Ayahs 4:83–85قول باری ہے (ولوکان من عندغیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا۔ اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو لوگ اس میں بہت زیادہ اختلاف پاتے) اختلاف کی تین صورتیں ہیں تناقض ، کی صورت میں اختلاف جس میں ایک چیز کا ثبوت دوسری چیز کے فساد کو لازم کردے۔
تفاوت کی صورت میں اختلاف جس میں ایک حصہ توفصاحت و بلاغت کی بلندیوں کو چھورہا ہو اور دوسرا حصہ انتہائی گھٹیا اور پست ہو۔ اختلاف کی یہ دونوں صورتیں قرآن سے منفی ہیں ، اور یہ چیز اس کے اعجاز کے دلائل سے ایک دلیل ہے۔
کیونکہ جب فصحاء اور بلغاء کا کوئی کلام طویل ہوتاجائے جس طرح قرآن کی طویل سورتیں ہیں تو ایسی صورت میں اس طویل کلام میں فصاحت اور بلاغت کا یکساں معیار برقرار نہیں رہتا، اور اس میں عدم یکسانیت کی بنا پر وہ تفاوت پیدا ہوجاتا ہے جس کا ہم نے ابھی ابھی ذکر کیا ہے تلاوم کی صورت میں اختلاف جس میں پورے کا پورے کلام لفظی اور معنی حسن کے لحاظ سے ایک دوسرے کے متناسب ہو۔
مثلا ق راتوں اور آیات کی مقداروں کے لحاظ سے اختلاف نیز ناسخ اور منسوخ کے احکام میں اختلاف ، اس آیت میں استدلال بالقرآن پر ابھارا گیا ہے اور اس کی ترغیب دی گئی ہے کیونکہ اس میں اس حق پر مختلف پیرایوں میں دلائل موجود ہیں جس کا اعتقاد رکھنا اور جس پر عمل کرنا ہم سب کے لیے ضروری ہے۔
مسائل پر اجتہاد واستنباط۔
قول باری ہے (ولوردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم، اگر یہ اس خبر کو رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائیں ، جوان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں) ۔
حسن اور قتادہ اور ابن ابی لیلی کا قول ہے کہ اولوالامر سے مراد اہل علم وفقہ ہیں سدی کا قول ہے کہ اس سے مراد مراء وعمال ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ اس سے دونوں مذکورہ بالاگروہ مراد لینا درست ہے کیونکہ اولوالامر کا اسم ان دونوں پر واقع ہوتا ہے۔
اگریہ کہاجائے کہ اولوالامر تو وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے ہاتھوں میں لوگوں کے معاملات کو سنبھالنے اور انہیں درست رکھنے کے اختیارات ہوتے ہیں اہل علم کے ہاتھوں میں اس قسم کے اختیارات نہیں ہوتے تو ان کا شمار اولوالامر میں کیسے ہوسکے گا۔ اس کے جواب میں کہاجائے گا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اولوالامر وہ لوگ ہیں جو لوگوں پر اختیارات رکھنے کی بنا پر ان کے معاملات کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
فقہاء کو بھی اولوالامر کہا جاسکتا ہے کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ کے اوامر ونواہی کا علم ہوتا ہے اور دوسروں پر ان کے قول کو تسلیم کرنا لازم ہوتا ہے اس بنا پر انہیں اولوالامر کے نام سے موسوم کرنا درست ہے۔
جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے (لیتفقھوا فی الدین ۔۔۔ تا۔۔۔۔ یحذرون۔ تاکہ باقی لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں اور تاکہ اپنی قوم والوں کو جب وہ ان کے پاس واپس آئیں ڈراتے رہیں عجیب کیا کہ وہ محتاط رہیں) ۔ اللہ تعالیٰ نے فقہاء کے انذار پر محتاط رویہ اختیار کرنا لازم قرار دیا ہے اور جنہیں انذار کیا جارہا ہے ان پر ان کے قول کو قبول کرنا ضروری قرار دیا اس بنا پر ان حضرات پر اولوالامر کے اسم کا اطلاق درست ہوگیا۔
امراء اور اعیان سلطنت کو بھی اولوالامر کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اس لیے کہ یہ ان لوگوں پر اپنے احکامات نافذ کرنے کے اختیارات رکھتے ہیں جن پر انہیں بالادستی اور حکومت حاصل ہوتی ہے۔
قول باری ہے (لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم، استنباط استخراج کو کہتے ہیں ، اسی سے استنباط المیاہ والعیون (پانی نکالنا چشمے کھودنا) ماخوذ ہے اس لیے استنباط کا اسم ہراس چیز پر محمول ہوتا ہے جو کہیں سے اس طرح نکالی جائے کہ آنکھوں سے نظر آجائے یا دلوں میں اس کی معرفت حاصل ہوجائے۔
شریعت میں استنباط استدلال اور استعلام کی نظیر ہے ، اس آیت کے اندر حوادث یعنی پیش آنے والے نئے امور کے احکامات معلوم کرنے کے لیے قیاس سے کام لینے اور اپنی رائے اور اجتہاد کو بروئے کار لانے کے وجوب پر دلالت موجود ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں پیش آمدہ واقعات کو حضور کی زندگی اور صحابہ کرام کی موجودگی میں آپ کی طرف لوٹانے کا اور آپ کی وفات کے بعد یا صحابہ کرام کی آپ سے دوری کی صورت میں علماء کی طرف لوٹانے کا حکم دیا۔ لوٹانے کا یہ حکم لامحالہ ان امور سے تعلق رکھتا ہے جو منصوص نہیں ہیں کیونکہ منصوص احکامات اور امور میں کسی استنباط کی ضرورت اور حاجت پیش نہیں آتی۔
اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ کے احکامات میں سے کچھ تو وہ ہیں جو منصوص طریقے سے بیان ہوئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو نصوص کے اندر موجود ہیں اور ہمیں اس بات کا مکلف بنایا گیا ہے کہ ہم استدلال واستنباط کے ذریعے ان احکامات کے علم تک رسائی حاصل کریں۔
اس طرح اس آیت میں کئی معانی اور احکامات موجود ہیں ، ایک یہ کہ پیش امدہ مسائل میں سے بہت سے ایسے ہوت ہیں جن کے احکام منصوص صورتوں میں موجود ہوتے ہیں اور بہت سے مسائل کے احکامات مدلول یعنی دلالت کی صورتوں میں ہوتے ہیں۔
دوم یہ کہ علماء کی یہ ذمہ داری ہے کہ جس مسئلے کا حکم منصوص نہ ہوا سے اس کے نظائر کی طرف لوٹا کر جومنصوص ہوں حکم کا استنباط کریں اور اس کی معرفت تک رسائی حاصل کریں۔ سوم یہ کہ عوام الناس پر یہ لازم ہے کہ پیش آمدہ مسائل کے احکام کے سلسلے میں علماء کی تقلید کریں۔
