Ayahs 3:83–84دین اسلام ہی اللہ کے نزدیک معتبر ہے
جو دین اللہ نے اپنی مخلوق کے لیے پسند فرمایا ہے وہ دین اسلام ہے جیسا کہ سورة آل عمران کے دوسرے رکوع میں فرمایا (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ) (بےشک دین جو معتبر ہے اللہ کے نزدیک وہ اسلام ہی ہے) اور سورة مائدہ میں فرمایا (اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا) (آج میں نے تمہارے لیے دین مکمل کردیا اور تم پر اپنا انعام مکمل کردیا اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند کرلیا) اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کا نام اسلام رکھا ہے جس کا معنی فرمانبر دار ہونے کا ہے۔ ساری مخلوق اللہ کی فرمانبر دار ہے اور ہمیشہ سے تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین اسلام ہی تھا یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبر داری کی دعوت دی جس کا طریقہ اللہ کی کتابوں اور رسولوں کے ذریعہ معلوم ہوتا رہا ہے۔ حضرت ابراہیم اور اسمعٰیل (علیہ السلام) جب کعبہ شریف بنا رہے تھے تو اس وقت انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ہم کو تو اپنا فرمانبر دار بنا اور ہماری ذریت میں سے ایک امت مسلمہ پیدا فرمانا۔ ان کی دعا اللہ نے قبول فرمائی اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا اور امت مسلمہ پیدا فرمایا جو امت محمدیہ ہے۔
دین اسلام میں سراپا خالق اور مالک کی فرمانبر داری ہے۔ بندہ کا کام ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے ظاہر و باطن سے جسم و جان سے جھک جائے اور ہر حکم کو مانے سارے فرشتوں کا دین اور ان کے علاوہ ساری مخلوق اور جو کچھ بھی آسمان اور زمین میں ہے سب کا دین اسلام ہے۔ مخلوق میں انسان اور جنات بھی ہیں اللہ پاک کی طرف سے ان کے لیے بھی دین اسلام ہی کو پسند فرمایا ہے۔ لیکن چونکہ ان دونوں قوموں کا ابتلاء بھی مقصود ہے اس لیے ان کو مجبور نہیں کیا گیا کہ اسلام ہی کو اختیار کریں اسی وجہ سے ان میں بہت سے کافر اور بہت سے مومن ہیں (خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) البتہ تکوینی طور پر یہ دونوں بھی وہی کرتے ہیں جو اللہ کی قضاو قدر کا فیصلہ ہوتا ہے مجبوراً قضاو قدر کے فیصلے کے مطابق ہی جیتے اور مرتے ہیں۔ ان دونوں قوموں کو بتادیا ہے کہ ایمان کی جزاء یہ ہے اور کفر کی سزا یہ ہے۔ اب اپنے اختیار سے دوزخ یا جہنم کی تیاری کرتے ہیں۔
(وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ اِنَّآ اَعْتَدْنَا للظّٰلِمِیْنَ نَارًا)
تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) مسلم تھے۔ اللہ کے فرمانبر دار تھے اپنی امتوں کو بھی انہوں نے اسی کی دعوت دی اسی لیے فرمایا کہ اے محمد ﷺ آپ اعلان فرما دیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس کتاب پر بھی جو ہم پر نازل کی گئی اور ان چیزوں پر جو ابراہیم، اسمعٰیل، اسحاق یعقوب اور یعقوب کی اولاد پر نازل کی گئیں اور اس پر جو موسیٰ اور عیسیٰ اور تمام نبیوں ( علیہ السلام) کو ان کے رب کی طرف سے عطا کیا گیا ان سب پر بھی ایمان لائے۔ ان حضرات میں سے ہم کسی کے درمیان بھی تفریق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے فرمانبر دار ہیں۔
کیونکہ تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کا دین ایک ہی ہے اس لیے ہم سبھی پر ایمان لاتے ہیں جو احکام ان پر نازل ہوئے ہم ان پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ وہ بھی اللہ کی طرف سے ہیں۔ یہ سب حضرات اللہ کے فرمانبر دار ہیں (لفظ النبیون) تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کو شامل ہے پھر بھی بعض انبیاء (علیہ السلام) کا خصوصی تذکرہ فرما دیا کیونکہ یہود و نصاریٰ ان حضرات کو جانتے اور مانتے تھے۔
طوعاً و کرھاً کی تفسیر :
طوعاً وکرھاً کی تفسیر بتاتے ہوئے مفسرابن کثیر لکھتے ہیں صفحہ 379: ج 1۔
اما من فی السموٰت فالملائکۃ و اما من فی الارض فمن ولد علی الاسلام و اما کرھا فمن اتی بہ من سبایا الامم فی السلاسل والا غلال یقادون الی الجنۃ و ھم کارھون۔” یعنی آسمانوں میں فرشتے اور زمین میں وہ لوگ ہیں جو اسلام پر پیدا ہوئے یہ بخوشی اسلام پر چلتے ہیں اور ناخوشی سے چلنے والے وہ لوگ ہیں جن کو زنجیروں میں اور بیڑیوں میں قید کرکے لایا گیا۔ (اس وقت وہ کافر تھے) بعد میں انہوں نے اسلام قبول کرلیا یہ قید کرکے لانا ان کے جنت میں جانے کا سبب بن گیا جس وقت کیے گئے تھے ان کو ناگوار تھا)
صاحب روح المعانی نے کرھاً کا ایک معنی بتاتے ہوئے لکھا ہے ما کان حاصلا بالسیف و معاینۃ ما یلجئ الی الاسلام یعنی اہل اسلام کی تلواروں کی وجہ سے اور ان چیزوں کی وجہ سے اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوئے جنہوں نے اضطراری طور پر اسلام کے لیے آمادہ کردیا۔ پھر اس کے علاوہ ایک اور قول بھی لکھا ہے وہ ان کو خود ہی پسند نہیں آیا۔ پھر صوفیہ سے ایک قول نقل کیا کہ طوعًا کا معنی یہ ہے کسی ظلمت نفسانیہ کے بغیر اللہ کے احکام کو مان لیا اور انانیت کا کوئی پردہ حائل نہیں ہوا۔ اور کرھاً کا معنی یہ ہے کہ وساوس پیش آگئے اور پردے حائل ہوگئے۔ پھر لکھتے ہیں کہ طوعاً کا مصداق حضرات ملائکہ اور بعض ان حضرات کا اسلام ہے جو اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں زمین میں رہتے ہیں اور دوسرا اسلام ان لوگوں کا ہے جن کو شکوک پیش آتے رہتے ہیں، پھر لکھتے ہیں کہ کفار قسم ثانی سے ہیں کیونکہ انہوں نے خالق کو تو مانا لیکن ظلمات نفسانیہ کی وجہ سے خالق جل مجدہ کے ساتھ انہوں نے شرک شروع کردیا۔ ان کا ایمان شرک میں ملا ہوا ہے جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آسمان اور زمین کس نے پید کیا تو کہتے ہیں اللہ نے پیدا کیا۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ طوعاً و کرھاً کی تفسیر مجاہد (تابعی) کے کلام سے بھی یہی معلوم ہوتی ہے۔ اس تفسیر سے اطمینان نہیں ہوتا کیونکہ دنیا میں وہ لوگ بھی ہیں جو بالکل ہی خدا تعالیٰ کو نہیں مانتے وہ خالق اور صانع کے منکر ہیں۔ اور من کا عموم سامنے رکھا جائے تو ابن کثیر کی بات بھی عام اور تام نہیں ہوتی۔ اس لیے احقر نے وہ تفسیر کی ہے جو اوپر مذکور ہے جس میں کرھاً کا معنی اللہ کی قضا اور قدر کے تابع ہونا اور تکوینی طور پر اس کے فیصلوں کے مطابق چلنا اختیار کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب تکوینی طور پر سب اسی کی قضا اور قدر کے مطابق مرتے اور جیتے ہو تو جو دین تشریعی طور پر اس نے تمہارے لیے بھیجا ہے اسے بھی اختیار کرو۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
Ayah 3:85دین اسلام کے سوا کوئی دین عند اللہ مقبول نہیں :
آخر میں فرمایا : (وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) (یعنی جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اور دین کو طلب کرے گا تو ہرگز اس سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں تباہ کاروں میں سے ہوگا) دین اسلام جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعہ بھیجا اور اسی کو آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ لے کر آئے جس کا سورة مائدہ میں اعلان فرمایا : (اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا) یہ دین اسلام ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول و معتبر ہے اس کے علاوہ جو بھی دین کوئی شخص اختیار کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہ ہوگا خواہ کتنی ہی عبادت کرے۔ اس کی مزید تشریح اور تو ضیح کے لیے سورة بقرہ کی آیت اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَادُوْا (آخر تک) کی تفسیر مطالعہ کی جائے۔ نیز آیت شریفہ (اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَامُ ) کا مطالعہ کیا جائے جو سورة آل عمران کے رکوع نمبر 2 میں ہے۔
Ayahs 3:86–90مرتدوں اور کافروں کی سزا
تفسیر درمنثور صفحہ 19: ج 2 میں نقل کیا ہے کہ حارث بن سوید نے اسلام قبول کیا پھر کافر ہو کر اپنی قوم کی طرف چلا گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (کَیْفَ یَھْدِی اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا۔۔ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ) تک نازل فرمائی۔ اس کی قوم میں سے ایک شخص اس کے پاس گیا اور اسے پوری آیت سنائی۔ آیت سن کر حارث بن سوید نے کہا میں جہاں تک جانتا ہوں تو سچا ہے اور رسول اللہ ﷺ تجھ سے بڑھ کر سچے ہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ تم دونوں سے بڑھ کر سچا ہے۔ اس کے بعد اس نے (دو بارہ) اسلام قبول کرلیا اور اچھی طرح اسلام کے کاموں میں لگا رہا۔ چونکہ آیت میں (اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا) بھی ہے اس لیے حارث بن سوید نے اس استثناء پر نظر کی اور اسلام قبول کرلیا اور سچی توبہ کرلی۔ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص اسلام قبول کر کے اسلام سے پھر جائے پھر سچی توبہ کر کے اسلام میں داخل ہوجائے تو اس کی توبہ قبول ہے اور اس کا اسلام بھی قبول ہے۔
دوسری آیت میں فرمایا : (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا) (الآیۃ) اس کے بارے میں درمنثور میں حضرت حسن سے نقل کیا ہے کہ اس سے یہود اور نصاریٰ مراد ہیں جو موت کے وقت توبہ کرنے لگیں۔ موت کے وقت توبہ قبول نہیں ہے۔ جیسا کہ آیت (حَتّٰٓی اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْءٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ ھُمْ کُفَّارٌ) ( سورة نساء ع 3) کے ذیل میں بیان ہوگا۔
حضرت ابو العالیہ سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا اور پھر کفر میں آگے بڑھتے چلے گئے پھر اس کے بعد کفر پر باقی رہتے ہوئے گناہوں سے توبہ کرنے لگے۔ لہٰذا ان کی توبہ قبول نہ ہوگی کیونکہ کفر پر ہوتے ہوئے گناہوں کی توبہ مقبول نہیں اور حضرت مجاہد نے (ثُمَّ ازْدَادُوْا کُفْراً ) کی تفسیر میں فرمایا کہ وہ کفر پر مرگئے۔
Ayah 3:91آخر میں فرمایا : (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ ھُمْ کُفَّارٌ) (الآیۃ) جن لوگوں نے کفراختیار کیا پھر حالت کفر ہی میں مرگئے تو قیامت کے دن ان سے ان کی جان کا بدلہ قبول نہ کیا جائے گا تاکہ مال دے کر چھوٹ جائیں۔ وہاں کسی کے پاس کچھ بھی نہ ہوگا، لیکن اگر بالفرض ہو بھی اور وہ دینا چاہے اور اتنا سونا دے جس سے زمین بھر جائے تو بھی قبول نہ ہوگا۔ دائمی عذاب ہی بھگتنا ہوگا اور وہاں کوئی مددگار نہ ہوگا۔ سورة مائدہ میں فرمایا (اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَہٗ مَعَہٗ لِیَفْتَدُوْا بِہٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْھُمْ وَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا ھُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْھَا وَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ)
(بلاشبہ جو لوگ کافر ہیں ان کے پاس تمام دنیا بھر کی چیزوں کے ساتھ اتنی چیزیں اور بھی ہوں تاکہ وہ ان کو دے کر قیامت کے دن کے عذاب سے چھوٹ جائیں تو وہ چیزیں ان سے قبول نہ کی جائیں گی اور ان کو درد ناک عذاب ہوگا وہ چاہیں گے کہ دوزخ کے عذاب سے نکل آئیں حالانکہ وہ اس سے کبھی نہ نکلیں گے اور ان کو دائمی عذاب ہوگا) ۔
(اَنَّ عَلَیْھِمْ لَعْنَۃَ اللّٰہِ وَ الْمَلآءِکَۃِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ) کی تشریح کے لیے سورة بقرہ رکوع نمبر 19 کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 3:92فی سبیل اللہ مجبوب مال خرچ کیا جائے
