Ayah 4:104قول باری ہے ( ولا تھنوا فی اتبغاء القوم ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون۔
اس گروہ کے تعاقت میں کمزوری نہ دکھائو اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھا رہے ہیں ( تا آخری آیت۔ اس قول باری میں جہاد پر ابھارا گی ہے۔ اس میں جہاد کرنے کا حکم ہے اور مشرکین کا تعاقب کرنے اور ان کے ساتھ پنجہ آزمائی میں کمزوری اور سستی دکھانے سے منع کیا گیا ہے اس لیے کہ ابتغاء کے معنی طلب اور تعاقب کے ہیں۔ جب آپ کسی چیز کی طلب میں اس کا پیچھا کریں تو اس وقت آپ ” بغیت و ابتغیت کا فقرہ استعمال کریں گے۔ وہن دل کی اس کمزوری اور بزدلی کو کہتے ہیں جو انسان دشمن کا مقابلہ کرتے وقت محسوس کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے قول ( ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون) کے ذریعے مسلمانوں کو اپنے دلوں سے کمزوری اور بزدلی دور کرنے ، جرأت پیدا کرنے اور دشمن کے خلاف پیش قدمی کرنے کی دعوت و ترغیب دی۔ اور انہیں یہ بتایا کہ جہاں تک قتال کے سلسلے میں تکلیفین برداشت کرنے کا تعلق ہے اس میں تم اکیلے نہیں ہو بلکہ انہیں بھی یہی تکلیفیں برداشت کرنا پڑتی ہیں لیکن تمہیں ان پر اییک بات میں فضیلت حاصل ہے وہ یہ کہ تمہیں اللہ کی ذات سے جس ثواب و اجر کی امید ہے مشرکین اس کی امید نہیں کرسکتے۔ اس لیے تمہیں ان کی بہ نسبت زخموں کی تکلیفوں پر زیادہ صبر کرنا چاہیے اور زیادہ جرأت کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ انہیں یہ فضیلت حاصل نہیں اور نہ ہی انہیں کسی اجرو ثواب کی توقع ہے۔ قول باری ہے ( وترجون من اللہ مالا یرجون اور تم اللہ سے اس چیز کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں ہیں) اس کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ جب تم اللہ کے دین کی نصرت کرو گے اور اللہ کی طرف سے بھی تمہاری مدد اور نصرت کا وعدہ ہے۔ اور دوسری یہ کہ تمہیں آخرت کے ثواب اور جنت کی نعمتوں کے حصول کی امید ہے۔
اس لیے قتال کی تکالیف پر صبر کرنے اور زخموں کی اذیتیں برداشت کرنے کے لیے مسلمانوں کے اسباب و دواعی کافروں کے اسباب و دواعی سے بڑھ کر ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اللہ کے جس ثواب کی تمہیں آرزو اور تمنا ہے اس کی انہیں آرزو اور تمنا نہیں ہے۔ حسن، قتادہ اور ابن جریج سے یہ تفسیر منقول ہے۔ بعض دوسرے حضرات کا قول ہے کہ تمہیں اللہ کا جو خوف ہے وہ انہیں نہیں ہے۔ جس طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہے ( مالکم لا ترجون للہ وقارا ۔ تمہیں کیا ہوا کہ تم اللہ کی عظمت کے قائل نہیں ہو) یعنی تمہیں اللہ کی عظمت کا خوف نہیں ہے۔ بعض اہل لغت کا قول ہے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا۔ البتہ نفی کے ساتھ اس کا یہ استعمال درست ہے۔ لیکن یہ ایسی بات ہے جو کسی دلالت کے بغیر قابل قبول نہیں ہوسکتی۔
Ayah 4:105قول باری ہے ( انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ۔ اے نبی ﷺ ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو) آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب اس لیے نازل کی ہے کہ اس کی طرف سے حضور ﷺ کو جن احکامات و عبادات سے آگاہ کیا جائے آپ ان کی روشنی میں لوگوں کے درمیان فیصلے کریں۔ قول باری ہے ( ولا تکن للخائنین خصیما۔ تم بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو) روایت ہے کہ آیت ایک شخص کے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے ایک زدہ چرالی تھی۔ جب اسے چوری ظاہر ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تو اس نے یہ زرہ ایک یہودی کے گھر یمں پھینک دی، جب یہ زرہ برآمد ہوگئی تو یہودی نے اس کی چوری سے انکار کیا لیکن اصل چور نے یہ ظاہر کیا کہ یہودی اس کا چور ہے۔
مسلمانوں کے ایک گرہ نے یہودی کے مقابلہ میں مسلمان کا ساتھ دیا جس کے نتیجے میں حضور ﷺ کا میلان بھی ان کی بات کی طرف ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اصل چور کے بارے میں مطلع کردیا اور یہودی کی برأت واضح کر کے آپ کو اس مخاصمت سے منع فرما دیا اور چور کا ساتھ دینے والوں کی طرف میلان کی بنا پر آپ کو استغفار کا حکم دیا۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایک شخص کو جب تک کسی معاملے کی حقیقت کا علم نہ ہوجائے اس وقت تک حق کے اثبات یا نفی کے سلسلے میں کسی کی طرف سے اس کے لیے جھگڑنا جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جیسی صورت حال پر اپنے نبی ﷺ کی گرفت کی اور انہیں استغفار کا حکم دیا۔ یہ آیت اور اس کے مابعد کی آیت جس میں بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے کی نہی ہے اور اس سلسلے میں آخر تک جو کچھ ارشاد ہوا ہے، یہ سب اس شخص کی حمایت کی نہی کی تاکید مزید ہے جس کے حق پر ہونے کا کوئی علم نہ ہو۔
قول باری ( لتحکم بین الناس بما اراک اللہ) سے ان لوگوں نے بعض دفعہ استدلال کیا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ کوئی بات اپنے اجتہاد سے نہیں فرماتے تھے بلکہ آپ کے تمام اقوال و اقعال کا صدور نصوص کی بنا پر ہوتا تھا۔ نیز یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے ( وما ینطق عن الھویٰان ھو الا وحی یوحی اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں۔ ان کا کام تو تمام تروحی ہی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ دونوں میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ حضور ﷺ کوئی بات اپنے اجتہاد کی بنا پر نہیں فرماتے تھے۔ اس لیے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جو باتیں اجتہاد کی بنا پر آپ سے صادر ہوئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے آگاہ کردیا تھا، ان کی رہنمائی کردی تھی اور ان کے کرلینے کا بذریعہ وحی حکم بھیج دیا تھا اس لیے آیت میں احکام کے اندر حضور ﷺ کے اجتہاد کی نفی پر کوئی دلالت موجود نہیں ہے۔ قول باری ( ولا تکن للخائنین خصیما) کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اس میں یہ گنجائش ہے کہ حضور ﷺ نے ان لوگوں کی طرف سے مدافعت کی تھی اور یہ بھی گنجائش ہے کہ آپ نے مدافعت کا ارادہ کیا تھا اس لیے کہ آپ کا میلان مسلمانوں کی طرف تھا، یہودی کی طرف نہیں تھا۔ کیونکہ آپ کو یہ گمان نہیں تھا کہ مسلمان حق پر نہیں ہوں گے، اور جبکہ ظاہری طور پر زرہ بھی یہودی کے گھر سے برآمد ہوئی تھی تو یہودی پر چوری کی تہمت زیادہ مناسب تھی اور مسلمان کی اس سے برأت اولیٰ تھی۔
اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو دونوں فریق میں سے کسی ایک طرف میلان کا اظہار کرنے سے منع فرما دیا اگرچہ ایک فریق یہودی تھا اور دسورا فریق مسلمان تھا۔ عدالتی فیصلوں کے سلسلے میں یہ بات ایک بنیاد اور اصل بن گئی کہ قاضی یا حاکم فریقین میں سے کسی کی طرف دوسرے کے خلاف کوئی میلان یا جھکائو نہ رکھے خواہ ان میں سے ایک فریق اس کے لیے قابل احترام ہو اور دوسرا فریق اس کے برعکس ہو۔ یہ آیت اس پر بھی دلالت کتری ہے کہ اگر مال مسروقہ کسی شخص کے ہاتھ میں نظر آ جائے تو اس سے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اس شخص پرچوری کا حکم لگا دیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰنے یہودی کے پاس مال مسروقہ موجود ہونے کے باوجود اس پر چوری کا حکم لگانے سے منع فرما دیا تھا۔ کیونکہ یہودی یہ بات ماننے سے انکار کر رہا تھا کہ اس نے یہ زرہ اٹھائی ہے۔ یہ بات حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اقدام کی طرح نہیں ہے جب آپ نے صاع یعنی پیمانہ خود اپنے بھائی کے شتیلہ بعنی کجاوے میں رکھوا دیا تھا اور پھر اسی بنا پر بھائی کو پکڑ کر اپنے پاس محبوس کردیا تھا۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس سلسلے میں جو کارروائی کی تھی وہو مصر کے لوگوں کے دستور کے مطابق جائز تھی، ان لوگوں کا دستور تھا کہ یہ چور کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔
چنانچہ آپ نے بھی اپنے بھائی کو اپنے پاس روک لیا تھا۔ آپ بھی اس دستور کو اپنا سکتے تھے لیکن آپ نے اسے غلام نہیں بنایا اور نہ ہی یہ کہا کہ یہ چور ہے ۔ چور ہونے کی بات کسی اور شخص نے کیہ تھی، جس نے آپ کے بھائی کو چور سمجھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ظن اور خواہشات نفسانی کی بنا پر فیصلہ کرنے اور حکم لگانے سے منع فرما دیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہے ( اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اتم، بہت سے گمانوں سے بچو، بعض ظن گناہ ہوتے ہیں) حضور ﷺ کا ارشاد ہے ( ایاکم والظن فانہ اکذت الحدیث گمان سے بچو کیونکہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹ بات ہے) قول باری ہے ( ولا تکن للخائنین خصیما) نیز ارشاد ہے ( ولا تجادل عن الذین یختانون انفسھم جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں تم ان کی حمایت نہ کرو) ان دونوں آیتوں کے مفہوم میں اس بات کی گنجائش ہے ۔ یہودی کے گھر میں مسروقہ زرہ کی موجودگی کی بنا پر حضور ﷺ کا ذہن اس کے خلاف ہوگیا تھا اور اس کی بھی گنجائش ہے کہ آپ نے اس کا ارادہ کرلیا ہو۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو یہودی کی بےگناہی کی خبر دے دی گئی اور ان مسلمانوں کی طرف سے یہودی کے ساتھ جھگڑنے سے آپ کو روک دیا گیا جو چور کی طرفداری کر رہے تھے۔
مسلمانوں کا یہ گرہ بددیانت شخص کی بےگناہی کی گواہی دے رہا تھا اور حضور ﷺ سے اس بات کا طلبگار تھا کہ آپ صحابہ سے خود اس شخص کی بےگناہی بیان کردیں اور جو لوگ اس کے خلاف الزام لگا رہے تھے انہیں ڈانٹ دیں۔ اس صورت حال کے تحت یہ ممکن ہے کہ حضور ﷺ نے اس شخص کی حمایت کا اظہار کیا ہو کیونکہ مذکورہ بالا گروہ کی طرف سے اس کی بےگناہی کیی گواہی دی جا رہی تھی اور یہ کہا جا رہا تھا کہ اس جیسے شخص پر ایسا الزام نہیں لگ سکتا۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے اس گروہ کے باطن کو اپنے ارشاد ( ولو لا فضل اللہ علیک ورحمتہ لھمت طآئفۃ منھم ان یضلوک۔ اے نبی ﷺ ! اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو تمہیں غلط فہمی میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا) کے ذریعے حضور ﷺ پر آشکار کردیا کہ یہ لوگ آپ سے اس خائن کی حمایت کا مطالبہ کر کے آپ کو غلط فہمی میں مبتلا کرنا چاہتے تھے۔
ایک قول یہ ہے کہ جس گروہ نے حضور ﷺ سے اس چیز کا مطالبہ کیا تھا اور خائن کی حمایت کی تھی وہ مسلمان تھا اور اسے بھی اس خائن کی بددیانتی اور چوری کے بارے میں صحیح علم نہیں تھا، تا ہم اس گروہ کے لیے یہ درست نہیں تھا کہ وہ یہودی کے گھر میں زرہ کی موجودگی کی وجہ سے اس پرچوری کا الزام لگا دیتا۔ اگر یہ پوچھا جائے کہ ظاہری صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس کے مطابق حاکم کا فیصلہ، جبکہ باطن اس کے برعکس ہو، کیسے غلط قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ حاکم پر تو صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ظاہری صورت حال کے مطابق فیصلہ صادر کر دے۔ باطن کی حالت کا اعتبار کرنا اس کی ذمہ داری کے دائرے میں نہیں آتا۔ اس سوال کا یہ جواب ہے کہ ظاہری صورت حال کے مطابق فیصلہ گمراہی نہیں کہلائے گا اور نہ ہی غلط متصور ہوگا۔ گمراہی یہ ہوگی کہ بددیانت انسان کے متعلق حقیقت حال معلوم کیے بغیر اس کی بےگناہی کا فیصلہ صادر کردیا جائے۔ مذکورہ بالا واقعہ میں خائن کے حمائتیوں نے حضور ﷺ کو ایسی ہی صورت حال کے تحت غلط فہمی میں مبتلا کرنے اور صحیح سمت سے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔
Ayahs 4:106–113قول باری ہے ( ومن یکسب خطیئۃ او اثما ثم یرم بہ یریئاً فقد احتمل بھتاناً و اثما مبینا۔ اور جس نے کوئی خطا یا گناہ کر کے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا۔ ) خطیئہ اولاثم کے درمیان فرق کے متعلق ایک قول ہے کہ اگر کوئی غلط کام جان بوجھ کر کیا جائے تو وہ اثم کہلاتا ہے ، اگر عمداً نہ کیا جائے تو وہ خطیئہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا ایک ساتھ اس لیے ذکر کیا کہ ان دونوں کا حکم بیان ہوجائے اور یہ واضح کردیا جائے۔
کہ خواہ یہ عمداً ہوا ہو یا عمد کے بغیر دونوں صورتیں یکساں ہیں۔ جو شخص کسی بےگناہ انسان پر کوئی الزام لگائے گا و بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لے گا ۔ کیونکہ کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے پر ایسی بات کا الزام عائد کرے جس کا اسے علم نہ ہو۔
