3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 3:167

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور جان لے ان کو جنہوں نے نفاق اختیار کیا۔ اور ان سے کہا گیا کہ آؤ جنگ کرو اللہ کی راہ میں یا دفاع کرو، وہ کہنے لگے کہ اگر ہم جنگ کرنا جانتے تو ضرور تمہارے ساتھ ہو لیتے، وہ لوگ بہ نسبت ایمان کے آج کفر سے زیادہ قریب ہیں۔ وہ اپنے مونہوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہے اور اللہ خوب جاننے والا ہے اس بات کو جسے وہ چھپاتے ہیں،

اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ (ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَءِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ ) یعنی اس بات کے کہنے سے وہ اب ظاہر میں بھی کفر سے زیادہ قریب ہوگئے جبکہ اس سے پہلے ایمان کے جھوٹے دعوے کرکے مسلمانوں میں گھلے ملے رہنے کی وجہ سے ظاہر میں ایمان کے قریب تھے، اندر سے کافر تو پہلے ہی سے تھے لیکن ظاہر میں جو ایمان کا دعویٰ کرتے تھے اس دعوے پر خود ان کے اپنے قول و فعل نے پانی پھیر دیا۔ ہر عقل مند ان کی باتوں کے پیش نظر یہ کہنے پر مجبور ہے کہ یہ مومن نہیں ہیں، کیونکہ باتیں کافروں جیسی کر رہے ہیں۔ پھر فرمایا (یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاھِھِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ ) کہ وہ اپنے مونہوں سے وہ باتیں کہہ رہے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہیں، ان کا یہ کہنا کہ ہم جنگ کو جانتے ہوتے یا یہ کہ جنگ کا ڈھنگ دیکھتے تو تمہارے ساتھ ہوجاتے، دونوں باتیں ایسی ہیں جو ان کے قلبی عزائم کے خلاف ہیں۔ حقیقی بات یہ ہے کہ وہ کوئی بھی حیلہ بہانہ کریں ان کو تمہارے ساتھ ہونا ہی منظور نہ تھا، پھر فرمایا (وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا یَکْتُمُوْنَ ) کہ اللہ تعالیٰ کو پوری طرح اس کا علم ہے جس کو وہ دلوں میں چھپاتے ہیں (مومنین تو اجمالی طور پر علامات سے ان کے ظاہر کو دیکھ کر باطن کا اندازہ کرتے ہیں اور اللہ جل شانہٗ پوری طرح ان کے باطن سے باخبر ہے ان کے قلبی عزائم کو پوری طرح جانتا ہے)
Ayah 3:168

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے بھائیوں سے کہا اور خود بیٹھ رہے کہ اگر ہماری بات مانتے تو نہ مارے جاتے آپ فرما دیجیے تم اپنی جانوں سے موت کو دفع کرو اگر تم سچے ہو۔

جنگ میں شرکت نہ کرنے سے موت سے چھٹکارہ نہیں ہوسکتا : منافقین کا مزید حال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِھِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا) کہ یہ وہ لوگ ہیں جو خود تو لڑائی سے جان بچا کر بیٹھ رہے اور اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا (جو ان کے نسب میں رشتہ دار تھے) کہ ہم نے تو پہلے ہی رائے دے دی تھی کہ جنگ نہ کی جائے ہماری بات مان لیتے تو مقتول نہ ہوتے ان کے جواب میں بطور سرزنش اور توبیخ کے ارشاد فرمایا (قُلْ فَادْرَءُ وْا عَنْ اَنْفُسِکُمُ الْمَوْتَ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) کہ آپ فرما دیجیے موت سے کہاں بچاؤ ہے لڑائی چھوڑ کر گھر میں بیٹھ رہے اور یہ سمجھ لیا کہ موت سے بچ گئے یہ بیوقوفی ہے موت تو پھر بھی آنی ہی ہے۔ جب تم کو موت آنے لگے جو اپنے مقررہ وقت پر آئے گی تو موت کو دفع کردینا اور اسے ٹال دینا اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ جنگ میں شرکت نہ کرنے سے موت سے بچاؤ ہوسکتا ہے۔ منافق کے نزدیک جان کی قیمت زیادہ ہے اللہ کی راہ میں جان دینے سے کتراتا ہے مومن کو اللہ کی رضا مندی مقصود ہے وہ اللہ کے لیے جیتا ہے اور اسی کے لیے مرتا ہے اللہ کے لیے لڑنے اور جان دینے سے اسے کوئی چیز نہیں روک سکتی۔
Ayahs 3:169–171

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور ہرگز گمان نہ کرو ان لوگوں کے بارے میں جو اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے کہ وہ مردہ ہیں بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس رزق پاتے ہیں

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

وہ خوش ہیں اس سے جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرمایا اور وہ خوش ہو رہے ہیں ان لوگوں کی وجہ سے جو ان کے پاس نہیں پہنچے ان کے پیچھے رہ گئے کہ کوئی خوف نہیں ان پر اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے،

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

وہ خوش ہو رہے ہیں، بوجہ نعمت اور فضل خداوندی کے اور اس بات سے خوش ہیں کہ بلاشبہ اللہ ضائع نہیں فرماتا مومنین کے اجر کو۔

شہداء زندہ ہیں اور خوش ہیں اوپر کی آیت میں مذکور ہے کہ منافقین نے اللہ کی راہ میں مقتول ہوجانے والوں کے بارے میں یوں کہا تھا کہ اگر ہماری بات مان لی جاتی تو مقتول نہ ہوتے گویا کہ ان کا مقتول ہوجانا ان کے نزدیک اچھا نہ ہوا اور ان کی خیر خواہی اس میں ظاہر کر رہے تھے کہ وہ مقتول نہ ہوتے اور دنیا میں اور زیادہ زندہ رہ جاتے آیت بالا میں ان لوگوں کی جاہلانہ بات کا توڑ بھی ہے اور مومنین کو تسلی بھی ہے اور بشارت بھی کہ جو حضرات اللہ کی راہ میں مقتول ہوئے ان کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ تو اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور دنیا کی چیزیں ان کے پاس نہیں ہیں تو یہ کوئی نقصان کی بات نہیں کیونکہ ان کو وہاں ان کے رب کے پاس سے رزق ملتا ہے جو دنیا کی نعمتوں سے کہیں زیادہ بڑھ کر اعلیٰ اور افضل ہے اللہ تعالیٰ نے جو کچھ انہیں عطا فرمایا اس پر وہ خوش ہیں ہشاش بشاش ہیں، وہ تو نعمتوں میں ہیں اور رحمتوں میں ہیں اور منافقین خواہ مخواہ کی ہمدردی ظاہر کر رہے ہیں کہ ہماری بات مانتے تو مقتول نہ ہوتے یہ لوگ یہ نہیں جانتے کہ اللہ کی راہ میں مرجانا موت نہیں ہے بلکہ وہ زندگی ہے اور عمدہ زندگی ہے اور بہت بڑی زندگی ہے۔ جو حضرات شہید ہوگئے وہ نہ صرف اپنی نعمتوں میں خوش ہیں بلکہ وہ ان مسلمانوں کے بارے میں بھی خوش ہو رہے ہیں جو ان تک ابھی نہیں پہنچے اس دنیا میں ان سے پیچھے رہ گئے کہ اگر یہ لوگ بھی اللہ کی راہ میں شہید ہوجائیں تو ان پر بھی ہماری طرح انعام ہوگا، نہ خوف زدہ ہوں گے نہ مغموم ہوں گے، وہ سمجھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے اجر کو ضائع نہیں فرماتا، نہ اس نے ہمارا اجر ضائع فرمایا نہ ہمارے بعد میں آنے والے اہل ایمان کا اجر ضائع فرمائے گا۔ قال صاحب الروح صفحہ 123: ج 4 ای یستبشرون بما تبین لھم من حسن حال اخوانھم الذین ترکوھم احیاء و ھو انھم عند قتلھم فی سبیل اللّٰہ تعالیٰ یفوزون کما فازوا او یحوزون من النعیم کما حازوا۔ حضرت مسروق تابعی (رح) نے بیان فرمایا کہ ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے اس آیت (وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتًا بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ یُرْزَقُوْنَ ) کا مطلب معلوم کیا انہوں نے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے اس کا مطلب معلوم کرچکے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ان کی روحیں سبز پرندوں کے پوٹوں میں ہیں ان کے لیے قندیل ہیں جو عرش سے لٹکے ہوئے ہیں وہ جنت میں جہاں چاہیں چلتے پھرتے ہیں۔ پھر ان قندیلوں میں واپس آجاتے ہیں، اللہ جل شانہٗ نے خاص توجہ فرمائی اور ان سے دریافت فرمایا کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے انہوں نے عرض کیا ہمیں کس چیز کی خواہش ہوگی ؟ اور حال یہ ہے کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں چلتے پھرتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے تین مرتبہ اسی طرح سوال فرمایا جب انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمیں کچھ نہ کچھ جواب دینا ہی پڑے گا، جب تک خواہش کا اظہار نہ کریں سوال ہوتاہی رہے گا تو اللہ تعالیٰ شانہٗ سے عرض کیا کہ اے رب ! ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری روحیں ہمارے جسموں میں واپس کردی جائیں تاکہ ہم ایک بار پھر آپ کی راہ میں قتل کردیئے جائیں جب یہ بات ظاہر ہوگئی کہ انہیں اور کوئی حاجت نہیں ہے تو سوال کرنا چھوڑ دیا گیا (اول تو کسی چیز کی خواہش ظاہر نہ کی اور ظاہر کی بھی تو یہ کہا کہ ہمیں دنیا میں دو بارہ واپس بھیج دیا جائے تاکہ ایک بار پھر شہید ہوجائیں وہاں سے واپس آنے کا قانون نہیں اور اس کے سوا اور کچھ مانگتے نہیں، لہٰذا آگے سوال نہیں فرمایا) ۔ (رواہ مسلم صفحہ 135: ج 1) شہادت اور شہداء کی فضیلت کا مزید بیان سورة بقرہ کی آیت (وَ لاَ تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ) کے ذیل میں گزر چکا ہے۔
Ayahs 3:172–175

