Ayah 3:103اللہ تعالیٰ کی نعمت کی یاد دہانی :
پھر فرمایا (وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً ) (الآیۃ) کہ تم اللہ کے انعام کو یاد کرو جبکہ تم دشمن تھے اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا فرمائی لہٰذا تم اللہ کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے اور دوزخ کے گڑھے کے کنارہ پر تھے اللہ نے تم کو بچا لیا۔ دوزخ کے کنارہ پر ہونا تو ظاہر ہی ہے کیونکہ اوس اور خزرج دونوں قبیلے کافر اور مشرک تھے اور ان کی آپس کی دشمنی کا یہ عالم تھا کہ بقول ابن اسحاق اوس اور خزرج میں ایک سو بیس سال تک جنگ جاری رہی تھی جب دونوں قوموں نے اسلام قبول کیا تو وہ جنگ کی آگ اللہ نے بجھا دی ان کے درمیان اللہ نے الفت پیدا فرما دی۔ (درمنثور صفحہ 61: ج 2)
آخر میں فرمایا (کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ) کہ اللہ اسی طرح تمہارے لیے اپنی آیات بیان فرماتے ہیں تاکہ تم ہدایت پر رہو۔
ضروری تنبیہ : مذکورہ بالا آیات میں اول تو تقویٰ کا حکم فرمایا اور یہ فرمایا اللہ سے ڈرو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے۔ پھر فرمایا کہ جب مرو تو اسلام ہی کی حالت میں مرو، شیطان کے بہکانے سے یا دشمنوں کے ورغلانے سے یا دنیا کی محبت کی وجہ سے اسلام کو چھوڑ کر کفر اختیار مت کرو۔ پھر سب مسلمانوں کو اتفاق کے ساتھ مجتمع رہنے کی ہدایت فرمائی سب کو معلوم ہے کہ اتفاق و اتحاد ہر قوم کی قوت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اور اتفاق اس وقت ہی ہوسکتا ہے جب کہ ہر قبیلہ ہر قوم ہر علاقہ کے لوگ اسلام کی قوت اور ساکھ برقرار رکھنے کے لیے اپنے اپنے جذبات کو دبا کر رکھیں۔ مسلمانوں کا پورے عالم میں ایک ہی امیر المومنین ہونا چاہیے اور مشرق سے مغرب تک تمام مسلمانوں کا ایک ہی ملک ہو تو اس قوت کا کیا عالم ہوگا اس کو غور کرلیں۔ دشمنوں نے جو عصبیتیں بیدار کردی ہیں کہ عربی عجمیوں کے ماتحت کیوں رہیں اور عراقی اور شامی اور یمنی حجاز کے ماتحت کیوں رہیں اور سندھی پنجابیوں کے ماتحت کیوں رہیں اور بنگالی پٹھانوں کے ماتحت کیوں رہیں اور غیر بنگالی بنگالیوں کے ماتحت کیوں رہیں ان باتوں نے کثیر تعداد میں مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے ملک بنا دئیے ہیں پھر دشمن نے ان ملکوں کے سر براہوں پر سیاسی یا نظریاتی قبضہ کر رکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر تمہارا امیر ایسا شخص بنا دیا جائے جس کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں جو تمہیں اللہ کی کتاب کے ذریعہ لے کر آگے چلتا ہو اس کی بات سنو اور اطاعت کرو۔ (رواہ مسلم صفحہ 120: ج 2) ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا کہ بات سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تم پر ایسے شخص کو عامل بنا دیا جائے جو حبشی غلام ہو گویا کہ اس کا سر کشمش کی طرح چھوٹا سا ہو۔ (رواہ البخاری صفحہ 105: ج 2)
حضرت عبادۃ بن الصامت ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی کہ بات سنیں گے اور فرمانبرداری کریں گے تنگی میں بھی اور آسانی میں بھی، خوشی میں بھی اور ناخوشی میں بھی اور اس بات پر بھی کہ صاحب اقتدار سے جھگڑا نہ کریں گے ہاں اگر بالکل ظاہر باہر کفر نظر آئے جس کے بارے میں ہمارے پاس اللہ کی طرف سے کھلی ہوئی دلیل ہو تو اس وقت ہم اس سے جھگڑا کریں گے۔ (رواہ مسلم صفحہ 125: ج 2)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ امیر المومنین کیسا ہی ہو اس کے ساتھ چلنا چاہیے۔ بشرطیکہ اللہ کی کتاب کے ذریعہ لے کر چلتا ہو۔ اپنی رائے اور منشاء کے موافق ہو تب بھی فرمانبر داری کریں اور اپنی رائے اور منشا کے مخالف ہو تب بھی فرمانبر داری کریں۔ اگر ہمارے اوپر دوسروں کو ترجیح دی جاتی ہو تب بھی بات مانیں اور اطاعت کریں۔ اگر کالے حبشی کو امیر بنا دیا جائے تب بھی اطاعت کریں۔ حبشی کی مثال دینے سے رسول اللہ ﷺ نے رنگ اور نسل کا سوال ختم فرما دیا اور یہ جو فرمایا کہ اگر امیر کے ناک کان کٹے ہوئے ہوں تب بھی بات سنیں اور اطاعت کریں۔ اس سے صورت اور شکل کا سوال ختم فرما دیا۔ پھر عبد حبشی فرما کر یہ بتادیا کہ اگرچہ آئمہ قریش سے ہونے چاہئیں، لیکن اس کے خلاف کسی غلام کو بھی اقتدار دے دیا جائے تب بھی اس سے جڑے رہو بعض مرتبہ امیر کی رائے سے اختلاف ہوجاتا ہے اور اس کی رائے خطا معلوم ہوتی ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے اس نے صحیح فیصلہ نہیں کیا اس کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ باوجود اختلاف رائے کے جھگڑا نہ کریں ہاں اگر بالکل ہی دلیل واضح سے یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا فیصلہ بالکل کا فرانہ فیصلہ ہے اور تم اس کی دلیل اللہ پاک کے حضور میں دے سکتے ہو تو اس سے منازعت کرسکتے ہو۔ امیر اور مامورین کے بارے میں احادیث تو اور بھی ہیں لیکن ان چند احادیث میں ایسے چند امور ارشاد فرما دیئے جن کو اختیار کرنے سے امت کا شیرازہ بندھا رہ سکتا ہے اور وحدت قائم رہ سکتی ہے سارے مسلمان اللہ کی رسی کو مضبوط تھا میں صاحب اقتدار یا عوام یا جماعتیں دشمنوں کا کھلونا نہ بنیں نہ کسی کے ہاتھ بکیں وحدت اسلامیہ کو قائم رکھنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ باوجود یکہ زبانیں مختلف ہوں جغرافیائی اعتبار سے مختلف علاقوں کے رہنے والے ہوں لیکن سب اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے ہوئے ہوں۔ زبانوں کے اختلاف کو اور اختلاف رائے اور فروعی مسائل کو جنگ وجدال اور اختلاف کا ذریعہ نہ بنائیں اور پہلے سے دیکھ کر متقی آدمی کو امارت اور خلافت سونپیں، یورپ سے آئی ہوئی جمہوریت جاہلیہ کو ذریعہ انتخاب نہ بنائیں۔ جو فاسقوں بلکہ کفریہ عقائد رکھنے والوں کو بھی اقتدار اعلیٰ اور اقتدار ادنیٰ دلوا دیتی ہے۔
افتراق کے اسباب، اتحاد کا طریقہ :
اس آیت میں اول تو اجتماعیت کا طریقہ بتایا (وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا) پھر افتراق سے منع فرمایا اور واضح طور پر بتایا (وَ اَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ ) (آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ یہ میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے لہٰذا تم اس کا اتباع کرو اور دوسری راہوں پر مت چلو وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی) مسائل فرعیہ میں جو آئمہ کا اختلاف ہے وہ اتحاد و اتفاق سے مانع نہیں ہے صدیوں سے حنفیہ، شافعیہ، مالکیہ، حنبلیہ، ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کا احترام کرتے رہے ہیں۔
