Ayah 4:58امانتوں کی ادائیگی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کے واجب کردہ احکام
قول باری ہے (ان اللہ یامرکم ان تودوالامانات الی اھلھا، اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کردو) مفسرین کا ان لوگوں کے بارے میں اختلاف رائے ہے جنہیں اس آیت میں امانتیں ادا کردینے کا حکم دیا گیا ہے۔
زید بن اسلم، مکحول اور شہر بن حوشب سے مروی ہے ان سے مراد ، ولاۃ الامر، یعنی وہ لوگ ہیں جو صاحب امر ہوں ابن جریج کا قول ہے کہ آیت کا نزول عثمان بن طلحہ کے بارے میں ہوا تھا، اس میں حکم دیا گیا تھا کہ بیت اللہ کی کنجیاں انہیں واپس کردی جائیں، حضرت ابن عباس ، حضرت ابی بن کعب، حسن اور قتادہ کا قول ہے کہ آیت کا تعلق ہراس شخص سے ہے جسے کسی چیز کا امین مقرر کیا گیاہو، یہ تاویل سب سے بہتر ہے کیونکہ قول باری (ان اللہ یامرکم) میں جو خطاب ہے اس کا عموم تمام مکلفین کا مقتضی ہے اس لیے اسے کسی دلالت کے بغیر صرف بعض افراد تک محدود کردینادرست نہیں ہے میراخیال ہے کہ جن حضرات نے اس کی تاویل ولاۃ الامر ، سے کی ہے ان کا ذہن قول باری (واذاحکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کروتوعدل کے ساتھ کرو) کی طرف گیا ہے چونکہ اس میں ولاۃ الامر یعنی ارباب نسبت وکشاد کو خطاب ہے ، اس لیے اس خطاب کے ابتدائی حصے کا رخ بھی ان ہی لوگوں کی طرف تصور کرلیا گیا ہے۔
لیکن بات ایسی نہیں ہے کیونکہ اس میں وکئی امتناع نہیں کہ خطاب کا ابتدائی حصہ تمام لوگوں کے لیے عام ہو اور اس پر بعد کا جو حصہ معطوف کیا گیا ہے وہ ارباب بست وکشاد کے ساتھ خاص ہو، ہم نے قرآن اور غیر قرآن میں اس کے بہت سے نظائر پہلے ہی بیان کردیے ہیں، ابوبکرجصاص مزید کہتے ہیں جس چیز کا کسی کو امین بنایا گیا ہو وہ امانت کہلاتی ہے اس امین کی ذمہ داری ہے کہ وہ امانت کو اس کے مالک کے حوالے کردے۔ ودیعتیں بھی امانتوں میں داخل ہیں ، اس لیے یہ ودیعتیں جن کے پاس رکھی گئی ہوں ان پر انہیں ان کے مالکوں کو لوٹا دیناواجب ہے ، تاہم فقہاء امصار کے مابین اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اگر ودیعت اس شخص کے پاس ہلاک ہوجائے تو اس پر اس کا تاوان عائد نہیں ہوگا۔ سلف میں سے بعض سے اس سلسلے میں تاوان ادا کرنے کی روایت میں بھی موجود ہے ، شعبی نے حضرت انس سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے اپناسامان مجھ سے اٹھوایا اس کا یہ سامان میرے کپڑوں کے درمیان سے ضائع ہوگیا حضرت عمر نے مجھ سے اس کا تاوان رکھوالیا۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ہے انہیں حامد بن محمد نے ، انہیں شریح نے انہیں ابن ادریس نے ہشام بن حسان سے ، انہوں نے انس بن سیرین سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک سے کہ میرے پاس چھ ہزار درہم بطور ودیعت رکھے گئے پھر یہ درہم ضائع ہوگئے حضرت عمر نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری بھی کوئی چیز اس رقم کے ساتھ ضائع ہوئی ہے ، میں نے نفی میں جواب دیا اس پر حضرت عمر نے مجھ سے تاوان رکھوالیا۔
حجاج نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے کسی کی کوئی چیز اپنے پاس ودیعت رکھ لی لیکن وہ چیز اس شخص کی دوسری اشیاء کے ساتھ ضائع ہوگئی ، حضرت ابوبکر نے اس شخص سے تاوان نہیں رکھوایا، اور فرمایا کہ یہ امانت تھی ، یعنی اس کا کوئی تاوان نہیں ہے۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی انہیں اسماعیل بن فضل نے ، انہیں قتیبہ نے ، انہیں ابن لہیعہ نے عمرو بن شعیب سے انہوں نے اپنے والد سے اور والد کے واسطے سے اپنے دادا سے کہ حضور نے فرمایا، (من استودع ودیعۃ فلاضمان علیہ، جس شخص نے کوئی ودیعت اپنے پاس رکھ لی تو اس پر کوئی تاوان نہیں ) ۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی انہیں ابراہیم بن ہاشم نے انہیں محمد بن عون نے انہیں عبداللہ بن نافع نے محمد بن نبیہ الحجبی سے انہوں نے عمرو بن شعیب سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور والد کے واسطے سے اپنے دادا سے کہ حضور نے فرمایا (ولاضمان علی راع ولاعلی موتمن، چرواہے اور امین پر کوئی تاوان نہیں )
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضور کا یہ ارشاد کہ امین پر کوئی تاوان نہیں ، عاریت پر تاوان کی نفی کرتا ہے کیونکہ عاریت مستعیر یعنی عاریت لینے والے شخص کے ہاتھوں میں امانت کے طور پر ہوتی ہے اس لیے عاریت دینے والے نے اسے امین سمجھا تھا، فقہاء کے درمیان ودیعت کی ہلاکت پر تاوان ادانہ کرنے کے مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے بشرطیکہ اس شخص کی طرف سے کوئی زیادتی نہ ہوئی جس کے پاس یہ ودیعت رکھی گئی تھی۔
حضرت عمر سے تاوان رکھوانے کے متعلق جو روایت مروی ہے ، تو اس میں اس بات کا امکان ہے کہ ودیعت رکھنے والے نے کسی ایسی حرکت کا اعتراف کرلیا ہوجوحضرت عمر کی نظروں میں تاوان کی موجب بن گئی ۔ عاریت کے سلسلے میں تاوان بھرنے کے متعلق سلف کے درمیان اختلاف رائے کے بعد فقہاء کے درمیان بھی اختلاف رائے ہوگیا۔
حضر ت عمر، حضرت علی، حضرت جابر، قاضی شریح اور ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ عاریت غیرمضمون ہے یعنی اس کے ضیاع پر تاوان واجب نہیں ہوتا، حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ تاوان واجب ہوتا ہے ، امام ابوحنیفہ ، امام ابویوسف، امام محمد، زفر اور حسن بن زیاد کا قول ہے کہ اس کی ہلاکت پر تاوان لازم نہیں ہوتا، ابن شبرمہ ، سفیان ، ثوری، اور اوزاعی کا بھی یہی قول ہے عثمان البتی کا قول ہے کہ مستغیر یعنی رعایت لینے والاضامن ہوگا۔
البتہ جانور اور مقتول کی دیت میں تاوان نہیں لیکن اگر مستعیر پر تاوان کی شرط لگادی گئی ہو توپھرجانور اور دیت کی عاریت کی صورت میں وہ ضامن ہوگا اور اسے تاوان بھرنا پڑے گا، امام مالک کا قول ہے کہ جانور کی عاریت کی صورت میں اگر جانور ہلاک ہوجائے تو کوئی تاوان نہیں ہوگا، البتہ زیورات اور کپڑوں کا تاوان بھرناپڑے گا۔
