پاکی کا بیان

Sunan An Nasai · Chapter 1 · 327 hadiths · Page 4 of 17

61Sunan An Nasai

برف کے پانی سے وضو

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: اللہم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس اے اللہ! میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے، اور میرے دل کو گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک کیا ہے ۔

It was narrated that Aishah (RA) said: “The Prophet ﷺ used to say: (Allah, wash away my sins with the water of snow and hail, and cleanse my heart of sin as a white garment is cleansed of filth).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 61
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٦٧٧٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الدعوات ٣٩ (٦٣٦٨)، ٤٤ (٦٣٧٥)، ٤٦ (٦٣٧٧)، صحیح مسلم/الذکر ١٤ (٥٨٩)، سنن الترمذی/الدعوات ٧٧ (٣٤٩٥)، سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٣٨)، مسند احمد ٦/٥٧، ٢٠٧، ویأتي عند المؤلف برقم: (٣٣٤) (صحیح )
62Sunan An Nasai

اولوں کے پانی سے وضو

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، قال: شَهِدْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى مَيِّتٍ فَسَمِعْتُ مِنْ دُعَائِهِ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَأَوْسِعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ.

عوف بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک جنازے پر نماز پڑھتے ہوئے سنا، تو میں نے آپ کی دعا میں سے سنا آپ فرما رہے تھے: اللہم اغفر له وارحمه وعافه واعف عنه وأكرم نزله وأوسع مدخله واغسله بالماء والثلج والبرد ونقه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم کر، اسے عافیت سے رکھ، اس سے درگزر فرما، اس کی بہترین مہمان نوازی فرما، اس کی جگہ (قبر) کشادہ کر دے، اس (کے گناہوں) کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے، اور اس کو گناہوں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے ۔

Awf bin Malik said: “I heard the Messenger of Allah ﷺ offering the (funeral) prayer for one who had died, and I heard him say in his supplication:(Allah, forgive him and have mercy on him, keep him safe and sound and forgive him, honor the place where he settles and make his entrance wide; wash him with water and snow and hail, and cleanse him of sin as a white garment is cleansed of dirt).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 62
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجنائز ٢٦ (٩٦٣)، سنن الترمذی/الجنائز ٣٨ (١٠٢٥)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٣ (١٥٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٠١)، مسند احمد ٦/٢٣، ٢٨، ویأتي عند المؤلف برقم: (١٩٨٥، وعمل الیوم واللیلة (١٠٨٧) (صحیح )
63Sunan An Nasai

کتے کے جھوٹے کا حکم

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا شَرِبَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن سے پی لے، تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “If a dog drinks from the vessel of one of you, let him wash it seven times.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 63
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح روایتوں سے سات بار ہی دھونا ثابت ہے، تین بار دھونے کی روایت صحیح نہیں ہے، بعض لوگوں نے اسے بھی دیگر نجاستوں پر قیاس کیا ہے، اور کہا ہے کہ کتے کی نجاست بھی تین بار دھونے سے پاک ہوجائے گی لیکن اس قیاس سے نص کی یا ضعیف حدیث سے صحیح حدیث کی مخالفت ہے، جو درست نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٣ (١٧٢)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٧ (٢٧٩)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ ٦٨ (٩١)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣١ (٣٦٤)، موطا امام مالک/فیہ ٦ (٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٧٩٩)، مسند احمد ٢/٢٤٥، ٢٦٥، ٢٧١، ٣١٤، ٣٦٠، ٣٩٨، ٤٢٤، ٤٢٧، ٤٦٠، ٤٨٠، ٤٨٢، ٥٠٨، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٣٣، ٣٣٩، ٣٤٠ (صحیح )
64Sunan An Nasai

کتے کے جھوٹے کا حکم

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال دے تو وہ اسے سات مرتبہ دھوئے ۔

Thabit, the freed slave of ‘Abdur-Rahman bin Zaid narrated that he heard Abu Hurairah (RA) say: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If a dog licks the vessel of any one of you, let him wash it seven times.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 64
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، مسند احمد ٢/٢٧١، (تحفة الأشراف: ١٢٢٣٠) (صحیح )
65Sunan An Nasai

کتے کے جھوٹے کا حکم

أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: قال ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هِلَالُ بْنُ أَسَامَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُخْبِرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.