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ اور رسول کے حکم کو مان لیا اس کے بعد کہ ان کو زخم پہنچ چکا تھا ان میں سے جنہوں نے نیکی کے کام کیے اور تقویٰ اختیار کیا ان کے لیے بہت بڑا ثواب ہے

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

یہ ایسے ہیں کہ جب ان سے لوگوں نے کہا کہ بلاشبہ لوگوں نے تمہارے لیے سامان جمع کیا ہے، لہٰذا تم ان سے ڈرو تو ان کی اس بات نے ان کا اور زیادہ ایمان بڑھا دیا، اور کہنے لگے کہ ہم کو اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے،

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

سو وہ اللہ کی نعمت اور اس کا فضل لے کر واپس ہوئے ان کو کچھ بھی تکلیف نہیں پہنچی اور وہ اللہ کی رضا مندی کے تابع رہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ جو بات پیش آئی صرف اس وجہ سے کہ شیطان اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے سو تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔

صحابہ کی تعریف جنہوں نے زخم خوردہ ہونے کے باو جود اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانا درمنثور صفحہ 101: ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جب ابو سفیان اور اس کے ساتھی (غزوہ احد کے بعد) واپس ہوئے اور مشرکین کا آپس میں مشورہ ہوا کہ ہم شکست دے کر واپس آگئے (یہ تو کچھ بھی نہ ہوا) سب مسلمانوں کو ختم ہی کردیتے لہٰذا واپس چل کر پھر حملہ کریں، اس کی خبر آنحضرت ﷺ کو ہوگئی تو آپ اپنے صحابہ کو لے کر ان کے پیچھے چلے اور مقام حمراء الاسد تک ان کا پیچھا کیا جب ابو سفیان کو یہ پتہ چلا کہ آپ ہمارے پیچھے آ رہے ہیں تو ابو سفیان اپنے ساتھیوں کو لے کر چلا گیا، راستے میں بنی عبدالقیس کے چند سواروں سے ملاقات ہوئی ان سے ابو سفیان نے کہہ دیا کہ تم محمد ﷺ کو کہہ دو کہ ہم واپس لوٹ کر حملہ کرنے کا ارادہ کر رہے ہیں تاکہ مسلمانوں کو بالکل ہی ختم کردیں، ان لوگوں کی حمراء الاسد میں آنحضرت سرور دو عالم ﷺ سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے ابو سفیان کی بات نقل کردی اس پر آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے (حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ) کہا کہ (اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور ہمارا کار ساز ہے) ۔ اللہ جل شانہٗ نے آیت بالا نازل فرمائی (جس میں مسلمانوں کی تعریف ہے کہ غزوہ احد میں زخم خوردہ ہونے کے بعد بھی) اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی بات مان لی اور دشمن کا پیچھا کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوئے حمراء الاسد تک پیچھا کیا اور جب دشمن کی طرف سے یہ بھبکی ملی کہ ہم نے بہت سا سامان تیار کرلیا ہے۔ تو حسبنا اللہ ونعم الوکیل مضبوط اعتقاد اور یقین کے ساتھ پڑھ لیا اور دشمن واپس نہ ہوئے اور سیدھے مکہ معظمہ چلے گئے۔ اور ابن شہاب زہری سے بحوالہ بیہقی فی الدلائل نقل کیا ہے کہ ابو سفیان نے چلتے وقت یہ کہہ دیا تھا کہ اب بدر میں جنگ ہوگی جہاں تم نے ہمارے آدمیوں کو قتل کیا تھا اس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ صحابہ ؓ کے ساتھ بدر کے لیے روانہ ہوئے ساتھ ہی تجارت کے لیے سامان بھی لے لیا تھا کہ اگر جنگ ہوئی تو جنگ کرلیں گے، ورنہ تجارت تو ہو ہی جائے گی، جب یہ حضرات بدر کے لیے جا رہے تھے تو راستہ میں شیطان نے اپنے دوستوں کو ان کے ڈرانے کے لیے کھڑا کردیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ہم نے سنا ہے کہ تمہارے مقابلہ کے لیے سامان تیار کرلیا گیا ہے۔ لہٰذا تم اپنے ارادہ سے باز آؤ اور احتیاط سے کام لو دشمن تم سے جنگ کرے گا اور تمہارا سامان چھین لے گا ان شیطانی حرکتوں کا ان حضرات پر کچھ اثر نہ ہوا اور برابر چلتے رہے حتیٰ کہ بدر میں پہنچ گئے وہاں دشمن کا نام و نشان بھی نہ تھا انہوں نے اپنے اموال کو فروخت کیا اور نفع کے ساتھ واپس ہوئے۔ مذکورہ بالا آیات میں حضرات صحابہ ؓ کی تعریف ہے جو غزوہ احد میں چوٹ کھانے کے باو جود دشمن کا پیچھا کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے اور دشمن کی جھوٹی بھبھکیوں اور شیطان کی حرکتوں کا بھی ذکر ہے اور مسلمانوں کو جو مال تجارت میں نفع حاصل ہوا اس کا بھی تذکرہ ہے۔ شیطان کے دوستوں نے جو ڈرایا کہ تمہارا دشمن ایسے ایسے سامان حرب سے لیس ہو کر حملہ آور ہونے والا ہے اس کا اثر لینے کی بجائے وہ اللہ ہی کی طرف متوجہ ہوئے اور مضبوط یقین کے ساتھ انہوں نے (حَسْبُنَا اللّٰہُ وَ نِعْمَ الْوَکِیْلُ ) کہا جس سے ان کا قلب قوی ہوا ایمان بڑھ گیا، مومن بندوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا لازم ہے، شیطان اور شیطان کے دوستوں کی شرارتیں تو جاری رہتی ہی ہیں لیکن مسلمان کو اللہ کافی ہے اور وہی ان کا کار ساز ہے، اگر اللہ کی مدد اور نصرت نہ ہوتی تو اسلام پورے عالم میں کیسے پھیلتا، شیطان اور اس کے دوستوں نے کبھی بھی اسلام کی دشمنی میں کمی نہیں کی۔ (یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِءُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاھِہِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ )
Ayah 3:176