لیث کا قول ہے عاریت میں کوئی تاوان نہیں لیکن امیرالمومنین ابوالعباس نے مجھے تحریری طور پر عاریت میں بھی تاوان لینے کا حکم دیا ہے اس لیے آج کل میں تاوان دینے کا فیصلہ سناتاہوں ، امام شافعی کا قول ہے کہ ہر عاریت قابل تاوان ہے۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ عاریت کی ہلاکت کی صورت میں جبکہ اس کے ساتھ کوئی زیادتی نہ ہوئی ہوتاوان بھرنے کی نفی کی دلیل یہ ہے کہ عاریت دینے والے نے عاریت لینے والے کو امین سمجھ کر عاریت اس کے حوالے کی تھی ، جب عاریت لینے والے کو امین سمجھ لیا گیا تواب اس پر عاریت کا تاوان لازم نہیں رہا، کیونکہ ہم نے حضور سے یہ روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا، الاضمان علی موتمن، جس شخص کو امین قرار دیا گیا ہو اس پر کوئی تاوان نہیں ) ۔
اس ارشاد میں ہراس شخص سے تاوان کی نفی کا عموم ہے جسے امین قرار دیا گیا ہو، نیز جب عاریت کو اس کے مالک کی اجازت سے قبضے میں لیا گیا اور اس میں تاوان کی شرط نہیں لگائی گئی تواب ودیعت کی طرح وہ اس کا تاوان نہیں بھرے گا۔
ایک اور پہلو سے ، اس مسئلے پر غور کیا جائے کرائے پر لیا ہوا کپڑا جس میں اس کپڑے سے حاصل ہونے والے فائدے کو استعمال میں لانے کی شرط لگائی گئی ہو اگر ضیاع کی صورت میں اس کپڑے کے بدل کو بطور تاوان ادا کرنے کی شرط نہ رکھی گئی ہو تو اس کے تاوان کی نفی پر سب کا اتفاق ہے اس لیے عاریت بطریق اولی ناقابل تاوان ہوگی کیونکہ اس میں کسی طرح بھی تاوان کی شرط نہیں ہوتی۔
ایک اور جہت سے اس پر نظر ڈالنے سے یہ بات واضح ہوگئی کہ اجارے کے طور پر قبضے میں لی ہوئی چیز اس کے منافع کو استعمال میں لانے کی غرض سے قبضے میں لی جاتی ہے اور ضیاع کی صورت میں تاوان لازم نہیں آتا، اس سے یہ لازم ہوگیا کہ عاریت کی ہلاکت پر بھی تاوان لازم نہ آئے کیونکہ عاریت کو بھی ا سے حاصل ہونے والے منافع کو استعمال میں لانے کے لیے قبضے میں لیاجاتا ہے۔
ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ ہبہ کی ہلاکت کی صورت میں ہبہ قبول کرنے والے شخص پر کوئی تاوان نہیں عائد ہوتا کیونکہ اسے مالک کی اجازت سے قبضے میں لیاجاتا ہے اور اس کے بدل کو بطور تاوان ادا کرنے کی کوئی شرط نہیں ہوتی ، اس لیے کہ ہبہ کی حیثیت ایک نیکی اور صدقے کی ہوتی ہے اس بنا پر عاریت کے لیے بھی یہی حکم واجب ہوگیا کیونکہ یہ بھی ایک نیکی اور صدقہ کی شکل ہوتی ہے ۔
نیز اس پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ اگر عاریت میں استعمال کی بنا پر کوئی کمی ہوجائے تو اس کمی کا کوئی تاوان نہیں ، جب عاریت کا ایک جز ناقابل تاوان ہے جبکہ اس پر قبضہ حاصل تھا تو اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ عاریت کا کل بھی ناقابل تاوان ہو اس لیے کہ جس چیز کے تاوان کا تعلق قبضے کے ساتھ ہو اس میں کل اور جزء کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہوتا، جس طرح غصب اور بیع فاسد کے ذریعے قبضے میں لی ہوئی چیز کا مسئلہ ہے ، جب سب کا اس پر اتفاق ہوگیا کہ نقصان اور کمی کی بنا پر ضائع ہوجانے والا ناقابل تاوان ہے توکل کا بھی ناقابل تاوان ہوناواجب ہوگیا جیسا کہ ودعیت اور دوسری تمام امانتوں کا مسئلہ ہے۔
ودیعت کے متعلق صفوان بن امیہ کی روایت کے الفاظ میں اختلاف ہے بعض راویوں نے اس میں تاوان کا ذکر کیا ہے اور بعض نے نہیں کیا ہے شریک نے عبدالعزیز بن رفیع سے انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے امیہ بن صفوان بن امیہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے جنگ حنین کے موقع پر حضور نے ان سے لوہے کی چند زرہیں عاریت کے طور پر لیں، انہوں نے کہا، محمد یہ زرہیں ضمانت کے طور پر دی ہیں آپ نے جواب میں فرمایا، ٹھیک ہے ، شرط منظور ہے۔
پھران میں کچھ زرہیں ضائع ہوگئیں، حضور نے صفوان سے فرمایا اگر تم چاہو توہم ان کا تاوان بھردیں گے ، انہوں نے جواب دیا ، اللہ کے رسول مجھے تاوان لینے سے زیادہ اسلام قبول کرنے کی رغبت ہے میں تاوان نہیں لوں گا۔
اسرائیل نے یہی روایت عبدالعزیز بن رفیع سے انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے انہوں نے صفوان بن امیہ سے بیان کی ہے کہ حضور نے صفوان بن امیہ سے چند زرہیں عاریت کے طور پرلی تھیں، ان میں سے کچھ ضائع ہوگئیں، حضور نے ان سے فرمایا، اگر تم چاہو توہم ان کا تاوان ادا کریں گے ، انہوں نے جواب دیا، اللہ کے رسول اس کی ضرورت نہیں ہے ، اس روایت کو شریک نے موصولا نقل کیا ہے اور اس میں ضمان یعنی تاوان کا ذکر کیا ہے لیکن اسرائیل نے اسے مقطوعا روایت کی ہے اور تاوان کی شرط کا ذکر نہیں کیا ہے۔
قتادہ نے عطاء سے روایت کی ہے کہ حضور نے صفوان بن امیہ سے جنگ حنین کے موقعہ پر چند زرہیں عارت کے طور پرلی تھیں ، انہوں نے حضور سے پوچھا تھا آیایہ عاریت قابل واپسی ہے ، آپ نے اثبات میں جواب دیا تھا۔
جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے ، انہوں نے عبداللہ بن صفوان کے خاندان کے کچھ افراد سے روایت کی ہے کہ حضور نے غزوہ حنین پر جانے کا ارادہ فرمایا، جریر نے اس کے بعد حدیث کا باقی ماندہ حصہ بیان کردیا لیکن اس میں ضمان کا ذکر نہیں کیا۔
کہاجاتا ہے کہ حدیث کے راویوں میں جریر بن عبدالحمید سے بڑھ کر کوئی روای نہ تو اس روایت کو محفوظ کرنے والا ہے نہ متقن ہے اور نہ ہی ثقہ ہے اور جریر نے ضمان کا ذکر نہیں کیا، اگر راویوں کو حفظ اور اتقان کے لحاظ سے یکساں درجے پر تسلیم کرلیاجائے توپھراصطلاحی طور پر یہ حدیث مضطرب کہلائے گی۔
حضرت ابوامامہ اور دوسرے صحابہ کے واسطوں سے حضور سے یہ مروی ہے کہ ، العاریۃ موادۃ عاریت ادا کی جائے گی اگر صفوان کی روایت میں ضمان کا ذکر صحیح تسلیم بھی کرلیاجائے تو اس کا مفہوم تاوان نہیں ہوگا، بلکہ ادائیگی کی ضمانت ہوگا۔
جیسا کہ صفوان سے روایت کے بعض طرق کے الفاظ یہ ہیں کہ حضور نے فرمایا، جب تک میں انہیں تمہیں واپس نہیں کروں گا، اس وقت تک یہ ضمانت کے تحت رہیں گی۔
اور جس طرح ایک روایت ہے جو ہمیں عبدالباقی بن قانع نے بیان کی انہیں الفریابی نے انہیں قتیبہ نے ، انہیں لیث نے یزید بن حبیب سے انہوں نے سعید بن ابی ہند سے کہ عاریت کی ضمانت کی سب سے پہلے جو صورت پیش آئی وہ یہ تھی کہ حضور نے صفوان سے فرمایا تھا کہ ہمیں اپنے ہتھیار عاریت کے طور پردے دو ، یہ ہتھیار ہماری ضمانت کے تحت رہیں گے حتی کہ ہم انہیں تمہارے پاس پہنچادیں گے۔
اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ حضور نے صفوان سے واپسی کی ضمانت کی شرط مقرر کی تھی ، اس کی وجہ یہ تھی کہ صفوان اس وقت ایک حربی کافر تھے انہوں نے یہ خیال کیا تھا کہ حضور ان سے یہ ہتھیار ان کا مال مباح ہونے کی حیثیت سے لے رہے ہیں ، جس طرح تمام حربیوں کا مال لے لینا مباح ہوتا ہے ، اس لیے صفوان نے کہا تھا، محمد، کیا تم مجھ سے یہ ہتھیار زبردستی لے رہے ہو ؟
آپ نے جواب میں فرمایا تھا، نہیں بلکہ عاریت کے طور پر ضمانت کے تحت لے رہاہوں یہ ضمانت اسی وقت تک رہے گی جب تک میں تمہیں واپس نہ کردوں۔ یہ قابل واپسی عاریت ہوگی، حضور نے صفوان کو یہ بتادیا کہ یہ ہتھیار قابل واپسی عاریت کے طور پر لیے جارہے ہیں۔ یہ اس طور پر نہیں لیے جارہے جس طرح اہل حرب کے اموال لیے جاتے ہیں۔
اس کی مثال قائل کے اس قول کی طرح ہے جو وہ اپنے مخاطب سے کہے ، میں تمہاری ضروریات کا ضامن ہوں اس سے قائل کی مرادیہ ہوتی ہے کہ میں ان ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ یہ پوری ہوجائیں ایک شاعر اپنی اونٹنی کی تعریف میں کہتا ہے ،
بتلک اسلی حاجۃ ان ضمن تھا، ،، وابری ھما کان فی الصدرداخلا۔
اگر میں کسی ضرورت اور حاجت کو پورا کرنے کا ارادہ کرلوں تو اس اونٹنی کی وجہ سے میں اس ضرورت کی طرف سے بےغم اور بے فکر ہوجاتاہوں اور دل میں جگہ پانے والے غم سے نجات پالیتاہوں۔ شاعر کے الفاظ ان ضمن تھا، کے متعلق اہل لغت کا قول ہے کہ اس سے مراد ہے اگر میں کسی حاجت کو پورا کرنے کا قصد اور ارادہ کرلوں۔
ایک اور پہلو سے غور کیجئے، ہم اپنے مخالف کے اس قول کو تسلیم کرلیتے ہیں کہ وہ روایت درست ہے ، جس میں ضمان یعنی تاوان کا ذکر ہے ، اس صورت میں ہم یہ کہیں گے اس روایت میں اختلافی نکتے پر کوئی دلالت نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضور نے فرمایا تھا، (عاریۃ مضمونۃ) آپ نے یہ فرماکر اپنے قبضے میں لی ہوئی تمام زرہوں کو قابل ضمانت قرار دیا ۔
یہ چیز ہوبہوان زرہوں کی واپسی کی ضمانت کی مقتضی ہے ، ان کی قیمت کے ضمان یعنی تاوان کی مقتضی نہیں ہے کیونکہ آپ نے یہ نہیں فرمایا، تھا کہ میں ان کی قیمت کا ضامن ہوں یعنی ان کی قیمت کا تاوان بھردوں گا، ایک لفظ کو اس کے معنی سے ہٹاکر کسی دلالت کے بغیر مجازی معنی کی طرف لے جانادرست نہیں ہوتا۔
نیز ہمارے مخالف کی جانب سے فقرے میں ایک پوشیدہ لفط کے اثبات کا دعوی بھی درست نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس پر فقرے میں کوئی دلالت موجود نہیں ہے ، وہ پوشیدہ لفظ ضمان القیامہ، ہے یعنی قیمت کا تاوان دلالت کے بغیر اس پوشیدہ لفظ کا اثبات درست نہیں ہے۔
حضور نے عاریت کے طور پرلی ہوئی ان زرہوں میں چند کو جب غائب پایاتو آپ نے صفوان سے فرمایا کہ اگر تم چاہو توہم ان گمشدہ زرہوں کا تاوان بھرنے کے لیے تیار ہیں یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ زرہیں ضیاع کی صورت میں قیمت کے تاوان کی ضمانت کے تحت نہیں لی گئی تھیں۔
اگرقیمت کے ضمان پر اتفاق کی صورت ہوتی تو آپ صفوان سے ہرگز نہ یہ کہتے کہ اگر تم چاہو توہم ان گم شدہ زرہوں کی قیمت کا تاوان بھردیں گے جب کہ تاوان کی شرط کی صورت میں آپ کو لازمی طور پر تاوان بھرنا ہوتا۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ ضیاع کی بنا پر تاوان واجب نہیں ہوا اور یہ کہ حضور نے صفوان کی خواہش اور رضامندی کی صورت میں تبرع کے طور پرا سے تاوان دینے کا ارادہ کیا تھا۔
آپ نہیں دیکھتے کہ حضور نے اسی غزوہ حنین کے موقعہ پر عبداللہ بن ربیعہ سے تیس ہزار کا قرض لیا تھا، پھر آپ نے جب یہ قرض انہیں واپس کرنا چاہاتو انہوں نے لینے سے انکار کردیا، اس پر آپ نے فرمایا، قرض واپس لے لو، کیونکہ قرض کا بدلہ قرض کی ادائیگی اور حمد ہے اگر گم شدہ زرہوں کا تاوان لازم ہوتا تو آپ ہرگز یہ نہ فرماتے اگر تم چاہو توہم ان کا تاوان ادا کردیں گے۔
پھرصفوان کا یہ جواب کہ مجھے تاوان لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آج میرے دل میں جس قدر ایمان ہے وہ پہلے نہیں تھا، اس پر دلالت کرتا ہے کہ صفوان گم شدہ زرہوں کی قیمت کا تاوان لینے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے تھے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان زرہوں کی قیمت کا تاوان بھرنے کی کوئی شرط نہیں تھی کیونکہ جس چیز کا تاوان بھرناضروری ہوتا ہے اسلام اور کفر کی صورت میں اس کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہوتا ہے۔
ہمارے ایک شیخ کا قول ہے کہ صفوان چونکہ حربی تھا، اس لیے اس کے ساتھ ایسی شرط لگانا درست تھا کیونکہ ہمارے اور اہل حرب کے درمیان معاملات کی صورت میں ایسی شرطیں درست ہوتی ہیں ، جو ہمارے آپس کے معاملات میں درست نہیں ہوتیں۔
آپ نہیں دیکھتے اگر ہم ودیعتوں اور مضاربت کی صورتوں اور ان جیسی چیزوں کے اندر ان کے ساتھ ضمان کی شرط لگائیں گے تو یہ شرط درست نہیں ہوگی ، عاریت کے ضمان کے قائل ہیں، انہوں نے اس روایت سے استدلال کیا ہے جسے شعبہ اور سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے نقل کیا ہے انہوں نے حسن سے ، انہوں نے حضرت سمرہ سے کہ حضور نے فرمایا، (علی الید مااحذرت حتی تودیہ، جو چیز تم نے لے لی وہ ہاتھ پر رہے گی حتی کہ تم اسے واپس کردو) ۔
اس روایت میں بھی اختلافی نکتے پر کوئی دلالت نہیں ہے اس میں تو صرف لی ہوئی چیز کو واپس کے وجوب کا ذکر ہے ، ضائع یا ہلاک ہوجانے کی صورت میں قیمت کے تاوان کا ذکر نہیں ہے ، ہم بھی تویہی کہتے ہیں کہ اس پر عاریت کی واپسی ضروری ہے ، اس میں کوئی اختلاف نہیں اور اختلاف نکتے سے اس کو کوئی تعلق بھی نہیں ۔ واللہ اعلم۔
انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے کے متعلق اللہ کا حکم
قول باری ہے (واذاحکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل ، اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کروتوانصاف کے ساتھ فیصلے کرو) نیز قول باری ہے ، (ان اللہ یامر بالعدل والاحسان، اللہ تعالیٰ عدل واحسان کا حکم دیتا ہے) ۔
