4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاحکام القرآن

Ayah 4:16

وَ الَّذٰنِ یَاْتِیٰنِهَا مِنْكُمْ فَاٰذُوْهُمَا١ۚ فَاِنْ تَابَا وَ اَصْلَحَا فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:16 in the Quran reader

اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو ۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو ۔ بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے۔

قول باری (فاللذان یاتیانھامنکم فاذوھما) کنوارے جوڑے کے متعلق تھا۔ اب مذکورہ بالاآیت کے ذریعے یہ حکم منسوخ کرکے ان کے لیے کوڑوں کی سزامقررکردی گئی۔ تاہم ثیبہ عورتوں کے لیے حبس کا حکم رہاجورجم کے حکم کی بناپر منسوخ ہوگیا۔ بعض دوسرے حضرات کا قول ہے کہ ان دونوں حکموں کی ناسخ حضرت عبادہ بن الصامت کی وہ حدیث ہے جس کی ہمیں جعفربن محمد نے روایت کی ہے، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے انہیں ابوعبیدنے، انہیں ابوالنصرنے شعبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے حطان بن عبداللہ الرقاشی سے انہوں نے حضرت عبادہ بن الصامت ؓ سے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا (خذواعنی قد جعل اللہ لھن سبیلا البکربالیکروالثیب بالبکروالثیب بالثیب البکرتجلدوتتقی فالثیب تجلدوترجم۔ لوگو ! مجھ سے یہ معلوم کرلو کہ اللہ نے ان عورتوں کے لیے راہ پیداکردی ہے ، کنوارا کسی کنواری کے ساتھ منہ کالاکرے اور بیاہا کسی بیاہی کے ساتھ فعل قبیح کا مرتکب ہوتوکنواری عورت کو کوڑے لگاکر جلاوطن کردیا جائے گا اور بیاہی عورت کو کوڑے لگاکرسنگسار کردیاجائے گا۔
Ayahs 4:17–18

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

خدا انہیں لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو نادانی سے بری حرکت کر بیٹھتے ہیں پھر جلد توبہ کرلیتے ہیں پس ایسے لوگوں پر خدا مہربانی کرتا ہے اور وہ سب کچھ جانتا (اور) حکمت والا ہے

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو (ساری عمر) برے کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آموجود ہو تو اس وقت کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں اور نہ ان کی (توبہ قبول ہوتی ہے) جو کفر کی حالت میں مریں۔ ایسے لوگوں کے لیے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے۔

یہی بات درست ہے اس لیے حدیث کے ابتدائی الفاظ سے ضروری ہوجاتا ہے کہ اسے آیت میں مذکورسبیل کا بیان تسلیم کرلیاجائے۔ اوریہ بات تو معلوم ہی ہے کہ حضور ﷺ کے اس ارشاد اور حبس واذیت کے مابین کسی اور حکم کا واسطہ نہیں ہے اور یہ کہ سورة نور میں کوڑوں کی سزا کے حکم پر مشتمل آیت اس وقت تک نازل نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے کہ اگر اس وقت تک اس کا نزول ہوچکا ہوتا ہے تو آیت زیربحث میں مذکورسبیل کے بیان کے سلسلے میں مذکورہ بالاحدیث پرا سے مقدم تسلیم کرلیاجاتا۔ نیز حضور ﷺ کے اس ارشاد (خذواعنی ، قدجعل اللہ لھن سبیلا، کے کوئی معنی نہ ہوتے۔ اس لیے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حبس اور اذیت کے حکم کو منسوخ کرنے والی وہ حدیث ہے جس کے راوی حضرت عبادہ بن الصامت ؓ ہیں اور یہ کہ کوڑوں کے حکم پر مشتمل آیت اس کے بعد نازل ہوئی۔ اس میں سنت کے ذریعے قرآن کے نسخ کے جواز کی دلیل بھی موجود ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نص سے حبس اور اذیت کی جو سزاواجب کردی تھی وہ حضور ﷺ کے مذکورہ بالاقول ہے منسوخ ہوگئی ۔ اگریہ کہاجائے کہ قول باری (واللذانیاتیانھامنکم) نیززیربحث دونوں آیتوں میں مذکورحبس اور اذیت کا تعلق بن بیا ہے جوڑے کے ساتھ تھا بیا ہے جوڑے کے ساتھ نہیں تھا تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ سلف کے درمیان اس بارے میں کوئی اختاف رائے نہیں تھا تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ سلف کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ گھر میں تاموت بندرکھنے کا حکم بیاہی عورت کے لیے تھا۔ صرف سدی کا یہ قول تھا کہ اذیت پہنچانے کی سزابن بیا ہے جوڑے کے ساتھ مخصوص ہے۔ حضور ﷺ نے آیت حبس میں مذکورہ سبیل کے متعلق جو فرمایا ہے۔ وہ لامحالہ ثیبہ یعنی بیاہی عورت کے بارے میں ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا کہ یہ حکم حضور ﷺ کے ارشاد (الثیب بالثیب الجلد والرجم ) کی پر منسوخ قراردیاجائے۔ اس طرح حبس کی سزاکاحکم بہرصورت غیر قران یعنی احادیث کی بناء منسوخ ہونے سے بچ نہ سکا۔ ان احادیث میں محصن کوسنگسار کردینے کا وجوب ہے۔ ان میں سے ایک حضرت عباد ؓ ہ کی روایت کردہ حدیث ہے جس کا سابقہ سطور میں ذکر کیا ہے اسی طرح حضرت عبداللہ اور حضرت عائشہ کی روایت کردہ حدیثیں ہیں۔ اس سلسلے کی ایک اور حدیث ہے جس کی روایت حضرت عثمان ؓ نے کی ہے۔ جب آپ باغیوں کے گھیرے میں تھے تو آپ نے صحابہ کرام کو اس پر گواہ بنایا کہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے (لایحل دام امرئی مسلم الاباحدی ثلاث، کفر بعد ایمان ، وزنا بعد احصان وقتل نفس بغیرنفس ، کسی مسلمان کا خون بہانا اس وقت تک حلال نہیں جب تک اس میں ان تین باتوں میں سے ایک بات نہ پائی جائے، مسلمان ہوجانے کے بعد کفر اختیار کرلیاہو صفت احصان کے حصول کے بعد ارتکاب زناکرلیاہو، کسی کی ناحق جان لی ہو۔ ) اسی سلسلے میں ماغر اورغامدی عورت کا واقعہ بھی قابل بیان ہے ۔ حضور ﷺ نے دونوں کوسنگسار کرنے کا حکم دیا تھا امت نے ان آثارو واقعات کو اس کثرت سے نقل کیا ہے کہ اب اس کے متعلق کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اگریہ کہا جائے کہ خوارج کا پوراٹولہ رجم کا انکاری ہے۔ اگر رجم کا حکم کثرت سے مروی ہوکر موجب علم ہوتاتو خوارج کا گروہ اس سے بیخبر نہ رہتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ان آثار کے تحت دی گئی خبر کے علم کا ذریعہ ان کسے ناقلین سے سماع اور ان کے ذریعے اس کی معرفت ہے جبکہ خوارج کو فقہاء اسلام اور راویان آثار کی مجالست کی توفیق ہی نہیں ہوئی بلکہ یہ گروہ ان حضرات سے الگ تھلگ رہ کر ان کی روایت کردہ احادیث وآثارکوقبول کرنے سے انکار کرتارہاجس کی بناپررجم کے حکم کے متعلق انہیں شک پیدا ہوگیا اور وہ اس کے اثبات کے قائل نہ ہوسکے۔ اگریہ کہاجائے کہ ان میں سے بہت سوں کو کثرت روایت کی بناپر اس حکم کی معرفت حاصل ہوگئی تھی لیکن صرف اپنے اس عقیدے کا بھرم رکھنے کے لیے کہ جو راوی اپناہم مسلک نہ ہو اس کی روایت مسترد و، اس کا انکارکربیٹھے تھے تو یہ بات بعید ازقیاس نہیں ہوگی، انہوں نے چونکہ اپنے اعتقاد ومسلک کے دائرے سے باہرآکرآثاروآحادیث کا سماع نہیں کیا اس لیے انہیں اس حکم کا علم نہ ہوسکا۔ یایہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے جن لوگوں کو اس حکم کا علم تھا ان کی تعداد اتنی تھوڑی تھی کہ ان کے لیے اسے چھپاجانے اور اس سے انکار کردینے کی گنجائش پیدا ہوگئی تھی۔ ان لوگوں کو چونکہ حضور ﷺ کی مبارک صحبت میسر نہیں ہوئی تھی کہ پھر انہیں اس حکم کا علم چشم دید کے طورپر ہوجاتایا انہیں ان لوگوں سے باربار سننے کا موقعہ ملتا جو اس حکم کے چشم دید گواہ تھے۔ چونکہ انہیں ان میں سے کوئی بات حاصل نہ ہوسکی اس لیے وہ اس حکم کو جان نہ سکے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ مویشیوں کی زکواۃ کو نصاب کثرت روایت کے طریقے سے منقول ہوا ہے جو علم کا موجب ہے لیکن اس کے باجود اس کا علم دو میں سے ایک شخص کو ہوتا ہے ایک توفقیہ کو جس نے اسے سنا ہو اور اسے اس کا علم راویوں کے واسطے سے حاصل ہواہو اور دوسرادہ شخص جوان مویشیوں کا مالک ہو اورا سے ان کی زکواۃ نکالنے کے عمل سے باربار سابقہ پڑتا ہو جس کی وجہ سے وہ نصاف زکواہ سے باخبرہوگیا ہوتا کہ اس پر واجب ہونے والی کو اۃ کی وہ درست طریقے سے ادائیگی کرسکے۔ اس جیسے انسان کو جب کثرت سے باربار اس مسئلے کے متعلق سننے کا موقعہ ملتا ہے۔ توا سے اس کا علم حاصل ہوجاتا ہے اور اگر وہ اسے اکادکاطریقے سے سنتا ہے تو اسے اس کا علم حاصل نہیں ہوتا خوارج کی طرف سے رجم کی سزاکوتسلیم نہ کرنے اور ایک عورت کی پھوپھی یاخالہ کے زیرعقد ہوتے ہوئے اس سے نکاح کی حرمت کے قائل نہ ہونے اور اسی قسم کے درسرے مسائل میں جن کے ناقلین عادل رواۃ ہیں، خارجی اور باغی وسرکش قسم کے لوگ نہیں ہیں، ان کے انکار کے رولیے کی یہی وجہ ہے۔ زیربحث دونوں آیتوں میں بہت سے احکام موجود ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔ زناکے بارے میں چارگواہوں کی گواہی ہونی چاہیئے۔ زنا کی سزا کے طورپر عورت کو گھر میں بندکردیاجائے اور عورت و مرد دونوں کو ایذادی جائے اگر اس فعل قبیح کے مرتکب مرد اور عورت توبہ کرلیں توا نہیں سخت سست کہنے ذلیل کرنے اور ایذاپہنچانے کا عمل بندکردیاجائے۔ کیونکہ قول باری ہے (فان تاباواحلحافاعرضواعنھما، اگر یہ دونوں توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلیں تو ان کاپیچھا چھوڑدو) تاہم یہ تو بہ ایذاپہنچانے کے عمل کے اسقاط میں مؤثر تھی۔ حبس کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ حبس کا معاملہ آیت میں ذکرہونے والی سبیل کے بیان پر موقوف تھا۔ حضور ﷺ نے اس کی وضاحت فرمادی کہ یہ کوڑے اور سنگساری کی سزاکانام ہے اور پھر آیت میں مذکورہ تمام احکام منسوخ ہوگئے البتہ چارگواہوں کی گواہی کا حکم باقی رہاکیون کہ زنا کی ان دونوں سزاؤں کو منسوخ کرنے والی سزا یعنی کوڑے اور رجم میں گواہوں کی تعداد کا اعتبارا بھی تک باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے (والذین یرمون المحصنات ثم لم یاتواباربعۃ شھداء فاجلدوھم ثمانین جلدۃ، جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور پھر وہ چارگواہ پیش نہیں کرسکتے توا نہیں اسی کوڑے لگاؤ) ۔ نیز فرمایا (لولاجاءؤ اعلیہ یاربعۃ شھداء فاذلم یاتوابالشھداء فاو لئک عنداللہ ھم الاذبون، انہوں نے اس پرچارگواہ کیوں پیش نہیں کیئے۔ اب جب یہ چارگواہ نہ لاسکے تو اللہ کے نزدیک یہ جھوٹے ہیں) اس طرح نہ گواہوں کی تعدادکا اعتبار منسوخ ہو اورنہ ہی گواہی منسوخ ہوئی۔ یہ بات اس فعل قبیح کے مرتکب جوڑے پر حدزناجاری کرنے کی غرض سے گواہوں کو بلاکرا نہیں یہ منظر دکھادینے کے جواز کی موجب ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس فعل قبیح پر گواہی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور گواہی اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک نظربھرکریہ منظر دیکھ نہ لیا جائے یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ زناکارجوڑے پر حدزناجاری کرنے کی غرض سے نظر بھرکردیکھنے والے کی گواہی ساقط نہیں ہوتی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے حضرت مغیر ؓ ہ کے واقعہ میں شبل بن معبد، نافع بن الحارث اور زیاد کے ساتھ یہی طرزعمل اپنا یا تھا اور یہ بات ظاہر آیت کے موافق ہے۔
Ayah 4:19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

مومنو ! تم کو جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور (دیکھنا) اس نیت سے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ لے لو انہیں (گھروں میں) مت روک رکھنا۔ ہاں اگر وہ کھلے طور پر بدکاری کی مرتکب ہوں (تو روکنا نامناسب نہیں) اور ان کے ساتھ اچھی طرح سے رہو سہو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں عجب نہیں کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اس میں سے بہت سی بھلائی پیدا کر دے۔