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور آپ کو وہ لوگ رنجیدہ نہ کریں جو تیزی کے ساتھ کفر میں جا پڑتے ہیں بیشک وہ لوگ اللہ کو کچھ بھی ضرر نہ دے سکیں گے، اللہ چاہتا ہے کہ ان کو آخرت میں کچھ بھی حصہ نہ دے اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے،

جو لوگ تیزی کے ساتھ کفر میں گرتے ہیں ان کے عمل سے رنجیدہ نہ ہوں اس آیت میں حضرت رسول اکرم ﷺ کو اللہ پاک نے تسلی دی ہے، خطاب تو آپ کو ہے لیکن تسلی کے مضمون میں تمام مسلمان شریک ہیں مطلب یہ ہے کہ جو لوگ تیزی کے ساتھ کفر میں گر رہے ہیں اور کفر انہیں خوب زیادہ مرغوب ہے ان کی حرکتوں اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف ان کی کوششوں سے رنجیدہ نہ ہوں اور یہ اندیشہ نہ کریں کہ یہ لوگ آپ کو نقصان پہنچا دیں گے اور آپ کے مقابلہ میں دوسروں کی مدد کردیں گے۔ قال صاحب الروح صفحہ 133: ج 4 والمراد لا یحزنک و خوف ان یضروک و یعینوا علیک۔ حضرت مجاہد تابعی (رح) نے فرمایا ہے کہ (الذین یسار عون فی الکفر) سے یہاں منافقین مراد ہیں جنہوں نے غزوہ احد میں شرکت نہیں کی، اور حضرت حسن ؓ نے فرمایا کہ اس سے تمام کفار مراد ہیں، آیت نازل ہونے کے وقت خواہ منافقین ہی مراد ہوں لیکن مضمون عام ہے، تمام کافروں کی ہر قسم کی حرکتیں سامنے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کو غمگین نہیں ہونا چاہیے۔ کافر تیزی کے ساتھ کفر میں پڑتے ہیں، اور اسلام کے خلاف کافرانہ سازشیں کرتے ہیں یہ لوگ اللہ کو کچھ بھی ضرر نہیں پہنچا سکتے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہاں مضاف مقدر ہے، مطلب یہ ہے کہ لن یضروا اولیاء اللہ شیئا اور بعض اکابر نے یہاں لفظ ” دین “ کو مقدر مانا ہے ای لن یضروا دین اللہ شیئا یعنی یہ لوگ اللہ کے دین کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے کافروں کی سازشیں ہمیشہ سے رہیں اور برابر رہیں گے، مومن بندے غمگین نہ ہوں کیونکہ دشمن کو تو دشمنی کرنی ہی ہے لیکن ان کی دشمنی سے اللہ کو کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا وہی تمہارا مددگار ہے، لہٰذا اسی پر بھروسہ کرو اور اس سے مدد مانگو۔ دشمن جو تیزی سے کفر میں گر رہے ہیں اور اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کا ذرا سا حصہ بھی نہ ہو ظاہری دنیا کے اعتبار سے ان کو غلط فہمی ہے کہ ہم اچھے رہے کہ اسلام قبول نہ کیا اور اپنے جان و مال کو بچا لیا۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ آخرت کے منافع سے بالکل محروم ہوگئے بلکہ وہ وہاں بڑے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
Ayah 3:177

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کو ایمان کے بدلہ خرید لیا وہ ہرگز اللہ کو کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے

پھر فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْءًا وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (بےشک جن لوگوں نے ایمان کو کفر کے بدلہ خرید لیا وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے، اور ان کے لیے عذاب ہے درد ناک) کفر کو ایمان کے بدلے خرید کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ایمان کے بدلہ کفر اختیار کرلیا۔ ایمان کو چھوڑ کر کفر کو رغبت کی چیز بنا لیا۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہاں جو مکرر (لَنْ یَّضُرُّو اللّٰہِ شَیْءًا) فرمایا یہ بطور تاکید کے ہے اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس سے تعریض مقصود ہو اور مطلب یہ ہو کہ یہ لوگ صرف اپنی ہی ذاتوں کو ضرر دے رہے ہیں۔ اللہ کو کوئی ضرر نہیں دے سکتے اور اپنی حرکتوں کی وجہ سے درد ناک عذاب کے مستحق ہیں۔
Ayah 3:178

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور ہرگز گمان نہ کریں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ ہم جو ان کو مہلت دے رہے ہیں وہ ان کی جانوں کے لیے بہتر ہے بات یہی ہے کہ ہم انہیں مہلت دے رہے ہیں تاکہ وہ گناہوں میں اور زیادہ ترقی کرلیں اور ان کے لیے عذاب ہے ذلیل کرنے والا۔

پھر فرمایا (وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِھِمْ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ لِیَزْدَادُوْٓا اِثْمًا وَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ) (اور ہرگز گمان نہ کریں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ ہم جو ان کو مہلت دے رہے ہیں وہ ان کے لیے بہتر ہے۔ یہ مہلت اس لیے ہے کہ وہ گناہوں میں اور زیادہ ترقی کرلیں اور ان کے لیے عذاب ہے ذلیل کرنے والا) کافروں کو جو یہ خیال ہوتا ہے کہ ہم تو بہت اچھے حال میں ہیں۔ صاحب مال ہیں، صاحب اولاد ہیں، کھاتے پیتے ہیں، ہمیں اسی حال میں اللہ تعالیٰ دیتا ہے اور ہماری زندگیاں دراز ہو رہی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے ناراض نہیں ہے یہ ان کی ناسمجھی ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو متنبہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ہمارے ڈھیل دینے کو یہ نہ سمجھیں کہ ہمارا ڈھیل دینا ان کے حق میں بہتر ہے، ہم تو صرف اس لیے ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ گناہوں میں ترقی کرتے چلے جائیں پھر ان کو خوب زیادہ سزا ملے، اور سزا بھی خوب ذلیل کرنے والی ہوگی۔ یہ مضمون قرآن مجید میں کئی جگہ وارد ہوا ہے۔ سورة اعراف میں فرمایا (وَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُھُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ وَ اُمْلِیْ لَھُمْ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ) (اور جن لوگوں نے کہ ہماری آیات کو جھٹلایا ہم ان کو اس طور پر بتدریج لیے جا رہے ہیں کہ ان کو علم بھی نہیں اور میں ان کو مہلت دیتا ہوں، بیشک میری تدبیر بڑی مضبوط ہے) سورة توبہ میں فرمایا (فَلَا تُعْجِبْکَ اَمْوَالُھُمْ وَ لَآ اَوْلَادُھُمْ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَھُمْ بِھَا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ تَزْھَقَ اَنْفُسُھُمْ وَ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ) (سو ان کے اموال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں اللہ کو صرف یہ منظور ہے کہ ان چیزوں کی وجہ سے دنیاوی زندگی میں ان کو گرفتار عذاب رکھے اور ان کی جانیں اس حال میں نکل جائیں کہ وہ کافر ہوں) ۔ مسلمانوں کو بھی اس سے عبرت حاصل کرنا چاہیے۔ دنیا میں مال و اولاد زیادہ ہونا دلیل اس بات کی نہیں ہے کہ جس کے پاس یہ چیزیں ہوں، وہ اللہ کا محبوب ہی ہو اللہ تعالیٰ جن سے ناراض ہے ان کو بھی یہ چیزیں دیتا ہے بلکہ اپنے محبوبین سے زیادہ دیتا ہے، اپنے دشمنوں کی جو دنیاوی چیزیں زیادہ عنایت فرماتا ہے اس میں یہ حکمت ہے کہ یہ لوگ کفر اور معاصی میں زیادہ سے زیادہ ترقی کرتے رہیں پھر ان کو یکبارگی سخت ترین عذاب میں مبتلا کردیا جائے اسی طرح بہت سے سے فاسقوں اور فاجروں کو بھی مال بہت زیادہ دیتا ہے، مخلصوں اور متقیوں کو اتنا نہیں دیتا۔ جن لوگوں کو تکوینی قانون معلوم نہیں ہے وہ اس پر تعجب کرتے ہیں اور بعض تو تعجب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ پر اعتراض بھی کردیتے ہیں جنہیں ایمان اور اعمال کے ساتھ حلال مال مل گیا گوتھوڑا ہی ہو وہ بہت مبارک ہے اور جسے کفر کے ساتھ مال دولت مل گیا یا فسق و فجور کے ساتھ مال مل گیا جس کی وجہ سے کافر ہوجاتے ہیں یا وہ شخص فسق و فجور میں ترقی کرتے رہتے ہیں، تو یہ کوئی نعمت کی چیز نہیں ہے۔ استدراج کا خطرہ پیش نظر رہنا چاہیے اگر مال حلال ہی ہو اور گناہوں میں خرچ ہو تو یہ زبردست مواخذہ کی چیز ہے اور اگر حرام ہو تو وہ تو سراپا عذاب ہی عذاب ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہرگز کسی فاجر کی نعمت پر شک نہ کر کیونکہ تجھے معلوم نہیں کہ موت کے بعد اسے کس مصیبت سے دو چار ہونا ہے اس کے لیے اللہ کے نزدیک ایک قاتل ہے جو کبھی نہ مرے گا یعنی دوزخ کی آگ۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 447)
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