حضرات صحابہ ؓ میں بھی مسائل میں اختلاف تھا لیکن وہ باوجود اختلاف کے آپس میں شیرو شکر ہو کر مجتمع رہے۔ اگر کہیں شدید اختلاف ہوگیا تو وہ بھی اللہ ہی کے لیے تھا۔ کسی سے خطا اجتہا دی ہوگئی یہ دوسری بات ہے لیکن مقصد کسی کا دین اسلام کے خلاف چلنا نہ تھا، البتہ اصحاب ہویٰ (جنہیں اپنی خواہشات پرچلنا ہے) اہل حق کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔
بحوالہ درمنثور روایت گذر چکی ہے کہ اوس اور خزرج میں 120 سال سے لڑائی چلی آرہی تھی وہ اسلام قبول کرنے پر ختم ہوگئی اور سب آپس میں بھائی بھائی ہوگئے جس کو اللہ تعالیٰ شانہٗ نے (وَ اذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ اِذْ کُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖٓ اِخْوَانًا) میں یاد دلایا ہے۔ اتنی پرانی دشمنی محبت سے بدل سکتی ہے تو دور حاضر کے مسلمانوں کے آپس کے صوبائی اور لسانی اور سیاسی اختلافات وحدت اسلامیہ کو قائم کرنے کے لیے کیوں ختم نہیں ہوسکتے جو زعماء سیاست ہیں، جنہیں اسلام سے تعلق ہی نہیں وہ برملا اسلام سے اپنی برأت ظاہر کرتے ہیں۔ اسلام کے قوانین پر اعتراض کرتے ہیں عجیب بات ہے کہ اسلام کا کلمہ پڑھنے والے انہیں کے پیچھے لگے ہوے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو حدود کفر میں تو داخل نہیں ہوئے لیکن وحدت اسلامیہ سے زیادہ انہیں اپنا اقتدار محبوب ہے ان حالات میں وحدت کیسے قائم ہو ؟
جو لوگ نام کے مسلمان ہیں لیکن اپنے عقائد کی وجہ سے اور اسلام پر اعتراض کرنے کی وجہ سے حدود کفر میں داخل ہیں (عَلٰی شَفَا حُفْرَۃٍ مِّن النَّار) ان پر بھی صادق ہے یہ لوگ سچے دل سے صحیح معنی میں اسلام قبول کریں تو عذاب دوزخ سے بچ جائیں گے اللہ کی آیات ہمیشہ کے لیے ہیں۔ (کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ )
Ayah 3:104ایک جماعت ایسی ہونا ضروری ہے جو خیر کی دعوت دیتی ہو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتی ہو
مسلمان کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ خود اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرے۔ نیکیاں کرتا رہے گناہوں سے بچتا رہے اور دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ دوسروں کو خیر کی دعوت دیتا رہے اور برائیوں سے روکتا رہے خود نیک بن جانا اسلامی معاشرہ باقی رکھنے کے لیے کافی نہیں ہے دوسروں کو بھی خیر کی دعوت دیتے رہیں اور نیکیوں کا حکم کرتے رہیں اور برائیوں سے روکیں تب اسلامی معاشرہ باقی رہے گا چونکہ انسان کے اندر بہیمیت کے جذبات بھی ہیں اور اس کے پیچھے شیطان بھی لگا ہوا ہے اس لیے بہت سے لوگ فرائض اور واجبات چھوڑ بیٹھتے ہیں اور گناہوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کو صحیح راہ پر باقی رکھنے کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت ہے۔
امر بالعمروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت :
آیت بالا میں حکم فرمایا ہے کہ مسلمانوں میں ایک جماعت ایسی ہو جو خیر کی دعوت دیتی ہو امر المعروف کرتی ہو اور نہی عن المنکر کرتی ہو، جو کام اللہ کی رضا مندی کے ہیں ان کو معروف اور جو کام اللہ کی ناراضگی کے ہیں ان کو منکر کہا جاتا ہے پانچ آیات کے بعد پھر اس کی اہمیت پر زور دیا ہے اور فرمایا ہے (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ ) اور سورة توبہ میں ارشاد فرمایا ہے : (وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ یَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ اُولٰٓءِکَ سَیَرْحَمُھُمُ اللّٰہُ ) (اور مسلمان مرد اور عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے (دینی) رفیق ہیں یہ لوگ نیک باتوں کی تعلیم دیتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کی فرمانبر داری کرتے ہیں عنقریب اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا۔ ) اس کے علاوہ دوسری آیات میں بھی قرآن مجید میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت اور ضرورت بتائی ہے سورة توبہ کی آیت سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں کام مومنین کی خاص امتیازی صفات ہیں احادیث شریفہ میں بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی بہت زیادہ اہمیت اور ضرورت بتائی گئی ہے۔ (صحیح مسلم صفحہ 51: ج 1) میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
مَنْ رَیٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا فَلْیُغَیّرہُ بِیَدِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِلسَانِہٖ فَاِنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِہٖ وَ ذٰلِکَ اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ ” یعنی تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے یعنی برائی کرنے والے کو اپنے زور کی طاقت سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے بدل دے (یعنی برائی کرنے سے روک دے) اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دل سے برا جانے اور یہ (صرف دل سے برا جان کر خاموش رہ جانا اور ہاتھ یا زبان سے منع نہ کرنا) ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
معلوم ہوا کہ ہر شخص نیکیوں کا حکم کرنے اور برائیوں سے روکنے کا مامور ہے اپنے گھر کے بڑے، اداروں کے بڑے، کمپنیوں اور فرموں کے ذمہ دار، حکومتوں کے عہدیدار بقدر اپنی قوت اور طاقت کے اس فریضے کو انجام دیں۔ گھر کے لوگ اپنی اولاد کو اور نوکروں کو نیکیوں کی دعوت دینے اور برائیوں سے روکنے میں پوری قوت استعمال کرسکتے ہیں لیکن افسوس فرائض اور واجبات کا انہیں حکم نہیں دیتے اور گناہوں سے انہیں نہیں روکتے۔
اصحاب اقتدار کی غفلت :
بہت سے لوگوں کو مختلف طرح کے عہدے اور مناصب حاصل ہیں وہ اپنے ماتحتوں کو نہ فرائض اور واجبات کا حکم کرتے ہیں اور نہ گناہ چھوڑنے کا حکم دیتے ہیں۔ حکومتوں کے چھوٹے بڑے عہدوں پر فائز ہونے والے خود بھی بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور فرضوں کے تارک ہوتے ہیں نہ صرف یہ کہ اپنے ماتحتوں کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہیں کرتے بلکہ اپنا اقتدار جمانے کے لیے ماتحتوں کو گناہ کرنے کا حکم دیتے ہیں اور سرکاری کاموں میں نمازیں تک برباد کردی جاتی ہیں۔
اہل ایمان اصحاب اقتدار کی صفات بتاتے ہوئے سورة حج میں ارشاد فرمایا ہے (اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَ اَمَرُوْا بالْمَعْرُوْفِ وَ نَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ ) (یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو حکومت دے دیں تو نماز قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور اچھے کاموں کا حکم کریں گے اور برائیوں سے روکیں گے اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے)
