4. Surah An-Nisaa
النساءThe Women · 176 ayahsاحکام القرآن
وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader
اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔ ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اسے ذوق و شوق سے کھالو۔
عورت کا اپنے شوہر کو مہرہبہ کردینا
اسلام عورتوں کے حقوق کا ضامن ہے
قول باری ہے (واتوا النساء صدقاتھن نحلۃ فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئامریا، اور عورتوں کے مہرخوش دلی کے ساتھ فرض جانتے ہوئے اداکرد، البتہ اگر وہ خوداپنی خوشی سے مہرکا کوئی حصہ معاف کردیں تو اسے تم مزے سے کھاسکتے ہو) قتادہ اور ابن جریج سے مروی ہے کہ آیت کی تفسیر میں کہاگیا فرض کے طورپر، گویا انہوں نے نحلۃ کا یہ مفہوم ، نحلۃ الدین، (دین کا طریقہ) سے اخذکیا ہے نیز یہ کہ مہردینا فرض ہے۔ ابوصالح سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص اپنی لونڈی کا کسی سے نکاح کرادیتا تو اس کے مہر کی رقم خودلے لینا، لوگوں کو اس آیت کے ذریعے اس بات سے روک دیا گیا۔ ابوصالح نے آیت میں واردخطاب کو اولیاء کے لیے قراردے کر یہ معنی بیان کیے کہا نہیں یہ بدایت کی گئی کہ جب کوئی ولی عورت کی طرف سے مہر کی رقم اپنے قبضے میں لے لے تو وہ اسے اپنے قبضے میں نہ رکے، بلکہ عورت کے حوالے کردے۔ تاہم لفظ نحلۃ کے معنی اسی مفہوم کی طرف راجع ہیں جس کا ذکرقتادہ نے کیا ہے یعنی فرض کے طورپر ، اور یہ اس معنی میں ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے مواریث کے ذکر کے بعد (فریضۃ من اللہ) کے الفاظ کے ذریعے کیا ہے۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ مہرکونحلۃ کا نام دیا گیا جبکہ یہ لفظ اصل میں بعض صورتوں کے اندرہبہ اور عطیہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ شوہر، مہر کے بدل کے طورپر کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا اس لیے کہ نکاح کے بعد بھی عورت کے اعضائے جنسی نکاح سے پہلے کی طرح عورت ہی کے قبضے میں رہتے ہیں۔ آپ نہیں دیکھتے ؟ کہ اگر عورت کے ساتھ شبہ کی بناپروطی کرجائے تو مہر کی رقم عورت کو ملے گی شوہر کو نہیں، اب مہرکواس لیے ، نحلۃ، کا نام دیا گیا کہ عورت کی طرف سے اس کے بدلے میں کوئی ایسی چیز نہیں ملی جس کا شوہر مالک ہوجائے اس لیے مہراس ہبہ اور عطیہ کی طرح ہوگیا جس کے مقابلے میں کوئی بدل نہیں ہوتا۔ عقدنکاح کی بناپر عورت کی طرف سے شوہر جس چیز کا مستحق ہوتا ہے وہ اسباحت ہے نہ کہ ملکیت یعنی وہ عورت کو جسمانی طورپر اپنے طورپرمباح کرلیتا وہ عورت کا مالک قرار نہیں پاتا۔ ابوعبیدہ معمربن المثنی نے قول باری (نحلۃ) کے متعلق کہا کہ، خوش ولی کے ساتھ ، گویا اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ دل کی ناپسندیدگی کے ساتھ عورتوں کو ان کے مہرنہ دوبل کہ خوش ولی کے ساتھ مہر کی رقمیں انہیں دے دیا کرو۔ اگرچہ مہر عورت کے قبضے میں چلاجاتا ہے۔ تمہارے قبضے میں نہیں جاتا۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اس مفہوم کی بناپریہ جائز ہے ۔ کیونکہ مہرکواس لیے، نحلۃ، کا نام دیا گیا ہے کہ ، نحلۃ، عطیہ کو کہتے ہیں اور عام طورپرجب کوئی شخص کسی کو عطیہ دیتا ہے تو خوش ولی کے ساتھ دیتا ہے اسی مفہوم کے تحت مہرکو، نحلۃ، کا نام دے کر گویا مردوں کو یہ ہدایت کی گوئی وہ عورتوں کو مہرخوشد لی کے ساتھ دیں جس طرح عطیہ دینے والا خوشدلی کے ساتھ کسی کو عطیہ دیتا ہے قول باری (واتوا النساء صدقاتھن نحلۃ) سے اس عورت کو پورامہردینے کے سلسلے میں استدلال کیا گیا ہے۔ جس کے ساتھ شوہرنے خلوت کی ہو اس لیے کہ آیت کے ظاہر کا یہی تقاضا ہے۔ قول باری (فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئا مریا) میں مراد یہ ہے کہ ، اگر خوشی سے وہ مہرکا کوئی حصہ معاف کردیں۔ جب اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو ان کے مہرادا کرنے کا حکم دیا تو اس کے بعد ہی یہ بیان کردیا کہ اگر عورت مہرمعاف کردے یاہبہ کردے تو شوہر کوا سے تسلیم کرلینا جائز ہے۔ تاکہ یہ خیال نہ پیداہو کہ مرد بہرصورت مہراداکرے خواہ عورت بطیت خاطرمہرنہ لینے پر تیارہوجائے۔ قتادہ نے اس آیت کے متعلق کہا ہے کہ عورت زوروزبردستی کے بغیر بطیب خاطر، مہرکاجو حصہ چھوڑدے گی وہ مرد کے لیے حلال ہوگا۔ چناچہ علقمہ نے اپنی بیوی سے کہا تھا : مزید اور خوشگوارشئی سے مجھے بھی کھلاو۔ (ان کی مراد یہ تھی کہ مہرکا کچھ حصہ چھوڑدو)
زیربحث آیت کئی معانی پر مشتمل ہے۔ اول یہ کہ مہر عورت کے لیے ہوتا ہے۔ وہی اس کی حق دارہوتی ہے۔ اس پر ولی کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ دوم یہ کہ مرد مہر کی رقم خوش ولی کے ساتھ عورت کو اداکرے سوم یہ کہ اگر عورت مرد کو مہرہبہ کردیتی ہے تو ایساکرنا اس کے لیے جائز ہے اور مرد کوا سے قبول کرلینا مباح ہے قول باری (فکلوہ ھنیئا مریا) اس کی دلیل ہے چہارم یہ کہ عورت کی طرف سے مہر کی رقم ہبہ کردینے کے جواز کے لیے مہرپر اس کے قبضہ کرلینے اور قبضہ نہ کرنے کی دوحالتیں یکساں حکم کی حامل ہیں، اس لیے کہ قول باری (فکلوہ ھنیئامریا) دونوں حالتوں پر دلالت کرتا ہے۔ نیزقبضہ کرنے سے پہلے ہی ہبہ کردینے کے جواز پر بھی یہ قول باری دلالت کرتا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حالتوں میں کوئی فرق نہیں کیا ہے۔
اگریہ کہاجائے کہ قول باری (فکلوھ ھنیئامریا) سے مراد مہر کی وہ صورتیں ہیں جن میں اس کا تعین ہوچکاہو یعنی یا تو وہ سامان کی صورت میں ہوں جس پر عورت نے قبضہ کرلیا ہو یاقبضہ نہ کیا ہو۔ یا نقدی یعنی درہم ودینا رکی صورت میں ہو جس پر اس کا قبضہ ہوچکاہو، لیکن اگر مہرمرد کے ذمے دین کی صورت میں ہو تو پھر اس کے ہبہ کے جواز پر آیت کی کوئی دلالت نہیں ہے، کیونکہ جو چیز کسی کے ذمے لگ چکی ہو اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسے مزے سے کھالو، اس کے جواب میں یہ کہاجائے گا کہ اس بارے میں آیت کی مراد صرف ان چیزوں تک محوود نہیں ہے جو کھائی جاسکتی ہوں یعنی ماکولات میں سے ہوں اور غیر ماکولات اس مراد میں داخل نہ ہوں، اس لیے کہ اگر آیت کی مراد یہ ہوتی تو پھر ضروری ہوتا کہ کھالینے کا حکم مہر کے ساتھ اس وقت خاص ہوتاجب کہ مہرماکولات میں سے ہوتا، حالانکہ آیت میں خطاب کے مفہوم سے خود یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہ صرف ماکولات تک محدود نہیں ہے اور یہ کہ غیر ماکولات اس میں شامل نہیں ہیں۔ اس لیے کہ قول باری (واتوا النساء صدقاتھن نحلۃ) مہر کی تمام صورتوں کو شامل ہے خواہ وہ ماکولات کی جنس میں سے ہوں یا غیر ماکولات کی۔ اور قول باری (فکلوہ ھنیئامریا) ان تمام صدقات کو شامل ہے جن کے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے یہ دلالت حاصل ہوئی کہ اس بارے میں لفظ اکل کا جوکھا لینے کے مفہوم پر دلالت کرتا ہے کوئی اعتبارنہٰں ہے بلکہ مقصد اس میں ہے کہ عورت کی طرف سے بطیب خاطر مہریا اس کا ایک حصہ چھوڑدینے کی صورت میں مرد کے لیے وہ مباح قرارپاتا ہے۔
