کھل کر سامنے آچکی ہے حاصل یہ کہ مدد اور نصرت کے لیے ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کریں۔ اور اسی سے مدد طلب کریں اور اسی پر تو کل کریں۔
Ayah 3:161جو شخص خیانت کرے گا قیامت کے دن ساتھ لے کر آئے گا
تفسیر درمنثور صفحہ 51: ج 2 میں ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر مال غنیمت میں سے ایک سرخ چادر نہیں مل رہی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ نبی کی یہ شان نہیں ہے کہ غلول کرے ؟ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ غلول کا اصل معنی یہ ہے کہ خفیہ طریقہ سے کوئی چیز لے لی جائے۔ پھر یہ لفظ مال غنیمت میں سے کوئی چیز چرا لینے کے لیے مخصوص کردیا گیا اس کو غلول بھی کہا جاتا ہے۔ اور مطلق خیانت کو بھی غلول کہتے ہیں کیونکہ اس میں ایک طرح سے خفیہ طریقے پر دوسرے کا مال اپنا مال بنا لیا جاتا ہے جو اپنے لیے حلال نہ ہو۔
پھر فرمایا (وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) کہ جو شخص خیانت کرے گا اپنی خیانت کی ہوئی چیز کو قیامت کے دن لے کر آئے گا۔ تاکہ اس کی خوب اچھی طرح رسوائی ہو اور لوگ جان لیں کہ اس نے خیانت کی تھی سنن ابو داؤد میں ہے کہ آنحضرت ﷺ کو جب مال غنیمت حاصل ہوتا تھا تو حضرت بلال ؓ کو حکم فرماتے تھے کہ تم لشکر میں یہ پکار دو کہ جس کے پاس جو بھی مال غنیمت ہو وہ حاضر کر دے جب مال جمع ہوجاتا تو آپ اس میں سے پانچواں حصہ لے کر (جس کا ذکر (وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّمَا عَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَ للرَّسُوْلِ ) (الآیۃ) میں ہے) باقی مال کو مجاہدین پر تقسیم فرما دیتے تھے۔ ایک دن ایک شخص تقسیم کے بعد بالوں کی ایک رسی لے کر آیا جسے باگ کے طور پر استعمال کیا جاسکتا تھا۔ اور اس نے عرض کیا یہ وہ ہے جو مجھے مال غنیمت میں سے ملی تھی۔ آپ نے فرمایا کیا تو نے بلال کی آواز سنی تھی ؟ تین مرتبہ سوال فرمایا اس نے کہا جی ہاں سنی تھی آپ نے فرمایا پھر تو کیوں نہیں لے کر آیا تجھے اس کے لانے سے کیا مانع تھا اس نے کچھ عذر پیش کیا۔ آپ نے فرمایا اب تو ہی اسے قیامت کے دن لے کر آئے گا، میں تجھ سے ہرگز قبول نہیں کروں گا۔
صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ مجھ سے حضرت عمر ؓ نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقعہ پر آنحضرت ﷺ کے چند صحابہ یہ کہتے ہوئے حاضر ہوئے کہ فلاں شہید اور فلاں شہید۔ اسی ذیل میں انہوں نے ایک آدمی کا ذکر کیا آنحضرت سرورعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہرگز نہیں بلاشبہ میں نے اسے دوزخ میں دیکھا ہے ایک چادر کے بارے میں جس کا اس نے غلول کرلیا تھا (یعنی چھپا کر رکھ لی تھی) پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے ابن خطاب جاؤ اور لوگوں میں پکار کر تین بار کہہ دو کہ جنت میں داخل نہ ہوں گے مگر ایمان والے، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ میں نے اس مضمون کا تین مرتبہ اعلان کردیا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 532: ج 2)
مال غنیمت کے علاوہ اور بھی جو کوئی مال کسی طرح سے لے لیا جائے جو لینے والے کا حق نہ ہو اس مال کا لینے والا قیامت کے دن گردن پر لے کر آئے گا۔ حضرت ابو حمید ساعدی ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک صاحب کو جو قبیلہ بنی ازد میں سے تھے، صدقات وصول کرنے پر مقرر فرمایا جب وہ آئے تو انہوں نے عرض کیا کہ یہ آپ کے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے یہ سن کر آنحضرت سرور عالم ﷺ نے خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا امابعد ! میں بہت سے لوگوں کو ان کاموں پر مقرر کرتا ہوں جن کا اللہ نے مجھے والی بنایا پھر ان میں سے ایک شخص آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ تمہارے لیے ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے، کیوں نہ بیٹھ گیا وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر میں پھر وہ دیکھتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو بھی کوئی شخص اس مال میں سے کچھ بھی لے لے گا جس کی تحصیل کے لیے مقرر کیا گیا تو قیامت کے دن اسے لے کر آئے گا جسے اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے ہوگا۔ اگر اونٹ ہوگا تو وہ بولتا ہوا ہوگا اور اگر گائے ہوگی تو وہ بھی آواز نکال رہی ہوگی اور بکری ہوگی تو وہ بھی ہنہنا رہی ہوگی، پھر آپ نے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی مبارک بغلوں کی سفیدی دیکھ لی۔ پھر دو بار آپ نے اللہ کی بار گاہ میں عرض کیا۔ اَللّٰھُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ اَللّٰھُمَّ ھَلْ بَلَّغْتُ ۔ (متفق علیہ، مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 156)
جو لوگ اوقاف کے اموال میں یا عامۃ الناس کے مالوں میں بیت المال کی املاک میں غبن کرتے ہیں، آخرت کے دن کا تصور کریں اور غور کریں کہ اموال میں خیانت کرنے اور غبن کرنے کا انجام کیا ہوگا۔ آیت کے ختم پر جو کچھ ارشاد فرمایا اسے بار بار ذہن میں بٹھائیں۔ (ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَ ھُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ) (پھر ہر جان کو اس کے کیے کا بدلہ دیا جائے گا۔ اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔ )
Ayahs 3:162–163اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب اس جیسا نہیں جو ناراضگی کا مستحق ہو
ان دونوں آیتوں میں اللہ کی رضا تلاش کرنے والے اور اللہ کے غصہ کے مستحق ہوجانے والے کے درمیان جو فرق ہے وہ بیان فرمایا ہے ارشاد ہے کہ اللہ کے طالب اور وہ لوگ جو اپنے اعمال بد کی وجہ سے اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے یہ دونوں فریق برابر نہیں ہوسکتے۔ اس مضمون کو بیان فرمانے کے لیے استفہام انکاری کا طریقہ اختیار فرمایا تاکہ سننے والے خود بھی غور کرلیں۔ اللہ کی رضا مندی حاصل کرنے والوں کے ذیل میں جنت کا ذکر نہیں فرمایا۔ کیونکہ وہ تو حاصل ہو ہی جائے گی اور صرف اللہ کی رضا کے طالب ہونے پر اکتفا فرمایا کیونکہ اللہ کی رضا جنت سے بھی بڑی چیز ہے اور دوسری جانب میں غضب الٰہی کا تذکرہ فرمایا۔ اور یہ بھی ذکر فرمایا کہ غضب الٰہی کے مستحقین دوزخ میں داخل ہوں گے۔ اور فرمایا کہ دوزخ بہت بری جگہ ہے پھر ارشاد فرمایا کہ یہ دونوں فریق مختلف درجات والے ہوں گے (جو لوگ اللہ کی رضا کے طالب ہیں وہ جنتوں میں طرح طرح کی نعمتوں میں ہوں گے اور جو لوگ غضب الٰہی کے مستحق ہوئے وہ دوزخ کے مختلف عذابوں میں ہوں گے) یہ درجات جنت اور درجات جہنم اللہ کے علم میں ابھی سے مقرر ہیں اور اللہ سب کے اعمال کو دیکھتا ہے، اچھے برے اعمال کی جزا دے گا کسی کا کوئی عمل اس کے علم سے باہر نہیں۔
Ayah 3:164اپنا رسول بھیج کر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا
اللہ جل شانہٗ بہت بڑا کریم ہے، صدیوں سے لوگ شرک اور کفر کی دلدل میں پھنسے ہوئے تھے، بجز خال خال چند افراد کے اللہ کے ماننے والے دنیا میں رہے ہی نہ تھے جو لوگ اپنے خیال میں اللہ کو مانتے اور جانتے تھے وہ بھی عموماً مشرک تھے عرب اور عجم سب پر شیاطین کا تسلط تھا۔ پوری دنیا کفر کی آما جگاہ بنی ہوئی تھی ایسے موقعہ پر اللہ جل شانہٗ نے نبی آخر الزمان ﷺ کو مبعوث فرمایا، آپ کی ذات گرامی سے تاریکیاں چھٹ گئیں ایمان کا نور پھیل گیا۔ لاکھوں افراد جو کفر اور شرک کی وجہ سے مستحق دوزخ ہوچکے تھے انہوں نے اسلام قبول کیا۔ اور وہ خود اور ان کی قیامت تک کی آنے والی نسلیں جو دین اسلام قبول کریں گی وہ سب جتنی بن گئے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے، اللہ تعالیٰ شانہٗ نے انسانوں میں سے رسول بھیجا تاکہ وہ قول سے بھی بتائے اور عمل سے بھی کر کے دکھائے اور انہیں کے اندر رہتے ہوئے ان کی اصلاح کرے ان کو اللہ کی آیات بھی سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت بھی سکھلائے اور ان کا تزکیہ بھی کرے یعنی ان کے نفسوں کو صفات رذیلہ اور اخلاق ذمیمہ سے پاک کرے، یہ مضمون تفصیل کے ساتھ سورة بقرہ کی آیت نمبر 129 میں بیان ہوچکا ہے جو پارہ اول کے ختم کے قریب ہے اس کو دو بارہ دیکھ لیا جائے۔