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑنے پر دنیا میں عذاب :
قدرت ہوتے ہوئے امر بالمعروف نہ کرنا اور برائیوں سے نہ روکنا سخت و بال کی چیز ہے اس دنیا میں عہدے اچھے لگتے ہیں لیکن جب ان کا و بال آخرت میں سامنے آئے گا تب پچھتاوا ہوگا جس سے کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ ہر مسلمان امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا پابند ہے اور اس فریضہ کا چھوڑ دینا آخرت سے پہلے دنیا میں بھی عذاب آنے کا ذریعہ ہے اگر اس فریضہ کو چھوڑ دیا جائے تو دعائیں تک قبول نہیں ہوتیں۔
حضرت جریر بن عبداللہ ؓ نے بیان فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جس قوم میں کوئی ایک شخص گناہ کرتا ہو جسے روکنے پر قدرت رکھتے ہوئے وہ لوگ نہ روکیں تو مرنے سے پہلے ان لوگوں پر عذاب آئے گا۔ (رواہ ابوداؤد صفحہ 240: ج 1)
حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کو حکم دیا کہ فلاں فلاں بستی کا تختہ اس کے رہنے والوں کے ساتھ الٹ دو ۔ حضرت جبریل نے عرض کیا کہ اے پروردگار ان میں آپ کا فلاں بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے کے بقدر بھی آپ کی نافرمانی نہیں کی (کیا اسے بھی عذاب میں شریک کرلیا جائے) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ اس بستی کو اس شخص پر اور باقی رہنے والوں پر الٹ دو کیونکہ اس کے چہرہ پر میرے (احکام) کے بارے میں کبھی کسی وقت شکن بھی نہیں پڑی۔ (مشکوٰۃ المصابیح باب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر)
حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم ضرور ضرور امر بالمعروف کرو اور نہی عن المنکر کرو ورنہ قریب ہے کہ اللہ اوپر اپنے پاس سے عذاب بھیج دے گا۔ پھر تم اس سے دعا کرو گے تو وہ دعا قبول نہ فرمائے گا۔ (رواہ الترمذی)
معلوم ہوا کہ بھلائیوں کا حکم دینا اور برائیوں سے روکنا ایسا اہم اور ضروری کام ہے کہ اس کے نہ ہونے سے نیکیاں کرنے والے بھی عذاب کی لپیٹ میں آسکتے ہیں اور جب عذاب آئے گا تو جو دعائیں کی جائیں گی تو وہ بھی قبول نہ ہوں گی۔ عموماً لوگ خود گناہوں میں مبتلا ہیں نمازیں چھوڑے ہوئے ہیں زکوٰتیں نہیں دیتے۔ جھوٹ بولتے ہیں۔ جھوٹی گواہیاں دیتے ہیں ان گواہیوں کے ذریعہ پیسہ کماتے ہیں ڈاکے پڑ رہے ہیں مال لوٹے جا رہے ہیں۔ چوریاں ہو رہی ہیں۔ قانون شریعت کی اجازت کے بغیر قتل ہو رہے ہیں۔ اور کوئی شخص بولنے والا نہیں ایسی صورت میں عذاب سے کیسے حفاظت ہو ؟ اور عذاب آئے تو دعائیں کیسے قبول ہوں ؟
ہر شخص کی ایمانی ذمہ داری حدیث شریف میں بتادی کہ جو بھی شخص کسی منکر کو دیکھے اس کو اپنی طاقت کے بقدر روک دے۔ اور ہر شخص کی ذمہ داری کے سوا آیت بالا میں مسلمانوں میں ایک جماعت ایسی ہونے کا حکم بھی فرمایا جو دعوت الی الخیر کرتی ہو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ان کا خصوصی کام ہو۔ یہ جماعت فرض کفایہ کے طور پر ہر علاقہ میں کام کرے اور اتنے افراد ہونے چاہئیں جو ہر علاقہ کے افراد کو دعوت خیر دے سکیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دے سکیں۔ جماعت سے یہ مراد نہیں کہ دور حاضر کے انداز کی کوئی جماعت ہو جس کا صدر ہو سیکرٹری ہو ممبران ہوں دفتر ہو جماعت کا کوئی نام یونیفارم ہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کام کے کرنے والے بقدر ضرورت امت میں موجود رہیں۔ حکومت ایسے افراد مہیا کرے۔ حکومت نہ کرے تو مسلمان خود ایسی جماعت قائم رکھیں جو اس فریضہ کو انجام دیتی رہے اور چھوٹی موٹی جماعت نہ ہو بلکہ اتنی بڑی جماعت ہو کہ ہر علاقہ میں اہل اسلام کے جتنے افراد رہتے اور بستے ہوں ان تک بات پہنچانے کے لیے کافی ہوں۔
فائدہ : آیت شریفہ میں پہلے (یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ ) فرمایا اس کے بعد (یَاْمُرُوْنَ بالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ) فرمایا، دعوت الی الخیر میں سب باتیں داخل ہوگئیں کافروں کو اسلام کی دعوت دینا بھی اس میں آگیا اور فرائض اور واجبات کے علاوہ سنن اور مستحبات کی دعوت دینے کو بھی (یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ ) کا عموم شامل ہوگیا، مستحبات کو چھوڑ دینا اگرچہ منکر نہیں ہیں لیکن ان پر عمل کرنے میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ اس لیے ان کی دعوت بھی دیتے رہنا چاہیے لیکن سختی نہ کی جائے البتہ فرائض اور واجبات کی دعوت سختی سے دی جائے۔ جس درجہ کا جو حکم ہے اسی درجہ میں اس کی دعوت ہونی چاہیے بہت سے لوگ فرائض اور واجبات میں مسامحت کرتے ہیں بلکہ خود بھی فرائض کو چھوڑے ہوئے ہوتے ہیں اور مستحبات کے بارے میں سختی کرتے ہیں۔ یہ طریقہ صحیح نہیں شریعت محمد یہ علی صاحبھا الصلوٰۃ والتحیۃ میں جس چیز کا جو درجہ ہے اسی درجہ کے مطابق دعوت میں سختی اور نرمی اختیار کی جائے، لفظ ” خیر “ ہر نیک کام کو شامل ہے۔ تفسیر ابن کثیر صفحہ 490: ج 1 میں حضرت ابو جعفر باقر ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت (وَ لْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ ) تلاوت فرمائی پھر فرمایا کہ الخیر اتباع القرآن و سنتی (کہ قرآن کا اور میری سنت کا اتباع کرنا خیر ہے) اس کے مطابق ہر چھوٹی بڑی نیکی کو لفظ خیر شامل ہے۔
کامیاب کون لوگ ہیں ؟
جو لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں ان کے بارے میں فرمایا (وَ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) کہ یہ لوگ پورے پورے کامیاب ہیں۔ کامیابی کو تو ہر شخص چاہتا ہے لیکن مقاصد کے اعتبار سے ہر ایک کے نزدیک کامیابی کا معیار الگ الگ ہے۔ قرآن کریم نے بھی کامیابی کا معیار بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی رضا کے کام کیے جائیں۔ جن کی وجہ سے دوزخ سے حفاظت ہوجائے اور جنت مل جائے اوپر جو کام بتائے ہیں وہ اللہ کے کام ہیں اس لیے ان پر عمل پیرا ہونے والوں کو مفلحون (کامیاب) فرمایا۔
Ayah 3:105دلائل سے حق واضح ہونے کے بعد انحراف کرنے والوں کی سزا :
پھر فرمایا (وَ لَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَ ھُمُ الْبَیِّنٰتُ ) (اور مت ہوجاؤ ان لوگوں کی طرح جو آپس میں متفرق ہوگئے اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح احکام پہنچے)
