Sunan An Nasai

All 5,772 hadiths in order · Page 71 of 289

1398Sunan An Nasai

امام خطبہ کے لئے کس چیز پر کھڑا ہو؟

أخبرنا أحمد بن عبد الله بن الحكم قال حدثنا محمد بن جعفر قال حدثنا شعبة عن منصور عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة عن كعب بن عجرة قال: دخل المسجد وعبد الرحمن بن أم الحكم يخطب قاعدا فقال انظروا إلى هذا يخطب قاعدا وقد قال الله عز وجل وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وتركوك قائما .

کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں آئے اور عبدالرحمٰن بن ام الحکم بیٹھ کر خطبہ دے رہے تھے تو انہوں نے کہا: اس شخص کو دیکھو بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها وترکوک قائما اور جب وہ کوئی سودا بکتا دیکھیں یا کوئی تماشا نظر آجائے تو اس کی طرف دوڑ جاتے ہیں اور آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں (الجمعہ: ١١ ) ۔

It was narrated that Kab bin Ujrah said that: He entered the masjid and Abdur-Rahman bin Umm Al-Hakam was delivering the Khutbah while seated. "He said: Look at this man who is delivering the khutbah while seated when Allah (SWT) says: And when they see some merchandise or some amusement they disperse headlong to it, and leave you standing."

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١١ (٨٦٤)، (تحفة الأشراف: ١١١٢٠) (صحیح )
1399Sunan An Nasai

امام کے قریب بیٹھنے کی فضیلت

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قال: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قال: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ وَابْتَكَرَ وَغَدَا وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَأَنْصَتَ ثُمَّ لَمْ يَلْغُ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ كَأَجْرِ سَنَةٍ صِيَامِهَا وَقِيَامِهَا.

اوس بن اوس ثقفی ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص غسل کرائے اور خود بھی غسل کرے، اور مسجد کے لیے سویرے نکل جائے، اور امام سے قریب رہے، اور خاموشی سے خطبہ سنے، پھر کوئی لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر قدم کے عوض ایک سال کے روزے، اور قیام کا ثواب ملے گا ۔

It was narrated from Aws bin Aws Ath-Thaqafi that : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever washes (ghassala) and performs ghusl, and comes early to the masjid and sits near the imam, is attentive and does not engage in idle talk, for every step he takes he will have (the reward of) a years worth of good deeds, its fasting and Qiyam prayer."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1398
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ١٣٨٢ (صحیح )
1400Sunan An Nasai

جس وقت امام منبر پر خطبہ دے رہا ہو تو لوگوں کی گردنیں پھلانگنا ممنوع ہے

أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قال: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَانِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيِ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ.

ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے روز عبداللہ بن بسر ؓ کے بغل میں بیٹھا تھا تو انہوں نے کہا: ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: اے فلان! بیٹھ جاؤ تم نے (لوگوں کو) تکلیف دی ہے ١ ؎۔

It was narrated from Abu Az-Zahiriyah about Abdullah bin Busr, he said: "I was sitting beside him on Friday and he said: A man came, stepping over peoples necks, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Sit down, you are disturbing people."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1399
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس صورت میں ہے جب اگلی صفوں میں خالی جگہ نہ ہو لیکن اگر لوگوں نے خالی جگہ چھوڑ رکھی ہو تو گردنیں پھلانگ کر جانا درست ہوگا، یا یہ اس وقت کے ساتھ خاص ہے جب امام منبر پر بیٹھا ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٨ (١١١٨)، (تحفة الأشراف: ٥١٨٨)، مسند احمد ٤/١٨٨، ١٩٠ (صحیح )
1401Sunan An Nasai

اگر امام خطبہ دے رہا ہو اور اس وقت کوئی شخص آجائے تو نماز پڑھے یا نہیں؟

أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، وَيُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ: أَرَكَعْتَ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْكَعْ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن منبر پر تھے، ایک آدمی (مسجد میں) آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: کیا تم نے دو رکعتیں پڑھ لیں؟ اس نے کہا: نہیں، تو آپ نے فرمایا: تو پڑھ لو ١ ؎۔