اللہ مومنین کو اس حالت پر چھوڑنا نہیں چاہتا جس پر تم اب ہو جب تک کہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ فرما دے، اور اللہ تم کو امور غیب پر مطلع نہیں فرماتا لیکن اللہ منتخب فرما لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہے سو ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر اور اگر تم ایمان پر قائم رہے اور تم نے تقویٰ اختیار کیا تو تمہارے لیے ثواب عظیم ہے۔

اللہ تعالیٰ اچھے اور برے لوگوں میں امتیاز فرمائے گا منافقین مخلص مسلمانوں میں گھلے ملے رہتے تھے ان کے ظاہری دعو وں کی وجہ سے اور بعض نمازوں میں حاضر ہونے کی وجہ سے ظاہری طور پر یہ امتیاز نہ ہو پاتا تھا کہ منافق کون ہے اور مخلص کون ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ اے مسلمانو ! اللہ تعالیٰ تم کو اس حالت پر نہیں رکھنا چاہتا جس پر تم اب ہو بلکہ اللہ پاک کی طرف سے ایسے شدائد اور مصائب پیش آتے ہیں اور پیش آئیں گے کہ ناپاک لوگ یعنی منافقین کا پاک لوگوں (یعنی مومن مخلصین) سے امتیاز ہوجائے کیونکہ مصیبت کے وقت اپنے پرائے کا اچھی طرح پتہ چل جاتا ہے۔ پھر فرمایا (وَ مَا کَان اللّٰہُ لِیُطْلِعَکُمْ عَلَی الْغَیْبِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِہٖ ) اس میں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ تمہیں منافقین کے نفاق پر اس طرح مطلع فرما دیں کہ تم ان کے قلوب کو جان لو ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے، حکمت یہ ہے کہ عملی طور پر ظاہری طریقے پر منافقوں کا نفاق کھل جائے اور وہ اس طرح سے واضح ہو کہ جب مصیبتیں پیش آئیں اور اللہ کی راہ میں جان و مال خرچ کرنے کے مواقع آئیں تو منافقین بھاگ نکلیں غزوہ احد میں عمل سے بھی راہ فرار اختیار کی اور زبانی طور پر بھی ایسے کلمات بول اٹھے جن سے صاف ظاہر ہوگیا کہ یہ اندر سے مومن نہیں ہیں۔ اگر مسلمانوں کو منافقوں کے قلوب کا حال بتادیا جاتا اور مسلمان اپنے اسی علم کی بنیاد پر یہ کہتے کہ تم منافق ہو مسلمان نہیں ہو تو وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ تمہارے پاس ہمارے منافق ہونے کی کیا دلیل ہے تم غلط کہتے ہو ہم تو سچے پکے مسلمان ہیں، لیکن جب مصیبتوں کا سامان ہوا اور منافق بھا گ کھڑے ہوئے تو ظاہری طور پر خود ہی مسلمانوں سے الگ ہوگئے اور اب ان کا منہ نہ رہا کہ مومن مخلص ہونے کا دعویٰ کریں۔ ہاں اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے غیب کی بات بتادیتا ہے اس غیب میں یہ بھی ہے کہ کسی کا نفاق اور دل کا چور اپنے رسول اللہ ﷺ کو بتادے اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ پر ظاہر فرمائے یا مصائب اور شدائد اور تکالیف اور قربانی کے مواقع سامنے لا کر منافقین کا نفاق ظاہر فرمائے اور سب کے سامنے رسوا فرمائے یہ سب حکمت کے مطابق ہے۔ قال صاحب الروح صفحہ 137: ج 4 والا ستدراک اشارۃ الی کیفیۃ وقوعہ علی سبیل الا جمال و ان المعنی ماکان اللہ لیترک المخلصین علی الاختلاط بالمنافقین بل یرتب المبادی حتی یخرج المنافقین من بینھم وما ذلک باطلاعکم علی ما فی قلوبھم من الکفر و النفاق ولکنہ تعالیٰ یوحی الی رسولہ فیجزہ بذلک و بما ظھر منھم من الاقوال و الافعال حسبماح کی عنھم بعضہ فیما سلف فیفضھم علی رؤس الا شھاد و یخلصکم مماتکر ھون۔ آخر میں فرمایا (فَاٰمِنُوْا باللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَکُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ) ( کہ تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ) یعنی اسی پر ثابت قدم رہو اور اگر تم مومن رہوگے اور تقویٰ اختیار کرو گے تو تمہارے لیے اجر عظیم ہے۔
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

اور ہرگز خیال نہ کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس چیز میں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دی ہے کہ یہ بخل کرنا ان کے لیے بہتر ہے بلکہ وہ ان کے لیے برا ہے جس چیز کے ساتھ انہوں نے بخل کیا، عنقریب قیامت کے دن ان کو اس کا طوق پہنایا جائے گا اور اللہ کے لیے آسمانوں کی اور زمین کی میراث ہے اور اللہ ان کاموں کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔

جو لوگ بخیل ہیں وہ بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں جو لوگ مومن نہ تھے وہ اللہ کی راہ میں جس طرح جان دینے سے بچتے تھے اسی طرح مال خرچ کرنے سے بھی گریز کرتے تھے۔ اس آیت میں بخل کی مذمت فرمائی اور فرمایا کہ اللہ کے دیئے ہوئے مال میں جو لوگ کنجوسی کرتے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کا یہ عمل ان کے لیے بہتر ہے۔ یہ تو ان کے لیے بہت ہی برا ہے اور اس کا برا انجام آخرت میں سامنے آئے گا، ان کا مال قیامت کے دن طوق بنا کر ان کے گلون میں ڈال دیا جائے گا۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جسے اللہ نے مال دیا پھر اس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی تو اس کا مال قیامت کے دن گنجا سانپ بنا دیا جائے گا۔ (جس سانپ کے زیادہ زہریلا ہونے کی وجہ سے سر کے بال اڑ گئے ہوں اسے گنجا سانپ کہا جاتا ہے) یہ گنجا سانپ اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا پھر وہ اس کی دونوں باچھوں کو پکڑ کر کہے گا انا مالک انا کنزک (کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں) پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ ) (الآیۃ) (رواہ البخاری صفحہ 188: ج 1) پھر فرمایا (وَ لِلّٰہِ مِیْرَاث السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) یعنی آسمانوں کی اور زمین کی میراث سب اللہ کے لیے ہے سب کا وہی مالک ہے ملکیت حقیقی میں کوئی اس کا ساجھی نہیں، اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے اللہ کا حکم نازل ہونے پر خرچ نہ کرنا اور مال خرچ کرنے میں اللہ کی رضا کا خیال نہ کرنا بڑی بےوقوفی ہے جن مالوں کو آپس میں یکے بعد دیگرے میراث میں تقسیم کرلیتے ہیں وہ اولاً آخراً سب اللہ ہی کا ہے۔ (وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) اور جو بھی عمل کرتے ہو سخاوت ہو یا کنجوسی خیر ہو یا شر اللہ تعالیٰ کو ان سب کی خبر ہے وہ ان سب کا بدلہ دے گا۔
Ayahs 3:181–183

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

بلاشبہ اللہ نے سن لی ان کی بات جنہوں نے کہا ہے کہ بیشک اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں، عنقریب ہم ان کی بات کو لکھ لیں گے اور جو انہوں نے نبیوں کے ناحق خون کیے ہیں اس کو بھی لکھ لیں گے اور ہم کہیں گے کہ چکھ لو جلنے کا عذاب