صاحب روح المعانی صفحہ 22: ج 2 میں فرماتے ہیں کہ ان لوگوں سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں جنہوں نے اختلاف کیا اور افتراق کی راہ اختیار کی، امت مسلمہ کو حکم ہوا کہ ان جیسے نہ ہوجاؤ جن کے پاس آیات بینات اور حجت بالغہ آئیں جو متحد رہنے کا حکم دے رہی تھیں انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی اور اتحاد کے بجائے افتراق کو اپنایا یہ افتراق دنیاوی اغراض اور نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑنے اور اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت سے منہ موڑنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے بہت سے اصحاب ہویٰ دین کو اپنی افکار وآراء کے تابع بنا کر چلتے ہیں اور ملت اسلامیہ سے خارج ہوجاتے ہیں، مرجیۂ ، کرامیہ، مجسمہ، مشبھہ، معطلہ، جہمیہ فرقے عصر ماضی میں گزر چکے ہیں، اور اب بھی ایسے بہت سے فرقے ہیں جو مدعی اسلام ہیں لیکن ملت اسلامیہ سے خارج ہیں ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو حدیث نبوی ﷺ کی حجیت کے منکر ہیں اور وہ لوگ بھی ہیں جو تحریف قرآن کے قائل ہیں اور ایسی جماعت بھی ہے جو سیدنا محمد رسول اللہ خاتم النّبیین ﷺ کے بعد کسی کو نبی مانتی ہے اور بھی طرح طرح کے کفریہ عقائد رکھنے والے موجود ہیں۔
Ayahs 3:106–107افتراق کرنے والے جو اپنے اہواء و افکار کی وجہ سے حدود اسلام سے نکل جائیں ان کے لیے آخرت کا عذاب بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ) (اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے جس دن بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے چہرے سیاہ ہوں گے) پھر فرمایا (فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَکَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ) (سو جن لوگوں کے چہرے سیاہ ہوں گے ان سے کہا جائے گا، کیا تم نے کفر کیا اپنے ایمان کے بعد سو چکھ لو عذاب اس وجہ سے کہ تم کفر کرتے تھے) (وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْھُھُمْ فَفِیْ رَحْمَۃِ اللّٰہِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ) (اور جن لوگوں کے چہرے سفید ہوں گے سو وہ اللہ کی رحمت یعنی جنت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
قیامت کے دن اہل کفر کی بدصورتی :
قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی قیامت کے دن چہروں کا سفید و سیاہ ہونا مذکور ہے سورة عبس کے آخر میں فرمایا (وُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍ مُّسْفِرَۃٌ ضَاحِکَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌ وَوُجُوْہٌ یَّوْمَءِذٍ عَلَیْہَا غَبَرَۃٌ تَرْھَقُہَا قَتَرَۃٌ اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ ) (اس دن بہت سے چہرے روشن ہوں گے ہنستے ہوئے ہوں گے۔ خوش ہوں گے اور اس دن بہت سے چہرے ایسے ہوں گے کہ جن پر ظلمت ہوگی جن پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی یہ لوگ کافر فاجر ہوں گے) ۔
سورة زمر میں فرمایا : (وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی اللّٰہِ وُجُوْھُہُمْ مُسْوَدَّۃٌ) (اور اے مخاطب تو قیامت کے دن دیکھے گا ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے کہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے) ۔
سورة یونس میں فرمایا : (وَ الَّذِیْنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّءَۃٍ بِمِثْلِھَا وَ تَرْھَقُھُمْ ذِلَّۃٌ مَا لَھُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ کَاَنَّمَآ اُغْشِیَتْ وُجُوْھُھُمْ قِطَعًا مِّنَ الَّیْلِ مُظْلِمًا اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْن) (اور جن لوگوں نے برے کام کیے بدلہ برائی کا اسی جیسا ہوگا اور چھا جائے گی ان پر ذلت، ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا گویا کہ ان کے چہرے اندھیری رات کے ٹکڑوں سے ڈھانپ دئیے گئے یہ لوگ دوزخ والے ہیں اس میں ہمیشہ رہیں گے)
Ayah 3:108مضمون کے ختم پر فرمایا : (تِلْکَ اٰیٰتُ اللّٰہِ نَتْلُوْھَا عَلَیْکَ بالْحَقِّ وَ مَا اللّٰہُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ ) (کہ یہ اللہ کی آیات ہیں ہم تمہارے اوپر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں اور اللہ جہانوں کے ساتھ ظلم کا ارادہ نہیں فرماتا)
Ayah 3:109پھر فرمایا : (وَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ) (کہ اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اور اسی کی طرف تمام امور لوٹتے ہیں) وہ مالک اور متصرف ہے اسے سب اختیار ہے اپنی مخلوق میں جیسا تصرف کرے کوئی اسے روکنے والا نہیں) ۔
Ayah 3:110امت محمدیہ کی امتیازی صفات
اس آیت شریفہ میں امت محمدیہ کو (خَیْرَ اُمَّۃٍ ) فرمایا ہے اور اس امت کا نبی بھی خیر الانبیاء اور سید الانبیاء ہے۔ جس کا آیت (لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنْصُرُنَّہٗ ) میں ذکر فرمایا ہے، نیز آنحضرت سرور عالم ﷺ نے فرمایا اَنَا سید ولد اٰدم یوم القیامہ کہ میں قیامت کے دن آدم کی تمام اولاد کا سردار ہوں گا (رواہ مسلم 245: ج 2) نیز آپ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن میں آدم کی تمام اولاد کا سردار ہوں گا اور بطور فخر کے نہیں کہہ رہا ہوں اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا اور بطور فخر کے نہیں کہہ رہا ہوں اور اس دن آدم ہوں یا ان کے علاوہ کوئی اور نبی ہو سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور میں سب سے پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین پھٹے گی (یعنی قبر سے سب سے پہلے ظاہر ہوں گا) اور میں بطور فخر کے نہیں کہہ رہا ہوں۔ (رواہ الترمذی کمافی المشکوٰۃ صفحہ 513)
سنن مذتری میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ للنَّاسِ ) کی تلاوت فرمائی پھر فرمایا کہ سترویں (70) 1 مت کو پورا کر رہے ہو تم سب امتوں سے بہتر ہو اور اللہ کے نزدیک سب امتوں سے بڑھ کر اکرم ہو (قال الترمذی ہذا حدیث حسن) اس امت کو خیر الامم بتاتے ہوئے اس کے اوصاف بھی بتا دئیے اور وہ یہ کہ تم بھلائیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ معلوم ہوا کہ اس امت کا طرہ امتیاز امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔ امت کا ہر فرد اس کام میں لگے البتہ اس میں تفصیلات ہیں کہ کبھی فرض عین ہوتا ہے کبھی فرض کفایہ کبھی واجب اور کبھی سنت۔ روح المعانی (صفحہ 28: ج 4) میں حضرت عمر ؓ کا قول نقل کیا ہے انہوں نے فرمایا : یا ایھا الناس من سرہ ان یکون من تلکم الامۃ فلیود شرط اللّٰہ تعالیٰ و اشار بذالک الی قولہ سبحانہ تامرون بالمعروف و تنھون عن المنکر۔
گزشتہ رکوع میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی فضیلت اور ضرورت اور اہمیت بیان ہوچکی ہے اس کو دو بارہ دیکھ لیا جائے یہاں یہ بات بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ کو کیوں مؤخر کیا جبکہ ایمان ہر عمل سے مقدم ہے۔ اور ہر عمل کے قبول ہونے کے لیے شرط ہے۔ صاحب روح المعانی نے اس سلسلہ میں تین باتیں لکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مقصود بالبیان اس جگہ پر چونکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے اس لیے ان دونوں کو مقدم کیا۔ لیکن پھر ایمان کا تذکرہ بھی فرما دیا ہے کہ تُؤْمِنُوْنَ باللّٰہِ اس لیے فرمایا کہ آگے اہل کتاب سے جو کلام متعلق ہے اس سے مرتبط ہوجائے۔
