استنجا میں تین پتھر سے کم پتھر استعمال کرنے سے متعلق
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قال: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قال لَهُ رَجُلٌ: إِنَّ صَاحِبَكُمْ لَيُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةَ. قال: أَجَلْنَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا أَوْ نَكْتَفِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ.
سلمان ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے (حقارت کے انداز میں) ان سے کہا: تمہارے نبی تمہیں (سب کچھ) سکھاتے ہیں یہاں تک کہ پاخانہ کرنا (بھی) ؟ تو انہوں نے (فخریہ انداز میں) کہا: ہاں! آپ نے ہمیں پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور (استنجاء کے لیے) تین پتھر سے کم پر اکتفا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated that Salman said, that a man said to him: “Your companion (meaning, the Prophet ﷺ even teaches you how to go to the toilet!” He said: “Yes, he forbade us from facing the Qiblah when defecating or urinating, or cleaning ourselves with our right hands, or to use less than three stones.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 41
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ١٧ (٢٦٢)، سنن ابی داود/فیہ ٤ (٧)، سنن الترمذی/فیہ ١٢ (١٦)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٦ (٣١٦)، (تحفة الأشراف: ٤٥٠٥)، مسند احمد ٥/ ٤٣٧، ٤٣٨، ٤٣٩، یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: ٤٩ (صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت (پاخانے) کی جگہ میں آئے، اور مجھے تین پتھر لانے کا حکم فرمایا، مجھے دو پتھر ملے، تیسرے کی میں نے تلاش کی مگر وہ نہیں ملا، تو میں نے گوبر لے لیا اور ان تینوں کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے دونوں پتھر لے لیے، اور گوبر پھینک دیا ١ ؎ اور فرمایا: یہ رکس (ناپاک) ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن النسائی کہتے ہیں: رکس سے مراد جنوں کا کھانا ہے ٢ ؎۔
‘Abdur-Rahman bin Al-Aswad (narrated) from his father that he heard ‘Abdullah say: “The Prophet ﷺ, wanted to defecate, and he told me to bring him three stones. I found two stones and looked for a third, but I could not find any, so I picked up a piece of dung and brought them to the Prophet ﷺ He took the two stones and threw away the dung and said: “This is Riks.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: Riks is the food of the jinn.
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 42
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے دو ہی پتھر پر اکتفا کیا اس لیے کہ ہوسکتا ہے کہ آپ نے تیسرا خود اٹھا لیا ہو، نیز مسند احمد اور سنن دارقطنی کی ایک روایت میں ہے کہ آپ نے ائتنی بحجر فرما کر تیسرا پتھر لانے کے لیے بھی کہا، اس کی سند صحیح ہے۔ ٢ ؎: لغوی اعتبار سے اس کا ثبوت محل نظر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٢١ (١٥٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة ١٣ (١٧)، سنن ابن ماجہ/فیہ ١٦ (٣١٤)، (تحفة الأشراف: ٩١٧٠)، مسند احمد ١/٣٨٨، ٤١٨، ٤٢٧، ٤٥٠ (صحیح )
سلمہ بن قیس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب استنجاء کرو تو طاق (ڈھیلا) استعمال کرو ١ ؎۔
It was narrated from Salamah bin Qais that the Messenger of Allah ﷺ said: “When you clean yourselves (with stones, after defecating), use an odd number.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 43
Notes · وضاحت
١ ؎: مؤلف کا استدلال فأوتر کے لفظ سے ہے جو مطلق لفظ ہے اور ایک پتھر کے کافی ہونے کو بھی وتر کہیں گے لیکن اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مطلق مقید پر محمول کیا جاتا ہے، یعنی طاق سے مراد تین یا تین سے زیادہ پانچ وغیرہ مراد ہے، کیونکہ اصول یہ ہے ایک حدیث دوسرے حدیث کی وضاحت کرتی ہے اور تین کی قید حدیث رقم: ٤١ میں آچکی ہے، اس لیے طاق سے تین والا طاق مراد ہوگا۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے، اور ان سے پاکی حاصل کرے کیونکہ یہ طہارت کے لیے کافی ہیں ۔
It was narrated from Aishah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “When any one of you goes to the Gha’it (toilet to defecate), let him take with him three stones and clean himself with them, for that will suffice him.” (Hasan)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب قضائے حاجت کی جگہ میں داخل ہونے کا ارادہ فرماتے تو میں اور میرے ساتھ مجھ ہی جیسا ایک لڑکا دونوں پانی کا برتن لے جا کر رکھتے، تو آپ پانی سے استنجاء فرماتے۔
Anas bin Malik (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ would go to the toilet, I and another boy like me would bring a small leather vessel of water and he would clean himself with water.” (Sahih)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ تم عورتیں اپنے شوہروں سے کہو کہ وہ پانی سے استنجاء کریں، کیونکہ میں ان سے یہ کہنے میں شرماتی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ ایسا کرتے تھے۔