چہارم یہ کہ حضور احکام کے استنباط اور ان کے دلائل سے استدلال کے مکلف تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے معاملات کو آپ کی طرف نیز اولوالامر کی طرف لوٹانے کا حکم دیا، پھر فرمایا (لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم) اس میں استنباط واستدلال کے حکم کے ساتھ صرف اولوالامر کو مخصوص نہیں کیا بلکہ حضور کی ذات اقدس بھی اس حکم میں شامل تھی ، اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ استنباط کرنے اور استدلال کے ذریعے احکام کی معرفت تک رسائی حاصل کرنے کا کام سب کے ذمے لگایا گیا تھا۔
اگریہ کہاجائے کہ آیت میں استنباط کے سلسلے میں دیا گیا حکم پیش آمدہ مسائل کے احکام کے استنباط سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس کا تعلق صرف دشمن سے خوف اور امن کے معاملے تک محدود ہے کیونکہ قول باری ہے۔
واذاجاء ھم امر من الامن اوالخوف۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ منھم۔ اس کا تعلق صرف ان افواہوں سے ہے جو منافقین پھیلایا کرتے تھے۔ اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان افواہوں پر کان نہ دھریں اور انہیں حضور اور سمجھدار لوگوں تک پہنچادیں تاکہ خوف وہراس کی افواہوں کی صورت میں یہ افواہیں مسلمانوں کے اعصاب پر سوار ہوجائیں اور امن وسکون کی افواہوں کی صورت میں مسلمان مطمئن ہوکربیٹھ نہ رہیں اور جہاد کی تیاری نیز کافروں سے ہوشیار رہنے کے عمل کو ترک نہ کردیں۔
اس لیے آیت میں احکام حوادث کے استنباط کے جواز کے سلسلے میں کوئی دلالت موجود نہیں ہے اس اعتراض کے جواب میں یہ کہاجائے گا کہ قول باری (واذاجاء ھم امر من الامن اوالخوف) صرف دشمنوں کے معاملے تک محدود نہیں ہے۔ کیونکہ امن اور خوف کا تعلق ان احکامات سے بھی ہوسکتا ہے جن پر مسلمان عمل پیرا ہوتے ہیں کہ ان میں مباحات کیا ہیں اور ممانعت کیا ہیں اور ان میں جائز کون کون سے احکامات ہیں اور ناجائز کون سے ہیں۔
ان تمام باتوں کا امن اور خوف سے تعلق ہے اور آیت مٰں امن اور خوف کے ذکر سے یہ دلالت حاصل نہیں ہوتی کہ ان کا دائرہ صرف ان افواہوں تک محدود ہے جو دشمن کی طرف سے امن اور خوف کے سلسلے میں اڑائی جاتی تھیں، بلکہ ان کا تمام معاملات سے تعلق ہونا درست ہے ، اس حکم کے ذریعے عوام الناس پر پابندی لگادی گئی کہ وہ پیش آمدہ مسائل کے احکام کے سلسلے میں اپنی طرف سے اباحت یا ممانعت یا ایجاب یانفی وغیرہ کی کوئی بات نہ کریں ، بلکہ ان پر ان امور کو اللہ کے رسول اور اولوالامر کی طرف لوٹا دینالازم کردیا گیا ہے تاکہ وہ منصوص احکام کے نظائر کے ذریعے استدلال کرکے ان امور کے احکامات مستنبط کرلیں۔
ایک اور پہلو سے دیکھتے ہیں اگر ہم معترض کی یہ بات تسلیم کرلیں کہ آیت کا نزول دشمن سے تعلق رکھنے والے امن اور خوف کے معاملے تک محدود ہے پھر بھی ہماری ذکر کردہ بات پر اس کی دلالت قائم رہے گی۔
وہ اس طرح جب جہاد کے لیے نیز دشمن کی چالوں کی توڑ کے لیے حکمت عملی استنباط کرنے کا جواز ہے کہ حالات کے مطابق کبھی صرف احتیاطی تدابیر اختیار کرلی جائیں کبھی حملہ کرنے میں پہل کرلی جائے اور کبھی پیچھے ہٹ کردفاعی مورچوں کو مضبوط بنالیاجائے اور یہ ساری کاروائیاں اس بناپر کی جائیں کہ اللہ نے ہمیں ان کا حکم دیا ہے اور اس سلسلے میں سوچ بچار کا معاملہ اولوالامر کی آراء سے اور اجتہاد کے حوالے کردیا ہے ۔
تو اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ان معاملات کے احکام ومعلوم کرنے کے لیے اجتہاد سے کام لیاجانا بھی واجب ہے جو جنگی تدبیروں ، کافروں کے خلاف جنگی کاروائیوں اور دشمن کی چالوں کے توڑ کے سلسلے میں پیش آسکتی ہیں۔ ان احکامات کے سلسلے میں اجتہاد اور عبادات نیز فروعی مسائل کے سلسلے میں پیش آمدہ واقعات کے احکام معلوم کرنے کے لیے اجتہاد اور نظائر سے استدلال میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ ان تمام کا اللہ کے احکام سے تعلق ہے۔
البتہ اجتہاد واستنباط کی ممانعت اس صورت میں ہوسکتی ہے کہ مثلا ایک شخص صرف بیع وشراء کے مسائل میں اجتہاد واستنباط سے کام لینے کو تومباح سمجھتا ہو لیکن نکاح وطلاق کے مسائل میں اس کے جواز کا قئل نہ ہو نماز کے مسائل میں اس کا قائل ہو اورحج ومناسک کے مسائل میں اس سے کام لینادرست نہ سمجھتاہو اصطلاح میں اسے خلف القول کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔
اور کوئی یہ کہے کہ استنباط کا دائرہ صرف قیاس اور اجتہاد رائے تک محدود نہیں بلکہ اس میں اس دلیل سے استدلال بھی داخل ہے جس میں لغت کے لحاظ سے صرف ایک معنی کا احتمال ہو، اس کے جواب میں کہاجائیگا کہ جو دلیل ایسی ہو جس میں لغت کے لحاظ سے صرف ایک معنی کا احتمال ہو، اس کے بارے میں اہل لغت کے درمیان کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ صرف لفظ کے ذریعے اس کا مفہوم اخذ کیا جاسکتا ہے اس لیے یہ استنباط کے ذیل میں نہیں آتی بلکہ یہ شریعت کے خطاب سے سمجھ میں آجانے والی بات اور مفہوم کے ضمن میں آتی ہے۔
ہم بھی اسے تسلیم کرتے ہیں ، مثلا قول باری (ولاتقل لھمااف، ماں باپ کو اف تک بھی نہ کہو) اس میں ماں باپ کو مار پیٹ کرنے، برابھلا کہنے اور ان کی جان لینے ، وغیرہ کی نہی پر دلالت موجود ہے ، یہ صورت ایسی ہے کہ اس میں کوئی اختلاف رائے پیدا نہیں ہوسکتا۔