Ayah 4:114قول باری ہے ( لاخیر فی کثیر من نجواھم الا من امربصد قۃ اذ معروف او اصلاح بین الناس۔ لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی ۔ ہاں اگر کوئی پوشیدہ طورپر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلا کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو البتہ بھلی بات ہے) ۔ اہل لغت کا قول ہے کہ نجویٰ اسرار یعنی خفیہ سرگوشی کو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ البتہ صدقہ و خیرات کرنے کے لیے کوئی شخص کسی کو خفیہ طور پر تلقین کرے یا نیکی کرنے کا حکم دے یا لوگوں کے درمیان معاملات کی اصلاح کے لیے خفیہ طور پر سلسلہ جذباتی کرے تو اس میں بھلائی ہوگی اور یہ خیر کی بات ہوگی۔ نیکی اور بھلائی کے کاموں کی تمام صورتیں معروف میں داخل ہیں کیونکہ عقل انسانی اسے تسلیم کرتی ہے۔ عقل انسانی اس حیثیت سے حق کا اعتراف کرلیتی ہے کہ وہ نہ صرف اسے تسلیم کرتی ہے بلکہ اس کا التزام بھی کرتی ہے۔
دوسری طرف عقل انسانی باطل کو اس حیثیت سے ناپسند کرتی ہے کہ وہ نہ صرف اس سے روکتی ہے بلکہ اس سے اپنی برأت اور لاتعلقی کا بھی اظہار کرتی ہے۔ ایک اور جہت سے بھی بھلائی کے کاموں کو معرف کا نام دیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اہل فضل اور اہل دین خیر اور بھلائی کی پوری شناخت رکھتے ہیں کیونکہ بھلائی ان لوگوں کا اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے اور یہ اس سے پوری طرح آگاہ ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ شر اور برائی سے واقف نہیں ہوتے جس طرح یہ بھلائی سے واقت ہوتے ہیں کیونکہ یہ برائی سے دامن کشاں ہوتے ہیں اور اس کا انہیں علم ہی نہیں ہوتا اسی لیے نیکی کے کاموں کو معروف اور برائی کے کاموں کو منکر کا نام دیا گیا۔ ہمیں عبدالباقی نے روایت بیان کی، انہیں ابراہیم بن عبداللہ نے، انہیں سہیل بن بکار نے، انہیں ابوالخلیل عبدالسلام نے عبیدہ ہجیمی سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوجری جابر بن سلیم ؓ کہتے ہیں کہ میں اپنے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ روانہ ہوگیا۔ مسجد کے دروازے پر اپنا اونٹ بٹھا کر اندر گیا تو وہاں حضور ﷺ تشریف فرما تھے۔ آپ پر دو اونی چادریں تھیں جن میں سرخ لکیریں بنی ہوئی تھیں۔ میں نے جاتے ہی ” السلام علیک یا رسول اللہ “ کہا تو آپ نے جواب میں ” وعلیک السلام “ کہا پھر میں نے عرص کیا کہ ہم اہل بادیہ یعنی صحرا نشین ایسے لوگ ہوتے ہیں جن میں جفا یعنی سختی، اور طبیعت کی خشکی ہوتی ہے۔ اس لیے آپ مجھے ایسے کلمات کی تلقین فرما دیجئے جو میرے لیے فائدہ مند ہو، اس پر آپ نے تین دفعہ ” قریب ہو جائو “ فرمایا : میں قریب ہوگیا، آپ نے فرمایا : ” اپنی بات دوبارہ بیان کرو “ میں نے اپنی وہی بات دوبارہ بیان کردی، اس پر آپ نے فرمایا : ” اللہ سے ڈرتے رہو، بھلائی اور نیکی کے کسی کام کو بھی معمولی اور حقیر نہ سمجھو۔
اگرچہ اس کی یہ صورت کیوں نہ ہو کہ تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ملو، اور یہ کہ تم اپنے ڈول کا باقی ماندہ پانی اس شخص کے برتن میں ڈال دو جو پانی کا طلبگار ہو، اگر کوی شخص تمہیں عار دلانے کے لیے تمہاری اس کمزوری کو گالی کے طور پر استعمال کرے جس سے وہ واقف ہو تو تم اس کے جواب میں اس کمزوری کو گالی کے طور پر استعمال نہ کرو۔ کیونکہ اگر تم اس کی یہ بات برداشت کرلو گے تو اس کا تمہیں اجر ملے گا اور اس کے لیے گناہ کا بوجھ بنے گا۔ نیز اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں یعنی مویشی وغیرہ تمہیں عطا کی ہیں انہیں برا بھلا نہ کہو “۔ ابوحبری کہتے ہیں :” قسم ہے اس ذات کی جس نے حضور ﷺ کو اپنے پاس بلا لیا میں نے اس کے بعد کبھی کسی کو گالی نہیں دی، نہ کسی بکری کو اور نہ ہی کسی اونٹ کو “۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں احمد بن محمد بن مسلم الدقاق نے ، انہیں ہارون بن معروف نے ، انہیں سعید بن مسلمہ نے جعفر سے، انوہں نے اپنے والد سے ، انہوں نے دادا سے انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ نے فرمایا ( اصنع المعروف الی من ھو اھلہ ۔۔۔ من لیس الھہ فان اصبت اھلہ فھوا ھلہ وان لم تصب اھلہ فانت اھلہ۔ ہر شخص کے ساتھ نیکی کرو خواہ وہ اس کا اہل ہو یا نہ ہو۔ اگر تم نے کسی ایسے شخص کے ساتھ نیکی کی جو اس کا اہل تھا تو وہ اس کا اہل ہوجائے گا اور اگر وہ اس کا اہل نہ ہو تو تم اس کے اہل ہو جائو گے۔ ) ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں ابوزکریا یا یحییٰ بن محمد الحمانی اور حسین بن اسحاق نے ، ان دونوں کو شیبان نے ، انہیں عیسیٰ بن شعیب نے، انہیں حفص بن سلیمان نے یزید بن عبدالرحمن سے، انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت ابو امامہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ( کل معروف صدقۃ و اول اھل الجنۃ دخولاً اہل المعروف صنائع المعروف تقی مصارع السوء۔ ہر نیکی اور بھلائی صدقہ ہے اور بھلائیاں کرنے والے سب سے پہلے جنت میں جائیں گے،
بھلائی کے کام برے انجام سے انسان کو بچا لیتے ہیں۔ ) ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ، انہیں معاذ بن المثنیٰ اور سعید بن محمد الاعرابی نے، ان دونوں کو محمد کثیر نے، انہیں سفیان ثوری نے سعید بن ابی سعید المقبری یعنی عبداللہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے، انہوں نے حضور ﷺ سے کہ ( انکم لا تسعون الناس باموالکم ولکن لیسعھم منکم بسط الوجہ وحسن الخلق تمہارے اموال میں تو لوگوں کو دینے کی گنجائش نہیں ہوتی لیکن تمہارے اندر ان کے لیے خندہ روئی اور حسن اخلاق کی تو ضرور گنجائش ہونی چاہیے) صدقہ کی کئی صورتیں ہیں، فقراء پر مال کا صدقہ کرنا جو کبھی زکوٰۃ کی شکل میں ہوسکتا ہے اور کبھی خیرات وغیرہ کی صورت میں، صدقہ کی ایک صورت یہ ہے کہ اپنی حیثیت اور جاہ کی بنیاد پر یا اپنی زبان کے ذریعے کسی مسلمان کی امدا دکر دی جائے۔ جیسا کہ حضور ﷺ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا ( کل معروف صدقۃ ہر نیکی اور بھلائی صدقہ ہے) نیز آپ کا ارشاد ہے ( علی کل سلامی من بنی ادم صدقۃ انسان کے جسم کے ہر جوڑ کا ایک صدقہ ہے۔ ) نیز آپ کا ارشاد ہے کہ ” کیا تم میں سے کوئی شخص ابو ضمفم جیسا کردار ادا کرنے سے بھی قاصر ہے ؟ “ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ ابوضمضم کون تھے ؟ آپ نے فرمایا : گزشتہ زمانے کا اییک انسان تھا جس کی عادت یہ تھی کہ جب گھر سے نکلتا تو یہ دعا کرتا، اللہ ! میں اپنی عزت و آبرو کو اس شخص پر صدقہ کرتا ہوں، جو اسے برا بھلا کہنے پر اتر آئے۔ اس طرح ابو ضمضم نے لوگوں کی ایذا رسانی اس صورت میں برداشت کی کہ اپنی عزت و آبرو کو ان پر صدقہ کردیا۔
