Ayah 4:7وراثت میں مردوں اور عورتوں کے حقوق
قول باری ہے (للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون وللنساء نصیب مماترک الوالدان والاقربون مماقل منہ اوکثرنصیبا مفروضا۔ مردوں کے لیے اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑاہو اورعورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑاہو، خواہ تھوڑاہویابہت اور یہ حصہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے) ۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ یہ جملہ عموم اور اجمال دونوں پر مشتمل ہے۔ عموم اس لیے کہ اس میں مردوں اور عورتوں دونوں کا ذک رہے۔ نیز قول باری ہے (مماترک الوالدان والاقربون) والدین اور رشتہ داروں سے مردوں اور عورتوں کی میراث کے ایجاب پر یہ عموم ہے اس لحاظ سے یہ جملہ ذوی الارحام کی میراث کے اثبات پر بھی دلالت کررہا ہے۔ اس لیے کہ پھوپھیوں خالاؤں ماموؤں اور نواسے نواسیوں کو رشتہ داروں میں شمارکرناکسی کے لیے ممتنع نہیں ہے۔ اس لیے ظاہر آیت کی بناپران کی میراث کا اثبات واجب ہوگیا۔ لیکن چو کہ قول باری (نصیبا) مجمل ہے اور آیت میں اس کی مقدارکاذکر نہیں ہے۔ اس لیے وقت تک اس کے حکم پر عمل ممتنع ہوگیا۔ جب تک کسی اور آیت کے ذریعے اس کے اجمال کی تفصیل اور بیان کا دردو نہیں ہوجاتا تاہم ظاہر آیت سے ذوی الارحام کی میراث کے اثبات کے لیے استدلال کی گنجائش ہے۔ اس کی مثال یہ قول یہ باری ہے (خذمن اموالھم صدقۃ، ان کے اموال سے صدقہ وصول کریں نیز (انفقوامن طیبات ماکسبتم، ان پاکیزہ چیزوں میں سے خرچ کروجوتم نے کمائے ہیں) نیز (واتواحقہ یوم حصادہ، اور فصل کی کٹائی کے دن اللہ کا حق اداکرو) اس فقرے کو ماقبل پر عطف کیا گیا ہے جس میں کھیتوں کی پیدادار اورپھولں کا ذکر ہے یہ الفاظ عموم اور مجمل دونوں پر مشتمل ہیں۔ عموم کے لفظ کے تحت واقع اصناف اموال کے متعلق جن میں اللہ کا حق واجب ہے جب ہمارے درمیان آراء کا اختلاف ہوجائے گا تو اس صورت میں اس کے عموم سے استدلال کرنے کی راہ میں لفظ کا اجمال کوئی رکاوٹ نہیں بنے گا اگرچہ واجب مقدار کے بارے میں ہمارے درمیان اختلاف آراء کی صورت میں مجمل لفظ سے استدلال درست نہیں ہوگا۔ ٹھیک اسی طرح آیت زیربحث میں بھی جب میراث کے مستحق وارثین کے متعلق ہمارے درمیان اختلاف رائے ہوجائے تو اس صورت میں قول باری (للرجال نصیب مماترک الوالدن والاقربون) کے عموم سے استزلال کی گنجائش ہوگی، لیکن جب ان میں سے ہر ایک کے حصے کے متعلق اختلاف ہوگاتو پھر اس صورت میں ہم کسی اور آیت سے اس اجمال کے بیان کے ذریعے استدلال کریں گے۔
اگریہ کہاجائے کہ قول باری ہے (نصیبامفروضا) اور چونکہ ذوی الارحام کے لیے حصے مقرر نہیں ہیں۔ تو اس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہی نہیں ہیں اور نہ ہی مراد ہیں۔ اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ آپ کی مذکورہ بالادلیل انہیں آیت کے حکم سے اور آیت میں مراد ہونے سے خارج نہیں کرسکتی ، اس لیے کہ ان کی میراث کو واجب کرنے والوں کے نزدیک ان کے لیے آیت سے جو چیزواجب ہوتی ہے وہ ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقررحصہ ہے اور یہ حصہ اس طرح معلوم ہے جیسا کہ ذوی الفروض کے حصص معلوم ہیں اس لحاظ سے ذوی الفروض اور ذوی الارحام میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو صرف یہ بیان فرمادیا ہے کہ مردوں اور عورتوں میں سے ہر ایک کے لیے ایک مقررحصہ ہے۔ لیکن آیت میں اس کی مقداربیان نہیں ہوئی ہے۔ اس بناپر آیت اس بات کا ارشارہ دے رہی ہے کہ آئندہ آیتوں میں اس کا بیان اور اس کی مقدار کا ذکرآنے والا ہے۔ پھر جس طرح والدین اولاد اور دیگر ذوالفروض کے حصوں کے سلسلے بیان اور تفصیل کا دردوہوگیا، جس کی صورت یہ ہے کہ ان میں سے بعض کا ذکر نص قرآنی میں ہے، بعض کا احادیث رسول ﷺ میں، اور بعض کا اثبات اجماع امت کی بناپر اوربعض کا قیاس کی بناپ رہے، ٹھیک اسی طرح ذوالارحام کے حصوں کا بیان بھی واردہوا ہے۔ جس کی صورت یہ ہے کہ بعض کا ذکر سنت رسول ﷺ میں ہے، بعض کا اثبات دلیل کتاب اللہ سے ہوا، اور اور بعض کا اتفاق امت کی بناپر ہوا ہے۔ اس لیے کہ آیت نے ذوی الارحام کے لیے حصے واجب کردیئے تھے اس لیے ان کے متعلق آیت کے عموم کو ساقط کردینا جائز نہیں تھا بلکہ انہیں وارث قراردینا واجب تھا۔ پھر جب یہ میراث کے مستحق قرارپائے تو ان کے لیے مقررحصوں سے ہی واجب ہوگا۔ جیسا کہ ان کی میراث کے قائلین کا مسلک ہے۔ یہ حضرات اگرچہ بعض کے حصوں کے متعلق اختلاف رائے رکھتے ہیں لیکن بعض کے بارے میں ان میں اتفاق رائے بھی پایاجاتا ہے۔ نیز جن حصص کے متعلق ان کے درمیان اختلاف رائے ہے ان میں بھی کوئی قول کتاب اللہ کی دلیل سے خالی نہیں ہے، جس کے ذریعے کوئی نہ کوئی حکم ثابت ہوجاتا ہے۔
پس منظ رہے وہ یہ کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ صرف مردوں کو وارث قراردیتے تھے اور عورتوں کو وراثت سے محروم رکھتے تھے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ان دو کے علاوہ دوسرے مفسرین کا قول ہے کہ عرب کے لوگ صرف اس شخص کو وارث بناتے تھے جو جنگ کے موقعہ پر نیزہ بازی کے جو ہر دکھا سکتا اور جس میں اپنی ناموس یعنی عورتوں اور مال مویشی کے دفاع اور حافاظت کی صلاحیت ہوتی اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اصول کے ابطال کے لیے یہ آیت نازل کی۔ اس بناپر اس آیت کے عموم کا اس پس منظر کے سوادوسری صورتوں میں اعتبارکرنادرست نہیں ہے۔ اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ معترض کی یہ بات کئی وجوہ سے غلط ہے۔
ان میں سے ایک یہ ہے کہ جس پس منظر اور سبب کا معترض نے ذکرکیا ہے وہ اولاد اور ذوی الفروض رشتہ داروں تک محدود نہیں ہے۔ جن کا حکم اللہ تعالیٰ نے دوسری آیتوں میں بیان فرمایا ہے بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ مردوں کو وراثت کا حق دیتے تھے عورتوں کو محروم رکھتے تھے۔ اس بناپریہ ممکن ہے کہ وہ ذوی الارحام مردوں کو وارثت بناتے ہوں۔ اور ذوی الارحام عورتوں کو محروم رکھتے ہوں۔ اس لیے معترض کی ذکرکر دہ وجہ اس بات کی دلیل نہیں ہے۔ آیت کے نزول کا پس منظر اورسبب اولاد کی نیزان رشتہ داروں کی توریث ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے آیت میراث میں ذوی الفروض قراردیا ہے۔
ایک اور پہلو سے غور کیجئے، اگر آیت کا نرول کسی خاص سبب کی بناپرہوتا تو یہ لفظ کے عموم کی تخصیص کو واجب نہ کرتابل کہ ہمارے نزدیک عموم کا اعتبار کیا جاتا اور اس کا حکم تسلیم کیا جاتا سبب کا اعتبار نہیں کیا جاتا اس لیے کسی سبب کی بناء پر آیت کے نزول اور بلاسبدب ازخودنزول کی حیثیت یکساں ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اولاد کے ساتھ دوسرے رشتہ داروں کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ قول باری ہے (مماترک الوالدان والاقربون) اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ اس آیت میں دوسرے تمام رشتہ داروں کو نظراندازکرکے صرف اولاد کی میراث مراد نہیں ہے اس آیت سے دادا کے ساتھ بھائیوں اور بہنوں کو وارث قراردینے کے سلسلے میں استدلال کیا جاتا ہے۔ جس طرح ذوالارحام کو وارث قراردینے میں ہم اس سے استدلال کرتے ہیں۔