Amr bin Dinar narrated that: He heard Jabir bin Abdullah say: "A man came when the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was on the minbar on a Friday. He said to him: Have you prayed two rakahs? He said: No. He said: Pray."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1400
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اس کی وضاحت نہیں کہ جمعہ سے پہلے کتنی سنتیں ہیں، اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں آنے والا دو رکعت پڑھ کر بیٹھے حتیٰ کہ اگر کوئی شخص خطبہ جمعہ کے دوران بھی آئے تو وہ بھی مختصر طور پر دو رکعت ضرور پڑھے پھر خطبہ سنے تاہم خطبہ سے پہلے آنے والا شخص دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کرنے کے بعد دو دو کر کے جتنے چاہے نوافل پڑھ سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجمعة ٣٢ (٩٣٠)، ٣٣ (٩٣١)، صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٧ (١١١٥)، سنن الترمذی/فیہ ٢٥٠ (الجمعة ١٥) (٥١٠)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٧ (١١١٣)، (تحفة الأشراف: ٢٥٥٧)، مسند احمد ٣/٢٩٧، ٣٠٨، ٣٦٩، ٣٨٠، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٤٠٦) (صحیح )
1402Sunan An Nasai

جس وقت خطبہ ہو رہا ہو تو خاموش رہنا چاہئے

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَنْصِتْ، فَقَدْ لَغَا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہا: خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اس نے لغو حرکت کی ۔

It was narrated from Abu Hurairah (RA) that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever says to his companion on Friday, when the imam is delivering the khutbah: Listen attentively, has engaged in idle talk."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1401
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٣٦ (٩٣٤)، صحیح مسلم/الجمعة ٣ (٨٥١)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٥١ (الجمعة ١٦) (٥١٢)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٦ (١١١٠)، (تحفة الأشراف: ١٣٢٠٦)، موطا امام مالک/الجمعة ٢ (٦)، مسند احمد ٢/٢٤٤، ٢٧٢، ٢٨٠، ٣٩٣، ٣٩٦، ٤٨٥، ٥١٨، ٥٣٢، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٥ (١٥٩٠) (صحیح )
1403Sunan An Nasai

جس وقت خطبہ ہو رہا ہو تو خاموش رہنا چاہئے

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، قال: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قَارِظٍ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ، أَنَّأَبَا هُرَيْرَةَ، قال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَقَدْ لَغَوْتَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب تم اپنے ساتھ والے سے جمعہ کے دن کہو: خاموش رہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو تم نے لغو کام کیا ۔

It was narrated from Abdullah bin Ibrahim bin Qariz and Saeed bin Al-Musayyab that: Abu Hurairah said: "I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) say: If you say to your companion: Listen attentively on a Friday when the Imam is delivering the khutbah, then you have engaged in idle talk."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1402
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (صحیح )
1404Sunan An Nasai

خاموش رہنے کے فضائل سے متعلق

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْعَلْقَمَةَ، عَنِ الْقَرْثَعِ الضَّبِّيِّ، وَكَانَ مِنَ الْقُرَّاءِ الْأَوَّلِينَ، عَنْ سَلْمَانَ، قال: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ وَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ، إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ.

سلمان ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو بھی آدمی پاکی حاصل کرتا ہے جیسا کہ اسے حکم دیا گیا، پھر وہ اپنے گھر سے نکلتا ہے یہاں تک کہ وہ جمعہ میں آتا ہے، اور خاموش رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی نماز ختم کرلے، تو (اس کا یہ عمل) اس کے ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوگا جو اس سے پہلے کے جمعہ سے اس جمعہ تک ہوئے ہیں ۔

It was narrated that Salman said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to me: There is no man who purifies himself on Friday as he is commanded, then comes out of his house to the Friday prayer, and listens attentively until he finishes his prayer, but it will be an expiation for what came before it the week before."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1403
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٤٥٠٨)، مسند احمد ٥/٤٣٨، ٤٣٩، ٤٤٠ (صحیح )
1405Sunan An Nasai

خطبہ کس طریقہ سے پڑھے؟

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَيُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَلَّمَنَا خُطْبَةَ الْحَاجَةِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ يَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا سورة الأحزاب آية 70، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا، وَلَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَلَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ حاجة ١ ؎ سکھایا، اور وہ یہ ہے: الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ باللہ من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده اللہ فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی سے مدد اور گناہوں کی بخشش چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شر انگیزیوں اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں، جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دیدے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ، پھر آپ یہ تین آیتیں پڑھتے: يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈرو جتنا کہ اس سے ڈرنا چاہیئے، اور دیکھو مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا (آل عمران: ١٠٢ ) ۔ يا أيها الناس اتقوا ربکم الذي خلقکم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا کثيرا ونساء واتقوا اللہ الذي تساءلون به والأرحام إن اللہ کان عليكم رقيبا اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا، اور اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اور اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناطے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے (الاحزاب: ٧٠ ) يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وقولوا قولا سديدا اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صحیح و درست بات کہو (النساء: ١ ) ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ابوعبیدہ نے اپنے والد عبداللہ بن مسعود ؓ سے نہیں سنا ہے، نہ ہی عبدالرحمٰن بن عبداللہ ابن مسعود نے، اور نہ ہی عبدالجبار بن وائل بن حجر نے، (یعنی ان تینوں کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے) ۔