قول باری ( او اصلاح مبین الناس) اس قول باری کی نظیر ہے ( وان طائفتان من المومنین اقتتلو فاصلحو بینھما اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں جنگ و جدل پر اتر آئیں تو ان کے معاملات کی اصلاح کر دو ) نیز قول باری ہے ( فان فاء ت فاصلحوا بینھما بالعدل و اقسطوا ان اللہ یحب المقسطین پھر اگر وہ رجوع کرے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ اصلاح کرو اور انصاف کا خیال رکھو۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ نیز فرمایا ( فلا جناح علیھما ان یصلحا بینھما و الصلح خیرو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں بیوی آپس میں مصالحت کرلیں، صلح بہر حال بہتر ہے) نیز فرمایا ( ان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینھما اگر دونوں ثالث اصلاح کا ارادہ کریں گے تو اللہ بھی ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا) ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابو دائود نے ، انہیں ابوالعلاء نے ، انہیں ابو معاویہ نے اعمش سے، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے سالم سے،
انہوں نے ام الدرداء سے انہوں نے حضرت ابو الدردارضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ( الا اجبرکم بافضل من درجۃ الصیام و الصلوٰۃ و الصدقۃ کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتائوں جس کا درجہ نماز، روزہ اور صدقے کے درجے سے بھی بڑھ کر ہے) لوگوں نے عرض کیا کہ ضرور بتائیے۔ اس پر آپ نے فرمایا ( اصلاح ذات المین و فسادات البینھی الحائقۃ لوگوں کے آپس کے تعلقات اور معاملات کو درست کرنا، آپس کے تعلقات اور معاملات کا بگڑنا مہلک ہوتا ہے) آیت زیر بحث میں مذکورہ افعال کی انجام دہی کو اللہ کی خوشنودی کے حصول کی خواہش اور جذبے کی شرط ک ساتھ مشروط کردیا گیا ہے تا کہ یہ وہم پیدا نہ ہو کہ جو شخص لوگوں پر اپنی سرداری قائم کرنے اور اپنا حکم چلانے کی خاطر نیکی اور بھلائی کے یہ کام سرانجام دے گا وہ بھی آیت میں کیے گئے وعدے میں شامل ہے۔
Ayahs 4:115–118قول باری ہے ( ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین الہ الھدیٰ و یتبع غیر سبیل المومنین نولہ ماتولی و نصلہ جھنم) اور جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو ہم اس کو اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے۔ حضور ﷺ کی مخالفت ، آپ سے علیحدگی اور آپ کی دشمنی کی صورت یہ ہے کہ مخالفت کرنے والا ایک جانب ہو جو اس جانب کے ما سوا ہو جس میں حضور ﷺ ہیں اسی طرح یہ قول باری ہے ( ان الذین یحادون اللہ ورسولہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں) وہ اس طرح کہ مخالفت کرنے والا اس کنارے پر ہو جو حضور ﷺ والے کنارے کے علاوہ ہو اس سے اعتقاد اور دین میں حضور ﷺ سے علیحدگی اور آپ کی مخالفت مراد ہے۔
قول باری ( من بعد ما تبین لہ الھدی) کے ذریعے ڈانٹ میں اور تیزی پیدا کی گئی ہے، متعلقہ شخص کے روپے کی قباحت کو اور واضح کیا گیا ہے اور آیت میں مذکورہ وعید کی وجہ بیان کی گئی ہے کیونکہ اس شخص نے حضور ﷺ کی نبوت کی صداقت پر دلالت کرنے والے معجزات اور آیات کے ظہر کے بعد ی معاندانہ رویہ اختیار کیا ہے۔ اس وعید کے سلسلے میں اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلنے کو حضور ﷺ کی مخالفت کے ساتھ مقرون ذکر کیا ہے۔ یہ بات اجماع امت کی صحت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وعید کا الحاق ان لوگوں کے ساتھ ہے جو اہل ایمان کی روش کو چھوڑ کر کوئی اور روش اختیار کرلیں۔ قول باری ( نولہ ماتولی) کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے بری الذمہ ہے اور اسے اللہ تعالیٰ ان بتوں کے حوالے کر دے گا جن کی طرف وہ پھر گیا تھا اور جن کا اس نے سہارا لیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو اپنی نصرت اور معونت سے سرفراز نہیں کرے گا۔
Ayahs 4:119–124قول باری ہے ( ولا مرنھم فلیبتکن اذان الانعام میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے) تبتیک تقطیع یعنی ٹکڑے ٹکڑے کرنے کو کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ” یبت کہ تبتیکا ( اس ینے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے یا کر ڈالے گا) اس مقام پر اس سے مراد بحیرہ ( ایسی اونٹنی جو پانچ دفعہ بچے جن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچہ پیدا ہو اس کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اس کا اون اتارا جاتا، نہ اس کا دودھ پیا جاتا اور نہ اسے ذبح کیا جاتا اسے حق تھا کہ جس گھاٹ سے چاہے پانی پیے اور جس کھیت سے چاہے چرے) کا کان چیرنا ہے۔ قتادہ عکرمہ اور سدی سے یہی مروی ہے۔ قول باری ہے ( ولا منینھم میں انہیں آزئووں میں الجھائوں گا) یعنی۔ واللہ اعلم۔
شیطان ان لوگوں کو دینا میں طویل زندگی گزارنے، اس کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے اور اس کی لذتوں سے بہرہ ور ہونے کی امید دلائے گا تا کہ یہ لوگ اس کی طرف جھک جائیں۔ ان کے دلوں میں دنیاوی زندگی کی چاہت پیدا ہوجائے اور پھر دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے لگ جائیں۔ شیطان انہیں جانوروں کے کان پھاڑ دینے کا حکم دے گا تا کہ اس کے ذریعے وہ ان جانوروں کا گوشت اپنے اوپر نیز دوسروں کے لیے حرام کردیں۔ ایسے جانور بحیرہ کہلاتے تھے اور عرب کے لوگ ان کا گوشت حرام سمجھتے تھے۔ قول باری ہے ( ولا مرنھم فلیغبرن خلق اللہ، اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردو بدل کریں گے) آیت کے اس حصے کی تفسیر میں تین اقوال مروی ہیں، ابراہیم نخعی، مجاہد، حسن ، ضحاک اور سدی کی حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ لوگ اللہ کے دین میں ردو بدل کریں گے اور حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیں گے۔