فرض اور واجب میں لطیف فرق
قول باری (نصبیبامفروضا) کا مطلب ۔ واللہ اعلم۔ معلوم ومقررحصہ ہے۔ کہاگیا ہے کہ فرض کے اصل معنی نشان اور علامت کے طورپر جوئے کے تیروں میں سوراخ کردینے کے ہیں تاکہ اس کی وجہ سے وہ دوسرے تیروں سے الگ رہیں۔ الفرضۃ، اس علامت کو کہتے ہیں جو گھاٹ یاچشمے پر پانی کے حصے میں لگادی جاتی ہے۔ تاکہ اس کے ذریعے ہر حقدارپانی میں اپنا حصہ معلوم کرلے۔ فرض کے یہ لغوی معنی ہیں پھر شریعت میں معلوم اور مقررمقداروں یا ثابت اور لازم امورپر اس لفظ کا اطلاق ہونے لگا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس کے اصل معنی ثبوت کے ہیں۔ اس بناپرکمان کے سرے پرجوشگاف ہوتا ہے ۔ اسے فرض کہاجاتا ہے اس لیے کہ یہ شگاف باقی رہتا ہے۔
شریعت میں فرض ان ہی دومعنوں میں بٹا ہوا ہے۔ جب اس لفظ سے وجوب مراد لیا جائے گا، تو اس صورت میں مفروض یعنی فرض شدہ امرایجاب کے سب سے اونچے درجے پر ہوگا۔ شریعت میں فرض اور واجب کے معنوں میں بہت وجوہ کی بناء پر اہل علم کے درمیان اختلاف ہے، اگرچہ ہر مفروض اس لحاط سے واجب ہوتا ہے کہ فرض اس کا مقتضی تھا کہ اس کا کوئی فرض کرنے والا نیز کوئی موجوب موجود ہو۔ واجب کی یہ حیثیت نہیں ہے کیونکہ یہ بعض دفعہ خودبخود واجب ہوجاتا ہے اور اس کا موجب موجود نہیں ہوتا۔
آپ نہیں دیکھتے کہ یہ کہنا تو درست ہوتا ہے کہ فرمانبرداروں کا ثواب اللہ پر اس کی حکمت کی رو سے واجب ہے، لیکن یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اللہ پر یہ فرض ہے۔ کیونکہ فرض کسی فارض افرض کرنے والے) کا مقتضی ہے۔ اس کے برعکس اللہ کی حکمت کی رو سے یہ واجب ہوتا ہے، لیکن یہ کسی موجوب (واجب کرنے والے کا مقتضی نہیں ہوتا۔ لغت میں وجوب کے معنی سقوط یعنی گرجانے کے ہیں۔ جب سورج غائب ہوجائے تو کہاجاتا ہے۔۔ وجبت الشمس، اسی طرح جب دیوارگرجائے توکہاجاتا ہے، وجب الحائط، کسی چیز کے گرنے کی آواز پر کہاجاتا ہے۔ سمعت وجبۃ، (میں نے گرنے کی آوازسنی) ارشادباری ہے (فاذاجبت جنوبھا، جب ان ذبح شدہ قربانی کے جانوروں کے پہلوگرجائیں) یعنی زمین سے لگ جائیں ۔ درج بالاتشربجات کے لحاظ سے لغت میں فرض اپنی اثرانگیزی میں واجب سے بڑھ کرہوتا ہے شریعت میں بھی ان دونوں کے حکموں کی یہی حیثیت ہے۔ اس لیے کہ تیر کے سرے پر پڑا ہواشگاف اثر اورلشان کے لحاظ سے ثابت اور باقی رہتا ہے جبکہ وجوب کی یہ کیفیت نہیں ہوتی۔
Ayah 4:8تقسیم میراث کے موقع پر رشتہ داروں ، یتیموں اور مسکینوں کے لیے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا جائے۔
قول باری ہے (واذاحضرالقسمۃ اولوالقربی والیتامی والمساکین فارزقوھم منہ، اور جب ترکہ کی تقسیم کی موقع پر رشتہ دار، یتیم اور مساکین بھی آجائیں توا نہیں بھی اس میں سے کوئی حصہ دو ) سعیدبن المسیب، ابومالک اور ابوصالح کا قول ہے کہ یہ حکم آیت میراث کی وجہ سے منسوخ ہوچکا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ ، عطاء حسن، شعبی، ابراہیم ، مجاہد، اور زھری کا قول ہے کہ یہ محکم ہے یعنی منسوخ نہیں ہوئی۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ میراث کی تقسیم کے وقت، یہ بات آیت میراث کے نزول سے پہلے کی تھی پھر اللہ تعالیٰ نے آیت میراث میں فرائض نازل فرماکرہرحق دارکواس کا حق دے دیا اور مرنے والا اگر کسی کو کچھ دینے کے لیے کہ جائے توا سے صدقہ قراردیاگیا ہے۔