اس سند سے بھی ابوہریرہ ؓ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔

A similar Hadith was narrated from Abu Hurairah (RA) from the Prophet ﷺ. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 65
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، مسند احمد ٢/٢٧١، (تحفة الأشراف: ١٥٣٥٢) (صحیح )
66Sunan An Nasai

جب کتا کسی کے برتن میں منہ ڈال کر چپ چپ کر کے پانی پی لے تو برتن میں جو کچھ ہے اس کو بہا دینا چاہئے

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَلْيُرِقْهُ ثُمَّ لِيَغْسِلْهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ عَلِيَّ بْنَ مُسْهِرٍ عَلَى قَوْلِهِ فَلْيُرِقْهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں منہ ڈال دے، تو وہ (جو کچھ اس برتن میں ہو) اسے بہا دے، پھر سات مرتبہ اسے دھوئے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ مجھے اس بات کا علم نہیں کہ کسی شخص نے علی بن مسہر کی ان کے قول فلیرقہ پر متابعت کی ہو۔

It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘If a dog licks the vessel of any one of you, let him throw (the contents) away and wash it seven times.” Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: I do not know any one who followed ‘Ali bin Mushir in narrating it with: “Let him throw it away.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 66
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٧ (٢٧٩)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٣١ (٣٦٣)، مسند احمد ٢/٤٢٤، ٤٨٠، (تحفة الأشراف: ١٢٤٤١، ١٤٦٠٧)، ویأتي عند المؤلف برقم: (٣٣٦) (صحیح )
67Sunan An Nasai

جس برتن میں کتا منہ ڈال کر پی لے تو اس کو مٹی سے مانجھنے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قال: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ، وَقَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ.

عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا ١ ؎ اور شکاری کتوں کی اور بکریوں کے ریوڑ کی نگہبانی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات مرتبہ دھوؤ، اور آٹھویں دفعہ اسے مٹی سے مانجھو ٢ ؎۔

It was narrated from ‘Abdullah bin Al-Mughaffal that the Messenger of Allah ﷺ commanded that dogs be killed, but he made an exception for hunting dogs and sheepdogs and said: “If a dog licks a vessel then wash it seven times, and rub it the eighth time with dust.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 67
Notes · وضاحت
١ ؎: شروع اسلام میں کتوں کے مار ڈالنے کا حکم تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ ٢ ؎: اس حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آٹھویں بار دھونا بھی واجب ہے، بعضوں نے ابوہریرہ ؓ کی حدیث کو اس پر ترجیح دی ہے اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ ترجیح اس وقت دی جاتی ہے جب تعارض ہو، جب کہ یہاں تعارض نہیں ہے، ابن مغفل ؓ کی حدیث پر عمل کرنے سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث پر بھی عمل ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٧ (٢٨٠)، سنن ابی داود/الطہارة ٣٧ (٧٤)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣١ (٣٦٥)، الصید ١ (٣٢٠٠، ٣٢٠١)، مسند احمد ٤/٨٦، ٥/٥٦، سنن الدارمی/الطہارة ٥٩ (٧٦٤)، الصید ٢ (٢٠٤٩)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٥)، ویأتي عند المؤلف في المیاہ ٧ برقم: (٣٣٧، ٣٣٨) (صحیح )
68Sunan An Nasai

بلی کے جھوٹے سے متعلق

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، ثُمَّ ذَكَرَتْ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوءًا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَشَرِبَتْ مِنْهُ فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قالت كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قال: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ وَالطَّوَّافَاتِ.