قول باری ہے (یایھا الذین امنوالایحل لکم انترثوالنساء کرھا ولا تعضلوھن لتذھبواببعض مااتیتموھن الاان یاتین بفاحشۃ مبینۃ، اے ایمان والو ! تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کو زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اس مہرکا کچھ حصہ اڑالینے کی کوشش کروجوتم انہیں دے چکوہو۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں (توضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے) ۔ شیبانی نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص فوت ہوجاتاتو اس کے اولیاء اس کی بیوہ کے زیادہ حق دارس مجھے جاتے۔ بیوہ کے ولی کو ان کے مقابلے میں کم حق حاصل ہوتا۔ پھر اگر ان اولیاء میں سے کوئی اس سے چاہتے تو نہ کرتے اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ حسن اور مجاہد کا قول ہے کہ جب کوئی شخص فوت ہوجاتا اور اس کی بیوہ رہ جاتی تومیت کا ولی یہ کہتا کہ میں اس کے مال کی طرح اس کی بیوہ کا بھی وارث ہوگیاہوں۔ پھر اگر وہ چاہتا تو پہلے مہر کی رقم پر اس سے نکاح کرلیتا اور اگر چاہتا تو اس کا کسی اور سے نکاح کرادیتا اور مہر کی رقم خودرکھ لیتا۔ مجاہد کے قول کے مطابق یہ بات اس وقت ہوتی جب بیوہ کا کوئی بیٹانہ ہوتا۔ ابومجلز کا قول ہے کہ میت کا ولی بیوہ کے ولی کے مقابلے میں میراث کا زیادہ حق دارہوتا۔ جو یبرنے ضحاک سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ آغاز اسلام میں لوگوں کا طریقہ یہ تھا کہ جب کوئی شخص فوت ہوجاتا تو اس کا سب سے بڑھ کر قریبی اس کی بیوہ پر کپڑاڈال دیتا اور اس طرح وہ اس سے نکاح کا حق داربن جاتا۔ کبشہ بنت معن کے شوہر ابوعامرکا انتقال ہوگیا، ابوعامر کا بیٹا جو کسی اور بیوی کے بطن سے تھا آیا اور دستور کے مطابق اپنی سوتیلی ماں پر کپڑاڈال دیا لیکن بعد میں اس نے نہ اسے نفقہ دیا اور نہ ہی اس کے قریب گیا کبشہ نے حضور ﷺ سے اس بات کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے اس پر درج بالا آیت نازل فرمائی یعنی، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ تم انہیں تنگ کرکے مہر کی رقم دو ۔ زہری کا قول ہے کہ میت کا ولی بیوہ کو اپنی ازدواجی ضرورت کے بغیر محبوس رکھتا یہاں تک کہ اسے موت آجاتی اور وہ اس کا وارث بن جاتا۔ آیت میں لوگوں کو اس بات سے منع کردیا گیا۔ قول باری (ولاتعضلوھن لتذھبواببعض مااتیتموھن) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ قتادہ، سدی اور ضحاک کا قول ہے کہ آیت میں شوہروں کو حکم دیا گیا ہے کہ جب انہیں اپنی بیویوں کی ضرورت اور ان کی طرف رغبت نہ ہو تو وہ ان کے راستے سے ہٹ جائیں اور انہیں ضررپہنچانے کی نیت سے روک نہ رکھیں کہ وہ اپنے مال کا ایک حصہ دے کر اپنی جان چھڑانے پر مجبورہوجائیں۔ حسن کا قول ہے کہ اس میں مرنے والے شوہر کے ولی کو اس کی ممانعت کردی گئی ہے کہ زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق نکاح کرلینے کی راہ میں وہ بیوہ کے لیے رکاوٹ بنے۔ مجاہد کا قول ہے کہ آیت میں بیوہ کے ولی کوا سے تنگ کرنے سے روکاگیا ہے۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں آیت کی تاویل میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول سب سے زیادہ واضح ہے اس لیے کہ قول باری (لتذھبواببعض مااتیتموھن) اور مابعد کا سلسلہ کلام اس پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ درج بالا آیت میں مہرمراد ہے۔ جس سے دست بردارہوکروہ اپنی جان چھڑاسکتی ہے۔ گویا کہ شوہر اسے تنگ یا مجبور کرتایا اس کے ساتھ بدسلوکی پر اترآتاتا کہ وہ مہر کے ایک حصے سے دست بردار ہو کر اپنی جان چھڑالے۔ قول باری (الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ) کی تفسیر میں حسن، ابوقلابہ اور سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد زنا ہے اور یہ کہ شوہر کے لیے فدیہ لینا اس وقت حلال ہوگا جب اسے بیوی کی بدچلنی اور مشوک کردار کی اطلاع ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے مراد عورت کی سرکشی اور نافرمانی ہے۔ اگر عورت یہ رویہ اختیار کرلے تو اس صورت میں شوہر کے لیے فدیہ کے طورپر اس سے رقم لے لیناجائز ہوگا۔ جسے اصطلاح شریعت میں خلع کہتے ہیں۔ ہم نے سورة بقرہ خلع اور احکامات کی وضاحت کردی ہے۔ قول باری ہے (وعاشرو ھن بالمعروف، اور معروف طریقے سے ان کے ساتھ معاشرت اختیارکرو) اس میں شوہروں کو بیویوں کے ساتھ معروف طریقے سے معاشرت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور معروف طریقے میں جو باتیں شامل ہیں ان میں اس کے حقوق کی ادائیگی مثلا مہر، نان ونفقہ شب باشی کی باری، اور سخت کلامی اور روگردانی سے احتراز وغیرہ۔ کسی اور کی طرف اظہار میلان بلاوجہ ترش روئی وغیرہ کے ذریعے ایذاء رسانی سے پہلوبچانا داخل ہے۔ اس کی نظیریہ قول باری ہے۔ (فامساک بمعروف اؤ تسریح باحسان۔