حضرت ابن عباس سے منقول یہ روایت ظاہر کرتی ہے کہ میراث تقسیم کرتے وقت زیر بحث آیت میں مذکورہ حکم واجب تھا پھر آیت میراث کی بناپر منسوخ ہوگیا، البتہ میت کی وصیت کی صورت میں آیت میں درج شدہ افراد کیلئے ترکہ، میں حصہ بحال رکھاگیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے عکرمہ کی روایت کے مطابق آیت منسوخ نہیں ہے بلکہ یہ میراث کی تقسیم کے متعلق ہے کہ تقسیم کے وقت مذکورہ بالا افراد کو بھی کچھ حصہ دے دیاجائے۔ اگر ترکہ میں اتنی گنجائش نہ ہوتوان سے معذرت کرلی جائے۔ قول باری (وقولوالھم قولا معروفا، اور ان سے بھلی بات کہوکایہی مفہوم ہے۔ حجاج نے ابواسحق سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ اور عبدالرحمن بن ابی بکر تقسیم میراث کے وقت ایسے لوگوں میں سے جو موجود ہوتا، اسے ضرور کچھ دیتے۔ قتادہ نے حسن سے روایت کی ہے کہ حضرت ابوموسیٰ ؓ نے فرمایا کہ یہ آیت محکم ہے۔ اشعث نے ابن سیرین سے انہوں نے حمیدبن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ میرے والد کو کسی میراث کا سرپرست مقرر کیا گیا۔ انہوں نے بکری ذبح کرکے کھاناتیار کرنے کا حکم دیا۔ پھر جب اس میراث کی تقسیم عمل میں آئی تو سب کو وہ کھاناکھلایاپھرمذکورہ بالاآیت کی تلاوت فرمائی۔ احمد بن سیرین نے عبیدہ سے بھی اسی قسم کی روایت نقل کی ہے۔ اس روایت میں ان کا یہ قول بھی درج ہے کہ اگر یہ آیت نہ ہوتی تو اس موقع پر ذبح کی جانے والی بکری میرے مال سے خرید ی جاتی، وہ بکری اس یتیم کے مال میں سے تھی جس کے یہ سرپرست اور ولی مقرر ہوئے تھے۔
ہشیم نے ابوبشر سے اور انہوں نے سعید بن جبیر سے اس آیت کے متعلق روایت کی ہے کہ لوگ اس آیت کے بارے میں میں کوتاہ فہمی کا ثبوت دیتے ہیں۔ دراصل اس کے دوحصے ہیں۔ ایک حصے کی زبان تو یہ کہتی ہے کہ وارث ہے اور دوسرے کی زبان کہتی ہے کہ وارث نہیں ہے پہلے حصے انہیں حصہ دینے اور کچھ عطاء کرنے کا حکم ہے اور دوسرے حصے میں انہیں بھلی بات کہہ کرمعذر ت کرلینے کا حکم دیاگیا ہے۔ وہ ان سے یوں کہے کہ ایسے لوگوں کا مال ہے جو یہاں موجود نہیں ہیں یا یہ یتیموں کا مال ہے جو ابھی نابالغ ہیں، تمہارا اگرچہ اس میں حق ہے۔ لیکن ہمیں اس میں سے تمہیں کچھ دینے کا اختیار نہیں ہے۔ قول معروف کا یہی مفہوم ہے۔ سعید نے مزید کہا کہ یہ آیت محکم ہے۔ منسوخ نہیں ہے ۔ اس طرح سعید بن جبیرنے قول باری (فارزقوھم) کو اس پر محمول کیا کہ میراث میں ان کے حصے انہیں دے دیئے جائیں گے اور دوسروں کو، قول معروف، کے ذریعے رخصت کردیاجائے گا، اس طرح سعید بن جبیر کے نزدیک اس آیت سے معلوم ہونے والی بات یہ ہے۔ کہ اگر تقسیم میراث کے وقت بعض ورثاء آجائیں اور بعض غائب ہوں یا ابھی نابالغ ہوں تو اس صورت میں موجود ورثاء کو ان کے حصے دے دیئے جائیں اور غیرموجودیانابالغ وارث کا حصہ روک لیا جائے۔
