Ayah 3:125لفظ مُسَوِّمِیْنَ کا ترجمہ نشان لگے ہوئے سے کیا گیا ہے ان فرشتوں کے کیا نشان تھے اس کے بارے میں صاحب روح المعانی صفحہ 46: ج 4 بحوالہ ابن اسحاق اور طبرانی حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ غزوہ بدر میں فرشتوں کی نشانی یہ تھی کہ وہ سفید پگڑیاں باندھے ہوئے تھے جن کے شملے کمروں پر ڈالے ہوئے تھے اور غزوہ حنین میں ان کے عمامے سرخ تھے اس بارے میں اور بھی اقوال ہیں جو کتب تفسیر میں مذکور ہیں۔
Ayah 3:126مدد صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے :
پھر فرمایا (وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی لَکُمْ وَ لِتَطْمَءِنَّ قُلُوْبُکُمْ بِہٖ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَکِیْمِ ) (اور اللہ نے یہ مدد صرف اس لیے کی کہ تمہارے لیے بشارت ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہوں اور مدد نہیں ہے مگر صرف اللہ کی طرف سے جو زبردست ہے حکمت والا ہے)
یہ آیت تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ غزوہ بدر کے تذکرہ میں سورة انفال کے دوسرے رکوع کے ختم پر بھی ہے۔ اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ فرشتوں کے ذریعہ جو مدد کی گئی وہ اس لیے ہے کہ تمہارے دل خوش ہوجائیں اور مطمئن ہوجائیں تاکہ دشمن کی کثرت کا خوف نہ ہو۔ پھر فرمایا کہ مدد صرف اللہ کی طرف سے ہے وہ جس کی مدد فرمائے وہی منصور اور کامیاب ہوگا لوگوں کی آپس کی مدد کی کوئی حیثیت نہیں۔ اللہ کی مدد کے سامنے ہر جماعت شکست خوردہ ہے اور ہر مدد بےحیثیت ہے۔ اللہ عزیز ہے یعنی غالب ہے اور حکیم بھی ہے۔ وہ حکمت کے موافق مدد فرماتا ہے۔ اور بعض مرتبہ حکمت کا تقاضا یہ ہو کہ مدد نہ کی جائے تو ایسا بھی ہوجاتا ہے جیسا کہ غزوۂ احد میں ہوا۔
Ayah 3:127پھر فرمایا (لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اَوْ یَکْبِتَھُمْ فَیَنْقَلِبُوْا) مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بدر میں تم کو اس لیے غلبہ دیا کہ کافروں کے ایک گروہ کو ہلاک فرما دے یا ان میں سے بعض کو ذلیل اور خوار کر دے پھر ناکام ہو کر لوٹ جائیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ بدر میں ستر کافر مارے گئے جو اپنی جماعت کے رؤسا تھے اور ستر قید کر کے لائے گئے۔ جو بچے تھے وہ ناکام ہو کر واپس ہوگئے ان کی تعداد اور سامان نے کچھ کام نہ دیا اللہ کی مدد کی وجہ سے مسلمان غالب ہوئے حالانکہ وہ تھوڑے سے تھے۔
Ayahs 3:128–129اللہ تعالیٰ کو سب کچھ اختیار ہے
یہاں سے پھر غزوہ احد کے واقعہ کا تذکرہ شروع ہوتا ہے۔ اسباب النزول صفحہ 116 میں حضرت انس سے نقل کیا ہے کہ غزوہ احد میں آنحضرت ﷺ کے سامنے کے دانت شہید ہوگئے تھے اور آپ کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا تھا۔ چہرہ مبارک سے خون بہہ رہا تھا اور آپ فرما رہے تھے کہ وہ قوم کیسے کامیاب ہوگی جنہوں نے اپنے نبی کے چہرہ کو خون سے رنگ دیا۔ اس حال میں کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت (لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ) نازل فرمائی یعنی تمام امور اللہ کی طرف مفوض ہیں اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ آپ کو صبر کرنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوگی تو ان کو ایمان کی توفیق دے کر ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور اگر چاہے گا تو ان کو عذاب دے گا۔ کفر پر مریں گے، عذاب میں مبتلا ہوں گے، چناچہ ایسا ہی ہوا جو لوگ احد میں مکہ معظمہ سے لڑنے کے لیے آئے تھے ان میں سے بعض بعد میں مسلمان ہوگئے جن میں ابو سفیان بھی تھے۔ صفوان بن امیہ بھی تھے ابو سفیان کی بیوی ہند بھی مسلمان ہوگئی جس نے آنحضرت ﷺ کے چچا حضرت حمزہ ؓ کا کلیجہ چبایا تھا۔ اور وحشی بن حرب بھی مسلمان ہوئے جنہوں نے حضرت حمزہ ؓ کو شہید کیا تھا۔
Ayahs 3:130–131سود کھانے کی ممانعت اور مغفرت خداوندی کی طرف بڑھنے میں جلدی کرنے کا حکم
ابھی غزوہ احد کا واقعہ پورا مذکور نہیں ہوا اس کا بہت سا حصہ باقی ہے۔ درمیان میں بعض گناہوں سے خصوصی طور پر بچنے کا حکم فرمایا اور تقویٰ کا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم فرمایا اور بعض طاعات کی ترغیب دی اور اہل اطاعت کے اخروی بدلہ کا تذکرہ فرمایا۔ غزوہ احد میں مسلمانوں سے جو حکم کی خلاف ورزی ہوگئی تھی۔ جس کا ذکر آیت شریفہ (اَنَّمَا اسْتَزَلَّھُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُوْا) میں فرمایا ہے یہاں عمومی طور پر گناہوں سے بچنے اور اطاعت میں لگنے کا حکم فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ گناہ عمومی طور پر مصیبتوں کو لانے والے ہیں اور اطاعات مصائب کو دور کرنے کا سبب ہیں اور آخرت میں مغفرت اور جنت ملنے کا ذریعہ ہیں خاص کر سود لینے کی ممانعت فرمائی۔ یہ گناہ ایسا ہے جو انسان کو خالص دنیا دار بنا دیتا ہے۔ سود خوروں کے دلوں میں تقویٰ اور خوف باقی نہیں رہتا مال زیادہ ہوجانا ہی ان کا وظیفہ زندگی بن جاتا ہے۔ اور مخلوق پر رحم کھانے کا ان میں جذبہ رہتا ہی نہیں۔ یہ جو فرمایا ہے کہ چند در چند سود نہ کھاؤ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ تھوڑا بہت کھانا جائز ہے۔ کیونکہ سود کا ایک درہم لینا بھی حرام ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ سود کا ایک درہم بھی کوئی شخص کھاتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ وہ سود کا ہے تو وہ چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 246: ازاحمد و دارقطنی)
جو لوگ سود پر رقمیں دیتے ہیں عموماً ان کے اصل مال سے سود کا مال بڑھ جاتا ہے۔ اور ان کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ماہانہ مقررہ فیصد پر رقم قرض دیتے ہیں پھر جب وقت پر ادا نہیں ہوتا تو اصل اور سود دونوں پر سود لگا دیتے ہیں اور جب تک اصل رقم اور سود ادا نہ ہوگا ہر ماہ سود بڑھتا ہی رہے گا۔ اصل پر اور سود پر برابر سود کا اضافہ ہوتا جائے گا۔ اس طرح سے اضعافاً مضاعفہ (چند در چند گنا) ہوتا چلا جاتا ہے۔ سود خوروں میں جو طریقہ مروج ہے آیت کریمہ میں اس کا ذکر فرما دیا ہے۔ کوئی سود خور فاسق یہ نہ سمجھ لے کہ تھوڑا بہت سود ہو تو جائز ہے (العیاذ باللّٰہ من ذالک) سود خوری کا خصوصی ذکر اس جگہ غزوہ کے ذیل میں بیان فرمانا اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ سود خور کا جہاد میں حوصلہ نہیں ہوسکتا وہ اپنے مال کی وجہ سے ایمان کے تقاضے پورا کرنے سے عاجز رہے گا سود کے بارے میں جو وعیدیں حدیث شریف میں وارد ہوئیں ان کا تذکرہ آیت کریمہ (اَلَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا کَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطٰنُ ) کے ذیل میں گزر چکا ہے اور بھی معلومات متعلقہ سود وہاں لکھی جا چکی ہیں۔
