Sunan An Nasai 67

پاکی کا بیان

67Sunan An Nasai

جس برتن میں کتا منہ ڈال کر پی لے تو اس کو مٹی سے مانجھنے کے بارے میں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قال: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَالْغَنَمِ، وَقَالَ: إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوهُ الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ.

عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کتوں کے مار ڈالنے کا حکم دیا ١ ؎ اور شکاری کتوں کی اور بکریوں کے ریوڑ کی نگہبانی کرنے والے کتوں کی اجازت دی، اور فرمایا: جب کتا برتن میں منہ ڈال دے، تو اسے سات مرتبہ دھوؤ، اور آٹھویں دفعہ اسے مٹی سے مانجھو ٢ ؎۔

It was narrated from ‘Abdullah bin Al-Mughaffal that the Messenger of Allah ﷺ commanded that dogs be killed, but he made an exception for hunting dogs and sheepdogs and said: “If a dog licks a vessel then wash it seven times, and rub it the eighth time with dust.” (Sahih)

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 67
Notes · وضاحت
١ ؎: شروع اسلام میں کتوں کے مار ڈالنے کا حکم تھا، بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ ٢ ؎: اس حدیث کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آٹھویں بار دھونا بھی واجب ہے، بعضوں نے ابوہریرہ ؓ کی حدیث کو اس پر ترجیح دی ہے اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ ترجیح اس وقت دی جاتی ہے جب تعارض ہو، جب کہ یہاں تعارض نہیں ہے، ابن مغفل ؓ کی حدیث پر عمل کرنے سے ابوہریرہ ؓ کی حدیث پر بھی عمل ہوجاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الطہارة ٢٧ (٢٨٠)، سنن ابی داود/الطہارة ٣٧ (٧٤)، سنن ابن ماجہ/فیہ ٣١ (٣٦٥)، الصید ١ (٣٢٠٠، ٣٢٠١)، مسند احمد ٤/٨٦، ٥/٥٦، سنن الدارمی/الطہارة ٥٩ (٧٦٤)، الصید ٢ (٢٠٤٩)، (تحفة الأشراف: ٩٦٦٥)، ویأتي عند المؤلف في المیاہ ٧ برقم: (٣٣٧، ٣٣٨) (صحیح )