4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 4:136–137

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ الْكِتٰبِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاللّٰهِ وَ مَلٰٓئِكَتِهٖ وَ كُتُبِهٖ وَ رُسُلِهٖ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:136 in the Quran reader

مومنو ! خدا پر اور اس کے رسول پر اور جو کتاب اس نے اپنے پیغمبر (آخر الزماں ﷺ پر نازل کی ہے اور جو کتابیں اس سے پہلے نازل کی تھیں سب پر ایمان لاؤ اور جو شخص خدا اور اسکے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں اور روز قیامت سے انکار کرے وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑا

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ سَبِیْلًاؕ Open ayah 4:137 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر ایمان لائے پھر کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ان کو خدا نہ تو بخشے گا اور نہ سیدھا راستہ دکھائے گا

مومنوں کو ایمان لانے کا حکم دیا گیا قول باری ہے یایھا الذین امنوا امنوباللہ و رسولہ۔ اے ایمان لانے والو ! ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر) اس کی تفسیر میں ایک قول ہے ” اے وہ لوگو جو محمد ﷺ سے پہلے رسولوں پر ایمان لائے ہو اللہ پر اور محمد ﷺ پر بھی ایمان لائو اور اس شریعت پر بھی جو حضور ﷺ اللہ کی طرف سے لے کر آئے ہیں “۔ اس لئے کہ جب یہ لوگ انبیاء سابقین پر ان نشانیوں کی بنا پر ایمان لائے تھے جو ان انبیاء کے ساتھ آئی تھیں تو اسی علت کی بنا پر حضور ﷺ پر بھی ایمان لانا ان پر لازم ہوگیا ہے۔ ایک اور جہت سے بھی ان کے لئے یہ لازم ہے کہ انبیاء سابقین کی کتابوں میں حضور ﷺ کی بشارت موجود ہے اب جبکہ یہ لوگ ان انبیاء پر ایمان لے آئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان انبیاء نے جو خبریں دیں ان کی بھی انہوں نے تصدیق کی تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ لوگ حضور ﷺ پر بھی ایمان لائیں کیونکہ ان انبیائے کرام نے حضور ﷺ کی نبوت کی خبریں دی تھیں۔ اس طرح آیت کے ذریعے ان لوگوں پر حجت قائم کردی گئی اور ان پر تمام حجت ہوگیا آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اس میں ان لوگوں سے خطاب ہے جو حضور ﷺ پر ایمان رکھتے ہیں انہیں اس ایمان پر مداومت کرنے اور اس پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ واللہ اعلم۔ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کرنا ارشاد باری ہے ان الذین امنواثم کفرواثم امنو ثم کفرواثم ازدادوکفراً ۔ رہے وہ لوگ جو ایمان لائے پھر کفر کیا پھر ایمان لائے پھر کیا کیا پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے) ۔ قتادہ کا قول ہے کہ اس سے مراد یہود ونصاریٰ ہیں، یہود تو رات پر ایمان لے آئے پھر اس کی مخالفت کر کے کفر کا ارتکاب کرلیا اسی طرح یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اور ان کی مخالفت کر کے کفر میں مبتلا ہوگئے۔ یہی حالت نصاریٰ کی تھی کہ وہ انجیل پر ایمان لے آئے اور پھر اس کی مخالفت کر کے کفر کا ارتکاب کرلیا۔ سی طرح یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے بعد ان کی مخالفت کر کے کفر میں پھنس گئے پھر ان دونوں گروہوں نے قرآن مجید اور حضور ﷺ کی مخالفت کر کے اپنے کفر میں اور اضافہ کرلیا۔ مجاہد کا قول ہے کہ آیت منافقین کے بارے میں ہے، پہلے یہ لوگ ایمان لے آئے پھر مرتد ہوگئے پھر ایمان لے آئے اور پھر مرتد ہوگئے اور اسی ارتداد کی حالت میں دنیا سے چل بسے بعض حضرات کا قول ہے کہ اس سے اہل کتاب کا ایک گروہ مراد ہے اس گروہ نے اہل اسلام کو شک میں مبتلا کرنے کی غرض سے یہ طریق کار اختیار کیا تھا کہ حضور ﷺ پر ایمان کا اظہار بھی کرتا اور انکار و کفر کا بھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے اس طریق کار کی اپنے اس قول میں وضاحت کردی ہے۔ وقالتہ الطالفۃ من اھل الکتاب امنوابالذی انزل علی الذین امنو وجہ النفاراکفروا اخرہ لعلھم یرجعون۔ اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صحیح ایمان لائو اور شام کو اس سے انکار کر دو شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھرجائیں) ۔ ابوبکرحبصاص کہتے ہیں کہ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ مرتد جب تو بہ کرلے تو اس کی توبہ قبول کرلی جائے اسی طرح زندیق کی توبہ بھی قابل قبول ہے کیونکہ آیت میں زندیق یعنی بےدین اور باطنی طور سے کافر اور دوسرے کافروں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔ اسی طرح بار بار کفر کے بعد توبہ قبول کرلینے اور ایمان کے اظہار پر اس کے مومن ہونے کے حکم میں کوئی فرق نہیں رکھا گیا ہے۔ مرتد اور زندیق سے توبہ کا مطالبہ کرنے کے بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے امام ابوحنیفہ امام ابویوسف امام محمد اور زفر کا اصل یعنی مبسوط میں یہ قول ہے کہ مرتد سے جب تک توبہ کا مطالبہ نہ کرلیا جائے اسے قتل نہیں کیا جائے لیکن اگر کسی نے تو بہ کا مطالبہ کرنے سے پہلے کسی مرتد کو قتل کردیا تو اسے تاوان ادا کرنا نہیں پڑے گا۔ بشربن الولید نے امام ابویوسف سے اس زندیق کے بارے میں جو اسلام کا اظہار کرتا ہو یہ روایت نقل کی ہے ” امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ میں مرتد کی طرح اس سے بھی توبہ کا مطالبہ کرورں گا اگر یہ مسلمان ہوجائے تو اسے جانے دوں گا اور اگر اسلام لانے سے انکار کرے تو اس کی گردن اڑا دوں گا “۔ امام ابوحنیفہ کی اس رائے پر امام یوسف تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ” ایک عرصے تک امام ابوحنیفہ اسی رائے پر قائم رہے لیکن جب آپ نے زنادقہ کی حرکتیں دیکھیں اور انہیں ان حرکتوں کا اعادہ کرتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اپنی رائے بدل لی اور فرمایا کہ اب میری رائے یہ ہے کہ اگر میرے پاس کوئی زندیق لایا جائے تو اس سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر اس کی گردن اڑا دینے کا حکم دوں گا “ اگر قتل ہونے سے پہلے پہلے وہ توبہ کرلے گا تو اسے جانے دوں گا “ سلیمان بن شعیب نے اپنے والد سے اور انہوں نے امام ابویوسف سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا ” جب زندیق یہ دعویٰ کرے کہ اس نے توبہ کرلی ہے تو میں اسے محبوس کردوں گا یہاں تک کہ مجھے اس کی توبہ کی حقیقت کا علم ہوجائے “۔ امام محمد نے سیرکبیر میں امام ابویوسف سے اور انہوں نے امام ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے کہ مرتد پر اسلام پیش کیا جائے گا اگر وہ اسلام قبول کرلے تو فبہا ورنہ اسی جگہ اس کی گردن اڑا دی جائے گی البتہ اگر وہ کچھ مہلت طلب کرے تو اسے تین دن کی مہلت دی جائے گی۔ امام محمد نے اس سلسلے میں کسی اختلاف کی نشاندہی نہیں کی ہے۔ ابوجعفر طحاوی نے کہا کہ انہیں سلیمان بن شعیب نے اپنے والد سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے امام ابویوسف سے فقہی اقوال کے نوادر میں جن کے متعلق ان کا بیان ہے کہ امام ابویوسف نے انہیں اپنے امالی (شاگردوں کو زبانی طور پر لکھوائے گئے مسائل) میں شامل کرلیا تھا درج ذیل قول نقل کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ ” زندیق کو خفیہ طور پر قتل کر دوکیون کہ اس کی توبہ کی کوئی شناخت اور حقیقت نہیں ہوتی “۔ امام ابویوسف نے اس قول سے کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا ابن القاسم نے امام مالک سے ذکر کیا ہے کہ مرتد پر تین دفعہ اسلام پیش کیا جائے گا۔ اگر وہ اسلام قبول کرلے گا تو ٹھیک ہے ورنہ اسے قتل کردیا جائے گا۔ اگر اس نے خفیہ طور پر ارتداد اختیار کرلیا ہو تو اسے قتل کردیا جائے گا اور توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا جس طرح زنادقہ کے قتل کا مسئلہ ہے۔ توبہ کا مطالبہ تو صرف ایسے شخص سے کیا جائے گا جو اپنے اس دین کا اظہار کرتا ہو جسے اس نے اسلام چھوڑ کر اپنا لیا تھا۔ امام مالک کا قول ہے کہ زنادقہ سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں قتل کردیا جائے گا البتہ قدریہ (مسلمانوں کے ایک فرقے کا نام ہے جو خیر کی نسبت اللہ کی طرف کرتا تھا اور شر کی نسبت کسی اور کی طرف) فرقے سے تعلق رکھنے والوں سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ امام مالک سے پوچھا گیا کہ ان سے توبہ کا کس صورت میں مطالبہ کیا جائے گا۔ آپ نے فرمایا :” ان سے کہا جائے گا کہ اپنے عقائد سے دست بردار ہو جائو اگر وہ ایسا کرلیں گے تو فبہا ورنہ انہیں قتل کردیا جائے گا۔ اگر یہ لوگ علم کا اقرار کرلیں گے تو انہیں قتل نہیں کیا جائے گا “۔ امام مالک نے زید بن اسلم سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا من غیردینہ فاضر بواعنقہ۔ جو شخص اپنا مذہب تبدیل کرے اس کی گردن ماردو۔ امام مالک فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کا یہ حکم ان لوگوں کے متعلق ہے جو اسلام سے دست بردار ہوجائیں۔ اور اس کا اقرار نہ کریں ان لوگوں کے متعلق نہیں ہے جو یہودیت سے نکل کر نصرانیت میں داخل ہوگئے ہوں یا نصرانیت سے نکل کر یہودیت کو گلے لگا لیا ہو۔ امام مالک کا قول ہے کہ جب مرتد اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کی گردن ماری نہیں جائے گی۔ یہ اچھا اقدام ہوگا کہ مترد کو تین دن تک مہلت دے دی جائے یہ بات مجھے بہت پسند ہے۔ حسن بن صالح کا قول ہے کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ ضرور کیا جائے گا خواہ اس نے اپنے طور پر سو مرتبہ کیوں نہ توبہ کرلی ہو۔ لیث کا قول ہے کہ لوگ ایسے لوگوں سے توبہ کا مطالبہ نہیں کرتے جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے ہوں اور پھر ان کے خلاف ارتداد کی گواہی قائم ہوگئی ہو۔ عادل گواہوں کی گواہی پر انہیں قتل کردیا جائے گا خواہ انہوں نے توبہ کرلی ہو یا نہ کی ہو۔ امام شافعی کا قول ہے کہ مرتد سے ظاہری طور پر توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا اسی طرح زندیق سے بھی اگر توبہ نہیں کرے گا تو قتل کردیا جائے گا۔ تین دفعہ توبہ کے مطالبہ کے سلسلے میں دو قول ہیں ایک تو حضرت عمر ؓ کی روایت ہے دوسرا قول یہ کہ اس میں تاخیر نہیں کی جائے گی کیونکہ حضور ﷺ نے اس بارے میں کسی قسم کے نرم رویے کا حکم نہیں دیا۔ یہ ظاہر حدیث ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ سفیان نے جابر سے اور انہوں نے شعبی سے روایت کی ہے کہ مترد سے تین مرتبہ توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا پھر انہوں نے آیت زیر بحث تلاوت کی۔ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے مترد سے تین مرتبہ توبہ کا مطالبہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا من بدل دینہ فاقتلوہ) اس میں اس سے توبہ کے مطالبے کا ذکر نہیں ہے۔ البتہ اس روایت میں اس بات کا جواز موجود ہے کہ اسے اس پر محمول کیا جائے کہ وہ قتل کا مستحق ہوچکا ہے اور یہ بات اسے اسلام کی دعوت دینے اور توبہ کی طرف راغب کرنے میں مانع نہیں ہے کیونکہ قول باری ہے ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ۔ اپنے رب کی راہ کی طرف حکمت اور عمدہ موعظت کے ذریعے بلائو) ۔ نیز ارشاد باری ہے قل ھذہ سبیلی ادعوا الی اللہ علی بصیرۃ انا ومن اتبعنی، اللہ نے دین اسلام کی طرف بلانے کا حکم دیا اور اس میں مرتد اور غیر مرتد کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا۔ ظاہر آیت تمام کافروں کو دعوت اسلام دینے کی طرح مترد کو بھی اس کی دعوت دینے کا مقتضی ہے مرتد کو دعوت اسلام دینے کا مطلب اس سے توبہ کا مطالبہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل للذین کفروا ان ینتھوا یغفرلھم ماقد سلف۔ آپ کافروں سے کہہ دیجئے کہ اگر وہ باز آجائیں تو ان کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے) یہ حکم ایمان کی دعوت دینے کو بھی متضمن ہے۔ اس آیت سے زندیق سے توبہ کے مطالبے پر بھی استدلال کیا جاتا ہے کیونکہ لفظ کا عموم اس کا متقاضی ہے۔ اسی طرح قول بارای ان الذین امنو اثم کفرواثم امنواثم کفروا) نے زندیق اور غیر زندیق میں کوئی فرق نہیں کیا۔ اس لئے ظاہر آیت اس کے اسلام کو قبول کرلینے کا متقاضی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ قول باری قل للذین کفروا ان ینتھوا یغفرلھم ماقد سلف) میں مرتد سے قتل کا حکم دور ہوجانے پر کوئی دلالت نہیں ہے۔ اس لئے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس کے سارے گناہ اگرچہ معاف ہوجائیں گے لیکن پھر بھی وہ واجب القتل ہوگا جس طرح محصن زانی تائب ہونے کے باوجود بھی رحم کردیا جائے گا اور کسی شخص کا قاتل توبہ کرنے کے باوجود قابل گردن زدنی ہوگا۔ اس کے جواب میں کہا جائے کہ قول باری ان ینتھوایغفرلھم ماقد سلف۔ اس کے گناہوں کی بخشش اور اس کی توبہ کی قبولیت کا مقتضی ہے کیونکہ اگر اس کی توبہ قابل قبول نہ ہوتی تو اس کے گناہوں کی بخشش بھی نہ ہوتی۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ درست ہے اور دنیا اور آخرت کے احکام کے لحاظ سے اس کی توبہ کی قبولیت بھی صحیح ہے نیز کافر اس بنا پر قتل کا سزا وار ہوتا ہے کہ وہ کفر پر قائم رہتا ہے لیکن جب وہ کفر کی حالت سے ایمان کی طرف منتقل ہوجاتا ہے تو اس سے وہ سبب زائل ہوجاتا ہے جو اس کے قتل کا موجب تھا اور اس کا خون بہانا ممنوع ہوجاتا ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ایک شخص جو ارتداد کا کھلم کھلا اظہار کرتا ہے جب اسلام کا اظہار کرلیتا ہے تو وہ اپنے خون کو محفوظ کرلیتا ہے یہی کیفیت زندیق کی بھی ہے حضرت ابن عباس ؓ اس مرتد کے متعلق روایت کرتے ہیں جو بھاگ کر مکہ پہنچ گیا تھا۔ اس نے وہاں سے اپنے لوگوں کو لکھا تھا کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کرو کہ میرے لئے توبہ کی کوئی گنجائش ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کیف یھدی اللہ قوماً کفروا بعدایمانھم، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کیسے ہدایت دے سکتا ہے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے) تا قول باری الا الذین تابوا من بعد ذلک واصلحوا۔ مگر وہ لوگ جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور اپنا رویہ درست کرلیں) اس مرتد کے رشتہ داروں نے اسے یہی لکھ بھیجا جس پر وہ واپس آکر مسلمان ہوگیا اس کے ظاہری قول پر توبہ کا حکم لگایا گیا اس لئے اس پر عمل کرتے ہوئے ایسے شخص کے باطن کو نظر انداز کر کے اس کے ظاہری قول پر حکم لگانا واجب ہوگیا۔ جو شخص یہ کہے کہ ” جب ایک شخص باطنی طور پر کافر ہو میں اس کی توبہ کو نہیں پہچانتا “۔ تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ ہم اس کے باطنی اعتقاد کی حقیقت کا اعتبار کرنے کے مکلف نہیں ہیں کیونکہ ہمیں کسی کے باطن تک رسائی نہیں ہوتی اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے ہمیں کسی پر محض گمان کی بنیاد پر حکم لگانے کی ممانعت کردی ہے۔ چناچہ ارشاد باری ہے اجتنبوا کیثراً من الظن ان بعض الظن ثم۔ بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو کیونکہ بعض گمان گناہ کے موجب ہوتے ہیں) اور رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ایاکم وانص مانہ کذب الحدیث۔ گمان سے کام لینے سے بچو کیونکہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے) ۔ ارشاد باری ہے ولاتقف مالیس لک بہ علم۔ جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ پڑو) نیز فرمایا اذاجاء کم المومنات مھا جو ات فامتنوھن اللہ اعلم بایمانھن۔ جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان لو، اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کے بارے میں بہتر جانتا ہے) ۔ یہ بات واضح ہے کہ آیت میں یہ مراد نہیں ہے کہ ان عورتوں کے ضمائر اور اعتقادات کے متعلق حقیقی طور پر علم حاص کرلیا جائے بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ ان کے قول کی بنا پر ان سے ایمان کا جو ظہور ہوجائے اس کا اعتبار کرلیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کو علم قرار دیا۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ دنیاوی احکام میں ضمائر یعنی دلوں میں پوشیدہ باتوں کا اعتبار نہیں کیا جاتا بلکہ اعتبار صرف قول کی بنا پر ظاہر ہونے والی باتوں پر کیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولاتقولوانمن القی الیکم السلام لست مومناً ۔ جو شخص بڑھ کر تمہیں سلام کرے اس سے تم یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے) ۔ اس میں تمام کافروں کے لئے عموم ہے حضور ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید ؓ جب انہوں نے اس شخص کو قتل کردیا تھا جس نے زبان سے کلمہ طیبہ کا اقرار کیا تھا، اور حضرت اسامہ ؓ نے اس کے اس کلمہ پڑھنے کو اپنی جان بچانے کے لئے ایک حیلہ پر محمول کیا تھا۔ فرمایا تھا ھلاشفقت عن قلبہ۔ تم نے اس کا دل پھاڑ کر کیوں نہیں دیکھ لیا) ۔ سفیان ثوری نے محمد بن اسحاق سے اور انہوں نے حاثہ بن مضرب سے روایت کی ہے کہ حارثہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ میرے دل میں عرب کے کسی شخص کے خلاف کوئی کینہ اور عداوت نہیں ہے میرا گزر بنی حنیفہ کی مسجد کے پاس سے ہوا تو میں نے دیکھا کہ یہ لوگ مسلیمہ کذاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے آدمی بھیج کر ان لوگوں کو اپنے پاس بلوایا اور ان سے توبہ کا مطالبہ کیا۔ ان میں ابن النواحہ واحد شخص تھا جس سے حضرت عبداللہ ؓ نے توبہ کرنے کو نہیں کہا اور یہ فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ” ابن النواحہ، اگر تم ایلچی بن کر نہ آئے ہوتے تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا “۔ پھر ابن النواحہ سے مخاطب ہو کر فرمایا :” آج تم قاصد بن کر نہیں آئے لیکن یہ تو بتائو کہ تمہارا وہ اسلام کہاں گیا جس کا تم اظہار کرتے پھرتے تھے ” ابن النواحہ نے یہ سن کر کہا کہ میں تو صرف تم لوگوں سے بچنے کے لئے اسلام کا اظہار کرتا تھا۔ حضرت عبداللہ ؓ نے قرظہ بن کعب کو بازار میں لے جا کر اس کی گردن اڑا دینے کا حکم دیا پھر فرمایا ” جو شخص چاہے ابن النواحہ کو بازار میں کٹی ہوئی گردن کے ساتھ دیکھ لے “۔ اس روایت سے وہ استدلال کرتے ہیں جو زندیق کی توبہ کی عدم قبولیت کے قائل ہیں اس لئے کہ حضرت عبداللہ ؓ نے ان تمام لوگوں سے توبہ کا مطالبہ کیا اور انہیں اس کی ترغیب دی یہ لوگ کھلم کھلا اپنے کفر کا اظہار کرتے تھے لیکن آپ نے ابن النواحہ کو توبہ کی ترغیب نہیں دی اور نہ اس سے اس کا مطالبہ کیا کیونکہ اس نے یہ اقرار کرلیا تھا کہ وہ کفر چھپائے ہوئے تھا۔ وہ صرف اپنی جان بچانے کی خاطر اسلام کا اظہار کرتا تھا۔ ابن النواحہ کا قتل صحابہ کرام کی موجودگی میں ہوا تھا کیونکہ روایت میں اس کا بھی ذکر ہے کہ حضرت عبداللہ نے اس کے متعلق صحابہ کرام سے مشورہ لیا تھا۔ زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ کوفہ میں کچھ ایسے لوگ پکڑے گئے جو مسلیمہ کذاب پر ایمان رکھتے تھے عبیداللہ نے ان کے متعلق حضرت عثمان ؓ کو لکھا، حضرت عثمان ؓ نے جواب میں تحریر کیا کہ ان لوگوں پر دین حق پیش کرو اور ان سے کلمہ طیبہ پڑھنے کا مطالبہ کرو جو شخص لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ : پڑھ لے اور مسیلمہ کے دین سے بیزاری کا اظہار کرے اسے چھوڑ دو اور قتل نہ کرو۔ اور جو شخص مسیلمہ کے مذہب پر قائم رہے اسے قتل کر دو کچھ لوگوں نے توبہ کا اظہار کیا اور لوگ مسیلمہ کے مذہب پر جمے رہے اور قتل کردیئے گئے۔ مومنوں کے علاوہ کفار سے مدد نہ لی جائے
Ayahs 4:138–139