اگرمعترض کے نزدیک صرف ایک معنی کی عامل دلیل سے مراد اس قسم کے دلائل کطاب مراد ہیں تو ایسی دلیل میں کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی اسمیں استنباط کی ضرورت پیش آتی ہے۔
اگر دلیل سے معترض کی مراد یہ ہو کہ ایک چیز کا خصوصیت کے ساتھ جب ذکر ہوجائے تو اس سے یہ دلالت حاصل ہوتی ہے کہ اس چیز کے ماسوا دوسری تمام چیزوں کا حکم مذکورہ حکم ہے مختلف ہوگاتوا سے ہم دلیل تسلیم نہیں ہم نے اصول فقہ میں اس بحث پر پوری روشنی ڈالی ہے۔
اگر مذکورہ بالاصورت میں دلیل نام کی کوئی چیز ہوتی تو صحابہ کرام کی نظروں سے یہ پوشیدہ نہ رہتی اور پیش آمدہ واقعات کے احکام معلوم کرنے کے سلسلے میں اس سے ضرور استدلال کیا جاتا اگر صحابہ کرام ، یہ طریق کار اختیار کرتے تو ان سے یہ چیز بکثرت منقول ہوتی اور اس میں کوئی خفا باقی نہ رہتا۔
لیکن چونکہ صحابہ کرام سے اس سلسلے میں کوئی بات منقول نہیں ہے اس لیے یہ چیز معترض کے قول کے بطلان اور سقوط پر دلالت کرتی ہے۔ اسے ایک اور پہلو سے دیکھیے اگر معترض کی ذکر کردہ صورت استدلال کی کوئی صورت ہوتی تو بھی یہ ان احکامات میں استنباط کے ایجاب سے مانع نہ ہوتی جن تک رسائی کا ذریعہ صرف رائے اور قیاس ہے۔
کیونکہ یہ واقعہ اور پیش آمدہ مسئلہ کے اندرمعترض کی بیان کردہ دلالت کا جود نہیں ہوتا جبکہ ہمیں ایسے تمام واقعات اور مسائل کے احکامات معلوم کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن کے بارے میں نص موجود نہیں ہوتی اس لیے جن حوادث یعنی پیش آمدہ واقعات میں ہم معترض کی بیان کردہ دلیل کی صورت نہیں پائیں گے ہم پر قیاس اور اجتہاد کے ذریعے ان کے احکامات معلوم کرنا لازم ہوگا کیونکہ ہمیں ان احکامات تک رسائی کا قیاس اور اجتہاد کے سوا اور کوئی ذریعہ ہاتھ نہیں آئے گا۔
اگریہ اعتراض کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرمادیا (لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم) اور دوسری دلیل قیاس اپنے مدلول کے علم تک ہمیں نہیں پہنچاسکتی کیونکہ قیاس کرنے والااپنے بارے میں غلطی اور خطا کے جواز کو تسلیم کرتا ہے اور قطعی علم کے حصول کا قائل نہیں ہوتا کہ جو حکم اس نے اپنے قیاس اور اجتہاد کے ذریعے اخذ کیا ہے اللہ کے نزدیک بھی وہی حق ہے۔
تو اس پورے بیان سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ آیت میں جس استنباط کا ذکر ہے وہ قیاس اور اجتہاد کے ذریعے کیا جانے والااستنباط نہیں ہے اس اعتراض کا یہ جواب دیاجائے گا کہ معترض کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ قیاس کرنے والے کو اس بات کی قطعیت حاصل نہیں ہوتی کہ اس کا قیا س عنداللہ حق ہے ہم اس کے قائل نہیں ہیں۔
اس کی یہ وجہ کہ جس حکم تک رسائی کا ذریعہ اجتہاد ہو اس کے متعلق مجتہد کی قطعی رائے یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے اجتہاد کے نتیجے میں جس حکم تک پہنچا ہے اللہ کے نزدیک بھی وہی حق ہے۔
ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ مجتہد کے علم میں یہ بات ہوتی ہے کہ اجتہاد کے ذریعے حکم تک رسائی کا فرمان اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملا ہے۔ اس لیے پیش آمدہ واقعات کے احکامات کے استنباط کا یہ طریق کار اس علم کا موجب ہے کہ وہ اپنے اجتہاد کے ذریعے جس نیتجے پر پہنچتا ہے اور جو حکم لازم ہوا ہے وہ درست ہے۔
یہ آیت امامت کا عقیدہ رکھنے والوں کے مذہب کے بطلان پر بھی دلالت کرتی ہے۔ کیونکہ دین کا ہر حکم منصوص ہوتا تو امام معصوم اس سے آگاہ ہوتا اور استنباط کی ضرورت ہی ختم ہوجاتی اور معاملات کو اولوالامر کی طرف لوٹانے کی بات بھی ساقط ہوجاتی بلکہ ان معاملات کو امام کی طرف لوٹانا واجب ہوتا جو نص کی بنا پر ان کی صحت اور عدم صحت کی پرکھ کرلیتا۔
Ayahs 4:86–87سلام اور اس کا جواب۔
قول باری ہے (واذاحییتم بتحیۃ فحیوا باحسن منھا اور دوھا، اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب ددو یا کم ازکم اسی طرح) اہل لغت کے نزدیک تحیت کے معنی ملک یعنی سلطنت اور مالک بنانے کے ہیں شاعر کا یہ شعر اس معنی میں ہے۔
اسیر بہ الی النعمان حتی، انیح علی تحیتہ بجند۔ میں اس اونٹ پر بادشاہ نعمان کی طرف جارہا ہوں یہاں تک کہ میں اس کی سلطنت کے اندرجند کے مقام پر اپنااونٹ بٹھاؤں گا یعنی قیام کروں گا۔
شاعر نے ، علی تحتیہ، کہہ کرنعمان کی سلطنت مراد لی ہے اہل عرب کے قول ، حیاک اللہ کے معنی ، ملک اللہ ، اللہ تجھے مالک بنادے ) کے ہیں ، سلام کو بھی تحیت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے کیونکہ عرب کے لوگ جب ایک دوسرے سے ملتے تھے توحیاک اللہ کہتے تھے پھر اسلام آنے کے بعد اس کی بجائے سلام کا لفظ استعمال ہونے لگا اور سلام کا لفظ حیاک اللہ ، کے قائم مقام ہوگیا۔
حضرت ابوذر کا قول ہے کہ میں پہلا شخص تھا جس نے حضور کو تحیۃ اسلام کے الفاظ میں سلام کیا تھا میں نے آپ سے کہا تھا، السلام علیکم و (رح) ، نابغہ ذیبانی کا ایک مصرعہ ہے، یحیون بالریحان یوم السباسب۔
سیاسب (عیسائیوں کی عید) کے دن انہیں گلدستے پیش کرکے سلام کیا جاتا ہے یعنی انہیں گلدستے پیش کیے جاتے ہیں اور کہاجاتا ہے ، حیاکم اللہ ، اس کے معنی وہ ہیں جو ہم نے بیان کیے ہیں یعنی ملک اللہ۔
اگرہم قول باری (واذاحییتم بتحیہ فحیوا باحسن منھا اور دوھا، کو اس کے حقیقی معنوں پر محمول کریں تو اس سے ایک چیز کو اس وقت تک واپس لے سکتا ہے جب تک بدلے کے طور پر اسے کچھ نہ دے دیاجائے۔