اس آیت میں اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرنے کی ترغیب دی ہے اور فرمایا ہے کہ خیر (کامل) تمہیں نہیں مل سکتی جب تک کہ اپنی محبوب چیز اللہ کی رضا کے لیے خرچ نہ کرو، حضرات صحابہ کرام ایک ایک حکم پر عاشق تھے، جب آیت بالا نازل ہوئی تو انہوں نے اپنی محبوبات پر نظر ڈالی کہ ہماری محبوب چیزیں کیا کیا ہیں اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ کردیا۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ انصار مدینہ میں باغوں کی ملکیت کے اعتبار سے سب سے زیادہ مالدار حضرت ابو طلحہ ؓ تھے، مسجد نبوی کے مقابل ان کا باغ تھا جس میں ایک کنواں بیر حاء کے نام سے موسوم تھا، رسول کریم ﷺ کبھی کبھی اس باغ میں تشریف لے جاتے اور بیر حاء کا پانی پیتے تھے، حضرت ابو طلحہ ؓ کا یہ باغ ان کو اپنی جائیداد میں سب سے زیادہ محبوب تھا۔ اس آیت کے نازل ہونے پر حضرت رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میرے تمام اموال میں بیرحاء مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے میں اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتا ہوں اور اس کے ثواب کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کے یہاں اس کو ذخیرہ بنانا چاہتا ہوں۔ آپ جس کام میں پسند فرمائیں اس کو اپنی صوابدید سے جیسے اللہ آپ کے دل میں ڈالے خرچ فرما دیں۔ آپ نے فرمایا کہ وہ عظیم منافع کا باغ ہے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس کو اپنے اقرباء میں تقسیم کر دو ، حضرت ابو طلحہ ؓ نے آنحضرت ﷺ کے اس مشورہ کو قبول فرمایا اور اپنے اقرباء اور چچا زاد بھائیوں میں تقسیم فرما دیا۔ (صحیح بخاری صفحہ 197: ج 1)
حضرات صحابہ ؓ کے بعض واقعات :
تفسیر درمنثور میں اس طرح کے اور بھی واقعات لکھے ہیں۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کو اپنے مال میں ایک رومی لونڈی جس کا نام مرجانہ تھا سب سے زیادہ محبوب تھی۔ آیت شریفہ سن کر انہوں نے اسے آزاد کردیا۔ اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کو حضرت عمر ؓ نے لکھا کہ جلولاء کے قیدیوں میں سے ایک باندی میرے لیے خرید لو جب وہ باندی آگئی تو حضرت عمر ؓ نے آیت بالا پڑھی اور اسے آزاد فرمایا۔ حضرت محمد بن المکندر نے بیان فرمایا کہ جب آیت بالا نازل ہوئی تو حضرت زید بن حارثہ ؓ نے اپنا گھوڑا صدقہ میں دے دیا۔ کیونکہ وہ ان کو سب سے زیادہ محبوب تھا۔ (صفحہ 20: ج)
ہر شخص کی محبوبات الگ الگ ہیں اور جس شخص کے پاس پیسہ کم ہو وہ اس میں سے اللہ کے لیے خرچ کر دے تو وہ بھی اس آیت کے مفہوم میں شامل ہے۔ کیونکہ کم مال ہونے کی وجہ سے پیسہ زیادہ محبوب ہوتا ہے۔ آیت کے عموم سے معلوم ہوا کہ زکوٰۃ ہو یا صدقات واجبہ یا نافلہ ان میں سب سے اچھا مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے اور اپنی محبوب چیزیں مستحقین میں خرچ کی جائیں۔ اگر کوئی شخص ایسی چیز کو اللہ کی راہ میں دیدے جو اس کی ملکیت تو ہے لیکن ضرورت سے زائد ہے جیسے پرانے اتارے ہوئے کپڑے تو اس کا بھی اجر ہے۔ البتہ جس چیز سے محبت ہو اس کے خرچ کرنے میں زیادہ ثواب ہے اسی لیے بعض مفسرین نے الْبِرّ کی تفسیر الخیر الکامل سے کی ہے۔ یعنی کامل ثواب اسی میں ہے جبکہ محبوب چیز خرچ کی جائے۔ آیت کا مطلب یہ نہیں کہ جو چیزمحبوب نہیں اسے خرچ نہ کرو مطلب یہ ہے کہ محبوب چیز خرچ کرنے کی طرف رغبت کرو۔ آیت کے آخر میں جو فرمایا (وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ) اس کے عموم سے اس طرف اشارہ ملتا ہے۔ حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یوں کہا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ مَا اُوَارِیَ بِہٖ عَوْرَتِیْ وَ اَتَجَمَّلُ بِہٖ فِیْ حَیَاتِیْ (سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے کپڑا پہنایا جس کے ذریعہ اپنی شرم کی جگہ کو چھپاتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعہ جمال حاصل کرتا ہوں) پھر اس کے بعد اس کپڑے کو صدقہ کردیا جسے پرانا کیا تھا تو اللہ کی حفاظت میں اور اللہ کی طرف سے پردہ پوشی میں ہوگا۔ زندگی اور موت کے بعد۔ (رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ کمافی المشکوٰۃ صفحہ 377)
Ayahs 3:93–94ملت ابراہیمیہ میں کیا چیزیں حلال تھیں
معالم التنزیل صفحہ 326: ج 2 میں ہے کہ یہودیوں نے رسول اللہ ﷺ پر یہ اعتراض کیا کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ ملت ابراہیم پر ہیں اور ابراہیم اونٹوں کا گوشت نہیں کھاتے تھے اور اونٹنیوں کا دودھ نہیں پیتے تھے معلوم ہوا کہ آپ ان کی ملت پر نہیں ہیں، اس کے جواب میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ چیزیں ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے حلال تھیں وہ کہنے لگے ہر وہ چیز جو ہمارے نزدیک حرام ہے وہ نوح پر اور ابراہیم ( علیہ السلام) پر حرام تھیں اور اس کی حرمت اسی طرح ہم تک پہنچی ہے اللہ جل شانہٗ نے ان کی تردید کرتے ہوئے آیت بالا نازل فرمائی اور فرمایا کہ سب کھانے بنی اسرائیل کے لیے حلال تھے سوائے اس کے جو اسرائیل (یعنی حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے تورات نازل ہونے سے پہلے اپنے اوپر حرام کرلیے تھے۔
قال مجاھد : حرم لحوم الانعام، ورویٰ عکرمۃ عن ابن عباس انہ حرم زائدتی الکبد و الکلیتین و الشحم الا ما کان علی الظھر و عن عطاء انہ حرم لحوم الابل و البانھا و سبب تحریم ذلک کما فی الحدیث الذی أخرجہ الحاکم وغیرہ بسند صحیح عن ابن عباس انہ (علیہ الصلوۃ والسلام) کان بہ عرق النساء فنذران شفی لم یا کل احب الطعام الیہ و کان ذلک احب الیہ و فی روایۃ سعید بن جبیر عنہ انہ کان بہ ذلک الداء فاکل من لحوم الابل فبات بلیلۃ یزقو فحلف ان لا یا کلہ ابداً ۔ (روح المعانی صفحہ 2: ج 4)