بَشِّرِ الْمُنٰفِقِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمَاۙ Open ayah 4:138 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ منافقوں (یعنی دوزخے لوگوں) کو بشارت سن دو کہ ان کے لئے دکھ دینے والا عذاب (تیار) ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَاِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًاؕ Open ayah 4:139 in the Quran reader

جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں کیا یہ ان کے ہاں عزت (حاصل) کرنا چاہتے ہیں ؟ تو عزت سب خدا ہی کی ہے

قول باری ہے بشر المنافقین بان لھم عذاباً الیماً الذین یتخذون الکافرین اولیاء من دون المومنین۔ منافقین کو خوش خبری سنا دو کہ ان کے لئے ایک دردناک عذاب تیار ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ ایک قول ہے کہ انہوں نے کافروں کو اپنا مددگار اور پشت پناہ بنا لیا تھا کیونکہ اس بات کا وہم ہوگیا تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ عداوت اور دشمنی نیز ان کے ساتھ صف آراء ہونے کی بنا پر کافروں میں زبردست یکجہتی قوت و طاقت پیدا ہوگئی ہے اور ان کا اب بڑا دبدبہ ہے لیکن ان منافقین کو اللہ کے دین کا کچھ علم نہیں تھا اور اگر انہیں اس کا علم ہوتا تو وہ مسلمانوں کو اپنا دوست بناتے۔ آیت میں جن منافقین کا ذکر کیا گیا ان کی یہ خصوصیت تھی۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمانوں کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ کافروں کے مقابلے کے لئے دوسرے کافروں سے مدد حاصل کریں کیونکہ انہیں غلبہ حاصل ہونے کی صورت میں کفر غالب آجائے گا۔ ہمارے اصحاب کا یہی مسلک ہے۔ عزت کفار کے پاس نہیں ہے قول باری ایبتغون عندھما لغزۃ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ) ہمارے اصحاب کے درج بالا قول کی صحت پر دلالت کرتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ کافروں سے مدد لینا جائز نہیں ہے۔ اس لئے کہ جب انہیں غلبہ حاصل ہوگا تو اس صورت میں مدد کرنے والے کافروں کو بھی غلبہ حاصل ہوگا اور انہیں ابھرنے کا بھی موقع ملے گا جس کے نتیجے میں کفر کو پروان چڑھنے کے لئے زمین ہموار ہوجائے گی۔ اگر یہ کہا جائے کہ آیت میں منافقین کا ذکر ہے جو کافر تھے اس سے مسلمانوں کے متعلق یہ استدلال کیسے ہوسکتا ہے کہ کافروں سے ان کی استعانت جائز نہیں ہے۔ اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ کافروں سے استعانت ممنوع ہے تو اس کے بعد اس حکم میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ مدد حاصل کرنے والے کون لوگ ہیں مسلمان ہیں یا غیر مسلم۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی فعل پر کسی قوم کی مذمت کرے دے تو اس فعل کی قباحت مسلم ہوجاتی ہے اور اس کے بعد کسی بھی شخص کو اس کا ارتکاب جائز نہیں رہتا۔ البتہ اگر کوئی ایسی دلالت وجود میں آجائے جو اس کے جواز کی نشاندہی کرتی ہو تو یہ الگ بات ہوگی ایک قول یہ ہے کہ عزت کے اصل معنی شدت اور سختی کے ہیں۔ اسی بنا پر سخت اور ٹھوس زمین کو عزاز کا نام دیا جاتا ہے۔ ایک محاورہ ہے ” قداسعزالمرض علی المریض “ جو اس وقت بولا جاتا ہے جب مریض کا مرض شدت اختیار کرلے۔ اس سے یہ محاورہ بھی ہے عزعلی کذا میرے لئے یہ کام مشکل ہوگیا ہے۔ اسی طرح کسی چیز کی کامیابی پر یہ فقرہ کہاجاتا ہے ” عزاشئی “ کیونکہ اس صورت میں اس چیز کا حصول بڑی دقت اور جان جوکھوں کا کام ہوجاتا ہے جب کوئی شخص کی معاملہ میں دوسرے شخص کے ساتھ سختی سے پیش آئے تو کہا جاتا ہے ” عازہ فی الامر “ اس نے اس معاملے میں اس کے ساتھ بڑی سختی کی ہے) اس طرح اگر بکری کے تھن کی تنگی کی بنا پر اس کا دوہنا بڑا کٹھن ہوجائے تو ایسی بکری کو ” شاۃ عزور “ کہتے ہیں۔ عزت بمعنی قوت دراصل شدت کے اس معنی سے ماخوذ ہے عزیز اس شخص کو کہتے ہیں جو بڑا قوی اور اپنے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہو کہ اس پر ہاتھ ڈالنا آسان نہ ہو۔ آیت اس حکم کو متضمن ہے کہ کفار کو اپنا دوست اور مددگار بنانا لیکن ان کے سہارے قوت و طاقت حاصل کرنا اور اس مقصد کے لئے ان کی طرف رجوع کرنا سب ممنوع ہے۔ ہمیں ایک شخص نے روایت کی ہے کہ جس پر روایت کے سلسلے میں کوئی انگشت نمائی نہیں کرسکتا۔ انہیں عبداللہ بن اسحاق بن ابراہیم الدوری نے، انہیں یعقوب بن حمید بن کا سب نے انہیں عبداللہ بن عبداللہ اموی نے حسن بن الحر سے انہوں نے یعقوب بن عتبہ سے، انہوں نے سعید بن المسیب سے، انہوں نے حضرت عمر ؓ سے، انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا، من اعتزبالعید ذلہ اللہ، جس شخص نے غلاموں کے ذریعے عزت و قوت حاصل کی اللہ تعالیٰ اسے ذیلی کر دے گا) یہ ان لوگوں پر محمول ہے جو کافروں اور فاسقوں کے سہارے عزت و قوت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے بالمقابل مسلمانوں کے سہارے عزت و قوت حاصل کرنا کوئی قابل مذمت بات نہیں ہے۔ ارشاد باری وللہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین اللہ۔ اس کے رسول اور اہل ایمان کے لئے عزت و غلبہ ہے) قول باری ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ اللہ جمیعاً ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے) میں کافروں کے سہارے قوت و عزت حاصل کرنے کی نہی کی مزید تاکید ہے اور یہ خبر دی گئی ہے کہ عزت صرف اللہ کو حاصل ہے کافروں کو نہیں۔ اس مفہوم کو کئی صورتوں میں بیان کیا گیا ہے ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی ذات کے لئے عزت کا اطلاق ممتنع ہے کیونکہ اللہ کی عزت اور قوت کے مقابلے میں کسی اور کی عزت اور قوت کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے اور نہ ہی وہ کسی شمار و قطار میں ہے اس لئے کہ اللہ کے مقابلے میں کسی اور کی عزت اور قول اس قدر حقیر اور پست ہوتی ہے کہ اس پر اس لفظ کا اطلاق کسی طرح سجتا ہی نہیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ کی تمام مخلوقات میں جسے بھی کوئی عزت و قوت حاصل ہے اس کا سرچشمہ اللہ کی ذات ہے اس نے ہی اسے یہ عزت و قوت بخشی ہے اس لئے تمام عزت و قوت کا دراصل مالک وہی ہے اس لئے کہ وہ خود اپنی ذات کے لحاظ سے عزیز یعنی قوی ہے اور اس کائنات میں جس کسی کی طرف عزت کا کوئی مفہوم اور کوئی صورت منسوب ہے اس کا منبع اور سرچشمہ بھی وہی ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کفار اللہ کی نظروں میں ذلیل ہیں اس لئے ان سے عزت کی صفت منتقی ہوگئی ہے اور یہ عزت صرف اللہ کو حاصل ہے یا ان لوگوں کو جن کے متعلق اللہ کی طرف سے اس کی نسبت کی خبر دی گئی ہے یعنی اہل ایمان اس بنا پر کافروں کو اگر عزت اور قوت کی کوئی صورت حاصل بھی ہوجائے پھر بھی وہ اس کے مستحق نہیں ہوتے کہ ان پر اس لفظ کا اطلاق کیا جاسکے۔ کفار کی ہم نشینی سے گریز کیا جائے حی کہ وہ اسلام کا مذاق اڑائیں۔
Ayahs 4:140–141