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ ان اعمال کی وجہ سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجے اور بلاشبہ اللہ بندوں پر ظلم فرمانے والا نہیں ہے۔

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

جنہوں نے کہا کہ بیشک اللہ نے ہم سے یہ فرمایا ہے کہ ہم کسی رسول پر ایمان نہ لائیں جب تک کہ وہ ہمارے پاس ایسی قربانی کی چیز نہ لائے جسے آگ کھاجائے آپ فرما دیجیے مجھ سے پہلے بہت سے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے اور جو تم کہہ رہے ہو وہ بھی لائے پھر تم نے ان کو کیوں قتل کیا اگر تم سچے ہو ؟

یہود کی بیہودگی اور ان کے لیے عذاب کی و عید لباب النقول صفحہ 61 میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ایک دن یہودیوں کے بیت المدارس (یعنی مدرسہ) میں تشریف لے گئے وہاں ایک شخص کے پاس یہودی جمع تھے جس کا نام فخاص تھا فخاص نے کہا اے ابوبکر ہمیں اللہ کی طرف کوئی محتاجی نہیں اور اللہ ہمارا محتاج ہے اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے قرض کیوں مانگتا، تمہارا نبی یہ بتاتا ہے کہ اللہ قرض طلب کرتا ہے اس پر حضرت ابوبکر ؓ کو غصہ آگیا اور فخاص کے چہرے پر طمانچہ مار دیا۔ فخاص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا اور کہنے لگا کہ اے محمد ﷺ ! دیکھو تمہارے ساتھی نے میرے ساتھ کیا کیا۔ آپ نے ابوبکر سے فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ اس نے بہت سخت بات کہی ہے۔ یہ کہتا ہے کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں۔ اس پر فخاص منکر ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت بالا نازل فرمائی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ مروی ہے کہ جب آیت کریمہ (مَنْ ذَالَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضاً حَسَناً ) نازل ہوئی تو یہودی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد ! تمہارا رب تو فقیر ہوگیا، وہ بندوں سے مانگتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت (لَقَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ ) (آخر تک) نازل فرمائی۔ یہ تو مشہور ہی ہے کہ اعتراض کرنے والا اندھا ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے زکوٰۃ صدقات دینے کا جو حکم فرمایا پھر اس پر آخرت میں ثواب دینے کا وعدہ فرمایا اس کی مہربانی کے طور پر قرض سے تعبیر فرما دیا کہ یہاں میرے بندوں پر خرچ کر دو اور اس کا اجر وثواب میں تم کو آخرت میں دے دوں گا، سارے بندے اور بندوں کے سارے مال سب اللہ ہی کی ملکیت ہیں وہ اگر سارا مال خرچ کرنے کا حکم دیتا اور بالکل کچھ بھی ثواب نہ دیتا تو اسے اس کا بھی اختیار ہے وہ تو بےغرض اور بےحاجت ہے غنی ہے مغنی ہے بےنیاز ہے اسے کسی چیز کی حاجت نہیں اس نے ابتلاء اور امتحان کے طور پر بندوں کو حکم دیا کہ بندوں پر خرچ کریں۔ اور اپنے پاس سے دینے کا وعدہ فرما لیا۔ یہودیوں نے اس کرم اور فضل اور مہربانی کو نہ سمجھا اللہ نے اپنے دئیے ہوئے مال میں سے حکم کے مطابق خرچ کرنے کا نام قرض رکھ دیا اور ثواب کا وعدہ فرما لیا اور قرآن مجید کی اس تعبیر پر اعتراض کر بیٹھے اور کہنے لگے کہ اللہ فقیر ہوگیا ہم سے مانگتا ہے لہٰذا ہم مالدار ہوئے اور وہ فقیر ہوا (العباذ باللہ) اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ انہوں نے جو کہا ہے اس کو ہم لیں گے یعنی صحائف اعمال میں اس کو درج کرا دیں گے اور ان کی یہ بات محفوظ رہے گی، جس پر ان کو سزا ملے گی۔ یہودیوں کی اس بات میں اللہ جل شانہٗ کے بارے میں بد عقیدہ ہونے کا اظہار ہے اور قرآن کا استہزاء ہے اور ان کا ایک یہی قول باعث عذاب و عقاب نہیں ہے بلکہ وہ تو اور بھی بہت سے بری حرکتیں کرچکے جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انہوں نے ناحق انبیاء کرام (علیہ السلام) کو قتل کیا، یہ کام کیا تو تھا ان کے آباؤ اجداد نے لیکن موجودہ یہودیوں کی اس پر کوئی نکیر نہیں اور اپنے آباؤ اجداد کے اس عمل سے راضی ہیں لہٰذا یہ بھی قیامت کے دن ان کے اعمال ناموں میں لکھا ہوا ملے گا۔ کافرانہ عقیدوں اور حرکتوں کی وجہ سے دوزخ میں داخل ہوں گے اور کہا جائے گا کہ جلنے کا عذاب چکھ لو اور یہ عذاب تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے جو تم نے دنیا میں کیے اور آخرت میں بھیج دئیے۔ جو کچھ بھی عذاب ہے تمہارے اپنے کیے کا پھل ہے۔ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم فرمانے والا نہیں ہے۔ اس کے بعد یہودیوں نے ایک اور بات نقل فرمائی پھر اس کا جواب دیا، یہودیوں نے یہ کہا کہ اے محمد ! ﷺ ہم تم پر کیسے ایمان لائیں، ہمیں تو اللہ نے تورات میں یہ حکم دیا ہے اور تاکید فرمائی ہے کہ جو بھی کوئی شخص رسالت اور نبوت کا مدعی ہو ہم اس کی تصدیق نہ کریں جب تک کہ وہ اللہ کی بار گاہ میں قربانی پیش نہ کرے اور یہ قربانی ایسی ہو جسے آگ جلا کر بھسم کر دے یہ آگ کا جلانا دلیل اس بات کی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قربانی قبول ہوگئی اور یہ شخص جس نے قربانی پیش کی ہے واقعی اللہ کا رسول ہے، اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ آپ جواب میں فرما دیجیے کہ تم سے پہلے کثیر تعداد میں انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے ان کے پاس کھلے کھلے معجزات تھے اور تم جو یہ کہہ رہے ہو کہ قربانی پیش کی جائے جسے آگ جلا دے انہوں نے تمہارے سامنے یہ بھی کیا قربانیاں پیش کیں جنہیں آگ نے جلایا، تم تو اس پر بھی ایمان نہ لائے اور نہ صرف یہ کہ ایمان نہ لائے بلکہ تم نے ان کو قتل کردیا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو انبیاء سابقین پر ایمان لے آتے بات یہ ہے کہ تمہیں ایمان لانا نہیں ہے بطور کٹ حجتی حیلے بہانے تراشنے کے لیے ایسی باتیں کہتے ہو۔ (روح المعانی صفحہ 141 تا 144: ج 4)
Ayah 3:184

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

سو اگر وہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں وہ کھلی کھلی نشانیاں لائے اور صحیفے لائے اور روشن کتاب لائے۔

پھر فرمایا (فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقَدْکُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ جَآءُ وْ بالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْکِتٰبِ الْمُنِیْرِ ) اس میں نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ان لوگوں نے آپ کو جھٹلایا ہے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے رسولوں کی تکذیب کی گئی ہے۔ وہ حضرات کھلے کھلے معجزات لے کر آئے ان کے پاس اللہ کے عطا فرمودہ صحیفے تھے اور خوب اچھی طرح واضح کرکے بیان کرنے والی کتاب تھی۔ اس سب کے باو جود جنہیں ایمان نہ لانا تھا وہ ایمان نہ لائے اور رسولوں کی تکذیب کرتے رہے اگر آپ کی تکذیب کی جائے تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں۔
Ayah 3:185

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر جان موت چکھنے والی ہے اور بات یہی ہے کہ تم کو قیامت کے دن پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، سو جو شخص بچا دیا گیا آگ سے اور داخل کردیا گیا جنت میں سو وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا والی زندگی دھوکہ کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔

ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اس آیت شریفہ میں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ ہر شخص کو مرنا ہے اور موت کا مزہ چکھنا ہے مومن ہو یا کافر سب کو یہاں سے چلا جانا ہے اور زندگی کا مرحلہ موت پر ختم نہیں ہوجاتا۔ بلکہ زندگی میں جو اچھے یا برے کام کیے موت کے بعد ان کا بدلہ ملے گا اور پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، حساب ہوگا اعمال کی پیشی ہوگی قاضی روز جزا جل مجدہ فیصلے فرمائے گا، جو شخص دوزخ سے بچا دیا گا اور جنت میں داخل کردیا گیا اصل کامیاب وہی ہے۔ کامیاب کون ہے ؟ لوگوں نے دنیا میں اپنی کامیابی کے لیے بہت سے معیار تجویز کر رکھے ہیں، حکومتوں والے سمجھتے ہیں کہ ہم کامیاب ہیں، سیٹھ اور مہاجن اس دھوکہ میں مبتلا ہیں کہ ہم کامیاب ہیں، بڑے بڑے عہدوں پر پہنچنے والے اپنی کامیابی کے گھمنڈ میں ہیں بڑے بڑے محلوں میں رہنے والے گمان کر رہے ہیں کہ ہم کامیاب ہیں، ان لوگوں کو آخرت کی کامیابی اور نا کامی کا ذرا بھی دھیان نہیں ہے۔ اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ جو دوزخ سے بچا دیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہے، اس میں یہودیوں کو بھی نصیحت ہوگئی جو اپنے احوال اور اموال میں مست ہیں اور کفر کو اختیار کرنے کے باو جود اپنے کو کامیاب سمجھ رہے ہیں، یہ لوگ بہت بڑی گمراہی میں ہیں۔ اور اپنی جانوں کو دوزخ میں دھکیل رہے ہیں یہاں کی عارضی زندگی کو کامیابی سمجھ رہے ہیں، اور دوزخ کے داخلے کی صورت میں جو ناکامی سامنے آئے گی اور جو جنت سے محرومی ہوگی اس بات کی طرف ذرا دھیان نہیں ہے۔ مسلمانوں کو بھی اس میں تعلیم دی گئی کہ دنیا میں کسی قوم یا فرد کی مال اور دولت والی زندگی دیکھ کر اپنے کو نا کام نہ سمجھیں، جب مومن ہو اور جنت اور دوزخ کو مانتے ہو اور یہ بھی سمجھتے ہوں کہ مومن جنت میں اور کافر دوزخ میں داخل ہوں گے تو اپنی وہاں کی کامیابی پر نظر رکھو اور اسی پر خوش رہو۔ دنیا دھوکہ کا سامان ہے : آخر میں فرمایا (وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ) (اور دنیا والی زندگی دھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں) اس جملے کی تشریح ہزاروں صفحات میں ہوسکتی ہے دنیا اور احوال دنیا اور اصحاب دنیا اور ان کے احوال پر نظر ڈالیں تاریخ کا مطالعہ کریں، بادشاہوں کی تاریخ دیکھیں، دولت مندوں کے واقعات سنیں، اپنے سامنے جو دنیا میں حوادث پیش آ رہے ہیں، ان کو دیکھیں انقلابات پر نظر ڈالیں تو واضح طور پر معلوم ہوجائے گا کہ دنیا والی زندگی صرف دھوکہ ہے جس کی مثال کھیتی کی طرح ہے آج لہلہا رہی ہے۔ کل کو سوکھ گئی کسانوں نے کاٹ پیٹ کر برابر کردی (فَاَصْبَحَ ھَشِیْمًا تَذْرُوْہُ الرِّیَاحَ ) لوگوں کے سامنے انقلابات ہیں، حوادث ہیں، قرون اولیٰ کی تاریخ ہے اور یہ بھی پتہ ہے کہ مریں گے۔ پھر بھی دنیا ہی سے دل لگائے ہوئے ہیں اسی کے لیے سوچتے ہیں، اسی کے لیے جیتے ہیں اسی کے لیے مرتے ہیں اور آخرت کی دائمی اور عظیم نعمتوں کے حاصل کرنے کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کرتے اور دوزخ کے عذاب سے بچنے کا ذرا دھیان نہیں کرتے۔
Ayah 3:186

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

تم لوگ ضرور ضرور آزمائے جاؤ گے اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں اور جن لوگوں کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور جن لوگوں نے شرک کیا ان کی طرف سے ضرور بالضرور بہت سی باتیں دل آزاری کے سنوگے اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو بلاشبہ یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

جانوں اور مالوں میں تمہاری ضرور آزمائش ہوگی اس آیت شریفہ میں مسلمانوں کو بتادیا ہے کہ صبر اور آزمائش کے جو واقعات تمہارے سامنے آئے یہ نہ سمجھو کہ یہ آخری ہیں انکے بعد بھی ایسے واقعات پیش آتے رہیں گے، جن سے تمہاری آزمائش ہوتی رہے گی، یہ آزمائش جانوں میں بھی ہوگی اور مالوں میں بھی ہوگی، ہمت اور حوصلہ کے ساتھ سب کو برداشت کرتے رہو، نیز اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور مشرکین تمہیں ایذا پہنچاتے رہیں گے اور ان سے ایسی باتیں سنو گے جن سے تمہیں دکھ پہنچے گا، دشمن اپنی حرکت سے باز نہ آئے گا، تمہیں ان کی ایذاؤں سے اور بدزبانیوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ صبر اختیار کرو اور تقویٰ کو ہاتھ سے نہ جانے دو تمہارے لیے اسی میں خیر ہے اور صبر اور تقویٰ اختیار کرنا ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ صبر کرنے سے تسلی ہوتی ہے اور تقویٰ سے اعمال کی تکمیل ہوتی ہے جب یہ دونوں چیزیں اختیار کرلیں تو دشمن کی دل آزاریوں سے صرف نظر کرنا آسان ہوگا۔
Ayah 3:187

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور جب اللہ نے ان لوگوں سے مضبوط عہد لیا جن کو کتاب دی گئی کہ تم ضرور ضرور کتاب کو لوگوں کے سامنے بیان کرنا اور اس کو نہ چھپانا سو انہوں نے اس کو اپنی پشتوں کے پیچھے ڈال دیا اور انہوں نے اس کے ذریعہ تھوڑی سی قیمت خرید لی، سو بری ہے وہ چیز جو وہ خریدتے ہیں،

اہل کتاب سے میثاق لینا اور ان کا عہد سے پھرجانا جن لوگوں کو امت محمدیہ سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب دی گئی جن میں یہود و نصاریٰ کے علماء بھی تھے ان سے اللہ تعالیٰ نے عہد لیا تھا کہ جو کتاب تمہیں دی گئی ہے اس کو لوگوں کے سامنے بیان کرو گے اور کسی چیز کو چھپانا نہیں۔ عہد کی ان لوگوں نے پاسداری نہ کی، اور اس کو پس پشت ڈال دیا اور حقیر دنیا حاصل کرنے کے لیے کتاب کے مضامین کو چھپایا اور حق کو بیان کرنے سے پیچھے ہٹتے رہے، اللہ کے عہد کو پس پشت ڈال کر اور حق کو چھپا کر جو اپنے معتقدین سے ذرا بہت دنیا حاصل کرلی یہ انہوں نے بہت بڑے نقصان کا سودا کیا اپنی آخرت برباد کی اور ذرا سی دنیا کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ حق چھپانے کے واقعات یہودیوں کی طرف سے پیش آتے رہے تھے ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے علماء یہود سے کوئی بات پوچھی (جو توریت شریف میں تھی) ان لوگوں نے اصل بات کو چھپا دیا اور اس کی جگہ دوسری بات نقل کردی جب وہاں سے چلے گئے تو خوش ہو رہے تھے کہ واہ ہم نے خوب کام کیا اور ان کی خواہش تھی کہ ان کی اس پر تعریف کی جائے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب بیان کردی اس پر آیت (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ ) نازل ہوئی۔
Ayah 3:188

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

آپ ہرگز خیال نہ کریں کہ جو لوگ اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیے ان پر ان کی تعریف کی جائے ان کے بارے میں آپ ہرگز یہ خیال نہ کریں کہ وہ عذاب سے چھوٹ گئے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے،