اگریہ تاویل درست ہے تو پھر یہ ان لوگوں کے لیئے حجت ہے جو ودیعت کے متعلق اس کے قائل ہیں۔ اگر ودیعت دو شخصوں کے درمیان مشترک ہو اور ان میں سے ایک غائب ہوجائے تو موجودشخص اپناحصہ لے سکتا ہے اور غائب کا حصہ ودیعت رکھنے والا اپنے پاس روک لے گا۔ امام ابویوسف اور امام محمد کا یہی قول ہے۔ جبکہ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ دونوں شخص اس ودیعت میں شریک ہوں تو جب تک دونوں شریک موجودنہ ہوں اس وقت تک یہ ودیعت کسی ایک کو واپس نہیں کی جائے گا۔ عطاء نے سعیدبن جبیر سے (وقولوالھم قولامعروفا) کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ اگر ورثاء نابالغ ہوں تو ان کے سرپرست غیروارث رشتہداروں، یتیموں اور مسکینوں سے خوشنماوعدے کے طورپر یہ کہیں کہ یہ ابھی نابالغ ہیں۔ جب بالغ ہوجائیں گے توہم ان سے کہیں گے کہ تم اپنے ان رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں کا حق پہچانو اور ان کے متعلق اپنے رب کی وصیت پوری کرو۔
درج بالابیان کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگئی کہ اس مسئلے میں سلف کے اختلاف کو ہم چار صورتوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
اول سعیدبن المسیب، ابومالک اور ابوصالح کا قول ہے کہ یہ آیت میراث کے حکم بناپر منسوخ ہوگئی ہے۔
دوم حضرت ابن عباس ؓ کا قول بردایت عکرمہ نیزعطاء، حسن، شعبی، ابراہیم اور مجاہد کا قول ہے کہ یہ منسوخ نہیں ہوئی بلکہ یہ محکم ہے، اور اس کا حکم بحالہ باقی ہے۔ اور یہ میراث کے متعلق ہے۔
سوم حضرت ابن عباس ؓ سے منقول ایک اور روایت کے مطابق آیت کالعلق مرنے والے کی اس وصیت کے ساتھ ہے جو وہ ان لوگوں کے متعلق کرجاتا ہے جن کا آیت میں ذکر ہے، لیکن اب یہ میراث کی بناپر منسوخ ہوچکی ہے۔ زیدبن اسلم سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ وصیت کرتے وقت وصیت کرنے والے کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ انہوں نے اس قول باری (ولخش الذین لوترکوامن خلفھم ذریۃ ضعافا، ان لوگوں کو یہ سوچ کر ڈرنا چاہیے کہ اگر اپنے پیچھے بےبس اولاد چھوڑجاتے) زیدبن اسلم نے اس کا یہ مفہوم بیان کیا کہ وصیت کرنے والے کے پاس موجودلوگوں میں سے کوئی اسے یہ کہے کہ ، بندۃ خدا، اللہ سے ڈر، ان آئے ہوئے رشتہ داروں کے ساتھ بھی، صلہ رحمی، کر اورا نہیں بھی کچھ دے دلادے ۔
چہارم سعید بن جبیرکاقول بروایت ابوبشر کہ قول باری (فارزقوھم منہ) کا تعلق نفس میراث سے ہے اور (وقولوالھم قولا معروفا) کا تعلق غیراہل میراث سے ہے۔ جو لوگ اس آیت کے منسوخ ہوجانے کے قائل ہیں ان کے نزدیک آیت میراث نازل ہونے سے قبل اس کا حکم واجب تھا۔ پھر جب آیت میراث نازل ہوگئی اور ہر وارث کو اس کا حصہ دے دیا گیا تو یہ آیت خودبخود منسوخ ہوگئی۔
جولوگ اس کے محکم اور ثابت ہونے کے قائل ہیں ان کے نزدیک یہ مندوب ومستحب کے معنی پر محمول ہے۔ وجوب یا فرض کے معنی پر نہیں اس لیے کہ اگر یہ حکم واجب ہوتاتو حضور ﷺ اور صحابہ کرام کے عہد میں بےشمارترکے تقسیم ہوئے جس کی بناپر اس کا وجوب اور مذکورہ افرادکاترکے میں استحقاق اسی طرح منقول ہوتاجس طرح کہ میراث کے دیگرحصے منقول ہوئے اس لیے کہ اس حکم کی لوگوں کو عام حاجت تھی۔ اب جبکہ حضور ﷺ سے اس کا وجوب ثابت نہیں ہے، نہ ہی صحابہ کرام سے اس سلسلے میں کوئی روایت ہے، تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ اب اس حکم کو مستحب کے معنی پر محمول کیا جائے گا، ایجاب کے معنی پر نہیں اس بارے میں عبدالرحمن، عبیدہ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے جو قول منقول ہے تو اس میں اس تاویل کی گنجائش ہے کہ ورثاء بالغ تھے۔ ان کی اجازت سے ترکہ میں سے بکری ذبح کی گئی تھی۔ روایت میں جو یہ مذکور ہے کہ عبیدہ نے کچھ یتیموں کی میراث تقسیم کرتے وقت ایک بکری ذبح کی تھی، تو اس روایت کی یہ تاویل کی جائے گی کہ مذکورہ یتیم اس وقت بالغ ہوچکے تھے۔ اس لیے کہ اگر اس وقت یہ نابا (رح) لغ ہوتے تو ان کی میراث کی تقسیم کا عمل درست نہ ہوتا۔
