4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاحکام القرآن

Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

مومنو ! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلا کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے

قول باری ہے (یا ایھالذین آمنوا اذاضربتم فی سبیل اللہ ۔۔۔ تا۔۔۔۔۔ مغانم کثیرہ۔ اے ایمان لانے والو، جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تودوست دشمن میں تمیز کرو اورجوتمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اسے فورا نہ کہہ دو کہ تو مومن نہیں ہے ، اگر تم دنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سے اموال غنیمت ہیں تاآخر آیت۔ روایت کے مطابق اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ حضور کی طرف سے اک مہم پر بھیجے ہوئے فوجی دستے نے ایک شخص کو دیکھا جس کے ساتھ کچھ بھیڑ بکریاں تھیں، اس شخص نے سلام کرنے سے کے بعد کلمہ طیبہ ، لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ، پڑھا لیکن ایک مسلمان نے اس کا سرتن سے جدا کردیا، جب یہ دستہ واپس آیا تو حضور کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی آپ نے اس شخص سے پوچھا کہ تم نے اسے کیوں قتل کیا جبکہ وہ مسلمان ہوچکا تھا۔ اس نے عرض کیا کہ مقتول نے صرف اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ پڑھا تھا، اس پر آپ نے فرمایا، تم نے اس کا دل پھاڑ کر کیوں نہیں دیکھ لیا، اسکے بعد آپ نے اس کی دیت اس کے وارثوں کو بھجوادی، اور اس کی بھیڑ بکریاں بھی واپس کردیں، حضرت ابن عمر اور عبداللہ بن ابی حدرد کا قول ہے کہ یہ شخص محلم بن جثامہ تھے جنہوں نے عامر بن اضبط اشجفعی کو قتل کردیا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ قاتل کی چند دنوں بعد موت واقع ہوگئی تھی، جب انہیں دفن کیا گیا تو زمین نے انہیں باہر پھینک دیا تین مرتبہ اسی طرح ہوا، حضور کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا، زمین تو ان لوگوں کو بھی قبول کرلیتی ہے جو اس سے بھی بدتر ہوتے ہیں لیکن اللہ تعایل نے تمہیں یہ دیکھاناچاہا کہ اس کے نزدیک خون کی کس درجہ اہمیت اور قدروقیمت ہے پھر آپ نے حکم دیا کہ لاش پر پتھر ڈال دیے جائیں۔ محلم بن جثامہ کے متعلق یہ واقعہ مشہور ہے کہ ہم نے حضرت اسامہ بن زید سے مروی ہے حدیث کا پچھلے صفحات میں ذکر کیا تھا، جس میں ہے کہ انہوں نے ایک مہم کے دوران ایک شخص کو قتل کردیا تھا، جس نے اپنی زبان سے کلمہ طیبہ ادا کیا تھا، جب حضور کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے فرمایا تھا : کلمہ طیبہ پڑھ لینے کے بعد تم نے اسے قتل کردیا جب انہوں نے عرض کیا کہ اسنے صرف اپنی جان بچانے کے لیے کلمہ کا اقرار کیا تھا تو آپ نے فرمایا پھر تم نے اس کا دل پھاڑ کر کیوں نہیں دیکھا، قیامت کے دن اس کے پڑھے ہوئے کلمے کا تمہاری طرف سے کون ذمہ دار ہوگا۔ اسی طرح ہم نے حضرت عقبہ بن مالک لیثی کی روایت کردہ حدیث کا بھی زکر کیا ہے جو اسی مفہوم پر مشتمل ہے مقتول نے کہا تھا کہ میں مسلمان ہوں لیکن اسکے باوجود اسے قتل کردیا گیا، حضور نے اس بات کو انتہائی طور پر ناپسند کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ان اللہ ابی ان اقتل مومنا، اللہ تعالیٰ کو ہرگز یہ بات پسند نہیں کہ میں کسی مسلمان کی جان لے لوں۔ ہمیں محمد بن بکر نے روایت بیان کی ، انہیں ابوداؤد نے ، انہیں قتبیہ بن سعید نے انہیں لیث نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے عبیداللہ بن عدی بن الخیار سے، انہوں نے حضرت مقداد بن الاسود سے ک ہ انہوں نے حضور سے دریافت کیا کہ حضور اگر کسی کافر سے میری مڈ بھیڑ ہوجائے، اور وہ اپنی تلوار سے میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالے پھر ایک درخت کی آڑ میں میری زد سے نکل جائے اور کہے کہ میں اللہ کے سامنے جھک گیا، کیا اس کے بعد میں اسے قتل کرسکتا ہوں، آپ نے جواب میں فرمایا، اسے قتل نہیں کرسکتے ، میں نے عرض کیا، حضور اس نے میرا ہاتھ کاٹ ڈالا تھا، آپ نے فرمایا، اسے قتل نہ کرو اگر تم اسے قتل کردو گے تو اس صورت میں اقرار اسلام سے پہلے جس مقام پر وہ تھا وہاں تم پہنچ جاؤ گے اور وہ تمہارے مقام پر آجائے گا۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی ہے کہ انہیں حارث بن ابی اسامہ نے انہیں ابولنصر ہاشم بن القاسم نے ، انہیں المسعودی نے قتادہ سے ، انہوں نے ابومجلز سے ، انہوں نے ابوعبیدہ سے کہ حضور نے فرمایا (اذاشرع احدکم الرمح الی الرجل فان کان سنانہ عندثغرۃ نحرہ فقال لاالہ الا اللہ فلیرجع عنہ الرمح۔ تم میں سے جب کوئی شخص کسی کافر کی طرف نیزہ بلند کرے اور نیزے کی انی اس کے حلقوم تک پہنچ جائے اور وہ شخص کلمہ پڑھ لے توا سے اپنانیزہ اس سے ہٹالینا چاہیے۔ حضرت ابوعبیدہ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے اس کلمہ طیبہ کو ایک مسلمان کے لیے امان کا ذریعہ اور اس کی جان اور مال کے لیے بچاؤ اور حفاظت کا سبب بنادیا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ نے جزیہ کو کافر کے لیے امان کا ذریعہ اور اس کے جان ومال کے لیے بچاؤ کا سبب قرار دیا ہے ۔ یہ روایت ان احادیث کے ہم معنی ہے جو حضور سے تواتر سے مروی ہیں۔ مجھے اس وقت تک لوگوں سے قتال کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ کلمہ طیبہ کا اقرار نہ کرلیں بعض حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں اور جب تک وہ یہ اقرار نہ کرلیں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ جب وہ کلمہ کا اقرار کرلیں گے تو وہ مجھ سے اپنی جان اور اپنے مال محفوظ کرلیں گے البتہ ان کی جان ومال پر اگر کوئی حق عائد ہوجائے تو وہ الگ بات ہے اور ان کا حساب وکتاب اللہ کے ذمے ہوگا) ۔ اس حدیث کی روایت حضرت عمر، حضرت جریر بن عبداللہ ، حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت انس بن مالک اور حضڑت ابویرہ نے کی ہے کہ حضور کی وفات کے لیے بعد جب عرب کے کچھ لوگوں نے زکوۃ ادا کرنے سے انکار کردیا، اور حضرت ابوبکر نے یہ سن کر فرمایا کہ حدیث میں ، الابحقھا، کے الفاظ بھی ہیں اور ان مانعین زکوۃ کے خلاف اقدامات ، الابحقھا، کے ذیل میں آتے ہیں۔ اس حدیث کی صحت پر صحابہ کرام کا اتفاق ہوگا اور یہ حدیث اس قول باری (ولاتقولوا لمن القی الیکم السلم لست مومنا، اور جو شخص فرمانبرداری اختیار کرلے اسے یہ نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے ، کے ہم معنی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کا اظہار کرنے والے کے ایمان کی صحت کا فیصلہ کردیا ہے اور ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ ہم ایسے شخص پر مسلمانوں کے احکام جاری کریں خواہ اس کے دل میں اس کے خلاف عقیدہ کیوں نہ ہو، اس سے زندیق کی توبہ قبول ہونے پر جب وہ اسلام کا اظہار کرے استدلال کیا جاتا ہے کیونکہ اس حکم میں اللہ تعالیٰ نے زندیق اور غیر زندیق میں جب ان کی طرف سے اسلام کا اظہار ہوجائے کوئی فرق نہیں رکھا۔ نیز یہ اس بات کا بھی موجب ہے کہ جب کوئی شخص کلمہ طیبہ پڑھ لے یا اپنی زبا ن سے کہے کہ میں مسلمان ہوں تو پھر اس پر حکم اس لام جاری کیا جائے گا، اس لیی کہ قول باری (لمن القی الیکم السلام) کا مفہوم ہے کہ جو شخص اسلام کی طرف دعوت کے جواب میں فرمانبرداری اختیار کرتے ہوئے سرتسلیم خم کردے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے۔ لیکن اگر، السلام، کی قرات کی جائے تو مفہوم ہوگا ، جو شخص تحیۃ اسلام یعنی السلام علیکم، کہے اسلامی سلام کا اظہار ایک شخص کے اسلام میں داخل ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی، حضور نے اس شخص سے جس نے اسلام کا اقرار کرنے والے شخص کو قتل کردیاتھا فرمایا تھا، تم نے اس کے اسلام لانے کے بعد اسے قتل کردیا۔ یہی بات آپ نے اس شخص سے بھی فرمائی تھی جس نے کلمہ طیبہ پڑھنے والے شخص کو ہلاک کردیا تھا آپ نے اسلامی سلام کا اظہار کرنے والے پر مسلمان ہونے کا حکم لگادیا تھا۔ امام محمد بن الحسن نے ، السیر الکبیر ، میں لکھا ہے کہ اگر ایک یہودی یاعیسائی یہ کہہ دے کہ میں مسلمان ہوں تو ایسا کہنے وہ مسلمان نہیں ہوجائے گا، کیونکہ یہ سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ہم مومن ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارا دین بھی ایمان یعنی اسلام ہے، اس ان کے اس قول میں یہ دلیل نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ امام محمد نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کوئی مسلمان کسی مشرک کو قتل کرنے کے لیے اس پر حملہ آور ہوجائے اور اس وقت وہ مشرک یہ کہے کہ میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ، تو یہ مسلمان سمجھاجائے گا، کیونکہ اس کا کلمہ پڑھنا اس کے مسلمان ہونے کی دلیل ہے البتہ اگر وہ اس قول سے پھرجائے تو اس صورت میں اس کی گرد ن اڑادی جائے گی۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ امام محمد نے یہودی کو اس کے اس قول پر کہ میں مسلمان یا مومن ہوں مسلمان قرار نہیں دیا اس کی وجہ یہ ہے کہ یہود اسی طرح کہتے ہیں کہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اصل ایمان اور اسلام وہ ہے جس پر ہم عمل پیرا ہیں۔ اس لیے ان کا یہ کہنا ان کے مسلمان ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ یہود ونصاری کی حیثیت ان مشرکین جیسی نہیں ہے جو حضور کے زمانے میں موجود تھے، اس لیے کہ وہ سب کے سب بت پرست تھے اس لیے ان کا اقرار توحید اور ان میں سے کسی کا یہ کہنا کہ میں مسلمان ہوں یا میں مومن ہوں ، گویا بت پرستی چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونے کی علامت اور نشان ہوتا تھا، اس لیے ان کے اس اقرار واظہار کو کافی سمجھ لیا جاتاتھاکیون کہ ایک مشرک کو اسی وقت اس اقرار واظہار کا حوصلہ ہوتا تھا جب وہ حضور کی تصدیق کرتے ہوئے آپ پر امان لے آتا اسی بنا پر حضور کا یہ ارشاد ہے کہ : (امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لاالہ الا اللہ، فاذا قالوھا عصموا منی دماء ھم واموالھم) اس قول سے آپ کی مراد مشرکین تھے یہود نہیں تھے کیونکہ یہود ، لاالہ اللہ کا کلمہ پڑھا کرتے تھے اسی طرح عیسائی بھی اس کلمہ توحید کے قائل تھے۔ اگرچہ تفصیل میں جاکر توحید کے برعکس بات کرتے ہوئے ایک میں تین کے عقیدے کا اظہار کرتے ، اس سے ہمیں یہ بات معلوم ہوئی کہ ، لاالہ الا اللہ، کا قول عرب کے مشرکین کے اسلام کانشان تھا، کیونکہ وہ لوگ حضور کی دعوت اسلام کو قبول کرتے ہوئے نیز آپ کی دعوت کی تصدیق کرتے ہوئے اعتراف توحید کرتے تھے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ارشاد باری ہے (انھم اذاقیل لھم لاالہ الاللہ یستکبرون، اور یہ لوگ ایسے ہیں کہ جب ان سے کہاجاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں توبڑائی اور تکبر کا اظہار کرتے ہیں، یہود ونصاری کلمہ توحید کے اطلاق میں مسلمانوں کی موافقت کرتے تھے لیکن حضور کی نبوت کے سلسلے میں مسلمانوں کی مخالفت کرتے تھے۔ اس لیے اگر یہود یاعیسائی حضور پر ایمان کا اظہار کرے گا تو وہ مسلمان سمجھا جائے گا۔ حسن بن زیاد نے امام ابوحنیفہ سے روایت کی ہے کہ اگر کوئی یہودی یا نصرانی اللہ کی وحدانیت اور حضور کی رسالت کی گواہی دے لیکن یہ اقرار نہ کرے کہ میں اسلام میں داخل ہوں اور نہ ہی یہودیت یاعیسائیت سے اپنی برات کا اظہار کرے تو صرف گواہی دینے کی بنا پر وہ مسلمان نہیں ہوگا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں : میراخیال ہے کہ میں نے امام محمد کی بھی اسی قسم کی تحریر کہیں دیکھی ہے البتہ امام محمد نے ، السیرالکبیر، میں جو کچھ لکھا ہے وہ حسن بن زیاد کی اس روایت کے خلاف ہے۔ حسن کی اس روایت میں کہی گئی بات کی وجہ یہ ہے کہ ان یہود ونصاری میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جوا سکے قائل ہیں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں لیکن وہ تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں کچھ توا سکے قائل ہیں کہ بیشک محمد اللہ کے رسول ہیں، لیکن ان کی ابھی تک بعثت نہیں ہوئی ہے عنقریب ہونے والی ہے۔ اس لیے اگر ان میں سے کوئی شخص یہودیت یانصرانیت پر قائم رہتے ہوئے اللہ کی وحدانیت اور حضور کی رسالت کی گواہی دے گا تو اس کی یہ گواہی اس کے مسلمان ہونے کی دلیل نہیں بن سکے گی جب تک وہ یہ نہ کہے کہ میں اسلام میں داخل ہوتاہوں یا میں یہودیت یاعیسائیت سے اپنی برات کا اظہار کرتا ہوں۔ اگرہم قول باری (ولاتقولوا لمن القی الیکم السلام لست مومنا) کو اس کے ظاہر پر رہنے دیں تو اس کی اس بات پر دلالت نہیں ہوگی کہ اطاعت وفرمانبرداری کا اظہار کرنے والے پر مسلمان ہونے کا حکم لگادیاجائے کیونکہ اس سے یہ بھی مراد لیا جاسکتا ہے کہ ایسے شخص سے نہ اسلام کی نفی کرو اورنہ ہی اثبات لیکن اس بارے میں تحقیق کرکے معلوم کرو کہ اس قول سے اس کی کیا مراد ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ارشاد باری ہے (واذاضربتم فی سبیل اللہ فتبینوا ولاتقولوا لمن القی الیکم السلام لست مومنا، جب تم اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلوا تودوست دشمن میں تمیز کرلیاکرو اور جو شخص سلام میں سبقت کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے ظاہرلفظ جس کا امر کا مقتضی ہے وہ یہ ہے کہ ہمیں تحقیق وتفتیش کا حکم دیا گیا ہے اور علامت ایمان کی نفی کرنے سے روکا گیا ہے ایمان کی علامت کی نفی کی ممانعت میں ایمان کے اثبات اور اس کے حکم کا وجود نہیں ہوتا۔ آپ نہیں دیکھتے کہ جب ہمیں کسی شخص کے ایمان کے بارے میں جس کے حالات سے ہم ناواقف ہوں شک ہوجاتا ہے تو ہمارے لیے اس پر ایمان یا کفر کا حکم لگانا جائز نہیں ہوتا، الایہ کہ تحقیق وتفتیش کرکے ہم اس کی اصلیت معلوم کرلیں، اسی طرح اگر کوئی شخص ہمیں ایسی کوئی خبر سنائے جس کی صداقت یاعدم کا ہمیں کوئی علم نہ ہو تو ہمارے لیے اس کی تکذیب جائز نہیں ہوگی۔ لیکن ہماری ترک تکذیب ہماری طرف سے اس کی تصدیق کی علامت نہیں ہوگی آیت کے مقتضی کی بھی یہی صورت ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ اس میں نہ تو ایمان کا اثبات ہے اور نہ ہی کفر کا اس میں تو صرف تحقیق وتفتیش کا حکم ہے ، یہاں تک کہ ہمیں اس کی اصلیت معلوم ہوجائے۔ البتہ جن روایات کا ہم نے ذکر کیا ہے وہ ایسے شخص پر ایمان کا حکم لگاناواجب کررہی ہیں کیونکہ حضور کا ارشاد ہے (اقتلت مسلما وقتلتلہ، بعد مااسلم، تم نے ایک مسلمان کو قتل کردیا تم نے اسے اس کے اسلام لانے کے بعد قتل کردیا۔ نیز آپ کا ارشاد ہے ، (امرت ان اقاتل الناس حتی یقولوا لاالہ الا اللہ فاذاقالوھا عصمو منی دماء ھم واموالھم الابحقھا) آپ نے کلمہ توحید کے اظہار کرنے والے پر اسلام یعنی مسلمان ہونے کا حکم لگادیا، اسی طرح حضرت عقبہ بن مالک لیثی کی روایت میں آپ کے الفاظ ہیں۔ (ان اللہ تعالیٰ ابی علی ان اقتل مومنا) ۔ آپ نے اس کلمہ طیبہ کے اظہار پر اس شخص کو مومن قرار دے دیا، روایت میں ہے کہ زیر بحث آیت کا نزول بھی اسی جیسے کسی واقعہ کے سلسلے میں ہوا تھا، یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ آیت کی مراد یہ ہے کہ جو شخص اس کلمہ کا اظہار کرے ، اس پر ایمان کے اثبات کا حکم دیاجائے۔ منافقین بھی اس کلمہ کے اظہار کے ذریعے اپنی جان ومال کے بچاؤ کا سامان کرلیتے تھے حالانکہ اللہ تعالیٰ کو ان کے اعتقاد کفر کا علم تھا اور حضور بھی ان میں سے بہت سوں کے نفاق سے واقف تھے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ زیر بحث آیت اسلامی سلام کہنے والے پر سلام کا حکم لگانے کی مقتضی ہے۔ قول باری ہے (تبتغون عرض الحیوۃ الدنیا) اس سے مراد مال غنیمت ہے ، دنیاوی متاع یعنی سازوسامان کو عرض کا نام دیا گیا اس لیے اس سازوسامان کی بقاء کی مدت بہت قلیل ہوتی ہے جیسا کہ اس شخص کے متعلق مروی ہے جس نے اظہار اسلام کرنے والے شخص کو قتل کرکے اس کا سارامال لے لیا تھا۔ قول باری ہے (اذا ضربتم فی سبیل اللہ) اس سے اللہ کے راستے میں سفر مراد ہے ، قول باری (فتثبتوا کی قرات تاء اور نون کے ساتھ ہوئی ہے (یعنی فتبنیوا۔ ایک قول ہے کہ تاء اور نون کے ساتھ قرات ہی مختار قرات ہے کیونکہ تثبیت یعنی تحقیق وجستجوا یعنی حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے ہوتی ہے اور یہ تثبت اس کا سبب ہوتا ہے۔ قول باری ہے (کذالک کنتم من قبل) تم بھی اس سے پہلے ایسے ہی تھے، حسن کا قول ہے ان جیسے کافر، سعید بن جبیر کا قول ہے تم بھی اپنی قوم کے اندر رہتے ہوئے اپنادین مخفی رکھنے پر مجبور تھے جس طرح یہ لوگ اپنادین مخفی رکھنے پر مجبور ہیں۔ قول باری ہے (فمن اللہ علیکم ، اللہ نے تم پر احسان کیا) یعنی دین اسلام عطا کرکے ، جس طرح یہ قول باری ہے (بل اللہ یمن علیکم ان ھداکم للایمان، بلکہ اللہ تعایل تم پر یہ احسان جتلاتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی ، ایک قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں غلبہ عطا کرکے تم پر احسان کیا حتی کہ اپنادین ظاہر کرنے کے قابل ہوگئے۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے اور لڑنے سے جی چراتے ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے اور وہ جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ نے درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

(یعنی) خدا کی طرف سے درجات میں اور بخشش میں اور رحمت میں اور خدا بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہے

شوق جہا دمیں سرشار ہونے کی فضیلت قول باری ہے (لایستوی القاعدون من المومنین غیراولی الضرر والمجاھدون فی سبیل اللہ، ماسواے معذوروں کے گھربیٹھ رہنے والے اہل ایمان اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مسلمان یکساں نہیں ہیں) تاآخر آیت۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مجاہدین کو قاعدین پر فضیلت حاصل ہے ، اس میں جہاد کی ترغیب وتحریص ہے مجاہدین فی سبیل اللہ کو اجر وثواب کا جو مرتبہ حاصل ہے ، وہ جہاد سے بیٹھ رہنے والوں کو حاصل نہیں ہوگا، اس میں یہ دلالت بھی ہے کہ اجروثواب کی بلندی کا دارومدار عمل کی بلندی پر ہے ۔ آیت کے ابتداء میں یہ بیان فرمایا کہ یہ دونوں گروہ مرتبے میں یکساں نہیں ہیں پھر اس فضیلت کی تفصیل اس ارشاد کے ذریعے واضح کردی کہ (فضل اللہ المجاھدون باموالھم وانفسھم علی القاعدین درجہ، اللہ تعالیٰ نے بیٹھ رہنے والوں کی بہ نسبت جان ومال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑارکھا ہے ) آیت۔ آیت میں لفظ ، غیر، کو مرفوع اور منصوب پڑھا گیا ہے ، مرفوع تو اس بنا پر کہ ، یہ القاعدین کی صفت ہے اور منصوب اس بنا پر یہ حال ہے ایک قول کہ اس میں رفع مختار قرات ہے اس لیے کہ لفظ غیر میں استثناء کے معنی کے مقابلے مین صفت کے معنی زیادہ غالب ہوتے ہیں ، اگرچہ اس میں دونوں صورتیں جائز ہوتی ہیں۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ استثناء کی صورت میں، غیر، کا لفظ کل سے بعض کے اخراج کا موجب ہوتا ہے مثلا ، جانی القوم غیرزید، میرے پاس زید کے سوا ساری قوم آئی، صفت کی صورت میں یہ بات نہیں ہوتی، اس لیے آپ یہ کہتے ہیں ، جاءنی رجل غیر زید، میرے پاس ایک شخص آیاجوزید نہیں تھا۔ اس جملے میں، غیر، صفت واقع ہوا ہے جبکہ پہلے جملے میں یہ استثناء کے معنی دے رہا ہے اگرچہ دونوں صورتوں میں یہ نفی کے معنوں کی تخصیص کررہا ہے۔ قول باری ہے (وکلاوعداللہ الحسنی، اگرچہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے (یعنی ، واللہ اعلم، اہل ایمان میں سے مجاہدین اور قاعدین دونوں کو، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کافروں سے جہاد فرض کفاریہ ہے ہر شخص پر یہ فرض نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قاعدین کے ساتھ بھی بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے جس طرح مجاہدین کے ساتھ اس کا وعدہ کیا ہے اگرچہ مجاہدین کو ملنے والاثواب زیادہ عظیم وجلیل ہے۔ اگر ایک گروہ کی طرف سے فریضہ جہاد ادا کرنے کی صورت میں باقی ماندہ لوگوں کے لیے جہاد سے بیٹھ رہنا مباح نہ ہوتا توقاعدین سے ثواب کا وعدہ نہ ہوتا، اس میں ہماری مذکورہ بات کی دلیل موجود ہے کہ فریضہ جہاد ہر شخص پر ذاتی لحاظ سے متعین نہیں ہے۔ قول باری ہے (وفضل اللہ المجاھدین علی القاعدین اجراعظیما، درجات منہ ، مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھ رہنے والوں سے بہت زیادہ ہے ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں، یہاں اللہ تعالیٰ نے درجات منہ ، فرمایا اور آیت کی ابتداء میں درجۃ فرمایا۔ اس سلسلے میں ابن جریج سے مروی ہے مجاہدین کو اہل الضرر یعنی معذوروں پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے اور غیراہل الضرر پر انہیں کئی درجے فضیلت ہے اور ان کے لیے اجرعظیم بھی ہے ۔ ایک قول ہے کہ پہلے صورت جہاد بالنفس کی ہے کہ اس میں مجاہدین کو ایک درجہ فضیلت حاصل ہوتی ہے اور دوسری صورت جہاد بالنفس والمال کی ہے کہ اس میں کئی درجے فضیلت ہے ، ایک قول یہ بھی ہے کہ پہلی صورت میں مدح، تعظیم، اور دینی لحاظ سے شرف اور بلندی کا درجہ مراد ہے اور دوسری صورت میں جنت کے درجے مراد ہیں۔ اگریہ کہاجائے کہ کیا آیت میں یہ دلالت موجود ہے کہ اہل ضرر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے ہم پلہ ہیں اس لیے کہ آیت میں استثناء کا معنی بھی مووجد ہے تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ آیت میں دونوں گروہوں کی یکسانیت پر کوئی دلالت موجود نہیں ہے۔ کیونکہ استثناء ک اورود اس موقعہ پر ہوا ہے جس میں آیت ک اورود جہاد کی ترغیب وتحریض کے لیے ہوا تھا، اہل ضرر کو اس سے مستثنی کردیا گیا کیونکہ ایسے لوگوں کو جہاد کا حکم ہی نہیں دیا گیا ان کا استثناء ، اس لحاظ سے نہیں ہوا کہ مجاہدین کے ساتھ ان کا الحاق کردیا گیا۔
Ayahs 4:97–99

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز و ناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ؟ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ راستہ جانتے ہیں

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کر دے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

اپنے اوپر ظلم کرنے والے قول باری ہے (ان الذین توفاھم الملائکۃ ظالمی انفسھم قالوافیم کنتم، جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کررہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے) تاآخر آیت۔ ایک قول کے مطابق مفہوم ہے ، ہم موت کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیں گے ، حسن کا قول ہے ہم انہیں جہنم کی طرف اٹھائیں گے ایک قول اس آیت کا نزول منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں ہوا جو ڈر کی بنا پر مسلمانوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتا تھا، اور جب اپنی قوم میں پہنچ جاتا تو کفر کا اظہار کرتا، یہ گروہ مدینہ ہجرت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمادیا کہ یہ لوگ اپنے نفاق ، کفر اور مدینہ کی طرف ہجرت کرکے اپنے اوپرظلم کررہے ہیں۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اس زمانے میں ہجرت فرض تھی، اگر یہ بات نہ ہوتوترک ہجرت پر ان کی مذمت نہ کی جاتی ، نیز اس سے یہ بھی حاصل ہوتی ہے کہ اہل کفر بھی شرائع اسلام کے مکلف ہیں اور ان کے ترک پر انہیں سزا ملے گی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ہجرت نہ کرنے پر ان منافقین کی مذمت کی ہے۔ یہ اس قول باری کی نظیر ہے (ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی، ویتبع غیرسبیل المومنین نولہ ماتولی ونصلہ جہنم، مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمربستہ ہو اوراہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے درآنحالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا، اور اسے جہنم میں جھونکیں گے ) اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی روش کو ترک کرنے پر ان کی اس طرح مذمت کی جس طرح تک ایما ن پر۔ اس کے ذریعے اجماع کے حجت ہونے کی صحت پر بھی دلالت ہوگئی۔ اس لیے کہ اگر یہ بات لازم نہ ہوتی تو اللہ تعایل اس کے ترک پر ان کی مذمت نہ کرتا، اور اس چیز کو حضور کی مخالفت پر کمربستگی کے ساتھ مقرون نہ کرتا۔ یہ بات مشرکین کے درمیان قیام کرنے کی نہی پر بھی دلالت کرتی ہے کہ کیونکہ قول باری ہے (الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروافیھا، کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے ، یہ بات مشرکین کی سرزمین سے کسی بھی اسلامی سرزمین کی طرف ہجرت کرجانے پر دلالت کرتی ہے۔ حضرت ابن عباس ، قتادہ، ضحاک، اور سدی سے مروی ہے کہ اس آیت کا نزول مکہ کے ایک گروہ کے بارے میں ہوا تھا، جو ہجرت کرنے سے پیچھے رہ گئے تھے اور انہوں نے مشرکین سے اپنی محبت اور لگاؤ کا اظہار کیا تھا، ان میں سے ایک گروہ ظاہرا ارتداد کی بنا پر بدر کے مقام پر قتل ہوگیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ان لوگوں کو مستثنی کردیاجوکمزوری اور ضعف کی بنا پر ہجرت نہ کرسکے تھے ، اور مکہ ہی میں بیٹھ رہے تھے، چناچہ ارشاد ہوا، الاالمستضعفین من الرجال والنساء والولدان لایستطیعون حیلۃ۔۔۔ تا۔۔۔۔ عنھم۔ ہاں جو مرد عورتیں اور بچے واقعی بےبس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کردے۔ یعنی انہیں دارل ہجرت مدینے کی طرف نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں ملتا۔ حسن کا قول ہے کہ اللہ کی طرف سے عسی کا مفہوم اس پر دلالت کرتا ہے یہ امرواجب ہے ایک قول ہے کہ عسی کے تحت جو بات کہی جاتی ہے اس کی حیثیت وعدے کی ہوتی ہے کیونکہ شک کی بنیاد پر اس امر کی اللہ تعالیٰ خبر نہیں دیتا۔ ایک قول یہ ہے کہ اس امر میں شک بندوں کی طرف سے ہوتا ہے اس لیے اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ بندو تم اللہ کی ذات سے امیدوار اس کی رحمت کی طمع کرتے رہو۔
Ayah 4:100

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے اوہ زمین میں بہت سی جگہ اور کشائش پائے گا اور جو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کر کے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب خدا کے ذمے ہوچکا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

ہجرت کی فضیلت قول باری ہے (ومن یھاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مراغما کثیرا واسعۃ، جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا، وہ زمین میں پناہ لینے کے لیے بہت جگہ اور بسراوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا۔ ایک قول ہے کہ مراغم سے اللہ نے ہجرت کے لیے کافی گنجائش اور بہت جگہ مراد لی ہے اس لیے کہ رغم کے اصل معنی ذلت اور عاجزی کے ہیں، آپ کہتے ہیں ، فعلت ذالک علی الرغم من فلاں، یعنی میں نے یہ کام فلاں شخس سے عاجز اور مجبور ہونے کی بنا پر کیا ہے دغام مٹی کو کہتے ہیں کیونکہ مٹی ہراس شخص کو میسر ہوتی ہے جوا سے حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہے خواہ وہ کتنا ہی حقیر کیوں نہ ہو، محاورہ ہے ارغم اللہ انقہ، یعنی اللہ اسے ذلیل کرنے کے طور پر اس کی ناک خاک آلود کردے۔ ارشاد باری ہے (ومن یھاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مراغما کثیر ا وسعۃ) یعنی وہ زمین میں بڑی کشادگی اور سہولت پائے گا جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہے (ھوالذی جعل لکم الارض ذلولا فامشوا فی مناکبھا وکلوا من رزقہ والیہ النشور۔ اللہ کی ذات وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیاسوتم اس کے راستوں پرچلو پھرو اور اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے کھاؤ پیو اور اسی کے پاس زندہ ہوکرجانا ہے مراغم اور رذول دونوں الفاظ متقارب المعنی ہیں مراغم کے بارے میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد وہ اقدام ہے جس کے ذریعے کوئی شخص ہجرت کے راستے میں رکاوٹ بننے والے شخص کو مغلوب کرلے۔ قول باری (سعۃ ) کے متعلق حضرت ابن عباس ، ربیع بن انس، اور ضحاک کا قول ہے کہ اس سے رزق میں کشائش مراد ہے قتادہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد دین کے اظہار میں کشادگی اور گنجائش ہے اس لیے مشرکین کی طرف سے مسلمانوں کے دین کے معاملے میں اس قدر تنگی پیدا کردی گئی تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کو کھلم کھلا اس کے اظہار سے بھی روک دیا تھا۔ قول باری ہے (ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکۃ الموت فقد واقع اجرہ علی اللہ ۔ اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے اور پھر راستے ہی میں اسے موت آجائے اس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہوگیا، آیت میں اس شخص کے لیے اجر کے واجب ہوجانے کی خبر دی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے خواہ اس کی ہجرت مکمل نہ بھی ہوسکے۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص کسی عبادت اور تقرب الٰہی کے کام کی نیت سے نکلے گا تو خواہ وہ یہ کام سرانجام دینے سے بچھڑ ہی کیوں نہ جائے اللہ تعالیٰ اسے اس کی نیت کوشش کے مطابق ضرور بدلہ دیں گے جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے ارادے سے نکلنے والے شخص کے لیے اجر واجب کردیاخواہ س کی ہجرت کی تکمیل نہ بھی ہوسکی ہو۔ اس میں امام ابویوسف اور امام محمد کے قول کی صحت پر دلالت موجود ہے کہ اگر ایک شخص حج کے ارادے سے گھر سے نکل پڑے اور راستے میں اس کی وفات ہوجائے اور اس نے مرنے سے پہلے کسی کو اس کی طرف سے حج کرنے کی وصیت کی ہو تو وہ شخص اس جگہ سے حج کا سفر شروع کرے گا جہاں اس وصیت کرنے والے کی موت واقع ہوئی تھی۔ اسی طرح میت کی طرف سے یا اس شخص کی طرف سے جس پر خود حج کرنا فرض نہ ہو حج کرنے والا اسی جگہ سے حج کا عمل شروع کرے گا جہاں حج کا ارادہ کرنے والے کی موت واقع ہوئی ہوگی، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے مرنے والے کے لیے اس کے سفر اور اخراجات کی مقدار جو فرض کردیا۔ اب چونکہ اس اجر کا حساب مرنے والے کے نامہ اعمال میں لکھاجائے گا اس لیے صرف یہ بات ضروری ہوگی کہ اس کے حج کا باقی ماندہ حصہ اس کی طرف سے ادا کردیاجائے گا، اس میں یہ بھی دلالت موجود ہے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں اگر نماز یا حج کے سوا کسی اور کام کے لیے گھر سے نکلوں تومیراغلام آزاد ہے۔ پھروہ نماز یا حج کے ارادے سے گھر سے نکلے لیکن نہ نماز پڑھے اور نہ ہی حج کرے بلکہ کسی اور کام کی طرف متوجہ ہوجائے تو اس صورت میں وہ اپنی قسم سے حانث نہیں ہوگا، یعنی اس کی قسم نہیں ٹوٹے گی ، کیونکہ ابتداء میں اس کا گھر سے نکلنا نماز یا حج کے لیے تھا جو اس کی نیت کے ساتھ مقرون تھا۔ جس طرح وہ شخص جو رضائے الہی کی خاطر ہجرت کی نیت سے گھر سے نکلا ہوا، اور پھر دارالحجرت تک پہنچنے سے پہلے موت اس کے آڑے آگئی ہو اس سے اس کے گھر سے نکلنے کا وہ حکم باطل نہیں ہوگاجوابتداء ہی میں اس کے اس خروج کو لاحق ہوگیا تھا، یعنی دارالہجرت تک پہنچ نہ پاسکنے کے باوجود بھی وہ مہاجر ہی شمار ہوگا۔ اسی بنا پر حضور نے فرمایا، (الاعمال بالنیات ولکل امری، فمن کانت ھجرتہ الی اللہ ورسولہ فھرجتہ الی اللہ ورسولہ ، ومن کانت ھجرتہ الی دنیا یصیبھا وامرۃ یتزوجھا فھجرتہ الی ماھاجرالیہ۔ تمام اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہوگی ، اس لیے جس شخص کی اللہ اورا سکے رسول کی طرف ہجرت کی نیت کی ہوگی، اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی، اور جس شخص کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے شادی کرنے کے لیے ہوگی اس کی ہجرت اس چیز کے لیے ہوگی، جس کی خاطر اس نے ہجرت کی ہوگی۔ حضور نے یہ واضح فرمادیا کہ احکام کے اعمال نیتوں سے متعلق ہوتے ہیں اس لیے ہجرت کی نیت سے جو شخص گھر سے نکلے گا وہ مہاجر شمار ہوگا اور اگر غزوہ یعنی جہاد کی نیت سے نکلے توغازی کہلائے گا۔ بعض لوگوں نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ غازی کی اگر راستے میں وفات ہوجائے تو مال غنیمت میں اس کا حصہ واجب ہوگاجو اس کے ورثاء کو مل جائے گا، لیکن اس آیت کی اس قول پر دلالت نہیں ہورہی ہے اس لیے کہ کسی مال کا کسی کے لیے غنیمت بننے کے حکم کا تعلق اس بات پر موقوف ہے کہ وہ شخص دشمن کے اس مال کو اپنے قبضے میں کرلے، قبضے میں آنے سے وہ مال مال غنیمت نہیں ہوتا۔ ارشاد باری ہے (واعلموا انماغنمتم من شئی فان للہ خمسہ۔ جان لو کہ جو چیز بھی تم غنیمہ کے طور پر حاصل کرو گے اس میں اللہ کے لیے پانچواں حصہ ہوگا۔ اس لیے جو شخص مال غنیمت حاصل کرنے سے پہلے وفات پاجائے گا اسے گویا کوئی مال غنیمت حاصل نہیں ہوگا، اس لیے مال غنیمت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اورقول باری (فقد وقع اجرہ علی اللہ) کہ اس کے حصے کے وجوب پر کوئی دلالت نہیں ہے اس لیے کہ اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جو شخص جہاد کی نیت سے اپنے گھر سے نکلے اور دارالحرب تک پہنچے سے قبل ہی دارالاسلام میں اس کی وفات ہوجائے اسے مال غنیمت میں کوئی حصہ نہیں ملے گا، البتہ اللہ کے ذمے اس کا اجر واجب ہوجائے گا، جس طرح اس شخص کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہوجاتا ہے جو ہجرت کی نیت سے گھر سے نکلا ہو لیکن دارالہجرت پہنچے سے قبل اس کی وفات ہوگئی ہو۔ واللہ اعلم