It was narrated that Aishah (RA) said: “Tell your husbands to clean themselves with water, for I am too shy to tell them myself. The Messenger of Allah ﷺ used to do that.” (Sahih)
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پئیے تو اپنے برتن میں سانس نہ لے، اور جب قضائے حاجت کے لیے آئے تو اپنے داہنے ہاتھ سے ذکر (عضو تناسل) نہ چھوئے، اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ١ ؎۔
It was narrated from Abu Qatadah that the Messenger of Allah ﷺ said: “When any one of you drinks, let him not breathe into the vessel, and when he goes to the toilet let him not touch his penis with his right hand, nor wipe himself with his right hand.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 47
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض علماء نے داہنے ہاتھ سے عضو تناسل کے چھونے کی ممانعت کو بحالت پیشاب خاص کیا ہے، کیونکہ ایک روایت میں إذا بال أحدکم فلا یمس ذکرہ کے الفاظ وارد ہیں، اور ایک دوسری روایت میں لا يمسکن أحدکم ذكره بيمينه وهو يبول آیا ہے، اس لیے ان لوگوں نے مطلق کو مقید پر محمول کیا ہے، اور نووی نے حالت استنجاء اور غیر استنجاء میں کوئی تفریق نہیں کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب حالت استنجاء میں اس کی ممانعت ہے جب کہ اس کی ضرورت پڑتی ہے، تو دوسری حالتوں میں جب کہ اس کی ضرورت نہیں پڑتی بدرجہ اولیٰ ممنوع ہوگا۔
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے برتن میں سانس لینے سے، داہنے ہاتھ سے عضو تناسل چھونے سے اور داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے سے منع فرمایا۔
It was narrated from Ibn Abi Qatadah, from his father, that the Prophet ﷺ forbade breathing into the vessel (when drinking), touching one’s penis with one’s right hand, and cleaning oneself with one’s right hand. (Sahih)
سلمان ؓ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے (حقارت کے انداز میں) کہا کہ ہم تمہارے نبی کو دیکھتے ہیں کہ وہ تمہیں پاخانہ (تک) کی تعلیم دیتے ہیں، تو انہوں نے (فخریہ) کہا: ہاں، آپ نے ہمیں داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور (بحالت قضائے حاجت) قبلہ کا رخ کرنے سے منع فرمایا، نیز فرمایا: تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم میں استنجاء نہ کرے ١ ؎۔
It was narrated that Salman said: “The idolators said: ‘We see that your companion teaches you how to go to the toilet.’ He said: ‘Yes, he forbade us from cleaning ourselves with our right hand, and from facing toward the Qiblah, and he said: ‘None of you should clean with less than three stones.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 49
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن حزم کہتے ہیں کہ بدون ثلاث ۃ احجار میں دون، اقل کے معنی میں یا غیر کے معنی میں ہے، لہٰذا نہ تین پتھر سے کم لینا درست ہے نہ زیادہ، اور بعض لوگوں نے کہا ہے دون کو غیر کے معنی میں لینا غلط ہے، یہاں دونوں سے مراد اقل ہے جیسے ليس فيما دون خمس من الأبل صدقة میں ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے وضو کیا، جب آپ نے (اس سے پہلے) استنجاء کیا تو اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Prophet ﷺ performed Wudu’, and when he had performed Istinja’ he rubbed his hand on the ground. (Hasan)
حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 50
Notes · وضاحت
١ ؎: تاکہ ہاتھ اچھی طرح صاف ہوجائے، اور نجاست کا اثر کلی طور پر زائل ہوجائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٨٨٧)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ٢٤ (٤٥)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٢٩ (٣٥٨)، ٤١ (٤٧٣)، مسند احمد ٢/٣١١، ٤٥٤، سنن الدارمی/الطہارة ١٥ (٧٠٣) (حسن )
جریر ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا، آپ قضائے حاجت کی جگہ میں آئے، اور آپ نے حاجت پوری کی، پھر فرمایا: جریر! پانی لاؤ، میں نے پانی حاضر کیا، تو آپ ﷺ نے پانی سے استنجاء کیا، اور راوی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا: پھر آپ ﷺ نے ہاتھ کو زمین پر رگڑا۔
Ibrahim bin Jarir narrated that his father said: “I was with the Prophet ﷺ and he went to Al-Khala’ (toilet) and relieved himself, then he said: “Jarir, bring Tahur (a means of purification).” So I brought him some water and he performed istinja’ with water, and did like this with hand, rubbing it on the ground. (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: “This resembles more with what is correct than the (previous) narration of Sharik, and Allah knows best.”