It was narrated from Abdullah: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) taught us Khutbat Al-Hajah: Alhamduu lillahi nastainuhu wa nastagfiruhu, wa naudhu billahi min shururi anfusina wa sayiati amalina. Man yahdihillahu fala mudilla lahu wa man yudlil fala Hadiya lahu. Wa ashhadu an la ilaha illallahu wa ashhadu anna Muhammadan abduhu wa rasuluhu. (Praise be to Allah, we seek His help and His forgiveness. We seek refuge in Allah from the evil of our own souls and from our bad deeds. Whomsoever Allah guides will never be led astray,and whomsoever Allah leaves astray, no one can guide. I bear witness that there is none worthy of worship except Allah, and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger.) Then he recited the following three verses: O you who believe! Fear Allah as He should be feared, and die not except as Muslims; O Mankind! Be dutiful to your Lord, Who created you from a single person, and from him he created his wife, and from them he created many men and women, and fear Allah through Whom you demand your mutual (rights), and (do not cut the relations of) the wombs (kinship). Surely, Allah is Ever and All-Watcher over you); O you who believe! Keep your duty to Allah and fear Him,and speak (always) the truth.)"

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1404
Notes · وضاحت
١ ؎: حاجۃ کا لفظ عام ہے نکاح اور بیع وغیرہ سبھی چیزوں کو شامل ہے، اسی وجہ سے امام شافعی نے بیع و نکاح وغیرہ تمام عقود میں اس خطبہ کے پڑھنے کو مسنون قرار دیا ہے۔ نسائی کی اس سند میں بھی ابوعبیدہ ہیں، مگر ابوداؤد اور دیگر کی سندوں میں ابو عبیدہ کی جگہ ابوالاحوص ہیں، جن کا سماع ابن مسعود ؓ سے ثابت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/النکاح ٣٣ (٢١١٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح ١٧ (١١٠٥)، سنن ابن ماجہ/النکاح ١٩ (١٨٩٢)، (تحفة الأشراف: ٩٦١٨)، مسند احمد ١/٣٩٢، ٤٣٢، سنن الدارمی/النکاح ٢٠ (٢٢٤٨) (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ” ابو عبیدہ “ اور ان کے باپ ” ابن مسعود “ ؓ کے درمیان انقطاع ہے، دیکھئے البانی کا رسالہ خطبة الحاجہ )
1406Sunan An Nasai

خطبہ جمعہ میں غسل کی ترغیب سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قال: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لیے جائے تو اسے چاہیئے کہ غسل کرلے ۔

It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) delivered a khutbah and said: When any one of you wants to go to Jumuah, let him perform ghusl."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1405
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٧٦٥٠)، مسند احمد ٢/٧٧ (صحیح )
1407Sunan An Nasai

خطبہ جمعہ میں غسل کی ترغیب سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَشِيطٍ، أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: سُنَّةٌ، وَقَدْ حَدَّثَنِي بِهِ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكَلَّمَ بِهَا عَلَى الْمِنْبَرِ.

ابراہیم بن نشیط سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن شہاب زہری سے جمعہ کے دن کے غسل کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: سنت ہے، اور اسے مجھ سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے اپنے والد (عبداللہ بن عمر ؓ) سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے منبر پر بیان کیا ہے۔

It was narrated from Ibrahim bin Nashit that: He asked Ibn Shihab about ghusl on Friday. He said: "It is a sunnah; Salim bin Abdullah told me, narrating from his father, that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) spoke about it from the minbar."