سود سے بچنے کا حکم دینے کے بعد تقویٰ کا حکم فرمایا اور اس کو کامیابی کا سبب بتایا پھر دوزخ کی آگ سے بچنے کا حکم دیا۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے ہر گناہ دوزخ کی طرف کھینچنے والا ہے۔ گناہوں سے بچنا ہی دوزخ سے بچنا ہے ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ (اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ ) یعنی دوزخ کی آگ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ اصل مقام کافروں ہی کا ہے۔ مسلمانوں کا گناہوں میں مبتلا ہو کر اس مقام میں جانا نہایت شرم کی بات ہے دشمن کی جگہ تو یوں بھی نہیں جانا چاہیے چہ جائیکہ عذاب کی جگہ پہنچنے کی راہ ہموار کی جائے اور عذاب بھی معمولی نہیں بلکہ سخت در سخت ہے۔ ان مومن مخلص بندوں کی حرص کریں جو جنت ہی کے کاموں میں لگے رہتے ہیں اور جنت متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے جیسا کہ انہیں آیات میں مذکور ہے تقویٰ اختیار کرکے جنت میں جائیں جو مومنین کا اصل مقام ہے گناہوں میں مبتلا ہو کر دوسری راہ کیوں اختیار کریں۔
Ayah 3:132پھر ارشاد فرمایا : (وَ اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ) (یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے) معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا رحم لانے والی چیز اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت ہے۔
Ayah 3:133پھر ارشاد فرمایا : (وَ سَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ) (الآیۃ) کہ اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور جنت کی طرف جلدی جلدی آگے بڑھو مسارعت اور مقابلہ کی چیز مغفرت اور جنت ہے اعمال صالحہ میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔
جنت کا طول و عرض :
ساتھ ہی جنت کی وسعت کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ (عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ ) کہ جنت کا چوڑاؤ ایسا ہے جیسے تمام آسمانوں اور زمین کی وسعت ہے، انسانوں کی نظر کے سامنے چونکہ آسمان اور زمین ہی طول و عرض کے اعتبار سے سب سے بڑی چیزیں ہیں اس لیے جنت کی وسعت بتانے کے لیے تقریب الی الفہم کے طور پر یہ ارشاد فرمایا کہ جنت کی چوڑائی ایسی ہے جیسی آسمانوں اور زمین کی چوڑائی ہے۔ صاحب روح المعانی (صفحہ 56 : ج 4) نے فرمایا : کنایۃ عن غایۃ السعۃ بما ھو فی تصور السامعین حقیقت میں جنت آسمانوں اور زمینوں سے بہت بڑی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ سب سے آخری جنتی کو اتنی بڑی جگہ ملے گی جیسی یہ دنیا ہے اور اس جیسی دس گنی اور مزید ملے گی (مشکوٰۃ المصابیح : صفحہ 492: ج 2) جس خالق نے آسمان و زمین پیدا فرمائے اس کی قدرت میں یہ بھی ہے کہ ان سے بڑی مخلوق پیدا فرما دے۔ لوگ آسمان پر تو پہنچے ہی نہیں زمین کے لمبے چوڑے سفر کر کے کہتے ہیں کہ ہمیں فلاں چیز نہیں ملی جس کا قرآن و حدیث میں ذکر ہے اول تو اس کی کوئی دلیل نہیں کہ ہر جگہ پہنچ چکے ہیں اور اگر زمین کو ہر جگہ ٹٹول بھی لیا تو اس زمین کے علاوہ اور چھ زمینیں ہیں اور سات آسمان ہیں ان سب کے درمیان خلا ہے وہاں تک تو پہنچے ہی نہیں اور سورج تک پہنچنے کا تصور ہی نہیں کرسکے پھر یہ سوال کرنا کہ جنت دوزخ کہاں ہے سراپا بےوقوفی ہے جو چیز آسمان اور زمین سے باہر ہو وہ آسمانوں میں اور زمین میں کیسے ملے گی۔
صاحب معالم التنزیل صفحہ 351: ج 1 میں لکھتے ہیں کہ جنت کے عرض کو بیان فرمایا ہے اور معلوم ہے کہ طول عرض سے زیادہ ہوتا ہے جب اس کا عرض اتنا بڑا ہے تو طول کتنا بڑا ہوگا۔ حضرت انس ؓ سے کسی نے سوال کیا کہ جنت آسمان میں ہے یا زمین میں۔ انہوں نے فرمایا کہ کون سی زمین اور کون سا آسمان ہے جس میں جنت کے سما جانے کی گنجائش ہو ؟ عرض کیا گیا پھر کہاں ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے اور عرش کے نیچے ہے۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ حضرات صحابہ ؓ اور تابعین یہ جانتے تھے کہ جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے عرش کے نیچے ہے اور دوزخ ساتوں زمینوں کے نیچے ہے۔ (انتہی بحذف)
متقیوں کی بعض صفات
پھر فرمایا (اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ ) کہ جنت متقیوں کے لیے تیار کی گئی ہے اس کے بعد متقیوں کی بعض صفات بیان فرمائیں۔
Ayah 3:134اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا :
اول اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کا تذکرہ فرمایا کہ (الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ ) (یہ حضرات خرچ کرتے ہیں تکلیف میں بھی اور خوشی میں بھی) اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنا بہت بڑی سعادت ہے۔ ہر حال میں خرچ کرتے رہنا چاہیے ایک ہزار روپے میں جو ایک روپے کی حیثیت مالدار کے لیے ہے وہی حیثیت ایک روپے میں سے ایک پیسے کی غریب آدمی کے لیے ہے۔ جن کو اللہ کے لیے خرچ کرنے کا ذوق ہے وہ تنگدستی میں بھی خرچ کرتے ہیں جس کی تعریف فرماتے ہوئے سورة حشر میں فرمایا ہے (وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ) (کہ وہ اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ ان کو خود حاجت ہو) فی سبیل اللہ خرچ کرنا مالداروں ہی کا حصہ نہیں غربیوں کا بھی حصہ ہے۔ سخاوت ایک مزاج ہے جس کا تعلق مالداری سے نہیں جسے سخاوت کا مزاج نصیب ہوجائے وہ ہر حال میں خرچ کرتا ہے۔
غصہ پینے کی فضیلت :