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ١ۖ٘ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ Open ayah 4:140 in the Quran reader

اور خدا نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہو رہا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں ان کے پاس مت بیٹھو ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہوجاؤ گے کچھ شک نہیں کہ خدا منافقوں اور کافروں (سب کو) دوزخ میں اکٹھا کرنے والا ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِكُمْ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللّٰهِ قَالُوْۤا اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ۖ٘ وَ اِنْ كَانَ لِلْكٰفِرِیْنَ نَصِیْبٌ١ۙ قَالُوْۤا اَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَیْكُمْ وَ نَمْنَعْكُمْ مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ فَاللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰهُ لِلْكٰفِرِیْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:141 in the Quran reader

جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں اگر خدا کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اور اگر کافروں کو فتح نصیب ہو تو (ان سے) کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے ؟ اور تم کو مسلمانوں کے ہاتھ سے بچایا نہیں ؟ تو خدا تم میں قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا اور خدا کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا

قول باری ہے وقد نزل علیکم فی الکتاب ان اذاسمعتم ایات اللہ یکفربھا و یستھمزا بھافلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ۔ اللہ اس کتاب میں تمہیں پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ دوسری بات میں نہ لگ جائیں) ۔ آیت میں ان لوگوں کی مجالست اور ہم نشینی کی ممانعت ہے جو کھلم کھلا کفر بکتے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی آیات کا استہزاء کرتے اور مذاق اڑاتے ہوں۔ آیت میں لفظ حتی کے اندر دو معنوں کا احتمال ہے۔ اول یہ کہ یہ کفر بکنے والوں کے ساتھ بیٹھنے کی ممنانعت کی غایت اور انتہا کے معنی دے رہا ہے یعنی جب یہ لوگ کفر بکنا اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا چھوڑ دیں گے تو ممانعت کا حکم بھی ختم ہوجائے گا اور ان کی ہم نشینی جائز ہوجائے گی۔ دوم یہ کہ کفر بکنے والے جب مسلمانوں کو دیکھتے تو کفر بکنا اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑانا شروع کردیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ بیٹھا نہ کرو تاکہ وہ اپنے کفر کا اظہار نہ کریں اور کفر میں اور آگے نہ بڑھ جائیں نیز انہیں اللہ کی آیات کے مذاق اڑانے کا موقع بھی ہاتھ نہ آسکے اس لئے کہ یہ سب کچھ ان کے ساتھ تمہاری مجالست کی بنا پر ہوتا ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ واضح ہے حسن سے مروی ہے کہ آیت اس صورت میں مجالست کی اباحت کی مقتضی تھی جب ایسے لوگ دوسری باتوں میں لگ جائیں یہ اباحت بھی اب قول باری فلاتقعدبعدالذکری مع القوم الظالمین، یاد آجانے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو) کی بنا پر منسوخ ہوچکی ہے۔ ایک قول ہے کہ اس سے مراد مشرکین عرب ہیں ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد منافقین ہیں جن کا اس آیت میں ذکر ہوا ہے ایک اور قول کے مطابق اس سے مراد تمام ظالمین ہیں۔ اسلام کا تمسخر اڑانے والوں میں بیٹھے رہو تو تم بھی انہی کی طرح ٹھہرائے جائو گے قول باری ہے انکم اذا مثلھم، اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو) اس کی تفسیر میں دو قول ہیں اول یہ کہ عصیان میں تم انہی ہی کی طرح ہو جائو گے اگرچہ تمہارا یہ عصیان کفر کے درجے تک نہیں پہنچے گا دوم یہ کہ اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم ظاہری طور پر گویا ان کے اس حال پر اپنی رضامندی اور پسندیدگی کا اظہا ر کرتے ہو۔ جبکہ کفر اور اللہ کی آیات کے استہزاء پر اپنی رضا مندی اور پسندیدگی کا خاموش اظہار بھی کفر ہے لیکن جو شخص اس حالت سے نفرت کرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھے گا وہ کفر میں مبتلا نہیں ہوگا اگرچہ ان کے ساتھ بیٹھے بغیر اس کا گزارہ نہ ہوتا ہو۔ آیت میں اس پر دلالت ہو رہی ہے کہ منکر کے ارتکاب کی صورت میں اس کے مرتکب پر تنقید کرنا اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرنا واجب ہے۔ اگر کسی شخص کے لئے ایسے شخص کی مجالست ترک کرنا یا اس فکر کو دور کرنا یا اس جگہ سے اٹھ کھڑا ہونا ممکن نہ ہو تو اس کے انکار اور ناپسندیدگی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ جب تک وہ شخص اس حالت میں رہے اس وقت تک اس سے کراہت کا اظہار کرتا رہے حتی کہ اس کی اس حالت کا خاتمہ ہوجائے اور وہ کسی اور کام میں مصروف ہوجائے۔ ولیمہ، جنازہ وغیرہ میں منکرات سے بیزاری کا اظہار کیا جائے اگر یہ پوچھا جائے کہ جس شخص کے سامنے کسی منکر کا ارتکاب ہو رہا ہو تو آیا اس پر یہ لازم ہوگا کہ وہ اس جگہ سے اتنی دور چلا جائے جہاں سے وہ نظر نہ آسکے اور نہ ہی اس کی آواز سنائی دے تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس رویے کو اپنانے کے حق میں بھی ایک قول ہے بشرطیکہ اس طرح کرنے کی وجہ سے اس پر عائد ہونے والا کوئی حق ترک نہ ہوجائے مثلا کوئی شخص گانے اور عیش و طرب کی باتوں سے دوری اختیار کرتے ہوئے باجماعت نماز کی ادائیگی کا تارک بن جائے یا جنازے کے ساتھ بین اور ماتم کی بنا پر اس کے ساتھ نہ جائے یا ولیمہ میں لہو و لعب کی بنا پر وہاں جانے سے پرہیز کرے وغیر ہ وغیرہ۔ اگر دور چلے جانے میں یہ صورتیں پیش نہ آئیں تو اس کا منکرات سے دور چلے جانا بہتر ہوگا لیکن اگر دوسری صورت ہو یعنی کسی حق کی ادائیگی کا معاملہ ہو تو ایسی صورت میں وہ منکر کی طرف دھیان نہیں دے گا بلکہ اس سے روکتے ہوئے اور بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اوپر عائد ہونے والے حق کی ادائیگی کرے گا۔ کچھ لوگوں کا یہ قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان منافقین نیز کفر بکنے والوں اور اللہ کی آیات کا مذاق اڑانے والوں کی مجالست سے صرف اس لئے منع کیا ہے کہ اس طرح ایسے لوگوں سے اپنے انس کا اظہار ہوتا ہے اور ان کی مجلس میں ہونے والی باتوں میں ان کے ساتھ شرکت ہوجاتی ہے۔ امام ابوحنیفہ نے اس شخص کے متعلق جو کسی دعوت ولیمہ میں شرکت کر رہا ہو اور وہاں لہو و لعب شروع ہوجائے فرمایا ہے کہ اسے وہاں سے نکل نہیں جانا چاہیے آپ نے مزید فرمایا کہ ایک دفعہ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ حسن سے روایت ہے کہ وہ ایک دفعہ ابن سیرین کے ساتھ ایک جنازہ میں گئے وہاں ماتم ہو رہا تھا، ابن سیرین واپس آگئے اور حسن سے جب اس کا ذکر کیا گیا تو حسن نے کہا ” ہم جب کسی باطل چیز کو دیکھ کر اس سے بچنے کے لئے کسی حق بات سے بھی دست بردار ہوجاتے ہیں تو یہ باطل چیز ہمارے دین میں تیزی سے سرایت کر جاتی ہے اس لئے ہم واپس نہیں ہوئے “۔ حسن اس لئے واپس نہیں ہوئے کہ جنازے میں شرکت ایسا حق ہے جس کی ترغیب دی گئی ہے اور اس کا حکم بھی ملا ہے اس لئے کسی اور کی طرف سے ایک معصیت کے ارتکاب کی بنا پر اس حق کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔ اسی طرح ولیمے میں شرکت کا معاملہ ہے حضور ﷺ نے اس میں شرکت کی ترغیب دی ہے اس لئے کسی اور کی طرف سے معصیت کے ارتکاب کی بنا پر اس سے دست بردار ہونا جائز نہیں ہوگا بشرطیکہ شرکت کرنے والا اس معصیت کو ناپسند کرتا ہو۔ بانسری کی آواز پر کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی گئیں ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ہے انہیں ابودائود نے انہیں احمدبن عبداللہ العزانی نے انہیں ولید بن مسلم نے انہیں سعید بن عبدالعزیز نے سلیمان بن موسیٰ سے انہوں نے نافع سے کہ حضرت ابن عمر ؓ کو بانسری کی آواز سنائی دی آپ نے اپنی انگلیاں کانوں میں دے دیں اور راستے سے دور ہٹ گئے پھر نافع سے پوچھا کہ اب بانسری کی آواز آرہی ہے۔ نافع نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے کانوں سے انگلیاں ہٹالیں اور فرمایا کہ میں ایک دفعہ حضور ﷺ کے ساتھ جا رہا تھا آپ کو اس طرح بانسری کی آواز آئی آپ نے بھی اس طرح کیا جس طرح میں نے کیا تھا۔ حضرت ابن عمر ؓ کا یہ اقدام بہتر پہلو کو اختیار کرنے کی بنا پر تھا تاکہ بانسری کی آوازکا اثر دل میں نہ گھر کر جائے اور طیبعت اسے سننے کی عادی نہ ہوجائے جس سے اس کی کراہت ہی دل سے نکل جائے، رہ گئی یہ بات کہ اس کی آواز سے پہلو تہی کرنا واجب ہو تو اس میں وجوب کا کوئی حکم نہیں ہے۔ قول باری ہے ولن یجعل اللہ للکافرین علی المومنین سبیلاً اللہ نے کافروں کے لئے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے) حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آخرت میں کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔ سدی سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی حجت اور دلیل نہیں رکھی ہے یعنی کافروں نے مسلمانوں کو جس طرح قتل کیا تھا اور انہیں ان کے گھروں سے نکال دیا تھا اس میں وہ ظالم تھے ان کے پاس اس کے حق میں کوئی دلیل اور حجت نہیں تھی۔ شوہر مرتد ہوجائے تو بیوی کو طلاق واقع ہوجائے گی ظاہر آیت سے یہ استدلال کیا گیا ہے کہ اگر شوہر مرتد ہوجائے تومیاں بیوی کے درمیان علیحدگی واقع ہوجائے گی اس لئے عقد نکاح کی بنا پر شوہر کو بیوی پر یہ بالادستی حاصل ہوتی ہے کہ وہ اسے اپنے گھر میں روک سکتا ہے اس کی تادیب کرسکتا ہے اور اسے گھر سے نکلنے سے منع کرسکتا ہے اور عورت پر عقد نکاح کے تقاضوں کے مطابق اس کی اطاعت ضروری ہے جس طرح یہ قول باری ہے الرجال قوامون علی النساء مرد عورتوں پر قوام ہیں) ۔ اس لئے ظاہر قول باری ولن یجعل اللہ للکافرین علی المومنین سبیلاً ۔ اس بات کا متقضی ہے کہ شوہر کے ارتداد کی بنا پر دونوں میں علیحدگی ہوجائے اور اس طرح مرتد شوہر کی مسلم بیوی پر عقد نکاح کی وجہ سے حاصل شدہ بالادستی ختم ہوجائے کیونکہ جب تک عقد نکاح باقی رہے گا اس کے حقوق ثابت رہیں گے اور اس پر مرد کی بالادستی باقی رہے گی۔ اگر یہ کہا جائے کہ قو ل باری میں علی المومنین کے الفاظ میں اس لئے عورتیں اس میں داخل نہیں ہوں گی تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ تذکیر کے لفظ کا اطلاق مذکر اور مونث دونوں پر ہوتا ہے جس طرح یہ قول باری ہے ان اصلوۃ کانت علی المومنین کتاباً موقوتاً ۔ بیشک نماز ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے) اس حکم میں مرد اور عورتیں دونوں مراد ہیں۔ اسی طرح یہ آیت ہے یایھا الذین امنوا اتقواللہ) اے ایمان لانے والو ! اللہ سے ڈرو) اسی طرح اور دوسری آیتیں ہیں۔ اس آیت سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ اگر کافر ذمی کی بیوی مسلمان ہوجائے اور شوہر مسلمان نہ ہو تو ان دونوں کے درمیان علیحدگی کرا دی جائے گی، حربی کے بارے میں بھی یہی استدلال ہے کیونکہ ایسے شوہر کے تحت ایک مسلمان بیوی کا رہنا کبھی بھی جائز نہیں ہوسکتا۔ امام شافعی کے اصحاب اس آیت سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اگر کوئی ذمی کسی مسلمان غلام کی خریداری کرے گا تو اس کی یہ خریداری باطل ہوگی کیونکہ خریداری کی وجہ سے ذمی کو مسلمان پر بالادستی حاصل ہوجائے گی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ امام شافعی کے اصحاب نے جو بات کہی ہے وہ اس طرح نہیں ہے اس لئے کہ خریداری وہ سبیل نہیں ہے جس کی آیت میں نفی کی گئی ہے اس لئے کہ خریداری ملکیت نہیں ہوتی ہے۔ ملکیت خریداری کے بعد پیدا ہوتی ہے اور پھر اس وقت وہ ذمی اس مسلمان غلام پر سبیل یعنی بالادستی حاصل کرلیتا ہے اس لئے آیت میں خریداری کی نفی نہیں ہے بلکہ سبیل اور بالادستی کی نفی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ خریداری حصول سبیل پر منتج ہوتی ہے اس لئے جس طرح آیت میں سبیل کا انتفاء ہے اسی طرح خریداری کا انتفاء بھی واجب ہے تو اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ صورت حال اس طرح نہیں کیونکہ اس میں کوئی امتناع نہیں ہے کہ کافر خریدار کا مسلمان غلام پر غلبہ اور سبیل منتفی ہو لیکن اس سبیل پر منتج ہونے والی خریداری جائز ہو۔ معترض نے آیت ہی سے خریداری کی نفی مراد لی ہے اب اگر وہ خریداری کی نفی کے لئے آیت میں سے کسی اور معنی اور مفہوم کا ضمیمہ لگائے گا تو اس سے اس پر لازم آئے گا کہ اس نے آیت سے ہٹ کر استدلال کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ آیت خریداری کی صحت کو مانع نہیں ہے۔ ایک اور پہلو بھی ہے وہ یہ کہ کافر خریدار خریداری کی صحت کی بنا پر مسلمان غلام پر تسلط اور غلبہ یعنی سبیل کا مستحق قرار نہیں پاتا اس لئے کہ خریدار کو اس غلام سے خدمت لینے کی ممانعت ہوتی ہے اور وہ اس غلام میں صرف اتنا ہی تصرف کرسکتا ہے کہ اسے فروخت کرنے کے ذریعے اپنی ملکیت سے خارج کر دے اس لئے اسے اس پر بالادستی یعنی سبیل حاصل نہیں ہوتی۔
Ayahs 4:142–143