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1406
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٦٨٠٥)، مسند احمد ٢/٣٥ (صحیح الإسناد )
1408Sunan An Nasai

خطبہ جمعہ میں غسل کی ترغیب سے متعلق احادیث

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ: مَنْ جَاءَ مِنْكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَا أَعْلَمُ أَحَدًا تَابَعَ اللَّيْثَ عَلَى هَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ ابْنِ جُرَيْجٍ وَأَصْحَابُ الزُّهْرِيِّ، يَقُولُونَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ بَدَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر کھڑے کھڑے فرمایا: جو شخص تم میں سے جمعہ کے لیے آئے تو چاہیئے کہ وہ غسل کرلے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: میں کسی کو نہیں جانتا جس نے اس سند پر لیث کی متابعت کی ہو سوائے ابن جریج کے، اور زہری کے دیگر تلامذہ عن عبداللہ بن عبداللہ بن عمر کے بدلے سالم بن عبداللہ عن أبيه کہتے ہیں۔

It was narrated from Abdullah bin Abdullah (from Abdullah) Ibn Umar that: While he was standing on the minbar, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: "Whoever among you comes (to prayer) on a Friday, let him perform ghusl."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1407
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة (٨٤٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٣٨ (٤٩٣)، (تحفة الأشراف: ٧٢٧٠)، مسند احمد ٢/١٢٠، ١٤٩ (صحیح )
1409Sunan An Nasai

جمعہ کے روز امام کو خیرات کرنے کی ترغیب دینا چاہئے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: سَمِعْتُأَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَلَّيْتَ، قَالَ: لَا، قَالَ: صَلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَلْقَوْا ثِيَابًا فَأَعْطَاهُ مِنْهَا ثَوْبَيْنِ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الثَّانِيَةُ جَاءَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ قَالَ: فَأَلْقَى أَحَدَ ثَوْبَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَاءَ هَذَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ، فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَوْا ثِيَابًا، فَأَمَرْتُ لَهُ مِنْهَا بِثَوْبَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ الْآنَ فَأَمَرْتُ النَّاسَ بِالصَّدَقَةِ فَأَلْقَى أَحَدَهُمَا فَانْتَهَرَهُ، وَقَالَ: خُذْ ثَوْبَكَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے، تو ایک آدمی خستہ حالت میں (مسجد میں) آیا اس سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے نماز پڑھی؟ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: دو رکعتیں پڑھ لو ، اور آپ نے (دوران خطبہ) لوگوں کو صدقہ پر ابھارا، لوگوں نے صدقہ میں کپڑے دیئے، تو آپ ﷺ نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو دیے، پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو وہ شخص پھر آیا، اس وقت بھی رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ پر ابھارا، تو اس شخص نے بھی اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا ڈال دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ شخص (پچھلے) جمعہ کو بڑی خستہ حالت میں آیا، تو میں نے لوگوں کو صدقے پر ابھارا، تو انہوں نے صدقے میں کپڑے دیئے، میں نے اس میں سے دو کپڑے اس شخص کو دینے کا حکم دیا، اب وہ پھر آیا تو میں نے پھر لوگوں کو صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا ، پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: اپنا کپڑا اٹھا لو ١ ؎۔

It was narrated that Iyad bin Abdullah said: "I heard Abu Saeed Al-Khudri say: A man who appeared shabbily came on a Friday, while the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was delivering the Khutbah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said to him: Have you prayed?" He said: No." He said: Pray two rakahs. And he urged the people to give in charity. They gave clothes, and he gave him two garments. The following Friday, he came when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) was delivering the khutbah, and he urged the people to give charity. (That man) gave one of his two garments and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) said: This man came last Friday looking shabby, and I commanded the people to give charity and they gave clothes, and I said that he should be given two garments, and now he came and I commanded the people to give charity and he gave one of them. So he chided himself and said: Take your garment."

حسنصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1408
Notes · وضاحت
١ ؎: رسول اللہ ﷺ نے اس کا صدقہ قبول نہیں کیا کیونکہ اس کے پاس صرف دو ہی کپڑے تھے جو اس کی ضرورت سے زائد نہیں تھے۔
Takhrij · تخریج
وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٠ (الجمعة ١٥) (٥١١)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٧ (١١١٣)، مسند احمد ٣/٢٥، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٥٩٣)، (تحفة الأشراف: ٤٢٧٢) (حسن )
1410Sunan An Nasai

امام کا منبر پر بیٹھ کر اپنی رعایا سے خطاب کرنا

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّيْتَ، قَالَ: لَا، قَالَ: قُمْ فَارْكَعْ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا ١ ؎ (اور بیٹھ گیا) تو آپ ﷺ نے اس سے کہا: تم نے سنت پڑھ لی؟ ، اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کھڑے ہوجاؤ اور (سنت) پڑھو ۔

It was narrated from Jabir bin Abdullah who said: "While the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was delivering the khutbah on Friday, a man came and the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) said: Have you prayed? He said: No. He said: Stand up and pray."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1409
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سلیک غطفانی تھے جیسا کہ ابوداؤد کی حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٣٢ (٩٣٠)، صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٧ (١١١٥)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٠ (٥١٠)، (تحفة الأشراف: ٢٥١١) (صحیح )
1411Sunan An Nasai