اس تفسیر کے لیے شاہد کے طور پر یہ قول باری پیش کیا گیا ہے ( لا تبدیل لخلق اللہ ذلک الذین القیم، اللہ کے خلق یعنی دین میں کوئی ردو بدل نہیں ہوسکتا یہ ہے سیدھا دین) شہر بن حوشب، عکرمہ اور ابوصالح نے حضرت انس ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ اس سے مراد خصاء یعنی خصی کرنا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حسن سے مروی ہے کہ اس سے مراد وشم یعنی ہاتھ میں گودنا ہے۔ قتادہ نے حسن سے روایت کی ہ کہ سواری کے جانوروں کو خصی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ طائوس اور عروہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ حضرت ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ اس آیت میں خصی کرنے کی نہی ہے، آپ نے فرمایا کہ میں صرف نر جانوروں کو خصی کرنے سے روکتا ہوں۔
حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کو چوپائے کو خصی کرنا مثلہ ہے۔ پھر آپ نے درج بالا آیت تلاوت کی ۔ عبداللہ بن نافع نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے اونٹ کو خصی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Ayahs 4:125–126قول باری ہے ( واتبع ملۃ ابراہیم حنیفا و اتحذ اللہ ابراہیم خلیل اور یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے کی پیروی کی۔ اس ابراہیم کے طریقہ کی جسے اللہ نے اپنا دوست بنا لیا تھا) یہ آیت اس قول باری کی نظیر ہے ( ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراہیم حنیفا پھر ہم نے تمہیں وحی کی یکسو ہو کر ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو) یہ بات اس امر کی موجب ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مدت کی جو باتیں ثابت شدہ ہوں ہم پر ان کی پیروی لازم ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس سے یہ بات ضروری ہوتی جاتی ہے کہ حضور ﷺ کی شریعت وہی ہوجائے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت تھی۔ تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ حضرت ابراہہیم علیہ لسلام کی شریعت نبی کریم ﷺ کی شریعت میں داخل ہے۔
ہمارے نبی اکرم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت دراصل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت پر اضافے کی صورت ہے۔ اسی بنا پر شریعت ابراہیمی کا اتباع واجب ہے کیونکہ حضور ﷺ کی شریعت میں داخل ہے اس لیے جو شخص حضور ﷺ کی شریعت کا متبع ہوگا وہ ملت ابراہیمی کا بھی متبع کہلائے گا۔ حنیف کے مفہوم کے بارے مییں ایک قول ہے اس کے معنی مستقیم کے ہیں۔ اس لیے جو شخص استقامت کے راستے پر چلے گا وہ حنیفیت پر گامزن متصور ہوگا۔ ٹیڑھے پائوں والے کو تفائول یعنی اچھا شگون لینے کے طور پر احنف کہا جاتا ہے جس طرح ہلاک حیزی کو مفارۃ ( کامیابی) اور سانپ کے ڈسے ہوئے انسان کو سلیم ( محفوظ، بچ جانے والا) کہا جاتا ہے۔ قول باری ( واتحذ اللہ ابراہیم خلیلا) کی تفسیر میں دو اقوال ہیں۔
اول یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو چن لیا تھا اور اپنی سرگوشی کے لیے انہیں مخصوص کرلیا تھا یہ مرتبہ کسی اور کو عطا نہیں ہوا تھا۔ دوم یہ کہ خلیل کا لفظ خلۃ معنی حاجت سے بنا ہے ۔ اللہ کا خلیل وہ ہے جو صرف اس کا محتاج ہے اور اپنی حاجتوں کے لیے صرف اس کی طرف ہی رجوع کرتا ہے۔ اگر لفظ خلیل سے پہلا مفہوم مراد ہو تو یہ کہنا جائز ہوگا حضرت ابراہیم اللہ کے خلیل تھے اور اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خلیل تھا لیکن اگر دوسرا مفہوم مراد ہو تو پھر اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خلیل قرار دینا جائز نہیں ہوگا البتہ یہ کہنا درست ہوگا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اللہ کے خلیل تھے۔
Ayah 4:127قول باری ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن۔ لوگ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتوی پوچھتے ہیں، کہو اللہ تمہیں ان کے معاملہ میں فتوی دیتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ روایت کے مطابق آیت کا نزول اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہوا ہے جو اپنے ولی کے زیر پرورش ہوتی ہے۔ ولی کو اس کے مال اور جمال میں رغبت ہوتی ہے۔ وہ اس سے نکاح کرلیتا ہے لیکن مہر کے تعین میں انصاف سے کام نہیں لیتا۔ آپ کے ذریعے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کردیا گیا یا پھر نکاح کی صورت میں مہر کی وہ رقم ادا کریں جو ان لڑکیوں کے مرتبے اور حیثیت کے مطابق ہو۔ قول باری ہے ومایتلیٰ علیکم فی الکتاب فی یت می النساء اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جا رہے ہیں یعنی وہ احکام جو یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں) اس سے مراد وہ احکام ہیں جو اس سورت میں بیان کئے گئے ہیں یعنی یہ قول باری وان خفتم الاتفسطوا فی الیثا می فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلث و رباع۔ اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کرلو) ہم نے اس کے مقام پر اس کی پوری وضاحت کردی ہے۔ واللہ الموفق۔
Ayah 4:128بیوی اور اس کے شوہر کے درمیان مصالحت
قول باری ہے وان امراۃ حافت من بعلھا نشوراً اوامراضا فلاجناح علیھا ان یصلحا بینھما صلحا۔ جب کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں) نشوز کے معنی میں ایک قول مروی ہے کہ اس سے مراد بیوی سے نفرت اور بغض کی بنا پر شوہر کا ہر دم اس پر سوار رہنا ہے یعنی شوہر ہر گھڑی ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے کام لے یہ لفظ نشز الارض، سے ماخوذ ہے جس کے معنی ابھری ہوئی اور بلند زمین کے ہیں۔ قول باری اواعراضاً کا مفہوم یہ ہے کہ شوہر کسی ناراضگی کی بنا پر کسی اور بیوی کو اس پر ترجیح دے کر اس سے بےرخی کرے۔ اس صورت میں اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے لئے صلح کے عمل کو مباح کردیا۔ حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو اپنے بغض حقوق میں کمی بیشی کے ذریعے صلح کرلینے کی اجازت دے دی ہے مثلا بیوی اپنے مہر کے کچھ حصے سے دست بردار ہوجائے یا اپنی باری اپنی کسی سوکن کو دے دے۔ حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ میاں بیوی جس بات پر بھی صلح کرلیں ان کی صلح درست ہوگی۔ سماک نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ ؓ کو خدشہ لاحق ہوگیا کہ کہیں حضور ﷺ انہیں طلاق نہ دے دیں) چناچہ انہوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے طلاق نہ دیں مجھے اپنی زوجیت میں رہنے دیں اور میری باری عائشہ ؓ کو دے دیں، چناچہ حضور ﷺ نے یہی کیا۔ اس پر درج بالا آیت نازل ہوئی۔ اس لئے میاں بیوی جس چیز پر بھی صلح کرلیں ان کی صلح جائز ہوگی۔ ہشام نے عروہ سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کسی کے عقد میں ہو۔ وہ شخص اسے طلاق دے کر کسی اور عورت سے نکاح کرنے کا خواہش مند ہو۔ بیوی اس سے یہ کہے کہ مجھے اپنی زوجیت میں رہنے دو اور طلاق نہ دو ۔ تمہیں میرے نان و نفقہ اور باری کے سلسلے میں پوری آزادی ہے۔ قول باری فلا جناح علیھما تا قول باری واصلح خیر کا یہ مفہوم ہے۔