Ayahs 3:165–166مسلمانوں کو تسلی اور منافقوں کی بد حالی کا بیان
مسلمانوں کو جو غزوہ احد میں وقتی طور پر شکست ہوئی اور اس سلسلہ میں تکلیف پہنچی اس مصیبت پر کچھ لوگوں کے منہ سے یہ نکلا انی ھذا (یہ مصیبت کہاں سے آئی) اس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ اے نبی ﷺ آپ ان کو جواب میں فرما دیں کہ یہ اسباب ظاہرہ تمہاری اپنی جانوں کی طرف سے ہے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی اور پہاڑی پر جن تیر اندازوں کو بٹھا دیا گیا تھا انہوں نے باو جود تاکیدی حکم کے اس جگہ کو چھوڑ دیا۔ اور مال غنیمت لوٹنے میں لگ گئے اس بات کو بیان فرماتے ہوئے (قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْھَا) بھی فرمایا کہ تم کو جو تکلیف پہنچی ہے گذشتہ سال غزوہ بدر میں اس سے دو گنی مصیبت تم دشمنوں کو پہنچا چکے ہو۔ ستر آدمی ان کے قتل ہوئے تھے اور ستر آدمی آدمیوں کو تم قیدی بنا کر مدینہ منورہ میں لے آئے تھے۔ اس میں تسلی دینے کا پہلو اختیار فرمایا کہ تم اپنے دشمنوں کو اپنی مصیبت سے دو گنی مصیبت پہنچا چکے ہو۔ اب اگر تمہیں مصیبت پہنچ ہی گئی اور وہ بھی تمہاری نافرمانی کی وجہ سے تو اس پر غمگین کیوں ہو رہے ہو۔ پھر فرمایا (وَ مَآ اَصَابَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰہِ ) (جس دن دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے مقابلہ میں آئی تھیں اس روز تمہیں جو تکلیف پہنچی سو یہ تکلیف پہنچنا اللہ کے حکم سے تھا) یعنی سبب ظاہر وہی تھا، جس کا ذکر ہوا کہ تم نے نافرمانی کی اور حقیقت میں بات یہ ہے کہ جنگ کے موقع پر جو کچھ مصیبت پیش آئی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم تکوینی سے تھی وہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہے۔ بعض حکمتیں پہلے بیان ہوچکی ہیں اور بعض حکمتیں آگے بیان ہوتی ہیں اور وہ یہ ہیں، (وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا) اور تاکہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جان لے جنہوں نے منافقت کی، جو اندر سے مسلمان نہ تھے زبانوں سے کہتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمانوں میں گھل مل کر رہتے تھے اب جب جنگ کا موقعہ آیا تو ظاہری دوستی بھی چھوڑ بیٹھے اور ان کا نفاق کھل کر ظاہر ہوگیا جس کی صورت آگے بیان فرمائی۔ (وَ قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَوِ ادْفَعُوْا) یعنی ان سے کہا گیا کہ آجاؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو اگر جنگ نہیں کرسکتے ہو تو ہمارے ساتھ ہی رہو اگر ہمارے ساتھ رہو گے تو دشمن کو ہماری جماعت زیادہ نظر آئے گی اس سے بھی دشمن کے دفاع کی ایک صورت بنے گی (ذکرہ فی الروح عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما) آگے ان کا جواب نقل فرمایا (قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰکُمْ ) وہ کہنے لگے اگر ہم جنگ کرنا جانتے تو ضرور تمہارے ساتھ ہو لیتے اس کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ میں ظاہر کیا گیا اور ایک مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ واقعی لڑائی مفید ہوسکتی ہے تو ہم تمہارے ساتھ جنگ میں شرکت کرلیتے، ہمارے خیال میں تو لڑائی کا ڈھنگ نہیں ہے یہ کیا لڑائی ہے کہ تم تھوڑے سے آدمی ہو اور دشمن زیادہ ہے، سامان حرب بھی تمہارے پاس کم ہے کم سے کم برابر ہو تو لڑائی لڑی جائے، غالب ہونے کی امید نہ ہو تو کم ازکم مدافعت کرنے کی قوت تو ہو۔ اب تو ظاہری حالات میں اپنے کو جنگ میں جھونک دینا سراسر ہلاکت میں ڈال دینا ہے۔ (ذکرہ فی الروح)