نیز فرمایا، (واذاقلتم فاعدلوا ولوکان ذاقربی، اور جب تم کہو تو انصاف کی بات کہوخواہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو) ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ، انہیں عبداللہ بن موسیٰ بن ابی عثمان نے ، انہیں عبید بن حباب الحلی، نے ، انہیں عبدالرحمن بن ابی الرجال نے اسحاق بن یحییٰ بن طلحہ بن عبیداللہ سے ، انہوں نے ثابت الاعرج سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک سے اور انہوں نے حضور سے کہ آپ نے فرمایا :
(الاتزال ھذہ الامۃ بخیر مااذاقالت صدقت واذاحکمت عدلت واذا استرحمت رحمت، یہ امت اس وقت تک ٹھیک ٹھاک رہے گی ، جب تک اس میں یہ صفات باقی رہیں گی ک کہ جب بولے گی توسچ بولے گی، جب فیصلہ کرے گی، تو انصاف کرے گی ، اور جب اس سے رحم کی درخواست کی جائے گی تو رحم کرے گی۔
ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی ، انہیں بشر بن موسیٰ نے ، انہیں عبدالرحمن المقری نے کھمس بن الحسن سے ، انہوں نے عبداللہ اسلمی سے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس سے بدزبانی کی، حضرت ابن عباس نے اس سے فرمایا، تم میرے ساتھ بدزبانی کرتے ہو جب کہ میرے اندر تین اچھائیاں موجود ہیں، میں قرآن کی ایک آیت پر پہنچتاہوں پھر خدا کی قسم میری یہ تمنا ہوتی ہے کہ اس آیت کے جن معانی ومطالب کا مجھے علم ہوگیا ہے تمام لوگوں کو بھی ان کا علم ہوجائے۔
میں مسلمانوں کے کسی حاکم کے متعلق جب یہ سنتا ہوں کہ وہ انصاف سے فیصلہ کرتا ہے تو مجھے اس کی خوشی ہوتی ہے جبکہ شاید مجھے کبھی اس کے پاس اپنا کوئی مقدمہ لے کرجانے کی نوبت ہی نہ آئے اس طرح میں جب سنتا ہوں کہ مسلمانوں کے فلاں علاقے میں بارش ہوئی ہے تو مجھے مسرت ہوتی ہے حالانکہ میرے پاس اپنے کوئی مویشی نہیں ہیں۔
ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی ، انہیں حارث بن ابی امامہ نے ، انہیں ابوعبید قاسم بن سلام نے ، انہیں عبدالرحمن بن مہدی نے حماد بن ابی اسلمہ سے ، انہوں نے حمید سے ، انہوں نے حسن سے کہ ، اللہ تعالیٰ نے حکام سے تین باتوں کا عہد لیا ہے ، اپنی خواہشات کی پیروی نہ کریں، اللہ سے ڈریں لوگوں سے نہ ڈریں اور اللہ کی آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر فروخت نہ کریں۔ پھر یہ آیت تلاوت کی ، (یاداؤد اناجعلناک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس بالحق والاتتبع الھوی، اے داؤد ہم نے تمہیں زمین میں اپنا خلیفہ مقرر کیا ہے پس لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشات کی پیروی نہ کرو) تاآخر آیت۔
نیز یہ ارشاد بھی ہے (اناانزلنا التوراۃ فیھاھدی ونور یحکم بھا النبیوں الذین اسلمواہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی، سارے نبی جو مسلم تھے، اسی کے مطابق فیصلہ کرتے تھے) ۔ تاقول باری (فلاتخشوالناس واخشونی ولاتشتروا بایاتی ثمناقلیلا ومن لم یحکم بماانزل اللہ فاو لئک ھم الکافرون، تم لوگوں سے نہ ڈرو، بلکہ مجھ سے ڈرو ارمیری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑدو جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں) ۔
Ayahs 4:59–70اولی الامر کی اطاعت کا بیان
ارشاد باری ہے (ایا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم، اے ایمان لانے والو، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرورسول کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں) ۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اولی الامر کی تاویل میں اختلاف رائے ہے حضرت جابر بن عبداللہ حضرت ابن عباس ، ایک روایت کے مطابق) حسن ، عطا، اور مجاہد سے مروی ہے کہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو فقہ یعنی دین کی سمجھ اور علم رکھنے والے ہوں۔
حضرت ابن عباس (ایک اور روایت کے مطابق) اور حضڑت ابوہریرہ سے مروی ہے اس سے مراد جہاد پر جانے والے فوجی دستوں کے سالار ہیں یہ بھی درست ہے کہ آیت میں یہ تمام لوگ مراد ہوں کیونکہ اولی الامر کا اسم ان سب کو شامل ہے۔
امرائے جیوش شکروں اور فوجی دستوں اور دشمن سے حرب وضرب کی تدابیر سے تعلق رکھنے والے معاملات کے نگران اور ذمہ دار ہوتے ہیں جبکہ علمائے شرعیت کی حفاظت اور معاملات وامور کے جواز اور عدم جواز کی پاسبانی کے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔
اس لیے لوگوں کو امراء اور حکام کی اس وقت تک اطاعت کا حکم دیا گیا اور ان کی بات ماننے کے لیے کہا گیا جب تک وہ عدل وانصاف سے کام لیتے رہیں ، رہ گئے علماء تو وہ عادل ہوتے ہیں ان کی شخصیتیں پسندیدہ ہوتی ہیں اور جو کچھ وہ لوگوں کو بتاتے اور جو کچھ کرتے ہیں اس میں ان کی دین داری اور دیانت داری پر لوگوں کو پورا بھروسا ہوتا ہے۔
یہ بات اس قول باری کی نظیر ہے (فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لاتعلمون) اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے پوچھو) ایک قول یہ بھی ہے کہ اس جگہ اولی الامر سے امراء یعنی ارباب بست وکشاد مراد لینازیادہ واضح ہوگا، کیونکہ اس سے پہلے انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کا دن گزرچکا ہے یہ ان لوگوں کو خطاب ہے جو احکام و قوانین کی تنقید کے ذمہ دار ہیں ، یعنی حکام اور قضاۃ اس پر اولوالامر کی اطاعت کے حکم کو عطف کیا گیا ہے۔
اس سے یہ ظاہر ہوگیا کہ اولوالامر سے مراد وہ ارباب بست کشاد ہیں جو لوگوں پر حکومت کرتے ہیں جب تک یہ انصاف پر قائم رہیں اور لوگوں کی نظروں میں پسندیدہ رہیں۔ ان کی اطاعت ضروری ہے لیکن اس میں کوئی امتناع نہیں کہ اولوالامر کے دونوں طبقوں یعنی فوجی دستوں کے امراء اور علماء کی اطاعت اور فرمانبرداری کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہو۔
کیونکہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے کے حکم کا پہلے گزرجانا اس بات کی موجب نہیں ہے کہ اولی الامر کی اطاعت کے حکم کو صرف امراء تک محدود کردیاجائے کسی اور کو اس میں شامل نہ کیا جائے جبکہ حضور سے یہ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (من اطاع امیری فقد اطاعنی) جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اس نے گویا میری اطاعت کی 9۔