حضرت عائشہ ؓ سے متعدد طرق سے مروی ہے کہ ام المومنین حضرت سودہ ؓ نے اپنی باری حضرت عائشہ ؓ کو دے دی تھی۔ حضور ﷺ ان کی باری میں حضرت عائشہ ؓ کے گھر میں شب باشی کرتے تھے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ آیت متعدد بیویوں کی صورت میں ان کے مابین باریاں مقرر کرنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور ایک بیوی کی صورت میں اس کے پاس رہنے کے وجوب پر بھی دال ہے۔ حضرت عمر ؓ کے سامنے ایک شخص کعب بن سور نے اپنی بیوی کے متعلق اس رائے کا اظہار کیا کہ ہر چار دنوں میں سے ایک دن اس کا ہوگا۔ حضرت عمر ؓ نے نہ صرف کعب کی یہ بات پسند کی بلکہ اسے بصرہ کا قاضی مقرر کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی جائز کردی ہے کہ ایک عورت اپنی باری سے دست بردار ہو کر اسے اپنی سوکن کو دے دے۔ آیت کا عموم اس بات کا مقتضی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان اس شرط پر بھی صلح ہوسکتی ہے کہ بیوی اپنا مہر، نان و نفقہ اور باری نیز زوجیت کی بنا پر ملنے والے تمام حقوق سے دستبردار ہوجائے۔ اس میں اتنی بات ضرور ہے کہ بیوی کے لئے ماضی میں واجب ہونے والے نان و نفقہ سے دست برداری جائز ہوتی ہے۔ مستقبل کے نان و نفقہ سے شوہر کو بری الذمہ قرار دینا درست نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر بیوی شوہر کو ہمبستری سے بری الذمہ قرار دے دے تو اس کا یہ اقدام درست نہیں ہوگا بلکہ اسے یہ حق حاصل رہے گا کہ وہ شوہر سے اپنے حصے کی ہمبستری کا مطالبہ کرے۔
اگر بیوی خوشدلی کے ساتھ نان و نفقہ اور شب باشی کے مطالبے سے دست بردار ہوجائے تو اس کا یہ اقدام جائز ہوگا لیکن اگر مستقبل میں بھی وہ شوہر کو ان چیزوں سے بری الذمہ قرار دے دے تو پھر اس کا یہ اقدام درست نہیں ہوگا۔ یہ بات بھی جائز نہیں ہوگی کہ شوہر بیوی کی طرف سے باری ہمیشہ کے حق سے دستبرداری پر اسے اس کا کوئی معاوضہ ادا کرے کیونکہ یہ باطل طریقے سے مال کھانے کی صورت ہے یا یہ ایسا حق ہے جس کے بدلے کوئی معاوضہ لینا جائز نہیں ہوتا کیونکہ یہ حق نکاح کی موجودگی میں جو اس حق کے وجوب کا سبب ہے ساقط نہیں ہوتا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو مہر میں دے جانے والے غلام کو اس کے حوالے کرنے کی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دے دے بیوی کا یہ اقدام اس کے لئے درست نہیں ہوگا کہ عقد نکاح جو اس غلام کو بیوی کے حوالے کرنے کا موجب ہے اپنی جگہ موجود ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہمارے اصحاب نے اس بات کے جواز کا فتویٰ دیا ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے عدت کے دوران نان و نفقہ نہ دینے کی شرط پر خلع کرسکتا ہے اس طرح گویا انہوں نے شوہر کو ایسے نان و نفقہ سے بری الذمہ قرار دے دیا جو ابھی واجب نہیں ہوا جبکہ ان نان و نفقہ کو واجب کردینے والا سبب یعنی عدت موجود ہے۔ اس لئے گزشتہ سطور میں آپ نے مستقبل کے نان و نفقہ سے عدم برات کی جو بات کی ہے وہ یہاں آکر ٹوٹ گئی۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا ہمارے اصحاب نے نان و نفقہ کی ادائیگی سے شوہر کی برات کو جائز نہیں کیا۔ جہاں تک ایسے نان و نفقہ سے جو ابھی واجب نہیں ہوا یعنی مستقبل کے نان و نفقہ سے شوہر کی برات کے امتناع کا تعلق ہے اس کے لحاظ سے خلع حاصل کرلینے والی بیوی اور عقد میں موجود بیوی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے لیکن شوہر نے جب عدت کے دوران نان و نفقہ کی عدم ادائیگی کی شرط پر اس کا خلع قبول کرلیا تو گویا اس نے نان و نفقہ کی اس مقدار کو خلع کا معاوضہ قرار دیا جو عدت کی پوری مدت کے لئے اس پر واجب ہوتی۔ اگرچہ یہ مقدار پوری طرح معلوم و متعین نہیں ہے لیکن خلع میں دیا جانے والا معاوضہ اگر ایک حد تک نامعلوم اور غیر متعین ہو تو بھی درست وہ جاتا ہے۔ عقد خلع کی بنا پر یہ معاوضہ عورت کے زیر ضمانت ہوگا۔ پھر عدت کے نان و نفقہ کے طور پر مستقبل میں عورت کے لئے شوہر پر جو رقم واجب ہوگی یہ معوضہ اس کا بدل بن جائے گا۔ آیت زیر بحث کی اس امر پر دلالت ہو رہی ہے کہ اگر میاں بیوی اس شرط پر آپس میں صلح کرلیں کہ بیوی مہر کی پوری رقم یا اس کے کچھ حصے سے دستبردار ہوجائے یا مہر کی رقم کے اضافے کی شرط پر صلح ہوگئی ہو تو صلح کی یہ تمام صورتیں درست ہوں گی کیونکہ آیت نے اس معاملے میں کسی صورت کے حکم پر کوئی فرق نہیں رکھا اور تمام صورتوں میں صلح کرلینے کو جائز قرار دیا ہے۔
قول باری ہے والصلح خیر۔ صلح بہرحال بہتر ہے) بعض اہل علم کا قول ہے کہ صلح کرلینا بےرخی کرنے اور بدسلوکی سے پیش آنے سے بہتر ہے۔ بعض کا قول ہے کہ صلح علیحدگی یعنی طلاق سے بہتر ہے۔ آیت اس بارے میں عموم کا امکان موجود ہے کہ میاں بیوی کے درمان صلح ہر شرط اور صورت میں جائز ہے۔ البتہ اس سے وہ صورتیں خارج ہیں جو کسی دلیل کی بنا پر خاص ہوگئی ہیں۔ ناپسندیدگی کی بنا پر صلح نیز غیر متعین اور مجہول چیز پر صلح کے جواز پر بھی آیت کی دلالت ہو رہی ہے۔ قول باری ہے لاحضرت الانفس الشح۔ نفس تنگ دلی کی طرف جلد مائل ہوجاتے ہیں) حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیر کا قول ہے کہ عورتوں کو ان کے شوہروں کے اموال میں سے جو حصے ملتے ہوں وہ انہیں دینے میں تنگ دلی کا مظاہر ہ کرنا مراد ہے۔ حسن کا قول ہے کہ میاں اور بیوی میں سے یہ ایک کے دل میں دوسرے کے حق کی ادائیگی کے سلسلے میں تنگی اور بخل کا جذبہ پیدا ہوجائے۔ شح بخل کو کہتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کے دل میں بھلائی اور خیر کو دوسرے تک پہنچنے سے روک رکھنے کا جذبہ اور حرص پیدا ہوجائے۔