اس کی مزید وضاحت اس ارشادباری سے ہوسکتی ہے (ان الذین یاکلون اموال الیتامی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا) نیز فرمایا (ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل) ان دونوں آیتوں میں یتیم کے مال میں تصرف کی تمام صورتوں سے عموم نہی ہے۔ خواہ وہ دین ہو یا عین یاماکول ہو یا غیر ماکول اور یہ عموم باہمی رضامندی کی بنیادپر تجارت کی صورت کے سوالوگوں کا مال لے لینے کی تمام صورتوں کی نہی کو بھی شامل ہے۔ اور ظاہ رہے کہ آیت کے معنی کی مطابقت کے لیے ماکولات دوسری چیزوں کے مقابلے میں اولی نہیں ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خصوصی طورپر، اکل، کا کیوں ذکرکیاتو اس کا جواب یہ ہے کہ یہی، اکل، یعنی خورونوش ہی اموال کے حصول کا سب سے بڑامقصدہوتا ہے۔ اس لیے کہ انسانی جسم کا گذارہ اور اس کی زندگی کا دارومداراسی پر ہوتا ہے۔ اس کے ذکرکے ساتھ اس سے کم تراشیاء پر بھی دلالت ہوگئی ہے اس کی مثال قول باری (اذانودی للصلوۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الی ذکراللہ وذروالبیع، جب جمعہ کی اذان ہوجائے تو اللہ کی یاد کی طرف دوڑپڑو اورخریدوفروخت ختم کردو) یہاں خصوصی طورپربیع کا ذکرہوا اگرچہ اس کے سوا اور تمام چیزیں بھی اس نہی میں اس کی طرح ہیں جو انسان کو جمعہ کی ادائیگی سے باز رکھیں اس لیئے کہ خرید و فروخت میں مشغولیت طلب معاش کے سلسلے میں ان کی کوشش اور دوڑدھوپ کی ایک بہت بڑی صورت تھی اس سے خودیہ بات سمجھ میں آگئی کہ اس سے کم تر صورتیں بھی یہاں مراد ہیں اور یہ کہ ان کم تر صورتوں کی نہی اولی ہے کہ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نمازجمعہ کے سلسلے میں انہیں اس صورت یعنی بیع سے روک دیا ہے جس کی انہیں زیادہ ضرورت تھی اور جس کی طرف ان کی حاجت زیادہ شدید تھی۔ یا اس کی مثال یہ قول باری ہے (حرمت علیکم المیتۃ والدم الحم الخنزیر، تم پر مردار، خون اور سورکاگوشت حرام کردیئے گئے ہیں) یہاں سور کے گوشت کی تحریم کا خصوصیت سے ذکرہوا۔ جبکہ سور کے جسم کا برجزگوشت کی طرح حرام ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ گوشت ہی اس سے انتفاع کا سب سے بڑاذریعہ ہوتا ہے۔ اور عمومی طورپریہی مقصودبھی ہوتا ہے تو اس سے حصول منفعت کے سب سے بڑے ذریعے یعنی گوشت کی تحریم اس سے کم ترفائدہ بخش چیز کی حرمت پر بھی دلالت کرتی ہے۔ یہی مفہوم قول باری (فکلوہ ھنیئا مریا) کا بھی ہے کہ یہ مہر کے معاف شدہ حصے کے پر لطف اور خوشگوارہونے کا متقاضی ہے۔ خواہ وہ کسی بھی جنس یعنی عین یا دین سے تعلق رکھتاہو اور خواہ عورت نے اسے قبضے میں لے لیا ہو یا نہ لیاہو۔ اس پر ایک اور جہت سے غورکریں کہ جب عورت کے لیے مہرکا اس صورت میں ہبہ کرنا درست ہے، جبکہ وہ ایک معین شئی ہو اور اس کے قبضے میں ہو تو اس کا یہی حکم اس صورت میں بھی ہونا چاہیے کہ جبکہ یہ شوہر کے ذمے دین اور قرض کی صورت میں ہو۔ اس لیے کہ عورت کا اپنے مال میں تصرف کا جواز ثابت ہوچکا ہے اس بناپرتصرف کے لحاظ سے عین اور دین کے حکم میں کوئی فرق نہیں ہوگا ۔ نیز اہل علم میں سے کسی نے بھی ان دونوں میں فرق نہیں کیا ہے۔
اور دین کے ہبہ کردینے کے جواز پر بھی جبکہ وہ دین کی صورت میں ہو، آیت کی دلالت ہورہی ہے۔ آیت کی اس پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ اگر کسی انسان کا کسی دوسرے کے ذمہ دین ہو اور وہ اسے یہ دین ہبہ کردے تو نفس ہبہ کے ساتھ ہی مدیون کو دین سے چھٹکارامل جاتا ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی صحت کا حکم دیا ہے اور اس کے ذمہ سے ساقط کردیا ہے۔ آیت کی اس پر بھی دلالت ہورہی ہے کہ کوئی انسان اگر کسی کو کوئی مال ہبہ کردے اور وہ اسے قبضے میں لے کر اس میں تصرف بھی کرلے توایساکرنا اس کے لیے جائز ہے خواہ اس نے اپنی زبان سے یہ نہ کہا ہو کہ، میں نے یہ ہبہ قبول کرلیا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے شوہر کے لیے اس چیزکوکھالینے کی اباحت کردی ہے، جو عورت اپنے مہر میں سے اسے دے دے اس میں قبول کرلینے کی کوئی شرط نہیں لگائی گئی ہے۔ بلکہ ہبہ کرنے والے کے سامنے ہبہ میں اس کا تصرف ہی قبولیت کی شکل ہوجائے گی۔ آیت کی اس پر دلالت ہورہی ہے کہ اگر عورت شوہر سے یہ کہے کہ میں نے بطیب خاطراپنا مہرچھوڑدیا ہے اور یہ کہہ کر ہبہ یابرائت کا ارادہ کرے، تو اس کا یہ اقدام جائز ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے (فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلو ہ ھنیئا مریا)
تاہم فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا عورت اپنے شوہر کو مہرہبہ کرسکتی ہے یا نہیں ؟ امام ابوحنیفہ۔ امام ابویوسف ، امام محمد، زفر، حسن بن زیادہ اور امام شافعی کا قول ہے کہ جب عورت بالغ ہوچکی ہو اور اس میں عقل آگئی ہو تو اس کا ہبہ وغیرہ کی صورت میں اپنے مال میں تصرف جائز ہے خواہ وہ باکرہ ہو یا ثیبہ۔
امام مالک کا قول ہے کہ باکرہ عورت کا اپنے مال میں کوئی تصرف اور مہر کے کسی حصے سے اپنے شوہر کو بری کردینا جائز نہیں ہے۔ مہرمعاف کرنا باپ کی ذمہ داری ہے، باپ کے سوا اور کوئی ولی یہ قدم نہیں اٹھاسکتا۔ آپ نے مزید فرمایا کہ شوہر والی عورت کا اپنے گھر اور غلام وغیرہ کی فروخت جائز ہے ۔ خواہ شوہر کو یہ ناپسند ہی کیوں نہ ہوبشرطی کہ اس کا سوداٹھیک ٹھاک رہاہو۔ اگر بیع میں خریدار کے لیے سہولت کو مدنظر کر رکھ کرقیمت وغیرہ میں کمی کردی گئی ہوتویہ بیع عورت کے تہائی مال سے جاری ہوگی اگر عورت صدقہ یاہبہ کرے گی تو وہ اپنے تہائی مال میں سے زائد کے اندرایسا نہیں کرسکے گی۔ امام مالک نے یہ بھی فرمایا کہ اگر عورت شوہر کے بغیر یعنی بیوہ یا مطلقہ ہو تو اس صورت میں وہ اپنے مال میں اسی طرح تصرف کرسکتی ہے جس طرح ایک مرد اپنے مال میں تصرف کرتا ہے۔ اور زاعی کا قول ہے کہ شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھرجاکربس جانے والی عورت کا کوئی عطیہ اس وقت تک درست نہیں ہوگا۔ جب تک کہ ایک سال نہ گذرجائے اور کوئی بچہ نہ پیدا ہوجائے۔ لیث کا قول ہے کہ شوہر والی عورت کا اپنے مال میں نہ تو کوئی صدقہ درست ہے اور نہ ہی اپنے غلام یا لونڈی کو آزاد کردینا، البتہ تھوڑابہت مال وہ خرچ کرسکتی ہے جس کا خرچ کرنا رشتہ داری کے تعلقات برقراررکھنے یارضائے الٰہی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ زیربحث آیت درج بالا اقوال کے فساد اور بطلان کا فیصلہ اور ہمارے اصحاب کے قول کی صحت کی گواہی دے رہی ہے کیونکہ قول باری ہے (فان صبن لکم عن شی من نفسا فکلوہ ھنیئامریا) اللہ تعالیٰ نے اس قول میں باکرہ اور ثیبہ کے درمیان نیز شوہر کے گھر میں ایک سال کی مدت گذارلینے والی اور نہ گذارنے والی عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔ اب اس معاملے میں باکرہ اور ثیبہ کے درمیان فرق کرنا صرف اسی صورت میں درست ہوگا، جبکہ کوئی ایسی دلالت موجود ہو جس سے یہ معلوم ہوسکے کہ آیت صرف ثیبہ کے بارے میں ہے باکرہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ امام مالک نے عورت کے باپ کے ذریعے مہر کے ہبہ کو جائزقراردیاجب کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ عورت کا پورامہراس کے حوالے کردوالایہ کہ وہ خود اس میں سے کچھ حصہ یا پورے کا پوراچھوڑدے۔ اس طرح آیت باپ کے ذریعے مہر کے ہبہ کے بطلان کا فیصلہ دیتی ہے۔ کیونکہ اسے تو مہر کی پوری رقم بیٹی کے حوالے کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔ الایہ کہ وہ بطیب خاطرا سے چھوڑنے پر ضامندہوجائے۔ اللہ نے باپ کی خوش ودلی کی شرط نہیں لگائی اس طرح امام مالک نے ایک طرف اس بات کی ممانعت کردی جس کی اللہ تعالیٰ نے عورت کے لیے بطیب خاطرعمل پیرا ہونے کی اجازت دی تھی اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے عورت کی خوش دلی کے بغیر جس بات کی ممانعت کردی تھی انہوں نے باپ کی شرط لگاکرا سے جائز کردیا۔