زہری نے محمد بن جبیر بن مطعم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے منی میں خیف کے مقام پر کھڑے ہوکر فرمایا (نضر اللہ عبداسمع مقالتی فوعا ھاثم اداھا الی من لم یسمعھا فرب حامل فقہ لافقہ لہ ورب حامل فقہ الی من ھو افقہ منہ ثلاث لایغل علیھن قلب مومن اخلاص العمل اللہ تعالیٰ ، وقال بعضھم وطاعۃ ذوی الامر ، وقال بعضھم والنصیحۃ لاولی الامر ولزوم جماعۃ المسلمین فان دعوتھم تحیط من وراء ھم۔ اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ اور سرسبز شاداب رکھے جس نے میری بات سنی اور اسے یاد رکھا اور پھر ان لوگوں تک پہنچادیا جوا سے سن نہ سکے تھے کیونکہ بعض دفعہ دین کی ایک بات کو دوسروں تک پہنچانے والاایسا ہوتا ہے جسے خود اس بات کی سمجھ نہیں ہوتی اور بعض دفعہ وہ اس بات کو ای سے انسان تک لے جاتا ہے جو اس سے بڑھ کر سمجھ دار ہوتا ہے۔
تین باتیں ایسی ہیں جن کے متعلق ایمان والے کسی دل میں کوئی کھوٹ اور ملاوٹ نہیں ہوتی ، اول اللہ کے لیے اخلاص دوام اولی الامر خیرخواہی ، سوم مسلمانوں کی جماعت سے وابستگی اس لیے کہ مسلمانوں کی دعا انہیں اپنے حفاظتی گھیرے میں لیے ہونے ہوتی ہے۔
اس روایت میں زیادہ واضح بات یہی ہے کہ آپ نے اولوالامر سے امراء مراد لی ہے ، آیت زیر بحث کے ساتھ ہی) ارشاد باری ہے (فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والرسول ، اگر کسی معاملے میں تمہارا اختلاف ہوجائے توا سے اللہ اور رسول کی طرف پھیردو) ۔
یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ اولوالامر سے مراد فقہاء ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے پھر اس قول باری میں اولوامر کی حکم دیا گیا ہے کہ وہ وہ متنازع فیہ معاملہ کو کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی طرف لوٹائیں اور اس کا حل ان دونوں ماخذ کی روشنی میں تلاش کریں کیونکہ عوام الناس اور غیر اہل علم طبقے کا یہ مرتبہ نہیں ہوسکتا جس کا ذکر آیت میں کیا گیا ہے۔
اس لیے کہ انہیں اس بات کا پتہ ہی نہیں ہوتا کہ متنازع فیہ معاملے کو کتاب وسنت کی روشنی میں کس طرح حل کیا جاتا ہے اور نئے مسائل کے لیے ان سے کسی طرح استدلال ہوتا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ آیت میں علماء کو خطاب ہے۔
بعض اہل علم نے امامت کے متعلق روافض کے مذہب کا ابطال ، قول باری (واطیعوا اللہ واطیعوالرسول واولی الامر منکم) سے کیا ہے کیونکہ اولو الامر سے یاتوفقہاء ہوگی یا امراء یا امام جس کے یہ دعویدار ہیں۔
اگر اس سے فقہاء اور امزاء مراد ہوں توپھرامام مراد لینا باطل ہوجائے گا فقہاء اور امراء سے غلطی سرزد ہونے ، نسیان ، سہو، واقع ہونے اور تغیر و تبدیل کا امکان ہے لیکن ہمیں ان کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے یہ بات عقیدہ امامت کی بنیاد کو باطل کردیتی ہے کیونکہ روافض کے ہاں امام کے لیے معصوم ہوناشرط ہے یعنی اس سے غلطی سرزد نہیں ہوسکتی، نسیان ، سہو اورتغیر وتبدل سے وہ مبرا ہوتا ہے۔
آیت سے امام معصوم مراد لینا درست نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سلسلہ خطاب میں یہ فرمایا (فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ، والرسول ) اگر کوئی امام ہوتا جس کی اطاعت فرض ہوتی تومتنازع فیہ معاملے میں اس کی طرف رجوع کرنا واجب ہوتا ہے اور تنازعہ اور اختلاف کو ختم کرانے میں وہی آکر سند کی حیثیت رکھتا ہے لیکن نئے پیدا شدہ مسائل میں اختلاف رائے کی صورت میں امام معصوم کی بجائے کتاب وسنت کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا گیا تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوگئی کہ ا نکاعقیدہ امامت باطل ہے۔
اس لیے کہ اگر کسی واجب الطاعۃ امام کا وجود ہوتا ہے تو قول باری کے الفاظ یہ ہوتے اے امام کی طرف لوٹاؤ، کیونکہ روافض کے نزدیک کتاب وسنت کی تاویلات اور معانی ومفاہیم کی تعیین میں امام کا قول ، قول فیصل ہوتا ہے۔
لیکن آیت میں جب سالاران عساکر اور فقہاء امت کی اطاعت اور نئے پیدا شدہ مسائل میں اختلاف رائے کو امام کی بجائے کتاب وسنت کی طرف راجع کرنے کا حکم دیا گیا تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ مختلف فیہ مسائل کے احکام کے سلسلے میں امام معصوم واجب الطاعہ، نہیں ہے نیز یہ کہ ہر فقیہ کو مختلف فیہ مسئلے میں کتاب وسنت کے نظائر سے استدلال کرنے کی اجازت ہے ۔ اس باطل فرقے کا خیال یہ ہے کہ قول باری (والی الامر منکم) سے حضرت علی مراد ہیں۔ لیکن یہ تاویل سراسر غلط ہے کیونکہ اولی الامر گروہ اور جماعت کی شکل میں ہوں گے جبکہ حضرت علی ایک فرد واحد ہیں ، نیز حضور کے زمانے میں لوگوں کو اولی الامر کی اطاعت کا حکم دیا گیا تھا اور اس زمانے میں حضرت علی امام نہیں تھے۔
اس سے یہ ثابت ہوگئی کہ حضور کے زمانے میں امراء اور عمال اولی الامر تھے اور ان کی اطاعت بھی اس وقت تک لازم تھی جب تک وہ لوگ کو معصیت کے ارتکاب کا حکم نہ دیں، حضور کے زمانے کے بعد بھی امراء وعمال کی اطاعت اور ان کی اتباع کے لیے یہی شرط ہے کہ معصیت کے اندران کی پیروی اور اطاعت مسلمانوں پر لازم نہیں ہے۔
قول باری ہے (فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والرسول) کے متعلق مجاہد، قتادہ ، میمون بن مہران اور سدی سے مروی ہے کہ اللہ اور رسول کی طرف لوٹانے سے مراد کتاب وسنت کی طرف لوٹانا ہے۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ حضور کی زندگی کے اندر اورآ پ کی وفات کے بعد متنازع فیہ معاملے کو کتاب وسنت کی طرف لوٹانے کے وجوب مین عموم ہے۔
کتاب وسنت کی طرف لوٹانے کی دوصورتیں ہوتی ہیں ایک تو یہ کہ مختلف فیہ معاملے کو اس حکم کی طرف لوٹایاجائے جو منصوص ہوا اور جس کا ذکر اس کے اسم اور معنی کے ساتھ ہوا ہو، دوسری صورت یہ ہے کہ معاملے کو اس حکم کی طرف لوٹایاجائے جو نصا تو ثابت نہ ہورہاہو لیکن اس پر دلالت موجود ہو اورقیاس اور نظائر کی مدد سے اس کا اعتبار کیا جاسکتا ہو۔ آیت میں وارد لفظ کا عموم ان دونوں صورتوں کو شامل ہے۔