کبشہ بنت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ ابوقتادہ ؓ ان کے پاس آئے، پھر (کبشہ نے) ایک ایسی بات کہی جس کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے ان کے لیے وضو کا پانی لا کر ایک برتن میں ڈالا، اتنے میں ایک بلی آئی اور اس سے پینے لگی، تو انہوں نے برتن ٹیڑھا کردیا یہاں تک کہ اس بلی نے پانی پی لیا، کبشہ کہتی ہیں: تو انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں انہیں (حیرت سے) دیکھ رہی ہوں، تو کہنے لگے: بھتیجی! کیا تم تعجب کر رہی ہو؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تمہارے پاس بکثرت آنے جانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے ١ ؎۔

It was narrated from Kabshah bint Ka’b bin Malik that Abu Qatadah entered upon her, then she narrated the following: “I poured some water for him for Wudu’, and a cat came and drank from it, so he tilted the vessel for it to drink.” Kabshah said: “He saw me looking at him and said: ‘Are you surprised, daughter of my brother?’ I said: ‘Yes.’ He said: ‘The Messenger of Allah ﷺ said: They are not impure, rather they are among the males and females (animals) who go around among you.”(Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 68
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اس کی مثال ان غلاموں اور خادموں جیسی ہے جو گھروں میں خدمت کے لیے بکثرت آتے جاتے ہیں، چونکہ یہ رات دن گھروں میں پھرتی رہتی ہے اس لیے یہ پاک کردی گئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارہ ٣٨ (٧٥)، سنن الترمذی/فیہ ٦٩ (٩٢)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣٢ (٣٦٧)، موطا امام مالک/فیہ ٣ (١٣)، (تحفة الأشراف: ١٢١٤١)، مسند احمد ٥/٢٩٦، ٣٠٣، ٣٠٩، سنن الدارمی/الطہارة ٥٨ (٧٦٣)، ویأتي عند المؤلف برقم: (٣٤١) (صحیح )
69Sunan An Nasai

گدھے کے جھوٹے سے متعلق

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قال: أَتَانَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ ﷺ کا منادی آیا اور اس نے کہا: اللہ اور اس کے رسول تم لوگوں کو گدھوں کے گوشت سے منع فرماتے ہیں، کیونکہ وہ ناپاک ہیں ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: “An announcer came to us from the Messenger of Allah ﷺ and said: ‘Allah and His Messenger forbid you from (eating) the flesh of domestic donkeys, for it is filth.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 69
Notes · وضاحت
١ ؎: جب گدھے کا گوشت ناپاک اور نجس ہے، تو اس کا جو ٹھا بھی ناپاک و نجس ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجہاد ١٣٠ (٢٩٩١)، المغازي ٣٨ (٤١٩٨)، الذبائح ٢٨ (٥٥٢٨)، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٣ (٣١٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصید ٥ (١٩٤٠)، مسند احمد ٣/١١١، ١٢١، ١٦٤، سنن الدارمی/الاضاحي ٢١ (٢٠٣٤)، ویأتي عند المؤلف برقم: (٤٣٣٥) (صحیح )
70Sunan An Nasai

حائضہ عورت کے جھوٹے کا بیان

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قالت: كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ فَيَضَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ وَأَنَا حَائِضٌ، وَكُنْتُ أَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ فَيَضَعُ فَاهُ حَيْثُ وَضَعْتُ وَأَنَا حَائِضٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں ہڈی نوچتی تھی تو رسول اللہ ﷺ اپنا منہ اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھتی حالانکہ میں حائضہ ہوتی، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی تو آپ ﷺ اپنا منہ اسی جگہ رکھتے جہاں میں رکھتی، حالانکہ میں حائضہ ہوتی۔