Ayahs 4:129–134بیویوں میں پورا پورا عدل کرو
قول باری ہے ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النساء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ۔ بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جائو کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ) ۔ ابوعبیدہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد دلی محبت اور میلان طبعی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ حسن اور قتادہ سے بھی یہی مروی ہے قول باری فلاتمیلواکل المیل۔ میں مراد۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ اس میلان کا بالفعل اس طرح اظہار نہ کیا جائے کہ ایک بیوی سے پوری طرح منہ موڑ کر دوسری بیوی کا رخ کرلیا جائے۔ اس پر قول باری فتذروھا کالمعلقۃ) دلالت کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سعید بن جبیر، حسن ، مجاہد اور قتادہ کا قول ہے کہ اس بیوی کی کیفیت یہ ہوجائے کہ وہ نہ تو شوہر والی شمار ہو اور نہ ہی بن بیاہی۔
قتادہ نے نضہ بن انس ہے، انہوں نے بشیر بن نہیک سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (من کانت لہ امراتان یمیل مع احدھما علی الاخری جاء یوم القیامۃ واحد شقیہ ساقط۔ جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کے مقابلہ میں دوسری کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہو تو قیامت کے دن وہ اس حالت میں آئے گا کہ اس کے جسم کا ایک کنارہ جھک کر گرا ہوا ہوگا) ۔ یہ روایت بھی دو بیویوں کے درمیان انصاف کے ساتھ باریاں مقرر کرنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ کہ اگر شوہر انصاف نہیں کرسکتا تو علیحدگی بہتر ہے کیونکہ قول باری ہے فامساک بمعروف اوتسریح باحسان۔ پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اسے رخصت کردیا جائے) ۔
باری مقرر کرنے میں انصاف سے کام لینے کے وجوب اور ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف میلان کو ترک کرنے کے ذکر کے بعد فرمایا وان یتفرقایغن اللہ کلا من سعتہ۔ لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہو ہی جائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بےنیاز کر دے گا) اس میں ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے تسلی دی گئی ہے اور دل کا بوجھ ہلکا کیا گیا ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جلد ہی ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بےنیاز کر دے گا اگر دونوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب کردہ حقوق کی پامالی کے خوف سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجانے کا قصد کیا ہو۔ یہ بھی واضح کردیا گیا کہ تمام بندوں کا رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ بندے اگر رزق کا ذریعہ بنتے بھی ہیں تو اس صورت میں بھی سبب پیدا کرنے والا اللہ ہی ہوتا ہے اور اس پر تمام تعریفوں اور حمد و ثناء کا وہی مستحق ہوتا ہے۔
Ayah 4:135حاکم پر واجب ہے کہ وہ مقدمے کے فریقین کے درمیان انصاف کرے
قول باری ہے یایھا الذین امنواکونواقوامین باقسط شھداء للہ ولوعلی انفسکم والوالدین ولاقربین۔ اے ایمان لانے والو ! انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو) تا آخر آیت۔ قابوس نے ابوظبیان سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ قول باری یایھا الذین امنواکونواقرامین بالقسط شھداء للہ۔ کا یہ مفہومہ ہے کہ دو شخص جو کسی معاملہ میں فریقین ہوں اور قاضی کی عدالت میں موجود ہوں۔ قاضی ایک کے ساتھ نہ صرف بےرخی برتے بلکہ اسے اس کے مطالبے اور حق سے بھی روکے۔ ہمیں عبدالقاقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں محمد بن عبداللہ بن مہران الدنیوری نے انہیں احمد بن یونس نے انہیں زبیر نے انہیں عباد بن کثیر بن ابی عبداللہ نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ام الومنین حضرت ام سلمہ ؓ سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا من بتلی بالقضا بین المسلمین فلیعدل بینھم فی لخطہ واشارتہ و مقعدہ ولایرفع صوتہ علی احد الخصمین مالم یدفع علی الاخر۔ جو شخص مسلمانوں کے درمیان ان کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کی آزمائش میں پڑگیا (یعنی قاضی کے عہدے پر مامور ہوگیا) تو اسے چاہیے کہ اپنی نظر اپنے اشارے اور اپنی نشست کے لحاظ سے ان کے درمیان انصاف سے کام لے، اور ایک فریق کے مقالہ میں دوسرے فریق سے اونچی آواز میں گفتگو نہ کرے جب تک اتنی ہی اونچی آواز سے دوسرے فریق سے بھی گفتگو نہ کرلے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری کو نواقوامین بالقسط۔
سے حق و انصاف پر قائم رہنے کے سلسلے میں اللہ کے حکم کا اظہار ہو رہا ہے یہ حکم ہر شخص پر یہ امر واجب کرتا ہے کہ اس پر لوگوں کے لازم ہونے والے حقوق کی ادائیگی میں وہ اپنی ذات سے پورا پورا نصاف کرے یعنی لوگوں کے حقوق کی پوری طرح ادائیگی کرے۔ نیز مظلوم کو ظالم سے انصاف دلائے اس کی داد رسی کرے اور ظالم کو ظلم کرنے سے روک دے کیونکہ یہ تمام باتیں انصاف قائم کرنے اور انصاف پر قائم رہنے کے اندر داخل ہیں۔ پھر اپنے قول شھداء للہ سے اس کی اور تاکید کردی یعنی واللہ اعلم۔ اس صورت میں جبکہ انصاف تک رسائی گواہی کے راستے ہوتی ہو۔ اس لئے آیت کا یہ ٹکڑا ظالم کے خلاف گواہی قائم کرنے کے حکم کو بھی متضمن ہے جس نے مظلوم کا حق دبا رکھا ہے اور اسے دینے سے انکاری ہے تاکہ گواہی کے ذریعے ظالم کے قبضے سے مظلوم کا حق نکال کر اس کے حوالے کردیا اجئے۔ یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے ولاتکتموا الشھدۃ و من یکتمھا فانہ ثم قلبہ اور گواہی کو نہ چھپائو جو شخص گواہی چھپائے گا تو اس کی یہ حرکت اس بنا پر ہوگی کہ اس کا دل گہنگار ہے) آیت اس حکم کو بھی متضمن ہے کہ حق دار کا اقرار اور اعتراف کرلیا جائے۔ قول باری ہے ولوعلی انفسکم۔ کیونکہ اپنی ذات کے خلاف گواہی دینے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر فریق مخالف کا کوئی حق اس پر عائد ہوتا ہو تو وہ اس کا اقرار و اعتراف کرلے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی غیر کے حق کا اپنی ذات پر اقرار کرلے تو اس کا یہ اقرار جائز ہے بلکہ اگر حق دار اس اقرار کا اس سے مطالبہ کرے تو اس صورت میں اقرار کرنا اس پر واجب ہوگا۔ قول باری ہے اوالوالدین والاقربین۔ اس میں والدین اور رشتہ داروں پر گواہی قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے والدین اور اپنے تمام رشتہ داروں کے خلاف گواہی دے تو اس کی یہ گواہی درست ہوگی۔ کیونکہ اس کے والدین اس کے تمام رشتہ دار اور غیر رشتہ دار اس معاملے میں اس کے لئے یکساں ہیں۔ اگرچہ والدین کے خلاف اولاد کی گواہی کی بنا پر والدین قید میں بھی پڑ سکتے ہیں لیکن یہ بات حقوق الوالدین یعنی والدین کی نافرمانی کے ضمن میں نہیں آئے گی اور یہ بھی ضرور ی نہیں ہوگا کہ والدین چونکہ اپنے خلاف اپنے بچوں کی گواہی کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس لئے بچے ایسی گواہی سے باز رہیں۔ اس لئے کہ بچے اس طرح والدین کے خلاف گواہی دے کر اور انہیں ظلم سے باز رکھ کر ایک گونہ ان کی مدد کریں گے جس طرح حضور ﷺ کا ارشاد ہے انصراخاک ظالماً اومظلوماً ۔ اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم) صحابہ نے عرضا کیا کہ اگر ہمارا بھائی مظلوم ہوگا تو اس کی مدد کی بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اگر ہمارا بھائی ظالم ہوگا تو اس کی مدد کیسی ؟ آپ نے اس پر فرمایا تردہ عن الظلوفذلک نصر منک ایاہ۔ اسے ظلم سے روک دو ۔ یہی تمہاری مدد ہوگی جو تم اسے پہنچائو گے) ۔ آپ ﷺ کا یہ ارشاد اس ارشاد سے ملتا جلتا ہے لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق، خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی کسی قسم کی اطاعت نہیں) ۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ بیٹا اپنے ماں باپ کی صرف حلال اور جائز کاموں میں فرمانبرداری کرے گا جس کا م میں اللہ کی نافرمانی لازم آتی ہو اس میں وہ کسی صورت میں بھی ماں باپ کی فرمانبرداری نہیں کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیٹے کو اپنے والدین کے خلاف گواہی قائم کرنے کا حکم دیا ہے خواہ ا والدین اس بات کو ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔ قول باری ہے ان یکن غلیتاً اوفقیراً فاللہ اولیٰ بھما، فریق معاملہ خواہ مال دار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ اس کا خیر خواہ ہے کہ تم اس کا لحاظ کرو) آیت میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ گواہی دیتے وقت ہم اس شخص کے فقرکو دیکھتے ہوئے اس پر ترس نہ کھائیں جس کے خلاف ہم گواہی دینے جا رہے ہوں۔ اللہ تعالیٰ مالداروں اور فقیروں میں سے ہر ایک پر نظر عنایت رکھنے اور خیر خواہی کرنے کا سب سے بڑھ کر حقدار ہے اور ہر ایک کی ضروریات اور مصالح کو سب سے زیادہ جاننے والا ہے اس لئے تمہارے ذمہ تو صرف یہ ہے کہ اپنی معلومات اور علم کی بنیاد پر جو کچھ تمہارے پاس ہے اس کی گواہی دے دو ۔ قول باری فلاتتبعوا الھویٰ ان تعدلوا۔
لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو) یعنی خواہشات کی پیروی اور رشتہ داروں کی طرف میلان کی بنا پر انصاف کا دامن نہ چھوڑو۔ اس آیت کی نظیر یہ آیت ہے ان جعلنا ک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس باحق ولاتتبع الھدی۔ اے دائود ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے اس لئے لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور خواہش نفس کی پیروی نہ کرو) ۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ گواہ پر یہ ضروری ہے کہ وہ اس شخص پر گواہی دے جس کے ذمے فریق ثانی کا حق عائد ہوتا ہے اگرچہ گواہ کو اس کی تنگدستی اور مفلوک الحالی کا علم ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح گواہ کے لئے یہ بات بھی منع ہے کہ وہ اس ڈر کے تحت گواہی سے باز رہے کہ کہیں قاضی اپنی لاعلمی کی بنا پر اسے جھوٹا گواہ تصور کر کے قید میں نہ ڈال دے۔
جج یا گواہوں کی طرف سے مقدمہ میں سچائی سے پہلو نہ بچایا جائے
قول باری ہے وان تلووا اوتعرصوافان اللہ کان بما تعملون خبیراً اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی قول کے مطابق یہ بات قاضی سے تعلق رکھتی ہے کہ اس کے سامنے مقدمے کے دونوں فریق پیش ہوتے ہیں تو وہ ان میں سے ایک سے بےرخی بھی کرے اور اسے اپنے حق اور مطالبے سے ہٹانے کی بھی کوشش کرے۔ لفظ لی کے معنی ہٹانے اور دفع کرنے کے ہیں اسی سے حضور ﷺ کا یہ ارشاد ماخوذ ہے لی الواجد یحل رضہ و توبتہ جس مقروض کے پاس قرض کی ادائیگی کے لئے رقم موجود ہو اور پھر وہ ٹال مٹول اور حیلے بہانے کرے اور ادائیگی سے باز رہے تو اس کا یہ رویہ اس کی عزت و آبرو کو حلال کردیتا ہے اور اسے سزا کا مستحق بنا دیتا ہے) ۔ حضور ﷺ کی مراد یہ ہے کہ ایسے شخص کا ٹال مٹول کرنا اور حقدار کو اس کے حق سے ہٹائے رکھنا اسے درج بالا سزا کا مستحق بنا دیتا ہے۔ آیت زیر بحث میں قاضی مراد ہو تو آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ قاضی کسی ایک فریق کو اس عدل و انصاف اور مساوات کے حق سے دور کر دے جو مقدمے کے سلسلے میں اسے ملنا چاہیے۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے گواہ مراد ہو اس صورت میں یہ مفہوم ہوگا کہ گواہ گواہی دینے پر مامور ہے اسے گواہی نہ دے کر حق دار کو اس کے حق سے دور نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی گواہی کے سلسلے میں کسی ٹال مٹول سے کام لینا چاہیے اور نہ ہی حق دار کی طرف گواہی کے مطالبے پر اس سے پہلو تہی کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی امتناع نہیں اگر آیت کا حکم حاکم اور گواہ دونوں کے لئے تسلیم کرلیا جائے کیونکہ لفظ میں دونوں کا احتمال ہے اس لئے آیت سے یہ مفہوم اخذ ہوگا کہ اس مقدمہ کے فریقین کے درمیان نشست کے لحاظ سے نیز نظر ڈالنے کے لحاظ سے مساوات قائم کرنے کا حکم ہے اور کسی ایک فریق کے ساتھ سرگوشی نہ کرنے نیز تنہائی اختیار نہ کرنے کا امر ہے۔ جیسا کہ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :” ہمیں حضور ﷺ نے فریقین میں سے کسی ایک کو نظر انداز کر کے دوسرے کی دعوت کرنے سے منع فرمایا ہے “۔