اس حکم کے مندوب ومستحب ہونے پر عطاء کی وہ روایت دلالت کرتی ہے جو انہوں نے سعیدبن جبیر سے کی ہے کہ وصی رشتہ دار اورغیر رشتہ دارحاضرین سے کہے گا کہ یہ ورثاء ابھی نابالغ ہیں۔ اس لیے یہ تم لوگوں کو ابھی کچھ نہیں دے سکتے۔ یا اسی قسم کے فقرات کے ذریعے ان سے معذرت کرلی جائے گی۔ اگر یہ لوگ وجوب کے طورپر اس حصے کے حق دارہوتے توا نہیں یہ حصہ دے دینا واجب ہوتا خواہ ورثاء بالغ ہوتے یانابالغ۔
ایک اور جہت سے دیکھئے اللہ تعالیٰ نے ورثا کے درمیان میراث تقسیم کرکے ان میں سے ہر ایک کے حصے کی وضاحت کردی لیکن ان لوگوں کے لیے اس میں کوئی حصہ مقرر نہیں کیا اب ظاہر ہے کہ جو چیز کسی کی ملکیت ہوا سے کسی اور کی ملکیت کی طرف منتقل کرنا صرف ان ہی صورتوں میں جائز ہوگاجن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اس لیے کہ ارشاد باری ہے (ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم، اور تم اپنے اموال آپس میں ناجائز طریقے سے مت کھاؤالایہ کہ باہمی رضامندی سے تجارت کی صورت ہو) نیز حضور ﷺ کا ارشاد ہے (وماء کم واموالکم علیکم حرام، تمھاراخون اور تمھارامال تم پر حرام ہے) نیز فرمایا (لایحل مالی امرئی مسلم الابطیبۃ من نفسہ، کسی مسلمان کا مال کسی دوسرے کے لیے صرف اسی صورت میں حلال ہوسکتا ہے جب وہ خوش ولی کے ساتھ اسے دے دے۔
خلاصہ کلام۔
قرآن وحدیث کے ان دلائل سے یہ بات ضروری ہوجاتی ہے کہ تقسیم میراث کے وقت آیت میں مذکورموجودلوگوں کو کچھ دینا مستحب ہے، واجب نہیں ہے، قول باری (وقولوالھم قولامعروفا، کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ اس صورت میں ہے کہ جبکہ مال میں گنجائش نہ ہوتا ان سے معذرت کرلی جائے سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ میراث ورثاء میں تقسیم کردی جائے گی۔ قول باری (فارزقوھم منہ) کا یہی مفہوم ہے اور غیروارث افراد سے کہا جائے گا کہ یہ ان لوگوں کا مال ہے جو یہاں موجود نہیں ہیں یا یہ یتیموں کا مال ہے جو ابھی نابالغ ہیں۔ اس مال میں اگرچہ آپ لوگوں کا بھی حصہ بنتا ہے لیکن ہمیں اس میں سے آپ کو کچھ دینے کا اختیار نہیں ہے۔ غرض سعیدبن جبیر کے نزدیک یہ بھی معذرت کی ایک صورت ہے۔
بعض اہل علم کا قول ہے کہ جب تقسیم کے وقت ان لوگوں کو کچھ دیاجائے تو نہ احسان جتلایا جائے نہ ڈانٹ ڈپٹ کی جائے اور نہ ہی سخت الفاظ استعمال کیے جائیں اس لیے کہ قول باری ہے (قول معروف ومغفرۃ خیرمن صدقۃ یتبعھا اذی، بھلی بات کہنا اور درگزر کردینا اس خیرات سے بہت رہے جس کے پیچھے ایذاد ہی آجائے) نیز فرمان الہی ہے (فاما الیتیم فلاتقھر واماالسائل فلاتنھر، یتیم پر سختی نہ کر اور سائل کو مت جھڑک۔
Ayah 4:9معاشرتی معاملات کی بنیاد وسیع ترقومی مفاد کے اصولوں پر ہونی چاہیئے