آیت کی تفسیر کرتے ہوئے علماء نے لکھا ہے کہ ان حلال کھانوں میں اونٹ کا گوشت اور اونٹنی کا دودھ بھی تھا۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حرام نہیں کیے گئے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) پر بھی حرام نہیں تھے اور ان کی اولاد پر بھی حرام نہیں تھے۔ البتہ یعقوب (علیہ السلام) نے کچھ کھانے اپنے اوپر حرام کرلیے تھے یعنی اونٹ کا گوشت اور اونٹنی کا دودھ (ان کی حرمت روایتی طور پر ان کی اولاد میں چلتی رہی) اور یہ تورات شریف نازل ہونے سے پہلے تھا۔ تورات شریف میں اونٹ کے گوشت اور اونٹنی کے دودھ کی حرمت نہیں ہے۔ یعقوب (علیہ السلام) نے بھی بالکل ابتدائی عمر میں ان کو اپنے اوپر حرام نہیں کیا تھا بلکہ کچھ اسباب ایسے عارض ہوئے کہ انہوں نے ان دو چیزوں کو حرام کرلیا تھا۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بعض چیزیں اپنے اوپر کیوں حرام کی تھیں اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان کو عرق النساء کی تکلیف ہوگئی تھی۔ انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر شفا ہوگئی تو سب سے زیادہ جو محبوب کھانا ہے وہ نہیں کھاؤں گا ان کو اونٹ کا گوشت اور اونٹنی کا دودھ سب سے زیادہ محبوب تھا لہٰذا شفا ہوجانے پر انہوں نے ان کو چھوڑ دیا۔ (روح المعانی صفحہ 2: ج 4)
اونٹ کے گوشت اور اونٹنیوں کے دودھ کو یہودی اپنے اوپر حرام سمجھتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ان کی حرمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے چلی آرہی ہے اسی بات کے پیش نظر انہوں نے آنحضرت ﷺ پر اعتراض کردیا کہ آپ ملت ابراہیمی پر ہوتے تو آپ بھی ان کو نہ کھاتے پیتے۔ آیت میں یہودیوں کے دعویٰ کی تردید فرمائی۔
یہود سے تورات لا کر پڑھنے کا مطالبہ اور ان کا فرار
اور مزید فرمایا (قُلْ فَاْتُوْا بالتَّوْرٰیۃِ فَاتْلُوْھَآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ تم تورات لے آؤ اور اس کو پڑھو اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو کہ تورات میں یہ چیزیں حرام ہیں) ابراہیم (علیہ السلام) پر تو یہ چیزیں کیا حرام ہوتیں خود تورات میں ان کی حرمت نہیں ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سینکڑوں سال کے بعد حضرت موسیٰ پر نازل ہوئی جسے تم پڑھتے پڑھاتے ہو۔ صاحب روح المعانی (صفحہ 3: ج 4) لکھتے ہیں کہ وہ لوگ تورات لا کر سنانے کی ہمت نہ کرسکے اور مبہوت رہ گئے۔ نیز صاحب روح المعانی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کی بھی دلیل ہے کیونکہ آپ نے ان کو چیلنج کردیا کہ تورات شریف لے آؤ حالانکہ آپ نے نہ تورات پڑھی تھی اور نہ کوئی دوسری آسمانی کتاب پڑھی تھی۔ ظاہر ہے کہ آپ نے یہود کو جو چیلنج دیا وہ سب کچھ وحی کے ذریعہ تھا۔ پھر فرمایا (فَمَنِ افْتَرٰی عَلی اللّٰہِ الْکَذِبَ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ) (کہ اس کے بعد جو شخص اللہ پر جھوٹ باندھے سو یہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں) ظہور حق کے بعد نہ حق قبول کرتے ہیں اور نہ اپنے اتباع کو قبول کرنے دیتے ہیں یہ اپنی جانوں پر بھی ظلم ہے اور اپنے ماننے والوں پر بھی۔
Ayah 3:95ملت ابراہیمیہ کے اتباع کا حکم :
آخر میں فرمایا (قُلْ صَدَقَ اللّٰہُ فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ اللہ نے سچ فرمایا کہ کھانے کی سب چیزیں بنی اسرائیل پر حلال تھیں (سوائے اس کے جن کو اسرائیل نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا) یہ جو کچھ اسرائیل نے حرام کرلیا تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت میں حرام نہ تھا۔ لہٰذا تم ملت ابراہیمیہ کا اتباع کرو جو دین اسلام ہے جسے لے کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے جو تمام باطل دینوں سے ہٹ کر اور بچ کر دین حق پر رہے جو دین توحید تھا۔ اور تمام عبادات میں اور تحلیل و تحریم کے بارے میں احکام الٰہی پر عمل کرتے رہے۔ اور مشرکین میں سے بھی نہ تھے (اے یہودیو ! تم ان سے اپنا تعلق جوڑتے ہو حالانکہ تم نے شرک اختیار کرلیا)
Ayah 3:96کعبہ شریف کی تعمیر اور حج کی فرضیت
روح المعانی میں حضرت ابن جریج سے نقل کیا ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ بیت المقدس کعبہ سے اعظم ہے کیونکہ وہ اس جگہ ہے جہاں حضرات انبیاء (علیہ السلام) ہجرت کرتے رہے اور وہ ارض مقدسہ میں ہے اور مسلمانوں نے کہا کہ کعبہ شریف اعظم ہے اس پر آیت بالا نازل ہوئی، اور حضرت مجاہد نے فرمایا کہ جب گذشتہ آیت میں کافروں کو حکم دیا کہ ملت ابراہیمیہ کا اتباع کریں تو بیت اللہ یعنی کعبہ شریف کی تعظیم کا بھی حکم دیا اور اس کی فضیلت اور حرمت بیان فرمائی کیونکہ کعبہ کا حج کرنا اور اس کی فضیلت و حرمت کا اقرار کرنا یہ بھی ملت ابراہیمی میں شامل ہے۔
کعبہ شریف کا کثیر البرکت ہونا :
آیت بالا میں فرمایا کہ سب سے پہلا گھر جو عبادت کے لیے زمین میں بنایا گیا وہ وہ گھر ہے جو مکہ معظمہ میں واقع ہے اور وہ کعبہ معظمہ ہے۔ وہ بابرکت ہے یعنی کثیر الخیر ہے۔ اس میں عبادت کا ثواب بہت زیادہ ہے جو شخص حج یا عمرہ کرے اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ ان برکات کے علاوہ اس کی ظاہری برکات بھی بہت ہیں۔ سورة قصص میں اس کی ظاہری برکات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ (یُجْبٰٓی اِلَیْہِ ثَمَرَاتُ کُلَّ شَیْءٍ رِّزْقاً مِّنْ لَّدُنَّا) (لائے جاتے ہیں اس کی طرف ہر چیز کے پھل جو بطور رزق ہمارے پاس سے دئیے جاتے ہیں) یہ ظاہری برکات بھی کعبہ شریف میں دیکھی جاتی ہیں۔ دنیا بھر کے ثمرات اور مصنوعات ہر وقت مکہ معظمہ میں مل جاتی ہیں۔ پھر قربانیاں بھی وہاں اس کثرت سے ہوتی ہیں جو کسی شہر میں نہیں ہوتیں۔ نیز کعبہ شریف کو (ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ ) بھی فرمایا یعنی وہ جنت کی طرف ہدایت کا ذریعہ ہے (روح المعانی صفحہ 5: ج 4) اور سارے عالم کے مسلمان جو اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں اس میں بھی (ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ ) کا خوب مظاہرہ ہے۔ لفظ اول بیت سے اس طرف اشارہ ہے کہ بنائے ابراہیمی سب سے پہلی بناء نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی کعبہ شریف بنایا گیا تھا۔