اس لیے یہ ضروری ہے کہ جب کسی معاملے میں ہمارے درمیان اختلاف رائے پیدا ہوجائے توا سے کتاب وسنت کے منصوص حکم کی طرف لوٹایاجائے۔ اگر مختلف فیہ مسئلے کے متعلق ان دونوں ماخذوں میں کوئی حکم موجود ہو لیکن اگر کوئی منصوص حکم موجود نہ ہو تو اس کی نظیر کی طرف لوٹانا واجب ہوگا۔
کیونکہ ہمیں ہر حالت میں معاملے کو کتاب وسنت کی طرف لوٹانے کا حکم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کے لیے کسی کا ص حالت یا صورت کی تخصیص نہیں فرمائی، البتہ مضمون کلام اور اس کا ظاہراس بات کا مقتضی ہے کہ کتاب وسنت کی طرف ایسے مختلف فیہ معاملات ہی لوٹائے جاسکیں گے جس کے متعلق کوئی منصوص حکم موجود نہ ہوکیون کہ نص کی موجودگی میں کسی مسئلے کے اندراس حکم کے سوا کسی اور حکم کا احتمال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ایسے مسئلے میں صحابہ کرام کے درمیان بھی اختلاف رائے نہیں ہوتا جب کہ عربی زبان کے وہ رموز آشنا تھے اور کلام میں احتمال اور غیر احتمال کی صورتوں سے پوری طرح واقف تھے، اس لیے آیت کا ظاہر اس بات کا مقتضی ہے کہ مختلف فیہ مسئلے کو کتاب وسنت مین پائے جانے والے اس کے نظائر کی طرف لوٹایاجائے۔
اگریہ کہاجائے کہ اس سے مراد ہے کہ اختلاف رائے ختم کرکے کتاب وسنت کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کردیاجائے تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ مختلف فیہ مسئلے کو کتاب وسنت کی طرف لوٹانے کے سلسلے میں تمام مسلمانوں کو خطاب کیا گیا ہے۔
چنانچہ ارشاد ہے (یا ایھا الذین امنواطیعواللہ واطیعوالرسول) اگر اس کی تاویل وہی ہے جس کا معترض نے ذکر کیا ہے تو آیت کے معنی یہ ہوں گے اے ایمان والو، کتاب اللہ اور اس کے نبی کی سنت کی پیروی کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو جبکہ ہمیں یہ معلوم ہے کہ جو شخص ایمان لے آتا ہے تو ایمان پر اس کے عقیدے کے اندر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کے التزام کا عقیدہ بھی موجود ہوتا ہے۔
اس لیے معترض کی تاویل کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ قول باری (فردوہ الی اللہ والرسول) کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہے گا، نیز آیت کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ اورا سکے رسول کی اطاعت کا حکم گزر چکا ہے اس لیے قول باری (فردوہ الی اللہ والرسول) کو اسی مفہوم پر محمول کرنا درست نہیں ہوگاجس کا اظہار خطاب کے شروع میں ایک دفعہ ہوچکا ہے۔
بلکہ اس نئے مفہوم اور فائدے پر محمول کرنا ضروری ہوگا اور نیا مفہوم یہ ہے کہ ایسا مسئلہ جس کا مفہوم منصوص نہیں ہے اس میں اختلاف رائے کی صورت میں اسے منصوص علیہ مسئلے کی طرف لوٹایاجائے ۔
دوسرے الفاظ میں ہر مختلف فیہ مسئلے میں کتاب وسنت کے اندر اس کے نظائر سے حکم تلاش کیا جائے گا، نیز آیت میں لفظ کے عموم کے تحت یہ دلالت ہے کہ ہم تمام مختلف فیہ مسائل کو کتاب وسنت کی طرف لوٹانے کے پابند ہیں اور دلیل کے بغیر کسی مسئلے کو کتاب وسنت سے باہر نہیں لے جاسکتے ۔
اگریہ کہاجائے کہ حضور کی زندگی کے دوران کسی مسئلے میں اختلاف رائے کی صورت میں صحابہ کرام اس آیت کے حکم کے مخاطب تھے اور یہ بات معلوم ہے کہ حضو رکی موجودگی میں نئے پیدا ہونے والے مسائل کے احکام کے سلسلے میں ان حضرات کے لیے اپنی رائے سے کام لینے اور قیاس کرنے کی گنجائش نہیں تھی ، بلکہ ان پر حضور کی بات مان لینا، اور آپ کے حکم کی پیروی کرنا فرض تھا، قیاس کے ذریعے معاملے کو لوٹانے کے تکلف کی ضرورت نہیں تھی، اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ منصوص احکامات پر عمل کیا جائے اور غیر منصوص باتوں پر غور کرنے اور اجتہاد سے کام لینے کے تکلف سے گریز کیا جائے۔
اس اعتراض کے جواب میں یہ کہاجائے گا کہ یہ بات سرے سے غلط ہے کیونکہ حضور کی زندگی کے اندر بھی رائے سے کام لینے اور اجتہاد کر بروئے کار لانے نیز نئے پیدا شدہ مسائل کو ان کے منصوص نظائر کی طرف لوٹانے کا سارا عمل دوصورتوں میں جائز سمجھاجاتا تھا ایک صورت میں جواز نہیں قرار دیاجا تھا۔
جواز کی پہلی صورت وہ تھی جب صحابہ کرام حضور سے دور چلے جاتے جس طرح آپ نے حضرت معاذ بن جبل کو یمن کی طرف روانہ کرتے ہوئے ان سے پوچھا تھا اگر کوئی مقدمہ پیش ہوگا تو اس کا فیصلہ کس طرح کرو گے ؟ حضرت معاذ نے جواب میں عرض کیا تھا کہ میں کتاب اللہ کے مطابق ا سکافیصلہ کروں گا۔
آ پ نے فرمایا اگر کتاب اللہ میں وہ حکم نہ ملا توکیاکرو گے ؟ حضرت معاذ نے جواب دیا، میں اللہ کے نبی کی سنت کے مطابق اس کا فیصلہ کروں گا، آپ نے پھر پوچھا اگر اس کا حکم کتاب اللہ اور سنت رسول میں نہ ملاتوپھرکیاکرو گے ؟ حضرت معاذ نے جواب دیا، تو پھر اپنے غور وفکر اور سوچ بچار سے کام لوں گا، اور اس میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کروں گا۔
یہ سن کر آپ نے حضرت معاذ کے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا (الحمدللہ الذی وفق رسول اللہ لمایرضی رسول اللہ ، للہ الحمد، کہ اس نے اللہ کے رسول کے رسول اور پیغامبر کو اس طریق کار کی توفیق عطا کی جس سے اللہ کا رسول راضی ہے) ۔
یہ ایک صورت تھی جس کے تحت حضور کی زندگی میں اجتہاد کرنے اور رائے سے کام لینے کا جواز تھا، دوسری صورت یہ تھی کہ حضور کسی صحابی کو اپنے سامنے ایک مسئلے پر غور کرنے اور نئے مسئلے کو اس کی نظیر کی طرف لوٹانے کا حکم دیتے تاکہ غور و فکر کرنے والے صاحب کی صلاحیتوں کا اندازہ لگ جائے اور یہ معلوم ہوجائے کہ یہ صاحب اس کام کے لیے موزوں ہیں یا نہیں ؟ اگر ان سے غلطی ہوتی اور غور و فکر کی راہ سے ہٹ جاتے تو آپ انہیں سیدھی راہ پر لگاتے اور انہیں ہدایات بھی دیتے۔
آپ صحابہ کرام کو اس بات کی تعلیم دیتے تھے کہ میرے دنیا سے اٹھ جانے کے بعد نئے مسائل کے احکام معلوم کرنے کے لیے تم پر اجتہاد واجب ہے ، اس طرح حضور کی موجودگی میں اس طریقے سے اجتہاد کی گنجائش موجود رہی۔