امام کا منبر پر بیٹھ کر اپنی رعایا سے خطاب کرنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى إِسْرَائِيلُ بْنُ مُوسَى، قال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ، يَقُولُ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَالْحَسَنُ مَعَهُ، وَهُوَ يُقْبِلُ عَلَى النَّاسِ مَرَّةً وَعَلَيْهِ مَرَّةً، وَيَقُولُ: إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَظِيمَتَيْنِ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر دیکھا، حسن ؓ آپ کے ساتھ تھے، آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، تو کبھی ان کی طرف، اور آپ فرما رہے تھے: میرا یہ بچہ سردار ہے، اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرا دے ١ ؎۔

Abu Bakrah said: "I saw the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) on the Minbar, and Al-Hasan was with him. He would turn to the people sometime and turn to him (Al-Hasan) sometimes, and he said: This son of mine is a leader (Sayyid) and Allah (SWT) may make peace between two large groups of Muslims through him."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1410
Notes · وضاحت
١ ؎: الحمدللہ نبی اکرم ﷺ کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی اور امت مسلمہ کے دو گروہ باہم متفق ہوگئے ہوا یہ کہ حسن ؓ نے خلافت سے دستبرداری فرمائی اور ساری امت معاویہ ؓ کی امارت پر متفق ہوگئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلح ٩ (٢٧٠٤)، المناقب ٢٥ (٣٦٢٩)، فضائل الصحابة ٢٢ (٣٧٤٦)، الفتن ٢٠ (٧١٠٩)، سنن ابی داود/السنة ١٣ (٤٦٦٢)، سنن الترمذی/المناقب ٣١ (٣٧٧٣)، (تحفة الأشراف: ١١٦٥٨)، مسند احمد ٥/٣٧، ٤٤، ٤٩، ٥١ (صحیح )
1412Sunan An Nasai

خطبہ میں قرآن پڑھنا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ وَهُوَ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنَةِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ: حَفِظْتُ ق وَالْقُرْءَانِ الْمَجِيدِ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

حارثہ بن نعمان ؓ کی بیٹی (ام ہشام) کہتی ہیں کہ میں نے ق والقرآن المجيد کو جمعہ کے دن منبر پر رسول اللہ ﷺ کے منہ سے سن سن کر یاد کیا ١ ؎۔

It was narrated from Muhammad bin Abdur-Rahman that: The daughter of Harithah bin An-Numan said: "I memorized Qaf. By the Glorious Quran." From the mouth of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) when he was on the minbar on Friday."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1411
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے خطبے میں پوری سورة ق پابندی سے پڑھا کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٧٣)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٩ (١١٠٠، ١١٠٢، ١١٠٣)، مسند احمد ٦/٤٣٥، ٤٦٣، (تحفة الأشراف: ١٨٣٦٣) (صحیح )
1413Sunan An Nasai

دوران خطبہ اشارہ کرنا

أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُصَيْنٍ، أَنَّ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ رَفَعَ يَدَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَسَبَّهُ عُمَارَةُ بْنُ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيُّ، وَقال: مَا زَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا، وَأَشَارَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ.

حصین سے روایت ہے کہ بشر بن مروان نے جمعہ کے دن منبر پر (خطبہ دیتے ہوئے) اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، تو اس پر عمارہ بن رویبہ ثقفی ؓ نے انہیں برا بھلا کہا، اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس سے زیادہ نہیں کیا، اور انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔

It was narrated from Sufyan bin Husain that : Bishr bin Marwan raised his hands on Friday on the minbar, and Umarah bin Ruwaibah condemned him and said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) did no more than this, and he pointed with his forefinger.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1412
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٧٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٠ (١١٠٤)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٥٤ (الجمعة ١٩) (٥١٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٣٧٧)، مسند احمد ٤/١٣٥، ١٣٦، ٢٦١، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠١ (١٦٠١، ١٦٠٢) (صحیح )
1414Sunan An Nasai