دوم یہ فرمایا (وَ الْکٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ ) کہ یہ حضرات اپنے غصے کو ضبط کرنے والے ہیں یعنی جب غصہ آتا ہے تو اس کو پی جاتے ہیں اور غصہ کے مقتضیٰ پر عمل نہیں کرتے، فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ پہلوان وہ نہیں ہے جو دوسرے کو پچھاڑ دے (بلکہ) پہلوان وہی ہے جو غصہ کے وقت اپنے نفس پر قابو پالے۔ (رواہ البخاری صفحہ 903: ج 2) رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ کسی بندہ نے اللہ کے نزدیک کوئی گھونٹ اس گھونٹ سے زیادہ فضیلت والا نہیں پیا جو غصہ والا گھونٹ ہو جسے وہ اللہ کی رضا مندی کے لیے ضبط کر جائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 434 از مسند احمد) سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ غصہ شیطان سے ہے اور بیشک شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی ہی بجھاتا ہے سو تم میں سے کسی شخص کو غصہ آئے تو وضو کرے اور حضرت ابوذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے اس طرح غصہ چلا جائے تو بہتر ہے ورنہ لیٹ جائے۔ (رواہ الترمذی المشکوٰۃ صفحہ 343)
حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اپنی زبان کی حفاظت کی اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائیں گے اور جس نے اپنے غصے کو روک لیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے اپنے عذاب کو روک لیں گے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 434)
معاف کرنے کی فضیلت :
سوم یہ فرمایا وَ الْعَافِیْنَ کہ یہ لوگ لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں۔ معاف کرنا بہت فضیلت والی صفت ہے اور یہ فضیلت ہر قسم کے مظالم کے معاف کرنے کو شامل ہے کسی آدمی نے مال مار لیا ہو حق روک لیا ہو، مار پیٹ کی ہو، غیبت کی ہو، بہتان لگایا ہو ان سب کے معاف کرنے میں اجر وثواب ہے اور معاف کرنے کا بلند مرتبہ یہ ہے کہ قدرت ہوتے ہوئے معاف کر دے۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے رب ! آپ کے نزدیک آپ کے بندوں میں سب سے زیادہ باعزت کون ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو قدرت ہوتے ہوئے معاف کر دے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 434 ازبیہقی فی شعب الایمان)
محسنین اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں :
چہارم یوں فرمایا : (وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) (اللہ اچھے کام کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے) المحسنین محسن کی جمع ہے جس کا مصدر احسان ہے اور احسان ہر کام کو خوبی کے ساتھ انجام دینے کو کہا جاتا ہے۔ عبادات کا احسان تو حدیث جبرئیل میں بیان فرما دیا کہ : اَنْ تَعْبُدَاللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ (کہ تو اللہ کی اس طرح عبادت کرے جیسے تو اس کو دیکھ رہا ہے سو اگر تو اس کو نہیں دیکھ رہا ہے تو وہ تو تجھے دیکھ ہی رہا ہے) اور بندوں کے ساتھ برتاؤ کرنے میں احسان یہ ہے کہ ان کے ساتھ جو معاملات پیش آئیں ان میں خوبی اور عمدگی اختیار کرے۔ مثلاً قرضوں کے تقاضوں میں نرمی اختیار کرے۔ بڑوں کی عزت کرے چھوٹوں پر رحم کرے یتیموں، مسکینوں اور ضعیفوں کی خدمت کرے ضرورت مندوں کو کھلائے پلائے پہنائے اور دوسروں کے لیے وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہو۔
حضرت زین العابدین کا ایک واقعہ :
صاحب روح المعانی نے یہاں ایک واقعہ لکھا ہے اور وہ یہ کہ حضرت امام زین العابدین ؓ کو ان کی ایک باندی وضو کرا رہی تھی اس کے ہاتھ سے لوٹا گرگیا جس سے ان کا چہرہ زخمی ہوگیا انہوں نے اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا تو اس نے (وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ ) پڑھ دیا اس پر انہوں نے کہا کہ میں نے اپنا غصہ ضبط کرلیا پھر اس نے و العافین عن الناس پڑھا آپ نے اس کو معاف کردیا۔ پھر اس نے (وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ) پڑھا اس پر انہوں نے فرمایا اچھا جا تو اللہ کے لیے آزاد ہے۔
Ayah 3:135توبہ استغفار کی فضیلت :
پھر فرمایا (وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَکَرُوا اللّٰہَ ) (الآیۃ) اس میں ان لوگوں کی تعریف فرمائی جس سے کوئی فاحش گناہ سرزد ہوجائے یا کسی بھی گناہ کے ذریعہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو استغفار کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں، ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ اس کے بعد اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتے ہیں اور اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے۔ اس میں توبہ کی ایک بڑی شرط کی طرف راہنمائی فرمائی اور وہ یہ کہ جب گناہ ہوجائے اور توبہ کرے تو توبہ میں یہ بھی شامل ہے کہ آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عہد کرے گناہ پر اصرار نہ کرے زبان سے توبہ توبہ کرے اور گناہ کے کام بھی جاری رہیں تو اس طرح توبہ نہیں ہوتی۔ اسی کو کسی نے کہا ہے
سبحہ برکف توبہ برلب دل پراز ذوق گناہ معصیت راخندہ می آید براستغفار ما
اور حضرت رابعہ بصریہ نے فرمایا کہ اِسْتِغْفَارُنَا یَحْتَاجُ اِلَی اسْتِغْفَارٍ کَثِیْرٍ یعنی ہمارا استغفار ایسا ہے کہ اس کے لیے بھی بہت استغفار کی ضرورت ہے کیونکہ وہ سچے دل سے نہیں ہوتا غفلت کے ساتھ جو استغفار ہے وہ مقام بندگی کے خلاف ہے۔ (ذکرہ ابن الجزری فی الحصن الحصین)
اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی گناہوں کا بخشنے والا نہیں ہے :
درمیان میں فرمایا (وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰہُ ) (کہ اللہ کے سوا وہ کون ہے جو گناہوں کو معاف فرمائے) اس میں جہاں مومن بندوں کو توجہ دلائی ہے کہ اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ ہوں وہاں اس میں نصاریٰ کے اس عقیدہ کی بھی تردید ہے کہ جو کچھ گناہ کریں گے اتوار کے دن گرجا میں جا کر اپنے پوپ سے معاف کرا لیں گے، عام گناہوں کو تو وہ بغیر کسی درخواست کے معاف کردیتا ہے اور بعض گناہ ایسے ہیں جن کے بارے میں انہوں نے یہ شرط لگا رکھی ہے کہ پوپ کے کان میں کہہ دے کہ ہم نے یہ گناہ کیا اس پر وہ معاف کردیتا ہے یہ کیسی بیہودہ بات ہے جو عقل سے بھی باہر ہے کہ انسان گناہ کرے اللہ کا اور اس کی بخشش کر دے کوئی انسان۔ نعوذ باللّٰہ من اباطیلھم و جھلھم۔
Ayah 3:136نیک بندوں کا ثواب :
پھر نیک بندوں کی جزاء بیان فرمائی کہ (اُولٰٓءِکَ جَزَآؤُھُمْ مَّغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّھِمْ ) (الآیۃ) یعنی ان کے اعمال کا بدلہ مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ پھر اس بدلہ کی عظمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعَامِلِیْنَ ) (کیا ہی خوب بدلہ ہے عمل کرنے والوں کا) ۔
Ayah 3:137امم سابقہ سے عبرت :