جیسا کہ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت کی ہے انہیں اسلم بن سہل نے ، انہیں محمد بن خالد بن عبداللہ نے ، انہیں ان کے والد نے حفص بن سلیمان سے ، انہوں نے کثیر بن شنظیہ سے انہوں نے ابوالعالیہ سے انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر سے ایک دفعہ دو شخص حضور کی خدمت میں اپنا جھگڑا لے کر آئے آپ نے حضرت عقبہ سے فرمایا عقبہ ان کے جھگڑے کا فیصلہ کرو۔
حضرت عقبہ نے عرض کیا، حضور آپ کی موجودگی میں میں ان کے جھگڑے کا فیصلہ کروں۔ آپ نے فرمایا، فیصلہ کرو اگر درست فیصلہ کرو گے تو تمہیں دس نیکیاں ملیں گی اور اگر غلطی کرو گے تو ایک نیکی کے مستحق ٹھہرو گے۔ اس طرح حضور نے اپنے سامنے اس طریقے پر اجتہاد کرنے کی اباحت کردی جو ہم نے بیان کی ہے۔
ہمارے نزدیک حضور کا حضرت معاذ اور حضرت عقبہ کو اجتہاد کرنے کا حکم اس قول باری ، فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والرسول) کی بنیاد پر صادر ہوا تھا اس لیے کہ اگر ہمیں حضور کی جانب سے کوئی ایسا حکم مل جائے جو اس مفہوم ومعنی کے موافق ہو جس کا قرآن میں ورود ہوچکا ہوتوہم ایسے حکم کو قرآن کے ذریعے دیاجانے والاحکم تصور کریں گے۔ حضور سے اس کی ابتدا نہیں سمجھیں گے۔
مثلا آپ کا چور کو قطع ید اور زانی کو کوڑوں کی سزا دینا اور اسی قسم کے دوسرے احکام اس لیے معترض کا یہ قول درست نہیں ہے کہ حضور کے زمانے میں نئے مسائل کے احکام معلوم کرنے کے لیے اجتہاد کی گنجائش نہیں تھی، اور مختلف فیہ معاملے کو کتاب وسنت کی طرف لوٹانا واجب تھا جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ اختلاف اور تنازعہ کو ترک کرکے اس چیز کو تسلیم کرلیناضروری تھا جو کتاب وسنت میں منصوص ہوتی۔
تیسری صورت جس کے تحت حضور کی زندگی میں اجتہاد کی کوئی گنجائش نہ تھی وہ یہ تھی کہ کوئی شخص آپ کی موجودگی میں کسی حکم کو جاری کرانے اور اپنی رائے پر ڈٹے رہنے کی نیت سے اجتہاد کرتا، اس طریقے پر اجتہاد نہ کرتا جس کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔
حضور ﷺ کی پیروی واجب ہے
قول باری ہے (واطیعواللہ واطیعوالرسول) اللہ کی اطاعت کرو اوررسول کی اطاعت کرو) نیز فرمایا (وماارسلناک من رسول الا لیطاع باذن اللہ) ہم نے جو بھی رسول بھیجا وہ اس لیے بھیجا کہ اللہ کی اجازت سے اس کی پیروی کی جائے) ۔
نیز فرمایا (ومن یطع الرسول فقد اطاع اللہ، جو شخص رسول کی پیروی کرتا ہے وہ اللہ کی پیروی کرتا ہے ) نیز ارشاد ہوا (فل اوربک لایومنون حتی یحکمونک فیما شجر بینھم ثم لایجدون۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ تسلیما۔ نہیں ، اے محمد تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلاف میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں، بلکہ سرتسلیم خم کرلیں) اللہ جل شانہ نے ان آیات کے ذریعے رسول اللہ کی اطاعت کے وجوب کی پوری طرح تاکید کردی اور یہ واضح کردیا کہ رسول اللہ کی طاعت اللہ کی اطاعت ہے جس سے یہ بات از خود معلوم ہوگئی کہ رسول اللہ کی نافرمانی اللہ کی نافرمانی ہے ۔
قول باری ہے (فلیحذر الذین یخالفون عن امرہ ان تصیبھم فتنہ، او یصیبھم عذاب الیم، ان لوگوں کو جو پیغمبر کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں اس بات سے ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں کسی آزمائش کی گرفت میں نہ آجائیں یا کوئی دردناک عذاب انہیں آنہ لے) اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کے حکم کی مخالفت پر وعید سنائی اور آپ کے حکم کی مخالفت کرنے والے، آپ کے فیـصلے کو تسلم نہ کرنے والے اور اس میں شریک کرنے والے کو دائرہ ایمان سے خارج قرار دیا۔
چنانچہ ارشاد ہوا (فل اوربک لایومنون حتی یحکموک فیماشجر بینھم۔۔ تا۔۔۔ آخر آیت۔ آیت میں لفظ حرج کے معنی شک کے بیان کیے گئے ہیں مجاہد سے اس معنی کی روایت کی گئی ہے۔
حرج کے اصل معنی تنگی کے ہیں، اس سے یہ مراد لینا بھی جائز ہے کہ حضور کے فیصلے کو اس طرح تسلیم کرلیاجائے کہ اس کے وجوب تسلیم کے بارے میں کوئی شک نہ ہو اورنہ دل میں اس سے کوئی تنگی پیدا ہوبل کہ کھلے دل کے ساتھ اور پورے یقین و بصیرت کے ساتھ اسے مان لیاجائے۔ آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ جس شخص نے اللہ یا اس کے رسول کے اوامر میں سے کسی امر اور حکم کو ٹھکرادیا وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے خواہ س نے شک کی بنا پر اسے ٹھکرادیاہویاقبول نہ کرنے کی بنا پر تسلیم کرنے سے باز رہنے کی بنا پر اس نے ایسا کیا ہو۔
یہ بات صحابہ کرام کے اس موقف کی صحت کی موجب ہے جوان حضرات نے مانعین زکوۃ پر ارتداد کا حکم لگانے ، انہیں قتل کرنے اور ان کے اہل وعیال کو جنگی قیدی بنالینے کے بارے میں اختیار کیا تھا، اس لے کہ اللہ نے یہ فرمادیا کہ جو شخص نبی کریم کے فیصلے اور آپ کے احکامات کو تسلیم نہیں کرتا وہ اہل ایمان میں سے نہیں ہے۔
اگریہ کہاجائے کہ جب رسول اللہ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے تو رسول اللہ کا امر اللہ کا امر کیوں نہیں ہے ، اس کے جواب میں کہاجائیگا کہ رسول اللہ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت قرار دینے کی وجہ سے یہ ہے کہ رسول اللہ کی اطاعت اس لحاظ سے اللہ کی اطاعت کے ساتھ موافقت ومطابقت رکھتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے اندر اللہ کے اوامر پیش نظر ہوتے ہیں۔
جہاں تک امر کا تعلق ہے تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ کہنے والاکسی سے کہے، افعل (فلاں کام کرلے) اس مفہوم کے تحت یہ درست نہیں ہوگا کہ دوامر کرنے والوں سے ایک امر صادر ہو جس طرح دو کہنے والوں سے ایک قول اور دوکام کرنے والوں سے ایک کام صادر ہونادرست نہیں ہوتا۔
Ayahs 4:71–75جنگ کی تیاری ہر وقت ضروری ہے
قول باری ہے (یا ایھا الذین امنواخذور حذرکم فانفروا ثبات او انفرو جمیعا) اے ایمان والو، مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہو، پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلوایا اکٹھے ہوکر) ایک قول ہے کہ ثبات کے معنی جماعتوں کے ہیں، اس کا واحد ثبۃ ہے، ایک قول ہے ثبۃ اس ٹولی یادستے کو کہتے ہیں جو دوسری ٹولیوں اور دستوں سے الگ تھلگ ہو، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ دشمن کے مقابلہ کے لیے الگ الگ دستوں کی شکل میں اس طرح نکلیں کہ ایک دستہ ایک سمت روانہ ہوجائے اور دوسرا دستہ دوسری سمت یا سب مل کر ایک ساتھ نکل پڑیں۔