It was narrated that Aishah (RA) , may Allah be pleased with her, said: “While I was menstruating, I would nibble meat from a bone, and the Messenger of Allah ﷺ would put his mouth where mine had been. And while I was menstruating, I would drink from a vessel and he would put his mouth where mine had been.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 70
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٣ (٣٠٠)، سنن ابی داود/الطہارة ١٠٣ (٢٥٩)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٢٥ (٦٤٣)، (تحفة الأشراف: ١٦١٤٥)، مسند احمد ٦/٦٢، ٦٤، ١٢٧، ١٩٢، ٢١٠، ٢١٤، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ٢٨٠، ٢٨١، ٣٤٢، ٣٧٧، ٣٨٠)، سنن الدارمی/الطہارة ١٠٨ (١١٠١) (صحیح )
71Sunan An Nasai

مرد اور عورت کے ایک ساتھ وضو کرنے کا بیان

أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قال: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: كَانَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ يَتَوَضَّئُونَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيعًا.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مرد اور عورتیں ایک ساتھ (یعنی ایک ہی برتن سے) وضو کرتے تھے ١ ؎۔

It was narrated that Ibn ‘Umar said: “Men and women used to perform Wudu together during the time of the Messenger of Allah ﷺ .” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 71
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مراد میاں بیوی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤٣ (١٩٣)، سنن ابی داود/الطہارة ٣٩ (٧٩)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣٦ (٣٨١)، (تحفة الأشراف: ٨٣٥٠)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/فیہ ٣ (١٥)، مسند احمد ٢/٤، ١٠٣، ١١٣، (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ٣٤٣) (صحیح )
72Sunan An Nasai

جنبی کے غسل سے جو پانی بچ جائے اس کا حکم

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَاكَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ.

عروہ ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے انہیں خبر دی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کرتی تھیں۔

It was narrated from Aishah (RA) that she used to perform Ghusl with the Messenger of Allah ﷺ from a single vessel. (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 72
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣١٩)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣٥ (٣٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٦٥٨٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الغسل ٢ (٢٥٠)، ١٥ (٢٧٣)، سنن ابی داود/الطھارة ٣٩ (٧٧)، مسند احمد ٦/٣٧، ١٧٣، ١٨٩، ١٩١، ١٩٩، ٢١٠، ٢٣٠، ٢٣١، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٢٢٩، ٢٣٢-٢٣٦، ٣٤٥، ٤١٠، ٤١١، ٤١٣ (صحیح )
73Sunan An Nasai

وضو کے لئے کس قدر پانی کافی ہے؟

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ وَيَغْتَسِلُ بِخَمْسَةِ مَكَاكِيَّ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک مکوک پانی سے وضو اور پانچ مکوک سے غسل فرماتے تھے۔

It was narrated that ‘Abdullah bin Jabr said: “I heard Anas bin Malik (RA) say: ‘The Messenger of Allah ﷺ used to perform Wudu with a Makkuk (cup) and Ghusl with five Makkuks (cups).” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 73
Notes · وضاحت
مکوک سے مراد یہاں مد ہے، اور ایک قول کے مطابق صاع ہے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ ایک روایت میں مکوک کی تفسیر مد سے کی گئی ہے، اور مد اہل حجاز کے نزدیک ایک رطل اور تہائی رطل کا ہوتا ہے، اور اہل عراق کے نزدیک دو رطل کا ہوتا ہے، اس حساب سے صاع جو چار مد کا ہوتا ہے اہل حجاز کے نزدیک پانچ رطل کا ہوگا، اور اہل عراق کے نزدیک آٹھ رطل کا ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٤٧ (٢٠١)، صحیح مسلم/الحیض ١٠ (٣٢٥)، سنن ابی داود/الطہارة ٤٤ (٩٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٣١٢ (٦٠٩)، (تحفة الأشراف: ٩٦٢)، مسند احمد ٣/١١٢، ١١٦، ١٧٩، ٢٥٩، ٢٨٢، ٢٩٠، سنن الدارمی/الطہارة ٢٣ (٧١٦)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٢٣٠، ٣٤٦ (صحیح )
74Sunan An Nasai