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں نہ ان کی طرف ہوتے ہیں اور نہ ان کی طرف اور جس کو خدا بھٹکائے تو تم اس کے لئے کبھی بھی راستہ نہ پاؤ گے

قول باری ہے ان المنافقین یخادعون اللہ وھو خادعھم، یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے) ۔ اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک یہ کہ لوگ اللہ کے نبی ﷺ اور مسلمانوں کو ایمان کے اظہار کے ذریعے دھوکہ دے رہے ہیں تاکہ اپنی جانیں محفوظ کرلیں اور اموال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجایا کریں جبکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دھوکے بازی کی سزا دے کر انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے اس سے ایک فعل کی جزا کو اس فعل سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ کلام میں مزاوجت یعنی الفاظ کی تقریب کا طریقہ ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے فمن اعتذی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل مااعتدی علیکم۔ جو شخص تمہارے ساتھ زیادتی کرے تم بھی اس کے ساتھ اسی طرح زیادتی کرو جس طرح اس نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے) ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ منافقین کا طرز عمل اس شخص کے طرز عمل کی طرح ہے جو اپنے مالک کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہو کیونکہ یہ لوگ ایمان کا اظہار کرتے ہیں اور باطن میں اس کے خلاف عقیدہ چھپائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں اس لحاظ سے دھوکے میں ڈال رکھا ہے کہ مسلمانوں کو ان کا ایمان قبول کرلینے کا حکم دے دیا ہے جبکہ خودان منافقین کو یہ معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں چھپے ہوئے کفر سے بخوبی آگاہ ہے۔ ذکر قلیل کیا ہے قول باری ہے ولایذکرون اللہ الا قلیلاً ۔ اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں) کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کے ذکر اللہ کو قلیل کہا ہے کیونکہ یہ ذکر اللہ کی رضا کی خاظر نہیں بلکہ اور مقصد کے لئے ہوتا ہے اس لئے معنی طور پر یہ قلیل ہے اگرچہ ظاہری طور پر اس کی کثرت ہے۔ قتادہ کا قول ہے کہ اسے قلیل کی صفت سے اس لئے موصوف کیا گیا ہے کہ یہ ریاکاری کے طورپر کیا جاتا ہے۔ اس لئے یہ نہ صرف بےمعنی اور حقیر ہے بلکہ اللہ کے ہاں ناقابل قبول ہے نیز یہ ان منافقین پر وبال ہے۔ ایک قول ہے اس سے مراد ذکر یسیر یعنی تھوڑا سا ذکر ہے وہ اس طرح کہ یہ منافقین لوگوں کو دکھلاوے کے طور پر جس قدر اللہ کا ذکر کرتے ہیں وہ اس سے کہیں کم ہے جس کا انہیں حکم دیا گیا ہے جس طرح مسلمانوں کو ہر حال میں اللہ کو یاد کرنے کا اس آیت میں حکم دیا گیا ہے فاذکرواللہ قیلعاً وقعوداً وعلی جنوبکم، اللہ کو کھڑے ہو کر، بیٹھ کر اور لیٹ کر یاد کرو) ۔ اللہ نے یہ بھی خبر دی ہے کہ منافقین نماز کے لئے کسمساتے ہوئے لوگوں کو دکھلاوے کے طور پر اٹھتے ہیں، کسل اس کیفیت کو کہتے ہیں جو طیبعت میں کسی چیز کی طرف سے اس بنا پر بوجھل پن پیدا کردیتی ہے کہ اس کی ادائیگی میں مشفقت ہوتی ہے اور اسے سرانجام دینے کے لئے دل میں کمزور سا داعیہ اور جذبہ ہوتا ہے۔ چونکہ منافقین کے دلوں میں ایمان کے لئے کوئی جگہ نہیں تھی اس لئے ان میں نماز کا داعیہ پیدا نہیں ہوتا تھا۔ صرف مسلمانوں سے ڈر کر اور انہیں دکھانے کی خاطر وہ نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔
Ayahs 4:144–147

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو۔

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجے میں ہوں گے اور تم ان کو کسی کا مددگار نہ پاؤ گے

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے توبہ کی اور اپنی حالت کو درست کیا اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا اور خاص خدا کے فرمان بردار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے زمرے میں ہوں گے اور خدا عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دیگا

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

اگر تم (خدا کے) شکر گزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو خدا کو تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اور خدا تو قدر شناس اور دانا ہے۔

مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو دوست نہ بنائو قول باری ہے یایھا الذین امنوالاتتخذوا الکافرین اولیاء من دون المومنین۔ اے ایمان والو ! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بنائو) کیونکہ ولی وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے رفیق کی مدد کر کے اور معاملات میں اس کا ہاتھ بٹا کر اس کی سرپرستی کرتا ہے۔ مومن اس لحاظ سے اللہ کا ولی ہوتا ہے کہ وہ اس کی اخلاص نیت کے ساتھ اطاعت کر کے اپنا رشتہ اس کے ساتھ جوڑتا ہے اور اللہ اہل ایمان کا اس لحاظ سے ولی ہوتا ہے کہ ان کی اطاعت پر جزا دے کر ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ آیت کافروں سے مدد لینے ان کی معونت طلب کرنے ان کی طرف جھکائو ظاہر کرنے اور ان پر بھروسہ کرنے کی نہی کی مقتضی ہے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ کافر کو کسی بھی لحاظ سے مسلمانوں کی سرپرستی کرنے کا استحقاق نہیں ہوتا۔ خواہ وہ مسلمان اس کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو یا بیٹے کے سوا کوئی اور کیوں نہ ہو۔ اس میں یہ دلالت بھی ہے کہ ایسے معاملات میں ذمیوں کی معونت حاصل کرنا جائز نہیں ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کے امور میں تصرف کرنے اور ان پر حکومت کرنے کا تعلق ہو۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے یایھا الذین امنوالاتتحذوابطانۃ من دونکم۔ اے ایمان لانے والو ! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بنائو) ہمارے اصحاب نے خرید و فروخت کے لئے کسی ذمی کو اپنا وکیل بنانے نیز مضاربت کے لئے اسے اپنا مال حوالے کرنے کو مکروہ سمجھا ہے یہ آیت ہمارے اصحاب کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔ قول باری ہے واحلصوا دینھم للہ، اور انہوں نے اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کردیا یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ دین کا ہر وہ کام جو ثواب کی خاطر کیا جائے اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ خالص اللہ کی رضا کی خاطر کیا جائے ریاکاری دنیاوی منفعت اور معصیت کے شائبہ سے پاک ہو۔ اس میں یہ دلالت بھی ہے کہ ہر وہ کام جو صرف ثواب کی خاطر کیا جاتا ہے مثلاً نماز اذان اور حج وغیرہ اس پر کسی قسم کا دنیاوی معاوضہ لینے کا کوئی جو از نہیں ہے۔
Ayahs 4:148–160