یہ طرزفکر دراصل کسی دلیل کے بغیر آیت پر دوپہلوؤں سے اعتراض کرنے کے مترادف ہے : اول یہ کہ ظاہر آیت توہبہ کے جواز کی متقاضی ہے لیکن اسے اس سے روکا جارہا ہے۔ دوم یہ کہ باپ کے ذریعے بیٹی کے مہر کے ہبہ کا جواز پیداکردیاگیا ہے جبکہ امرالٰہی یہ ہے کہ عورت کو اس کا پورا مہردے دیاجائے الایہ کہ وہ بطیب خاطرا سے چھوڑدینے پر رضامندہوجائے۔
اسلام نے عورت کو حق ملکیت عطاء کیا۔
قول باری (ولایحل لکم ان تاخذوامما اتیتموھن شیئا الا ان یخافا الایقیماحدود اللہ فان خفتم الایقیما حدود اللہ فلاجناح علیھما فیماافتدت بہ، تمہارے لیئے یہ حلال نہیں ہے کہ تم دی ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیزان سے واپس لے لوالایہ کہ میاں بیوی دونوں کو اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکتے۔ اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ یہ دونوں اللہ کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکتے تو ان دونوں پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ عورت (طلاق حاصل کرنے کے لیے) بطور فدیہ کچھ دے دے) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شوہر کو ان چیزوں میں سے کوئی بھی چیزواپس لینے سے روک دیاجو اس نے اپنی بیوی کودے رکھی تھی۔ الایہ کہ بیوی طلاق حاصل کرنے کی غرض سے ان میں سے کوئی چیزبطورفدیہ شوہر کودے دے۔ غرض کسی چیز کے دینے میں عورت کی رضامندی کی شرط لگادی گئی اور اس میں باکرہ اور ثیبہ کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا گیا، اس پر حضرت عبداللہ مسعود کی بیوی زینب کی حدیث بھی دلالت کرتی ہے کہ حضور ﷺ نے عورتوں سے فرمایا (تصدقن ولومن حلیکن، صدقہ دیاکروخواہ اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ ہو۔ ) حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے عیدالفطر کے موقع پر نماز عید کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس کے بعد عورتوں کے گردہ کی طرف تشریف لے گئے اور انہیں صدقہ نکالنے کا حکم دیا اس موقع پر آپ نے باکرہ اور ثیبہ کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا۔ ایک اور وجہ سے بھی اس کا جواز نہیں کیونکہ یہ ، حجر، یعنی سرکاری طورپر پابندی لگادینے کی ایک صورت ہے جبکہ ایسے فرد پر جس کی حیثیت دہ ہو جس کا ذکر اوپر ہوچکا ہے پابندی لگانا درست نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔
وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader
اور بےعقلوں کو ان کا مال جسے خدا نے تم لوگوں کے لیے سبب معیشت بنایا ہے مت دو (ہاں) اس میں سے ان کو کھلاتے اور پہناتے رہو اور ان سے معقول باتیں کہتے رہو۔
نادانوں اور بیوقوفوں کو ان کا مال حوالے کرنا
اسلام مال وجائد اد کی حفاظت کا حکم دیتا ہے