وضو کے لئے کس قدر پانی کافی ہے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ، قال: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ جَدَّتِي وَهِيَ أُمُّ عُمَارَةَ بِنْتُ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَتَوَضَّأَ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ قَدْرَ ثُلُثَيِ الْمُدِّ. قَالَ شُعْبَةُ: فَأَحْفَظُ أَنَّهُ غَسَلَ ذِرَاعَيْهِ وَجَعَلَ يَدْلُكُهُمَا وَيَمْسَحُ أُذُنَيْهِ بَاطِنَهُمَا. وَلَا أَحْفَظُ أَنَّهُ مَسَحَ ظَاهِرَهُمَا.

ام عمارہ بنت کعب ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کا ارادہ کیا تو آپ کی خدمت میں ایک برتن میں دو تہائی مد کے بقدر پانی لایا گیا، (شعبہ کہتے ہیں: مجھے اتنا اور یاد ہے کہ) آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، اور انہیں ملنے اور اپنے دونوں کانوں کے داخلی حصے کا مسح کرنے لگے، اور مجھے یہ نہیں یاد کہ آپ ﷺ نے ان کے اوپری (ظاہری) حصے کا مسح کیا۔

It was narrated from Shu’bah that Habib said: “I heard ‘Abbad bin Tamim narrate from my grandmother — who was Umm ‘Umarah bint Ka’b — that the Prophet ﷺ performed Wudu’, and he was brought a vessel in which there were two-thirds of a Mudd.” Shu’bah said: “I remember that he washed his forearms and started rubbing them, and he wiped the inside of his ear, but I do not remember whether he wiped the outside of them.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 74
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤٤ (٩٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٣٣٦) (صحیح )
75Sunan An Nasai

وضو میں نیت کا بیان

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِيمَالِكٌ، ح وأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، آدمی کے لیے وہی چیز ہے جس کی اس نے نیت کی، تو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی، اور جس نے دنیا کے حصول یا کسی عورت سے شادی کرنے کی غرض سے ہجرت کی تو اس کی ہجرت اسی چیز کے واسطے ہوگی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ١ ؎۔

It was narrated that ‘Umar bin Al-Khattab (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Actions are only done with intentions, and every man shall have what he intended. Thus he whose emigration was for Allah and His Messenger, his emigration was for Allah and His Messenger, and he whose emigration was to achieve some worldly benefit or to take some woman in marriage, his emigration was for that which he intended.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 75
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کی بنیاد پر علماء کا اتفاق ہے کہ اعمال میں نیت ضروری ہے، اور نیت کے مطابق ہی اجر ملے گا، اور نیت کا محل دل ہے یعنی دل میں نیت کرنی ضروری ہے، زبان سے اس کا اظہار ضروری نہیں، بلکہ یہ بدعت ہے سوائے ان صورتوں کے جن میں زبان سے نیت کرنا دلائل و نصوص سے ثابت ہے، جیسے حج و عمرہ وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الوحي ١ (١)، الایمان ٤١ (٥٤)، العتق ٦ (٢٥٢٩)، مناقب الأنصار ٤٥ (٣٨٩٨)، النکاح ٥ (٥٠٧٠)، الأیمان والنذر ٢٣ (٦٦٨٩)، الحیل ١ (٦٩٥٣)، صحیح مسلم/الإمارة ٤٥ (١٩٠٧)، سنن ابی داود/الطلاق ١١ (٢٢٠١)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد ١٦ (١٦٤٧)، سنن ابن ماجہ/الزھد ٢٦ (٤٢٢٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٦١٢)، مسند احمد ١/٢٥، ٤٣، ویأتيعند المؤلف بأرقام: ٣٤٦٧، ٣٨٢٥ (صحیح )
76Sunan An Nasai