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس پانی کے بارے میں پوچھا گیا جس پر چوپائے اور درندے آتے جاتے ہوں؛ تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب پانی دو قلہ ١ ؎ ہو تو وہ گندگی کو اثر انداز نہیں ہونے دے گا یعنی اسے دفع کر دے گا؟ ٢ ؎۔
It was narrated from ‘Abdullah bin ‘Abdullah bin ‘Umar that his father said: “The Messenger of Allah ﷺ was asked about water and how some animals and carnivorous beasts might drink from it. He said: ‘If the water is more than two Qullahs, it will not carry filth.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 52
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ مطلب نہیں کہ وہ نجاست اٹھانے سے عاجز ہوگا کیونکہ یہ معنی لینے کی صورت میں قلتین (دو قلہ) کی تحدید بےمعنی ہوجائے گی۔ قُلّہ سے مراد بڑا مٹکا ہوتا ہے کہ جس میں پانچ سو رطل پانی آتا ہے، یعنی اڑھائی مشک۔ ٢ ؎: حاکم کی روایت میں لم يحمل الخبث کی جگہ لم ينجسه شيء ہے، جس سے لم يحمل الخبث کے معنی کی وضاحت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٣٣ (٦٣)، (تحفة الأشراف: ٧٢٧٢)، سنن الترمذی/فیہ ٥٠ (٦٧)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٥ (٥١٧)، سنن الدارمی/الطہارة ٥٥ (٧٥٩)، مسند احمد ٢/١٢، ٢٣، ٣٨، ١٠٧، ویأتي عند المؤلف في المیاہ ٢ (برقم: ٣٢٩) (صحیح )
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو کچھ لوگ اس پر جھپٹے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کرنے دو روکو نہیں ١ ؎، جب وہ فارغ ہوگیا تو آپ نے پانی منگوایا، اور اس پر انڈیل دیا۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی (رح)) کہتے ہیں: یعنی بیچ میں نہ روکو پیشاب کرلینے دو۔
It was narrated from Anas that a Bedouin urinated in the Masjid, and some of the people went after him, but the Messenger of Allah ﷺ said: “Leave him and do not restrain him.” When he had finished he called for a bucket (of water) and poured it over it. Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: “Meaning: ‘Do not interrupt him.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 53
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں بہت سی مصلحتیں تھیں، ایک تو یہ کہ اگر اسے بھگاتے تو وہ پیشاب کرتا ہوا جاتا جس سے ساری مسجد نجس ہوجاتی، دوسری یہ کہ اگر وہ پیشاب اچانک روک لیتا تو اندیشہ تھا کہ اسے کوئی عارضہ لاحق ہوجاتا، تیسری یہ کہ وہ گھبرا جاتا اور مسلمانوں کو بدخلق سمجھ کر اسلام ہی سے پھرجاتا وغیرہ وغیرہ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٧ (٢١٩)، الأدب ٣٥ (٦٠٢٥)، صحیح مسلم/الطہارة ٣٠ (٢٨٤)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٨ (٥٢٨)، (تحفة الأشراف: ٢٩٠)، وقد أحرجہ: سنن الدارمی/الطہارة ٦٢ (٧٦٧)، مسند احمد ٣/١٩١، ٢٢٦، ویأتي عند المؤلف برقم: (٣٣٠) (صحیح )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے مسجد میں پیشاب کردیا تو نبی اکرم ﷺ نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا جو اس پر ڈال دیا گیا۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: “A Bedouin urinated in the Masjid, and the Prophet ﷺ ordered that a bucket (be brought) and poured over it.” (Sahih)
انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی مسجد میں آیا اور پیشاب کرنے لگا، تو لوگ اس پر چیخے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو (کرنے دو ) تو لوگوں نے اسے چھوڑ دیا یہاں تک کہ اس نے پیشاب کرلیا، پھر آپ ﷺ نے ایک ڈول پانی لانے کا حکم دیا جو اس پر بہا دیا گیا۔
Anas said: “A Bedouin came to the Masjid and urinated, and the people yelled at him, but the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Leave him alone.’ So they left him alone. When he had finished urinating, he ordered that a bucket (be brought) and poured over it.” (Sahih)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی اٹھا، اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو لوگ اسے پکڑنے کے لیے بڑھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اسے چھوڑ دو (پیشاب کرلینے دو ) اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو، کیونکہ تم آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، سختی کرنے والے بنا کر نہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “A Bedouin stood up and urinated in the Masjid, and the people started shouting. The Messenger of Allah ﷺ said to them: ‘Leave him alone, and spill a bucket of water over his urine. For you have been sent to make things easy for people, you have not been sent to make things difficult.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 56
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٥٨ (٢٢٠)، الأدب ٨٠ (٦١٢٨)، (تحفة الأشراف: ١٤١١١)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطہارة ١٣٨ (٣٨٠) مفصلاً، سنن الترمذی/فیہ ١١٢ (١٤٧)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٧٨ (٥٢٩)، مسند احمد ٢/٢٨٢، ویأتي عند المؤلف برقم: (٣٣١) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے وضو کرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: “None of you should urinate into still water and then perform Wudu’ with it.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 57
Takhrij · تخریج
حدیث عوف، عن محمد بن سیرین، عن أبي ہریرة تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٤٤٩٢)، وحدیث عوف، عن خلاس بن عمرو، عن أبي ہریرة تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ١٢٣٠٤)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطہارة ٥١ (٦٨)، مسند احمد ٢/٢٥٩، ٢٦٥، ٤٩٢، ٥٢٩، ویأتي عند المؤلف برقم: (٣٩٧) من غیر ہذا الطریق (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ہرگز ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل کرے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “The Messenger of Allah ﷺ said: ‘None of you should urinate in still water and perform Ghusl with it.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’l) said: “Yaqub would not narrate this Hadith except for a Dinar.”