قول باری ہے (ولاتؤتوالسفھاء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیاما، اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیئے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے ناوان لوگوں کے حوالے نہ کرو۔ ) ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اس آیت کی تاویل وتفسیر میں اہل کا اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ کوئی شخص اپنامال اپنی اولاد کے درمیان تقسیم نہ کرے اور پھر خودان کا دست نگربن جائے، جبکہ اس کی اولاد کو اس کا دست نگرہونا چاہیئے اور عورت بیوقوف ترین مخلوق ہے۔ اس طرح حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کی اس کے ظاہر اور اس کی حقیقت کے مقتضیٰ کے مطابق تفسیر کی اس لیے کہ قول باری (اموالکم) اس بات کا متقاضی ہے کہ اپنا مال نادانوں کے حوالے کرنے کی نہی کا خطاب ہر شخص کو ہے۔ اس لیے کہ حوالہ کردینے کی صورت میں گویا اپنا مال ضائع کردینا ہے کیونکہ نادان لوگ مال کی حفاظت اور اس میں اضافہ کرنے سے عاجزہوتے ہیں۔ نادان لوگوں سے آپ کی مراد بچے اور عورتیں ہیں جو مال کی حفاظت کے نااہل ہوتے ہیں نیز اس امرپر بھی دلالت ہورہی ہے کہ ایک شخص کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنے مال کا کسی ایسے فرد کو وکیل اور کارپروازبنادے جس میں نادانی اور بیوقوفی کی صفت پائی جاتی ہو اور نہ ہی ان جیسے لوگوں کو اپنے مال کے متعلق وصیت کرے۔ نیز یہ دلالت بھی ہورہی ہے کہ ایک شخص کے ورثاء کم عمرہوں تو اس کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ اپنے مال کے متعلق کسی ایسے شخص کو وصیت کرے جو امانت دارہو اور ان ورثاء کی خاطر اس مال کی دل وجان سے حفاظت کرسکتا ہو۔
اس میں یہ دلالت بھی موجود ہے کہ مال کو ضائع کرنے سے روکا گیا ہے اور اس کی حفاظت دیکھ بھال اور نگرانی واجب کردی گئی ہے۔ اس لیے کہ قول باری ہے (التی جعل اللہ لکم قیا ما) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتادیا ہے۔ کہ اس نے ہمارے جسموں کی زندگی اور قیام کا ذریعہ مال کو بنادیا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جس شخص کو مال دنیامیں سے کوئی حصہ عطاکیا ہے۔ اس پر اس میں سے اللہ کا حق یعنی زکوۃ و صدقات اداکرنا لازم ہے پھر باقی ماندہ مال کی حفاظت اور اسے ضائع ہونے سے بچانا بھی اس کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اصلاح معاش اور حسن تدبیر کی ترغیب دی ہے، یہ بات اللہ نے اپنی کتاب عزیز میں کئی مواقع پر بیان فرمائی ہے۔ چناچہ قول باری ہے۔ (ولاتبذرتبذیرا ان لمبذرین کانوا اخوان الشیطین، اور بلاضرورت خرچ نہ کرو بیشک بلاضرورت مال اڑانے والے شیطانوں کے بھائی بند ہیں) نیز قول باری ہے (ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولاتبسطھا کل البسط فتقعدملومامحسورا۔ اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ کر نہ رکھو، اور نہ ہی اسے پوری طرح پھیلا دو کہ پھر ملامت زدہ اور تھکاہاربن کر بیٹھ رہو) نیز قول باری ہے (والذین اذا انفقوالم یسرفواولم یقتروا، اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو فضول خرچی نہیں کرتے اور نہ ہی کنجوسی) اللہ تعالیٰ نے اموال کی حفاظت اور گواہوں، دستاویز اوررہن کے ذریعے قرض میں دی ہوئی رقموں کو محفوظ کرلینے کے جو احکامات دیئے ہیں جن کا ذکرہم پہلے کر آئے ہیں وہ بھی اصلاح معاش اور حسن تدبیر کے سلسلے میں دی جانے والی ترغیب کی ایک کڑی ہیں۔ قول باری (التی جعل اللہ لکم قیاما، کی اور تفسیر بھی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ان اموال کانگران ومحافظ بنا ہے۔ اس لیے انہیں ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں جانے نہ دوجوان کے ضیاع کا سبب بن جائیں۔
اسلام میں مال ودولت کا ضائع کرنا منع ہے