یہ چیز ہمارے اصحاب کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے اگر کوئی شخص کسی کو جو اس کا محرم رشتہ دار نہ ہوبطور ہبہ کوئی چیز دے دے تو اس کا بدلہ ملنے سے پہلے پہلے اسے واپس لے سکتا ہے لیکن اس کے بعد وہ واپس نہیں لے سکتا کیونکہ اس نے ہبہ کرکے دو باتوں میں سے ایک واجب کردی تھی ، ثواب یعنی بدلہ یادی ہوئی چیز کی واپسی۔
حضور سے ہبہ کرکے واپس لے لینے کے متعلق روایت ہے جسے ہمیں محمد بن بکر نے بیان کی ہے ، انہیں ابوداؤد نے، انہیں سلیمان بن داؤد المہری نے ، انہیں ، ابن وہب نے ، انہیں اسامہ بن زید نے ، انہیں عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے انہوں نے عمرو کے دادا حضرت عبداللہ بن عمرو سے ، انہوں نے حضور سے کہ آپ نے فرمایا :
اس شخص کی مثال جو اپنی ہبہ کی ہوئی چیز واپس مانگ لیتا ہے اس کتے جیسی ہے جو پہلے قے کرتا ہے اور پھر اپنی قے کو چاٹ جاتا ہے اگر ہبہ کرنے والااپنی چیز واپس مانگے تو پہلے اس حرکت کی کراہت سے واقف کر ایاجائے اور اس کے علم میں یہ بات لائی جائے اس کے بعد اس کی دی ہوئی چیز اسے واپس کردی جائے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کی ہے کہ انہیں وکیع نے ابراہیم بن اسمعیل نے مجمع سے انہوں نے عمرو بن دینار سے انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے کہ حضور نے فرمایا (الرجل احق بھبتہ مالم یثب منھا ، ہبہ کرنے والاہبہ میں دی ہوئی چیز کا سب سے بڑھ کر حق دار ہوتا ہے جب تک اسے اس کا بدلہ نہ مل جائے) ۔
حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر نے روایت کی ہے کہ حضور نے فرمایا، کسی شخص کے لیے یہ حلال نہیں کہ وہ کوئی چیز عطیہ کرے یاہبہ کرے اور واپس لے لے ، البتہ باپ اپنے بیٹے کو دی ہوئی چیز واپس لے سکتا ہے جو شخص عطیہ دے کر واپس لے لیتا ہے اس کی مثال اس کتے کی طرح ہے جو کھاتارہتا ہے یہاں تک کہ جب شکم سیر ہوجاتا ہے توقے کردیتا ہے اور پھر اپنی قے کو چاٹ لیتا ہے) ۔
یہ حدیث دو باتوں پر دلالت کرتی ہے ایک توہبہ کے رجوع کی صحت پر اور دوسری اس حرکت کی کراہت پر نیز اس پر بھی یہ حرکت انتہائی بداخلاقی اور کمینگی کی بات ہے کیو کہ آپ نے اس حرکت کے مرتکب کو اس کتے کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو اپنے قے کو چاٹ جاتا ہے۔
یہ چیز ہماری بیان کردہ بات پر دوطرح سے دلالت کرتی ہے ایک تو یہ کہ ایسے شخص کو کتے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جب وہ اپنی قے کو چاٹ لے اور یہ بات واضح ہے کتے کے لیے یہ حرکت حرام نہیں ہے ، اس لیی اس کے ساتھ جس شخص کو تشبیہ دی ہے اس کے لیے بھی یہ حرکت حرام نہیں ہوگی۔
دوسری یہ کہ اگر رجوع فی الہبہ کسی حال میں بھی درست نہ ہوتا تورجوع کرنے والے کوس کتے کے مشابہ قرار نہ دیاجاتا جو اپنی قے کو چاٹ لیتا ہے کیونکہ ایسی چیز کو جو کسی حال میں بھی وقوع پذیر نہیں ہوتی کسی ایسی چیز کے ساتھ تشبیہ دینا درست نہیں ہوتاجس کا وجود میں آنا صحیح ہوتا ہے یہ بات رجوع فی الہیہ کی صحت پر دلالت کرتی ہے اگرچہ یہ حرکت انتہائی قبیح اور مکروہ ہے ۔
غیر ذی رحم محرم کو ہبہ کرکے واپس لے لینے کی روایت حضرت علی، حضرت عمر، اور حضرت فضالہ بن عبید سے منقول ہے جس کی مخالفت میں کسی صحابی سے کوئی روایت منقول نہیں ہے سلف کی ایک جماعت سے مروی ہے کہ آیت زیربحث سلام کا جواب دینے کے بارے میں ہے انمیں حضرت جابر بن عبداللہ شامل ہیں۔
حسن کا قول ہے السلام علیکم کہنا تطوع یعنی نفل ہے لیکن سلام کا جواب دینا فرض ہے ، پھر حسن نے اس موقعہ پر زیر بحث آیت کا ذکر کیا تھا پھر اس بارے میں اختلاف رائے سے کہ یہ صرف اہل اسلام کے لیے ہے یا اہل اسلام اور اہل کفر سب کے لیے عام ہے عطاء کا قول ہے کہ یہ ـصرف اہل اسلام کے لیے خاص ہے ، حضرت ابن عباس، اور ابراہیم نخعی اور قتادہ کا قول ہے کہ یہ دونوں کے لیے عام ہے۔
حسن کا قول ہے کہ کافر کے سلام کے جواب میں صرف لفظ، وعلیکم ، کہاجائے گا، اورو (رح) ، نہیں کہاجائے گاکیون کہ کافر کے لیے بخشش کی دعا کرنا جائز نہیں ہے۔ حضور سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا یہود کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو۔ اگر وہ تمہیں سلام کرنے میں پہل کریں تو جواب میں صرف وعلیکم کہہ دو ۔
ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ سلام کا جواب دینا فرض کفایہ ہے اگر پوری جماعت سے ایک شخص سلام کا جواب دے دے تو یہ کافی ہوجائے گا۔
قول باری (باحسن منھا) سے اگر سلام کا جواب دینا مراد ہو تو اس کا مطلب دعا میں اضافہ ہوگا یعنی جب کوئی شخص کسی کو السلام علیکم کہے گا تو جواب میں یہ شخص اسے وعلیکم السلام و (رح) کہے گا اور اگر سلام کرنے والا السلام علیکم و (رح) کہے گا تو جواب دینے والاوعلیکم السلام و (رح) وبرکاتہ کہے گا۔
Ayah 4:88منافقین کے بارے میں رویہ
قول باری ہے (فمالکم فی المنافقین فئتین واللہ ارکسھم بماکسبوا، پھر یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے درمیان دورائیں پائی جاتی ہیں ، حالانکہ جو برائیاں انہوں نے کمائی ہیں ان کی بدولت اللہ انہیں الٹا پھیر چکا ہے) ۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ آیت ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی جس نے مکہ میں اسلام کا اظہار کیا تھا لیکن یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی امدا د کرتے تھے قتادہ سے بھی اسی قسم کی روایت ہے حسن اور مجاہد کا قول ہے کہ ایت کا نزول ایک گروہ کے بارے میں ہوا تھا، جس نے مدینہ منورہ پہنچ کر اسلام کا اظہار کیا تھاپھرم کہ واپس جاکر شرک کا اعلان کردیا تھا۔
