4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsاحکام القرآن

Ayahs 4:171–175

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور اس کلمہ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور خدا ہی کارساز کافی ہے۔

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندہ ہوں اور نہ مقرب فرشتے عار رکھتے ہیں اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے وہ ان کا پورا بدلہ دے گا۔ اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا اور جنہوں نے (بندہ ہونے سے) عار وانکار اور تکبّر کیا ان کو وہ تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔ اور یہ لوگ خدا کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل (روشن) آچکی ہے۔ اور ہم نے (کفر اور ضلالت کا اندھیرا دور کرنے کو) تمہاری طرف چمکتا ہوا نور بھیج دیا ہے۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اس (کے دین کی رسّی) کو مضبوط پکڑے رہے۔ ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کے بہشتوں) میں داخل کرے گا اور اپنی طرف (پہنچنے کا) سیدھا راستہ دکھائے گا۔

قول باری ہے یا اھل الکتاب لاتغلوافی دینکم۔ اسے اہل کتاب، اپنے دین میں غلو نہ کرو) حسن سے مروی ہے کہ یہ یہود و نصاریٰ کو خطاب ہے کیونکہ نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اتنا غلو کیا کہ انہیں انبیاء کے درجے سے بلند کر کے الہ بنا لیا، یہودیوں نے بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت میں غلو کیا اور انہیں ان کے مرتبے اور درجے سے گرا دیا۔ اس طرح دونوں گروہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معاملے میں غلو سے کام لیا۔ دین میں غلو کا مفہوم یہ ہے کہ حق کی حد سے تجاوز کیا جائے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے انہیں رمی جمار کے لئے کنکریاں پکڑانے کو کہا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے ان کنکریوں کو اپنی دونوں انگلیوں کے درمیان رکھ کر حضور ﷺ کی طرف پھینکنا شروع کردیا۔ آپ ان کنکریوں کو ہتھیلی پر رکھ کر الٹتے پلٹتے رہے اور فرماتے گئے (بمثلھن بمثلھن، ایاکم والغلو فی الدین فانما ھلک قبلکم بالغلونی دینھم، ان ہی جیسی کنکریاں ان ہی جیسی کنکریاں دین میں غلو کرنے سے بچو کیونکہ تم سے پہلی امتیں دین میں غلو کرنے کی بنا پر ہلاک ہوئیں۔ ) اسی بناء پر کہا جاتا ہے کہ ” اللہ کا دین کوتاہی کرنے والے اور غلو کرنے والے کے درمیان ہے “۔ کلمۃ اللہ سے کیا مراد ہے ؟ قول باری ہے وکلمۃ القاھا الی مریم و روح منہ۔ اور ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور اللہ کی طرف سے ایک روح تھی) اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو کلمۃ اللہ کہا ہے۔ اس کی تفسیر میں تین اقوال ہیں۔ حسن اور قتادہ سے مروی ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے کلمہ سے وجود میں آئے۔ اللہ کا کلمہ اس کا قول کن فیکون ہوجا پس وہ ہوجاتا ہے) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا وجود میں آنا اس معتاد طریقے سے نہیں ہوا جو عام مخلوقات کے لئے رکھا گیا ہے یعنی جنسی ملاپ کے ذریعے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی اسی طرح ذریعہ ہدایت تھے جس طرح اللہ کا قول اور اس کا کلمہ ذریعہ ہدایت ہوتا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ وہ بشارت تھی جو انبیاء سابقین پر نازل ہونے والی کتابوں میں اللہ تعالیٰ نے آپ کے متعلق دی تھی۔ قول باری ودوح منہ اس لئے کہا کہ اللہ کے حکم سے حضرت جبریل (علیہ السلام) کے پھونک مارنے سے شکم مادر میں آپ جاگزیں ہوئے، نفخ یعنی پھونک مارنے کو بھی روح کہتے ہیں ذی الرمہ کا شعر ہے ۔ فقلت لہ ادفعھا الیک واحیھا بروھک و اقتتہ لھا قیتۃ قدرا۔ میں نے اس سے کہا آگ اپنی طرف کرلو اور اسے آہستہ آہستہ پھونک مار کر جلائو اس طرح کہ اس کی چنگاریاں اڑنہ جائیں اور آگ بجھ نہ جائے) ۔ یہاں شاعر نے بروحک کہہ کر بنفحک، (اپنی پھونک کے ذریعے) مراد لیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح کے نام سے اس لئے موسوم کیا کہ لوگ آپ کے ذریعے اسی طرح زندہ ہوجاتے تھے جس طرح روحوں کے ذریعے زندہ رہتے ہیں اس معنی میں قرآن مجید کو اس قول باری وکذلک اوحینا الیک روحاً من امرتا۔ اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی یعنی اپنا حکم بھیجا ہے) ایک اور قول ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی لوگوں کی ارواح کی طرح ایک روح تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت اور شرف بیان کرنے کے لئے اپنی طرف ان کی نسبت کردی جس طرح بیت اللہ اور سماء اللہ کا مفہوم ہے۔
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

(اے پیغمبر) لوگ تم سے (کلالہ کے بارے میں) حکم (خدا) دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا کلالہ کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولاد نہ ہو (اور نہ ماں باپ) اور اس کے بہن ہو تو اس کے بہن کو بھائی کے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا اور اگر بہن مرجائے اور اسکے اولاد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث بھائی ہوگا اور اگر (مرنیوالے بھائی کی) دو بہنیں ہوں تو دونوں کو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی۔ اور اگر بھائی اور بہن یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔ (یہ احکام) خدا تم سے اسلئے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

قول باری ہے یبین اللہ لکم ان تصلوا۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو) آیت کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ ان تضلوا بمعنی لئلا تضلوا، ہے یعنی ” تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو “۔ یہاں حرف لا اسی طرح محذوف ہے جس طرح قسم کی صورت میں محذوف ہوتا ہے مثلاً آپ کہیں ” واللہ ابرح قاعداً ۔ (بخدا میں تو بیٹھا ہی رہوں گا) اس قول میں اصل ترکیب کے لحاظ سے فقرہ یوں ہے ۔” واللہ لاابرح قاعداً ۔ شاعر کا قول ہے۔ تاللہ یبقی علی الایامرذوحید۔ بخدا، زمانے کی گردشوں کے مقابلے میں تو جنگلی بیل بھی باقی نہیں رہتا (انسان کی کیا حقیقت ہے) یہاں یبقی کے معنی لایبقی کے ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ آیت کا مفہوم ہے ” تمہاری گمراہی کو ناپسند کرنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے احکام کی توضیح کرتا ہے جس طرح قول ہے واسئل القیۃ۔ گائوں سے پوچھو) یعنی گائوں والوں سے پوچھو۔