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر۔ یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنیولا اور صاحب قدرت ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہے کہ تم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

وہ بلا اشتباہ کافر ہے اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے میں عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

(اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ۔ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (آنکھوں سے) دکھا دو ۔ سو ان کے گناہ کی وجہ سے انکو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا۔

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا۔ اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا۔ اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاوز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر بہتان عظیم باندھنے کے سبب۔

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلاتے) تھے قتل کردیا ہے۔ (خدا نے انکو ملعون کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی۔ اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور پیروی ظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں اور انہوں نے عیسیٰ کو یقینا قتل نہیں کیا۔

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور خدا غالب اور حکمت والا ہے۔

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر انکی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں کے۔

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان کو حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے راستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے۔

مظلوم کی آہ سے بچو قول باری ہے لایحب اللہ الجھربالتوء من القول الامن ظلم، اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے، الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم اپنے ظالم کے لئے بددعا کرے “۔ مجاہد سے ایک روایت ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم کی طرف سے ڈھائے جانے والے ظلم کی لوگوں کو اطلاع دے “۔ حسن اور سدی کا قول ہے ” الایہ کہ مظلوم ظالم سے اپنا بدلہ لے لے “۔ فرات بن سلیمان نے ذکر کیا ہے کہ عبدالکریم سے اس قول باری کے معنی پوچھے گئے تو انہوں نے کہا ” یہ وہ شخص ہے جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اور جواب میں تم بھی اسے برا بھلا کہہ دیتے ہو لیکن اگر وہ تمہارے خلاف افتراپردازی کرے تو تم اس کے خلاف افترا پردازی نہ کرو۔ یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے ولمن انتصوبعدظلمہ۔ اور وہ شخص جس پر ظلم ہوا ہو اور وہ اپنا بدلہ لے لے) ابن عیینہ نے ابن ابی نجیع سے انہوں نے ابراہیم بن ابی بکر سے اور انہوں نے مجاہد سے اس قول باری کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ اس کا تعلق مہمانداری سے ہے۔ تم ایک شخص کے پاس جائو اور وہ تمہاری مہمانداری نہ کرے تو تمہیں اس کے متعلق اپنی زبان کھولنے کی رخصت ہے۔ مجاہد کے اس قول پر ابوبکر حبصاص تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر آیت کی یہ تاویل ہے جس کا مجاہد نے ذکر کیا ہے تو ممکن ہے کہ اس کا تعلق اس زمانے سے ہو جب مہمانداری واجب ہوتی تھی حضور ﷺ سے یہ مروی ہے کہ الضیافۃ ثلاثہ ایام نماز ادفھوصدقۃ مہمانداری تین دنوں تک ہوتی ہے اس سے جو زائد ہو وہ صدقہ ہے) یہ بھی ممکن ہے کہ اس کا تعلق اس شخص سے ہو جس کے پاس کھانے کے لئے کچھ بھی نہ ہو اور کسی اور سے اسے مہمان بنا لینے کی درخواست کرے لیکن وہ اس کی درخواست قبول نہ کرے اور اسے اپنا مہمان نہ بنائے اس شخص کا یہ رویہ قابل مذمت ہے اور اس میں اس کے خلاف شکوہ کرنے کی اجازت ہے۔ آیت میں اس پر بھی دلالت موجود ہے کہ جو شخص کسی ایسے شخص کے متعلق برے کلمات کہے جس کی ظاہری حالت میں بھلائی اور پردہ پوشی موجود ہو۔ اسے اس طرز عمل سے روکنا اور اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنا واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آیت کے ذریعے یہ خبردی ہے کہ اسے یہ بات ناپسند ہے اور جو بات اللہ کو ناپسند ہوتی ہے اللہ اس کا ارادہ نہیں کرتا۔ اس لئے ہم پر بھی واجب ہے کہ ہم اس بات کو ناپسند کریں اور اس سے روکیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے الامن ظلم۔ اس لئے جب تک کسی کا ظلم ہمارے سامنے ظاہر نہ ہوجائے اس وقت تک ہم پر یہ فرض ہے کہ اس کے متعلق برے کلمات کو ناپسند کریں اور اس سے روکیں۔ قول باری ہے فبظلم من الذین ھادواحرمنا علیھم طیبات احلت لھم۔ غرض ان یہودی بن جانے والوں کے اسی ظالمانہ رویہ کی بنا پر ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کے لئے حلال تھیں) ۔ قتادہ کا قول ہے کہ ان کے ظلم اور بغاوت کی انہیں یہ سزا دی گئی ہے کہ ان پر بہت سی چیزیں حرام کردی گئی ہیں اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ شرعی تحریم کے ذریعے ان کی ابتلاء اور آزمائش میں اور زیادہ سختی اور شدت پید ا کردی گئی تھی یہ سب کچھ ان کے ظلم کی سزا کے طور پر تھی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ خبر دی کہ اس نے ان کے ظلم نیز اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنے کی سزا کے طور پر ان پر بہت سی پاک چیزیں حرام کردیں۔ اس کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان کی ہے کہ (وعلی الذین ھادوا حرمنا علیھم کل ذی ظفر ومن البقروالغنم حرمنا علیھم شحومھما الا ماحملت ظھورھما اوالحوایا اوما ختلط بعضم ذلک جزیناھم ببعیھم۔ ) جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں سے لگی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا انہیں دی تھی۔
Ayah 4:161

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

قول باری اخذھم الربواوقدنھواعنہ واکلھم اموال الناس بالباطلی، ان کی سود خوری کی بنا پر جبکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے کھانے کی بنا پر) ۔ اس پر دلالت کرتا ہے کہ کفار بھی شرائع کے مخاطب بنائے گئے ہیں اور ان شرائع کے وہ مکلف ہیں نیز ان کے ترک پر وہ عقاب کے مستحق ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سود خوری پر ان کی مذمت کی ہے اور یہ بتایا کہ اس پر انہیں سزا بھی دی گئی ہے۔
Ayahs 4:162–170

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے۔

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

(اے محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کیطرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو بھی وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی۔

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بہت سے پیغمبر ہے جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں۔

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اسکی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں راستہ ہی دکھائے گا۔

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

ہاں دوزخ کا راستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) ہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

لوگو ! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ۔ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

قول باری ہے لکن الراسخون فی العلم منھم۔ مگر ان میں سے جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں) قتادہ سے مروی ہے کہ لفظ ” شکن “ یہاں استثناء کے معنی دے رہا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظ الا اور لفظ لکن کبھی نفی کے بعد ایجاب یا ایجاب کے نفی میں ایک جیسے ہوتے ہیں ۔ الا کا اطلاق کر کے اس سے لکن مراد لیا جاتا ا ہے جس طرح یہ قول باری ہے وماکان لمومن ان یقتل مومنا الاخطا۔ اس کے معنی ہیں لیکن اگر وہ اسے خطاء قتل کر دے تو ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ اس جگہ الا کو لکن کی جگہ لایا گیا تاہم لکن حرف الا سے اس چیز میں جدا ہے کہ الا کے ذریعے کل میں سے بعض کو خارج کردیا جاتا ہے اور لکن ایک کے بعد بھی ہوسکتا ہے مثلا آپ یہ کہیں ” ماجاءنی زید لکن عمرو “ (میرے پاس زید ن ہیں آیا لیکن عمر آیا) لکن کی حقیقت استدراک یعنی ماقبل کے کسی بیان کی تلافی کرنا یا غلطی کی اصلاح کرنا ہے جبکہ الا تخصیص کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ غلوفی الدین کیا ہے ؟