برتن سے وضو کے متعلق فرمان نبوی ﷺ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَحَانَتْ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوءَ فَلَمْ يَجِدُوهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَضُوءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي ذَلِكَ الْإِنَاءِ، وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَوَضَّئُوا فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسی حالت میں دیکھا کہ عصر کا وقت قریب ہوگیا تھا، تو لوگوں نے وضو کے لیے پانی تلاش کیا مگر وہ پانی نہیں پا سکے، پھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں تھوڑا سا وضو کا پانی لایا گیا، تو آپ ﷺ نے اس برتن میں اپنا ہاتھ رکھا، اور لوگوں کو وضو کرنے کا حکم دیا، تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ ﷺ کی انگلیوں کے نیچے سے ابل رہا ہے، حتیٰ کہ ان کے آخری آدمی نے بھی وضو کرلیا ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ when the time for ‘Asr prayer had come. The people looked for (water for) Wudubut they could not find any. Then some (water for) Wudu’ was brought to the Messenger of Allah ﷺ . He put his hand in that vessel and told the people to perform Wudu , and I saw water springing from beneath his fingers, until they had all performed Wudu." (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 76
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ رسول اللہ ﷺ کا ایک معجزہ تھا، دوسری روایت میں ہے کہ یہ کل تین سو آدمی تھے، ایک روایت میں ہے کہ ایک ہزار پانچ سو آدمی تھے واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٢ (١٦٩)، المناقب ٢٥ (٣٥٧٣)، صحیح مسلم/الفضائل ٣ (٢٢٧٩)، سنن الترمذی/المناقب ٦ (٣٦٣١)، موطا امام مالک/الطہارة ٦ (٣٢)، (تحفة الأشراف: ٢١٠)، مسند احمد ٣/١٣٢، ١٤٧، ١٧٠، ٢١٥، ٢٨٩، نحوہ، ویأتي عند المؤلف برقم: ٧٨ (صحیح )
77Sunan An Nasai

برتن سے وضو کے متعلق فرمان نبوی ﷺ

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً فَأُتِيَ بِتَوْرٍ فَأَدْخَلَ يَدَهُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ، وَيَقُولُ: حَيَّ عَلَى الطَّهُورِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ. قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ: أَلْفٌ وَخَمْسُ مِائَةٍ.

عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، لوگوں کو پانی نہ ملا تو آپ ﷺ کے پاس ایک طشت لایا گیا، آپ نے اس میں اپنا ہاتھ داخل کیا، تو میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے ابل رہا تھا، اور آپ ﷺ فرما رہے تھے: پاک کرنے والے پانی اور اللہ کی برکت پر آؤ۔

It was narrated that ‘Abdullah said: “We were with the Prophet ﷺ and they could not find any water. A vessel was brought to him and he put his hand in it, and I saw water springing from between his fingers. He said: ‘Come to a means of purification and a blessing from Allah, may He be glorified.” (One of the narrators) Al-A’mash said: “Salim bin Abi Al-Ja’d told me: I said to Jabir: “How many were you that day?’ He said: “One thousand five hundred.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 77
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٩٤٣٦)، مسند احمد ١/٣٩٦، ٤٠١، سنن الدارمی/المقدمة ٥ (٣٠)، وحدیث جابر أخرجہ: صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٥٧٦)، المغازي ٣٥ (٤١٥٢)، الأشربة ٣١ (٥٦٣٩) (صحیح )
78Sunan An Nasai