زمین میں پہلا گھر :
معالم التنزیل صفحہ 328: ج 1 میں اول بیتٍ کے معنی بتاتے ہوئے متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ کعبہ شریف سب سے پہلا گھر ہے جو پانی پر ظاہر ہوا آسمان و زمین کے پیدا فرمانے سے دو ہزار سال پہلے وجود میں آیا اس وقت یہ پانی پر سفید بلبلہ تھا۔ پھر زمین اسی کے نیچے سے پھیلا دی گئی۔ حضرت عبداللہ بن عمر، مجاہد اور قتادہ کا یہی قول ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ سب سے پہلا گھر ہے جو زمین میں بنایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے عرش کے نیچے ایک گھر مقرر فرمایا جو بیت معمور ہے اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کا طواف کریں پھر ان فرشتوں کو حکم دیا جو زمین میں رہتے ہیں کہ زمین میں ایک گھر بنائیں جو البیت المعمور کی محاذات میں ہو اور اس جیسا ہو اور زمین والوں کو حکم دیا کہ اس کا طواف کریں جیسے آسمان کے رہنے والے بیت المعمور کا طواف کرتے ہیں۔ یہ حضرت علی بن حسین ؓ (حضرت زین العابدین) کا قول ہے اور ایک قول یہ ہے کہ فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے اس کو بنایا تھا وہ اس کا حج کیا کرتے تھے، جب آدم (علیہ السلام) نے اس کا حج کیا تو فرشتوں نے کہا کہ اے آدم ! اللہ تمہارا حج قبول فرمائے ہم نے اس گھر کا حج تم سے دو ہزار سال پہلے کیا ان کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں۔ حاصل سب کا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ ہی اس کے پہلے بانی نہیں ہیں اس سے پہلے بھی اس کی بناء تھی اسی لیے سورة ابراہیم میں حضرت ابراہیم کا یہ قول نقل فرمایا ہے۔ (رَبَّنَآ اِنِّیْٓ اَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ ) اس وقت وہاں گھر موجود نہیں تھا پھر بھی انہوں نے (عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ ) کہا اور سورة حج میں ہے (وَ اِذْ بَوَّانَا لِاِبْرَاھِیْمَ مَکَانَ الْبَیْتِ ) (اور جب ہم نے ابراہیم کو بیت کی جگہ بتادی) حضرات مفسرین نے فرمایا کہ بَوَّانَا کا معنی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کعبہ شریف کی جگہ متعین طریقے پر بتادی کیونکہ کعبہ شریف کی عمارت اس وقت موجود نہ تھی۔
تاریخ بناء کعبہ :
صاحب روح المعانی (صفحہ 142: ج 17) لکھتے ہیں کہ کعبہ شریف پانچ مرتبہ بنایا گیا پہلی مرتبہ فرشتوں نے بنایا یہ بناء آدم (علیہ السلام) سے پہلے تھی اور یہ سرخ یا قوت سے بنایا گیا تھا۔ حضرت نوح کے طوفان میں اس کو اٹھا لیا گیا۔ دوسری بناء ابراہیمی ہے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ بیت اللہ بنائیں تو انہیں اس کی جگہ معلوم کرنے کی ضرورت تھی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیج دی جو خوب تیز چلی اور اس نے پرانی بنیاد ظاہر کردیا۔ اس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بیت اللہ کی تعمیر شروع کردی۔ تیسری تعمیر قریش کی ہے جس میں نبی اکرم ﷺ بھی شریک تھے اس وقت حجرا سود کے رکھنے میں جھگڑا ہوا اور ہر قبیلے نے یہ چاہا کہ ہم حجرا سود کو رکھیں پھر یہ طے کیا کہ کل کو جو شخص سب سے پہلے فلاں گلی سے نکلے اور مسجد حرام میں داخل ہو وہ جو فیصلہ کرے وہی منظور ہوگا۔ سب سے پہلے آنحضرت ﷺ تشریف لائے۔ سب لوگ آپ کو امین کہتے تھے آپ کے فیصلہ پر سب راضی ہوگئے اور آپ نے فیصلہ فرمایا کہ حجرا سود کو ایک چادر میں رکھ دیں پھر تمام قبیلے اس چادر کو اٹھائیں۔ چناچہ ان سب نے اس چادر کو اٹھایا اور حجرا سود کو اس جگہ تک لے گئے پھر آپ نے اپنے دست مبارک سے اٹھا کر اس جگہ رکھ دیا۔ یہ واقعہ بعثت سے پندرہ سال پہلے کا ہے چوتھی تعمیر عبداللہ بن زبیر ؓ کی ہے اور پانچوں تعمیر حجاج کی ہے۔ اور وہی آج تک موجود ہے۔ اس میں کچھ مرمت کے طور پر تغییر اور تبدیلی ہوتی رہی ہے لیکن اصل تعمیر حجاج ہی کی ہے (انتھی)
بعض حضرات نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تعمیر اور حضرت شیث (علیہ السلام) (جو ان کے بیٹے تھے) اور عمالقہ اور بنی جرہم کی تعمیر بھی بتائی ہے (روح المعانی صفحہ 5: ج 4) بہر حال سب سے پہلی تعمیر فرشتوں نے کی ہو یا حضرت آدم (علیہ السلام) نے اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ للنَّاسِ اس پر صادق آتا ہے۔ اور بنائے ابراہیمی بھی بیت المقدس کی تعمیر سے پہلے ہے۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔
بکہ اور مکہ :
آیت بالا میں کعبہ شریف کو بکہ میں بتایا۔ عام طور سے اس شہر کو مکہ کہا جاتا ہے جس میں کعبہ شریف ہے اور سورة فتح میں مکہ میم سے وارد ہوا ہے۔ حضرت مجاہد نے فرمایا کہ با اور میم قریب المخرج ہیں اور اہل عرب ایک کو دوسری جگہ استعمال کرلیتے ہیں جیسے لازم کو لازب کہتے ہیں۔ لہٰذا مکہ میں با کو میم سے بدل دیا۔ اور بعض حضرات نے دونوں میں فرق بتایا ہے اور فرمایا ہے کہ بکہ بیت اللہ کی جگہ ہے یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ حضرت عکرمہ ؓ نے فرمایا کہ دونوں پہاڑوں کے درمیان بکہ ہے اور باقی مکہ ہے ایک قول یہ بھی ہے کہ پورا حرم مکہ ہے۔ (الجامع اللطیف فی فضل مکۃ و بناء بیت الشریف : ص 136)