زید بن ثابت کا قول ہے یہ آیت ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی تھی جو جنگ احد میں حضور کے ساتھ نہیں گئے تھے اور پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے یہ کہا تھا اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ کوئی جنگ ہونے والی ہے توہم تمہارے ساتھ چلتے۔
ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ سلسلہ آیت میں اس آخری تاویل کے خلاف دلالت موجود ہے اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یہ لوگ مکہ کے رہنے والے تھے کیونکہ قول باری ہے (فلاتتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ ) جب تک یہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ) ۔
قول باری (ارکسھم ) کی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا قول ہے ، ردھم (اللہ نے انہیں پھیر دیا) قتادہ کا قول ہے کہ اللہ نے انہیں ہلاک کردیا، دوسرے حضرات کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اوندھا یعنی ذلیل کردیا کسائی کا قول ہے ، ارکسھم اور رکسھم دونوں ہم معنی ہیں اور مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے انہیں کفر کے حکم یعنی ذلت و رسوائی کی طرف واپس کردیا۔
ایک قول ہے کہا نہیں گرفتاری اور قتل کی طرف لوٹا دیا کیونکہ انہوں نے نفاق پر رہنے کے بعد ارتداد کا اظہار کیا تھا، اسلام سے ارتداد کے اظہار کے باوجود انہیں نفاق کی صفت سے اس لیے موصوف کیا گیا کہ انہیں دراصل اس بات کی طرف منسوب کیا گیا جس پر وہ پہلے سے قائم تھے یعنی انہوں نے اپنے دلوں میں کفر چھپارکھا تھا، اس تفسیر کی روایت حسن کی گئی ہے نحویوں کا قول ہے کہ ایک چیز کو حرف تعریف یعنی الف اور لام کے ساتھ معرفہ کی صورت میں اس حالت کے ساتھ موصوف کرنا درست ہوتا ہے جس پر چیز کبھی تھی ، مثلا آپ یہ کہتے ہیں کہ ھذہ العجوزھی الشابہ، تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ یہ بڑھیا وہ ہے جو کبھی جوان تھی، اس موقعہ پر ھذہ شابہ، کہنا درست نہیں ہوگا۔
اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے گروہ منافقین کے احوال مسلمانوں کے سامنے کھول کر رکھ دیے کہ یہ لوگ تمہارے سامنے تو اسلام کا اظہار کرتے ہیں لیکن جب اپنے لوگوں میں جاتے ہیں تو کفر اور ارتداد کا اعلان کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے متعلق حسن ظن رکھنے اور ان کے دفاع میں، جھگڑنے سے منع کردیا۔
Ayah 4:89قول باری ہے (ودوالوتکفرون کماکفروفتکونون سواء۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہوجاؤ تاکہ تم اور وہ سب یکساں ہوجائیں اس سے گروہ منافقین مراد ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس گروہ کے دلوں میں چھی پوئی خواہشات اور اعتقادات کو واضح کردیاتا کہ مسلمان ان سے حسن ظن نہ رکھیں، کہ ان کی دشمنی پر یقین کریں اور ان سے اپنی برات اور بے زار کا اظہار کریں۔
قول باری ہے (فلاتتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ لہذا ان میں سے کسی کو اپنادوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں) یعنی ۔ واللہ ۔ جب تک وہ مسلمان ہوکر ہجرت نہ کرلیں کیونکہ ہجرت اسلام لانے کے بعد ہی ہوتی ہے یہ لوگ اگرچہ مسلمان ہوجائیں پھر بھی ہمارے اور ان کے درمیان موالات ہجرت کے بعد ہی قائم ہوگی۔
یہ قول باری اس آیت کی طرح ہے (مالکم من ولایتھم من شی حتی یھاجروا ، جب تک یہ ہجرت کرکے نہ آجائیں ، اس وقت تک تمہارے اور ان کے درمیان کوئی موالات نہیں ) یہ صورت اس وقت تک تھی جب تک ہجرت فرض رہی۔
حضور نے یہ فرمایا تھا، (انابری من کل مسلم اقام بین اظھر المشرکین وانابری من کل مسلم اقام مع مشرک۔ میں ہراس مسلمان سے بری الذمہ ہوں جو مشرکین کے درمیان قیام پذیر ہے۔ میں ہراس مسلم سے بری الذمہ ہوں جو کسی مشرک کے ساتھ اقامت گزریں ہے) ۔ عرض کیا گیا اللہ کے رسول وہ کیوں ؟ آپ نے فرمایا (لاتراء ی ناراھما، مسلمان اور مشرک کے گھروں میں جلنے والی آگ ایک دوسرے کو نظر نہ آئے) یعنی اس صورت میں مسلمان مشرک کے ساتھ اقامت گزیں نہیں کہلائے گا۔ اس طرح ہجرت فرض رہی کہ مکہ فتح ہوگیا پھر اس کی فرضیت کا حکم منسوخ ہوگیا۔
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ، انہیں ابوداود نے انہیں عثمان بن ابی شیبہ نے، انہیں جریر نے منصور سے ، انہوں نے مجاہد سے انہوں نے طاؤس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس سے حضور نے فتح مکہ کے دن فرمایا، (لاھجرۃ ولکن جھادوا نیہ واذا استنفرتم فانفروا، اب ہجرت نہیں، لیکن جہاد اور ہجرت کی نیت باقی ہے اور جب تمہیں جہاد پر نکلنے کے لیے کہاجائے تونکلی پڑو) ۔
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ، انہیں ابوداؤد نے انہیں مومل بن الفضل نے ، انہیں ولید نے اوزاعی سے انہوں نے زہری سے ، انہوں نے عطاء بن یزید سے ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری سے کہ ایک بدو نے حضور سے ہجرت کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا۔
اللہ کے بندے ہجرت کی بات تو بڑی زبردست ہے یہ بتاؤ تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے اثبات میں جواب دیا، آپ نے پھر پوچھا تم ان اونٹوں کی زکوۃ ادا کرتے ہو ؟ اس نے ، پھر اثبات میں جواب دیا، اس پر آپ نے فرمایا، پھر تم سمندر کے پاررہ کر بھی اعمال کرتے رہو، تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز نہیں گھٹائے گا، اس طرح حضور نے ترک ہجرت کی اباحت کردی۔
ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی، انہیں ابوداؤد نے ، انہیں مسدد نے ، انہیں یحییٰ نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہیں عامر نے ایک شخص حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس آکر کہنے لگا کہ مجھے کوئی ایسی بات بتائیے جو آپ نے حضور ﷺ سے سنی ہو، حضرت ابن عمرو نے فرمایا، میں نے حضور کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے (المسلم سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمھاجر من ھجر مانھی اللہ عنہ ، مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جس نے اللہ کی منع کی ہوئی باتوں سے کنارہ کشی اختیار کی) ۔
حسن سے مروی ہے کہ آیت کا حکم ہراس شخص کے حق میں ثابت ہے جو دارالحرب میں قیام پذیر ہوحسن کی رائے میں دارلاسلام کی طرف ہجرت کرنے کی فرضٰت بحالہ باقی ہے۔
قول باری ہے (فخذوھم واقتلوھم ، انہیں پکڑ کر قتل کرڈالو) حضرت ابن عباس نے فرمایا، اگر یہ لوگ ہجرت کرنے سے روگردانی کریں توا نہیں پکڑ کر قتل کرڈالو۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان کی مراد۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان اور ہجرت دونوں سے روگردانی کریں کیونکہ قول باری (فان تولوا) ان دونوں باتوں کی طرف راجع ہے نیز جو شخص اس وقت مسلمان ہوجاتا لیکن ہجرت نہ کرنا توا سے قتل کرنا واجب نہیں ہوتا تھا۔
یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ قول باری (فان تولوا) سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ لوگ ایمان لانے اور ہجرت کرنے سے روگردانی کریں توا نہیں پ کرلو ان کی گردنیں اڑادو۔
قول باری ہے (فاقتلوالمشرکین حیث وجدتموھم وخذوھم واحصروھم ۔۔۔ تا۔۔۔۔ سبیلھم۔ مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور گھیرو اور ہر گھر میں ان کی خبر لینے کے لیے بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا دیں توا نہیں چھوڑ دو ) ۔
مشرکین عرب کے سلسلے میں یہ حکم ثابت اور باقی ہے انس کے ذریعے ان کے ساتھ صلح ، معاہدہ امن اور انہیں کفر اور شرک پر باقی رہنے دینے کی منسوخ ہوگئی ، اہل کتاب کے بارے میں ہمیں یہ حکم ہے ہم ان کے ساتھ اسوقت تک جنگ جاری رکھیں جب تک وہ مسلمان نہ ہوجائیں یاجزیہ دینا قبول نہ کریں۔
Ayah 4:90قول باری ہے (الاالذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق ، البتہ وہ منافق اس حکم سے مستثنی ہیں جو کسی ایسی قوم سے جاملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے) ۔
ابوعبید کا قول ہے کہ (یصلون ) کے معنی ہیں ، ینتسبون الیھم، ان کی طرف نسبت بیان کرتے ہوں) جیسا کہ اعشی کا شعر ہے۔
اذاتصلت قالت ابوبکر بن وائل، وبکر سب تھا والانوف روغم۔
جب اپنی نسبت بیان کرتی ہے توبکر بن وائل قبیلے کا نام لیتی ہے ، حالانکہ اسی قبیلے نے اسے گرفتار کیا تھا، اور اس کے لوگوں کو ذلت سے دوچار ہوناپڑا۔ زید انجیل کا شعر ہے ۔ اذاتصلت تنادی یال قیس، وخصت بالدعاء بنی کلاب۔ جب اپنی نسبت بیان کرتی ہے توآل قیس کی دہائی دیتی ہے اور بنوکلاب کو خصوصیت کے ساتھ پکارتی ہے۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں انتساب کبھی رشتہ داری کی بنا پر اور کبھی معاہدہ اور رولاء کی بنا پر، اس انتساب میں ایسے شخص کا داخل ہونا بھی درست ہے جو معاہدے میں شریک ہوگیا ہو۔ جیسا کہ حضور اور قریش کے درمیان صلح کے معاہدے کے اندر ہواتھا کہ بنوخزاعہ حضور کے ساتھ اور بنوکنانہ قریش کے ساتھ معاہدے میں داخ (رح) ہوگئے تھے ایک قول ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے۔
ہمیں جعفر بن محمد واسطی نے روایت بیان کی ، انہیں جعفر بن محمد الیمان ، نے انہیں ابوعبید نے ، انہیں حجاج نے ابن جریج اور عثمان بن عطاء خراسانی سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس سے کہ قول باری (الاالذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق) تاقول باری (فماجعل اللہ لکم علیھم سبیلا، لو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے) ۔
نیز قول باری (لاینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم وتقسطوا الیھم، اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا، جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا) پھر ان آیات کو قول باری (براء ۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عاھدتم من المشرکین، اعلان برات ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کیے تھے) تاقول باری (ونفصل الایات لقوم یعلمون ۔ اور ہم جاننے والوں کے لیے اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں) ۔
سدی کا قول ہے (الالذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق) کا مفہوم ہے مگر وہ لوگ جو ایسی قوم میں جاکرداخل ہوجاتے ہیں کہ ان کے اور تمہارے درمیان امان کا معاہدہ ہوتا ہے اس صورت میں ان لوگوں کو بھی امان حاصل ہوجائے گی۔
حسن کا قول ہے یہ بنومدلج کے لوگ تھے ان کے اور قریش کے درمیان معاہدہ تھا، ادھر حضور اور قریش کے درمیان جب معاہدہ ہوگیا تو اللہ نے مسلمانوں کو بنومدلج کے سلسلے میں ان تمام باتوں سے روک دیا، جو قریش کے سلسلے میں منوع تھیں۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ جب اما المسلمین کسی کافر قوم کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے گا تولامحالہ اس معاہدے میں وہ تمام لوگ از خود داخل ہوجائیں گے جو اس قوم کے علاقے میں ہوں گے اور اس کے ساتھ رشتہ داری یا معاہدہ یاولاء کی بناپر ان کی نسبت ہوگی اور ان کی طرف سے اسے مدد بھی دی جاتی ہوگی۔