خطبہ ختم کرنے سے پہلے منبر سے اترنا اور پھر واپس جانا

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قال: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْأَبِيهِ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، وَعَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَعْثُرَانِ فِيهِمَا، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَطَعَ كَلَامَهُ، فَحَمَلَهُمَا ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15، رَأَيْتُ هَذَيْنِ يَعْثُرَانِ فِي قَمِيصَيْهِمَا، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ كَلَامِي فَحَمَلْتُهُمَا.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے اتنے میں حسن اور حسین ؓ لال رنگ کی قمیص پہنے گرتے پڑتے آئے، آپ ﷺ (منبر سے) اتر پڑے، اور اپنی بات بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو گود میں اٹھا لیا، پھر منبر پر واپس آگئے، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ کہا ہے إنما أموالکم وأولادکم فتنة تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں میں نے ان دونوں کو ان کی قمیصوں میں گرتے پڑتے آتے دیکھا تو میں صبر نہ کرسکا یہاں تک کہ میں نے اپنی گفتگو بیچ ہی میں کاٹ دی، اور ان دونوں کو اٹھا لیا ۔

It was narrated from Abdullah bin Buraidah that: His father said: "The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) was preaching, then Al-Hasan and Al-Husain came, wearing red shirts and stumbling in them. The Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) came down, interrupting himself, and picked them up, then he went back to the minbar and said: Allah has spoken the truth: Your wealth and your children are only a trial. I saw these two stumbling in their shirts and I could not continue until I had interrupted myself and picked them up."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1413
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٢٣٣ (١١٠٩)، سنن الترمذی/المناقب ٣١ (٣٧٧٤)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٦٠٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٥٨)، مسند احمد ٥/٣٥٤، ویأتی عند المؤلف برقم: ١٥٨٦ (صحیح )
1415Sunan An Nasai

خطبہ مختصر دینا مستحب ہے

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ غَزْوَانَ، قال: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عُقَيْلٍ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ الذِّكْرَ وَيُقِلُّ اللَّغْوَ وَيُطِيلُ الصَّلَاةَ وَيُقَصِّرُ الْخُطْبَةَ، وَلَا يَأْنَفُ أَنْ يَمْشِيَ مَعَ الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ فَيَقْضِيَ لَهُ الْحَاجَةَ.

عبداللہ بن ابی اوفی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذکرو اذکار زیادہ کرتے، لایعنی باتوں سے گریز کرتے، نماز لمبی پڑھتے، اور خطبہ مختصر دیتے تھے، اور بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ جانے میں کہ ان کی ضرورت پوری کریں، عار محسوس نہیں کرتے تھے۔

Abdullah bin Abi Awfa said: "The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to recite a great deal of remembrance, engage little in idle talk, make the prayer long and keep the khutbah short, and he would not refrain from walking with a widow or poor person and tending to their needs."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1414
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٥١٨٣)، سنن الدارمی/المقدمة ١٣ (٧٥) (صحیح )
1416Sunan An Nasai

بروز جمعہ کتنے خطبے دئیے جائیں؟

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: جَالَسْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُهُ يَخْطُبُ إِلَّا قَائِمًا وَيَجْلِسُ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ الْخُطْبَةَ الْآخِرَةَ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کی ہم نشینی کی، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر ہی خطبہ دیتے دیکھا، آپ بیچ میں بیٹھتے، پھر کھڑے ہوتے، اور دوسرا خطبہ دیتے۔

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "I sat with the Prophet (صلی اللہ علیہ وسلم) and I did not see him deliver the khutbah except standing, and he sat, then he stood up and delivered the second khutbah."

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1415
Takhrij · تخریج
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: ٢١٧٧)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ١٠ (٧٦٢)، سنن ابی داود/الصلاة ٢٢٨ (١٠٩٣)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٥ (١١٠٥)، مسند احمد ٥/٨٧، ٨٨، ٨٩، ٩٠، ٩١، ٩٢، ٩٣، ٩٤، ٩٥، ٩٧، ٩٨، ٩٩، ١٠٠، ١٠١، ١٠٢، ١٠٧، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٩ (١٥٩٨) (صحیح )
1417Sunan An Nasai

دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ الْخُطْبَتَيْنِ وَهُوَ قَائِمٌ وَكَانَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجُلُوسٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر دو خطبے دیتے تھے، ان دونوں کے بیچ میں بیٹھ کر فصل کرتے تھے۔

It was narrated from Abdullah that: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وسلم) used to deliver two khutbahs standing, and he would separate them by sitting.

صحيحصحيح وضعيف سنن النسائي الألباني: حديث نمبر 1416
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجمعة ٣٠ (٩٢٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة ١٠ (٨٦١)، سنن الترمذی/الصلاة ٢٤٦ (٥٠٦)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٥ (١١٠٣)، (تحفة الأشراف: ٧٨١٢)، مسند احمد ٢/٩٨ (صحیح )