Ayah 4:20

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تم ایک عورت کو چھوڑ کر دوسری عورت کرنی چاہو اور پہلی عورت کو بہت سا مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ مت لینا۔ بھلا تم ناجائز طور پر اور صریح ظلم سے اپنا مال اس سے واپس لو گے ؟

قول باری ہے (فان کرھتموھن فعسی ان تکرھواشیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیر، اگر تمہیں وہ بری لگیں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں بری لگے اور اللہ نے اس میں بڑی بھلائی رکھ دی ہو۔ اس میں یہ دلالت ہے کہ شوہر کو اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ بیوی کو ناپسند کرنے کے باوجودا سے عقدزوجیت میں باقی رکھے۔ حضور ﷺ سے بھی اس معنی میں روایت ہے جسے ہمیں محمد بن ب کرنے بیان کیا، انہیں ابوداؤدنے، انہیں کثیر بن عبدنے انہیں محمد بن خالد نے معروف بن واصل سے، انہوں نے محارب بن وثار سے، انہوں نے حضرت ابن عمر ؓ سے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ (البغض الحلال الی اللہ تعالیٰ الطلاق، اللہ کے نزدیک تمام حلال اور جائز باتوں میں طلاق سب سے زیادہ مبغوض اور ناپسند دید ہ ہے۔ ) ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی انہیں محمد بن خالدبن یزید النیلی نے، انہیں مہلب بن علاء نے انہیں شعیب بن بیان نے عمران القطان سے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے ابوتمیمہ الھجیمی سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ (تزوجواولاتطلقوافان اللہ لایحب الذواقین والزواقات، شادیاں کرو لیکن طلاقیں نہ دوکیون کہ اللہ تعالیٰ ذواقین اور ذواقات کو پسند نہیں کرتا) ۔ ایسے مرد اور ایسی عورتیں جو گھربسانے کی خاطررشتہ ازدواج میں منسلک نہیں ہوتے بلکہ صرف چسکالینے کی خاطرنئی شادیاں کرنے اور طلاقیں دینے کو اپناوطیرہ بنالیتے ہیں۔ حدیث میں ان کا ذک رہے۔ ذواق، اس شخص کو کہا جاتا ہے جسے مختلف چیزیں چکھنے کی بڑی عادت ہو۔ حضور ﷺ کا یہ ارشاد آیت زیربحث کے مدلول کے عین مطابق ہے۔ یعنی طلاق ناپسندیدہ چیز ہے اور بیوی کو ناپسند کرنے کے باوجود اسے عقدزوجیت میں معروف طریقے سے باقی رکھناپسندیدہ ام رہے اور اس کی نزغیب دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیاہی کہ بعض دفعہ ایک ناپسندیدہ اور ناگوارچیز کے اندر بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوا (وعسیٰ ان تکرھو اشیئاوھوخیرلکم وعسیٰ ان تحبواشیئا وھوشرلکم ، عین ممکن ہے کہ ایک چیز تمہیں ناپسند ہو اور اس میں تمہارے لیے بھلائی پوشیدہ ہو اور عین ممکن ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور اس میں تمہارے لیے برائی پوشیدہ ہو۔ قول باری ہے (وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احداھن قنطارافلاخذوامنہ شیئا، اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لاناچاہو اور تم نے ان میں سے ایک کو ڈھیرسامال دے رکھا ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو) ۔ اس آیت کا مقتضیٰ ہے کہ مہر میں عورت کو جو کچھ دیاجائے اسے پوری طرح اس کی ملکیت میں دے دیاجاناواجب ہے اور شوہر کے لیے اس بات کی ممانعت ہے کہ دی ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز اس سے واپس لے لے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ یہ چیزیں اب اسکی ملکیت ہیں خواہ وہ اسے عقدزوجیت میں باقی رکھے یا اس کی جگہ کوئی اور کرلے۔ اور اب اس کے لیے اس میں سے کوئی چیز لینا ممنوع ہے۔ اب یہ غیر کا مال ہے اور اللہ تعالیٰ نے غیر کا مال حاصل کرنے کا جو طریقہ جائز کردیا ہے اس کے ذریعے ہی وہ اس مال میں سے کچھ حاصل کرسکتا ہے۔ جائز طریقے کے متعلق ارشاد باری ہے (الاان تکون تجارۃ عن تراض منکم، بجز اس کے کہ باہمی رضامندی سے تجارت کی کوئی صورت ہو) ظاہر آیت اس بات کا مقتضی ہے کہ بیوی کے ساتھ خلوت میسر آجانے کے بعد مہر میں سے کوئی حصہ واپس لینا ممنوع ہے۔ اس لیے آیت سے اس مسئلے پر استدلال ہوسکتا ہے کہ خلوت میسرآجانے کے بعد اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے تو اسے مہر کی پوری رقم اداکرنا ہوگی۔ اس لیے کہ لفظ کا عموم ہر صورت میں مہر میں سے کسی حصے کو واپس لینے کی ممانعت میں دلالت کرتا ہے صرف وہ صورت اس سے مستثنیٰ ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے تخصیص کردی ہے (وان طلقتموھن من قبل ان تمسوھن وقد فرضتم لھن فریضۃ فنصف مافرضتم، اور جب تم انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو ۔ رانحالی کہ تم نے ان کے لیے مہر کی رقم مقررکردی ہو تو اس مقررہ شدہ رقم کا نصف انہیں اداکرو) یہ آیت خلوت سے قبل طلاق دے دینے پر نصف مہر کے سقوط کو واجب کرتی ہے۔ اس لیے کہ اس پر سب کا تفاق ہے۔ کہ یہاں آیت میں مراد وہ صورت ہے جب شوہر اپنی منکو حہ کو خلوت میسر آنے سے پہلے ہی طلاق دے دے۔ البتہ خلوت کے مفہوم کے تعین میں اختلاف رائے ہے آیا آیت میں اس سے مراد ہاتھ لگانا ہے یاہمبستری کرنا ہے۔ لفظ میں دونوں معافی کا احتمال ہے۔ اس لیے کہ صحابہ کرام میں سے حضرت علی ؓ اور حضرت عمر ؓ وغیرھمانے اس سیمراد ہاتھ لگانالیا ہے۔ جبکہ حضرت عبداللہ بن مسعو ؓ د نے اس کے معنی جماع کے کیئے ہیں اس لیے قول باری (فلاتاخذوامنہ شیئا) کے عموم کی تخصیص احتمال کی بناپر نہیں کی جاسکتی۔ قول باری (واتیتم احداھن قنطارا فلاتاخذوامنہ شیئا) کی اس پر دلالت ہورہی ہے۔ کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کوئی چیزہبہ کردے تواب اس کے لیئے اس سے رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا اس لیے کہ یہ چیزاب اس کی دی ہوئی چیزوں کے ضمن میں آگئی اور لفظ کا عموم دی ہوئی اشیاء میں سے کسی بھی چیز کی واپسی کی ممانعت پر دلالت کرتا ہے۔ اس میں مہر اورغیر مہر میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔ اسی طرح آیت سے اس پر بھی استدلال ہوسکتا ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی سے کسی رقم پر خلع کرلے اور وہ مہر کی رقم اسے پہلے دے چکاہو تو اب اس رقم کے کسی حصے کو وہ واپس نہیں لے سکتا خواہ مہرنقدی کی شکل میں ہو یا جنس کی صورت میں جیسا کہ اس مسئلے میں امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔ اسی طرح آیت سے اس مسئلے میں بھی استدلال کیا جاتا ہے۔ کہ ایک شخص اپنی بیوی کو ایک مدت کے لیے نان ونفقہ کے اخراجات پیشگی دے دیتا ہے لیکن مدت کے اختتام سے قبل ہی بیوی فوت ہوجاتی ہے تو اس کے لیے بیوی کی میراث میں سے کسی ایسی چیز کو واپس لینے کی اجازت نہیں ہوگی جو اس نے اسے دے رکھی ہو۔ کیونکہ لفظ ک عموم کا یہی تقاضا ہے۔ اس لیے کہ مذکورہ بالامسئلے میں اس بات کی گنجائش تھی کہ شوہر نے اس بیوی کی موت کے بعدا س کی جگہ کسی اور سے نکاح کرنے کا ارادہ کررکھا تھا اس بناپرظاہر لفظ اس صورت کو بھی شامل ہوجائے گا۔ اگریہ کہاجائے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالاآیت کے فورا بعد فرمایا (وکیف تاخذونہ وقد افضیٰ بعضکم الی بعض، اور آخرتم اسے کس طرح لے لوگے جبکہ تم اپنی بیویوں سے لطف اندوز ہوچکے ہو) تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ خطاب کی ابتداء میں بیوی کی دیئے گئے جس مال کا ذکر ہے اس سے مراد مہ رہے کوئی اور چیز نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہ مفہوم صرف مہر کے ساتھ خاص ہے۔ اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ اس بات میں کوئی امتناع نہیں ہے کہ خطاب کا ابتدائی حصہ اسم کے تمام مدلول کو عام ہو اور پھر اس پر معطوف ہونے والے فقرے میں ایک حکم خاص ہو اس کی وجہ سے پہلے لفظ کی تخصیص لازم نہیں آتی اس کی نظائر کی ہم نے کئی مقامات پر نشاندہی کی ہے۔ یہ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جب شوہر کو بیوی کے ساتھ ہمبستری میسر آجائے اور پھر کسی معصیت یاعدم معصیت کی بناء پر عورت کی جانب سے علیحد گی ہوجائے تو اس صورت میں شوہر پر اس کے مہر کی ادائیگی واجب ہوجائے گی اور عورت کی جانب سے علیحد گی اس وجوب کو باطل نہیں کرے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بیوی کی جگہ دوسری عورت کو بیوی بنانے کی حالت میں پہلی کو دیئے ہوئے مال میں سے کسی چیز کو واپس لینے کی نہی فرمادی ہے۔ جبکہ واپس لینے کی نہی تمام صورتوں کے لیے ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے اس خیال کا ازالہ مقصود ہے کہ شاید دیئے ہوئے مال کی واپسی اس صورت میں جائز ہو جب کہ عورت اپنے جسم یعنی بضع کی خودمالک ہوجائے اور طلاق کی وجہ سے اس کے بضع پر شوہر کا حق ختم ہوجائے۔ اور اس طرح آنے والی دوسری عورت پہلی کی جگہ لے کر اس مہر کی زیادہ حق داربن جائے جو شوہر نے پہلی کو دیا تھا۔ اس خیال کے ازالے کی خاطر منصوص طریقے پر یہ فرمادیا گیا کہ اس صورت میں بھی واپس لینے کی ممانعت ہے۔ اور پھر ضمنی طورپرتمام صورتوں میں واپس لینے کی ممانعت کے عموم پر بھی دلالت ہوگئی اس لیے کہ جب اس صورت میں واپس لینے کی اجازت نہیں دی گئی جس میں اس کے بضع پر شوہر کا حق ختم ہوچکا ہے تو ان تمام صورتوں میں دیئے مال میں سے کوئی چیزواپس لینے کی ممانعت بطریق اولی ہوگی جبکہ ابھی بضع پر شوہر کا حق باقی ہو اور بیوی پر اس کا حق اس حق سیفالق ہوجوبیوی کو اپنی ذات پر حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کی واپسی کی ممانعت کو اور موکد بنانے کے لیے اس عمل کو بہتان کی طرح ظلم قراردیا۔ بہتان اس جھوٹ کو کہتے ہیں جس کے ذریعے مخاطب کو متجبر کرکے خاموش کردیاجاتا ہے۔ اور اس طرح اس پر غلبہ حاصل کرلیا جاتا ہے۔ یہ جھوٹ کی بدترین اور بھیانک ترین صورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیوی کو دیئے ہوئے مال کی ناھق واپسی کے عمل کو برائی اور قباحت میں بہتان کے مشابہ قرار دے کر اس پر اثم اور بہتان کے لفظ کا اطلاق کیا۔
Ayah 4:21

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور تم دیا ہوا مال کیو نکر واپس لے سکتے ہو جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ صحبت کرچکے ہو۔ اور وہ تم سے عہد واثق بھی لے چکی ہیں ؟

قول باری ہے (وکیف تاخذونہ وقدافضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا، اور آخرتم اسے کس طرح لے لوگے جبکہ تم اپنی بیویوں سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور انہوں نے تم سے پختہ عہد بھی لے لیا ہے۔ ) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ فراء کا قول ہے کہ افضاء خلوت کو کہتے ہیں خواہ ہمبستری نہ بھی ہوئی ہولغت کے لحاظ سے الفاظ کے معانی کے سلسلے میں فراء کا قول حجت ہے۔ اگر افضاء کے اسم کا اطلاق خلوت پر ہوتا ہے تو آیت میں خلوت میسرآجاے کے بعد طلاق کی صورت میں مطلقہ سے کسی چیز کو واپس لینے کی ممانعت ہوگئی ہے۔ اس لیے کہ قول باری (وان اردتم استبدال زوج) فرقت اور طلاق کے مفہوم کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ افضاء کا لفظ فضاء سے لیاگیا ہے۔ فضاء اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی عمارت وغیرہ نہ ہو جو وہاں پڑی ہوئی کسی چیز کو حاصل کرنے میں رکاوٹ بن سکے خلوت کو افضاء کا نام اسی لیے دیا گیا کہ اس حالت میں ہمبستری کے عمل کے لیئے کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہتی۔ بعض کا یہ قول ہے کہ کشادگی کا نام فضاء ہے۔ جب کوئی شخص اپنے مقصود میں کشادگی محسوس کرے توکہاجاتا ہے، افضی الرجل، اس مفہوم کے تحت بھی خلوت کو افضاء کا نام دینا درست ہے کیونکہ اس کے ذریعے مرد کو مقام وطی یعنی بیوی کی شرمگاہ تک رسائی ہوجاتی ہے اور اس عمل کے لیے اسے پوری گنجائش حاصل ہوتی ہے۔ جبکہ خلوت سے پہلے بیوی تک رسائی میں اسے تنگی پیش آرہی تھی اس مفہوم کی بناپرخلوت کو افضاء کا نام دے دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ میاں بیوی کو خلوت میسرآجانے شوہر کو ہمبستری کا موقعہ مل جانے اور بیوی کی طرف سے خود سپرد گی کا مظاہرہ کردینے اور جسمانی تلذذکاپوراموقع دے دینے کے بعد شوہر کے لیے بیوی کو دی ہوئی کسی چیز کی واپسی جائز نہیں ہے۔ ظاہر آیت کی اس پر دلالت ہورہی ہے کہ اگر نفرت اور روگردانی کا اظہار شوہر کی طرف سے ہو تو اس کے لیے دی ہوئی کسی بھی چیز کو واپس لینے کی ممانعت ہے۔ اس لیے کہ قول باری (وان اردتم استبدال زوج مکان زوج) ۔ اس پر دلالت کررہا ہے کہ علیحد گی کا ارادہ شوہر کی طرف سے ہوا ہے بیوی کی طرف سے نہیں بناپر ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر نفرت اور روگردانی کا اظہار شوہر کی طرف سے ہو تو اس کے لیے مہر میں سے کسی چیز کو واپس لے لینا مکروہ ہوگا لیکن اگر نفرت اور سرکشی کا اظہار بیوی کی طرف سے ہو توشوہر کے لیے ایسا کرنا جائز ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے (فان خفتم الایقیما حدود اللہ فلاجناح علیھما فیما افتدت بہ) اور جیسا کہ پہلے گذرچکا ہے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ فاحشہ سے مراد نشوز یعنی نفرت، روگردانی اور نافرمانی ہے اور دوسرے حضرات کے نزدیک اس سے مراد بدکاری ہے۔ نیز یہ قول باری بھی ہے (فان خفتم الایقیما حدود اللہ فلاجناح علیھما فیماافتدت بہ اگر تمہیں یہ خطرہ ہو کہ یہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر اس مال میں کوئی گناہ نہیں جو عورت اپنی ذات کے فدیہ کے طورپراداکرے) ۔ بعض کا قول ہے کہ یہ حکم قول باری (وان اردتم استبدال زوج مکان زوج) کی بناپر منسوخ ہوچکا ہے۔ لیکن یہ بات غلط ہے اس لیے کہ یہ قول باری اس حالت کی نشاندہی کررہا ہے جس میں نفرت اور روگردانی کا اظہار شوہر کی طرف سے ہواہوجب کہ قول باری (الاان یخافا الا یقیما حدود اللہ) میں ایسی حالت کا ذکر ہوا ہے جو پہلی حالت سے مختلف ہے اور وہ یہ حالت ہے جس میں سرکشی اور نفرت کا اظہار بیوی کی طرف سے ہواہو اور عورت نے بطور فدیہ شوہر کو کوئی رقم دے دی ہو اس یہ حالت پہلی حالت سے مختلف ہے اور ان دونوں حالتوں میں سے ہر ایک کے لیئے مخصوص حکم ہے۔ قول باری ہے (واخذن منکم میثا قاغلیظا، اور انہوں نے تم سے پختہ عہد لے رکھا ہے حسن ابن سیرین قتادہ ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد بھلے طریقے سے عقدزوجیت میں باقی رکھنا یا اچھے طریقے سے رخصت کردینا ہے۔ جس کا ذکر قول باری (فامساک بمعروف اؤتسریح باحسان) میں ہوا ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ آغاز اسلام میں نکاح کرنے والے سے کہاجاتا کہ ، تمہیں خدا کا واسطریاتوا سے سیدھے طریقے سے اپنی بیوی بنائے رکھنایاپھربھلے طریقے سے اسے رخصت کردینا، مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد نکاح کا کلمہ ہے جس کے واسطے سے مرد اپنی ہونے والی بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق کو حلال کرلیتا ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اس سے مراد حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے۔ (انمااخذتموھن بامانۃ اللہ واستحللتم فروجن بکلمۃ اللہ، تم نے انہیں اللہ کی امانت کے تحت لیا ہے اور اللہ کے کلمہ کے واسطے سے ان کی شرمگاہوں کو اپنے لیے حلال کیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