اور بعض روایات میں یہ ہے کہ بہت سے لوگ منافقین میں سے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں نہیں گئے اور مدینہ منورہ ہی میں بیٹھے رہے جب آپ واپس تشریف لائے تو جھوٹے عذر پیش کیے جن پر قسمیں کھا گئے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ جو کام نہیں کیا اس پر تعریف کی جائے (یعنی جہاد کے شرکاء میں ان کو شامل کرلیا جائے) اس پر آیت کریمہ (لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ ) (آخر تک) نازل ہوئی۔ (درمنثور صفحہ 108: ج 2) دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے، دونوں ہی باتیں سبب نزول ہوسکتی ہیں۔ انسان کے نفسانی تقاضوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور اس کی محبت اس درجہ میں ہے کہ جو عمل نہیں کیے وہ عمل اس کی طرف منسوب کیے جائیں اور پھر ان کی تعریف کی جائے یہودیوں اور منافقوں کا یہی طریقہ تھا اور بھی بہت سے لوگ اس مزاج کے پائے جاتے ہیں جو حضرات متقی اور محتاط ہیں وہ اپنے اعمال حسنہ پر بندوں کی طرف سے تعریف کیے جانے کی تمنا نہیں کرتے پھر جو عمل نہیں کیے ان پر کہاں تعریف کے متمنی ہوسکتے ہیں، حضرت امام ابوحنیفہ (رح) بازار سے گزر رہے تھے کہ ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ دیکھو یہ شخص پوری رات نماز پڑھتا ہے یہ سن کر حضرت امام صاحب پوری رات نماز پڑھنے لگے اور فرمایا کہ مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ اس عمل پر میری تعریف ہو جو میں نے نہیں کیا۔ یہودیوں نے اور منافقین نے جو اس بات کی آرزو کی کہ جو کام انہوں نے نہیں کیے ان پر ان تعریف کی جائے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم کامیاب ہوگئے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (فَلَا تَحْسَبَنَّھُمْ بِمَفَازَۃٍ مِّنَ الْعَذَابِ وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ) (آپ ہرگز یہ خیال نہ فرمائیں کہ یہ لوگ عذاب سے چھوٹ گئے بلکہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
Ayah 3:189

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے ہے ملک آسمانوں اور زمین کا اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

آخر میں فرمایا (وَ لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ) اس میں بہت سی باتیں آگئیں جو لوگ حقیر دنیا کے لیے حق چھپاتے تھے ان کو بھی بتادیا کہ جو کچھ لینا ہے اللہ سے لو اس کی رضا کے کام کرکے لو۔ ہر چیز کا وہی مالک ہے اور مسلمانوں کو بھی توجہ دلا دی کہ اگر دنیا میں کسی فاسق فاجر کے پاس مال زیادہ ہے تو اس کی طرف نظریں نہ اٹھائیں سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے وہ جب چاہے گا تم کو بھی عطا فرما دے گا۔ اور اس کی مشیت ہوگی تو تمہیں دشمنوں سے زیادہ عطا فرما دے گا، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
Ayahs 3:190–191

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں،

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے، اور لیٹے ہوئے، اور فکر کرتے ہیں آسمان اور زمین کے پیدا کرنے میں، اے ہمارے رب آپ نے اس کو عبث پیدا نہیں فرمایا ہم آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں سو آپ ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا دیجیے،

عقلمندوں کی صفات اور ان کی دعائیں ان آیات میں اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ آسمانوں کو اور زمین کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے اور رات اور دن کے آگے پیچھے آنے کا جو نظام رکھا ہے جس کے مطابق رات اور دن آگے پیچھے آتے رہتے ہیں اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ یعنی یہ چیزیں بتاتی ہیں کہ ان کا پیدا فرمانے والا قادر مطلق ہے، خالق ہے، حکیم ہے، یہ نشانیاں ایسی ہیں کہ عقل والے ان کو دیکھتے ہیں اور ان کی پیدائش میں غور و فکر کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب یہ جو کچھ آپ نے پیدا فرمایا ہے بےکار، عبث اور لایعنی نہیں ہے۔ ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں اور تو ہمیں عذاب دوزخ سے بچا دینا۔ درمیان میں ان عقل والوں کی یہ صفت بیان فرمائی کہ یہ لوگ کھڑے اور لیٹے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں۔ زبان سے اور دل سے اللہ کو یاد کرتے ہیں اللہ کی ذات وصفات کا تذکرہ کرنا اس کی تکوین و تخلیق بیان کرنا اس کی قدرت اور حکمت کا تذکرہ کرنا یہ سب ذکر اللہ میں داخل ہے جن لوگوں کو اللہ کی معرفت حاصل ہوجائے وہی حقیقت میں عقل والے ہیں اور ان کے عقل مند اور عارف ہونے کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں۔ بیٹھے ہوں، لیٹے ہوں، کھڑے ہوں چل رہے ہوں کسی حال میں ذکر اللہ سے غافل نہیں ہوتے۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگ کسی جگہ پر بیٹھے جس میں انہوں نے اللہ کو یاد نہ کیا اور اپنے نبی پر درود نہ بھیجا تو یہ مجلس ان کے لیے نقصان کا باعث ہوگی، اللہ چاہے تو ان کو عذاب دے اور چاہے تو مغفرت فرمائے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جو شخص کسی جگہ میں لیٹا اس میں اللہ کو یاد نہ کیا تو اس کا لیٹنا اللہ کی طرف سے اس کے لیے نقصان کا باعث ہوگا اور جو شخص کسی جگہ میں چلا اس نے اس چلنے کے دوران اللہ کو یاد نہ کیا تو یہ چلنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے نقصان کا باعث ہوگا۔ (التر غیب 409: ج 2) درحقیقت اللہ تعالیٰ کا ذکر ہی اس عالم کی روح ہے جب تک اس دنیا میں ایک مرتبہ بھی اللہ اللہ کہا جاتا رہے گا اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی۔ (کمارواہ مسلم صفحہ 84: ج 1) آج کل بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں عقلمند سمجھا جاتا ہے ان لوگوں نے اپنے طور پر سائنس کی معلومات میں اور دیگر امور کی معرفت حاصل کرنے میں بہت محنت کی ہے۔ لیکن ان معلومات کے ذریعہ انہوں نے خالق کائنات جل مجدہ کو نہیں پہچانا۔ ان میں بہت سے تو خالق جل مجدہ کے وجود ہی کے منکر ہیں اور جو لوگ اسے موجود مانتے ہیں، وہ بھی اس کی صفات جلال و جمال کو نہیں ماتنے۔ اور اس کو تکوینی حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اس کے مظاہر قدرت سے اس کی معرفت حاصل کرنے کی بجائے مادہ ہی کو یا طبیعت ہی کو سب کچھ مانتے ہیں۔ اور یوں کہتے ہیں کہ طبیعت خود ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گئی یہ ان لوگوں کی اپنے خالق کی معرفت سے محرومی ہے، پھر انہیں یہ احساس نہیں کہ ہم کیوں پیدا ہوئے اور اس دنیا کے بعد ہمارا کیا بنے گا، اور یہ کہ ہمارے خالق نے زندگی گزارنے کا جو نظام بھیجا ہے وہ ہم پر قبول کرنا فرض ہے، ان کے علوم اور تجربات سب اسی دنیا تک ہیں۔ (یَعْلَمُوْنَ ظَاھِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ ھُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ھُمْ غٰفِلُوْنَ ) اولو الالباب (عقل والے لوگوں) کی جو دعائیں ذکر فرمائی ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے۔ (رَبَّنَآ اِنَّکَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَہٗ ) (کہ اے ہمارے رب بلاشبہ آپ جسے دوزخ میں داخل فرمائیں اسے رسوا فرمائیں گے) اور یہ ایسی رسوائی ہے جس سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں۔ دوزخ کا عذاب (عَذَابٌ مُّھِیْنٌ) یعنی ذلیل کرنے والا ہے اور وہاں کی رسوائی سے بڑھ کر کوئی رسوائی نہیں۔ تمام اولین و آخرین کے سامنے ذلیل ہونا بہت بڑی رسوائی ہے لوگ یہ تو سوچتے ہیں کہ دنیا میں رسوائی نہ ہو اور آخرت کی رسوائی سے محفوظ رہنے کا کوئی خیال نہیں رکھتے۔ (وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَخْزَی وَھُمْ لاَ یُنْصَرُوْنَ )
Ayah 3:192