قول باری ہے (ولیخش الذین لوترکوامن خلفھم ذریۃ ضعافاخافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولواقولا سدیدا، لوگوں کو اس بات کا خیال کرکے ڈرنا چاہیے کہ اگر خوداپنے پیچھے بےبس اولاد چھوڑتے تومرتے وقت انہیں اپنے بچوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے۔ پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں) اس آیت کی تاویل میں سلف کے اندراختلاف رائے ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت کی بناپرنیز سعید بن جبیر، حسن، مجاہد، قتادہ، ضحاک، سدی کے قول کے مطابق اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی موت کا وقت قریب آجائے، اس کے پاس موجودلوگوں میں سے کوئی اس سے کہے، انہیں یعنی رشتہ داروں کو بھی کچھ دے جاؤ، ان کے ساتھ صلہ رحمی اور نیکی کرو، اگر یہ لوگ خودوصیت کرنے والے ہوتے تو اپنی اولاد کے لیے سب کچھ بچالینا زیادہ پسند کرتے۔ حبیب بن اوس کہتے ہیں میں نے مقسم سے اس تفسیر کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تفسیر اس طرح نہیں ہے بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی موت کا وقت آجائے۔ اس کے پاس موجودلوگوں میں سے کوئی اسے یہ مشورہ دے کہ، اللہ کا خوف کرو اوراپنامال اپنے پاس رہنے دور کسی اور کونہ دو ، اگر مشورہ دینے والے خود اس کے رشتہ دارہوتے توا نہیں یہ بات زیادہ پسند ہوتی۔ کہ وہ ان کے متعلق وصیت کرجائے پہلے گروہ نے آیت کی یہ تاویل کی کہ اس قریب المرگ انسان کے پاس موجودلوگوں کوا سے وصیت پر ابھارنے سے روک دیاگیا ہے جبکہ مقسم نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ آیت میں ترک وصیت کا مشورہ دینے والے کو اس قسم کے مشورے سے روک دیا گیا ہے۔ ایک اور روایت میں حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو قریب الموت شخص
اپنے مال کی تہائی سے زائد وصیت کا مشورہ دیتا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطابق یتیم کے مال کی سرپرستی اور حفاظت کے سلسلے میں آپ نے فرمایا کہ سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے مال میں وہی کچھ کریں اور اس کے متعلق وہی کچھ کہیں جو وہ اپنی موت کے بعد پیچھے رہ جانے والے یتیموں اور بے بس اولاد کے مال میں کرنا اور کہنا پسند کرتے ہوں۔ یہاں یہ کہنا درست ہوگا کہ آیت کی سلف سے جتنی تاویلات مروی ہیں وہ سب مراد ہیں۔ البتہ ایک تاویل جس کی رو سے وصیت کا مشورہ اپنے سے روکا گیا ہے اس وقت درست ہوگی جب مشورہ دینے والے کا ارادہ ورثاء کو نقصان پہنچانے یا ان لوگوں کو محروم رکھنے کا ہو جن کے بارے میں مرنے والاوصیت کرنا چاہتا تھا یعنی مشورہ دینے والے کی یہ حرکت ایسی ہو کہ اگر وہ خود ان کی جگہ ہوتاتو اسے پسندنہ کرتا۔ وہ اس طرح کہ مرض موت میں مبتلا شخص کا مال بہت کم مقدار میں ہو اور اس کے ورثاء اس کے ورثاء اس کے بےبس اور کمزوراولاد ہو۔ اب یہ مشیر اسے مال کی پوری ایک تہائی کی وصیت کا مشورہ دے، حالانکہ اگر وہ خود اس کی جگہ ہوتاتو اپنے بےبس ، ورثاء کے خیال سے کبھی ایسا کرنے پر رضامند نہ ہوتا۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کسی شخص کے کمزور اوربے بس ورثاء ہوں اور اس کا مال بھی کوئی زیادہ نہ ہو تو اس کے لیے یہی مستحب ہے کہ کسی قسم کی وصیت نہ کرے اور سارامال اپنے ورثاء کے لیے چھوڑجائے اور اگر اسے وصیت کرنا ہی ہوتوتہائی سے کم کی وصیت کرجائے۔ حضرت سعد ؓ نے حضور ﷺ سے جب یہ عرض کیا تھا کہ میں اپنا مال وصیت میں دے دینا چاہتاہوں تو آپ انہیں روکتے رہے۔ حتی کہ وہ تہال مال پر آگئے اس پر آپ نے فرمایا (الثلث والثلث کثیر، انک ان تدع ورثتک اغنیاء خیرمن ان تدعھم عالۃ یتکفقون الناس، تہائی ٹھیک ہے اور تہائی بھی بہت بھی بہت زیادہ ہے تم اگر اپنے ورثاء کو مالدارچھوڑجاؤتویہ اس سے بہت رہے کہ انہیں تنگدستی میں مبتلا کر جاؤ کہ پھر وہ اپنے گذارے کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھلاتے پھریں۔