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سمندر میں سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں، اگر ہم اس سے وضو کرلیں تو پیاسے رہ جائیں، تو کیا ہم سمندر کے پانی سے وضو کرلیں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کا پانی پاک کرنے والا ہے، اور اس کا مردار حلال ہے ١ ؎۔
Abu Hurairah (RA) said: “A man asked the Prophet ﷺ : ‘Messenger of Allah ﷺ , we travel by sea and we take a little water with us, but if we use it for Wudu’, we will go thirsty. Can we perform Wudu’ with sea-water?’ The Messenger of Allah ﷺ said: ‘Its water is a means of purification and its dead meat is permissible.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 59
Notes · وضاحت
١ ؎: مردار سے مراد وہ سمندری جانور ہیں جو سمندر میں مریں، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس سے مراد صرف مچھلی ہے، دیگر سمندری جانور نہیں، لیکن اس تخصیص پر کوئی صریح دلیل نہیں ہے، اور آیت کریمہ: أحل لکم صيدُ البحرِ وطعامُه بھی مطلق ہے۔ سائل نے صرف سمندر کے پانی کے بارے میں پوچھا تھا نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے کھانے کا بھی حال بیان کردیا کیونکہ جیسے سمندری سفر میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے ویسے کبھی کھانے کی بھی کمی ہوجاتی ہے، اس کا مردار حلال ہے، یعنی سمندر میں جتنے جانور رہتے ہیں جن کی زندگی بغیر پانی کے نہیں ہوسکتی وہ سب حلال ہیں، گو ان کی شکل مچھلی کی نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الطہارة ٤١ (٨٣)، سنن الترمذی/فیہ ٥٢ (٦٩)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣٨ (٣٨٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٦١٨)، موطا امام مالک/فیہ ٣ (١٢)، مسند احمد ٢/٢٣٧، ٣٦١، ٣٧٨، ٣٩٢، ٣٩٣، سنن الدارمی/الطہارة ٥٣ (٧٥٥)، ویأتي عند المؤلف برقم: (٣٣٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو تھوڑی دیر خاموش رہتے، تو میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! آپ تکبیر تحریمہ اور قرأت کے درمیان اپنے خاموش رہنے کے دوران کیا پڑھتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: میں کہتا ہوں اللہم باعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب اللہم نقني من خطاياى كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس اللہم اغسلني من خطاياى بالثلج والماء والبرد اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اسی طرح دوری پیدا کر دے جیسے کہ تو نے پورب اور پچھم کے درمیان دوری رکھی ہے، اے اللہ! مجھے میری خطاؤں سے اسی طرح پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اے اللہ! مجھے میرے گناہوں سے برف، پانی اور اولے کے ذریعہ دھو ڈال ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: “When the Messenger of Allah ﷺ started Salah, he would remain silent for a short while. I said: ‘May my father and mother be ransomed for you, Messenger of Allah ﷺ! What do you say when you remain silent between the Takbir and the recitation (in the Salah)?’ He said: ‘I say: (Allah, put a great distance between me and my sins, as great as the distance You have made between the East and the West; Allah, cleanse me of sin as a white garment is cleansed from filth; Wash away my sins with snow, water, and hail)’.” (Sahih)
صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 60
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے مؤلف نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ برف سے وضو درست ہے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے برف سے گناہ دھونے کی دعا مانگی ہے، اور ظاہر ہے کہ گناہ وضو سے دھوئے جاتے ہیں لہٰذا برف سے وضو کرنا صحیح ہوا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٨٩ (٧٤٤)، صحیح مسلم/المساجد ٢٧ (٥٩٨)، سنن ابی داود/الصلاة ١٢١ (٧٨١)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١ (٨٠٥)، (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٦)، مسند احمد ٢/٢٣١، ٤٩٤، سنن الدارمی/الصلاة ٣٧ (١٢٨٠)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: (٣٣٤، ٨٩٥، ٨٩٦) (صحیح )