پھر فرمایا (قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌ) (یعنی تم سے پہلے بہت سے طریقے گزر چکے ہیں۔ لہٰذا تم چلو زمین میں پھر دیکھو کیا انجام ہے جھٹلانے والوں کا) مطلب یہ ہے کہ تم سے پہلی امتوں کے واقعات گزر چکے ہیں جنہوں نے اللہ کے نبیوں کو جھٹلایا اور جھٹلانے والے انجام کے اعتبار سے مغلوب اور معذوب اور ہلاک ہوئے دنیا میں چل پھر کر ان کا انجام اپنی نظروں سے دیکھ لو۔ کتنی قومیں تھیں کہاں کہاں آباد تھیں ان کی بربادی کے نشانات ابھی تک دنیا میں موجود ہیں جو آنکھوں والوں کو عبرت کے لیے کافی ہیں۔ (قال صاحب الروح صفحہ 25: ج 4 ای وقائع فی الامم الملکذبۃ اجراھا اللّٰہ تعالیٰ حسب عادتہ)
اگر وقتی طور پر تمہارے دشمنوں کو کسی طرح کی ظاہری فتح حاصل ہوگئی تو اس سے گھبراؤ نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں پھر فتح یابی سے سرفراز فرمائے گا۔ (قال معالم التنزیل صفحہ 354: ج 1) ای یقول اللّٰہ عزوجل وانا امھلھم و استدر جھم حتی یبلغ اجلی الذی اجلت فی نصرۃ النبی ﷺ و اولیاۂ و اھلاک اعداۂ ۔
Ayah 3:138آخر میں فرمایا (ھٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ ) (الآیۃ) کہ یہ لوگوں کے لیے بیان ہے اور ہدایت ہے اور نصیحت ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے) یعنی جو کچھ اوپر بیان ہوا۔ یہ واضح بیان ہے لوگوں کے لیے لوگوں کے عموم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جو جنگ کرنے کے لیے آئے تھے اور عام مکذبین بھی۔ آخر میں (وَ ھُدًی وَّ مَوْعِظَۃٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ ) فرما کر یہ بتادیا کہ اہل تقویٰ ہی واقعی طور پر ہدایت اور عبرت اور نصیحت حاصل کرتے ہیں (قال صاحب روح المعانی صفحہ 66: ج 4 والمراد بیان لجمیع الناس لکن المنتفع بہ المتقون لانھم یھتدون بہ و ینتفعون بوعظہ)
Ayah 3:139تم ہی بلند ہو گے اگر مومن ہو
اسباب النزول صفحہ 120 میں علامہ واحدی حضرت ابن عباس سے نقل فرماتے ہیں کہ جب غزوۂ احد میں صحابہ کو شکست ہوگئی تو خالد بن ولید (جو اس وقت مشرکین کے لشکر میں تھے) مشرکین کے لشکر کو لے کر آگے بڑھے ارادہ یہ تھا کہ پہاڑ کے اوپر سے چڑھ کر پھر حملہ کردیا جائے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے اس موقعہ پر یوں دعا کی :
اَللّٰھُمَّ لاَ یَعْلُوْنَ عَلَیْنَا اَللّٰھُمَّ لاَ قُوَّۃَ لَنَا الاَّ بِا للّٰہِ اَللّٰھُمَّ لَیْسَ یَعْبُدُکَ بِھٰذَہ الْبَلَدَۃِ غَیْرَ ھٰٓؤُلَآء النَّفَرِ
” اے اللہ یہ ہم پر بلند نہ ہوجائیں اے اللہ ہمارے پاس کوئی قوت نہیں سوائے آپ کے اس شہر میں ان چند آدمیوں کے علاوہ آپ کی عبادت کرنے والا کوئی نہیں۔ “
اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں اور چند مسلمان جو تیر انداز تھے پہاڑ پر چڑھ گئے جنہوں نے مشرکین کی گھوڑے سوار جماعت کو تیروں کا نشانہ بنایا جس سے وہ شکست خوردہ ہو کر واپس چلے گئے۔ مسلمانوں کی ہمت ٹوٹی ہوئی تھی پھر بھی انہوں نے ہمت کرلی اور دشمن کو تیروں کی بوچھاڑ سے مار بھگایا۔
Ayahs 3:140–141مسلمانوں کو تسلی
ان آیات میں اول تو مسلمانوں کو تسلی دی اور فرمایا کہ اگر تمہیں زخم پہنچا ہے تو اس سے پہلے تمہارے دشمنوں کو بھی اس جیسا زخم پہنچ چکا ہے (کہ بدر میں ان کے بھی ستر آدمی مارے جا چکے ہیں) پھر یہ بیان فرمایا کہ ہم اہل زمانہ کا حال یکساں نہیں رکھتے یہ ایام باری باری سے بدلتے رہتے ہیں کبھی کسی کا پلہ بھاری ہوجاتا ہے اور کبھی اس کے مقابل دشمن کو غلبہ ہوجاتا ہے، اسی معمول کے مطابق پچھلے سال تمہارے دشمن مغلوب ہوگئے اور اس سال انہوں نے غلبہ پا لیا اور تم کو ہزیمت کا منہ دیکھنا پڑا۔
واقعہ احد کی حکمتیں :
اس کے بعد واقعہ احد کی بعض حکمتیں بیان فرمائیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ وہ جان لے کہ ایمان والے کون ہیں اور وجہ اس کی یہ ہے مصیبت کے وقت امتحان ہوجاتا ہے اور مخلص اور غیر مخلص کی پہچان ہوجاتی ہے، چناچہ منافقین وہ معرکہ پیش آنے سے پہلے ہی واپس ہوگئے اور جو اہل ایمان تھے شکست کھا کر بھی اپنے نبی ﷺ کے ساتھ رہے (اللہ تعالیٰ کو علم تو ہر بات اور ہر واقعہ کا پہلے ہی سے ہے، لیکن ایک علم وہ ہے جو قبل الو قوع ہے اور ایک علم وہ ہے جو بعد الو قوع ہے اس قسم کے مواقع میں وہ علم مراد ہوتا ہے جو بعد الو قوع ہو کیونکہ یہ علم ہونا کہ اب یہ واقعہ ہوچکا یہ وقوع کے بعد ہی ہوسکتا ہے اس کو خوب سمجھ لیں)
اور دوسری حکمت یہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کو تم میں سے شہید بنانا منظور تھا شہادت بہت بڑی نعمت ہے اور اس کی قیمت اور عظمت وہی جانتے ہیں جن کا قرآن و حدیث پر ایمان ہے۔
تیسری حکمت یہ بیان فرمائی کہ اللہ کو یہ منظور تھا کہ ایمان والوں کو پاک و صاف کر دے، کیونکہ مصیبت پر صبر کرنے اور تکلیفیں جھیلنے سے اخلاق اور اعمال کا تصفیہ ہوجاتا ہے۔
چوتھی حکمت یہ بیان فرمائی کہ اللہ کو یہ منظور تھا کہ کافروں کو مٹا دے وہ اس مرتبہ غالب ہوئے تو آئندہ پھر اسی گمان سے چڑھ کر آئیں گے کہ ہمیں غلبہ ہوگا اور مسلمانوں کے مقابلہ میں آکر ہلاک ہوں گے۔
صاحب روح المعانی صفحہ 70: ج 4 میں فرماتے ہیں کہ یہاں کافرین سے وہ لوگ مراد ہیں جو احد کے موقع پر جنگ کرنے کے لیے آئے پھر کفر پر مصر رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کو ختم کردیا اور ہلاک فرما دیا۔ پھر فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کافر جب کبھی غالب ہوجاتے ہیں تو شیطان ان کو ورغلاتا ہے اور ان کے دلوں میں یہ بات ڈالتا ہے کہ برابر کفر پر مصر رہیں پھر اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک فرما دیتا ہے اور ہمیشہ کے لیے وہ عذاب نار میں داخل ہوجاتے ہیں۔
Ayah 3:142کیا جنت میں بغیر جہاد اور صبر کے داخل ہوجاؤ گے ؟
پھر ارشاد فرمایا (اَم حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ ) (الآیۃ) (کیا تم نے یہ خیال کیا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کو ان لوگوں کا علم نہ ہو جنہوں نے جہاد کیا، اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نہ جان لے جو صبر کرنے والے ہیں) مطلب یہ ہے کہ تم جنت کے طلب گار ہو جنت حاصل کرنے کے لیے محنت، مشقت، جہاد اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے جنت میں جانے کی آرزو رکھنے والوں کو ان سب چیزوں کے لیے تیار رہنا چاہیے اور حسب موقع ان چیزوں میں اپنی جانوں کو لگا دینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی کہ وہ تم کو ان تکالیف میں مبتلا کرے پھر وہ تمہاری جہاد والی محنت کو اور صبر کو ان کے وقوع کے بعد جان لے کہ تم نے واقعی جہاد کیا اور صبر سے کام لیا۔
