دو ڈھیلوں سے استنجا کرنے کی رخصت
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: لَيْسَ أَبُو عُبَيْدَةَ ذَكَرَهُ وَلَكِنْعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ: أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَائِطَ وَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ، فَوَجَدْتُ حَجَرَيْنِ وَالْتَمَسْتُ الثَّالِثَ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَخَذْتُ رَوْثَةً فَأَتَيْتُ بِهِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ الْحَجَرَيْنِ وَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ: هَذِهِ رِكْسٌ. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: الرِّكْسُ طَعَامُ الْجِنِّ.
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت (پاخانے) کی جگہ میں آئے، اور مجھے تین پتھر لانے کا حکم فرمایا، مجھے دو پتھر ملے، تیسرے کی میں نے تلاش کی مگر وہ نہیں ملا، تو میں نے گوبر لے لیا اور ان تینوں کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے دونوں پتھر لے لیے، اور گوبر پھینک دیا ١ ؎ اور فرمایا: یہ رکس (ناپاک) ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن النسائی کہتے ہیں: رکس سے مراد جنوں کا کھانا ہے ٢ ؎۔
‘Abdur-Rahman bin Al-Aswad (narrated) from his father that he heard ‘Abdullah say: “The Prophet ﷺ, wanted to defecate, and he told me to bring him three stones. I found two stones and looked for a third, but I could not find any, so I picked up a piece of dung and brought them to the Prophet ﷺ He took the two stones and threw away the dung and said: “This is Riks.” (Sahih) Abu ‘Abdur-Rahman (An-Nasa’i) said: Riks is the food of the jinn.