لیکن جن لوگوں کا تعلق کسی دوسری قوم سے ہوگا تو وہ اس معاملے میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک معاہدے میں اس کی شرط نہیں رکھی جائے گی، اگر معاہدے میں کسی اور قبیلے یا قوم کے داخلے کی شرط رکھی جائے تومعاہدہ طے پاجانے کے بعد وہ قبیلہ بھی اسی میں داخل شمار کیا جائے گا۔ جس طرح قریش کے معاہدے میں بنوکنانہ داخل ہوگئے تھے۔
جولوگ اس حکم کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں ان کی مراد یہ ہے کہ مشرکین سے معاہدہ اور صلح کی بات اب منسوخ ہوچکی ہے کیونکہ قول باری ہے (فاقتلوالمشرکین حیث وجدتموھم ، مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کردو) اور بات بھی اس طرح ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور اہل اسلام کو غلبہ عطا کردیا تھ اس لیے انہیں یہ حکم دیا گیا کہ مشرکین عرب سے اسلام یا تلوار کے سوا اور کوئی چیز قبول نہ کریں۔
قول باری ہے (قاتلوالذین لایومنون باللہ والیوم الاخر، ان لوگوں کے ساتھ قتل کروجو اللہ اور یوم آخر پر ایمان نہیں رکھتے) تاقول باری (حتی یعطوالجزیۃ عن یدوھم صاغرون یہاں تک وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں ) اور چھوٹے بن کررہیں) اس لیے امام کو یہ جائز نہیں ہوگا، کہ وہ دوسرے ادیان کے پیروکاروں کو جزیہ لیے بغیر کفر پر برقرار رہنے دے۔
جہاں تک مشرکین عرب کا تعلق ہے تو وہ صحابہ کرام کے کے زمانے تک مسلمان ہوچکے تھے اور جو مرتد ہوگئے تھے ان میں سے مسلمانوں کے ہاتھوں کچھ قتل ہوگئے تھے اور باقی ماندہ لوگ اسلام کی طرف لوٹ آئے تھے اہل کفر سے جزیہ کی شرط کے بغیر نیز مسلمانوں کی ذمہ داری کے تحت اس شرط کے ساتھ آئے بغیر کہ ان پر ہمارے احکامات کانفاذ ہوگا معاہدہ کرنے کے حکم کی منسوخی کے متعلق یہی درست توجیہ ہے۔
یہ حکم اس صورت حال کے بعد بھی باقی رہے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا کردیا تھا اور اہل اسلام کے ہاتھوں تمام مشرکین کو مغلوب کردیا تھا جس کی بنا پر مسلمانوں کو اب معاہدہ کرنے اور صلح کے لیے اقدام اٹھانے کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔
البتہ اگر کوئی ایسا وقت آپڑے کہ مسلمان کافروں کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہوجائیں یا کافروں کی طرف سے انہیں اپنی یا اپنے اہل وعیال کی جانوں کا خطرہ لاحق ہوجائے تو اس میں ان کے ساتھ صلح کرنے اور جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کرنے کا اقدام جائز ہوگا بشرطیکہ انہیں اس سلسلے میں کافروں کو جزیہ وغیرہ کی صورت میں کچھ دینا نہ پڑے کیونکہ صلح اور معاہدہ کرنے کی ممانعت اس وجہ سے تھی کہ دشمن کے مقابلہ میں ان کا پلہ بھاری تھا اور انہیں غلبہ حاصل تھا۔
امن کا معاہدہ کرنے کی اباحت اسلام کے ابتدائی دور میں موجود تھی، اور درج بالا سبب کی بنا پر اس کی ممانعت ہوگئی تھی اس لیے جب یہ سبب باقی نہیں رہے گا اور دشمن سے ان کی جان ومال کو خطرہ لاحق ہوجائے گا تو اس صورت میں کافروں سے امن کا معاہدہ کرنے کے جواز کا حکم لوٹ آئے گا۔
اس حکم کی مثال ذوی الارحام کی بنا پر دوستی کے معاہدہ کے تحت تورات کے منسوخ ہوجائے کے حکم جیسی ہے جس کا ہم پہلے ذکر آئے ہیں کہ مرنے ولااگر کوئی پیچھے نہ چھوڑے تودوستی کے معاہدے کی بنا پر توارث کا حکم لوٹ آئے گا۔
قول باری ہے (او جاء وکم حصرت صدورھم ان یقاتلوا او یقاتلوا قومھم، اسی طرح وہ لوگ بھی مستثنی ہیں جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں نہ تم سے لڑناچاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے ) ۔
حسن اور سدی نے کہا : ان کا سینہ تمہارے خلاف جنگ کرنے سے تنگ ہوگیا تھا، حصر کے معنی تنگی کے ہیں اسی سے ، الحصر فی القراۃ (تلاوت کرتے کرتے رک جانا) ماخوذ ہے اس لیے کہ اس کے لیے تلاوت کے راستے تنگ ہوجاتے ہیں یعنی اسے معلوم نہیں ہوتا کہ آگے کیسے چلوں اور کہاں سے چلو۔ المحصور فی حبس، (قید خانے وغیرہ میں بند پڑا ہواشخص) بھی اسی سے بنا ہے۔
ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی ہے ہلال بن عویمر اسلمی وہ شخص تھا جو لڑائی سے دلی برداشتہ ہوگیا تھا نہ مسلمانوں سے لڑناچاہتا تھا نہ اپنی قوم سے ، اس نے حضور سے معاہدہ کررکھا تھا۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ظاہر آیت اس پر دلالت کرتا ہے کہ جو لوگ لڑائی سے دل برداشتہ ہوگئے تھے وہ حضور سے دوستی کا معاہدہ کرنے والے مشرکین تھے ، وہ اپنی قوم کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے سے دل برداشتہ تھے کیونکہ حضور کے ساتھ ان کا معاہدہ تھا۔
دوسری طرف وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر اپنے عزیزوں اور ہم قبیلہ لوگوں کے خلاف تلوار اٹھانا بھی نہیں چاہتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ای سے لوگوں سے اپنے ہاتھ روک لینے کا حکم دیا جب یہ مشرکین سے الگ تھلگ رہیں اور مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک نہ ہوں خواہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر مشرکین کے خلاف جنگ نہ بھی کریں۔
بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ مسلمان لوگ تھے جو مشرکین کے خلاف ان کے ساتھ رشتہ داری کی بنا پر جنگ میں شریک ہونا پسند نہیں کرتے تھے لیکن ظاہر آیت اور اس کی تفسیر میں مروی اقوال اس تاویل کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ حضور کے زمانے میں مسلمانوں نے کبھی مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا، اور نہ ہی انہیں کبھی اپنے ہم عقیدہ لوگوں کے خلاف جنگ کرنے کا حکم ہی دیا گیا تھا البتہ یہ ہوا تھ ا کہ بعض دفعہ مسلمان مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگی کاروائیوں میں حصہ نہیں لے سکے تھے اور پیچھے رہ گئے تھے۔
قول باری ہے (ولو شاء اللہ لسلطھم علیکم فلقاتلوکم ، اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ بھی تم لڑتے) یعنی اگر تم ان کے خلاف جنگ کرتے اور تمہاری طرف سے ان پر ظلم ہوتا۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ یہ لوگ مسلمان نہیں تھے۔
قول باری ہے (فان اعتزلوکم فلم یقاتلوکم والقوا الیکم السلم فماجعل اللہ علیھم سبیلا۔ لہذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہوجائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح وآشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر درست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے) ۔
یہ آیت اس بات کی مقتضی ہے کہ یہ لوگ مشرک تھے کیونکہ اہل اسلام کی یہ باتیں نہیں ہوسکتیں ، اس لیے یہ اس پر دلات کرتی ہے یہ لوگ مشترک تھے، ان کا حضور سے معاہدہ تھا، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو یہ حکم دیا کہ اگر یہ لوگ مسلمانوں اور مشرکین کے خلاف جنگ کرنے سے کنارہ کش رہیں تو ان پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے نیز انہیں اپنی مشرک قوم کے خلاف جنگ کرنے پر مجبور بھی نہ کیا جائے۔
آیت میں تسلیط یعنی مسلط کردینے کا جو ذکر آیا ہے ، اس کی دوتوج ہیں ہیں ایک تو یہ کہ ان کے دلوں کو تقویت دی جاتی تاکہ وہ تم سے قتال کرتے ، دوسری یہ کہ اپنی مدافعت میں ان کے لیے قتال کی اباحت کردی جاتی۔
Ayah 4:91قول باری ہے (ستجدون اخرین یریدون ان یامنوکم ویامنواقومھم، ایک اور قسم کے لوگ تمہیں ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی۔
مجاہد کا قول ہے یہ آیت مکہ کے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جب یہ حضور ﷺ کے پاس آتے تو مسلمان ہوجاتے اور پھر قریش کے پاس واپس جاکربتوں کے سامنے جھک جاتے ، اس سے ان کا مقصد یہ ہوتا کہ یہاں بھی امن میں رہیں اور وہاں بھی ، مسلمانوں کو ایسے لوگوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا اگر یہ اس رویے سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں اور اپنی اصلاح نہ کرلیں۔
اسباط نے سدی سے ذکر کیا کہ یہ آیت نعیم بن مسعود اشجعی کے بارے میں نازل ہوئی وہ مسلمانوں اور مشرکین دونوں کے اندر امن میں رہتا اورادھر کی باتیں ادھر اورادھر کی باتیں ادھر پہنچاتا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ظاہر آیت اس پر دلالت کرتی ہے یہ لوگ جب حضور کے پاس آتے تو ایمان کا اظہار کرتے اور جب اپنی قوم میں واپس جاتے تو کفر کا اظہار کرتے کیونکہ قول باری ، مگر جب کبھی فتنہ کا موقع پائیں گے اس میں کود پڑیں گے ) فتنہ سے یہاں مراد شرک ہے اور قول باری (ارکسوافیھا) اس پر دلالت کرتا ہے یہ لوگ اس سے پہلے اسلام کا اظہار کرتے تھے۔
اللہ نے اہل ایمان کو ان لوگوں سے بھی ہاتھ روک لینے کا حکم دیاجب یہ مسلمانوں سے الگ تھلگ رہ کر ان کی طرف صلح وآشنی کا ہاتھ بڑھائیں جس طرح اللہ نے ہمیں ان لوگوں پر بھی ہاتھ اٹھانے سے روک دیاجوایسی قوم سے جاملیں جن کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوا اور ان لوگوں سے بھی جو لڑائی سے دل برداشتہ ہوکر ہمارے پاس آجائیں۔
جس طرح اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں فرمایا، (لاینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔
نیز ارشاد ہوا (وقاتلوافی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم۔ اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں) اللہ نے صرف ان لوگوں کے خلاف جنگ کرنے کے حکم کو مخصوص کردیاجو ہمارے خلاف جنگ کرتے ہیں ان لوگوں کے خلاف نہیں جو ہمارے خلاف جنگ نہیں کرتے۔
پھر اس حکم کو اپنے اس قول (اقتلوالمشرکین حیث وجدتموھم، مشرکین کو جہاں کہیں بھی پاؤ قتل کرو) سے منسوخ کردیا، جیسا کہ ہم نے حضرت ابن عباس سے اس روایت کا پہلے ذکر کیا ہے۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ یہ آیات منسوخ نہیں ہوئیں اور مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ جو کفار ان کے خلاف جنگ نہ کریں وہ بھی ان کے خلاف ہتھیارنہ اٹھائیں کیونکہ جو لوگ ہم سے الگ تھلگ رہ کر ہمارے خلاف جنگ کرنے سے باز رہیں ان کے خلاف ان آیات میں جنگ کرنے کی نہی کے حکم کے منسوخ ہونے کی بات ثابت نہیں ہوتی۔
جن لوگوں سے جہاد کی فرضیت کے حکم کے باقی نہ رہنے کی روایت منقول ہے ۔ ان میں ابن شبرمہ اور سفیان ثوری شامل ہیں، اس بحث پر ہم اس کے مقام پر پہنچ کر انشاء للہ۔ روشنی ڈالیں، یہاں تو صرف اتنی بات ہے کہ ان آیات میں ان کافروں کے خلاف جنگ کرنی کی ممانعت ہے جو ہمارے خلاف جنگ کرنے سے باز رہیں۔
ہمیں فقہاء میں سے کسی کے متعلق، یہ معلوم نہیں کہ وہ ان مشرکین کے خلاف جنگ کی ممانعت کے قائل ہوں جو ہمارے خلاف جنگ کرنے سے کنارہ کش ہوں۔ اختلاف صرف ان کے خلاف ترک قتال کے جواز کے اندر ہے ممانعت کے اندر نہیں۔
اس لیے سب کا اس پر اتفاق ہوگیا ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف قتال کی ممانعت منسوخ ہوچکی ہے جن کی خصوصیات کا ہم نے اوپرذکر کیا ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب۔