حضرت ابن عباس ، مجاہد، ضحاک اور قتادہ سے یہی روایت ہے کہ ، قول باری (خذواحذرکم) کے معنی ہیں اپنے اپنے ہتھیار لے لو، ہتھیار کو، حذر، کے نام سے اس لیے موسوم کیا گیا کہ اس کے ذریعے خوف اور ڈر سے بچاؤ حاصل کیا جاتا ہے اس میں یہ معنی ہی محتمل ہے اپنے ہتھار لے کر، اپنے دشمنوں کو خوف زدہ کرو۔ جس طرح قول باری ہے (ولیاخذواحذرھم واسلحتھم) انہیں چاہیے کہ مقابلہ کے لیے تیار رہیں اور اپنااسلحہ لے لیں) ۔
اس آیت میں دشمنوں سے قتال کی غرض سے اسلحہ لے لینے، اور ہتھیار بند ہوجانے اور موقع کی مناسبت سے پھر الگ الگ دستوں کی شکل میں یا اکٹھے ہوکرچل پڑنے کا حکم ہے ، نفور گھبراہٹ کو کہتے ہیں ، جب کوئی شخص گھبرا جائے توکہاجاتا ہے ، نفر نفورا، فلاں شخص گھبرا گیا) ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی چیز سے گھبرا کر کسی شخص کی طرف چلاجائے تو اس وقت کہاجاتا ہے (گھبرا کر اس کی طرف چلا گیا) ۔
آیت کا مفہوم ہے ، اپنے دشمنوں سے قتال کرنے کے لیے چل پڑو، نفراس گروہ اور جماعت کو کہتے ہیں جس کی گھبراہٹ کے اندر پناہ حاصل کی جاتی ہے دشمن کے خلاف جنگ کی طرف بلانے کے لیے دی جانے والی صدا کو نفیر کہتے ہیں، فیصلے کے لیے کسی کے پاس جانے کو منافرہ کہتے ہیں کیونکہ معاملات میں اختلاف پیدا ہوجانے کی صورت میں اسی کاسہارا لیاجاتا ہے۔
ایک قول یہ ہے کہ منافرہ کی اصل یہ ہے کہ لوگ حاکم سے جاکرپوچھتے ہیں کہ مجلس اور مجمع میں ہم میں سے کون زیادہ غالب ہے اس آیت کے بارے میں بھی نسخ کی روایت کی گئی ہے ۔ ابن جریج اور عثمان بن عطاء نے حضرت ابن عباس سے قول باری (فانفروا ثبات اونفروا جمیعا) کی تفسیر کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ گروہوں اور دستوں کی صورت میں ۔
سورت برات میں ارشاد ہے ، (انفروا خفافا وثقالا، ہلکے پھلکے اور بوجھل چل پڑو) تاآخر آیت ، نیز ارشاد ہے (الاتنفروا یعذبکم عذاباالیما) اگر نہیں نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں دردناک عذاب دے گا) ۔
ابن عباس کا قول ہے کہ درج بالا آیات کو اس قول باری نے منسوخ کردیا (وماکان المومنون لینفروا کافۃ فلو لانفر من کل فرقۃ منھم طائفہ، اہل ایمان کو نہیں چاہیے کہ وہ سب کے سب نکل پڑیں یہ کیوں نہ ہو کہ ہر گروہ میں سے ایک حصہ نکل کھڑا ہوا کرے) اور ایک حصہ حضور کے ساتھ ٹھہرا رہے حضور کی معیت میں رہنے والے لوگ وہ ہوں گے جو دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں گے ، اور جب ان کے بھائی غزوات سے واپس آئیں گے توا نہیں اللہ کا خوف دلائیں گے تاکہ وہ بھی اللہ کی کتاب میں نازل ہونے والے احکامات اور حدود کے بارے میں محتاط ہوجائیں۔
Ayahs 4:76–81قول باری ہے (الذین امنوایقاتلون فی سبیل اللہ ، جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں) ایک قول کے مطابق (فی سبیل اللہ ) کے معنی ہیں اللہ کی اطاعت میں کیونکہ یہی اطاعت اللہ کی جنت میں جو اس نے اپنے دوستوں کے لیے تیارکررکھی ہے ثواب کا باعث بنے گی۔ ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد اللہ کا دین ہے جو اس نے مقرر کیا ہے ، تاکہ یہ دین انہیں اللہ کے ثواب اور اس کی رحمت تک پہنچادے اس صورت میں عبارت کی ترتیب یوں ہوگی، فی نصرۃ دین اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت میں قتال کرتے ہیں۔
طاغوت کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ شیطان ہے یہ قول حسن اور شعبی کا ہے ، ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس سے مراد کاہن ہے یعنی غیب کی باتیں بتلانے والا، ایک قول ہے کہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ کے سوا پرستش کی جائے۔
قول باری ہے (ان کید الشیطان کان ضعیفا) یقین جانوا کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں) کید اس کوشش اور دوڑ دھوپ کو کہتے ہیں کہ جو صورت حال کو بگاڑنے کے لیے حیلہ سازی کے ذریعے اور نقصان پہنچانے کی غرض سے کی جائے۔
حسن کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (ان کیدالشیطان کان ضعیفا) اس لیے فرمایا کہ شیطان نے ان کافروں سے کہا تھا کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں یہ غالب آئیں گے اس لیے یہ کمزور نصرت کے مقابلے میں اپنے دوستوں کے لیے اس کی نصرت بہت کمزور ہوتی ہے۔
Ayah 4:82قول باری ہے (الذین امنوایقاتلون فی سبیل اللہ ، جو لوگ صاحب ایمان ہیں وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں) ایک قول کے مطابق (فی سبیل اللہ ) کے معنی ہیں اللہ کی اطاعت میں کیونکہ یہی اطاعت اللہ کی جنت میں جو اس نے اپنے دوستوں کے لیے تیارکررکھی ہے ثواب کا باعث بنے گی۔ ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد اللہ کا دین ہے جو اس نے مقرر کیا ہے ، تاکہ یہ دین انہیں اللہ کے ثواب اور اس کی رحمت تک پہنچادے اس صورت میں عبارت کی ترتیب یوں ہوگی، فی نصرۃ دین اللہ تعالیٰ (اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت میں قتال کرتے ہیں۔
طاغوت کے بارے میں ایک قول ہے کہ یہ شیطان ہے یہ قول حسن اور شعبی کا ہے ، ابوالعالیہ کا قول ہے کہ اس سے مراد کاہن ہے یعنی غیب کی باتیں بتلانے والا، ایک قول ہے کہ اس سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کی اللہ کے سوا پرستش کی جائے۔
قول باری ہے (ان کید الشیطان کان ضعیفا) یقین جانوا کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں) کید اس کوشش اور دوڑ دھوپ کو کہتے ہیں کہ جو صورت حال کو بگاڑنے کے لیے حیلہ سازی کے ذریعے اور نقصان پہنچانے کی غرض سے کی جائے۔
حسن کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (ان کیدالشیطان کان ضعیفا) اس لیے فرمایا کہ شیطان نے ان کافروں سے کہا تھا کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں یہ غالب آئیں گے اس لیے یہ کمزور نصرت کے مقابلے میں اپنے دوستوں کے لیے اس کی نصرت بہت کمزور ہوتی ہے۔