Ayah 3:97آیات بینات اور مقام ابراہیم :
پھر فرمایا (فِیْہِ اٰیٰتٌ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰھِیْمَ ) (اس میں آیات بینات ہیں اور مقام ابراہیم ہے) جن آیات کا تذکرہ فرمایا ہے ان میں سے بعض آیات تکوینی ہیں اور بعض آیات تشریعی ہیں۔ کعبہ شریف کا مبارک ہونا اور (ھُدًی لِّلْعٰلَمِیْنَ ) ہونا اور جو شخص وہاں داخل ہوجائے اس کا مامون ہونا اور بشرط استطاعت حج کا فرض ہونا یہ تشریعی نشانیاں ہیں اور مقام ابراہیم کا وہاں موجود ہونا (یہ وہ پتھر ہے جو زینہ کا کام کرتا تھا۔ اس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تعمیر کرتے تھے) یہ تکوینی نشانی ہے جو اب تک موجود ہے۔ سب کی نظروں کے سامنے ہے۔ نیز کعبہ شریف کی تکوینی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جس کسی نے بھی کعبہ شریف پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا وہ خود تہس نہس ہوگیا۔ اصحاب فیل کا واقعہ تو مشہور ہی ہے کہ ابرہہ یمن کا حاکم ہاتھی لے کر حملہ کرنے کے لیے آیا تھا اللہ تعالیٰ نے پرندے بھیج دیئے جنہوں نے ان پر کنکریاں پھینکیں اور ہاتھی اور ہاتھی والے سب چورہ ہو کر رہ گئے جس کا ذکر سورة فیل میں ہے۔
اس ساری تفصیل سے کعبہ شریف کی اولیت اور افضلیت دونوں چیزیں معلوم ہوئیں کیونکہ بیت المقدس میں ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے نہ بابرکت ہونے میں کعبہ شریف سے زیادہ ہے نہ وہاں نماز پڑھنے کا ثواب مسجد حرام سے بڑھ کر ہے۔ نہ اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جاتی ہے نہ ہی وہاں کے داخل ہونے والے کو مامون بتایا نہ وہاں حج کے لیے جانے کا حکم ہے۔ نہ وہاں مقام ابراہیم ہے۔
حرم مکہ کا جائے امن ہونا :
پھر فرمایا (وَ مَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا) (کہ جو شخص اس میں داخل ہوگا وہ امن سے ہوگا) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب کعبہ شریف بنایا اس وقت دعا کی تھی (رَبِّ اجْعَلْ ھٰذَا الْبَلَدَ اٰمِناً ) (کہ اے اللہ اس شہر کو امن والا بنا دے) ان کی دعا مقبول ہوئی اور مکہ اور حرم مکہ امن والا بنا دیا گیا۔ اہل عرب آپس میں بہت لڑتے تھے اور ایک دوسرے کو مارتے اور لوٹتے تھے۔ لیکن حدود حرم میں کسی پر حملہ کرنے سے باز رہتے تھے۔ سورة عنکبوت میں فرمایا (اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَماً اٰمِناً وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِھِمْ ) (کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو امن کی جگہ بنایا ہے اور حرم والوں کی چاروں طرف لوگ اچک لیے جاتے ہیں) صحیح بخاری صفحہ 247: ج 1۔ میں ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ اللہ نے اس شہر کو حرام قرار دے دیا جس دن آسمان و زمین کو پیدا فرمایا۔ اور وہ قیامت تک اللہ کی حرمت کی وجہ سے حرام ہے۔ اس میں مجھ سے پہلے کسی کے لیے جنگ حلال نہیں تھی اور میرے لیے بھی حلال نہیں ہوئی مگر دن کے تھوڑے سے حصہ میں پس وہ قیامت تک اللہ کی حرمت کی وجہ سے حرام ہے۔ نہ اس کے کانٹے کاٹے جائیں نہ اس کے شکار کو بھگایا جائے اور نہ اس کی پڑی ہوئی چیز کو اٹھایا جائے الا یہ کہ کوئی شخص اعلان کرنے کے لیے اٹھائے (کہ کسی کی کوئی چیز گری ہو تو وصول کرلے) اور اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔ وہیں حضرت عباس ؓ بھی موجود تھے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اذخر کا استثناء ہونا چاہیے (جو ایک خاص قسم کی گھاس تھی) کیونکہ وہ اہل مکہ کے سناروں کے لیے اور ان کے گھروں (کی چھتوں) کے کام آتی ہے۔ آپ نے فرمایا الا الا ذخرا یعنی اذخر کے کاٹنے کی اجازت ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ بیشک مکہ کو اللہ پاک نے حرام قرار دیا ہے لوگوں نے اسے حرام قرار نہیں دیا جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ اس میں خون بہائے اور اس کے درخت کاٹے۔ سو اگر کوئی شخص رسول اللہ ﷺ کے قتال کے پیش نظر اپنے لیے رخصت نکالے تو اس سے کہہ دو کہ بلاشبہ اللہ نے اپنے رسول کے لیے اجازت دی تھی اور تم کو اجازت نہیں دی اور مجھے بھی صرف دن کے تھوڑے سے حصہ میں اجازت دی ہے اور اس کی حرمت اسی طرح آج واپس آگئی جیسے کل اس کی حرمت تھی۔ (صحیح بخاری صفحہ 12: ج 1)
معلوم ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اس کے پر امن ہونے کی دعا کی تھی اس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح اس کا پر امن ہونا پہلے سے چلا آرہا ہے اب بھی اسی طرح باقی رہے۔
حضرت امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے اصحاب رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص حرم میں کسی کو قتل کر دے یا کسی کے ہاتھ پاؤں کاٹ دے پھر حرم میں داخل ہوجائے تو اس سے حرم ہی میں قصاص لیا جائے گا۔ اور جو شخص کسی کو حرم سے باہر قتل کر دے پھر حرم میں داخل ہوجائے تو اس سے قصاص نہیں لیا جائے گا ہاں اسے مجبور کیا جائے گا کہ وہ حرم سے باہر نکل جائے نہ کوئی شخص اس کے ہاتھ کچھ فروخت کرے نہ اسے کھانے پینے کو دے تاکہ مجبور ہو کر حرم سے باہرنکل جائے اور وہاں قصاص لیا جائے۔ حضرت امام مالک اور امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ ہر صورت میں حرم میں قصاص لیا جائے گا۔ (کماذ کرہ الجصاص فی احکام القرآن صفحہ 21: ج 2)