حضور ﷺ نے یہ واضح فرمادیا کہ ورثاء اگر غریب ہوں تو ایسی صورت میں ان کی خوشحالی کو مدنظررکھتے ہوئے وصیت نہ کرنا وصیت کرنے سے افضل ہے ۔ حسن بن زیادنے امام ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے کہ جو شخص مالدارہو اس کیلئیے افضل صورت یہی ہے کہ رضائے الہی کی خاطر اپنے تہائی مال کی وصیت کرجائے اور جو شخص مال دارنہ ہو اس کے لیے افضل یہی ہے کہ کوئی وصیت نہ کرے بلکہ سارامال انے ورثا کیلیے چھوڑجائے۔ آیت کی تاویل میں حسن سے منقول روایت کے مطابق وصیت سے نہی کا حکم اس شخص کے لیے ہے جو مرنے والے کو تہائی سے زائد کی وصیت کرجانے کا مشورہ دے اس لیے کہ اسے ایسا کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد ہے (الثلث کثیر، تہائی بھی بہت زیادہ ہے) نیز آپ نے حضرت سعد ؓ کو تہائی سے زائدمال کی وصیت سے منع کردیا تھا۔
مقسم نے آیت کی تاویل کے سلسلے میں جو کہا ہے آیت سے وہ مرادلینا بھی جائز ہے وہ اس طرح کہ مرنے والے کے پاس موجود کوئی شخص اسے وصیت نہ کرنے کا مشورہ دے۔ اگر یہ مشیر اس کے رشتہ داروں میں سے ہوتا تو وہ اپنے بارے میں اسکی وصیت کے عمل کو ضرورپسند کرتا۔ اس طرح وہ اسے ایسا مشورہ دینے کا مرتکب ٹھہراج سے وہ اپنی ذات کے لیے پسند نہیں کرتا۔
حضور ﷺ سے بھی اس معنی میں روایت موجود ہے۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت کی، انہیں ابراہیم بن ہاشم نے، انہیں ھلابہ نے، انہیں ہمام نے ، انہیں قتادہ نے حضرت انس ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لایؤمن العبدحتی یحب الخید مایحب لنفسہ من الخیر، کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی بھلائی نہ چاہے جو وہ اپنی ذات کے لیے چاہتا ہے) ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی۔ انہیں حسن بن العباس رازی نے، انہیں سہل بن عثمان نے، انہیں زیادبن عبداللہ نے لیث سے، انہوں نے ظاحہ سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ عمر ؓ سے انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا (من سرہ ان یزحزح عن النارویدخل الجنۃ فلتاتہ میتہ وھویشھد ان لاالہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ ویحب ان یاتی الی الناس مایحب ان یاتی الیہ، جس شخص کو یہ بات خوش کردے کہ اسے جہنم سے دورکردیاجائے اور جنت میں داخل ہوجائے توا سے چاہیے کہ اس کی موت ایسی حالت میں آئے کہ وہ اللہ کی واحدانیت اور اس کی معبودیت نیز حضور ﷺ کی رسالت کی گواہی دیتاہو اور اسے اپنی ذات کے لیے جس چیز کا حصول پسند ہو لوگوں کے لیے بھی اس کا حصول اسے پسندہو)
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ قول باری (ولیخش الذین لوترکوامن خلفھم ذریۃ ضعافا خافواعلیھم فلیتقوا اللہ والیقولو اقولا سدیدا) کے یہ معنی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کردیا ہے کہ کوئی شخص کسی شخص کو ای سے کام کا مشورہ دے یا ایسا قدم اٹھا نے کا حکم کرے جو وہ اپنی ذات، اپنے اہل وعیال اور اپنے ورثاء کے لیے اٹھا ناپسند نہ کرتا ہو۔ اس کی بجائے مرنے والے کا پاس موجودلوگوں کو سیدھی اور درست بات کرنے کا حکم دیا ہے۔ یعنی حق وانصاف کی بات جس میں کوئی ہیرپھیریا خرابی نہ ہو کہ اس سے کسی وارث کو نقصان پہنچتا ہویا کسی رشتہ دار کی محرومی لازم آتی ہو۔