Ayah 3:143شہادت کی آرزو کرنے والوں سے خطاب :
آخر میں فرمایا (وَ لَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ) (اور اس میں شک نہیں کہ تم لوگ موت کے سامنے آنے سے پہلے اس کی آرزو کرتے تھے سو اب تم نے موت کو دیکھ لیا اس حال میں کہ وہ آنکھوں کے سامنے ہے) اس میں ان حضرات صحابہ سے خطاب ہے جو غزوہ بدر میں شریک ہونے سے رہ گئے تھے۔ بدر میں جنگ کی صورت پیش آجائے گی یہ بات ان کے ذہن میں نہ تھی، اس لیے وہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ نہیں گئے تھے جب وہاں معرکہ پیش آیا اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت نازل ہوئی جس میں بعض صحابہ شہید بھی ہوئے تو یہ پیچھے رہ جانے والے شریک نہ ہونے پر نادم ہوئے یہ حضرات جنگ کی آرزو کرنے لگے اور کہنے لگے کہ کاش ہم بھی ان حضرات کے ساتھ مقتول ہوجاتے جو بدر میں مقتول ہوئے اور ہم بھی شہادت کا درجہ پالیتے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے غزوہ احد میں شریک ہونے کا موقعہ دیا اور مسلمانوں کی فتح کے بعد صورت حال پلٹ گئی اور مشرکین بھاگنے کے بعد الٹ کر واپس آکر حملہ آور ہوئے جس سے مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے تو ان لوگوں نے بھی ثابت قدمی کا ثبوت نہ دیا جو شہادت کے پیش نظر غزوہ میں شریک ہوئے تھے۔ (روح المعانی صفحہ 71: ج 4)
Ayah 3:144رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر پر پریشان ہونے والوں کو تنبیہ
جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ حضرات صحابہ ؓ کو ابتداءً غزوہ احد میں فتح حاصل ہوگئی لیکن جب فتح یابی دیکھ کر ان تیر انداز حضرات نے اپنی جگہ چھوڑ دی جنہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک پہاڑی پر مقرر فرما دیا تھا تو مشرکین نے واپس ہو کر حملہ کیا اور ستر مسلمان شہید ہوگئے جن میں آنحضرت سرور عالم ﷺ کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب بھی تھے اور وہ حضرات بھی جو پہاڑی پر استقامت کے ساتھ جمے رہے۔ آنحضرت ﷺ کو بھی اس موقعہ میں تکلیف پہنچی آپ کے دندان مبارک میں ایک پتھر آکر لگا جس سے سامنے کے بعض دندان مبارک شہید ہوگئے اور چہرہ مبارک زخمی ہوگیا۔ اسی موقع پر ایک مشرک نے آپ کو شہید کرنے کا ارادہ کیا حضرت مصعب بن عمیر وہاں موجود تھے جن کے ہاتھ میں جھنڈا تھا انہوں نے آنحضرت ﷺ کا دفاع کیا لیکن خود شہید ہوگئے دشمن نے یہ سمجھا کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ شہید ہوگئے تو اس نے پکار کر کہا کہ میں نے محمد ﷺ کو شہید کردیا اور بعض اصحاب سیر لکھتے ہیں کہ ابلیس نے یہ اعلان کیا۔ یہ آواز سن کر مسلمانوں میں کھلبلی مچ گئی اور ادھر ادھر منتشر ہوگئے اس موقعہ پر بعض منافقین نے یوں کہا کہ محمد تو مقتول ہوگئے ﷺ لہٰذا اب اپنے پہلے دین کو اختیار کرلو۔ منافقین تو پہلے ہی دین اسلام پر نہ تھے ظاہری طور پر اپنے کو مسلمان کہتے تھے اب جب ایسا موقعہ آگیا تو مخلص مسلمانوں کو بھی دین اسلام سے پھرجانے کی دعوت دینے لگے رسول اللہ ﷺ نے پکارنا شروع کیا۔ الیّ عباد اللّٰہ (کہ اے اللہ کے بندو میری طرف آؤ) چناچہ تیس آدمی آپ کے آس پاس جمع ہوگئے اور انہوں نے آپ کی حفاظت کی حتیٰ کہ مشرکین کو دفع کردیا۔ اس موقعہ پر بعض صحابہ نے بہت ہی دلیری سے کام کیا حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے اتنی تیز تیر اندازی کی کہ ان کی کمان کا ایک حصہ مڑ گیا۔ رسول اکرم ﷺ خود اپنے دست مبارک سے ان کو تیر دیتے رہے اور فرماتے رہے کہ اے سعد تیر پھینکو تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اس موقعہ پر حضرت طلحہ نے اپنے ہاتھوں سے آنحضرت ﷺ کو بچایا ان کا ایک ہاتھ تیر لگنے سے بالکل بیکار ہوگیا۔ حضرت قتادہ کی آنکھ حلقے سے نکل کر ان کے رخسار پر گر پڑی۔ آنحضرت ﷺ نے ان کی آنکھ کو دو بارہ حلقے میں لگا دیا وہ پہلے سے بھی زیادہ اچھی ہوگئی۔ جب آنحضرت ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی اور صحابہ جمع ہونے شروع ہوئے تو سب سے پہلے آپ کو حضرت کعب بن مالک نے پہچانا ان کی نظر آپ کی مبارک آنکھوں پر پڑگئی دیکھا کہ آپ کی مبارک آنکھیں خود کے نیچے سے پوری آب و تاب کے ساتھ روشن ہیں۔ انہوں نے بلند آواز سے پکارا کہ خوشخبری سن لو۔ یہ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما ہیں۔ آپ نے خاموش رہنے کو فرمایا (شاہد اس میں یہ مصلحت ہو کہ دشمن ارادہ بدل کر واپس نہ آجائے) حضرت کعب کی آواز سن کر صحابہ کی ایک جماعت آپ کے پاس پہنچ گئی آپ نے ان کو ملامت کی کہ تم لوگوں نے راہ فرار اختیار کی وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ہمارے باپ دادے اور بیٹے آپ پر قربان ہوں ہم نے جو خبر سنی تھی کہ آپ شہید کر دئیے گئے اس سے ہمارے دلوں پر رعب چھا گیا اور ہم بھاگ نکلے اس پر آیت (وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ) (الآیۃ) نازل ہوئی۔
جب حضرت رسول اکرم ﷺ کی شہادت کی خبر اڑا دی گئی تو حضرت انس بن نضر نے صحابہ سے کہا آپ لوگ کیوں بیٹھے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ شہید ہوگئے اب ہم کیا کریں انہوں نے کہا اب رسول اللہ ﷺ کے بعد زندہ رہ کر ہی کیا کرو گے۔ قوموا فموتوا علی مامات علیہ رسول اللہ ﷺ (کھڑے ہوجاؤ اور اسی دین پر مرجاؤ جس دین پر رسول اللہ ﷺ نے جان دے دی) اس کے بعد انہوں نے دشمن کی طرف رخ کیا اور جنگ کرتے کرتے شہید ہوگئے۔