آیت زیر بحث کی ایک اور تاویل سعید بن جبیر سے منقول ہے کہ آیت کا اصل مفہوم یہ ہے ، ناوانوں کو ان کے اموال حوالے نہ کرو۔ اموال کی اضافت دراصل سفہاء یعنی نادانوں کی طرف ہے۔ اب الفاظ میں اموال کی جو اضافت مخاطبین کی طرف ہے تو اس کی مثال یہ قول باری ہے (ولاتقتلوا انفسکم، تم اپنی جانوں کو قتل نہ کرو) یہاں (انفسکم) سے مراد یہ ہے کہ ، تم میں سے بعض بعض کو قتل نہ کرے۔ اسی طرح قول باری (فاقتلوا انفسکم، تم اپنے آپ کو قتل کرو) کا یہی مفہوم ہے۔ نیز قول باری (واذدختلم بیوتا فسلمواعلی انفسکم، اور جب تم گھروں میں داخل ہو تو اپنے آپ کو سلام کرو) کا مفہوم یہ ہے کہ گھروں میں رہنے والوں کو سلام کرو۔ اس تاویل کی بناپرنادانوں اور بیوقوفوں پر ان کے اموال کے سلسلے میں پابندی ہوگی اور انہیں نادانی اور بے وقوفی زائل ہونے تک ان کے اموال سے دوررکھاجائے گا۔
یہاں سفہاء کے معنی میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے، تمہاری اولاد اور اہل وعیال میں سے سفیہ اور بے وقوف، نیز فرمایا : عورت بیوقوف ترین مخلوق ہے۔ سعید بن جبیر، حسن اور سدی نیز ضحاک اور قتادہ کے نزدیک عورتیں اور بچے سفہاء گنے جاتے میں بعض اہل علم کا قول ہے کہ اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جس میں مال کے متعلق سفاہت اور نادانی کی صفت پائی جاتی ہو خواہ اس پر پابندی لگی ہو یا نہ لگی ہو، شعبی نے ابوبردہ سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت کی ہے۔ کہ آپ نے فرمایا : تین افرادای سے ہیں جو اللہ سے دعا مانگتے ہیں لیکن اللہ ان کی دعاقبول نہیں کرتا، ایک تو وہ شخص جس کی بیوی بداخلاق اور بدزبان ہو اور وہ طلاق دے کر اپنی جان نہ چھڑائے۔ دوسراوہ جو اپنا مال کسی بیوقوف کے حوالے کردے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (ولاتوتوالسفھاء اموالکم) اور تیسراوہ شخص جس نے کسی کو قرض میں اپنی رقم دی اور اس پر گواہی نہ قائم کی ہو۔ مجاہد سے مروی ہے کہ سفہاء سے مراد عورتیں ہیں کہ ایک قول ہے کہ سفابت کے اصل معنی حلم اور بردباری کے لحاظ سے ہلکاپن کے ہیں اسی بناء پر فاسق کو سفیہ کہا گیا ہے اس لیے کہ اہل دین اور اہل علم کے نزدیک اس کا کوئی وزن اور مقام نہیں ہوتا۔ ناقص العقل کو بھی سفیہ کہاجاتا ہے اس لیے کہ اس میں عقل کی کمی ہوتی ہے۔ آیت زیربحث میں جسن سفہاء کا ذک رہے ان کی سفابت میں کوئی خدمت کا پہلو نہیں ہے اور نہ ہی اس سے اللہ کی نافرنی کا مفہوم ظا ہوتا ہے بلکہ انہیں سفہاء صرف ان کی عقل کی کمی اور مال کی حفاظت میں ان کی سمجھ بوجھ کی قلت کی بناء پر کہاگیا ہے۔
اگریہ کہاجائے کہ اس بات کے جواز میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ہم بچوں اور عورتوں کو مال بطور ہبہ دے سکتے ہیں۔ ایک صحابی حضرت بشیر ؓ نے اپنے بیٹے نعمان ؓ کو بطورہبہ کچھ دینے کا ارادہ کیا تو حضور ﷺ نے انہیں اس سے صرف اس لیے روک دیا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں کو یکساں طریقے پر ہبہ نہیں کیا تھا۔ اس بیان کی روشنی میں سفہاء کو ہماری طرف سے اموال نہ دینے کے معنی پر آیت کے کیسے محمول کیا جائے گا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس میں تملیک اور مال کسے ہبہ کے معنی نہیں ہیں۔ اس میں تو مفہوم یہ ہے کہ ہم اموال کو ان کے ہاتھوں میں دے دیں جبکہ انہیں ان کی حفاظت کی کوئی خاص پروانہ ہو۔ دوسری طرف ایک انسان کے لیے جائز ہے کہ نابالغ یا عورت کو بطورہبہ کوئی مال دے دے جس طرح کہ وہ بالغ عقلمند کو ہبہ کے طورپر کوئی چیزدے سکتا ہے۔ پہلی صورت میں صرف اتنی بات ہوئی کہ اس ہبہ کو بچے کا ولی اپنے قبضے میں لے کر اس کی حفاظت کرے گا اور اسے ضائع ہونے نہیں دے گا۔ آیت میں اللہ تعانے ہمیں اس سے روکا ہے کہ ہم اپنے اموال بچوں اور عورتوں کے ہاتھوں میں دے دیں جوان کی حفاظت اور دیکھ بھال کے نااہل ہوتے ہیں۔