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے ہمارا رب اس میں شک نہیں کہ جسے آپ دوزخ میں داخل فرما دیں تو واقعی آپ نے اس کو رسوا کردیا اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں

پھر فرمایا (وَ مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ ) (اور ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہ ہوگا) سب سے بڑا ظلم کفر ہے۔ کما قال تعالیٰ (وَ الْکَافِرُوْنَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ ) میدان قیامت میں کافروں کا نہ کوئی دوست ہوگا نہ مددگار اور نہ سفارشی۔
Ayah 3:193

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے ہمارے رب بلاشبہ ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا کہ وہ ایمان کے لیے پکار رہا ہے کہ تم ایمان لاؤ اپنے رب پر، سو ہم ایمان لے آئے اے ہمارے رب سو آپ مغفرت فرما دیجیے ہمارے گناہوں کی، اور کفارہ کردیجیے ہمارے گناہوں کا اور ہمیں نیک بندوں کے ساتھ موت دیجیے،

اولو الالباب یعنی عقل والوں کی یہ دعا بھی ذکر فرمائی (رَبَّنَآ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّکُمْ فَاٰمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا وَ کَفِّرْعَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَاعَلٰی رُسُلِکَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) (اے ہمارے رب بلاشبہ ہم نے ایک پکارنے والے کی پکار سنی جو ایمان کی دعوت دے رہا تھا کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ، سو اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے، سو ہمارے گناہوں کو معاف فرما اور ہمارے گناہوں کا کفارہ فرما اور ہمیں نیک بندوں کے ساتھ موت دیجیے اے ہمارے رب اور ہمیں وہ اجر وثواب عطا فرما جس کا ہم سے آپ نے اپنے رسولوں کی معرفت وعدہ فرمایا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کیجیے اور بلاشبہ آپ وعدہ خلافی نہیں فرماتے) اس دعا میں جو (مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ ) وارد ہوا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی نے مفسرین کے دو قول لکھے ہیں۔ اول یہ کہ اس سے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ مراد ہیں اور لکھتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ سے یہی مروی ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے قرآن کریم مراد ہے مفسر طبری نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن ایسا منا دی ہے جو قیامت تک باقی رہے گا اور ایمان کی دعوت دیتا رہے گا۔ پھر صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ جس کو بھی (تا قیامت) رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی اطلاع ملی اور آپ کی دعوت پہنچی (اگرچہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے) ان سب کے حق میں آپ منا دی اور ہادی اور داعی ہیں۔ اس لیے بعد میں آنے والے بھی آپ کے بارے میں (سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ ) کہہ سکتے ہیں، لہٰذا پہلا قول بھی صحیح ہے۔ صاحب روح المعانی یہ بھی لکھتے ہیں کہ منا دیاً فرمایا اور داعیاً نہیں فرمایا کیونکہ نداء معنوی اعتبار سے ابلغ ہے، کیونکہ نداء آواز بلند کرنے کے بغیر نہیں ہوتی اور ظاہر ہے نداء دور تک پہنچتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ اپنے خطبوں میں خوب بلند آواز سے نصیحت اور موعظت فرماتے تھے۔ اور حاضرین سے یہ بھی فرماتے تھے، لیبلغ الشاھد منکم الغائب (یعنی جو لوگ موجود ہیں ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں) (فَاٰمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا) اس میں فاء تفریعیہ ہے مطلب یہ ہے کہ ہم منادی کی آواز سن کر ایمان لے آئے لہٰذا ہمارے گناہ معاف فرما دیجیے، چونکہ مغفرت ایمان پر مرتب ہے اس لیے درمیان میں فاء لائی گئی۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ ایمان نہ ہو تو گناہوں کی مغفرت نہیں ہوسکتی اور کافر کی توبہ کافر ہوتے ہوئے مقبول نہیں۔ (وَ کَفِّرْعَنَّا سَیِّاٰتِنَا) (اور ہماری برائیوں کا کفارہ فرما دیجیے) ذُنُوْبَنَا کے بعد جو سَیّءَاتِنَا لایا گیا ہے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ ذنوبنا سے پہلے گناہ اور سیئاتنا سے پچھلے گناہ مراد ہیں۔ اور دوسرا قول یہ لکھا ہے کہ ذنوبنا سے کبائر اور سَیّءَاتِنَا سے صغائر مراد ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ہے، اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ذُنُوْبَنَا سے وہ گناہ مراد ہیں جن کا یہ جانتے ہوئے ارتکاب کیا ہو کہ یہ گناہ ہیں اور سَیّءَاتِنَا سے وہ گناہ مراد ہیں جو جہالت اور لا علمی کی بناء پر صادر ہوگئے ہوں (چونکہ لاعلمی بھی گناہ ہے اس لیے ایسے گناہوں کی بخشش طلب کرنے کی بھی ضرورت ہے) ۔ (روح المعانی صفحہ 164: ج 4) (وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِ ) (اور ہمیں نیک آدمیوں کے ساتھ وفات دیجیے) مطلب یہ ہے کہ ہمیں صالحین میں شمار فرمائیے اور موت کے بعد ہم سے وہی معاملہ فرمائیے جو نیک آدمیوں کے ساتھ ہوگا، جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی دعا میں یوں کہا تھا (تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بالصّٰلِحِیْنَ ) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ لفظ مع الابرار میں تواضع ہے اور حسن ادب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہم ابرار میں سے تو نہیں ہیں لیکن ہمیں ابرار میں شامل فرما دیجیے ہم اس کے امید وار ہیں۔
Ayah 3:194

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے ہمارے رب اور ہمیں عطا فرمائیے جو آپ نے اپنے رسولوں کی معرفت وعدہ فرمایا اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجیے بلاشبہ آپ وعدہ خلافی نہیں فرماتے،

(رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَاعَلٰی رُسُلِکَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) ” اور اے ہمارے رب جس کا ہم سے آپ نے اپنے رسولوں کی زبانی وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں عطا فرما اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کیجیے اور بلاشبہ آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے) ایمان اور اعمال صالحہ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے جو اجر وثواب عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے اس میں اس کے ملنے کی عاجزانہ درخواست ہے، اعمال میں جو کمی اور کوتاہی ہو اس سے درگزر فرما کر وہی ثواب پورا پورا عطا کیجیے، جس کا رسولوں کی زبانی وعدہ فرمایا ہے اور بعض حضرات نے (مَا وَعَدْتَّنَا) سے نصرت علی الاعداء یعنی دشمنوں کے مقابلہ میں مدد فرمانے کا جو وعدہ فرمایا ہے وہ مراد لیا ہے، اگر نصرت علی الا عداء مراد لیا جائے تو اس سے عطا دنیوی مراد ہوگی جیسا کہ (وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ) سے عطاء اخروی مراد ہے جسے آخرت میں ثواب مل گیا اور وہاں کے عذاب سے محفوظ ہوگیا وہ وہاں کی رسوائی سے بچ گیا۔ (اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ ) (بلاشبہ آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے) ان الفاظ میں اپنی دعاؤں کی مقبولیت کا یقین ظاہر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے سچے ہیں جو دعائیں ہم نے کی ہیں وہ ضرور قبول ہوں گی، اس کا وعدہ سورة بقرہ کی آیت (اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ) میں اور سورة مومن کی آیت (وَقَالَ رَبُّکُمْ ادْعُوْنِی اَسْتَجِبْ لَکُمْ ) میں فرمایا ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں تذییل لتحقیق مانظموا فی سلک الدعاء۔ المیعاد سے بعث بعد الموت بھی مراد ہوسکتا ہے، صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے اور صحیح ہے، اگر یہ معنی لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ یوم الحساب کا جو وعدہ آپ نے فرمایا ہے وہ ضرور واقع ہوگا، اس دن کے حساب اور عذاب سے ہمیں محفوظ فرمائیے اور ہمیں اس دن رسوا نہ کیجیے۔