حضرت ثابت بن وحداح نے بھی حضرات صحابہ سے اسی قسم کا خطاب کیا اور فرمایا : اِنْ کَانَ مُحَمَّدٌ قَدْ قُتِلَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لاَ یَمُوْتُ فَقَاتِلُوْا عَنْ دِیْنکُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ مُطَھِّرُ کُمْ وَنَاصِرُ کُمْ (یعنی اگر محمد ﷺ شہید ہوگئے تو اللہ تو ہمیشہ زندہ ہے اسے موت نہیں آئے گی لہٰذا اپنے دین کی طرف سے لڑائی لڑو اللہ تمہیں پاک صاف فرمائے گا اور تمہاری مدد فرمائے گا) کچھ انصاریٰ ان کے کہنے سے جمع ہوگئے۔ اور انہوں نے لڑنا شروع کردیا حتیٰ کہ خالد بن ولید نے نیزہ مار کر ان کو شہید کردیا۔ اس سلسلے کا ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ ایک مہاجر صحابی کا ایک انصاری پر گذر ہوا جو اپنے خون میں لت پت پڑے ہوئے تھے۔ مہاجر صحابی نے ان سے کہا کیا تمہیں پتہ ہے کہ محمد ﷺ شہید ہوگئے اس انصاری نے اسی حالت میں جواب دیا اگر وہ شہید ہوگئے تو انہوں نے رسالت کا کام پورا کردیا (اب ہمارا کام باقی ہے) لہٰذا ان کے دین کی طرف سے قتال کرو۔ حضرت سعد بن ربیع کا واقعہ بھی اسی طرح کا ہے۔ حضرت زید بن ثابت کو رسول اللہ ﷺ نے ان کی تلاش میں بھیجا اور فرمایا کہ ان کو کہیں دیکھ لو تو میرا سلام کہنا۔ حضرت زید بن ثابت ان کو مقتولین میں تلاش کر رہے تھے تو دیکھا کہ ان میں زندگی کے دو چار سانس رہ گئے ہیں اور ستر زخم ان کے جسم میں آ چکے ہیں۔ حضرت زید نے ان کو آنحضرت ﷺ کا پیغام دیا اور ان سے کہا کہ آپ نے دریافت فرمایا کہ تمہارا کیا حال ہے ؟ سعد بن ربیع نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول پر سلام اور تم پر سلام رسول اللہ ﷺ سے کہہ دینا کہ جنت کی خوشبو پا رہا ہوں اور میری قوم انصار سے کہنا کہ اگر رسول اللہ ﷺ تک دشمن پہنچ گئے اور تم میں سے ایک آنکھ بھی دیکھتی رہی (یعنی تم میں سے کوئی بھی زندہ رہ گیا) تو تمہارے لیے اللہ کے نزدیک کوئی عذر نہ ہوگا۔ یہ کہا اور ان کی روح پرواز کرگئی۔
جب آنحضرت ﷺ کی وفات کی خبر اڑی جس سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہوگئے تو اس وقت ابو سفیان نے (جو اس وقت لشکر کا قائد تھا) پہاڑ کے نیچے والے حصے سے آواز دی اَعْلٰی ھُبْل (ھبل مشرکین کا ایک بت تھا) مذکورہ الفاظ میں اس کا نعرہ لگایا۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا ہم اس کا جواب نہ دیں آپ نے فرمایا ہاں جواب دو اس پر حضرت عمر ؓ نے ابو سفیان کے جواب میں یہ نعرہ لگایا کہ اللّٰہُ اَعْلٰی وَ اَجَل (کہ اللہ سب سے بالا اور برتر ہے اور بزرگ تر ہے) ۔ پھر ابو سفیان نے کہا لَنَا الْعُزّٰی وَلآ عُزّٰی لَکُمْ (کہ ہمارے لیے عزی ہے اور تمہارے لیے عزی نہیں) عزی بھی ان لوگوں کا ایک بت تھا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس کا یوں جواب دو اللّٰہُ مَوْلاَنَا وَلاَ مَوْلٰی لَکُمْ اللہ ہمارا مددگار ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں) چناچہ یہ جواب دے دیا گیا۔
پھر ابو سفیان نے پوچھا کہ فلاں فلاں کہاں ہیں، اس کا یہ سوال حضرت رسول اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے بارے میں تھا۔ حضرت عمر نے جواب میں فرمایا یہ رسول اللہ ہیں اور یہ ابوبکر ہیں اور میں بھی موجود ہوں۔ ابو سفیان نے کہا کہ یہ بدر کے دن کا بدلہ ہے اور یہ بھی کہا کہ دن بدلتے رہتے ہیں کبھی کسی کی فتح ہوتی ہے اور کبھی کسی کی، لڑائی برابر سرا بر ہے۔ حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ برابر نہیں ہے۔ ہمارے مقتولین جنت میں ہیں اور تمہارے مقتولین دوزخ میں ہیں۔ ابو سفیان نے کہا کہ اگر تم یہ عقیدہ رکھتے ہو تو ہم تو بالکل ہی برباد ہیں۔
اس موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بارہ افراد رہ گئے تھے (بعد میں دیگر افراد بھی حاضر ہوگئے تھے) ان کے علاوہ جو صحابہ تھے ان میں سے کچھ لوگ مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوگئے اور کچھ پہاڑی پر چڑھ گئے ساتھ حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت حارث بن صمہ اور دیگر چند صحابہ تھے ( رض) آپ ان حضرات کے ساتھ گھاٹی کی طرف روانہ ہوگئے جہاں جنگ سے پہلے قیام تھا۔
مشرک ابی بن خلف کا قتل :
جب آپ گھاٹی میں ٹیک لگا کر بیٹھ گئے تو ابی بن خلف مشرک نے آپ کو دیکھ لیا اور کہا کہ میں محمد ﷺ کو قتل کر دوں گا، یہ بات وہ پہلے سے کہا کرتا تھا جب مکہ مکرمہ میں تھا۔ آپ نے فرمایا میں تجھے قتل کر دوں گا۔ یہ شخص پوری طرح لوہے کے ہتھیاروں سے مسلح تھا۔ رسول اللہ ﷺ کو اس کی ہنسلی نظر آگئی آپ نے اس کو ایک نیزہ مار دیا جس کی وجہ سے وہ گھوڑے سے گرپڑا آپ کا نیزہ لگنے سے اسے بظاہر معمولی سی خراش آگئی تھی لیکن وہ گائے کی طرح آوازیں نکال رہا تھا۔ اس کے ساتھی اٹھا کرلے گئے اور کہنے لگے کہ اتنا کیوں چیختا ہے ذرا سی ہی تو خراش آئی ہے وہ کہنے لگا کہ میں مر کر رہوں گا، محمد ﷺ نے کہا تھا کہ میں ابی کو قتل کروں گا۔ پھر کہنے لگا کہ یہ تکلیف جو مجھے ہو رہی ہے اگر سب اہل حجاز کو ہوجائے تو سب مرجائیں واپس ہوتے ہوئے رابغ میں مرگیا اور جہنم رسید ہوا۔ (صحیح بخاری، تفسیر روح المعانی، تفسیر ابن کثیر)
سیدنا رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک سے پورے غزوات میں یہی ایک شخص مقتول ہوا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب میں وہ شخص مبتلا ہوگا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو یا جس کو کسی نبی نے قتل کیا ہو یا جس نے والدین میں سے کسی کو قتل کیا ہو اور تصویر بنانے والوں کو بھی سب سے زیادہ سخت عذاب ہوگا۔ اور اس عالم کو بھی سب سے زیادہ سخت عذاب ہوگا جس نے اپنے علم سے نفع حاصل نہ کیا ہو۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 387)
آیت بالا میں اللہ جل شانہٗ نے ارشاد فرمایا کہ محمد ﷺ اپنے عہدہ اور مرتبہ کے اعتبار سے رسول ہی تو ہیں تم نے یہ کیسے اپنے پاس سے تجویز کرلیا کہ ان کو موت نہیں آئے گی۔ یہ تو خالق کائنات جل مجدہ کی شان ہے کہ وہ ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ پھر مسلمانوں کو سرزنش فرمائی کہ محمد ﷺ اللہ کی طرف بلانے والے تھے۔ معبود نہیں تھے۔ معبود تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اپنی دعوت کا کام کر کے شرک چھڑا کر اور تم کو توحید پر لگا کر اور اللہ کی عبادت کی تعلیم دے کر اپنی طبعی موت سے اس دنیا میں تشریف لے گئے یا مقتول ہوگئے تو کیا تم اپنے پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ گے کیا دین حق کو چھوڑ کر پھر دین باطل کو اختیار کرلو گے۔ دین تو اللہ کا بھیجا ہوا ہے جس کا دین ہے وہ تو ہمیشہ زندہ ہے۔ ہمیشہ اسی کی عبادت کرتے رہو۔ ان باتوں اور ان وسوسوں کا کیا مقام ہے جو اس وقت تمہارے نفسوں میں ہیں۔
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے دن حضرت ابوبکر کا خطاب :
غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نہ مقتول ہوئے تھے نہ آپ کو موت طبعی طاری ہوئی تھی لیکن جس دن آپ کو واقعی موت آئی تھی اس دن حضرات صحابہ کو بہت زیادہ حیرانی و پریشانی ہوئی۔ حضرت عمر جیسے جری اور سمجھدار شخص بھی کہنے لگے کہ اللہ کی قسم آپ کو موت نہیں آئی آپ تو اپنے رب سے ملاقات کرنے کے لیے تشریف لے گئے ہیں۔ جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چالیس رات کے لیے اپنے رب کی ملاقات کے لیے تشریف لے گئے تھے پھر واپس آگئے اسی طرح آنحضرت سرور عالم ﷺ بھی واپس تشریف لے آئیں گے جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو موت آگئی ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے جائیں گے۔ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت ابوبکر تشریف لائے اور انہوں نے فرمایا کہ اے عمر ٹھہرو خاموش ہوجاؤ۔ اس کے بعد انہوں نے اللہ جل شانہٗ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا کہ اے لوگو ! تم میں سے جو کوئی شخص محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو وہ سمجھ لے کہ ان کو موت آچکی ہے اور جو کوئی شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے زندہ ہے ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اس کو موت نہیں آئے گی۔ اس کے بعد انہوں نے آیت بالا (وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ) (آخر تک) تلاوت فرمائی۔ حضرات صحابہ اور حضرت عمر کے ذہنوں میں اس وقت یہ آیت نہ تھی۔ گویا کہ انہیں اس کا علم ہی نہ تھا۔ آیت شریفہ سن کر سب کو آنحضرت ﷺ کی موت کا یقین ہوگیا۔ حضرت عمر نے بھی فرمایا کہ جب میں نے یہ آیت سن لی تو میں نے بھی جان لیا کہ واقعی آنحضرت ﷺ کو موت آگئی ہے۔ (البدایہ والنہایہ)
آیت شریفہ میں اس سرزنش کے بعد کہ محمد رسول اللہ ﷺ شہید ہوجائیں یا مقتول ہوجائیں تو کیا تم پچھلے پاؤں پلٹ جاؤ گے۔ یوں فرمایا (وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِیْبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْءًا) (کہ جو شخص پچھلے پاؤں پلٹ جائے اور دین حق کو چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ کو کچھ بھی نقصان نہ دے گا۔ ) اس میں یہ ارشاد فرمایا کہ جو کوئی شخص دین حق پر ہے یعنی دین اسلام قبول کیے ہوئے ہے۔ وہ ہرگز یہ نہ سمجھے کہ میرے ایمان و اسلام سے اور میری عبادت سے اللہ تعالیٰ کو کوئی نفع ہے اگر میں اس دین کو چھوڑ دوں اور اللہ کی عبادت نہ کروں تو اللہ کا کوئی نقصان ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس بات سے برتر اور بالا ہے کہ اسے کوئی فائدہ یا نقصان پہنچے۔ البتہ جو کوئی شخص موحد مومن مسلم ہے۔ اللہ کی عبادت کرتا ہے اللہ تعالیٰ شانہ اس کو اس کے ایمان کی اور اعمال صالحہ کی جزا دے گا۔ ایمان اور اعمال صالحہ میں خود مومنین کا اپنا نفع ہے۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ الشاکرین سے الثابتین علی دین الاسلام مراد ہیں۔ اسلام پر ثابت قدمی اسی وقت ہوتی ہے جب اس کی حقانیت کا یقین ہو۔ اور اسلام پر ثابت رہنا شکر ہے اور اس دین کو چھوڑ دینا کفران نعمت ہے (اور بہت بڑا کفران وہ ہے جو کفر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے)
ہر شخص کو اجل مقرر پر موت آئے گی :
Ayah 3:145پھر فرمایا (وَ مَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ کِتٰبًا مُّؤَجَّلًا) (الآیۃ) یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی جان اللہ کے حکم کے بغیر مرجائے۔ یعنی جس کو بھی موت آئے گی اللہ کے حکم سے آئے گی اور اجل مقرر کے مطابق آجائے گی جس کی جو اجل یعنی موت کا وقت مقرر ہے اس سے پہلے موت نہیں آسکتی اور اس وقت سے ٹل بھی نہیں سکتی جو اس کے لیے مقرر ہے۔ صاحب روح المعانی (صفحہ 75: ج 4) فرماتے ہیں کہ اس میں جہاد کی ترغیب ہے اور قتل کے ڈر سے جہاد کو چھوڑ دینے پر ملامت کی گئی ہے۔ پھر فرماتے ہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہو کہ نبی اکرم ﷺ کی موت کی جو خبر سنی اس میں استبعاد کی کوئی بات نہیں۔ ان کو بھی اللہ کے حکم سے موت آئے گی۔ جیسا کہ سب جانوں کو موت آنا ہے۔ اگر ان کو موت ہو ہی گئی جو اللہ کے حکم سے ہے تو ان کے دین کو چھوڑنے کا کیا جواز ہے۔
پھر ارشاد فرمایا (وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَاب الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْھَا) (الآیۃ) کہ جو شخص اپنے عمل سے دنیا کا بدلہ چاہے گا۔ مثلاً جہاد سے مال غنیمت کا طالب ہو تو ہم اس میں سے اسے دے دیں گے۔ (مگر ضروری نہیں کہ دے ہی دیں کمافی سورة بنی اسرائیل) (عَجَّلْنَا لہٗ فِیْھَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ) اور جو شخص آخرت کے ثواب کا ارادہ کرے گا تو ہم اس میں سے دے دیں گے۔ پھر فرمایا (وَ سَنَجْزِی الشّٰکِرِیْنَ ) (اور عنقریب ہم شکر گزاروں کو بدلہ دیں گے) ۔ اس میں ان حضرات پر تعریض ہے جنہوں نے غنیمت کے مالوں کی طرف توجہ کرلی اور نبی اکرم ﷺ کے ارشاد میں جو مصلحت تھی اس پر غور نہ کیا اور ان حضرات کی تعریف ہے جو آنحضرت ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔
دور حاضر کے مقررین اور اصحاب جرائد کو تنبیہ :
اللہ جل شانہٗ کے افعال میں بڑی بڑی حکمتیں ہوتی ہے۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ کی موت کی خبر اڑ جانے سے مسلمانوں کے پریشان اور سراسیمہ ہونے میں پھر اللہ تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے عتاب نازل ہونے میں (کہ اگر محمد ﷺ مرجائیں یا مقتول ہوجائیں کیا تم اللہ کا دین چھوڑ دو گے اور واپس دین باطل کو اختیار کرلو گے) ہمیشہ کے لیے سبق دے دیا گیا کہ دین اللہ جل شانہٗ کا ہے اسی کی عبادت کرنا وہ ہمیشہ زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اور اسی آیت کو سامنے رکھ کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے حضور اقدس ﷺ کی وفات کے دن حضرت عمر ؓ اور تمام صحابہ ؓ کو خاموش کیا اور اسی سے تسلی دی اور آئندہ رہتی دنیا کے تمام مسلمانوں کو سبق دے دیا کہ کسی بھی شخصیت کے وفات پا جانے پر اگر طبعی رنج ہو تو ہو لیکن عقلی طور پر اس بات کے سمجھنے اور جاننے اور ماننے کی ضرورت ہے کہ جس خادم دین مفتی، مرشد، محدث کی وفات ہونی ہے اس کی موت ہونا تو ضروری ہی تھا رنج کر کے اور آنسو بہا کر بیٹھ کر رہنا کوئی سمجھدرای کی بات نہیں جس محنت اور دعوت اور اعمال صالحہ پر انہوں نے زندگی گزاری اسی پر زندہ رہیں اور باقی زندگی گزاریں نہ عقلی طور پر رنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے نہ جاہلانہ دہائی کا موقعہ ہے کہ ہائے اب کیا ہوگا۔ ہمارے حضرت کی وفات ہوگئی اور نہ اعمال صالحہ میں اور دعوت حق کو کچا پڑنے کی ضرورت ہے عالم برحق اور مرشد برحق نے جو کچھ کیا اسی کو کرتے رہیں جو گیا وہ تو دوبارہ دنیا میں آنے والا نہیں اور یہ بات کہ آگے کیا ہوگا اس کے بارے میں سوچ لیں کہ جب یہ نہیں تھے تو دین کس طرح قائم تھا آخر ان کے بھی تو مشائخ تھے جن کی موت کا رونا لے کر بیٹھے ہیں۔ جب دین اللہ کا ہے اور اللہ حیّ اور باقی ہے تو اس کے دین پر چلتے رہو آنے والے آتے رہیں گے اور جانے والے جاتے رہیں گے۔