قول باری ہے (فارزقوھم فیھا واکسوھم، ان نادانوں کو ان اموال میں سے کھلاؤ اور پہناؤ) یعنی انہیں ان اموال میں سے کھلاؤ اس لیے کہ یہاں حرف، فی، حرف، من ، کے معنی میں ہے اس لیے کہ حروف پر آگے پیچھے صفات ک اورودہوتارہتا ہے جس کی بناپربعض حروف بعض دوسرے حروف کے قائمقام ہوکران کے معنی دیتے ہیں جیسا کہ ارشاد باری ہے (ولاتاکلوا اموالھم الی اموالکم) میں معنی ، مع اموالکم، کے ہیں، یعنی ان کے اموال اپنے اموال کے ساتھ، اللہ تعالیٰ نے ہمیں اموال کو سفہاء کے حوالے کردینے سے روک دیا ہے جوان اموال کی حفاظت کا کام سرانجام نہیں دے سکتے اور یہ حکم دیا کہ ہم انہیں ان اموال میں سے ان کی خوراک اور لباس کا بندوبست کریں۔ اگر آیت سے مراد ہمیں اپنے اموال انہیں حوالے کرنے سے روکنا ہے جیسا کہ آیت کا ظاہراس کا مقتضی ہے تو پھر اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ اپنی بیوی اور نادان اولاد اور بیویوں کانان ونفقہ ہم پر واجب ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ہمیں حکم ہے کہ ہم ان پر اپنے اموال میں سے خرچ کریں۔ اگر آیت کی تاویل وہ ہے جسے ان لوگوں نے اختیارکیا ہے جن کا قول یہ ہے کہ اس سے مراد یہ بات ہے کہ ہم ان کے اموال اس وقت تک ان کے حوالے نہ کریں جب تک ان میں سفاہت کی صفت موجودہوتو پھر اس صورت میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم ان کے اموال میں سے ان پر خرچ کریں، یہ بات دوجوہ سے ایسے لوگوں پر پابندی پر دلالت کرتی ہے اول یہ کہ انہیں ان کے اموال سے دوررکھا گیا ہے دوم ان پر خرچ کرنے اور ان کی خوراک اور لباس کی خریداری کے سلسلے میں ہمیں ان کے اموال میں تصرف کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
قول باری ہے (وقولوالھم قولا معروفا، ان سے بھلی بات کہو) مجاہد اورابن جریج کا قول ہے کہ (قولا معروفا) سے مراد نیکی اور صلہ رحمی کرنے کے لیے موزوں اور جائز طریقے پر ان سے مناسب الفاظ میں وعدہ کرلینا ہے۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ اس سے مراد بھلے الفاظ میں ان سے گفتگو کرنا اور اس کے لیے نرم لہجہ اختیارکرنا ہے۔ جیسا کہ قول باری ہے (فاماالیتیم فلاتقھر، اور تم یتیم پر سختی نہ کرو) یا جس طرح یہ قول باری ہے (واما تعرضن عنھم ابتغاء رحمۃ من ربک ترجوھافقل لھم قولا میسورا، اگر تمھیں ان سے پہلوتہی کرنا پڑے اس انتظار میں کہ تیرے پروردگار کی طرف سے وہ کشایش آئے جس کی تمہیں امیدہوتوان سے نرمی کی بات کہہ دو ۔ ) ایک قول یہ بھی ہے یہاں، قول معروف، سے تادیب و تنبیہ نیزراست روی اور نیکی کی بدایت اور اخلاق حسنہ کے حصول کی راہنمائی مراد لینا بھی جائز ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد ہمیں یہ نصیحت کرنا ہے کہ تم ان کے لیے اپنے اموال میں سے خوراک وپوشاک کے اخراجات اداکروتو اس موقعہ پر ان سے بھلے اور مناسب الفاظ میں گفتگوکرو اورا نہیں اپنی بیزاری کا اظہارکرکے نیز انہیں ذ (رح) لیل کرکے اور نظروں سے گراکر ان کی ایذارسانی نہ کروجیسا کہ ارشادباری ہے (واذاحضرالقسمۃ اولوالقربی والیتامی والمساکین فارزقوھم منہ وقولوالھم قولا معروفا، اور جب تقسیم ترکہ کے وقت رشتہ دار، یتیم اور مساکین آجائیں توا نہیں بھی اس میں سے کچھ حصہ دو اور ان سے عمدہ انداز میں گفتگوکرو) یعنی مناسب الفاظ میں گفتگو اوراظہار بیزاری اور احسان جتانے سے پرہیز نیز یہ قول باری بھی ہے (لاتبطلواصدقاتکم بالمن والاذی اپنے صدقات کو احسان جتلاکر اورتکلیف پہنچاکربربادنہ کرو) یہ بھی درست ہے کہ مذکورہ بالاتمام معانی آیت (وقولوالھم قولا معروفا) میں مراد ہوں ۔
واللہ اعلم۔