4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاحکام القرآن

Ayah 4:10

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔

اسلام یتیم کی اصلاح اور خیرکاطالب ہے قول باری ہے (ان الذین یاکلون اموالیتامی ظلما انما یاکلون فی بطونھم ناراوسیصلون سعیرا، جو لوگ ازراہ ظلم یتیموں کا مال ہضم کرجاتے ہیں۔ وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں۔ ایسے لوگ جلدہی دہکتی ہوئی آگ میں پڑیں گے) حضرت ابن عباس ؓ سعیدبن جبیر اور مجاہد سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو جن لوگوں کے زیرسایہ یتیم پرورش پا رہے تھے، انہوں نے ان یتیموں کا کھاناپینا الگ کردیاجس کے نتیجے میں کھانا خراب ہوجاتا لیکن وہ اسے ہاتھ نہیں لگاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی (وان تخالطوھمفاخوانکم واللہ یعلم المفسدمن المصلح، اور اگر تم انہیں اپنے ساتھ ملالوتویہ تمہارے بھائی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ کس کی نیت میں فساد ہے اور اصلاح کا خواستگارکون ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے اصلاح اور خیرطلبی کی بنیادپرا نہیں اپنے ساتھ ملالینے کی اجازت دے دی۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے خاص کر اکل یعنی خوروفی اشیاء کا ذکر کیا ہے جبکہ یتیموں کے تمام اموال کا جن میں غیر اشیائے خوردنی بھی شامل ہیں۔ اتلاف اسی طرح ممنوع ہے جس طرح خوردنی اشیاء کا یہاں خصوصیت کے ساتھ اکل کا ذکر اس لیے ہوا کہ کھانے پینے کا عمل ہی وہ سب سے بڑامقصد ہے۔ جس کی خاطر لوگ مال ودولت کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ ہم نے اس نکتے کی وضاحت سابقہ سطور میں کردی ہے۔ قول باری (انمایاکلون فی بطونھم نارا) کے متعلق مفسرسدی سے مروی ہے کہ قیامت کے دن ایسے شخص کے منہ کان، ناک اورآ نکھوں سے آگ کے شعلے نکلیں گے جو شخص بھی دیکھے گا وہ فورا پہچان لے گا کہ یہ یتیم کا مال ہضم کرنے والا شخص ہے۔ ایک قول ہے کہ یہ بار بطورمثل بیان کی گئی ہے اس لیے کہ ایسے لوگ اس گناہ کی وجہ سے جہنم میں پہنچ جائیں گے اور پھر ان کے پیٹ آگ سے بھرجائیں گے۔ بعض برخود، غلط، جاہل قسم کے، اہل حدیث، اس کے قائل ہیں کہ قول باری (ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما، منسوخ ہوگیا ہے اور اس کاناسخ یہ قول باری ہے (وان تخالطوھم فاخوانکم، ان میں ایک نے، التاسخ والمنسوخ، کے بیان کے سلسلے میں یہ بات اس روایت کی بنیادپرثابت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے یتیموں کا کھاناپیناالگ کرویاحتی کہ قول باری (وان تخالطوھم فاخوانکم) نازل ہوا۔ قائل کا یہ قول، نسخ کے معنی، اس کے جواز اور عدم جواز کے متعلق اس کی جہالت پر دلالت کرتا ہے۔ اہل اسلام کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ازراہ ظلم یتیم کا مال کھانا ممنوع ہے اور آیت میں مذکورہ وعید ایسے شخص کے لیے ثابت ہے البتہ اس میں اختلاف ہے کہ آیایہ وعیدآخرت میں اسے ضروربالضرورلاحق ہوگی یابخشش کی گنجائش ہوگی۔ اس جیسی صورت میں کوئی عقلمندانسان نسخ کے جو ازکاقائل نہیں ہوسکتا ۔ اس شخص کو اس بات کا پتہ ہی نہ چل سکا کہ ظلم کی اباحت کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہوتی، اس لیے اس کی ممانعت کا منسوخ ہوجانا بھی درست نہیں ہوسکتا۔ صحابہ کرام میں سے جن حضرات نے اپنے اپنے زیرکفالت یتیموں کا کھانا پینا الگ کردیاتھاتو اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہیں یہ خوف پیدا ہوگیا تھا کہ کہیں بیخبر ی میں ان کا مال استحقاق کے بغیر کھانہ لیں اور پھر ان پر ظالم ہونے کا دھبہ لگ جائے اور آیت میں مذکورہ وعیدکانشانہ بن جائیں۔ اس لیے انہوں نے احتیاطی تدبیر کے طورپریہ قدم اٹھایا تھا۔ پھر جب آیت (فان تخالطوھم فاخوالکم) نازل ہوئی تواصلاح اور خیرخواہی کے ارادے کی شرط کے ساتھ انہیں اپنے ساتھ ملا لینے کے متعلق ان کا خوف زائل ہوگیا۔ اس طرزعمل میں ازراہ ظلم یتیم کا مال ہضم کرنے کی کوئی اباحت موجود نہیں کہ اس کی بناپریہ آیت قول باری (ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما، کے لیے ناسخ بن جائے۔ واللہ اعلم۔ باب الفرائض اسلام میں ہر فرد کے حقوق متعین ہیں ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اہل جاہلیت دو باتوں کی بنیادپر ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے، اول نسب دوم سبب، نسب کی بنیادپروراثت کے استحقاق کی وجہ سے وہ نابالغوں اور عورتوں کو وارث قرار نہیں دیتے تھے، صرف ان لوگوں کو وراثت کا حق دارسمجھتے تھے جو گھوڑوں پر سوارہوکرلڑائیوں میں حصہ لے سکیں اور مال غنیمت سمیٹ سکیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سعید بن جبیرنیزدوسرے حضرات سے یہی مروی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ویستفتنونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن، لوگ آپ سے عورتوں کے متعلق فتوی پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے اللہ تمہیں ان کے متعلق فتوی دیتا ہے) تاقول باری (والمستضعفین من الولدان، اور ان بچوں کے متعلق جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے۔ نیزیہ آیت نازل فرمائی (یوصیکم اللہ فی اولاد کم للذکرمثل حظ الانثیین، اللہ تعالیٰ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دوعورتوں کے حصوں کے برابرہو) حضور ﷺ کی بعثت کے بعد بھی لوگ شادی بیاہ، طلاق اور میراث کے سلسلے میں زمانہ جاہلیت کے طور طریقوں پر قائم رہے۔ حتی کہ وہ وقت بھی آگیا کہ وہ یہ طورطریقے چھوڑکرشریعت کے بتائے ہوئے اصولوں اور طریقوں کی طرف منتقل ہوگئے۔ ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء بن ابی رباح سے دریافت کیا کہ آیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ طلاق یا نکاح یا میراث کے سلسلے میں حضور ﷺ نے لوگوں کو ان ہی طریقوں پرچلنے دیا تھا جن پر آپ نے انہیں پایا تھا یعنی زمانہ جاہلیت کے طورطریقے، عطاء نے جواب میں کہا کہ ہمیں یہی اطلاع ملی ہے۔ حمادبن زید نے ابن عون سے، انہوں نے ابن سیرین سے روایت کی ہے کہ مہاجرین اور انصار اپنے نسب کی بیادپرجس کا زمانہ جاہلیت میں اعتبار کیا جاتا تھا ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ اس لیے کہ حضور ﷺ نے انہیں اس طریقے پر باقی رہنے دیا تھا۔ البتہ ربوا، یعنی سودکامعاملہ اس سے خارج تھا۔ اسلام آنے کے بعد جن سودی رقموں پر قبضہ نہیں ہوا تھا۔ ان کے سلسلے میں یہ طریقہ اختیار کیا گیا کہ راس المال قرض خواہ کو واپس کردیا گیا اور سود کی رقم ختم کردی گئی، حمادبن زیدنے ایوب سے، انہوں نے سعیدبن جبیر سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مبعوث فرمایا اور لوگ زمانہ جاہلیت کے طور طریقوں پرچلتے رہے حتی کہ وہ وقت آگیا جب انہیں بہت سی باتوں کے کرنے کا حکم ملا اور بہت سی باتوں سے روک دیا گیا۔ ورنہ اس سے پہلے وہ زمانہ جاہلیت کے طورپر طریقوں پرچلتے رہے۔ اسی مفہوم کی وہ روایت ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ، جو چیز اللہ نے حلال کردی وہ حلال ہے اور جو چیز اس نے حرام کردی وہ حرام ہے۔ اور جس چیز کے متعلق خاموشی اختیار کی گئی وہ قابل گرفت نہیں ہے۔ اس طرح لوگوں کو حضور ﷺ کی بعثت کے بعد بھی ایسی باتوں پر بحالہ قائم رہنے دیا گیا جو عقلی طورپر ممنوع نہیں تھیں۔ عرب کے لوگ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہماالسلام کی بعض شرائع کی پابندی کرتے تھے۔ اگرچہ انہوں نے ان میں اپنی طرف سے بہت سی نئی باتیں پیدا کرلی تھیں جو عقل کے نزدیک ممنوع تھیں مثلا شرک بت پرستی لڑکیوں کو زندہ درگورکرنا اور بہت سی دوسری ایسی باتیں جن کی قباحت کی عقل انسانی بھی گواہی دیتی تھی۔ دوسری طرف ان میں اعلی اخلاق کی بہت سی صفات پائی جاتی تھیں۔ نیز آپس کے لین دین اور میل ملاپ کی بہت سی ایسی صورتیں تھیں جو عقل ا نسائی کے نزدیک ممنوع نہیں تھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان حضور ﷺ کو اپنانبی بناکر مبعوث فرمایا اور آپ نے انہیں توحید باری تعالیٰ کی دعوت دی اور وہ باتیں ترک کرنے کے لیے کہاجوعقلی طورپر ممنوع تھیں۔ مثلا بت پرستی لڑکیوں کو زندہ درگور کردینا ، نیز ، سائبہ واپسی اونٹنی جس کے دس مادہ بچے ہوں اس پر نہ تو سوارہوتے تھے اور نہ ہی اس کادودھ اس کے۔ بچے اور مہمان کے سوا کسی اور کو پینے دیتے تھے، اسے گھاس پانی وغیرہ سے بھی روکا نہیں پرچھوڑدیاجاتا اس کا نام وصیلہ تھا) اور، حام، (نراونٹ جس کا پوتا سواری دینے کے قابل ہوجاتا اسے آزادچھوڑدیتے تھے نہ اس پر سوارہوتے اور نہ ہی اس کے بال کترتے تھے) اور اسی طرح کے دوسرے جانوروں کو تقرب کی نیت سے بتوں کے نام پرچھوڑدینا وغیرہ۔ دوسری طرف آپ نے خریدوفروخت کے عقودآپ کے لین۔ شادی بیاہ طلاق اور میراث کے سلسلے میں انہیں ان طریقوں پر رہنے دیاجن پر وہ زمانہ جاہلیت سے چلتے آرہے تھے اور جو عقلی طورپر قابل ملا مت نہیں تھے۔ ان باتوں کی انہیں اجازت تھی اس لیے کہ عقلی طورپران کی ممانعوت تھی اور نہ ہی ان کی تحریم کی آوازان کے کانوں میں پڑی تھی جوان کے خلاف حجت بن جاتی۔ ان کی میراث کے معاملات بھی اسی ضمن میں آتے تھے اور زمانہ جاہلیت کی ڈگرپرچل رہے تھے۔ یعنی جنگ کے قابل مردوں کو میراث کا حق دارسمجھاجاتا تھا اور بچوں نیز عورتوں کو اس سے محروم رکھاجاتا تھا۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میراث کی آیتیں نازل کی گئیں ۔ نسب کی بنیادپروراثت کی یہ صورت تھی۔ سبب کی بنیادپر ایک دوسرے کے وارث ہونے کی دوصورتیں تھیں۔ اول ، حلف اور معاہدہ دوم، تبنی یعنی کسی کو اپنا متبنی بنالینا۔ پھر اسلام کادورآ گیا۔ لوگوں کو کچھ عرصے تک ان کی سابقہ حالت پر رہنے دیا گیا پھر اس کی ممانعت کردی گئی۔ بعض حضرات کا یہ قول ہے کہ یہ لوگ نص قرآنی کی رو سے حلف اور معاہدہ کی بنیادپر ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے پھرا سے منسوخ کردیا گیا۔ شیبان نے قتادہ سے قول باری (والذین عاقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم، اور وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں ان کا حصہ انہیں دو ) کے متعلق روایت کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ ایک شخص دوسرے شخص سے عہد و پیمان باندھتے ہوئے کہتا کہ ، میراخون تیراخون ہے، میری قبر تیری قبر کے ساتھ ہے۔ میں تیراوارث اور تومیراوارث، تو جرم کرے گا توجرمانہ میں بھروں گا اور میں جرم کروں گا توجرمانہ توبھرے گا۔ قتادہ کہتے کہ ایسے آدمی کو زمانہ اسلام میں کل مال کا چھٹاحصہ دیاجاتا تھا، اس کے بعد اہل میراث اپنے اپنے حصے لیتے تھے، بعد میں اسے منسوخ کردیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (واولی الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتاب اللہ) اللہ کی کتاب میں قرابت دار ایک دوسرے کی میراث کے زیادہ حق دار ہیں۔ حسن عطیہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے قول باری (ولکل جعلناموالی مماترک الوالدان والاقربون والذین عاقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم، اور ہم نے ہراس ترکے کے حقدارمقرر کردیئے ہیں جو والدین اور رشتہ دارچھوڑیں۔ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ) کے متعلق روایت کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں ایک شخص دوسرے شخص سے حلف یا معاہدہ کرتا اور اس کاتابع بن جاتا۔ جب وہ شخص مرجاتا تو اس کی میراث اس کے رشتہ داروں اوراقرباء کو مل جاتی اور یہ شخص خالی ہاتھ رہ جاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (والذین عاقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم) اس کے بعدا سے بھی اس شخص کی میراث میں سے دیاجانے لگا۔ عطاء نے سعید بن جبیر سے درج بالاآیت کے متعلق روایت کی ہے کہ زمانہ جاہلیت نیز زمانہء اسلام کوئی شخص کسی سے دوستی کرنا چاہتا اور پھر اس سے دوستی کا معاہدہ کرلیتا اور کہتا کہ میں تیراوارث نبوں گا اور تومیراوارث، پھر ان میں سے جو بھی پہلے وفات پاجاتا تو زندہ رہ جانے والے کو معاہدے کی شرط کے مطابق اس کے نز کے میں سے حصہمل جاتا، جب آیت میراث نازل ہوئی اور ذوی الضروض، کے حصص بیان کردیئے گے، لیکن دوستی کے معاہدے کے تحت ملنے کا کوئی ذکر نہیں آیاتو ایک شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضرہوکرعرض گذارہوا کہ، حضور ! میراث کی تقسیم کے متعلق اس آیت کا نزول ہوگیا، لیکن اس میں اہل عقدکا کوئی ذکر نہیں ہے میں نے ایک شخص سے دوستی کا معاہد ہ کیا تھا۔ اور اب اس کی وفات ہوگئی ہے۔ اس پر درج بالاآیت نازل ہوئی۔ سلف میں سے ان حضرات نے یہ بتادیا کہ حلیف یعنی دوستی کا معاہدہ کرنے والے طریفین میں سے ہر ایک کا حکم زمانہ اسلام میں ازروئے سمع ثابت رہانہ کہ لوگوں کو زمانہء جاہلیت کے طریق کارپرباقی رکھنے کے ذریعے۔ ان میں سے بعض کا قول ہے کہ یہ بات شریعت کے واسطے سے حکم سن لینے کی بناپرثابت نہیں رہی بلکہ یہ اس واسطے سے ثابت رہی کہ لوگوں کو زمانہء جاہلیت کے طریق کارپرباقی رہنے دیاگیا حتی کہ آیت میراث نازل ہوگئی اور پھر یہ طریق کارختم کردیا گیا۔ ہمیں جعفربن محمد واسطی نے روایت بیان کی ، انہیں جعفربن محمد نے ، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبدالرحمن نے سفیان سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے مجاہد سے قول باری (والذین عاقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم) کے متعلق نقل کیا کہ اس سے مراد وہ لوگ میں جو زمانہء جاہلیت میں ایک دوسرے کے حلیف تھے ان کے متعلق حکم دیا گیا کہ باہمی مشاورت دیت اور جرمانے کی ادائیگی نیزساتھ دینے اور مدد کرنے میں انہیں ان کا حصہ دیاجائے۔ لیکن میراث میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ جعفربن محمد نے کہا کہ ہمیں ابوعبید نے روایت بیان کی انہیں معاذنے ابن عون سے، انہوں نے عیسیٰ بن الحارث سے، انہوں نے عبداللہ بن الزبیر ؓ سے قول باری (واولوالارحام بعضھم اولی ببعض، اور قرابت دار، ایک دوسرے کی میراث کے زیادہ حق دار ہیں) کے متعلق نقل کیا کہ یہ آیت عصبات، کے متعلق نازل ہوئی (عصبات ایسے رشتہ داروں کو کہاجاتا ہے جن کے حصے مقرر نہیں ہوتے بلکہ وہ، ذوی الضروض، کے بعدترکے کے باقیماندہ حصے کے حق دارہوتے ہیں۔ ایک شخص دوسرے شخص سے دوستی کا معاہدہ کرکے کہتا کہ تومیراوارث، اور میں تیرا۔ اس پر درج بالاآیت نازل ہوئی۔ جعفربن محمد نے کہا کہ ہمیں ابوعبید نے روایت بیان کی، انہیں عبداللہ بن صالح نے معاویہ بن ابراہیم سے، انہوں نے علی بن ابی طلحہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری (والذین عاقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم) کے متعلق نقل کیا کہ ایک شخص دوسرے سے کہتا کہ تومیراوارث ہوگا اور میں تیرا۔ اس پر آیت (واولوالارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ من المؤمنین والمھا جرین الاان تفعلوا الی اولیاء کم معروفا، اللہ کی کتاب میں مومنین اور مہاجرین میں سے قرابت دار ایک دوسرے کی میراث کے زیادہ حق دار ہیں۔ البتہ تم اپنے حلیفوں کے ساتھ نیکی کرسکتے ہو) نازل ہوئی حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ الایہ کہ تم ان لوگوں کے حلیفوں کے لیے وصیت کرجاؤجن کے ساتھ انہوں نے دوستی کے معاہدے کیئے تھے۔ غرض ان حضرات نے یہ بتادیا کہ اس سلسلے میں زمانہ جاہلیت کا طریق کا رقول باری (واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض) کے ذریعے منسوخ کردیا گیا اور قول باری (فاتوھم نصیبھم) کا مطلب یہ ہے کہ باہمی مشورت اور امدادیاوصیت میں ان کا حصہ انہیں دیاجائے، میراث میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے جہاں تک آیت کا تعلق ہے تو اس قریب ترین مفہوم یہ ہے کہ حلف اور معاہد ہ کی بناپر ایک دوسرے کی میراث کے حق کو ثابت رکھاجائے اس لیے کہ قول باری (والذین عاقدت ایمانکم واتوھم نصیبھم) ان کے لیے مستقل اور ثابت حصے کا مقتضی ہے جبکہ دیت اور جرمانہ کی ادائیگی نیز مشاورت اور وصیت مستقل اور ثابت حصے کا مفہوم ادا نہیں کرتی ہیں۔ اس کی مثال یہ ارشاد آلہی ہے (للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون ولنساء نصیب مماترک الوالدان والاقربون، اس سے ظاہری طورپر جو مفہوم ذہن میں آتا ہے وہ یہی ہے کہ میراث میں حصے کا اثبات ہورہا ہے ٹھیک اسی طرح قول باری (والذین عاقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم) کے ظاہرکاتقاضا کہ ان کے لیے اس حصے کا اثبات کردیاجائے جس کے وہ معاہدہ اور حلف کی بناپرمستحق ہوئے ہیں۔ رہ گئی باہمی مشاورت تو اس میں تمام لوگ یکساں ہیں۔ اس لیے یہ حصہ نہیں بن سکتی۔ اسی طرح عقل یعنی دیت اور جرمانے کی ادائیگی تو اس کا وجوب حلیفوں پر ہوتا ہے۔ اس لیے یہ بھی دوستی کا معاہدہ کرنے والے کے لیے حصہ نہیں بن سکتی، جہاں تک وصیت کا تعلق ہے تو وہ واجب نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کا استحقاق ہوتا ہے اس لیے یہ بھی اس کے لیے حصہ نہیں بن سکتی اس بناپر آیت کی ان تاویلات کے مقابلے میں جو دوسرے حضرات نے کی ہے وہ تاویل خطاب کے مفہوم سے زیادہ قریب اور مطابق نظر آتی ہے جس میں دوستی کے معاہدے کی بناپر مقررحصہ مراد لیاگیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ حکم منسوخ نہیں ہوا البتہ ایسا کوئی وارث پیدا ہوگیا جو اس حلیف سے زیادہ حق دارٹھہرامثلاایک شخص کا بھائی موجودہواب اس کے بیٹے کا وجوداگرچہ بھائی کو میراث سے محروم کردے گا۔ لیکن اسے اہل میراث سے خارج نہیں کرے گا۔ صرف یہ ہوگا کہ بیٹا بھائی کے مقابلے میں زیادہ حق دارہوگا۔ اسی طرح، اولوالارحام، یعنی قرابت دارحلیف کے مقابلے میں میراث کے زیادہ حق دار ہیں، اب اگر کسی شخص کی وفات پر اس کانہ کوئی قرابت دارموجودہو اور نہ عصبہ تو اس صورت میں اس کی میراث اس شخص کو مل جائے گی جس کے ساتھ اس نے دوستی کا معاہدہ کیا ہوگا۔ اسی طرح ہمارے اصحاب نے اس شخص کے لیے اپنے پورے مال کی وصیت جائزقراردے دی جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ اسلام ایک حقیقت پسنددین ہے کسی کو متبنیٰ یعنی منہ بولا بیٹابنالینے او اس کے حقیقی باپ کی طرف نسبت کی بجائے اپنی طرف منسوب کرلینے کی بناپر وراثت کی صورت یہ تھی کہ زمانہ جاہلیت میں ایک شخص کسی دوسرے کے بیٹے کو اپنا بیٹابنالیتا اور پھر وہ بچہ اپنے باپ کی طرف منسوب ہونے کی بجائے اس شخص کی طرف منسوب ہوتا اور جب وہ شخص مرجاتا تو اس کی میراث اسیمل جاتی۔ جب اسلام کادورآیاتویہ صورت حال اسی طرح چلتی رہی اور یہ حکم علی حالہ باقی رہا۔ حضور ﷺ حضرت زید بن حارثہ ؓ کو اپنابیٹا بنالیاتھایہاں تک انہیں زیدبن محمد (ﷺ) کے نام سے پکاراجاتا تھا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی (ماکان محمد ابااحدمن رجالکم، محمد (ﷺ) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں) نیزارشاد ہوا (فلما قضی زید منھاوطرازوجناکھالکیلا یکون علی المؤمنین حرج فی ازواج ادعیاء ھم، جب زید نے اپنی بیوی سے حاجت پوری کرلی توہم نے تمہارے ساتھ اس کا نکاح کرادیا، تاکہ بعد میں مسلمانوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی پیدانہ ہو) نیزارشاد ہوا (ادعوھم لاباء ھم ھواقسط عنداللہ فان لم تعلموا اباء ھم فاخوانکم فی الدین وموالیکم، انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو کہ یہی اللہ کے نزدیک راستی کی بات ہے اور اگر تمہیں ان کے باپوں کے متعلق علم نہ ہو تو آخروہ تمہارے دینی بھائی اور دوست ق وہیں ہی) حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ نے سالم کو اپنا بولابیٹا بنالیا چناچہ سالم کو سالم بن ابی حذیفہ کہہ کر پکاراجانے لگاحتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ادعوھم لاباء ھم) زہری نے عردہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے اس کی روایت کی ہے اس طرح اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنا منہ بولابیٹا بنالینے کی بناپرا سے اپنی طرف منسوب کرنے نیزا سے اپنی میراث قراردینے کے حکم کو منسوخ کردیا۔ ہمیں جعفربن محمد واسطی نے روایت بیان کی انہیں جعفربن محمد بن الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں عبداللہ بن صالح نے لیث سے، انہوں نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب زہری سے، انہیں سعیدبنالمسیب نے قول باری (والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم) کے متعلق کہا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل فرمائی جو دوسروں کو اپنے منہ بولے بیٹے بنالیتے ہیں اور پھر اپنی میراث کا انہیں وارث قراردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے انہیں حکم دیا کہ ایسے منہ بولے بیٹوں کو وصیت کے ذریعے حصہ دو اور میراث کو رشتہ داروں اور عصبات کی طرف لوٹادو۔ اللہ تعالیٰ نے منہ بولے بیٹوں کو وارث قراردینے سے انکار کردیا۔ البتہ ان کے لیے وصیت کے ذریعے حصہ مقرر کردیا اور یہ حصہ اس میراث کے قائم مقائم بن گیا جس کے متعلق انہوں نے اپنے منہ بولے بیٹوں سے معاہدہ کیا تھا اور اب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرزعمل کی نفی کردی تھی۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اس بات کی گنجائش ہے کہ قول باری (والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم) دونوں باتوں یعنی دوستی کے معاہدے اور منہ بولا بیٹابنالینے کے معانی پر مشتمل ہو اس لیے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک کا انعقاد کسی عقد اورایجاب وقبول کے ذریعے ہوتا ہے ہم نے یہاں جو کچھ ذکرکیا ہے وہ زمانہء جاہلیت میں میراث کے بارے میں ان لوگوں کے طرزعمل سے تعلق رکھتا ہے۔ جب اسلام کادورآیاتوان میں بعض صورتوں کو اس وقت تک باقی رکھا گیا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شرعی احکام کی طرف منتقلی کا حکم نہیں آیا۔ اور بعض کے اثبات کے لیے نص واردہوئی اور پھر معاملہ اسی طریقے پرچلتارہاحتی کہ اسے چھوڑکرشرعی حکم کی طرف منتقلی کے لیے دوسری نص واردہوگئی۔ اسلام میں میراث کا انعقاددوباتوں کے ذریعے ہوتا ہے ایک تو نسب ہے اور دوسرا سبب جو نسب نہ ہو نسب کی بناپراستحقاق کے متعلق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اکثر صورتوں کا ذکرآگیا ہے اور بعض کا ذکر حضور ﷺ کی احادیث میں واردہوا ہے۔ بعض صورتوں میں امت کا اجماع ہوگیا ہے۔ اور بعض کا ثبوت کسی دلالت کی بناپر ہوا ہے۔ رہ گیا کسی سبب یا وجہ کی بناپر میراث کا استحقاق تو اسلام میں اس کی ایک صورت دوستی کا معاہدہ اور حلف ہے۔ دوسری صورت منہ بولے بیٹے کی ہے ہم نے اس کے متعلق حکم بھی بیان کردیا ہے اور اس کے نسخ کی روایت بھی نقل کردی ہے، ہمارے نزدیک اگرچہ یہ نسخ نہیں ہے بلکہ ایک وارث کو دوسرے وارث کے مقابلے میں زیادہ حق دارقراردینے کی ایک صورت ہے۔ ایک سبب جس کی بناپر اللہ تعالیٰ نے میراث کے استحقاق کو واجب قراردیا تھا۔ وہ ہجرت ہے۔ ہمیں محمد بن جعفر واسطی نے روایت بیان کی، انہیں جعفر بن محمد بن الیمان نے، انہیں ابوعبید نے، انہیں حجاج نے ، ابن جریج اور عثمان بن عطاء خراسانی سے، ان دونوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے قول باری (ان الذین امنواوھاجرواوجاھدواباموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ والذین آو واونصروا الئک بعضھم اولیاء بعض والذین امنواولم یھاجروامالکم من ولایتھم من شیء حتی یھاجروا، بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوںے ہجرت کی اور اپنے مال اور اپنی جان سے اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا اور جن لوگوں نے انہیں پناہ دی اور ان کی مدد کی یہ لوگ ایک دوسرے کے وارث ہیں اور جو لوگ ایمان تو لائے لیکن ہجرت نہیں کی، تمھارا ان سے میراث کا کوئی تعلق نہیں جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں) کے متعلق روایت کی ہے کہ ہجرت کرکے آجانے والے مسلمان کسی اعرابی یعنی ہجرت نہ کرنے والے سے نہ تودوستی کا معاہد ہ کرتے اور نہ ہی اس کے وارث ہوتے، حالانکہ ہجرت نہ کرنے والا مسلمان ہوتا۔ اس طرح کوئی اعرابی کسی مہاجرکاوارث نہ ہوتا۔ پھر یہ آیت قول باری (واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض) کی بناپر منسوخ ہوگئی۔ بعض حضرات کا قول ہے کہ اسے منسوخ کرنے والی یہ آیت ہے (ولکل جعلنا موالی مماترک الوالدان والاقربون، ہم نے ہر شخص کے ترکے کے وارث بنائے ہیں جو ماں باپ اور رشتہ دارچھوڑجائیں) حضرات انصارومہاجرین اس عقدمواخات کی بناپر بھی ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے جو حضور ﷺ نے ان کے درمیان قائم کردیا تھا۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والدعروہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت زبیربن العوام ؓ اور حضرت کعب بن مالک ؓ کے درمیان مواخات قائم کردی۔ حضرت کعب ؓ جنگ احد کے دن زخمی ہوگئے۔ حضرت زبیرا نہیں میدان جنگ سے سواری پر بیٹھاکرخودلگام پکڑے ہوئے لے آئے۔ اگر حضرت کعب ؓ مال دولت کا انبارچھوڑکروفات پاجاتے تو بھی زبیران کے وارث ہوتے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل نازل فرمائی (واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ ان اللہ بکل شیء علیم، اور قرابت وار اللہ کی کتاب میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ کو ہرچیز کا علم ہے۔ ابن جریج نے سعید جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے جن انصارومہاجرین کے درمیان مواخات قائم کردی تھی وہ ایک دوسرے کے وارث ہوتے، ان کے بھائی وارث نہ ہوتے لیکن جب آیت (ولکل جعلنا موالی مماترک الوالدان الاقربون) نازل ہوئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا، پھر یہ آیت (والذین عاقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم) نازل ہوئی یعنی ان کی مددکرو اورا نہیں سہارادو۔ حضرت ابن عباس ؓ نے اس روایت میں یہ بتایا کہ درج بالاقول باری سے مراد عقدمواخات ہے جو حضور ﷺ نے ان کے درمیان قائم کردیا تھا۔ معمر نے قتادہ سے قول باری (مالکم من ولایتھم من شیء، تمہارے لیے ان کی وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ہے) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ مسلمان اسلام اور ہجرت کی بنیادپر ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ اگر ایک شخص مسلمان ہوجاتالیکن ہجرت نہیں کرتاتو وہ اپنے بھائی کا وارث قرارنہ پاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد (واولوا الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ من المؤمنین والمھاجرین) کے ذریعے اسے منسوخ کردیا۔ جعفربن سلیمان نے حسن سے روایت کی ہے کہ ایک مسلمان اعرابی کسی مہاجر کی وراثت کا حق دار نہیں ہوتا تھا خواہ وہ اس کا قرابت دارہی کیوں نہ ہوتا تا کہ اس طریقے سے اسے ہجرت پر آمادہ کیا سکے۔ لیکن جب مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے درج بالاآیت نازل فرمائی۔ اس آیت نے پہلی آیت کو منسوخ کردیا۔ قول باری ہے (الاان تفعھم الی اولیاء کم معروفا، الایہ کہ تم اپنے دوستوں سے کچھ سلوک کرنا چاہوتو وہ جائز ہے) اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس بات کی رخصت دے دی کہ وہ اپنے تہائی مال یا اس سے کم میں سے اپنے یہودی یاعیسائی یامجوسی رشتہ داروں کے لیے وصیت کرسکتے ہیں۔ قول باری ہے (کان ذلک فی الکتاب مسطورا، یہ بات کتاب میں مرقوم ہے یعنی لکھی ہوئی ہے۔ آغاز اسلام میں جن اسباب کی بناپر لوگ ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے۔ وہ یہ تھے۔ کسی کو منہ بولابیٹابنالینا، ہجرت مواخات اور دوستی کا معاہدہ، پھر اول الذکرتینوں اسباب کی بناپر میراث کا حکم منسوخ ہوگیا۔ جہاں تک دوستی کے معاہدے کا تعلق ہے تو اس کے متعلق ہم یہ بیان کر آئے ہیں کہ قرابت داری کو اس کے مقابلے میں زیادہ حقدارقراردیا گیا۔ لیکن اگر قرابت داری نہ ہوتویہ حکم منسوخ نہیں ہوتا اور اس میں گنجائش ہوتی ہے کہ حلیف مرنے والے کا سارامال یا اس کا ایک حصہ وراثت کی بناپرحاصل کرلے۔ اسلام میں جن اسباب کی بناپر ایک دوسرے کی وراثت کا استحقاق ثابت ہوتا ہے ان میں سے چندیہ ہیں۔ ولاء العتاقۃ، زوجیت اور، ولاء الموالاۃ، غلام کو آزاد کرنے کی بناپر آقا کو اس پر ثابت ہونے والے حق کو، ولاء العتا قۃ، اور کسی اجنبی کے ساتھ باہمی امدا اور سرپرستی کے معاہدے کی بناء پر قائم ہونے والے تعلق کو، ولاء الموالاۃ، کہتے ہیں۔ ہمارے نزدیک آخرالذکرکاحکم اسی وقت ثابت ہوتا ہے۔ جب کہ ذی رحم یاعصبہ وارث نہ ہورہاہو۔ اسلام میں جن بنیادوں پر توراث کا سلسلہ چلتا ہے، ان کی دوقسمیں کی جاسکتی ہیں۔ اول نسب، دوم سبب پھر سبب کی مختلف صورتیں ہیں جو درج ذیل ہیں۔ دوستی کا معاہدہ ، منہ بولابیٹا بنالینا، حضور ﷺ کی جانب سے انصارومہاجرین کے درمیان قائم ہوا ہے، عقرمواخات، ہجرت، زوحیت، ولاء عتاقہ اور ولاء موالات، ان میں سے اول الذکر میں چار اسباب ایسے ہیں جو ذوی الارحام اور عصبات کی وجود کی بناپر منسوخ ہوگئے۔ آخرالذکرتین اسباب بحالہ باقی ہیں اور ان کی بنیادپر ایک شخص وراثت کا حقدارہوجاتا ہے، لیکن اس کا حق اس ترتیب سے ثابت ہوتا ہے۔ جس کی شرط کے ساتھ یہ مشروط ہوتا ہے۔ نسب کی بنیادپروراثت کے استحقاق کی تین صورتیں ہیں۔ اول۔ ذوی الفروض یعنی ایسے ورثاء جن کے حصے شریعت نے مقرر کردیئے ہیں۔ دوم عصبات یعنی ایسے ورثاء جن کے حصے مقرر نہیں لیکن وہ ذوی الفروض کو ان کے حصے دینے کے بعد باقی ماندہ ترکہ کے حق دارہوتے ہیں اور ذوی الفروض کی عدم موجودگی میں پورے ترکہ کے مستحق قرارپاتے ہیں۔ سوم ذوی الارحام ایسے قرابت دارجودرج بالا دونوں گروہوں کی عدم موجودگی میں ترکہ کے وارث ہوتے ہیں ۔ ہم ان پر آگے چل کرمزید روشنی ڈالیں گے۔ جن آیات سے ذوی الفروض عصبات اور ذوی الارحام کی میراث کا وجوب ثابت ہوتا ہے وہ یہ ہیں۔ (للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون وللنساء نصیب مماترک الوالدان والاقربون) نیز (ومایتلی علیکم فی الکتاب فی یتامی النساء التی لاتؤتونھن ماکتب لھن وترغبون ان تنکحوھن والمستضعفین من الوالدان حضرت ابن عباس ؓ اور دوسرے مفسرین سلف کی روایات کے بموجب ان دونوں آیتوں کے ذریعے اس طرز عمل کو منسوخ کردیاگیا جس کے مطابق صرف وہی مرد وراثت کے مستحق ہوتے تھے۔ جو جنگوں میں حصہ لینے کے قابل ہوتے چھوٹے بچے اور عورتیں بالکلیہ وراثت سے محروم رہتیں۔
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں انکا دو تہائی اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو۔ یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادوں اور بیٹوں، پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے خدا کے مقرر کیے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

اسلام میں کسی حقیقی وارث کو نظرانداز نہیں کیا جاتا قول باری (یوصیکم اللہ فی اولادکم) میں اس مقررومتعین حصے کا بیان ہے جو قول باری (للرجال نصیب) تاقول باری (نصیبامفروضا) میں مذکور ہے۔ نصیب مفروض، وہ حصہ ہے جس کی مقدارقول باری (یوصیکم اللہ فی اولادکم) میں بیان ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ نے آیت (کتب علیکم اذا حضراحدکم الموت ان ترک خیرن الوصیۃ للوالدین والاقربین، تم پر والدین اوراقرباء کے لیے وصیت کرنا فرض کردیا گیا جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آجائے اگر وہ مال چھوڑکرجارہاہو) تلاوت کی اور فرمایا کہ اس حکم کو قول باری (للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون) مجاہد کا قول ہے کہ میراث ولد کو ملتی تھی اور والدین اوراقرباء کے لیے وصیت ہوتی تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس میں جو چاہا منسوخ کردیا اور بیٹے کے لیے دو بیٹیوں کے حصوں کے برابر حصہ مقرر کردیا۔ اور بیٹا بیٹی کی موجودگی میں والدین میں سے ہر ایک کا چھٹاحصہ مقرر کردیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ دستوریہ تھا کہ جب کوئی شخص وفات پاجاتا تو اس کی بیوہ اسی گھر میں پورے ایک سال مدت گذارتی اس دوران اسے مرحوم شوہر کے ترکے میں سے نان ونفقہ دیاجاتا۔ قول باری (والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا وصیۃ لازواجھم عا الی الحول غیراخراج، تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور ان کے پیچھے ان کی بیویاں رہ جائیں تو وہ اپنی بیویوں کے لیے ایک سال تک فائدہ اٹھانے کی وصیت کرجائیں اور انہیں وہاں سے نکالانہ جائے) کا یہی مفہوم ہے۔ پھر بیویوں کے لیے ترکہ میں چوتھا یا آٹھواں حصہ مقررکرکے یہ حکم منسوخ کردیا گیا اوقول باری (واولوالارحام بعضھم اولی ببعض) کے ذریعے دوستی کے معاہدے، منہ بولا بیٹا بنانے اور ہجرت کرنے کی بناپر ایک دوسرے لے وارث ہونے کا حکم منسوخ ہوگیا جس کا ہم پہلے ذکرکر آئے ہیں۔ اس طرح قول باری (یوصیکم اللہ فی اولادکم) غیہ منسوخ محکم آیت ہے۔ یہ آیت میراث کے درج بالا اسباب کے حکم کے نسخ کی موجب ہے۔ اس لیے کہ اس نے میراث کا حق داران اقرباء کو قراردیا۔ جن کا ذکر اس میں آیا ہے۔ اس کے بعدان اسباب کی وجہ سے وارث قرارپانے والوں کے لیے کچھ نہیں بچا اور یہی بات ان کے حقوق کو ساقط کرنے کی موجب ہے۔ محمد بن عبداللہ بن عقیل نے حضرت جابربن عبداللہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ایک انصاری عورت اپنی دوبیٹیاں لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں آئی اور عرض کیا یہ ثابت بن قیس کی بیٹیاں ہیں جو آپ کی ہمراہی میں معرکہ احد میں شہید ہوگئے تھے۔ ان کے چچانے ان کے لیے کوئی مال رہنے نہیں دیا اور سب کچھ اپنے قبضے میں کرلیا۔ حضور، اب آپ ان کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟ ان دونوں کے ہاتھ پیلے اس وقت ہوسکیں گے جب کہ ان کے پاس مال ہوگا۔ حضور ﷺ نے یہ سن کر فرمایا، اللہ ان کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة نساء نازل فرمائی جس کا ایک جز (یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظا الانثیین) کی آیت ہے۔ آپ نے اس عورت اور اس کے ویورکوبلانے کا حکم دیا۔ آپ نے بچیوں کے چچاکوحکم دیا کہ اپنے مرحوم بھائی کے نز کہ میں سے دوتہائی بچیوں کو اورآٹھواں حصہ ان کی ماں کودے دے اور باقی ماندہ مال خودرکھ لے۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ یہ روایت کئی معانی پر مشتمل ہے۔ ایک یہ کہ زمانہ جاہلیت کے دستور کے مطابق چچا میراث کا مستحق ہوگیا تھا اور بیٹیاں محروم رہ گئی تھیں، کیونکہ اہل جاہلیت جنگ کرنے کے قابل، مردوں کو وراثت کا مستحق سمجھتے تھے۔ عورتوں اور بچوں کو اس کا اہل قرار نہیں دیتے تھے۔ عورت نے جب حضور ﷺ سے سوال کیا تو آپ نے اس طریق کارپرنکیر نہیں کی بلکہ اسے بحالہ باقی رکھتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بارے میں فیصلہ فرمائے گا۔ پھر جب آیت کا نزول ہوگیا تو آپ نے چچاکوحکم دیا کہ وہ بچیوں اور ان کی ماں کو ان کا حصہ دے دے یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہ کہ چچانے شروع میں میراث اپنے قبضے میں شریعت کی رہنمائی کی روشنی میں نہیں تھی بلکہ اہل ہلیت کے دستور کے مطابق اس نے یہ اقدام کیا تھا۔ اس لیے کہ اگر صورت حال یہ ہوتی تو پھر آیت کے نزدل کے بعد نئے سرے سی کوئی قدم اٹھایاجاتا اور نزول سے پہلے منصوص حکم پر حملدرآمدہوچکا تھا اس پر نسخ کے سلسلے میں اس آیت کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ چیز اس پر دلالت کوتی ہے کہ اس نے یہ قدم اہل جاہلیت کے اس دستور کی روشنی میں اٹھایا تھا جس سے اس وقت تک شرعی حکم کی طرف منتقلی عمل میں نہیں آئی تھی۔ سفیان بن عیینہ سے محمد بن المنکدر سے انہوں نے حضرت جابربن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں بیمارپڑگیا۔ حضور ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے اس وقت مجھ پر بےہوشی کی کیفیت طاری تھی۔ آپ نے وضو فرمایا اور اپنے وضوکاپانی مجھ پرچھڑکاجس سے مجھے ہوش آگیا۔ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ، میرے مال کے بارے میں آپ کیا فیصلہ دیتے ہیں آپ یہ سن کر خاموش رہے اور کوئی جواب نہیں دیاحتی کہ آیت میراث (یوصیکم اللہ) نازل ہوئی۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ پہلی حدیث میں عورت اور اس کی دو بیٹیوں کا واقعہ بیان ہوا۔ اور اس حدیث میں یہ ذکرہوا کہ حضرت جابر ؓ نے حضور ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا یہاں اس بات کی گنجائش ہے کہ دونوں صورتیں پیش آئی ہوں عورت نے آپ سے پوچھاہو اور آپ نے وحی کے انتظار میں اسے کوئی جواب نہ دیا ہوپھرحضرت جابر ؓ نے اپنی بیماری کی حالت میں یہی سوال کیا ہو اور پھر آیت نازل ہوئی ہو۔ اب اس آیت کے تحت دیئے جانے والے احکامات غیر منسوخ ہیں اور قول باری (للرجال نصیب مماترک الوالدان والاقربون) میں بیان شدہ نصیب یعنی حصے کی بات کو اورپختہ کرتے ہیں۔ اہل علم کا اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ قول باری (یوصیکم اللہ فی اولاد کم) میں صلبی اولاد مراد ہیں۔ نیزصلبی اولاد کے ساتھ کی اولاد اس حکم میں داخل نہیں ہے اور اگر صلبی اولاد موجودنہ ہو تو آیت سے بیٹیوں کی اولادمراد ہوگی۔ بیٹیوں کی نہیں۔ اس لیے لفظ (اولادکم) صلبی اولاد اور ان کی عدم موجودگی میں بیٹیوں کی اولاد کو شامل ہے۔ یہ بات ہمارے اصحاب کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی شخص کے ولد یعنی بیٹا بیٹی کے لیے وصیت کرجائے فو اس کی وصیت اس شخص کی صلبی اولاد کے لیے ہوگی اور اگر صلبی اولادنہ ہو تو پھر اس کے بیٹے کی اولاد کے لیے ہوگی۔ قول باری (للذکرمثل حظ الانثیین) یہ بتارہا ہے کہ اگر ایک مذکر اور ایک مونث ہوتومذکرکودوحصے ملیں گے اور مونث کو ایک حصہ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر ان کی تعدادزیادہ ہو تو ہر مذکرکودوحصے اور ہر مونث کو ایک حصہ ملے گا۔ نیز اس کا بھی پتہ چلاکر کہ اگر اولاد کے ساتھ ذویالفروض مثلا والدین، شوہریابیوی وغیرہ ہوں توذوی الفروض کو ان کا حصہ دینے کے بعد جو بچ رہے گا وہ الادکودرج بالانسبت سے دے دیاجائے گا۔ اس لیے کہ قول باری (للذکرمثل حظ الثیین) اسم جنس ہے جوان کو قلیل اور کثیرتعدادسب کو شامل ہے۔ اس لیے جب ذوالفروض اپنے اپنے حصے حاصل کرلیں گے تو باقی ماندہ ترکہ ان کے درمیان اسی استحقاق کی بناپر تقسیم ہوجائے گاجوا نہیں ذوی الفروض کی عدم موجود گی میں حاصل ہوتا۔ قول باری ہے (فان کن نساء فوق الثنتین فلھن ثلثاترک وان کانت واحدۃ ثلھا النصف، اگر یہ سب عورتیں ہوں جن کی تعداددو سے زائد ہوتوان کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے اور اگر ایک ہو تو اس کے لیے نصف ترکہ ہے) اللہ تعالیٰ نے دو سے زائد اور ایک کے حصوں کو منصوص طریقے پر بیان کردیا لیکن دو کے حصوں کو بیان نہیں کیا اس لیے کہ آیت کے ضمن میں دو کے حصوں پر دلالت موجود ہے وہ اس طرح کہ ایک بیٹی کے لیے تہائی حصہ مقررکردیاجب کہ ساتھ ایک بیٹا بھی ہو۔ اب جب وہ مذکر یعنی بیٹے کے ساتھ ایک تہائی لیتی ہے تو پھر ایک بیٹی کے ساتھ تہائی حصہ لینا اولی اوراقرب ہے۔ اس کے بعدہ میں دو سے زائد کے حکم کے لیے نص کی ضرورت تھی اس لیے دو سے زائد کا حکم منصوص طریقے پر بیان فرمادیا۔ نیز جب اللہ تعالیٰ نے (للذکرمثل حظ الانثیین) فرمادیا، تومرنے والے کے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کو ترکے کادوتہائی ملتا جو دو بیٹیوں کے حصوں کا مجموعہ ہے یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ دو بیٹیوں کا حصہ دوتہائی ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے حصے کے برابرقراردیا ہے۔ دو بیٹیوں کے لیے دوتہائی حصے پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھائیوں اور بہنوں کا معاملہ کی بیٹیوں کی طرح رکھا ہے اور ایک بہن کا معاملہ ایک بیٹی کی طرح رکھا ہے۔ چناچہ ارشادباری ہے (ان امرؤھلک لیس لہ ولدو لہ اخت فلھا۔ نصف ماترک، اگر کوئی شخص وفات یا جائے اور اس کی کوئی اولاد نہ ہو، اس کی ایک بہن ہو۔ توا سے نز کے کا نصف ملے گا) پھر فرمایا (وان کانتا اثنتین فلھماالثلثان مماترک وان کانواخوۃ ورجالاؤنساء فللذکرمثل حظ الانثین، اگر دو بہنیں ہوں تو ان کے لیے ترکے کا و وتہائی ہے اور اگر بھائی بہنیں ہوں تو مرد کے لیے ددعورتوں کے برابرحصہ ہے) اللہ تعالیٰ نے دو بہنوں کا حصہ دو سے زائد کی طرح مقرر کیا یعنی دوتہائی جس طرح کہ ایک بہن کے لیے ایک بیٹی جتناحصہ مقرر کیا اور بھائیوں بہنوں کی صورت میں مرد کا حصہ دوعورتوں کے حصوں کے برابر واجب کردیا۔ اس سے یہ چیزضروری ہوگئی کہ دوتہائی کے استحقاق میں دوبیٹیاں دو بہنوں کی طرح ہوجائیں، اس لیے کہ ایک مرد کے لیے دوعورتوں کے برابرحصے کے اصول میں ان کے درمیان مال کی تقسیم واجب کرنے کے لحاظ سے دو بیٹیوں اور دو بہنوں کی حیثیت یکساں ہے۔ بشرطیکہ ان کے ساتھ اور کوئی وارث موجونہ ہو جس طرح کہ کسی اور وارث کی عدم موجودگی کی صورت میں نصف ترکہ کے استحقاق میں ایک بیٹی اور ایک بہن کی حیثیت یکساں ہے۔ نیز دوبیٹیاں دو بہنوں کی بہ نسبت دوتہائی ترکہ کی زیادہ حقدار ہیں کیونکہ بیٹیاں بہنوں کی بہ نسبت میت سے زیادہ قریب ہیں۔ اور جب ایک بہن ایک بیٹی کی طرح ہے تو دوتہائی کے استحقاق میں دوبیٹیاں بھی ایسی ہی ہوں گی۔ اس پر حضرت جابر ؓ کی وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جس میں حضور ﷺ نے دو بیٹیوں کو دوتہائی حصہ دیا تھا۔ بیوی کو آٹھواں اور باقی ماندہ ترکہ چچاکودیا تھا۔ اس سلسلے کوئی اختلاف مروی نہیں ۔ صرف حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے کہ انہوں نے دو بیٹیوں کو بھی ایک بیٹی کی طرح نصف ترکہ دیا تھا۔ ان کا استدلال اس قول باری سے ہے (فان کن نساء فوق اثنتین فلھن ثلثاماترک، اگر دو سے زائد بیٹیاں ہوں توا نہیں ترکہ کا دو تہائی ملے گا) لیکن اس میں یہ دلیل نہیں ہے کہ دو بیٹیوں کو نصف ملے گا۔ اس میں جو منصوصبات ہے وہ یہ ہے کہ دو سے زائد کے لیے دوتہائی ہے۔ اگر دو بیٹیوں کے لیے دوتہائی کا قائل آیت کی مخالفت کا مرتکب ہے تو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی کے لیے نصف مقرر کیا ہے جبکہ معترض دو بیٹیوں کے لیے نصف مقررکررہا ہے۔ اور یہ بات آیت کے خلاف ہے کہ اگر دو بیٹیوں کے لیے نصف ترکہ مقرر کرنے پر آیت کی مخالفت نہیں ہوتی جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹی کے لیے یہ حصہ مقرر کیا ہے تو دو بیٹیوں کے لیے دوتہائی مقررکرکے بھی آیت کی مخالفت لازم نہیں آتی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قول (فان کن نساء فوق اثنتین فلھن ثلثاماترک) میں اس کی نفی نہیں کی کہ دو بیٹیوں کو دوتہائی حصہ دے دیاجائے۔ بلکہ صرف دو سے زائدکاحکم نص کے طورپربیان فرمایا ہے۔ آیت کے ضمن میں دو کے حکم پر بھی دلالت ہوگئی ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں۔ نیز ہماری وضاحت کے مطابق دو بیٹیوں کے حکم پر دو بہنوں کا حکم بھی دلالت کررہا ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ قول باری (فان کن نساء فوق اثنتین) میں لفظ فوق اسی طرح صلہ کلام واقع ہوا ہے جس طرح کہ قول باری (فاضربوافوق الاعناق، گردنوں کے اوپر ضرب لگاؤ) میں صلہ واقع ہوا ہے۔ قول باری ہے (ولابویہ لکل واحدمنھماالسدس ان کان لہ ولد، اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹاحصہ ملے گا) آیت کا ظاہراس بات کو واجب قراردیتا ہے کہ ولد کے ساتھ ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹاحصہ ملے گا خواہ ولدبیٹاہویابیٹی ہو تو وہ نصف سے زائد کی مستحق نہیں ہوگی اس لیے کہ قول باری ہے (وان کانت واحدۃ خلھا النصف) اس سے یہ ضروری ہوگیا کہ حکم نص کے مطابق بیٹی کو نصف حصہ دیاجائے اور والدین میں سے ہر ایک کو چھٹاحصہ دیاجائے اور باقی ماندہ چھٹے حصے کا حق دارعصبہ ہونے کی بناپرباپ کو قراردیاجائے۔ اس صورت میں دوحیثیتوں سے ترکے کا مستحق ہوگا ایک توذوی الفروض کی حیثیت سے اور دوسراعصبہ ہونے کی حیثیت سے۔ اگر میت کا ولدبیٹا ہوتوحکم نص کے مطابق والدین کے لیے دوسدی اور باقی ماندہ ترکہ بیٹے کا ہوگا۔ اس لیے کہ عصبہ ہونے کی حیثیت سے وہ باپ کے مقابلہ میں میت سے زیادہ قریب ہے۔ قول باری ہے (فان لم یکن لہ ولد وورثہ ابواہ فلامہ الثلث، اگر میت صاحب اولادنہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسراحصہ دیاجائے گا) عموم لفظہ سے پہلے ماں باپ دونوں کے لیے میراث ثابت کردی گئی، اور پھر ماں کا حصہ الگ سے بیان کردیا گیا، اور اس کی مقدار بھی متعین کردی گئی ہے فرمایا گیا (فلامہ الثلث) یہاں باپ کا حصہ بیان نہیں کیا گیا، لیکن ظاہرلفظ کا تقاضایہ ہے کہ باپ کو ودتہائی مل جائے کیونکہ اس کے سوا اور کوئی وارث موجود نہیں۔ اور فقرے کے شروع میں ماں باپ دونوں کے لیے میراث ثابت کردی گئی تھی اگر صرف (وورثہ ابواہ) ہوتا اور آگے ماں کے حصہ کی تفصیل نہ ہوتی تو ظاہر لفظ کا یہ تقاضا ہوتا کہ ماں باپ دونوں کے درمیان مساوات رکھی جائے۔ اب جبکہ ماں کے حصے کی تفصیل پر اقتصار کیا گیا تو اس سے یہ معلوم ہوگیا کہ باپ کے لیے دوتہائی ہے۔ قول باری ہے (فان کان لہ اخوۃ فلامہ السدس، اگر اس کے بھائی بھائی ہوں تو ماں کا چھٹاحصہ ہوگا) حضرت علی ؓ ، حضرت ابن مسعو ؓ د، حضرت عمر ؓ ، حضرت عثمان ؓ ، حضرت زیدبن ثابت ؓ اور تمام اہل علم کا قول ہے کہ اگر دوبھائی اور والدین ہوں تو بھی ماں کو چھٹاحصہ ملے گا اور باقی ماندہ ترکہ باپ کو ملے گا۔ ان حضرات نے اس صورت میں ماں کا حصہ تہائی سے گھٹاکر ایک سدس کردیا ہے جس طرح کہ تین بھائیوں کی صورت میں مان کا حصہ گھٹ کر سدس رہ جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ دوبھائیوں کی صورت میں ماں کو تہائی حسہ ملے گا اور اس کا حصہ صرف اسی صورت میں گھٹ سکتا ہے، جب تین بھائی بہن ہوں۔ معمرنے طاؤس سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ مرنے والااگر اپنے پیچھے والدین اور تین بھائی بہن چھوڑجائے تو ماں کو چھٹاحصہ ملے گا اور بھائی بہنوں کو وہی چھٹاحصہ مل جائے گا جو انہوں نے ماں کے حصے سے گھٹادیا تھا اور باقی ماندہ ترکہ باپ کو مل جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک اور روایت کے مطابق اگر بھائی بہن ماں کی طرف سے ہوں جنہیں اخیافی کہا جاتا ہے تو اس صورت میں انہیں چھٹاحسہ ملے گا۔ لیکن اگر وہ حقیقی یاعلاتی (باپ میں شریک) بھائی بہن ہوں تو انہیں کچھ نہیں ملے گا اور ماں کو چھٹاحصہ دینے کے بعد باقی ماندہ ترکہ باپ کو مل جائے گا۔ پہلے قول کی دلیل یہ ہے کہ ، اخوۃ، کا اسم کبھی دوپر بھی واقع ہوتا ہے۔ جیسا کہ ارشادباری ہے (ان تتوبا الی اللہ فقدصغت قلوبکما، (اے دونوں بیویو ! ) اگر تم اللہ کے آگے توبہ کرلو، تو تمھارے دل (اسی طرف) مائل ہورہے ہیں) حالانکہ یہاں مراد، دودل ہیں لیکن اس کے اس کے لیے جمع کا اسم استعمال ہوا ہے، اسی طرح ارشاد باری ہے (وھل اتاک نباالخصم اذتسوروالمحراب، بھلاآپ کو ان اہل مقدمہ کی خبرپہنچی ہے۔ جب وہ دیوارپھاندگئے) پھر فرمایا (خصمن بغی بعضنا علی بعض، ہم دواہل مقدمہ ہیں کہ ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ ) یہاں جمع کے لفظ کادوپر اطلاق کیا گیا ہے۔ قول باری ہے۔ (وان کانوا اخوۃ رجالاونساء فللذکرمثل حظ الانثیین، اب اگر ایک بھائی اور ایک بہن ہو تو بھی آیت کا حکم ان کے حق میں جاری ہوگا۔ حضور ﷺ سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا (اثنان فمافوقھماجھاعۃ، دو اوردو سے زائد افراد جماعت کہلاتے ہیں نیز وکاعددجمع کے معنی میں ایک سے قریب ہونے کے مقابلے میں تین سے زیادہ قریب ہے اس لیے کہ دو کے اندرجمع کا مفہوم بھی موجودہوتا ہے۔ مثلا دوافرادہوں یاتین آپ دونوں صورتوں میں، فاماوقعدا، اور، قامواوقاعدوا، کہہ سکتے ہیں (یعنی یہاں تثنیہ کا صیغہ بھی استعمال ہیں اور جمع کا بھی) لیکن ایک فرد کی صورت میں یہ کہنادرست نہیں ہوگا۔ اب جب اثنان یعنی دوکالفظ جمع کے معنی میں ایک سے قریب ہونے کے مقابلے میں تین سے زیادہ قریب ہے تو پھر اس لفظ کو ایک کی بجائے تین کے عدد کے ساتھ ملانا واجب ہوگیا۔ عبدالرحمن بن ابی الزنادنے اپنے والد سے، انہوں نے خارجہ بن زید سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ دوبھائیوں کی موجودگی میں ماں کا حصہ گھٹادیا کرتے تھے۔ یعنی تہائی کے مقابلہ میں چھٹاحصہ دیتے تھے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا : ابوسعید، اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے (فان کا لہ اخوۃ) اور آپ دوبھائیوں کی وجہ سے ماں کا حصہ گھٹادیتے ہیں۔ اس پر زیدنے فرمایا : عرب کے لوگ دوبھائیوں پر بھی، اخوۃ، کے لفظ کا اطلاق کرتے ہیں۔ اب جبکہ حضرت زیدبن ثابت ؓ یہ نقل کرتے ہیں کہ عرب کے لوگ دوبھائیوں پر بھی، اخم ۃ، کے لفظ کا اطلاق کرتے ہیں۔ تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ لفظ دو اورتین دونوں کے لیے اسم ہے اور یہ اسم دونوں کو شامل ہے۔ ایک اور پہلو بھی ہے وہ یہ کہ نص تنزیل یعنی قول باری (وان کانتا اثنتین فلھما الثلثان مماترک) سے ثابت ہوگیا ہے کہ دوتہائی ترکہ استحقاق میں ، دو بہنوں کا حکم تین بہنوں جیسا ہے، اس طرح تہائی ترکہ کے استحقاق میں دواخیافی بہنوں نے کا حکم تین بہنوں جیسا ہے ایک بہن جیسا نہیں ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ماں کا تہائی سے کھٹاکرسدس تک پہنچانے کے لحاظ سے دوبھائیوں کا حکم تین بھائیوں جیسا ہوجائے اس لیے کہ ان دونوں صورتوں میں ہر ایک کا حکم جمع سے متعلق ہے اس بناپردو اورتین دونوں کا حکم یکساں ہوگیا۔ قتادہ سے مروی ہے کہ بھائی بہن ماں کا حصہ گھٹادیتے ہیں جبکہ باپ کے ہوتے ہوئے خودوارث نہیں ہوتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ان بھائی بہنوں کے اخراجات اور شادی بیاہ کی ذمہ داری باپ پر ہوتی ہے ماں پر نہیں ہوتی۔ لیکن یہ علت صرف اس صورت تک محدود ہے جبکہ بھائی بہن حقیقی یاعلاتی ہوں۔ اخیافی ہونے کی صورت میں ان کا معاملہ باپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتاکیون کہ وہ ان کا باپ نہیں ہوتا، تاہم اس صورت میں بھی وہ ماں کا حصہ گھٹادیتے ہیں جس طرح حقیقی بھائی بہن ماں کا حصہ کم ہوجانے کا سبب بنتے ہیں۔ صحابہ کرام کے درمیان اس صورت کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر تین بھائی بہن ہوں اور ان کے ساتھ والدین بھی ہوں تو ماں کو چھٹاحصہ ملے گا اور باقی ماندہ ترکہ باپ کے حصے میں آئے گا۔ البتہ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے اور عبدالرزاق نے بھی معمر سے روایت کی ہے، انہوں نے طاؤس کے بیٹے سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ درج بالاصورت میں ماں کو چھٹاحصہ ملے گا اور بھائی بہنوں کو وہ چھٹاحصہ مل جائے گا جس سے انہوں نے ماں کو محروم کردیا تھا اور پھر باقی ماندہ ترکہ باپ کو مل جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ غیروارث کی موجودگی کی بناپر کسی وارث کے حصے میں کمی کرنے کے قائل نہیں تھے۔ اس لیے جب ماں بھائی بہنوں کی وجہ سے صرف چھٹے حصے کی حق دارنبی تو حضرت ابن عباس ؓ نے اس کے باقی چھٹے حصے کا حق داربھائی بہنوں کو بنادیا۔ ان کا یہ قول نہ صرف شاذ ہے یعنی وہ اس میں تنہا ہیں بلکہ خلاف قرآن بھی ہے اس لیے کہ قول باری ہے (وورتہ ابواہ فلامہ الثلث) اور (وورثہ ابواہ) پر عطف کرکے فرمایا (فان کان لہ اخوۃ فلامہ الس اس) اس طرح عبارت کی ترتیب یوں ہوئی، وورثہ ابواہ ولہ اخوۃ، اس کے والدین وارث ہورہے ہوں اور اس کے بھای بہن بھی ہوں یہ بات اس صورت میں بھائی بہنوں کو ترکہ میں سے کوئی حسہ پانے سے مانع ہے۔ قول باری ہے (من بعد وصیۃ یوصی بھا او دین۔ وصیت پوری کرنے کے بعد جو مرنے والے نے کی ہو یا قرض کی ادائیگی کے بعد) دین یعنی قرض اگر لفظاموخ رہے لیکن معنی وصیت سے پہلے اس کی ابتداء کی گئی ہے۔ اس لیے کہ حرف، او، ترتیب کو واجب نہیں کرتاوہ تو صرف دومذکورہ باتوں میں ایک کے لیے ہوتا ہے گویا کہ یوں کہا گیا کہ، ان دونوں باتوں میں سے ایک کے بعد۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وصیت کا ذکردین سے پہلے کیا ہے جبکہ اصل میں یہ اس کے بعد ہے یعنی وصیت کا ذکر لفظامقدم، لیکن معنی موخ رہے۔ قول باری ہے (ولکم نصف ماترک ازواجکم ان لم یکن لھن ولدفان کان لھن ولدفلکم الربع مماترکن، تمہارے لیے اس ترک کا نصف ہے جو تمہارے لیے اس ترکے کا نصف ہے جو تمھاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ وہ صاحب اولادنہ ہوں۔ اگر وہ صاحب اولادہوں تو تمھارے لیے ان کے چھوڑے ہوئے ترکے کا چوتھائی ہے۔ ) یہ وہ نص ہے جس کی تاویل میں اسی طرح کا اتفاق ہے۔ جس طرح اتنزیل میں۔ اس مسئلے میں مذکر اورمونث اولاد ، دونوں کا حکم یکساں ہے۔ بیٹایابیٹی شوہر کا حصہ نصف سے گھٹاکرچوتھائی اور بیوی کا حصہ چوتھائی سے گھٹاکرآٹھویں حصے تک پہنچادیتے ہیں بشرطیکہ اولاد میراث کی اہل ہو۔ اسی طرح اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے کہ بیٹے کی اولاد اس کی عدم موجودگی میں میاں یا بیوی کے حصوں کو کم کرنے میں بیٹے کی طرح ہے۔ قول باری ہے (آباؤکم وابناؤکم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعا فریضۃ من اللہ تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمھاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کردیئے ہیں) ایک قول ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں، تم نہیں جانتے کہ ان میں سے کون دینی اور دنیاوی نفع کے لحاظ سے تم سے قریب تر ہے۔ یہ بات اللہ کو معلوم ہے۔ اس لیے اس کے بیان کردہ حکم کی روشنی میں ترکہ تقسیم کردوکیون کہ مصالح کا علم صرف اس کو ہی ہے۔ ایک قول یہ کہ تمہارے ماں باپ اور تمھاری اولادنفع رسانی میں تقریبا یکساں درجے پر ہیں کہ تمہیں پتہ نہیں چل سکتا کہ بلحاظ نفع رسانی تم سے کون زیادہ قریب ہے۔ اس لیے کہ تم بچپن میں اپنے والدین سے فوائد حاصل کرتے رہے اور اب بڑھاپے میں اپنی اولاد سے فوائد حاصل کروگے اس لیے اللہ تعالیٰ نے تمہارے اموال میں والدین اور اولاد کے لیے حصے مقرر کردیئے کیونکہ اسے تمام لوگوں کے مفادات اور مصالح کا علم ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ ، تم میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اس کی وفات پہلے ہوجائے گی اور اس کی اولاد اس کے مال سے فائدہ حاصل کرے گی یا اولاد کی وفات پہلے ہوجائے گی اور ماں باپ اس کے مال سے مستفیدہوں گے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے علم اور اپنی حکمت کی بنیادپرتمھاری میراث میں یہ حصے مقررکیئے ہیں۔ سلف کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ایساشخص جو خود تو وارث نہیں بن سکتا کسی دوسرے وارث کے حصے کو گھٹاسکتا ہے یا نہیں ؟ مثلا ایک آزادمسلمان اپنے پیچھے آزاد اور مسلمان والدین اور دوکافریاغلام یاقاتل بھائی چھوڑجائے۔ حضرت علی ؓ حضرت عمر ؓ اور زیدبن ثابت ؓ کا قول ہے کہ اس صورت میں ماں کو تہائی حصہ ملے گا اور باقی ماندہ دوتہائی ترکہ باپ کو مل جائے گا اسی طرح اگر کوئی مسلمان عورت اپنے پیچھے شوہر اور ایک کافریاغلام یاقاتل بیٹا چھوڑجائے یا کوئی مرد مرجائے اور اپنے پیچھے بیوی اور اسی قسم کا ایک بیٹا چھوڑجائے تو ان صورتوں میں بیٹاشوہریابیوی کے حصوں کو گھٹا نہیں سکتا۔ امام ابوحنیفہ امام ابویوسف، امام محمد، امام مالک امام شافعی اور سفیان ثوری کا یہی قول ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کا قول ہے کہ ایسابیٹا شوہریابیوی کے حصوں کو گھٹانے کا سبب بن جائے گا اگر وہ خودوارث نہیں ہوگا۔ اوزاعی اور حسن بن صالح کا قول ہے کہ غلام اور کافراولاد نہ توخودوارث ہوگی اور نہ ہی حصہ گھٹائے گی البتہ وہ وارث نہیں ہوگا۔ لیکن گھٹادے گا۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ کافرباپ اپنے بیٹے کو دادا کی میراث سے محجوب یعنی محروم نہیں کرسکتا بلکہ اسے مردہ فرض کرلیاجاتا ہے۔ اس لیے ماں، شوہر اوربیوی کے محجوب ہونے کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے۔ جو لوگ حجت یعنی گھٹانے یا محروم رکھنے کے قائل ہیں انہوں نے قول باری (ولایویہ لکل واحد منھماالسدس مماترک ان کان لہ ولد) کے ظاہر سے استدلال کیا ہے کیونکہ یہاں مسلمان اور کافر کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے۔ جواب میں ان سے کہاجائے گا کہ آپ نے ماں کا حصہ توگھٹادیا لیکن باپ کا نہیں گھٹایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اولاد کی بناپردونوں کو محجوب قراردیا تھا۔ اب اگر باپ کا محجوب قرارنہ دیاجانادرست ہے ؟ اور آپ نے قول باری (ان کان لہ ولد) کو اس ولدپرمحمول کیا جومیراث کا اہل بن سکتا ہو ؟ توپھرماں کی صورت میں بھی اس کا یہی حکم ہونا چاہیے۔