جس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت امام مالک اور امام شافعی ؓ کے نزدیک ہر حال میں حرم میں قصاص لینا ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک بعض صورتوں میں قصاص لینا اور وہ کان آمناکے خلاف نہیں ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جو شخص بیت اللہ کی پناہ لے لے بیت اللہ اسے پناہ دیدے گا۔ لیکن اگر وہ قتل کرکے آیا ہو تو اس کو نہ ٹھکانہ دیا جائے اور نہ کھلایا پلایا جائے جب باہر نکلے تو اس کی جنایت کا بدلہ لے لیا جائے (ابن کثیر صفحہ 384: ج 1) حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کا قول حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق ہے۔
حج کی فرضیت :
پھر فرمایا : (وَ لِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا) (اور اللہ کے لیے لوگوں کے ذمہ ہے اس گھر کا حج کرنا جسے طاقت ہو وہاں تک راہ طے کرکے پہنچے کی)
اس آیت میں حضرت حفص کی روایت اور حضرت حمزہ اور کسائی کی قرأت حِجُّ الْبَیْتِ حا کے زیر کے ساتھ ہے اور باقی حضرات نے حا کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دونوں لغت فصیح ہیں۔ (ذکرہ البغوی معالم التنزیل)
استطاعت کیا ہے ؟
آیت بالا میں ان لوگوں پر حج کرنا فرض بتایا ہے جن کو مکہ معظمہ تک پہنچنے کی طاقت ہو آیت میں جو (مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً ) وارد ہوا ہے اس کے بارے میں حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ مَا السَّبِیْلَ (کہ سبیل سے کیا مراد ہے) آنحضرت ﷺ نے فرمایا زادوراحلۃ (کہ سفر خرچ اور سواری) ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا چیز حج کو فرض کرتی ہے آپ نے فرمایا زادٌ وَّرَاحِلَۃٌ (کہ سفر خرچ اور سواری ہونے سے حج فرض ہوجاتا ہے) دونوں حدیثیں مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 222 میں مذکور ہیں۔
ترک حج پر وعیدیں :
درمنثور صفحہ 56: ج 2 میں حضرت عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا میں نے ارادہ کرلیا ہے شہروں میں لوگوں کو بھیجوں وہ ان کو دیکھیں جو مالدار ہیں اور انہوں نے حج نہیں کیا میں ان لوگوں پر جزیہ مقرر کردوں، یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ نیز حضرت عمر ؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا اگر لوگ حج کو چھوڑ دیں گے تو میں ان سے قتال کروں گا جیسا کہ نماز اور زکوٰۃ چھوڑنے پر قتال ہوگا۔
آیت مبارکہ سے اور حدیث سے معلوم ہوا کہ حج اس شخص پر فرض ہے جس کے پاس مکہ معظمہ تک آنے جانے کا اور سفر خرچ کا انتظام ہو، اتنا پیسہ بہت سے لوگوں کے پاس ہوتا ہے مگر حج نہیں کرتے ایسے لوگ وعید پر غور کریں۔
لوگوں نے حج کے بہت سے خرچے اپنے ذمہ لگا لیے ہیں سامان خرید کر لاتے ہیں عزیزوں کو قیمتی ہدایا دیتے ہیں ان سب کو انہوں نے حج کے خرچ میں شمار کر رکھا ہے بہت سے لوگ مرجاتے ہیں اور اس لیے حج نہیں کر پاتے کہ ان کے پاس رواجی خرچ نہیں ہوتا۔ یا خرچ ہوتا تو ہے لیکن لڑکیوں کی رواجی شادیاں اور دوسرے دنیاوی انتظامات کی وجہ سے حج کرنے میں تاخیر کرتے ہیں ان میں بعض لوگ ایسے وقت حج کرتے ہیں جبکہ بوڑھے کھوسٹ ہوجاتے ہیں۔ احکام حج ادا کرنے سے بوجہ ضعف اور کمزوری قاصر رہتے ہیں اور بعض لوگ گھر بار کے انتظامات کے انتظار میں مرجاتے ہیں اور حج سے رہ جاتے ہیں۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ جسے کسی مجبوری نے یا کسی ظالم بادشاہ نے یا روکنے والے مرض نے حج سے نہ روکا اور مرگیا اور حج نہ کیا تو اسے چاہیے کہ یہودی ہونے کی حالت میں مرجائے یا نصرانی ہونے کی حالت میں مرجائے۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 222 عن الدارمی)
بڑے بڑے سیٹھ حج نہیں کرتے اور یوں ہی مرجاتے ہیں لاکھوں روپے لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیوں پر ریا کاریوں کے لیے خرچ کرتے ہیں لیکن حج کے لیے رقم خرچ کرنے سے ان کا دل دکھتا ہے۔ اور بعض لوگ تو حج کا مذاق ہی اڑاتے ہیں اور حج کی فرضیت کے منکر ہیں یہ لوگ تو کافر ہی ہیں اور بعض لوگ حج کی فرضیت کے منکر تو نہیں لیکن استطاعت ہوتے ہوئے حج کو جاتے بھی نہیں۔ ایسے لوگوں کو کافر تو نہ کہا جائے گا لیکن کفران عملی میں ضرور مبتلا ہیں جو کوئی آدمی استطاعت ہوتے ہوئے حج نہ کرے اپنا ہی کچھ کھوئے گا۔ گنہگار ہوگا اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہ ہوگا۔ اسے کسی کی عبادت کی حاجت نہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا : (وَ مَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ ) (اور جو شخص منکر ہو تو اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے غنی ہے) فرضیت کا منکر اور جو عملاً منکر ہو آیت کا عموم دونوں کو شامل ہے حج کے مسائل اور احکام بہت ہیں معتبر کتابوں میں دیکھ لیا جائے کچھ مسائل آیت (وَاَتِمُّوْا لْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ ) کے تحت ہم بیان کر آئے ہیں۔
Ayahs 3:98–101یہودیوں کی شرارت سے مسلمانوں میں انتشار، اور مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کا حکم
تفسیر درمنثور صفحہ 57: ج 2 میں ان آیات کا سبب نزول یوں لکھا ہے کہ شاس بن قیس ایک بوڑھا یہودی تھا جو بہت بڑا کافر تھا، یہ مسلمانوں سے بہت زیادہ کینہ رکھتا تھا اور بہت سخت حاسد بھی تھا۔ صحابہ ؓ کی ایک مجلس پر گزرا جس میں اوس اور خزرج کے حضرات جمع تھے۔ آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ (اوس اور خزرج کے درمیان زمانہ جاہلیت میں لڑائیاں رہتی تھی) اس حاسد کو ان حضرات کا انس اور محبت کے ساتھ جمع ہونا اور آپس میں ان کی صلح ہونا بہت ناگوار ہوا۔ اس نے ایک یہودی نوجوان کو حکم دیا کہ تو جا کر ان کے پاس بیٹھ جا اور ان کو ان کی پرانی لڑائیاں یاد دلا دے اور ان کے سامنے بعض اشعار پڑھ دے جو یوم بعاث کے سلسلہ میں انہوں نے کہے تھے (بعاث ایک زبردست جنگ ہوئی تھی جس میں اوس کو خزرج پر غلبہ ہوا تھا) وہ نوجوان اس مجلس میں چلا گیا اور اس نے ایسی ہی باتیں کیں جن کی وجہ سے اوس اور خزرج کو پرانی باتیں یاد آگئیں اور جھگڑے شروع ہوگئے اور ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے۔ یہاں تک کہ دو آدمی آپس میں لڑنے بھی لگے، اور دونوں فریق میں لڑائی ٹھن گئی۔ پتھریلی زمین میں (جس کو اہل مدینہ حرہ کہتے ہیں) لڑنے کا اعلان ہوگیا اور دونوں قبیلے آپس میں جمع ہونے لگے۔ حضرت رسول اکرم ﷺ کو یہ قصہ معلوم ہوا آپ مہاجرین کو ساتھ لے کر ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت تم اللہ سے ڈرو کیا تم جاہلیت کے دعوے کو لے کر اٹھ رہے ہو اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں اس کے بعد کہ اللہ نے تمہیں اسلام کی ہدایت دی اور اسلام کے ذریعہ تم کو عزت دی اور جاہلیت کی چیزوں کو ختم فرما دیا اور تمہیں کفر سے بچا دیا اور تمہارے درمیان الفت پیدا کردی کیا تم اسی حالت پر واپس ہونا چاہتے ہو، جس پر تم حالت کفر میں تھے۔
آنحضرت سرور عالم ﷺ کی بات سن کر دونوں قبیلوں کو احساس ہوا کہ یہ جو کچھ تم سے صادر ہوا اور جنگ کا ارادہ ہوا یہ شیطانی حرکت ہے اور دشمن کی مکاری ہے لہٰذا انہوں نے ہتھیار پھینک دیئے اور رونے لگے اور آپس میں ایک دوسرے سے گلے ملنے لگے۔ پھر فرمانبر دار ہو کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے آئے۔ اللہ نے دشمن کی مکاری کو ختم فرما دیا۔ اور شاس بن قیس کے بارے میں دو آیات :
(قُلْ یٰٓاَھْلَ الْکِتٰبِ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ شَھِیْدٌ عَلٰی مَا تَعْمَلُوْنَ ) نازل فرمائیں اور وہ دو آدمی آپس میں لڑ پڑے تھے (جن میں ایک کا نام اوس اور دوسرے کا نام جبار تھا) ان کے بارے میں اور جو لوگ لڑنے کے لیے ان کے ساتھ ہوگئے تھے ان کے بارے (یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنْ تُطِیْعُوْا) سے لے کر (متعدد آیات) (عَذَابٌ عَظِیْمٌ) تک نازل فرمائیں۔ ان آیات میں اول تو یہودیوں کو خطاب فرمایا جن میں شاس بن قیس بھی شامل ہے کہ تم لوگ اللہ کی آیات کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو۔ حالانکہ اللہ کو سب معلوم ہے جو تمہارا کردار ہے اور ایمان لانے والوں کو اللہ کے راستے سے کیوں روکتے ہو ؟ اللہ کی راہ میں ٹیڑھا پن اور کجی کیوں تلاش کرتے ہو حالانکہ تم اپنے اعمال پر خود گواہ ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے۔ یہ حسد اور کینہ دونوں تمہیں دنیا میں لے ڈوبے اور آخرت میں بھی لے ڈوبیں گے تم اپنی فکر کرو حسد اور حقد (کینہ) سے باز آؤ اور کفر اور بداعمالی کو چھوڑو۔
پھر اہل ایمان کو خطاب فرمایا جن میں اوس اور جبار بھی شامل ہیں کہ اگر تم اہل کتاب کے ایک فریق کی بات مانو گے تو وہ تم کو ایمان پر نہ رہنے دیں گے تم کو کفر میں واپس کر کے چھوڑ دیں گے۔ دشمن کی بات کو سمجھ کر چلنا چاہیے۔ کافر تمہارے ایمان سے کبھی راضی نہیں ہوسکتے نیز فرمایا کہ تم کیسے کفر اختیار کرسکتے ہو حالانکہ تم پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں اور تمہارے اندر اللہ کا رسول ﷺ موجود ہے ان آیات اور رسول کی تعلیمات کو چھوڑو گے تو دشمن تم کو قابو کرلے گا اور دین کفر پر لگا دے گا۔ تم اللہ کو مضبوطی سے پکڑو جس نے اللہ کو مضبوطی سے پکڑا اس کو صحیح اور سیدھے راستے کی ہدایت مل گئی۔
Ayah 3:102اتَّقُوا اللّٰہَ حَقَّ تُقٰتِہٖ کا مطلب :
پھر ایمان والوں سے مزید خطاب فرمایا کہ ایمان والو ! تم اللہ سے ڈرو جیسا کہ ڈرنے کا حق ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ سے منقول ہے کہ (حَقَّ تُقٰتِہٖ ) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی نہ کی جائے اور اسے یاد کیا جائے بھولا نہ جائے اور حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ (حَقَّ تُقٰتِہٖ ) کا یہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں جیسا کہ جہاد کا حق ہے اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں اور انصاف کے ساتھ اللہ کے لیے کھڑے ہوں اگر اپنے خلاف اور اپنے ماں باپ کے خلاف بھی انصاف کرنا پڑے تو ایسے وقت میں بھی انصاف کو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ (درمنثور صفحہ 59: ج 2)
اسلام پر مرنے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم اور افتراق کی ممانعت :
نیز فرمایا (وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ) اور ہرگز مت مرنا مگر اس حال میں کہ مسلمان ہو مطلب یہ ہے کہ آخری دم تک اسلام پر قائم رہنا، مزید فرمایا (وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا) (کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور متفرق مت ہوجاؤ) حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی کتاب اللہ کی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی ہے۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ قرآن اللہ کی رسی ہے اس کا ایک سر اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے تم اس کو مضبوطی سے پکڑ لو کیونکہ اس کے پکڑنے کے بعد کبھی بھی گمراہ نہ ہو گے۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہارے اندر اللہ کی کتاب چھوڑ رہا ہوں وہ اللہ کی رسی ہے جس نے اس کا اتباع کیا وہ ہدایت پر ہوگا اور جس نے اس کو چھوڑا وہ گمراہی پر ہوگا۔ (درمنثور صفحہ 60: ج 2)
ان روایات سے جہاں قرآن کو مضبوطی سے تھامنے کی اہمیت اور ضرورت معلوم ہوئی وہاں یہ بھی معلوم ہوا کہ قرآن کو چھوڑ دینا گمراہی ہے آیت بالا میں (وَّ لَا تَفَرَّقُوْا) بھی فرمایا کہ افتراق نہ کرو اور جداجدافرقے نہ بناؤ۔ ایک زمانہ سے مسلمانوں میں فرقہ بندیاں ہیں جس کا سبب قرآن کو چھوڑنا بھی ہے اور قائدین کے اپنے اپنے مفادات بھی ہیں اس افتراق نے دشمنوں کو قابو دے رکھا ہے دشمن جیسے چاہتے ہیں استعمال کرلیتے ہیں۔