اس سلسلے میں اصحاب جرائد، مدیران صحف و مجلات تعزیتی جلسوں کے مقررین بڑی بیباکی سے ایسے کلمے کہہ گزرتے ہیں جن سے کفر تک عائد ہوجاتا ہے کوئی کہتا ہے کہ قدرت کے سفاک ہاتھوں نے (العیاذ باللہ) اس شخص کو ہم سے ایسے موقعہ پر چھین لیا جبکہ اس کی ہم کو بہت زیادہ ضرورت تھی۔ کوئی لکھتا ہے کہ اب اس جیسا کوئی شخص کہاں پیدا ہوگا۔ کوئی کہتا ہے کہ حضرت ہم کو بےسہارا چھوڑ گئے۔ یتیم کر گئے، (گویا کہ وہ اجل مقرر سے پہلے اور اذن الٰہی کے بغیر خود سے چلے گئے) ۔ (العیاذ باللہ)
آیت بالا میں اس قسم کے ماتمی کلمات کہنے والوں کا جواب ہے۔ اللہ کی قضا اور قدر پر راضی رہو اور اعمال صالحہ ادا کرتے رہو۔ جب تک اللہ چاہے گا اس کا دین دنیا میں رہے گا کسی شیخ اور محدث اور مفتی اور پیر و مرشد کے مرنے جینے پر دین کی بقاء موقوف نہیں، واقعہ احد سے حضرت حسین ؓ کا سالانہ ماتم کرنے والوں کی بھی تردید ہوگئی۔ آنحضرت سرور عالم ﷺ غزوہ احد کے بعد سات سال تک اس دنیا میں تشریف فرما رہے آپ نے اپنے چچا حضرت حمزہ ؓ کا کوئی ماتم نہیں کیا۔ اور ماتم کرنا ٹسوے بہانا یوں بھی زندہ قوم کو زیب نہیں دیتا۔
Ayahs 3:146–148انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے ساتھیوں کے مجاہدات اور ان کی ریاضتیں دنیا میں عہد قدیم سے ایمان اور کفر کی جنگ رہی ہے۔ سیدنا حضرت ابو البشر آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں جب سے اہل کفر کا وجود ہوا اسی وقت سے اہل ایمان اور اہل کفر کا آپس میں مقابلہ اور مقاتلہ ہوتا رہا ہے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے جو ساتھی تھے ان کو اپنے اپنے زمانہ میں کافروں سے جنگ کرنی پڑی۔ دشمن کے مقابلہ میں ان حضرات نے جانوں کی بازی لگائی۔ ان آیات میں ان حضرات کی تعریف فرمائی کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں جنگ کرنے میں نہ ہمت ہاری نہ سستی دکھائی نہ دشمن کے سامنے عاجزی ظاہر کی۔ صبر و ثبات اور استقامت کے ساتھ جنگ کرتے رہے، عمل تو ان کا یہ تھا اور قول یہ تھا کہ اللہ جل شانہ سے گناہوں کی مغفرت مانگتے رہے اور اپنے کاموں میں جو کچھ اسراف ہوا یعنی حدود سے آگے بڑھ گئے اس کی بھی مغفرت طلب کی۔ اور کافروں کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہے اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں بھی بدلہ دیا یعنی فتح نصیب فرمائی اور آخرت میں بھی بدلہ دیا جو اچھا بدلہ ہے یعنی اللہ کی رضا اور جنت۔
امت محمدیہ کے لیے ان تمام امور میں عبرت اور نصیحت ہے کہ تم سے پہلی امتیں اپنے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ دشمنوں کے ساتھ جم کر لڑیں وہ مصائب اور شدائد سے نہ گھبرائے، تمہارے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اللہ والوں کو ایسی مشکلات پیش آتی ہی ہیں۔ دشمن اپنی کوششیں جاری رکھتے ہیں جنگ کرنی پڑتی ہے اپنے آدمی مقتول بھی ہوتے ہیں۔ ہر صورت حال پر قابو پانے کو اپنا وطیرہ بناؤ اور جم کر لڑو سستی اور کمزوری نہ دکھاؤ۔ دشمن کے سامنے عاجز نہ ہوجاؤ۔
امم سابقہ کی جو دعائیں نقل فرمائی ہیں کہ ” اے اللہ ہمارے گناہوں کی مغفرت فرما اور ہمارے حد سے آگے بڑھ جانے کو معاف فرما اور کافروں کے مقابلہ میں ہم کو ثابت قدمی عطا فرما۔ “ اس میں اس بات کی بھی تعلیم ہے کہ نیکیاں کرتے ہوئے بھی استغفار کی ضرورت ہے کیونکہ مالک الملک جلالہ کی شان اقدس کے لائق بندوں سے عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ ادائے حق میں کوتاہی ہوتی رہتی ہے۔ لہٰذا جو حضرات جہاد میں یا کسی بھی نیک عمل میں مشغول ہوں، استغفار بھی ساتھ ساتھ کرتے رہیں، استغفار سے گناہ بھی معاف ہوں گے اور اعمال میں بھی جو کوتاہیاں ہوں گی ان کی بھی تلافی ہوگی۔ اور بعض مرتبہ کسی نیک کام میں لگنے سے جو دوسرے نیک کام چھوٹ جاتے ہیں اور اس طرح حدود سے آگے بڑھ جانے کی صورت بن جاتی ہے جس کو اسراف سے تعبیر فرمایا استغفار سے اس کی بھی تلافی ہوگی۔ کافروں کے مقابلہ میں ثابت قدمی کی دعا کرنے میں اس طرح بھی اشارہ نکلتا ہے کہ اپنے آلات اور اسباب اور تعداد پر کبھی گھمنڈ نہ کریں۔ اللہ ہی سے مدد مانگیں اور اسی کی طرف متوجہ رہیں۔
Ayahs 3:149–150کافروں کی اطاعت نہ کرو
اوپر تین آیتوں کا ترجمہ مذکور ہے۔ پہلی آیت میں کافروں کی بات ماننے پر زجر و توبیخ ہے اور اس کا نتیجہ بیان فرمایا ہے کہ اگر تم کافروں کی بات مانو گے تو وہ تم کو واپس الٹے پاؤں لوٹا دیں گے یعنی پھر سے دین شرک میں داخل کرلیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو تم بری طرح سے نا کام ہوجاؤ گے دنیا کی خیر اور آخرت کی سعادت دونوں سے محرومی ہوگی۔ پھر دوسری آیت میں فرمایا (بَلِ اللّٰہُ مَوْلٰکُمْ وَھُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ ) کہ اللہ تمہارا مولیٰ ہے اسی کی فرمانبر داری کرو اور اسی سے مدد مانگو اور وہ سب مدد کرنے والوں سے بہتر ہے۔ صاحب روح المعانی صفحہ 87: ج 4 میں لکھتے ہیں کہ کفروا سے منافقین مراد ہیں۔ جب شکست ہوگئی تو انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ اپنے بھائیوں کی طرف واپس ہوجاؤ اور ان کے دین میں داخل ہوجاؤ یہ حضرت علی سے منقول ہے۔ اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ ابو سفیان اور اس کے ساتھی یعنی مشرکین مکہ جو غزوہ احد میں جنگ کرنے کے لیے آئے تھے وہ مراد ہیں۔ اور مطلب یہ ہے کہ ان کے سامنے عاجزی ظاہر نہ کرو اور ان سے امان طلب نہ کرو (کیونکہ اس موقعہ پر بعض لوگوں نے یہ رائے بھی دی تھی کہ اب ہتھیار ڈال دیں اور دشمنوں سے امان طلب کریں) ۔ اور یہود و نصاریٰ بھی مراد ہوسکتے ہیں اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ان کے مشوروں میں ان کو مخلص نہ جانو ان کی باتیں نہ مانو۔ ابن جریج نے اسی کو اختیار کیا ہے، قرآن مجید کا طرز بیان عام ہے جس میں ہمیشہ کے لیے تمام مسلمانوں کو کافروں کی باتیں اور ان کے مشورے ماننے کی ممانعت فرما دی ہے، مومن کا کام ہے کہ اللہ ہی سے مانگے اسی کو اپنا مددگار سمجھے کافروں کے سامنے نہ جھکے اور نہ ان کو خیر خواہ سمجھے۔