اکثر اہل کتاب فرمانبر داری سے خارج ہیں :
اہل ایمان کا ذکر فرما کر اہل کتاب کا ذکر فرمایا : (وَ لَوْ اٰمَنَ اَھْلُ الْکِتٰبِ لَکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ مِنْھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَکْثَرُھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ) (اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا) اس سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد آپ سے پہلے جس کسی نبی یا جس کسی کتاب سماوی پر کسی کا ایمان تھا یا اب ہے وہ معتبر نہیں ہے جب تک کہ نبی آخر الزمان ﷺ پر ایمان نہ ہو۔ پھر فرمایا اہل کتاب میں بعض مومن ہیں جیسے عبداللہ بن سلام اور بعض دیگر اہل کتاب (جنہوں نے حق کو قبول کیا اور دنیاوی منافع نے ان کو حق سے نہیں روکا) اور اہل کتاب میں اکثر اللہ کی فرمانبر داری سے خارج ہیں، یعنی کافر ہیں۔
Ayahs 3:111–115یہود کی ذلت اور مسکنت
زمانہ نبوت میں یہودیوں کی دشمنی ظاہراً بھی تھی اور پوشیدہ بھی تھی مسلمانوں کو ان سے تکلیف پہنچتی رہتی تھی، خطرہ تھا کہ کوئی ایسی کاروائی نہ کر بیٹھیں جس سے زیادہ تکلیف پہنچ جائے۔ بلکہ رؤسا یہود نے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان عوام کو جو یہودیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگئے تھے۔ زبانی طور پر ایذا دینے کا سلسلہ شروع بھی کردیا تھا۔ اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں کے اس خطرہ کو دور فرما دیا۔ اور فرمایا کہ یہ لوگ تمہیں بس ذرا سی تکلیف پہنچا سکیں گے اور اگر انہوں نے جنگ چھیڑی تو پشت پھیر کر بھاگ جائیں گے، پھر یہودیوں کی حالت مغضوبیت بیان فرمائی کہ ان پر ذلت کی چھاپ مار دی گئی جہاں کہیں بھی ہوں گے ذلیل ہوں گے۔
یہود کی موجودہ حکومت :
ہاں اگر اللہ کے کسی عہد میں آجائیں یا انسانوں کے عہد میں آجائیں تو (دنیاوی) ذلت سے بچاؤ ہوسکتا ہے۔ اللہ کے عہد میں آنے کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً مسلمانوں سے ان کا کوئی معاہدہ ہوجائے اور معاہدہ کے موافق مسلمان ان سے تعرض نہ کریں یا یہ لوگ جزیہ قبول کریں اور مسلمانوں کی عملداری میں رہنا قبول کریں تو اس صورت میں ان کے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے گا جو ذمیوں کے ساتھ ہوتا ہے یا کہیں لڑائی ہو تو مسلمان ان کے بچے اور عورتوں کو حسب قانون شرعی قتل کرنے سے باز رہیں گے اور انسانوں کے عہد میں آنے کا یہ مطلب ہے کہ کسی حکومت سے ان کا کوئی معاہدہ ہوجائے وہ حکومت ان کو امان دیدے۔
جب سے یہودیوں کی حکومت قائم ہوئی ہے لوگوں کو اشکال ہو رہا ہے کہ قرآن نے تو ان کے بارے میں ذلت کا اعلان کیا تھا پھر ان کی حکومت کیسے قائم ہوئی ؟ درحقیقت قرآن کے اعلان میں کوئی بات قابل شک و شبہ نہیں ہے کیونکہ اول تو قرآن نے یہ نہیں فرمایا کہ ہمیشہ ہمیش تا قیامت ان لوگوں کا یہی حال رہے گا۔ دوام ذلت تو کسی آیت یا حدیث سے ثابت نہیں، پھر یہودیوں کی جو حکومت قائم ہے وہ (حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ ) کی وجہ سے ہے۔ یہودیوں سے کچھ معاہدے کرکے بعض نصرانی حکومتوں نے ان کی حکومت قائم کی ہے اور نصاریٰ ہی کے بل بوتے اور سہارے پر ان کی حکومت قائم ہے قرآن کریم نے جو حبل من الناس فرمایا ہے اس سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ ان کے بعض حالات انسانوں سے جوڑ توڑ رکھنے کی وجہ سے ایسے بھی ہوسکتے ہیں جن میں ان کو کچھ عزت مل جائے اور (ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ ) کا اطلاق عام مستثنیٰ ہوجائے۔
پھر فرمایا کہ یہودی اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور ان پر مسکنت کی چھاپ مار دی گئی اور اس کا سبب یہ بتایا کہ وہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے نافرمانی کرتے تھے اور حد سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ یہ مضمون سورة بقرہ کے رکوع سات کے اخیر میں بھی گزر چکا ہے۔
بعض اہل کتاب کی تعریف جنہوں نے اسلام قبول کیا :
پھر ان اہل کتاب کی تعریف فرمائی جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا کہ وہ راتوں رات اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں اور سجدے کرتے ہیں اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور یوم آخرت پر، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام انجام دیتے ہیں۔ نیکیوں میں آگے بڑھتے ہیں اور یہ لوگ صالحین میں سے ہیں اور یہ لوگ جو بھی خیر کا کام کریں گے اس کی ناقدری نہ کی جائے گی اور اللہ تعالیٰ کو متقیوں کا علم ہے۔
Ayahs 3:116–117کافروں کے اموال اور اولاد عذاب سے نہ بچا سکیں گے
پہلی آیت میں تو یہ فرمایا کہ اہل کفر پر جب اللہ کا عذاب آئے گا تو ان کے مال اور اولاد کچھ بھی نفع نہ دے سکیں گے یہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے دوزخی ہیں اور دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔ سورة آل عمران کے رکوع 2 کے شروع میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ پھر ان لوگوں کے اخراجات اور نفقات کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ خرچ کرتے ہیں اور ان اخراجات میں وہ اموال بھی ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں خرچ کیے جاتے ہیں۔ ان اخراجات کی مثال ایسی ہے جیسے کسی ایسی قوم کی کھیتی ہو جنہوں نے کفر اور معاصی کے ذریعہ اپنی جانوں پر ظلم کیا ہو۔ اس کھیتی پر اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیج دی جس میں سخت ٹھنڈک تھی اس ٹھنڈک نے ساری کھیتی کو برباد کردیا۔ کھیتوں کو سخت سردی پہنچ جاتی ہے تو اس کو عام محاورات میں پالا پڑجانا یا پالے سے ہلاک ہو جاناکہتے ہیں یہ ہوا بطور سزا اور عقاب کے ان کے کھیتوں کو لگی اور سب کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہی خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے، یہ عذاب ان کے کرتوتوں کی وجہ سے آیا۔ اللہ کو کوئی الزام نہ دیں اپنے کفر اور معاصی کو دیکھیں کافروں نے ثواب کی نیت سے جو کچھ خرچ کیا وہ بھی بھسم ہے اس کا کوئی ثواب آخرت میں نہیں ملے گا اور جو کچھ دین اسلام کی دشمنی میں خرچ کرتے ہیں ظاہر ہے اس کا کیا ملنا ہے ؟ دنیا میں بھی مالوں کی بربادی ہے اور آخرت میں زیادتی فی الکفر کی وجہ سے عذاب در عذاب کا سبب بنے گا۔ سورة ابراہیم میں فرمایا :
(مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّھِمْ اَعْمَالُھُمْ کَرَمَادِ نِ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْءٍ ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ ) (مثال ان لوگوں کی جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ایسی ہے جیسے کہیں راکھ پڑی ہو آندھی کے دن میں سخت تیز ہوا اس کو اڑا دے یہ لوگ قادر نہ ہوں گے اپنے کمائے ہوئے میں سے کسی چیز پر بھی یہ دور کی گمراہی ہے) ۔
Ayah 3:118کافروں کو راز دار نہ بناؤ
ان آیات میں دشمنان اسلام کی دشمنی کو خوب زیادہ واضح کرکے بیان فرمایا ہے اور چونکہ وہ دشمن ہیں اس لیے دشمن سے دشمنی ہی کی امید رکھی جاسکتی ہے سب سے پہلے ارشاد فرمایا کہ اپنے علاوہ دوسرے لوگوں کو اپنا راز دار مت بناؤ وہ تمہیں بگاڑنے اور خراب کرنے میں ذرا سی بھی کسر نہ چھوڑیں گے اور اس میں کوئی دقیقہ اٹھا کر نہ رکھیں گے۔
مسلمانوں کی بد حالی :
تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی بھی اس نصیحت کے خلاف کیا ہے مسلمانوں نے مار کھائی، دشمن اسی طریقہ سے قابو پاتا ہے کہ وہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کو مال دے کر یا عہدے دے کر اپنا ہمنوا بنا لیتا ہے یہ مال کے لالچی اور عہدوں کے حریص دشمنوں کے سامنے مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی خفیہ باتیں سب اگل دیتے ہیں، دشمنوں نے مسلمانوں کے ملکوں میں مسلمانوں میں سے ایسے جاسوس بنا رکھے ہیں جو ہر چھپی ڈھکی بات اور ہر خفیہ مشورہ دشمنوں تک پہنچا دیتے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کی حکومتیں زیر و زبر ہوتی رہتی ہیں، اہم افراد قتل ہوتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کا کلمہ پڑھنے کے باوجود اسلام کو اور مسلمان کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔
کافروں کو خیر خواہ سمجھنے کی بیوقوفی :
دشمن سے تو کبھی بھی کسی طرح کی دوستی کرنے کی گنجائش ہی نہیں مسلمانوں کی بعض حکومتیں دشمنوں کے بل بوتے پر قائم ہیں اور اس ڈر سے کہ وہ حکومت کسی اور کو نہ دلا دیں دشمنوں کی ہر بات مانتے ہیں اور جس طرح دشمن کہتے ہیں اسی طرح کرتے ہیں۔ دشمنوں نے سمجھا رکھا ہے کہ عوام کو بہکانے کے لیے کہتے رہو کہ ہم اسلام قائم کریں گے، اگر کوئی شخص واقعی اسلام لانے لگے تو وہ مقتول یا معزول ہوجاتا ہے دشمن کے سہارے اقتدار لے کر بیٹھنا ہی اسلام کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ دشمن تو مسلمانوں کی تکلیف سے خوش ہیں جیسا کہ رب العزت جل شانہٗ نے فرمایا ودوا ما عنتم کفر ملت واحدہ ہے سارے کافر خواہ کسی بھی دین سے تعلق رکھتے ہوں اندر سے سب ایک ہیں اور مسلمانوں کے دشمن ہیں جب کبھی موقعہ آتا ہے ان کی وحدت کا مظاہرہ ہوجاتا ہے ان میں سے بہت سے لوگ صاف اور صریح الفاظ میں اسلام دشمنی کا اعلان کر بھی دیتے ہیں جیسا کہ زمانہ نبوت میں یہودیوں نے کیا تھا اسی کو فرمایا : (قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُ ) (کہ ظاہر ہوچکا ہے بغض ان کے مونہوں سے اور جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے بڑھ کر ہے) ۔
مسلمانوں کو بار بار جھنجھوڑ کر ارشاد فرمایا : (قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ) (کہ بلاشبہ ہم نے تمہارے لیے آیات بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو)
Ayah 3:119مسلمانوں کی غفلت پر سرزنش :
مزید فرمایا کہ اے مسلمانو ! تم ایسے ہو کہ دشمنوں سے محبت کا برتاؤ کرتے ہو اور وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، حالانکہ تم اللہ کی تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، تم ان کتابوں پر بھی ایمان لاتے ہو، جو انبیائے سابقین ( علیہ السلام) پر نازل ہوئیں اور وہ تمہاری کتاب یعنی قرآن مجید پر ایمان نہیں رکھتے تم جو ان کی کتابوں پر ایمان رکھتے ہو انہیں اس کی کچھ پاسداری نہیں، ان میں منافقت ہے، جب تم سے الگ ہوتے ہیں تو غصہ کی جلن کے مارے اپنی انگلیاں کاٹے لیتے ہیں کہ مسلمان کیسے آگے بڑھ رہے ہیں اور کیسے قوت پار ہے ہیں ان کے اس حال کے بارے میں ارشاد فرمایا (قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ ) کہ تم اپنے غصہ کی جلن میں مرجاؤ، دین اسلام کو قوت ہو کررہے گی۔ اسلام کی قوت اور شان و شوکت بڑھنے پر انگلیاں کاٹنے سے کیا ہوتا ہے اس غصہ میں مر بھی جاؤ گے تب بھی اسلام کا کلمہ بلند ہوگا۔ سب دینوں پر اسلام غالب ہوگا۔ پھر فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ ) (بےشک اللہ سینوں کی باتوں کو جانتا ہے) تمہارے دلوں میں جو کفر ہے اسے اس کا پتہ ہے اس نے مسلمانوں کو بھی تمہارا حال بتادیا تاکہ وہ چوکنے ہو کر رہیں اور آخرت میں تمہیں کفر کی سزا دے گا۔
Ayah 3:120مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے مزید فرمایا (اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْھُمْ وَ اِنْ تُصِبْکُمْ سَیّءَۃٌ یَّفْرَحُوْابِھَا) (کہ اگر تم کو اچھی حالت پیش آجاتی ہے اس سے وہ رنجیدہ ہوتے ہیں اور اگر تم کو کوئی ناگواری کی حالت پیش آجائے تو وہ خوش ہوتے ہیں) کیا ایسے لوگ محبت کرنے کے قابل ہیں ؟
تفسیر درمنثور صفحہ 66: ج 2 میں حضرت ابن عباس ؓ سے آیت (یٰآَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ ) کا سبب نزول یہ نقل کیا ہے کہ مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے تھے جن کا زمانہ جاہلیت میں یہود مدینہ سے پڑوسی ہونے کی وجہ سے تعلق تھا اور بعض مواقع میں آپس میں ایک دوسرے کے حلیف بھی بن جاتے تھے اس پرانے تعلق کی وجہ سے قبول اسلام کے بعد بھی ان مسلمانوں نے یہودیوں سے اپنا تعلق جاری رکھا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایسے تعلق سے منع فرمایا جس سے دشمن راز دار بن جائے (تجارت اور معاملات کی حدتک تو تعلق رکھنے کی گنجائش ہے لیکن ایسے تعلق کی کوئی گنجائش نہیں جس سے مسلمانوں کے راز دشمنوں پر کھلیں اور مسلمانوں کی اندرونی حالت سے دشمن باخبر ہوجائیں۔ ) آیت کے سبب نزول سے معلوم ہوا کہ یہودیوں کے پاس بعض مسلمانوں کا آنا جانا تھا اس پر تنبیہ فرمائی اور یہودیوں کا ظاہرباطن سب بتادیا چونکہ ہر زمانے کے کافروں کا مسلمانوں کے بارے میں ایک ہی حال ہے اس لیے ہم نے دور حاضر کے مسلمانوں کو بھی تنبیہ کردی اور بتادیا کہ کسی بھی کافر کو راز دار نہ بنائیں اور مسلمانوں کے بھیدان کو نہ پہنچ جائیں۔