بوقت وضو بسم اللہ پڑھنا

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَقَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قال: طَلَبَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مَاءٌ ؟ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الْمَاءِ، وَيَقُولُ: تَوَضَّئُوا بِسْمِ اللَّهِ، فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّئُوا مِنْ عِنْدِ آخِرِهِمْ. قَالَ ثَابِتٌ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: كَمْ تُرَاهُمْ ؟ قَالَ: نَحْوًا مِنْ سَبْعِينَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ کچھ صحابہ کرام نے وضو کا پانی تلاش کیا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: تم میں سے کسی کے پاس پانی ہے؟ (تو ایک برتن میں تھوڑا سا پانی لایا گیا) تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ یہ فرماتے ہوئے پانی میں ڈالا: بسم اللہ کر کے وضو کرو میں نے دیکھا کہ پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے نکل رہا تھا، حتیٰ کہ ان میں سے آخری آدمی نے بھی وضو کرلیا۔ ثابت کہتے ہیں: میں نے انس ؓ سے پوچھا: آپ کے خیال میں وہ کتنے لوگ تھے؟ تو انہوں نے کہا: ستر کے قریب ١ ؎۔

It was narrated that Anas said: “Some of the Companions of the Prophet ﷺ were looking for (water for) Wudu. The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Do any of you have water?’ He put his hand in the water and said: ‘Perform Wudu’ in the Name of Allah.’ I saw the water coming out from between his fingers until they had all performed Wudu’.” Thabit said: “I said to Anas (RA) : ‘How many did you see?’ He said: ‘About seventy.” (Sahih)

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 78
Notes · وضاحت
١ ؎: اس باب اور اس سے پہلے والے باب کی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ایک سے زیادہ بار پیش آیا تھا، واللہ اعلم بالصواب۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائی، حدیث ثابت عن أنس، (تحفة الأشراف: ٤٨٤)، وحدیث قتادة عن أنس، (تحفة الأشراف: ١٣٤٧)، (نیز ملاحظہ ہو: ٧٦) (صحیح الاسناد )
79Sunan An Nasai

اگر خادم وضو کرنے والے شخص کے اعضاء پر وضو کا پانی ڈالتا جائے

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَيُونُسَ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ، يَقُولُ: سَكَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَوَضَّأَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: لَمْ يَذْكُرْ مَالِكٌ، عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ.

مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک میں جس وقت رسول اللہ ﷺ نے وضو کیا، آپ پر پانی ڈالا، پھر آپ نے اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا ١ ؎۔

It was narrated from ‘Urwah bin Al-Mughira that he heard his father say: “I poured water for the Messenger of Allah ﷺ when he performed Wudu’ during the battle of Tabuk, and he wiped over his Khuff.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 79
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٣٥ (١٨٢)، ٤٨ (٢٠٣)، المغازي ٨١ (٤٤٢١)، اللباس ١١ (٥٧٩٩)، صحیح مسلم/الطہارة ٢٢ (٢٧٤)، الصلاة ٢٢ (٢٧٤)، سنن ابی داود/الطہارة ٥٩ (١٤٩، ١٥١)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٨٤ (٥٤٥)، (تحفة الأشراف: ١١٥١٤)، موطا امام مالک/فیہ ٨ (٤١)، مسند احمد ٤/٢٤٩، ٢٥١، ٢٥٤، ٢٥٥، سنن الدارمی/الطہارة ٤١ (٧٤٠)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: ٨٢، ١٢٤، ١٢٥ (صحیح )
80Sunan An Nasai

وضو کرتے وقت اعضاء کو ایک ایک مرتبہ دھونا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِوُضُوءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟فَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کے وضو کے بارے میں نہ بتاؤں؟ پھر انہوں نے اعضاء وضو کو ایک ایک بار دھویا۔

It was narrated that Ibn ‘Abbas said: “Shall I not tell you of the Wudu of the Messenger of Allah ﷺ? He performed Wudu by washing each part of the body once.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 80
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٢٢ (١٥٧)، سنن ابی داود/الطہارة ٥٣ (١٣٨)، سنن الترمذی/فیہ ٣٢ (٤٢)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٤٥ (٤١١)، (تحفة الأشراف: ٥٩٧٦)، مسند احمد ١/٢٣٣، ٣٣٢، ٢٣٦، سنن الدارمی/الطہارة ٢٩ (٧٢٤) (صحیح )