پانی میں کتنی ناپاکی گرنے سے وہ ناپاک نہیں ہوتا اس کی حد کا بیان
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ عَلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ لَا تُزْرِمُوهُ، فَلَمَّا فَرَغَ دَعَا بِدَلْوٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: يَعْنِي لَا تَقْطَعُوا عَلَيْهِ.
انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی) مسجد میں پیشاب کرنے لگا، تو کچھ لوگ اس پر جھپٹے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کرنے دو روکو نہیں ١ ؎، جب وہ فارغ ہوگیا تو آپ نے پانی منگوایا، اور اس پر انڈیل دیا۔ ابوعبدالرحمٰن (امام نسائی (رح)) کہتے ہیں: یعنی بیچ میں نہ روکو پیشاب کرلینے دو۔
It was narrated from Anas that a Bedouin urinated in the Masjid, and some of the people went after him, but the Messenger of Allah ﷺ said: “Leave him and do not restrain him.” When he had finished he called for a bucket (of water) and poured it over it. Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: “Meaning: ‘Do not interrupt him.” (Sahih)