یہودیوں کی مکاریاں اور دسیسہ کاریاں ابھی تک جاری ہیں، گو احوال اور ظروف کے اعتبار سے کچھ بدل گئی ہیں نصاریٰ کی حکومتوں میں بھی یہودیوں کا بہت دخل ہے، وہ مسلمانوں کے خلاف مسلمانوں کے افراد کو بھی استعمال کرتے ہیں اور نصرانی حکومتوں میں بھی ان کی خفیہ سازشیں اور پوشیدہ مکاریاں جاری ہیں جو ہر شخص کی سمجھ میں نہیں آتی ہیں۔ یہ جو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کفار اپنی تدبیروں میں مسلمانوں پر کیوں غالب ہیں اس کا جواب آیت کے اخیر میں دے دیا جو ہمیشہ کے لیے ناطق فیصلہ ہے اللہ جل شانہٗ نے فرمایا : (وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّکُمْ کَیْدُھُمْ شَیْءًا) (کہ اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی مکاری تمہیں کچھ بھی نقصان نہ دے گی)
مسلمان صبر اور تقویٰ اختیار کریں، دین پر جمیں، گناہوں سے بچیں تو دشمن کی مکاریاں کچھ بھی ضرر نہ دیں گی۔ ہتھیاروں کا انتظام کرنا جیسا کہ دشمن کے دفاع کا سبب ہے اسی طرح سے صبر وتقویٰ بھی دفاع دشمن کا ایک ہتھیار ہے بلکہ سب سے بڑا ہتھیار ہے جس سے اہل ایمان غافل رہتے ہیں آخر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ) (کہ بلاشبہ اللہ کو تمہارے دشمنوں کا پوری طرح علم ہے) ۔ وہ ان کو اپنی حکمت مشیت و ارادہ کے مطابق سزا دے گا۔
کافر تمہارے بگاڑ میں کبھی کوتاہی نہ کریں گے :
کافروں کے میل ملاپ سے جو منع فرمایا، اور ان کو راز دار بنانے کی جو ممانعت فرمائی اس میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑی عبرت اور موعظت اور نصیحت ہے۔ کافروں کو دوست بناتے ہیں اور قرآن مجید میں جو واضح طور پر فرمایا ہے (لاَ یَأْلُوْنَکُمْ ) اس سے غافل ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ لوگ تمہارے فساد اور بگاڑ میں ذرا بھی کوتاہی نہ کریں گے۔ یہود و نصاریٰ اور تمام مشرکین حتیٰ کہ وہ لوگ جو اسلام کے مدعی ہیں لیکن اپنے عقائد کے اعتبار سے کافر ہیں (جن میں روافض پیش پیش ہیں) یہ سب اسلام اور اہل اسلام کے پورے اور پکے دشمن ہیں۔ ان سے دوستی کرکے اچھی امید رکھنا بیوقوفی ہے، اسلام کے عہد اول سے ہی دشمنان اسلام اپنی مکاریوں اور تدبیروں سے کبھی غافل نہیں ہوئے اسلام کو بڑھتا دیکھتے ہیں تو جلتے ہیں۔ اگر ان کے بس میں ہوتا تو اسلام مکہ سے آگے نہ بڑھتا، لیکن یہ جلتے رہے اسلام بڑھتا رہا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ اِنَّ اللّٰہِ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ ) دشمن تو تباہ کرنے کی فکر میں ہے اور مسلمان ہیں کہ ان سے دوستی کرنے ہی کو ہنر سمجھ رہے ہیں، انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔
Ayah 3:121غزوہ احد کا تذکرہ
ان آیات میں غزوہ احد کا تھوڑا سا ذکر ہے۔ پھر آئندہ رکوع میں اور اس کے بعد والے رکوع میں تفصیل سے اس غزوہ کا تذکرہ فرمایا۔ حضرت سرورعالم ﷺ نے مکہ معظمہ میں جب اسلام کی دعوت دی تو مکہ کے مشرکین آپ کے دشمن ہوگئے۔ بڑی بڑی مشکلات سے گزرتے رہے دشواریاں پیش آتی رہیں۔ تیرہ سال تک محنت و مجاہدہ کرتے ہوتے اور مشقت اٹھاتے ہوئے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے اسلام کی دعوت دی لیکن مکہ معظمہ کے مشرکوں نے آپ کو وطن چھوڑنے پر مجبور کیا اور انصار مدینہ کی دعوت پر آپ مدینہ منورہ تشریف لے آئے یہاں آکر بھی مشرکین مکہ نے پیچھا نہ چھوڑا اور یہود مدینہ نے اندرونی خلفشار اور دشمنی کا سلسلہ جاری رکھا منافقوں کا بھی ظہور ہوا یہ لوگ ظاہری طور پر اسلام کا نام لیتے تھے اور اندر سے کاٹ کرتے تھے چونکہ یہودی بہت بڑے دشمن تھے اس لیے ان سے میل محبت کا تعلق رکھنے سے منع فرمایا جس کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوچکا اس وقت کے موجودہ دشمن یہودی تھے (جو مدینہ میں رہتے تھے) اور مشرکین مکہ بھی دشمن تھے ان سب سے میل و محبت سے منع فرمایا اور ہمیشہ کے لیے تمام مسلمانوں کو یہ ممانعت کردی گئی۔
مشرکین مکہ اپنی دشمنی کی وجہ سے ہجرت کے دوسرے سال بہت بھاری تعداد میں مسلمانوں سے لڑنے کے لیے چڑھ آئے اور مقام بدر میں فیصلہ کن جنگ ہوئی سب کی نظروں کے سامنے حق و باطل کا فیصلہ ہوگیا غزوہ بدر کا واقعہ کچھ اسی رکوع میں آنے والی آیات میں بیان فرمایا اور کچھ سورة آل عمران کے دوسرے رکوع میں گزر چکا۔ اور تفصیل کے ساتھ سورة انفال کے پہلے اور دوسرے رکوع میں اور چھٹے اور ساتویں رکوع میں بیان فرمایا۔ ہم اس کو تفصیل سے سورة انفال کی تفسیر میں انشاء اللہ بیان کریں گے۔
Ayah 3:122غزوہ احد کے موقعہ پر صحابہ کرام ؓ سے مشورہ :
ہجرت کے تیسرے سال غزوۂ احد پیش آیا۔ مشرکین مکہ کو غزوۂ بدر میں چونکہ بہت بڑی شکست ہوئی تھی جس میں تین سو تیرہ نہتے مسلمان دشمن کی تین گنا تعداد پر غالب آئے اور دشمن کے ستر آدمی مقتول ہوئے اور ستر کو قیدی بنا کر مدینہ منورہ لایا گیا اس لیے قریش مکہ کو بدلہ لینے کی بہت بڑی فکر تھی۔ لہٰذا آپس میں خوب زیادہ چندہ کیا اور قریش آپس میں مجتمع ہو کر رسول اللہ ﷺ سے جنگ کرنے کے لیے مکہ معظمہ سے نکلے قریش مکہ اپنے اموال اور فوج اور سپاہ کو لے کر مدینہ منورہ پہنچے تو احد پہاڑ کے قریب پڑاؤ ڈال لیا۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے حضرات صحابہ سے مشورہ کیا آپ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ میں رہ کر ہی مقابلہ کیا جائے باہر نہ نکلیں لیکن وہ مسلمان جو گزشتہ سال غزوہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ہم شہر سے باہر نکلیں گے اور احد جا کر ہی ان سے لڑیں گے ان حضرات کا اندازہ تھا کہ جس طرح مسلمان سال گزشتہ بدر میں دشمن کے مقابلہ میں فتح یاب ہوچکے ہیں اس مرتبہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ ضرور غالب ہوں گے۔ یہ حضرات برابر اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کو باہر نکلنے پر آمادہ کرلیا آنحضرت سرورعالم ﷺ نے تیاری فرما لی۔ زرہ پہن لی اور خود (لوہے کی ٹوپی) اوڑھ لی آپ مشورہ کی وجہ سے آمادہ تو ہوگئے لیکن ہتھیار پہننے سے پہلے آپ نے فرمایا دیا تھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں ایک مضبوط زرہ کے اندر ہوں جس کی تعبیر میں نے یہ دی کہ اس سے مدینہ منورہ مراد ہے اور میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میری تلوار کچھ کند ہوگئی اس کی تعبیر میں نے یہ دی کہ تمہارے اندر کچھ شکستگی ہوگی اور میں نے یہ بھی خواب دیکھا کہ ایک بیل کو ذبح کیا جا رہا ہے اور وہ بھاگ رہا ہے۔ مطلب اس خواب کے بیان کرنے کا یہ تھا کہ مدینہ منورہ ہی کے اندر رہنا چاہیے اور یہ کہ جنگ ہونے کی صورت میں مسلمانوں میں شکستگی ہوگی۔ بعد میں بعض لوگوں نے مشورہ دیا کہ ہماری تاریخ یہ ہے کہ جب کبھی اندر رہتے ہوئے جنگ لڑی ہے تو ہم کامیاب ہوئے ہیں اور جب کبھی باہر نکل کر جنگ کی ہے تو دشمن فتح یاب ہوا ہے۔ لہٰذا رائے یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے اندر ہی رہیں باہر نہ نکلیں جن حضرات نے خوب جماؤ کے ساتھ باہر نکلنے کا مشورہ دیا تھا بعد میں ان کو بھی ندامت ہوئی جب آپ کی خدمت میں دوسرا مشورہ پیش کیا اور عرض کیا کہ آپ کی جیسی رائے ہو آپ اس پر عمل فرمائیں تو آپ نے فرمایا کسی نبی کے لیے یہ درست نہیں ہے کہ سامان جنگ سے آراستہ ہوجائے اور دشمن کی طرف نکلنے کا حکم دے دے تو وہ قتال کیے بغیر واپس ہوجائے۔ میں نے تم کو پہلے اس امر کی دعوت دی تھی کہ مدینہ ہی میں رہیں لیکن تم لوگوں نے نہیں مانا پس اب اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور دشمن سے مڈ بھیڑ ہوجائے تو جماؤ کے ساتھ جنگ کرنا۔ اور اللہ نے جو حکم دیا ہے اس پر عمل کرو۔
اس کے بعد آنحضرت ﷺ مسلمانوں کو لے کر احد کی طرف تشریف لے چلے اس وقت آپ کے ساتھ ایک ہزار کی نفری تھی اور دشمن کی تعداد تین ہزار تھی۔ احد جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے ایک جگہ قیام کیا تو رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بن سلول تین سو آدمیوں کو لے کر واپس چلا گیا۔ لہٰذا مسلمانوں کی تعداد سات سو رہ گئی۔ عبداللہ بن ابی جب اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس ہوگیا تو انصار کے دو قبیلے بنی سلمہ اور بنی حارثہ کی نیت بھی ڈانواں ڈول ہوگئی اور ان کے اندر بھی بزدلی کا اثر ہونے لگا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کو استقامت دی اور یہ بھی لشکر اسلام کے ساتھ ٹھہر گئے اسی کو آیت بالا میں فرمایا : (اِذْ ھَمَّتْ طَّآءِفَتٰنِ مِنْکُمْ اَنْ تَفْشَلَا وَ اللّٰہُ وَلِیُّھُمَا وَ عَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ) (اور جب ارادہ کیا دو جماعتوں نے تم میں سے کہ بزدل ہوجائیں اور اللہ ان کا ولی ہے اور اللہ پر بھروسہ کریں مومن بندے) ۔
حضرت سرور دو عالم ﷺ احد کے دامن میں پہنچ گئے اور وہاں ایک گھاٹی میں نزول فرمایا آپ نے اور آپ کے لشکر نے احد کی طرف پشت کرلی تاکہ احد پیچھے رہے اور دشمن سے احد کے سامنے میدان میں قتال کیا جاسکے۔ وہیں ایک پہاڑی پر پچاس صحابہ کو مقرر فرما دیا اور ان کا امیر حضرت عبداللہ بن جبیر کو بنا دیا اور ان حضرات سے فرمایا کہ تم لوگ اسی پہاڑ پر ثابت قدم رہنا۔ فتح ہو یا شکست تم یہاں سے مت ٹلنا۔ اگر تم یہ دیکھو کہ ہم کو پرندے بھی بوٹی بوٹی کر کے لے اڑیں تب بھی اس جگہ سے نہ جانا ان حضرات کا کام یہ تھا کہ دشمن کے لشکروں کو مقررہ پہاڑی سے نیزے مارتے رہیں تاکہ وہ ان کی طرح سے گزرتے ہوئے لشکر اسلام پر حملہ نہ کردیں۔
رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے۔ اور جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر ؓ کے ہاتھ میں تھا۔ آپ نے اپنے لشکر کی ترتیب دی اور ان کے ٹھکانے مقرر فرمائے، میمنہ اور میسرہ کی تعیین فرمائی جس کو آیت بالا میں اس طرح بیان فرمایا : (وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَھْلِکَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ ) (اور جب آپ اپنے گھر سے صبح کے وقت نکلے کہ مسلمانوں کو قتال کے لیے مقامات بتا رہے تھے)
جب جنگ شروع ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور فتحیاب فرمایا لیکن پھر یہ ہوا کہ جن پچاس افراد کو تیر اندازی کے لیے ایک پہاڑی پر مامور فرما دیا تھا انہوں نے جب فتح و ظفر دیکھی تو ان میں آپس میں اختلاف ہوگیا ان میں سے بعض صحابہ کہنے لگے کہ اب یہاں ٹھہرنے کی ضرورت کیا ہے اب تو ہم فتحیاب ہو ہی چکے لہٰذا اس جگہ کو چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں، اور بعض صحابہ نے فرمایا کہ جو بھی صورت ہو ہمیں جم کر رہنے کا حکم ہے، جماعت کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ اور ان کے کچھ ساتھی وہیں جمے رہے اور اکثر حضرات نے جگہ چھوڑ دی اور مال غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہوگئے۔ دشمن کے پاؤں اکھڑ چکے تھے، اور وہ شکست کھا کر راہ فرار اختیار کرچکا تھا لیکن جب اس نے یہ دیکھا کہ تیر انداز پہاڑی سے اتر چکے ہیں تو پلٹ کر پھر جنگ شروع کردی، اب صورت حال بدل گئی مسلمانوں کو شکست ہوگئی۔
Ayah 3:123غزوہ بدر کی فتح یابی کا تذکرہ
ابھی غزوہ احد کا واقعہ مکمل نہیں ہوا، انشاء اللہ آگے مزید اس کا بیان ہوگا۔ اللہ جل شانہٗ نے غزوہ احد کا تھوڑا سا واقعہ بیان فرما کر غروہ بدر کا تذکرہ فرمایا۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو خوب زیادہ بڑھ چڑھ کر فتح حاصل ہوئی اور اللہ جل شانہٗ نے مسلمانوں کی خوب مدد فرمائی تھی یہاں اس مدد کا تذکرہ ہے۔ غزوۂ بدر والی مدد احد کی حالیہ شکست کے مقابلہ میں سامنے رکھی جائے تو وہی زیادہ معلوم ہوتی کیونکہ بدر میں ستر کافر قتل ہوئے اور ستر کافروں کو قید کرکے مدینہ منورہ لے آئے۔ اور غزوہ احد میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے لہٰذا اس فتح کے سامنے یہ شکست آدھی رہ جاتی ہے اس طرح سے غزوہ بدر کے تذکرہ میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑی تسلی ہے۔
(اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ) (الآیۃ) میں فرشتوں کے نزول کے وعدہ کا تذکرہ ہے غزوۂ بدر میں فرشتے آئے تھے انہوں نے جنگ میں بھی حصہ لیا اور مسلمانوں کو ہمتیں دلائیں اور ان کو ثابت قدم رکھا۔ کیا غزوہ احد میں بھی فرشتوں کا نزول ہوا تھا۔ اس بارے میں مفسرین کا اختلاف ہے، آیت بالا میں جو تین ہزار فرشتوں کے نزول کا تذکرہ ہے اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا کہ اس میں غزورہ بدر ہی کے فرشتوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ سورة انفال میں غزوۂ بدر میں ایک ہزار فرشتوں کے نزول کا تذکرہ ہے اور یہاں تین ہزار پھر پانچ ہزار فرشتوں کے نزول کا تذکرہ فرمایا ہے اور یہ سب غزوۂ بدر سے متعلق ہے اول ایک ہزار پھر تین ہزار پھر پانچ ہزار فرشتوں کے نزول کا وعدہ فرمایا اور پانچ ہزار کا نزول ہوا۔
Ayah 3:124معالم التنزیل صفحہ 347: ج 4 میں حضرت قتادہ کا قول اسی طرح نقل کیا ہے اور لکھا ہے کہ مسلمانوں نے بدر میں صبر کیا اور تقویٰ اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر پانچ ہزار فرشتے نازل فرمائے، نیز معالم التنزیل میں ضحاک اور عکرمہ کا قول یوں نقل کیا ہے کہ جس وعدہ کا (اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ) میں ذکر ہے جنگ احد کے بارے میں ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے مسلمانوں سے بشرط صبر مدد کا وعدہ فرمایا تھا لیکن انہوں نے صبر نہیں کیا لہٰذا ان کی مدد نہیں کی گئی۔ صاحب روح المعانی اسی قول کو معتمد بتاتے ہیں کہ یہ آیت جس میں پانچ ہزار فرشتوں کی آمد کا ذکر ہے اس میں غزوہ بدر ہی کا ذکر ہے۔